Playstore.png

عالمی امن میں اسلام کا کردار

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ الایضاح
عنوان عالمی امن میں اسلام کا کردار
انگریزی عنوان
The Role of Islam in Establishing World-Wide Peace
مصنف رند، بشیر احمد، شازیہ رمضان
جلد 30
شمارہ 1
سال 2015
صفحات 01-22
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
شکاگو 16 رند، بشیر احمد، شازیہ رمضان۔ "عالمی امن میں اسلام کا کردار۔" الایضاح 30, شمارہ۔ 1 (2015)۔
عالمی امن میں اسلام کا کردار
دینی مدارس پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کے الزامات: ایک تجزیاتی مطالعہ
عرب اسلامی روایت کے برصغیر پاک و ہند میں تفسیر نگاری پر اثرات: عہد رسالت تا خلافت عباسیہ کے تناظر میں اختصاصی مطالعہ
حضرت آدم علیہ السلام بائبل اور قرآن کى روشنى میں
اسلام میں امن اور دہشت گردی کا تصور: ایک علمی اور تحقیقی جائزہ
قذف اور پاکستانی معاشرہ: اسلامی حوالے سے تنقیدی جائزہ
قانون ٹارٹ كا فقہ اسلامى كى روشنى میں جائزہ
افغانستان کی اسلامی تاریخ کے پیش رو صحابہ کرام: عہد خلافت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ
حلالہ اور مروجہ حلالہ سنٹرز: ایک تجزیاتی مطالعہ
جنگی قیدیوں کے حقوق شریعت اسلامیہ اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں
اسلام اور ہندو مت میں مادی اور روحانی طہارت کے اصول
اسلام اور جین مت میں طہارت کا تقابلی جائزہ
علاج معالجہ اور دم کی شرعی حیثیت
جنگی جرائم اسلام اور بین الاقوامی قانون کے تناظر میں
علامہ عینی اور ان کی خدمات کا علمی جائزہ
سورة الكوثر بين الإعجاز البلاغي وتحديات الترجمة
الزمخشري وموقفه من الاستشهاد بشعر المؤلدين في ضوء تفسيره الكشاف
مؤسسة الإزدواج والأسرة في ضوء الشريعة الاسلامية
ضوابط قبول التفرد في رواية الحديث دراسة مع أمثلة من تطبيقات النقاد
مميزات التشريع الجنائي في الفقه الإسلامي: دراسة تحليلية
Principles and Rules of Jihad: A Juristic Approach
Peace, the Essential Message of Islam
Orientalists on the Style of Quran: A Critical Study
The Genesis of Shi’ism in Islam
Origin of Earth: A Quranic Perspective
Rights of Non-Muslim Minorities in a Muslim Country in the Light of Qur’an and Sunnah
Pakistan’s Stance on the War on Terror: Challenging the Western Narrative
Impact of Hajj on Muslims With Special Reference to Pakistan

Abstract

We live in a global village. The cyber world has brought together people and shurnk the distences, yet multi cultural, multi ethinic and multi national has become the norm of the day. There is virtually no such place, no town, no village, city or state where people from diverse backgrounds speaking diffirent lagnuages and professing diffirent creeds live. This diveristy and variety is the essence of life.  This paper analyzes various ways of establishing peace in the light of Islamic teachings. It finds out the causes of quarrels and disputes in different nations so that they may be prevented to make the world peaceful.

تعارف و اہمیت

امنِ عالم کا مسئلہ موجودہ دور میں ان اہم ترین مسائل میں سے ایک ہے جو تمام انسانیت کے لئے بہت اہمیت کے حامل ہیں ،کیونکہ عمومی تباہی پھیلانے والے وہ ہتھیار جنہیں بڑی عالمی قوتوں نے تیار کر رکھا ہے ،کرۂِ ارض کو متعدد بار تباہ و برباد کرنے کے لئے کافی ہیں ۔یہ صورتحال اس وقت بہت خطرناک ہو جاتی ہے جب ہم بڑے ممالک کی بعض غیر ذمہ دارشخصیات اوراصحابِ علم و دانش کو اقوام اور تہذیبوں کو یہ الٹی میٹم دیتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ :”تہذیبوں کے درمیان ایک عالمگیر تصادم ہونے والا ہے" [1]جو اگر خدا نخواستہ وقوع پذیر ہوگیا تو انسانیت نے کئی صدیوں کی جدوجہد سے جو ترقی و خوشحالی اور علم ومعرفت کی دیا جلائی ہے اس کا خاتمہ ہو کر رہ جائے گا ۔ اس لئے امنِ عالم کی جو اس وقت ضرورت ہے شاید وہ کبھی نہیں تھی ۔

عصرِ حاضر میں امنِ عالم کی اس لئے بھی ضرورت ہے کہ آج کا دورسائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کا دور ہے ۔سائنسی ایجادات نے دنیا کے فاصلوں کو سمیٹ کر اسے ایک عالمی قریہ(Globle Village) بنا دیا ہے۔ آج مغرب کی خبر مشرق اور مشرق کی خبر مغرب میں پہنچنے میں دیر نہیں لگتی، بلکہ کیبل اور انٹرنیٹ سسٹم کے تحت براہِ راست اہم واقعات کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔آج مغرب کے بہت سارے مفاد مشرق میں اور مشرق کے بہت سارے مفاد مغرب میں ہیں۔ مغرب مشرق کے اور مشرق مغرب کے حالات سے متأثر ہو رہا ہے۔آج ایسا کوئی بڑا شہر نہیں رہا جہاں مختلف رنگ،نسل ،زبان، مذہب اور تہذیب کے لوگ نہ رہتے ہوں اور یہ ممکن بھی نہیں رہا۔اس لئے اب اقوام ِعالم ایک دوسرے سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتیں۔اس لئے اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ وہ آپس میں پر امن طریقے سے مل جل کر رہیں ۔ نسلی، لونی ،لسانی ،وطنی اور مذہبی اختلاف کو کائناتی فطری اختلاف کی طرح سمجھ کر برداشت کریں ۔ اور اقوامِ عالم میں جو مشترکہ نکات ہیں ان کو تلاش کرکے ان پر جمع ہونے کی کوشش کریں ۔اور امنِ عالم میں رخنہ ڈالنے والے اور فساد و بگاڑ پیدا کرنے والے اسباب تلاش کرکے ان کو دور کریں اور پر امن بقائے باہم (Peaceful Co- existence) کا فارمولا اپنائیں تاکہ وہ اس جدید گلوبل ولیج میں آپس میں امن و آشتی سے رہ سکیں ۔

اسلام کا مشن:

اسلام کا تو مشن ہی یہ ہے کہ دنیا کو عدل و امن سے بھر دے [2]جیسا کہ اس کے نام اسلام سے واضح ہے ،جس کے معنی ہیں امن و سلامتی ۔اس لئے اسلام ہر ایسی کوشش کی تائید کرتا ہے جو امنِ عالم کے لئے کی جائے اور وہ ہر اس عمل سے نفرت کرتا ہے، جو دنیا میں فتنہ و فساد پیدا کرے، چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہے. " وَاللّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلاَمِ "[3] اور اﷲ امن و سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے" يَهْدِي بِهِ اللّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلاَمِ[4] ’جو خدا کی رضا چاہتے ہیں وہ انہیں بذریعہ قرآن سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے ‘‘

اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ واضح ہدایت دی ہے کہ اسے امن و صلح پسند ہے ، فتنہ و فساد پسند نہیں :" وَالصُّلْحُ خَيْرٌ "[5] "صلح سب سے بہتر ہے " ’’ وَاللّهُ لاَ يُحِبُّ الفَسَادَ‘‘[6] ’’اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا ‘ " وَلاَ تَعْثَوْا فِي الأَرْضِ مُفْسِدِينَ " [7]" اور زمین پر فساد پھیلا نے والے بن کر مت پھرو"

اسلام نے تو مؤمنوں کو یہ حکم دیا ہے کہ جب آپس میں ملو تو ایک دوسرے کا ان الفاظ سے استقبال کرو :السلام علیکم’’تم پر سلامتی ہو ‘‘ یعنی تمہاری جان ، مال اور عزت ہم سے محفوظ ہے ۔ اور آپ ﷺ نے ایک روایت میں مسلم کی تشریح یہ فرمائی: المسلم من سلم الناس من لسانه ويده والمؤمن من أمنه الناس علی دمائهم وأموالهم[8] "کامل مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے انسانیت محفوظ رہے اور اصل مؤمن تو وہ ہےجس سے لوگوں کی جانیں اور مال محفوظ رہے" اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام امن و آشتی کا کتنا خواہاں ہے ۔اب ہم ان اسباب کا جائزہ لیتے ہیں جو امنِ عالم میں خلل ڈالتے ہیں:

عالمی امن میں خلل ڈالنے والے اسباب :

