Playstore.png

شیرمادر بینک (Mother’s Milk Bank) کا شرعی حکم

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ الاعجاز تحقیقی مجلہ برائے اسلامیات و انسانیات
عنوان شیرمادر بینک (Mother’s Milk Bank) کا شرعی حکم
مصنف بروہی، محمد اسحاق
جلد 2
شمارہ 2
سال 2018
صفحات 1-20
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Milk Bank, Raza’at, wet nursing شیر مادر بینک، رضاعت، حضانت
شکاگو 16 بروہی، محمد اسحاق۔ "شیرمادر بینک (Mother’s Milk Bank) کا شرعی حکم۔" الاعجاز تحقیقی مجلہ برائے اسلامیات و انسانیات 2, شمارہ۔ 2 (2018)۔

Abstract

The emergence of human milk banks for premature and underweight babies in the early twentieth century raised many questions about the proscription of breastfeeding kinship as are in Islamic jurisprudence. Many Islamic scholars tries to find its solution in the light of Quran, Sunnah and the sayings of early Imams of Fiqh, but their opinion about this matter was different like the differences of sayings of some Imams, until Islamic Organization for Medical Sciences based in Kuwait and Islamic fiqh Academy Jeddah, called Summits on this issue and decided against the establishment of such banks in Islamic world. The issue seemed to be almost solved until European Council for Fatwa and Research launched an appeal in 2003 against their solution and demanded to legitimate the use of Human Milk from these banks for the children of Muslim families in Europe and USA using the public scourge canon (Umum al Balwa) of fiqh. This appeal once again opened the door of discussion on this matter .This article is an overview of the sayings of early and modern jurisprudents and pros and cons of human milk banks in the quest of solution of this modern problem in the light of Islamic shariah, so that a just and balanced opinion may be adopted in this matter as it is motto of Islamic Law. This discussion will also affect many new problems faced by Muslim communities in European countries as well as Islamic countries in modern era.


الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا۔1اسلام اپنی مکمل صورت میں سید الکونین کے ذریعہ روئے زمین پر آیا اور دنیامیں پھیلی جہالت وتاریکی کودورکیا ،اپنی نورکی کرنوں سے سارے جہاں کو منورکیا ۔اور آپ ﷺ چونکہ خاتم النبیین ہیں،آپ پر جو ذمہ داری تھی وہ قدرتی طور پر آپ کی امت پر آپڑی ۔جس کی تعبیر بقول امام احمد بن حنبل یوں ہے قام ابوبکر یوم الردۃ مقام الانبیاء کہ حضرت ابوبکر فتنہ ارتداد کے وقت انبیاء کی جانشینی فرمارہے تھے۔اس طرح کے پیچیدہ تمدنی اور صنعتی انقلاب کے بعد جدید مسائل بکثرت پیش آنے لگے تو انہیں صحیح طور پر سمجھنے اور ان کے حل کیلیے انفرادی کوششوں کے بجائے اجتماعی بحث و تحقیق کا نظام زیادہ بہتر اور اجتماعی طریقہ استنباط زیادہ محفوظ اورمامون صورت اور غلط رائے دہی سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔

آج ایک طرف جدید بے لگام تمدنی ترقی نے نت نئے مسائل کا طوفان لا کھڑا کردیا ہے اور بقول عمر بن عبدالعزیز "کلما زاد الفجور کثرت المسائل" مثلا ٹیسٹ ٹیوب بے بی،انسانی دودھ اور منی بینک،تبدیلی جنس بذریعہ سرجری،جینیٹک اور کلوننگ کے مسائٖل ،نیز دنیا کے سیاسی ،معاشی اور اجتماعی نظام روز مرہ کی تبدیلیوں اور خصوصا بینکنگ ومیڈیکل سائنس کی دنیامیں غیرمعمولی انقلاب نے سینکڑوں ایسے مسائل پیدا کردیئے جن کا اب سے پہلے تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔

وحی زندگی میں اعتدال پیداکرتی ہے اوراس سے دوری کا نتیجہ یہ ہے کہ مغرب اور مغربی تہذیب سے متاثر ممالک ہر معاملے میں انتہاء پسندی کا شکار ہوجاتے ہیں ،پہلے ماؤں کے دودھ کے مضمرات اور Breast Feeding سے نسوانی حسن متاثر ہونے کا پروپیگنڈہ کیا گیا اور بچوں کو مصنوعی خوراک پر ڈالا ،جب اس کے مضمرات سامنے آئے توماں کے دودھ کی اہمیت ان کےدلوں میں جاگی اور پھر اس میں انہوں نے اس قدر شدت اختیار کی کہ ملک ب۔نک قائم کرنا شروع کر دیئے ۔اسلام میں چونکہ رضاعت سے بہت سے نئے احکامات پیدا ہوتے ہیں ،اس لیے مسلمانوں کے لیے مختلط ملک بنک اتنی آسانی سے قبول نہیں تھے ۔مغرب کا معاشرتی ڈھانچہ اس قابل نہیں تھا کہ رضاعی مائیں دستیاب ہوتیں یا ان کا دودھ آسانی سے دستیاب ہوسکتا یہ ان کی مجبوری تھی۔مسئلہ یہ تھا کہ بہت سے مسلمان بھی وہاں قیام پذیر تھے جو اس مسئلہ سے براہ راست متاثر ہو رہے تھے ،اور مشرق میں بھی طب مغرب سے استفادہ کا رجحان اس قدر ہے کہ اگر ایل مغرب گوہ کے بل میں گھسیں تو ہم بھی اسی بل میں گھسنے کے لیے تیا ر بیٹھے ہیں ۔کہنے کو تو یہ صرف ملک بنک کا مسئلہ ہے لیکن اس کی نظیر پر اور بہت سے مسائل کی بنیاد بنے گی اس لیے اس پر فقہی مباحثہ ضروری ہوگیا۔

دودھ بینک کا آغاز اور بحث کی ابتدا

یورپ میں جب تما م انسانی اعضاء کے بنک قائم کرنا شروع ہوئے ،جن میں آنکھوں کا بنک ،جلد کا بنک ،بلڈ بنک ،سیمن بنک ایگ بنک وغیرہ شامل ہیں ،اسی دوران ملک بنک بھی قائم ہوئے ۔ملک بنک میں ایسی خواتین کا دودھ جمع کیا جاتا تھا جو عطیۃ یا قیمتا دودھ دیتی تھیں اور انہیں جراثیم سے محفوظ کرکے پیکٹوں میں بند کرلیاجاتا تھا اور اطباء جب کسی بچے کو دیکھتے کہ اس کا وزن زیادہ کم ہے یا وہ غذائی کمی کا شکار ہے ،یا کسی اور بیماری کی وجہ سے صحیح نشوونما نہیں پارہا تو اسے ماں کا دودھ تجویز کر دیتے اور بعض اوقات خود اس کی اپنی ماں کے ہاں اس وقت دودھ نہ ہوتا اور معاشرتی صورتحال میں تعاون مفقود تھا،اس طرح کی صورتحال سے نبٹنے کے لیے انہوں نے ملک بنک قائم کرنا شروع کردیے۔میڈیکل سائنس میں یقینا یہ ایک بڑا قدم تھا اور جن اطباء نے یہ شروع کیا انہوں نے انسانیت کی خدمت کے لئے شروع کیا ہوگا ۔یورپ اور امریکہ میں چونکہ خاندانی نظام متاثر ہو چکا تھا اورنام نہاد تہذیب وترقی کے نام پر وہ بہت سے خاندانی مسائل کا شکار ہیں اگرکسی وجہ سے بچے کو ماں کا دودھ میسر نہ آسکے تواس بچے کو دودھ پلانے والی خاندان میں بہت کم ملتی ہے کیونکہ کوئی بھی خا تون دوسرے کے بچے کے لئے پابند ہونا پسند نہیں کرتی ۔مشرقی ممالک میں اور بالخصوص اسلامی ممالک میں بالعموم خاندان میں سے کوئی نہ کوئی خاتون ایسے بچے کو دودھ پلانے کے لئے تیار ہوجاتی ہے اور مرضعہ سہولت سے دستیاب ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ملک بنک کی ضرورت یہاں بہت زیادہ محسوس نہیں ہوتی ۔ملک بنک کا قیام اپنی جگہ لیکن اسلامی شریعت کے تقاضے اس سے کافی مختلف تھے جس کے باعث سوالات پیدا ہوئے۔

جونہی یہ مسئلہ عوام الناس نے علماء کے سامنے پیش کیا انہوں نے اپنی اپنی رائے کے مطابق فیصلہ دیا اور ان کی رائے میں اختلاف پیدا ہوا جس سے ایک دوسرے کے خلاف قلم وزبان چلنے کے واقعات بھی پیش آئے۔بعض مفتیان کرام نے اسے جائز قرار دیا جیسے کہ مفتی احمد حریری ،جنہوں نے ۸ جولائی ۱۹۶۳ کو ہی اس کے جواز کا فتویٰ دے دیا۔2 جبکہ بعض نے اسے بالکل ناجائز قرار دیا۔اس لئے اس موضوع کو" المنظمة الاسلامیة للعلوم الطبیة" نے اپنی پہلی ندوۃ میں ہی شامل ِبحث کرلیا ،جو کہ ۱۱ شعبان ،بمطابق ۲۴ مئی ۱۹۸۳ میں کویت میں "الانجاب فی ضوء الاسلام" کے نام سے منعقد ہوئی۔اس مباحثہ کے بعد تمام مجامع فقہیہ کی قراردادوں پر اس کی قرارداد کے اثرات نظر آتے ہیں خواہ کسی نے اس سے اتفاق کیا یا اختلاف کیا ۔

رضاعت سے متعلق فقہاء کے مذاہب

مقدار موجب تحریم

احناف 3اور مالکیہ4کے ہاں رضاعت میں دودھ کی مقدار کم ہو یازیادہ ہرصورت میں رضاعت ثابت ہوجاتی ہے ۔وہ رضعات کی تعداد کے قائل نہیں ہیں ،ان کی دلیل قرآن پاک کی آیت رضاعت "وامهاتکم اللاتی ارضعنکم" 5ہے کہ اس میں کوئی تحدید وارد نہیں ہوئی اس لئے وہ اس چیز پردال ہے کہ دودھ کثیر ہویا قلیل مطلقا موجب تحریم ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے "ویحرم من الرضاع ما یحرم من النسب"6 کہ رضاعت اس کو حرام کردیتی ہے جسے نسب حرام کردیتا ہے ۔اور ایسا ہی اثر حضرت عبداللہ بن عباس سے موطا امام مالک میں7اور انہی سے اور سعید بن المسیب اور عروہ بن الزبیر سے موطا امام محمد میں منقول ہے۔8

