Playstore.png

فروغ امن اور انسداد دہشت گردی میں عقائد صحیحہ کا کردار

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ إیقان
عنوان فروغ امن اور انسداد دہشت گردی میں عقائد صحیحہ کا کردار
انگریزی عنوان
The Role of Authentic Believes in Promotion of Tolerance and Prevention from Terrorism
مصنف Ahmad، Mahmood، Mansha Tayyab
جلد 1
شمارہ 1
سال 2018
صفحات 61-80
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
believes, promotion, tolerance, prevention, terrorism, misconceptions.
شکاگو 16 Ahmad، Mahmood، Mansha Tayyab۔ "فروغ امن اور انسداد دہشت گردی میں عقائد صحیحہ کا کردار۔" إیقان 1, شمارہ۔ 1 (2018)۔

Abstract

Peace is the key source of all virtues. Unfortunately, since long all the world especially Muslim ummah is facing extremism and terrorism. It is very tragic are mostly those who are having the labels of Islam. One of the many reasons for this is the weakness of beliefs. Today many people have misconceptions about basic beliefs of Islam. Such people are responsible for destroying the peace of society. The best and easy solution to avoid all these riots and setting up peace is to focus on improving their beliefs. Without this the desire to establish peace is nothing more than a dream. In spite of the intention of eliminating the riots with the latest cameras, sensors, radar and all the richest resources available in the world's developed countries. There is not a single woman who travels far away from the remote and is not afraid of anyone except Allah. But the Islam, fourteen centuries ago, showed that a woman traveled alone from ḥirā to Makkah and would not have been afraid of anyone except Allah. It was possible only when the prophet (pbuh) spent his life preaching in Makkah about the purification of beliefs. In history, it is always a tradition that whenever corruption is increased on earth, Allah altered this corruption by the prophets and all the prophets started their mission with correction of beliefs.

تعارف:

قیامِ امن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم نعمت ہے۔اس وقت دنیا بالعموم ،بشمول وطنِ عزیز پاکستان اور امت مسلمہ بالخصوص انتہا پسندی اور دہشت گردی کی زد میں ہے۔ یہ بات بھی افسوس ناک ہے کہ عبادت گاہوں اور بازاروں میں دھماکوں سے دہشت پھیلانے والے ہوں، یا چوری و ڈکیتی کی وارداتوں میں نہتے شہریوں کا بے دریغ قتل کر کے امن کا خون کرنے والے یا کرپشن،رشوت خوری، شراب نوشی اور بدکاری سے معاشرے کو جہنم بنا دینے والے،ان میں سے کئی ایک اسلام کے نام لیوا ہیں ۔ آخر ایسا کیوں ہے کہ جو دین تمام جہان کے لیے امن و سلامتی کا پیغام لے کرآیااس کے ماننے والوں میں بھی ایسے ایسے افراد اور جماعتیں موجود ہوں جو اسی امن کو ہی تباہ کرنے پر کمر بستہ ہوں؟ امن و امان بنی نوع انسان کی ایک اہم اور بنیادی ضرورت ہے جس سے دنیا میں معاشی و معاشرتی امن و سکون قائم ہوتا ہے۔ امن وامان اس دور میں اپنی اہمیت کے پیشِ نظر کسی طور پر اللہ کے کرم اور اس کے احسان سے کم نہیں،یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید میں اللہ تعالی نے نعمتِ امن کا بطور احسان ذکر کرتے ہوےٴ یوں ارشادفرمایا:

’’أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ‘‘[1]

’’ کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم (مکہ) کو پرامن بنا دیا ہے جبکہ ان کے ارد گرد کے لوگ اچک لئے جاتے ہیں ‘‘

امن و امان اور اسلام کا تعلق :

ایمان اور اسلام کا امن و سلامتی کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ یہ تعلق ان اصطلاحات کے حروف اصلیہ سے بھی واضح ہو رہا ہے۔امن و امان اسلام کامضبوط حصار اورقلعہ ہے۔ اسی کی موجودگی میں لوگ اپنی معاشی و معاشرتی اور دیگر ضروریات پوری کرنے کیلئے ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں بلا خوف و خطر آتے جاتے ہیں۔جیسا کہ قرآنِ مجید میں فرمانِ باری تعالی ہے:

’’أَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَهُمْ حَرَمًا آمِنًا يُجْبَى إِلَيْهِ ثَمَرَاتُ كُلِّ شَيْءٍ رِزْقًا مِنْ لَدُنَّا وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ‘ [2]

’’ کیا ہم نے پرامن حرم کو ان کی جائے قیام نہیں بنایا، جہاں ہمارے حکم سے ہر طرح کے پھل رزق کی صورت میں لائے جاتے ہیں؟ لیکن ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ۔‘‘

امن و امان اور اسلام و ایمان کا شروع ہی سےچولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ چنانچہ طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وقت نیا چاند دیکھتے تو مندرجہ ذیل دعا پڑھتے تھے:

’’اَللَّهُمَّ أهِلَّهُ عَلَيْنا بالأمْنِ وَالإِيمانِ وَالسَّلامَةِ وَالإِسْلامِ رَبِّي وَرَبُّكَ الله ، هِلالَ خَيْرٍ وَرُشْدٍ ‘‘[3]

’’یا اللہ! اسے ہم پر امن وایمان ، سلامتی اور اسلام کے ساتھ طلوع فرما، چاند!میرا اور تیرا رب اللہ ہے، یا اللہ! اسے خیر و بھلائی کا چاند بنا۔‘‘

امن کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے دین، جان، عزت و آبرو، مال و دولت، املاک، عزت و احترام اور اپنی ہر چیز کے بارے میں مطمئن رہے، انسان کو ان کے بارے میں کسی قسم کا خطرہ و خدشہ لاحق نہ ہو۔اسی طرح انسان کے ایسے ادبی و معنوی حقوق جنہیں اسلام نے تحفظ دیا ہے ان کے بارے میں بھی مکمل اطمینان میں رہے۔

قیامِ امن اور تکمیل دین :

امن و امان تکمیل دین کا اہم جزو اور شریعت کے بنیادی مقاصد میں سے ہے۔ اللہ تعالی نے فتنہ و فساد کے خاتمے اور امن کے قیام تک امت مسلمہ پر جہاد کو فرض قرار دیا ہے۔اسلام کی برکات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب اسے زمین میں تمکنت حاصل ہو جاتی ہے تو زمین سے ہر قسم کا ڈر اور خوف ختم ہو جاتا ہے۔ تاہم اس میں اسلامی احکامات کا نفاذ ہی اولین ترجیح قرار پاتا ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ ‘‘[4]

’’جن کو اگر زمین میں غلبہ حاصل ہوجائے تو وہ نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کریں اور نیکی کا حکم دیں اور برائی کے کاموں سے

روکیں، اور اللہ ہی کے لیے تمام کاموں کا انجام تک پہنچانا ہے۔‘‘

غلبہ اسلام کے عدمِ حصول تک قیامِ امن اور تکمیلِ دین کا فریضہ بھی درحقیقت ثبات کو نہیں پہنچ سکتا۔اگرچہ اس کا امکان اور وجود ایک مسلمہ حقیقت ہے تاہم اس سے قبل مصائب و مشکلا ت کا ایک کٹھن دور ضرور آتا ہے۔چنانچہ خباب بن ارت رضی اللہ عنہ اس حوالے سے روایت کرتے ہیں کہ:

’’ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شکایت کی-آپ اس وقت کعبہ کے سائے تلے چادر پر ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے- ہم نے کہا: "آپ ہمارے غلبے کیلئے اللہ سے دعا کیوں نہیں فرماتے" تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (تم سے پہلے امتوں میں ایک آدمی کو زمین میں دبا کر اس کے سر کو آرے سے دو حصوں میں تقسیم کر دیا جاتا تھا، لوہے کی کنگھی کے ذریعے ہڈی سے گوشت اتار دیا جاتا، لیکن یہ تمام اذیتیں اسے دین سے دور نہیں کر سکتی تھیں، اللہ کی قسم! اللہ تعالی اس دین کو ضرور غالب فرمائے گا حتی کہ ایک سوار صنعا سے حضر موت تک کا سفر کرتے ہوئے اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرے گا، اور نہ اپنی بکریوں کے متعلق بھیڑیے کا خوف رکھے گا، لیکن تم جلد بازی کرتے ہو۔‘‘[5]

