Playstore.png

برصغیر کی نادر فارسی تفسیر تبجیل التنزیل (جزء سورۃ الفاتحہ) کا تحقیقی مطالعہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search

Warning: Page language "ur" overrides earlier page language "".

کتابیات
مجلہ إیقان
عنوان برصغیر کی نادر فارسی تفسیر تبجیل التنزیل (جزء سورۃ الفاتحہ) کا تحقیقی مطالعہ
انگریزی عنوان
A Rare Persian Interpretation Tabjil al tanzil of Subcontinent: research study on Manuscript of Surah Al-fatiha
مصنف Asdullah، Sajid
جلد 1
شمارہ 2
سال 2019
صفحات 1-16
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Tabjil al Tanzil, Abu Mansoor Dehlvi, Quranic Interpretation, Christian Literature, Polemic
شکاگو 16 Asdullah، Sajid۔ "برصغیر کی نادر فارسی تفسیر تبجیل التنزیل (جزء سورۃ الفاتحہ) کا تحقیقی مطالعہ۔" إیقان 1, شمارہ۔ 2 (2019)۔

Abstract

The intellectual heritage in British–India includes literature of Christian missionaries which focusses missionary perspective and the literature of Muslim missionary in response. In this Case, literature based on polemic method from both sides has become quite important. Specialists of Muslim Christian relations and religious students should be aware of debates of this ere. The criticism on Quran seems quite abundance on social media from opponents and enemies as well as their efforts are quite evident on minds of habitual valiance to precariousness and skepticism. That’s why, the preacher and student of Islamic religion should bring in light the effort being made by Muslim scholars in response to their claims. One of selected flowers in the caravan of Muslim scholars is Abu Mansoor Dehlvi (1902 AD). Tabjil al Tanzil is one of the prominent Quranic Interpretation which focuses on the replies to objections raised against Islam and Quran by Christians in Sub continent. In this paper, author tried to find out this un-published interpretation (as it is supposed) and analyzed its first part containing on surah al fatiha (manuscript). In the result, he finds that polemic method is prevailed. And objections against Islam has been silently condemned.

تعارف:

برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ۱۸۵۷ ء و مابعدکا دور مذہبی و سیاسی حوالے سے بہت پُرآشوب اور کٹھن تھا۔ سیاسی فاتح انگریزکے ہم مذہب مسیحی منادین نے مفتوحہ ہندوستان میں اپنی تبشیری سرگرمیوں میں کافی تیزی پیدا کر لی۔ ہندو اور مسلمان ان کے غالب مخاطب فریق تھے۔ ہندو اکثریتی آبادی کو انہوں نے اپنے مذہب کی دعوت دیتے ہوئے ہندو مت کی تنقیص و تردید پر اتنا زور نہیں دیا جتنا مسلم مخاطبین کو مسیحیت کی دعوت دیتے ہوئے اسلام کی تردید پر ارتکاز کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں مسیحی مسلم مناظراتی ادب حجم و کمیت کے اعتبار سے مسیحی ہندو مناظراتی ادب سے کہیں زیادہ ہے۔اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ہندوؤں کے مقابلہ میں مسلم علماء نے مسیحی انتقادی کاوشوں کے سامنے کمزوری دکھانے کی بجائے دفاع اسلام میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا ۔برطانوی دور میں برصغیر کے علمی ترا ث کا معتد بہ حصہ ،مسیحی مشنریز کی طرف سے تبشیری نقطہ نظر سے لکھا جانے والا لٹریچر اور اس کے رد عمل میں مسلم مذہبی ادب پر مبنی ہے۔ اس دور میں طرفین کی طرف سے پوری شدت کے ساتھ پیش کیے جانے والے مناظرانہ اسلوب پر مبنی یہ ذخیرہ ادب آج کیا اہمیت رکھتا ہے ۔ ڈاکٹر سفیر اختر رقم طراز ہیں :

’’آج انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول کا مناظرانہ دور ختم ہو چکا ہے اور ان تلخ بحثوں کو تازہ کرنے سے چنداں کچھ حاصل نہیں ہوتا مگر مسلم مسیحی تعلقات کے متخصصین کو اس سے صرف ِنظر نہ کرنا چاہیے کہ وہ اس دور کے مباحث سے پورے طور واقف ہوں ۔ اور مسیحی اہل قلم میں اس کا احساس شدت سے موجود ہے۔‘‘[1]

آج ایک چوتھائی صدی قبل کہے گئے ان الفاظ کی وقعت و اہمیت کم نہیں ہوئی ۔ اس پرمستزاد یہ کہ عصر حاضر میں سوشل میڈیا نے ادیان و مذاہب کے درمیان جہاں مکالمے کا پلیٹ فارم مہیا کیا ہے اور اس نے مذاہب و ادیان کی دعوتی کاوشوں کو بھی مہمیز دی ہے۔ لیکن بات صرف اپنے مذہب کی دعوت تک ہی محدود نہیں رہتی بلکہ جدید مناظرانہ اسلوب میں دوسرے مذاہب پر نقد و جرح اور تردید کا وطیرہ بھی اختیار کیا جاتا ہے۔ مخالفین و معاندین کی طرف سے آج سوشل میڈیا کے ذریعے اسلام و قرآن پر اعتراضات کے ڈھیر لگا دیے جاتے ہیں ۔اور ان اعتراضات کو ،جن کا بنیادی ماخذ مذکورہ بالا اسلام مخالف مناظراتی ادب ہے ، ملمع کاری کے ذریعے جدید اسلوب میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے اثرات سوشل میڈیا کی عادی نوجوان نسل کے اذہان پر مرتسم ہو رہے ہیں اور وہ تشکیک کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ ان اعتراضات کے جواب کے لیے ان کے اساسی مآخذ کو جاننا ازحد ضروری ہے۔

برطانوی ہندمیں بدیسی مشنریز نے مقامی مسیحی اہل قلم کے تراجم و تفاسیر قرآن کریم کی طباعت کا بھی اہتما م کیا ۔ اس میں خدمت قرآن کا کوئی پہلو نہیں تھا بلکہ قرآن کریم کے منزل من اللہ ہونے کی تردید اور اس کی صداقت و تعلیمات پر یقین و عقیدہ کو مسلسل کمزور کرنا تھا۔[2]

آج بھی سوشل میڈیا پر یہی کہانی دہرائی جا رہی ہے۔ چنانچہ اس منظر نامہ میں ایک داعی اور مذہب کے طالب علم کو عہدِ مذکورہ کے مسلم علماء کی کاوشوں سے رجوع کرنا لازم ٹھہرتا ہے۔

برطانوی ہند میں مسیحی مشنریز کا سامنا کرنے والے مسلم کاروان کے ایک گلِ چیدہ سید ابوالمنصور دہلوی(۱۹۰۲ء ) ہیں، جنہوں نے مسیحی اعتراضات کے جواب میں فارسی تفسیر’تبجیل التنزیل‘لکھی۔تبجیل التنزیل برصغیر میں اولین اور اپنی نوع کی منفردتفسیر قرآن ہے جس میں مغربی یا دیگرغیر مسلموں کی طرف سے عمومی اعتراضات و اشکالات کو زیرِ بحث لانے کی بجائے برصغیر میں کام کرنے والے مسیحی منادین کی طرف سے قرآن اور اسلام پر واردہ اعتراضات کے جواب پر ارتکاز کیا گیا ہے۔ مسیحی مباحث پر مبنی دیگر تفاسیر کی بہ نسبت اس میں برصغیر کے مسیحی لٹریچر کو خصوصی طور پر مد نظر رکھا گیا ہےجس سے محققین اور طلبہ صرفِ نظر نہیں کرسکتے ۔

امام المناظرین سے ملقب ابو المنصور سید ناصر الدین نے ۲۷رمضان المبارک ۱۲۳۷ ھ کو ناگ پور میں میر منشی محمد علی کے گھر آنکھیں کھولیں۔[3] ہندوستان میں مسیحی مشنریوں اور پادریوں سے تحریری و زبانی مناظر ے اور مطالعہ مسیحیت پر بے مثال کتب احاطہ تحریر میں لاتے ہوئے ، حیات مستعار کی اسّی (۸۰) بہاریں دیکھنے کے بعد ، ۱۹۰۲ء میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔[4]

