Playstore.png

ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا: احوال و خدمات کا تحقیقی مطالعہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ الایضاح
عنوان ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا: احوال و خدمات کا تحقیقی مطالعہ
انگریزی عنوان
The Mother of the Muslims, Hazrat Umm E Habiba R. A: A Factual and Investigatory Study of her Introduction and Services
مصنف امجد، عتیق، زاہدہ شبنم
جلد 32
شمارہ 1
سال 2016
صفحات 76-94
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
شکاگو 16 امجد، عتیق، زاہدہ شبنم۔ "ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا: احوال و خدمات کا تحقیقی مطالعہ۔" الایضاح 32, شمارہ۔ 1 (2016)۔
عصرحاضر کے تقاضوں کے تناظر میں جامعات دینیہ کا قضیہ: عملی تجاویز
طبی میدان عمل میں ضرورت کی بنیاد پر رخصت کا اطلاق
تعلیمی نظام کی اصلاح کے بارے میں امام بخاری کا نظریہ
فلسفہ احکام میراث
ریاست کے اداراتی مقاصد کے تناظر میں نظریہ انفرادیت اور اجتماعیت پسندی
ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا: احوال و خدمات کا تحقیقی مطالعہ
شریعت اسلامی میں رسم و رواج کے ساتھ تعامل کا جائزہ: مختلف اسلامی ادوار کی روشنی میں
تفسیر قرآن میں ام المؤمنین سیدۃ عائشه کا مقام
اشیاء خورد و نوش و ادویہ میں جلاٹین کے استعمال کا طریقہ کار اور اس کا شرعی جائزہ
عقیدہ تناسخ اور عہد الست میں فرق کے حوالے سے امام رازی کے موقف کا جائزہ
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مروجہ پاکستانی ٹریفک قوانین کی پاسداری کی اہمیت
أعلام النثر العربي في شبه القارة الهندية
موقف محمود سامي البارودي ومحمد إقبال من السياسة: دراسة تحليلية وموازنة
المحاسن البلاغية والأدبية في الأحاديث النبوية في كتاب الفرائض
المحكم والمتشابه وموقف المفسر منهما
الجملة المعترضة فى القرآن الكريم: دراسة بلاغية
The Analytical Study of Well Thought-Out Legitimate Pakhtun’s Trends Regarding Marriage Binding Shariah Perspective
Lunar Calendar and Ramadan Effect on Islamic Mutual Funds Performance in Pakistan
Concept of Peace and Harmony in the Buddhism amd Islam: A Comparative Study
Social Media and Cyber-Jihad in Pakistan
Economic Facilities for Non-Muslims in a Muslim Country in the Light of Quran and Sunnah
A Proposed Islamic Microfinance Impact Assessment Methodology
Relationship Between Quality Culture and Organizational Performance With Mediating Effect of Competitive Advantage
Allama Sahabbir Ahmed Uthmani’s Efforts for Islamization in Pakistan
Time Management in Islam
Muslim-Christian Relationship in the Context of Status of Prophet Muhammad SAW

Abstract

Man is noblest creation in the universe. Prophets are the most honorable men among of all the human being. Hazrat Muhammad (S.A.W) is most exalted in all prophets. Those who saw the countenance in belief get the blessing from the highest status. There are eleven virtuous wives of the Prophet (S.A.W) to be the mother of whole Umma e Muslim. One of them is Hazrat Ramla (R.A), daughter of Hazrat Abu Sufyan (R.A). She is known as Umme Habiba. As a Makah’s Chief daughter she enjoys every facility. After embracing Islam she showed stead fastness and consistency in Islam. Because her first husband was Christian but she protects her faith, notions and honor. The Holy Prophet (S.A.W) give her honor for sending marriage proposal. The Negus recited the word of nikah of all the virtuous and chaste wives of the Holy Prophet (S.A.W).Hazrat Umm e Habeeba (R.A) was the greatest preacher and supporter of Islam. She was always ready and assiduous to follow the teachings of Islam; and she understand it her obligation to follow the tradition of Hadith. There are sixty five traditions attributed to her in the primary sources of Hadith, which have fundamental status on different topics. In the mentioned article, the investigatory and factual study of her conditions and services has been offered and displayed

ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نہایت عابدہ، زاہدہ، صابرہ، شاکرہ، طاہرہ خاتون ہونے کے ساتھ صاحبہٴ حسب و نسب بھی ہیں۔ محبت و خشیت الٰہی، فکر آخرت، طلب جنت کی حریص اور جہنم کی سزاؤں سے شدید ڈرنے والی عورت ہیں۔ حب رسولﷺاور اپنے تاجدار اور نامور شوہر کی وفا شعاری آپ رضی اللہ عنہا کے رگ و پے میں رچی بسی تھی۔ ہر وقت اور ہر لمحہ اسلام کے لیے مرمٹنے کے جذبہ سے سرشار رہتی تھی۔ بڑے نامور باپ کی بیٹی ہونے کے باوجود ہجرت جیسے مشکل بلکہ کٹھن مصائب سے دوچار ہوئیں اجنبی وطن اور خاوند کے ارتداد، بے یار و مددگار اور تنہا رہ جانے کے باوجود اسلام پر ثابت قدم رہنا آپ رضی اللہ عنہاکا امتیازی وصف ہے۔

اس بہادر خاتون کی نبی مکرمﷺ کی بیوی ہونے سے پہلے کی زندگی بھی مسلمان عورتوں کے لئے مشعل راہ ہے اور نبی مکرمﷺ کی صحبت میں آنے کے بعد کی حیات مبارکہ میں بھی مسلمان عورتوں کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ نبی کائناتﷺ کی صحبت میں رہ کر تعلیمات الٰہیہ سیکھنے اور ان پر عمل پیرا ہونے میں بھی آپ رضی اللہ عنہاکی سیرت نہایت مثالی ہے۔

ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہاکا نام رملہ بنت صخر ہے۱ جبکہ بعض نے آپ کا نام ھند بنت صخر کہا ہے۲ اور بعض نے آپ کا نام ھبیرہ بتایا ہے۳۔ لیکن آپ کا صحیح نام رملہ ہی ہے۔ اور آپ کے تمام سوانح نگاروں نے آپ کا نام رملہ ہی لکھا ہے۔ آپ کی کنیت ام حبیبہ ہے جو کہ آپ کی صاحبزادی حبیبہ رضی اللہ عنہابنت عبیداللہ کی طرف منسوب ہے۴ اور حبیبہ رضی اللہ عنہاکی پیدائش کے بعد آپ رضی اللہ عنہانام کی بجائے کنیت سے معروف ہوئیں اور اس قدر معروف ہوئیں کہ نام منظر عام سے ہٹ گیا اور آپ رضی اللہ عنہا،ام حبیبہ کے نام سے ہی پکاری جانے لگیں حتیٰ کہ احادیث نبویہﷺ میں بھی آپ رضی اللہ عنہاکی کنیت سے ہی آپ رضی اللہ عنہاکی تمام مرویات موجود ہیں۔۵

ام حبیبہ رضی اللہ عنہاقریش کے مشہور خاندان بنو عبدالشمس کی چشم و چراغ ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہاکا نسب نامہ اس طرح ہے۔(ام حبیبه رضی الله عنها بنت ابی سفیان صخر بن حرب بن اميه بن عبدالشمس بن قصی بن کلاب بن مره بن کعب بن لوئی)۶

