Playstore.png

حقوق نسواں کا عالمی معاہدہ "CEDAW" اور شریعت اسلامیہ: تقابلی مطالعہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ إیقان
عنوان حقوق نسواں کا عالمی معاہدہ "CEDAW" اور شریعت اسلامیہ: تقابلی مطالعہ
انگریزی عنوان
A Comparative Study of International Treaty for Women Rights “CEDAW” and Islamic Shariah
مصنف Saeed، Sarfraz Hussain، Shagufta Naveed
جلد 1
شمارہ 1
سال 2018
صفحات 125-146
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
CEDAW, gender, discrimination, Islam, women rights
شکاگو 16 Saeed، Sarfraz Hussain، Shagufta Naveed۔ "حقوق نسواں کا عالمی معاہدہ "CEDAW" اور شریعت اسلامیہ: تقابلی مطالعہ۔" إیقان 1, شمارہ۔ 1 (2018)۔

Abstract

Women are confronted with a lot of problems. In different parts of the world, some social and cultural attitudes still discourage the women from getting their established and assigned rights. The factors which are responsible for this phenomenon include societal norms, orthodoxy and some social customs contrary to Islamic instructions. For instance, discrimination against women could be in terms of inadequate nutrition, denial or limited access to education, health and property rights, child labor, domestic violence and forceful marriage. So far as the Islamic instructions are concerned, these are derived from Quran and Sunnah and clearly describe women’s rights but, due to some socio-religious customs and undesirable behaviors the societal status and role of women have been badly affected. An international document, the convention on the elimination of all forms of discrimination against women also lists the rights of all girls and women. CEDAW recommends that all discrimination against girls and women must be ended. In this paper, the terms have been analyzed in the context of Islamic instructions and teachings, in order to provide academic material for bringing positive change in the society.

تعارف :

اللہ تعالیٰ نے حیاتِ انسانی کو حسین اور پُر کشش بنانے کے لیے مردوں کے ساتھ عورتوں کو بھی تخلیق فرمایا اور ہر دو طبقات کے دائرہ کار کا تعین عقل اور منطق کے بہترین معیار کے مطابق کر دیا اور جزو ِ لاینفک کے طور پر ان کے حقوق بھی متعین کیے جس میں ہر صنف اپنے حقوق حاصل کرنے کے ساتھ دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی بھی پابندہے، تا کہ کسی ایک میں بھی احساس محرومی اور ردِعمل پیدا نہ ہو۔ انسانی تہذیب جہاں بھی اپنی فطری کمزوری کے سبب افراط و تفریط کا شکار ہوتی ہے، وہیں سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ زمانہ قدیم نے ساری قوت مرد کی برتری ثابت کرنے پر لگا دیا اور جدید جاہلیت نے اس غلطی کے رد عمل کا شکار ہو کر عورت کو برابری کی دوڑ میں شریک کرنا چاہا تو عورت اپنی حیثیت سے آگے نکل گئی یہاں تک کہ اس کے برابر کھڑے مرد کی بالکل کوئی وقعت اور قدرومنزلت معلوم نہیں ہوتی ۔ عصر حاضر کی جدید علمی تہذیب نے اسے ایک اٹل حقیقت تسلیم کر لیا ہے۔جس معاشرے میں عورت کا وجود مرد کی زندگی کے نشو و ارتقاء میں ایک حسین اور مؤثر محرک تھا، وہاں مردوں نے عورت کو عیش کوشی کا ادنیٰ حربہ اور ذریعہ تصور کیا تو اس معاشرے میں اِس کی حیثیت ایک زر خرید کنیز کی سی بن کر رہ گئی۔ اقوام عالم کی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی بڑی سے بڑی تہذیب کی تباہی ایسے حالات میں ہوئی جب عورت اپنی صحیح حیثیت کھو بیٹھی اور مرد کے ہاتھوں میں آلہ کار بن گئی یا اس کے ہاتھوں سے نکل گئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی دنیا کے بعض ممالک میں خواتین کے ساتھ محض صنفی بنیادوں پر انتہائی غیر منصفانہ سلوک کیا جاتا ہے، باوجود اس کے کہ انہیں بھی مردوں کے برابر حقوق حاصل ہیں۔ حقوق کے اس نامناسب امتیاز کے نتیجہ میں خواتین نہ تو مناسب تعلیم حاصل کر سکتی ہیں اور نہ ہی انہیں صحت کی مناسب سہولیات حاصل ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین کو ملازمت کے حصول میں بھی مشکل پیش آتی ہے اور بعض اوقات ان کو ووٹ کے حق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔ وہ خواتین جن کے ساتھ نسلی امتیاز روا رکھا جاتا ہے ان میں معذور، مقامی (Indigenous)، دیہی علاقوں کی خواتین، مالی لحاظ سے غریب، اور مختلف ثقافتی گروہوں سے تعلق رکھنے والی خواتین خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

معاہدہ CEDAW کا پسِ منظر:

دورِ جدید میں خواتین کے حقوق کے لیے کئی آوازیں بلند ہوئیں اور کئی اہم قوانین و ضوابط متعین کیے گئے ہیں تاہم حقوقِ نسواں پر عالمی سطح پر کیے گئے معاہدات میں سے CEDAW بہت مشہور اور عملی اقدامات کے حوالے سے اہم معاہدہ ہے ۔CEDAWحقوقِ نسواں پر عالمی سطح پر کیا گیا ایسا معاہدہ ہے جس میں حقوق ِ نسواں کی درست سمت کو متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ CEDAWانگریزی زبان میں Convention on the Elimination of all forms of Discrimination Against Women کا مخفف ہے۔جس کا مطلب ’’ عورت کے خلاف پائے جانے والے تمام امتیازات کے خاتمے پر اجلاس‘‘ ہے اور یہ عالمی سطح پر منعقد کیا گیا ایسا کنونشن تھا جس کا بنیادی مقصد خواتین کے ساتھ کسی بھی نوعیت کے امتیازات کا خاتمہ کرنے کی تحریک کو پروان چڑھانا تھا۔

CEDAWمیں متحدہ طور پر خواتین کے حقوق متعین کیے گئے ہیں۔ مغرب کے ہاں یہ مرد و خواتین کے حقوق کی برابری کا ایک انتہائی اہم سنگِ میل ہے جو خواتین کے خلاف ہر طرح کے امتیازات کے خاتمہ کی سفارش کرتا ہے۔ چونکہ اس معاہدہ کا بنیادی مقصد خواتین کے ساتھ امتیاز کا قلع قمع کرنا ہے ۔ اس کی اہمیت کے پیش نظر اقوام متحدہ نے اس معاہدہ کو 18 دسمبر 1979 کو منظور کیا ۔ 2010 تک دنیا کے 186 ممالک نے اس معاہدہ کی توثیق کی ۔ اس توثیق(Ratification) کا مطلب ہے کہ جن ممالک نے اس کی توثیق کی ہے اُن کی حکومتیں CEDAWمیں خواتین کے متعین کیے گئے حقوق کی ضمانت کے لیے نہ صرف ہر طرح کے اقدامات کریں گی بلکہ ان حقوق کو عورتوں سے متعلقہ ملکی قوانین میں بھی شامل کریں گی۔

معاہدے کے بنیادی خدوخال:

CEDAWخواتین کے حقوق کا عالمی معاہدہ کُل 30آرٹیکلز پر مشتمل ہے ۔ آرٹیکل 1 تا 16 میں اُن اقدامات کی سفارش کی گئی ہے جو کسی بھی حکومت کو خواتین کے خلاف امتیازات کے خاتمے کے لیے کرنے کی ضرورت ہوسکتے ہیں۔ ان آرٹیکلز میں کچھ مخصوص علاقوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جہاں خواتین کے خلاف قوانین، شادی بیاہ، تعلیم، صحت اور روزگار جیسے امتیازات کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

آرٹیکل 17 تا 22 میں بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی بنانے کی سفارش کی گئی ہے اور اس کے ساتھ ہی اس کمیٹی کی تشکیل کے لیے اصول و ضوابط وضع کیے گئے ہیں ۔ یہ کمیٹی اس امر کو بھی مانیٹر کرے گی کہ جن ممالک نے اس معاہدہ کی توثیق کی ہے آیا وہ خواتین کے خلاف امتیازات کے خاتمہ کے لیے قرار واقعی اقدامات کر رہے ہیں یا نہیں! جب کہCEDAWکے آرٹیکل 23 تا 30میں بیان کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ اور منتخب حکومتوں کو خواتین کے خلاف امتیازات کے خاتمہ کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ خواتین کے حقوق کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔

حقوقِ نسواں کے سلسلہ میں متعددضابطے وضع کیے گئے ہیں اور حقوقِ نسواں پر کئی مضامین و مقالہ جات مختلف زاویوں سے تحریر کیے گئے ہیں، لیکن CEDAWمیں متعین حقوقِ نسواں کا شریعتِ اسلامیہ سے تقابل وقت کی اہم ضرورت ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس معاہدہ کو Ratifyکرنے میں پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک بھی شامل ہیں ، اور اس معاہدہ کی Ratification کا مطلب ملکی سطح پر بنائے جانے والے معاہدات میں اس معاہدہ کی تجاویز کو شامل کرنا ہے۔ حقوقِ نسواں پر کیے جانے والے کام کا اگر دقتِ نظر سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حقوقِ نسواں پر ضمنی کام تو ہوا ہے لیکن حقوقِ نسواں کے اس عالمی معاہدہ کے متعلقات اور اس کی سفارشات پر کوئی کام نہیں ہوا۔

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حقوقِ نسواں کے اس عالمی معاہدہ CEDAW اورشریعت اسلامیہ کا تقابل کیا جائے اور اس امر کی نشاندہی کی جائے کہ عورتوں کے وہ کون سے حقوق ہیں جن کا اسلام علم بردار ہے اور حقوقِ نسواں کا عالمی معاہدہ کون سے حقوق خواتین کو عطا کرنے کا داعی ہے، تاکہ نہ صرف خواتین کے حقوق کا درست تعین کیا جا سکے، بلکہ معاشرے میں ان کے درست مقام کا بھی تعین کیا جا سکے۔


۱۔CEDAW اور اسلامی تعلیمات کا موازنہ:

اسلام مردوں اور عورتوں کے حقوق میں عدل کا داعی ہے۔ شریعتِ اسلامیہ کا پیش کردہ خاندانی نظام، جس کی اساس مرد اور عورت کے درمیان انصاف اور برابری پر ہے، درحقیقت ہر دو کے درمیان رسمی اور عددی مساوات کا متقاضی ہے۔ قرآن پاک اور سنتِ مطہرہ میں صاف اور قطعی فیصلہ (Unequivocal Ruling) ہے کہ اسلام مرد اور عورت کے درمیان کسی بھی قسم کے امتیاز کا قائل نہیں بلکہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ عورتیں بھی مردوں کے ساتھ اپنے حقوق سے لطف اندوز ہوں۔

چند ترقی یافتہ ممالک نے یہ آواز اٹھائی کہ عورت اور مرد کے درمیان رعایتِ باہمی (Reciprocity) یعنی باہمی تعامل زوجین کے درمیان عدم مساوات پر مبنی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عورت گزارہ کرنے کے لیے شوہر کی اطاعت کرنے اورصرف گھریلو ذمہ داریوں تک محدود ہو گئی ہے، اور اگر وہ شوہر کی اطاعت میں بھی ناکام ہو جاتی ہے تو وہ اس گزارہ (Maintenance) کے حق سے بھی محروم کر دی جاتی ہے۔ گویا مر داور عورت کے باہمی تعلقات میں مرد کو بالادستی حاصل ہے جس کی وجہ سے عورت معاشرہ میں اپنے بنیادی حقوق سے بھی محروم ہو گئی ہے۔ اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے 18 دسمبر 1979ء کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں لگ بھگ بیس ممالک نے CEDAWکے نام سے ایک منشور پیش کیا جس میں عورت کو مرد کے برابر حقوق دلوانے کی تجاویز پیش کی گئیں۔ 03 ستمبر 1981ء کو اقوامِ متحدہ نے اس منشور کو بین الاقوامی معاہدہ کے طور پر منظور کر لیا ۔

۲۔CEDAW کے مطابق امتیازکی تعریف :

اس معاہدے میں ابتدائی طور پر شخصی و انفرادی امتیاز کو واضح کیاگیا ہے جس سے معاشرے میں پائے جانے والی متنوع تقسیمات کا مطالعہ کرنا آسان ہو سکے گا۔ چنانچہ CEDAW کے پہلے آرٹیکل میں امتیاز (Discrimination)کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:

“Discrimination against girls and women means directly or indirectly treating girls and women differently from boys and men in a way which prevents them from enjoying their rights.” [1]

’’ لڑکیوں اور عورتوں کے خلاف امتیاز سےمراد بلواسطہ یا بلا واسطہ طور اُن سے ایسا سلوک کرنا جو اس لحاظ سے لڑکوں اور مردوں کے حقوق سے مختلف ہوں کہ انہیں (خواتین) کو اپنے حقوق سے لطف اندوز ہونے سے روکتا ہو۔‘‘

صنفی یا قبائلی امتیاز کی اسلام نے کلی طور پر حوصلہ شکنی کی ہے اور اس حوالے سے نصوصِ شرعیہ کا لبِ لباب یہ ہے کہ اسلام میں مرد وعورت میں وجہِ امتیاز صرف تقویٰ اور ایمان و عملِ صالح ہے۔ چنانچہ جب ازواجِ مطہرات نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا کہ قرآن صرف مردوں کو ہی احکامات کی وضاحت کرتا اور ان کو تفوق دیتا ہے تو نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ کیا تم نے قرآن میں یہ آیتِ کریمہ نہیں پڑھی:

’’مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ‘‘[2]

’’مرد عورت میں سے جس نے بھی نیک عمل کیا اور وہ مومن ہے تو ہم اسے پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اور انھیں ان کے کیے ہوئے نیک اعمال کا بہترین بدلہ دیں گے۔‘‘

اسلام میں حقیقی امتیاز اور فوقیت محض نیکی و تقویٰ کی بنیاد پر ہے،اسی لیے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ‘‘[3]

’’اے لوگو، بلاشبہ ہم تمہیں مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو،بے شک تم میں سے اللہ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ تمہارا سب سے متقی انسان ہے، یقیناً اللہ خوب جاننے والا خبر رکھنے والا ہے۔‘‘

الغرض امتیاز کی اصل تو شرعاً ان اصولوں اور بنیادوں پر ہے، جن میں اخروی فلاح و کامیابی کا تصور عملی طور پر نمایاں ہو۔ معاہدے میں کی گئی امتیاز کی تعریف شرعی و اصطلاحی اعتبارات سے بالکل غیر معقول اور غیر عملی ہے۔

۳۔پالیسی اقدامات:

CEDAWکے دوسرے آرٹیکل میں خواتین کے خلاف امتیازات کو ختم کرنے کے لیے پالیسی اقدامات بیان کیے گئے ہیں اور اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ حکومتوں کو اس امتیاز کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔اس حوالے سے CEDAW یہ سفارش کرتا ہے:

“Governments must not allow discrimination against girls and women. There must be laws and policies to protect them from any discrimination. All national laws and policies must be based on equality of girls and women and boys and men. There should be punishment for not following the law.”[4]

’’حکومتوں کو لڑکیوں اور عورتوں کے خلاف امتیاز کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ انہیں کسی بھی تفریق سے بچانے کے لیے قوانین اور پالیسیاں ہونی چاہییں۔ تمام قومی قوانین خواتین اور مردوں کے حقوق کی برابری پر مبنی ہونے چاہییں۔ قانون کی پابندی نہ کرنے پر سزا دی جائے۔‘‘

تمام حکومتوں کو اس ضمن میں جو اقدامات کرنے کی سفارش کی گئی ہے اس میں صنفی امتیاز کی مکمل طور پر حوصلہ شکنی کرنے کو ترجیح دی گئے ہے۔بلکہ مردوزن کو بلا تفریق یکساں حقوق دینے کے لیے منتخب جمہوری حکومتوں کو فوری اقدامات کی سفارش کی ہے۔

۴۔ بنیادی انسانی حقوق اور آزادی کی ضمانت:

تیسرے آرٹیکل میں یہ معاہدہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ حکومتوں کے سیاسی، معاشرتی، معاشی اور ثقافتی شعبوں میں تمام ممکنہ اقدامات کرنے چاہییں جن سے اس بات یقینی بنایا جا سکے کہ خواتین کے حقوق محفوظ ہیں۔ CEDAWمیں اس کی درج ذیل صورت بیان کی گئی ہے:

“Governments must take actions in all fields – political, social, economic, and cultural – to ensure girls and women can enjoy basic human rights and freedoms.”[5]

’’اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ خواتین کو تمام بنیادی حقوق اور ہر طرح کی آزادی ملے، حکومتوں کو سیاسی، معاشرتی، معاشی اور ثقافتی تمام شعبوںمیں اقدامات کرنے چاہییں۔"