آپ نے ۱۸۵۷ ء کے بعد دہلی میں کچھ سال اہل کتاب اور ان کی کتب کے درمیان اس طرح گذارے کہ بجز مداولت اہل کتاب کوئی دوسرا شغل نہ تھا۔ اس دوران آپ نے انجیل کی تعلیم مفسر انجیل پادری ایل اسکاٹ سےحاصل کی اور عبرانی زبان بھی سیکھی۔[5] آپ کا مطالعہ مسیحیت میں گہرائی اور گیرائی کا اظہار مسیحی مبلغین سے مناظروں اورتحریروں سے بخوبی ہوتا ہے۔’نصرت المطابع ‘کےنام سےدہلی میں ایک اشاعت خانہ قائم کیا جہاں سے آپ نے اخبار کےساتھ ساتھ رد مسیحیت میں کثیر تعداد میں کتب بھی شائع کیں ۔ آپ نے مطالعہ مسیحیت پر ۳۰ کے قریب کتب تحریر کیں جن میں سے درج ذیل کتب زیادہ شہرت کی حامل ہیں:

استیصال مسیح الدجالنصرت المطابع ، دہلی ۱۲۹۱ ھ، صفحات : ۶۷یہ ماسٹر رام چندر کے رسالہ ’ مسیح الدجال ‘ کا رد ہے۔

افحام الخصام نصرت المطابع ، دہلی ۱۲۹۳ ھ، صفحات :۱۲۸ یہ پادری راجرس کے ’ تفتیش الاسلام ‘ کے جواب میں ہے۔

انعام عام مطبع فاروقی ، دہلی ۱۲۹۰ ھ،صفحات : ۴۴یہ پادری رجب علی کی ’آئینہ اسلام ‘کا جواب ہے۔

تصحیح التأویل نصرت المطابع ، دہلی۱۲۹۱ ھ، صفحات: ۶۷یہ پادری عمادالدین کی ’تفسیر مکاشفات‘کا جواب ہے۔

حرز جان ٍنصرت پریس دہلی ۱۸۷۶ ء ، صفحات: ۲۰یہ عبداللہ آتھم کے رسالہ ’اصلیت قرآن‘کا جواب ہے۔

رقیمۃ الوداد نصرت المطابع ، دہلی ۱۲۹۷ ھ ،صفحات : ۴۷ یہ پادری صفدر علی کے ’ نیاز نامہ ‘کے جواب لکھی گئی۔

عقوبت الضالین نصرت المطابع ، دہلی ۱۲۹۴ ھ، صفحات : ۱۷۲ یہ پادری عمادالدین کی ’ہدایت المسلمین‘ کا جواب ہے۔

لحن داؤدی نصرت المطابع ، دہلی ۱۲۸۹ھ، صفحات : ۳۲ پادری عمادالدین کی ’ نغمہ طنبوری‘ کا جواب ہے۔

مصباح الابرار نصرت المطابع ، دہلی ۱۸۷۶ء صفحات : ۶۴ یہ پادری فینڈر کے رسالہ ’مفتاح الاسرار ‘کا جواب ہے۔

میزان المیزان نصرت المطابع ، دہلی ۱۲۹۴ ھ ،صفحات : ۱۶۰ یہ پادری فینڈر کی ’ میزان الحق ‘کے جواب میں لکھی گئی۔

نوید جاوید نصرت المطابع ، دہلی ۱۲۹۴ ھ ،صفحات : ۶۳۲مطالعہ مسیحیت پر بے مثل کتاب ہے۔

ڈاکٹر محمد سلیم کی تحقیق کے مطابق مولانا کی غیر مطبوعہ تحریروں کی تعداد نو(۹) ہے جس میں سب سے قابل ذکر فارسی تفسیر قرآن ’ تبجیل التنزیل‘ ہے[6]۔ مقالہ ہذا میں اسی فارسی تفسیر سے سورۃ فاتحہ کا اردو ترجمہ اور جائزہ مقصود ہے ۔چوں کہ مولانا نے مسیحی پادریوں سے عبرانی زبان اور بائبل سبقا ً سبقاً پڑھی تھی جس سے انہیں مطالعہ مسیحیت میں بہت درک حاصل تھا،یہ تفسیر اور ان کی دیگر کتب اس پر شاہد ہیں۔ان کے معاصر اور مسیحی منادین کا جواب دینے والے سر سید احمد خاں کے بر عکس یہ تفسیر مطالعہ مسیحیت کے ایجابی اثرات سے پاک ہے۔ مصنف نے سر سید پر ان کے بعض شاذافکارکی بنا پر تنقید بھی کی ہے۔[7]اس تفسیر میں زیادہ تر اہل اسلام اور اہل کتاب کے اعتقاد و ایمان ہر دو کا تعارف ، تقابل اور معترضین کے اشکالات و اعتراضات کا جائزہ لیا گیا ہے ۔ مفسرکی انفرادیت یہ ہےکہ قرآنی مطالب کی تائید و تشریح سابقہ کتب سماوی سے کرتے ہیں تا کہ اہل کتاب پر حجت تو قائم ہو لیکن استدلالی و استنباطی حیثیت نہیں دیتے۔ شاید مفسر نے رسول اللہ ﷺ کے فرمان ’لا تصدقوا ولا تکذبوا‘[8]کے تحت اہل کتاب کی روایات سے استفادہ محدود کرد یا ہے۔

مولانا نے یہ تفسیر لکھتے وقت جن امور کا لحاظ رکھا ان کی وضاحت وہ خود ان الفاظ میں کرتے ہیں؛

’’سہ امر را ملحوظ داشتہ ام،اول: اینکہ تفسیر ہر آیۃ از احادیث صحیحہ بلکہ اکثر از صحیحین بر نگاشتہ ام ،دوم: اینکہ آیات کتب الہامیہ سابقہ را در تائید مطالب قرآن درج ساختہ ام تا اہالی مذاہب، دیگررا ہیچ شکےواعتراضے از تسلیمش ہیچگونہ اعراضے و اغماضے نباشد، سوم : اینکہ در تفسیر ہر آیۃ مسائل ضروریہ متعلقہ اش را از حادیث مبرہن کردہ شدہ ۔ و صحت حالات تواریخی و جغرافیہ مقامات و معانی صحیحہ اسماء و لغات و اصل ہرلغت وتوافق محاورات تمامی کتابہائے خدا باوجودتباین زبانہائی عربی و عبرانی و یونانی و باوصف تباعد مدتہائے دراز در اوقات نزول آن کتابہا و دیگر مضامین عدیدہ مشعر

معلومات جدیدہ و مطالب مفیدہ کہ ہیچ چشمش مثلش ندیدہ از صفات مخصوصہ این تفسیر است ‘‘[9]

’’میں نے اس تفسیر میں تین چیزوں کا لحاظ رکھا ہے۔اول یہ کہ ہر آیت کی تفسیر صحیح احادیث سے کی ہے بلکہ ان میں سے اکثر صحیحین ( بخاری و مسلم ) سے لی گئی ہیں۔دوم یہ کہ گذشتہ الہامی کتابوں کی آیات کو مطالب قرآنی کی تائید میں درج کیا ہے تا کہ دوسرے مذاہب کے ماننے والے کو کوئی شک اور اعتراض اور اسے تسلیم کرنے سے کسی قسم کا اعتراض و اغماض نہ ہو ۔سوم یہ کہ ہر آیت کی تفسیر کے تحت رونما ہونے والے ضروری مسائل کو احادیث سے مدلل کیا ہے ۔ مقامات کے جغرافیہ ،تاریخی حالات کی صحت ،نام و زبان کا صحیح معنی ، ہر لغت کی اصل ،جملہ آسمانی کتابوں کے محاورات کا توافق، عربی و عبرانی اور یونانی زبانوں کے اختلافات اور ان کتابوں کے زمانہ نزول میں طویل مدتی فاصلے اور جدید معلومات کی نشان دہی کرنے والے دوسرے متعدد مضامین کے ساتھ ساتھ ایسے مفید مطالب، کہ کسی آنکھ نے ان کا مثل نہ دیکھا ،اس تفسیر کی مخصوص صفات میں سے ہیں‘‘

