Playstore.png

قذف اور پاکستانی معاشرہ: اسلامی حوالے سے تنقیدی جائزہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ الایضاح
عنوان قذف اور پاکستانی معاشرہ: اسلامی حوالے سے تنقیدی جائزہ
انگریزی عنوان
Qazaf and Pakistani Society: A Critical Analysis in the Light of Islam
مصنف اختر، نسیم، ارشد منیر
جلد 30
شمارہ 1
سال 2015
صفحات 105-122
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
شکاگو 16 اختر، نسیم، ارشد منیر۔ "قذف اور پاکستانی معاشرہ: اسلامی حوالے سے تنقیدی جائزہ۔" الایضاح 30, شمارہ۔ 1 (2015)۔
عالمی امن میں اسلام کا کردار
دینی مدارس پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کے الزامات: ایک تجزیاتی مطالعہ
عرب اسلامی روایت کے برصغیر پاک و ہند میں تفسیر نگاری پر اثرات: عہد رسالت تا خلافت عباسیہ کے تناظر میں اختصاصی مطالعہ
حضرت آدم علیہ السلام بائبل اور قرآن کى روشنى میں
اسلام میں امن اور دہشت گردی کا تصور: ایک علمی اور تحقیقی جائزہ
قذف اور پاکستانی معاشرہ: اسلامی حوالے سے تنقیدی جائزہ
قانون ٹارٹ كا فقہ اسلامى كى روشنى میں جائزہ
افغانستان کی اسلامی تاریخ کے پیش رو صحابہ کرام: عہد خلافت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ
حلالہ اور مروجہ حلالہ سنٹرز: ایک تجزیاتی مطالعہ
جنگی قیدیوں کے حقوق شریعت اسلامیہ اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں
اسلام اور ہندو مت میں مادی اور روحانی طہارت کے اصول
اسلام اور جین مت میں طہارت کا تقابلی جائزہ
علاج معالجہ اور دم کی شرعی حیثیت
جنگی جرائم اسلام اور بین الاقوامی قانون کے تناظر میں
علامہ عینی اور ان کی خدمات کا علمی جائزہ
سورة الكوثر بين الإعجاز البلاغي وتحديات الترجمة
الزمخشري وموقفه من الاستشهاد بشعر المؤلدين في ضوء تفسيره الكشاف
مؤسسة الإزدواج والأسرة في ضوء الشريعة الاسلامية
ضوابط قبول التفرد في رواية الحديث دراسة مع أمثلة من تطبيقات النقاد
مميزات التشريع الجنائي في الفقه الإسلامي: دراسة تحليلية
Principles and Rules of Jihad: A Juristic Approach
Peace, the Essential Message of Islam
Orientalists on the Style of Quran: A Critical Study
The Genesis of Shi’ism in Islam
Origin of Earth: A Quranic Perspective
Rights of Non-Muslim Minorities in a Muslim Country in the Light of Qur’an and Sunnah
Pakistan’s Stance on the War on Terror: Challenging the Western Narrative
Impact of Hajj on Muslims With Special Reference to Pakistan

Abstract

Arbitrariness, unpredictability and instability of the present society are the consequences of alleging and accusing each other, absurdly and misleadingly. It is crucial to stop such felony to rescue standards of living in the society and, to prevent the society from the destroyer blazing of this evil deed. Islam is a perfect religion and helps circumventing all the problems of the society. Therefore Islam is the only religion which punishes with eighty stripes for false accusation. The chastisement is ruled to prevent people from such delinquencies and to keep morality in the society. This article articulates such theme.


تعارف:

" قذف کے لغوی معنی تیر چلانا، کنکریاں پھینکنا، باتیں بنانا، الزام تراشنا، تہمت لگانا، کسی چیز کو زور سےپھینکنا" 1 ، اورمٹھی بھر کوئی چیز لے کر اسے پھینکنے کے آتے ہىں"2 "قذف کا لفظ بطورہ استعارہ گالی دینے اور عیب لگانے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ قذف المحصنات کے معنی ہیں، پاک دامن عورتوں پر بد چلنی کی تہمت لگانا"۔3 "فقہاء کی اصطلاح میں کسی بے گناہ پر بدکاری کا صریح الزام لگانا یا ایسی بات کہناجس کا مطلب اسی نوعیت کی ہو، قذف ہے ۔ کسی بے گناہ پر بدکاری کی تہمت لگانے کو قذف (یعنی تیر یا پتھر پھینکنا ) اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس فعلِ بد (زنا)کی تہمت کسی پر لگانا ایسا ہی ہے ۔جیسے کوئی شخص غصہ میں آکر پتھر کھینچ مارے اور خیال نہ کرے کہ یہ پتھر کس کس پر جاکر پڑے گا۔ ایک بے گناہ عورت۔ اس کا باپ، ماں، بہن، بھائی، خاوند اور اس کا کنبہ اور اس کے رشتے دار سب اس کی اس تہمت درازی کا نشانہ بن جاتے ہیں اور وہ ہنستا اور خوش ہوتا ہے اور اس ضرر سے جو ان سب کوپہنچا بالکل آنکھیں بند کرلیتا ہے ایسے شخص کو مفتری کہا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ جھوٹا الزام تراشتا ہےاور افترا سے کام لیتا ہے"۔ 4

قذف زنا کے اس الزام کو کہا جاتا ہے جو کسی شریف یا پاک دامن عورت یا مرد پر کھلم کھلا یا ڈھکے چھپے الفاظ میں لگایا جاتا ہے ۔

یہاں "حد" کی مختصروضاحت کرنا "حد" کے مفہوم کو سمجھنے کی غرض سے ضروری معلوم ہوتا ہے۔ "حد"اصطلاحِ شریعت میں اس سزا کو کہتے ہیں ۔ جو حق اللہ کے طور پر مقرر کی گئی ہو (یعنی خدا کی مقرر کردہ سزائے گناہ) جیسے بدکاری کی سزا یا پھر "حد"وہ سزا ہے جو انسان کی حق تلفی (یا ایذا دہی) کی پاداش میں دی جائے ،جیسے تہمت لگانے کی سزا ۔شریعت کی مقرر کردہ ان سزاؤں کو "حد" یا "قدر" (مقرر سزا) کہا جاتا ہے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان سزاؤں کی ایک حد یا مقدار مقرر فرمادی ہے۔ جس سے تجاوز کرنے کی اجازت کسی کونہیں ہے حدود (سزائیں) کبیرہ گناہوں کے ارتکاب سے روکتی ہیں۔

تہمت لگانے پر سزا کے واجب ہونے اور کفر کا الزام لگانے پر نہ ہونے میں یہ راز ہے کہ جس پر کفر کا الزام ہو وہ توبہ کرسکتا ہے کہ کلمہء شہادت تین بار پڑھ کر اس الزام سے بری ہوجائے ۔بخلاف اس کے جس پر تہمت برے کام کی لگائی جائے۔ وہ خود چاہے تو اس الزام سے بری نہیں ہوسکتا ۔لفظ "رمی" کےمعنی کسی شخص پر پتھر یا تیر وغیرہ پھینکنا ہے تاکہ دوسرے کو تکلیف یا ضرر پہنچے۔یہ لفظ "الزام تراشی " کے معنوں میں "استعارہ "ہے۔کسی پر عیب تھوپنا بہر حال اس کے لئے موجبِ اذیت ومضرت ہے پس انسان کے منہ سے نکلی ہوئی بات ایسی ہی ہے جیسے ہاتھ سے چلایا ہوا تیر"۔5

