حروف مقطعات کے حوالے سے مستشرق نولڈ یکے اور آٹو لوتھ کی آراء کا تجزیاتی مطالعہ

From Asian Research Index - Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ الملل: مجلہ برائے ادیان و افکار
عنوان حروف مقطعات کے حوالے سے مستشرق نولڈ یکے اور آٹو لوتھ کی آراء کا تجزیاتی مطالعہ
انگریزی عنوان
An Analytical Study of Nodleke and Atto Loth’s Thoughts about Mystical Letters
مصنف رابعہ، سمیرا، سیدہ سعدیہ
جلد 2
شمارہ 2
سال 2020
صفحات 312-334
ڈی او آئی
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
interfaith harmony, present era, divine books, religious personalities, peace
شکاگو 16 رابعہ، سمیرا، سیدہ سعدیہ۔ "حروف مقطعات کے حوالے سے مستشرق نولڈ یکے اور آٹو لوتھ کی آراء کا تجزیاتی مطالعہ۔" الملل: مجلہ برائے ادیان و افکار 2, شمارہ۔ 2 (2020)۔
Activities of Islamic Sharī’ah Council and Muslim Arbitration Tribunal to Apply Islamic Law in England and Wales
Nigerian Politics and Politics in Nigeria: A Contemplation of Islamic Political Thought in Nigeria
The Issue of Human Cloning: A Review in Semitic Religions’ Context
The Women Activism in Pakistan: An Analysis of ‘Aurat March
Emerging Trends of Ethics in Higher Educational Institutions: An Analysis of Universities Students’ Perception in Islamic Context
The Role of Money in Capitalistic and Islamic Economic Systems: A Comparative Study
Discrimination against Religious Minorities in Nigeria: An Analysis with Reference to Human Development in the 21st Century
Aristotle’s Virtue of Justice as an Ethical Solution to Political Corruption: Analysis and Reflection
Islāmic Perspective of Inter-Religious Dialogue: A Study of Faith Based Reconciliation
حديث "أُمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا..": دراسة في حرية الاعتقاد والفعل
حقوق الإنسان المدنية من خلال وثيقة المدينة: دراسة مقارنة بالمواثيق الدولية
أفكار أرنولد توينبي عن الحضارة الإسلامية ومدى تأثره برؤية ابن خلدون: دراسة وصفية و تحليلية
مستشرقین کے مصحفِ عثمانی پر شبہات کا تنقیدی مطالعہ: علامہ شمس الحق افغانیؒ کے افکار کی روشنی میں
سامی ادیان میں جانوروں کی حلت و حرمت کےمتعلق احکامات کا تجزیاتی مطالعہ
غیر مسلموں کے حقوق  اور انسانی جان کی حرمت : عہدِ نبویﷺ و خلفائے راشدین کی روشنی میں
حروف مقطعات کے حوالے سے مستشرق نولڈ یکے اور آٹو لوتھ کی آراء کا تجزیاتی مطالعہ

Abstract

حروف مقطعات کے حوالے سے مستشرق نولڈ یکے اور آٹو لوتھ کی آراء کا تجزیاتی مطالعہ Mystical letters are among the miracles of Quran. These mystical letters are present at the start of Quranic Surah’s (Chapters). These are among the mutashabihat (Analogies) of Quran. Muslim scholars tried to define their meanings. Like other aspects of Quran and Hadith orientalists talk about mystical letters of the Quran. This article analyses the theories of Noldeke and Otto Loth regarding mysterious letters of Quran. What are their views about mystical letters of the Quran? Are their views according to the Islamic point of view of mystical letters? What are the deviations and differences as compared to traditional Islamic point of view of mystical letters? This research has been analytical by nature, both qualitative and analytical methods have been implemented.  Analyses of the views of both of the scholars in the light of traditional Islamic concept of mystical letters, shows that Orientalists including Noldeke and Otto Loth thought that mystical letters are not the part of revelation. According to them these are the names of the sources from which different chapters of the Quran had been taken during its compilation. These are on the same pattern as mystical letters are present in the Jewish books. Holy Prophet had copied them. The present study argues that Quran being the book of Lord is unchanged and mystical letters are a part of it. It is further highlighted that even some orientalists argue that the opinion of Noldeke and Otto Loth is not correct.

تعارف

قرآن مجید جس کا نزول خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺپر ہوا۔ یہ مقدس کتاب ہر لحاظ سے سراپا اعجاز ہے ۔اس کا ہر پہلو پڑھنے والے کو مسحور کردیتا ہے ۔اس لیے جب سے اس کا نزول ہوا اسی وقت سے اس نے نوع انسانی کے ہر طبقہ کے ذہین اور سنجیدہ افراد کو اپنی طرف متو جہ کیے رکھا ہے ۔حروف مقطعات کا شمار بھی قرآن مجید کے اعجازات میں ہوتا ہے۔ قراآن پاک کی انتیس سور توں کے آغاز میں کچھ مخصوص الفاظ استعمال ہوتے ہیں ۔ان حروف کو ملا کر لکھا جاتا ہے ،لیکن پڑھا الگ الگ جاتا ہے۔ انہیں حروف مقطعات کہا جاتا ہے ۔جمہور صحابہ و تابعین اور علماء امت کے نزدیک راجح قول یہی ہے کہ ان کے معنی اللہ تعالی ہی جانتا ہے۔ انتیس سو رتوں کے آغاز میں جو حروف استعمال ہوئے ہیں ان میں سے تکرار کو ختم کریں تو ان حروف کی تعداد چودہ رہ جاتی ہے ۔

اسلام کے متبعین جہاں اسلامی تعلیمات کی حفاظت کرتے ر ہےہیں وہاں متعصبین اور منکرین دین اسلامی تعلیمات کی من مانی تاویلات اور تو جیحات پیش کرکے دین حق کی راہ مسدود کرنے کی سعی لا حاصل کرتے رہے ہیں ۔ مستشرقین جس طرح قرآن مجید کے دیگر پہلوؤں کو اپنی تحقیق اور پھر اس کے بعد بے جا اعتراضات کا نشانہ بناتے رہے ہیں اسی طرح قرآن پاک کی سورتوں کے آغاز میں موجود حروف مقطعات بھی ان کی تنقید سے محفوظ نہیں رہ پائے۔ انھوں نے حروف مقطعات کے حوالے سے من چاہے اور بے بنیاد نظریات پیش کیے۔ جس پر نہ صرف وہ خود اختلافات کا شکار ہوئے بلکہ کسی نتیجے پر بھی نہیں پہنچ پائے۔ حروف مقطعات پر جن مستشرقین نے کام کیا ان میں نولڈ یکے اور آٹو لوتھ بھی شامل ہیں۔ بلکہ ان دونوں کو ایسے مستشرقین میں شمار کیا جاتا ہے جنھوں نے سب سے پہلے حروف مقطعات کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا۔ بعد کے مستشرقین جنھوں نے حروف مقطعات کو موضوع بحث بنایا ان کے نقطہ نظر سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔

مستشرقین کی حروف مقطعات کے حوالے سے پیش کردہ آراء قرآن مجید کے حوالے سے شکوک و شبہات کے پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ یہ قرآن کی حقانیت اور الہامیت کی نفی کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔مستشرقین کی حروف مقطعات کے بارے میں آراء کے مطالعہ سے قرآن مجید کے منزل من اللہ ہونے پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔لہذا ان آراء کا جائزہ لینا اور ان کا تجزیاتی مطالعہ کرنا تحقیقی لحاظ سے سودمند ثابت ہوگا۔ اس تحقیقی مقالہ میں مستشرقین میں سے دو اہم مستشرق جنھوں نے حروف مقطعات کے حوالے سے اپنے موقف کا اظہار کیا ان کے نقطہ نظر کا جائزہ لیا گیا ہے۔اس تجزیاتی مطالعہ کے نتیجہ میں نہ صرف حروف مقطعات کے اسلامی نقطہ نظر تک رسائی حاصل کرنے اور اس کی حقیقت کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے بلکہ نولڈیکے اور آٹو لوتھ کی آراء کے تجزیاتی مطالعہ کے بعد ان میں پائے جانے والے غلط تصورات کی بھی نشاندہی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

سابقہ تحقیقی کام کا جائزہ

حروف مقطعات آغاز ہی سے مفسرین اور محققین کی دلچسپی کا موضوع رہے ہیں۔ مفسرین نے اپنی تفاسیر میں ان پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ابو اسحاق الثعلبی (427ھ) کی تفسیر " الکشف والبیان ،" [1]فخر الدین رازی (606ھ) کی "تفسیر الکبیر،" [2]علامہ بیضاوی (791ھ)کی تفسیر " انوار التنزیل واسرار التاویل " [3]،اور سید محمود بن عبداللہ آلوسی (1270ھ)اپنی تفسیر " روح المعانی " [4]میں حروف مقطعات کے حوالے سے اسلامی نقطہ نظر پیش کرتے ہیں۔ مسلم اسکالرز نے ان پر باقاعدہ کتب اور تحقیقی مقالہ جات بھی تحریر کیے ہیں۔ عربی زبان میں اس موضوع پر تحریر کی جانے والی کتب اور مقالہ جات میں فضل عباس صالح کا مقالہ " الحروف المقطعہ فی اوائل السور،"[5] ابتھال مہندی التمیمی کا مقالہ " ترجمۃ الحروف المقطعۃ فی القرآن الحکیم الی اللغۃ الانکلیزیۃ ،"[6] علی بو صخر کی کتاب " اسرار الحروف والاعداد،" [7]شامل ہیں۔ اردو میں لکھی جانے والی کتب میں طاہر القادری کی " حروف مقطعات کا قرآنی فلسفہ"[8] اور تحقیقی مقالہ جات میں الطاف علی قریشی کا " قرآن مجید کے حروف مقطعات،" [9]ثاقب اکبر کا " حروف مقطعات مختلف آراء کا تجزیاتی مطالعہ" [10]اور نجمہ بانو کا " الحروف المقطعات ومعانیھا" [11]شامل ہیں۔اسی طرح مستشرقین نے قرآن اور حدیث پر جو اعتراضات کیے ہیں ان کا تجزیاتی مطالعہ کیا جا چکا ہے۔حافظ محمود اختر کی کتاب" حفاظت قرآن مجید اور مستشرقین"[12] خصوصا قرآن مجید کی تدوین کولے کر مستشرقین کے نقطہ نظر کے تحقیقی مطالعہ پر مبنی ہے۔جہاں تک مستشرقین خصوصا نولڈیکے اور آٹو لوتھ کے حروف مقطعات پر کیے گئے کام کی بات ہے تو اس حوالے سے کچھ مقالہ جات موجود ہیں جنھیں مستشرقین نے ہی تحریر کیا ہو ا ہے مثلا آرتھر جیفری کا تحریر کردہ مقالہ " The Mystic Letters of the Kuran"[13]اور سیچل اسمتھ کا [14]“The Mystery Letters of the Quran”لیکن حروف مقطعات پر مستشرقین کے نقطہ نظر کا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جائزہ لینے کے حوالے سے تحقیق کی گنجائش باقی تھی۔آٹو لوتھ اور نولڈیکے کے ساتھ ساتھ دیگر مستشرقین جنھوں نے حروف مقطعات پر کلام کیا ہے اس کو بنیاد بنا کر کوئی تحقیقی مقالہ یا کتاب ابھی تک تحریر نہیں ہوئی ہے۔ لہذا اس موضوع کو مقالہ ہذا میں تحقیق کی بنیاد بنایا گیا ہے۔ تاکہ مستشرقین کے نقطہ نظر کا تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ کیا جا سکے۔

منہج تحقیق

اس تحقیقی مقالہ میں تجزیاتی اور تنقیدی منہج تحقیق کو اختیار کیا گیا ہے۔ نولڈیکے اور آٹو لوتھ کی حروف مقطعات کے حوالے سے پیش کردہ آراء کا نہ صرف حروف مقطعات کے بارے میں موجود روایتی اسلامی تصور کی روشنی میں تجزیہ کیا گیا ہے بلکہ تاریخی حقائق کو بھی دلائل کی بنیاد بنا کر ان کے نظریات کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ آٹو لوتھ اور نولڈیکے کی آراء کی بنیاد ان کی تصنیف کردہ کتب کو بنایا گیا ہے۔ ان کی آراء کا تجزیہ قرآن، حدیث اور سیرت کے بنیادی ماخذ کی روشنی میں کیا گیاہے۔مزید براں ان کے نقطہ نظر کی علمی و تحقیقی خامیوں اور کمزوری کو واضح کرنے کی غرض سے دیگر مستشرقین کی حروف مقطعات اور ان دونوں کی آراء کو بنیاد بنا کر پیش کیے جانے والے تبصروں کو بھی اپنی تحقیق کی بنیاد بنا یا ہے۔

