Playstore.png

اشیاء خورد و نوش و ادویہ میں جلاٹین کے استعمال کا طریقہ کار اور اس کا شرعی جائزہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ الایضاح
عنوان اشیاء خورد و نوش و ادویہ میں جلاٹین کے استعمال کا طریقہ کار اور اس کا شرعی جائزہ
انگریزی عنوان
The Use of Gelatin in Food Products & Medicines: its Status in the Islamic Sharia
مصنف خان، ابظاہر، ثناء اللہ
جلد 32
شمارہ 1
سال 2016
صفحات 156-166
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
شکاگو 16 خان، ابظاہر، ثناء اللہ۔ "اشیاء خورد و نوش و ادویہ میں جلاٹین کے استعمال کا طریقہ کار اور اس کا شرعی جائزہ۔" الایضاح 32, شمارہ۔ 1 (2016)۔
عصرحاضر کے تقاضوں کے تناظر میں جامعات دینیہ کا قضیہ: عملی تجاویز
طبی میدان عمل میں ضرورت کی بنیاد پر رخصت کا اطلاق
تعلیمی نظام کی اصلاح کے بارے میں امام بخاری کا نظریہ
فلسفہ احکام میراث
ریاست کے اداراتی مقاصد کے تناظر میں نظریہ انفرادیت اور اجتماعیت پسندی
ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا: احوال و خدمات کا تحقیقی مطالعہ
شریعت اسلامی میں رسم و رواج کے ساتھ تعامل کا جائزہ: مختلف اسلامی ادوار کی روشنی میں
تفسیر قرآن میں ام المؤمنین سیدۃ عائشه کا مقام
اشیاء خورد و نوش و ادویہ میں جلاٹین کے استعمال کا طریقہ کار اور اس کا شرعی جائزہ
عقیدہ تناسخ اور عہد الست میں فرق کے حوالے سے امام رازی کے موقف کا جائزہ
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مروجہ پاکستانی ٹریفک قوانین کی پاسداری کی اہمیت
أعلام النثر العربي في شبه القارة الهندية
موقف محمود سامي البارودي ومحمد إقبال من السياسة: دراسة تحليلية وموازنة
المحاسن البلاغية والأدبية في الأحاديث النبوية في كتاب الفرائض
المحكم والمتشابه وموقف المفسر منهما
الجملة المعترضة فى القرآن الكريم: دراسة بلاغية
The Analytical Study of Well Thought-Out Legitimate Pakhtun’s Trends Regarding Marriage Binding Shariah Perspective
Lunar Calendar and Ramadan Effect on Islamic Mutual Funds Performance in Pakistan
Concept of Peace and Harmony in the Buddhism amd Islam: A Comparative Study
Social Media and Cyber-Jihad in Pakistan
Economic Facilities for Non-Muslims in a Muslim Country in the Light of Quran and Sunnah
A Proposed Islamic Microfinance Impact Assessment Methodology
Relationship Between Quality Culture and Organizational Performance With Mediating Effect of Competitive Advantage
Allama Sahabbir Ahmed Uthmani’s Efforts for Islamization in Pakistan
Time Management in Islam
Muslim-Christian Relationship in the Context of Status of Prophet Muhammad SAW

Abstract

Gelatin is a translucent, colorless, brittle, flavorless foodstuff, derived from collagen obtained from various animal by-products. Gelatin obtained from plants, fish or from the hides of animals lawfully slaughtered is pure, sacred and lawful. Since bones of carrion animals are pure and sacred, so gelatin obtained from them is lawful as well. Gelatin obtained from pigs is impure and unlawful. In this article, the methodology of using gelatin in foodstuffs and medicines is being discussed and its religious and lawful status is being elaborated.

تمہید:

اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بے شمار چیزیں پیدا کی ہیں ان میں کچھ چیزیں پاک ہیں اور کچھ ناپاک ، کچھ انسانوں کے لیے حلال ہیں اور کچھ حرام، اس تقسیم کے پیچھے اللہ کی بے پناہ حکمتیں پوشیدہ ہیں اگر غور کیا جائے تو اس میں دو چیزیں بنیادی طور پر ملحوظ رکھی گئیں: "پاکیزگی اور نافعیت "وہ چیز انسان کے لیے حلال ہے جو اپنی حققیت کے لحاظ سے پاک اور اپنے وصف کے لحاظ سے نفع بخش ہو اور ہر اس چیز کو ممنوع قرار دیا گیا جو اپنی حقیقت کے لحاظ سے ناپاک اور وصف کے لحاظ سے مضرت رساں ہو۔

