Playstore.png

قانون ٹارٹ كا فقہ اسلامى كى روشنى میں جائزہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ الایضاح
عنوان قانون ٹارٹ كا فقہ اسلامى كى روشنى میں جائزہ
انگریزی عنوان
An Analysis of the Law of Tort in the Light of Islamic Fiqh
مصنف امین، زینب
جلد 30
شمارہ 1
سال 2015
صفحات 123-137
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
شکاگو 16 امین، زینب۔ "قانون ٹارٹ كا فقہ اسلامى كى روشنى میں جائزہ۔" الایضاح 30, شمارہ۔ 1 (2015)۔
عالمی امن میں اسلام کا کردار
دینی مدارس پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کے الزامات: ایک تجزیاتی مطالعہ
عرب اسلامی روایت کے برصغیر پاک و ہند میں تفسیر نگاری پر اثرات: عہد رسالت تا خلافت عباسیہ کے تناظر میں اختصاصی مطالعہ
حضرت آدم علیہ السلام بائبل اور قرآن کى روشنى میں
اسلام میں امن اور دہشت گردی کا تصور: ایک علمی اور تحقیقی جائزہ
قذف اور پاکستانی معاشرہ: اسلامی حوالے سے تنقیدی جائزہ
قانون ٹارٹ كا فقہ اسلامى كى روشنى میں جائزہ
افغانستان کی اسلامی تاریخ کے پیش رو صحابہ کرام: عہد خلافت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ
حلالہ اور مروجہ حلالہ سنٹرز: ایک تجزیاتی مطالعہ
جنگی قیدیوں کے حقوق شریعت اسلامیہ اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں
اسلام اور ہندو مت میں مادی اور روحانی طہارت کے اصول
اسلام اور جین مت میں طہارت کا تقابلی جائزہ
علاج معالجہ اور دم کی شرعی حیثیت
جنگی جرائم اسلام اور بین الاقوامی قانون کے تناظر میں
علامہ عینی اور ان کی خدمات کا علمی جائزہ
سورة الكوثر بين الإعجاز البلاغي وتحديات الترجمة
الزمخشري وموقفه من الاستشهاد بشعر المؤلدين في ضوء تفسيره الكشاف
مؤسسة الإزدواج والأسرة في ضوء الشريعة الاسلامية
ضوابط قبول التفرد في رواية الحديث دراسة مع أمثلة من تطبيقات النقاد
مميزات التشريع الجنائي في الفقه الإسلامي: دراسة تحليلية
Principles and Rules of Jihad: A Juristic Approach
Peace, the Essential Message of Islam
Orientalists on the Style of Quran: A Critical Study
The Genesis of Shi’ism in Islam
Origin of Earth: A Quranic Perspective
Rights of Non-Muslim Minorities in a Muslim Country in the Light of Qur’an and Sunnah
Pakistan’s Stance on the War on Terror: Challenging the Western Narrative
Impact of Hajj on Muslims With Special Reference to Pakistan

Abstract

Tort law is an umbrella term for  laws  which cover issues of civil wrongs like defamation, trespassing and the other actions involving  violation of law. In case a person has undergone a physical, legal or any economic harm then he can file a suit under the tort law. Torts are civil wrongs recognized by law as grounds for a lawsuit. It is also generally known that tort in Islamic fiqh as “Jinayet” . This paper attempts to analys  by Islamic law in thel light of the  relevant verses for the Qur’an followed by the rules stated in traditions from the Prophet (Peace by on him). Jinayat the part of Shari’a that applies to homicide or physical  injury is called jinayat and is based on the pre-Islamic rules of Arab blood feud, as modified by Prophet (Peace be on him). The punishment is either retaliation or blood money (diyat). Retaliation occurs only upon  the request of the victim, if alive, or his nearest kin if the victim is dead, and is to be inflicted by victim or kin. In the case of homicide retaliation means death, in the case of injury it means imposing an identical injury. Where retaliation is one of the options, the victim or his closest kinsman may demand blood money instead, or negotiate an out of court settlement. Jinayat, like modern tort law, is based on private action; there is no official responsible for initiating the case.

تمہید:

ٹارٹ كا قانون عصر حاضر مىں مغربى معاشرے مىں بہت اہمىت اختىار كرچكا ہے اور اس قانون كے سہارے كئى اىسے پىچىدہ قانونى نكات كا حل نكالا جا رہا ہے‘ جن كے بارے مىں وہاں كا مدون قانون خاموش نظرآتا ہے۔ پاكستان مىں ىہ تصور ابھى تك زىادہ عام نہىں ہوسكا‘ فقہ اسلامى كى روشنى مىں اس قانون كا جائزہ اس مضمون مىں لىا جارہا ہے۔ىہ قانون زىادہ تر فقہ اسلامى سے مماثلت ركھتاہے۔

تعارف:

لفظ ٹارٹ اىك لاطىنى اصطلاح ’’ ٹارٹم‘‘ سے ماخوذ ہے‘ جس كے معنى ٹىڑھے كے ہىں‘ مروڑنا۔ انگرىزى زبان مىں اس لفظ “Tort” كو “Wrong”كے مفہوم مىں لىا گىا ہے۔ جس كے معنى غلط‘ غىر منصفانہ ‘ برا‘ غىر قانونى‘ ناجائز ‘ غلطى[1]۔

اىك تعرىف ىہ بھى كى گئى ہے : ’’ ہر وہ فعل ٹارٹ ہے جس كے سرزد ہونے سے مدعى كو عدالت سے ہرجانہ ملتا ہے[2]۔اور اسلامى فقہى اصطلاحى مىں ٹارٹ كى متبادل اصطلاح ’’ جناىت‘‘ ہے۔

قانونى اصطلاح مىں ٹارٹ سے مراد اىسا قانون فعل ىا ترك فعل ہے جو كسى اىسے فرض كى خلاف ورزى نہ ہو جو معاہدہ كى بنا پر عائد ہو اور جس كے نتىجہ ىہ ہو كہ:

۱۔ كسى قطعى حق كى خلاف ورزى ہو‘ جس كا كوئى دوسرا شخص مستحق ہو‘ ىا

۲۔ دوسرے شخص سے كسى محدود حق كى خلاف ورزى ہو‘ جس سے اس كو حربہ پہنچے‘ ىا

۳۔ كسى عام حق كى خلاف ورزى ہو اور كسى خاص شخص كو كوئى مادى اور خاص ضرر پہنچے جو اس كے علاوہ ہو ‘ جو عوام كو پہنچا ہو[3]۔

ڈاكٹر سالمنڈ ٹارٹ كى تعرىف كرتے ہوئے لكھتے ہىں: Tort is a civil wrong, independent of contract for which the remedy is an action of damages” [4]ىعنى ٹارٹ اىك اىسا بلا معاہدہ ضرر ہے ‘ جس كے خلاف معاوضہ حاصل كرنے كے لىے دعوى دائر كرنے كا چارہ كار حاصل ہوتاہے۔