لہٰذا یہ امر مسلم اور قابلِ توجہ ہے کہ دینِ اسلام کی وجہ سے قیامِ امن کا تصور تمام دنیا میں موجود ادیانِ سماویہ کی نسبت واضح اور عملی ہے جس کی تعلیمات کتاب و سنت میں جابجا ملتی ہیں تاہم اس سے قبل قربانیوں اور جہدِ مسلسل کا ایک طویل راستہ ہے جس کی انتہاء امنِ عالم کی صورت میں سامنے آتی ہے۔

امن کے بغیر زندگی کا تصور:

امن و امان کا خاتمہ اللہ تعالی کے عذاب کی ایک شکل ہے۔جو اقوام بحیثیت مجموعی کفران نعمت کی مرتکب ہوتی ہیں ان سے امن کی نعمت چھین لی جاتی ہےتو پھر ان پر خوف کے سائے منڈلانے لگتے ہیں اور اگر امن و امان کی حالت دگر گوں ہو تو زندگی ناقابل برداشت حد تک اجیرن ہو جاتی ہے۔فرمانِ باری تعالی ہے:

’’وَضَرَبَ الله مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ الله فَأَذَاقَهَا الله لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ ‘‘[6]

’’اور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان کی ہے جو امن والی ، اور مطمئن تھی ، اس کے ہاں کھلا رزق ہر جگہ سے آتا تھا ، اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، اللہ نے اسے بھوک اور خوف کا لبادہ پہنا دیا ، اس کے بدلے جو وہ کرتے رہے۔‘‘

پھر اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو یہ بھی واضح طور پر کہہ دیا:

’’وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ‘‘[7]

’’اور تمہیں جو مصیبت بھی آتی ہے تمہارے اپنے ہی کرتوتوں کے سبب سے آتی ہے اور وہ تمہارے بہت سے گناہوں سے درگزر بھی کرجاتا ہے ۔‘‘

قیامِ امن کے بناء معاشرے میں کسی قسم کی ترقی اور عروج ممکن نہیں،بلکہ معاشرتی زندگی کا سکون اس کے بغیر حاصل ہی نہیں ہوسکتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مندرجہ بالا فرامین میں اس کے طر ف توجہ مبذول کرائی ہے تاکہ قیامِ امن کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

امن و امان کی نا گفتہ بہ حالت کی وجوہات:

اس کی کئی وجوہات میں سے ایک نہایت اہم اوربنیادی وجہ عقائد کی ناپختگی اور کجی ہے۔ کیوں کہ انسان کے اعمال و افعال اس کے عقائدہی کا عکس ہوتے ہیں۔ عقیدہ اگر بیج ہے توعمل اس بیج سے اگنے والا پودا ہے۔ پودے میں وہی خصوصیات ہوں گی جن کا حامل بیج ہے۔ اگر بیج تندرست و توانا ہو گا تو اس سے اگنے والا پودا بھی صحت مند ہو گا ۔لیکن اگر بیج ناقص اور کمزور ہو گا تو اس سے پیدا ہونے والے پودے میں بھی ایسے ہی نقائص و عیوب کا پایا جانا بعید از قیاس نہیں ہے۔بعینہ اگر معاشرے میں عوام الناس کے عقائدمضبوط اور درست نہ ہوں تو ان سے اعلیٰ اعمال و افعال کی امید رکھنا خام خیالی ہے۔ آج بہت سے لوگ اسلام کے بنیادی عقائد توحید،رسالت، ملائکہ ، آسمانی کتب اور آخرت سے نا آشنا ہیں۔ ایسےلوگوں کو نہ تو خدا کا خوف ہے نہ ہی روزِ محشر کی ہولناکیوں کا ڈر۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورآخری الہامی کتاب قرآنِ مجید کے احکام پر حقیقی معنوں میں عمل پیرا بھی نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں سے امن و امان پر مبنی صحت مند معاشرتی کردار کی توقع کیوں کر کی جا سکتی ہے۔ایسے لوگ فساد ہی مچائیں گے۔

ان تمام فسادات سے بچنے اور امن و امان قائم کرنے کا بہترین اور آسان حل یہ ہے کہ ان کے عقائد کی اصلاح پر بھر پور توجہ دی جاے۔ عقائد درست ہوں گے تو ہمیں ایمان کی پختگی نصیب ہو گی۔ جو اپنے رب کی معرفت رکھتا ہو اور اسے یقینِ محکم ہو کہ اس کا رب اس کی ہر بات سے با خبر ہے ۔ وہ اپنے خالق کی مخلوقات پر ظلم کیسے کر سکتا ہے۔ جس کو عقیدہ رسالت کا علم ہو گا تو نبی کریم ﷺ کی اتباع کے بغیر اس کے پاس کوئی چارہ نہ ہو گا۔ پھر جس شخص کا عقیدہٴآخرت پر یقین ہو گا کہ مرنے کے بعد اس کا حساب بھی ہو گا وہ کبھی بھی اپنے رب کی بھیجی ہوئی کتاب سے روگردانی کرتے ہوئےدنیا میں فساد برپا نہیں کر سکتا۔ بلکہ ایسا شخص تو امن کا پیامبر ہو گا۔

قیامِ امن اور عبادات کا باہمی ربط:

عبادات کا قیامِ امن کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے۔اگر معاشرہ اس نعمت سے محروم ہو تو کوئی بھی عبادت صحیح معنوں میں سر انجام دینا مشکل ہو جاتا ہے۔اللہ تعالی نے قرآنِ مجید میں امن و امان کو کچھ عبادات اور احکام کیلئے ضروری قرار دیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالی نے حالت خوف سے نکل کر نماز ادا کرنے کے بارے میں ارشادفرمایا:

’’فَإِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَاذْكُرُوا الله قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِكُمْ فَإِذَا اطْمَأْنَنْتُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا‘‘[8]

’’پھر جب تم نماز ادا کر لو تو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہر حال میں اللہ کو یاد کرو اور جب اطمینان حاصل ہو جائے تو پھر [پوری ]نماز ادا کرو ، بلاشبہ مومنوں پر نماز مقررہ اوقات میں فرض کی گئی ہے ۔‘‘

اسلامی نظامِ زکوٰۃ بھی اسی وقت صحیح معنوں میں نافذ ہو سکتا ہے جب زمین میں امن و امان قائم و رائج ہو۔اگر بد امنی کا دور دورہ ہو تو دین اسلام کے ان بنیادی ارکان پر بھی کما حقہ عمل پیرا ہونا مشکل ہو جاےٴ گا۔

اسی طرح قرآنِ مجید میں حج و عمرہ کے بارے میں اللہ تعالی ٰ کا فرمان ہے:

’’فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ‘‘ [9]

’’جب امن میں ہو جاؤ تو جو شخص حج کے ساتھ عمرہ بھی کرے تو وہ میسر قربانی کرے۔‘‘

گویا کہ قیامِ امن کا حقیقی تصور عبادات کے بغیر ناممکن ہے اور اس میں امن کی خاطر کی جانے والی جدوجہد کا راز مضمر ہے۔

دراصل جو شخص عبادات اور احکامات میں مداومت اختیار کرتا ہے وہ باقی کے احکامات میں بھی حددرجہ محتاط رہتا ہے اور لوگوں کو تکلیف سے بچانے اور ان کی زندگیوں کے تحفظ میں اپنی مکمل صلاحیتیں صرف کردیتاہے۔ یہ وہ مسلمان ہوتا ہے جس کے لیل و نہار حرمتِ مسلم کی تعظیم میں بسر ہوتے ہیں۔اسے علم ہوتا ہے کہ اگر وہ کسی کو نقصان یا تکلیف پہنچائے گا تو اس کی عبادتیں و ریاضتیں بے ثمر ہوجائیں گی بلکہ اس کا اپنا سکون و اطمینان غارت ہوجائے گا۔ دراصل اس کے سامنے نبی رحمت ﷺ کے وہ تمام فرامین ہوتے ہیں جن میں کسی مسلمان کی حرمت و عزت اور اس کے مال وجان کی حفاظت کو ہی عین اسلام قرار دیا گیا ہے۔

عقیدہٴ توحید اور فروغِ امن و انسدادِ دہشت گردی:

مسلم ملک و معاشرے اور گھرانے میں پیدا ہونے کے باوجود آج مسلمانوں کی اکثریت کو اسلامی تعلیمات کا صحیح علم نہیں اور نہ ہی ان میں ایمان و عقیدہ کی وہ پختگی ہے جو شریعت کو مطلوب و مقصود ہے۔ نہ ہی انہیں اللہ کا خوف ہے‘نہ ہی آخرت پر اس کی روح کے مطابق ایمان ہے اور نہ ہی یہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر معاملے میں ماننےا ور اتباع کرنے والے ہیں۔یہ پیدا تو فطرت اسلام پہ ہوئے تھے۔لیکن پاک دل لے کر فطرت اسلام پر پیدا ہونے والے بچے کو اس کے والدین شرک کا ماحول دے کر اللہ کی نافرمانیوں میں مبتلا کرکے اُس کو فطرت اسلام سےدورکردیتے ہیں۔ سب سے بڑا فساد شرک ہے۔جب شرک کا فساد آتا ہے تو اس میں دوسرے سارے فسادات خود بخود سر اٹھا لیتے ہیں۔ اقوامِ عالم کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے، نوح علیہ السلام کی قوم میں بُت پرستی کی ابتداء سے لے کر آج تک جو بھی قوم شرک میں مبتلا ہوئی انہیں بہت سارے فسادات نے جکڑ لیا۔ہر قسم کا امن و امان قائم کرنے کیلئے جو معاشرے کے تمام طبقات اورافراد کیلئے یکساں مفید ہو،اہم ترین ذریعہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں عقیدہ توحید ثابت کرکے دکھانا ہے۔ فرمانِ باری تعالی ہے:

’’وَعَدَ اللَّه الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا‘‘ [10]

’’تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے ان سے اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ انہیں زمین میں ایسے ہی خلافت عطا کرے گا جیسے ان سے پہلے لوگوں کو عطا کی تھی اور ان کے اس دین کو مضبوط کرے گا جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے اور ان کی حالت ِ خوف کو امن میں تبدیل کردے گا، پس وہ میری ہی عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں گے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کے بارے میں عقیدہ توحید سب سے پہلا واجب ہے۔سب انبیاء کا اتفاق اسی راہ ِمستقیم توحید پر ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔[11] چنانچہ عقیدہ توحید پایۂِ ثبوت تک پہنچانے والے شخص کو اللہ تعالی کی جانب سے امن و ہدایت، اور دنیا و آخرت میں شرک کی وجہ سے ملنے والی سزاؤں سے بھی تحفظ کی ضمانت مل جاتی ہے ۔ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ میں فرمانِ باری تعالی ہے:

’’قَالَ أَتُحَاجُّونِّي فِي الله وَقَدْ هَدَانِ وَلَا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ وَكَيْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُمْ بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالْأَمْنِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ ‘‘[12]

’’ابراہیم علیہ السلام نے کہا : کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اس نے مجھے ہدایت دی ہے، اور میں اس سے نہیں ڈرتا جسے تم اللہ کے ساتھ شریک بناتے ہو مگر یہ کہ میرا رب ہی کچھ چاہے، میرے رب نے ہر چیز کا علم سے احاطہ کر رکھا ہے تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟ اور میں تمہارے شریکوں سے کیوں ڈروں؟ حالانکہ تم انہیں اللہ کے برابر شریک بنانے سے نہیں ڈرتے، جس کی کوئی دلیل اللہ نے تم پر نہیں اتاری، [بتاؤ]دونوں گروہوں میں سے امن کا زیادہ حق دار کون ہے اگر تم جانتے ہو؟ [نہیں جانتے تو سنو] جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا یہی لوگ ہیں جن کے لیے امن ہے اور وہی ہدایت پانے والے ہیں۔‘‘

ایک اور مقام پرفرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْأَكْبَرُ وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ هَذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ‘‘[13]

’’انتہائی گھبراہٹ کا وقت بھی انھیں غمگین نہیں کرے گا اور فرشتے آگے بڑھ کر ان سے ملاقات کریں گے اور کہیں گے یہی تمہارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ ‘‘

ہمارے دلوں میں اپنے رب کریم کی اہمیت اور محبت ہوگی اور خوف ہوگا تو ہم اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بچتے ہوئے اللہ کی زمین میں کوئی فساد برپا نہیں کریں گے اور ہمارے معاشرے میں امن وامان قائم ہوجائےگا۔ فسادات کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کے لئے تواتنا یقین ہی کافی ہے کہ اللہ سمیع‘ علیم اور بصیر ہے۔کیا ہم سب نہیں جانتے کہ:

’’إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيم ‘‘[14]

’’بے شک الله خوب سننے، جاننے والا ہے۔‘‘

’’ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ‘‘[15]

’’بےشک اللہ دلوں کی (پوشیدہ) باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔‘‘

’’إِنَّ الله بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ‘‘ [16]

’’بےشک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے ۔،،

جوشخص اپنے رب کی معرفت رکھتا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ اس کو یہ یقینِ کامل ہو جائے کہ اس کا رب اس کی ہر بات اور سرگوشی کوہروقت سننے ، جاننے اور خبر رکھنے والا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے دل میں چھپی باتوں کو بھی وہ خوب جانتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کے ہر چھوٹے بڑے، کھلے چھپے عمل کا ریکارڈ بھی رکھا جا رہا ہے، وہ اپنے رب کی دی ہوئی مہلت‘ قدرت اور آزادی سے غفلت کیسے برت سکتا ہےاور اپنے رب کی نافرمانی کی باتیں کیسے سوچ سکتا ہے۔ گناہ کرنا تو دور کی بات ہے وہ تو معصیت کی باتوں کو اپنے دل میں جگہ بھی نہیں دے سکتا ۔کیوں کہ اسے معلوم ہے اس کے دل کی باتیں جاننے والا کسی بھی لمحے اس کی پکڑ کر سکتا ہے اورجب وہ کسی کو سزا دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی پکڑ بہت سخت ہے ۔

’’إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ‘‘ [17]

’’یقیناً تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے۔،،

وحدانیت اور توحید کا خاصہ ہے کہ کسی کو حکم میں بھی شریک نہ ٹھرایا جائے۔ ان احکام و قوانین کو وضع کرنے کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو ہے جن پر بندوں کی صلاح و فلاح کا دارومدار ہے۔اور جن کے ذریعے بندوں کے باہمی لڑائی جھگڑے اور تنازعات کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ تَبٰرَکَ اللهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ‘‘ [18]

’’ دیکھو سب مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی اسی کا ہےیہ اللہ رب العالمین بڑی برکت والا ہے۔‘‘

چنانچہ جن لوگوں نے اس میں تاویل کی اور فاسد عقیدے پر اپنے افکار کی بناء رکھی ان کے یہاں فساد کی بد ترین صورتوں کو بھی جائز قرار دیا گیا اور سفاکانہ افعال کو اباحت کے زمرے میں لایا گیا اور ان جیسا نظریہ یا عقیدہ نہ رکھنے والوں کو مباح الدم قرار دے

کران کا قتل عام کیا گیااور ان کے اموال و ملک کو بھی لوٹ مار میں نقصان پہنچانا مباح ٹھہرا لیا۔

ملحدانہ تحریکوں جیسے کمیونزم، سیکولرزم،سرمایہ داری وغیرہ کی بنیاد سراسر عقیدہٴ توحید کی مخالفت پر ہے۔ یہ ملحدانہ تحریکیں باہم دست بہ گریباں ہیں اس لیے کہ ان کی بنیاد باطل اور فتنہ و فساد پر ہے۔ جیسے کمیونزم اللہ تعالیٰ کے وجود کا انکار کرتا ہےاور تمام آسمانی ادیان و مذاہب کو دنیا سے مٹانا چاہتا ہے۔ جو شخص بلا عقیدہ جینا چاہتا ہے اور تمام بدیہی و عقلی علامات کا انکار کرتا ہے دراصل وہ اپنی عقل کا دشمن ہے اور اس سے کام لینا نہیں چاہتا۔اسی طرح سیکولرزم تمام ادیان و مذاہب کا انکار کرتا ہےاور مادیت پر اپنی بنیاد رکھتا ہے، جب کہ مادیت ایک ایسا مذہب ہے کہ حیوانی زندگی کے سوا جس کی کوئی غرض و غایت نہیں۔ جہاں تک سرمایہ دارانہ نظام کا تعلق ہے اس کا سارا فلسفہ صرف مال جمع کرنے پر قائم ہے۔ چاہے وہ کسی طرح سے بھی آئے۔ اس میں حلال و حرام کی کوئی تمیز نہیں۔ فقراء،مساکین اور کم زوروں پر اس میں کوئی رحمت و رافت نہیں۔ پھر اس کی معیشت و اقتصاد کا سارا دارومدار سود کی لعنت پر ہے۔ حالانکہ سود سے فرد وجماعت اور حکومت و ریاست سب کے سب تباہی و بربادی سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ الغرض یہ تمام نظام جن کی بنیاد عقیدہٴ توحید کے خلاف دیگر باطل نظریات و افکار پر رکھی گئی ہے۔ یہ معاشرتی امن و امان کے لیے زہر قاتل ثابت ہوئے ہیں۔ عقیدہٴ توحید وہ واحد عقیدہ ہے جس نے عملی طور پر دنیا کو فتنہ و فساد سے تحفظ فراہم کیا ہے۔ ​

