Playstore.png

افغانستان کی اسلامی تاریخ کے پیش رو صحابہ کرام: عہد خلافت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ الایضاح
عنوان افغانستان کی اسلامی تاریخ کے پیش رو صحابہ کرام: عہد خلافت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ
انگریزی عنوان
The Pioneer Companions of the Holy Prophet (Saww) in the Islamic History of Afghanistan the Era of Umar
مصنف مختیار، عباد الرحمن، محمد ایاز
جلد 30
شمارہ 1
سال 2015
صفحات 138-148
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
شکاگو 16 مختیار، عباد الرحمن، محمد ایاز۔ "افغانستان کی اسلامی تاریخ کے پیش رو صحابہ کرام: عہد خلافت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ۔" الایضاح 30, شمارہ۔ 1 (2015)۔
عالمی امن میں اسلام کا کردار
دینی مدارس پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کے الزامات: ایک تجزیاتی مطالعہ
عرب اسلامی روایت کے برصغیر پاک و ہند میں تفسیر نگاری پر اثرات: عہد رسالت تا خلافت عباسیہ کے تناظر میں اختصاصی مطالعہ
حضرت آدم علیہ السلام بائبل اور قرآن کى روشنى میں
اسلام میں امن اور دہشت گردی کا تصور: ایک علمی اور تحقیقی جائزہ
قذف اور پاکستانی معاشرہ: اسلامی حوالے سے تنقیدی جائزہ
قانون ٹارٹ كا فقہ اسلامى كى روشنى میں جائزہ
افغانستان کی اسلامی تاریخ کے پیش رو صحابہ کرام: عہد خلافت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ
حلالہ اور مروجہ حلالہ سنٹرز: ایک تجزیاتی مطالعہ
جنگی قیدیوں کے حقوق شریعت اسلامیہ اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں
اسلام اور ہندو مت میں مادی اور روحانی طہارت کے اصول
اسلام اور جین مت میں طہارت کا تقابلی جائزہ
علاج معالجہ اور دم کی شرعی حیثیت
جنگی جرائم اسلام اور بین الاقوامی قانون کے تناظر میں
علامہ عینی اور ان کی خدمات کا علمی جائزہ
سورة الكوثر بين الإعجاز البلاغي وتحديات الترجمة
الزمخشري وموقفه من الاستشهاد بشعر المؤلدين في ضوء تفسيره الكشاف
مؤسسة الإزدواج والأسرة في ضوء الشريعة الاسلامية
ضوابط قبول التفرد في رواية الحديث دراسة مع أمثلة من تطبيقات النقاد
مميزات التشريع الجنائي في الفقه الإسلامي: دراسة تحليلية
Principles and Rules of Jihad: A Juristic Approach
Peace, the Essential Message of Islam
Orientalists on the Style of Quran: A Critical Study
The Genesis of Shi’ism in Islam
Origin of Earth: A Quranic Perspective
Rights of Non-Muslim Minorities in a Muslim Country in the Light of Qur’an and Sunnah
Pakistan’s Stance on the War on Terror: Challenging the Western Narrative
Impact of Hajj on Muslims With Special Reference to Pakistan

Abstract

The era of caliphate was the golden era of Islam.In this era the boundaries of Islamic state spread far and wide. From the caliphate of Abubakkar saddique (RA) Islamic conquest had started. At that time the Muslim armies reached Syria and Byzentine. But the first arrival of sahaba in Afghanistan was in the caliphate of Hazrat Umar (RA). The torchbearer of Islam came here for the preaching of Islam and to lead these people and turn their lives according to Quran and Sunnah. Before the advent of  Islam Afghanistan was the centre of Buddhist and other several faiths. Through the efforts of these companions of Muhammad (S.A.W) Islam got spread through the mountains and deserts of Afghanistan and all the Pathan tribes enter in the holy deen. In the following lines we will discuss thier efforts and journeys towards Afghanistan.

تمید:

اسلامی جمہوریہ افغانستان تاریخی مدوجزر سے آشنارہا ہے۔دنیاکے مختلف اقوام نے ان کے اخلاقی اور ثقافتی اقدار کو تبدیل کرنا چاہا ،لیکن کامیاب نہ ہوسکے ۔افغانستان کے باشندوں میں حقیقت پسندی کا مادہ ابتداء ہی سے موجود تھا،چنانچہ جب اسلامی تعلیمات سے مزین سپہ سالار اسلام کے چراغ روشن کرنے یہاں آئےتو افغانستان کےسرزمین میں اسلام کی حقیقت پسندانہ روایات بہت جلد بارآور ہوئے۔

ذیل میں ان چند ہستیوں کے بارے میں تذکرہ کیاجاتاہے ،جنہوں نے اپنی جانوں اور مالوں کی قربانی دیکر افغانستان کی لق ودق کہساروں میں اسلامی تعلیمات اور روایات کو دوام بخشا۔