اسلامی شریعت نے جرائم اور سزاؤں کی اقسام کے معاملے میں ایک خاص طریقہ اختیار کیا ہے۔ جرائم کی ایک قلیل تعداد ایسی ہے جس کے لئے مخصوص سزائیں مقرر کردی گئی ہیں۔ ان میں سے بعض کو "حد" اور بعض کو "قصاص" کہا جاتا ہے۔ان کے علاوہ جتنے جرائم ہیں۔ان کے لئے کوئی خاص سزا متعین نہیں کی گئی ۔بلکہ اربابِ اختیار اور ججوں کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ان کے لئے مناسب حال سزا تجویز کریں ۔ ان سزاؤں کو تعزیرات کہا جاتا ہے۔"حد" اس شے کو کہتے ہیں جو دو شے کے درمیان رکاوٹ بنتی ہے۔ تاج العروس میں حد کے لغوی معنی ہیں" الحاجزبين الشيئين"۔6 "دوچیزوں کے درمیان رکاوٹ بننے والی"۔

الشوکافی نے "حد "کی یہ تعریف نقل کی ہے: وفی الشرع عقوبة مقدرة لأجل حق الله"۔7 "اور شریعت میں (حد سے مراد) ایسی مقررہ سزا جو حق اللہ کی وجہ سے ہو"۔

حدود کی اقسام:

"حدود میں سزا پہلے سے منجانب شارع مقرر ہوتی ہے اور وہ بطورِ حقِ خداوندی واجب ہے کیونکہ جن جرائم میں شارع کی طرف سے سزائیں مقرر کردی گئی ہیں معاشرتی نقطہ نظر سے وہ حد درجہ قابلِ توجہ اور اہم ہوتی ہیں۔ جن جرائم پر حد واجب ہے وہ یہ ہیں۔ چوری، ڈاکہ ،زنا، قذف، شراب خوری، ارتداد اور بغاوت"۔10

مفتی محمد شفیع کے مطابق" قرآن کریم اور احادیث متواترہ نے چار جرائم کی سزا اور اس کا طریقہ خود متعین کردیا ہے۔ کسی قاضی یا امیر کی رائے پر نہیں چھوڑا، ان ہی متعین سزاؤں کو اصطلاحِ شرع میں حدود کہا جاتا ہے ۔ان کے علاوہ باقی جرائم کی سزاکو اس طرح متعین نہیں کیا گیا ۔بلکہ امیر یا قاضی مجرم کی حالت اورجرم کی حیثیت اور ماحول وغیرہ کے مجموعہ پر نظر کرکے جس قدر سزا دینے کو انسدادِ جرم کے لئے کافی سمجھے وہ سزا دے سکتا ہے ایسی سزاؤں کو شریعت کی اصطلاح میں تعزیرات کہا جاتا ہے، حدودِ شرعیہ چار ہیں ، 1۔چوری، 2۔کسی پاک دامن عورت پر تہمت لگانا، 3۔ شراب، 4۔زنا کرنا"۔11 جبکہ محمد میاں صدیقی کے مطابق"شریعت نے پانچ جرائم کی سزاؤں کو "حد" کہا ہے ، 1۔ چوری، 2۔ڈاکہ زنی و راہزنی، 3۔زنا، 4۔تہمتِ زنا، 5۔ شراب نوشی"۔12

فقہاء کے نزدیک تعزیر کی تعریف:

فقہاء کے نزدیک تعزیر کی تعریف درج ذیل ہے:

"یہ ایک غیر مقررہ سزا ہے جو بطورِ حق باری تعالیٰ یا بطورِ حقِ انسان ان جرائم پر واجب ہوتی ہے جن کے بارے میں حدود اور کفارات متعین نہ ہوں، تادیب، اصلاح اور جرم سے باز رکھنے کے لحاظ سے یہ حدود کے مماثل ہیں"۔13

اصل موضوع کی جانب آنے سے قبل یہ ضروری معلوم ہوتا ہےکہ دورِ جاہلیت کے عرب معاشرہ میں قذف کی صورتِ حال کیا تھی اس پر روشنی ڈالی جائے تاکہ تاریخ کے جھروکوں سے قذف کی اصل حیثیت کا اندازہ لگایا جاسکے۔

دورِ جاہلیت میں قذف کی حیثیت:

قبل از اسلام(دورِ جاہلیت) عرب معاشرہ میں ہر طرف ظلم وستم کا بازار گرم تھا زور آور کمزوروں کے مال ومتاع پر جبراًقابض ہوجاتے تھے۔انسانی حقوق کی پامالی عام تھی۔زندگی گزارنے کے لئےقواعد وضوابط متعین نہ تھے چھوٹے بڑے کا احترام ملحوظ نہ رکھا جاتا تھا۔ہر طرف گناہ کی گرم بازاری تھی ، زنا عام تھا ، مرد اپنے زنا کے قصے بڑی بے حیائی اور بیباکانہ انداز میں سناتے تھے ایک دوسرے کو نازیبا کلمات سے پکارتے تھے ۔عرب معاشرہ میں گہرائیوں تک بگاڑسرائیت کرچکا تھا، اور انکی روک تھام کے لئے کوئی قانون موجود نہ تھا۔لیکن جب اسلام کی کرنیں عرب میں پھیلیں۔تو شریعت اسلامیہ نے انسانی حقوق کی بالادستی کے لئے قوانین اور اصول وضوابط مرتب کئے ۔جن میں سے ایک قانونِ قذف بھی تھا ۔تاکہ ان قوانین اور اصول و ضوابط کے مطابق زندگی گزار کر ایک پاکیزہ اور پر امن معاشرہ کا قیام عمل میں لایا جاسکے۔ جہاں ہر انسان کے حقوق اور عزت وناموس محفوظ ہو۔

قذف قرآنِ کریم کی روشنی میں:

احکام ِ قذف:

"والذين يرمون المحصنت ثم لم يأ توبأر بعة شهدآء فاجلدوهم ثمانين جلدة ولاتقبلو الهم شهادة أبداو اولٰئک هم الفٰسقون الا الذين تابوامن بعد ذٰلک وأصلحوا فان الله غفورالرحيم"۔15

" اور جو پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں۔ ان کو اسی کوڑے مارو اور ان کی شہادت کو کبھی قبول نہ کرو۔ اور وہ خود ہی فاسق ہیں۔سوائے ان لوگوں کے جنھوں نے اس کے بعد توبہ کی اور اصلاح کر لی۔ پس اللہ بہت بخشنے والا اور مہربان ہے"۔

مفتی محمد شفیع اس آیت کے حوالے سے معارف القرآن میں رقم طراز ہیں کہ :"جو لوگ زنا کی تہمت لگائیں پاک دامن عورتوں پر جنکا زانیہ ہونا کسی دلیل یا قرینہ شرعیہ سے ثابت نہیں اور پھر چار گواہ اپنے دعوے پر نہ لاسکیں تو ایسے لوگوں کو اسی درے لگاؤ۔ اور ان کی کوئی گواہی کبھی قبول مت کرو۔ یہ بھی تہمت لگانےکی سزا کا حکم ہے اور یہ لوگ آخرت میں بھی سزا کے مستحق ہیں۔ کیونکہ فاسق ہیں۔لیکن جو لوگ اس کے بعد خدا کے سامنے توبہ کرلیں ۔کیونکہ تہمت لگانے میں انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور حق اللہ کو ضائع کیا اور جس پر تمہت لگائی گئی تھی اس سے معاف کراکر بھی حالت کی اصلاح کرلیں۔کیونکہ اس کا حق ضائع کیا تھا تو اللہ تعالیٰ ضرور مغفرت کرنے والا اور رحمت کرنیوالا ہے۔یعنی سچی توبہ سے عذابِ آخرت معاف ہوجائے گااگرچہ شہادت کا قبول نہ ہونا جو دنیاوی سزا تھی وہ باقی رہے گی کیونکہ حد شرعی کا جز ہے اور ثبوت جرم کے بعد توبہ کرنے سے حد شرعی ساقط نہیں ہوتی"۔16