برطانىہ كے ضابطہ قانون عامہ‘‘ Common Procedure Act 1852 كے مطابق: ’’ ٹارٹ وہ خلاف قانون فعل ىا ترك فعل مراد ہے جو معاہدہ كى خلاف ورزى نہ ہو۔

۳۔ مسٹر جسٹس آئىن گر (م۱۹۴۱ء) كا كہنا ہے كہ : ’’ ٹارٹ كى معمولاً ىہ تعرىف كى جاتى ہے كہ اس سے اىسا خلاف قانون فعل ىا ترك فعل مراد ہے جو معاہدہ كى خلاف ورزى نہ ہو جو معاہدہ كى بنا پر قائم نہ ہوا ہو‘‘[5]۔

۴۔ مشہور قانون دان سر فرىڈرك پولاك[6]( م ۱۹۳۷ء) كے نزدىك: ’’ ٹارٹ سے مراد اىسا فعل ىا ترك فعل ہے (جو محض اىسے فرض كى خلاف وزرى نہ ہو جو ذاتى تعلق ىا معاہدہ كى بنا پر عائدہو) جس كا مفصلہ ذىل طرىقوں مىں سے كسى اىك طرىقہ پر اس حربہ سے تعلق ہو جو كسى معىن شخص كو پہنچا ہو :

۱۔ وہ اىسا فعل ہوسكتا ہے جس سے بغىر جائز وجہ ىا عذر كے مرتكب فعل كى نىت نقصان پہنچانے كى ہو‘ جس كى بابت شكاىت كى گئى ہو۔

۲۔ وہ اىسا فعل ہوسكتا ہے جو بطور خود خلاف قانون ہو ىا كسى معىن قانونى فرض كا ترك ہو جس سے اىسا نقصان پہنچانے كى مرتكب فعل ىا ترك فعل كى نىت نہ ہو۔

۳۔ وہ اىسا فعل ىا ترك فعل ہوسكتا ہے جس سے نقصان پہنچے اور جس سے مرتكب فعل ىا ترك فعل كى نىت نقصان پہنچانےكى نہ ہو لىكن اگر وہ مناسب احتىاط سے عمل كرتا تو وہ اس نقصان كو روك سكتا تھا اور اس كو روكنا چاہىے تھا۔

۴۔ خاص صورتوں مىں اس سے اىسا نقصان نہ روكنا مراد ہے جس كا روكنا اس شخص پر قطعى طور پر خاص شرائط كے ساتھ لازم ہو۔

فرىڈ رك پولاك كا ىہ بھى كہنا ہے كہ: عام افعال بے جا ٹارٹ ہىں بشرطىكہ قانون مىں اس كا جواز ڈھونڈ ھا جاسكے[7]۔

۵۔ اىك تعرىف ىہ ہے : ہروہ فعل ٹارٹ ہے جس كے سرزد ہونے سے مدعى كو عدالت سے ہرجانہ ملتاہے ‘‘[8]۔

پرىوى كونسل نے ٹارٹ كى ىہ تعرىف كى ہے كہ ’’ اس سے اىسا فعل مراد ہے جس سے مدعى كے قانونى حق پر مضر اثر پڑے‘‘ ىعنى ٹارٹ كے لئے ىہ لازمى ہے كہ جس فعل كى شكاىت كى گئى ہے وہ حالات كے لحاظ سے مدعى كے مقابلہ مىں قانوناً ناجائز ہو‘ ىعنى اس سے مدعى كے قانونى حق پر مضر اثر پڑتاہو۔ محض ىہ امركہ اس سے اس كو نقصان پہنچے كافى نہىں ہے۔

وہ عوامل جن پر قانونِ ٹارٹ لاگو ہوتا ہے:

قانون ٹارٹ جن عوامل پر لاگو ہوتاہے وہ پانچ ہىں: ۱۔ خطاء دىوانى‘ ۲۔ معاشرتى حق كى خلاف ورزى‘ ۳۔ حق كا قانونى تعىن‘ ۴۔ قانون عامہ كے تحت نالش‘ ۵۔ دادرسى۔

خطاء دىوانى: Civil Wrong : ٹارٹ كو اىك ’’ دىوانى خطاء ‘‘ كہا جاسكتا ہے ۔ مثلاً: اىسا كام كرنا جو قانون مىں ممنوع ہو‘ ىا اىسا فعل نہ كرنا جس كا قانون مىں كرنےكا كہا گىا ہو۔قانون ٹارٹ كے مطابق كسى معاہدہ كے تحت عائد ہونے والے فرائض ىا ذمہ دارىوں كى خلاف ورزى پر ٹارٹ كا اطلاق نہىں ہوگا۔

معاشرتى حقوق كى خلاف ورزى ٹارٹ كے زمرے مىں آتی ہے اور اس كا اطلاق معاشرتى حقوق پر ہوتا ہے نہ كہ شخصى حقوق كى خلاف ورزى پر ۔

فقہ اسلامى میں ٹارٹ:

فقہ اسلامى مىں ٹارٹ كے لىے لفظ جناىہ كا استعمال ہوتاہے جناىت كے اصل معنى درخت سے پھل توڑنے كے ہىں[9]۔

’’جناىت‘‘ عربى زبان كا لفظ ہے جس كے معنى ہىں: گناہ كرنا‘ كسى گناہ كی تلاش كرنا۔ لغت مىں جناىہ كے تعرىف ىوں كى گئى ہے: ’’الجِنايَةُ الذَّنْبُ والجُرْم وما يَفْعَلُه الإنسانُ ممَّا يُوجِبُ عليه العقاب أَو القصَاص في الدّنْيا والآخِرَةِ ‘‘[10]۔ ىعنى جناىہ سے مراد گناہ او رجرم ہے جس كے كرنے سے انسان پر اس دنىا مىں سزا ىا قصاص واجب ہوجاتاہے اور آخرت مىں بھى مستحق عذاب ہوتاہے۔

مگر فقہاء كے ىہاں عام طور پر جناىت كا لفظ دو موقعوں پر استعمال ہوتاہے‘ اىك قتل ىا انسانى جسم كو جزوى نقصان پہنچانے پر۔جىسا كہ

امام سرخسى (م ۳۸۳ھ) جناىہ کی تعرىف كرتے ہوئے بىان كرتے ہىں: ’’ اعلم بأن الجناية اسم لفعل محرم شرعا سواء حل بمال أو نفس ولكن في لسان الفقهاء يراد بإطلاق اسم الجناية الفعل في النفوس والأطراف فإنهم خصوا الفعل في المال باسم وهو الغصب والعرف غيره في سائر الأسامي ثم الجناية على النفوس نهايتها ما يكون عمدا محضا فإنها من أعظم المحرمات بعد الإشراك بالله تعالى ‘‘ [11]۔ ( جناىت نام ہے كسى كے مال ىا جان كو حلال سمجھنا لىكن فقہاء كى اصطلاح مىں جناىت كا فعل صرف انسان كى جان ىا اس كے اعضاء سے متعلق ہوتاہے۔ جناىت فى النفس كى انتہا جان بوجھ كر كسى جان كو تلف كرنا ہے اور ىہ شرك كے بعد سب سے بڑا گناہ ہے)۔