عہدِ صدیقی:

ابوبکرصدیقؓ کے عہد میں اسلامی مملکت کی حدودبلاد روم اور شام تک پھیل گئیں۔لیکن افغانستان(خراسان) میں صحا بہ کرامؓ کی پہلی پیش قدمی عمرفاروقؓ کے دور میں احنف بن قیس ؒ کی سرکردگی میں ہوئی۔

عہد عمرفاروقؓ:

نام عمر ؓبن خطاب،قوم قریشی،بنوعدی،ابو حفص کنیت اور فاروق لقب،مکہ معظمہ میں40ھ/ 584میلادی کو پیدا ہوئے۔نہایت شجاع اور بہادر تھے۔13ھ کو خلیفہ چنے گئے۔ [1]

عہدعمرؓ میں جن صحابہ کرام ؓ اور تابعین ؒکی فتوحات اور جہادی سرگرمیوں کا مسکن افغانستان رہا ہے ،ان کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔

ربیع بن زیاد الحارثی ؓ:

ربیع بن زیاد بن انس الحارثی ؓ بنی ادیان کے امیراور فاتح تھے۔نبوت کا زمانہ پایا ۔بحرین کا والی بنایا گیا۔عمر ؓ کے زمانے میں مدینہ آئے اور عبداللہ بن عامرؓ نے 29ھ میں سجستان کا والی بنایا ۔ربیع بن زیاد الحارثی ؓ نے اپنے ہاتھوں سجستان فتح کیا۔آپؓ نہایت نیک سیرت اور متّقی انسان تھے۔ایک دن عمرؓ نے صحابہ کرام ؓ سے پوچھا کہ مجھے ایسے شخص کے بارے میں بتاوکہ جب وہ امیر ہو تو معلوم ہوتا ہے کہ امیر نہیں ہے ا ور جب امیر نہ ہوتو امیر معلوم ہوتا ہے۔صحابہ کرامؓ نے جواب دیا کہ ہم نہیں جانتے مگر ربیع بن زیادؓ۔عمر ؓ نے فرمایا آپ لوگوں نے سچ کہا۔[2]

جب رتبیل نے کابل پر چڑھائی کرکے زابلستان[3] اور رخج [4]* پر قبضہ کیااور بست [5]** تک پہنچ گیاتو ربیع بن زیاد الحارثیؓ مقابلے کیلئے آئے اور بست میں رتبیل کے ساتھ لڑائی ہونے کے بعداس کو وہا ں سے بھگایا اور اس کا پیچھا کیایہاں تک کہ” رخج “ہوتے ہوئے آگے چل کر بلاد ”داور“ بھی فتح کیا۔ [6]

51ھ میں ربیع بن زیاد الحارثی ؓ کو زیاد بن ابو سفیان نے خراسان کا والی بنایا۔ [7]

ابو موسی ٰ اشعریؓ نے اسے جنگ منادر واقع 17ھ میں اپنا خلیفہ بنا یا تھا۔معاویہؓ نے اسے سجستان کا حاکم بنایا۔آپؓ نے ترکوں کو شکست دی۔ پھر معاویہؓ نے آپ ؓ کو سجستان سے معزول کرکے خراسان کا والی بنایا۔آپ ؓ نے بلخ میں جہاد کیا۔

جب آپؓ کسی جہاد پر جاتے تو سواری کو پاس والی سواری سے آگے نہ لے جاتے اور نہ کسی کا گھٹنہ مس کرتے۔ابن حبیبؒ نے کہا ہے کہ زیاد بن ابیہ (والی بصرہ)نے ربیع بن زیاد ؓ کو لکھا کہ امیر المومنین کا خط آیا ہے اور حکم دیا ہے کہ مال غنیمت سے سونا اور چاندی علیحدہ کرلواو راس کے علاوہ باقی چیزوں کو تقسیم کرلو۔اس کے بعد آپؓ نے خمس نکال کر باقی مال غنیمت کو مسلمانوں میں تقسیم کیا۔آپ ؓ نے دعا کی کہ اسے موت نصیب ہو چنانچہ ایک ہفتہ بھی نہیں گزراتھا کہ آپ ؓ کی وفات ہوئی۔یہ قول حکم بن عمروالغفاری ؓ کا ہے اور ابو عمرؒ نے لکھا ہے کہ جب آپؓ کو حجر بن عدی کے قتل ہونے کی خبر ملی تو آپؓ نے فرمایا،”اے اللہ اگر ربیع کیلئے تیرے ہاں کچھ بھلائی ہو تو اسے اٹھا لیں“ ،چنانچہ 53ھ میں ربیع بن زیاد الحارثی ؓ کا وصا ل ہوگیا۔ [8]