عقیدہ رسالت اور فروغِ امن و انسدادِ دہشت گردی:

امن و امان کے قیام اور دفع فتنہ و فساد کے لیے ایمان بالرسالت کا بھی بنیادی کردار ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی امن و امان کی نعمت کی فراوانی ہے وہ اسی پاک باز گروہ کی کاوشوں کا ثمر ہے۔اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی بعثت کا ایک مقصد یہ بھی بیان کیا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان ہونے والے فساد کے خاتمہ کے لیے بھی بھیجے جاتے رہے ہیں۔قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔

’’کَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْهِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ مِنْ بَعْدِ مَا جَآئَتْهُمُ الْبَیّنٰتُ بَغْیًا بَیْنَهُمْ فَهَدَی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهِ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ‘‘[19]

’’لوگ ایک ہی امت تھے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا تا کہ وہ لوگوں کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کر دے جن میں انہوں نے اختلاف کیا اور اس میں اختلاف نہیں کیا مگر ان لوگوں نے جن کو کتاب دی گئی، اس کے بعد کہ ان کے پا س واضح دلائل آ چکے تھے، آپس میں ضد کی وجہ سے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے ان لوگوں کو جو ایمان لائے، حق میں سے ہدایت دی ، جس میں انہوں نے اختلاف کیا تھا،اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔‘‘

حافظ ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول نقل کرتے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت

آدم علیہ السلام کے درمیان دس زمانے تھے ان زمانوں کے لوگ حق پر اور شریعت کے پابند تھے پھر اختلاف ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو مبعوث فرمایا، بلکہ آپ رضی اللہ عنہ کی قراٴت بھی یوں ہے :’ وَمَاکَانَ النَّاسُ إِلَّا اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا ‘ابی بن کعب کی قراٴت بھی یہی ہے قتادہ رضی اللہ عنہ نے اس کی تفسیر اسی طرح کی ہے کہ جب ان میں اختلاف پیدا ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنا پہلا پیغمبر بھیجا۔[20]

مولانا ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں ؛

’’حق کو جاننے کے باوجود بعض لوگ اپنے جائز حق سے بڑھ کر امتیازات ، فوائد اور منافع حاصل کرنا چاہتے تھےاور آپس میں ایک دوسرے پر ظلم ، سرکشی اور زیادتی کرنے کے خواہش مند تھے ۔ اسی خرابی کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاےٴ کرام کو مبعوث کرنا شروع کیا۔‘‘[21]

جب ہم اپنی زندگی کے ہر پہلو میں اللہ اور اسکے رسول کے احکامات پر قائم ہونگے تو اللہ کے کئے ہوئے وعدے کے مستحق ٹھہریں گے، اور ہمیں ہمہ قسم کے خطرات اور اندیشوں سے امن حاصل ہوجائے گا۔اسی چیز کے پیشِ نظر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

’’فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالْأَمْنِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ ‘‘[22]

’’دونوں فریقوں میں سے امن و سلامتی کا زیادہ حقدار کون ہوا؟ اگر تم کچھ جانتے ہو (تو جواب دو) جو لوگ ایمان لائے پھر اپنے ایمان کو ظلم یعنی شرک سے آلودہ نہیں کیا۔ انہی کے لیے امن و سلامتی ہے اور یہی لوگ راہ راست پر ہیں۔‘‘

جب لوگ وحی الہی، اور نبوی منہج کی روشنی میں قدم اٹھائیں گے تو اللہ تعالی انہیں امن وامان کی دولت سے مالا مال کردے گا۔جیسا کہ فرمانِ باری تعالی ہے:

’’فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ‘‘ [23]

’’لہٰذا انہیں چاہیے کہ اس گھر (کعبہ) کے مالک کی (ہی) عبادت کریں [٣] جس نے انہیں بھوک (کے دنوں) میں کھانا کھلایا اور انہیں خوف سے (بچا کر) امن عطا کیا ۔‘‘

اور جب عقیدۂ رسالت کا علم ہوگا اور اس بات پرپختہ ایمان و یقین ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلیہ و سلم کی سچی پیروی کیے بغیر نہ ہی ہماری دنیا ہی سنور سکتی ہے اور نہ ہم آخرت میں سرخرو ہو سکتے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سچی محبت پیدا ہوگی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا اتباع کرنا آسان ہوگا ۔جب ہمیں معلوم ہوگا کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے

فرمایا:

’’ اذا مرّ احدکم فی مسجدنا او فی سوقنا و معه نبل فلیمسک علیٰ نصالها او قال :فلیقبض کفه او قال :فلیقبض بکفه ان یصیب احدا من المسلمین‘‘ [24]

’’ جب تم میں سے کوئی ہماری مسجد یا بازار سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہو تو وہ اس کی نوک کو پکڑ لے، یا فرمایا :کہ مٹھی میں دبائے رہے، یا فرمایا:اسے اپنی مٹھی سے دبائے رہے ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں میں سے کسی کو لگ جائے۔‘‘

اسی طرح انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

’’لا یومن احدکم حتیٰ یحب لاخیه ما یحب لنفسه‘‘[25]

’’ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہ چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے کرتا ہے۔‘‘

لہذا آپ ﷺکو ماننے ،آپ کی تعلیمات پر جا ن نچھاور کرنے والا اور مکمل قولی و عملی اتباع کرنے والا کبھی بھی نقضِ امن کا مرتکب نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح جب ایک مسلمان کو یہ معلوم ہوگا کہ مسلم معاشرے میں کسی ذمی(وہ غیر مسلم جو مسلم ملک میں جزیہ دے کر رہتے ہیں)، معاہد(جو اسلامی ملک میں معاہدے کے تحت آیا ہو) یا مستامن (جسے مسلمانوں نے امان دی ہو) کو قتل کرنا حرام ہے اور نبی رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول کے مطابق ایسا قتل کرنے والا جنت کی خوشبو بھی نہ پاسکے گا حالانکہ اس کی خوشبو تو چالیس سال کی مسافت سے بھی سونگھی جاسکتی ہے،،[26]

عصر حاضر میں عالمی سطح پر عقیدہٴ رسالت کے انکار و اختلاف کی وجہ سے فتنہ و فساد کی چنگاریاں شدت سے سلگ رہی ہیں جو کسی بھی وقت خوفناک جنگ و جدل کا روپ دھار کر تمام عالم کو جہنم زار میں تبدیل کر سکتی ہیں۔تہذیب ِاہل مغرب کی بنیاد توحید ورسالت کی بجاےٴ جمہوریت ، لا دینیت اور سرمایہ دارانہ نظام پر اٹھائی گئی ہے۔ ان ممالک میں آےٴ روز ناموس رسالت کے بارے میں ناروا خیالات اور رویوں کا اظہار کیا جا تاہے۔ کبھی کارٹون اور خاکوں کے مقابلے کروانے کا اعلان کیا جاتا ہے تو کبھی نازیبا فلمی ٹریلر چلاےٴ جانے کی خبریں میڈیا میں گردش کرنے لگتی ہیں۔جونہی کوئی ایسا واقعہ رونما ہوتا ہے مسلم دنیا میں جو کہ عددی اعتبار سے بہت زیادہ ہیں ایک ہیجان کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔اگر مسلم معاشرے میں کوئی ایسی حرکت کا ارتکاب کرتا ہے تو بہت جلد بات اس کے قتل تک بھی جا پہنچتی ہے۔لیکن جدید مغربی تہذیب کے پروردہ اسے اظہار راےٴ کی آزادی کا نام دے کرصرف نظر کرتے ہیں۔وہ اس پہلو پر غور نہیں کرتے کہ ایسے واقعات دنیا کے امن کو تباہ کر سکتے ہیں۔