اسلام میں عورتوں کی آزادی کا حق اتنا ہی ہے جتنا کہ مرد کو حاصل ہے خواہ وہ دینی معاملہ ہو یا دنیاوی۔ اس کو پورا حق ہے کہ وہ دینی حدود میں رہ کر ایک مرد کی طرح اپنی رائے آزادانہ استعمال کرے،جیساکہ ایک موقع پر عمر ؓ نے فرمایا کہ تم لوگوں کو متنبہ کیاجاتا ہے کہ عورتوں کی مہر زیادہ نہ باندھو، اگر مہرزیادہ باندھنا دنیا کے اعتبار سے بڑائی ہوتی اور عنداللہ تقویٰ کی بات ہوتی تو نبیﷺ اس کے زیادہ مستحق ہوتے۔اس تقریر پر ایک عورت نے بھری مجلس میں ٹوکا اور کہا کہ آپ یہ کیسے کہہ رہے ہیں؛ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

             ’’وَآتَیْتُمْ إِحْدَاھنَّ قِنطَاراً فَلاَ تَأْخُذُواْ مِنْ شَیْئاً ‘‘ [6]

                ’’اور دیا ہے ان میں سے کسی ایک کو ڈھیر سا مان تو اس میں سے کچھ نہ لو۔‘‘

جب اللہ تعالیٰ نے جائز رکھا ہے کہ شوہر مہرمیں ایک قنطار بھی دے سکتا ہے تو تم اس کو منع کرنے والے کون ہوتے ہو۔ عمرؓ نے یہ سن کر فرمایا :’ کُلُّکُمْ أعْلَمُ مِنْ عُمَر‘ تم سب عمر سے زیادہ علم والے ہو۔[7]

اس عورت کی آزادیِ رائے کو مجروح قرار نہیں دیا کہ اس نے عمر ؓ کو کیوں ٹوکا اور نا ہی یہ کہا گیا کہ ان پر کیوں اعتراض کیا گیا کیونکہ عمر ؓ کی گفتگو اولیت اور افضیلت حاصل ہے ۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عورتوں کو اپنی آزادیِ رائے کا پورا حق ہے حتی کہ اسلام نے لونڈیوں کو بھی اسلامی حدود میں رہتے ہوئے آزادانہ رائے رکھنے کاحق دیا۔ اہلِ عرب کےہاں لونڈیاں اس پر بلا جھجھک و بناتردد کے عمل کرتی تھیں حتی کہ رسالت مآب ﷺ کی اس رائے سے جو بحیثیت نبوت ورسالت کے نہیں ہوتی تھی، اس پر بھی بے خوف وخطر کے اپنی رائے پیش کرتی تھیں ۔اس آزادیِ رائے کا سرچشمہ خود آپ ﷺکی ذات اقدس تھی۔ آپﷺ کی تربیت نے ازواجِ مطہرات میں حدودِ شرعیہ میں رہتے ہوئے آزادیِ ضمیر کی روح پھونک دی تھی، جس کااثر تمام عورتوں پر پڑتا تھا۔

۵۔خصوصی اقدامات کامطالبہ:

اس معاہدے پر عملدرآمد کے لیے بلاواسطہ حکومتوں کو مخاطب کیا گیا ہے تاکہ اس پر یقینی طور پر اقدامات کیے جائیں۔ اس حوالے سے چوتھے آرٹیکل میں CEDAWدنیا کے ممالک کی حکومتوں سے خصوصی اقدامات کا تقاضا ان الفاظ میں کیا گیا ہے:

“Governments should take special measures or special actions to end discrimination against girls and women. The special actions that favour girls and women are not a way of discriminating against boys and men. They are meant to speed up equality between girls and women and boys and men. These specific measures should last until equality between girls and women and boys and men is achieved.” [8]

’’خواتین کے خلاف تفریق کے خاتمے کے لیے حکومتوں کو خصوصی اقدامات کرنے چاہییں۔ خصوصی اقدامات جو خواتین کے حق میں ہوں اُن کے خلاف تفریق یا امتیاز کو ختم کرنے کا طریقہ نہیں بلکہ ان کا مقصد خواتین اور مردوں کے درمیان برابری کو تیز تر کرنا ہے۔ یہ خصوصی اقدامات اُس وقت تک جاری رہنے چاہییں جب تک خواتین اور مردوں کے درمیان برابری کا ہدف حاصل نہیں ہو جاتا۔‘‘

CEDAW کے اس آرٹیکل میں مردوں اور خواتین کے حقوق کی برابری پر حد سے زیادہ زور دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام میں مرد اور عورت کے ایک دوسرے کے ساتھ ایک جیسے حقوق بتائے گئے ہیں اور عورت کو معاشرے کا ایک اہم ستون قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’وَلَهُنَّ مِثلُ الَّذِي عَلَيهِنَّ بِالمَعرُوفِ ‘‘ [9]

’’اور عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے ان کے مردوں پر ہیں۔ ‘‘

اسلام نے عورت کو مرد کے برابر تمام قسم کے بنیادی و شخصی حقوق سے نوازا ہے اور عورت کو مرد کی طرح تمام قسم کے فرائض و واجبات کا مکلف بنا کر عورت کو نصف معاشرہ قرار دیا۔ چنانچہ ارشاد باری تعا لیٰ ہے:

’’فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ‘‘ [10]

’’پھر ان کے رب نے ان کی دعا قبول کر لی کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کاکام ضائع نہیں کرتا خواہ وہ مرد ہو

یا عورت۔ ‘‘

لیکن CEDAWکے برعکس اسلام میں مرد کو عورت پر بعض معاملات میں ایک گونہ برتری حاصل ہے،اس کی دو مثالیں بہت نمایاں ہ جس کے ضمن میں کئی شامل ہیں احکام اول سورۂ نساء کی وہ آیات ہیں جن میں اللہ تعالی نے شوہروں اور بیویوں کے حقوق وفرائض کا ذکر کیا اور شوہروں کا مرتبہ اور ان کے اختیارات بیان کیے ہیں، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَی النِّسَاء بِمَا فَضَّلَ الله بَعْضَهُمْ عَلَی بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ وَاللاَّتِیْ تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهجُرُوهُنَّ فِیْ الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَکُمْ فَلاَ تَبْغُواْ عَلَیْهِنَّ سَبِیْلاً إِنَّ اللّٰهَ کَانَ عَلِیّاً کَبِیْرا‘‘[11]

’’شوہر بیویوں پر حاکم ہیں، کیونکہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس لیے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں۔ سو نیک بیویاں وہ ہیں جو فرماں بردار ہوں اور رازوں کی حفاظت کرنے والی ہوں، کیونکہ اللہ نے بھی رازوں کی حفاظت کی ہے۔ اور جن عورتوں سے تمھیں سرکشی کا اندیشہ ہو، ان کو نصیحت کرو، انھیں بستروں میں الگ کر دو اور انھیں جسمانی سزا دو۔ پھر اگر وہ تمہاری مطیع ہو جائیں تو ان پر (دست درازی کی) راہ نہ ڈھونڈو۔ بے شک اللہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔‘‘

متن کے مندرجات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نکاح کے رشتے میں یہ چاہتے ہیں کہ مرد ایک بالادست شریک کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرے، جبکہ عورت اس کے سامنے فرماں برداری کا رویہ اختیار کرے اور اگر اس کی طرف سے سرکشی کا رویہ سامنے آئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شوہر کو مناسب جسمانی تادیب کا اختیار بھی حاصل ہے۔ اسی طرح سے جہاں طلاق کا معاملہ بیان ہوا ہے، وہاں بھی صاف الفاظ میں یہ کہا گیا ہے کہ طلاق کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے مرد کو ایک درجہ زیادہ دیا ہے:’وَلِرِّجَالِ عَلَیهِنَّ دَرَجَةٌ‘[12] وہ طلاق دے سکتا ہے، جبکہ عورت براہ راست طلاق نہیں دے سکتی۔

مرد طلاق دینے کے بعد چاہے تو عدت کے اندر رجوع کر سکتا ہے اور دو مرتبہ تک اس کو یہ اختیار حاصل ہے۔ رشتہ نکاح میں مرد کی ایک درجہ فوقیت کے حوالے سے یہ ہدایت بھی بالکل واضح ہے جس کو کسی اور تعبیری سانچے میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن رشتہ نکاح میں مرد کو ایک درجہ فوقیت دیتا ہے، اس کے حقوق زیادہ بیان کرتا ہے، اس کے اختیارات زیادہ بیان کرتا ہے اور عورت سے یہ کہتا ہے کہ وہ اس رشتے میں اطاعت کا رویہ اختیار کرتے ہوئے اور شوہر کی جو بالادستی بیان ہوئی ہے، اس کو قبول کرتے ہوئے اس رشتے کو نبھائے۔

نصوصِ قرآنیہ کے ذیل میں دوسرا امر وراثت کی تقسیم ہے ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اولاد ، ماں باپ ، میاں بیوی اور