یہ ایک فطری اور عقلی بات ہے کہ اگر کسی برائی کاقلع قمع کرنا ہے تو اس کے اسباب تلاش کرکے انہیں ختم کیا جائے، تو وہ برائی از خود ختم ہو جائے گی ۔دین اسلام کا طریقہ یہ ہی ہے کہ وہ نہ صرف برائی سے بچنے کی تاکید کرتا ہے بلکہ اس کے اسباب کے سد ِباب کا حکم دیتا ہے تاکہ نہ رہیں اسباب اور نہ رہے برائی ۔

قرآن و سنت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمی امن میں فساد و بگاڑپیداکرنے والے اہم اسباب مندرجہ ذیل ہیں :

۱۔ اپنا عقیدہ ، مذہب ، نظام ِفکر، سیاسی و معاشی پالیسیاں ، اپنی تہذیب اور اپنا کلچر دوسروں پر جبری طور پر مسلط کرنا

۲۔دوسروں کے مال ، معاشی وسائل اور سرزمین پر ناجائز طور پر قبضہ کرنا

۳۔عدم مساوات :مثلاً کسی قوم یا گروہ کا رنگ، نسل ، زبان یا وطنیت کی بنیاد پر اپنے آپ کو برتر اور دوسروں کو کمتر سمجھنا اور پھر عملی طور پر ان کے ساتھ امتیازی سلوک Discrimination) ) برتنا ۔

یہ وہ اسباب ہیں جو انسانی سماج یا اقوام ِعالم میں نفرت ، دشمنی ، لڑائی جھگڑے اور فتنے و فساد و خونریزی کا سبب بنتے ہیں ، جن کی وجہ سے ملکی یا بین الاقوامی طور پر بدامنی پھیلتی ہے ،امن و سکون برباد ہوتا ہے اور بے سکونی و بے چینی اپنے ڈیرے ڈال دیتی ہے ۔

اب ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام اس حوالے سے کیا تعلیم دیتا ہے اور پیغمبرِ اسلام ﷺ اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم نے اس سلسلے میں اپنی کونسی عملی مثالیں چھوڑی ہیں ؟

اپنا عقیدہ،مذہب،نظام ِفکر،سیاسی و معاشی پالیسیاں،اپنی تہذیب اور اپنا کلچر دوسروں پر جبری طور پر مسلط کرنا۔

اسلام اس حوالے سے بہت صاف اور واضح موقف رکھتا ہے،کہ کسی بھی شخص یا ریاست کو یہ حق نہیں کہ وہ اس معاملے میں دوسروں پر جبر کرے۔ اور اسلام پہلا مذہب ہے جس نے اس طرز ِفکر و طرزِ عمل کو فتنہ قرار دیا اور اس فتنے کو قتل و خونریزی سے زیادہ بھیانک قرار دیا۔ [9]چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہے :"والفتنة أشد من القتل"[10] "اور فتنہ تو قتل سے بھی سخت تر ہے" یعنی لوگوں کو عقیدے،مذہب،سوچ وفکر کی آزادی نہ دینا،ان پر جبری طور پر اپنا طرزِ فکر و طرزِ حیات نافذ کرنا،ایک بہت بڑا فتنہ ہے جو قتل و خونریزی سے بڑھ کر خطرناک ہے۔

اسلام سے پہلے کی صورتحال اور اسلام کی اصلاح:

اسلام سے پہلے قدیم انسانی سماج بنیادی طور پر متعصب اور غیر روادار تھا ۔حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد ابتدائی تین صدیوں تک یہودی اور عیسائی صرف اعتقادی اختلاف کی بنیاد پر ایک دوسرے کے دشمن بنے رہے۔پہلے یہودیوں نے مسیحی حضرات کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایا ،اس کے بعدجب مسیحی حضرات کو اقتدار ملا تو انھوں نے یہودیوں سے جارحانہ انداز میں انتقام لینا شروع کیا۔[11] آنحضرت ﷺ کی بعثت کے ابتدائی دور میں جب فارس کی آتش پرست حکومت نے رومی علاقوں پر قبضہ کیا تھا،تو قبضہ کرنے کے بعد انھوں نے مسیحیت کو مٹانے کے لئے شدید ترین مظالم شروع کئے۔مذہبی شعائر کی توہین کی گئی،گرجا گھر مسمار کر دیئے گئے،قریبًا ایک لاکھ عیسائیوں کوبے گناہ قتل کر دیا گیا۔ہر جگہ آتشکدے تعمیر کئے گئے اور مسیح علیہ السلام کے بجائے آگ اور سورج کی جبری پرستش کو رواج دیا گیا۔مقدس صلیب کی اصلی لکڑی ،جس کے متعلق عیسائیوں کا عقیدہ تھا کہ اس پر مسیح علیہ السلام نے جان دی تھی،وہ چھین کر مدائن پہنچا دی گئی۔اسی صورتحال میں جب ہرقل قیصرِ روم نے شہنشاہِ ایران خسرو پرویز کو صلح کی پیشکش کی تو خسرونے جو جواب دیا تھا، اس سے اس کی متعصبانہ اور غیر روادارانہ سوچ کی عکاسی ہوتی ہے:

"مجھ کو یہ نہیں ،بلکہ خود ہرقل زنجیروں میں بندھا ہوا میرے تخت کے نیچے چاہیے،میں رومی حکمران سے اس وقت تک صلح نہیں کروں گا ،جب تک وہ صلیبی خدا کو چھوڑ کر ہمارے سورج دیوتا کی پرستش نہ کرے "[12]

یہ ہی صورتحال اہلِ مکہ کی تھی کہ وہ کسی کو مذہبی اور فکری آزادی نہیں دیتے تھے،وہ اپنے آ بائی مذہب ترک کرنے والوں کی زندگی تنگ کردیتے تھے ،چناچہ اہلِ مکہ نے حضرت یاسر ؓاور اس کی بیوی سمیہ ؓ کو تبدیلی ٔ دین یعنی اسلام قبول کرنے کی وجہ سے وحشیانہ انداز سے شہیدکردیا۔ اور حضرت بلالؓ، یاسرؓ ،خبابؓ ،خبیبؓ اوردوسرے صحابۂ کرام ؓ کو جسمانی ، ذہنی اور ہر طرح کی اذیتیں دیں ۔نبی کریم ﷺ اور اس کے صحابہ کرام ؓ کی زندگیاں تلخ کردیں۔آپ ﷺ اور ان کے خاندان اور ہمدردوں کا سماجی بائیکاٹ کیا گیا اور مسلمانوں کو اتنا تنگ کیا گیا کہ بالآخر انہیں مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنی پڑی ۔ لیکن پھر بھی اہلِ مکہ نے حبش اور مدینہ تک ان کا پیچھا کیا اور ان سے بدر ، احد اور خندق کی معرکہ آرائیاں کیں ،یہاں تک کہ "صلح حدیبیہ کے موقع پر بھی انھوں نے اپنی اس تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ شرط رکھی کہ ہمارا جو بھی شخص مسلمان ہوکر تمہارے پاس مدینہ منورہ میں آئے گا آپ اسے واپس کریں گے"[13]

دینِ اسلام ،چونکہ اس کا دعوی ہے کہ وہ کائناتی اور آخری الہامی دین ہے،اس لئے اس نےاس حوالے سے کائناتی اور انقلابی تعلیمات دیں۔اقوامِ عالم کی غیر روادانہ اور متعصبانہ سوچ کے برعکس اسلام نے مذہبی رواداری اور بین الاقوامی ہم آہنگی کا درس دیتے ہوئے اپنی واضح ہدایات دیں ؛کہ عقیدہ ، مذہب ، فکر اور تہذیب کے حوالے سے ہر شخص کو آزادی حاصل ہونی چاہیے ،کوئی کسی پر جبر و اکراہ نہ کرے ،چناچہ قرآن مجید میں ارشاد ہے." لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ "[14] ’’دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے ،صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے " فَمَن شَاء فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاء فَلْيَكْفُرْ[15]۔ جو چاہے ایمان لے آئے اور جوچاہے کفر اختیار کر ‘‘اﷲتعالیٰ نے واضح الفاظ میں اپنے پیغمبر ﷺکی زبانی یہ اعلان کرایا : " لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ[16] "تمہارے لئے تمہارا دین اور میرے لئے میرا دین " اور نبی کریم ﷺ کے واسطے سے مسلمانوں کو عقیدے و مذہب کے سلسلے میں جبر و اکراہ سے قطعی طور پر ممانعت کرتے ہوئے فرمایا : " أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ"[17]" کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مؤمن بن جائیں؟ یعنی آپ کو یہ ہرگز اجازت نہیں "

اصل بات یہ ہے کہ عقیدہ ، مذہب ، نظامِ فکر ، تہذیب و تمدن یا تو انسانوں کو ورثے میں ملتے ہیں یا وہ خود اپنے علم ،عقل ، فہم،تجربے اور مشاہدے کے نتیجے میں اختیار کرتے ہیں ، اس لئے اگر ان معاملات میں لوگوں پر جبر کیا گیا تو ایک طرف تو ان کی فطری آزادی میں مداخلت ہوگی تو دوسری طرف جبری طور پر درآمد کئے ہوئے مذہب و فکر کو وہ دل سے قبول نہیں کریں گے ، جس کے نتیجے میں مزاحمت ہوگی، اور اس کا بالآخر انجام فتنہ، فساد، خونریزی اور بد امنی ہوگا۔