اردو دائرہ معارف اسلامیہ میں بیان کیا گیا ہےکہ"کسی پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت لگانا اصطلاحِ شریعت میں ایک جرم ہے یعنی جو لوگ پاک دامن خواتین پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں اور اپنے اس جرم کی تائید میں چار گواہ نہیں پیش کرسکتے تو حکومت اسے اسی درے کی سزا دے اور عدالتوں میں اس کی شہات قبول نہ کی جائے ۔ گویا اسلامی شریعت میں قذف کی سزا (حد) اسی درے ہیں۔اس سزا کے نافذ کرنے کے مطالبے کا حق بیشتر فقہاء کے نزدیک اس شخص کا ذاتی حق ہے جس پر بہتان لگایا گیا ہے اور اسی کو یہ حق بھی دیا گیا ہے کہ وہ خود یا اس کا وارث اپنی مرضی سے اس سزا کے نفاذکو روک دے، لیکن فقہاء حنفی کے نزدیک حدود کے نفاذ کا حق حکومت کو حاصل ہے ، مطعون یا اس کا وارث مجرم کو اس سزا سے بچا نہیں سکتے۔

اگر کسی شوہر نے اپنی بیوی پر خیانت کا الزام لگایا ہو اور مقررہ قاعدے کے ماتحت اپنے الزام کو ثابت نہ کرسکا ہو تو وہ محض کلمہ لعان سے مستثنیٰ ہوسکتا ہے اس کے علاوہ یہ ممکن ہے کہ مطعون کے باپ، ماں یا اس کے نسبتاً دور کے اسلاف یا نابالغ یا جنونی افراد کو سزا کا مستوجب نہ سمجھا جائے ۔ غلام کے لئے قذف کی سزا صرف چالیس درے ہیں"۔17

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں فرماتے ہیں کہ:"و کذالک القذف معصية کبيرة وفيه الحاق عار عظيم "۔18

ترجمہ: "اسی طرح زنا کی تہمت لگانا بھی گناہِ کبیرہ ہے کیونکہ جس پر یہ تہمت لگی ہے اس کی عزت پر دھبہ لگ جاتا ہے"۔

ابراہیم آفندی کے بقول:

قاذف کے لئے ایک اور سزا یہ ہے کہ اسے ہمیشہ کے لئے مردود الشھادة قرار دے دیا جاتا ہے اس لئے کہ اس نے اپنی کذب بیانی سے نہ صرف یہ کہ ایک پاک دامن عورت یا پاک باز مرد کی عفت کو پٹہ لگانے کی کوشش کی ہے بلکہ درحقیقت اس نے ایک بہت بڑے فتنے کا دروازہ کھولا اور پورے ایک کنبے کو تباہی کے بھیانک غارمیں دھکیلنے کا سامان کیا"۔19

الرویائی کہتے ہیں کہ: " اعلم ان حد قذف المحصنة حرام وهو من الکبائر"۔20 ترجمہ: "جان لو کہ بے شک پاک دامن عورت پر قذف حرام ہے ، اورگناہِ کبیرہ میں سے ہے"۔

معارف القرآن میں ہے کہ"اگر کوئی واقعی کسی عورت کو زنا کاارتکاب کرتے دیکھ لے اور وہ گواہ نہ رکھتا ہو تو خاموش رہے۔ تاکہ معاشرہ میں فساد کی صورت پیدا نہ ہو ۔ کسی شائستہ طریقے سے زنا کاروں کو سمجھائے۔ ان کی اصلاح کی کوشش کرے ۔ اور انہیں عذابِ الٰہی سے ڈرائے ۔ وہ بھی اس طرح کہ دوسروں کو کانوں کان خبر بھی نہ ہو ۔قرآن کا قاری جانتا ہے کہ پردہ پوشی اسلامی اخلاق میں اعلیٰ قدر مانی جاتی ہے جب پردہ دری سے معاشرہ کی اصلاح ہونے کے بجائے "فساد فی الارض"کے اسباب پیدا ہونے کا احتمال ہو تو پردہ پوشی واجب ہوجاتی ہے۔ قذف کے مرتکب کے لئے صرف بدنی سزا کافی نہیں سمجھی گئی اگر یہ شخص کوڑے لگنے کے بعد دل سے توبہ کرلے اور ایسے برے اعمال کا پھر کبھی ارتکاب نہ کرے ۔ تو اسے معاشرہ کا معزز رکن مانو۔ اور اس کی بات پر اعتبار کرو۔لیکن اگر وہ اپنی اصلاح نہ کرے ۔ دل سے تائب نہ ہو بعد کو بھی چھوٹی چھوٹی نوعیت کی ناقابل گرفت باتیں کرتا رہے ۔ فضول گوئی کی عادت پر قائم رہے تو اس کی گواہی کبھی قابل اعتبار نہ سمجھی جائے ۔ اسے ایک غیر معتبر آدمی قرار دے دیا جائے"۔21

مذکورہ بالا آیت کے حوالے سے سیدابوالاعلیٰ بیان کرتے ہیں کہ"معاشرہ میں لوگوں کی آشنائیوں اور ناجائز تعلقات کے چرچے قطعی طور پر بند کردیئے جائیں ۔کیونکہ اس سے بے شمار برائیاں پھیلتی ہیں ، اوران میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ اس طرح غیر محسوس طریقے پر ایک عام زنا کارانہ ماحول بنتا چلاجاتا ہے۔ ایک شخص مزے لے کر کسی کےصحیح یا غلط گندے واقعات دوسروں کے سامنے بیان کرتا ہے، دوسرے اس میں نمک مرچ لگاکر اور لوگوں تک پہنچاتے ہیں اور ساتھ ساتھ کچھ مزید لوگوں کے متعلق بھی اپنی معلومات یا بدگمانیاں بیان کردیتے ہیں اس طرح نہ صرف یہ کہ شہوانی جذبات کی ایک عام رو چل پڑتی ہے۔بلکہ برے میلانات رکھنے والے مردوں اور عورتوں کو یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ معاشرہ میں کہاں کہاں ان کے لئے قسمت آزمائی کے مواقع موجود ہیں۔ شریعت اس چیز کا سدِ باب پہلے ہی قدم پر کردینا چاہتی ہے۔ایک طرف وہ حکم دیتی ہےکہ اگر کوئی زنا کرے اور شہادتوں سے اس کاجرم ثابت ہوجائے۔تو اسے وہ انتہائی سزا دو جو کسی اور جرم پر نہیں دی جاتی، اور دوسری طرف وہ فیصلہ کرتی ہے کہ جو شخص کسی پر زنا کا الزام لگائے وہ یا تو شہادتوں سے اپنا الزام ثابت کرے ، ورنہ اس پر اسی 80 درے (کوڑے) برسادو۔تاکہ آئندہ کبھی وہ اپنی زبان سے ایسی بات بلا ثبوت نکالنے کی جرأت نہ کرے"۔22