گویا آپ رضی اللہ عنہاکا شجرہ نسب چوتھے مقام پر نبی مکرمﷺسے جا ملتا ہے کیونکہ آپ کے پردادا امیہ کے باپ عبدالشمس اور رسول اکرمﷺکے پردادا ہاشم،دونوں بھائی تھے، جو قصی کے بیٹے تھے۔ آپ کی والدہ محترمہ کا نام صفیہ بنت ابوالعاص بن امیہ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہاکے والد گرامی اور والدہ ایک ہی خاندان (بنو عبدالشمس کے) چشم وچراغ ہیں۔ گویا دونوں آپس میں قریبی رشتہ دارتھے۔ آپ رضی اللہ عنہاکی والدہ محترمہ کا شجرہ نسب اس طرح ہے۔(صفيه بنت ابوالعاص بن اميه بن عبدالشمس بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوئی۔۔۔)۷

گویا آپ رضی اللہ عنہادونوں طرف سے نجیب الطرفین ہیں اور دونوں اطراف سے رسول اکرمﷺکی رشتہ دارہیں۔ رسول اکرمﷺکے پردادا ہاشم اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اور کے پردادا امیہ کے باپ عبدالشمس، عبد مناف کے بیٹے تھے۔ (عبد مناف کے چھ بیٹے تھے جن کے نام یہ ہیں (۱) ہاشم (۲) نوفل (۳) عبدالشمس (۴) مطلب (۵)ابوعبیدہ (۶) ابو عمیر۔۸ نبی اکرمﷺ بنو ہاشم میں سے ہیں اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہاوالد اور والدہ دونوں کی طرف سے بنو عبدالشمس میں سے ہیں۔ 

آپ رضی اللہ عنہاکے والد گرامی حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ صخر بن حرب مکہ کے مشہور سردار تھے،وہ عام الفیل سے دس برس قبل پیدا ہوئے۹۔ قریش مکہ کا سب سے بڑا نشان جس کا نام عقاب تھاوہ ان کے پاس ہوا کرتا تھا۔حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ ابتداء اسلام میں اسلام کے سخت مخالف اور دشمن رسولﷺتھے۔ ۲ ھ بمطابق۶۲۴ء،معرکہ بدرانہیں کے تجارتی قافلہ کے لوٹنے کے خدشہ کے پیش نظر ہوا اور ان کا بیٹا حنظلہ بدر میں قتل ہوا اور ایک بیٹا عمرو گرفتار ہوا جو کہ بعد میں رہا کر دیا گیا ان کی ایک بیوی ہند کا والد عتبہ بھی بدر میں مارا گیا۱۰۔

جب غزوہ بدر میں کفار کو زبردست نقصان اٹھانا پڑا توحضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے قسم اٹھا لی کہ جب تک محمدﷺسے جنگ کر کے اپنا بدلہ نہ لے گااس وقت تک اپنے سر میں تیل ڈالے گا نہ غسل کرے گا چنانچہ اس نے اپنی قسم پوری کرنے کے لئے دو سو سواروں کو لے کر مدینہ کے قریب ایک پہاڑ نیب کے پاس لے کر آیا اور مدینہ کے ایک طرف عریض میں ایک انصاری کے باغ کو آگ لگا دی اور انہیں اور ان کے ساتھی کو حالت نیندمیں ہی شہید کر دیا چنانچہ نبی اکرمﷺکو خبر ہوئی تو آپﷺنے حضرت بشیر بن عبدالمنذررضی اللہ عنہ کو مدینہ میں نائب مقرر کیا اور خود اس کے تعاقب کو نکلے چنانچہ سردار ابوسفیان اور اس کے سوار بھاگ گئے اور بھاگتے ہوئے ستو بھی پھینک گئے۔ جس بناء پر اس غزوہ کا نام،غزوہ سویق پڑ گیا۱۱۔

غزوہ احد ۳ ھ ؁بمطابق ۶۲۵؁ میں بھی حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ،کافرفوج کے سپہ سالار تھے اور غزوہ خندق ۵ ھ؁ میں بھی مدینہ طیبہ پر جن لشکروں نے حملہ کیا تھا وہ سب لشکرحضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تھے۶۔سردار ابوسفیان رضی اللہ عنہ فتح مکہ سے ایک دو دن قبل مسلمان ہوئے آپﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر آپ رضی اللہ عنہ کی عزت افزائی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: "من دخل دار ابی سفیان فهو آمن، ومن اغلق بابه فهو آمن، ومن دخل المسجد الحرام فهو آمن"۱۲ جب یہ خبر حضر ت ام حبیبہ رضی اللہ عنہاتک پہنچی تو انہوں نے بڑی خوشی و مسرت سے آواز لگائی۔ "من دخل دار ابی فهو امن "۱۳

فتح مکہ کے بعد ابوسفیان نے اسلام اور رسول اللہﷺکی حمایت اور وفاشعاری میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ غزوہ حنین اور طائف میں نبی مقدسﷺ کی ہم رکابی کے شرف سے مشرف ہوئے اور غزوہ یرموک ۱۵ھ میں تو انہوں نے نہایت استقامت کا مظاہرہ کیا حالانکہ اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر ۷۷ برس تھی۔ غزوہ حنین میں ان کی آنکھ جاتی رہی اور یرموک میں کفار سے لڑتے ہوئے دوسری آنکھ بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں جاتی رہی آپ رضی اللہ عنہانے ۲۳ ھ بمطابق ۶۵۳؁ میں اٹھاسی برس کی عمر میں وفات پائی۱۴

سیدۃ ام حبیبہ رضی اللہ عنہاکے متعدد بہن بھائی تھے آپ رضی اللہ عنہاکے بھائیوں میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ۱۵ (جو کہ ماں کی طرف سے سوتیلے بھائی تھے)حضرت یزید۱۶،حضرت عنبسہ۱۷،حضرت حنظلہ۱۸حضرت محمد۱۹اورحضرت عمروشامل ہیں جبکہ بہنوں میں زینب بنت ابی سفیان۲۰ اور ہند بنت ابی سفیان۲۱،أمینہ بنت ابی سفیان۲۲،جویریہ بنت ابی سفیان۲۳،ام حکم بنت ابی سفیان۲۴،صخرہ بنت ابی سفیان ۲۵اور میمونہ بنت ابی سفیان۲۶ کے نام معروف ہیں۔ 

سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہامکہ مکرمہ میں حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے گھر بعثت نبوی سے سترہ برس قبل یعنی ۵عام الفیل میں پیدا ہوئیں۲۷۔

سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا جوان ہوئیں تو آپ رضی اللہ عنہاکا نکاح قریش کے ایک قبیلہ بنو خزیمہ الاسدی کے ایک معزز فرد عبیداللہ بن جحش سے کر دیا گیا اور یہ قبیلہ ابوسفیان بن حرب کا حلیف تھا۲۸آپ کے خاوند کا نسب نامہ اس طرح ہے:عبیدالله بن جحش بن وهاب بن یعمبر بن میره بن مرہ بن کثیر بن غنم بندودان بن خزیمه اسدی۲۹ عبیداللہ بن جحش کی والدہ کا نام امیمہ بنت عبدالمطلب۳۰ ہے جو کہ رسول اللہﷺکی پھوپھی تھیں۔ عبیداللہ، آپﷺ کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے خاوند عبیداللہ بن جحش کے دو بھائی حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ۳۲ اورحضرت ابو احمد بن جحش رضی اللہ عنہ۳۳ تھے۔ جبکہ تین بہنیں ام المومنین حضرت زینب بنت جحش۳۴،حمنہ بنت جحش ۳۵اور حبیبہ بنت جحش۳۶ رضی اللہ عنہن تھیں۔

ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اپنے خاوند اور اس کے بہن بھائیوں کے ہمراہ آغاز اسلام میں مسلمان ہو گئیں اور انہوں نے قرآن مجید کی نوید "وَالسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنصَارِ"۳۷کے مصداق ٹھہرے۔ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہاکے دین اسلام کی قبولیت کی بناء پر بہت سے مصائب برداشت کرنے پڑے۔ آپ رضی اللہ عنہاکے قبول اسلام کا جب سیدہ رضی اللہ عنہاکے والد گرامی اور جب قبروں سے اٹھائے جائیں گے تو ہر جان جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا وہ معلوم کرے گی ۔ابوسفیان نے گھبراتے ہوئے کہا: هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لِمَا تُوعَدُونَ۳۹ ام حبیبہ رضی اللہ عنہانے فرمایا :"أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُواْ نِعْمَةَ اللّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّواْ قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ۔ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ" ۴۰ ابوسفیان نے کہا:(انا اعلم بک یا ابنتی۔)، سیدہ رضی اللہ عنہانے فرمایا:(بل الله بی وبک وبکل خلقة اعلم)۴۱ الغرض ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہانے قبول اسلام کے بعد استقامت کا مظاہرہ کیا اور کسی بھی قسم کا ظلم و تعدی ان کے پایہ استقلال میں لغزش پیدا نہ کر سکا۔

مسلمانوں پر کفار مکہ کا ظلم و تعدی جب تمام حدیں عبور کر گیا تو نبی رحمتﷺ نے مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دی نبی اکرمﷺ کی طرف سے حبشہ ہجرت کی اجازت ملنے پر مسلمانوں کا ایک مختصر سا قافلہ رجب پانچ نبوی میں حبشہ چلا گیا اس قافلہ میں بارہ مرد اور چار عورتیں شامل تھیں۴۲ جن میں سے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور آپ کی زوجہ محترمہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہابنت رسول اللہﷺبھی شامل تھے جن کے بارے میں رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:"انھما اول بیت ھاجر فی سبیل اللہ بعد ابراھیم ولوطؑ" ۴۳ حضرت لوطؑ اور حضرت ابراہیمؑ کے بعد یہ پہلا جوڑا ہے جنہوں نے راہ خدا میں ہجرت کی ہے ۔ اس قافلہ کے بعد مسلمانوں کے ایک دوسرے قافلہ کو بھی مکہ سے حبشہ کی طرف جانا پڑا،جس میں ایک سو ایک مسلمان (تراسی آدمی اور اٹھارہ عورتیں) شامل تھیں۔۴۴

نبی کریمﷺ کی توقع کے مطابق حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے مسلمانوں سے بہترین سلوک کیا اگرچہ کفار مکہ نے حبشہ تک مسلمانوں کا پیچھا کیا، مگر نجاشی نے مسلمانوں کو ان ظالموں کے ہاتھ واپس نہ کیا بلکہ مسلمانوں کو نہایت اعزاز و اکرام کے ساتھ پناہ دی۔ مہاجرین کے اس دوسرے قافلے میں ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اور ان کے خاوند عبیداللہ بن جحش بھی شامل تھے ۴۵، حبشہ میں قیام کے دوران ہی ان کے ہاں ایک بیٹی حبیبہؓ پیدا ہوئی، اسی صاحبزادی کے نام پر حضر ت رملہ رضی اللہ عنہا کی کنیت ام حبیبہ پڑ گئی، اور اسی کنیت سے مشہور ہوئیں حتیٰ کہ آپ کا اصل نام غیر معروف ہو گیا، اور یہی وجہ کہ آپ کے نام میں مورخین میں اختلاف ہے۴۶۔(اس کی تفصیل بیان کر دی گئی ہے)، انہی دنوں کا واقعہ ہے، کہ ایک رات خواب میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند عبیداللہ بن جحش کو نہایت ہی بھیانک شکل و صورت میں دیکھا۔ ابن سعد عمرو بن العاص سے حضرَت ام حبیبہ کی روایت لے کر آئے ہیں:

"اخبرنا محمد بن عمروحدثنا عبد الله بن عمرو بن زهير عن اسماعیل بن عمرو بن سعید بن العاص رضی الله عنه، قال: قالت ام حبیبة رضی الله عنها: رأيت فی النوم عبید الله زوجی بأسوأ صورة وأشوهها ففزعت و قلت: تغیرت والله فاذا هو یقول حیث أصبح: یا ام حبیبة! انی نظرت فی الدین فلم أری دینا خیرا من النصرانية وکنت قد دنت بها، ثم دخلت فی دین محمد صلى الله عليه وسلم وقد رجعت إلی النصرانيه، فقلت: والله ماخیر لک فأخبرته بالرؤيا التي رأيته فلم یحفل بها واکب علی الخمر حتی مات قالت فأری فی النوم کانّ آتیا یقول: یا أم المومنین، ففزعت فأولتها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم یتزوجنی"47.

چنانچہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا خواب سچ ثابت ہوا واقعی آپ رضی اللہ عنہا کے خاوند نے اپنا دین تبدیل کر لیا تھا اس نے اسلام چھوڑ کر نصرانیت اختیار کر لی جب سیّدہ رضی اللہ عنہا کو اس بات کا علم ہوا بے حد پریشان ہوئیں اور خواب عبید اللہ کو سنایا تاکہ وہ خواب سن کر ہی اسلام پر مضبوط ہو جائے، لیکن اس پر اس خواب کا بھی کوئی اثر نہ ہوا اور اس نے عیسائیت پر مضبوطی اختیار کی نیز اس نے شراب نوشی شروع کر دی اور شرابیوں کی صحبت اختیار کر لی، حتیٰ کہ وہ اسی حالت میں مر گیا۴۸۔

مندرجہ بالا روایت میں ظاہر ہوتا ہے کہ جہاں ام حبیبہؓ نے اپنے خاوند عبیداللہ بن جحش کے بارے میں بھیانک خواب دیکھا، وہاں انہوں نے ایک اچھا خواب بھی دیکھا کہ کوئی شخص انہیں ام المومنین کہہ کر پکار رہا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا اس خواب کو دیکھ کر پریشان ہوئیں، کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہا کے ذریعے آپ رضی اللہ عنہا کے خاندان کو قبول اسلام کی توفیق دینا تھی چنانچہ نبی کریمﷺنے نجاشی کو ایک مراسلہ لکھا، جس میں انہیں ہدایت کی گئی کہ اگر ام حبیبہ رضی اللہ عنہا میرے ساتھ نکاح پر رضامند ہو تو نکاح کر کے میرے پاس بھیج دیں، آپﷺ کی طرف سے نکاح کا پیغام لے کر جانے والے حضرت عمرو بن امیہ الضمری رضی اللہ عنہا تھے۴۹۔

