Playstore.png

دور حاضر میں کرنسیوں کے ادھار خرید و فروخت کا شرعی جائزہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ الایضاح
عنوان دور حاضر میں کرنسیوں کے ادھار خرید و فروخت کا شرعی جائزہ
انگریزی عنوان
Foreign Exchange Trading in the Present Era: A Review from the Islamic Perspective
مصنف ضیاء، معراج الاسلام، محمد طاہر
جلد 33
شمارہ 2
سال 2016
صفحات 01-09
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
شکاگو 16 ضیاء، معراج الاسلام، محمد طاہر۔ "دور حاضر میں کرنسیوں کے ادھار خرید و فروخت کا شرعی جائزہ۔" الایضاح 33, شمارہ۔ 2 (2016)۔
دور حاضر میں کرنسیوں کے ادھار خرید و فروخت کا شرعی جائزہ
اسلام اور مغرب کے باہمی اختلافات
مسئلہ خلافت کی عملیت میں عرب و عجم زاویہ فکر کے اثرات کا علمی جائزہ
مولانا غلام اللہ خان کی تفسىر جواہر القرآن: منہج اور خصوصیات
ٹریڈمارک، کاپی رائٹ اور حقوق کی خرید و فروخت کا شرعی جائزہ
تعلیمات قرآن کریم اور زبور کی تطبیق و تفریق
مسئلہ حجاب: فرانسیسی مسلمان خواتین اور اسلامی تعلیمات
خواتین کی دینی تعلیم: روایت، مسائل اور عصری تحدیات
تعلیم المدنیت (شہریت کی تعلیم) اسلامی تناظر میں
بائبل اور اسلام کی روشنی میں عورت کا مقام اور کردار
علم اسباب ورود الحدیث: ایک تحقیقی جائزہ
اسلام اور دیگر نظام ہائے حیات کے فلسفہ حقوق کا تقابلی مطالعہ
عصر حاضر کی تناظر میں عرف اور عادت کی شرعی حیثیت: ایک تجزیاتی مطالعہ
بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے اقوام متحدہ کا کردار
مستدلات شرعىہ کی روشنی میں بیعت کا ناقدانہ جائزہ
الإيجاز في القرآن الكريم: دراسة بلاغية
إنهاض المجتمع و تنوير العقل دراسة في روايات طه حسين و نذير أحمد
استشهاد ابن زيدون بأشعار المتنبى في رسالته الجدية التي كتبها في غياهب السجن
مناهج القدماء في الاستدلال من ’’ شرع من قبلنا‘‘ دراسة تطبيقية
دور القواعد النحوية في استنباط الأحكام الشرعية من الآيات القرآنية
أثر القرآن الكريم في شعر أحمد شوقي
أبو الأحرار محمد محمود الزبيري وخدماته الأدبية
مکانة السنة في نظر أهل القرآن
منهج الشعر العربي وأساليب تدريسه في الدرس النظامي للوفاق المدارس العربية
Communication Skills in Islamic Perspective
Running Musharakah Product of Islamic Banks: An Alternative of Running Finance
Economic Policies of Pakistan During Military Rules an Analytical Study in Islamic Perspective
Muhammad (SAW) in the Near-Contemporaneous Non-Muslim Sources: An Appraisal of Robert Spencer’s Views
An Analysis of Indo-Pakistan Nuclear Doctrines
Kipling’s Depiction of the Great Game Between British India and Czarist Russia
The Creation of Universe in the Light of Quran
The Notions of Obtainable Politics in the Light of Quran
Principles of Effective Management according to Quran and Sunnah
Protection of Working Women Rights in the Light of the Teachings of Islam
Transplant and Donation of Organs in Islamic Perspective
Constitutional Provisions for the Rights of Non-Muslim Minorities in Pakistan

Abstract

Foreign Exchange trading is when you buy and sell foreign currencies to generate profit. In our age of advance technology even the virtual or digital currencies have now emerged. This entire business however is mostly based upon speculation and prediction. Even the most skilled and experienced traders face difficulty in predicting movements in currencies. Further, the value of not well established currencies can fluctuate or its exchange rate value can change any time. In view of occupying central place in the economic systems down the ages, Muslim scholars have also vehemently discussed currency, its significanc and matters relating to it in transactions. The present article reviews trading of foreign currencies from Islamic perspective in a situation when no cash is involved in the transaction. The article concludes that as the currencies in such transactions are different commodities, therefore their trade is legal.