حروف مقطعات کے بارے میں نولڈیکے[15]Theodor Noldeke( 1836 – 1930) کی آراء

نولڈ یکے کا قرآنی حروف مقطعات کے حوالے سے ابتداء میں موقف یہ تھا کہ ہم ان حروف مقطعات کی اصلی غایت اور حقیقت کو نہیں پا سکتے اور انھوں نے اس پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان حروف کی حقیقت تک پہنچنے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی ہے کیونکہ حروف مقطعات کا تعلق قرآن مجید کی تدوین کے ساتھ ہے۔اس حوالے سے کچھ بھی کہنا دراصل قرآن کی تدوین پر بات کرنا ہے اور اس کوشش کے بعد ہم جس بھی نتیجے پر پہنچیں گے اس سے قرآن کی تدوین کے حوالے سے ہمارے نقطہ نظر پر ضرور اثر پڑے گا۔ان کا یہ بھی ماننا تھا کہ ان حروف کی ابتداء نبی کریم ﷺ سے نہیں ہوئی ہے۔یہ حروف آپ کے دور میں موجود نہیں تھے۔کیونکہ آپ ﷺ سے ہم اس بات کی توقع نہیں رکھ سکتے کہ وہ جس کتاب کے الہامی ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور اسے کلام الہٰی قرار دیتے ہیں جو کہ سب کے لیے ہے تو وہ اس میں کچھ ایسے حروف کا اضافہ کر دیں جن کا مفہوم واضح نہ ہو اور وہ لوگوں کے لیے ایک معمہ بنے رہیں۔[16] وہ لکھتے ہیں :

It has not been possible to find definite facts about the meaning of the logograms, particularly as this would have undoubtedly led to important conclusions regarding the composition of the Koran. They do not originate from Muhammad at all because it would indeed be strange if he had put such unintelligible signs in front of his revelation which, after all, were intended for everyone.[17]

ان علامات کی یقینی حقیقت جاننا ممکن نہیں ہے، خاص طور پر تب جب کہ یہ یقینی طور پر قرآن کی تدوین کے حوالے سے اہم نتائج تک لے جائیں۔کسی بھی طور پر ان کا آغاز محمد ﷺ سے نہیں ہوا تھا کیونکہ یہ بہت عجیب ہوتا اگر وہ ایسی ادراک سے باہر علامات کو وحی کی ابتداء میں رکھ دیتے ، جو کہ بہرحال سب کے لیے تھی۔

نولڈیکے کا یہ ماننا تھا کہ یہ حروف یا حروف کے مجموعے دراصل ان لوگوں کے ناموں کی علامات ہیں جن سے قرآن کے متن کو حاصل کیا گیا تھا۔جب حضرت زید بن ثابت قرآن مجید کو کتابی شکل دے رہے تھے تو جن لوگو ں سے انھوں نے قرآن مجید کے متن کو حاصل کیا تھا یہ دراصل انہی لوگوں کے نام ہیں۔وہ انھیں ان لوگوں کے ناموں کا اختصار قرار دیتے ہیں جو زید بن ثابت کے ترتیب دیے گئے قرآنی نسخے کے متن کا ماخذ بنے۔وہ لکھتے ہیں:

They represent letters and clusters of letters, probably marks of possession, originating from the owners of the koranic copies which were used in the first collection of Zayd b. Thabit and which found their way in to the final version of the Koran by mere carelessness.[18]

یہ حروف اور حروف کے مجموعے شاید ملکیت کی علامات ہیں،جن کا آغاز قرآن کی نقول کے مالک ان لوگوں سے ہوا جن کو زید بن ثابت نے قرآن کی پہلی دفعہ تدوین کے دوران استعمال کیا اور جن کو پھر بعد میں محض لاپرواہی کی بنیاد پر قرآن کے حتمی طور پر تشکیل پانے والے نسخہ میں شامل کر لیا گیا۔

اپنی بات کی تصدیق کے طور پر وہ مثال پیش کرتے ہیں کہ ان سورتوں کو دیکھ لیا جائے جن کا آغاز حروف مقطعات میں سے "حم" سے ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں حروف "حم" سے شروع ہونے والی سورتوں کی ایک پوری لڑی موجود ہے۔یہ سورتیں اگرچہ مختلف ادوار میں نازل ہوئیں مگر ان سب کی ابتداء میں "حم " کی موجودگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ تمام سورتیں دراصل ایک ایسے ماخذ سے حاصل کی گئی ہیں جہاں وہ بالکل اسی طرح موجود تھیں۔چونکہ یہ تمام سورتیں ایک ہی ماخذ سے حاصل کی گئیں لہذا ان سب کی ابتداء میں یہ علامت بطور نشانی درج کر دی گئی ہے۔ اسی طرح وہ سمجھتے ہیں کہ اس بات کو بھی خارج ازامکان قرار نہیں دیا جا سکتا کہ یہ محض علامات ہوں جو کہ ان سورتوں کے ماخذوں کو ظاہر کرتی ہوں۔[19] اسی طرح نولڈیکے نے حروف مقطعات سے ان ماخذوں کے نام بھی اخذ کرنے کی کوشش کی جن سے ممکنہ طورپر ان سورتوں کو حاصل کیا گیاہو گا ۔وہ سمجھتے ہیں کہ "الر" سے مراد ہے الزبیر، "المر" سے مراد ہے المغیرہ، "طہ" سے مراد ہے طلحہ یا طلحہ بن عبیداللہ، "حم" سے مراد ہے عبدالرحمن، "کھیعص" میں وسط میں پایا جاتا والے حرف "بن " کو ظاہر کرتا ہے جب کہ باقی کے حروف "العاص " کو ظاہر کرتے ہیں۔[20]