بہن بھائی کے حصے بیان کیےہیں اور یہ واضح کیا ہے کہ وراثت کے حصو ں کی یہ تقسیم اللہ تعالیٰ نے قرب اور جلبِ منفعت کے اصول پر کی ہے۔ چونکہ انسان خود انصاف سے یہ متعین نہیں کر سکتے کہ کس رشتے سے ان کو کتنی منفعت حاصل ہوتی ہے اور اس کے لحاظ سے جب مرنے کے بعد کسی شخص کا ترکہ تقسیم ہو تو کس رشتہ دار کو کس تناسب سے حصہ ملنا چاہیے۔

۶۔ دقیانوسی خیالات پرمشتمل کردار کا خاتمہ :

مسلم معاشرے میں موجود تصورات کو عصرِ حاضر میں قدامت پرستی کہا جاتا ہے ، حالانکہ یہ تمام الہامی دین کا حصہ اور اس کی تعلیمات ہیں۔ اس معاہدے میں اس قبیل کے نظریات کو شدت پسندی اور دقیانوسی افکار قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے تاہم اس شریعت اسلامیہ اور نصوص اس کو کلّی طور پر ردّ کرتی نظر آتی ہیں، اس ضمن میں CEDAW سفارش کرتا ہے :

“Governments must work to change stereotypes about girls and women and boys and men, especially if these roles are based on boys and men being considered better than women and girls.” [13]

’’حکومتوں کو مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کے خلاف دقیانوسی خیالات پرمشتمل افکار کے خاتمہ کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے، خاص طور پر اُس وقت اُن خیالات اور کرداروں کے مطابق مردوں کو خواتین سے بہتر سمجھا جائے۔‘‘

عورت معاشرے کی تشکیل اور تعمیر میں اہم مقام رکھتی ہے، عورت کے بغیر نسل انسانی کا استحکام اور نشوونما نا ممکن ہے، یہ حقیقت ہے کہ اس اہمیت کے باوجود معاشرے میں خواتین کو بڑی حد تک ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

CEDAWکی سفارش کہ عورت کے خلاف دقیانوسی خیالات کا خاتمہ کیا جائے ،ہر گز اسلام کے منافی اور متصادم نہیں۔ اسلام نے بھی زمانہ جاہلیت میں خواتین کے ساتھ کیے جانے والے ظلم و ستم اور غیر انسانی سلوک کا قلع قمع کیا اور خواتین کو اُن کے جائز حقوق دیے ہیں۔ لیکن خواتین کے حقوق کے عالمی معاہدے CEDAWمیں اگر دقیانوسی خیالات سے مراد اسلام کی وہ پابندیاں ہیں جو اسلام عورت پر لگاتا ہے تو یہ کسی طور پر قابلِ عمل نہیں ہے، کیونکہ اسلام کی تعلیمات ہی درحقیقت عورت کی عصمت و عزت کا داعی ہے۔ عورت کے ساتھ ظلم و تعدی اور امتیازی سلوک کی اصل وجہ اسلامی تعلیمات سے بے خبری، اسلامی تعلیمات سے متصادم فرسودہ خیالات، قدامت پسندی اور حقیقی اسلامی تعلیمات سے انحراف ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں بعض دقیانوسی ثقافتی و تہذیبی رسومات اور منفی رویوں نے دین سے دوری کی وجہ سے عورت کے کردار پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

۷۔ خواتین کی خرید و فروخت اور عصمت فروشی کے بارے قوانین:

غیر ترقی یافتہ ممالک میں خواتین انتہائی نامساعد حالات میں رہتی ہیں۔ جہاں ان کی خرید و فروخت ہوتی ہے بلکہ ان سے جبری طور پر جنسی کاروباربھی کرایا جاتا ہے۔ آرٹیکل نمبر چھ میں CEDAWنے خواتین کی عصمت اور عزت و آبرو کے سبوتاژ کرنے کی

ہر کوشش کو روکنے کے لیے سفارش کی گئی ہے:

“Governments must take action, including making new laws, to end trafficking and prostitution of girls and women.”[14]

’’خواتین کی خرید و فروخت اور عصمت فروشی کو روکنے کے لیے حکومتوں کو اقدامات کرنے چاہییں اور اس کے ساتھ ساتھ نئے قوانین بھی بنانے چاہییں۔‘‘

شریعت اسلامیہ کا نقطہ نظر دیکھیں تومعلوم ہوتا ہے کہ خواتین کے متعلق اسلام کا پیش کردہ تصور زیادہ جامع اور خواتین کی عزت و احترام کے ہر گوشہ پر محیط ہے۔ اسلام خواتین کی عزت و عصمت کا علم بردار ہے۔ CEDAW کا یہ کہنا کہ خواتین کی عزت و عصمت کے لیے نئے قوانین بنائے جائیں، ایک مکمل طور پر نا جائز مطالبہ ہے۔ شریعت اسلامیہ نے خواتین کی عزت و عصمت کے کسی بھی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا۔ بلکہ آپ ﷺ نے تو اسےعملی طور پر کر کے بھی کامل نمونہ دیا جو قیامت تک آنے والی بنی نوع انسانی کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے خواتین کو مکمل حقوق عطا کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کی عصمت و عزت کی حفاظت مرد کے ذمہ ہے بلکہ عمومی احکامات صادر کرتے ہوئے فرمایا :

’’کُلُ المُسلِمِ علٰی المِسلِمِ حَرَامُ دمُهُ وَ مَالُهُ و عِرضُهُ‘‘[15]

’’ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان پر خون ،اس کا مال اور اس کی عزت حرام ہے۔‘‘

بلکہ اسلام نے تو خواتین کی عفت و پاک دامنی پر حرف لانے والے کی شدید مذمت کی ہے اور اسے دردناک عاب کی وعید سنائی ہے۔ اس سلسلہ میں واقعہ افک سے مکمل راہنمائی لی جاسکتی ہے جس کے بعد اللہ تعالی نے سورہ نور میں احکامات کو تفصیلی نازل فرمایا۔ جبکہ خواتین کی خریدو فروخت اور ان کو عصمت فروشی پر مجبور کرنے سے بھی منع کیا ہے۔اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا‘‘[16]

’’اور اپنی لونڈیوں کو غلط کاری پر مجبور مت کرو، اگر وہ بچنا چاہتی ہیں تاکہ تم دنیوی زندگی کا مال ومتاع حاصل کرسکو‘‘

یہاں لونڈیوں کو اس امر پر مجبور کرنے سے ممانعت ہے جو اس دور میں جاہلی معاشرے کا ایک برا اور بہت ہی قبیح پہلو تھا،چنانچہ بالاولیٰ آزاد خواتین اس امر میں شامل ہوں گی جن کی عصمت فروشی کو بہت بڑا گناہ شمار کیا جائے گا۔ جبکہ نبی کریم ﷺ نے آزاد بندے کو فروخت کرنے والے ملعون اور سخت گناہ گار قرار دیا ہے۔جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:

’’قال الله:ثلثة انا خصمهم یوم القیامة رجل اعطیٰ بی ثم غدر ورجل باع حراً فاکل ثمنه ورجل

استاجر أجیراً فاستوفیٰ منه ولم یعط اجره‘‘[17]

’’اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تین شخص وہ ہیں جن سے میں قیامت کے دن جھگڑوں گا۔ ایک وہ شخص ہے جس نے میرے نام پر دیا اور پھر دھوکہ کیا۔ دوسرا وہ شخص ہے جس نے کسی آزاد انسان کو بیچ دیا او راس کی قیمت کھا گیا۔ تیسرا وہ ہے جس نے اجرت پر کسی مزدور کو رکھا اور اس سے اپنا کام تو پورا لے لیا لیکن اس کی مزدوری اسے نہیں دی۔‘‘

جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ آزاد انسان خواہ وہ عورت ہو یا مرد اسلام نے اس میں واضح حکم دیتے ہوئے منع قرار دیا ہے۔

۸۔خواتین کی سیاسی اور عوامی زندگی :

یہ معاہدہ خواتین کو سیاسی اور عوامی زندگی میں مستحکم کرنے کے لیے کئی ایک طرح سے حکومتوں قانون سازی کی طرف توجہ دلاتا ہے، اس ضمن میں ساتویں آرٹیکل میں CEDAWخواتین کی سیاسی اور عوامی زندگی سے بحث ان الفاظ میں کرتا ہے:

“Women have the same right to vote and be elected to government positions. Girls and women have the right to take part in the decisions a government makes and the way it carries them out. They have the right to participate in non-governmental organizations (NGOs).”[18]

