Playstore.png

حلالہ اور مروجہ حلالہ سنٹرز: ایک تجزیاتی مطالعہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ الایضاح
عنوان حلالہ اور مروجہ حلالہ سنٹرز: ایک تجزیاتی مطالعہ
انگریزی عنوان
Halala and Halala Centres: A Scholarly Review
مصنف الدىن، حافظ صالح، محمد ماجد خان
جلد 30
شمارہ 1
سال 2015
صفحات 149-164
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
شکاگو 16 الدىن، حافظ صالح، محمد ماجد خان۔ "حلالہ اور مروجہ حلالہ سنٹرز: ایک تجزیاتی مطالعہ۔" الایضاح 30, شمارہ۔ 1 (2015)۔
عالمی امن میں اسلام کا کردار
دینی مدارس پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کے الزامات: ایک تجزیاتی مطالعہ
عرب اسلامی روایت کے برصغیر پاک و ہند میں تفسیر نگاری پر اثرات: عہد رسالت تا خلافت عباسیہ کے تناظر میں اختصاصی مطالعہ
حضرت آدم علیہ السلام بائبل اور قرآن کى روشنى میں
اسلام میں امن اور دہشت گردی کا تصور: ایک علمی اور تحقیقی جائزہ
قذف اور پاکستانی معاشرہ: اسلامی حوالے سے تنقیدی جائزہ
قانون ٹارٹ كا فقہ اسلامى كى روشنى میں جائزہ
افغانستان کی اسلامی تاریخ کے پیش رو صحابہ کرام: عہد خلافت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ
حلالہ اور مروجہ حلالہ سنٹرز: ایک تجزیاتی مطالعہ
جنگی قیدیوں کے حقوق شریعت اسلامیہ اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں
اسلام اور ہندو مت میں مادی اور روحانی طہارت کے اصول
اسلام اور جین مت میں طہارت کا تقابلی جائزہ
علاج معالجہ اور دم کی شرعی حیثیت
جنگی جرائم اسلام اور بین الاقوامی قانون کے تناظر میں
علامہ عینی اور ان کی خدمات کا علمی جائزہ
سورة الكوثر بين الإعجاز البلاغي وتحديات الترجمة
الزمخشري وموقفه من الاستشهاد بشعر المؤلدين في ضوء تفسيره الكشاف
مؤسسة الإزدواج والأسرة في ضوء الشريعة الاسلامية
ضوابط قبول التفرد في رواية الحديث دراسة مع أمثلة من تطبيقات النقاد
مميزات التشريع الجنائي في الفقه الإسلامي: دراسة تحليلية
Principles and Rules of Jihad: A Juristic Approach
Peace, the Essential Message of Islam
Orientalists on the Style of Quran: A Critical Study
The Genesis of Shi’ism in Islam
Origin of Earth: A Quranic Perspective
Rights of Non-Muslim Minorities in a Muslim Country in the Light of Qur’an and Sunnah
Pakistan’s Stance on the War on Terror: Challenging the Western Narrative
Impact of Hajj on Muslims With Special Reference to Pakistan

Abstract

Almighty Allah made marriage a source of affection and love among the human beings. He also ordered to uphold this relation as much as possible. If, on one way or the other the relationship of a couple becomes so unpleasant that their family life becomes impossible to move any more further. In this case the Islamic “Sharia’h” recommends opening of the ways for their respectable separation in the shapes of “Divorce” and “Khula’a” (divorce obtained on wife’s initiative,s). Though Islamic sharia’h has declared “Divorce” as legal act, yet marriage being a great sacred relation which is desired to be retained intact to the maximum, it has been named as the most unpleasant among the permissible acts in Islam. Some human beings very abruptly break the same relation (Nikah) without proper consideration. Some of these persons later on repent on what they have done. Allah Almighty  therefore, very affectionately has allowed men after uttering two times the words, ‘Divorcee (Talaq) at different times to reconcile with their wives. But if he disrespecting this great relation stress-passes the final time and utters the word “Divorce” (Talaq) for the third time in his life so the religion has fixed certain punishment for his this very irresponsible act as a punishment that though, both spouses may agree to continue their married life, Islam does not allow them to do so, prior to undergoing the process of re-marrying  the woman with another person to fulfill the condition of her reunion with her first husband. This process is called “Halala”  In the article under reference side by side with presenting the literal meaning and idiomatic definitions of Halala, its Shari status has also been elaborated. Efforts  have been intensified to recollect the different views of all jurists  regarding this practice and examine the same analytically. In addition to that with the help of irrefutable proofs, the adverse effects of the so called “Halala,s centers” have been proved to warn the people to stay away from them.

تمہید:

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کےدرمیان نکاح کو محبت و مودت کا سبب بنایا اور ممکنہ حد تک اس رشتہ کو قائم رکھنے کا حکم دیا۔لیکن اگر زوجین کے مابین معاملات اس حد تک نا خوشگوار چلے جائیں کہ اکھٹا رہنا ممکن ہی نہ ہو ،تو پھر ان کے لئے طلاق اور خلع کی شکل میں باعزت جدائی کی راہ کھولنے کی شریعت نےسنّت طلاق کی شکل میں سفارش کی ہے۔شریعتِ اسلامی نے اگر چہ طلاق کو مشروع کر دیا ہے ،مگر چونکہ نکاح ایک عظیم رشتہ ہے اس لئے اس کو ممکنہ حدتک قائم و دائم رکھنے کے لئےاس کو’’ابغض المباحات ‘‘ بھی قرار دیا ہے۔

لیکن انسان بعض اوقات عجلت میں نکاح کے بندھن کو طلاق کے ذریعےختم کر دیتا ہے اور بعد میں پچھتاتا ہے،اس لئے باری تعالیٰ نے احسان فرما کر دو مرتبہ رجوع کا اختیار دے دیااور اگر کوئی نکاح جیسے عظیم رشتہ کی ناقدری میں آخری حد کوبھی پار کرتے ہوئے تین مرتبہ طلاق دے دیتا ہے ،تو شریعت نے نکاح کے عظیم رشتے کو ختم کرنے کا جُرمانہ اور سزا یہ مقر ر کی کہ یہ میاں بیوی اگر راضی بھی ہوں ،تب بھی ان کو رجوع کا اختیار حاصل نہیں ہوگااور اب ان دونوں کے ملاپ کا ایک ہی طریقہ ہے ،جس کو " حلالہ "کے نام سے یاد کیا جا تاہے۔