ہردور کے علمی رجحانات اور نظری رویے اس عہد کے فکری تقاضوں اورسماجی و سیاسی ضروریات کے مظہر ہوتے ہیں ۔ ان رجحانات کا معاصر علمی سرمائے اور اس میں اختیار کیے گئے اسلوب تحریر و طرز استدلال پر اثر اندازی امر ِلازم ہے۔ ایک دور کا پسندیدہ انداز استدلال و اسلوب دوسرے میں فرسودہ اور متروک ہو سکتا ہے۔ اگرچہ عصرِ حاضر میں الزامی اسلوب محققین کے نزدیک مستحسن نہیں گردانا جاتا ، لیکن تفسیر تبجیل التنزیل میں مصنف نے اپنے دور کے عمومی رجحان کے تحت زیادہ تر یہی اسلوب اختیار کیا ہے ۔مثلاً حروف مقطعات کی تفسیر میں لکھتے ہیں ؛

’’بہت سے اہل کتاب نے ان حروف پر اعتراض کیا ہے کہ جب کسی کو ان کے صحیح معنی معلوم نہیں ہیں تو ان حروف کو قرآن میں لکھنے سے کیا فائدہ حاصل ہو گا۔اس کا جواب یہ ہے کہ حکمت الہی کے راز سےواقف نہیں ہوں مگر اتنا عرض کر سکتا ہوں کہ زبور میں چند آیات کے بعد اسی شکل میں ایک لفظ آتا ہے " سلاہ" یہ لفظ زبور میں ۷۳ مرتبہ اور توریت کے مجموعہ میں شامل حضرت حبقوق کے صحیفہ میں تین مرتبہ پایا جاتا ہے ، اس کا مراد اس طرح مقرر کیا گیا ہے کہ اس سنجیدہ بیان پر پوری طرح غور کرنے کے بعد بھی اس کا لغوی معنی اب تک اہل کتاب کے کسی عالم کو معلوم نہ ہو سکا۔ نیز ہجایون (۹ زبور ۱۶) اور شجیونوت (حبقوق ۳ باب ۱) کے معنی ابھی تک کسی کو معلوم نہیں ہو سکےیہ محض قرآن کی ہی خصوصیت نہیں بلکہ دیگر الہامی کتب وکلام الہی میں بھی یہ اسلوب پایا جاتا ہے۔‘‘[10]

جیساکہ مفسر نے مقدمہ میں لکھا ہے کہ اس تفسیر میں اہل کتاب کی تاریخ ، اماکن بائبل و قرآن کے جغرافیہ پر سیر حاصل بحث ہے۔نیز قرآنی الفاظ و اصطلاحات اور اعلام کی تحقیق اور ان کے عربی ، عبرانی ، فارسی ، سنسکرت اور یونانی وغیرہ مآخذ کی نشان دہی کا اہتمام کیا ہے۔مثلاً لفظ آدم کے متعلق لکھتے ہیں ؛

’’آدم عبرانی لفظ ہے جس کے معنی سرخ مٹی کے ہیں ۔ چنانچہ ادوم سرخ کو کہتے ہیں۔ توریت میں ہے کہ اللہ نے آدم کو

مٹی سے پیدا کیا۔‘‘[11]

اسی طرح لفظ ’نصاری ‘کے متعلق لکھتے ہیں :

’’اکثر انبیاء علیہ السلام کے نام قرآن مجید میں معرب ہیں ۔ چنانچہ ابرہام کو ابراہیم ، اضحاک کو اسحاق ، عزرا کو عزیر ، یوحنا کو یحیی ، یسوع کو عیسی، اور ساول کو طالوت کہا گیا ہے۔چونکہ حضرت عیسیؑ کا وطن ناصرہ تھا جو ملک کنعان میں تھا اس لحاظ سے عیسی ؑ کو ناصری اور ان کی امت کو نصاری ٰ اور نصرانی کہا گیا ہے۔ ‘‘[12]

اس تفسیر کے بنیادی مآخذاحادیث اور توریت و انجیل ہیں ۔توریت و انجیل کے علاوہ ان کی تشریحات ،لغات اور کتب تاریخ مسیحیت سے بھی بھر پور مدد لی گئی ہے۔ مسلم ماخذ میں سے قرآن کریم کی اس عہد میں متداول تفاسیر سے استشہاد کیا گیا ہے ۔ جن میں قاضی بیضاوی کی انوارالتنزیل فی اسرارالتاویل،شیخ علی المہائمی کی ’ تبصیر الرحمان ‘،امام رازی کی ’تفسیر کبیر‘،علامہ نسفی کی’ مدارک التنزیل ‘ ،ملا واعظ کاشفی کی ’تفسیر حسینی‘،شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی ’فتح الرحمان‘،شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کی’ تفسیر فتح العزیز ‘،اور شاہ عبد القادر محدث دہلوی کا ترجمہ قرآن کریم لائقِ ذکر ہے۔کتب ستہ کے علاوہ موطاامام مالک،مسند الامام احمد،سنن البیہقی،سنن الدارمی،معجم الصغیرللطبرانی،مستدرک للحاکم،مسند دیلمی وغیرہاسے روایات نقل کی گئی ہیں ، کتب فقہ میں درمختار ،شرح وقایہ تحفۃالاخیاروغیرہا کے حوالے ملتے ہیں ۔دیگر کتابوں میں ’تاریخ ابن عساکر‘ابو نعیم اصفہانی کی ’حلیۃالاولیاء‘، کیخسرو اسفند یار کی’ دبستان مذاہب‘ اور سر سید احمد خان کی تفسیر القرآن کریم اور’ تبیین الکلام فی تفسیر التوراۃ والانجیل علی ملۃالاسلام ‘اہم ہیں[13]۔


تفسیر سورۃ فاتحہ کا اردو ترجمہ:

(تمہیدی خطبہ کے بعد ) أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِشیطان مردود کے وسواس اور شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں ۔ یہ جملہ آتش پرستوں کی کتاب ’دساتیر‘میں بسم اللہ سےپہلے درج ہے۔اس مضمون میں ہم اللہ تعالی کی پناہ چاہتے ہیں ۔اُس (شیطان) کی بُری عادت سے جو گمراہ کرنے والا اور بُرے راستے پر لگانے والا ہے اور رنج و تکلیف اورآزار رساں ہے ۔ بعض کے نزدیک قر أ ت سے پہلے تعوذ مستحب جبکہ بعض کے نزدیک واجب ہے۔

’بِسْمِ اللّـٰهِ‘ اللہ تعالی جو معبود بر حق ہے کے نام سے’الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ‘نہایت مہربان ہر مخلوقات پر، جو اس عالم حیات میں ہیں۔آیت ’لَّا تَجْعَلْ مَعَ اللّـٰهِ اِلٰـهًا اٰخرَ‘(بنی اسرائیل : ۱۷ ) کی روشنی میں یہ لفظ اللہ تعالی کی ذات کے لیے خاص ہے کسی دوسرے کے لئے جائز نہیں اور اسےقرآنی رسم الخط میں بغیر الف لام نہیں لکھنا چاہیے۔اس پر اتفاق ہے کہ کاتب قرآن کے لیے مصحف عثمانی کی پیروی لازم ہے اور یہ اس کے دینی واجبات میں سے ہے۔ صحابہ کرام کا اس پر اجماع ہے اور اجماع(صحابہ)کی مخالفت حرام ہے۔

’ الرَّحِيْـمِ ‘بخشنے والا اور مہربان مومنوں پر حرف آخرت میں۔ایک پادری (عمادالدین)[14]صاحب نے اپنی کتاب ’ہدایت المسلمین‘ [15] میں اعتراض کیا ہے کہ(صفت) رحیم ، رمن حمن حمن

حمٰن سے ادنیٰ ہے اور عرب فصحا ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ترقی کرتے تھے اور بسم اللہ الرحمٰن الرحیم میں اس کا الٹ ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ معترض کلام الٰہی کے محاورات سے واقف نہیں ۔انجیل میں ہے کہ؛

’ جو زمین کو اچھی طرح کاشت کرتے ہیں وہ اسی طرح ہیں کہ کلام کو سنیں ، سمجھیں اور عمل کریں وہ اس سے بعض سو گنا ، بعض ساٹھ گنا اور بعض تیس گنا اجر پاتے ہیں‘[16] ۔