’’خواتین کو بھی ووٹ اور سرکاری عہدوں کے لیے منتخب ہونے کے لیے برابری حق حاصل ہے۔ حکومتی فیصلہ سازی اور اُن کی تکمیل میں خواتین کو بھی حصہ لینے کا حق حاصل ہے۔انہیں NGOs میں بھی شریک ہونے کا حق حاصل ہے۔‘‘

اسلام میں خواتین کے سیاسی حقوق کو تسلیم کیا گیا ہے، چنانچہ قرآنِ پاک میں نبی پاک ﷺ کے ہاتھ پر خواتین کی بیعت کا ذکر موجود ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَىٰ أَن لَّا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَبَايِعْهُنَّ

وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ‘‘[19]

’’اے نبی ﷺ!جب مومن عورتیں آپ کے پاس ان باتوں پر بیعت کرنے آئیں کہ وہ نہ تو اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک کریں گی، نہ چوری کریں گی، نہ زنا کریں گی، نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ ہی کوئی ایسا بہتان لائیں گی جس کو اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان گھڑیں اور نہ ہی وہ آپ کی نافرمانی کریں گی ، تو نیکی کے کسی بھی کام وہ آپ کی بیعت

قبول کر لیا کریں اور ان کے لیے اللہ سے بخشش کی دعا کیا کریں، بلا شبہ اللہ بڑا ہی درگزر کرنے والا انتہائی مہربان ہے۔‘‘

بیعت ایسا عمل ہےجس میں مرد و عورت اولی الامر کی ہر حال میں جائز امور میں اطاعت اور امتِ مسلمہ کی فلاح و بہبود اور

معاشرے میں ایک مستحکم نظامِ حکومت کی غرض سے اُٹھائے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کا عہد کرتے ہیں۔

CEDAWمیں بیان کی گئی یہ سفارش اسلامی تعلیمات سے موافقت رکھتی ہے، البتہ ان امور میں حصہ لینے سے بسا اوقات عورت گھر کے ماحول سے علیحدہ ہو جاتی ہے اور اپنی اولاد کی درست طور پر تربیت اور ان کا خیال نہیں رکھ پاتی۔ اس وجہ سے اس کے لیے مناسب تو یہ قرار دیا جا سکتا ہے کہ خانگی ذمہ داریوں کو اولین ترجیح دے لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ وہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اہل نہیں۔

۹۔بین الاقوامی سطح پر خواتین کا کردار:

خواتین کی ملکی و بین الاقوامی سطح پر نمائندی اور ان کے اثر ونفوذ کو بڑھانے کے لیے بھی اس سلسلہ میں اقدامات کیے گئے ہیں، اس حوالے سے CEDAWخواتین کو عالمی سطح پر اپنے ملک کی نمائندگی کرنے اور بین الاقوامی تنظیموں میں شمولیت کا بھی حق دیتا ہے:

“Girls and women have the right to represent their country at the international level and to participate in the work of international organizations [such as the United Nations, the European Union, and the International Committee of the Red Cross, among many others].”[20]

’’لڑکیوں اور خواتین کو بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی کا اختیار حاصل ہے، اسی طرح بین الاقوامی [تنظیموں جیسے اقوام متحدہ، یورپی یونین اور ہلال احمر کی بین الاقوامی کمیٹی اور جیسی دیگر تنظیموں] کی سرگرمیوں میں بھی حصہ لینے کا حق حاصل ہے۔‘‘

خواتین کے مجموعی کردار اور معاشرے میں ان کی افادیت کو اجاگر کرتے ہوئے اسلام نے اس کے حقوق متعین کیے ہیں تاہم اس حوالے سے یہ امر قدرے مختلف فیہ رہا ہے کہ خواتین کی سرگرمیوں کا دائرہ کار کیا ہے؟ چنانچہ اہلِ علم کا ایک طبقہ اس بات کی طرف مائل ہے کہ خواتین کی علمی و معاشرتی سرگرمیوں میں انھیں مکمل وسائل دیئے جائیں تاکہ علوم کی نشر واشاعت میں بھی ان کا حصہ شامل ہوسکے۔ جبکہ معاشی امور میں ان کو چونکہ مکلّف نہیں بنایا گیا اس لیے اس میں مرد کو ہی اصل قرار دیتے ہوئے ان کو ذمہ داری ادا کرنے کا کہا جائے۔ جبکہ جدت پسند طبقہ اس کے برعکس خواتین کی مختلف میادین و شعبہ ہائے زندگی میں ان کی ضرورت اور افادیت کےپیشِ نظر ان کو آزادی کا حق دیتا ہے۔ معتدل اور وسطیت یقیناً اس میں ہے کہ عورت کو ان امور میں آزدی دی جاسکتی ہے جو شرعی حدود و قیود کے تحت جائز اور ضروری ہوں، نہ کہ ان میادین میں جہاں پہلے سے ہی افراد وافر مقدار میں ہوں اور تمام امور بحسنِ خوبی ادا ہورہے ہوں۔

۱۰۔شہریت کا حق:

اس معاہدے کے تحت خواتین کو شہریت کا حق بھی حاصل ہے اور CEDAWکہتا ہے کہ عورت کی شادی کے ساتھ ہی اس کی قومیت اس کے شوہر کے ساتھ تبدیل نہیں ہونے چاہیے، اور یہ بھی کہ اگر خواتین چاہیں تو اپنی شہریت اپنی اولاد کو بھی منتقل کر سکتی ہیں۔اس حوالے سے CEDAW کا نواں آرٹیکل درج ذیل ہے:

“Girls and women have the right to have a nationality, and to change it if they want. A woman’s nationality must not be changed automatically just because she got married, or because her husband changed his nationality. Women can pass on their nationality to their children, the same as men.”[21]

’’خواتین کو شہریت رکھنے اور اگر چاہیں تو اسے تبدیل کرنے کا بھی کاحق حاصل ہے۔ ایک عورت کی شہریت محض اس وجہ سے تبدیل نہیں ہو جاتی کہ اس کی شادی ہوگئی ہے یا س وجہ سے کہ اس کے شوہر نے اپنی شہریت تبدیل کر لی ہے۔ مردوں کی خواتین کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ اپنی شہریت اپنی اولاد کو منتقل کر سکیں۔‘‘

معاہدے کا یہ حصہ دراصل مغربی ممالک کے یہاں قابلِ عمل ہے، تاہم ہمارے اس معاشرے یا ترقی پذیر ممالک میں اس حوالے سے احکامات تاحال غیر واضح ہیں کیونکہ اس کی ضرورت تاحال نہیں پیش آئی بلکہ اس پر مناسب قانون سازی کی بھی ضرورت ہے۔

۱۱۔تعلیم کا حق:

خواتین کی تعلیم اور اس کی اہمیت کے حوالے سے CEDAWکی سفارشات بالکل واضح اور جامع ہیں ۔ اس کے دسویں آرٹیکل میں حکومت وقت سے ان الفاظ میں سفارش کی گئی ہے:

“Governments must end discrimination against girls and women in education. Girls and women have a right to education, just as boys and men do. Girls and women should have access to career guidance and professional training at all levels; to studies and schools; to examinations, teaching staff, school buildings, and equipment; and opportunities to get scholarships and grants, the same as boys and men. Girls and women have the right to take part in sports and physical education, and to get specific information to ensure the health and well-being of families. Governments should make sure girls do not drop out of school. They should also help girls and women who have left school early to return and complete their education.”[22]

’’حکومتوں کو تعلیم میں لڑکیوں اور خواتین کے بارے نسلی تفاوت ختم کرنا چاہیے۔ خواتین کو بھی مردوں کی طرح تعلیم کا حق حاصل ہے۔ خواتین کو بھی مستقبل کے پیشہ کی رہنمائی،مطالعہ،سکول، امتحانات، تدریسی عملہ، سکول کی عمارت اور سازوسامان ہر سطح پرپیشہ وارانہ تربیت کا حق حاصل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وظائف اور امداد کے حصول کا حق بھی ایسے ہی حاصل ہے جیسے مردوں کو۔ کھیلوں اور جسمانی تعلیم میں حصہ لینے اور صحت اور خاندان کی بہتری کو یقینی بنانے کے لیے خاص معلومات تک رسائی بھی خواتین کا حق ہے۔ سکول سے لڑکیوں کا خارج نہ ہونے کو بھی یقینی بنانا حکومت کا فرض ہے۔ وہ خواتین جو ابتدائی عمر میں ہی سکول چھوڑ جاتی ہیں انہیں سکول واپس لانے اور ان کی تعلیم مکمل میں مدد کرنی چاہیے۔‘‘