اسلام چونکہ دینِ فطرت ہے ، اس لئے وہ انسان کے فطری تقاضوں کاخیال رکھتا ہے ، اس لئے اس معاملے میں جبر و اکراہ کی اجازت نہیں دیتا ۔البتہ اسلام اس بات پر ضرور زور دیتا ہے کہ سچ ایک ہی ہوتا ہے اس لئے سچ کی دعوت حکمت و موغطۃ ِحسنہ کے ساتھ ضرور دی جائے ، پھر لوگو ں کا اختیار ہے چاہیں تو اسے قبول کریں ،چاہیں تو نہ کریں ۔

اسلام مختلف معاشروں میں روادارانہ فضا قائم کرنا چاہتا ہے ، اسلام چاہتا ہے کہ لوگوں کے سماجی تعلقات خراب نہ ہوں ، وہ باہمی پیار ، محبت و الفت کے ساتھ رہیں، اس لئے وہ ایک دوسرے کے عقیدے، مذہب اور مذہبی شخصیات کے احترام کا درس دیتا ہے اور ایسے رویے اور طرزِ عمل سے روکتا ہے جس سے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان نفرت و عداوت کی فضا قائم ہو، اور عالمی امن خطرے میں پڑے۔اس لئے وہ اپنے ماننے والوں کو دوسرے مذاہب والوں یا ان کے مذہبی رہنمائوں کے خلاف نا شا ئستہ زبان بولنےAbusive language) ) سے روکتا ہے،کیونکہ اس میں ایک تو ناشائستگی ہے تو دوسری طرف مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے مابین ٹکراؤ کا امکان ہے ،جس کی وجہ سے دھرتی پر فساد کھڑا ہوسکتا ہے، چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہے : ولاتسبوا الذین یدعون من دون اﷲ فیسبوا اﷲ عدوًا بغیر علم [18]’’یہ لوگ اﷲ کے سوا جن کو پکارتے ہیں ان کو برا بھلا مت کہو ،کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ حد سے گزر کر جہالت کی بنا پر اﷲ کو برا بھلا کہنے نہ لگیں ‘‘

پیغمبرِ اسلام ﷺ اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنھم نے ملکی اور عالمی امن کے حوالے سے جو کوششیں کی تھیں ہم اس کی چند مثالیں ذکر کرتے ہیں:

میثاقِ مدینہ

آپ ﷺ نے مدینہ منورہ آمد کے موقع پر ملک میں امن و امان کی فضا قائم کرنے ، ملکی استحکام اور بقائے باہمی کیلئے یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان ایک معاہدہ کیا تھا جو میثاقِ مدینہ(Charter of Madina )کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے مندرجات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عالمی امن وامان ، انسانی احترام، مساوات ، ایک دوسرے کی خیرخواہی ، بقائے باہمی اور رواداری کی اعلیٰ مثال ہے ، اس میں دیگر امور کے ساتھ:

"ہر فریق کو مذہبی آزادی ، اور اندرونی خود مختاری کا حق دیا گیا تھا ، اور یہ طے پایا تھا کہ کسی بھی فریق کو دوسروں کی جان ، مال ، عزت اور مذہبی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں ہوگی ، ہر فریق اپنے مذہب اور داخلی معاملات میں آزاد و خودمختارہوگا ، ریاست دشمنوں کو کوئی بھی پناہ نہیں دے گا ،بیرونی قوتوں کی طرف سے مدینہ منورہ پر حملے کی صورت میں سارے فریق مل کر ا س کا دفاع کریں گے ۔معاہدے کے کسی فریق پر کسی بیرونی دشمن نے حملہ کیا توسارے مل کر اس کا دفاع کریں گے، معاہدے کا جو بھی فریق مظلوم ہوگابلا تفریق اس کی مدد کی جائے گی ، اور معاہدے کا ہر فریق دوسروں کا خیر خواہ رہے گا"[19]

اس حوالے سے مسلمانوں کو ہدایت کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا: "یاد رکھو !جس نے مُعاہِد پر ظلم کیا ،اس کانقصان کیا ،یا اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بوجھ ڈالا یا اس سے کوئی چیز زبردستی لی ،تو میں اس کے خلاف قیامت کے دن مقدمہ لڑوں گا " [20]اور یہ بھی فرمایا کہ :"جس نے کسی معاہِد کو قتل کیا ،جس کے تحفظ کا ذمہ اﷲ و رسول ﷺ پر ہے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے ۔ اور جنت کی خوشبوستر سال کی مسافت سے آتی ہے"[21]

ملکی اور بین الاقوامی سلامتی،امن و امان،مذہبی رواداری،اور بقائے باہمی کے حوالے سے آپ ﷺ کا یہ معاہدہ اپنی مثال آپ ہے،آپ ﷺ سے پہلے کی انسانی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

’’یہ وہ تحریری معاہدہ تھا جس کی بدولت آپ ﷺ نے آج سے چودہ سو سال پہلے ایک ایسا ضابطۂ انسانی معاشرہ میں قائم کیا جس سے شرکائے معاہدہ میں ہر گروہ اور ہر فرد کو اپنے اپنے عقیدے و مذہب کی آزادی کا حق حاصل ہوا اور انسانی زندگی کی حرمت قائم ہوئی۔یہودیوں کے ساتھ رواداری،آزادی،اور ان کے حقوق کے تحفظ کی تاریخ ساز دستاویز اور اس کی دفعات اپنی حقیقت پر آپ گواہ ہیں۔مذہبی رواداری،امن و سلامتی، آزادی اور انصاف کا ہر جوہر اس میں موجود ہے۔‘‘[22]

معاہدہ نجران:

آپ ﷺنے ملکی اور عالمی امن کے حوالے سے جو کوششیں کی تھیں، اس کا ایک اور ثبوت نجران کے عیسائیوں کے ساتھ کیا ہوا معاہدہ ہے۔نجران کے عیسائیوں کے لئے آپ ﷺنے جو معاہدہ لکھوایا تھا اس کے الفاظ کچھ اس طرح تھے:"نجران اور اس کے آس پاس کے عیسائیوں کو ان کی جان،مال اور مذہب کے بارے میں اﷲاور اس کے رسول کی طرف سے ضمانت دی جاتی ہے ۔یہ ضمانت جو موجود ہیں ان کے لئے بھی ہے اور جو آنے والے ہیں ان کے لئے بھی ہے۔نہ ان کے منصبی فرائض کی ادائگی میں مزاحمت کی جائے گی اور نہ ان کے حقوق و مراعات میں کسی قسم کی تبدیلی کی جائے گی،کوئی اُسقف(عیسائیوں کا بڑا مذہبی پیشوا) اپنے منصب سے برطرف نہ کیا جائے گا،اور نہ کوئی راہب اپنے راہب خانے سے نکالا جائے گا اور نہ کوئی پادری اپنے عہدے سے علاحدہ کیا جائے گا۔یہ لوگ اپنی چھوٹی بڑی چیز سے اسی طرح فائدہ اٹھاتے رہیں گے جس طرح پہلے اٹھاتے رہے تھے۔کسی مجسمے یا صلیب کو توڑا نہ جائے گا ۔نہ انھیں کسی پر ظلم کرنے کی اجازت ہوگی اور نہ ان پر کوئی ظلم کرے گا۔۔۔۔۔۔یہ ضمانت انھیں خدا اور اس کے رسول ؐ کی طرف سے قیامت تک کے لئے دی جاتی ہے بشرطیکہ وہ کسی ظلم کا ارتکاب نہ کریں۔‘‘[23]

تہذیبی اور ثقافتی آزادی:

آپ ﷺ نے اسلامی ریاست کے اندر مختلف مذاہب کے لوگوں کو جس قسم کی مذہبی، فکری ،تہذیبی اور ثقافتی آزادی دی تھی اس کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ آپ ﷺ نے انھیں شادی بیاہ،کھانے پینے اور مذہبی رسوم کی ادائگی میں کوئی قدغن نہیں لگائی۔اگر کوئی غیر مسلم چار سے زیادہ بیویاں رکھتا یا محرمات سے نکاح کرتا یا دو بہنوں کو نکاح میں رکھتا جو ان کے مذہب میں جائز تھا تو آپ ﷺ اس سے کوئی سروکار نہیں رکھتے تھے،البتہ جب وہ اسلام قبول کرتا تو آپ ﷺ اسے اسلامی تعلیمات کا پابند بناتے۔نوفل بن معاویہ مسلمان ہوئے تو اس کے پاس پانچ بیویاں تھیں،[24] قیس بن حارث اسدی مسلمان ہوئے تو اسکی آٹھ بیویاں تھیں[25]،غیلان بن اسلم ثقفی مسلمان ہوئے تو اسکے پاس دس بیویاں تھیں۔آپﷺ نے انہیں چار چار بیویاں رکھنے اور باقیوں کو چھوڑدینے کا حکم دیا۔[26] فیروز دیلمی مسلمان ہوئے تو اس کے نکاح میں دو بہنیں تھیں آپ ﷺ نے اسے ایک کو چھوڑنے کا حکم دیا۔ [27]لوگ اپنے باپ کی دوسری بیوی (ماں کے علاوہ)سے شادی کرتے تھے،آپ ﷺ نے غیر مسلموں پر کوئی پابندی نہیں لگائی البتہ قرآن مجید نے مسلمانوں پر یہ نکاح حرام قرار دیا۔[28]