نجاشی نے نبی کریمﷺ کا پیغام ملنے کے بعد اپنی لونڈی ابرھہ کو بلایا اور اسے نبی کریمﷺ کا پیغامِ نکاح دے کر سیدۃ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا . ابرھہ نے سیدہ رضی اللہ عنہا سے کہا بادشاہ سلامت کا پیغام ہے کہ نبی کریمﷺ نے مجھے خط ارسال کیا ہے، اور اس میں لکھا ہے کہ میں تمہارا نکاح رسول کریمﷺ سے کر دوں اس پر سید رضی اللہ عنہا اتنی خوش ہوئیں کہ اللہ تعالیٰ کا فوراً شکریہ ادا کیا اور شکرانے کے طور پر ابرھۃ کو جتنا زیور آپ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا وہ سارا اسے دے دیا اور اسے دعائیں دیتے ہوئے فرمایا کہ تم نے مجھے بہت بڑی خوشخبری دی ہے اللہ تعالیٰ تجھے خوشیاں نصیب کرے۔ اس وقت حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس ہاتھوں کے کنگن،پاؤں کے کڑے اور کچھ چاندی کی انگوٹھیاں تھیں۔ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے اپنا وکیل حضرت خالد بن سعید بن العاص بن امیہ رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا، چنانچہ نجاشی ؒنے سیدالرسل حضرت محمد کریمﷺ اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے لئے بعد نماز عشاء باقاعدہ مجلس منعقد کی اور حضرت جعفر طیّار رضی اللہ عنہا سمیت تمام مسلمانوں کو اس محفل میں مدعو کیا،نجاشیؓ نے خود نبی کریمﷺ کی طرف سے نمائندگی کی اور درج ذیل خطبہ نکاح پڑھا۵۰۔

"حمد وستائش ہیں خداوند قدوس اور خدائے غالب اور عزیز و جبار کی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں محمدﷺ اللہ کے برگزیدہ بندے اور رسول برحق ہیں۔ اورآپﷺوہی نبی ہیں جن کی حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے بشارت دی ہے۔ اما بعد!رسول اللہﷺنے مجھے تحریر فرمایا ہے کہ میں آپﷺ کا نکاح ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہا سے کر دوں۔ میں نے آپﷺکے ارشاد کے مطابق آپﷺکا نکاح ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے کر دیا اور چار سو دینار مہرمقررکرتاہوں "۔۵۱

اس کے بعد نجاشیؓ نے چار سو دینار حق مہر کے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے وکیل کے حوالے کر دئیے، پھر حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہا نے درج ذیل خطبہ پڑھا۔

میں اللہ کی حمد و ثناء کرتا ہوں اور اس سے بخشش مانگتا ہوں اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول برحق ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور دین برحق دے کر بھیجا تاکہ اس دین کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کر دے، اگرچہ مشرکین کو ناگوار ہو۔اما بعد! میں نے سرکار دو عالمﷺ کے پیام کو قبول کیا اور آپﷺ کا حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہاسے نکاح کر تا ہوں۔ اللہ تعالیٰ مبارک فرمائے۔۵۲ 

نکاح کے بعد لوگ اٹھ کر جانے لگے تو نجاشیؓ نے کہا: (اجلسوا فان سنة الانبیاء اذا تزوّجوا أن یوکل طعاما علی التزویج)۵۳ "سب بیٹھ جاؤ، انبیاء علیہم السلام کی یہ سنت ہے جب شادی کرتے ہیں تو اس موقع پر مہمانوں کو کھانا کھلاتے ہیں،" تب کھانا لگایا گیا اور سب نے کھانا کھایا اور یہ بابرکت مجلس اختتام کو پہنچی۔۵۴

چونکہ یہ واقعہ احکامِ پردہ سے قبل کا ہے،پس خواتین کے ساتھ مردصحابہ کرام یعنی حضرت خالد بن سعید، حضرت عثمان بن عفان، حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہم اور دیگر مسلمان مرد ں اور عورتوں نے سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو مبارک باد پیش کی، اور حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے حق مہر کی رقم (جو کہ نجاشیؓ نے ادا کی تھی) حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو دے دی ۔دوسرے روز صبح حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہانے ابرھۃ کو بلایا اور اس سے کہا، کہ کل میں نے تمہیں نبی کریمﷺکے طرف سے پیغام نکاح کی خوشی میں جو کچھ میرے پاس تھا وہ دیا تھا وہ اس بڑی خوش خبری کے لئے ناکافی تھا لیکن میں اس وقت خالی ہاتھ تھی اب یہ پچاس دینار لو اور اپنی ضرورت پوری کرو، ابرھۃ نے سونا لینے سے انکار کر دیا، بلکہ ایک تھیلی نکالی، جس میں سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا وہ زیور تھا (جو گزشتہ یوم انہوں نے اس کو نبی کریمﷺکے پیغامِ نکاح کی خوشخبری لانے پر دیا تھا)اُس نے واپس کرتے ہوئے کہا :

"بادشاہ نے مجھے قسم دی ہے کہ میں آپ رضی اللہ عنہا سے کچھ بھی نہ لوں اور جو کچھ آپ رضی اللہ عنہا نے مجھے دیا ہے،میں اس کو واپس کر دوں پھر اگلے دن ابرہہ بہت ساری خوشبوئیں اور مختلف تحفے تحائف لے کر آئی اور سیّدہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں پیش کیے۵۵،نیز اس نے اپنے ایمان لانے کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "وقد اتبعت دین محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم، واسلمت لله وأن تقرئ رسول الله صلى الله عليه وسلم من السلام"۵۶ "میں نے دین محمدﷺکی اتباع کر رکھی ہے اور میں نے اللہ تعالیٰ کے لئے اسلام قبول کیا ہے آپ رضی اللہ عنہا نبی پاکﷺکو میری طرف سے سلام ضرور عرض کیجئے گا اور یہ بھی بتائیے گا کہ میں آپﷺکے دین ہی کی پیروی کرتی ہوں۔

جب سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نبی کریمﷺکی خدمت اقدس میں پیش ہوئیں تو انہوں نے حبشہ کے حالات و واقعات آپ ﷺکو بتائے، نجاشیؓ کا تذکرہ کیا اور نکاح کے خطبہ کا تذکرہ بھی کیا، توحضرت أبرھہ کے دین اسلام کی قبولیت کا بتاتے ہوئے اس کا آپﷺکو سلام بھی پہنچایا، اس پر آپﷺخوش ہوئے اور تبسم فرماتے ہوئے فرمایا ((علیہا السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ))۵۷ نکاح کے بعد حضرت اصمحہ نجاشیؓ نے آپ کو حضرت شرحبیل بن حسنہ اورحضرت عمرو بن امیّہ الضمری رضی اللہ عنہما اور دیگر مسلمانوں کے ہمراہ بھیج دیا۵۸ اور حق مہر کے علاوہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کےساتھ جہیز بھی اپنی طرف سے تیار کر کے بھیجا۔۵۹ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے مدینہ تک کا سفر کشتی کے ذریعے طے کیا اور مدینہ منورہ کے قریب اتریں۔ سرکار دو عالمﷺاس وقت خیبر میں تشریف رکھتے تھے۶۰۔ اس وقت آپ رضی اللہ عنہا کی عمر ۳۶ یا ۳۷سال تھی۔ یہ سن ۶ ھ اور بعض کے نزدیک ۷ ھ کا واقعہ ہے۔ ۶۱