شافعیہ 9اور حنابلہ10اور زیدیہ11کے نزدیک کم از کم پانچ رضعات سے تحریم ثابت ہوتی ہے ۔بعض روایات تین رضعات کی بھی ہیں ۔پانچ رضعات کی دلیل حضرت عائشہ کی روایت ہے جس میں ذکر ہے کہ قرآن میں ۱۰ رضعات معلومات نازل ہوئے تھے جوکہ بعد میں پانچ رضعات معلومات سے منسوخ ہوگئےاور آپ ﷺ کی وفات تک یہی قرآن میں پڑھا جاتا رہاہے۔12 ایسے ہی ام الفضل سے روایت ہے کہ ایک بار یا دو بار چھاتی منہ میں لینے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی اسے تین رضعات والے اپنی دلیل بناتے ہیں ۔13ایسی ہی ایک روایت حضرت ابوہریرہ سے بھی ہے۔14 جبکہ ام المومنین حفصہ نے عاصم بن عبداللہ بن سعد کو اپنی بہن فاطمہ بنت عمر کے پاس دس رضعات پلانے کے لیے روانہ کیا جبکہ وہ دودھ پیتے بچے تھے۔15

شیعہ عالم آیت اللہ العظمی ڈاکٹر محمد صادق تہرانی کہتے ہیں کہ رضاعت روایات میں ۱۵ مرتبہ دودھ پلانے کو کہا گیا ہے اور اس میں زیادہ فاصلہ نہ ہو ۔ "ارضعنکم" اور "من الرضاعة "سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دودھ پستان کے ذریعہ پلایا جائے لیکن احتمالا "ارضعنکم" کا اطلاق تینوں موادر پر ہوتا ہے۔

۱۔پستان سے براہ راست

۲۔بلاواسطہ

۳۔بالواسطہ کسی ظرف میں

امتصا ص الثدی اور وجور وسعوط کے بارے میں فقہاء کا موقف

امام شعبی،امام ثوری16،احناف17،مالکیہ18 ،شوافع19،حنابلہ20،اور زیدیہ21 کے ہاں وجور وسعوط سے بھی حرمت رضاعت ثابت ہو جاتی ہےامتصاص الثدی (پستان چوسنا)ضروری نہیں ہے۔22

حقنہ کے بارے میں مالکیہ کے ہاں رضاعت تبھی ثابت ہوگی اگر دودھ پیٹ میں پہنچ کر تغذیہ کاباعث ہوورنہ نہیں ہوگی23حنابلہ کے ہاں رضاعت کا اعتبار بچے کے پینے کے اعتبار سے ہے کہ اگر برتن ہیں دودھ نکالا اور بچے نے پانچ مختلف اوقات میں پیا تو پانچ رضعات ہوں گے اور اگر ایک ہی بار میں پیا جبکہ نکالا پانچ اوقات میں گیا تھا تو ایک ہی رضعہ قرار دیا جا ئے گا۔ 24 شوافع اس کی مقدار کے قائل ہیں کہ اگر مقدار پانچ رضعات کے برابر ہو تو ۵ رضعات ثابت ہو جائیں گے۔25 احناف کے ہاں کان میں ٹپکانے سے یا احلیل میں قطور سے چونکہ غذائیت کا حصول نہیں ہوتا اس لیے رضاعت بھی ثابت نہیں ہوتی۔ان امور کومفطرات پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ یہاں علت تغذیہ خود شارع کی طرف سے بیان کردہ ہے ۔26جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا" لا رضاع ،الا ما انشز العظم ،وانبت اللحم" 27 رضاعت وہی ہے جو ہڈی کو مضبوط کرے اور گوشت کو بڑھائے۔

لیکن ان سب کے خلاف ایک اہم فقیہ ابن حزم ظاہری کے نزدیک معاملہ بالکل مختلف ہے،کہتے ہیں :جو کچھ دودھ پینے والا بچہ مرضعہ کے پستان سے اپنے منہ سے چوستا ہے فقط وہی رضاعت سے حرمت کا باعث بنتا ہے،پس جسے عورت کا دودھ پلایاگیا اور اس نے برتن سے پیا،یا برتن میں عورت کا دودھ دوہا گیا اور وہ اس تک پہنچایا گیا ،یا روٹی کے ساتھ اسے کھلایا گیا ،یا اس کے منہ یا ناک یا کان میں انڈیلا گیا ،یا اسے بذریعہ حقنہ دیا گیا ،پس ان سب سے کچھ حرام نہیں ہوتا اگرچہ پورے عرصے کےدوران اس کی خوراک یہی رہے۔28 وہ آیت "وامهاتکم اللاتی ارضعنکم واخواتکم من الرضاعة"29 اور حدیث شریف "ویحرم من الرضاع ما یحرم من النسب"30سے استدلال کیا ہے اس کے علاوہ وہ رضاعت کا معنی لغوی لیتے ہیں "ولا یسمی ارضاعا الا ما وضعة المراة المرضعة من ثدیها فی فم الرضیع31کہ ارضاع اس کے سوا کسی اور کو نہیں کہا جاتا ہے کہ جو عورت اپنے مرضعہ کے منہ میں اپنا پستان ڈالے ۔ان کے نزدیک اگراس طرح سے حرمت ثابت ہو تو بھیڑ کے دودھ سے بھی رضاعت ثابت ہونی چاہیے ، لیکن عورت کےعلاوہ رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔

ابن حزم ظاہری کے ہمنوا شیعہ امامیہ بھی ہیں کہ ان کے ہاں امتصاص الثدی کے بغیر حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔32

مختلط دودھ کا حکم

احناف کے ہاں اگر دوعورتوں کا دودھ مختلط ہو تو جس کا دودھ غالب ہو اس سے حرمت رضاعت ثابت ہوگی،اگردودھ میں پانی یا دوائی وغیرہ شامل ہو توغالب کا حکم ہوگا۔اگرکھانے میں عورت کا دودھ ڈالا اوراسے پکایا جس سے دودھ سخت ہوگیا توبھی حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوگی کیونکہ یہ دودھ نہیں بلکہ کھانا بن چکا ہے۔33،34

احناف کے ہاں یہ بھی شرط ہے کہ دود ھ صرف بنات آدم کا ہو،کسی جانور کا نہ ہواور نہ ہی کسی آدمی کا،اگر کسی آدمی کا دودھ آجائے تواس سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی ۔

مالکیہ کے ہاں اگردودھ کو کھانے میں ڈالا گیا ،یہاں تک کہ دودھ غائب ہوگیا ،اور کھانا غالب ہوگیا ،عورت کا دودھ نکالا گیا ،پھر اسے آگ پرپکایا گیا یہاں تک کہ گاڑھا ہوگیا اور دودھ غائب ہوگیا یادودھ میں پانی ڈالا گیا یہاں تک کہ دودھ غائب ہوگیا اور پانی غالب ہوگیا ،یا اسے دوا میں ڈالا گیا اور اسے بچے کو پلایا گیا تو کیا اس سے۔۔۔۔۔۔۔کچھ بھی حرام نہیں ہوتا ۔35

شوافع کے ہاں اختلاط کی صورت میں بھی ،اگر دود ھ کی مقدار پانچ رضعات تک پہنچ جائے تو حرمت ثابت ہوجائے گی۔36 اور اس میں وہ غالب و مغلوب کا احناف کی طرح فرق نہیں کرتے اور اگردو عورتوں کا دودھ مختلط ہوگیا تو غالب دودھ والی اور مغلوب دود ھ دونوں سے امومت ثابت ہوجا ئے گی۔37

شوافع کے ہاں ثبوت تحریم کے لیے یہ شرط نہیں ہے کہ دودھ پستان سے نکلنے کی حالت پر باقی رہے اگر اس میں ترشی پیدا ہونے سے ،جمنے سے،گاڑھا ہونے سے ،پنیر بننے سے یا مکھن بننے سے ،بالائی سے ،تغیر ہو جائے اور اسے بچہ کھا لے اور وہ اس کے پیٹ میں پہنچ جائے اور اس سے تغذیہ حاصل ہوجائے تو تحریم ثابت ہوجا ئے گی۔38

جمہور حنابلہ کا موقف مختلط دودھ کے بارے میں یہ ہے کہ دودھ کی کسی مائع یا ٹھوس میں اگر ملاوٹ کردی جائے تو بھی سب سے حرمت ثابت ہوجائے گی۔ان کے ہاں مطلقا حرمت ثابت ہوجاتی ہے ۔اگرچہ اس کے خلاف بھی قول موجود ہے لیکن وہ مرجوح ہے۔یہاں حنابلہ دیگر ائمہ ثلاثہ سے مختلف موقف رکھتے ہیں۔

شک سے رضاعت

جمہور فقہاء (احناف 39،شوافع40،مالکیہ41،حنابلہ42کے ہاں شک سے احکامات ثابت نہیں ہوتے اس لیے رضاعت بھی ثابت نہیں ہوتی۔اور شوافع کے ہاں اگر عدد رضعات میں بھی شک ہو تو رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔43

فقہ حنفی کے مطابق اگر کسی بچے کو کسی گاوں کی بعض خواتین نے دودھ پلایا اور یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کون ہیں ؟اس آدمی نے اس گاوں کی کسی لڑکی سے شادی کرلی تو جائز ہے۔44

علامہ ابن قدامہ کہتے ہیں ،جب رضاعت کے وجود میں شک پیدا ہوجائے ،یا عدد رضاع میں شک ہوجائے کہ وہ پورے ہوئے یا نہیں ؟تو تحریم ثابت نہیں ہوگی کیونکہ اصل اس کا عدم ہے اور یقین شک سے زائل نہیں ہوتا۔45 اسی طرح سے زیدیہ کے ہاں بھی شک سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی ،شیعہ امامیہ کے ہاں بھی شک سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی46نیز یہ بھی شرط ہے کہ رضاعت وطی شرعی سے حاصل ہو۔47

دودھ بنک (Milk Bank )کے مجوزین کے دلائل

دودھ بنک (Milk Bank)کے مجوزین نے اپنے دلائل کی بنیاد مندرجہ ذیل چیزوں پر رکھی۔

1۔منتخب جزوی اجتہاد کی اجازت کا ہونا

یہ ایک عصری ضرورت ہے ،جس میں منتخب جزئیات پر اجتہاد"الاجتهاد الجزئی الانتقائی" کی اجازت اہل زمانہ کو ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنے مسائل سے زیادہ بہتر طور پر واقف ہوتے ہیں اس لیے انہیں اس کا کچھ نہ کچھ اختیار دیا جاتا ہے ۔بہت سے صحابہ کرام اور فقہاء کے مذاہب جو مدون نہ ہوسکے وہ مدون مذاہب کے ہوتے ہوئے بالکلیہ کالعدم نہیں ہوجا تے بلکہ مستقبل کے مسائل کے حل میں ان سے استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔جیسا کہ اس باب میں فقیہ اللیث بن سعد اور ابن حزم ظاہری کے اقوال سے سہارا لیا گیا ۔نیز اجتہاد کا دروازہ کھلا ہے بند نہیں ہے وہ جدید مسائل کے فقہی حل کے لیے ہی کھلا ہے۔