کیا یہ (گنتی) ترقی ادنی ٰسے اعلیٰ کی طرف سے یا اس کا الٹ۔ انجیل میں یہ بھی آیا ہے

’’ اور میں نے بہت سے فرشتوں کی تخت کے اردگرد آواز سنی اور وہ حیوان اور بزرگ اور ان کی تعداد سینکڑوں

ہزاروں ہزار (کروڑوں) اور ہزاروں ہزار (لاکھوں) تھی‘‘[17] ۔

اور عرب فصحا مدح کے مقام پر مبالغہ کے لیے ادنی سے اعلیٰ کی طرف ترقی کرتے تھے نہ کہ نفس الامر کے بیان میں ۔ اللہ تعالی ، جیسا کہ ہے ،کوئی اس کی شایان شان تعریف نہیں کر سکتا ۔خواہ اس کی تعریف میں جتنا مبالغہ کر لے۔اسی وجہ سے اس عالم حیات میں اس کی رحمت اور اکرام کا تذکرہ زیادہ ضروری ہوا بہ نسبت اس رحمت کے تذکرہ کے،جو عالم آخرت میں ہو گا اور حال کو مستقبل پر ترجیح بہرحال واضح ہے اور دوسرا یہ کہ رحمٰن اللہ تعالی کی خاص صفت ہے بمقابلہ لفظ رحیم کے جو خالق و مخلوق ہر دو کے لیے مستعمل ہے ۔ پس اللہ اسم ذات کے قریب تر وہی صفت زیادہ موزوں ہے جو صرف اللہ تعالٰی کے لئے مخصوص ہے۔اور یہ بات بھی ہے کہ بسم اللہ میں اللہ تعالیٰ کے تین نام استعمال ہوئے ہیں یعنی اللہ ، رحمٰن اور رحیم ۔ پس اللہ اسم ذات ہے اور رحمٰن بھی بمنزلہ اسم ذات ہے اور رحیم اسم صفت اور اسم صفت پر اسم ذات کا تقدم بدیہی بات ہے اور اس کے ترتیبی معنی بھی اس طرح ہیں۔کہ ازل سے عبادت کے لائق اور ابد تک تمام مخلوقات کا روزی رساں ، اور آخرت میں نیکو کاروں کو بخشنے والا وہی ہے۔مزید (مصنف کی تصنیف)’درعقوبت الضالین فی رد ہدایت المسلمین‘ میں دیکھا جا سکتا ہے۔

ایک اور بحث جو بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے ضمن میں علماء کے درمیان ہے، یہ ہے کہ آیا یہ قرآن میں شامل ہے یا نہیں ، اس کا جواب یہ ہے کہ یہ قرآنی آیت بھی ہے ’اِنَّه مِنْ سُلَيْمَانَ وَاِنَّه بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ‘( نمل: ۳۰)اور سورۃ توبہ کے سوائے ہر سورت کے آغاز میں لکھتے ہیں۔’عن ابن عباس قال کان رسول الله [النبی] ﷺ لا یعرف فصل السورة حتی یتنزل [تنزل] علیه بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ [18] یعنی ابن عباس نے کہا کہ حضور ﷺ دو سورتوں میں فرق نہیں پہنچانتے تھے کہ تآنکہ بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ نازل ہوئی ۔ حاصل کلام یہ جملہ کلام الہی ہے ۔ تاہم ہر سورت کی عبارت میں شامل نہیں یہ جملہ بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ سابقہ الہامی کتابوں کے آغاز میں عام طور پر نظر نہیں آتا اور اس کا سبب یہ ہے کہ زمانہ سلف کے توحید پرستوں میں بھی آغاز کلام عام طور پر اس طرح تھا کہ بسم اللہ سے آغاز کرتے جس طرح حضرت نوح ؑ نے کشتی کو چلاتے وقت فرمایا تھا ’ وَقَالَ ارْكَبُوْا فِيْـهَا بِسْمِ اللّـٰهِ مَجْرِیهَا وَمُرْسَاهَآ اِنَّ رَبِّىْ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ ‘(ہود ۱۱ : ۴۱ ) اور حضرت سلیمان ؑ نے جو خط ملکہ بلقیس جو بنی اسرائیل میں سے نہ تھی کو بھیجا تو اس پر ’اِنَّه مِنْ سُلَيْمَانَ وَاِنَّه بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ‘ تھا۔ لیکن اسرائیلیوں میں کثرت استعمال کی وجہ سے مصاحف میں اس کی تحریر کی ضرورت نہ سمجھی جاتی تھی کیونکہ بغیر تحریر بھی ہر قاری ابتداء میں بسم اللہ کی قرأت کرتا تھا۔ اہل کتاب کے شہرت طلب علماء اور کج بحث اور پر شور و شغب معتقدین نے اپنے آپ کو اس مغالطہ میں ڈال لیا کہ چونکہ بسم اللہ کتاب کے سر ورق پر نہیں لہذا یہ کلام الٰہی نہیں ہو گا۔اس وجہ سے مشیت ایزدی متقاضی ہوئی کہ قرآن پاک کی ہر سورت کے آغاز میں بسم اللہ تحریر ہو ۔ نزول قرآن کے بعد جب اہل کتاب نے بسم اللہ کو آغازقرآن میں دیکھا تو خود بھی آغاز انجیل میں لکھ دیا بعض نے ایک دو لفظوں (حرفوں) کی تبدیلی پر بھی (لکھا) ۔ چنانچہ تبیین الکلام نیچری[19] جو توریت کے چند باب کی تفسیر ہے اس کے مصنف[20] نے ’مقدمہ التاسعہ ‘میں خبر دی ہے کہ قلمی انجیل کے عربی ترجمہ میں جو قدیم تر ہے ، کے آغاز پر بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا ہے۔[21] نیز نصرت المطابع میں قلمی انجیل کا قدیم عربی نسخہ موجود ہے اس میں بھی ہر انجیل پر سر ورق بسم اللہلکھا ہے اور ایک عربی نسخہ ’فقہ مذہب نصاری ‘ جو چند کتب کا مجموعہ اور اب سے چند سو سال پہلے کا لکھا ہوا ہے اور نصرت المطابع میں موجود ہے اس کے سر ورق پر بھی بسم اللہ لکھا ہے۔علاوہ ازیں اہل کتاب کے علماء کی حالیہ تصنیفات جو طبع ہوئیں اور ہندوستان میں شائع ہوئی ہیں ۔میں نے ان کتابوں میں سے چند ایک کو دیکھا کہ آغاز میں بسم اللہ لکھا ہے۔ بعض کا تذکرہ کرتا ہوں ’کتاب تفتیش الاسلام‘[22] اور کتاب باسم ’نجات بفضل الٰہی‘۔[23] ان میں صاف واضح ہے کہ قرآن مجید میں بسم اللہ دیکھ کر ان عیسائیوں نے بھی اپنے انتہائی قدیم بزرگوں کے طریقہ تلاوت کو دہرایا ہے اور ہر انجیل کے سرورق پر بسم اللہ لکھا ہے۔اور جو اہل کتاب اس کے عادی نہیں ہوئے وہ انتہائی تعصب کی وجہ سے مسلمانوں سے مشابہت پسند نہیں کرتے اور بعضوں نے انہی قیاسات کی وجہ سے بسم اللہ کو کلام الٰہی نہ سمجھنے پر اکتفاء کر لیا ہے۔

اسی طرح دیگر کاموں میں بھی قدیم غلطیوں کی پابندی کرتے ہیں ۔ مثلاً حضرت عیسی ٰ علیہ السلام کا سن ولادت عملاً ۱۸۸۵,( ۱۲۶ سال قبل) لکھتے ہیں حالانکہ مروجہ سن حضرت عیسٰی علیہ السلام کی ولادت سے چار سال قبل رائج ہو چکا تھا[24]۔ اور سبت بروز یک شنبہ معمول رکھتے ہیں۔حالانکہ حواریوں کے عہد تک اور اس کے بعد بھی شنبہ یوم السبت تھا اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عید ولادت موسم سرما کے وسط میں جب کہ سورج بُرج جدی میں ہوتا ہے ترتیب دیتے ہیں۔حالانکہ کی متفقہ