عاصم بن عمرو التمیمیؓ:

عاصم بن عمروؓ صحابی رسول ﷺمشہور شعراءمیں سے ہے جوقعقاع بن عمروؓ کے بھائی تھے۔سیفؒ نے فتوح میں لکھا ہے کہ سہیل بن عدیؓ کے ساتھ عاصم بن عمروؓخراسان میں شریک جہاد ہوئے اور آپ ؓ کو سجستان کا پرچم دیا گیاتھا۔ عاصم ؓ صحابی تھے۔فتح عراق میں بھی حصہ لیا۔ [9]

عاصم بن عمر ؓو نے سجستان کا ارادہ کیااور عبداللہ بن عمیرؓ کو اس کے ساتھ کر دیا گیا۔اہل سجستان مقابلے کیلئے بڑھے۔عاصم بن عمرؓ ونے انہیں شکست دے کر زرنج میں اس کا محاصرہ کیا۔اہل سجستان نے صلح کا مطالبہ کیا اور صلح میں مسلمانوں کو زمین دینا چاہا ۔عاصم بن عمروؓ نے مصائب سے بچنے کی غرض سے زمین لینے سے احتراز کیااور خراج کی وصولی پر اہل سجستان سے صلح کی کیونکہ سجستان کا علاقہ بہت بڑاتھا اور سرحدات بہت دور تھیں ۔[10]

عاصم بن عمرو التمیمی ؓ 15ھ کو وفات پا گئے۔[11]

مجاشع بن مسعود السلمیؓ:

مجاشع بن مسعود بن ثعلبہ السلمی ؓ صحابی ہیں۔مغیرہ بن شعبہ ؓ نے عمرؓ کے زمانے میں بصرے میں اپنا نائب مقرّر کیا۔اور کابل کے جہاد میں شریک ہوئے اور کابل کے امیر سے صلح کیا۔فارس میں اس کے ہاتھوں قلعہ ”الاصبہند“ ابرویز فتح ہوا۔صحیحین اور دوسری کتب حدیث میں آپ ؓکے پانچ احادیث مذکور ہیں۔[12]

مجاشع بن مسعودؓ نے بصرے میں سکونت اختیار کی اور اپنے بھائی مجالد بن مسعود ؓسے پہلے مشر ف بہ اسلام ہوئے۔ مجاشع بن مسعود ؓ سے عبدالملک بن عمیرؒ ،ابو عثمان النہدؒی اور کلیب بن شہا بؒ نے روایت کی ہے۔مجاشع بن مسعود ؓ نے عمرؓ کے زمانے میں ”توج“پر چڑھائی کی اور محاصرہ کرنے کے بعد اسے فتح کیا۔ابو یاسر ؒنے بروایت عبداللہ بن احمدؒ کہا ہے کہ اس نے اپنے باپ سے سنا کہ ہم سے ابو نصر ؒنے اس سے ابو معاویہ ؒنے اس سے شیبا نؒ نے اس سے یحییٰ بن ابو کثیر ؒنے اس سے یحییٰ بن اسحاق ؒنے اس نے مجاشع بن مسعودؓ سے روایت کی ہے کہ میں اپنے بھتیجے کو لے کر رسو ل اللہ ﷺ کے پاس ہجرت پر بیعت کر نے کو حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ فتح مکہ بعد ہجرت ختم ہو گئی ہے ،اس لیے اب بیعت صرف اسلام پر ہوگی۔[13]

دولابیؒ کا قول ہے کہ مجاشع ؓ نے بلاد ہند میں سے کابل پر جہاد کیا۔اہل ”اصہند“سے صلح کی ۔مجاشع بن مسعود ؓ بت خانے میں داخل ہوئے اور ایک بت کی آنکھیں نکالنے لگے تو فرمایا کہ یہ اس لیے کر رہا ہوں تاکہ تم سمجھ لو کہ یہ نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان“۔

مدائنیؒ نے اپنی سند سے ذکر کیا ہے کہ عمر و بن معدیکرب ؒنے ایک شخص کی ضمانت لی تھی جس کے سلسلے میں وہ مجاشع بن مسعو دؓ کے پاس آئے اور مدد کی درخواست کی تو مجاشع ؓ نے جواب دیا کہ اگر تم چاہو تو میں مال ادا کر سکتا ہوں اور اگر چاہو تو تمہارے حق میں فیصلہ کردوں۔ پھر اس کے حق میں فیصلہ فرمایا۔[14]

آپؓ جنگ جمل میں عائشہ ؓ کے ساتھ دیتے ہوئے بنو سلیم کے امیر تھے۔ اسی جنگ میں شہیدہوگئے اوربصرہ میں قبیلہ بنی سدوس میں اپنے گھر میں دفن ہوئے۔ [15]