آپ ﷺ نے غیر مسلموں کے شراب پینے اور خنزیر کھانے کے بارے میں فرمایا:" شراب ان کے لئے ایسی ہے جیسے ہمارے لئےسرکہ اور خنزیر ان کے لئے ایسے ہے جیسے ہمارے لئے بکری"[29] مطلب کہ نہ ان کے شراب پینے پر پابندی،نہ اس کے بنانے اور کاروبار کرنے کرنے پر کوئی قدغن۔اسی طرح ان کے لئے نہ خنزیر(یا اس طرح کے حرام جانور کے) کھانے پر پابندی نہ اس کے پالنے اور فروخت کرنے پر کوئی روک ٹوک۔البتہ انہیں شراب اور خنزیر مسلمانوں کی بستی میں یا مسلمانوں کو بیچنے پر پابندی تھی۔

خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا مختلف مذاہب کے لوگوں کے ساتھ جو رویہ رہا اس کا اندازہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں میری (Mery) کے عیسائی بطریق نےفارس کے اسقف شمعون کے نام جو خط لکھا تھا اس سے لگایا جا سکتا ہے:

"عرب جنھیں خدا نے دنیا کی حکومت عطا کی ہے،دینِ عیسوی پر حملہ نہیں کرتے بلکہ ہمارے معاون ہوتے ہیں،وہ ہمارے خدا اور ہمارے اولیاء کا احترام کرتے ہیں،اور ہمارے گرجاؤں،راہبوں اور راہب خانوں کو مالی عطییےدیتے ہیں،کسی مسلمان (چاہے وہ عام آدمی ہو،افسر ہو یا حکمران ) کو اجازت نہیں کہ کسی غیر مسلم کی جائداد پر قبضہ کرے"[30]

"اقوامِ متحدہ نے ۱۹۴۸ع میں وہ چارٹر منظور کیا جسے یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس کہا جاتا ہے۔اس کے آرٹیکل ۱۸ میں یہ کہا گیا ہے کہ:" ہر آدمی خیال،ضمیر،اور مذہب کی آزادی کا حق رکھتا ہے۔اس حق میں یہ بھی شامل ہے کہ آدمی اپنے مذہب کو تبدیل کرسکے اور اپنے مذہب کا خفیہ یا اعلانیہ اظہار کر سکے یا دوسروں کو اس کی تعلیم دے،اقوام متحدہ کا یہ چارٹر بھی حقیقتًااقوامِ متحدہ کا کارنامہ نہیں بلکہ وہ بھی اسی اسلامی انقلاب کی ایک دَین ہے جو اقوامِ متحدہ سے ایک ہزار سال سے بھی زیادہ پہلے ظہور میں آیا تھا ۔اسلام نے تاریخ میں پہلی بار شرک کے نظام کو ختم کیا جس نے انسان اور انسان کے درمیان فرق و امتیاز کا ذہن پیدا کر رکھا تھا۔اسی غیر حقیقی تقسیم کا نتیجہ اونچ نیچ کا وہ سماج تھا جو تمام قدیم زمانوں میں مسلسل پایا جاتا رہا ہے۔اسلام نے ایک طرف اس معاملہ میں انسانی ذہن کو بدلا ،دوسری طرف اس نے وسیع پیمانہ پر عملی انقلاب بر پا کر کے انسانی آزادی اور انسانی احترام کا ایک نیا دور شروع کیا۔یہ دور تاریخ میں مسلسل سفر کرتا رہا ،یہاں تک کہ وہ یورپ میں داخل ہو گیا اور بڑھتے بڑھتے آخرکار آزادی اور جمہوریت کے جدید انقلاب کا سبب بنا۔جدید یورپ کا جمہوری انقلاب اسی اسلامی انقلاب کا سیکیولر ایڈیشن ہے جو بہت پہلے ساتویں صدی عیسوی میں عرب میں برپا ہواتھا"[31]

دوسروں کے مال ، مالی وسائل اور سرزمین پر ناجائز طور پر قبضہ کرنا:

یہ ایک حقیقت ہے کہ مال انسانی زندگی کا سہارا ہے اور مالی وسائل مال کے حصول کا ذریعہ ہیں ۔ اگر کسی سے اس کا مال یا اس کے مالی وسائل چھینے جائیں یا ان پر ناجائز طور پر قبضہ کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس سے جینے کا حق چھینا جا رہا ہے ۔ اسی طرح ہر انسان ، اور ہر قوم اپنی دھرتی سے فطری طور پر محبت کرتے ہیں اور اسے اپنے گھر کی طرح سمجھتے ہیں اگر اس پر ناجائز طور پر قبضہ کیا جائے یا ان کی آزادی اور خودمختاری سلب کی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کے گھر پر قبضہ کرکے ان کی زندگی ان پر تنگ کی جارہی ہے یا ان کی آزادی اور خودمختاری ان سے چھینی جا رہی ہے۔

ظاہر بات ہے کہ ایسی صورتحال انسان کے لئے موت اور حیاتی کا مسئلہ بن جاتی ہے ،ایسی صورتحال میں ایک خود دار انسان اور خوددارقوم کے لئے اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں کہ غاصب سے لڑکر اسے اپنے مال و ملک سے باہر دھکیل دے یا پھر جان دے دے ۔ اور ایک باوقار انسان ایسی صورتحال میں لڑنے اور مرنے کو ترجیح دے گا ۔ جس کا نتیجہ خونریز لڑائی ، زبردست تباہی ، فتنہ و فساد کے سوا کچھ نہیں ہوگا ۔

صنعتی انقلاب کے بعد کی لڑایوں کا مقصد:

صنعتی انقلاب کے بعد اقوامِ عالم کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ اب یہ لڑائیاں اکثر مذکورہ وجوہات کی بنا ء پر ہی ہورہی ہیں ۔ صنعت اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے ترقی یافتہ ممالک خام مال حاصل کرنے ، سستی اجرت پر مزدور حاصل کرنے اور اپنی مصنوعات کے لئے منڈیاں تلاش کرنے کے لئے انیسویں اور بیسویں صدی کے شروع میں غریب آفریکی ریاستوں ، مشرق وسطیٰ کی ریاستوں ، جنوبی ایشیا کی ریاستوں کو اپنی کالونیوں میں تبدیل کردیا ۔ہوسِ ملک گیری اور توسیع پسند انہ ذہنیت بیسویں صدی میں دو عالم گیر لڑائیوں کا باعث بنی جس میں چھ کروڑ سے زائد لوگ قتل ہوئے ،اور کروڑوں لوگ بھوک ، بدحالی ، بیماریوں اور بیروزگاری کا شکار ہوئے اور دنیا ایک عرصے تک کساد بازاری کا شکار رہی ۔[32]

اقوامِ عالم نے پہلی عالمگیر لڑائی کی تباہ کاریوں کےبعد (League of Nations) اور اس کے ناکارہ ہونے کی وجہ سے دوسری عالمگیر لڑائی کے بعد (United Nations) کے نام سے ادارے بنائے تاکہ ان کے ذریعے دنیا میں امن و امان قائم کیا جائے لیکن اسلام نے چودہ سو سال پہلے امنِ عالم کے حوالے سے واضح ہدایات دی تھیں کہ کسی شخص کے مال ، مالی وسا ئل یا قومی وسائل پر ناجائز طور پر قبضہ نہ کیا جائے ورنہ دھرتی پر فتنہ و فساد برپا ہوگا۔ اور خدا کو فساد پسند نہیں ۔چناچہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَأْكُلُواْ أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلاَّ أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ" [33]

"اے ایمان والو! ایک دوسرے کا مال ناجائز طور پر مت کھائو،سوائےاس کے کہ لین دین ہو تمہارے درمیان، ایک دوسرے کی رضامندی کے ساتھ"

لین دین چاہے دو افراد کے درمیان میں ہو یا دو ممالک کے مابین ہو۔اور لین دین سے مراد یہ ہے کہ آپس میں منافع کا تبادلہ ہوجیسے تجارت ، صنعت ، کاروبار اور محنت وغیرہ میں ہوتا ہے ۔اور یہ بھی ایک دوسرے کی دلی رضامندی کے ساتھ ہونا چاہیے ,کسی پر کوئی دباؤ نہیں ہونا چاہیے ۔ ایک روایت میں آپ ﷺنے فرمایا :لا يحل مال امرئ الا بطيب نفس منه[34] "کسی آدمی کا مال اس کی دل کی رضامندی کے بغیر کھانا حلال نہیں" اسلام نے اس حوالے سے اصول یہ بتایا کہ :لا تظلمون ولا تظلمون [35]"نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جا ئے" آپ ﷺنے فرمایا :لا ضرر ولا ضرار[36] "نہ خود نقصان اٹھائو اور نہ کسی اور کو نقصان پہنچاؤ"