زیر نظر آرٹیکل میں لفظ حلالہ کی لغوی اور اصطلاحی تعاریف کے ساتھ ساتھ اس کی شرعی حیثیت کی بابت فقھاکرام کے آرا کو تحقیقی اور استقصائی مراحل سے گزارا جانے کی کوشش کی گئی ہے نیز مروّجہ حلالہ سنٹرز کے فساد کو مد نظر رکھ کر اس سے دور رہنے کی حقیقت کو براہین کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے۔

حلالہ کی لغوی و اصطلاحی تعریف:

حلالہ حل یحل(باب نصر ،ضرب) سے آتا ہے ،جس کے معنیٰ کھولنے اور نازل ہونےکے ہیں جیسے آیت کریمہ ہے:ومن يحلل عليه غضبي فقد هوى [1]"اور جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ ہلاک ہوگیا" اورحلال ہونے (حرمت کی ضد) کے آتے ہیں[2]۔قرآن کریم میں حلال ہونے کے معنیٰ میں بکثرت یہ لفظ مستعمل ہے ،جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے احلت لكم بهيمة الأنعام [3]" تمہارے لیے چارپائے جانور (جو چرنے والے ہیں) حلال کر دیئے گئے ہیں"اور أحل الله البيع وحرم الربوا [4]"بیع کو اللہ نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام" ۔

حلالہ کی اصطلاحی تعریف تہذیب اللغۃ میں ان الفاظ کے ساتھ کی گئی ہے : ’’هو أن يطلق الرجل امرأته ثلاثا فيتزوجها رجل بشرط أن يطلقها بعد موافقته إياها لتحل للزوج الأول‘‘[5]۔

"وہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اس عورت کے ساتھ دوسرا آدمی اس شرط پر نکاح کرے کہ وہ اس عورت سے جماع کرنے کے بعد اس کو طلاق دے دے گا تاکہ وہ عورت پہلے خاوند کے لئے حلال ہوجائے"۔

تہذیب اللغۃ کی تعریف میں اگرچہ نکاح بشرط’’ التحلیل ‘‘کو حلالہ کہا گیا مگر شرط نہ بھی ہو ،تب بھی دوسرے شوہر کے طلاق یا موت کے بعد اس کے نکاح کو حلالہ اور دوسرے شوہر کو محلل کہا جائے گا،جیسا کہ فقہ السنۃ میں ہے: هو ان يتزوج المطلقة ثلاثا بعد انقضاء عدتها او يدخل بها ثم بطلقها ای يدخل بها للزوج الاول[6]

"حلالہ یہ ہے کہ عورت سےطلاق ثلاثہ کے بعد عدت گزر جانے پرنکاح کیا جائے اور دخول کے بعد اسے طلاق دیا جائے،تا کہ وہ پہلے شوہر کے لئے حلال ہو جائے"۔

حلالہ کا ثبوت قرآن کریم سے:

سورۃ البقرۃ کی آیت کریمہ[فإن طلقها فلا تحل له حتى تنكح زوجا غيره ][7]

"پھر اگر شوہر (دو طلاقوں کے بعد تیسری) طلاق عورت کو دے دے تو اس کے بعد جب تک عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے اس (پہلے شوہر) پر حلال نہ ہوگی"

آیت کریمہ میں طلاق ثلاثہ کے بعد زوج اول کی طرف رجوع کا بیان ہے۔

اس آیت کی تفسیر میں علامہ ابن جریر ؒ [8]فرماتے ہیں کہ جب ایک شخص اپنی بیوی کو دو طلاقوں کے بعد تیسری طلاق دے دیتا ہے ،تو یہ عورت اس شخص کے لئے اس وقت تک حلال نہیں ہوتی ،جب تک اس طلاق دینے والے کے علاوہ کوئی دوسرا اس سے نکاح نہ کرلے[9]۔مطلقہ کے زوج اول کے پاس واپسی کا جو طریقہ آیت کریمہ میں بیان ہوا ،یہی حلالہ ہے۔

حلالہ کا ثبوت حدیث مبارک سے:

صحیحین میں سیدہ عائشہؓ[10] سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک مطلقہ عورت آئی اور اپنے دوسرے شوہر کی مردانہ کمزوری کا ذکر کیا اور پہلے شوہر کی طرف لوٹنے کے متعلق استفسار کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [لا تحلين لزوجك الأول حتى يذوق الآخر عسيلتك وتذوقي عسيلته][11]

"تم اپنے پہلے شوہر کے لئے اس وقت حلال نہیں ہو سکتی ،جب تک دوسرا شوہر تمہارے اور تم اس کا مزہ نہ چکھو"

اس حدیث مبارک میں بھی حلالہ کو زوج اول کی طرف رجوع کا واحد راستہ بتایا گیا۔

حلالہ کی شرائط:

پہلی شرط:

حلالہ کے لئے نکاح صحیح کا ہونا شرط ہے کیونکہ حتى تنكح زوجا غيره میں مطلق نکاح کا ذکر ہے اور اس سے مراد حقیقی نکاح ہے ،جب کہ نکاحِ فاسد پر حقیقی نکاح کا اطلاق نہیں ہوتا [12]۔

دوسری شرط :

زوج ثانی کے لئے دخول شرط ہے ،بغیر دخول کےعورت زوج اول کے لئے حلال نہیں ہوگی کیونکہ حتى تنكح زوجا غيره میں نکاح سے مراد وطی ہے اور اس بات پر دلیل تنکح اور زوج کا جمع ہو نا ہے ۔اگر یہ معنیٰ مراد نہ لے تو یہ بلا فائدہ تکرار ہوگا۔وطی کا ایسا ہونا شرط ہے کہ جس سے غسل اور حد واجب ہو[13]۔

سعید بن المسیبؒ [14]زوج ثانی کے لئے دخول شرط نہیں کرتے۔وہ حتى تنكح زوجا غيره ظاہر سے استدلال کرتے ہیں ،مگر ان کے علاوہ تمام ائمہ زوج ثانی کے لئے دخول شرط کرتے ہیں[15]۔

حسن بصریؒ [16]زوج ثانی کے لئے دخول کے ساتھ انزال بھی شرط کرتے ہیں،مگر ائمہ میں کوئی اس کا قائل نہیں[17]۔

تیسری شرط:

وطی(ہم بستری) کا اپنے مقام میں ہونا شرط ہے ،غیر محل میں کی گئی وطی سے عورت زوج اول کے لئے حلال نہ ہوگی[18] کیونکہ صحیح البخاری کی حدیثلاتحلین لزوجک الأول حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك[19]

"تم زوج کے لئے حلال نہیں ہو سکتی جب تک تم اس کا اور وہ تمہارا مزہ نہ چکھیں"

مذکورہ بالا حدیث سے ایسی وطی کا ہونا شرط ہے ،جس سے لذت حاصل ہواور وطی سے لذت اس وقت حاصل ہوتی ہے ، جب وہ اپنے محل میں ہو۔

چوتھی شرط:

زوج ثانی کا نکاح زوج اول کے طلاق کے بعد عدت ختم ہونے پر ہو ،اسی طرح زوج اول تب نکاح کرے جب عورت زوج ثانی کی عدت پوری کر چکی ہو۔یہ پہلے شرط میں داخل ہے کیونکہ نکاح صحیح کےلئے ضروری ہے کہ وہ عدت میں نہ ہو[20]۔

حلالہ کے اقسام:

قسم اوّل:

حلالہ کی ایک قسم یہ ہے کہ زوج ثانی تحلیل کی شرط و نیت کے بغیر نکاح کرے اور پھردخول کے بعد وفات پا جائے یا طلاق دے دے اور زوج اول اس کے بعد نکاح کرے۔

حلالہ کی یہ قسم تمام ائمہ کے نزدیک جائز ہے۔قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں حلالہ کی اسی قسم کا ذکر ہے ،جیسا کہ پہلے گزر چکاہے اور اس قسم میں کوئی حرمت و کراہت نہیں ۔

قسم دوم:

حلالہ کی ایک قسم یہ ہے کہ زوج ثانی تحلیل کی شرط کے بغیر نکاح توکرے،مگر اس کی نیت و قصد یہ ہو کہ عورت کو زوج اول کے لئے حلال کرے ،تاکہ میاں بیوی اور ان دونوں کے خاندان طلاق کے بعد جس اذیت کا شکار ہیں، یہ ان کےلیے اس سے نجات کا ذریعہ بنے۔

حلالہ کی اس قسم(نکاح بقصد التحلیل)کے متعلق ائمہ کے درمیان مندرجہ ذیل اختلاف ہے :

امام مالک ؒ [21]کے نزدیک یہ نکاح فاسد اور قابل فسخ ہے۔اس نکاح سے زوج اول کے لئے حلال نہ ہوگی[22]۔

امام احمد ؒ [23]کے نزدیک نکاح بقصد التحلیل باطل ہے اور عورت زوج اول کے لئے کسی صورت حلال نہیں ہوگی ۔ ان کے نزدیک حلالہ کے لئے نکاح میں نیت و شرط برابر ہے۔

امام احمد کی ؒ دلیل سنن ابو داؤد کی حدیث:لعن الله المحلل والمحلل له[24]

"محلل اور محلل لہ پر اللہ تعالیٰ لعنت فرماتا ہے"۔

امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں عموم ہے ، جو نکاح بقصد التحلیل کی حرمت پر دلالت کر رہا ہے۔

سنن الترمذی کی ایک حدیث سے بھی ان کے مذہب کی تائیدہوتی ہے:ان رسول الله ﷺ لعن المحلل والمحلل له[25]

"رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی ہے حلال کرنے والے (محلل)اور جس کے لئے حلالہ کیا جائے(محلل لہ) پر"۔

اسی طرح امام احمدؒ سیدناابن عمر ؓ [26]کے ایک قول سے بھی استدلال کرتے ہیں کہ جب ان سے نکاح بقصد التحلیل کے متعلق پوچھا گیا ، تو انہوں نے اس کو زنا قرار دیا[27]۔

امام ابو حنیفہؒ[28] اور امام شافعی ؒ [29]کے نزدیک یہ نکاح صحیح ہے کیونکہ معاملات میں مجرد نیت کا اعتبار نہیں[30]۔اس لئے نکاح بقصد التحلیل میں دخول کے بعد اگر زوج ثانی طلاق دے ،تو عدت کے بعد عورت زوج اول کے لئے حلال ہوگی۔

فقہ السنۃ میں امام شافعیؒ کا قول کچھ یوں نقل ہے کہ: فاما من لم يشترط ذلک فی عقد النکاح فعقدہ صحيح[31]

"پس جو نکاح میں حلالہ کی شرط نہ رکھے گا ،تو وہ نکاح صحیح ہوگی"۔

سیدنا ابن عمر ؓ کے قول میں زنا کے ساتھ تشبیہ صرف حرمت میں ہے نہ کہ عدم انعقاد میں اور اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ سیدنا ابن عمرؓ نے اس معاملے میں زوجین کے درمیان تفریق کا حکم نہیں دیا [32]۔

احناف میں سے بعض ائمہ کے نزدیک اگر نکاح میں زوج اول اور عورت کے مابین اصلاح کی نیت کی گئی ہو اور کوئی شرط رکھے بغیر دل میں ہی تحلیل کا ارادہ کرے ،تو وہ ماجور ہوگا[33]۔

قسم سوم: حلالہ کی ایک قسم یہ ہے کہ حلالہ کی شرط کے ساتھ نکاح کیا جائے یعنی یہ شرط رکھا جائےکہ زوج ثانی جماع کے بعد اس عورت کو طلاق دے گا،اس نکاح کو نکاح بشرط التحلیل کہتے ہیں ۔

اس نکاح کے صحیح ہونے اور اس کے نتیجے میں زوج اول کے لئے حلال ہونے میں ائمہ کا اختلاف ہے:

امام مالک کے نزدیک یہ نکاح فاسد ہے اور چاہے دخول ہو یا نہ ہو ،یہ نکاح قابل فسخ ہے[34]۔

امام مالک ؒ کی دلیل سنن ابی داؤد کی اوپر ذکر کی گئی حدیث ہے،اس حدیث مبارک میں محلل اور محلل لہ پر لعنت کی گئی ہے اور امام مالک ؒکے نزدیک یہ حدیث سود کرنے والے اور شراب پینے والےپر کی گئی لعنت کی طرح ہےاور جس طرح وہ حرام ہیں اسی طرح نکاح بشرط التحلیل بھی حرام ہے کیونکہ کسی جائز عمل پر کبھی لعنت نہیں کی گئی[35]۔