اسی طرح بعض لوگوں نے عقیدہٴ رسالت کے حوالے سے صحیح راہ سے اعراض کیا ۔ انہوں نے ختم نبوت کے دروازے میں سے نقب زنی کرتے ہوےٴظلی اور بروزی نبی کی گنجائش کا عقیدہ نکال لیا۔قرآن و سنت کی روشنی میں ختم نبوت کا انکار محال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عہد صحابہ میں بھی اس مسئلے کی وجہ سے مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، سجاح بنت حارثہ اور طلیحہ جیسے لوگوں کے ساتھ خوفناک جنگیں لڑی گئیں۔برصغیر پاک و ہند میں بھی مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت کی وجہ سے امن و امان کی حالت اس قدر تشویش ناک حد وں تک پہنچ گئی کہ پالیمنٹ کو مداخلت کرتے ہوئے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینا پڑا تب جا کر حالات قدرے کنٹرول میں آئے۔اسی طرح کچھ لوگوں نے بزرگان دین میں سفارش کے غلط تصورکا کلچر پروان چڑھا کر اللہ و رسول کے حقوق پرنقب زنی کی تو اس سے بھی معاشرے میں طبقات بنے اور ایک محاذ بنا لیا گیا جس کی بدولت گستاخانہ ابحاث نے جنم لیا اور نتیجہ بد امنی کی صورت میں سامنے آیا۔

ملائکہ پر ایمان اور فروغِ امن و انسداد دہشت گردی:

جس شخص کا ایمان کامل ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو میرے نیک اور برے اعمال و افعال کا ریکارڈ تیار کر کے محفوظ کرنے کی ذمہ داری سونپ رکھی ہے۔وہ بھی دنیا میں فساد پھیلانے کا مرتکب نہیں ہو سکتا۔کیوں کہ وہ اس حقیقت پر یقین رکھتا ہےکہ اللہ تعالیٰ نےمیری نیکیوں اور گناہوں کا ریکارڈ محفوظ رکھنے کی ذمہ داری جن ہستیوں کو سونپ رکھی ہے۔ان کے متعلق ارشادباری ٰہے؛

’’کِرَامًا کَاتِبِیْنَ. یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ‘‘[27]

’’ معزز لکھنے والے،وہ جانتے ہیں جو تم کرتے ہو۔‘‘

نیز وہ اس بات سے بھی آگاہ ہے کہ وہ میرے اعمال کا حساب رکھنے میں کسی قسم کی مداہنت یا کوتاہی کے مرتکب نہیں ہوتے ۔ بلکہ انتہائی دیانت داری اور مستعدی کے ساتھ اسے محفوظ رکھتے ہیں۔قرآنِ مجید میں ہے۔

’’مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیبٌ عَتِیدٌ ‘‘[28]

’’کوئی لفظ وہ نکال نہیں پاتا مگر ایک تیار نگران اس کے پاس ہوتا ہے۔‘‘

اسے یقین کامل ہوتا ہے کہ آج تو میں فرشتوں کی موجودگی کو محسوس نہیں کر رہا ۔لیکن ایک دن آنے والا ہے کہ جب وہ مادی وجود کے ساتھ مجھے اللہ تعالیٰ کی زبردست عدالت میں حساب کتاب کے لیے پیش کر دیں گے۔نیز میرے تمام اچھے اور برے اعمال کے گواہ بن کر بھی پیش ہوں گے اور ان کی موجودگی و گواہی مجھ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حجت قائم کر دے گی۔کوئی شخص اس کو جھٹلا نہیں سکے گا۔

’’وَجَآءَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَعَهَا سَائِقٌ وَشَهِیْدٌ‘‘ [29]

’’اور ہر شخص آےٴ گا ، اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا اور ایک گواہی دینے والا ہے۔‘‘

امام طبری ؒنے سَائِقٌ وَشَهِیْدٌ سے مراد دو فرشتے لیے ہیں ،اول انسان کو محشر تک ہانک کر لانے والا اور ثانی گواہی دینے والا ۔[30]

نیز میرے تمام اعمال کو بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے رکھ دیں گے اور انہیں کی روشنی میں میری جزا و سزا کا فیصلہ کیا جاےٴ گا جیساکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَقَالَ قَرِیْنُه هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیدٌ‘‘ [31]

’’ اور اس کا ساتھی فرشتہ کہے گا یہ ہے وہ جو میرے پاس تیار ہے۔‘‘

قتادہ ؒ اور ابن زید ؒسے منقول ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ساتھی سے مراد ہانک کر لانے والا فرشتہ ہے اور وہی عدالت الٰہی میں پہنچ کر عرض کرے گا کہ یہ شخص جو میری سپردگی میں تھا سرکار کی پیشی میں حاضر ہے۔‘‘ [32]

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’یتعاقبون فیکم الملآئکة بالیل و ملآئکة بالنهار،و یجتمعون فی صلوٰة الفجر و صلوٰة العصر، ثم یعرج الذین باتوا فیکم فیساٴلهم ربهم۔۔۔الخ[33]

’’تم میں دن اور رات کے فرشتے باری باری آتے ہیں، اور وہ نماز فجر اور نماز عصر کے وقت جمع ہوتے ہیں۔ پھر وہ فرشتے آسمان پر چلے جاتے ہیں جنہوں نے تمہارے درمیان رات بسر کی ہوتی ہے، ان کا رب سوال کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔الخ ‘‘

اسی طرح عبداللہ بن عمر و بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایک شخص کے گناہوں کے ننانوے رجسٹر کھولے گا جو ایک جیسے ہوں گے، پھر اس سے پوچھے گا،تمہیں ان میں سے کسی کا انکار ہے تو بتاوٴ، کیا تمہارے اعمال لکھنے والے میرے فرشتوں نے تم پر ظلم تو نہیں کیا؟ وہ عرض کرے گا ، اے پرور دگار انہوں نے مجھ پر ظلم نہیں کیا۔[34]

عہد نبوی میں مشرکین مکہ فرشتوں کے متعلق غلط عقیدہ کا شکار ہوےٴ اور ان کو اللہ کے حکم پر پابند انسانی اعمال کے حساب و کتاب پر مامور ہونے کی بجاےٴ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیا۔انہوں نے اللہ کی بجاےٴ فرشتوں کو خوش کرنے کی کوشش کی کہ یہ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کریں گے۔اس طرح عمل کا بگاڑ پیدا ہوا۔ اسی طرح جاہلیت جدیدہ میں بعض لوگوں نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی ایک باقاعدہ مخلوق تسلیم کرنے کی بجاےٴاسے فرضی اور تخیلاتی چیز قرار دیا۔ ان لوگوں نے اس عقیدے کو سائنس کے پیمانوں پر جانچنے اور اہل مغرب کے ہاں قابل قبول بنانے کی کوشش کی اور امت کی راہ سے الگ راہ اختیار کی۔اس طرح امت اتنشار و افتراق کا شکار ہوئی ۔ جن علماء و محققین کی صلاحیتیں امت کو موجودہ پستی سے نکالنے میں کام آ سکتی تھیں وہ ان مباحث کی نذر ہو گئیں۔

آسمانی کتب پر ایمان اور فروغِ امن و انسدادِ دہشت گردی:

آسمانی کتب پر ایمان بھی امن و امان کے قیام اور فتنہ و فساد کے خاتمہ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔تمام الہامی کتب کی بنیادی تعلیمات مشترک رہی ہیں اور ان سب کتب میں امن و امان کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ تمام انبیاء و رسل زمین پر امن کے سفیر بن کر تشریف لاےٴ۔جس طرح امت مسلمہ کے لیے قتل کی سنگینی بیان کی گئی ہے اسی طرح بنی اسرائیل کو بھی شدید ترین الفاظ میں اس کے بارے میں متنبہ کیا گیا تھا۔جیسا کہ قرآنِ مجید میں بنی اسرائیل کے متعلق فرمان باری تعالیٰ ہے۔

’’مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ اَنَّه مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا وَ لَقَدْ جَآئَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَبیِّنٰتِ ثُمَّ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ‘‘ [35]