جب رسول اللہﷺ نے سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو اس زمانہ میں ابوسفیان مشرک تھے اور سرکار دوعالمﷺسے برسرپیکار تھے، ان سے کہا گیا کہ محمدﷺنے آپ کی بیٹی سے نکاح کر لیا ہے۔ یہ سن کر ابوسفیان نے کہا (ذلک الفحل، لا یجدع انفه) " آپﷺجوان مرد ہیں آپﷺکی ناک نہیں کاٹی جا سکتی"، یعنی آپﷺ معزز انسان ہیں،ا ٓپﷺکی عزت خراب کرنا آسان نہیں اور اب ادھر ہماری لڑکی ان کے نکاح میں چلی گئی ہے۔۶۲ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پہلے شوہر سے دو بچے پیدا ہوئے۔ عبداللہ اور حبیبہ، حبیبہ رضی اللہ عنہا نے آغوش نبوت میں تربیت پائی۔ اور داوٗد بن عروہ بن مسعود کو منسوب ہوئیں۔ جو قبیلہ ثقیف کے رئیس تھے ۶۳۔ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا خوبصورت تھیں۔ صحیح مسلم میں خود ابوسفیان کی زبانی منقول ہے کہ (عندی احسن العرب واجمله ام حبیبة) ۶۴ میرے نزدیک عرب کی حسین تراور جمیل تر عورت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ہیں۔

حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے ۶۵ روایتیں منقول ہیں آپ رضی اللہ عنہا سے روایت کرنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے۔ ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں،آپ کی بیٹی حبیبہ رضی اللہ عنہا، آپ کے بھائی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ، عتبہ، ان کے علاوہ عبداللہ بن عتبہ، ابوسفیان بن سعید ثقفی (خواہرزادہ) سالم بن سوار (غلام) ابوالجراح، صفیہ بنت شیبہ، زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا، عروہ بن زبیر، ابو صالح السمان، شہر بن حوشب۶۵۔

حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اسلامی تعلیمات پر بہت شدت سے عمل کرتی تھیں۔ اور دوسروں کو بھی تاکید کرتی تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کے بھانجے ابوسفیان بن سعید بن المغیرہ آئے اور انہوں نے ستوکھا کر کلی کی تو کہنے لگیں تم کو وضو کرنا چاہیے کیونکہ جس چیز کو آگ پکائے اس کے استعمال سے وضو لازم آتا ہیں،یہ آنحضرتﷺ کا حکم ہے۶۶۔  لیکن یہ حدیث منسوخ ہو گئی اور اب اونٹ کے گوشت کے علاوہ کسی ایسی چیز پر وضو لازم نہیں، جو آگ پر پکی ہو۔

حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ایک نیک فطرت اور صالح عورت تھیں، مضبوط ایمان کی مالک تھیں اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ایمان کی مضبوطی اور محبت رسولﷺکا یہ منظر قابل ستائش ہے کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والدحضرت ابوسفیان جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے، مدینہ منورہ آئے۔ ان کے آنے کا مقصد نبی کریمﷺسے ملنا اور صلح کی میعاد کو بڑھانے کے بارے میں گفتگو کرنا تھی اور عہد کو مضبوط کرنا تھا چنانچہ ابوسفیان مدینہ پہنچے اور سب سے پہلے اپنی بیٹی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے گھرگئے، جب ابوسفیان، آنحضرتﷺکے بستر پر بیٹھنے کی کوشش کی، تو سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے فوراً بستر لپیٹ لیا۔ ابوسفیان نے پوچھا :'بیٹی تو نے بستر کیوں لپیٹ دیا، کیا تو نے بستر کو میرے قابل نہ سمجھا ؟ یا میں بستر کے قابل نہ ہوں؟ '۔سیدہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا۔ (بل ھو فراش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وانت امرؤ نجس مشرک) " یہ نبی کریمﷺ کا پاکیزہ بستر ہے جبکہ آپ ناپاک اور مشرک ہیں،اس پر ایک مشرک نجس نہیں بیٹھ سکتا"۔ اس پر ابوسفیان نے جھلا کر کہا:(لقد اصابک بعدی شر۔)، "البتہ تحقیق تو میرے بعد شر میں مبتلا ہو گئی ہے"،۶۷ بعد ازاں فتح مکہ کے وقت ابو سفیان مسلمان ہو گئے، رضی اللہ عنہ۔

حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں (تین دنوں کے مکمل ہونے کے بعد) سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئی تو انہوں نے زرد رنگ کی خوشبو اپنے رخساروں پر ملی،پھر فرمایا :مجھے اس خوشبو کی کوئی ضرورت نہیں، لیکن آقائے نامدار ﷺکا ارشاد ہے جو آپﷺنے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا تھا،کہ کسی عورت کے لیے، جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے، یہ جائز نہیں کہ وہ کسی مرنے والے کا تین دن سے زیادہ سوگ کرے۔ البتہ اپنے شوہر کے لیے چار ماہ دس دن سوگ کرنا چاہیے۔۶۸ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے اسلام اور پیغمبراسلامﷺسے ایک مرتبہ سنا تھا، کہ جو شخص بارہ رکعت روزانہ نفل پڑھے گا اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔ فرماتی ہیں (فما برحت اصليهن بعد)،" میں نے ان کو ہمیشہ پڑھا اور کبھی ترک نہیں کیا۔"۶۹۔ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے فضائل میں یہ بھی شمار ہوتا ہے کہ قرآن حکیم کی یہ آیت کریمہ آپرضی اللہ عنہا کے حق میں نازل ہوئی۔ {عسی الله ان یجعل بینکم و بین الذین عادیتم منهم مودة}۷۰اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تمہاری عداوت ہے دوستی کر دے۔ ترجمان القرآن سیدناابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، کہ جب سرکار دو عالم حضرت محمدﷺکا سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نکاح ہوا تو یہ آیت اس وقت نازل ہوئی۷۱۔ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فطرتاً نیک مزاج تھیں۔ ایک مرتبہ آنحضرتﷺسے درخواست کی: آپ میری بہن سے نکاح کر لیجئے۔ آپﷺنےپوچھا: کیا تمہیں پسند ہے، بولیں:جی ہاں، میں ہی آپﷺکی تنہا بیوی تو نہیں ہوں، اس لیے میں یہ پسند کرتی ہوں کہ آپ ﷺکے ساتھ نکاح کی سعادت میں میرے ساتھ میری بہن بھی شریک ہو۔۷۲ آپ رضی اللہ عنہادیگر ازواج النبیﷺیعنی اپنی سوتنوں سے بھی حسن سلوک سے پیش آتی تھیں،اس کے باوجوداللہ تعالیٰ کا خو ف اور آخرت کی فکر آپ رضی اللہ عنہاکو اس قدر زیادہ تھی کہ آپ رضی اللہ عنہانے اپنی وفات سے قبل سیدہ عائشہ صدیقہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما وغیرہ کو بلا کر معافی طلب کی۔خود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، کہ حضرت ام حبیبہ نے اپنی وفات کے وقت مجھے بلایا اور کہا مجھ میں اور آپ میں وہ تعلقات تھے جو باہم سوتنوں میں ہوتے ہیں اس لیے آپ مجھے معاف فرما دیں، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب میں فرمایا :اللہ تعالیٰ ان سب چیزوں کو معاف فرمائے اورتم سے درگزر فرمائے۔اس پر ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:آپ نے مجھے خوش کیا اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھے۷۳۔

ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے قرآن و حدیث کے حفظ کرنے اور ان کی تعلیمات کے حصول کے لیے بڑی محنت و تگ و دو سے کام لیا ۔آپ رضی اللہ عنہا نے جو کچھ آپ ﷺسے سنا اس پر خود بھی عمل کیا اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی بھی جدوجہد کی۔آ پ رضی اللہ عنہا نے علم حدیث کی روایت خود نبی مقدس ﷺ کے علاوہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بنت جحش وغیرہ سے کی ہے جبکہ آپ سے روایت کرنے والوں میں مشہور صحابہ و صحابیات رضی اللہ عنہم اورتا بعین ؒ و تا بعیات ؒ شامل ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا کے تلامذہ میں سے حضرت انس بن مالک،زینب بنت ابی سلمہ،صفیہ بنت شیبہ عروہ بن زبیر،ذکوان سالم بن شوال،شہر بن حوشب،عنبسہ،محمد بن ابی سفیان،حبیبہ بنت عبید اللہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر لوگ شامل ہیں ۷۴۔آپ رضی اللہ عنہا کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ آپ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے بھی درج ذیل روایت پیش کی ہے:

"حدثنا محمد بن المثنیٰ قال:حدثنا یحیٰ عن هشام قال: اخبرنی ابی عن عائشة ان ام حبیبة وام سلمة ذکرتا کنیسة رأيتها بالحبشة فيها تصاویر فذکرتا ذلک للنبی صلى الله عليه وسلم فقال: ان اولئك اذا کان فيهم الرجل الصالح فمات، بنوا علی قبرہٖ مسجداً وصوروا فيه تلك الصور فاولئك شرار الخلق عند الله یوم القیٰمة"۷۵

"ہمیں محمد بن مثنیٰ نے، انہوں نے یحیٰ سے انہوں نے ھشام سے اور انہوں نے اپنے والدِ گرامی سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ حضرت ام حبیبہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے ملکِ حبشہ میں دیکھے گئے ایک کلیسا کا ذکر کیا جس میں تصاویر تھیں۔انہوں نے اس کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ کے پاس کیا تو آپ انے فرمایا: ان لوگوں کا یہ قاعدہ تھا کہ ان میں سے کوئی نیک آدمی مر جاتا تو وہ اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے اور اس میں ان کی مورتیاں بنا کر رکھ لیتے،یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں قیامت کے دن ساری مخلوق سے بدترین ہوں گے"۔ 

آپؓ رسول اکرمﷺ کی روایت حدیث میں بھی بڑی دلچسپی رکھتی تھیں اور صحابیاتؓ میں بہت بڑی محدثہ کے طور پر معروف تھیں آپؓ کی مرویات کی تعداد پینسٹھ ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے :کتاب الطہارۃ۰۷کتاب الوضوء۰۹کتاب الاذان ۰۵کتاب الصلوۃ۱۵کتاب النکاح ۰۶کتاب الحرس۰۳کتاب الجنائز ۰۴کتاب علامات القیامۃ ۰۲کتاب امر بالمعروف ونھی عن المنکر ۰۲کتاب السوم ۰۱کتاب الخمر ۰۱کتاب شرار الخلق ۰۱کتاب الشفاعۃ ۰۱

مختلف کتب احادیث میں حضرت ام حبیبہؓ کی باتکرار احادیث:۔جامع صحیح بخاری ۱۵صحیح مسلم ۱۲جامع ترمذی۰۶سنن نسائی۲۹سنن ابن ماجہ ۰۸سنن الدارمی۰۷موطا امام مالک ۰۱کل تعداد۴۸حضرت ام حبیبہؓ کی مسانید میں احادیث کی تعداد :۔مسند احمد ۵۰مسند ابویعلی۲۶مسند حمیدی۰۳جامع المسانید۳

سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ۴۴ہجری میں مدینہ طیبہ میں انتقال فرمایا۔ اس وقت آپ رضی اللہ عنہا کے بھائی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ خلافت تھا۷۶۔ابن ابی خیثمہ کا بیان ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا کا انتقال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات سے ایک سال قبل یعنی ۵۹ ھ میں ہوا۷۷،جبکہ ابن حبان کا قول ہے کہ ۴۲ ھ میں حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے انتقال فرمایا۷۸۔ابن عساکر کی بعض روایات میں ہے کہ سیدہ رضی اللہ عنہا اپنے بھائی کو ملنے دمشق گئیں اور وہاں ہی آپ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا اور آپ رضی اللہ عنہا کی قبر دمشق میں ہے لیکن صحیح اور اثبت یہی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا کا انتقال ۴۴ ھ کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں مدینہ میں ہوا اور وہیں آپ رضی اللہ عنہا کی قبر ہے۔ وفات کے وقت عمر مبارک ۷۳ برس تھی۷۹۔

آپ حضرت رضی اللہ عنہا کی قبر کے متعلق یہ آتا ہے کہ حضرت علی بن حسینؒ یعنی حضرت زین العابدینؒ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ اپنے مکان کا ایک گوشہ کھدوایا،اس سے ایک کتبہ برآمد ہوا جس پر مرقوم تھا۔ (هذا قبر رملة بنت صخر)، "یہ رملہ بنت صخر کی قبر ہے،"میں نے اس کو دیکھا اور وہیں رکھ دیا۸۰۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہاکی قبر مدینہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مکان میں ۴۲ ھ میں حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا تھی۔ واللہ اعلم بالصواب۔

حواشی وحوالہ جات:

۱۔الطبقات، ج:۸، ص:۷۶؛الاصابہ، ج:۸، ص:۱۴۰؛ تہذیب التہذیب، ج:۶، ص۵۹۴۲۔لاستیعاب، ج:۴، ص:۱۸۴۳

۳۔تہذیب التہذیب ج۶، ص:۵۹۴

۴۔تہذیب التہذیب ج۶، ص:۵۹۴

۵۔تفصیلات کے لئے کتب حدیث صحاح ستہ، مسانید خصوصاً:مسند احمد،مسند ابو یعلیٰ،مسند حمیدی اور جامع المسانید ملاحظہ کیجئے۔

۶۔الاصابہ، ج:۸، ص:۱۴۰، الطبقات، ج:۸، ص:۷۶

۷۔الطبقات، ج:۸، ص:۷۶

۸۔ملاحظہ ہو کتب سیر و رجال

۹۔ذھبی:شمس الدین(م۷۴۰ھ)تہذیب سیر اعلام النبلاء،[بیروت:موسسۃ الرسالہ،طبعہ اولیٰ۱۴۱۲ھ] ج:۱، ص:۵۳

۱۰۔ابن ھشام(م۲۱۸ھ) السیرۃ النبویۃ، [طرابلس:مکتبۃ الایمان،طبعہ ثالثہ،۱۴۲۱ھ/۲۰۰۰ء]ج:۲، ص:۷۰-۷۱ 