امام احمد ؒ کے نزدیک نکاح بشرط التحلیل حرام اور باطل ہے۔اوران کی دلیل بھی اوپر ذکر کی گئی حدیث ہے ۔ اسی طرح ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے محلل کو التيس المستعار (کرایہ کا سانڈ ) قرار دیا [36]اور اس پر لعنت فرمائی۔

ان کی ایک دلیل سیدنا عمر ؓ [37]کا قول ہے کہ اگر میرے پاس محلل اور محلل لہ لائے گئے ،تو میں ان دونوں کو رجم کر دوں گا [38]۔

امام شافعی ؒ کے نزدیک بھی حلالہ کے شرط سے کیا گیا نکاح باطل ہے ۔وہ نکاح بشرط التحلیل کو متعہ کی ایک قسم کہتے ہیں کیونکہ یہ بھی نکاح موقت ہے ۔

امام شافعی ؒ کے نزدیک ہر وہ نکاح جس میں مدت مقرر کی جائے ،چاہے مدت معلوم ہو یا مجہول وہ نکاح فسخ ہو جاتا ہےاور اس پر نکاح کے احکام ،جیسے ظہار ،ایلاء،میراث بین الزوجین وغیرہ جاری نہیں ہوتے اور اگر زوج ثانی نے وطی نہیں کی ،تو مہر بھی واجب نہیں ہوگا[39]۔

امام ابو یوسفؒ [40]کے نزدیک یہ نکاح فاسد ہے کیونکہ اس میں وقت کی شرط لگائی گئی ،جو کہ فاسد ہےاور اس نکاح سےعورت زوج اول کے لئے حلال نہیں ہوگی[41]۔

امام محمد ؒ [42]کے نزدیک یہ نکاح اگر چہ صحیح ہے لیکن اس سے عورت زوج اول کے لئے حلال نہیں ہوگی، نکاح صحیح ہونے کی وجہ یہ ہے کہ نکاح شروط سے باطل نہیں ہوتا اور زوج اول کے لئے حلال نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ شریعت نے جس چیزکو مؤخر کیا ہے اس نے اس چیز کے حصول میں جلدی کی ۔اس کی مثال یہ ہے جیسے مورث کو قتل کرنے پر قاتل وارث میراث سے محروم رہ جاتا ہے[43] ۔

امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک یہ نکاح اگرچہ مکروہ تحریمی ہے مگر فاسد نہیں کیونکہ آیت کریمہ میں لفظ تنکح کا عموم اس نکاح کے صحیح ہونے کا تقاضا کر رہا ہےاور اس نکاح سے یہ عورت زوج اول کے لئے حلال ہوگی ۔

دیکھا جائے تو اس نکاح میں فساد کی کوئی وجہ نہیں،اس لئے کہ طلاق ثلاثہ کے بعد عورت زوج ثانی کے لئے حلال ہے اور عورت کو اپنےنفس کا اختیار حاصل ہے اگر وہ خود نکاح کرنا چاہتی ہے ،تو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کرکے نکاح کر نے کی شریعت نے اسے اجازت دی ہے۔

کراہت کی وجہ یہ ہے کہ نکاح کے مقاصد میں تولد و تناسل اور پاکدامنی شامل ہے اور یہ تمام مقاصد بقاء دوام پر موقوف ہیں،جب کہ نکاح بشرط التحلیل میں دوام نہیں ہوتا ۔یہی وجہ ہے کہ نکاح بشرط التحلیل کی کراہت ذاتی نہیں بلکہ اس کی کراہت بالغیر ہے،جس سے نکاح کے انعقاد پر کوئی اثر نہیں پڑتا[44]۔

شیخ الہند ؒ ’’ایضاح الادلۃ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ امر مبغوض لاحق ہونے سے اشرف چیز بُری تو ہو سکتی ہے ،لیکن معدوم نہیں ہوتی ،جیسا کہ نکاح انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے اور رسو ل اللہ ﷺ نے اس کی ترغیب بھی دلائی ہے ،مگر یہ امر ہر ذی فہم جانتاہے کہ عقد نکاح میں کوئی امرِ مبغوض لاحق ہوجائے ،تو مرغوبیت اصلیہ مبغوضیت سے تبدیل نہیں ہوتی ،جیسا کہ نکاح ِ حلالہ۔

اسی طرح نماز اشرف و عمدہ چیز ہے اور ریا ودکھلاوے جیسے مفاسد سے مبدل بہ قبح ہوجاتا ہے ،لیکن ان امور خارجیہ کی وجہ سے عقد ِ نکاح اور نماز معدوم نہیں ہوجاتے بلکہ ان کا حسن و اباحت قبح سے بدل جاتا ہے[45]۔

نکاح بشرط التحلیل میں طلاق کی شرط رکھنا شروطِ فاسدہ میں سے ہے اور احناف کے نزدیک نکاح شروط سے فاسد نہیں ہوتا،لہٰذا شروط باطل ہوگی اور نکاح صحیح ہوگا۔اور زوج اول کے لئے حلال ہو نے کا سبب بنے گا[46]۔

نکاح بشرط التحلیل کے صحیح ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ اگر یہ نکاح منعقد نہ ہو ،تو چاہئے تھا کہ زوج ثانی اور عورت پر حد و رجم کی سزا جاری ہوتی ،لیکن ائمہ میں کوئی بھی اس کا قائل نہیں ۔

سیدنا عمرؓ کا محلل کو رجم کرنے کاقول ،تو وہ سیاست پرمحمول ہے[47] کیونکہ سیدنا عمر ؓ کے سامنے اسی طرح کا معاملہ پیش آیا ،تو آپ نے اس نکاح کو برقرار رکھنے کا حکم دیااور اس شخص سے فرمایا أن يقيم عليها ولا يطلقها[48] "اس کو طلاق نہ دو اوراپنی نکاح میں رکھو "

تو اگر نکاح صحیح نہ ہوتا تو سیدنا عمرؓاسے برقرار رکھنے کا حکم نہ دیتے بلکہ تفریق کا حکم دیتے۔