شرعى اصطلاح مىں ’’ جناىت‘‘ سے مراد مجرمانہ فعل ہے‘ خواہ نفس مىں ہو ىا مال مىں فقہاء كے نزدىك جناىت كى دو صورتىں ہیں :

۱۔ جناىت نفس ىعنى جان كو ہلاك كردىنا۔

۲۔ جناىت اطراف ىعنى ہاتھ‘ پاؤں ‘ ناك ‘ كان آنكھ كو زخمى ىا ضائع كردىنا۔

ڈاكٹر لیاقت على خان نىازى نے ولىم لىن كا بىان كردہ تعرىف جناىہ ذكر كىا ہے:

“ Jinay Primarily means the act of gathering, plucking or taking from a tree, fruit. It generally signifies crime, and offence, or an injurious action for which one should be punished; or an action that a man commits requiring punishment or retaliation to be inflicted upon him to the present world or in the world to com.[12]

لغوى لحاظ سے جناىہ كا مطلب ہے اكھٹا كرنا ىا توڑنا ىا كسى درخت سے پھل توڑنا ۔ عمومى طور پر اس سے مراد جرم ہے ىا اىسا ضرر رساں فعل جس كى وجہ سے سزا دى جائے ىا كسى اىسے فعل سے بھى اسے تعبىر كىا جاسكتا ہے جس كى وجہ سے سزا دى جائے ىا مدعا علىہ پر قصاص واجب ہوجائے۔ ىہ سزا اس دنىا بھى ہوسكتى اور اخروى دنىا مىں بھى ۔

ان تعرىفات سے ىہ معلوم ہوتاہے كہ بعض دفعہ اىك جرم بھى ٹارٹ كے زمرے مىں آجاتاہے اور اس كے ارتكاب سے فوجدارى اور دىوانى مقدمات كئے جاسكتے ہىں‘ مثلاً كسى كى ہتك عزت۔ اس صورت مىں ازالہ حىثىت عرفى كا دعوى كىا جاسكتا ہے۔

ابن رشد (م ۵۹۵ھ)نے جناىہ كے اقسام ىوں ذكر كىے ہىں: ’’ والجنايات التي لها حدود مشروعة أربع جنايات على الأبدان والنفوس والأعضاء وهو المسمى قتلا وجرحا وجنايات على الفروج وهو المسمى زنا وسفاحا وجنايات على الأموال وهذه ما كان منها مأخوذا بحرب سمي حرابة ‘‘[13]۔ (جناىہ مثلاً قتل كردىنا ‘ انسانى اعضاء كے خلاف ٹارٹ مثلاً جسم كاٹنا‘ ٹكڑے كرنا ‘ ہتك عزت‘زنا اورز نا بالجبر) ابن رشد نے ىہ بھى ذكر كىا ہے كہ جناىات برجائىداد مثلاًغصب‘ چورى‘ ڈاكہ‘ دھوكہ دہى‘ بد دىانتى اور غبن وغىرہ بھى جناىہ کے اقسام مىں سے ہیں[14]۔

ابن نجىم (م ۹۷۰ھ) نے دوسروں كى تضحىك‘ غىبت اور اس قسم كے رذائل كو جناىہ مىں شامل كىا ہے ۔اسقاط حمل جس كا قانونى جوا ز نہ ہو ‘ وہ بھى ابن نجىم كے نزدىك قابل گرفت ہے اور جنىن كو ہلاك كرنے كا تاوان مدعى ىا مدعىہ كو ادا كرنا ہوگا[15]۔

علامہ كاسانى(م۵۸۷ھ) نے جناىات كى دو اقسام تحرىر كى ہىں: ۱۔ جناىات برجائىداد‘ غصب اور اتلاف۔ ۲۔ انسانى جان سے متعلقہ جناىات[16]۔

سزا كے لحاظ سے جناىت كى دو قسمیں ہیں:

۱۔ جناىت مستوجب قصاص‘ ىعنى اىسى جناىت جس كى پاداش مىں قصاص نافذ ہوتاہے۔ جناىت مستوجب كى دو قسمىں ہىں: ۱۔ اىسى جناىت جو نفس مىں ہو‘ مثلاً قتل عمد ۔ ۲۔ جناىت كى دوسرى صورت وہ ہے جس مىں قصاص نافذ نہىں ہوتا اور اس مىں دىت‘ ضمان ىا ارش كى سزا دی جاتى ہے۔

ىہ واضح رہے كہ پاكستان مىں فوجدارى جرائم كےلىے’’ مجموعہ تعزىرات پاكستان‘‘ (Pakistan (Penal Code نافذ العمل ہے۔ موجوہ وقت مىں اس قانون مىں قتل كے متعلقہ دفعات مىں ’’ قصاص ودىت ترمىمى آرڈنىنس كے ذرىعے ترمىم كر كے اسے اسلامى قانون كے مطابق بناىا گىا ہے۔ اس قانون مىں جناىت نفس ( جناىت عمد) كى سزا قصاص مقرر كى گئى ہے۔

فقہى اسلامى مىں جناىت نفس ىا جناىت اطراف كے ضمن مىں قصاص كے علاوہ جو سزائىں دى جاسكتى ہے۔ جو رقم كى صورت مىں ہوتى ہے۔ ىہ ہىں: ۱۔ دىت‘ خون بہا‘۲۔ ضمان‘۳‘ ارش۔

سر عبد الرحىم(م۱۹۵۲ء) ذكر كرتے ہىں كہ ’’ ٹارٹ كے لىے عربى مىں عام طور پر ’’ جناىت‘‘ كا لفظ مستعمل ہے‘ مگر اس لفظ كا استعمال زىادہ تر فقہا ءكى اصطلاح مىں ان جروح سے متعلق ہوتاہے جو خلاف احكام جسم انسانى كو پہنچائى جائىں‘ خواہ اىسى جراحات موت ىا ضرر شدىد كا باعث ہوئى ہوں‘ ىا صرف چوٹ لگى ہو ‘ جناىات متعلقہ جائىداد از قسم ’’ غصب‘‘ ىا ’’ تلف نقصان‘‘ كے ہوسكتے ہىں۔ ‘‘[17]۔

جرم اور ٹارٹ مىں فرق:

جرم معاشرہ كى اجتماعى حقوق مىں مداخلت بے جا ہے۔ اس كے برے اثرات صرف اىك شخص پر نہىں بلكہ پو رے معاشرے كو اپنى لپىٹ مىں لے لىتے ہىں ۔ جرم كى صورت مىں ملزم كو قىد وبند وجرمانہ كى سزا بھگتنا پڑتى ہے۔ مجرم پر مقدمہ چلانا رىاست كى ذمہ دارى ہے۔ مجرمانہ افعال مضروب ىا اس كے لواحقىن معاف نہىں كرسكتے ۔ جرم مىں صرف فوجدارى عدالت ہى مىں مقدمہ دائر ہوسكتاہے۔ جرم كى ہر صورت مىں عمومى حق مىں مداخلت تصور كى جاتى ہے۔ اس لئے مقدمہ ىا استغاثہ مستغىث كى صوابدىد پر نہىں چھوڑا جاسكتا۔ ٹارٹ اىك فرد كى خانگى حقوق پر حملہ ہوتاہے سارا معاشرہ اس كے برے اثرات سے محفوظ رہتاہے۔ ٹارٹ مدعا علىہ جس فعل بے جا كا ارتكاب كرتا ہے ہرجانہ ىا تاوان ادا كر بچ جاتاہے۔ ٹارٹ مىں مدعى خود مقدمہ دائر كرتاہے اور راضى نامہ بھى ممكن ہے۔ حملہ كى صورت مىں ىا باقى چند صورتوں مىں مقدمہ چلانے كا بھى حق ہوتاہے۔ مدعى ازالہ حىثىت عرفى كى صورت مىں دىوانى دعوى بھى دائر كرسكتاہے۔ اسى طرح ساتھ ساتھ فوجدارى كاروائى بھى كى جاسكتى ہے۔ جرم كى اىك تعرىف ىہ بھى بىان كى ہے: ’’ جرم اىك اىسا فعل ہے جس كے ارتكاب پر مجرم كو حكومت سزا دىتى ہے‘‘[18]۔

اسى طرح ڈاكٹر لىاقت على خان نىازى نے جرم كى اىك تعرىف ىہ نقل كى ہے: ’’ جرم سے مراد اىسے فعل كا ارتكاب ىا اس فعل كا ترك كردىنا ہے جس سے احكام شرىعت كى خلاف ورزى ہوتى ہے اور جس كى وجہ سے سزا مقرر ہوتى ہے‘‘[19]۔ٹارٹ عمومى حق كى خلاف ورزى ہے جس سے سارا معاشرہ متاثر ہوتاہے لىكن خلاف ورزى معاہدہ كسى شخص ىا ذاتى نوعىت كے حق کی خلاف ورزى ہے‘ معاشرہ كو اس سے كوئى سرو كار نہىں۔ ٹارٹ عام معاشرے كا محافظ ہے ۔

جرم خطاءبہ خلاف عوام ہوتى ہے ۔ اس مىں معاشرہ كے اجتماعى حقوق كو پامال كىا جاتاہے۔ جب كہ ٹارٹ نجى خطاء ہوتى ہے اس مىں فرد كے وہ حقوق پامال كىے جاتے ہىں جو اسے پورى دنىا كے خلاف حاصل ہوتے ہىں۔

جو فرق ان دونوں قانونى اقسام كى خلاف ورزىوں ىعنى جناىت اور جرم مىں ہے وہ بعض حالتوں مىں نہاىت خفى ہوتاہے جىسا كہ فقہاء كرام بعض معاملات مىں حقوق عامہ اور شخصى حقوق كو اىك جگہ ملاتے ہىں۔

جناىت اور ٹارٹ مىں فرق:

عام طور پر ٹارٹ كا ترجمہ ’’ جناىت‘‘ كىا جاتاہے لىكن تعرىفات اور نتىجہ كے لحاظ سے دونوں مختلف چىزىں ہىں۔ ٹارٹ اىك دىوانى خطاء Civil Wrong ہے لىكن جناىت مىں چونكہ قتل اور ضرر اطراف بھى شامل ہىں اس لىے پاكستانى قانون مىں انہىں فوجدارى جرائم مىں شامل كىا گىا ہے۔ ٹارٹ كے ضمن مىں دادرسى حاصل كرنے كے لىے دىوانى عدالت سے رجوع كرنا پڑتا ہے جب كہ جناىت كے ضمن مىں پاكستان مىں فوجدارى عدالت مىں مقدمہ دائر كرنا پڑتاہے۔ ٹارٹ مىں صرف مضرت كى بنا پر نالش دائر كى جاسكتى ہے قتل اور جسمانى ضرر كےسلسلہ مىں ٹارٹ كے قانون كا اطلاق نہىں ہوتاہے۔ اس كے برعكس جناىت كے ضمن مىں قتل اور جسمانى ضرر پر فوجدارى عدالت مىں مقدمہ دائر كىا جاتاہے۔ ٹارٹ مىں صرف ہرجانہ دلاىا جاتاہے جو رقم كى صورت مىں ہوتاہے۔ جناىات كے تحت آنے والے تمام افعال بے جاكے ضمن مىں ضرورى نہىں كہ جرمانہ دلاىا جائے ۔ صرف چند مخصوص صورتوں مىں متاثرہ فرىق كى دادرسى رقم مثلاً دىت‘ ارش ىا ضمان كى صورت مىں كى جاتى ہے اور ىہ وہ صورتىں ہىں جو ٹارٹ كى مروجہ تعرىف پر پورى نہىں اترتىں مثلاً قتل جس مىں دىت دلائى جاتى ہے دىوانى خطاء نہىں بلكہ فوجدارى جرم ہے۔

ٹارٹ مىں دادرسى قانون عامہ Common Lawكے تحت حاصل كى جاتى ہے جب كہ جناىت كى صورت مىں دادرسى قرآن وسنت ىعنى فقہ اسلامى كى روشنى مىں حاصل كى جاتى ہے۔ پاكستانی قانونى مىں اىسى دادرسى ’’ مجموعہ تعزىرات پاكستان‘‘ كے تحت حاصل كى جاتى ہے[20]۔

ٹارٹ مىں فعل بے جا كے مرتكب كو سزا دىنے كا مقصد معاشرے كا نقصان پورا كرنا اور معاشرہ مىں امن وسكون برقرار ركھنا ہے۔ جب كہ جناىت مىں سزا كا اولىن مقصد احكام شرىعت پر عمل كركے اللہ اور رسول ﷺ كى خوشنودى حاصل كرنا ہے۔ متاثرہ فرىق كى دادرسى كرنا اور معاشرہ مىں امن وامان بحال ركھنا ثانوى مقاصد ہىں۔

ٹارٹ مىں نالش دائر كرنا ىا نہ كرنا متاثرہ فرىق كى صوابدىد پر منحصر ہے لىكن جناىت مىں عدالتى كاروائى رىاست كے نام سے كى جاتى ہے۔ اىك اسلامى رىاست پر فرض عائد ہوتاہے كہ وہ كسى جناىت كے سرزد ہونے پر مجرم كے خلاف كاروائى كر كے عدل وانصاف كے تقاضے پورے كرے۔