’’اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ بے شک حقیقت یہ ہے کہ جس نے ایک جان کے بغیر ، یا زمین میں فساد کے بغیر قتل کیا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کیا اور جس نے اسے زندہ کیا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو زندہ کیا اور بلا شبہ ان کے پاس ہمارے رسول واضح دلائل لے کر آےٴ،پھر بے شک ان میں سے بہت سے لوگ اس کے بعد بھی زمین میں حد سے بڑھنے والے ہیں۔‘‘

علامہ مودودی ؒ نے تلمود میں موجود اس مضمون کی نشاندہی کی ہے جو یوں ہے:

’’جس نے اسرائیل کی ایک جان کو ہلاک کیا ، کتاب اللہ کی نگاہ میں اس نے گویا ساری دنیا کو ہلاک کیا، اور جس نے اسرائیل کی ایک جان کو محفوظ رکھا ، کتاب اللہ کے نزدیک گویا اس نے ساری دنیا کی حفاظت کی۔‘‘ [36]

سلمان بن ربیع کہتے ہیں میں نے حسن بصری سے پوچھا:

’’ یہ آیت ہمارے لیے بھی ہے جس طرح بنی اسرائیل کے لیے تھی؟ انہوں نے کہا : ہاں! قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ بنو اسرائیل کے خون اللہ کے ہاں ہمارے خونوں سے زیادہ قابل احترام نہیں تھے۔‘‘ [37]

اسی طرح قرآن مجید میں تورات کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ ۔

’’اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰةَ فِیْهَا هُدًی وَّ نُوْرٌ یَحْکُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ کِتٰبِ اللّٰهِ وَ کَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآء۔۔الخ[38]

’’یقینا ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی، اسی کے مطابق اللہ کے فرماں بردارانبیاء، اللہ والے اور علماءان لوگوں کے لیے فیصلہ کرتے تھے جو یہودی بنے، اس لیے کہ ان کو کتاب اللہ کا محافظ بنایا گیا تھااور وہ اس پر گواہ بھی تھے ،،

اس سے ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ انجیل کے بارے میں ہے۔‘‘

’’وَ قَفَّیْنَا عَلٰٓی اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰیةِ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًی وَّ نُوْرٌ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰةِ وَ هُدًی وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ‘‘ [39]

’’اورہم نے ان کے پیچھے ان کے قدموں کے نشانوں پر عیسیٰ بن مریم کو بھیجاجو اس سے پہلے تورات کی تصدیق کرنے والے تھے

اور ہم نے ان کو انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی اور جو اپنے سے پہلے تورات کی تصدیق کرنے والی تھی اور متقی لوگوں کے لیے ہدایت اور نصیحت تھی۔‘‘

تمام انبیاء کی بنیادی تعلیمات مشترک تھیں اور وہ دنیا سے ہر قسم کے فتنہ و فساد کو ختم کر کےامن قائم کرنے کے لیے مبعوث کیے گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان سب نے اپنے اپنے زمانے کے لوگوں کو اس ہدایت کی طرف دعوت دی۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے؛

’’الانبیاء اخوة لعلّات امهاتهم شتی و دینهم واحد‘‘[40]

’’تمام انبیاء آپس میں علاتی بھائی ہیں (جن کا باپ ایک ہےاور) مائیں الگ الگ ہیں، اور ان سب کا دین ایک ہے۔‘‘

آسمانی کتب کے حوالے سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ قرآن مجید وہ واحد کتاب ہے جو آج بھی اپنی اصلی شکل میں

موجود ہے۔ سابقہ تمام آسمانی کتب میں تحریف ہو چکی ہے اور ان میں سے کوئی بھی اپنی اصل حالت میں موجود نہیں ہے۔ان میں حق اور باطل یوں گڈ مڈ ہو چکا ہے کہ ان سے استفادہ ممکن نہیں ہے۔لیکن ان محرف کتب کے حاملین پھر بھی ان کو چھوڑ کر قرآن مجیدکی تعلیمات کو اپنانے پر تیار نہیں ہیں۔

اسی طرح بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو ایمان بالقرآن کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیاں قرآن کی بہترین اور لازوال تعلیمات کے مطابق گزارنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔انہوں نے قرآن مجید کو صرف ثواب حاصل کرنے کی ایک کتاب سمجھ رکھا ہے۔جس کو بغیر سمجھے صرف تلاوت کر لینا دنیا و آخرت کے تمام مسائل کے حل کے لیے کافی ہے۔بلکہ بعض حالات میں تو فوت ہو جانے کے بعد دوسروں کا تلاوت کر کے ایصال ثواب کر دینا ہی نجات کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ظاہر ہے وہ کتاب جس کو عملی زندگی کے ہر ایک گوشے میں عملا مکمل طور پر یقین کے ساتھ نافذ کرنے کا مطالبہ اور تقاضا تھااور جس کو پس پشت ڈال دینا ذلت و رسوائی کا سبب قرار دیا گیا تھا۔ اس کتاب کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھنا جو کسی دنیاوی کتاب کے ساتھ بھی نہیں رکھا جاتا،۔ایسی حالت میں امن و امان کی الٰہی نعمتوں سے کیوں کر متمتع ہوا جا سکتا ہے۔

عقیدہ آخرت اور فروغِ امن و انسدادِ دہشت گردی:

اصلاحِ اعمال کے لیے سب سے اہم عقیدہ ایمان بالآخرة کا ہے۔ جس شخص کا یقین ہو کہ یہ دنیا کی زندگی عارضی جب کہ آخرت کی زندگی دائمی ہے۔یہ نظامِ کائنا ت اپنی مقررہ عمر کے بعد فنا ہو جائے گا اور پھر دوسرا نظام اس کی جگہ آ جائے گا۔ موت کے بعد اسے دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اس کے اچھے برے اعمال کا حساب لیا جائے گا اور پھر جنت یا جہنم میں ایک ہمیشہ کی زندگی ہے ۔

سورة الانفطار میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ وَاِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍ یَصْلَوْنَهَا یَوْمَ الدِّیْنِ‘‘[41]

’’بے شک نیک لوگ جنت میں ہوں گے اور بے شک گناہ گار لوگ دوزخ میں ہوں گے۔ قیامت کے دن وہ اس میں داخل کیے جائیں گے۔‘‘

کیا ایسا شخص اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہوئے دنیا میں فساد برپا کرے گا یا امن و امان کا مسٔلہ پیدا کرنے کی کبھی سوچے گا ؟جس کے سامنے اللہ تعالیٰ کے برائے ملک و کائنات میں امن و امان پیدا کرنے سے متعلقہ فرامین ہوں گے وہ کبھی ان امور سے اعراض نہیں برتے گا۔ جس کو اللہ تعالی کی قدرتِ کاملہ اور یومِ آخرت تمام اعمال کا کھل کر سامنے آنا معلوم ہوگا،وہ ہمیشہ محتاط زندگی گزارے گا،اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہمیشہ رہتا ہے ؛

’’وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَدًا وَعُرِضُوا عَلَى رَبِّكَ صَفًّا لَقَدْ جِئْتُمُونَا كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ بَلْ زَعَمْتُمْ أَلَّنْ نَجْعَلَ لَكُمْ مَوْعِدًا وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَاوَيْلَتَنَا مَالِ هَذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا‘‘ [42]

’’اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گےاور آپ زمین کو بالکل صاف میدان دیکھیں گےاور ہم ان سب کو جمع کریں گے، چنانچہ ہم ان میں سے کسی کو نہ چھوڑیں گے۔اور وہ سب آپ کے رب کے حضورصف در صف پیش کیے جائیں گے۔ بلا شبہ تم ہمارے پاس یقینا ویسے ہی آ گئے جیسے ہم نے پہلی بار تمہیں پیدا کیا تھا بلکہ تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ ہم تمہارے لیے کوئی بھی وعدے کا وقت مقرر نہیں کریں گے۔اور کتاب اعمال رکھ دی جائے گی ۔پس آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ وہ اس سے ڈرنے والے ہوں گےجو اس میں ہو گا اور کہیں گےکہ ہائے ہماری کم بختی یہ کتاب کیسی ہےجس نے چھوٹا بڑا کچھ بھی نہیں چھوڑا مگر اس کو شمار کر رکھا ہےاور جو بھی انہوں نے کیا تھاوہ سب اس کو سامنے پائیں گے اور آپ کا رب کسی ایک پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام بندوں کا اپنے سامنے حشر کرے گا، ننگے بدن، بے ختنہ،بے سروسامان، پھر انہیں ندا کرے گا جسے دور و نزدیک والے سب یکساں سنیں گے ۔ فرمائے گا کہ میں مالک ہوں، میں بدلے دلوانے والا ہوں، کوئی جہنمی اس وقت تک جہنم میں نہ جائے گاجب تک اس کا جو حق کسی جنتی کے ذمہ ہو میں نہ دلوا دوں اور نہ کوئی جنتی جنت میں داخل ہو گا جب تک اس کا حق جو جہنمی پر ہےمیں دلوا دوں ،گو ایک تھپڑ ہی ہو۔‘‘[43]