امام احمدؒ اور امام مالک ؒ کا ابو داؤد کا حدیث لعن الله المحلل والمحلل لهسے نکاح کے فساد پر استدلال کرنا صحیح نہیں کیونکہ یہ حدیث نکاح کے فساد پر نہیں بلکہ نکاح کے صحیح ہو نے اور عورت کا زوج اول کے لئے حلال ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ حدیث مبارک میں زوج ثانی کومحلل کہا گیا اور محلل اسم فاعل کاصیغہ ہے اور حلال کرنے والے کو کہتے ہیں ،توزوج ثانی کومحلل کہنا اس وقت صحیح ہوگا ، جب وہ عورت کو زوج اول کے لئے حلال کرے[49]،البتہ اس حدیث سے اس عمل کے حرام ہونے پر استدلال کرنے میں کوئی شک نہیں۔

زوج ثانی کے لئے شرائط:

شرط اوّل:

پہلی شرط یہ ہے کہ زوج ثانی کا ارادہ قضاءشہوت کا نہ بلکہ وہ زوجین کے مابین اصلاح کا ارادہ رکھتا ہو۔اگر وہ محض شہوت کا ارادہ کرے ،تو ایسا کرنا مکروہ ہے لیکن اس کے باوجود عورت زوج اول کے لئے حلال ہوگی[50]۔

شرط دوم :

دوسری شرط یہ ہے کہ زوج ثانی لوگوں کے درمیان مطلقہ عورتوں کے حلالہ کے لئے مشہور نہ ہو کیونکہ ایسا کرنا مکروہ تحریمی ہے[51]۔

شرط سوم:

تیسری شرط یہ ہے کہ زوج ثانی حلالہ پر اجرت نہ لیتا ہوکیونکہ اس پراجرت لینا حرام اوراس سے زوج ثانی لعنت کا مستحق ٹھہرے گا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عسب التیس (جانوروں کے وطی پر اجرت لینے)کے مشابہ ہے اور عسب التیس کی کمائی حرام ہے[52]۔

شرط چہارم:

چوتھی شرط یہ ہے کہ نکاح میں تحلیل کی شرط نہ ہو کیونکہ یہ ظاہر حدیث کی مخالفت اور مکروہ تحریمی ہے ، اگرچہ اس نکاح سے عورت زوج اول کے لئے حلال ہوگی[53]۔

مروّجہ حلالہ سنٹرز اور ان کی شرعی حثیت:

حلالہ میں اگرمزکورہ بالا شرائط کا خیال رکھا جائے تو مشروع ہے ،لیکن آج کل حلالہ سنٹر زکے نام سے باقاعدہ ایسے ادارےقائم کئے گئے ہیں ،جن میں مطلقہ عورتوں کا حلالہ کیا جاتا ہے ۔

اسی طرح سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر ایسے پیجز اور بلاگ بنائے گئے ہیں جن میں لوگ اپنے ایڈریس دے کر مطلقہ عورتوں کو حلالہ کی دعوت دیتے ہیں ۔

حلالہ سنٹر ،انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے حلالہ کی دعوت دینا شرعی طور پر ایک قبیح عمل اور معاشرتی برائی ہے۔حلالہ سنٹرز کے ذریعے حلالہ میں اوپر دی گئی شرائط میں کو ئی بھی شرط نہیں پائی جاتی کیونکہ حلالہ میں اصلاح بین الزوجین کا قصد کرنا ضروری ہے اور حلالہ سنٹرز میں موجود لوگ اصلاح کی بجائے قضائے شہوت کا ارادہ کرتے ہیں۔اسی طرح وہ لوگوں کے درمیان حلالہ کے لئے مشہور ہوتے ہیں بلکہ وہ خود اس فعل کے لئے شہرت کے طریقے اختیار کرتے ہیں۔

حلالہ کے جواز کے لئےاجرت نہ لینا اور تحلیل کی شرط نہ کرنا ضروری ہے اور حلالہ سنٹر زمیں اس پر اجرت بھی لی جاتی ہے اور تحلیل کی شرط تو ضرور بالضرور رکھی جاتی ہے ،کیو نکہ ان سنٹرز کا قیام نکاح کے اصلی مقاصد کا حصول نہیں ہوتا بلکہ صرف اور صرف تحلیل تک نکاح کو محدود رکھتے ہیں۔

حلالہ سنٹر کی معاشرتی برائی یہ ہے کہ اس سے طلاق کی شرح میں اضافہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کی طرف سے جس فعل(حلالہ) پر لعنت کی گئی ہے ،اس کی قباحت ختم ہو کر رہ جائے گی اور شریعت کا ایک مرخّص حکم صرف ایک مذاق بن جائے گا۔

ایک غلط فہمی کا ازالہ:

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ" حلالہ "عورت پر ظلم ہے لیکن دیکھا جائے ،تو اس میں عورت کی عزت و حرمت کا خیال رکھا گیا ہے کہ شوہر بلا وجہ اسے طلاق نہ دے ،جس طرح جاہلیت میں عورتوں کو تنگ کرنے کے لئے لا تعداد بار طلاق دے کر رجوع کرتے پھر نہ اسے بیوی کی حیثیت دیتے اور نہ دوسروں کے لئے چھوڑتے اور اس سارے معاملے میں عورت کی آزادی ختم ہو کر وہ لونڈی بن کر رہ جاتی۔یہاں پر اگر دیکھا جاے کہ مرد نے اپنے اختیارات(طلاق ثلاثہ) کا غلط استعمال کیا تو اس کے بعد شوہر کا عورت پر کوئی حق باقی نہیں رہتا اور وہ اپنے متعلق ہر طرح کے فیصلے میں آزاد ہوتی ہے۔شوہر اسے ہرگز حلالہ پر مجبور نہیں کر سکتا ۔

طلاق کے بعد نکاح عورت کی اجازت پر موقوف ہوتا ہےکیونکہ ثیبہ عورت کی نکاح کے متعلق حدیث مبارک میں آیا ہے:

الثيب أحق بنفسها من وليها[54]اور دوسری روایت میں ہے:لا تنكح البكر حتى تستأذن ولا الثيب حتى تستأمر<ref name="ftn56">صحیح البخاری،کتاب الحیل،باب النکاح،رقم الحدیث:۶۹۶۸ </ref

ان احادیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ثیبہ کو اپنے نفس پر مکمل اختیار حاصل ہے اور نکاح کے معاملے میں کوئی اسے مجبور نہیں کر سکتا ،چاہے اس کا کوئی رشتہ دار کیوں نہ ہو اور جس شخص نے اسے طلاق ثلاثہ دئیے ہیں ،وہ تو اس عورت کے لئے اجنبی بن چکا ہے شرعاً اسے کوئی اختیار نہیں کہ عورت کو حلالہ کے لئے مجبور کرے۔