بعد میں نولڈیکے نے اپنے نقطہ نظر کو تبدیل کر لیا ایسا انھوں نے آٹو لوتھ(Otto Loth) کے نولڈیکےکے نقطہ نظر کے خلاف دلائل اور دیگر کچھ عوامل سے متاثر ہو کر کیا اور انھوں نے اس بات کا اقرار کیا کہ حروف مقطعات کو بعد میں قرآن میں شامل نہیں کیا گیا ۔یہ دراصل حضرت محمد ﷺ کے دور سے ہی متن کا حصہ تھے۔لہذا یہ ان ماخذوں کے نام نہیں تھے جن سے قرآن مجید کو اس کے نسخہ کی تیاری کے دوران حاصل کیا گیا بلکہ درحقیقت حروف مقطعات سمجھ میں نہ آنے والے اور روحانی اہمیت کے حامل وہ اشارے ہیں جو حضرت محمد ﷺ اس لیے چاہتے تھے کہ ان کی موجودگی کی وجہ سے قرآن مجید کے متن کا تعلق اس اصل الہامی کتاب سے جوڑا جا سکے جو کہ اوپر آسمانوں پر خالق کائنات کے پاس موجود ہے۔ پس حروف مقطعات وہ روحانی اشارات ہیں جو قرآن کا تعلق اس بنیادی ماخذا ور کتاب کے ساتھ ظاہر کرتے ہیں جو کہ جنت میں موجود ہے۔ا ن کے نزدیک یہ طریقہ بہت کارگر ثابت ہو سکتا تھا یہ ظاہر کرنے کے لیے یہ کہ کتاب کوئی مافوق الفطرت شے ہے۔کیونکہ عرب لوگ جو لکھنے پڑھنے کی طرف زیادہ راغب نہیں تھے اور ان پڑھ لوگ تھے پھر محمد ﷺ جن کے لیے لکھنا ایک مافوق الفطرت چیز تھی تو ایسی صورت میں حروف مقطعات کو صورت میں سادہ حروف تہجی ان پر خاصا اثر ڈال سکتے تھے اور یوں لگتا ہو گا جیسے کہ یہ حروف تہجی دراصل غیبی اور روحانی اشارے ہیں۔[21] کیونکہ وہ لوگ جن کے پاس لکھنے پڑھنے کا زیادہ علم نہیں تھا ایسے لوگوں کے لئے یہ حروف تہجی ایک مافوق الفطرت شے ہی تھے اور بہت زیادہ اہمیت کے حامل بھی بہ نسبت ہمارے جیسے لوگوں کے جن کے لیے یہ کوئی ایسی عجیب شے نہیں ہیں کیونکہ بچپن سے ہی ہمارا واسطہ ایسے حروف سے پڑتا رہتا ہے اور ہم اس فن کا استعمال شروع کر چکے ہوئے ہیں۔[22]

الغرض نولڈیکے کا حروف مقطعات کے بارے میں نقطہ نظر ابتداء میں کچھ اور تھا بعد میں اس میں تبدیلی واقع ہوئی۔ آغاز میں وہ اسے قران مجید کا حصہ ہی تصور نہیں کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ ان لوگوں کے ناموں کا اختصار ہیں جن سے ان سورتوں کو لے کر مصحف کا حصہ بنایا گیا ۔ لیکن بعد میں انھوں نے اپنی رائے کو تبدیل کیا اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ حروف مقطعات نبی کریمﷺ کے دور ہی سے قرآن کا حصہ تھے اور اسے آپؐ نے خود قرآن کا حصہ بنایا تھا اس کے پیچھے ان کا مقصد عرب کے ان پڑھ لوگوں کو ان عجیب و غریب الفاظ سے متاثر کرنا تھا۔

حروف مقطعات کے بارے میں آٹو لوتھ [23]کی رائےOtto Loth( 1844- 1881)

آٹو لوتھ نے حروف مقطعات کے حوالے سے جو نقطہ نظر پیش کیا اس کے مطابق حروف مقطعات کا تعلق براہ راست حضرت محمد ﷺ سے ہے۔ ان کو بعد میں قرآن کے اندر شامل نہیں کیا گیا ۔انھوں نے نولڈیکے کے ابتدائی نقطہ نظر کو تنقید کا نشانہ بنایا۔نولڈیکے جن کا یہ ماننا تھا کہ حروف مقطعات دراصل ان ماخذوں کے ناموں کا اختصار ہیں جن سے حضرت زید بن ثابت نے قرآن پاک کی مختلف سورتوں کے متن کو حاصل کیا تھا۔اس کے برعکس ان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ یہ نبی کریم ﷺ کے دور ہی سے قرآن کا حصہ ہیں ۔حروف مقطعات کو نبی کریم ﷺ نے خود قرآن میں شامل کیا تھا۔وہ اس بات کو عقل و سمجھ سے بالاتر قرار دیتے ہیں کہ قرآن کے متن کی تدوین کرنے والے اسے یکجا کرنے والے ان لوگوں کے ناموں کو بھی قرآن کے متن کا حصہ بنا دیں جن سے اس متن کی نقول کو حاصل کیا گیا ۔بلکہ حضرت محمد ﷺ کا رجحان شروع ہی سے ایسے عوامل کی طرف تھا جنھیں ہم حیرت انگیز یا مافوق الفطرت قرار دے سکتے ہیں اور ان کی اسی عادت نے انھیں اس بات پر مجبور کیا کہ وہ ایسے عجیب و غریب اور حیرت انگیز نشانات کو قرآن مجید کے متن میں شامل کریں۔[24]وہ لکھتے ہیں:

It remains incomprehensible how the editors of the Koran could include the private notes of the former owners in the Holy book. On the other hand, the argument that Muhammad’s inclination for the wonderful and the obscure led him personally to device such signs would not seem to be strange.[25]

یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ قرآ ن کے متن کی اشاعت کرنے والے اس الہامی کتاب کے اند ر جن سے متن کو حاصل کیا گیا ان کے ذاتی نشانات/علامات کو شامل کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف یہ بات عجیب محسوس نہیں ہوتی کہ حضرت محمد ﷺ کاحیرت انگیز اور غیر واضح عوامل کی طرف رجحان انھیں اس طرف لے گیا کہ وہ ایسے علامتوں کی اختراع کریں۔

ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ قرآن مجید میں حروف مقطعات کی شکل میں ان مخفی مفہوم کی حامل علامات کی موجودگی دراصل نبی کریم ﷺ پر پائے جانے والے یہودی اثرات کی وجہ سے تھی۔جو اس وقت مرتب ہوئے جب آپ کا یہودیوں کے ساتھ واسطہ پڑا اور مدینہ منورہ میں پھر آپ کو ان کے ساتھ ایک ہی شہر میں رہنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ حروف مقطعات جن سورتوں کے آغاز میں موجود ہیں وہ یا تو وہ سورتیں ہیں جن کا نزول مکی دور کے اختتام کے قریب ہوا یا پھر وہ مدنی دور میں نازل ہوئیں۔آٹو لوتھ حروف مقطعات کو علم قبالہ کی ایک شکل قرار دیتے ہیں۔اسی بات کو بیان کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

“Since all the relevant suras belong to the late Maccan or early Medinan period, when Muhammad was approaching Judaism, the letters might be kabbalistic figures.”[26]

چونکہ تمام متعلقہ سورتیں یا تو مکی دور کے اخیر میں نازل ہوئیں یا پھر مدنی دور میں جب محمد ﷺ کا یہودیوں سے واسطہ پڑا اس لیے یہ حروف علم قبالہ کے اعداد ہو سکتے ہیں۔