2۔شک اور لبن مختلط سے رضاعت کا عدم ثبوت

شکوک و شبہات سے شرعی احکام ثابت نہیں ہوتے ۔فقہی قاعدہ ہے "الیقین لا یزول بالشک"کہ یقین شک سے زائل نہیں ہوسکتا۔

ملک بنک کے ذریعے سے بچے کودودھ فراہم کرنےمیں بہت سے امور میں شکوک وشبہات رہتے ہیں اس لیے جمہور فقہاء کے نزدیک شک کی صورت میں رضاعت ثابت نہیں ہوتی تو اس سے حرمت بھی ثابت نہ ہونی چاہیے ،مرضعہ کے نام میں شک،دودھ کی ا صل مقدار میں شک،مرضعات کی تعداد میں شک ،دودھ کے مختلط ہونے میں شک،غرضیکہ ہرچیز میں شک ہے تواس سے رضاعت کیسے ثابت ہوگی؟

چونکہ یہ دودھ مختلط ہے ،اور دودھ مختلف کے بارے میں فقہاء حنفیہ کا فتویٰ کافی نرم ہے اس لیے اس سے جواز کا ثبوت لیا جاسکتا ہے۔

3۔احوط کے بجائے ایسر پر فتوی ٰ دیا جائے گا

احوط کے بجائے ایسر پر فتویٰ دیا جانا چاہیے تاکہ لوگوں پر حرج نہ ہو اور ہمارے فتاویٰ آنے والوں کے لیے رکاوٹ کھڑی نہ ہوں اور دین سے دوری پیدا نہ کریں ،کیونکہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں "ما خیرالنبی ﷺ بین الامرین الا اختار ایسرهما مالم یاثم"۔48جب کبھی بھی نبی ﷺ کو دوامور میں اختیار دیا گیا تو انہوں نے آسان کو اختیار کیا جب تک کہ وہ گناہ کا کام نہ ہو۔اسی حدیث سے فقہی قواعد ماخوذ ہیں : "الامر اذا ضاق اتسع "جب معاملہ تنگ ہو جائے تو اس میں وسعت پیدا کی جائے گی ،اور قاعدہ ہے" الضرر یزال" ضرر کو زائل کیا جائے گا،اور قاعدہ ہے "الضرورات تبیح المحظورات" ،ضرورات ناجائز امور کو مباح کردیتی ہیں ۔اس لیے یہاں بھی اسی اصول پر آسان کو اختیار کرنا چاہئے۔

فقہاء کاکام تشدید پیداکرنا نہیں ہے بلکہ رخصت فراہم کرنا ہے جیسا کہ مشہور فقیہ اور محدث امام سفیان ثوری کا فرمان ہے:"انما العلم عندنا الرخصة من ثقة ،فاما التشدید فیحسنه کل احد" 49بے شک علم ہمارے نزدیک ثقہ سے رخصت کا نام ہے ،پس سختی کو تو ہر کوئی اچھا سمجھتا ہے۔

احوط پرعمل کرنا آدمی کا اپنا ذاتی فعل ہونا چاہئے نہ کہ فقہاء اپنے فتاویٰ میں احوط پر فتویٰ دینا شروع کردیں بلکہ انہیں چاہئے کہ وہ رخصت پر ہی فتویٰ دیں۔

4۔لبن مختلط پر فقہاء کی آراء کاملک بنک پر اثر

اس صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے سامنے اس طرح سے صورتحال سامنے آتی ہے کہ اگر ایک لبن مختلط کی پیکٹ سے بچے کو دودھ پلایا جائے تو احناف اور مالکیہ کے ہاں صرف اس خاتون سے رضاعت ثابت ہوگی جس کادودھ سب سے زیادہ تھا،شوافع کے ہاں اگر پانچ رضعات کے بقدرایک خاتون کا دودھ پیا تو رضاعت ثابت ہوگی اور اگر پانچ رضعات سے کم مقدارمیں دودھ پیا تو رضاعت ثابت نہ ہوگی۔اگر ہرخاتون سے پانچ رضعات سے کم دودھ پئے ،اور چاہے پورے دوسال ہی بچہ کیوں نہ دودھ پیتا رہے رضاعت ثابت نہ ہوگی۔صرف حنابلہ کے نزدیک تمام عورتوں سے رضاعت ثابت ہوجائے گی جن کا دودھ اس پیکٹ میں شامل تھا ۔اسی طرح صرف ظاہریہ کے ہاں کسی سے بھی رضاعت ثابت نہ ہوگی کیونکہ اس میں امتصاص الثدی نہیں ہوا۔

دودھ بنک میں دودھ بالعموم ایک سے زیادہ خواتین کا ہوتا ہے اور طرح سے سب سے غالب دودھ والی سے تو حرمت رضاعت ثابت ہوگی اور مغلوب دودھ والیوں سے حرمت رضاعت ثابت نہ ہوگی ،امام ابو حنیفہ اور امام ابویوسف کے نزدیک ،لیکن امام محمد اور امام زفر کے نزدیک حرمت سب سے ثابت ہوجائے گی۔ایک بات جو قدر مشترک کےطور پرسامنے آتی ہے وہ کم از کم ایک خاتون سے تو ہر پیکٹ میں سے حرمت رضاعت کا ثبوت ہے جمہور کے نزدیک سوائے ظاہریہ کے ۔دوسال کے دوران نہ جانے بچہ کتنے پیکٹ استعمال کرے اور ہر پیکٹ میں سے غالب والی سے اگر حرمت ثابت کریں تو ان کی تعداد بہت زیادہ ہوجائے گی جس کا ریکارڈ رکھنا اور شادی کے وقت سب کی کھوج کرنا ایک مشقت طلب کام ہے۔

دین کے احکامات ظنیت سے ثابت نہیں ہوتے ،کیونکہ محض ظن تو اکذب الحدیث ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ٰہے "ان الظن لا یغنی من الحق شیئا"۔50

دودھ بنک کے مانعین اور ان کے دلائل

خطرات وخدشات

1۔اسلامی معاشرے میں ان سے سب سے زیادہ خدشات لاحق ہیں کیونکہ یہ ایک دینی مسئلہہ ہے اور وہ یہ ہے کہ کئی ماوں سے دودھ کا جمع کرنا اور انہیں آپس میں خلط کردینا اور پھر اسے بچے کو اس حال میں دینا کہ ان خواتین کی کوئی معرفت نہ ہو جن کادودھ اسے پلایا جارہاہے ،اور جب ایسی جہالت پیدا ہوجائے تو یہ خدشہ ہے کہ کل کلاں رضاعی بھائی اپنی رضاعی بہن سے نکاح کرلے یا اپنی رضاعی خالہ ،رضاعی پھوپھی سے نکاح کر بیٹھے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جوچیز نسب سے حرام ہوتی ہے وہی چیز رضاعت سے بھی حرام ہوتی ہے ۔قطع نظرفقہاء کے مناقشات کے اس سے بچنا ہی بہتر ہے اور جمہور فقہاء کی رائے بھی یہی ہے۔

2۔اعلی ٰ تکنیکی صلاحیتیں رکھنے والے ممالک جیسا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ وغیرہ میں بھی ملک بنک میں دودھ کو جمع کرنا نہایت کلفت کا موجب ہے اور اس کے لیے بہت سے اخراجات کرنا پڑتے ہیں ۔اس طرح کا جمع شدہ دودھ خوردبینی جانداروں (Microbes)کا شکار ہوجاتا ہےاور اس کے بعض خصائص اور خوبیاں ڈی کمپوزیشن (Decomposition)کے نتیجے میں ضائع ہوجاتی ہیں جو کہ مائیکروبز کے نتیجے میں یا وقت کے گزرنے کےساتھ ساتھ ہوتا رہتا ہے۔دیگر ممالک میں تو صورتحال اور بھی زیادہ خراب ہوتی ہے۔اور پھر اس کی ضرورت بھی بہت ہی کم پڑتی ہے۔

3۔ترقی پذیر ممالک میں ملک بنک کے معاملے میں یہ تکالیف اور بھی زیادہ ہیں کیونکہ یہاں تکنیکی صلاحیتیں اور صفائی کا معیار اس قدر اچھا نہیں ہے ،اس پرآنے والے اخراجات کے مقابلے میں اس کے فوائد بہت کم ہیں اور یہاں دودھ کوزیادہ عرصہ تک مائیکرو آرگنزمز(Organisms Micro)سے اور ڈی کمپوزیشن (Decomposition)سے بچانا نہایت مشکل امر ہے۔

4۔ڈاکٹرجبر(وزیر صحت مصر اور استاذ طب الاطفال اور اطباء کی ایسوایشن کے رئیس)کہتے ہیں کہ یورپ اور امریکہ میں ہوسکتا ہے کہ ملک بنک (Milk Bank)نے کچھ کامیابی حاصل کی ہو،لیکن مصر میں ان کی مطلقا ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہاں طبعی رضاعت مشکل نہیں ہے کیوبکہ ۸۵ فیصد مائیں اپنے بچوں کو خود دودھ پلاتی ہیں اور باقی کو مرضعہ کی صورت میں طبعی دودھ میسر ہوجاتا ہے اور جو تھوڑی تعداد باقی بچ جاتی ہے انہیں مناسب مصنوعی دودھ دستیاب ہوجاتا ہے یا رضاعت کے دیگر متبادلات دستیاب ہوجاتے ہیں۔

5۔اگر اسے مشروع تسلیم کرکے اجازت دے بھی جائےتوبھی اس سلسلے میں بہت مشقت کرنا پڑے گی۔دودھ کوجمع کرنا بذات خود بہت مشقت طلب اور وقت کا ضائع کرنے والا امر ہے ،اس کے علاوہ اس کی یا،پھر اسے خشک کرنا ،محفوظ کرنا بہت سے اعمال سر انجام دینا پڑتے ہیں تب جاکر یہ دودھ کسی بچے تک پہنچنے کے قابل ہوتا ہے،اور تب بھی بچے کودودھ دینے کے دوران یہ آلودہ ہوسکتا ہے ،جبکہ رضاعت کی صورت میں یہ پانی کی طرح سے قدرتی طور پر محفوظ شدہ اور خالص دودھ پی سکتا ہے۔51،52