جب یہ ثابت ہو چکا کہ مطلقہ عورت پر زوج اول کا کوئی اختیار نہیں ،اس لئے وہ عورت کو حلالہ پر مجبور نہیں کر سکتا ،تو یہ کہنا کسی صورت صحیح نہیں کہ حلالہ عورت پر ظلم ہے ۔

نتائج بحث:

شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے حلالہ کرنا جائز ہےاور اس سے عورت زوج اول کے لئے حلال ہو جاتی ہے۔
  • تحلیل کی شرط کے ساتھ نکاح کرنا مکروہ تحریمی ہے کیونکہ اس سے نکاح کے اصلی مقاصد فوت ہوجاتے ہیں۔
  • نکاح میں تحلیل کی شرط رکھنا حرام ہے لیکن اس نکاح سے عورت زوج اول کے لئے حلال ہو جاتی ہے۔
  • حلالہ سنٹر کی کمای یا حلالہ کے لئے اپنی تشہیر کرنا اللہ تعالیٰ کے حکم (حلالہ کی حرمت) کا مذاق اڑانا اور خود کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی لعنت کا مستحق ٹھہرانے کے مترادف ہے۔
  • طلاق ثلاثہ کے بعد شوہر کو مطلقہ عورت پر کوئی اختیار حاصل نہیں اس لئے اس کو حلالہ پر مجبوربھی نہیں کر سکتا ۔
  • حلالہ کا حکم طلاق کا راستہ روکنے کے لئے ہے کیونکہ غیرت مند انسان اپنی بیوی کو دوسرے کی نکاح میں دینا کسی صورت گوارا نہیں کرتا ،اس لئے وہ طلاق دینے سے پہلے سو بار سوچے گا۔

فہرست مصادر و مراجع:

  1. الاستیعاب،ابن عبد البریوسف بن عبد اللہ،دار الجیل،بیروت ۱۴۱۲ھ/۱۹۹۲ء
  2. الأم،محمد بن ادریس الشافعی،دار المعرفۃ ،بیروت،۱۴۱۰ھ/۱۹۹۰ء
  3. ایضاح الادلۃ،شیخ الہند مولانا محمود الحسن،شیخ الہند اکیڈمی،دیوبند،۱۴۱۳ھ/۱۹۹۳ء
  4. بدایۃ المجتہد،ابن رشد الحفید محمد بن احمد،دار الحدیث،القاہرۃ،۱۴۲۵ھ/۲۰۰۴ء
  5. بدائع الصنائع،ابو بکر بن مسعود بن احمد الکاسانی،دار الکتب العلمیۃ،بیروت،۱۴۰۶ھ/۲۰۰۶ء
  6. تاریخ بغداد،أبو بکر أحمد بن علی الخطیب البغدادی،دار الکتب العلمیۃ، بیروت،۱۴۱۷ھ
  7. تبین الحقائق،عثمان بن علی الزیلعی،المطبعۃ الکبریٰ الامیریۃ،القاہرۃ،۱۳۱۳ھ
  8. تذکرۃ الحفاط ،محمد بن احمد بن عثمان الذہبی،دار الکتب العلمیۃ،بیروت،۱۴۱۹ھ
  9. تہذیب اللغۃ ،محمد بن احمد ،دار احیاءالتراث العربی، بیروت،۲۰۰۱ء
  10. جامع البیان فی تأویل ای القرآن،محمد بن جریر الطبری،مؤسسۃ الرسالۃ،بیروت،۱۴۲۰ھ/۲۰۰۰ء
  11. جامع لاحکام القرآن=تفسیرالقرطبی، محمد بن احمد القراطبی،دار الکتب المصریۃ،القاہرۃ،۱۳۸۴ھ/۱۹۶۴ء
  12. الحیط البرہانی،برہان الدین محمود بن احمد،دار الکتب العلمیۃ ،بیروت،۱۴۲۴ھ/۲۰۰۴ء
  13. درس ترمذی،مفتی محمد تقی عثمانی،مکتبہ دارلعلوم ،کراچی،۱۴۲۹ھ/۲۰۰۸ء
  14. روح المعانی،شہاب الدین محمود بن عبد اللہ الآلوسی،المکتبۃ العلمیۃ،بیروت
  15. سنن ترمذی،ابوعیسیٰ محمد بن عیسیٰ ،شرکۃ مکتبۃ ومطبعۃ مصطفیٰ البابی،مصر،۱۳۹۵ھ/۱۹۷۵ء
  16. سنن ابن ماجہ،محمد بن یزید القزوینی،دار احیاء الکتب العربیۃ،حلب
  17. سنن ابی داؤد ،ابو داؤد سلیمان بن اشعث،المکتبۃ العصریۃ،صیدا ،بیروت
  18. سیر اعلام النبلاء،محمد بن احمد الذہبی،مؤسسۃ الرسالۃ ،بیروت،۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵ء
  19. صحیح البخاری،محمد بن اسمٰعیل،دار طوق النجاۃ،بیروت،۱۴۲۲ھ
  20. صحیح المسلم،مسلم بن الحجاج النیشاپوری،دار احیاء التراث العربی،بیروت
  21. فقہ السنۃ،السید سابق،دار الکتب،القاہرۃ،۱۴۰۹ھ۔۱۹۸۸ء
  22. ۱لفقہ علی المذاہب الأربعۃ،عبد الرحمٰن الجزیری،دار الکتب العلمیۃ،بیروت،۱۴۲۴ھ/۲۰۰۳ء
  23. الکافی فی فقہ اہل المدینۃ،یوسف بن عبد اللہ،مکتبۃ الریاض الحدیثیۃ،الریاض،۱۴۰۰ھ/۱۹۸۰ء
  24. المبسوط،محمد بن احمد،دار المعرفۃ،بیروت،۱۴۱۴ھ/۱۹۹۳ء
  25. المستدرک علی اصحیحنین،ابو عبد اللہ الحاکم محمد بن عبد اللہ،دار الکتب العلمیۃ،بیروت،۱۴۱۱ھ/۱۹۹۰ء
  26. مصنف ابی شیبۃ،ابو بکر بن ابی شیبہ،مکتبۃ الرشد، الریاض،۱۴۰۹ھ
  27. مصنف،ابوبکر عبد الرزاق بن ہمام،المکتب الاسلامی،بیروت،۱۴۰۳ھ/۱۹۸۳ء
  28. نساء النبیﷺ،السید الجمیلی،دار و مکتبۃ الہلال،بیروت،۱۴۱۶ھ
  29. وفیات الأعیان،ابن خلکان احمد بن محمد،دار صادر ،بیروت،۱۹۹۴ء