آٹو لوتھ کے نزدیک حروف مقطعات اسلیے بھی علم قبالہ کے اعداد ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کی ساخت ان پراسرار اعداد اور علامتوں سے بہت زیادہ ملتی ہے جو کہ یہودیوں کے ہاں رائج ہیں ۔اسی طرح لوتھ کا یہ بھی ماننا ہے کہ جن سورتوں کے آغاز میں یہ حروف آئے ہیں ان سورتوں کا راز انہی حروف کے اندر موجود ہے۔وہ اپنی تحقیق کو حروف مقطعات کے حوالے سے کی جانے والی تحقیقات میں سے مفید ترین قرار دیتے ہیں۔[27]

الغرض آٹو لوتھ کے خیال میں حروف مقطعات کو بعد میں دور صحابہ میں قرآن مجید کا حصہ نہیں بنایا گیا۔یہ نبی کریم ﷺ کے دور ہی سے قرآن کا حصہ تھے۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ چونکہ حضرت محمد ﷺ کا رجحان شروع سے ہی مافوق الفطرت عوامل کی جانب تھا لہذا مدینہ ہجرت کرنے کے بعد یہودیوں سے متاثر ہو کر علم قبالہ[28]کی طرز پر چند عجیب الفاظ کو آپ نے قرآن کے متن کا حصہ بنا دیا ۔تاکہ لو گ ان کے اسرار کی وجہ سے قرآن کی جانب متوجہ ہوں۔

حروف مقطعات کی قرآنیت تاریخی شواہد کی روشنی میں

نولڈیکے اور آٹولوتھ کے مطابق حروف مقطعات وحی الہٰی کا حصہ نہیں ہیں ان کو بعد میں قرآن کے متن میں شامل کیا گیا ہے لیکن مستشرقین کے تمام دعووں کے برعکس اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حروف مقطعات دراصل قرآن کے متن کا ہی حصہ ہیں۔لاتعداد ایسے ثبوت اور شواہد موجود ہیں جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ قرآن کا متن نہ تو نبی کریم ﷺ کا تیار کردہ تھا اور نہ ہی یہود و نصاری کی کتابوں سے چرایا ہوا۔ یہ حروف وحی الہٰی کا حصہ تھے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ پر قرآن مجید کی صورت میں نازل فرمایا تھا۔قرآن پاک میں متعدد جگہوں پر ا س بات کا اقرار اور اشارہ موجود ہے کہ یہ کلام اللہ کا نازل کردہ ہے ۔مستشرقین کی ان قیاس آرائیوں کے برعکس قرآن مجید نے اپنے کلام الہی ہونے پر کھلے حقائق پیش کیے ہیں اور لوگوں کو خود فیصلہ کرنے کو کہا ہے کہ حقائق سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ قرآناللہ کا کلا م ہے۔جیسا کہ سورۃ یونس کی آیت نمبر 16 میں فرمایا گیا ہے ۔

قُلْ لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلَا أَدْرَاكُمْ بِهِ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ[29]

ترجمہ: " کہہ دے اگر اللہ چاہتا تو میں اسے تم پر نہ پڑھتا اور نہ وہ تمھیں اس کی خبر دیتا، پس بےشک میں تم میں اس سے پہلے ایک عمر رہ چکا ہوں، تو کیا تم نہیں سمجھتے؟"

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر اس کے نزول کو اپنا فضل قرار دیا ہے۔ یہ کلام کسی انسان کا تخلیق کردہ نہیں ہے اسے رسول خدا ﷺ نے خود سے نہیں گھڑا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے روح القدس کے ذریعے نازل فرمایا ہے۔سور ۃ النحل کی آیت نمبر 101 سے 103 تک اسی مضمون کا بیان ہے :

وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً مَكَانَ آيَةٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُوا إِنَّمَا أَنْتَ مُفْتَرٍ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ۔ قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِنْ رَبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذِينَ آمَنُوا وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ۔وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ لِسَانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ وَهَذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُبِينٌ۔[30]

ترجمہ:" جب ہم کوئی آیت کسی دوسری آیت کی جگہ بدل کر لاتے ہیں اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے جو وہ نازل کرتا ہے، تو وہ کہتے ہیں تو تو گھڑ کر لانے والا ہے، بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے۔ کہہ دے اسے روح القدس نے تیرے رب کی طرف سے حق کے ساتھ تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے، تاکہ ان لوگوں کو ثابت قدم رکھے جو ایمان لائے اور فرماں برداروں کے لیے ہدایت اور خوش خبری ہو۔ اور بلاشبہ یقینا ہم جانتے ہیں کہ بےشک وہ کہتے ہیں اسے تو ایک آدمی ہی سکھاتا ہے، اس شخص کی زبان، جس کی طرف وہ غلط نسبت کر رہے ہیں، عجمی ہے اور یہ واضح عربی زبان ہے۔"

جیسے اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ قرآن مجید اور حروف مقطعات وحی الہٰی کا حصہ ہیں جو نبی کریم ﷺ پر نازل ہوتی رہی اسی طرح اس با ت کے واضح اور ناقابل تردید دلائل موجود ہیں کہ قرآن پاک کا متن ہر قسم کی تحریف سے محفوظ رہا ہے نزول وحی کے فورا بعد اسے لکھ لیا جاتا تھا۔حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ پر نزول وحی کی کیفیت طاری ہو گئی ۔آپ ؐ کی ران میری ران پر تھی میں نے آپ ﷺ کی ران سے زیادہ وزن کسی چیز کا محسوس نہیں کیا ۔جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ ؐ نے فرمایا : لکھو ،پس میں نے شانے کی ایک ہڈ ی پر لکھا۔[31]اسی طرح حضرت عثمان سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ کا معمول تھا کہ جب بھی ایک یا ایک سے زائد سورتیں نازل ہوتیں تو آپ ﷺ کسی کاتب کو بلاتے اور فرماتے کہ یہ آیات فلاں سورت میں شامل کر دیں۔اسی طرح جب کوئی آیت نازل ہوتی تو اس کے بارے میں بھی فرماتے کہ اسے فلاں سورت میں شامل کر دیں۔[32]