دورِ حاضر نے سب سے زیادہ جن مسائل کوجنم دیاہے اورجن شعبہ ہائے زندگی میں نہایت تیزرفتاراوربنیادی تبدیلی آئی ہے، ان میں سے ایک معاشیات کا شعبہ بھی ہےاور یہ تبدیلیاں معاشی ضروریات کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوئی ہیں ۔شریعت اسلامی میں اس بات کی پوری صلاحیت موجود ہے کہ وہ ہردوراور ہرمعاشرہ کی ضرورت پوری کرے،معاملات کے سلسلہ میں شریعت کامزاج یہ ہے کہ اس نے کچھ حدود مقررکردی ہیں اور اصولی ہدایات دی ہیں جن سے تجاوز کسی طورپر جائزنہیں ،جزوی تفصیلات پرزیادہ ترخاموشی اختیارکی گئی ہے ،تاکہ ہرزمانہ کے عرف وحالات کوسامنے رکھ کرشریعت کے اصول وکلیات کی روشنی میں پیش آمدہ مسائل حل کئے جائیں۔

کرنسیوں کاباہم تبادلہ کاشرعی حکم

آج کل بازار میں مختلف ممالک کی کرنسیوں کے درمیان تبادلہ وتجارت رائج ہے جن کی مختلف قسمیں ہیں، ان میں بعض صورتیں متفقہ طور پر جائز اور بعض دوسری صورتیں بالاتفاق ناجائز ہیں ، بعض صورتوں میں علمائے کرام کا اختلاف ہے ، چنانچہ اس مسئلہ کی بنیادی طور پر درج ِ ذیل تین صورتیں بنتی ہیں:

۱۔ دوملکوں کی کرنسیوں کے درمیان نقدتبادلہ کمی وزیادتی کے ساتھ بالاتفاق جائزہے کیوں کہ اس میں علت سود جنس کاایک ہوناموجودنہیں ہے ۔

۲۔ ایک ملک کی کرنسی میں نقداوراُدھارباہم تبادلہ میں تفاضل بالاتفاق ناجائزہے ،کیونکہ اس میں علت سود جنس اورقدردونوں موجودہیں۔

۳۔ دوملکوں کی کرنسیوں کاباہم اُدھارتبادلہ کے جوازمیں علماءوفقہاءکی دونقطہ ہائے نظر ہیں ۔جن پر اس مقالہ میں تفصیلی بحث کی جائے گی ۔

پہلی رائے

بعض ہم عصرعلماء کی رائے یہ ہے کہ کرنسیوں میں اُدھار[نسيئة]معاملہ جائزنہیں ہے ،ان کے پیش نظردوباتیں ہیں:

الف: ایک تو سیدناعبادہ بن الصامت[1]ؓ کی روایت ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا:بیچوسونےکوسونے کےبدلے،چاندی کوچاندی کے بدلے،گیہوں کوگیہوں کے بدلے،جَوکوجَوکے بدلے،کھجورکوکھجورکے بدلے،نمک کونمک کے بدلے،برابربرابر،دست بدست،اور جب یہ اصناف مختلف ہوں توجیسے چاہوفروخت کرو[2]۔

اس حدیث میں اثمان کے باہم تبادلہ میں يداً بيد سواءً بسواء (نقداور برابرسرابر)کی قیدلگی ہوئی ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کرنسیوں کےتبادلہ میں اُدھار معاملہ جائزنہیں ہے۔

ب : دوسری بات ان کے سامنے یہ ہے کہ نوٹوں کی خریدوفروخت بیع صرف ہے اور بیع صرف میں عاقدین کاثمن پر قبضہ ضروری ہے [3]اگرثمن پر صرف ایک فریق کاقبضہ ہواور دوسرے فریق کانہ ہوتومعاملہ صحیح نہ ہوگا۔