یہ حقیقت ہے کہ انسان کی ترقی کا دارومدار علم پر ہے ۔ تاریخ عورت کے لیے علم کی ضرورت واہمیت کو نظر انداز کرنا اور اس کی ضرورت کو مردوں سے خاص کرنا بلکہ ان میں جو خاص بھی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں صرف وہی علم حاصل کرسکیں اور عورت علم سے بہت دور جہالت کی زندگی بسر کرے، ایک مہلک رویہ اور ایسا منفی نتائج کا حامل ہے ۔اسلام نے حصول علم کو فرض قرار دیا ہے اور مرد وعورت دونوں کے لیے اس کے دروازے کھولے بلکہ جو بھی اس راہ میں رکاوٹ وپابندیاں تھیں، سب کو ختم کردیا۔اسلام نے لڑکیوں کی تعلیم وتربیت کی طرف خاص توجہ دلائی اور اس کی ترغیب دی، جیسا کہ ابوسعید خدری ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’مَنْ عَالَ ثلاثَ بناتٍ فأدَّبَهُنَّ وَزَوَّجَهُنَّ وأحسنَ الیهِنَّ فله الجنة‘‘ [23]

’’جس نے تین لڑکیوں کی پرورش کی ان کو تعلیم تربیت دی، ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ (بعد میں بھی)حسنِ سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے۔‘‘

زوجہ مطہرہ عائشہ ؓ کے ساتھ کھیل کود میں شرکت فرماتے۔کبھی عائشہ ؓ جیت جاتیں اور کبھی آپﷺ، اور آپ مزاحاً فرماتے:’’هذا بتلک‘‘ یعنی یہ جیت اس ہار کے بدلے میں ہے۔ [24] اس لیے مرد کے ساتھ ساتھ عورتوں کی تعلیم بھی نہایت ضروری ہے۔

قرونِ اولیٰ میں جس طرح علم مردوں میں پھیلا، اسی طرح عورتوں میں بھی عام ہوا۔ صحابہ کے درمیان قرآن وحدیث

میں علم رکھنے والی خواتین کافی مقدار میں ملتی ہیں۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں مسائل کا استنباط اور فتویٰ دینا بڑا ہی مشکل اور نازک

کام ہے۔ لیکن پھر بھی اس میدان میں عورتیں پیچھے نہیں تھیں۔ بلکہ صحابہٴ کرام کے مدِمقابل تھیں ،اس میں نمایاں ترین سیدہ عائشہ، ام سلمہ، ام عطیہ، صفیہ، ام حبیبہ، اسماء بنت ابوبکر، ام شریک، فاطمہ بنت قیس وغیرہ نمایاں تھیں۔[25]

۱۲۔ خواتین کی صحت کے لیے سہولیات اور ان کا حق :

خواتین کے حقوق کے اس عالمی معاہدے میں خواتین کو صحت سے متعلقہ ضروری سہولیات کے سلسلہ میں بھی امتیاز کے خاتمہ کی سفارش کی گئی ہے۔ عالمی معاہدہ کے بارہویں آرٹیکل میں کہا گیا ہے:

“Governments must make sure that girls and women are not discriminated against in health care. Girls and women must get health care on the same terms as boys and men. In particular, women have the right to services related to family planning and pregnancy.”[26]

’’حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ صحت کے معاملہ میں خواتین کے ساتھ امتیاز روا نہیں رکھا جاتا۔ خواتین کو بھی انہی شرائط پر صحت کی سہولیات حاصل ہونی ثاہیے جیسے کہ مردوں کو۔ خاص طور پرخواتین کوخاندانی منصوبہ بندی اور حمل کے معاملات کا حق حاصل ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے مرد کو قوّام یونی نگہبان بنایا ہے اور عورت کی تمات تر ضروریات کا اسے مکلف بنایا ہے۔ چنانچہ مرد کے بنیادی فرائض میں یہ بات شامل ہے کہ وہ اپنے زیرِ کفالت خواتین کو تمام ضروریات فراہم کرے۔ ریاست کی اس ضمن میں یہ ذمہ داری ہے کہ علاج و معالجہ کی وسیع تر سطح پر فراہمی کو یقینی بنائے۔

۱۳۔ معاشی اور معاشرتی زندگی اور روزگار کا حق:

معاہدے کے تیرھویں آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ ہر علاقہ کی خواتین کو اپنی معاشی اور معاشرتی زندگی مروجہ اُصولوں کے مطابق گزارنے کا پُورا پُورا حق حاصل ہے۔ اس ضمن میں یہ آرٹیکل درج ذیل سفارش کرتا ہے:

“Girls and women have the same rights as boys and men in all areas of economic and social life, like getting family benefits, getting bank loans and taking part in sports and cultural life.”[27]

’’خواتین کو اپنی معاشی اور معاشرتی زندگی کے ہر شعبے میں جیسے خاندانی وظائف، بنک سے قرضوں کا حصول، کھیلوں میں حصہ لینا اور ثقافتی زندگی میں مروجہ اُصولوں کے مطابق گزارنے کا پورا حق حاصل ہے۔ “

عالمی معاہدہCEDAW خواتین کو روزگار کے لیے مردوں کے برابر حق دیتا ہے اور کہتا ہے کہ خواتین کو اپنی مرضی کا پیشہ

اختیار کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ روزگار کے حصول،تنخواہ، ترقی اور دوران ملازمت تربیت میں خواتین کا حق بھی مردوں کے برابر ہے۔اس حوالے سے معاہدے کی قانونی شق یہ ہے:

“Women have a right to work just like men. They should be able to join a profession of their choice. Women must have the same chances to find work, get equal pay, promotions and training and have access to healthy and safe working conditions. Women should not be discriminated against because they are married, pregnant, just had a child or are looking after children. Women should get the same assistance from the government for retirement, unemployment, sickness and old age.”[28]

’’عورتوں کو بھی مردوں کی طرح کام کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہیں اپنی مرضی کا پیشہ اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔ خواتین کو ملازمت کے حصول، ترقی اور تربیت کے برابر مواقع حاصل ہیں، اس کے علاوہ صحت اور ملازمت کی محفوظ جگہوں تک رسائی کا حق بھی حاصل ہے۔ خواتین کو محض اس وجہ سے تفریق کا شکار نہیں کرنا چاہیے کہ وہ شادی شدہ ہیں، حاملہ ہیں ،اس کے بچے ہیں یا ابھی بچے کی نگہداشت کرنا چاہ رہی ہیں۔خواتین کو بھی مردوں کی طرح ریٹائرمنٹ، بے روزگاری، بیماری اور بڑھاپے کی صورت میں حکومتی امداد ملنی چاہیے۔‘‘

اس حوالے سے ذیلی سفارش اسلام کے نکتہ نظر سے یکسر مختلف ہے کیونکہ اسلام عورت کو معاشی ضروریات پوری کرنے سے روکتا ہےاور اسلام میں نان و نفقہ مرد کے ذمہ ہے اور عورت کو اس بوجھ سے بری قرار پاگیا ہے۔ اس کے باوجود اسلام نے عورت کو روزگار کے حصول سے منع نہیں کیا۔ بامرِ مجبوری میں روزگار کا حصول کے لیے تگ و دو کر سکتی ہے ۔لیکن اسلام نے مغرب کی طرز پر عورت کو معاشی آزادی نہیں دی۔اسلام شرعی حدود و قیود کے ساتھ عورت کو معاشی حقوق میں روزگا ر کا حق دیتا ہے اور شریعتِ اسلامیہ عورت کے اس حق کو تسلیم کرتی ہے۔

۱۴۔ دیہی علاقوں کی خواتین کے حقوق :

شہری علاقوں کی بہ نسبت دیہی علاقوں میں خواتین کو ذہنی و علمی طور پر پسماندگی کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے، CEDAW دیہی علاقوں کی خواتین کی نمائندگی کرتے ہوئے حکومتوں سے یہ سفارش کرتا ہے:

“Governments must do something about the problems of girls and women who live in rural areas and help them look after and contribute to their families and communities. Girls and women in rural areas must be supported to take part in and benefit from rural development, health care, loans, education and proper living conditions, just like boys and men do. Rural girls and women have a right to set up their own groups and associations.”[29]

’’حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اُن خواتین کے مسائل پر خصوصی توجہ دیں جو دیہی علاقوں سے ہیں اور اپنے خاندان اور معاشرے کی دیکھ بھال اور ان کی بہتری میں حصہ ڈالنے میں ان کی مدد کرنی چاہیے۔ دیہی علاقوں کی ترقی میں حصہ لینے اور ان کے ثمرات سے لطف اندوز ہونے، صحت، قرضوں کا حصول، تعلیم اور مناسب رہائشی سہولیات میں بھی مردوں کی طرح ان کی معاونت کرنی چاہیے۔ دیہی علاقوں کی خواتین کو بھی اپنے گروپ اور تنظیمات بنانے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔‘‘