نزول قرآن کے آغاز سے ہی صحابہ کا یہ معمول تھا کہ جو حصہ نازل ہوتا اسے حفظ کر لیا جاتا یک بڑی جماعت حفاظِ کرام کی حضورﷺ کی زندگی ہی میں منظر عام پر آگئی جن میں چاروں خلفاء راشدین ؛حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ، حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے علاوہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہٗ، حضرت سعد رضی اللہ عنہٗ، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہٗ، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہٗ، حضرت سالم مولی ابی حذیفہ رضی اللہ عنہٗ، حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہٗ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہٗ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہٗ، حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہٗ، ان کے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہٗ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہٗ، حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہٗ، حضرت عبداللہ بن السائب رضی اللہ عنہٗ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہٗ، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہٗ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے نام تاریخ میں محفوظ رہ گئے، یہ سب مہاجرین میں سے ہیں اور انصار میں سے جنھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں حفظِ کلام پاک مکمل کیا ان کے نام یہ ہیں، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہٗ، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہٗ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہٗ، حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہٗ، حضرت مجمع بن حارثہ رضی اللہ عنہٗ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہٗ، حضرت ابوزید رضی اللہ عنہم اجمعین ۔ایک قول یہ بھی ہے کہ ان میں سے بعض حضرات نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حفظِ کلام پاک مکمل کیا۔ بہرحال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں حفظِ قرآن پاک مکمل کرنے والوں کی تعداد کافی تھی ۔حتی کہ بئرمعونہ کا جو واقعہ پیش آیا اس میں۷۰قراء کی جماعت شہید ہوئی۔[33]

اسی طرح عہد نبوی میں قرآن کے مکمل شکل میں موجود ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ متعدد ایسی احادیث بھی ملتی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم ﷺ ہر سال رمضان میں حضرت جبرائیل ؑ کے ساتھ قرآن مجید کا دورہکیا کرتے تھے اور آخری رمضان المبارک میں آپ ﷺ نے دو مرتبہ دورہ قرآن فرمایا جسے عرضہ اخیرہ کہا جاتا ہے ۔[34]یہ سب باتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ قرآن کا متن عہد نبوی ﷺ میں مرتب شکل میں مکمل طور پر موجود تھا۔اور ان سورتوں میں آیات کی تعداد، ان کی طوالت اور ان کے نام عہد نبوی میں معروف تھے۔ یہی حال ان سورتوں کا بھی ہے جن کے آغاز میں حروف مقطعات موجود ہیں۔

جب کہ نبی کریم ﷺ سے صحابہ کرام نے قرآن سیکھا اور ان کی زندگی میں ہی اسے دہرایا کرتے تھے۔ تو یہ کیسے ممکن تھا کہ حروف مقطعات بعد میں اس میں شامل کر دیئے جاتے اور کسی کو اس پر اعتراض نہ ہوتا ۔پوری اسلامی تاریخ میں کوئی ایک بھی مثال ایسی نہیں ملتی جس میں حروف مقطعات پر یہ سوال اٹھایا گیا ہو کہ یہ قرآن کا حصہ نہیں ہیں۔پس یہ تمام حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قرآن کے کسی حصے کا ضائع ہوجانا ،یا اس میں ردوبدل ہونا یا کسی شے کا اضافہ ہونا محال تھا۔

حروف مقطعات قرآن مجید کا روز اول سے ہی حصہ تھے اس کا ثبوت ان روایات سے بھی ملتا ہے جن میں نبی کریم ﷺ ان سورتوں کے پڑھنے کی صحابہ کرام کو تلقین کیا کرتے تھے یا پھر خود ان سورتوں کی تلاوت کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ان سورتوں کی پہچان بھی ان کے آغاز میں موجود حروف مقطعات سے کی جاتی تھی۔ عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے:

لَقَدْ تَعَلَّمْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهُنَّ اثْنَيْنِ اثْنَيْنِ، فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَخَرَجَ عَلْقَمَةُ فَسَأَلْنَاهُ، فَقَالَ: عِشْرُونَ سُورَةً مِنْ أَوَّلِ المُفَصَّلِ عَلَى تَأْلِيفِ ابْنِ مَسْعُودٍ، آخِرُهُنَّ الحَوَامِيمُ: حم الدُّخَانِ وَعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ۔[35]

ترجمہ: "میں ان مماثل سورتوں کو جانتا ہوں جن کی دو دو سورتیں حضور اکرم ﷺ ایک رکعت میں پڑھتے تھے۔ لوگوں نے علقمہ سے ان سورتوں کو دریافت کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ ابن مسعود کی ترتیب کے مطابق اول مفصل میں سے بیس سورتیں آخری (سورتیں) حم الدخان اور عم یتساءلون ہیں۔"

سورہ یسین جس کے آغاز میں بھی حروف مقطعات موجود ہیں اس کی فضیلت کا بیان بھی ہمیں احادیث مبارکہ میں ملتا ہے۔ ارشاد نبوی ہے:

"وَيس قَلْبُ الْقُرْآنِ، لَا يَقْرَؤُهَا رَجُلٌ يُرِيدُ اللَّهَ والدَّارَ الْآخِرَةَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ، وَاقْرَءُوهَا عَلَى مَوْتَاكُمْ۔"[36]

ترجمہ: "سورہ یس قرآن مجید کا دل ہے جو آدمی بھی اللہ تعالی کی رضا اور آخرت کے گھر کی خاطر اس کی تلاوت کرے گا اس کو بخش دیا جائے گااور اس سورت کو اپنے مردوں کے پاس پڑھا کرو۔"

اگر حروف مقطعات قرآن مجید کا حصہ ہونے کی بجائے ان اشخاص کے ناموں کا مخفف ہوتے جن سے ان کو کتابت کے دوران حاصل کیا گیا تھا تو پھر ان کے یہ نام نبی کریم ﷺ کے دور میں معروف نہ ہوتے اور نہ ہی آپ ؐ ان ناموں کے ساتھ صحابہ کرام کو انھیں حفظ کرنے یا پھر تلاوت کرنے کی تلقین فرماتے اور نہ ہی صحابہ کرام انھیں نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حروف مقطعات قرآن مجید ہی کا حصہ تھے اور نزول وحی ہی سے یہ ان سورتوں کے آغاز میں موجود تھے جن میں اب ہیں۔

اسی طرح وہ مستشرق جو یہ کہتے ہیں کہ ان کو نبی کریم ﷺ کے دور میں نہیں بعد میں تدوین قرآن کے دور میں قرآن کے متن کا حصہ بنا دیا وہ بھی غلط ہیں ۔صحابہ کرام جہاں تقوی کے اعلی مقام پر فائز تھے وہاں وہ قرآن و حدیث کے بارے میں حد درجہ محتاط بھی تھے۔ وہ حضور ﷺ کے ان ارشادات کی اہمیت خوب جانتے تھے اور ان پر عمل پیر اتھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

"وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ۔"[37]

ترجمہ: "جس نے میرے بارے میں جھوٹ بات کہی اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔"