ٹارٹ كا قانون اىك لا دىنی قانونى ہے اور مختلف اوقات مىں مختلف دانشوروں ‘ججوں اور مصنفوں كے ذہن كى پىداوار ہے اور اس كے بعض اصول انصاف كے تقاضوں پر پورے نہىں اترتے ۔ اس كے برعكس ’’ جناىت‘‘ كے اصول اسلامى قانون سے ماخوذ ہىں ۔ دوسروں لفظوں مىں اسلامى قانون اللہ اور رسول كا بناىا ہوا قانون ہے جو انصاف كے تقاضوں كو پورا كرتاہے اور چونكہ عام انسانوں كا وضع كردہ نہىں اس لىے اغلاط سے مبرا ہے۔

ٹارٹ مىں صرف مضرت كى بنا پر نالش دائر كى جاسكتى ہےقتل اور جسمانى ضرر كے سلسلہ مىں ٹارٹ كے قانون كا اطلاق نہىں ہوتا۔ اس كے برعكس جناىت كے ضمن مىں قتل اور جسمانى ضرر پر فوجدارى عدالت مىں مقدمہ دائر كىا جاتاہے۔

ٹارٹ مىں صرف ہرجانہ دلاىا جاتاے جو رقم كى صورت مىں ہوتا ہے لىكن جناىت كے تحت آنے والے تمام افعال بے جا كے ضمن مىں ضرورى نہىں كہ جرمانہ دلاىا جائے۔ صرف چند مخصوص صورتوں مىں متاثرہ فرىق كى دادرسى رقم مثلاً دىت, ارش ىا ضمان كى صورت مىں كى جاتى ہے اور ىہ وہ صورتىں ہىں جو ٹارٹ كى مروجہ تعرىف پر پورى نہىں اترتىں۔ مثلاًقتل جس مىں دىت دلائى جاتى ہے دىوانى خطاء نہىں بلكہ فوجدارى جرم ہے۔

اسلامى قانون مىں ٹارٹ:

قرآن كرىم جملہ علوم كا سرچشمہ ہے قانون ٹارٹ پر متعدد آىات ہىں بعىنہ حضور اكرم ﷺ نے احكام شرىعت كى تفسىر اورتشرىح فرمائى۔ قرآن حكىم اور حدىث قانون ٹارٹ كے سرچشمے ہىں۔ اور فقہ اسلامى كے ماخذ مىں قرآن حكىم , سنت, اجماع, قىاس, استدلال, مصالحہ , استحسان او راجتہاد ہىں جو كہ عىسائىت او ررومى قوانىن سے قطعى طور پر مختلف ہىں۔جناىت كے قانون كے سلسلے مىں فقہ كى قدىم كتب مىں جگہ جگہ اصطلاحات كى صورت مىں پھىلا ہوا ہے۔ مثلاً, كتاب الاجارات, كتاب الجناىات, كتاب الودىعہ, كتاب القصاص والدىات, عارىہ, كتاب الخراج , كتاب الجہاد وغىرہ كے ابواب كے تحت موجود ہىں۔

جناىات كى اقسام: فقہاء نے جناىات كى مختلف اقسام ذكر كىے ہىں :

1۔ جناىات برجائىداد:

كسى شخص كى زمىن ىا جائىداد پر بغىر اجازت ىا بغىر كسى قانونى جواز كے داخل ہونے ىا كسى غىرمنقولہ جائىداد كے قابض شخص كے قبضے مىں براہ راست ىا بالواسطہ مداخلت كرنا قانوناً مداخلت بے جاہے۔ اس سلسلے مىں نبى كرىم ﷺ كا ارشاد ہے : ’’ إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِى شَهْرِكُمْ هَذَا ‘‘[21]۔ (بلاشبہ تمہارى جان ومال اور آبرو اىك دوسرے كے لىے اسى طرح محترم ہے جس طرح آج كا ىہ دن اس مكرم شہر اور ماہ مىں)۔

باطل طرىقے سے مال كھانے كے بارے مىں قرآن كرىم مىں ارشاد ہوا ہے: ’’ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ ‘‘[22]۔ اسى آىت كے ضمن مىں ابن رشد بىان كرتے ہىں كہ اسى طرح چورى, دھوكہ دہى اور كسى سے زبردستى مال چھىننا سب منع ہے [23]۔ او رفتاوى حماىہ مىں تو اس حد تك درج ہے كہ اگر كوئى شخص كسى كى زمىن مىں قبر بنادے اور اجازت نہ لے تو مالك كو حق ہے كہ وہ متوفى كے ورثاء كو كہے كہ وہ مىت كو باہر نكالىں[24]۔

علامہ سرخسى نے غصب لكھا ہے كہ غصب سے مراد كسى سے مال زبردستى طور چھىننے كے ہىں ىا كسى دوسرے كى جائىداد پر زبردستى قبضہ كر نا[25]۔

اتلاف کا معنی تلف كرنے كى ہىں, مال كو بے جا طور پر تلف كردىا جائے ىا اس كى صورت بگاڑ دى جائے تو ىہ بھى مال مىں تصرف بے جا ہوگا۔

2۔ استىذان:

اذن سے ہے جس كے معنى اجازت ہىں اور اجازت طلب كرنے كو استىذان كہتے ہىں[26]۔

قانون ٹارٹ مىں اس كا مطلب ہے : ’’ Privacy is the state of being let alone‘‘[27] ىعنى خلوت ىا تخلىہ علىحدگى مىں رہنے كى حالت ہے۔ قرآن كرىم مىں اس سلسلے مىں ارشاد ہے: ’’ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ‘‘[28]۔ ( اے اىمان والو! تم اپنے گھروں كے سوا دوسرے گھروں مىں داخل مت ہو جب تك كہ اجات حاصل نہ كر لو اور ان كے رہنے والوں كو سلام نہ كرلو, تمہارے حق مىں ىہى بہتر ہے تاكہ تم خىال ركھو)۔

اور اس ضمن مىں آپ ﷺ كى حدىث شرىف ہے: ’’ مَنْ نَظَرَ فِى كِتَابِ أَخِيهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَإِنَّمَا يَنْظُرُ فِى النَّارِ ‘‘[29]۔ جس نے اپنے بھائى كے خط كے مندرجات كو بلا اجازت دىكھا گوىا اس نے آگ مىں جھانكا۔

سىد قطب (م ۱۹۶۷ء) نے ذكر كىا ہے:’’ اسلام نے استىذان كے قانون كے تحت تخلىہ كى بڑى حفاظت كى ہے[30]۔ كسى كے گھر بغىر اجازت داخلہ منع ہے ۔ كسى كے خط كو بغىر اجازت پڑھنا منع ہے۔

3۔ لقطہ:

=== لقطہ كے معنى كسى چىز كے لىنے اور اٹھانے كے ہىں اسى سے لقطہ ہے فقہ كى اصطلاح مىں لقطہ كسى شخص كا وہ كھوىا ہوا مال ہے جسے كوئى اور شخص اٹھالے ىعنى ’’ المال الضائع من ربه يلتقطه[31] ‘‘ لقط حىوان بھى ہوسكتاہے جىسے گمشدہ اونٹنى , گائے , بكرى وغىرہ اور كوئى دوسرا مال بھى ہوسكتاہے , جىسے سونا چاندى وغىرہ۔ ىہ سامان كسى دوسرے شخص كو مل جائے تو وہ اس كا مالك نہىں بن سكتا ہے بلكہ وہ اس كو امانت كے طور پر مالك كو دے گا۔ قانون ٹارٹ مىں تو ىہ معىار نہىں , وہاں سامان پانے والا مالك بن جاتاہے۔

مجلہ الاحكام العدلىہ مىں ہے كہ اگر كسى شخص كو راستے مىں كوئى چىز ملے ىا كسى اور جگہ ىہ چىز نظر آئے تو اس چىز كو حاصل كرنے والا اسے اگر اپنى ملكىت بنالے تو وہ غاصب ہے[32]۔

امر باعث تكلىف: اس سے مراد كسى دوسرے كو پرىشان كرنے اور تكلىف پہنچانے والا امر ہے۔ اصطلاحى طور پر اس سے مراد اىسے افعال بے جا ہىں جو مداخلت بے جا كى حد تك جا پہنچىں اور دوسرے صاحب جائىداد افراد كے لىے اپنى جائداد كے استعمال مىں بے جا طور پر تكلىف ىا پریشانى كا سبب بن جائے۔ مثال كے طور پر گنجان آبادى والے علاقے مىں كوئى فىكٹرى لگا دىنا جس كى آواز اور دھوئىں سے لوگ بىزار اور پرىشان ہوں ۔ اس كى دو قسمىں ہىں اول عام اور دوم خاص۔

اول عام:اس میں اىسے افعال بے جا آتے ہىں جو سارے علاقے كے لىے باعث پرىشانى ہوں , ذہنى , مالى اور جسمانى تكلىف کا سبب بنىں , جىسے جواء خانہ كھول دىنا جس سے اہل محلہ پرىشان ہوں ۔ ىہاں سد باب كرنا حكومت كى ذمہ دارى ہے اور ىہ بھى قانون ٹارٹ مىں آتاہے۔

دوم: ىہ كہ كوئى شخص اپنى جائىداد كا ناجائز اور غىر قانونى استعمال كرے جس كى وجہ سے دوسرا شخص اپنى جائىدادكے استعمال مىں تكلىف , پرىشانى اور مصىبت كا سامنا كرنا پڑے مثلاً رىڈىو ىا ٹىلى وزن كى بلند آواز سے پڑوسىوں كو پرىشان كرنا, ىا كسى كو بار بار تنگ كرنے كےلىے ٹىلى فون كرنا اىسى شاہراہ عام پر حدىث مىں بىٹھنے سےمنع كىا گىا ہے جہاں پر لوگوں كى گزرگاہ ہو اور ان كے بىٹھنے سے ان كو تكلىف ہو۔ ’’إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ ‘‘ [33]۔ ىعنى تم راستوں مىں بىٹھنے سے بچو۔ اور فقہ اسلامى مىں عام راستوں كے حوادث كے بارے مىں بہت زىادہ مواد موجود ہے۔ مثلاً گلى كوچوں مىں بىت الخلا بنانا, عام راستہ مىں چھجہ ىا پرنالہ نكالنا, راستہ مىں پانى ڈال دىنا جس سے كوئى پھسل جائے, راستہ مىں كنواں كھودنا, راستے مىں دىوار وغىرہ كے حوادث , اس قانون كے تحت مدعى علىہ سے تاوان لیا جا سكتا ہے[34]۔

4۔ قانون قصاص ودىت:

فقہ اسلامى مىں ىہ قانون ٹارٹ كہلاتاہے: جىسا كہ ىہ تعرىف ہے:

“Offences against the person from physical assault to homicide were placed by Shariat Law in the category of private wrongs, or torts, rather than public wrongs or crimes”[35]

جہاں تك انسانى جان كے خلاف جرائم كا تعلق ہے چاہے وہ جسمانى حملہ ہو ىا قتل وغىرہ , شرىعت مىں وہ ٹارٹ ہىں نہ كہ عوامى خطائىں ىا جرائم۔ قتل فقہ مىں ٹارٹ شمار ہوتاہے اور قتل كى تىن قسمىں ذكر ہىں: قتل عمد, كسى كو جان بوجھ كر قتل كردىنا , قتل شبہ عمد, اور قتل خطاء , غلطى سے قتل كرنا۔

امام سرخسى(۳۸۳ھ) نے لكھا ہے: ’’ اعْلَمْ بِأَنَّ الْقَتْلَ بِغَيْرِ حَقٍّ مِنْ أَعْظَمِ الْجِنَايَاتِ ‘‘[36]۔( تو جان لے كہ قتل بغىر كسى قانونى جوا ز او رحق كے, عظىم جناىات مىں سے ہے)۔ قتل عمد كى سزا قصاص ہے قتل خطا كى صورت مىں سزا قصاص نہىں بلكہ تعزىر ہے ىہ امام ابن حزم كا مذہب ہے مثال كے طور پر كسى كو غلطى سے پتھر مارنا اور اس شخص كا مرجانا[37]۔

قتل خطاء مىں جو سزا ہے وہ دىت ہے جو قرآن كرىم كى اس آىت سے واضح ہے: ’’ وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلَّا أَنْ يَصَّدَّقُوا ‘‘[38]۔( اور جو شخص كسى مؤمن كو غلطى سے قتل كردے تو اس كا كفارہ ىہ ہے كہ اىك مؤمن كو غلامى سے آزاد كرے اور مقتول كے وارثىن كو خون بہادےىا وہ معاف كر دىں)۔

ٹارٹ كے قانون كى طرح ىہاں شبہ عمد قتل كا ہے كسى كى غفلت سے كوئى قتل ہوسكتا ہے ىعنى اگر گوئى شخص كنواں كھودے اور اس مىں كوئى گر پڑے جب كہ كنواں كى دىوارىں نہ ہوں اور نہ خبردار كىا گىا ہو اس مىں بھى دىت ہے۔