۱۱۔ ایضاً

۱۲۔تہذیب سیر اعلام النبلاء، ج:۱، ص:۵۳

۱۳۔تاریخ الطبری، ج:۳، ص:۱۷۔ طبقات ابن سعد، ج:۲، ص۹۸، السیرۃ النبویۃ ج:۴، ۱

۱۴۔ایضاً 

۱۵۔تہذیب سیر اعلام النبلاء۔ ج:۱، ص:۵۳ 

۱۶۔حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ: آپ رضی اللہ عنہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے سوتیلے بھائی اور حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں۔فتح مکہ کے دن مسلمان ہوئے۔آپ رضی اللہ عنہ کا شمار کاتبان وحی میں ہوتا ہے۔رسول اکرم ﷺکے علاوہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور اپنی بہن ام حبیبہ رضی اللہ عنہاسے روایت کرتے ہیں اورآپ رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والوں میں سے جریر بجلی،سائب کندی،ابن عباس رضی اللہ عنہم،سعید بن مسیب اور ابو مجلز وغیرہ شامل ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی عہد مبارک میں آپ رضی اللہ عنہ کو شام کا گورنر بنایا گیا۔بعد ازیں مسند خلا فت پر براجمان ہوئے۔آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ساٹھ ہجری میں ہوا۔(تھذیب التھذیب،ج:۵،ص:۴۷۸،دار احیاءالتراث العربی،بیروت،۱۹۹۳ء)

۱۷۔حضرت یزیدرضی اللہ عنہ: آپ بھی حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ہیں۔آپ کو یزیدالخیر بھی کہا جاتا ہے۔رسول اکرمﷺاور حضرت ابو بکر ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں اور آپ سے ابو عبداللہ اشعری،عیاض اشعری اور جنادہ بن امیہ وغیرہ روایت کرتے ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو فلسطین کا گورنر بنایا۔آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ۱۸ھ میں طاعون کی بنا پر ہوا۔(تھذیب التھذیب،ج:۶،ص:۲۰۸-۲۰۹، تھذیب سیر اعلام النبلاء،ج:۱،ص: حضرت عنبسہ:آپ بھی حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ہیں۔آپ کی کنیت ابو الولید ہے۔جلیل القدر تابعی ہیں۔حضرت ام حبیبہ اور شداد بن اوس وغیرہ سے روایت کرتے ہیں،جبکہ آپ سے ابو امامہ باھلی،حسیب،مکحول اورعطا بن ابی رباح وغیرہ روایت کرتے ہیں ۔امام ابن حبان نے آپ کا تذکرہ الثقات میں کیا ہے۔ (تہذیب التہذیب،ج:۴،ص:۳۹۸) 

۱۹۔حضرت حنظلہ:آپ بھی حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہاکے بھا ئی ہیں۔

۲۰۔محمد بن ابی سفیان:محمد بن ابی سفیان صخر بن حر ب بن امیہ الاموی معاویہ ؓ اور ام حبیبہ ؓ کے بھائی ہیں۔آپ اپنی بہن ام حبیبہ ؓ سے ظہر سے چار رکعتوں کی محفاظت والی حدیث بیان کی ہے اور آپ سے سلیمان بن موسی وغیرہ روایت کرتے ہیں۔(تہذیب التہذیب، ج : ۷،ص: ۱۷۰)

۲۱۔زینب بنت ابی سفیان:آپ رضی اللہ عنہاحضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں۔آپ رضی اللہ عنہاکی شادی عروہ بن مسعود ثقفی سے ہوئی۔حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے قبول اسلام سے پہلے دس شادیاں کر رکھی تھیں۔آپ ﷺنے عروہ رضی اللہ عنہ کو چار بیویاں رکھنے اور باقیوں کو چھوڑنے کا حکم دیا تو انہوں نے حضرت زینب سمیت چار بیویاں رکھیں۔آپ رضی اللہ عنہا کے بیٹے داؤد بن عروہ کی شادی حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی صاحبزادی حبیبہ رضی اللہ عنہا ربیبۃ رسول اللہﷺ سے ہوئی۔(اسد الغابہ،ج:۶،ص:۱۳۵)

۲۲۔ہند بنت ابی سفیان:آپ رضی اللہ عنہابھی حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں۔آپ رضی اللہ عنہاکی شادی الحارث بن نوفل بن عبد المطلب سے ہوئی۔آپ کی اولاد میں سے محمد،عبداللہ، ربیعہ،عبدالرحمن،رملہ اورام زبیر شامل ہیں۔(الطبقات،ج:۸،ص:۱۹۰)

۲۳۔أمینہ بنت ابی سفیان:آپ رضی اللہ عنہابھی حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں۔آپ رضی اللہ عنہا کی والدہ کا نام صفیہ بنت ابی العاص ہے۔آپ رضی اللہ عنہاکی شادی حویطب بن عبد العزیٰ سے ہوئی اور ان کے بعد صفوان بن امیہ سے ہوئی۔ حویطب سے آپ کے ہاں ابوسفیان پیدا ہوئے اور صفوان سے عبد الرحمن پیدا ہوئے۔(الطبقات،ج:۸،ص:۱۹۰)

۲۴۔جویریہ بنت ابی سفیان:آپ رضی اللہ عنہابھی حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں۔آپ رضی اللہ عنہا کی والدہ کا نام ہند بنت عتبہ بن ربیعہ ہے۔آپ رضی اللہ عنہاکی شادی السائب بن ابی حبیش سے ہوئی۔ان کے بعد عبد الرحمن بن حارث سے ہوئی۔(الطبقات،ج:۸،ص:۱۹۰)۲۵ ام حکم بنت ابی سفیان:آپ رضی اللہ عنہابھی حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں۔آپ رضی اللہ عنہا کی والدہ کا نام ہندبنت عتبہ بن ربیعہ ہے۔آپ رضی اللہ عنہاکی شادی عبداللہ بن عثمان سے ہوئی اور ان سے عبد الرحمن پیدا ہوا۔(الطبقات،ج:۸،ص:۱۹۰)

۲۶۔صخرہ بنت ابی سفیان:آپ رضی اللہ عنہابھی حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں۔آپ رضی اللہ عنہا کی والدہ کا نام صفیہ بنت ابی عمرو ہے۔آپ رضی اللہ عنہاکی شادی سعید بن الاخنس سے ہوئی۔(الطبقات،ج:۸،ص:۱۹۰)

۲۷۔میمونہ بنت ابی سفیان:آپ رضی اللہ عنہابھی حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں۔آپ رضی اللہ عنہا کی والدہ کا نام لبابہ بنت ابی العاص بن امیہ ہے۔آپ رضی اللہ عنہاکی شادی عروہ بن مسعود الثقفی سے ہوئی اور ان کے بعد مغیرہ بن شعبہ الثقفی سے ہوئی۔(الطبقات،ج:۸،ص:۱۹۱)

۲۸۔الاصابہ ج:۸، ص:۱۴۰

۲۹۔ایضاً

۳۰۔ الطبقات،ج:۸ ص:۷۶

۳۱۔حضرت امیمہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا:آپ رضی اللہ عنہارسول اکرم ﷺ کی پھوپھی ہیں۔آپ رضی اللہ عنہاکی والدہ کا نام فاطمہ بنت عمرو بن عائذ بن عمران بن مخزوم ہے۔ آپرضی اللہ عنہا کی شادی جحش بن ریاب الاسدی سے ہوئی۔آپ رضی اللہ عنہاکی اولاد میں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ،ابو احمد،عبید اللہ،زینب،حمنہ اور حبیبہ شامل ہیں۔(الطبقات،ج:۸ ص:۳۷)