ابن کثیر ؒ نے ابن عباس سے حضور اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے ۔

"مَنْ قَالَ فِي القُرْآنِ بِرایۃ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ "[38] ٓ

ترجمہ: "جس نے قرآن میں اپنی رائے سے کوئی بات کہی تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔"

پس ان سے اس بات کی امید نہیں کی جا سکتی تھی کہ وہ کسی بات کو نبی کریم ﷺ یا اللہ تعالیٰ کی نازل کی ہوئی وحی سے منسوب کر کے اس کو قرآن کے متن میں شامل کر دیں ۔اسی طرح صحابہ کرام کی تدوین قرآن کے حوالے سے احتیاط کی بھی کئی مثالیں ملتی ہیں ۔ تدوین قرآن کے دوران حتی الامکان یہ کوشش کی گئی کہ کسی قسم کی کوئی کمی بیشی قرآن کے متن میں نہ ہو اور قرآن کا متن ہو بہو ویسا ہی رہے جیسا کہ عہد نبوی ﷺ میں موجود تھا۔ جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق کے زمانے میں جب حضرت زید بن ثابت نے تدوین قرآن کے کام کا آغاز کیا تو حضرت عمر فاروق نے تدوین قرآن کمیٹی کے سامنے آیت رجم پیش کی۔ لیکن حضرت زید بن ثابت نے اسے قرآن میں شامل نہیں کیا۔ [39]کیونکہ حضرت عمر اپنے علاوہ کوئی گواہ پیش نہ کر سکے تھے۔ جب حضر ت عمر جیسے انسان جو کہ نہ صرف عہد صدیقی میں خود تدوین قرآن میں شامل رہے بلکہ صحابہ کے مابین ایک اعلی و ارفع مقام کے حامل تھے اور نہایت با اختیار شخص تھے تو وہ قرآن پاک میں اپنی ذاتی حیثیت کی بناء پر آیت رجم کو شامل نہیں کر سکے تو کوئی اور کیسے اس میں کسی بات کا اضافہ کر سکتا تھا۔اور حضرت عمر کے ارشادات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اس بات کی شدید خواہش رکھتے تھے کہ آیت رجم کو لوگ بھلا نہ دیں مگر کتاب اللہ میں زیادتی کے خوف نے انھیں اس بات سے مانع رکھا۔اسی طرح سورۃ توبہ کی آخری آیات کا بھی معاملہ ہے سب جانتے تھے کہ یہ آیات موجود ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود ان کو اس وقت تک مصحف کا حصہ نہیں بنایا گیا جب تک کہ متعلقہ معیار اور شرائط کا حصول عمل میں نہیں آگیا۔

حضرت عثمان غنی نے جو مصحف تیار کروایا اس پر تمام امت نے اتفاق کیا۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ کسی بھی حلقے نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ صرف عبدا للہ بن مسعود نے اس بات پر اعتراض کیا تھا کہ انہیں جمع قرآن کی کاروائی میں شریک کیوں نہیں کیا گیا۔ قرآن کے کسی متن میں کسی طرح کی کمی بیشی کا اعتراض کسی بھی حلقے کی جانب سے نہیں کیا گیا۔ حضرت عثمان غنی کے ساتھ خاندانی چپقلش رکھنے والے اور انہیں شہید کرنے والے لوگوں میں سے بھی کسی نے آپ پر اس پہلو سے اعتراض نہیں کیا کہ آپ نے قرآن میں کمی بیشی کروائی یا ہونے دی۔ خصوصا بنو امیہ اور حضرت علی کے ساتھیوں کے درمیاں مخاصمت کو ذہن میں رکھیں تو نظر آتا ہے کہ اتنے شدید اختلاف کے باوجود حضرت علی کے ساتھی اس قرآن پر متفق رہے ہیں جسے بعد میں انہی لوگوں نے صحیفہ عثمانی کا نام دیا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ آج تک تمام فرقے قرآن کی صیانت اور عصمت پر متفق ہیں۔

حضرت عثمان غنی کے دور میں قرآن مجید میں تغیر کے الزام کے حوالے سے امام ابن حزم فرماتے ہیں کہ اس وقت تک لاکھوں قرآن موجود تھے۔ حضرت عثمان غنی لاکھ کوشش کرتے تب بھی وہ تمام کے تمام قرآن سرکاری تحویل میں نہیں لے سکتے تھے۔ جب اتنی کثیر آبادی اور وسیع علاقے کے لوگو ں کو ایک انداز سے قرآ ن یاد ہو گا تو حضرت عثمان کی تبدیلی کی کوئی حیثیت نہ ہوتی۔ اگر کوئی نابغہ یا زہیر کے شعر میں کوئی کلمہ گھٹانا یا بڑھانا چاہے تو بھی قادر نہ ہوگا اور اس تبدیلی کرنے والے شخص کا پول جلد ہی کھل جائے گا اور ثابت شدہ نسخے اس کی مخالفت کریں گے۔ پھر قرآن جو کہ لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہے اس میں اس قسم کی تبدیلی کوئی کیونکر کر سکتا ہے ۔ [40]