عبداللہ بن بدیل بن ورقاءالخزاعیؓ:

عبداللہ بن بدیل بن ورقاءالخزاعی ؓ صحابی ہے۔فتح مکہ کے روز اسلام قبول کیا اور جنگ حنین ، تبوک اور طائف میں شرکت کی۔علیؓ کے ساتھ جنگ صفین میں شریک رہے۔[16]

23 ھ میں عمرؓ نے عبداللہ بن بدیل ؓ کو ابو موسی ٰاشعری ؓجو اصفہان اورقم کے مہم پر مامورتھے، کی مدد کیلئے بھیجا۔عبداللہ بن بدیل ؓنے ”جی“ نامی قریہ فتح کیا اور یہاں کے باشندوں سے جزیہ وصول کیا۔بعد میں کر مان آیا اور طبسین پہنچا۔”طبس“اور ”کرین“دو قلعے جو خراسان کے راستے پر واقع تھے،اور جو خراسا ن کے دروازے جانے جاتے تھے،پر پہنچ گیا اور ڈھیر سارا مال غتیمت وصول کیا۔اہل طبس عمرؓکے پاس آئے تو عمرؓ نے اس کے ساتھ 60ہزار اور بقو ل بعض 75ہزار پر صلح کی،اور ان کے لئے عہد نامہ لکھا۔ [17]

پھرعبداللہ بن بدیل ؓ نے عمر ؓ کے زمانے میں کرمان فتح کیااور عمرؓ نے انہیں آگے بڑھنے سے روکا۔ [18]

جب عبداللہ بن بدیل ؓ نے اصفہان پر چڑھائی کی تو اصفہان کا حکمران(فادوسفان) نے شہر سے جانا چاہالیکن عبداللہ بن بدیل ؓ نے جانے نہ دیا۔فادوسفان کے ساتھ تیس ہزار منتخب جنگجو تھے ۔فادوسفان نے عبداللہ بن بدیل ؓ سے کہاکہ دوسرے لوگوں کی جانیں ضائع نہیں کرتے آؤتن تنہا لڑتے ہیں ۔عبداللہ بن بدیل ؓ اتنی جانبازی سے لڑے کہ فادوسفان اس کی شجاعت سے بہت متاثر ہوا اور کہا کہ میں ایسے شجاع اور عقلمندبہادر کو قتل نہیں کرتا،ہاں اس شرط پر شہر چھوڑتا ہوں کہ یہاں کے باشندے جزیہ دیں یاشہر سے چلے جائیں ان کی مرضی ہے۔عبداللہ ؓنے شرط قبول کرکے شہر اس کے حوالہ کردی۔[19]

عہد علیؓ میں حضر ت معاویہؓ کی شدید مخا لفت کی اور لوگوں کو کہا کہ علی ؓ ، معاویہؓ سے زیادہ مستحق ہیں ۔معاویہؓ لوگوں کے دلوں میں فساد پیداکرتاہے۔اور لوگوں کو حکم دیا کہ اس شخص سے لڑ و جس نے اس امر(خلافت) کے مستحق سے جھگڑا کیا ہے۔علی ؓ نے جنگ صفین میں آپ ؓ کوپیدل فوج کا کمانڈر بنایا۔ [20]

عبداللہ ؓبن بدیل بن ورقاءبن عبدالعزی بن ربیعہ الخزاعی قبیلہ خزاعہ کے سردار تھے ۔آپؓ رسول اللہ ﷺ کے راز دار بھی تھے ۔بڑے شان اور مرتبت والے تھے۔شعبی ؒ نے کہا ہے۔کہ عبداللہ بن بدیل ؓ نے یوم صفین میں زرہ پہناہوا اور اس کے ہاتھوںمیں دو تلواریں تھیں۔بہت زور آورتھے اوربڑی دلیری اور شجاعت سے تلوار چلاتے تھے یہاں تک کہ معاویہ ؓ کے قریب پہنچے لیکن امیر معاویہ ؓ کے ساتھیوں نے پیچھے ہٹایا ۔ [21]جنگ صفین کے موقع پر شہید ہوگئے ۔[22]

حارث الذہلیؓ :

حارث بن حسان الذہلی البکری ؓ صحابی ہے، بہت شریف اور شجاع لوگوں میں سے ہیں۔خراسان کے فتح میں احنف بن قیس ؒ کے ساتھ شریک ہوئے۔یوم جمل میں حاضر ہوئے تھے۔آپ ؓ کے ساتھ بکیر بن وائل کا جھنڈا تھا۔ اسی دن آپ ؓ اور آپ ؓکے خا ندان کے پانچ لوگ قتل کیے گئے۔ [23]