دوسری رائے

دوسری رائے محترم جسٹس مفتی محمدتقی عثمانی صاحب اوردیگر علماء کی ہے جس کى رو سے مختلف ممالک کی کرنسیوں کے باہم تبادلہ میں اُھارکامعاملہ بھی جائزہے ،بشرطیکہ ان میں سے کسی ایک پر مجلس میں قبضہ ہوجائے۔اگرمبیع اور ثمن دونوں اُدھارہوں تویہ ناجائزہے ۔ان کے پیش نظر علامہ سرخسی ؒ کی وہ عبارت ہے جس میں فلوس کی بیع دراہم کے ساتھ جائزقراردی گئی ہے بشرطیکہ ان دونوں میں سے کسی ایک پر قبضہ ہوجائے[4]۔

موجودہ حالات کے پیش نظر دلائل کی روشنی میں اور ضرورت وحاجت کوسامنے رکھتے ہوئے دوسری رائے لائق ترجیح اور قابل عمل ہے ،جس کے اسباب درج ذیل ہیں :

سبب نمبر ۱: ۔ سب سے پہلے اس بات کا تعین ضروری ہے کہ ثمن عرفی (فلوس اور عصرحاضرمیں نوٹ اور سکّے)اور ثمن خلقی(سونا،چاندی)کے احکام میں آیا شرعاًکوئی فرق ہے یادونوں کے احکام مساوی ہیں؟۔۔۔فقہاءؒکی عبارتوں کودیکھنے کے بعددرج ذیل فرق سمجھ میں آتاہے۔

ثمن خلقی اور ثمن عرفی کے درمیان فرق

الف : ثمن خلقی ہمیشہ ہی ثمن رہتاہےاس کی ثمنیت کبھی ختم نہیں ہوتی ہے، جب کہ ثمن عرفی لوگوں کی اصطلاح اور عرف پر مبنی ہے چنانچہ جب تک لوگوں میں اس کارواج اور چلن ہو،اس کاحکم ثمن جیسارہتاہے،لیکن لوگ جب اس سے معاملہ کرنا ترک کردیں تو اس کی حیثیت عرض (سامان)کی سی بن جاتی ہے۔علامہ حصکفی ؒفرماتے ہیں:

وأما الفلوس فإن كانت رائجة فكثمن وإلا فكسلع[5]۔ فلوس جب تک رائج ہوں تو وہ ثمن ہے ورنہ وہ سلع (سامان )کے حکم میں ہوگا۔اور یہی بات ابن نجیم ؒنے بھی فرمائی ہے : وهو سلعة في الأصل كالفلوس، فإن كانت رائجة فهي ثمن وإلا فسلعة[6]۔اور علامہ شامی نے بھی یہی فرمایاہے[7]۔

ب:جس وقت لوگوں میں اس کارواج ہوتاہے اس وقت بھی اس کی حیثیت مکمل ثمن کی نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک درجہ عرض ہی کے حکم میں رہتاہے۔اسی وجہ سے اکثر فقہاء نے فلوس میں بیع سلم کوجائزکہاہے[8]۔

حنفیہ میں امام محمدؒکے نزدیک فلوس میں بیع سلم جائزنہیں ہے [9]۔اس لیے کہ ان کے نزدیک فلوس’’ثمن خلقی‘‘ کادرجہ رکھتے ہیں ،لیکن ظاہرروایت میں شیخین کی طرح امام محمدؒبھی فلوس میں بیع سلم کے جوازکے قائل ہیں[10]۔اور اسی کوابن نُجیم ؒنے بھی نقل کیاہے[11]۔

امام شافعیؒ فرماتے ہیں :ولا بأس بالسلف في الفلوس إلى أجل؛ لأن ذلك ليس مما فيه الربا[12]۔اگرفلوس کاحکم مکمل طورپرثمن خلقی کاہوتاتوکبھی بھی اس میں بیع سلم جائزنہ ہوتی ،کیوں کہ اثمان میں بیع سلم جائزنہیں ہے[13]۔جب ثمن خلقی اور ثمن عرفی کی ذات اور اس پرمرتب ہونے والے بعض احکام میں اتناواضح اور بدیہی فرق ہے تولازمی طور پر دوسرے احکام میں بھی فرق ہوگا اور ثمن خلقی کے تمام احکام ثمن اصطلاحی پرعائدکرناکسی طرح بھی صحیح نہیں ہوگا۔