اس حوالے سے اسلام نےمسلمانوں کو ایک ایک کر کے وہ ذرائع بتا دیئے جن سے مال حاصل کرنا حرام ہے،جس کی پوری تفصیل قرآن وسنت میں موجود ہے۔

کسی کے ملک یا اس کے کسی حصے پر ناجائز قبضہ تو دور کی بات ہے اسلام توبالشت کے برابر بھی کسی کی زمین پر ناجائز قبضے کی اجازت نہیں دیتاچنانچہ اسلام کے پیغمبر ﷺنے فرمایا :من أخذ شبراً من الأرض ظلماً طوقہ یوم القیٰمۃمن سبع أرضین لا یقبل منہ صرف ولا عدل[37] "جس نے ایک بالشت کے برابر کسی کی زمین پر ناجائز طور پر قبضہ کیا تو قیامت کے دن تہ تک وہ زمین اس کی گردن پر لا د دی جائے گی اور نہ اس کی نفل عبادت خدا کے ہاں قبول ہوگی اور نہ فرض عبادت"

اسلام نے ہوسِ ملک گیری کی نیت سے کسی کے ملک پر قبضہ کرنے کو قطعی طور پر حرام ٹھرایا اور اپنے ماننے والوں کو ایسے ارادے سے بھی روک دیا ، چنانچہ اسلام تبلیغِ دین کاحکم دیتا ہے اور یہ ہر ایک مذہب والے کا حق مانتا ہے اور اس سلسلے میں جو بھی دینِ اسلام کی راہ میں رکاوٹ بنے اور لوگوں کو ایک مذہب یا فکر پر مجبور کرے یا جبری طور پر اپنی تہذیب یا اپنا کلچر لوگوں پر نافذ کرے یا مسلمانوں کو ان کی دینی تعلیمات پر عمل کرنے سے روکے، اس کے خلاف جہاد کرنے کا حکم دیتا ہے لیکن جہاد کے سلسلے میں وضاحت کردی کہ وہ محض " اعلاء کلمۃ اللہ " یعنی خدا کی بات کو بلند کرنے کے لئے ہو،کسی کے ملک پر قبضہ کرنے یا ان کے وسائل پر تسلط حاصل کرنے یا کسی اور نیت سے نہ ہو ،ورنہ وہ جہاد فی سبیل اللہ(اللہ کے راستے میں) نہیں ہوگا بلکہ فساد فی الارض (زمین پر فساد پھیلانے )کےلئے ہوگا ۔ چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:رسول اللہ ﷺ سےپوچھا گیا کہ ایک شخص مالِ غنیمت (جس میں مال و اسباب کے علاوہ خطۂ ارض بھی آجاتا ہے) کے لئے لڑتا ہے ،کوئی ناموری اور شہرت کے لئے لڑتا ہے ، کوئی اپنی بہادری کے جوہر دکھانے اور دوسروں پر اپنی دھاک بٹھانے کے لئے لڑتا ہے ، اور کوئی قومی تعصب و حمیت کے لئے لڑتا ہے، ان میں کون سا اللہ کی راہ میں لڑتا ہے ؟ آپ ﷺنے فرمایا :من قاتل لتکون کلمة الله هی العليا فهو فی سبيل الله[38] "جو شخص اس مقصد کے لئے قتال کرتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو ، وہی اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا ہے "

اور خدا کے کلمہ کو بلند کرنے کا مطلب ہے کہ خدا کے رحیمانہ دین کو لوگوں تک پہنچانا ،دنیا سے ظلم کو مٹانا ، عدل ، انصاف اور سماجی مساوات کا نظام قائم کرنا ، لوگوں کو مذہبی اور فکری حوالے سے آزادی دلانا ، عوام الناس کےگردنوں کو ظالم ، بےرحم ، سفاک اور استحصالی قوتوں کے پنجے سے آزادی دلانا ۔ اور یہ سب کچھ خدا کی رضا کے لئے ہو چنانچہ آپ ﷺ نے ایک اور روایت میں وضاحت فرمادی کہ جو کام خدا کی رضا کے لئے نہ کیا گیا ہو چاہے بظاہر وہ کتنا ہی عظیم ہو لیکن وہ خدا کےہاں قبولیت کی سند حاصل نہیں کرپائے گا ،چنانچہ آپ ﷺنے فرمایا :ان الله لا يقبل من العمل الا ما کان له خالصاً وابتغی به وجه الله[39] "خدا صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالصۃً اسی کے لئے ہوا ہو، اور اس کی رضامندی کے حصول کے لئے ہو"

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں مسلمانوں کی فوج نے ایک عیسائی کی فصل کو روند ڈالا،اس نے آپ رضی اللہ عنہ کے ہاں شکایت پیش کی تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کی فصل کی قیمت دس ہزار درہم بیت المال سے اد اکر دی[40] یہ اس بات کی علامت ہے کہ مسلمانوں کے ہاں نہ کسی فرد کو اجازت ہےکہ کسی کو مالی نقصان دے اور نہ کسی ریاستی ادارے کو اجازت ہے کہ وہ کسی کا مالی نقصان کرے۔

اس لیے عالمی امن کے حوالے سے یہ ضروری ہے کہ کسی کے وسائل پر ناجائز تسلط حاصل نہ کیا جائے جیسے انیسویں اور بیسویں صدی میں غریب اور کمزور ممالک کے وسائل پر ناجائز طور پر قبضے کیے گئے،جس کے نتیجے میں خونریز لڑائیاں ہوئیں اور کروڑہا لوگوں کی جانیں ضایع ہوئیں،اور بدقسمتی سے آج بھی کسی نہ کسی صورت میں یہ سلسلہ جاری ہے۔

== عدم مساوات: ==

جیسے کسی قوم یا گروہ کا رنگ،نسل،زبان، یا وطنیت کی بنیاد پر اپنے آپ کو برتر اور دوسروں کو کمتر سمجھنااور پھر عملی طور پردوسروں کے ساتھ امتیازی سلوک برتنا۔

امنِ عالم میں خلل ڈالنے والی تیسری اہم چیز انسانیت کے مابین عدم مساوات کا رویہ ہے۔یہ ایک بہت بڑی گمراہی ہے جو دنیا میں ہمیشہ عالمگیر فساد کاموجب بنی رہی ہے۔قدیم ترین زمانے سے لے کرآج تک ہر دور میں انسان بالعموم انسانیت کو نظرانداز کر کے اپنے گرد کچھ چھوٹے چھوٹے دائرے کھینچتا رہا ہے،جن کے اندر پیدا ہونے والوں کو اس نے اپنا اور باہر پیدا ہونے والوں کو غیر قرار دیا ہے۔یہ دائرے کسی عقلی اوراخلاقی بنیاد پر نہیں بلکہ اتفاقی پیدائش کی بنیاد پر کھینچے گئے ہیں۔کہیں ان کی بنا ایک خاندان،قبیلے یا نسل میں پیدا ہونا ہے اور کہیں ایک جغرافی خطے میں یا ایک خاص رنگ والی یا ایک خاص زبان بولنے والی قوم میں پیدا ہوجانا ہے۔پھر ان بنیادوں پر اپنے اور غیر کی جو تمیز قائم کی گئی ہے وہ صرف اس حد تک محدود نہیں رہی کہ جنھیں اس لحاظ سے اپنا قرار دیا گیا ہو ، ان کے ساتھ غیروں کی بنسبت زیادہ محبت اور زیادہ تعاون ہو، بلکہ اس تمیز سے نفرت،عداوت،تحقیر وتذلیل اور ظلم وستم کی بدترین شکلیں اختیار کی گئی ہیں۔اس کے لئے فلسفے گھڑے گئے ہیں،مذہب ایجاد کیے گئے ہیں،قوانین بنائے گئے ہیں،اخلاقی اصول وضع کیے گئے ہیں،قوموں اور سلطنتوں نے اس کو اپنا مستقل مسلک بنا کر صدیوں اس پر عملدرآمد کیا ہے۔[41]