دیہی علاقوں کی خواتین کو شہری علاقوں کی خواتین کے مقابلے میں زیادہ آسانیاں اور سہولیات حاصل ہوتی ہیں، اس ضمن میں حکومتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ دیہی علاقوں کی عورتوں اور بچیوں کی صحیح اور مناسب نگہداشت کا بندوبست کریں بلکہ اگر دیہی پروگرامز برائے بحالی صحتِ نسواں شروع کیے جائیں تو یہ بہت ہی خوش آئند امر ہوگا۔ تاکہ ہنگامی حالات میں خواتین کو شہر منتقل کرنے کی بجائے ان کا علاج انھی دیہی مراکز میں کردیا جائے۔ اس سے اخراجات اورشہری مراکزِ صحت پر لوگوں کا رش کم سے کم ہوگا۔ اس حوالے سے منتخب جمہوری حکومتوں کو کانفرنس میں پیش کی گئی سفارشات کو حتی الوسع اپنانا چاہیے بلکہ ایک ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی جائے۔

۱۵۔خواتین کے حقوق کی قانونی حیثیت :

خواتین کے حقوق کا یہ عالمی معاہدہ اس بات کی سفارش کرتا ہے کہ قانون کی نظر میں خواتین کو مرد کی برابری حاصل ہو۔ معاہدہ کے پندرھویں آرٹیکل میں کہا گیا ہے:

“Girls and women and boys and men are equal before the law, including laws about freedom to go where they choose, choosing where to live, signing contracts and buying and selling properties. Women have the same ‘legal capacity’ as men.”[30]

’’ لڑکیوں اور خواتین اور مرد قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔وہ کہیں بھی آنے جانے، کہیں بھی رہنے، کنٹریکٹ سائن کرنے اور جائیداد کی خریدو فروخت میں آزاد ہیں۔خواتین بھی مردوں کی طرح ان سب میں قانونی گنجائش رکھتی ہیں۔‘‘

اسلام مرد اور عورت کو برابر قرار دیتا ہے۔ نبی پاکﷺ کا ارشاد ہے:

’’ إِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ‘‘ [31]

’’بے شک عورتیں مردوں کے برابر ہیں۔‘‘

مندرجہ بالا حدیث سے استدلال لفظِ شقیق سے ہے ۔عربی زبان میں شقیقہ کسی چیز کے درمیان سے پھٹے ہوئے دو برابر حصوں کو کہتے ہیں۔ مذکورہ بالا روایت میں اسی مفہوم کے تحت عورت کو مرد کا شقیقہ کہا گیا ہے۔ یہ عورت کی اسلام میں حیثیت کی صحیح تعبیر ہے۔ اسلام کے مطابق عورت اور مرد دونوں ایک کل کے دو برابر اجزا ہیں ، اس کا آدھا حصہ عورت ہے اور آدھا حصہ مرد۔ اس اعتبار سے یہ بات عین درست ہو گی کہ عورت کو نصف انسانیت کا لقب دیا جائے۔ حقیقت یہ کہ شریعت اسلامیہ میں خواتین کو معاشرے کا اہم ستون قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’وَلَهُنَّ مِثلُ الَّذِي عَلَيهِنَّ بِالمَعرُوفِ‘‘ [32]

’’اور عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے ان پر ہیں۔‘‘

اسلام نے مرد و عورت کو برابر طور پر تمام قسم کے بنیادی و شخصی حقوق سے نوازاہے ۔ عورت کو مرد کی مانند تمام قسم کے فرائض و واجبات کا مکلف بنا کے عورت کو نصف معاشرہ قرار دیا۔گویا شریعت اسلامیہ کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ CEDAWکا یہ خواتین کے حقوق کے سلسلے میں یہ مطالبہ کہ خواتین کو بھی مردوں کے برابر حقوق دیے جائیں اسلامی تعلیمات کے ہم آہنگ ہے۔

۱۶۔شادی اور خاندانی زندگی سے متعلقہ امور:

CEDAWخواتین کو شادی کرنے اور اپنی خاندانی زندگی اپنی مرضی سے جینے کا حق دیتا ہے۔ سولہویں آرٹیکل میں کہا گیا ہے:

“Women have the same rights as men to choose whom they marry, the number of children they want to have and to care for them when they are born. Women also have the equal right to the property that they get with their husband while they are married. To end child marriage, governments must set a lowest age for marriage and make sure this is followed. All marriages must be registered (officially recorded with the government)” [33]

’’مردوں کی طرح خواتین کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے جس سے چاہیں،وہ شادی کریں، جتنے چاہیں بچے پیدا کریں اور اُن کی پیدائش کے بعد ان کی دیکھ بھال کرنے کا حق حاصل ہے۔ شادی کے بعد مرد کی جائیداد میں خواتین کو بھی برابر کا حق حاصل ہے۔ چھوٹی عمر میں شادی کو روکنے کے لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ شادی کی کم از کم عمر مقرر کرے، اور اس بات کو یقینی بنائے کہ اس پر عمل کیا جا رہا ہے۔ تمام شادیاں رجسٹر کی جائیں (سرکاری طور پر ان کا ریکارڈ رکھا جائے۔)‘‘

اسلام نے عورت کو اپنے لیے شوہر کے اختیار کا حق عطا کیا ہے، ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’لا تنکح الایم حتیٰ تستامر، ولا تنکح البکر حتیٰ تستاذن قالوا: یا رسول الله ﷺ و کیف اذنها، قال: ان تسکت ‘‘[34]

’’بغیر مشورہ لیے بیوہ عورت کی شادی نہ کرائی جائے اور نہ ہی بغیر اجازت کے باکرہ لڑکی کی شادی کرائی جائے۔ صحابہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! اس کی اجازت کیسے ہو گی؟ فرمایا کہ وہ خاموش رہے۔ ‘‘

اسی طرح خنسا بنت خدام ؓ کا واقعہ روایت میں آتا ہے کہ:

’’ان اباها زوجها ، و هی ثیب، فکرهت ذلک، فأتت رسول الله ﷺ، فردّ نکاحها ا ی ابطله‘‘ [35]

’’ان کے والد نے ان کی شادی ان کی مرضی کے خلاف ایک ایسے شخص سے کر دی جسے وہ نا پسند کرتی تھی تو وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، چنانچہ آپ نے اس کا نکاح واپس لوٹا دیا، یعنی اسے مسترد قرار دے دی۔‘‘

ان احادیث کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ شریعتِ اسلامیہ میں بھی عاقلہ لڑکی (چاہے وہ باکرہ ہو یا ثیبہ) انہیں اپنے لیے شوہر کے اختیار کا حق دیا گیا ہے۔ اس کے والد یا کسی رشتہ دار کو یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ اسے اس کی مرضی کے خلاف شادی پر مجبور کرے۔اس معاہدے میں شادی کے کم از کم عمر کے تعین پر بھی زور دیا گیا ہے، شریعت اسلامیہ میں ویسے تو شادی کے لیے عمر کی کوئی قطعی حد بندی تو نہیں کی گئی تا ہم عمر کے بارے میں ایک سنجیدہ فیصلہ کی طرف رہنمائی کے عمومی اشارے ضرور پائے جاتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’وَابْتَلُوا الْيَتَامَىٰ حَتَّىٰ إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُم مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ ۖ وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَن يَكْبَرُوا ‘‘ [36]

’’اور یتیموں کی حالت پر نظر رکھتے ہوئے انہیں آزماتے رہو (کہ ان کی سمجھ کا کیا حال ہے؟) یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں۔ پھر اگر ان میں صلاحیت پاؤ تو ان کا مال ان کے حوالے کر دو اور اس خیال سے کہ بڑے ہو کر مطالبہ کریں گے، ٖفضول خرچی کر کے ان کا مال جلد جلد کھا ہی نہ لو۔ ‘‘

حیاتیاتی طور پر بیویوں کے ساتھ (جو جسمانی طور پر ابھی پختہ نہیں ہوئیں) طبی عوارض سبب بن سکتی ہے نیز یہ کہ اگر حمل قرار پائے تو زچہ و بچہ دونوں کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ بہتر ہے کہ قانونی طور پر مقررہ عمر سے کم میں لڑکیوں کی شادیاں نہ کی جائیں۔

خلاصہ بحث:

انسان کے سفر کا آغاز مرد اور عورت کے اتحاد سے ہوا ہے۔ اسی سے نسل پھیلی، اور علم و فن، صنعت و حرفت اور تہذیب و تمدن کا ارتقاء بھی ہوا ہے۔ عورت اور مرد کے اتحاد کی نوعیت یہ نہیں ہے کہ بعض نوعی خصوصیات یا تمدنی ضروریات کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنے اور مِل جُل کر کام کرنے میں لگے ہوں، بلکہ ان کا تعلق اس فطری کشش و جذب کا ظہور ہے جو اُن کو جڑے رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ اسی لیے وہ بغیر کسی خارجی محرک کے ایک دوسرے کی طرف بڑھتے ہیں، حالاں کہ اُن کی دلچسپیاں مختلف اور ان کے کام کرنے کے دائرے الگ الگ ہیں۔مغرب میں قدیم جاہلیت نے عورت کو پستی کے گڑھے میں پھینک دیا ۔جدید مغرب میں عورت کو اس پستی سے نکالنے کے لیے عالمی سطح پر کئی کوششیں کی گئیں۔ حقوقِ نسواں کا عالمی معاہدہ CEDAW بھی انہی کاوشوں کی ایک کڑی ہے۔ CEDAW حقوقِ نسواں کے سلسلہ میں ایک نہایت اہم ڈاکومنٹ ہے۔ جو کہ کُل ملا کر 30آرٹیکلز پر مشتمل ہے ۔ آرٹیکل 1 تا 16 میں اُن اقدامات کی سفارش کی گئی ہے جو کسی بھی حکومت کو خواتین کے خلاف امتیازات کے خاتمے کے لیے کرنے چاہییں۔ اس کے علاوہ ان آرٹیکلز میں ان مخصوص دائرہ کار کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جہاں خواتین کے خلاف قوانین، شادی بیاہ، تعلیم، صحت اور روزگار جیسے امتیازات کا خاتمہ ہونا چاہیے۔CEDAW خواتین کے بنیادی حقوق کا مطالبہ کرتا ہے۔ تقریباً ۲۰۰ ممالک اور حکومتوں کی طرف سے اس معاہدہ کی تصدیق اس بات کی غمازی ہے کہ یہ معاہدہ عالمی سطح پر خواتین کے لیے کی جانے والی کوششوں میں نہایت اہم حیثیت رکھتا ہے۔

CEDAW خواتین کے جن حقوق کی سفارش کرتا ہے ان میں سب سے پہلے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں جن سے خواتین کو تمام بنیادی حقوق اورشخصی آزادی ملے، حکومتوں کو چاہیے کہ وہ سیاسی، معاشرتی، معاشی اور ثقافتی تمام شعبوںمیں اقدامات کرتے ہوئے مردوں کے ساتھ خواتین کے خلاف دقیانوسی خیالات پرمشتمل کردار کو خاتمہ کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے، خاص طور پر اُس وقت کہ جب مردوں کو خواتین سے بہتر سمجھا جائے۔ خواتین کی خرید و فروخت اور عصمت فروشی کو روکنے کے لیے اقدامات کرنا اور حقوقِ نسواں کے لیے نئے قوانین بنانا حکومتوں کا فرض ہے۔ خواتین کو بھی ووٹ اور سرکاری عہدوں کے لیے منتخب ہونے کے لیے برابر حقوق حاصل ہیں۔حکومتوں کو تعلیم میں نسلی تفاوت ختم کرناچاہیے اور خواتین کو بھی مردوں کی طرح تعلیم کا حق دیا جائے۔ ہر علاقہ کی خواتین کو اپنی معاشی اور معاشرتی زندگی مروجہ اُصولوں کے مطابق گزارنے کے مکمل حقوق حاصل ہیں ۔

یہ عالمی معاہدہ خواتین کو روزگار کے لیے مردوں کے برابر حق دیتا ہے اور کہتا ہے کہ خواتین کو اپنی مرضی کا پیشہ اختیار کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ روزگار کے حصول، تنخواہ، ترقی اور دوران ملازمت تربیت میں خواتین کا حق بھی مردوں کے برابر ہے۔حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اُن خواتین کے مسائل پر خصوصی توجہ دیں جو دیہی علاقوں سے ہیں ۔اپنے خاندان اور معاشرے کی دیکھ بھال اور ان کی بہتری میں حصہ ڈالنے میں ان کی مدد کرنی چاہیے۔قانون کی نظر میں خواتین کو مرد کی برابری حاصل ہو، اور خواتین کو شادی کرنے اور خاندانی زندگی اپنی مرضی سے جینے کا حق دیا جائے۔

اگر حقوقِ نسواں کے اس عالمی معاہدہ کا دقتِ نظر ی سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے عورت کو مختلف نظریات و تصورات کے محدود دائرے سے نکال کر ساڑھے چودہ سو سال پہلے بحیثیت انسان کے عورت کو مرد کے یکساں درجہ دیا۔اسلام کے علاوہ باقی تمام تہذیبوں نے خصوصاً مغرب جو آج عورت کی آزادی، عظمت اور معاشرے میں اس کو مقام و منصب دلوانے کا سہرا اپنے سر باندھنا چاہتاہے اور شریعتِ اسلامیہ پر یہ الزام عائد کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اسلام عورتوں کے حقوق میں رکاوٹ ہے ،حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ مغربی معاشرے نے ہمیشہ عورت کے حقوق کو سبوتاژ کیا اور عورت کو اپنی محکومہ اور مملوکہ بنا کر رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی مختلف تہذیبوں اور اقوام نے عورت کے لئے سینکڑوں قانون بنائے مگر یہ قدر ت کا کرشمہ ہے کہ عورت نے اسلام کے سوا اپنے حقوق کی کہیں داد نہ پائی۔

حوالہ جات

  1. [#article1 www.un.org/womenwatch/daw/cedaw/text/econvention], (accessed July15, 2018)
  2. النحل :۹۷
  3. الحجرات: ۱۳
  4. [#article1 www.un.org/womenwatch/daw/cedaw/text/econvention], (accessed July15, 2018)
  5. [#article1 www.un.org/womenwatch/daw/cedaw/text/econvention], (accessed July15, 2018)
  6. النسآء : ۲۰
  7. == السجستانی، أبو داود سلیمان بن اشعث ، السنن(الریاض: دارالسلام،۱۹۹۹ء)، حدیث : ۲۱۰۶==
  8. [#article1 www.un.org/womenwatch/daw/cedaw/text/econvention], (accessed July15, 2018)
  9. البقرۃ: ۲۲۸
  10. آل عمران: ۱۹۵
  11. النسآء: ۳۴
  12. == البقرۃ: ۲۲۸==
  13. [#article1 www.un.org/womenwatch/daw/cedaw/text/econvention], (accessed July15,2018)
  14. [#article1 www.un.org/womenwatch/daw/cedaw/text/econvention], (accessed July15, 2018)
  15. ابو داؤد،السنن،حدیث : ۴۸۸۲
  16. النور: ۳۳
  17. بخاری، محمد بن اسماعیل،الجامع الصحیح(کراچی:قدیمی کتب خانہ،س ن )، ۱: ۲۹۷
  18. [#article1 www.un.org/womenwatch/daw/cedaw/text/econvention], (accessed July15, 2018)
  19. الممتحنۃ : ۱۸
  20. [#article1 www.un.org/womenwatch/daw/cedaw/text/econvention], (accessed July15, 2018)
  21. [#article1 www.un.org/womenwatch/daw/cedaw/text/econvention], (accessed July15, 2018)
  22. [#article1 www.un.org/womenwatch/daw/cedaw/text/econvention], (accessed July15, 2018)
  23. ابوداؤد ، السنن ،حدیث : ۵۱۴۷
  24. == القشیری،مسلم بن الحجاج ،الجامع الصحیح (الریاض:دارالسلام ،۲۰۰۰ء)،حدیث : ۱۸۹۰==
  25. == الغزالی، ابو حامد، احیاء علوم الدین ( کراچی :دارالاشاعت،۱۹۹۵ء)،ص: ۱۳۱۷==
  26. [#article1 www.un.org/womenwatch/daw/cedaw/text/econvention], (accessed July15, 2018)
  27. [#article1 www.un.org/womenwatch/daw/cedaw/text/econvention], (accessed July15, 2018)
  28. [#article1 www.un.org/womenwatch/daw/cedaw/text/econvention], (accessed July15, 2018)
  29. [#article1 www.un.org/womenwatch/daw/cedaw/text/econvention], (accessed July15, 2018)
  30. [#article1 www.un.org/womenwatch/daw/cedaw/text/econvention], (accessed July15, 2018)
  31. الترمذی ،محمد بن عیسیٰ ، الجامع السنن (الریاض: دارالسلام،۱۹۹۹ء )، حدیث : ۱۰۵
  32. البقرۃ: ۲۲۸
  33. [#article1 www.un.org/womenwatch/daw/cedaw/text/econvention], (accessed July15, 2018)
  34. مسلم، الجامع الصحیح ، حدیث: ۲۳۴۷
  35. ایضا
  36. النساء: ۶