عالم رنگ وبو کا نظام انقلاب پر مبنی ہے اور اسی میں اس دنیا کی بقاء کا راز مضمر ہے،ہر روز نت نئے تغیرات وقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں، اور ان تغیرات کا اثر اشیاء پر بھی ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایک پاک چیز کسی ناپاک چیز کے ملنے سے ناپاک ہوجاتی ہے، بسا اوقات کوئی چیز نفع بخش متصور ہوتی ہے، مگر بعد میں کسی تبدیلی کی وجہ سے وہ نقصان دہ ہوجاتی ہے، اس تغیر کا شرعی حکم پر کیا اثر پڑے گا؟ کیا شرعی طور پر اس کا استعمال جائز ہوگا؟

آج کل عام طور سے دواؤں جیلی ، آئسکریم چاکلیٹوں ، ٹافىوں اور کھانے پینے کی بہت سی اشیاء میں استعمال ہونے والی خمیرہ (Gelatin) کا کثرت سے استعمال ہوتاہے، اس میں گائے کی کھال یا ہڈی استعمال ہوتی ہے، جب کہ بسااوقات یہ نباتات اور دوسری زرعی پیداوار سےحاصل کیا جاتا ہے، مغربی ممالک میں تیار کیا جانے والا جلاٹین اکثر سؤر کی کھال یا دوسری حرام چیزوں سے حاصل کیا جاتاہے، جب جلاٹین سؤر کی کھال یا ہڈی سے بناىا جاتا ہے، تو شرعی نقطہ ٔنظر سے اس کے جواز کی کوئی ظاہری صورت نظر نہیں آتی، جب تک یہ یقین دہانی نہ کرائی جائے کہ اس کو کسی ایسے عمل سے گزارا گىا ہے کہ سؤر کی کھال یا ہڈی کی ماہیت بدل گئی ہے، جس کو انقلاب ماہیت کہا جاتاہے۔

زیادہ تر دنیا میں وہی چیز پھیلی ہوئی ہے جو مغربی ملکوں میں بنتی ہے اور وہ بسا اوقات سؤر کی ہڈی یا کھال سے بناتے ہیں اور بعض دوسری مردار جانوروں کی کھال سے بنائى جاتى ہیں۔ دراصل اس میں حکم کا دارو مدار اس پر ہے کہ اگر وہ سؤر سے بنائی گئی ہے تو اس کے حلال ہونے کا اس وقت تک کوئی راستہ نہیں جب تک یہ ثابت نہ ہوجائے کہ سؤر کی کھال یا ہڈی میں کوئی ایسا عمل کیا گیا ہے جس کے ذریعے اس کی حقیقت تبدیل ہوگئی ہو، انقلاب ماہیت ہوگیا ہو۔

اگر انقلاب ماہیت ہوگیا ہو تو حلال ہوجائے گا ورنہ سؤر نجس العین ہے اور نجس العین حرام لعینہ ہے۔ لہذا اس کو کسی طرح بھی دھوکر پاک کرکے استعمال نہیں کیا جا سکتا ہاں اگر اس میں انقلاب ماہیت ہوگیا تو پھر پاک ہے۔ سب سے پہلے اس لئے انقلاب ماہیت کی تعریف،جلٹین بنانے کے مرحلوں کا پس منظر کا تعارف، دباغت کی تعریف اور اس کا طریقہ کارسمجھنا ضروری ہے، تاکہ اس کا شرعی حکم واضح ہوجائے۔

انقلاب ماہیت کی تعریف:

انقلاب کا معنی پلٹ دینا، اوپر کا نیچے کر دینا، اندر کا باہر کر دینا، پھیردینا، لوٹا دینا ہے، یہ باب انفعال سے ماخوذ ہے لازم ہوتا ہے، تو انقلاب کا لغوی معنی ہوا واپس ہونا، اوندھا نا، پلٹناوغیرہ[1]

جب کہ غیر معمولی تغیر کے نتیجے میں کسی چیز کے بنیادی عناصر اپنے زیادہ اجزاء کی حقیقت ختم کرکے دوسرا نام اختیار کریں، تو فقہاء کی اصطلاح میں ایسے عمل کو انقلاب حقیقت کہا جاتا ہے۔

اس تعریف کا خلاصہ یہ ہوا کہ کوئی شئ اپنی حقیقت اورپرانی شکل چھوڑ کر دوسری صورت اختیار کرکے نیا روپ دھار لیں، تو اسے انقلاب حقیقت یا استحالۃ کہا جاتاہے۔[2]علامہ شامیؒ[3] نے انقلا ب عین سے طہارت کے حاصل ہونے کے بارے میں کہا ہے، کہ شراب اپنی حقیقت کھو کر سرکہ بن جائے یا گندگی راکھ ہوجائے تو یہ ایک حقیقت کا دوسرا روپ ہے جو پہلے سے حکم میں یکسر مختلف ہے۔[4]