تحقیق کی بنا پر حضرت عیسی ٰ علیہ السلام موسم گرما میں پیدا ہوئے۔ [25]علی ہذا القیاس

بسم اللہ کے ضمن میں ان علماء نے زمانہ قدیم میں مغالطہ دیا ہے اور اب تک اسی مغالطے کی پیروی کر رہے ہیں اور یہودی چونکہ ذبح کے وقت یعنی بسم اللہ )اللہ بڑا ہے( کہنا فرض سمجھتے ہیں اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اب تک بسم اللہ کہنے کی عظمت سے غافل نہیں رہے ہیں اور آتش پرستوں کی دینی کتب یعنی ’دساتیر ‘میں بھی بسم اللہ لکھا ہے۔ان الفاظ میں ’بنام ایزد بخشائیندہ بخشائیش گرمہربان دا و گرد گوئیند‘اللہ تعالی کے نام سے جو بڑا بخشنے والا مہربان اور کارگر ہے ‘ کہتے ہیں۔جب آتش پرستوں نے عساکر اسلام کو اپنے شہروں اور علاقوں پر قابض پایا تو وقت کی مصلحت کے پیشِ نظر اور اپنی دینی تعلیمات کے موجب ان کے کئی فرقے نام ، لباس ، طریقِ کار حتی ہر بات میں مکمل طور پر مسلمانوں سے مشابہہ ہوگئے ۔ (ان کے اس فعل پر) دساتیر کا نامہ چہارم شاہد ہے کہ خطرے کی حالت میں اپنا مذہب چھپانا ضروری ہے۔’دبستان مذاہب [26]‘میں اس کی تفصیل موجود ہے ۔ واللہ اعلم

’’وقال رسول الله أول ما ألقی علی من الوحی بسم الله الرحمن الرحیم‘‘ [27]

’اَلْحَـمْدُ لِلّـٰهِ‘سب تعریفیں اللہ تعالی کے لیے جو حقیقی معبود ہے بعض محققین نے لکھا ہے کہ حمد و تعریف کرنا کسی کی خوبی پر زبان سے کسی کی تعظیم کے لئے ۔ جیسا کہ کہا جائے زید خوش نویس ہے (یعنی خوش نویسی زید کی کسبی خوبی ہے ) اصطلاح میں جو فعل منعم کی تعظیم کی آگاہی دے خواہ زبان سے خواہ دل سے خواہ ہاتھ سے۔ اور مدح یہ ہے کہ ثنا زبان سے ہو کسی اس خوبی پر جو اس کے اختیار میں نہ ہو مثلاً کہا جائے کہ زید انتہائی حسین ہے ( اس میں حسین ہونا زید کی کسبی صفت نہیں ہے)اور جب اللہ تعالیٰ کی صفات اس کی ذاتی ہیں کسی دوسرے سے لی گئی نہیں لہذا سزاوارِ حمد صرف وہی ہے۔ انجیل میں ہے؛

’تیرے پاس اپنا کیا ہے جو تو نے کسی اور سے نہیں لیا اور جب تو نے سب کچھ اوروں سے لیا ہے تو پھر تجھے فخر کس چیز کا ہے‘ [28]

پس جو کوئی ہر قسم کے کام میں دوسروں کا محتاج ہے اگرچہ روئے زمین کا شہنشاہ ہے وہ حمد ( تعریف) کے لائق نہیں ہے۔

مسلمان اسم ذات ’اللہ‘ہی کو قادر مطلق سمجھتے ہیں اور عبرانی لفظ’ یهودا ‘کو اسی معنی میں استعمال کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالی نے حضرت موسٰی ؑ کو کوہ حوریب کے قریب وادی مقدس میں مخاطب کیا تو اپنے نام کا تعارف یہودا [29] لفظ سے کروایا جس کے نام ہے اور ہمیشہ رہے اور اس کے مختصر معنی یہ ہیں جو خودبخود موجود ہو اور یہودی علما اس نام پاک کا اس قدر ادب کرتے ہیں کہ بغیر طہارت زبان سے نہیں نکالتے اور اس کی جگہ دانائی یعنی خداوند کہتے ہیں اور لفظ اللہ کو عبرانی میں الوہ اور تعظیماً الوھیم ہے اللہ تعالی کا اسم ذات نہیں جانتے اس وجہ سے ضروری ہوا کہ اس بارے میں تفصیلی بحث کی جاوے ۔ اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے توریت کا آغاز لفظ الوھیم سے فرمایا نہ کہ لفظ یہودا سے ۔ کیونکہ جمالی صفت الوھیم میں ہے اور رحمت کے آثار اس سے مترشح ہیں میری رحمت میرے غضب پر حاوی ہے[30] اور جلالی صفت یہودا ہ میں ہے اور یہ عدالت کی متقاضی ہے اگر اللہ تعالٰی اپنی صفت یہوداہ سے اس جہان کو پیدا فرماتا تو یہ جہاں یا دنیا آباد نہ رہتی ۔ لہذا رب العالمین نے اس جہان کو اپنے الوھیم سے پیدا فرمایا کہ عالم و عالمیاں کی سلامتی اس کی بے پایاں رحمت سے ہے ۔ دیگر یہ کہ قرآن پاک میں پہلا نا م جو اسمائے گرامی (یعنی اسمائے حسنٰی )سےمذکور ہے وہ اللہ جل جلالہ ہی ہے۔تیسری بات کہ حضرت موسٰی علیہ السلام سے پہلے تمام انبیائے کرام حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت ابراہیم علیہ السلام تا حضرت یعقوب علیہ السلام سبھی اللہ تعالی کو اللہ کے اسم ذات ہی سے یاد کرتے تھےنہ کہ لفظ یہوداہ سے ۔ اور عبرانی لوگ بھی اس لفظ یہودا ہ کو اسی وقت سے جانتے ہیں کہ اللہ تعالی نے وادی مقدس میں موسٰی علیہ السلام سے فرمایا کیونکہ فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے اسی صفت کا تقاضا تھا۔قرآن مجید میں یہی ماجرا ان الفاظ میں وارد ہوا ہے:’فَلَمَّآ اَتَاهَا نُـوْدِىَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَيْمَنِ فِى الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ يَّا مُوْسٰٓى اِنِّـىٓ اَنَا اللّـٰهُ رَبُّ الْعَالَمِيْنَ‘ (القصص ۲۸ : ۳۰ ) یعنی لفظ اللہ بجائے لفظ یہودا استعمال ہوا ۔ پس فرعونیوں کے ساتھ صفت جلالی ظاہر ہوئی اور توحید پرستوں کے ساتھ صفت جمالی جلوہ فرما ہوئی۔چوتھی چیز جو سورۃ انعام میں ارشاد ہوئی ہے کہ اگر تم کہو کہ ہر دو فریق پر کتاب نازل ہوئی اور ہم اسے نہیں پڑھ سکتے[31] تو قرآن پاک تمہاری زبان میں نازل ہوا یعنی کتاب کے مطابق۔ ہر دو فریق نےاس سے جان لیا کہ لفظ اللہ یہودا کا ترجمہ ہے اور اسم ذات کی پہچان نہیں۔

’رَبِّ الْعَالَمِيْنَ‘کے لفظی معنی جن و انس و ملائکہ کے عالموں کا پالنے والا ہے۔ عبرانی زبان میں ’رَبّ ‘بمعنی اوستادہ اور اس منصب کے تین درجے ہیں ربی و ربان وربون جیسے مسلمانوں میں مولوی مولنا و ملا ہیں اور عام طور پر لفظ رب خداوند کے معنی میں رائج تھا جیساکہ انجیل میں ہے کہ یہودی علما مجالس میں بلند تر بیٹھتے ہیں اور مجمعوں میں بالانشینی کو پسند کرتے ہیں اور بازاروں میں بھی سلام پسند کرتے ہیں اور یہ کہ لوگ ان کو ربی ربی کہتے ہیں لیکن تم اپنے آپ کو ربی نہ کہلواؤ [32] اور اسی طرح صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے:’قال رسول الله ﷺ لا یقل أحدکم أطعم ربک و ضی ربک اسق ربک ولا یقل أحدکم ربی ولیقل سیدی و مولای ‘[33] یعنی حضور پاک ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے غلام سے نہ کہے کہ اپنے رب کو کھانا کھلاؤ اپنے رب کو وضو کراؤ یا اپنے رب کو پانی پلاؤ اور کوئی اپنے غلام سے نہ کہے کہ فلاں میرا رب ہے بلکہ یوں کہے کہ میرا سردار اور میرا آقا ہے ۔

’اَلرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ‘ بخشنے والا مہربان قدیم انبیاء کے صحائف میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے:’اے یعقوب کے خانوادہ و دیگر اسرائیلی خاندان والو ! ماں کے رحم سے لے کر ہی تم میرے ذمہ ہو جب تم ماں کے پیٹ میں تھے تب ہی سے میں نے تمہیں اپنی نگرانی میں لے لیا ہے۔مجھ سے سن لو کہ تمہارے بڑھاپے تک میں ہی ہوں اور تمہارے بال سفید ہونے تک تمہیں اپنی حفاظت میں رکھوں گا‘ [34]اور توریت میں ہے کہ تمہارا خدا رحیم ہے ( استثنا ۴ باب ۳۱) اور صحیحین میں حضرت ابوہریرۃ سے روایت ہے: قال رسول الله ﷺ لو یعلم الکافر بکل الذی عند الله من الرحمة لم ییاس من الجنة [35] یعنی آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر کافر اللہ تعالٰی کی رحمت کا کامل ادراک رکھتے تو جنت سے ناامید نہ ہوں ۔

’مَالِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ‘ اللہ تعالٰی جزا کے دن جو شاہ و گدا میں انصاف کا دن ہے جزا و سزا کا حکم دیں گے’اِيَّاكَ نَعْبُدُ‘ ہم تیری عبادت کرتے ہیں کہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ’وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ‘ اور اپنی تمام دینی و دنیاوی ضروریات میں صرف تجھی سے امداد چاہتے ہیں ’اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِـيْـمَ‘ ہمیں سیدھا راستہ دکھا ’صِرَاطَ الَّـذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْـهِـمْ‘ ان لوگوں کا راستہ جنہیں تو نے اپنی مہربانی سے نیکی اور سچائی کی توفیق دی ۔ ’غَيْـرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْـهِـمْ‘ سوائے ان کے جن پر تو ناراض ہوا بسبب ان کے انکار اور بعض انبیاء کی نافرمانی کے اور وہ عذاب کے مستحق ٹھہرے ’وَلَا الضَّآلِّيْنَ ‘اور سوائے گمراہوں کے کہ ضلوا عن سواء السبیل کے مصداق ٹھہرے۔ اور ان لوگوں کے بارے کہا گیا ہے:’وعن أبی هریرة قال سمعت رسول الله ﷺ یقول قال الله تعالی [عزوجل] قسمت الصلوة بینی و بین عبدی نصفین [ولعبدی ما سأل] فاذا قال العبد الحمد لله رب العالمین قال الله [عزوجل] حمدنی عبدی و اذا قال الرحمن الرحیم قال [الله عزوجل] أثنی علی عبدی واذا قال ملک یوم الدین قال مجدنی عبدی [وقال مرۃ فوض الی عبدی] واذا قال ایک نعبد و ایاک نستعین قال هذا بینی و بین عبدی ولعبدی ما سأل و اذا قال اهدنا الصراط المستقیم صراط الذین أنعمت علیهم غیر المغضوب علیهم ولا الضالین قال هذا لعبدی ولعبدی ما سأل‘[36](صحیح )مسلم میں بروایتِ حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) منقول ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ نماز (یعنی سورہ فاتحہ) میرے اور بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کی گئی ہے، نصف میرے لیے ہے اور نصف میرے بندے کے لیے، اور جو کچھ میرا بندہ مانگتا ہے وہ اس کو دیا جائے گا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ جب کہتا ہے ﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ﴾تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری حمد کی ہے، اور جب وہ کہتا ہے ﴿الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ﴾ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری تعریف وثنا بیان کی ہے، اور جب بندہ کہتا ہے ﴿مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ﴾ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی ہے، اور جب بندہ کہتا ہے ﴿اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ﴾ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان مشترک ہے؛ کیوں کہ اس میں ایک پہلو حق تعالیٰ کی حمد وثنا کا ہے اور دوسرا پہلو بندے کی دعا و درخواست کا، اس کے ساتھ یہ بھی ارشاد ہوا کہ میرے بندے کو وہ چیز ملے گی جو اس نے مانگی، پھر جب بندہ کہتا ہے ﴿اِهدنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ صِرَاطَ الَّـذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْـهِـمْ غَيْـرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْـهِـمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ﴾ تو حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ سب میرے بندے کے لیے ہے اور اس کو وہ چیز ملے گی جو اس نے مانگی۔

اور دیکھئے تفسیر ’وَلَقَدْ اٰتَيْنَاكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِىْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِيْـمَ‘( الحجر ۱۵ : ۸۷ ) اور صحیح بخاری میں ابو سعید بن معلی روایت ہے ؛’قال رسول الله لأعلمنک سورة هي أعظم السورة فی القرآن ‘[37] یعنی سورۃ فاتحہ واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالٰی نے اس سورت کو اپنے بندوں کی تعلیم و تربیت اور آداب دعا کے لیے نازل فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی حمد و ثنا کا محتاج نہیں ہے۔بلکہ حمد و ثنا کا مقصد ہماری دعاؤں اور التجاؤں کی قبولیت کا بہانہ ہے جیسا کہ حدیث پاک میں ہے :’الدعا مخ العبادة‘۔[38]

جیسا کہ انجیل میں حواریوں کو بھی خصوصی دعاؤں کی تلقین کی گئی ہے ۔[39]

’چونکہ اہل کتاب ہمیشہ دعا کو آمین پر ختم کرتے ہیں ‘ [40] جو بھی کوئی اس ساری شریعت پر عمل نہ کرے اس پر لعنت ہو اور سب

جماعت آمین کہے ، ملک ، قدرت اور جلال سب تیری شان ہےا ٓمین [41]۔ اور ہر انجیل اور زبور کے ہر صحیفے کے اختتام پر ہے کہ ’خداوند جو خدائے بنی اسرائیل ازل سے ابد تک مبارک ہے ۔ آمین ثم آمین‘۔[42] اس صورت میں یہ لفظ ’ آمین ‘عبرانی الاصل نہیں ہے اور حضور پاک ﷺ نے فرمایا :’اذا قال (امام غیر المغضوب علیهم)ولا الضالین فقولوا اٰمین ‘ یعنی جب [ امام غیر المغضوب علیھم ] ولاالضالین کہے تو تم آمین کہو [43] اور صحیحین میں حضرت ابوہریرۃ ؓ سے روایت ہے :’قال رسول الله ﷺاذا أمّن الامام فأمّنوا[44] یعنی آپ ﷺ نے فرمایا جب امام نماز میں آمین کہے تو تم بھی اس کے ساتھ آمین کہو ۔اور حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے مسلم شریف میں روایت ہے :’قال رسول الله ﷺ اذا قال أحدکم اٰمین وقالت الملئکة فی السماء اٰمین فوافقت أحدهما والأخری غفر له ما تقدم من ذنبه‘ [45] یعنی رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی آمین کہتا ہے تو فرشتے آسمان پر آمین کہتے ہیں پس جس کی آمین فرشتوں سے موافقت کر جائے اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور آمین کے معنی ہیں افعل (بمعنی تو کر) رواہ ثعلبی از کنوزالحقائق۔[46]


تبصرہ:

تفسیر تبجیل التنزیل کا جائزہ لینے سے قبل برصغیر کے مسیحی اہل قلم کا سورۃ فاتحہ کے متعلق بعض آراء پیش کی جاتی ہیں ؛