سبب نمبر۲:جب بیع میں بدلین میں سے ایک ثمن خلقی ہواور دوسراثمن عرفی تو مجلس میں کسی ایک پرقبضہ کرلیناصحت معاملہ کے لیے کافی ہوگا[14]۔دونوں پرقبضہ کرناضروری نہیں ہے، جیساکہ علامہ ابن ہمام ؒنے فلوس کی بیع دراہم سے ’’بيع عين بدين‘‘مانتے ہوئے جائزقرار دیاہے،بشرطيکہ مجلس میں کسی ایک پر قبضہ ہوجائے[15]۔

علامہ شامی ؒنے اس مسئلہ پرقدرے تفصیل سے گفتگو کی ہے جس کاحاصل یہ ہے کہ کیابدلین میں سے ایک ثمن خلقی اور دوسراثمن عرفی ہوتو عاقدین کااس پر قبضہ کرناضروری ہے؟اگرکوئی ایک فریق اس پرقبضہ نہ کرے تومعاملہ فاسد ہوگایاعاقدین میں سے ایک کابھی قبضہ معاملہ کے صحیح ہونے کے لیے کافی ہے؟اس سلسلے میں انہوں نے تین روایتیں پیش کی ہیں۔

پہلی روایت کی رو سے عاقدین کاقبضہ کرناضروری ہے کیوں کہ اگرایک قبضہ کرلے اور دوسرانہ کرے تویہ موزونی چیزکے بدلہ موزونی چیزمیں بیع سلم کامعاملہ ہوگاجوکہ جائزنہیں ہے[16] ۔یہ روایت جامع الصغیرکی ہے[17]۔

دوسری روایت یہ ہے کہ ایک فریق کاقبضہ کرلینا کافی ہے یہ روایت بزّاز کی ہے[18]۔

تیسری روایت یہ ہے کہ دونوں میں سے کسی کابھی قبضہ کرناضروری نہیں ہے[19]۔

ان تینوں روایتوں میں سے دوسری روایت سب سے زیادہ اوفق اور تعامل الناس کے موافق ہےاور صحیح بھی ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ فلوس اور عصر حاضرمیں کرنسی کا اگر جائزہ لیا جائے تو ایک حیثیت سے وہ عرض ہیں اور دوسری حیثیت سےاس میں ثمنیت کا عنصر بھی موجود ہے ، اس کی ثمنیت کاتقاضایہ ہے کہ اس میں بیع سلم جائزنہ ہواور عرض ہونے کاتقاضایہ ہے کہ اگر ایک فریق بھی قبضہ کرلے تو معاملہ درست ہوجائے[20]۔اس طریقہ سے یہ بیع ،بیع سلم کے بجائے مطلق بیع ہوگی اورمطلق بیع میں عاقدین کے باہمی رضامندی سے ثمن ایک متعین وقت تک کے لئے مؤخرکیاجاسکتاہے[21]۔

قول ثانی کے صحیح ہونے کی تائیداس سے بھی ہوتی ہے کہ جب علامہ حانوتیؒ[22] سے پوچھا گىا کہ کىا سونے کی بیع فلوس سے اُدھار جائزہے ؟توانہوں نے جواب دیاکہ جب بدلین میں سے کسی ایک پرقبضہ ہوجائے توجائزہے[23]۔

علامہ سرخسیؒ کابھی رجحان اسی جانب ہے کہ ایک فریق کاقبضہ کرلیناکافی ہے،وہ کہتے ہیں کہ فلوس رائجہ ثمن کی حیثیت رکھتے ہیں اور خریدوفروخت کے وقت مالک کے پاس اس کاموجودرہناکوئی ضروری نہیں ،اگرموجودنہ رہےتومعاملہ فاسدنہ ہوگا[24]۔سرخسی ؒکے منشاکودوسرے الفاظ میں یوں بیان کیاجاسکتاہے کہ ثمن جب زرخریدہوتاہے تواس وقت اس کاموجودرہناضروری نہیں ،اسی طرح جب ثمن مبیع کی حیثیت سے ہو تو اس کامعاملہ کے وقت موجودنہ رہنامعاملہ کوفاسدنہیں کرےگا۔