جلاٹین بنانے اجمالی تعارف:

جلاٹین جانوروں کی کھالوں اور ہڈیوں سے بنایا جاتاہے جب وہ گرم پانی میں ابالا جائے نیز اس مرحلے سے پہلےکھالوں اورہڈیوں کا الکلائی یعنی چونا یا تیزاب کی کاروائی سے گزارا جاتاہے اور پھر ان کو ٹھنڈے پانی سے صاف کیا جاتاہے۔[5]

اس سے ثابت ہوا کہ جلاٹین بنانے کے دو بنیادی مرحلے ہیں ایک الکلائی یا تیزاب کی کیمیائی کاروائی سے کھال کی صفائی کروانا اور دوسرا کھال کو پانی میں ابال کر جلاٹین حاصل کرنا۔ نیز الکلائی کے طریقہ کو لائمنگLiming) بھی کہا جاتاہے، کیونکہ اس میں چونے کا مادہ استعمال کیا جاتاہے۔

جلاٹین کے متعلق تفصیل یہ ہےکہ :

۱:۔اگرجلاٹین نباتات،مچھلیوں یا شرعی طریقہ سے ذبح شدہ حلال جانوروں کی کھال اور ہڈیوں سے حاصل کی گئی ہو تو یہ پاک بھی ہے اور حلال بھی،لہٰذا اس کا بیرونی استعمال اور کھانا دونوں جائز ہیں۔

۲:۔اگر جلاٹین حرام جانوروں یا حلال مگر غیرشرعی طریقہ سے ذبح شدہ جانوروں سے حاصل کی گئی ہو تو چونکہ مردار جانور کی ہڈیاں پاک ہیں،اسی طرح کھال بھی دباغت کے بعد پاک ہوجاتی ہے لہٰذا اس سے حاصل کی جانے والی جلاٹین پاک تو ہے لیکن حلال نہیں یعنی اس کا بیرونی استعمال تو جائز ہے لیکن کھانے وغیرہ میں استعمال جائز نہیں۔[6]

۳:۔اگر جلاٹین خنزیر کی کھال یا ہڈیوں سے حاصل کی گئی ہو تو وہ نجس اور حرام ہے،اس کا استعمال کسی طور سے جائز نہیں۔[7]

یہ حکم تو عام خوردنی اشیاء میں استعمال ہونے والی جلاٹین کا ہے،دواؤں میں استعمال ہونےوالی جلاٹین پر تداوی بالمحرم (حرام اشیاء سے علاج کرنا( کے احکام جاری ہوں گے۔

جس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر کوئی ماہر ڈاکٹر ایسی دوا تجویز کرے جس میں غیر حلال جلاٹین استعمال کی گئی ہو تو اگر اس بیماری کی کوئی اور حلال دوا میسر نہ ہو،اور اس دوا کے استعمال کے بغیر اس مرض سے صحت کی امید نہ ہو تو ایسی صورت میں اس دوا کے استعمال کی گنجائش ہے اور اگر ایسی مجبوری کی صورت نہ ہو تو اس کیلئے غیر حلال جلاٹین والی دوا کا استعمال جائز نہیں،اور اس جواز کی صورت میں بھی یہ کوشش ضروری ہے کہ خنزیر سے بنی ہوئی جلاٹین کے استعمال سے اجتناب کىا جائے۔

مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق کسی کمپنی میں اگر جلاٹین کیپسول بغىر مذبوحہ گائے اور بھینس کی ہڈیوں سے حاصل کئے جاتے ہیں تو ان کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ شرعاً غیر مذبوحہ جانور کی ہڈی پاک ہے جبکہ وہ خشک ہو،نیز ماہرینِ فن کے نزدیک جلاٹین بنانے کیلئے ہڈی کو مختلف کیمیائی اور دیگر کاروائیوں سے گزارا جاتا ہے جس کے نتیجے میں ہڈی سے خون،چربی ،گودا اور کھال وغیرہ الگ کی جاتی ہے،نیز ہڈی بھی خشک کی جاتی ہے،تاکہ اس سے حاصل شدہ جلاٹین خالص ہو۔

مزید یہ کہ مذکورہ ہڈیوں کی مکمل صفائی کروانا اور خشک کرنا بین الاقوامی قوانین کے مطابق ضروری ہے اور اس کے بغیر مذکورہ جلاٹین بیچنے کے لائسنس جاری نہیں کئے جاتے۔