دلچسپ امر یہ ہے کہ برصغیر کی مسیحی تحریروں میں اگرچہ قرآن کریم پر تنقید و تنقیص کے حوالے سے کافی شدت سے قلم اٹھایا گیا ہے لیکن ان میں سورۃ فاتحہ کی تائید و توصیف کا رنگ غالب ہے۔مثلاً کرسچین لٹریچر سوسائٹی ،لودھیانہ کی طرف سے ۱۹۰۰ء ء میں سورۃ فاتحہ کی تفسیر شائع کی گئی اس میں نتیجہ کلام ان الفاظ میں نکالا گیا ہے؛

’’ حاصل کلام ہم تسلیم کرتے ہیں کہ سورۃ فاتحہ کی تعلیم بہت خوب ہے‘‘ [47]

اسی طرح پادری احمد شاہ سورۃ فاتحہ کو تلاش حق کا ذریعہ بتلاتے ہیں :

’’اور اس(حضرت جبرائیل) نے یہ سورۃ (فاتحہ)حضرت (محمد ﷺ)کو پڑھائی گویا تلاش حق کا گر سکھلا دیا‘‘[48]

پادری سلطان محمد پال سورۃ فاتحہ کےمتعلق رقم طراز ہیں :

’’ سورۃ فاتحہ کی اس کے حقیقی مقصد کے لحاظ سے کوئی مسیحی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا یہ اول سے آخر تک ایک مخلصانہ دعا ہے جس کو مسیحیانہ طور پر ادا کیا گیا ہے ۔ ہر ایک شخص اس کے جواب میں آمین کہہ سکتا ہے " میں کہتا ہوں کہ صرف آمین نہیں بلکہ اس کو ورد کر سکتا ہے اور پڑھ سکتا ہے کیونکہ یہ بائبل مقدس کے وہ جواہر ریزے ہیں جن کو ایک نئے طرز اور نئے اسلوب کے ساتھ ایک ہی سلک میں پرو دیا گیا ہے‘‘[49]

قرآن کریم کے متعلق عمومی مسیحی مؤقف اور سورۃ فاتحہ کے بارے مذکورہ بالا مسیحی آراء میں تفاوت پایا جاتا ہے ، جو کہ عام قاری کے لیےاچنبھے کا باعث ہے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ برصغیر کے مسیحی انتقادی ادب کو تاریخی حوالے سے دو ادوار میں منقسم کیا جا سکتا ہے۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری (1948ء) کے مطابق پہلا دور پادری سی جی فانڈر (1865ء) سے لے کر بیسویں صدی کے اوائل تک محیط ہے ۔ اس دور میں مسیحی تفاسیر قرآن صورتاً و معناً مخالف اسلام ہیں جب کہ دوسرا دور نو مسیحی دیسی منادیں کا ہے ۔ ان کی تفسیریں صورتاً موافق اور معناً مضر و مخالف اسلام ہیں[50]۔

مناسب لہجہ اور متین انداز بیان میں سورۃ فاتحہ کے بارے مسیحی آراء اس پر شاہد عدل ہیں۔ چوں کہ سورۃ فاتحہ پر مسیحی اعتراضات نہ ہونے کے برابر ہیں اس لیے اس میں تردیدی مباحث بھی نا ہونے کے برابر ہیں۔ اس کے باوجود مفسر نے تقابلی منقولی اسلوب میں مخاطب کے مستند مآخذ یعنی توریت و بائبل سے تائیدی و تاریخی شواہد پیش کیے ہیں اور ساتھ ساتھ مخاطب پر الزامی تنقید بھی کی ہے۔ اس تفسیر میں فقہی مباحث پر زیادہ زور نہیں دیا گیا اور نا ہی اس میں کسی قسم کی دقیق منطقی و فلسفیانہ مباحث پائی جاتیں ہیں ۔

عام فہم اسلوب اور شستہ زبان کی حامل ’تفسیر تبجیل التنزیل ‘میں جابجا سلاست و روانی پائی جاتی ہے۔ اتنی آسان کہ ’سہل ممتنع‘ کا لیبل چسپاں کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کا فارسی زبان میں لکھا جانا باعثِ تعجب محسوس ہوتا ہے کیونکہ مفسر نے جس مسیحی تفسیری ادب کو مدنظر رکھا وہ بھی اردو زبان میں تھا اور آپ کے مخاطب مسیحی ومسلم فریقین بھی اس دور میں غالب طورپر فارسی کی بجائے اردو کی طرف مائل ہوچکے تھے۔ مسلم لٹریچر بالعموم اور بالخصوص تفسیری ادب فارسی زبان میں بہت کم لکھا جانے لگا تھا۔اس کا سبب یہ تھا کہ انگریز حکومت کی پالیسی کی وجہ سے فارسی تحریرات کا حجم کم سے کم ہوتا چلا جارہا تھا اور مسلم اہلِ قلم نے اردو زبان کو اپنی دلچسپی کا محور بنا لیا تھا۔

جس ذہنی ساخت کے ساتھ یہ تفسیر لکھی گئی وہ اغلب طور پر مناظراتی ، انتقادی و الزامی منہج تھا، اور یہ اس دور کا تقاضا بھی تھا تاہم مذکورہ رجحان کا ایک منفی پہلو یہ سامنے آیا کہ تفسیر میں پیغامِ الٰہی کی حقیقی روح مفقود ہوتی چلی گئی۔ تاہم مفسر نے اپنی تئیں خدمت و دفاعِ قرآن کے لیے یہ قدم اٹھایا، جو کہ یقیناً قابلِ ستائش ہے۔