انہیں ابن یزید بھی کہا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ آپ ؓکا نام حدیث میں تصغیر کےساتھ ہے۔ترمذی،نسائی اور دوسری ا حادیث میں ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺکے ہاں ایک وفد کے ساتھ آئے تھے۔ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمروبن العاص ؓ کو غزوہ سلاسل کیلئے بھیجااس وقت یہ رسول اللہﷺ کے ہاں حاضر ہوئے تھے اور جب احنف بن قیس ؒ نے خراسان فتح کیا تو اسے سرخس [24]بھیجا۔ [25]

آپؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے ملنے کیلئے نکلے، مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو مسجد لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔ایک سیاہ جھنڈا لہرا رہاتھا۔اچانک بلال ؓ تلوار لٹکائے ہو ئے سامنے آئے میں نے پوچھا تو فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ عمر و بن العاص ؓ کو لشکر دے کر کہیں بھیج رہے ہیں۔[26]

حکم بن عمرو الثعلبی ؓ:

حکم بن عمرو الثعلبیؓ عرب کے مشہور قبیلہ بنو تغلب سے تعلق رکھتے تھے ۔عمرؓ نے 17ھ میں حکم ؓ کو مکران کا والی مقرر کیاتھا۔23ھ میں حکم بن عمروؓ نے پورے مکران پر قبضہ کیا۔مکران کے والی (راسل )نے مسلمانوں کے خلاف صف بندی کی۔مسلمانوں کو فتح ہوئی اور مکران پر قبضہ کر لیا۔حکم بن عمروؓ کے ساتھ ،شہاب بن مخارقؓ،سہیل بن عدیؓ اور عبداللہ بن عبداللہ بن عتبان ؓشامل تھے۔ یہ لوگ دوین النہر پہنچے اور اہل مکران بھی نہر کے کنارے پر تھے ،انہوں نے سندھ کے بادشاہ سے امداد طلب کی ۔بادشاہ سندھ نے ایک لشکر کثیر سے اس کی مدد کی۔ مسلمانو ں کے ساتھ مقابلہ ہوا تو مسلمان غالب آئے ۔ اسی معرکے میں اہل سندھ کے بہت زیادہ آدمی مارے گئے۔ عمر ؓ کو حکم بن عمر والثعلبی ؓ کے ہاتھوں فتح کی بشارت بھیجی گئی۔عمر ؓ نے حکم بن عمروالثعلبی ؓ سے مکران کے حالات پوچھے توحکم بن عمروالثعلبی ؓ نے کہا۔

"سهلها جبل، وماؤها وشل، وتمرها دقل، وعدوها بطل، لا يغزوها جيش ما غربت شمس أوطلعت"

امیرالمؤمنین ”وہاں کے میدان کی نرم زمین بھی پہاڑ جیسی ہے۔پانی کھارا ہے۔کجھور خشک ہے۔دشمن بہادر ہے۔یعنی ان لوگوں سے جنگ کر نامشکل ہے۔ [27]

صحا ر بن عیاش او(عباس) العبدی:ؓ

صحا ر بن العبا س العبدیؓ بنی مرہ بنی ظفر بن دیل سے تعلق رکھتے تھے۔کنیت ابو عبدالرّحمن تھاجو نبی کریم ﷺ کے پاس وفد عبدالقیس میں آئے تھے۔خلدہ بنت طلق سے مروی ہے کہ صحار عبدالقیس میں آئے اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺاس شراب کے بارے میں کیا حکم ہے؟ جو ہم اپنے پھلوں سے بناتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف سے منہ پھیرا۔انہوں نے تین بار یہی پوچھا۔رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی اور نماز کے بعد پوچھاکہ نشے کے بارے میں کون پوچھ رہا تھا۔تم مجھ سے نشے والے چیز کے بارے میں پوچھتے ہو تو نہ تم خود نشے والی چیز پیو اور نہ اپنے بھائی کو پلاؤ۔ فرمایا” قسم ہے! اس ذات کی جس کے قبضے میں رسول اللہ ﷺکی جان ہے ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص اس نشہ کی لذت کو خاص کر نے کیلئے پیئے اورپھر وہ اسے قیامت کے دن شراب پلائے،صحار العبدی ؓ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے خون عثمان ؓ کا مطالبہ کیاتھا۔صحار العبدی ؓ نے عمرفاروق ؓ کے زمانے میں احنف بن قیس ؒ کے ساتھ خراسان کی جہاد میں شرکت کی تھی اور احنف بن قیس ؒ نے جب ہرات کو فتح کیا تو صحار العبدی ؓ کو اپنا نائب بنایا۔ [28]صحار العبدی ؓ قبیلہ عبدالقیس کے مشہور زبان آور خطیب تھے۔آپؓ عثمان ؓ کے ہم خیال تھے ، ایک مرتبہ معاویہؓ نے ان سے پوچھاکہ بلاغت کیا ہے توآپؓ نے فرمایا بلاغت زبان آور ی ہے ،معاویہ ؓ نے پھر پوچھا زبان آوری کیا ہے تو صحار العبدی ؓ نے جواب دیا کہ نہ تو خطا ہو جائے اور نہ رک جائے ۔آپ ؓ مصر کی فتح میں بھی شامل ہوئے اور جب عثمان ؓشہید کیے گئے تو آپ ؓ نے بھی خون عثمانؓ کے قصاص لینے کامطالبہ کیا۔آپ ؓ جنگ صفین میں معاویہ ؓ کے ساتھ شامل ہوئے ۔بصر ہ میں رہنے لگے اور40ھ میں وہاںوفات پائی۔ [29]