اس بات کو ضیاء القرآن میں کچھ اس انداز سے بیان کیا گیا ہے کہ " المحصنات سے مراد پاک دامن عورتیں ہیں۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر کسی مرد پر یہ بہتان لگایا جائے گا۔تو باز پرس نہ ہوگی بلکہ مرد اور عورت کا حکم یکساں ہے ۔یہاں فقط محصنات کا لفظ ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ۔ اس میں الزام ایک عورت پر ہی لگایا گیا تھا۔ پاک دامن مرد پر بہتان لگانے کا حکم اجماعِ امت سے ثابت ہے"۔23

کتاب الفقہ میں ہےکہ"بہتان تراش اور جس پر تہمت لگائی گئی ہووہ مرد ہو یا عورت دونوں کے لئے یکساں حکم ہے تاہم اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عورت کا ذکر جس پر تہمت لگائی گئی ہو خصوصیت کے ساتھ پہلے محصنات (بے گناہ عورتوں ) کے لفظ سے یاد فرمایا ہے۔ کیونکہ عورت کی بدکاری کا ضرراس کی اپنی ذات سے گزر کر اس کے کنبہ تک پہنچتا ہے۔ تہمت کا برا اثر عورت پر سخت شرم ناک ہوتا ہے مرد پر اتنا نہیں ہوتا ۔تہمت لگانے والوں میں مرد کے ذکر کو خصوصیت کے ساتھ مقدم فرمایا گیا ہے۔ "والذين يرمون"

( یعنی وہ مرد جو تہمت لگاتے ہیں )اس لئے کہ عام طور پر عورتوں میں شرم غالب ہوتی ہے۔لہٰذا وہ مردوں پر زنا کا الزام نہیں لگاتیں۔

احصان(محفوظ یا بے گناہ) کا لفظ شادی شدہ عورت کے لئے یا غیر شادی شدہ پاک دامن عورت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔اگر عورت شادی شدہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خاوند کے سوا تمام مردوں سے بچ کر (الگ) رہتی ہے اور اگر غیر شادی شدہ ہو تو اپنی حرمت کو تمام اشخاص سے بچاتی ہے۔

آئمہ فقہ کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر کوئی آزاد، بالغ، عاقل، مسلمان اور با اختیار شخص کسی آزاد، عاقل، بالغ، مسلمان اور بے گناہ مرد پر جسے اس سے پہلے سزائے زنا نہیں ملی یا کسی آزاد ، بالغہ، عاقلہ، مسلمان اور پاک دامن قابلِ مباشرت عورت پر جس کے ساتھ لعان نہیں ہوا اور زنا کی پاداش میں حد نہیں ماری گئی تہمت لگائے اور وہ تہمت صراحتہً ہو اور دارالحرب میں نہ ہو اور جسے تہمت لگائی گئی وہ خود حدِ قذف کا مطالبہ کرے تو اس شخص کو اسی 80 درے لگائے جائیں گے۔ بشرطیکہ وہ اپنے قول کے ثبوت میں چار معتبر گواہ نہ پیش کرسکے"۔24

مولانا حمید الرحمٰن عباسی اپنی کتاب " قرآنی خاندانی نظام کی برکات اور مغربی تہذیب کی تباہ کاریاں" میں اسی آیت کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ "اس میں صرف مردوں کے ہی نہیں بلکہ عورتوں کے الزامات بھی شامل ہیں ۔ اگر کوئی بھی مرد یا عورت پر زنا کا الزام لگائے تو الزام لگانے والا یا تو چار گواہ پیش کرے ، ورنہ اس پر شرعی حدقائم کی جائے گی، اور یہ حد تب جاری ہوگی کہ جس پر یہ الزام لگایا گیا ہے وہ عدالت میں جاکراس کے خلاف چارہ جوئی کرے۔ اس کے خلاف رپورٹ دے کہ فلاں آدمی نے مجھ پر ایسا الزام لگایا ہے۔ اس سے میری توہین ہوتی ہے اس پر حد جاری کی جائے۔کیونکہ یہ اس کا حق بھی ہے اور اللہ کا حق بھی ہے تہمت کی دنیاوی سزا یہ ہے کہ آئندہ کے لئے کسی بھی معاملہ میں اس کی شہادت قبول نہ کی جائے۔ جب تک کہ توبہ نہ کرے اور اس کی توبہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے بھی ندامت سے معافی مانگے اور جس پرتہمت لگائی ہے۔ اس سے بھی معافی مانگے"۔25

اسلام میں جہاں عورتوں کی عزت اور وقار کا احترام کیا جاتا ہے اور انہیں ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کی حیثیت سے معتبر سمجھا جاتا ہے وہاں شریف اور نیک مردوں کا بھی احترام ملحوظ رکھا گیا ہے، قذف سے مراد تہمت لگانا ہے قذف کا حکم صرف ان مردوں کے لئے ہی نہیں ہے جو پاک دامن اور شریف عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں بلکہ ان عورتوں کے لئے بھی ہے جو نیک اور شریف مردوں پر زنا کی تہمت لگاتی ہیں۔ وہ بھی قذف کی مرتکب ہوں گی اور اس حکم کے مطابق سزا پائیں گی۔ قذف کا ارتکاب کرنے کے بعد قاذف(تہمت لگانے والے) کو چار گواہ جنہوں نے اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھا ہو پیش کرنے پڑیں گےجو اس بات کی شہادت دیں گے کہ انہوں نے مقذوف (جس پر تہمت لگائی گئی) اس کو فلاں مرد یا عورت سے بالفعل زنا کرتے دیکھا ہےاور جو شخص یہ شہادت پیش نہ کرسکے جو اسے جرم ِقذف سے بری کرسکے، تو اسے سزا کے طور پر اسی 80 کوڑے مارے جائیں گے۔لیکن یہ حد اس وقت جاری ہوگی کہ جس پر تہمت کا الزام لگایا گیا ہے وہ عدالت میں جائے اور ملزم کے خلاف رپورٹ درج کرے کہ فلاں آدمی نے مجھ پر یہ الزام لگایا ہے، اسی سے میری توہین ہوئی ہے۔ اس پر حد جاری کی جائے۔ اس کا حق ہے ۔کیونکہ ناحق اس کی بے عزتی اور توہین کی گئی ہے، اسلام بلاوجہ کسی کو تکلیف اور اذیت دینا پسند نہیں کرتا۔ ایسے شخص کی دیناوی سزا یہ ہےکہ اسے اسی کوڑے مارے جائیں اور اسے گواہی (شہادت) کے حق سے بھی محروم کردیا جائے گا۔یعنی کسی بھی معاملے میں آئندہ اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی،لیکن اگر ایسا شخص توبہ کرلے اور سچے دل کے ساتھ اللہ سے معافی مانگےاور جس پر تہمت لگائی اور بلاوجہ تکلیف اوراذیت پہنچائی۔ اس سے بھی معافی مانگ لے۔تو اللہ تبارک وتعالیٰ بڑا غفورالرحیم اور معاف کرنے والا ہے۔ ایسے شخص کا عذابِ آخرت معاف ہوجائے گا لیکن دنیاوی سزا کے طور پر ایسےشخص کو گواہی (شہادت)کے حق سے محروم کردیا جائے گا۔