6۔ڈاکٹر مصطفی حمامی وکیل وزارۃ صحت مصر کا موقف تھا کہ غذائیت میں بچے کے لئے سب سے اعلی ٰ مقام پر ماں کا دودھ ہے جس کا بچے کو دینا بھی آسان ہے اور محفوظ کرنے کا انتظام بھی قدرت کی طرف سے ہے اگر ماں کے پاس دودھ وافر ہو تو اسے نہ تو رضاعت کی ضرورت ہے نہ ہی ملک بنک کے دودھ کی اور نہ ہی کسی مصنوعی دودھ کی۔اور مصر میں زیادہ دودھ رکھنے والی عورتیں بھی زیادہ سے زیادہ یومیہ ایک لیٹر دودھ پیدا کرسکتی ہیں جو کہ درحقیقت ایک ہی بچے کے لئے کافی ہے نہ کہ ملک بنک میں جمع کرانے کے لیے۔دوسرا رضاعت سےمقصود ما ں اور بچے کے درمیان ایک رابطہ اور تعلق قائم کرنا بھی مقصود ہے اور یہ طبعی طور پر ہی ہوسکتا ہے نہ کہ بنک کے طریقے سے،نیز اتنی مائیں جو دودھ عطیہ کریں کہاں سے لائیں گے؟کیا ایسی ماں سے لیا جائے گا جس کا بچہ وفات پا گیا ہے ؟یا جس کا بچہ موجود ہے ؟ اور جس کا بچہ صحیح موجود ہے وہ دودھ کا زیادہ حقدار نہیں ہے ملک بنک کی جگہ پر؟کیا ملک بنک کا دودھ ہسپتالوں میں صرف خاص حالات میں شدید ضرورت مند بچوں کے لیے ہی ہوگا یا مالدار لوگوں کے لیے ہوگا جو اپنے بچوں کو اپنا دودھ پلانے کے بجائے بنک سے خرید کر دودھ مہیا کر رہے ہوں ۔53

7۔ڈاکٹر عبدالصادق حامد الاعرج میڈیکل پروفیسر ہیں ،انہوں نے ملک بنک کی تجارت کا نکتہ اٹھایا کہ اس سے غریب لوگ اس کی تجارت میں مشغول ہو جائیں گے اور غریب مائیں اپنا دودھ اپنے بچوں کے بجائے امرا ء کے بچوں کو مہیا کرنا شروع کردیں گی جس سے غرباء کے بچوں کی صحت اور بھی زیادہ متاثر ہوگی لیکن صحت امیر کے بچے کی بھی کما حقہ برقرار نہیں رہ پائے گی۔تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ طبعی اور غیر طبعی رضاعت والے بچوں میں نزلہ ہونے کے واقعات میں ایک اور پانچ کی نسبت ہے۔54اسی طرح بچوں کو پیچش اور انتڑیوں کی انفیکشن کے واقعات میں بھی واضح فرق موجود ہے۔نیز معاشرتی بگاڑ کی ایک بنیاد قائم ہوجائے گی۔55

8۔ڈاکٹر علی فھمی ،نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ کرمنل ریسرچ ،کے مطابق اگراس کو جائز قرار دے کر قائم کرنے کی اجازت بھی دے دی جائے تو ایک غلط فیصلہ ہوگا اور ایک معاشرتی فساد قائم ہوگا ،اس فساد زدہ معاشرہ میں بہت سے وبائی امراض موجود ہوں گے۔دودھ کا عطیہ کرنے والی ماوں کے اصلی بچے اپنے غذا کے طبعی حق سے محروم رہ جائیں گے اس کے ساتھ ساتھ انسانی دودھ کی خرید وفروخت شروع ہوجائے گی جس سے بہت سی مائیں اس کا غلط استعمال کریں گی،جیسا کہ اس وقت خون کی خرید وفرخت اور دیگر انسانی اعضاء کی غیر قانونی خرید وفروخت کے معاملے میں ہے۔مائیں بھی بالآخر دنیا کا ایک طبقہ ہی ہیں جو اپنی بہت سی مادی ضروریات کے لیے دودھ کی فروخت کے کاروبار میں ملوث ہوجا ئیں گی،نیز اس طرح سے بہت سی ماو ں کے امراض کے جراثیم اور وائرس اکٹھے ایک ساتھ پیکٹ میں جمع ہو کر جگہ جگہ پھیل جائیں گے جس سے بیماریوں پر قابو پانا مشکل ہوجائے گا۔خون کی طرح سے دودھ کی سکریننگ کا نظام بھی قائم کرنا پڑے گا۔56

9۔ڈاکٹر محمد فواد اسماعیل ،مصرمیں دودھ کے محفوظ کرنے کے شعبہ میں ماہر ہیں ،کہتے ہیں کہ اللہ نے انسان کو عزت بخشی ہے ،ملک بنک (Milk Bank)کے قیام سے ان کی حیثیت بھی گائے،بھینس اور بھیڑ کے دودھ کی طرح ہوجائے گی،کہ ان کا بھی دودھ جمع کیاجائے گا اور مختلف طریقے استعمال کرتے ہوئے انہیں ٹھنڈا یا خشک کیا جائے گا۔مناسب نہیں ہےکہ اس صورت کو انسانوں کے لیے شکلا یا موضوعا بروئے کار لایا جائے تاکہ ان کی عزت وتکریم میں فرق نہ آنے پائے۔57

10۔چونکہ دودھ بچے کی سب سے بنیادی ضرورت ہے جس پر اس کی زندگی کا انحصار ہے اور ایسی ضروریات جن کے عدم سے جان کو خطرہ ہو،شارع انکے بارے میں کوئی نہ کوئی متبادل ضرور مہیا کرتا ہے۔اگر ماں کا دودھ بچے کو کافی نہ ہو ،یا دودھ مطلقا ہوہی نہ تو زمانہ قدیم سے یہ رواج چلا آرہا ہے کہ رضاعت کے ذریعے سے بچے کی پرورش کی جاتی ہے۔قرآن پاک میں اللہ تعالی ٰ نے رضاعت کے سبب"الامومة المرضعة " کا حکم نازل فرمایا ہے۔"وامهاتکم اللاتی ارضعنکم" 58اسی طرح سے رضاعت کے باعث دیگر حرام ہونے والے رشتہ داروں کا تذکرہ موجود ہے "واخواتکم من الرضاعة"۔59یہاں اصل امومت کا حکم ہے اور باقی تمام رشتہ داروں کی حرمت اس امومت کے ثبوت کی محتاج ہے ،اس لیے اصل محل بحث امومت رضاعت ہے جہاں یہ ثا بت ہوگی رضاعت کے تمام احکام ثابت ہوں گے اور جہاں یہ ثابت نہ ہوگی رضاعت کے تما م احکام ثابت نہ ہوں گے۔

جمہور فقہاء کی رائے کا احترام ضروری ہے

نصوص قرآنیہ سے رضاعت سے تحریم ثابت ہوجاتی ہے اور یہاں یہ رضاعت لغوی نہیں ہے بلکہ رضاعت فقہی ہے جس میں بلاامتصا ص الثدی یا با امتصاص الثدی عورت کا دودھ بچے کے پیٹ کے اندر پہنچ جائے ،اگرچہ یہاں مولود کی عمر اور رضعات کی تعداد اور کثرت وقلت میں فقہاء میں اختلاف ہے لیکن اس چیز پر اتفاق ہے کہ اس سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے ۔بلا امتصاص الثدی سے عدم تحریم رضاعت کے قائل فقہاء میں سے صرف ابن حزم ظاہری اور لیث بن سعد ہیں اور یہ اقوال امت میں کبھی بھی متداول نہیں رہے اس لیے ان مرجوح اقوال پر اس مسئلہ کی بنیاد نہ رکھی جائے۔

لبن مختلط کا مسئلہ

یہ کہنا کہ لبن مختلط میں احناف کے ہاں بالکل ہی رضاعت ثابت نہیں ہوتی بھی غلط ہے انکے ہاں جس کے دودھ کا غلبہ ہے اس سے بہرحال رضاعت ثابت ہوجاتی ہے ۔البتہ اگر اس میں کسی عورت کے دودھ کے علاوہ کسی دوا یا کھانے کی چیز کو ملایا جائے تو غالب کا اعتبار ہوگا یا دودھ کے نام کےزوال کا اعتبار ہوگا جیسا کہ اس سے پنیر بنالینا۔

جمہور فقہاء کے قو ل کے خلاف رعایت دینا کسی طور پر مستحسن نہیں ہے یہ ایک نئے افتراق اور انتشار کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہوگا جس سے بچنا بہتر ہے۔دراصل یہ احوط پر عمل نہیں ہے بلکہ جمہور کے قو ل کے خلاف فتویٰ ہے۔

جیسے ابن حزم ظاہری کا فتویٰ ہے کہ مطلقا ملک بنک کےدودھ سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوگی اسی طرح دوسری طرف امام احمد بن حنبل کا فتویٰ بھی ہے کہ لبن مختلط کی صورت میں سب سے حرمت ثابت ہوجائے گی۔شوافع کے ہاں بھی اگر پانچ رضعات کے بقدر مقدار پہنچ جائے تو حرمت ثابت ہوجائے گی۔

مخالفین ملک بنک کے دلائل کے جوابات

الاستاذڈاکٹر یوسف القرضاوی صاحب نے دودھ بنک کے مخالفین کے دلائل کے جوجوابات دیے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے:

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ دودھ بنک اس لیے ناجائز ہے کیونکہ اس سے حذرکرنا ہی احوط ہے ،اور احوط پرعمل کرنا دینداری کے زیادہ قریب اور شبہات سے زیادہ دور ہے ۔جوشبہات میں پڑے گاوہ بلآخر حرام میں مبتلا ہو جائے گا ۔اس کا جواب یہ ہے کہ جب آدمی خالصتا اپنی ذات کے لیے عمل کرتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ احوط اور احتیاط پرعمل کرے ۔لیکن ہمارے لیے مسئلہ عام اور معتبر مصلحت اجتماعی ہے اور اہل فتویٰ کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ محکم نصوص سے تجاوز کیے بغیر اور ثابت قواعد سے تجاوز کیے بغیر آسانی پیدا کریں اور مشکلات پیدا نہ کریں ۔اسی وجہ سے فقہاء نے موجبات تخفیف بنائے ہیں جن میں عموم البلویٰ ہے جس میں لوگوں کے حال کی رعایت کرتے ہوئے ان کے ساتھ نرمی کا برتاو کیا جاتا ہے ۔ہمارا زمانہ اس بات کا زیادہ حقدارہے کہ اس زمانہ میں رہنے والے لوگوں کے لیے نرمی اور آسانی پیدا کی جائے۔ہمارے سامنے دو صورتیں تھیں احوط یا آسان،یا پھر نرم یا منصفانہ ۔اس موقع پر ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم احوط کے مطابق فیصلہ نہ دیں بلکہ آسانی اور فیاضی کے مطابق فیصلہ دیں کہ جس پر یہ دین قائم ہے۔جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سوال کے جواب میں کہ کونسا دین اللہ کے نزدیک پسندیدہ ترین ہے فرمایا ہے الحنیفية السمحة60 کہ وہ ایسا دین ہے جو سچا ،پختہ اور فیاضانہ ہو۔ایک اور حدیث شریف میں ہے "فانما بعثتم میسرین ولم تبعثو ا معسرین"61بے شک تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو اور مشکل میں مبتلا کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے۔اور وہ منہج جسے ہم نے ان امورمیں اختیار کیا ہے وہ سخت رویہ رکھنے والوں اور بےجا نرمی کرنے والوں کے درمیان میانہ روی اور اعتدال کا ہے۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے "وکذلک جعلناکم امة وسطا" 62 کہ اسی طرح سے ہم نے تمہیں امت وسط بنا کر بھیجا ہے۔63