ہندوؤں کی سوچ کے مطابق آریا نسل دنیائے انسانیت پر ایسی برتری رکھتی ہے کہ دنیا کا کوئی انسان اس کا مقابلہ یا برابری نہیں کرسکتا،اسی اصول پر انہوں نے سماج کو طبقات میں تقسیم کر دیا،برہمن،کھشترى،ویش،شودر ۔برہمن کی باقی سارے طبقات پر بالادستی قائم کی گئی اور غیر برہمن شودروں کو انتہائی گھٹیا اور نیچ مقام دیا گیا۔یونان کے دانشور ارسطو جو بہت بڑےفلسفی تھے،جس کی عقلی وفکری امامت کا مغرب ومشرق کو اعتراف ہے ، نے اصول وضع کیا تھا کہ قدرت نے یونانیوں کو ریاست و اقتدار کے لئے پیدا کیا ہے اور غیر یونانیوں کو غلامی کے لئے۔ اور پھر یونانیوں نے اسی اصول کو اپنایا،اپنے لیے الگ قانون بنائے اور غیر یونانیوں کے لیے الگ ۔یونانیوں کے بعد رومن امپائر نے بھی اسی اصول کو اپنایا۔رومیوں نے جب قانون بنائے تو پوری نسلِ انسانی کو دو طبقوں میں تقسیم کیا،ایک رومن دوسرے غیر رومن۔غیر رومن کو انہوں نے بربری یا غیر مہذب قرار دیا اور ان کے لئے ایک الگ قانون مرتب کیا،جسے انگلش میں (Law of Nations) کہتے ہیں، جس کا مطلب تھا غیر رومیوں کا قانون۔انہوں نے اپنے امور نمٹانے کے لیے الگ قانون وضع کیا ہوا تھا۔یورپ کا موجودہ نظام جس کی اصل فکری بنیادیں یونانیوں کے تصورات پر قائم ہیں،پھر جس پر رومیوں کے مادہ پرستانہ تصورات اور شہنشاہیت زدہ اداروں نے بڑا گہرا اثر ڈالا وہ بھی اسی طبقاتی اور غیر مساویانہ نظام پر قائم ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج جو نظام وہ دنیا کو دے رہے ہیں اور چلا رہے ہیں،اس میں مغرب کی چار بڑی طاقتوں کی بالادستی قائم ہے،اقوامِ متحدہ کا فیصلہ کن ادارہ سلامتی کونسل ہے جس میں پانچ مستقل ارکان کو فیصلہ کن اہمیت حاصل ہے،پوری دنیا کے دوسوسے زائد ممالک ایک طرف ہوں اور ان پانچ میں سے صرف ایک ملک بلکہ اس ملک کا ایک شخص جب چاہے پوری دنیا کے متفقہ فیصلے کو(ویٹو پاور استعمال کرکہ )مسترد کر سکتا ہے۔[42]

یہودیوں نے اسی بنا پر بنی اسرائیل کو خدا کی چیدہ مخلوق ٹھرایا اور اپنے مذہبی احکام تک میں غیر اسرائیلیوں کے حقوق اور مرتبے کو اسرائیلیوں سے فروتر رکھا۔کالے اور گورے کی تمیز نے افریقہ اور امریکہ میں سیاہ فام لوگوں پر جو ظلم ڈھائے ان کو تاریخ کے صفحات میں تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔[43] جنوبی افریقہ میں گوروں کی اقلیت کالوں کی اکثریت پر نہ صرف حکومت کرتی رہی بلکہ انہوں نے 1948 ع میں کالوں کے خلاف امتیازی قوانین بھی بنائے ،جنہیں وہاں کی زبان میں اپارتھیڈ کا نظام کہا جاتا ہے۔ کالوں نےنسلی امتیاز کے خلاف تحریک چلائی تو ان کے قائدین کو جیل بھیج دیا گیا،جن میں نیلسن منڈیلا بھی شامل تھے۔ اور ان کی سیاسی تنظیم افریقن نیشنل کانگریس (A-N-C) کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا،یہاں تک کہ نیلسن منڈیلا کو27سال جیل میں رکھنے کے بعد 1990 میں رہا کیا گیا اور اس کی تنظیم کو بحال کیا گیا۔[44]

 یورپ کے لوگوں نے برِ اعظم امریکہ میں گھس کر ریڈ انڈین نسل کے ساتھ جو سلوک کیا اور ایشیا اور افریقہ کی کمزور قوموں پر اپنا تسلط قائم کر کے جو برتاؤ ان کے ساتھ کیا اس کی تہ میں یہی تصور کارفرما رہا کہ اپنے وطن ،اپنی نسل اور اپنی قوم کی حدود سے باہر پیدا ہونے والوں کی جان،مال اور آبرو ان پر مباح ہے،اورانہیں حق پہنچتا ہے کہ ان کو لوٹیں،غلام بنائیں،اور ضرورت پڑے تو صفحۂ ہستی سے مٹادیں۔

مغربی اقوام کی قوم پرستی نے ایک قوم کو دوسری قوموں کے لئے جس طرح بے رحم بنا کر رکھ دیا ہے اس کی بدتریں مثالیں بیسویں صدی کی دو عالمگیر لڑایوںمیں دیکھی جا چکی ہیں، ان لڑایوں میں جہاں ہوسِ ملک گیری کار فرما تھی وہاں قومی برتری کا جذبہ بھی نمایاں تھا،خاص طور پر نازی جرمنی کا فلسفۂ نسلیت اور نارڈک نسل کی برتری کا تصور جنگِ عظیم دوم میں جو کرشمے دکھا چکا ہے،انہیں نگاہ میں رکھا جائے تو آدمی بآسانی یہ اندازہ کر سکتا ہے کہ انسانوں کے درمیان اونچ نیچ یا عدم مساوات کی سوچ کتنی بُری اور تباہ کن سوچ ہے۔[45]

اسلام کی نظر میں انسانوں کے درمیان مذکورہ بنیادوں پرعدم مساوات کا رویہ نہایت غیر معقول،ظالمانہ،بے رحمانہ اور امنِ عالم کی تباہی وفساد کا باعث ہے۔کیونکہ اس قسم کے رویےسے طاقت ور گروہ کو بے پناہ اختیارات حاصل ہوجاتے ہیں اور کمزور ترین ہرقسم کے حقوق سے محروم ہوجاتے ہیں۔مصر کے ظالم بادشاہ فرعون کے ذکر میں اللہ تعالی نے فرمایا:

"إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءهُمْ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ[46] "

یقیناََ فرعون زمین پر سرکش ہوگیا تھا اور اس نے وہاں کے لوگوں کے کئی گروہ بنا رکھے تھے۔ان میں سے ایک گروہ کو کمزوربنا رکھا تھاکہ ان کے لڑکوں کو ذبح کر ڈالتا تھا اور اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دیتا تھا۔یقیناََ وہ تھا ہی فساد پھیلانے والوں میں سے"

مصر میں فرعون نے اپنے آپ کو اور اپنی قوم کو بالادست بنا رکھا تھا اور بنی اسرائیل قوم کو کمزور بنا یا ہوا تھا اور ان کے بیٹوں کو ذبح کرا دیتا تھا۔ فرعون کے اس کردار کو اللہ تعالی نے فساد قرار دیا اور فرعون کو فسادپھیلانے والا کہا۔اس لیے اسلام کی نظر میں ہر وہ نظام (خواہ ملکی ہو یا بین الاقوامی) جوانسانوں کے درمیان مساوات کی بجائے درجہ بندی پر ایمان رکھتا ہو،جہاں دولتمند اور بااثر لوگ ہی حقوق ومراعات سے متمتع ہوتے ہوں اور باقی لوگ ثانوی حیثیت رکھتے ہوں فرعونی نظام ہے۔[47]

اسلامی تعلیمات کے مطابق تمام انسانوں کا خالق ایک ہے،اسی نے سارے انسانوں کو ایک مرد اور ایک عورت یعنی حضرت آدم و حوا علیھما السلام سے پیدا کیا ہے،پھر ان کی نسل کو دنیا میں پھیلادیا۔مختلف علاقوں اور آب ہواؤں میں رہنے کی وجہ سے ان کے رنگ،زبانیں اور نسلیں مختلف ہوئیں۔لیکن چونکہ ان کے والدین ایک ہی ہیں، اس لئے تمام انسان اپنی اصلیت کے اعتبار سے برابر ہیں۔رنگ،نسل ،زبان،اور وطنیت یہ ساری چیزیں برائے تعارف ہیں۔انسان کی فضیلت اور برتری کا معیار یہ چیزیں نہیں ہو سکتیں،اس لیے کہ کسی خاندان،رنگ ،نسل یا خاص وطن میں پیدا ہونا کسی انسان کی قدرت واختیار میں نہیں ہے،جبکہ فضیلت اور برتری کا معیار کوئی کسبی چیز ہونی چاہیئے،جیسے ایمان،اخلاق،کردار، وپرہیزگاری وغیرہ،چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا وَنِسَاء[48]"اے انسانو! اپنے پروردگار سے ڈرو ،جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا،اور اسی سے اس کا جوڑا (بیوی کو)پیدا کیا،پھر ان دونوں سے بہت سارے مردوں اور عورتوں کو پھیلا دیا"

ایک دوسری آیت میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ[49]"اے انسانو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اورپھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم سب سے زیادہ پرہیزگار ہے"

مطلب کہ انسان اور انسان کے درمیان فضیلت اور برتری کی بنیاد اگر کوئی ہوسکتی ہے تو وہ صرف اخلاق و کردار کی فضیلت ہے۔اچھے کردار والا شخص خواہ کسی نسل ،کسی قوم اور ملک سے تعلق رکھتا ہو،اپنی ذاتی خوبی کی بنا پر قابلِ قدر ہے اور جس کا حال اس کے برعکس ہو وہ بہرحال ایک کمتر درجے کا انسان ہے،چاہے وہ کالا ہو یا گورا،چاہے وہ مشرق میں پیدا ہوا ہو یا مغرب میں۔[50]