مذکورہ تفصیل سے یہ معلوم ہواکہ اگربدلین میں سے ایک ثمن خلقی ہواور دوسراثمن عرفی تونسيئة (اُدھارتبادلہ)جائزہوگااور ایک فریق کاقبضہ کرلیناکافی ہوگا۔اس سے یہ حکم بھی معلوم ہوگیاکہ جب دونوں ہی ثمن عرفی ہوں تو بدرجہ اولیٰ نسیئہ جائزہوگا۔بلکہ دونوں مىں نسیئہ کے جوازکی صراحت بھی فقہاء کی عبارت میں ملتی ہے۔چنانچہ علامہ حصکفی ؒلکھتے ہیں:باع فلوسا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فإن نقد أحدهما جاز.[25]

مذکورہ صورت میں دونوں ہی ثمن عرفی ہیں ،اس لیے اگر ایک فریق کابھی قبضہ ہوجائے توپھرادھار تبادلہ کے جوازمیں کوئی مضائقہ نہیں ہوناچاہئے۔

شوافع بھی فلوس میں اُدھارخریدوفروخت کے جواز کے قائل ہیں [26]۔اور حنابلہ کے ہاں بھى ایک روایت جواز کی ملتی ہے[27]۔

سبب نمبر۳: یہاں پر ایک اہم اور قابل غوربات یہ ہے کہ کیاہم حالات اور لوگوں کی ضرورتوں کو نظر انداز کرسکتے ہیں ؟ خصوصا اس ترقی یافتہ دورمیں جب کہ نقل وحمل کے وسائل کی فراوانی ہے ،تعلقات کادائرہ وسیع سے وسیع ترہے ،اسفار بہ کثرت پیش آتے ہیں ،ایک ملک کی کرنسی کودوسرے ملک کی کرنسی سےتبادلہ کی ضرورت بہت زیادہ پڑتی ہے، کیایہ ممکن ہے کہ بغیر اُدھار کے تمام معاملات دست بدست کئے جائیں جب کہ شریعت نے ’’الضرورات مناسبة لإباحة المحظورات جلبا لمصالحها[28]‘‘اور ’’إذا ضاق الأمر اتسع[29]‘‘ جیسے اصول کے پیش نظر شدیدمجبوری کی حالت میں ناجائزاور ممنوع چیزوں کوبھی بقدر ضرورت جائزقرادیاہے تو کیامذکورہ صورت میں شدید مجبوری کے پیش نظر اُدھار معاملہ کرناجائزنہ ہوگاجس کی گنجائش فقہاء کے کلام میں بھی وضاحت کے ساتھ ملتی ہے ۔

فریق اول کے دلائل کاجائزہ

جہاں تک یہ بات کہ نوٹوں کی خرید وفروخت بیع صرف ہے اور بیع صرف میں عاقدین کاقبضہ ضرور ی ہے ،تو یہ استدلال کسی طرح بھی درست نہیں ہے ، اس لئے کہ عقد صر ف میں معاملہ کی صحت کے لئے ’’ثمن خلقی‘‘ کاہوناضروری ہے خواہ وہ جس شکل میں بھی ہو،ٹکسال میں ڈھلاہواہویااس کازیوریابرتن بنادیاگیاہو۔

علامہ ابن ہمام ؒنے عقدصرف کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے:هو البيع إذا كان كل واحد من عوضيه من جنس الأثمان[30]. بدائع الصنائع کی عبارت اس سے بھی واضح ہے:" فالصرف في متعارف الشرع اسم لبيع الأثمان المطلقة بعضها ببعض وهو بيع الذهب بالذهب والفضة بالفضة وأحد الجنسين بالآخر"[31]۔

مذکورہ تعریف سے معلوم ہوگیاکہ ثمن عرفی میں عقد صرف کامعاملہ ہو ہی نہیں سکتا بلکہ علامہ سرخسی نے صاف بیان کیاہے کہ دراہم کے بدلے فلوس کی بیع ’’بیع صرف ‘‘نہیں ہے[32]۔