شیخ عبدالطیف حمزۃ مفتی مصر نے اس سے عدم تحریم کا فتویٰ دیا اور انہوں نے احناف سے استدلال کیا تھا کہ ان ہاں شرائط رضاعت کا تحقق مکمل طور پر نہیں ہوتا۔

پہلی شرط یہ ہے کہ وہ دودھ عورت کا ہو،اور بچے کے پیٹ میں منہ کے راستے سے پہنچے اور وہ پانی ،دوا ،بھیڑ،بکری وغیرہ کے دودھ سے یا کھانے کی دیگر اقسام سے مختلط نہ ہو،اگر مختلط ہو ،اور اس کے بعد آگ پر پکایا جائے تو اس سے تحریم ثابت نہ ہوگی ۔اگر اسے آگ نہ چھوئے تو بھی اس سے تحریم واقع نہ ہوگی امام ابوحنیفہ کے نزدیک کیونکہ ان کی نسبت کھانے کی طرف ہوجائے گی خواہ وہ غالب ہو یا مغلوب ۔کیونکہ جب کوئی ٹھوس چیز مائع میں شامل کی جائے تو وہ طبعا مائع ہوجاتی ہے تو حکم بعد والے کا لگے گااور اعتبار غلبہ کا ہوگا،اگر دو عورتوں کا دودھ مختلط ہو تو ان میں سے جس کا دودھ غالب ہوگا اس کا اعتبار ہوگا،اگر دونوں کا دودھ برابر ہو تو دونوں سے تحریم ثابت ہوجائے گی۔اور رضاعت شک سے ثابت نہیں ہوتی۔اور نہ ہی تحریم دہی بنے ہوئے دودھ یا پنیر ہوئے دودھ کو کھانے سے ثابت ہوتی ہے۔اور اگر دودھ خشک پاوڈر کی شکل میں ہو تو اس سے دودھ کے لفظ کا اطلاق نہیں ہوتا اور جب اسے پانی سے ملایا جائے تو بھی اس سے تحریم ثابت نہیں ہوتی۔اگر دودھ غیر متعین عورتوں اور غیر متعین تعداد میں عورتوں سے جمع کیا جائے تو عدم تعیین کی بنا پر ان کی اولادمیں تحریم ثابت نہیں ہوگی۔اگردودھ مائع حالت میں ہی محفوظ کیا گیا ہواور پھر بچوں کو دیا جائے تو بھی جہالت کا وصف ہمیشہ باقی رہے گا تواس مجہول دودھ کے پینے کے نتیجے میں حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوگی۔64،65

اسباب رخصت کا تجزیہ اور دودھ بنک میں ممکنہ رخصت کا پہلو

شریعت اسلامی جہاں ضروری ہو وہاں لوگوں کو رخصت دیتی ہے ،اور فقہاء کے ہاں رخصت کے اسباب سات ہیں ۔

(1)ضعف الخلق (2)سفر (3)نسیان (4)جہالت (5)اکراہ (6)عموم البلویٰ (7)مرض۔ 66

دودھ بنک (Milk Bank)کے معاملے میں دو چیزوں کی وجہ سے کسی حد تک رخصت دی جاسکتی ہے ایک جہالت اور دوسرا عموم البلویٰ ۔رضاعت میں جہالت کی وجہ سے بہت سی رعا یتیں حاصل ہوجاتی ہیں لیکن یہ جہالت اختیاری نہ ہو بلکہ غیر اختیاری ہو۔ایسا نہ ہو کہ پیکٹ پردودھ عطیہ کرنے والی کا نام اس لیے جان بوجھ کر نہ لکھا جائے کہ اس کی وجہ سے بعد میں جہالت یا شبہ کی وجہ سے رعایت حاصل ہوجائے درست نہیں ہے۔یورپ اور امریکہ کی بعض ریاستوں میں قانونا دودھ عطیہ کرنے والی کانام صیغہ راز میں رکھا جاتا ہے تاکہ لوگوں میں دودھ عطیہ کرنے سے ہچکچاہٹ پیدا نہ ہو۔ایسی صورت میں اضطراری جہالت پیداہوجاتی ہے جو کہ ملک بنک (Milk Bank)سے عدم تحریم رضاعت میں جمہور فقہاء کے اصولوں کے مطابق موجب رعایت ہوسکتی ہے۔

دوسری صورت جس کی وجہ سے رعایت حاصل ہوسکتی ہے وہ عموم البلویٰ ہے ،یورپ اور امریکہ میں چونکہ یہ بنک وافر ہیں اور اطباء ان کے دودھ کو بچوں کےلیے استعمال کرتے ہیں اور اس کی ترغیب دیتے ہیں ،عوام الناس اطباءکی رائے خلاف اپنی لاعلمی کے باعث نہیں چل سکتے بلکہ وہ مجبور ہیں کہ اطباء کی رائے کا احترام کریں۔یہ عموم البلویٰ کا مسئلہ صرف یورپ اور امریکہ میں ہی ہے اسلامی دنیا میں ایسا کوئی مسئلہ ابھی تک پیش نہیں آیا۔

صرف مصر اور ایران میں اس کےجوازکا فتویٰ ہے لیکن عوامی ردعمل کے خطرے کے پیش نظر اس کے قیام کو موخرکیا گیا ہے اسی طرح سے ترکی چونکہ باوجوہ اسلامی ملک ہونے کے سیکولر ملک تصور ہوتا ہے وہاں بھی عوامی رائے کے احترام کی وجہ سے ملک بنک آج تک قائم نہیں ہوسکا۔اس اصول پر رعایت حاصل کرنے اور اس رعایت کے موافق فتوی ٰ دینے میں بھی اسی وجہ سے اختلافات موجود ہیں ۔

"مجلس الاوربی للافتاء والبحوث "اپنے علاقے میں موجود عموم البلوی ٰ کی وجہ سے اس کے جواز کا فتوی ٰدیتی ہے لیکن اسلامی ممالک کے مجامع الفقہی بالعموم اس کے جواز کے قائل نہیں ہیں ،ان کا موقف ہے کہ جب تک عوام الناس کسی چیز میں مبتلا نہ ہوں عموم البلوی ٰ نہیں بنتا۔یہاں بچوں کی ایک قلیل تعداد اس کی محتاج ہے ۔اور فقہی قاعدہ ہے "العبرة للغالب الشائع لا للقلیل النادر" کہ اعتبار غالب اور شائع کا کیا جائے گا قلیل اور نادر کا نہیں کیا جائے گا۔

انسانی دودھ کی فروخت کا مسئلہ

دوران مناقشہ المنظمہ کے اجلاس میں یہ چیز بھی زیر بحث آئی کہ آیاتکریم انسانیت کا تقاضہ یہ نہیں ہے کہ انسانی اعضاء کی فروخت کی طرح سے انسانی دودھ کی فروخت بھی ممنوع قرار دے دی جائے تاکہ انسانی تکریم پر حرف نہ آئے؟ڈاکٹر محمد فواداسماعیل ،جو کہ مصر کے شعبہ"حفظ وتبریدا لالبان" کے اسپیشلسٹ ہیں ،نے یہ بات اٹھا ئی کہ انسانی دودھ سے بھیڑوں،بکریوں کے دودھ جیسا سلوک نہیں کرنا چاہئے کہ ان کی خرید وفروخت کی جاے،ٹھنڈا کرکے محفوظ کیا جائے،جمایا جائے وغیرہ۔67لیکن بعض نے اس کی مخالفت کی کہ رضاعت کے باب میں عورت کو دی جانے والی رقم کا لینا بھی تو اسی قبیل سے ہے اس لیے اسے جائز ہونا چاہیے۔68

فقہاء قدیم نے بھی اس کو جائز رکھا ہے،کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے "فان ارضعن لکم فا ٰتوهن اجورهن" 69کہ اگر(طلاق کے بعد)وہ تمہارے لیے دودھ پلائیں تو انہیں ان کا بدلہ دے دیں ۔حضور ﷺ کو بھی حضرت حلیمہ نے اجرت پر دودھ پلایا تھا ،زمانہ جاہلیت کی اس رضاعت کی اجرت کو حضور ﷺ نے برقرار رکھا ۔چونکہ یہ بچے کی زندگی کا معاملہ تھا کہ بچے کی زندگی کا انحصار دودھ پر ہےاور بعض اوقات کسی بیماری ،موت یا طلاق کے باعث بچے کو دودھ پلانے کے قابل نہیں رہتی تو اس کا حل

یہی شریعت نے پیش کیا ہے کہ اجرت پر اسے دودھ پلایا جائے۔بعض فقہاء نے اس اجرت کو اجارۃ الثدی کے بجائے بچے کی دیکھ بھال کی قیمت کہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اجارہ دودھ کا ہی ہے ۔70اس لیے ملک بنک کے قیام کی ممانعت کی وجہ تکریم انسانیت نہیں ہے بلکہ تحریم رضاعت سے پیدا ہونے والے مسائل ہیں۔