اگرکھال کو کیمیائی کاروائی سےگزارنے اورجلاٹین بننے سے پہلے ایسا صاف کیا جائے کہ وہ خون، چربی اور دیگر رطوبتوں سے مکمل پاک ہو جائے اوروہ کھال دوبارہ خراب نہ ہو، تو اس صورت میں مذکورہ کھال دباغت شدہ سمجھی جائے گی، جس کا حکم یہ ہے کہ وہ طاہر تو ہے، لیکن اس کا کھانا جمہور علماء کے نزدیک حلال نہیں، البتہ دباغت شدہ کھال چونکہ پاک ہوتاہے، اس لئے اس کا استعمال یعنی کھانا بھی حلال ہے، لہٰذا مذکورہ کھال سے حاصل شدہ جلاٹین بھی حلال ہوگی۔

تا ہم یہ مذکورہ تفصیل حلال (مأکول اللحم) جانور کی کھال کے بارے میں ہے، کیونکہ مردار (غیرمأکول اللحم) جانور کی کھال کا کھانا بالإجماع ناجائز ہے۔

مذکورہ کھال سے حاصل شدہ جلاٹین پاک تو ہے، مگرکھانے کیلئے حلال نہیں، البتہ اگر عمومِ بلویٰ یا ضرورت مثلاً تداوی کیلئے بعض حنفیہ و شافعیہ کےنزدیک اس کی گنجائش ہے، خصوصاً اگر مذبوحہ جانور کی کھال یا دوسرے جائز اور حلال ذرائع سے حاصل شدہ جلاٹین دستیاب نہ ہو، اور جلاٹین کا بہت معمولی حصہ کھانے پینے کی اشیاء میں استعمال ہو۔

لہٰذا اگر کسی کمپنی کے جلاٹین کیپسول خشک ہڈیوں کے کلوجن سے ہی بنائے گئے ہوں، جیسا کہ مذکورہ بالا تفصیل سے معلوم ہوتا ہے، اور ایسی کھالوں سے بنائے گئے ہوں جن کی مکمل صفائی مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق کی گئی ہو ،تو اس صورت میں مذکورہ کمپنی کے جلاٹین کیپسول دوائی کیلئے استعمال کرنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔

دباغت کی تعریف:

فقہاء کرام نے دباغت کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے، دباغت حقیقی اور دباغت حکمی۔

دباغت حقیقی اس کو کہا جاتاہے جس میں کسی قیمتی مواد کے ذریعہ کھال کی تمام رطوبات اس طرح ختم کی جائیں کہ اس کے بعد کھال خراب نہ ہو جب کہ دباغت حکمی میں کوئی قیمتی مواد استعمال نہىں کیا جاتا، بلکہ ہوا، سورج اور مٹی کے ذریعہ کھال کو پاک اور صاف کیا جاتاہے۔[8] دونوں حقیقی اور حکمی دباغت اس وقت ہی حاصل ہوتی ہے جب کھال دوبارہ ہوا میں رکھنے سے خراب نہ ہو،[9] البتہ ان دونوں طریقوں میں ایک بنیادی فرق ہے اور وہ یہ کہ اگر کھال دوبارہ پانی میں رکھی جائے تو دباغت حقیقی میں کھال دوبارہ نجس نہیں ہوتی، جب کہ دباغت حکمی میں ،[10] علامہ ابن عابدین شامیؒ کے مطابق دوبارہ نجس نہ ہونا راجح ہے[11] اور یہی رائے فتاوی ہندیہ میں بھی ہے۔[12]

دباغت کا حکم:

آیا گائے اور دوسرے جانوروں کی کھال مذکورہ کیمیائی کاروائی کے نتیجے میں دباغت شدہ قرار دی جاسکتی ہے یا نہیں؟

جہاں تک کھال کی صفائی کے متعلق تحقیق کا تعلق ہے تو ماہرین فن کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ کھال کو تقریبا ایک دو مہینوں تک مسلسل صاف کیا جاتاہے جس کے نتیجے میں کھال سے خون، چربی اوردیگر رطوبات الگ کی جاتی ہىں اور خالص کھال باقی رہ جاتی ہے، چونکہ یہاں مذکورہ کھال کو صاف کرنے کے لیے لائمنگ (Liming) کے طریقہ کار پر عمل کیا جاتا ہے جس میں کیمیائی مواد بھی استعمال کئے جاتے ہیں، لہذا مکمل صفائی حاصل ہونے کے بعد اور سب رطوبات کے زائل ہونے پر یہ دباغت حقیقی شمار ہوگی، اس شرط کے ساتھ کہ وہ کھال دوبارہ خراب نہ ہو۔ اس لائمنگ(Liming)کے مرحلے کے بعد مذکورہ کھال کے کلوجن(Collagen)کے حصے سے بذریعہ ہاٹیڈرالس(Hydrolysis)ایک کیمیائی تغیر پیدا کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں جلاٹین حاصل ہوجاتی ہے۔

یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ لائمنگ (Liming) اکثر بیکٹریا (Bacteria)وغیرہ کے کھال میں پیدا ہونے کے لیے اس وقت تک مانع ہوتی ہے، جب کہ وہ پی ایچ (Ph)[13] دس(۱۰) سے زائد ہو، جیسا کہ مائیکرو بائیالوجی کی کتاب میں ىوں ذکر کیا گیا ہے:

“Most bacteria prefer neutral or slightly alkaline conditions and do not grow below Ph 3 and above ph 10”. [14]

ترجمہ: اکثر بیکٹیریا کو نیوٹرل ( یعنی Ph 7)یا الکلائی (Alkali) حالات کو ترجیح دیتی ہے، نیز وہ (۳) ph سے کم اور (۱۰) ph سے زائدہ (حالات میں ) نہیں پیدا ہوتی"۔

نیز یہ بات بھی واضح رہے کہ مذکورہ الکلائی کی کاروائی جس میں جلاٹین حاصل کرنے کے لیے لائمنگ کا طریقہ کار استعمال کیاجاتا ہے وہ ۱۲ph کے مطابق استعمال ہوتا ہے، جیسے انکپسولیشن ٹیکنالوجیز کی کتاب میں صراحت کی گئی ہے:

Two principle processes are distinguished, finally yielding two principally different types of gelatin type a gelatin by acid treatment (ph 1.5- 3.0) and type b by alkaline treatment (Ph 12) of collagen”.[15]

ترجمہ: دو بنیادی طریقہ کار ممتاز ہیں جس سے آخر میں بنیادی طور پر مختلف قسم کے جلاٹین حاصل کیے جاتے ہیں۔ ٹائپ A جس میں کالوجن کے ساتھ بذیعہ تیزاب ph 1.5 -3. 5)) اور ٹائپ B بذریعہ الکلائی( Ph12) استعمال کیا جاتا ہے۔

ماہرین فن کا کہنا ہے کہ کھال کے ساتھ جو کیمیائی مواد استعمال کیا جاتاہے اس کا پی ایچ ۱۲ یا ۱۳ ہوتا ہے ورنہ کھال کے بال زائل نہیں ہوں گے، جىسا کہ چمڑے کی سائنس کی کتاب میں ذکر کیا گیا ہے:

(liming) ….. for industrial processing conditions, the ph must be 12-13. If the ph is lower the unhearing chemistry does not work….[16]

ترجمہ: (لائمنگ) صنعتی کاروائی کے (صحیح کام کرنے کے) لئے ضروری ہے کہ پی ایچ ۱۲۔۱۳ ہو۔ اگر وہ اس سے کم ہو تو کیمیائی عمل جس سے (کھال کے) بال زائل ہوتے ہیں، واقع نہىں ہوگا۔

مذکورہ بالا تفصیل سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ گائے کی کھال کو دباغت شدہ قرار دینا درست ہے، کیونکہ وہ لائمنگ کے مرحلے میں کیمیائی مواد کی وجہ سے مکمل صاف ہوکر دوبارہ خراب نہیں ہوتی، کیونکہ مذکورہ کیمیائی مواد جراثیم کے قائم ہونے سے مانع ہیں۔

یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ اگر مذکورہ کھال کا دباغت شدہ ہونا تسلیم بھی کیا جائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ جو جلاٹین مذکورہ کھال سے حاصل کی گئی ہو وہ بھی خراب نہ ہو اور یہ مشاہدے کے خلاف ہے کیونکہ مذکورہ جلاٹین ہوا میں رکھنے سے خراب ہوجاتی ہے۔

لیکن اگر کیمیائی کاروائی کے بعد مذکورہ کھال مکمل صاف ہوجائے اور کوئی رطوبت باقی نہ رہے نیز وہ کھال خود دوبارہ خراب نہ ہو (اس سے قطع نظر کہ بعد میں اس سے حاصل شدہ جلاٹین خراب ہوجاتی ہو) تو اس صورت میں وہ کھال شرعاً پاک اور دباغت شدہ ہی سمجھی جائے گی، جس کی واضح دلیل یہ ہے کہ اگر پہلے سے دباغت شدہ کھال سے بھی جلاٹین حاصل کیا جائے، تو وقت گزرنے سے وہ بھی خراب ہوجاتی ہے۔ لہذا معلوم ہوا کہ جلاٹین کے خراب ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ کھال غیر دباغت شدہ ہے، بلکہ مدار یہ ہے کہ اصل کھال یعنی جلد دوبارہ خراب ہوتی ہے یا نہیں، اگر اصل کھال خود دوبارہ خراب نہ ہو تو اس کو دباغت شدہ ہی قرار دیا جائے گا۔