" حقیقت یہ ہے کہ اقسامِ جرائم میں سے کوئی جرم بجز زبان کے ایسا نہیں ہے جس کے عظیم خطرے سے انسان غافل ہو اور جس کی طرف انسانی طبیعت بڑی آسانی سے مائل ہوتی ہواور عجیب طرح کی گفتگو سے لذت اندوز ہوتا ہو اور یہ خیال کرتا ہو کہ جس کے بارے میں یہ گفتگو ہورہی ہےاس کو ان باتوں سے کوئی قابلِ ذکر نقصان نہ ہوگا۔لوگوں کو ایسی باتیں کہنے سننے کی عادت ہوجاتی ہے ان امور کے باعث انسان سہل انگار ہوجاتا ہے اور اس کو معمولی بات تصور کرنے لگتا ہے حالانکہ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے نزدیک گناہِ عظیم ہے یہی وجہ ہے کہ شریعت نے تہمت لگانے کی سزا کو بڑی اہمیت دی ہے۔

اللہ نے سزائے قذف کے جو احکام نافذ فرمائے ہیں وہ اس گناہ سے باز رکھنے اور روکنے کے لئے ہیں۔احکام انسانی شرف کے محافظ اور اسی کی عظمت وعزت کی ضمانت ہیں۔تاکہ طبائع انسانی اس مذموم گناہ کے ارتکاب سے باز رہیں۔ تمام مسلمان دوسروں کے ساتھ حسن وظن سے کام لیں ۔ بدگمانی کرنے میں جلدی نہ کریں۔ بدزبانی سے بچیں۔ادب کا پاس کریں اور بغیر علم کے عظیم تہمتیں تراشنے سے پرہیز کریں"۔26

پھر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ:

"إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ. يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ. يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللَّهُ دِينَهُمُ الْحَقَّ وَيَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِينُ ۔27

"یعنی جو لوگ بے گناہ ، بے خبر ایمان دار عورتوں پر بہتان لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت اور سخت عذاب ہے اور اس روز ان کی زبان، ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کے خلاف ان باتوں کی گواہی دیں گے جو وہ کرتے رہےہیں، اور اس روز اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی ٹھیک ٹھیک جز دےگا اور تب انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی امر حق بیان کرنے والا ہے"۔

"اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں گناہِ قذف کی قباحت اور اس کی شدت بیان فرمائی ہے اس میں ان لوگوں کی مذمت ہے جو اس میں مبتلا ہیں۔ اس کے عظیم خطرے سے آگاہ فرمایا۔ اس کا ارتکاب کرنے والے کی سزا اور اس کے برے انجام کو جتایا ہے اور اس کے بارے میں سخت وعید کی وضاحت فرمائی ہے اس سے بڑی وعید کیا ہوگی کہ وہ دنیا میں انسانوں اور فرشتوں کا ملعون اور قیامت میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت اور اس کی خوشنودی سے دور اور سخت عذاب کا مستحق ہے۔اس کے اپنے اعضاء کا اس کے خلاف گواہی دینا، اس کے رسوا کن گناہ کا ثبوت ہوگایہ اس کے خلاف آخری فیصلہ ہے گناہ سے چھٹکارے (یا بریت)کا دروازہ اس پر بند ہوجائے گا ،بعض اصحاب نے اس کے خلاف اس کے اعضاء کی گواہی کا سبب یہ بیان کیا ہے کہ دنیا میں بہتان لگانے والے سے ثبوتِ دعویٰ میں چار گواہوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے، قیامت میں اس کے اعضاء و جوارح جسم کے پانچ گواہ اس کے کذب بیانی کا ثبوت ہوں گے یعنی اس کی زبان، اس کے دو ہاتھ، اس کے دو پاؤں (اس کے خلاف گواہی دے کر اس کے لئے) موجبِ ذلت ورسوائی ہوں گے۔ اسی طرح جیساکہ اس نے بے گناہ اور بے خبر ایمان دارعورتوں کو کیا اور اس امر کے ثبوت کو کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ایسے شخص کو پوری اور ٹھیک سزا دے گا۔ لوگوں پر جھوٹا طوفان باندھنے والا۔ گو سرِ دست نہ جانے ،لیکن اس وقت جان لے گا کہ اللہ تعالیٰ بر حق ہے اور اس کی وعید (تنبیہ) سچی ہے اور یہ کہ اس کا ارشادِ حق اور واضح ہے۔ایسا شخص جو اپنی زبان یا کردار سے دوسروں کا پردہ فاش کرتا ہے۔ اس کو بھی رسوائی کا سامنا ہوتا ہے۔جو مسلمانوں کی عیب جوئی کرتا ہے ، خود اس کا بھانڈا پھوٹتا ہے، اور جب خدا ہی کسی کی پردہ دری کرے، تو وہ رسوا ہوکر ہی رہتا ہے،خواہ وہ اپنے گھر کے اندر گھس کر ہی بیٹھا رہے۔جیسا کرے گا، ویسا ہی بدلہ پائے گا۔ جیسا فعل ہوگا ویسی ہی اس کی جزا ہوگی، ایسے لوگوں کےلئے عاقبت کا عذاب نہایت سخت اور دائمی ہے"۔28

قذف احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں:

عن أبى هريرة رضی الله تعالیٰ عنه، عن النبی صلى الله عليه وسلم قال: "اجتنبوا السبع الموبقات" قالوا:يا رسول الله، وما هن ؟ قال: "الشرک بالله، والسحر، وقتل النفس التی حرم الله الا بالحق، وأکل مال اليتيم، والتولی يوم الزحف، وقذف المحصنات المومنات الغاملات۔29

"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نبی ﷺ سے روایت کرتےہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: سات ہلاک کردینے والے گناہوں سے بچو۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ ﷺ وہ کون کون سے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: (1) اللہ کے ساتھ شریک ٹہرانا، (2)جادو کرنا، (3)کسی جان کو ناحق قتل کرنا، (4) سود کھانا، (5) یتیم کا مال کھانا، (6) لڑائی کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنا، (7) بھولی بھالی مومن عورتوں پر تہمت لگانا"۔

سات گناہ ایسے ہیں جس میں سے کوئی ایک گناہ بھی کسی سے سرزد ہوجائے ۔ تو وہ اس کے لیے ہلاکت خیز گناہ ہوگا، یعنی اس کے ایمان کوخطرے میں ڈال دے گا اس لئے اس سے بچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

غلام پر ہمت لگانا:

عن أبي هريره رضي الله عنه قال: سمعت ابا القاسم صلى الله عليه وسلم يقول: "من قذف مملوکه، وهو بریءٌ مما قال، جلد يوم القيامة ،الا ان يکون کما قال"۔30

"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ابوالقاسم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا،کہ جس نے اپنے غلام پر تہمت لگائی، حالانکہ وہ اس سے پاک تھا۔ تو قیامت کے روز اس کو حد لگائی جائے گی، ہاں اگر وہ بات غلام میں پائی گئی(تو اس کو کچھ نہیں کہا جائے گا)"۔

اگر کوئی مالک اپنے غلام پر زنا کی تہمت لگادے ۔جو بے بنیاد ہو۔ چونکہ غلام کی اتنی حیثیت نہیں ہوتی، کہ وہ اپنے مالک کے خلاف جاسکے اور اس پر حدکا مقدمہ دائر کرسکے۔ اگر دنیا میں غلام کواس ذلت آمیز رویہ سے متعلق انصاف نہ مل سکے، تو رب العزت جو غفورالرحیم اور کریم ہے جو کسی کے ساتھ نا انصافی ہونے نہیں دیتا۔ جس کے نزدیک امیری غریبی، آقا غلام، کالے گورے کا کوئی فرق نہیں، اس کے نزدیک سب انسان برابر ہیں، وہ خدا روزِ قیامت گناہ گار کو تہمت کی سزا حد کی صورت میں دے گا۔