۳۲۔عبد اللہ بن جحش رضی اللہ عنہا: ام المومنین حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے بھائی ہیں145 آپ رضی اللہ عنہ کو بھی شرف صحابیت حاصل ہوا145 آپ رضی اللہ عنہ ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ دونوں سے مشرف ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو ۲ھ میں بطن نخلہ کی جانب بارہ مہاجرین کی قیادت دے کر روانہ کیا اور امیرالمومنین کے معزز خطاب سے نوازا۔ غزوہ بدر اور اُحد میں شرکت کی اور غزوہ احد میں شہید ہوئے آپ کو سید الشھداءحضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ قبر میں دفن کیا گیا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ دونوں نے غزوہ احد سے ایک دن پہلے دعائیں کیں، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے درج ذیل دعا کی "(اللهم ارزقنی نمدار جلا شدیدا باسه شدیدا حردہ اقاتله فیک ویتقاتلنی فیقتلنی ثم یاخذنی فیجدع انفی واذنی فاذا لقسك قلت یا عبدالله فیم جدع انفك واذنك فاقول فیك فی رسولك فتقول صدقت":  الٰہی میرا مقابلہ ایسے آدمی سے ہو جو حملہ اور مدافعت میں ماہر ہو ہم دونوں لڑیں میرا لڑنا تیری راہ میں ہو پھر وہ مجھے قتل کر دے، پھر وہ میری ناک اور کان کاٹ ڈالے پس جب میں تیرے سامنے حاضر ہوں تو پوچھے اے عبداللہ! تیری ناک اور کان کیوں کاٹے گئےتب میں عرض کروں تیری اور تیرے رسول کی راہ میں تو فرمائے کہ ہاں تو سچ کہتا ہے"۔ (الاستیعا بٍٍ، ج : ۱ ۔ ص : ۲۶۴۔۲۶۵)

۳۳۔ابواحمد بن جحش رضی اللہ عنہا: حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں۔ 

۳۴۔زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا:آپ رضی اللہ عنہا رسول اکرم ﷺکی پھوپھی کی صاحبزادی ہیں۔آپ کی شادی حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی لیکن نباہ نہ ہو سکا اور بعدازیں آپ رضی اللہ عنہا کو رسول اکرم ﷺکی زوجہ محترمہ ہونے کا شرف حاصل ہوا۔آپ رضی اللہ عنہا کے حالات الگ تفصیل سے دیے جائیں گے۔ (الطبقات،ج:۸ ص:۸۰تا۹۱)۳۵ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا:آپ رضی اللہ عنہا رسول اکرم ﷺکی پھوپھی کی صاحبزادی ہیں۔آپ کی شادی حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ان کے بعد آپ کی طلحہ بن عبید اللہ سے ہوئی۔(الطبقات،ج:۸ ص:۱۹۱)

۳۶۔حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا:آپ رضی اللہ عنہا رسول اکرم ﷺ کی پھوپھی کی صاحبزادی ہیں۔آپ رضی اللہ عنہا کی شادی حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔(الطبقات،ج:۸ ص:۱۹۱)

۳۷۔القرآن:التوبہ(۹):۱۰۰

۳۸۔القرآن:الانفطار(۸۲):۴

۳۹۔ ایضاً:المومنون(۲۳):۳۶

۴۰۔ایضاً:ابراہیم(۱۴):۲۸

۴۱۔عبدالعزیز شناوی، نساءالصحابہ، [مکتبۃ التراث الاسلام قاھرۃ،سن ندارد] ص:۱۱۴۔۱۲۸

۴۲۔سلمان منصور پوری :قاضی،رحمۃ للعالمین، [ریاض:دار السلام،۱۴۱۸ھ]ج:۲، ص:۲۸۸۔۲۲۶

۴۳۔اسد الغابہ،ج:۶،ص:۱۱۸

۴۴۔رحمۃ للعالمین، ج:۲، ص:۲۸۸۔۲۲۶

۴۵۔ ازھری، کرم شاہ، ضیاءالنبیﷺ، ضیاءالقرآن پبلی کیشنز لاہور، ۱۹۹۴ء] ج:۲، ص:۳۴۳

۴۶۔ الطبقات، ج:۸، ص:۷۷

۴۷ ۔الطبقات، ج:۸، ص:۷۷

۴۸۔ ایضاً

۴۹۔الاصابہ، ج:۸، ص:۱۴۱۔۱۴۰

۵۰۔الطبقات، ج:۸، ص:۷۷

۵۱۔الطبقات،ج:۸،ص:۷۷

۵۲۔ایضاً

۵۳۔ایضاً

۵۴۔الاصابہ، ج:۸، ص:۱۴۱۔۱۴۰

۵۴۔الطبقات، ج:۸، ص:۷۸

۵۶۔ایضاً

۵۷۔الاصابہ، ج:۸، ص:۱۴۱

۵۸۔ایضاً

۵۹۔مسند احمد، ح:۲۶۹۹۷

۶۰۔ الاصابہ، ج:۸، ص:۱۴۱

۶۱۔الاستیعاب، ج:۴، ص:۱۸۴۵

۶۲۔الطبقات، ج:۸، ص:۷۸

۶۳۔ایضاً،ص:۷۷-۷۶،اسدالغابہ،ج:۶،ص:۶۵

۶۴۔مسلم،کتاب فضائل الصحابہ،باب من فضائل ابی سفیان(۴۰)،ج:۶۴۰۹،ص:۱۱۱۷

۶۵۔ تہذیب التہذیب ج۶، ص:۵۹۴

۶۶۔ مسند احمد،حدیث ام حبیبہ ؓ،ح:۲۶۸۲۹،ج:۶،ص:۳۵۹-۳۶۰*

  • نوٹ:یہ حکم آپ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺکے فرمان((توضؤا مما مست النار))کے تحت دیا تھا لیکن یہ حکم بعد میں منسوخ ہوگیا تھا۔ملاحظہ ہو، سنن ابن ماجہ، کتاب الطہارت، باب الوضوئ، مما غیرت النار، ح: ۴۸۵، ۴۸۸،۴۸۹،ص:۹۶

۶۷۔الاصابہ،ج:۸ص:۱۴۲

۶۸۔سلم، کتاب الطلاق، باب وجوب الاحداد فی عدۃ الوفاۃ(۹)، ح :۳۷۲۵، ص:۹۳۳

۶۹۔مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین، باب فضل السنن الراتبۃ قبل الفرائض وبعدھن(۱۵)، ح:۱۶۹۶، ص:۲۷۹۲

۷۰۔القرآن:الممتحنہ(۶۰):۷

۷۱۔الاصابہ، ج:۸، ص:۱۴۲

۷۲۔ مسلم، کتاب الرضاع، باب تحریم الربیبۃ واخت المرأۃ، ح:۳۵۸۶، ص:۹۲۲

۷۳۔مستدرک حاکم،ج:۴،ص:۲۲؛ الطبقات،ج:۸،ص:۷۹-۸۰

۷۴۔ تھذیب التھذیب،ج:۶،ص:۵۹۴

۷۵۔بخاری،کتاب الصلاۃ،باب ھل تنبش قبور مشرک الجاھلیۃ(۴۸)ح:۴۲۷،ص:۳۶

۷۶۔الطبقات، ج:۸، ص:۸۰

۷۷۔الاصابہ، ج:۸، ص:۱۴۲

۷۸۔ایضاً

۷۹۔الاستیعاب، ج:۴، ص:۱۸۴۶

۸۰۔ایضاً