ہاں یہ بات اپنی جگہ برقرار ہے کہ مذکورہ جلاٹین کیوں خراب ہوجاتی ہے؟

اس کی حقیقت میں غور کرنے سے معلوم ہوا کہ اگر چہ کھال میں صفائی کرنے کی وجہ سے نجس رطوبات وغیرہ ایک مرتبہ مکمل زائل ہوجاتی ہے، لیکن لائمنگ کی صفائی کے مرحلے کے بعد کھال کو پھر گرم پانی میں ڈالا جاتا ہے اور یہاں پی ایچ کو تقریبا چار یا پانچ تک کم کیا جاتا ہے اور اس کھال سے جلاٹین کا مادہ بذریعہ ہائیڈرالس (hydrolysis)نکالا جاتا ہے۔

ظاہر ہے کہ یہاں گرم پانی کھال تک پہنچایا جاتا ہے جس کی بناء پر کھال میں دوبارہ رطوبات حاصل ہوتی ہیں اور لائمنگ کا اثر بھی زائل کیا گیا ہے جو بیکٹیریا (bacteria)وغیرہ کو پیدا ہونے کے لیے مانع تھا۔ لہذا اب کھال خراب ہوسکتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ گرم پانی سے حاصل شدہ نئی رطوبات مذکورہ جلاٹین کو خراب ہونے کا سبب ہے نہ کہ پہلے سے زائل شدہ نجس رطوبات بالفاط دیگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ مذکورہ نئی رطوبات ایک سبب جدید سے کھال میں داخل ہوتی ہے اور ان نئی رطوبات سے جلاٹین خراب ہوتی ہے۔[17]

واضح رہے کہ اگر دباغت شدہ کھال کو پانی میں دوبارہ تر کیا جائے تو اس کا حکم دوبارہ نجس ہونے کی طرف نہیں لوٹتا، جب تک کھال دباغت ِ حقیقی کے ذرىعے سے پہلے پاک کی گئی ہو، اور مذکورہ کیمیائی مواد استعمال کرنے سے حقیقی دباغت کا حکم پایا جاتاہے ۔ لہذا مذکورہ کھال سے جو جلاٹین حاصل کیا جاتاہے وہ پاک کھال سے ہی حاصل شدہ سمجھا جائے گا۔[18]

خلاصہ:

انقلاب کا لغوی معنی پلٹ دینا ہے، اور اصطلاح میں تغیر کے نتیجے میں کسی چیز کے بنیادی عناصر کا اپنے زیادہ اجزاء کی حقیقت ختم کرکے دوسرا نام اختیارکرنا ہے۔جلاٹین جانوروں کی کھالوں اور ہڈیوں سے بنایا جاتاہے جب وہ گرم پانی میں ابالا جائے۔ اگرجلاٹین نباتات،مچھلیوں یا شرعی طریقہ سے ذبح شدہ حلال جانوروں کی کھال اور ہڈیوں سے حاصل کی گئی ہو تو یہ پاک بھی ہے۔ اگر جلاٹین حرام جانوروں یا حلال مگر غیرشرعی طریقہ سے ذبح شدہ جانوروں سے حاصل کی گئی ہو تو چونکہ مردار جانور کی ہڈیاں پاک ہیں۔ اگر جلاٹین خنزیر کی کھال یا ہڈیوں سے حاصل کی گئی ہو تو وہ نجس اور حرام ہے۔دباغت حقیقی اس کو کہا جاتاہے جس میں کسی قیمتی مواد کے ذریعہ کھال کی تمام رطوبات اس طرح ختم کی جائیں کہ اس کے بعد کھال خراب نہ ہو جب کہ دباغت حکمی میں کوئی قیمتی مواد استعمال نہیں کیا جاتا، بلکہ ہوا، سورج اور مٹی کے ذریعہ کھال کو پاک اور صاف کیا جاتاہے۔اس طریقے سے گائے کی کھال کو دباغت دینے سے جب رطوبت ختم ہوجائے تو اس کا استعمال کرنا جائز ہے۔