احکامِ قذف:

"حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد جھنی روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر کہا آپ ﷺکو اللہ کی قسم ہمارے درمیان کتاب اللہ کے ذریعے فیصلہ فرمادیجئے اور اس کا مقابل جو اس سے زیادہ جاننے والا تھا۔ اس نے بھی کہا ۔ جی ہاں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرمائیں۔آپ ﷺ نے فرمایا: اپنا مسلہ بیان کریں۔ تو اس شخص نے کہا ، یا رسول اللہ ﷺ میرا بیٹا ان کے ہاں ملازم تھا، اس نے اس کی عورت سے زنا کیا، اور میں نے اسے 100 بکریاں وخادم جرمانے میں دیئے۔ پھر میں نے اہلِ علم سے پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ آپ کے بیٹے کی سزا 100 کوڑے اور ایک سال جلاوطنی ہے، اور اس کی بیوی کی سزا رجم ہے۔تو نبی ﷺ نے کہا ، اللہ کی قسم میں ضرور تمہارے درمیان کتاب اللہ کے ذریعے فیصلہ کروں گا۔ بکریاں اور خادم تجھ کو لوٹائے جائیں گے اور تیرے بیٹے کی سزا 100 کوڑے اور ایک سال جلاوطنی ہے۔ اے انیس !جاؤ اس عورت سے پوچھو، اگر وہ تسلیم کرے تو اس کو رجم کردو۔ پس اس عورت نے تسلیم کیا اور اس کو رجم کردیا گیا"۔ 31

عن ابن عباس رضی الله عنهما: ان هلال بن أمية قذف امرأ ته عند النبی ﷺ بشريک بن سحماء، فقال النبی صلى الله عليه وسلم : "البنية أو حد فی ظهرک"۔ فقال:يا رسول الله، اذا رأی أحدنا علی امرأتة رجلا ، ينطلق يلتمس البينة ؟! فجعل يقول : "البينة والا حدفی ظهرک"۔ فذکر حديث اللعان۔32

"حضرت ابن عباس نے فرمایا:کہ حضرت بلال بن امیہ نے اپنی زوجہ پر تہمت لگائی کہ اس نےشریک بن سحماء کے ساتھ زنا کیا ۔ تو آپ ﷺ نے کہا : گواہ لاؤ یا آپ کی پیٹھ پر حد لگے گی۔ تو بلال نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ایک شخص اپنی عورت کے اوپر ایک آدمی کو دیکھے اور جاکر گواہ تلاش کرنے لگے ۔ آپ ﷺ نے دوبارہ کہا : گواہ لاؤ یا تمہارے پیٹھ پر حد لگے گی۔ پھر آپ ﷺ نے حدیثِ لعان کو بیان کیا"۔

اگر کسی پر زنا کی تہمت لگائی جائے تو تہمت لگانے والے کو چار گواہ جو متقی وپرہیزگار ہوں لانے پڑیں گے جو گواہی دیں گے کہ انہوں نے فلاں مرد کو فلاں عورت کے ساتھ زنا کا فعل انجام دیتے ہوئے پایا ہے۔اگر تہمت لگانے والا گواہ لانے میں ناکام ہوجائے تو پھر حد کی صورت میں اس کی پیٹھ پر کوڑے مارے جائیں گے۔

عن ابن عباس، عن النبی صلى الله عليه وسلم قال: اذاً قال الرجل للرجل: يا محنث فجلدوه عشرين ، واذا قال الرجل للرجل: يا لوطی فاجلدوه عشرين۔33

"حضرت عبداللہ ابن عباس سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب ایک آدمی دوسرے کو کہے اے مخنث(ہجڑا) تو اس کو بیس کوڑے مارے جائیں اور جب ایک آدمی دوسرے کو کہے اے قومِ لوط کا فعل انجام دینے والے ۔ اس کو بھی بیس کوڑے لگائے جائیں"۔

اسلام چونکہ پیارومحبت اور امن وسلامتی کا مذہب ہے۔ اس لئے یہ نہ صرف شرپسندی کو ہی پسند نہیں کرتا۔ بلکہ توہین آمیز کلمات کو بھی ادا کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ جس سے نہ صرف کسی کی دل آزاری ہو۔ بلکہ اسلامی فضاء بھی گرد آلودہو ۔اس لئے اسلامی قانون کے مطابق اگر نا زیبا کلمات کسی کو کہے جائیں گے تو نازیبا کلمات ادا کرنے والے کو حد کے طور پر 20 کوڑے مارے جائیں گےاور یہ اصلاح کے طور پر ہوں گے۔تاکہ آئندہ کے لئے وہ اس نوعیت کی غلطی سے محتاط ہوجائے۔

عن أبی بردة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا يجلد فوق عشر جلدات الا فی حد من حدود الله "۔ ۔34

"حضرت بردہ بن نیار فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کہ حدوداللہ میں سے کسی حد کے علاوہ کسی دوسری حد میں 10 سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں .

واضح ہو کہ حدوداللہ یعنی حد زنا ، حد سرقہ (چوری)، حدِ خمر (شراب) اور حدِ قذف (تہمت) اسلامی قوانین میں ان کی سزائیں مخصوص ہیں ۔ ان کے علاوہ اگر کسی شخص سے کسی حد کا ارتکاب ہوجائے۔ تو تنبیہ کے طور پر اسے 10 کوڑے مارے جائیں گے۔ تاکہ غلطی کرنے والے سے اس نوعیت کی خطا آئندہ کے لئے سرزد نہ ہو سکے۔

عن عائشة قالت : لمانزل عذری قام النبی ﷺ علی المنبر فذکر وتلا تعنی القرآن، فلما نزل من المنبر أ مر بالرجلين وامرأة ۔35

"حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں،کہ جب میرے بارے میں عزر کی آیت نازل ہوئی۔ تو نبی کریم ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ نے قرآن کی وہ آیات تلاوت کیں۔( سورہ نور کی آیات20 -11) پھر نبی کریم ﷺ منبر سے اترے تو آپ ﷺ نے دو مردوں اور ایک عورت کو حد لگا نے کا حکم دیا "۔

جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر تہمت لگائی گئی تو تہمت لگانے والوں میں منافقین کے دو مرد اور ایک عورت شامل تھی۔رب العزت نے خود حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی پاک دامنی کی شہادت دی اور اس سلسلے میں سورۃ النورکی آیتیں نازل ہوئیں۔ جس میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی برأت بیان کی گئی تھی۔اس کے بعد حضور ﷺ نے ان تین منافقین کو حد کی سزا دی۔

پاکستانی قانون کی رو سے حدِ قذف کا جائزہ :

یہاں بات چونکہ پاکستانی معاشرہ کی بابت کی جارہی ہے ۔ اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ معاشرتی برائیاں یہاں بھی رواج پذیر نظرآتی ہیں ۔جیساکہ جھوٹ، بہتان تراشی، بدکاری، چوری، ڈاکہ زنی، قتل وغارت گری، ناچ گانا، شراب نوشی، سود خوری وغیرہ وغیرہ۔لیکن مقالہ کی اہمیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے۔ یہاں صرف قذف کے حوالے سے بات کی جائے گی، تاکہ موجودہ معاشرہ میں قذف کی صورتِ حال پر روشنی ڈالی جاسکے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں قذف سےمتعلق نہ کوئی قانون وضع کیا گیا،اور نہ ہی کوئی سزا مقرر کی گئی۔البتہ جنرل محمد ضیاء الحق نے اپنے دورِ حکومت میں 1979 میں جو آرڈی ننس پاس کیا اس کے تحت قذف کے حوالے سے قانون سازی کی گئی۔