بلڈ بنک پر دودھ بنک کو قیاس کرنا

اسلامی ممالک میں بلڈ بنک قائم ہیں تودودھ بنک قائم کیوں نہیں ہوسکتے؟اس کاجواب شیخ عبداللہ البسام نے دیا کہ ان دونوں کی نوعیت میں بہت زیادہ فرق ہے ،کیونکہ بعض اوقات خون سے وہ فوائد حاصل ہوتے ہیں جو کہ دودھ سے حاصل نہیں ہوسکتے ۔خون مریض کو صرف اشد ضرورت کے وقت ہی لگایا جاتا ہے اور وہ ضرورت ہر لحاظ سے طبی نوعیت کی ہوتی ہے۔لیکن دودھ کی ضرورت بھوک کی وجہ سے ہوتی ہےاور یہ بنیادی ضرورت ہے جس کا طب سے زیادہ عام زندگی سے تعلق ہے ،یعنی دودھ کا شمار کمالیات و تحسینیات میں ہوتا ہے ۔دوسرا فرق یہ ہے کہ دودھ طاہر ہے لیکن خون نجس ہے اس لیے انہیں ایک دوسرے پر قیا س نہیں کیا جاسکتا ۔71

حرمت نکاح کے مسائل کا تعلق نسب اور رضاعت سے ہے جبکہ انتقال خون سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی اس لیے اس پر دودھ کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔خون سے حرمت کا ثبوت کسی قدیم شریعت یا قانون میں بھی نہیں ملتا البتہ رضاعت سے اور نسب سے تحریم کے احکامات اکثر شریعتوں میں موجود ہوں۔اس وجہ سے یہ قیاس درست نہیں ہے۔

لیث بن سعد کے قول کی استنادی حیثیت

دوران مناقشہ یہ بات سامنے آئی کہ لیث بن سعد کا قول متعدد کتب میں بلا سند نقل ہے لیکن اس کی کوئی سند لیث بن سعد تک نہیں پہنچتی جس سے اس کی تصدیق یا تردید ہوسکتی ہو۔محلی ابن حزم اور المغنی لابن قدامہ میں بہت سی احادیث بلاسند منقو ل ہیں جن کا کوئی ثبوت نہیں ہے اسی طرح سے ہوسکتا ہے کہ یہ قو ل ہو بالخصوص جبکہ یہ قو ل جمہور فقہاء کے خلاف بھی ہے تو اس کو بلادلیل و حوالہ اور سند کیسے قبول کیا جاسکتا ہے؟72

امام احمد کی طرف دو اقوال منسوب ہیں ایک تو ائمہ ثلاثہ کے موافق ہے جبکہ دوسرا قول ابن حزم کے موافق ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ان کا وہی قول ہے جو ائمہ ثلاثہ کے موافق ہے اور اسی پر فتویٰ ہے۔

ماں کے دودھ کے متبادلات

جب ماں کا دودھ دستیاب نہ ہو تو اس کے متبادل بھی موجود ہیں ،مشرق میں گائے ،بھینس ،بکری وغیرہ حیوانات کے دودھ کو بذریعہ بوتل استعمال کیا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ خشک ڈبہ بند،فارمولا ملک دستیاب ہیں جوکہ ڈاکٹر بچے کی صحت او راس کی ضروریات کے مطابق تجویز کرتا ہے ۔اگرچہ اس کو بریسٹ فیڈنگ پرکوئی بھی ترجیح نہیں دیتا لیکن جب کچھ دستیاب نہ ہوتو یہ متبادل صورتیں اختیار کی جاتی ہیں ۔73یہ ضروری بھی نہیں ہیں کہ ہر ماں کا دودھ اپنے بچے کے لیے یکساں مفید ہو،بلکہ بعض اوقات ماوں کے دودھ میں سمیت یا کسی بیماری کے اثرات موجود ہوسکتے ہیں جس کے بعد متبادلات کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔آج کل جینیٹک انجینیئرنگ کے ذریعے سے انسانی جین کی پیوندکاری سے گائے سے انسانی دودھ کے مشابہ دودھ حاصل کیا جارہاہے ،جوکہ اگرچہ انسانی دودھ کہلائے گا لیکن اس کے مشابہ ضرور ہے اور اس میں کسی قسم کی حرمت کا خدشہ بھی نہیں ہے۔

جدید ٹیکنالوجی سے جہالت کا حل

پاکستان میںNADRA کے نام سے قومی ڈیٹا بیس تشکیل دیا گیا ہے جس میں ہر شخص کے تمام خونی رشتہ داروں کا ریکارڈ موجود ہوتا ہے ،اسی طرح سے رضاعی رشتہ داروں کا ریکارڈ رکھا جاسکتا ہے ۔یورپ میں شناخت چھپانے کےلئے جو قانون سازی کی گئی ہے اس کا بھی حل موجود ہے کہ ڈبہ پر جن ماوں کا دودھ ہے ان کے صرف شناختی نمبر لکھے جائیں ،اور بچے کے والدین یا ہسپتال کا عملہ جس بچے کو اس ڈبے سے دودھ پلائے ،اور اس پر موجود شناختی نمبروں کو بچے کی پیدائش کے سرٹیفیکٹ میں اور NADRA کے ڈیٹا بیس میں شامل کروادیں ۔اس ضمن میں باقاعدہ قانون سازی کی جاسکتی ہے ۔بعد ازاں جب بچےکی شادی کا موقع آئے تو نادرا کے ریکارڈ سے اس بات کی تصدیق کی جاسکتی ہے کی جس خاتون سے اس کی شادی ہونے والی ہے وہ کہیں اس کی رضاعی محرم عزیزہ تو نہیں ہے ۔اس طرح سے نہ تو آیات الٰہی کا مذاق اڑایا جاسکے گا اور نہ ہی آدمی شکوک و شبہات میں مبتلا ہوگا ۔شریعت کے تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا بالکل درست ہے جبکہ پہلے ہی پاکستان میں نکاح کی رجسٹریشن رائج تھی اور اب تو NADRA کے ڈیٹا بیس پر مبنی کمپیوٹرائزڈ برتھ سرٹیفیکٹس اور میرج سرٹیفیکٹس بھی لازمی ہوچکے ہیں۔اس مثال کی پیروی دیگر اسلامی ممالک میں بھی کی جاسکتی ہے اور اگر اسلامی حکومتیں دلچسپی لیں تو یورپ اور امریکہ میں بھی مسلمانوں کے حوالے سے ان کے پرسنل لاز منظور کروائے جاسکتے ہیں۔

لیکن اس سلسلے میں یہ ضروری ہے کہ نادرا بھی اپنے اس سسٹم کو اپڈیٹ کرنے کے لیے علماء کرام کی خدمات حاصل کرے تاکہ اسے صحیح اصولوں پر منظم کیا جاسکے نیز یہ نظام پرائیوٹ ادارے کے بجائے حکومتی کنٹرول میں ہونا زیادہ بہتر ہے۔

فقہاء عصر حاضر کی آراء

عصر حاضر کے فقہاء کی آراء اس بارے میں منقسم ہیں ،بعض اسے کے جواز کے قائل ہیں اور بعض اس کے عدم جواز کے قائل ہیں۔مجامع فقہیہ میں سے عرب اور اسلامی دنیا سے تعلق رکھنے والے مجامع اس سے تحریم رضاعت کے قائل ہیں ۔اس لیے اس کی حوصلہ افزائی نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں ،لیکن یورپ اور امریکہ کے علماء اور مجامع فقہی اس کے خلاف موقف رکھتے ہیں اور ان کے نزدیک اس میں رعایت دینی چاہیے اور وہ ڈاکٹر الشیخ القرضاوی اور ان کے حامیوں کے موقف کو زیادہ پسند کرتے ہیں اور اسے موجودہ حالات میں زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔

1983 میں کویت میں ہونے والی ندوۃ الانجاب میں شیخ القرضاوی اور شیخ عبدالطیف حمزہ نے ملک بنک کی حمایت کی تھی،جبکہ ان کٰی مخالفت کرنے والوں میں شیخ عبداللہ البسام ،شیخ محمد تقی عثمانی ،شیخ مختار السلامی ،شیخ بکر ابو زید پیش پیش تھے۔74

ڈاکٹر یوسف القرضاوی کا مشورہ یہ ہے کہ ملک بنک کی صورت میں ان تمام خواتین کے نام پیکٹ پر لکھنا یا ان کی معلومات حاصل کرکے ان کی تحقیق کرنا ایک مشکل امر ہے اور فقہاء کے اصول کے مطابق اس میں وسعت پیداکرنی چاہیے اور جب کچھ فقہاء شک کی وجہ سے حرمت کے قائل نہیں ہیں تواسی کو قبول کرلینا چاہیے۔75

مفتی محمد تقی عثمانی نے ملک بنک (Milk Bank)کے قیام کے خلاف موقف پیش کیا ان کاموقف تھا کہ اصل علت امتصا ص من الثدی نہیں ہے بلکہ اصل علت "انشاز العظم وانبات اللحم" ہے۔جب اصل علت کو دیکھیں گے تو معلوم ہوجاتاہے کہ ملک بن(Milk Bank)سے بھی حرمت ایسے ہی ثابت ہوتی ہے جیسا کہ امتصاص الثدی سے ہوتی ہے ۔حلیب محلوب (دوہا ہوادودھ)بھی گوشت بڑھانے اور ہڈی مضبوط کرتا ہے اس وجہ سے اس سے بھی حرمت ثابت ہوجاتی ہے ۔خود دوران بحث سالم مولیٰ حذیفہ کا واقعہ بھی اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اسے جو دودھ پلایا گیا تھا وہ امتصا ص الثدی سے نہ تھا بلکہ حلیب محلوب کی صورت میں برتن میں تھا ۔طبقات الکبریٰ میں ابن سعد نے اس واقعہ کی تفصیل لکھی ہے اور لکھا ہے کہ سالم اس وقت داڑھی والے تھے"انه ذو لحیة" 76

مولانا گوہر رحمٰن فرماتے ہیں کہ اس میں تو کوئی شرعی قباحت نہیں ہے کہ ماو ں کا اضافی دودھ حاصل کرکے جمع کیاجائے اور مستحق بچوں تک پہنچایا جائے۔البتہ عور ت کی دودھ کی خرید وفروخت کا مسئلہ اختلافی ہے۔امام شافعی کے نزدیک جائز ہے،ابن قدامہ کے بقول امام احمد کے قول اصح کے مطابق بھی جائز ہے،امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے نزدیک عورت کا دودھ برتن میں جمع کرنے کے بعد فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔

مختصرا یہ کہ دودھ بنک (Milk Bank)قائم کرنے کے اجتماعی فوائد بہت زیادہ ہیں اور یہ بچوں کے مفاد میں ہے۔

مفتی عبدالقیوم ہزاروی سوال نمبر 3301 کے جواب میں کچھ شرائط کے ساتھ جوازکے قائل ہیں۔

1۔خرید وفروخت نہ کہ جائے۔2۔دودھ کے حصول کے لیے باپردہ اور محفوظ بندوبست ہو جہاں مردوں کی مداخلت نہ ہو۔