حوالہ جات

  1. طہٰ،۲۰ : ۸۱
  2. تہذیب اللغۃ ،محمد بن احمد ،۳ : ۲۸۰،دار احیاءالتراث العربی، بیروت،۲۰۰۱ء
  3. المائدۃ،۵ : ۱
  4. البقرۃ،۲ : ۲۸۵
  5. تہذیب اللغۃ ،۳ : ۲۸۴
  6. فقہ السنۃ،السید سابق،۲ : ۳۹،دار الکتب،القاہرۃ،۱۴۰۹ھ۔۱۹۸۸ء
  7. البقرۃ، ۲ : ۲۳۰
  8. محمد بن جریر بن یزید بن کثیر الطبری(۲۲۴ھ۔۳۱۰ھ)عالم ،فقیہ ،مؤرخ اور محقق تھے۔کئی کتابوں کے مصنف تھے،جن میں تفسیر قرآن اور تاریخ الطبری مشہور ہیں۔(تذکرۃ الحفاط ،محمد بن احمد بن عثمان الذہبی،۲ : ۲۰۱،دار الکتب العلمیۃ،بیروت،۱۴۱۹ھ)
  9. جامع البیان فی تأویل ای القرآن،محمد بن جریر الطبری،۴ : ۵۸۵،مؤسسۃ الرسالۃ،بیروت،۱۴۲۰ھ/۲۰۰۰ء
  10. سیدہ عائشہ بنت ابو بکر صدیق بن ابو قحافہ ہجرت سے نو(۹) سال قبل پیدا ہوئی۔ چھ(۶) سال کی عمر میں رسول اللہ ﷺ کے نکاح میں آئی۔آپ فقہ و فرائض کے علوم میں انتہائی مہارت رکھتی تھی، یہاں تک کہ کبار صحابہ آپ سے مسائل کا حل دریافت کرتے۔آپ نے ۵۸ ہجری میں وفات پائی۔(نساء النبیﷺ،السید الجمیلی،۱ : ۴۳،دار و مکتبۃ الہلال،بیروت،۱۴۱۶ھ)
  11. صحیح البخاری،محمد بن اسمٰعیل،کتاب الطلاق،باب من قال لامرأتہ أنت علی حرام،حدیث:۵۲۶۵،دار طوق النجاۃ،بیروت،۱۴۲۲ھ
  12. بدائع الصنائع،ابو بکر بن مسعود بن احمد الکاسانی،۳ : ۱۸۷،دار الکتب العلمیۃ،بیروت،۱۴۰۶ھ/۲۰۰۶ء
  13. بدایۃ المجتہد،ابن رشد الحفید محمد بن احمد،۳ : ۱۰۶،دار الحدیث،القاہرۃ،۱۴۲۵ھ/۲۰۰۴ء
  14. سعید ابن المسیب ۱۳ ہجری میں پیدا ہوئے۔آپ کبار تابعی اور فقہ و حدیث کے بڑے عالم تھے۔مدینہ منورہ کے فقہاء سبعہ میں آپ کا شمار ہوتا ہے۔آپ نے ۹۴ ہجری میں وفات پائی۔(وفیات الأعیان،ابن خلکان احمد بن محمد،۲ : ۲۷۵،دار صادر ،بیروت،۱۹۹۴ء)
  15. المبسوط،محمد بن احمد،۶ : ۹،دار المعرفۃ،بیروت،۱۴۱۴ھ/۱۹۹۳ء
  16. حسن بن ابو الحسن الیسارالبصری ؒ(۲۱ھ۔۱۱۰ھ) کبارتابعین میں سے تھے۔آپ نے سیدنا عثمان و علی رضی اللہ عنہما کو دیکھا،لیکن ان سے سماع ثابت نہیں۔ آپ کثرت سے تدلیس کرتےتھے۔ (وفیات الاعیان،۲: ۶۹)
  17. جامع لاحکام القرآن=تفسیرالقرطبی، محمد بن احمد القراطبی،۳ :۱۴۷، دار الکتب المصریۃ،القاہرۃ، ۱۳۸۴ھ/۱۹۶۴ء
  18. بدائع الصنائع،۳ : ۱۸۹
  19. صحیح البخاری،کتاب الطلاق،باب اذا طلقہا ثلاثا ثم تزوجت،رقم الحدیث: ۵۳۱۷
  20. ۱لفقہ علی المذاہب الأربعۃ،عبد الرحمٰن الجزیری،۴ : ۷۵،دار الکتب العلمیۃ،بیروت،۱۴۲۴ھ/۲۰۰۳ء
  21. امام مالک بن انس بن مالک ۹۳ھ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔آپ کی کنیت ابو عبداللہ اور لقب امام دار الہجرۃ تھا۔خلفاء سے دور رہتے۔آپ ۱۷۹ھ کو وفات پائے۔(وفیات الأعیان،۴: ۱۳۵)
  22. بدایۃ المجتہد،۳ : ۱۰۷
  23. امام أحمد بن محمد ۱۶۴ھ کو بغداد میں پیدا ہوئے ۔آپ کی کنیت ابو عبداللہ تھی۔ حصول علم کے لئے لمبے لمبے سفر کئے ۔فتنۂ خلق قرآن کی سرکوبی کے لئے تکالیف اُٹھائے۔۲۴۱ھ کو وفات پائے۔( أبو بکر أحمد بن علی الخطیب البغدادی،تاریخ بغداد، ۱: ۲۴۵،دار الکتب العلمیۃ، بیروت،۱۴۱۷ھ)
  24. سنن ابی داؤد ،ابو داؤد سلیمان بن اشعث،کتاب النکاح،باب فی التحلیل،حدیث: ۲۰۷۶،المکتبۃ العصریۃ،صیدا ،بیروت۔
  25. سنن ترمذی،ابوعیسیٰ محمد بن عیسیٰ ،ابواب النکاح،باب ما جاءفی المحل و المحلل لہ،حدیث: ۱۱۱۹،شرکۃ مکتبۃ ومطبعۃ مصطفیٰ البابی،مصر،۱۳۹۵ھ/۱۹۷۵ء
  26. عبد اللہ بن عمر بن الخطابؓ العدوی ہجرت سے دس سال قبل پیدا ہوئے ۔صلح حدیبیہ اور فتح مکہ میں شریک ہوئے۔ ۔ساٹھ سال تک فتویٰ دیتے رہے۔ مکہ میں وفات پانے والے آخری صحابی تھے۔(الاستیعاب،ابن عبد البریوسف بن عبد اللہ،۳ : ۹۵۰، دار الجیل،بیروت ۱۴۱۲ھ/۱۹۹۲ء)