ڈاكٹر ز كے خطاء : اس سے مراد ىہ ہے اگر كوئى ڈاكٹر ڈىوٹى غفلت سے سرانجام دے اور اس غفلت كى وجہ سے مرىض كى جان ضائع ہوجائے ىا كوئى اور جسمانى نقصان پہنچے تو اس صورت مىں ڈاكٹر ذمہ دار ہے۔ امام ابو حنىفہ كے مسلك كے مطابق ڈاكٹر كے خلاف دعوى قانوں ٹارٹ كے تحت نہىں ہوسكتا ۔ ىہاں پر امام مالك كے نزدىك ڈاكٹر صرف اس صورت مىں ذمہ دار ہے اگر وہ دىدہ دانستہ غفلت برتے[39]۔ البتہ ابن قدامہ كے نزدىك اگر ڈاكٹر قصداً كسى كى موت اپنى غفلت سے واقع كرے تو اس پر قصاص واجب ہے۔ ’’ القصاص من الخارج إذا مات المجروح تحت العلاج ‘‘[40]۔ آپرىشنز مىں مرىض سے اجازت ىا ورثاء سے سرٹىفكىٹ پر اجازت كا رواج برطانىہ مىں بہت بعد مىں شروع ہوا ہے جب كہ اس كا تصور ائمہ اربعہ نے كافى پہلے دىا ہے۔ فقہ اسلامى مىں طبىب ىا سرجن كے خلاف غفلت كا دعوى ہوسكتاہے جىسا كہ مجلہ الاحكام العدلىہ مىں ہے كہ ان ڈاكٹروں كو علاج كرنے سے روكا جائے جو عوام الناس كے لئے خطرے كا موجب ہىں ۔ حدىث مىں ہے ’’ مَنْ تَطَبَّبَ وَلَمْ يُعْرَفْ مِنْهُ طِبٌّ فَهُوَ ضَامِنٌ‘‘[41]۔

حبس بے جا: جبس بے جا سے مراد كسى شخص كى نقل وحركت پر غىرقانونى پابندى ہے ۔ اس سلسلہ مىں حضرت عمر رضى اللہ عنہ كا ارشاد گرامى ہے: ’’ لاَ وَاللَّهِ لاَ يُؤْسَرُ رَجُلٌ فِى الإِسْلاَمِ بِغَيْرِ الْعُدُولِ‘‘[42]۔ اسلام مىں كوئى شخص بغىر كسى قانونى جواز كے قىد نہىں كىا جاسكتاہے۔ اسى طرح امام ابو ىوسف نے كتاب الخراج مىں بھى حبس بے جا كا ذكر كىا ہے[43]۔

عزت ہتك كا قانون: كسى شخص كا دوسرے شخص كے بارے مىں اىسا فعل بے جا جس سے اس كى نىك نامى متاثر ہوتى ہو , ہتك عزت كہلاتاہے۔ كسى كو چور, شرابى, اور بددىانت كہنا بھى قابل تعزىر ہے۔ حدىث مىں ہے ’’ اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ, قَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلاَتِ الْمُؤْمِنَاتِ ‘‘[44]۔ اس بات كا اعتراف خود اہل مغرب نے كىا ہے: اسلام مىں تحفظ عزت كا بہت زىادہ خىال ركھا گىا ہے[45]۔ اس بارے مىں امام مالك نے كناىہ توہىن كے لىے باقاعدہ التعرىض كا لفظ استعمال كىا۔ امام غزالى(م۵۰۵ھ) قانون ہتك عزت پر بحث كى اور غىبت, دل آزارى , كناىہ توہىن اور زبانى اور تحرىرى ہتك عزت منع فرماىاہے[46]۔

دھوكہ دہى : فقہ مىں دھوكہ سے مراد اىسے افعال ہىں جو مدعا علىہ ىا اس كے كارندے اس نىت سے انجام دىں كہ دوسرے فرىق ىا اس كے كارندے كو دھوكہ دے ىا اس قسم كے معاہدہ مىں شمولىت كى ترغىب دے۔ سورة المطففىن مىں ارشاد ربانى ہے ’’ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ ‘‘[47]۔ ىعنى بربادى ہے ان كے لىے جو دھوكہ دہى كرتے ہىں, دھوكہ دہى سے منع كرنے كے احكام قرآن كرىم كے متعدد آىات مىں ہىں۔ فقہ مىں دھوكہ دہى كا متبادل لفظ غرر ىا تغرىر ہے۔ مرغىنانى نے لكھا ہے كہ مدعى ان مقدمات مىں باقاعدہ معاوضہ بھى وصول كرسكتاہے[48]۔

ٹارٹ اور جناىت مىں مماثلت:

ٹارٹ اور جناىت دو مختلف چىزىں ہىں, تاہم جناىت اور ٹارٹ مىں كچھ مماثلت بھى پائى جاتى ہے۔ ضرر كى صورت مىں ٹارٹ كى طرح نقصان كا معاوضہ رقم كى صورت مىں دلاىا جاتاہے۔ مثلاً شرعى قانون كے بموجب قتل كا خون بہا دلانا ٹارٹ كے قانون كے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے ۔ اس طرح حرجانے اور تاوان كى نہ جانے كتنى شكلىں قانون مىں پائى جاتى ہىں۔ وہ عام طور پر فقہ اسلامى مىں موجود ہے ۔

خلاصہ وتجاوىز:

اس بحث سے ىہ معلوم ہوا كہ قانون ٹارٹ مكمل طور پر فقہ اسلامى مىں موجود ہے لىكن قدىم اصطلاحات مىں ہے اور كتب فتاوى مىں جگہ جگہ بكھرا ہواہے ۔ مغرب مىں اس قانون كا كچھ عرصہ ہوا ہے جنم لىا ہے, فقہ اسلامى مىں ىہ اصطلاحات اىك ہزار برس سے زائد عرصہ سے استعمال ہو رہے ہىں۔

قانون قصاص ودىت ىہ قانون كا اہم ترىن حصہ , اس قانون كا باقاعدہ اطلاق نا گزىر ہے۔ استىذان كا قانون كتنا موثر قانون ہے , لوگ ٹىلفون سے دوسروں كى نىند ىں حرام كرتے ہىں, دل آزارى كرتے ہىں, اخبارات مىں لوگوں كى پگڑى ناحق اچھالى جاتى ہے , اگر كوئى زنا بالجبر كا ىا اس قسم كا كوئى واقع رونما ہو جائے تو پورے ملك مىں اسے اچھالا جاتاہے, اىسى خبروں پر پابندى صرف قانون ٹارٹ ہى لگا سكتا ہے۔ قذف كا قانون رائج ہے لىكن ضرورت اس امر كى ہے كہ اسلام كا قانون ہتك عزت لاگو كىاجائے۔ اسى طرح ہسپتالوں مىں ڈاكٹر صاحبان بعض اوقات مرىضوں كى جان خطرے مىں ڈال دىتےہىں۔ ان كى غفلت سے ہزاروں جانىں ضائع ہوجاتى ہىں۔ اىسى صورت مىں قانون ٹارٹ ہى تحفظ فراہم كرسكتا ہے۔ غفلت كا اسلامى قانون نافذ كرنےسے حالات سدھر سكتے ہىں۔