اس کے مطابق قذف سے مراد ایسا جھوٹا الزام ہے جسے ثابت نہ کیا جاسکے۔جو کوئی بذریعہ زبانی الفاظ یا تحریری یا بذریعہ علامات ظاہری، کسی شخص کو نقصان پہنچانے کی نیت سے اس پر زنا کی تہمت لگائے گا یا مشتہر کرے گا یہ جانتے ہوئے یا واضح وجہ کی موجودگی پر یقین رکھتے ہوئے کہ ایسی تہمت اس کی شہرت کو نقصان پہنچائے گی یا اس کے جذبات کو ٹھیس لگائے گی۔تو ایسا فعل قذف کے زمرے میں آئے گا۔جو شخص بھی قذف کے جرم کا مرتکب ہو اور اس کے خلاف تمام شرعی شواہد پائے جائیں"۔37 "تو اس کے لئے اسلامی سزا تحریر کی گئی"۔38 "یعنی 80 کوڑوں کی سزا دی جائے گی اور ایسے شخص کی کسی عدالت میں گواہی قابلِ قبول نہ ہوگی۔اگر حد قائم کرنے کے ثبوت مہیا نہ ہوسکیں تو ایسے شخص کو دو سال قید با مشقت کی سزا دی جائے گی۔چالیس کوڑے اور جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا"۔39

درج بالا قانون سازی کے بعدیہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس پر یا تو عمل در آمد نہ ہو پایا، یا پھر اس قانون سازی کا غلط استعمال کیا گیا، جس کی بناء پر اس قانون سازی سے نہ ہی استفادہ کیا جاسکا اور نہ ہی اس کی کوئی عملی شکل سامنے آسکی، اور اب صورتِ حال یہ ہے کہ بلا خوف وخطر اور بلا جھجک کسی بھی شریف انسان پر خواہ وہ مرد ہو یا عورت ذاتی بغض وکینہ کی بنیاد پر بد کاری کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ایسے لوگوں کو روکنے یا ان سے پوچھ گچھ کرنے والا کوئی نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے معاشرے میں بہتان تراشی عام ہوگئی ہے جس شخص سے ہم ذاتی بعض وکینہ یا حسد کے جذبات رکھتے ہیں بلا جھجک اس کو بدنام کرنے اور اس کی عزتِ نفس کو مجروح کرنے کی خاطر اس پر طرح طرح کے بہتان لگادیتے ہیں، جس سے نہ صرف اس بہتان تراشی کرنے والے کو دلی تسکین ملتی ہے، بلکہ اس سے معاشرے میں فریب، جھوت، حسد، بغض وکینہ اور شرم وحیا کی پامالی جیسی برائیاں جنم لے رہی ہیں۔ اس رویے سے کافی حد تک معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوا ہے، جس کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ بڑے تو بڑے، چھوٹے بچے اور بچیاں بھی بڑوں کے دیکھا دیکھی ایک دوسرے پر بہتان لگاتے نظر آتے ہیں۔ یہ وہ فکری المیہ ہے، جو انسان کے سوئے ہوئے شیطانی جذبات کو بھڑکانے کے لئے کافی ہیں، اور جو بدکاری کا ماحول فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگر اس برائی کو نہ روکا گیا تو پورا معاشرہ اس آگ کی لپیٹ میں آجائے گا۔

تعلیمی اداروں میں قذف کی صورتِ حال:

تعلیمی اداروں اور خاص طور پر یونیورسٹیز اور مخلوط تعلیمی اداروں میں دانستہ، غیر دانستہ یا مذاق وسنجیدگی میں بہتان تراشی عام نظر آتی ہے طلبہ وطالبات کی طرف سے ایک دوسرے کی کردار کشی کرنا،اور جانے بوجھے اور تحقیق کئے بغیر کسی کی عزت اچھالنا ایک رواج سا بن گیا ہے۔ مخلوط تعلیم نے جہاں ایک طرف تعلیمی سہولیات میں مدد فراہم کی ہے، وہاں دوسری طرف معاشرتی برائیوں کو بھی ایندھن فراہم کیا ہے۔اس طرح سٹاف، سامان اور اداروں کی کمی پر تو کچھ حد تک قابو پالیا گیا ۔مگر معاشرتی سطح پر اعتبار، لحاظ اور احترام جیسی خوبیوں کو خواب بنا دیا گیا۔مقالہ ہذا کے لئے راقمہ اور راقم نے طے کیا کہ وہ اپنے اپنے اداروں کےسٹوڈینٹس سے اس حوالے سے معلومات اکھٹی کریں گے۔تاکہ صورتِ حال کی حقیقی تصویر سامنے آسکے۔چنانچہ راقم کے ادارے سے حاصل شدہ سرسری معلومات کے مطابق تقریباً 60 فیصد طلبہ و طا لبات نے وضاحتاً یا اشارتا ً بہتان تراشی کی موجودگی کا اعتراف کیا۔جبکہ راقمہ کے مطابق تو وہ اس بات پر حیران ہیں کہ مخلوط تعلیمی اداروں میں طلبہ و طالبات کے درمیان بہتان تراشی کا رواج کسی حد تک تومجھ آتا ہے، حیرت انگیز بات یہ ہے کہ خواتین کے اپنے اداروں میں، خواتین کے درمیان بھی الزام تراشی عام نظر آئی۔راقمہ کے مطابق جب انہوں نے دوستانہ ماحول کے ذریعےلڑکیوں سے بہتان تراشی کے حوالے سےپوچھا تو آدھی لڑکیوں نے کہا کہ کسی کی ذات پر الزام لگانا عام ہے۔ ( اس غیر حتمی اور سرسری معلومات کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس حوالے سے ایک مستند سروے کرکے ایک تحقیقی مقالہ کی شکل میں صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے۔ انشاء اللہ بہت جلد یہ تحقیق بھی پیش کردی جائے گی)۔

رسم کاروکاری" بہتان تراشی کی پیداوارایک بھیانک رسم:

بہتان تراشی سے نہ صرف انفرادی مسائل نے جنم لیا ، بلکہ پاکستانی معاشرہ کی ایک بھیانک رسم ، کاروکاری بھی اس کی پیداوار ہے ۔ کاروکاری ہمارے مسلم قبائلی اور دیہاتی نظام میں ایک رسم کے طور پر رائج ہے ۔ اس رسم میں بدکاری/ناجائز تعلقات کا الزام لگانے کے بعد جہاں مرد اور عورت کو مختلف سزائیں دی جاتی ہیں، وہاں بالخصوص عورت کو اکثرو بیشتر قتل کردیا جاتا ہے۔ رسم کاروکاری پنجاب میں "کالا کالی" بلوچستان میں "سیہ کاری" سرحد میں "تورتورہ" کے نام سے موسوم ہے۔ رسم ہذا میں ناجائز تعلقات کا الزام لگا کر مرد اور عورت کو اکثروبیشتر قتل کردیا جاتا ہے۔ ایک وقت میں رسم ہذا کا دائرہ پاکستان کے دیہاتی، قبائلی، سرحدی اور کم تعلیم یافتہ علاقوں تک محدود تھا جبکہ آجکل بطورِ ماہنامہ"جہد حق لاہور" عزت وناموس کے نام پر قتل کا سلسلہ ان علاقوں تک بھی پھیلتا نظر آتا ہے۔ جہاں پہلے ایسی کوئی روایت موجود نہیں تھی"۔40 "جب کوئی عورت کسی غیر مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات میں ملوث پائی جائے یا اس پر ناجائز تعلقات کا الزام عائد کردیا جائےتو عورت اگر شادی شدہ ہے تو شوہر اور بیٹا اور اگر غیر شادی شدہ ہے تو باپ، بھائی اور خونی رشتہ دار اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ وہ غیرت کے دفاع میں مرد وعورت دونوں کو قتل کردیں۔ پروفیسر محمد اشرف شاھین قیصرانی کے بقول سیاہ کاری (ناجائز تعلقات) کی سزا مرد وعورت دونوں کا فوری قتل ہے اس ضمن میں کسی گواہ یا ثبوت کی ضرورت کم ہی محسوس کی جاتی ہے۔41