  27. المستدرک علی اصحیحین،ابو عبد اللہ الحاکم محمد بن عبد اللہ،کتاب الطلاق،حدیث:۲۸۰۶،دار الکتب العلمیۃ،بیروت،۱۴۱۱ھ/۱۹۹۰ء
  28. ابو حنیفہ نعمان بن ثابت زوطی (۸۰ھ- ۱۵۰ھ) کوفہ میں پیدا ہوئے۔ حماد بن ابی سلیمان کے حلقہ درس میں ۱۸ سال گزار کر ایک نامورفقیہ بنے۔فقہ میں آپ کا اپنا ایک مستقل مسلک ہے۔ جسے مصر، شام، پاکستان، اور وسطی ایشیا کے ممالک میںپذیرائی حاصل ہے۔( تاریخ بغداد، ،۱۳: ۳۲۳)
  29. محمد بن ادریس بن عباس الشافعی شعر،لغت،ایام عرب،فقہ اور حدیث کے بڑے عالم تھے۔نہایت ذہین،فطین اور حاضر جواب تھے۔ان کی مشہور تصانیف میں الأم،احکام القرآن اور الرسالۃشامل ہیں۔(سیر اعلام النبلاء،محمد بن احمد الذہبی،۱۰ : ۵،مؤسسۃ الرسالۃ ،بیروت،۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵ء)
  30. الأم،محمد بن ادریس الشافعی،۵ : ۸۶،دار المعرفۃ ،بیروت،۱۴۱۰ھ/۱۹۹۰ء۔وبدائع الصنائع،۳ : ۱۸۷
  31. فقہ السنۃ،۲: ۴۱
  32. درس ترمذی،مفتی محمد تقی عثمانی،۴۰۱،مکتبہ دارلعلوم ،کراچی،۱۴۲۹ھ/۲۰۰۸ء
  33. تبین الحقائق،عثمان بن علی الزیلعی،۲ : ۲۵۹،المطبعۃ الکبریٰ الامیریۃ،القاہرۃ،۱۳۱۳ھ
  34. الکافی فی فقہ اہل المدینۃ،یوسف بن عبد اللہ،۲ : ۵۳۳،مکتبۃ الریاض الحدیثیۃ،الریاض،۱۴۰۰ھ/۱۹۸۰ء
  35. بدایۃ المجتہد،۳ : ۱۰۷
  36. سنن ابن ماجہ،محمد بن یزید القزوینی،کتاب النکاح،باب المحلل والمحلل لہ،حدیث: ۱۹۳۶،دار احیاء الکتب العربیۃ،حلب
  37. عمر بن الخطاب بن نفیل القرشی العدوی دوسرے خلیفہ الراشد، امیر المومنین کا لقب پانے والے پہلا خلیفہ ہیں۔ ۷ نبوی کو رسول اللہﷺ کی دعا آپ کے حق میں قبول ہوئی اور اسلام لائے۔ آپ ؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ زیادہ تر غزوات میں شریک ہوئے۔ حضرت ابوبکرؓ کے بعد ۱۳ھ کو خلیفہ بنے۔ (الاستیعاب، ۳: ۲۳۵۔الأعلام، ۵ : ۴۵)
  38. مصنف ابن ابی شیبۃ،ابو بکر بن ابی شیبہ،کتاب النکاح،باب فی الرجل يطلق امرأتہ،حدیث:۱۷۰۸۰،مکتبۃ الرشد، الریاض،۱۴۰۹ھ
  39. الام للشافعی،۵ : ۸۶
  40. امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم ۱۱۳ ہجری کو پیدا ہوئے۔آپ امام ،مجتہد،محدث اورقاضی القضاۃ تھے۔آپ نے امام ابوحنیفہؒ سے علوم حاصل کئے۔آپ کی تصانیف میں کتاب الخراج ،کتاب الآثار اور ادب القاضی شامل ہیں۔(سیر اعلام النبلاء،۸ : ۵۳۵)
  41. المحیط البرہانی،برہان الدین محمود بن احمد،۳ : ۱۸۱،دار الکتب العلمیۃ ،بیروت،۱۴۲۴ھ/۲۰۰۴ء
  42. اما م محمد بن حسن بن فرقد الشیبانی۱۳۲ ھ میں پیدا ہوئے۔امام ابوحنیفہؒ،امام مالکؒ اور امام ابو یوسف ؒسے علوم حاصل کئے۔آپ کے شاگردوں میں امام شافعیؒ بھی شامل ہے۔آپ کی تصانیف میں الجامع الکبیراور الجامع الصغیر مشہور ہے۔(سیر اعلام النبلاء،۹ : ۱۳۴)
  43. بدائع الصنائع،۳ : ۱۸۷
  44. بدائع الصنائع،۳ : ۱۸۸
  45. ایضاح الادلۃ،شیخ الہند مولانا محمود الحسن،۵۰۱،شیخ الہند اکیڈمی،دیوبند،۱۴۱۳ھ/۱۹۹۳ء
  46. المبسوط،۵ : ۹۵
  47. ایضاح الادلۃ ،۵۱۷
  48. مصنف،ابوبکر عبد الرزاق بن ہمام،کتاب النکاح،باب التحلیل،رقم حدیث: ۱۰۷۸۶،المکتب الاسلامی،بیروت،۱۴۰۳ھ/۱۹۸۳ء
  49. روح المعانی،شہاب الدین محمود بن عبد اللہ الألوسی،۱ : ۵۳۶،دار الکتب العلمیۃ،بیروت،۱۴۱۵ھ
  50. الفقہ علیٰ مذاہب الاربعۃ،۴ : ۷۵
  51. االفقہ علیٰ مذاہب الاربعۃ،۴ : ۷۶
  52. المبسوط،۱۵ : ۸۳
  53. بدائع الصنائع،۳ : ۱۸۷
  54. صحیح المسلم،کتاب الحج،باب استیئذان الثیب بالنطق،رقم الحدیث:۱۴۲۱،دار احیاء التراث العربی ،بیروت