3۔ہرعور ت کا دودھ الگ الگ رکھا جائے۔4۔بچے اور خاندان کا مکمل ریکارڈ عورت کو مہیا کیا جائے۔5۔خاتون اور خاندان کا ریکارڈ بچے کے حوالے کیا جائے۔6۔ایک بچےکو ایک ہی عورت کا دودھ پلایا جائے تاکہ کم رضاعی رشتے ثابت ہوں۔ 7۔خالص ملک بنک (Milk Bank)کے مقصد کے لیے قائم کرنا جائز نہیں ہے۔

مفتی محمد ابراہیم قادری (رکن اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان)پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن اسلام آباد کے مراسلہ کے جواب میں متبادل طریقے بتاکر پھر ملک بنک کے قیام کی صورت میں دشواریوں کا ذکر کرتے ہیں کہ ملک بنک کے قیام میں خرید وفروخت ہوگی جوکہ عندالاحناف ناجائز ہے"ولایبع لبن امراة فی قدح"یہاں فی قدح دودھ بنک کا ایک جزئیہ ہے۔

دوسرا اس سے رضاعت کے رشتوں کے اختلاط واشتباہ کی وجہ سے شریعت کی بیان کردہ حرمت پامال ہوں گی۔"یحرم من الرضاعة ما یحرم من الولادة"

"المنظمة الاسلامية لعلوم الطبية" کویت کے اجلاس میں یہ بات بھی زیر بحث آئی کہ اگر اس کی اشد ضرورت پیش آجائے تو اس صورت میں کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں؟تو اس میں یہ طے ہوا کہ اول تو اس سے بچنے کی کوشش کی جائے اور دیگر متبادلات استعمال کیے جائیں لیکن اگر اس کا قیام ناگزیر ہوہی جائے تو دودھ عطیہ کرنے والی خاتون ،اس کے خاوند کا نام پیکٹ پر درج کیا جائے ،اور اس کے ساتھ وارننگ بھی لکھی جائے کہ اس طرح کی صورتحال سے بچیں کہ رضاعی محرمات کے درمیان نکاح ہو۔یہ ریکارڈ محفوظ رکھا جائے اور بوقت ضرورت اس سے مدد لی جائے تاکہ انساب میں شکوک و شبہات پیدا نہ ہوسکیں۔اور یہ بھی طے ہوا کہ یہ بنک اگر قائم کرنا ناگزیر ہوں تو صرف بچوں کے لیے ہی قائم کیے جائیں۔77

"المجلس الاوربی للافتاء والبحوث" نے البتہ باقی سب مجامع سے مختلف نقطہ اختیار کیا اور اپنی قرارداد نمبر(12-3)منظورکی جس میں یہ کہاگیا کہ بوقت ضرورت ملک بنک کے دودھ سے انتفاع میں کوئی شرعی مانع نہیں ہے ،اور اس انتفاع کے نتیجے میں تحریم رضاعت کے احکام مرتب نہیں ہوتے ،کیونکہ نہ تو اس میں عدد رضعات کی معرفت ہے ،نہ ہی مرضعہ کی صحیح معرفت ہے مزید برآں یہ مختلط دودھ ہے۔78

نتائج

اصل رضاعت میں جو علت حرمت حدیث شریف سے ثابت ہوتی ہے وہ ایسی رضاعت سے تحریم کا ثبوت ہے جس سے گوشت بنے اور ہڈی مضبوط ہو ،اور یہ علت ملک بنک (Milk Bank)کے دودھ میں بھی پائی جاتی ہے اور ائمہ کے فتاویٰ واضح ہیں کہ احناف کے ہاں ایک رضعہ سے اور شوافع کے ہاں پانچ رضعات سے تحریم واقع ہوجاتی ہے ۔اسلامی ممالک میں جبکہ رضاعت کا رواج موجود ہے اس کی بہت زیادہ طبی ضرورت بھی نہیں ہے ۔میڈیکل سائنس نے بھی ماوں کے دودھ کی عدم دستیابی کی صورت میں یا عدم توافق کی صورت میں اس کے مناسب متبادلات پیش کیے ہیں جو کہ جواز کی حدود میں بھی آتے ہیں اور سہل الوصول اور سہل الحصول بھی ہیں۔انفیکشن کے خطرات بھی اس کے عدم قیام سے کم ہوں گے ،اور یہ پستان سے دودھ پلانے کے قائم مقام نہیں ہے۔انسانی جسم سے باہر نکلنے کے بعد دودھ میں بیکٹریا کی وجہ سے تخریبی عمل شروع ہوجاتا ہے جس سے اس کے غذائی اجزاء ضائع ہوجاتے ہیں ۔اس کے علاوہ معاشرتی طور پر غریب خاندانوں کی عورتو ں میں دودھ کی تجارت رواج پانے کاخطرہ ہے جو ایک طرف تو تکریم انسانیت کے خلاف ہے اور دوسری طرف خود ان ماوں کے اپنے بچے دودھ جیسی بنیادی ضرورت سے محروم رہ جائیں گے۔مغربی ممالک میں بھی اطباء بالخصوص جو ملک بنک کی صنعت سے یا بچوں کے علاج معالجہ سے منسلک ہیں ،اس وقت ملک بنک کے محفوظ شدہ دودھ سے زیادہ ترجیح Wet Nursing کو دے رہے ہیں،جو کی در حقیقت اسلامی ممالک میں رائج رضاعت ہی کی دوسری شکل ہے،اس کا حساب تحریم رضاعت کے امور میں رکھنا آسان ہے۔اور صدیوں سے اسلامی ممالک میں مروج ہے ۔ان بنکوں کے قیام اور انہیں برقرار رکھنے پرایک خطیر سرمایہ درکار ہے ،جوکہ اگرچہ انسانی جان کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا لیکن اکثر اسلامی ممالک اس سرمایہ کو خرچ کیے بغیر رضاعت کے طریقہ سے استفادہ کرسکتے ہیں۔سب سے بڑھ کر ہماری مذہبی روایات اور اعتقادات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ خواہ مخواہ رضاعی رشتوں کے تقدس کی پامالی کی طرف قدم بڑھایا جائے جبکہ اس کے متبادل حل موجودہیں۔نصوص شرعیہ اس بارے میں واضح ہیں حدود اللہ سے تجاوزکرنا کسی صورت میں بھی مستحسن نہیں ہے۔رضاعت سے تحریم پر ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے امام ابن حزم ظاہری کا موقف اس بارے میں جمہور کی رائے کے مخالف ہے اس لئے اس کو اختیار کرکے امت مسلمہ میں افتراق و انتشار کا دروازہ بلا وجہ نہ کھولا جائے ۔ہمارے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ اہل مغرب اگر گوہ کے بل میں گھسیں تو ہم بھی وہیں گھسیں ،ان کی ہربات میں پیروی کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ اپنے کلچر،اپنے مذۃب اور عقیدہ کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔خواہ مخواہ جدت کے نام پر حدوداللہ میں دخل اندازی کرنا کوئی مستحسن اقدام نہیں ہےبلکہ کوشش کرنی چاہئےکہ اس طرح کی صورتحال سے بچا جائے۔لیکن مغربی ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کو بھی ان کے حال پر نہیں چھوڑا جاسکتا،وہاں واقعتا یہ مسئلہ عموم البلویٰ کے درجہ میں آتا ہےتو وہاں کے علماءاس کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں اس لیے وہاں اس کے مطابق ان کافتویٰ موجود ہے۔اسلامی ممالک میں ویسے بھی فتاوی ٰ میں تنوع اور لچک موجود ہے،یہاں بھی دیگرممالک سے مختلف فتویٰ قابل عمل ہوسکتا ہےجبکہ بالخصوص شک سے عدم رضاعت کے بارے میں تصریحات فقہاء کے ہاں موجود ہیں جوکہ متفق علیہ بھی ہیں اور مغربی ممالک میں دودھ عطیہ کرنے والی کے نام کوصیغہ راز میں رکھنے کے قانون کے باعث یہ ایک اضطراری شک ہے ، جس کا فائدہ بچوں کو دیا جاسکتا ہے۔اس لیے بہتر یہی ہے کہ حتی الوسع رضاعت کو فروغ دیا جائے اور مغرب میں مسلمان اپنے اندر اتحاد پیداکرکے اپنے اس قسم کے بچوں کے لیے Nurses Wet کا انتظام کریں،اگر حالات زیادہ ہی خراب ہوجائیں تو صرف یورپ کے مسلمان مجلس اوربی کے فتاو یٰ سے استفادہ کرسکتے ہیں،دیگر مسلمانوں کے لیے اس فتویٰ سے استفادہ کرنےکی گنجائش نہیں ہونی چاہئے کیونکہ صحیح فیصلہ وہی ہے جس پر مجلس اوربی کے علاوہ باقی تمام مجامع متفق ہیں۔