حوالہ جات

  1. ()لسان العرب، ابن منظور الافریقی، مادة: حول، دارالکتب العلمية بیروت۔
  2. ()لما قال الشیخ حسین الحلی: الاستحالة هي تبدل حقيقة الشيئ وصورفه النوعية إلى صورة أخرى. دليل العروة الوثقى، الشيخ حسين الحلي، ص45، دار الكتب العلمية بيروت، بدون الطبع.
  3. ()محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز ابن عابدین، متاخرین فقہاء میں سب سے زیادہ منضبط کلام، منظم بیان، مقفیٰ ومسجع زبان والے فقیہ النفس بزرگ ہیں، جنہوں نے حاشیہ ابن عابدین کے نام سے مشہور کتاب لکھ ڈالی، جس سے کسی بھی مسلک کا فرد مستغنی نہیں۔ ۱۲۵۲ھ کو فوت ہوئے۔ طبقات النسابین، بکر بن عبداللہ، رقم: ۴۶۳، ج۱ص۱۸۵، دارالرشد ریاض طبع اول: ۱۴۰۷ھ/۱۹۸۷م۔
  4. ()حاشية ابن عابدين،محمد امین بن عمر ابن عابدین۔ ج1ص191.دار الفکر بیروت، الطبعةالثانیة: 1992م/ 1412هـ۔
  5. ()انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا(۲۰۰۲)ج۵،ص۱۶۵۔
  6. ()قال محمد رحمه الله تعالى ولا بأس بالتداوي بالعظم إذا كان عظم شاة أو بقرة أو بعير أو فرس أو غيره من الدواب إلا عظم الخنزير والآدمي فإنه يكره التداوي بهما فقد جوز التداوي بعظم ما سوى الخنزير والآدمي من الحيوانات مطلقا من غير فصل بينما إذا كان الحيوان ذكيا أو ميتا وبينما إذا كان العظم رطبا أو يابسا وما ذكر من الجواب يجري على إطلاقه إذا كان الحيوان ذكيا لأن عظمه طاهر رطبا كان أو يابسا يجوز الانتفاع به جميع أنواع الانتفاعات رطبا كان أو يابسا فيجوز التداوي به على كل حال وأما إذا كان الحيوان ميتا فإنما يجوز الانتفاع بعظمه إذا كان يابسا ولا يجوز الانتفاع إذا كان رطبا الفتاوى الهندية:(5/354)
  7. () فالحاصل: أن عظم ما سوى الخنزير والآدمي من الحيوانات، إذا كان الحيوان ذكاة إنه طاهر سواء كان العظم رطباً أو يابساً، وأما إذا كان الحيوان ميتاً، فإن كان عظمه رطباً فهو نجس، وإن كان يابساً فهو طاهر؛ لأن اليبس في العظم بمنزلة الدباغ من حيث إنه يقع الأمن في العظم باليبس عن الفساد كما يقع الأمن في الجلد بالدباغ، فكذا العظم باليبس،( المحيط البرهاني للإمام برهان الدين ابن مازة،کتاب الصلوة،الفصل الرابع عشر فيمن يصلى ومعه شيء من النجاسات: (المحيط البرهاني: 2/209) وفيه أيضا: أما إذا كان الحيوان ميتاً، فإنما يجوز الانتفاع بعظمه إذا كان يابساً، ولا يجوز الانتفاع به إذا كان رطباً؛ وهذا لأن اليبس في العظم بمنزلة الدباغ في الجلد من حيث إنه يقع الأمن عن فساد العظم باليبس، كما يقع الأمن عن فساد الجلد بالدباغ، ثم جلد الميتة يطهر بالدباغ، فكذا عظمه يطهر باليبس، فيجوز الانتفاع به، فيجوز التداوي به.( المحيط البرهاني للإمام برهان الدين ابن مازة،كتاب الاستحسان والكراهية، الفصل التاسع عشر في التداوي والمعالجات، وفيه العزل، وإسقاط الولد: (5/239)
  8. ()الدباغ هو ما يمتنع عود الفساد إلى الجلد عند حصول الماء فيه والدباغ على ضربين حقيقي وحكمي فالحقيقي هو أن يدبغ بشيء له قيمة كالشب والقرظ والعفص وقشور الرمان ولحى الشجر والملح، وما أشبه ذلك ۔۔۔۔۔ والحكمي أن يدبغ بالتشميس والتتريب والإلقاء في الريح لا بمجرد التجفيف والنوعان مستويان في سائر الأحكام إلا في حكم واحد، وهو أنه لو أصابه الماء بعد الدباغ الحقيقي لا يعود نجسا باتفاق الروايات وبعد الحمي فيه روايتان۔ البحر الرائق، زین الدین بن ابراہیم، کتاب الطہارۃ، ج۱ص۱۱۵۔دارالکتاب الاسلامی بیروت، الطبعۃ الثالثۃ، بدون تاریخ۔