نبی کریم ﷺنے اسی بات کو اپنے مختلف خطبات اور ارشادات میں کھول کر بیان کیا ۔ فتح مکہ کے موقع پر آپﷺنے فرمایا:

يآ أيها الناس ان الله قد اذهب عنکم عُبَية الجاهلية وتعاظمها بآباءها، فالناس رجلان رجل بر تقی کريم علی الله وفاجر شقی هين علی الله، والناس بنو آدم وخلق الله آدم من التراب [51]

" اے لوگو!بیشک خدا نے تم سے جاہلیت کا تکبر اور اپنی نسل پر فخر کرنے کے عیب کو دور کردیا ہے۔ یاد رکھو! تمام انسان بس دو ہی حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں ۔ ایک نیک اور پرہیزگار،اللہ کے ہاں عزت کے لائق۔دوسرا فاجر اور شقی ،اللہ کے ہاں ذلت اور رسوائی کا حقدار۔ اور سارے انسان آدم کی اولاد ہیں اور اللہ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا ہے۔ "

حجۃالوداع کے موقع پر ایک خطبے میں آپ ﷺ نے فرمایا :

يآ أيها الناس !ان ربکم واحد ، لا فضل لعربی علی عجمی ولا لعجمی علی عربی ولا لأ سود علی أحمر ولا لأحمر علی أسود الابالتقوی، ان أکرمکم عند الله أتقاکم،ألاهل بلغت ؟ قالو بلی يا رسول الله! قال فليبغ الشاهد الغائب[52]

"لوگو ! خبردار رہو ، تم سب کا خدا ایک ہے ۔ کسی عرب کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عرب پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کوکسی گورے پر کوئی فضیلت نہیں ہے مگر تقویٰ کے اعتبار سے ، اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے ۔بتاؤ ، میں نے تمہیں بات پہنچادی ؟لوگوں نے عرض کیا : ہاں یا رسول اللہ !آپ ﷺ نے فرمایا :اچھا تو جو موجود ہےوہ ان لوگوں تک یہ بات پہنچادے جو موجود نہیں ہیں"

ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا :

ان الله لا يسئلکم عن أحسابکم ولا عن أنسابکم يوم القيامة، ان أکر مکم عندالله أتقٰکم۔[53]"

اللہ قیامت کے دن تمہارا حسب و نسب نہیں پوچھے گا ، اللہ کے ہاں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے ۔ "

ایک اور حدیث کے الفاظ یہ ہیں :ان الله لا ينظر الی صورکم و اموالکم ولکن انما ينظرالی أعمالکم و قلوبکم [54]"اللہ تمہاری صورتیں اور تمہارے مال نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کی طرف دیکھتا ہے ۔ "

آنحضرت ﷺ کے دور میں حضرت ابوذر غِفاری رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اے کالی کے بیٹے! کہ کر پکارا اس پر آپ ﷺ نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا: يا أباذر أعيرته بأمه؟ انک امرؤ فيک جاهلية[55]"اے ابو ذر! تم نے اسے (کالی کا بیٹا کہ کر) ماں کا طعنہ دیا ہے؟ تم ایسے آدمی ہوجس کے اندر ابھی تک جاہلیت موجود ہے"

آپ ﷺ نے نہ صرف انسانی مساوات کی نظریاتی طور پر تعلیم دی تھی بلکہ عملی طور پر انسانی مساوات کا نظام بھی نافذ کیا تھا،آپ ﷺ کی مجلس میں فارس کے سلمان بھی تھے تو روم کے صہیب بھی ،حبش کے بلال بھی تھے تو یمن کے ابوہریرہ بھی ،قریش کے ابوبکر صدیق بھی تھے تو قومِ یہود کے عبد اللہ بن سلام بھی( رضی اللہ عنھم) ،اور ان میں سے کسی کو کسی پر رنگ،نسل،زبان یاوطنیت کی بنیاد پر کوئی فضیلت و برتری نہیں تھی۔اسی طرح آپ ﷺ کی اسلامی ریاست میں عدالتی قانون میں اپنے اور پرائے کا کوئی فرق نہیں تھا۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں مصر کے گورنر عمروبن عاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے نے ایک قبطی کو ناحق کوڑے سے مارا تھا ،اس نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے شکایت کی تو آپ رضی اللہ عنہ نے گورنر عمروبن عاص رضی اللہ عنہ اور اس کے بیٹے کو منگایا،جرم ثابت ہونے پر آپ نے کوڑا قبطی کے ہاتھ میں دے کر اسے کہا :شریف زادے کو اتنے کوڑے لگاؤ جتنے اس نے تمہیں مارے تھے،اور پھر عمروبن عاص رضی اللہ عنہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:متی استعبدتم الناس وقد ولدتهم أمهاتهم أحرارا [56]"کب سے تم لوگوں نے لوگوں کو غلام بنانا شروع کیا ہے جب کہ ان کی ماؤن نے انہیں آزاد جنا ہے"

== حضورِ اکرم ﷺ کے ہاں نسلی عصبیت سے پاک معاہدے کی اہمیت: ==

آپ ﷺ کے ہاں عصبیت سے پاک معاہدے کی جو اہمیت تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ؛اسلام سے 20 سال قبل قریش کے چند قبائل نے مل کر آپس میں یہ عہد و پیمان کیا تھا کہ مکہ میں جو بھی مظلوم نظر آئے گا۔خواہ مکے کا رہنے والا ہو یا کہیں اور کا یہ سب اس کی مدد و حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں گے اور اس کا حق دلوا کر رہیں گے۔اس اجتماع میں رسول اللہ ﷺ بھی تشریف فرما تھے اور بعد میں شرفِ رسالت سے مشرف ہونے کے بعد فرمایا کرتے تھے ؛"میں عبد اللہ بن جدعان کے مکان پر ایک ایسے معاہدے میں شریک تھا کہ مجھے اس کے عوض سرخ اونٹ بھی پسند نہیں اور اگر دورِ اسلام میں اس عہد و پیمان کے لئے مجھے بلایا جاتا تو میں لبیک کہتا" ۔[57] یہ معاہدہ "حلف الفضول "کے نام سے مشہور ہے۔اس معاہدے کو آپﷺ اس لئے اہمیت دیتے تھے کہ اس میں رنگ،نسل،زبان،وطن اور مذہب جیسی عصبیت کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی،بلکہ یہ انسانی بنیاد پر ایک معاہدہ تھا، اس لیے آپ ﷺ مادی مفاد کے مقابلے میں عدل ،انصاف،امن وامان پر مبنی معاہدے کو پسند کرتے تھے۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام کی نظر میں دنیا میں قیام عدل و انصاف،اور امن و امان کی کتنی اہمیت ہے۔

اسی طرح مذکورہ بحث سے یہ بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام عالمی امن کے قیام کےلئے کس طرح ان اسباب کی بیخ کنی کرتا ہے جو امنِ عالم میں رخنہ ڈالنے کا باعث بنتے ہیں۔

خلاصہ:

امنِ عالم کا مسئلہ آج کی گلوبل ولیج دنیا کی اشد ضرورت ہے،کیونکہ طاقتور اقوام نے جو تباہ کن ہتھیار بنا رکھے ہیں فساد کی صورت میں وہ دنیا کو برباد کر کہ رکھ دیں گے۔اس لئے وقت کی ضرورت ہے کہ مشترکات پر عمل کیا جائے،تہذیبوں کے مابین تصادم کی حد تک پہنچنے کے بجائے اختلافی معاملات کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جائے تاکہ انسانیت ایک دوسرے کے علم ،صنعت اور ٹیکنالاجی سے فائدہ اٹھا کر پر سکون زندگی گذار سکے اور فساد ،بگاڑ ، تباہی و بربادی سے محفوظ رہ سکے۔اس سلسلے میں یہ بات نہایت اہم ہے کہ سارے لوگوں کے ساتھ بنیادی انسانی حقوق میں مساویانہ رویہ رکھا جائے جیسا کہ خطبۂِ حجۃ الوداع اور اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر میں دیے گئے ہیں اور امنِ عالم میں خلل ڈالنے والے اسباب کا خاتمہ کیا جائے۔ =

امنِ عالم میں خلل ڈالنے والے بنیادی اور اہم اسباب یہ ہیں:

۱ ۔اپنا عقیدہ ، مذہب ، نظام ِفکر، سیاسی و معاشی پالیسیاں ، اپنی تہذیب اور اپنا کلچر دوسروں پر جبری طور پر مسلط کرنا۔

۲۔دوسروں کے مال ، معاشی وسائل اور سرزمین پر ناجائز طور پر قبضہ کرنا ۔

۳۔عدم مساوات :مثلاً کسی قوم یا گروہ کا رنگ، نسل ، زبان یا وطنیت کے بنیاد پر اپنے آپ کو برتر اور دوسروں کو کمتر سمجھنا اور پھر عملی طور پر ان کے ساتھ امتیازی سلوک Discrimination) ) برتنا ۔

اس لئے وقت کی ضرورت ہے کہ اس قسم کے امتیازی رویوں کو اقوامِ عالم سے ختم کیا جائے۔