عصرِ حاضر میں زندگی سے متعلق دو طرح کے نظریے رائج ہیں: ایک مادی نظریہ اور دوسرا اسلا ی نظریہ؛

ان دونوں نظریوں کے آثار آج لوگوں کی زندگی میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ قابل افسوس بات یہ ہے کہ انسانوں کی غالب اکثریت مادی نظریے پر ایمان رکھتی ہے۔ مادی نقطہ نگاہ کی حقیقت یہ ہے کہ انسان صرف اپنی دنیاوی اور فوری لذتوں کے حصول کے پیچھےپڑا رہے۔اس کی ساری تگ و دو اور حرکات و نشاط اسی ایک چیز پر مرکوز ہوکر رہ جائیں۔ وہ اس سے آگے کچھ سوچتا نہ ہو کہ خواہشات نفس اور لذت پرستی کے پیچھےاس طرح سے دوڑنے کا انجام کیا ہو سکتا ہے۔وہ اس کی بھی پروا نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو صرف آخرت کی کھیتی اور عمل کا گھر بنایا ہے اور آخرت کو جزا و سزا کا گھر بنایا ہے۔لہٰذا جو شخص بھی دنیاوی زندگی کو غنیمت جان کر اس میں نیک عمل کرتا ہے، وہ دنیا و آخرت دونوں جہانوں کے فائدہ سے لطف اٹھاتا ہے اور جو اپنی دنیاوی زندگی کو ضائع کر دیتا ہے وہ اپنی آخرت کو بھی کھو دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس زندگی میں اموال و اولاد، جاہ و منزلت، اقتدارو منصب اور دیگر لذتیں میں سے ایسی ایسی عارضی خوشگوار نعمتیں اور ظاہری زیب و زینت کے سامان پیدا کیے ہیں جن کا علم صرف اللہ کو ہی ہے۔لیکن لوگوں میں سے بعض ایسے ہیں کہ ان کی نگاہ ان نعمتوں کی ظاہری شکل و صورت پر ہوتی ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ ان سے لطف اندوز ہونے میں لگے رہتے ہیں اور ان کی پوشیدہ حکمتوں کے بار ے میں نہیں سوچتے اور نہ ان کے غلط استعمال کی پرواہ کرتے ہیں۔ بلکہ کچھ لوگ تو اس سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں اور وہ سرے سے آخرت کا ہی انکار کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے؛

’’وَ قَالُوْٓا اِنْ هيَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ‘‘ [44]

’’ اور وہ کہتے ہیں کہ ہماری جو دنیا کی زندگی ہےبس یہی زندگی ہے اور ہم پھر زندہ نہیں کیے جائیں گے۔‘‘

وہ لوگ جو صرف دنیا کی زندگی سے زیادہ سے زیادہ متمتع ہونے کا نظریہ رکھتے ہیں۔ چاہے وہ لوگ ہوں جو حصول دنیا کے لیےبظاہر اخروی اعمال کرتے ہیں ، جیسے منافقین اور ریا کار یا اہل کفر و الحاد جو سرے سے آخرت اور اس کے حساب کتاب پر یقین ہی نہیں رکھتے جیسے زمانہ جاہلیت میں عام لوگوں کا حال تھا یا پھر آج کل کے باطل و فاسد نظام ہاےٴ زندگی، جیسے سرمایہ دارانہ نظام،کمیونزم، سیکولرزم اور الحاد وغیرہ۔ زندگی کے سلسلہ میں ان کی نگاہ مادیت سے آگے نہیں بڑھتی۔اس کا لازمی نتیجہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آخرت کے ساتھ ساتھ دنیاوی امن و سکون بھی غارت ہو کر رہ جاتا ہے۔

عقائدکے انسانی زندگی پر اثرات اور قیامِ امن و انسدادِ دہشت گردی:

عقائد کی اصلاح و درستگی انسانی زندگی پر بہت سے مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔جن سے انسانی شخصیت کے محاسن نکھر کر سامنے آتے ہیں۔جب کسی شخص میں یہ خوبیاں پیدا ہو جاتی ہیں تو وہ پر امن معاشرے کا داعی بن کر کھڑا ہو جاتا ہے ۔ اس کی سوچ دہشت گردی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ان میں سے چند اہم اثرات مندرجہ ذیل ہیں؛

1۔عاجزی و انکساری اور وسعتِ نظر کا پیدا ہونا ۔

2۔اطمینان و سکون کا حصول۔

3۔توکل علی اللہ اور بہادری و ثابت قدمی۔

4۔احساس ِ نگرانی اور فضل و شرف کا انسانی احساس۔

5۔برائیوں سے اجتناب اور نیکیوں سے رغبت۔

6۔ دنیا سےبے نیازی اور آخرت سے رغبت۔

اصلاحِ عقائد کے بغیر امن وامان کے قیام کی خواہش ایک خواب سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔ آج دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں جدید ترین کیمرے ، سینسر ، راڈار اور تمام جدید ترین وسائل سے مالا مال سکیورٹی اداروں کی مدد سے فسادات ختم کرنے کی سعی کے باوجود وہاں بھی ایسا نہیں کہ ایک عورت تنِ تنہا دور دراز کا سفر کرے اور اس کو سوائے اللہ کے کسی کا خوف نہ ہو۔ جب کہ اسلام نے عملا ایسا کر کے دکھا دیا کہ ایک عورت حیرہ سے تنہا بے خو و خطر بیت اللہ کا طواف کر کے واپس پلٹ جاتی۔ عدیؓ بن حاتم کی روایت سے ہے کہ حضورؐ نے فرمایاکہ:

’’ بہت جلد امن کا ایسا دوربھی آنے والاہے جب کجاوے میں ایک اکیلی خاتون حیرہ (عراق ‘ بہت دور دراز علاقہ) سے کعبہ کے طواف کے لئے سفرکرے گی اورمکہ پہنچ کرکعبے کاطواف کرے گی مگراُسے سوائے اللہ کے خوف کے اورکوئی خوف نہ ہوگا۔ (عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ بعد میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ ایک اکیلی عورت حیرہ سے آتی ہے ، کعبہ کاطواف کرتی ہے اوراللہ کے سوا اس کوکسی کاڈرنہیں ہوتا) ۔‘‘[45]

اس سے پہلے یہ حالت تھی کہ پورے جزیرۃ العرب میں قتل و غارت گری، انتقامی کاروائیوں، خانہ جنگیوں اور معرکہ آرائیوں کا سلسلہ قائم تھا اور بڑی بڑی حکومتوں کے کارواں بھی بڑے غیر معمولی پہرہ، حفاظتی بندوبست اور ماہر راہبروں کی مدد سے چلتے تھے۔

یہ اسی صورت میں ممکن ہوا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ ،وآلہ وسلم نے اپنی مکی زندگی کے تیرہ سال اصلاح عقائد پر ان تھک کاوشوں میں صرف کر دیے۔ جب عقائد کی درستگی ہو چکی تو ایک ایسا پر امن معاشرہ قائم ہوا جو جنت نظیر تھا ۔ چشمِ فلک نے ایسا معاشرہ نہ اس سے قبل دیکھا تھا نہ بعد میں وقوع پزیر ہو سکا۔ تاریخِ عالم میں ہمیشہ سے یہ سنت اللہ رہی ہے کہ جب بھی زمین پر فساد بڑھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے ذریعے اس فساد کی اصلاح کی اور تمام انبیاء علیھم السلام نے اپنے مشن کا آغاز اصلاحِ عقائد سے کیا۔

خلاصہٴ بحث:

مقالہ نگار اس تحقیقی مضمون میں ارباب حل و عقد کی توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول کروانے کا ارادہ رکھتا ہے کہ دنیا کا کھویا ہوا امن بحال کرنے کے لیے یہ نسخہء کیمیا ﴿اصلاحِ عقائد﴾ آج بھی ماضی کی طرح موثر ثابت ہو سکتا ہے:

قیامِ امن اور انسدادِ دہشت گردی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ نعمتِ عظمیٰ ہے۔جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بطور احسان قرآنِ مجید میں بھی کیا ہے۔حالتِ امن میں ہی لوگ اطمینان کے ساتھ اپنی معاشی و معاشرتی ضروریات کی تکمیل کرتے ہیں۔نیز عبادات کی صحیح اور بلا خوف و خطر ادائیگی کے لیے بھی امن و امان کا قیام ضروری ہے۔امن کے بغیر زندگی اجیرن ہو کے رہ جاتی ہے۔نقضِ امن کی متعدد وجوہات و اسباب میں سے ایک اہم وجہ عقائد کی نا پختگی ہے۔فسادات سے بچنے اور امن قائم کرنے کا آسان حل یہ ہے کہ عقائد و ایمانیات کی اصلاح پر بھر پور توجہ دی جائے۔عقائد میں سب سے اہم اور بنیادی عقیدہ توحید ہے اور قیامِ امن میں اس کا بنیادی کردار ہے۔یہی تمام انبیاء کی دعوت کا مشترک اور اہم ترین نقطہ رہا ہے۔سیدنا نوح علیہ السلام کی قوم سے لے کر آج تک تاریخ کے مطالعہ سے عیاں ہے کہ جو بھی قوم عقیدہٴ توحید سے ہٹ کرشرک میں مبتلا ہوئی تو انہیں بہت سے فسادات نے جکڑ لیا۔عقیدہٴ توحید پر قائم رہنے والے شخص کو اللہ تعالیٰ کی جانب سےامن و ہدایت اور دنیا و آخرت میں شرک کی وجہ سے ملنے والی سزاوٴں سے بھی تحفظ حاصل ہو جاتا ہے۔قیامِ امن کے لیے دوسرا بنیادی عقیدہ رسالت ہے۔انبیاےٴ کرام کی بعثت کا ایک اہم مقصد لوگوں کے درمیان ہونے والے فساد کا خاتمہ اور امن و امان کا قیام رہاہے۔جب ہم وحی الٰہی اور نبوی منہج کی روشنی میں اقدامات کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں امن کی دولت نصیب فرماےٴ گا۔کیونکہ انبیاء کی تعلیمات میں یہ عنصر بڑا واضح ہے کہ معاشرے میں سلامتی کو رواج دیا جاےٴ۔اسلام کا تو مادہ ہی سلم ہےجس کا مطلب سلامتی ہے اور تمام انبیاء کا دین یہی اسلام رہا ہے۔ملائکہ پر ایمان رکھنے والا شخص بھی چونکہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ فرشتے اس کے تمام اعمال کا ریکارڈ تیار کر رہے ہیں اور یہ ریکارڈ روزِقیامت اللہ تعالیٰ کو پیش کر کےاس پر گواہی دیں گے۔ تو ایسا شخص بھی شریعت کی نافرمانی سے احتراز کرتا ہے۔اسی طرح تمام آسمانی کتب منزل من اللہ ہونے کی وجہ سےامن کا پیغام رکھتی ہیں۔

اصلاحِ اعمال کے لیے عقیدہٴ آخرت کی بھی بہت اہمیت ہےاللہ کے حضور پیش ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینے کا خیال انسان کو کسی بھی قسم کی زیادتی سے باز رکھتا ہے۔اور ہمیشہ ہمیشہ رہنے والی جنت کی نعمتیں اسے پابندِ شریعت رہنے میں ممد و معاون ثابت ہوتی ہیں۔الغرض ان تمام عقائد کے انسانی زندگی پر ایسے بہترین اور مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں کہ وہ قیامِ امن کا پیامبر بن جاتا ہے اور دہشت گردی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہوتا ہے۔اصلاحِ عقائد سےپہلو تہی کر کے محض جدید وسائل و ذرائع کی مدد سےہی امن کا خواب صحیح معنوں میں شرمندہ ٴتعبیر نہیں ہو سکتا۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم انبیاء کرام علیھم السلام خصوصاخاتم النبیین حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےمنہج پر عمل کرتے ہوےٴعقائد کی اصلاح پر بھر پور توجہ دیں تا کہ دنیا کا کھویا ہوا امن از سر ِ نو بحال ہو سکے۔

حوالہ جات

  1. العنكبوت: ۶۷
  2. القصص :۵۷
  3. الترمذی ، محمد بن عیسیٰ، الجامع الصحیح ( الریاض :دارالسلام ، ۱۹۹۹ء ) ، حدیث :۳۴۵۱
  4. الحج: ۴۱
  5. البخاری، محمد بن اسماعیل، الجامع الصحیح (دیوبند:المکتبہ الرحیمیہ،۱۳۸۷ھ)، ۱: ۵۴۳
  6. النحل : ۱۱۲
  7. الشورى: ۳۰
  8. النساء: ۱۰۳
  9. البقرة : ۱۹۶
  10. النور:۵۵
  11. ابن الجوزی،عبد الرحمٰن بن علی ، تلبیس ابلیس،مترجم :ابو محمد عبد الحق (لاہور:مکتبہ اسلامیہ،۲۰۰۵ء )، ص: ۲۱==
  12. الأنعام: ۸۰۔۸۲
  13. الأنبياء : ۱۰۳
  14. الانفال: ۱۷
  15. آل عمران:۱۱۹
  16. البقرة:۱۱۰
  17. سورة البروج: ۱۲
  18. الاعراف : ۵۴
  19. البقرة: ۱۳
  20. == ابن کثیر، ابو الفداء عماد الدین اسماعیل ،تفسیر القرآن العظیم (الریاض:دار طیبۃ،۱۹۹۹ء)،۱: ۵۶۹ ==
  21. مودودی، سید ابو الاعلیٰ، تفہیم القرآن (لاہور: ترجمان القرآن، س ن )،۱: ۲۶۳
  22. الأنعام :۸۱۔۸۲
  23. القريش:۳۔۴
  24. السجستانی، ابو داوٴد سلیمان بن اشعث، السنن (الریاض :دارالسلام للنشر والتوزیع،۱۹۹۹ء )،حدیث : ۲۵۸۷
  25. ابن ماجہ، محمد بن یزید قزوینی، السنن (الریاض: دارالسلام للنشر والتوزیع، ۱۹۹۹ء )،حدیث : ۶۶
  26. == الشیبانی،احمد بن حنبل، المسند ( بیروت :دار صادر، س ن)،۵: ۳۶۔۵۱==
  27. الانفطار:۱۱۔۱۲
  28. ق:۱۸
  29. ق:۲۱
  30. ==طبری، محمد بن جریر ، جامع البیان عن تاٴویل القرآن ( بیروت :مؤسسۃ الرسالۃ،۲۰۰۰ء)،۲۲: ۳۴۸==
  31. ق :۲۳
  32. طبری، جامع البیان،۲۲: ۳۵۶==
  33. النیشاپوری، مسلم بن حجاج، الصحیح ( الریاض :دارالسلام للنشر والتوزیع،۲۰۰۰ء )، حدیث :۶۳۲
  34. الحاکم،محمد بن عبداللہ ، المستدرک علی الصحیحین،مترجم :شاہ محمد چشتی (لاہور:ادارہٴ پیغام القرآن،۲۰۰۹ء)،حدیث : ۹==
  35. المائدة:۳۲
  36. مودودی، تفہیم القرآن،۱: ۴۶۴
  37. ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، ۳: ۹۲
  38. المائدة:۵
  39. المائدة:۵
  40. بخاری، محمد بن اسماعیل ،الجامع الصحیح (الریاض: دارالسلام، ۱۹۹۹ء)، حدیث : ۳۴۴۳
  41. الانفطار:۱۳۔۱۵
  42. الکھف:۴۷
  43. ابن حجر ،احمد بن فضل، فتح الباری (لاہور :دار نشر الکتب الاسلامیۃ،۱۹۸۱ء)،۱: ۷۴
  44. الانعام : ۲۹
  45. بخاری،الجامع الصحیح ،حدیث :۳۵۹۵