قرآن وحدیث کی رو سے دیکھا جائے تو قذف کی سزا 80 کوڑے اس لئے مقرر کی گئی ہے کہ جب کسی شخص کو بہتان تراشی پراسی 80 کوڑے مارے جائیں گےتو ایک تو اسے اس مار سے جسمانی تکلیف پہنچے گی اور دوسرا اس کی معاشرے میں بے عزتی ہوگی۔نیز دیکھنے والے عبرت حاصل کرکےاس قبیح فعل سے اجتناب کریں گے اور سزا یافتہ شخص دوسروں کی نظروں میں حقیر ٹہرے گا ۔ اس نوعیت کی سزا کے ڈر سے آئندہ ایسی غلطی کے سرزد ہونے سے گریز کرے گا، اور معاشرے کے دیگر افراد بھی ایسی عبرتناک اور توہین آمیز سزا دیکھ کر اس نوعیت کی غلطی سے گریز کریں گے۔ دراصل قرآن کی جو سزائے قذف ہے یہ صرف سزا نہیں بلکہ افرادِ معاشرہ کے لئے تنبیہ اور اصلاحِ معاشرہ کا ذریعہ بھی ہے۔

خلاصہٴ بحث:

اگر موجودہ معاشرہ کا جائزہ لیا جائے تو ہر طرف بد امنی اور انتشار کا دور دورہ ہے معاشرہ کے افراد گمراہی کی جانب گامزن ہیں۔ انسان کی کوئی وقعت، احترام یا عزت نہیں۔ ایک دوسرے پر بے بنیاد الزامات اور تہمتیں بلا خوف وخطر لگائے جاتے ہیں۔نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی قانون کا نفاذ۔ موجودہ معاشرہ کو اصلاح کی ضرورت ہے اور اصلاح اس صورت میں ہی ممکن ہوسکتی ہے، جب معاشرہ کے رہبران قرآن واحادیثِ نبوی ﷺ کے احکامات کو ان کی حقیقی روح کے مطابق نافذ کریں گے اور افرادِ معاشرہ ان احکامات پر صدق دل سے عمل کریں گے۔احکامِ قذف قرآن اورحدیثِ نبوی ﷺ میں موجود ہیں۔ جن پر عمل کرکے ایک پاکیزہ اور پر امن اسلامی معاشرہ کا قیام عمل میں لایا جا سکتا ہے۔

فہرست حوالہ جات:

1۔ المنجد، (ادارہ) دارالاشاعت،کراچی، مطبع دارالاشاعت، 1960،ص975۔

2۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ، لاہور، 1989، ص317، جلد 16/1۔

3۔ مختصر اردو دائرہ معارف اسلامیہ زیر اہتمام دانش گاہ پنجاب لاہور، لاہور، 2004، ص645، جلد دوم۔

4۔ عبدالرحمن الجزیری، مترجم منظور احسن عباسی، کتاب الفقہ، لاہور، علماء اکیڈمی، 2006،

ص260، جز پنجم۔

5۔ ایضاً، ص252۔

6۔ تاج العروس من جواہرالقاموس، 5/410۔

7۔ نیل الاوطار شرح منتقی الاخبار، 7/92۔

8۔اسلامی قانون فوجداری، کتاب الاختیار، ص1۔

9۔ قوانین وحدود تعزیرات، ص11۔

10۔ التعزیر فی الشریعتہ الاسلامیہ، 2/17، 18۔

11۔معارف القرآن، 6/341،342 ۔

12۔قصاص ودیت، ص 78۔

13۔ المبسوط، 9/36۔

14۔ کشاف اصطلاحات الفنون، 2/260۔

15۔ القرآن، 24: 4۔5۔

16۔ مفتی محمد شفیع، معارف القرآن، کراچی، ادارہ معارف، 1982، ص 341، جلد ششم۔

17۔ مختصر اردو دائرہ معارف اسلامیہ زیر اہتمام دانش گاہ پنجاب لاہور، محولہ بالا، ص645، جلد دوم۔

18۔ تفہیم القرآن، 3/347۔

19۔حجۃ اللہ البالغہ، 2/161۔

20۔ اسرار الشریعۃ الاسلامیہ، ص255۔

21۔ حمید نسیم، تعارف الفرقان ، کراچی، فضلی سنز، 1994، ص106، جلد چہارم۔

22۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی، تفہیم القرآن، لاہور، ترجمان القرآن، 1979، ص347 اور352، جلد سوم۔

23۔ پیر محمد کرم شاہ، ضیاء القرآن، کراچی، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، 1399ھ، ص293، جلد سوم۔

24۔ عبدالرحمن الجزیری، مترجم منظور احسن عباسی، کتاب الفقہ،محولہ بالا، ص 261، جز پنجم۔

25۔ حمیدالرحمان عباسی، قعرآنی خاندانی نظام کی برکات اورمغربی تہذیب کی تباہ کاریاں، لاہور، مکی دالکتب، س ن، ص264۔265۔

26۔عبدالرحمن الجزیری، مترجم منظور احسن عباسی، کتاب الفقہ،محولہ بالا، ص253، جز پنجم۔

27۔ القرآن، 24: 23۔25۔

28۔ عبدالرحمن الجزیری، مترجم منظور احسن عباسی، کتاب الفقہ،محولہ بالا، ص 254۔255، جلد

پنجم۔

29۔ بخاری، محمد بن اسماعیل،صحیح البخاری، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، 2004، ص 1244۔

30۔ ایضاً۔

31۔ ایضاً۔

32۔ ایضاً، ص486۔

33۔ ابنِ ماجہ، عبداللہ محمد بن یزید، سنن ابن ماجہ، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، 2004، ص 414۔

34۔ ترمذی، محمد بن عیسیٰ، سنن ترمذی، ، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، 2006، ص 375۔

35۔ السجستانی، ابوداؤدسلیمان بن الاشعث، سنن ابی داؤد، ، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، 2005 ، ص

704۔

36۔ ایضاً۔

37۔ داکٹر ایم ۔اے ۔ رزاق،پاکستان کا نظامِ حکومت اور سیاست، کراچی، مکتبہ فریدی، 1987، ص741۔

38۔ ایضاً۔

39۔ زاہد حسین انجم، تاریخِ پاکستان، لاہور نیو بک پیلس، س ن، ص339۔

40۔ ماہنامہ، جہد حق، ندیم فاضل، پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق، ایوان جمہور، ٹیپو بلاک نیو گارڈن ٹاؤن، لاہور، ص14۔

41۔ قیصرانی، محمد اشرف شاہین، بلوچستان تاریخ اور مذہب، ادارہ تدریس، کوئٹہ، 1994، ص38۔