قرآن حكىم كا دىا ہوا قانون ٹارٹ جس كى تشرىح حضور ﷺ نے فرمادى تھى, ہر لحاظ سے مكمل ہے ىہ قانون انتہائى جامع, مستند اور قابل نفاذ ہے۔ وكلاء اور ماہرىن قانون كا اىك طبقہ موجود ہے جو انگرىزى قانون سے تو واقف ہىں لىكن فقہى كتب تك ان كى رسائى نہىں ہے, اور نہ ہى اس ضمن مىں اجتہاد كىا گىا۔ وقت كا تقاضا ہے كہ فقہ اسلامى كو جدىد دور مىں جدىد انداز مىں پىش كىا جائے۔


حوالہ جات:

  1. Oxford Dictionary (oxford Press 1978) p 321.
  2. Winfield & Jolowicz, Tort, Sweet an Maxwell, London 1975, p 11.
  3. تنزىل الرحمن ‘ جسٹس‘ڈاكٹر‘ قانونى لغت‘( پى اىل ڈى‘ پبلشنر‘ ۳۵ لاہور‘ ۲۰۰۳)‘ ص ۴۸۴۔
  4. Salmon & Heuston, Law of Torts, Sweet and Maxwell, London, 1981, p.11
  5. Bukhari, Tanveer, Law of Tort . p 2
  6. فرىڈرك پولاك اىك انگرىر,ماہر قانون دان تھا اور انگلش قانون مىں ماہر تصور كىا جاتا تھا ۔ آپ كا اكثر كام قانون كے بارے مىں ہے۔ ۱۹۳۷ء مىں انتقال ہوا ۔ مشہور تصنىف قانون ٹارٹ ہے۔
  7. Law of Tort (1887) P 4
  8. Winfield and Jolowicz, Tort, Sweet and Maxwell, London, 1975, p. 11.
  9. دستور العلماء ۱/ ۴۱۷۔
  10. الزبىدى‘ محمد بن محمد الحسىنى المرتضى: تاج العروس‘ (دار الكتب العلمىة بىروت) مادة ’’جنى‘‘۔
  11. سرخسى‘ شمس الدىن ابوبكر: المبسوط (دار الفكر للطباعة والنشر والتوزىع ‘ بىروت ‘ لبنان ط ۱‘ ۲۰۰۰ء) ۲۷ / ۱۲۲۔
  12. Edward William Lane, Arabic English Lexicon, Book 1, Part 2’ Islamic Book Centre, Lahore, 1978, p 472 بحوالہ ڈاكٹر لىاقت على خان نىازى‘ اسلام مىں قانون ٹارٹ كا تصور۔ ص ۳۔
  13. ابن رشد: بداية المجتهد و نهاية المقتصد (مطبعة مصطفى البابي الحلبي وأولاده، مصر ط/ ۴‘ 1395هـ/1975م)‘ ۲/ ۳۹۴۔
  14. حوالہ مذكور
  15. ابن نجىم: بحر الرائق‘ (مطبعة قاہرہ) ۸/ ۳۸۶۔
  16. الكاسانى‘ بدائع الصنائع‘ اردو ترجمہ ڈاكٹر محمود الحسن‘ (مركز تحقىق دىال سنكھ ٹرسٹ لائبرىرى لاہور ط/ ۲‘ ۱۹۹۷ء) ۷/ ۵۳۶۔
  17. Sir Abdul Rahim, “ Muhammadan Jurisprudence’ All Pakistan Legal Decisions, Lahore, 1977, p. 352.
  18. Cross and Jones, Introduction to criminal Law, Butterworths, London, 1968 p.9
  19. نىازى‘ لىاقت على: اسلام مىں قانون ٹارٹ كا تصور ص ۸۔
  20. خلاصہ كلام محمد اقبال صدىق ‘ The Penal Law of Islam, Kazi Publication, Lahore, 1979, P.1
  21. صحىح مسلم ‘ ۴/ ۳۹؛ حدىث نمبر ۳۰۰۹۔
  22. النساء: ۲۹۔
  23. ابن رشد : بداىة المجتہد ‘ اردو ترجمہ ‘ لاہور۔ ۲/ ۳۳۔
  24. فتاوى حماىہ ‘ المعارف پبلىكشز لاہور, ۳/ ۳۴
  25. سرخسى ‘ المبسوط, دار معرفة , بمصر ۱۱/ ۷۹۔
  26. رحمانى , خالد سىف اللہ, قاموس الفقہ (زمزم پبلشرز نزد مقدس مسجد اردو بازار كراچى) ۲/ ۷۱۔
  27. Hepple and Matthews, Torts, Cases and Materials, Butterworth’s, London, 1974, P 570-573
  28. النور ۲۷۔
  29. سنن ابو داؤد, ۱/ ۵۵۲, حدىث نمبر ۱۴۸۷۔
  30. سىد قطب , فى ظلال القرآن , دار العربىة بىوت,۸/ ۸۷۔
  31. الكاساني , بدائع الصنائع ۶/ ۲۰۰۔
  32. مجلہ الاحكام العدلىہ ‘ اردو ترجمہ ‘ ادارہ تحقىقات اسلامى , اسلام آباد, مادہ ۷۶۹۔
  33. صحىح مسلم, ۷/ ۲, حدىث نمبر ۵۷۷۴۔
  34. فتاوى عالمگىرى, ۴/ ۶۰۱۔
  35. Noel J. Coulson , Conflicts and tensions in Islamic Jurisprudence, University of Chichago Press, USA 1969, p.72.
  36. سرخسى: المبسوط, كتاب الدىات,۱۱/ ۵۸
  37. ابن حزم, المحلى, (دار الكتب العلمىة بىروت), ۷/ ۴۱۷۔
  38. النساء ۹۲۔
  39. نووى, منہاج الطالبىن, (دار الفكر بىروت) ۱/ ۴۵۔
  40. ابن قدامہ , عبد اللہ بن احمد المقدسى: المغنى , (دار الفكر بىروت ۱۴۰۵ھ) كتاب الجراح, ۹/ ۳۸۲۔
  41. الحاكم محمد بن عبدالله أبو عبدالله النيسابوري, المستدرك على الصحيحين, (دار الكتب العلمية – بيروت, ۱۹۹۰ء) كتاب الطب, ۴/ ۲۳۶, حدىث نمبر ۷۴۸۴۔
  42. البىہقى , السنن الكبرى, ۱۰/ ۱۶۶؛ حدىث نمبر ۲۰۴۱۸۔
  43. ابو ىوسف, كتاب الخراج, ص ۱۰۷۔
  44. صحىح مسلم , ۱/ ۶۴, حدىث نمبر ۲۷۲۔
  45. M. Sharif Bassioni, the Islamic Criminal Justice New York , 1982, p. 19.
  46. غزالى , ابو حامد, احىار علوم الدىن, اردو ترجمہ , (دار الاشاعت كراچى), ۳/ ۸۰۔
  47. المطففىن: ۱۔
  48. مرغىنانى, كتاب الہداىة, ۲/ ۴۳۔