  9. ()ثم الدباغ على ضربين: حقيقي، وحكمي، فالحقيقي: هو أن يدبغ بشيء له قيمة كالقرظ والعفص والسبخة ونحوها، والحكمي: أن يدبغ بالتشميس والتتريب والإلقاء في الريح، والنوعان مستويان في سائر الأحكام إلا في حكم واحد، وهو أنه لو أصابه الماء بعد الدباغ الحقيقي لا يعود نجسا، وبعد الدباغ الحكمي فيه روايتان.بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع، ابوبکر بن مسعود الکاسانی، فصل فی بیان ما يقع به التظهير، ج۱ص۸۶، دارالکتب العلمية، بیروت، الطبعة الأولیٰ: ۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶م۔
  10. ()ولکن لو أصابه بعد الدباغة الحکمیة ماء فعن أبی حنیفة فی عوده نجسا روایتان في رواية یعود نجسا نعود الرطوبة، وفي رواية لا یعود نجسا وهو الأقیس؛ لان لیست تلک التي کانت بقیة الفضلات النجسة.....وملاقات الطاهر، الطاهر، لا توجب تنجیسه۔الحلبی الکبیر، کتاب الطهارة، ص۱۳۶۔
  11. ()(قوله دبغ) الدباغ ما يمنع النتن والفساد.والذي يمنع على نوعين: حقيقي كالقرظ والشب والعفص ونحوه، وحكمي كالتتريب والتشميس والإلقاء في الريح، ولو جف ولم يستحل لم يطهر زيلعي: والقرظ بالظاء المعجمة لا بالضاد: ورق شجر السلم بفتحتين. والشب بالباء الموحدة، وهو نبت طيب الرائحة مر الطعم يدبغ به، أفاده في البحر.حاشيۃ ابن عابدين، محمد أمين بن عمر ابن عابدين، كتاب الطہارة، ج1ص203، دار الفكر بيروت، الطبعۃ الأولى: ۱۴۱۲ھ /۱۹۹۲م.
  12. ()كل إهاب دبغ دباغة حقيقية بالأدوية أو حكمية بالتتريب والتشميس والإلقاء في الريح فقد طهر وجازت الصلاة فيه.... ولو أصابه ماء بعد الدباغة الحقيقية لا يعود نجسا وبعد الحكمية الأظهر أنه لا يعود نجسا. كذا في المضمرات وما طهر جلده بالدباغ طهر جلده بالذكاة وكذلك جميع أجزائه تطهر بالذكاة إلا الدم وهو الصحيح من المذهب. كذا في محيط السرخسي.الفتاوی االهندية، کتاب الطهارة، الباب الرابع فی التیمم، الفصل الأول فی أمور لابد منہا فی التیمم، ج۱ص۲۵، دارالفکر بیروت، الطبعۃ الأولیٰ، بدون تاریخ۔
  13. ()پی ایچ ایک پیمانہ ہے جس کے ذریعہ تیزابیت کی قوت اور الکلائی کی قوت معلوم کی جاتی ہے مثلا کسی مادے کا پی ایچ نمبر (۷)سے جتنا کم ہوتا جائے اتنا ہی اس کی تیزابیت کی قوت میں اضافہ ہوتا جائے گا،اور اسی طرح جو مادہ پی ایچ (۷)سے جتنا زیادہ ہوگا اتنی ہی الکلائی کی قوت میں اضافہ ہوگا۔ انسائیکلوپیڈیا آف سائنس و ٹیکنالوجی (آکسفورڈ) ص۲۷۴۱۹۹۹۔
  14. ()Microblology Ecology (1998) By Heinz Stolp Cambridge University Press, Page 142.
  15. ()Encapsulation technologes for active food ingredients and food processes by zudaim and nedovic (2009) page, 67
  16. ()The science of leather, Anthony d. Covington (2009) page, 135
  17. ()ثم الدباغ هو ما يمتنع عود الفساد إلى الجلد عند حصول الماء فيه والدباغ على ضربين حقيقي وحكمي فالحقيقي هو أن يدبغ بشيء له قيمة كالشب والقرظ والعفص وقشور الرمان ولحى الشجر والملح، وما أشبه ذلك ۔۔۔۔۔ والحكمي أن يدبغ بالتشميس والتتريب والإلقاء في الريح لا بمجرد التجفيف والنوعان مستويان في سائر الأحكام إلا في حكم واحد، وهو أنه لو أصابه الماء بعد الدباغ الحقيقي لا يعود نجسا باتفاق الروايات وبعد الحمي فيه روايتان۔ البحر الرائق، کتاب الطہارۃ، ج۱ص۱۱۵۔
  18. ()(مأخذہ التبویب، جامعہ دارالعلوم کراچی:(۱۲۳۴/۵۱)،(۱۲۵۱/۴)،(۱۲۷۶/۲)۔