مذکورہ بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ہی وہ پہلا دین ہے جس نے اس قسم کےامتیازی رویوں کو انسانیت کے خلاف اور عالمی فساد کا باعث قرار دیا۔اور اسلام نے عملی طور پر ایسا عدل،انصاف اور رواداری پر مبنی نظام دیا جس نے لوگوں کو عزت،احترام اور مساوات کا ماحول فراہم کیا،جس میں ہر کوئی اپنے مذہب،اپنی روایات ، اپنی ثقافت اور اپنی تہذیب پر عمل کرتے ہوئے انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے اپنا کردار ادا کرتا رہا۔

حوالہ جات

  1. تفصیل کے لئے دیکھیں سموئیل پی ہنٹنگٹن(Samuel P Huntington (1927-2008) ) کی کتابThe Clash of Civilizations ، یہ امریکہ کامشہور ماہرِ سیاسیات تھا ۔اس نے اپنی کتاب( 1996-1993) The Clash of Civilizations کے ذریعےعالمگیر شہرت حاصل کی ۔یہ کتاب اپنے عشرے کی موضوعِ بحث بننے والی نمایاں ترین کتابوں میں سے ہے ۔اردو زبان میں اس کا ترجمہ "تہذیبوں کا تصادم " کے نام سے محمد احسن بٹ نے کیا ہے،جس کو دوست ایسوسی ايٹس لاہور نے شایع کیا ہے(ڈاکٹر محمود احمد غازی، اسلام اور مغرب تعلقات ، کراچی دارالعلم والتحقیق،2012ع طبع دوم,ص158)
  2. دریابادی عبدالماجد،تفسیر ماجدی ،تاج کمپنی کراچی، لاہور۔ص 82
  3. یونس،10 :25
  4. مائدہ 5: 16
  5. نساء 4 :128
  6. بقرہ، 2: 205
  7. بقرہ ،2 : 60
  8. نسائی،ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب ،سنن النسائی،1999۔1420ھ ،ریاض، دار السلام للنشر والتوزیع ، طبع اولیٰ، کتاب الاىمان وشرائعہ، حدىث ۴۹۹۸
  9. دریابادی عبدالماجد ،تفسیرماجدی ،تاج کمپنی لمیٹیڈ لاہور و کراچی ص 85
  10. بقرہ ،217:2
  11. مولانا وحید الدین خان،اسلام دورِ جدید کا خالق،فضلی سنز اردو بازار کراچی،1990 طبع اول ص 104۔105
  12. وحید الدین خان،علمِ جدید کا چیلنج ،کراچی،شکیل پرنٹنگ پریس 1992ع ص204
  13. مبارکپوری صفی الرحمٰن، الرحیق المختوم ،لاہور المکتبۃ السلفیہ 1424ھ 2003ع ص 466،ابن ھشام ابو محمد عبد الملک ،السیرۃ النبویہ، اردو ترجمہ مولانا قطب الدین احمد محمودی،لاہور اسلامی کتب خانہ،ج 3 ص 105
  14. بقرہ ،2 :256
  15. الکھف ،18: 29
  16. الکافرون، 6:106
  17. یونس 99;10
  18. الانعام ،6 : 108
  19. ابن ہشام ۔السیرت النبویہ،جلد2 ص116 سے 123 کا خلاصہ
  20. ابوداؤد سلیمان بن اشعث: سنن ابی داؤد، الریاض ،دارالسلام طبع اول ،۱۹۹۹ع حدیث 3052،ص 447
  21. بخاری،صحیح البخاری ، مکتبہ دارالسلام ریاض،1999 ،طبع اولیٰ، ص 527 ، حدیث 3166 ، ابن ماجہ محمد بن یزید، سنن ابن ماجہ ،مکتبہ دارالسلام ریاض،۱۹۹۹،طبع اولی ، ص387 ،حدیث2687، بخاری کی روایت میں ہے کہ جنت کی خوشبوچالیس سال کی مسافت سے سونگھی جا سکتی ہے، جبکہ ابن ماجہ کی روایت کے مطابق ستر سال کی مسافت سے سونگھی جا سکتی ہے
  22. حافظ محمد طاہر محمود اشرفی،رواداری سیرتِ طیبہ کی روشنی میں،عمر پبلیکیشنز لاہور،2000ع ص 24
  23. ابو یوسف ،کتاب الخراج،دارالمعرفہ بیروت ،لبنان ص72۔73، سید امیر علی،روحِ اسلام،اردو ترجمہ محمد ھادی حسین،ادارہ ثقافتِ اسلامیہ لاہور،2010ع ص 424۔425
  24. الخطیب محمد بن عبد اﷲ،مشکواۃ المصابیح ،کراچی ،قدیمی کتب خانہ ،1368ھ ،ص 274
  25. ابوداؤد سلیمان بن اشعث: سنن ابی داؤد،کتاب الطلا ق ،ص324 حدیث 2241
  26. ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی: جامع الترمذی،الریاض ،دارالسلام طبع اول ،1999ع ،کتاب النکاح،ص273،حدیث1128 ،ابن ماجہ محمد بن یزید سنن ابن ماجہ ، ،حدیث 1953 ص 279
  27. جامع ترمذی حدیث 1129 ، ص 273
  28. سورۃ النساء 22:4
  29. شیخ زادہ عبد الرحمٰن بن محمد بن سلیمان الکلیبولی،مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر،بیروت دار الکتب العربیہ،1998 ع،ج4 ،ص111
  30. سید امیر علی ،روحِ اسلام ص 426
  31. وحید الدین خان،اسلام دور جدید کاخالق , کراچی،فضلی سنز،1990ع طبع اول ص 111
  32. تفصیل کے لئے دیکھیے Wallbank walter T.and et.al “” History and Life” Scott Foresman & Co (Nov 1993) سندھی ترجمہ "قومن جی عالمی تاریخ" مترجم محمد بخش سومرو،سندھیکا اکیڈمی کراچی، 2003ع،طبع اول ،مضمون "عالمی لڑائیوں کے اسباب"
  33. نساء4 :29
  34. خطیب محمد بن عبد اللہ ،مشکوٰۃ المصابیح ،کراچی قدیمی کتب خانہ س۔ن۔ج1 ص 255
  35. بقرہ 279:2
  36. ابن ماجہ محمد بن یزید سنن ابن ماجہ ، ،حدیث 2341 ص 335
  37. ہیثمی ابن حجر احمد بن محمد ، الزواجرعن اقتراف الکبائر ۔بیروت،دارالمعرفۃ س۔ن۔ 261:1
  38. بخاری،صحیح البخاری ص 466 ، حدیث 2810۔،7458 ، شوکانی،محمد بن علی ،نیل الاوطار من احادیث سید الاخیار شرح منتقی الاخبار،بیروت، دار الجیل، 1973ع ،7 /226
  39. شوکانی، نیل الا وطار 7/227
  40. شبلی نعمانی،الفاروق ،کراچی، دارالاشاعت 1991ع طبع اول ص 283
  41. مودودی سید ابو الاعلیٰ، تفہیم القرآن،لاھور، ادارۂ ترجمان القرآن ،2013ع،طبع 7۔ 5/ 96
  42. ڈاکٹر محمود احمد غازی،اسلام اور مغرب تعلقات،کراچی دارالعلم والتحقیق،2012ع طبع دوم ص 15۔16
  43. مودودی، تفہیم القرآن،5/ 96
  44. Wallbank walter T.and et.al “” History and Life” Scott Foresman & Co (Nov 1993) سندھی ترجمہ "قومن جی عالمی تاریخ" مترجم محمد بخش سومرو،سندھیکا اکیڈمی کراچی، 2003ع،طبع اول ص 572
  45. تفہیم القرآن 5/96
  46. القصص /28, 4
  47. ڈاکٹر محمود احمد غازی، اسلام اور مغرب تعلقات ص 20
  48. نساء ،1:4
  49. الحجرات،13:49
  50. سید مودودی،تفہیم القرآن 97:5
  51. ترمذی ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ جامع الترمذی،ریاض،دار السلام للنشر والتوزیع 1420ھ 1999ع طبع اولیٰ حدیث 3270
  52. احمد بن حنبل،مسند احمد، http://www.ahlalhdeeth.com/vb/showthread.php?t=11003.29/06/2014
  53. ابن جریر،بحوالہ مودودی،تفہیم القرآن ،5/ 98
  54. ابن ماجہ ،سنن ابن ماجہ ص 604 حدیث 4143
  55. بخاری ،ابو عبد اللہ محمد بن اسمٰعیل، صحیح بخاری ریاض،دار السلام للنشر والتوزیع 1419ھ 1999ع طبع 2 ، ص 8 حدیث 30
  56. ابو القاسم عبد الرحمٰن بن عبد اللہ المصری،فتوح مصر واخبارھا۔بیروت،دارالفکر،1996 ص 183
  57. مبارکپوری "الرحیق المختوم " ص 90،ابن کثیر ابو الفداء اسمٰعیل بن عمر "البدایہ و النہایہ" قاہرہ دار ابی حیان 1996ع طبع اول ،ج 2 ص 375۔376