مبسوط ہی میں ایک جزئیہ منقول ہے جس سے مسئلہ کی حقیقت بالکل واضح اور بے غبار ہوجاتی ہے کہ دراہم کے بدلے فلوس کی بیع " بیع صرف "نہیں اور کسی ایک پر بھی قبضہ کرلیناصحت معاملہ کے لئے کافی ہوگا چنانچہ کسی ایک شخص نے کسی دوسرے کوایک درہم دیااور معاملہ اس طرح طے کیاکہ نصف درہم کااتنے فلوس (پیسے)دے دو اور نصف درہم کاایک چھوٹاسادرہم جس کاوزن نصف درہم کے برابرہو،تو یہ معاملہ درست ہوگا۔ اگردونوں فلوس اور درہم پر قبضہ کرنے سے پہلے ایک دوسرے سے جداہوگئے تو درہم صغیر میں عقد باطل ہوجائے گاکیونکہ یہ عقد صرف ہے اور فلوس میں عقد صحیح ہوگا اس لیے کہ یہ مطلق بیع ہے[33]۔

بہرحال اس کوعقد صرف میں داخل کرکےنسيئة کے عدم جوازکااستدلال صحیح نہیں ہے۔اسی طرح عبادۃ بن الصامتؓ کی مشہورروایت سے بھی عدم جواز کااستدلال نہیں کرسکتے ہیں ،اس لیے کہ ’’يداً بيد‘‘کی قیدثمن خلقی کے ساتھ ہے نہ کہ ثمن عرفی کے ساتھ جیساکہ اوپر معلوم ہوچکا۔

نیز فقہاءکرام ؒکی عبارتوں میں ایک حدتک یہ صراحت موجودہے کہ ’’عقدصرف ‘‘میں ثمن خلقی پر قبضہ اس لیے ضروری ہے کىونکہ وہ قبضہ ہی سے متعین ہوتے ہیں: "وحاصله أن الصرف وهو ما وقع على جنس الأثمان ذهبا وفضة بجنسه أو بخلافه لا يحصل فيه التعيين إلا بالقبض فإن الأثمان لا تتعين مملوكة إلا به ولذا كان لكل من العاقدين تبديلها أما غير الصرف فإنه يتعين بمجرد التعيين قبل القبض"[34]

خلاصہ بحث

مذکورہ بحث کا خلاصہ یہ نکلا کہ دوملکوں کی کرنسیاں الگ الگ جنس کی حیثیت رکھتی ہیں ، اس لیے اختلاف جنس کی وجہ سے دوملکوں کی کرنسیوں کاتبادلہ کمی بیشی کے ساتھ اُدھار طور پر جائزہے، کرنسیاں ثمن عُرفی ضرورہیں لیکن ثمن خلقی کے تمام احکام ان پر عائد نہیں ہوسکتے ،دونوں کے احکام کے درمیان کچھ نہ کچھ بنیادی فرق ضروری ہے تاکہ دونوں کی خلقی اور عرفی حیثیتوں کے درمیان خط امتیاز کھینچاجاسکے۔