ربعی بن عامرؓ :

ربعی بن عامرؓعرب کے معزز شخص تھے۔نجاشی شاعر نے اس کے متعلق مدحیہ اشعار بھی کہے ہیں۔امام طبری ؒ کہتے ہیں کہ عمرؓ نے ربعی بن عامرؓ کو مثنی بن حارثہ ؓکی امداد کیلئے بھیجا تھا۔ فتوح البلدان میں سیف ؒکے حوالے سے ابو عثمانؒ اور عبادہؓ کی روایت نقل کر تے ہیں، کہ ابو عبیدہؓ کے پاس عمرؓ کا خط پہنچاکہ عراق کا لشکر عراق بھیج دو ۔اس وقت ان کی کمان ہاشم بن عتبہؓ کر رہے تھے اور مقد مۃ الجیش میں قعقا ع بن عمرو ؓتھا۔اس کے ہراول دستے میں عمیر بن مالک ؓاور ربعی بن عامرؓتھے۔غزوہ نہاوند میں بھی آپؓ کا ذکر آیا ہے۔ آپؓ نے اس غزوے کے امیر نعمان بن مقرنؓ کیلئے بالوں کا خیمہ بنایا تھا۔احنف بن قیسؒ نے جب خراسان فتح کیاتو ربعی بن عامرؓ کو طخارستان کا والی مقرر کیا۔[30]

حاتم بن نعمان الباہلیؓ :

حاتم بن نعمان الباہلی ؓ 31ھ میں عبداللہ بن عامرؓ نےآپ ؓ کو مرو کی طرف بھیجا۔اہل مرو نے مسلمانوں کے ساتھ بیس لاکھ اور بعض کے مطابق دس لاکھ درہم اور دو لاکھ غلےّ کی بوریاں دینے پر مصالحت کی۔اور بعض نے کہا ہے کہ دس لاکھ درہم اور ایک لاکھ اوقیہ پر مصالحت کی اور مسلمانوں کے ساتھ اچھّا برتاؤ کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ان تمام شرائط پر اہل مرو کے ساتھ صلح ہو گئی تھی سوائے ایک گاؤں کے جس کا نام ”سنج “ ہے ۔مسلمانو ں نے اسے بزور شمشیر فتح کیا۔اور ابو عبیدہ ؒکا قول ہے کہ ان شرائط میں گھروں کے استعمال کا سازوسامان ،مثلاً فرنیچر،برتن،وغیرہ سب کچھ شامل تھا۔لیکن ان لوگوں کے پاس یہ چیزیں نہیں تھیں۔جب یزید بن معاویہؓ والی بنا تو اس نے ان لوگوں سے اس کی قیمت وصول کی۔[31]

عبداللہ بن عمیر الاشجعی ؓ :

عبداللہ بن عمیر الاشجعی ؓ صحابی رسول ہے ابن ابی حاتم ؒکا قول ہےکہ آپؓ کو رسول اللہ ﷺ سے حدیث روایت کرنے کا شرف حاصل ہے۔ابن مندہؒ کا کہناہے کہ عبداللہ بن عمیر الاشجعی ؓ کا شمار اہل مدینہ میں ہوتاہے۔طبرانی میں یحییٰ بن مسلم وقدانؒ اور اس نے عبداللہ بن عمیر الاشجعی ؓ کے طریق سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے:

’’کہ اگر تمام لوگ ایک آدمی پر متفق ہو جائیں اور کچھ لوگ بغاوت کریں اور متفق نہ ہو جائیں تو انہیں قتل کرو‘‘[32]

امام طبری ؒنے عبداللہ بن عمیر الاشجعی ؓ کا ذکر عمر ؓ کے زمانے میں 23ھ کے واقعات میں عاصم بن عمروؓ کے ساتھ سجستان کے جنگ میں کی ہے اورلکھاہے کہ ان دونوں کی جد وجہد سے سجستان کے علاقے فتح ہوئے ۔سجستان کا علاقہ سندھ تک پھیلا ہوا تھا اور دریا ئے بلخ بھی اسی میں شامل تھا۔[33]