حوالہ جات وحواشی

  1. مائدہ:۳
  2. دارالافتاء المصریة ،فتاوی ٰدارا لافتاء المصریة ،۲۔۱۴۶
  3. مالک بن انس المدنی (المتوفی :۱۷۹ھ)موطا الامام مالک ،موسسة الرسالة،۱۴۱۲ھ ۲۔۷ رقم الحدیث ۱۷۳۸
  4. ابوالحسن علی بن احمد الصعیدی العدوی (المتوفی :۱۱۸۹ھ)،حاشیة العدوی علی شرح کفایة الطالب الربانی ،دارالفکر بیروت ،۱۴۱۴ھ۔۱۹۹۴م ،۲۔۱۱۵
  5. النساء :۲۳
  6. سعید بن منصور بن شعبة الخراسانی الجوزجانی (المتوفی :۲۲۷ھ)سنن سعید بن منصور ،الدارالسلفیه الهند،الاولی ۔۱۴۰۳ھ۔۱۹۸۲م،۱۔۲۷۸ رقم الحدیث ۹۷۱
  7. موطا الامام مالک ۲۔۷ رقم الحدیث ۱۷۳۸
  8. موطا مالک بروایة محمد بن الحسن الشیبانی ،المکتبة العلمیة ،الثانیة ،۱۔۲۲۱ رقم الحدیث ۶۲۷
  9. تقی الدین الشافعی ،ابوبکر بن محمد بن عبدالمومن ،(المتوفی :۸۲۹ھ)کفایة الاخیار فی حل غایة الاختصار ،دارالخیر دمشق ،الاولی ٰ،۱۹۹۴،۱۔۴۳۴
  10. ابوالقاسم عمر بن الحسین بن عبدالله الخرقی (المتوفی :۳۳۴ھ)متن الخرقی علی مذهب ابی عبدالله احمد بن حنبل الشیبانی ،دارالصحابة للتراث ،۱۴۱۳ھ۔۱۹۹۳م،۱۔۱۱۹
  11. ۔د۔عبدالتواب مصطفی ٰ خالد معوض ،بنوک الحلیب فی ضوء الشریعة الاسلامیة ۔دراسة فقهیة
  12. ابواسحاق ابراهیم بن علی بن یوسف الشیرازی (المتوفی :۴۷۶ھ)المهذب فی فقه الامام الشافعی ،دارالکتب العلمیة،۳۔۱۴۲
  13. المهذب فی فقه الامام الشافعی ،دارالکتب العلمیة ۔۳،۱۴۲
  14. ابوبکر البیهقی،احمد بن الحسین بن علی (المتوفی :۴۵۸ھ)معرفة السنن والآثار،جامعة الدراسات الاسلامیة (کراتشی ۔باکستان)الاولیٰ ۱۴۱۲ھ۔۱۹۹۱م، ۱۔۵۵۸،رقم الحدیث ۱۵۴۵۱
  15. معرفة السنن والآثار ،۱۱۔۲۵۹،رقم الحدیث ۱۵۴۵۶
  16. المغنی لابن قدامة ،۸۔۱۷۳ا
  17. شمس الائمه السرخسی ،محمد بن احمد بن ابی سهل (المتوفی :۴۸۳ھ)،المبسوط،دار المعرفة بیروت۔ ۱۴۱۴ھ۔۱۹۹۳ م،۵۔۱۳۴
  18. المدونة ،۴۔۲۹۵
  19. کفایة الاخیار فی حل غایة الاختصار ،۱۔۴۳۵
  20. متن الخرقی ،۱۔۱۱۹
  21. ۔د۔ عبدالتواب مصطفی ٰ خالد معوض ،بنوک الحلیب فی ضوء الشریعة الاسلامیة ۔دراسة فقهیة
  22. المغنی لابن قدامة،۸۔۱۷۳
  23. المدونة ،۴۔۲۹۵
  24. ابومحمد موفق الدین عبدالله بن احمد بن محمد بن قدامة الجماعیلی المقدسی ثم الدمشقی الحنبلی،الشهیر بابن قدامة المقدسی (المتوفی:۶۲۰ھ)الکافی فی فقه الامام احمد،دارالکتب العلمیة ،الاولیٰ، ۱۴۱۴ھ۔۱۹۹۴م، ۳،۲۲۱
  25. کفایة الاخیار فی حل غایة الاختصار ،۱۔۴۳۵
  26. المبسوط ۵۔۱۳۵
  27. ابومحمد موفق الدین عبدالله بن احمد بن محمد بن قدامة الجماعیلی المقدسی ثم الدمشقی الحنبلی ،الشهیر بابن قدامة المقدسی (المتوفی:۶۲۰ھ)الکافی فی فقه الامام احمد، دارالکتب العلمیة، الاولیٰ ،۱۴۱۴ھ۔ ۱۹۹۴ م،۳۔۲۲۱
  28. کفایة الاخیار فی حل الاختصار،۱۔۴۳۵
  29. المبسوط ۵۔۱۳۵
  30. حاشیه مسند الامام احمد بن حنبل ،طبعه موسسة الرسالة،۷۔۱۸۶
  31. ابومحمد علی بن احمدبن سعید بن حزم الاندلسی القرطبی الظاهری (المتوفی :۴۵۶ھ)،المحلی بالآثار، دارالفکر بیروت ،۱۰۔۱۸۵
  32. النساء:۲۳
  33. سنن ابن ماجه،۱۔۶۲۳ رقم الحدیث ۱۹۳۸،موطا مالک بروایة محمد بن الحسن الشیبانی ،۱۔۲۱۱ رقم الحدیث ۶۲۷،سنن ترمذی ،۲۔۴۴۳ رقم الحدیث ۱۴۴۶،سنن ابی داود ،۲۔۲۲۱ ،صحیح مسلم ،۲۔۱۰۷۱ رقم الحدیث ۱۴۴۷
  34. المحلی بالآثار ۱۰۔۱۸۵
  35. مجلة مجمع الفقه الاسلامی التابع لمنظمة الموتمر الاسلامی بجدة،۲۔۲۸۲
  36. محمد بن احمد بن ابی احمد ،ابوبکر علاء الدین السمرقندی (المتوفی :نحو ۵۴۰ھ)،تحفة الفقهاء ،دارالکتب العلمیة، بیروت لبنان،الثانیة،۱۴۱۴ھ۔۱۹۹۴م ،۲۔۲۳۹
  37. عبدالله بن محمود بن مودود الموصلی البلدحی، مجدالدین ابو الفضل الحنفی (المتوفی :۶۸۳ھ)الاختیار لتعلیل المختار ،مطبعة الحلبی ۔القاهرة ،۱۳۵۶ھ۔۱۹۳۷م،۳۔۱۱۹
  38. المبسوط،۵۔۱۳۳
  39. المدونة ۲۔۳۰۳
  40. کفایة الاخیار فی حل الاختصار،۱۔۴۳۵
  41. احمد بن محمد بن علی بن حجر الهیتمی ،تحفة المحتاج فی شرح المنهاج ،المکتبة التجاریة الکبریٰ بمصر لصاحبها مصطفی محمد،۱۳۵۷ھ۔۱۹۸۳م،۸۔۲۸۶
  42. کفایة الاخیار فی حل الاختصار۱۔۴۳۵
  43. المغنی لابن قدامة ۸۔۱۷۲
  44. المهذب فی فقه الامام الشافعی ،۳۔۱۴۶
  45. محمد بن احمد بن محمد علیش، ابوعبدالله المالکی (المتوفی :۱۲۹۹ھ)منح الجلیل شرح مختصر خلیل ،دارالفکر بیروت، ۱۴۰۹ھ۔۱۹۸۹م،۴۔۳۷۳
  46. المغنی لابن قدامة ۸۔۱۷۲
  47. اسماعیل بن یحیی بن اسماعیل، ابو ابراهیم المزنی (المتوفی :۲۶۴ھ)مختصرالمزنی (مطبوع ملحقا بالام للشافعی)، دارالمعرفة بیروت،۱۴۱۰ھ۔۱۹۹۰م ،۸۔۳۳۴
  48. الاختیار لتعلیل المختار ،۳۔۱۲۰
  49. المغنی لابن قدامة ۸۔۱۷۲
  50. عبدالتواب مصطفی خالد معوض، بنوک الحلیب فی ضوء الشریعة الاسلامیة ۔دراسة فقهیة مقارنة من موقع
  51. مجلة مجمع الفقه الاسلامی التابع لمنظمة الموتمر الاسلامی بجدۃ ۔۲۔۲۸۲
  52. صحیح البخاری ،دار طوق النجاۃ ،الاولی ٰ،۱۴۲۲ھ، ۸۔۱۶۰ رقم الحدیث ۶۷۸۶
  53. ابن صلاحظ عثمان بن عبدالرحمٰن، (المتوفی :۶۴۳ھ)، ادب المفتی والمستفتی، مکتبة العلوم والحکم ۔المدینة المنورۃ ،الثانیۃ ۱۴۲۳ھ۔۲۰۰۲م،۱۔۱۱۲
  54. یونس:۳۶
  55. ابو عبدالله احمدبن محمد بن حنبل بن هلال بن اسد الشیبانی (المتوفی :۲۴۱ھ)، مسندا لامام احمد بن حنبل، موسسة الرسالة ،الاولٰی ،۱۴۲۱ھ۔۲۰۰۱م،۴۔۱۷ رقم الحدیث ۲۱۰۸
  56. صحیح البخاری ۔۸۔۳۰ رقم الحدیث ۶۱۲۸
  57. البقرۃ ۱۴۳
  58. المجلس الاوربی للافتاء والبحوث، یص ۱۲
  59. عبدالله بن یوسف بن عیسیٰ بن یعقوب الیعقوب الجدیع العنزی، تیسیر علم اصول الفقه، موسسة الریان للطباعة والنشر والتوزیع، بیروت لبنان، الاولیٰ ،۱۴۱۸ھ۔۱۹۹۷م ،۱۔۶۳
  60. ندوۃ الانجاب فی ضوء الاسلام ،المنعقدۃ بالکویت ۸۔۱۱۔۱۴۰۳ھ(۲۴۔۵۔۱۹۸۳م) باشراف وتقدیم، عبدالرحمٰن، رئیس المنظمة الاسلامیة للعلوم الطبیة الکویتی صفحة ص ۴۶۰
  61. ندوۃ الانجاب فی ضوء الاسلام ،ص ۴۶۱
  62. ندوۃ الانجاب فی ضوء الاسلام ص ۴۶۱۔۴۶۲
  63. مقالا دکتور محمد علی البار، بنوک الحلیب ،مجلة مجمع الفقه الاسلامی التابع لمنظمة الموتمر الاسلامی بجدۃ، ۲۔۲۶۴
  64. اخبار،الاهرام ۲۳۔۸۔۱۹۸۳م تا ۲۹۔۸۔۱۹۸۳م
  65. ندوۃ الانجاب فی ضوء الاسلام ص ۴۶۶
  66. النساء ۲۳
  67. ندوۃ الانجاب فی ضوء الاسلام ،ص ۴۶۶
  68. مجلة مجمع الفقه الاسلامی ۔۲۔۲۸۲
  69. الطلاق ۶
  70. المبسوط ۱۵۔۱۱۸
  71. مجلة مجمع الفقه الاسلامی بجدۃ ۲۔۲۸۱
  72. مجلة مجمع الفقه الاسلامی بجدۃ ۲۔۲۷۷
  73. http//:www.bupa.co.uk/individuals/health-information/directory/b/breast feeding(20/01/2015,,12:10 AM)
  74. مجلة مجمع الفقه الاسلامی ج ۱۔ص ۴۱۴ تا ۴۲۳
  75. مجلة مجمع الفقه الاسلامی بجدۃ ،۲۔۲۵۹
  76. ابن سعد ،ابو عبدالله محمد بن سعد بن منیع (المتوفی :۲۳۰ھ)الطبقات الکبری،دارالکتب العلمیة بیروت، الاولیٰ ،۱۴۱۰ھ۔۱۹۹۰م ۳۔۶۳
  77. http//:www.islamset.net/Arabic/aioms/injazat.html(26/10/2015:10:00 AM)
  78. الدورۃالعادیة الثانیۃ عشرۃ للمجلس الاوربی للافتاء والبحوث المنعقدۃ فی مقرہ بدبلن فی الفترۃ من ۱۰۶ ذی القعدۃ ۱۴۲۴ھ الموافق ۳۱۔۱۲۔۲۰۰۳، ینایر ۲۰۰۴ ،القرار رقم (۱۲۔۳)بشان انتفاع الاطفال من لبن بنوک الحلیب القائمة فی البلاد العربیة