حوالہ جات

  1. . سیدناعُبادۃ بن الصامت بن قیس الانصاری الخزرجی رضی اللہ عنہ اکابراورجلیل القدرصحابہ کرام میں سے ہیں، سن ۳۸ قبل الھجرۃ بمطابق ۵۸۶عیسوی کومدینہ منورہ میں پیداہوئے ، ان بارہ حضرات میں سے ہیں جنہوں نے سن ۱۲نبوی کومنی ٰکے قریب عقبہ کےمقام پر آپ ﷺ سے اسلام پربیعت کی ۔بدرسے لے کرفتح مکہ سمیت تمام غزوات میں شریک رہے ،ان سے ۱۸۱روایات منقول ہیں، رملہ فلسطین میں سن ۳۴ہجری مطابق ۶۵۶عیسوی کووفات پائے۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ۔الجزری، عزالدين، ابن االاثير، اُسدالغابة، ج۳ ص: ۱۵۸،دار الکتب العلمية ،ط اول۱۹۹۹م
  2. . القشيری، مسلم بن الحجاج، صحيح مسلم، رقم:۱۵۸۷۔دار إحياءالتراث، بىروت، بدون التاريخ۔
  3. . المرغينانی،برهان الدين، علی بن أبی بکر،الهداية، ج۳، ص: ۸۱، دارإحياءالتراث العربي، بىروت۔
  4. . السرخسی، محمد بن أحمد، المبسوط ج۱۴ ، ص۲۵، دارالمعرفة ،بيروت،۱۹۹۳م
  5. . الحصکفی، علاءالدين،الدرالمختار،ج۵، ص: ۲۷۲،دارالفکر، بيروت،۱۹۹۲م
  6. . المصری،ابن نُجيم، زين الدين بن ابراهيم ،البحر الرائق،ج6، ص: ۲۲۱، دارالکتاب الاسلامی، بيروت
  7. . الشامي، ابن عابدين، محمد بن عمر، رد المختار مع الدر، ج۵، ص۲۷۲، دارالفکر ،۱۹۹۲م
  8. . المبسوط،ج۱۲ص136 دارالکتب العلمية، ،بيروت ۱۹۹۴م
  9. . المبسوط،ج۱۲، ص: ۱۳۶
  10. . أبو المعالی، برهان الدين، محمودبن أحمد،المحيط البرهاني في الفقه النعمانی،ج۶، ص: ۳۲۳، دارالکتب العلمية، بيروت ،۲۰۰۴م
  11. . البحرالرائق،ج۶، ص:۱۷۰
  12. . الشافعی، محمدبن إدريس،أبوعبدالله، الاُم،ج۳، ص: ۳۳، دارالمعرفة ،بيروت،۱۹۹۰م
  13. . الکاسانی، علاءالدين، أبوبکر بن مسعود، البدائع الصنائع، ج۵، ص: ۲۰۸، دارالکتب العلمية، بيروت،۱۹۸۶م
  14. . الزيلعي، عثمان بن علي، تبيين الحقائق، كتاب الصرف،ج۴، ص: ۱۳۵، المطبعة الكبرى، القاهرة،طبع اول۱۳۱۳هـ
  15. . ابن همام،کمال الدين محمد بن عبد الواحد،فتح القدير، ج۷، ص: ۱۸۷، دارالفکر، بيروت
  16. رد المحتار، ج۴، ص: ۱۸۴
  17. . الشيبانی،محمد بن الحسن،الجامع الصغير،باب السلم،ج۱ص: ۳۳۵، عالم الکتب، بيروت،۱۴۰۶هـ
  18. . تبيين الحقائق،کتاب الصرف،ج۴، ص: ۱۳۵، ردالمحتار،ج۵، ص: ۱۸۰
  19. . ردالمحتار،ج۵، ص: ۱۸۰
  20. . تبيين الحقائق،ج۴، ص: ۱۳۵
  21. . الدرالمختار مع حاشية ابن عابدين،ج۵، ص: ۱۸۰
  22. . حانوتی ،محمد بن عمر، آپ قاہرہ میں ۹۲۸ھ کوپیداہوئے ،حنفی فقیہ اور مفتی تھے،۱۰۱۰ھ کووفات پائی۔الأعلام،ج۶، ص: ۳۱۷
  23. . ردالمحتار،ج۴، ص۱۸۴
  24. . المبسوط،ج۱۴، ص: ۲۴
  25. . الدرالمختار،ج۵، ص: ۱۷۹
  26. . الاُم ،کتاب الصرف،ج۳،ص۳۳
  27. . الجزيری، عبدالرحمن بن محمد، الفقه علی المذاهب الأربعة، ج۲ص:۲۷۲،دارالکتب العلمية، بيروت،۲۰۰۳م
  28. . السُلمی، أبومحمد عزالدين عبدالعزيز بن عبدالسلام، قواعد الاحکام فی مصالح الأنام،ج۲ص: ۵، مكتبة الكليات، قاهره،۱۹۹۱م
  29. .السُبکی،تاج الدين،الأشباه والنظائر، ج۱ص: ۴۹، دارالکتب العلمية،۱۹۹۱م
  30. . فتح القدير،ج۶، ص: ۲۴۷
  31. . بدائع الصنائع،ج۵، ص:۲۱۵
  32. . المبسوط،ج۱۴، ص: ۲۴
  33. . مصدر سابق
  34. . ردالمحتار، ج۵، ص: ۱۷۸