شہاب بن مخارق تمیمی ؓ [34]:

شہاب بن مخارقؓ قبیلہ تمیم سے تعلق رکھتے تھے۔اما م طبری ؒ نے سولہویں صدی کے واقعات میں ان کا ذکر کیا ہے۔عمر ؓ کے دور خلافت میں حکم بن عمر ثعلبی ؓ مکر ان کے مہم پر مامور تھے ،شہاب بن مخارق ؓ ان کے ساتھ شریک جہا د ہوئے۔ [35]

سہل (سہیل)بن عدی خزرجی انصاری ؓ:

سہل بن عدی بن مالک بن حرام بن خدیج بن معاویہ خزرجی انصاری قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتے تھے، جنگ بدر میں حصہ لیاتھا۔سہل بن عدیؓ کے دو بھائی اور بھی تھے ایک ثابت بن عد ی ؓ اور دوسرا عبدالرحمن بن عدی ؓ تھے ۔یہ دونو ں جنگ احد میں شریک ہوئے تھے۔یہ تینوں بھائی بنی کریمﷺ کے ممتاز صحابہ کرام ؓ اور اسلام کے نامور مجاہد تھے۔[36]

عبداللہ بن عبداللہ بن عتبان انصاری ؓ:

حافظ ابو موسی ٰؒ نے کہا ہے۔کہ عبداللہ بن عبداللہ بن عتبان صحابہ کرام ؓ میں سے ہے اور انہوں نے مسلمانوں اور اہل ”جی “ کے مابین صلح نامہ لکھا۔[37]

محمد بن عاصم ؒ نے اصفہان کے صحابہ کرام ؓ میں ان کا ذکر کیا ہے۔سعد بن ابی وقاص ؓ نے عبداللہ بن عبداللہ بن عتبان ؓکو ا پنا نائب بنایا تھا۔عمر فاروقؓ کے دور خلافت میں آپؓ نے سعد بن ابی وقاص ؓ کو حکم دیا کہ عبداللہ بن عبداللہ بن عتبان ؓ کو اہل” نصیبین “کے ہاں بھیجو۔عبداللہ بن عبداللہ بن عتبان ؓ نامور، شجاع اور ممتاز صحابہ کرام ؓ میں سے تھے۔[38]

یہ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنہوں نے دین اسلام کی اشاعت کے لئے اپنے وطن گھروں اور آرام کی زندی قربان کی اور آج ہم ان لوگوں کی کی قربانیوں کے نتیجے میں اللہ کا نام لینے والے ہیں ۔