حوالہ جات

  1. راہی ، سفیر اختر ، ڈاکٹر،مسیحی اہل قلم کے اردو تراجم و تفاسیر، سہ ماہی: عالم اسلام اور عیسائیت ، ج:۳ ، ش: ۱۲ ،(اسلام آباد: دسمبر ۱۹۹۳ء)، ص :۸
  2. سفیر اختر ، ڈاکٹر،مسیحی اہل قلم کے اردو تراجم و تفاسیر، سہ ماہی: عالم اسلام اور عیسائیت ، ص :۸
  3. امداد صابری ، دہلی کی یادگار ہستیاں ) دہلی ، ۱۹۷۲ ء)،ص: ۱۵۷
  4. الصدیقی ، محمد تنزیل ، الحسینی، اصحاب علم و فضل (کراچی: اصلاح المسلمین پبلشرز، ۲۰۰۵ء) ، ص: ۴۴ ۲
  5. رحمان علی ، تذکرہ علمائے ہند (لکھنؤ: نول کشور ۱۳۲۲ ھ) ، ص: ۲۳۲ ؛ امداد صابری، فرنگیوں کا جال (دہلی: ۱۹۷۹ء)، ص: ۲۶۱
  6. محمد سلیم ، ڈاکٹر ، برصغیر کی فارسی تفاسیر (غیر مطبوع) مقالہ ڈاکٹریٹ ،(لاہور: پنجاب یونیورسٹی ) ص: ۶۰۸ ، ۶۰۹ ۔ راقم خاص طور پر پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم کا شکر گذار ہے جنہوں نے مرکز تحقیقات فارسی ایران و پاکستان ، اسلام آباد کے کتب خانہ سے تفسیر ہذا کے مخظوطہ کی نقل مہیا کی۔
  7. مولانا کی ایک اور تفسیر ’’ تنقیح البیان‘‘ سر سید کی تفسیر پر محاکمہ اور تنقید پر مبنی ہے ۔ نیز جب ۱۸۸۸ء میں علماء لدھیانہ نے سر سید کی تکفیر میں فتویٰ ’’نصرۃ الابرار‘‘ جاری کیا تو اس پر مولانا ابوالمنصور کے بھی دستخط تھے۔ لدھیانوی ، مفتی محمد ، نصرۃ الابرار (لاہور:مطبع صحافی ، س ن)، ص: ۴۶
  8. بخاری ، محمد بن اسمعیل ، الجامع الصحیح (ریاض: دارالسلام، ۱۹۹۹ء)، حدیث :۷۵۴۲
  9. دہلوی ، ابوالمنصور ، تبجیل التنزیل (مخطوط) ، ص: ۱ ، ۲
  10. ایضاً، ص: ۷
  11. ابو منصور دہلوی، تبجیل التنزیل ، ص :۲۰
  12. ایضاً ،ص: ۵۰ ۔ ۵۱
  13. محمد تنزیل الصدیقی ، اصحاب علم و فضل ، ص: ۲۵۶، ۲۵۷
  14. پادری عمادالدین(۱۸۳۸ ء ۔ ۱۹۰۰ ء) تھے جو پانی پت میں پیدا ہوئے ۔ ۱۹۶۳ میں بپتسمہ لیا اور پھر اسلام کے خلاف بہت سی کتب لکھیں ۔
  15. ہدایت المسلمین (امرتسر :وکیل ہندوستان پریس ، ۱۸۶۸ ء) اس میں رسول اللہ ﷺکے بعض افعال و اقوال پر تنقید کی گئی ہے کہ وہ پیغمبروں کے لائق نہیں ہیں ۔
  16. متی ۳ :۲۳
  17. دیکھیں مکاشفہ،باب :۱۱
  18. ابوداؤد، سلیمان بن اشعث، السنن (ریاض: دارالسلام،۱۹۹۹ء) ،حدیث : ۷۷۹
  19. تبیین الکلام فی تفسیر التوراۃ و الانجیل علی ملۃ الاسلام از سر سید احمد خاں ( غازی پور: ۱۸۶۲ ء)۳حصے۔ بائبل کے منتخب حصوں کی واحد مسلم تفسیر ہے۔
  20. سید احمد بن متقی خان المعروف سر سید۱۷اکتوبر ۱۸۱۷ء کو پیدا ہوئے۔برطانوی ہند کے محکوم مسلمانوں کی راہنمائی کی۔ سیاسی اور مذہبی نظریات کی بنا پر علماء کی مخالفت مول لی۔یونیورسٹی آف ایڈنبرا نے قانون میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی ۔۲۷ مارچ ۱۸۹۸ءکو دنیا سے کوچ کر گئے۔
  21. سر سید احمد خاں ، تبیین الکلام فی تفسیر التوراۃ و الانجیل علی ملۃ الاسلام ( لاہور:مکتبہ اخوت، ۲۰۰۶ ء)، ص: ۲۰۲
  22. جرس، جان ، پادری ،تفتیش اسلام ( لدھیانہ: ۱۸۷۵ ء ، باہتمام پادری(ولیم) میور)
  23. مجہول الاسم ، اسم نجات بفضل الٰہی (لدھیانہ : لدھیانہ مشن پریس، ۱۸۷۶ء)
  24. عموماً عیسی علیہ السلام کا سن پیدائش یکم عیسوی (۰۱ء) خیال کیا جاتا ہے۔ حقیقتاً آپ اس سے چار یا پانچ سال پہلے یعنی ۴/۵ ق م میں پیدا ہوئے تھے۔ پادری ڈایونی سیس اکسی گوس (Monk Dionysius Exiguous) نے ۵۲۶ء میں حساب لگا کر سنِ عیسوی کا اعلان کیا۔ جس کا آغاز حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کو قرار دیا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ سن عیسوی تحریر کرتے ہوئے انگریزی حروف A.D. لکھا جاتا ہے جو Anno Domini کا مخفف ہیں۔ اس سے مراد ہے ”ہمارے خداوند کا سال‘‘ ۔ لیکن اس سےحساب میں چار /پانچ سال کی غلطی رہ گئی تھی۔ John P. Meier, The Marginal Jew: Rethinking the Historical Jesus, (New York: Doubleday Publisher, 1991), v: 01, p:373
  25. لوقا ، ۲ : ۸
  26. کیخسرو، اسفند یار ، دبستان مذاہب ،فارسی زبان میں ۱۶۵۵ء میں لکھی گئی اور اس میں ایران اور برصغیر  کے تمام مذاہب اور مذہبی فرق کا جائزہ لیا گیا ہے۔نیزجلال الدین اکبر کے دین الٰہی کو بھی زیر بحث لایا گیاہے۔اسے پہلی بار ۱۸۰۹ء میں نزار اشرف نے کلکتہ سے شائع کیا ۔
  27. الطبرانی ، سلیمان بن احمد، المعجم الاوسط ( بیروت: دارالکتب العلمیہ،۱۴۰۳ھ )،حدیث :۳۴۸۰
  28. کرنتھیوں،۴: ۷۱
  29. خروج، ۳ : ۱۴
  30. مراد یہ حدیث ہے: إِنَّ رَحْمَتِي غلبت غَضَبِي؛ البخاری ، محمد بن اسماعیل، الجامع الصحیح (ریاض: دارالسلام، ۱۹۹۹ء) ، حدیث: ۳۱۹۴
  31. الانعام : ۱۵۶ ۔ ۱۵۷ (اَنْ تَقُوْلُـوٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتَابُ عَلٰى طَـآئِفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِـهِـمْ لَغَافِلِيْنَ)
  32. متی، ۲۳ ا: ۷ ، ۸
  33. بخاری ، محمد بن اسمعیل ، الجامع الصحیح ، حدیث: ۲۵۵۲
  34. یسعیاہ ، ۴۶ : ۳ ، ۴
  35. الجامع الصحیح لمسلم میں ہے؛ ’’ان رسول الله ﷺ قال:’ لو یعلم المؤمن ما عند الله من العقوبة ما طمع بجنته احد، و لو یعلم الکافر ما عند الله من الرحمة ما قنط من جنة احد‘‘ : نیشاپوری ، مسلم بن حجاج،الجامع الصحیح (ریاض: دارالسلام،۱۹۹۹ء)،حدیث : ۶۹۷۹ ؛ الترمذی، السنن الترمذی،حدیث : ۲۸۰۷ (۳۷۹۱ صحیح للالبانی)؛ امام، احمد بن حنبل، المسند (القاہرۃ: موسسۃ الرسالۃ،س ن) ،حدیث : ۸۳۹۶
  36. مسلم بن حجاج ، الجامع الصحیح ، حدیث: ۳۹۵
  37. بخاری ، الجامع الصحیح ، حدیث :۴۴۷
  38. ترمذی، محمد بن عیسی ، السنن (ریاض: دارالسلام، ۱۹۹۹ء )حدیث : ۳۳۷۱
  39. دیکھئے :متی ، ۶ : ۱۳
  40. گنتی ، ۲۷ : ۲۶
  41. متی ، ۶ :۱۲
  42. مزامیر، ( ۴۱۱ ، زبور۱۳) اور دیکھئے آخر زبور : ۷۲ و ۸۹
  43. مسلم بن حجاج، الجامع الصحیح، حدیث :۴۰۹
  44. بخاری ، الجامع الصحیح، حدیث :۷۸؛ مسلم بن حجاج، الجامع الصحیح،حدیث : ۴۱۰
  45. مسلم بن حجاج، الجامع الصحیح، حدیث : ۴۰۱
  46. عن ابن عباس قال: سألتُ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن معنى (آمين) فقال: ’افعل‘ ؛یہاں محسوس ہوتا ہے کہ مصنف سے کنوز الحقائق کے حوالے سے سہو ہو گیا ہے کیوں کہ صاحب کنوز الحقائق زین الدین عبدالرؤف المناویؒ (۹۵۲ھ)نے اس روایت کو کنوز الحقائق کی بجائے الفتح السماوی (۱: ۱۰۶) پر نقل کیا ہے۔ اس روایت کو امام سمرقندي ؒ نے بحر العلوم (۱ : ۸۴) ؛ امام قرطبی ؒ نے الجامع لأحكام القرآن(۱ :۱۱۱) ؛ حافظ ابن كثير ؒ نے تفسیر القرآن العظیم (۱: ۲۳۲) ؛حافظ ابن حجر ؒ نے الكاف الشاف(۱: ۲۷) اور اما م سيوطیؒ نے الدر المنثور(۱: ۴۵) پر بھی نقل کیا ہے۔
  47. روؤس ، پادری، سورۃ فاتحہ ( لودھانہ: کرسچین لٹریچر سوسائٹی، ۱۹۰۰ء)، ص : ۵
  48. احمد شاہ ، ترجمہ القرآن، ص:۱
  49. پال، سلطان محمد ، پادری، سلطان التفاسیر ( لاہور: ایم کے خاں مہان سنگھ ، س ن ) ص: ۲۱
  50. ہفت روزہ’ اہل حدیث ‘ (امرت سر: یکم جون۱۹۳۴ء)، ص:۱۱