حوالہ جات

  1. ابن الجوزی،(م۔597ھ ) ، ” صفۃالصفوة“،ج2،ص:118 ،دارالمعروف ،بیروت ،2005 ء
  2. ابن الاثیر ،”اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ“،ج1،ص:96مکتبہ المعارف باالریاض۔س،ن
  3. زابلستان :افغانستان کے شہر وں بلخ اور طخارستان کے ساتھ ایک وسیع علاقہ ہے ۔جو رستم بن دستان کے دادا ”زابل “سے منسوب ہے ۔اور غزنہ ،غزنین یا غزنی زابلستان کا ایک مشہور اور بڑا قصبہ ہے۔ معجم البدان، ج3۔ص: 125
  4. * رخج افغانستان کے دارالخلافہ کابل کے اطراف میں ایک شہر کا نام ہے۔معجم البلدان ، ج3۔ص:38
  5. ** بست افغانستان کے ایک شہر کا نام جو سجستان ،ہرات اور غزنی کے مابین واقع ہے۔ معجم البلدان ج1۔ص:414
  6. ابن الاثیر (م۔630ھ)،”اسد الغابہ فی معرفةالصحابہ “،ج2،ص:255،دارالکتب العلمیہ، طبعة الاولی ، 1415ھ
  7. البلاذری (م۔279ھ)،”فتوح البلدان“،ج1،ص:385دار ومکتبةالہلال،بیروت،1988 ء
  8. ابن الاثیر (م۔630 ھ) ،”الکامل فی التّاریخ“ ،ج3،ص:89،طبعةالاولی1417ھ1997ء دارالکتاب العربی بیروت لبنان ،”اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ“،ص: 255 طبع اول دارالکتب العلمیہ1415ھ
  9. ابن حجر العسقلانی ؒ (م۔852ھ)،”الاصابہ فی تمییزالصحابہ “،ج،3ص:465
  10. ابن الاثیر ،”الکامل فی التاریخ “،مذکور،ج2،ص:423
  11. الزرکلی ،”اعلام“،مذکور ،ج3،ص:248
  12. ابن الاثیر،”الکامل فی التاریخ “،مذکور،ج5،ص:186الزرکلی ،مذکور ،ج5،ص:277
  13. ابن الاثیر ،”اسد الغابہ“ ،مذکور،ج5،ص:55 طبع اول دارالکتب العلمیہ 1415ھ 1994 ء
  14. ابن حجر العسقلانی ؒ (م۔852ھ)،”الاصابہ فی تمییزالصحابہ “، ج5،ص:569،دارالکتب العلمیہ بیروت ، 1415ھ
  15. ابن الاثیر ،”الکامل فی التاریخ “،مذکور،ج5،ص:186 الزرکلی ،مذکور،ج5،ص:277
  16. الزرکلی ،”اعلام“،مذکور،ج4،ص:73
  17. البلاذری ،”فتوح البلدان “،مذکور،ج1ص:390
  18. ابن الاثیر ،”الکامل فی التاریخ “،ج2،ص:423
  19. ابن جریر الطبری(م۔310ھ ) ،”تاریخ الرّسل والملوک “،صلةابن سعد قرطبی”تاریخ الطبری“ (م۔369ھ) ج4، ص:139طبعہ ثانیہ1387ھ دارالتراث بیروت
  20. ابن حجر العسقلانی ؒ (م۔852ھ)،”الاصابہ فی تمییزالصحابہ “، ج4،ص:19،دارالکتب العلمیہ بیروت ،
  21. 1415ھ ابن عبدالبر،”الاستیعاب فی معرفة الاصحاب“،(م۔463ھ )،ج3،ص:872 طبعہ اولی1412ھ 1992ءدارالجبل بیروت
  22. الزرکلی ،”اعلام“،مذکور،ج4،ص:73
  23. ایضاًج2 ،ص:154
  24. سرخس :خراسان کے اطراف ،نیشاپور اور مرو کے درمیان میں ایک وسیع اور قدیم شہرہے۔ اسے ”زعار“نامی شخص نے کیکاؤس کے زمانے میں تعمیر کرکے یہ نام رکھاپھر ذوالقرنین اسکندرنے اس کے عمارت کو مضبوط کرلیا۔فرس نے کہا ہے کہ کیکاؤس نے ”سرخس بن خوذرز“کو زمین کا ایک ٹکڑادیا تھا جس پر اس نے یہ شہر بسایا جو اس کے نام سے موسوم ہوا۔یہ چوتھی اقلیم میں ہے اور طول 33درجہ اور لمبائی 36درجہ ہے۔پانی کمیاب ہے اور کنوؤں کا پانی زیر استعمال ہے۔ معجم البلدان 3۔208
  25. ابن حجر العسقلانی ،”الاصابہ فی تمییز الصحابہ “،مذکور،ج1،ص:664
  26. ابن الاثیر (م۔630ھ)،”اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ“،ج 1،ص: 599 طبع اول دارالکتب العلمیہ ، 1415ھ
  27. ابن حجر العسقلانی ،”الاصابہ فی تمییز الصحابہ “،مذکور،ج3،ص:321
  28. ابن سعد،”الطبقات الکبری ٰ“،مذکور ،ج7،ص:60 ،1410ھ 1990 ءدارالکتب العلمیہ، بیروت
  29. الزرکلی ،”اعلام“،مذکور،ج3،ص:201
  30. ابن حجر العسقلانی ،”الاصابہ فی تمییز الصحابہ “،مذکور ،ج2،ص:378
  31. البلاذری،”فتوح البلدان “،مذکور،ج1،ص:392
  32. ابن حجر العسقلانی ،”الاصابہ فی تمییز الصحابہ “،مذکو ر،ج4،ص:171
  33. ابن جریر الطبری(م۔310ھ ) ،”تاریخ الرّسل والملوک “،صلةابن سعد قرطبی”تاریخ الطبری“ (م۔369ھ) ج4، ص: 94طبعہ ثانیہ 1387ھ دارالتراث بیروت۔
  34. شہاب بن مخارق تمیمیؓ بھی ان صحابہ کرام ؓ میں سے ہیں جو افغانستان میں آئے تھے اور اس خطے کو اسلام کی روشنی سے منور کیا۔شہاب بن مخارق ؓ عمرؓکے دور میں خراسان آئے لیکن آپؓ کے زندگی کے بارے میں مفصل حالات نہ ملنے کی وہ سے اس چند سطروں پر اکتفاءکیاگیا۔
  35. ابن لاثیر،”الکامل فی التاریخ“ ،مذکور،ج،2ص:424ابن جریرطبری ،مذکور،ج4،ص:181
  36. ابن الاثیر،”اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ “،مذکور،ج2،ص:578
  37. ایضاً ج3،ص:195دارالفکر بیروت1409ھ 1989ء
  38. ابن حجر العسقلانی ،”الاصابہ فی تمییز الصحابہ “،مذکور ،ج4،ص:135