حروف مقطعات کے حوالے سے نولڈیکے اور آٹو لوتھ کا یہ بھی ماننا ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے ان کو یہود نصاری کی ایسی کتابوں سے متاثر ہو کر لکھا ہے جو پراسرار حروف اور علامتوں پر مشتمل تھیں۔وہ لوگوں پر اپنی علم کی دھاک بٹھا نا چاہتے تھے اور قرآن کے بارے میں ایک پراسرار اور جادوئی اثرات کی حامل کتا ب ہونے کا تاثر دینا چاہتے تھے لہذا انھوں نے یہود کے ہاں پائے جانے والے علم قبالہ سے متاثر ہو کر اس سے ملتے جلتے حروف کو قرآن میں شامل کر دیا۔جہاں تک اس بات کاتعلق ہے تو مستشرقین کا یہ نقطہ نگاہ بالکل غلط ہے ۔کیونکہ نبی کریم ﷺ اُمی تھے اور یہ بات سب پر واضح تھی کہ آپ ﷺ نے کسی سے علم نہیں سیکھا تھا۔ پہلی وحی کے وقت آپ ؐ نے جبریل سے یہی کہا تھا کہ " میں پڑھنے والا نہیں ہوں"، جب سب لوگ آپ ؐ کو اُمی سمجھتے تھے تو پھر نبی کریم کے بارے میں یہ کہنا کہ آپ ؐ نے قرآن پہلی کتابوں سے حاصل کر لیا، نقطہ نگاہ کے تضاد کا ثبوت ہے۔ آپ ؐ امی تھے یا آپ ؐ نے گزشتہ کتابوں کا علم حاصل کیا تھا ، دونوں میں سے ایک ہی بات درست ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر ان مستشرقین کا نقطہ نگاہ یہ ہو کہ آپ نے ان کتابوں سےفائدہ اٹھایا تھا تو پھر ان کو اس بات کا ثبوت مہیا کرنا چاہیے تھا۔ بغیر دلیل اور ثبوت کے حقائق کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ان شکوک سے اس ثابت شدہ امر کو کچھ نقصان نہیں پہنچتا کہ حضور ؐ امی تھے۔اگر درحقیقت آپ ؐ امی نہ ہوتے تو آپ ؐ کے صحابہ کرام اس سلسلے میں بالکل سکوت نہ فرماتے۔ آپ ؐ کی ازواج مطہرات اور عزیز و اقارب اور آپ ؐ کے چچا جنھوں نے آپ ؐ کو پالا تھا اس سے بے خبر نہ رہ سکتے تھے اور نہ ہی اس اعلیٰ درجے کی عقل کا ، جس کا اعتراف منکرین کو بھی ہے ،یہ مقتضاء ہو سکتا تھا کہ اپنے قبیلے کے لوگوں کے سامنے خلاف واقع اپنے آپ کو امی کہتے۔ قرآن میں بھی آپ ؐ کو امی کہا گیا ہے۔ایسی سورت میں تو مخالفین کو اعتراض کا موقعہ ہاتھ آجاتا اور جو آپ فرماتے اس پر ان کو ہرگز یقین نہ آتا ۔ اس ساری بات سے قطع نظر آپ ؐ کو اس خفیف سی بات چھپانے کا فائدہ کیا ہوسکتا تھا؟ کیونکہ پڑھا لکھا ہونا منصب نبوت کے خلاف تو نہیں ۔حضرت موسی ؑ اور حضرت عیسی ؑ پڑھے لکھے تھے۔ حضور ؐ کے بھی پڑھا لکھا ہونے سے آپ ؐ کی نبوت اور قرآن کے اعجاز پر کچھ حرف نہ آتا۔

دوسرا یہ کہ نبی کریم ﷺ کا یہودی علماء سے واسطہ مدنی دور میں پڑا تھا۔ اس سے پہلے اگر دیگر مذاہب کے علماء سے ملاقات کے واقعات ملتے بھی ہیں تو وہ مکی دور کے ہیں۔ جیسے شام کے سفر میں بحیرہ اور نسطورہ راہب سے ملاقات کا واقعہ ہے۔ مگر یہ دونوں ملاقاتیں نہایت مختصر وقت کے لیے ہوئیں اور دوسرا یہ کہ شام کے پہلےسفر کے وقت تو آپ ؐ انتہائی کم عمر تھے۔ ایک روایت کے مطابق آپ 9 سال کے تھے اور دوسری روایت کے مطابق 12 سال کے۔[41] ان دونوں ملاقات کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ ایک دن کا تھا۔ تو یہ ممکن نہیں تھا کہ آپ اتنے کم عرصہ میں ان سے یہودی قدیم علوم سیکھ لیتے۔

حروف مقطعات علم قبالہ سے متاثر ہو کر اس لیے بھی قرآن کا حصہ نہیں بنائے جا سکتے کیونکہ یہودیوں کے ساتھ آپ ؐ کے روابط مدینہ میں آکر قائم ہوئے۔ جب کہ کئی مکی سورتیں ایسی ہیں جن کے آغاز میں حروف مقطعات موجود ہیں۔ ان میں سورۃ الصافات، سورہ ق، سورۃ القلم ، سورۃ النمل، سورۃالمومن اور سورہ فصلت شامل ہیں۔ یہ تمام سورتیں مکی ہیں اور ان کے آغاز میں حروف مقطعات کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ نولڈیکے اور آٹولوتھ کا یہ نقطہ نظر درست نہیں ہے کہ حروف مقطعات یہودیوں کے پراسرار علوم سے متاثر ہو کر نبی کریمﷺ نے تخلیق کیے۔

مستشرقین کی نولڈیکے اور آٹولوتھ کی آراء کی تردید

نولڈیکے اور آٹولوتھ کا یہ ماننا تھا کہ حروف مقطعات قرآن کا حصہ نہیں تھے نبی کریم ﷺ نے انھیں یہودیوں کے علم قبالہ سے متاثر ہو کر قرآن کا حصہ بنایا تھا۔ ان دونوں کی حروف مقطعات کے حوالے سے موجود آراء کے تجزیاتی مطالعہ کی روشنی میں یہ بات اچھی طرح سے واضح ہو جاتی ہے کہ یہ ممکن نہ تھا کہ حروف مقطعات کو بعد میں قرآن کے متن کا حصہ بنا دیا جاتا۔مستشرقین بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ عہد صدیق اور عہد عثمان میں جب قرآن کی تدوین عمل میں آئی تو جو نسخہ وجود میں آیا وہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا کہ عہد نبوی ؐ کے قرآن کا متن ہو۔ولیم میور لکھتا ہے :"ہم پورے شرح صدر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ عہد عثمان میں حضرت زید بن ثابت نے قرآن کی جس صورت میں نظر ثانی کی وہ نہ صرف حرفاًحرفاً درست ہے بلکہ اس کے جمع کرنے کے موقع پر جو اتفاقات یک جا ہوتے گئے ان کی رو سے بھی یہ نسخہ اس قدر صحیح ہے کہ نہ تو اس میں کوئی آیت اوجھل ہو سکی اور نہ جانبین نے ازخود کسی آیت کو تحریر کیا۔[42]۔۔۔پس یہی قرآن ہے جسے حضرت محمد ﷺ نے پوری دیانت و امانت کے ساتھ دوسروں کو سنایا۔"[43]

ولیم میور کےمطابق حضرت عثمان کے عہد میں جب قرآن پر نظر ثانی ہوئی اور پھر اسے شائع کیا گیا تو ان مسلمانوں کی کثیر تعداد موجود تھی جو نبی کریم ﷺ کے دور میں حضور اکرم ﷺ سے قرآن مجید کو اسی طرح سنتے رہے تھے جس طرح حضرت عثمان غنی نے دوبارہ حضرت زید وغیرہ کو دکھا کر شائع کیا۔ اور ان صحابہ نے کوئی اعتراض نہ کیا۔"[44]

خود مستشرقین اس نقطہ نظر کا رد کرتے ہیں کہ حروف مقطعات ان ماخذوں کے نام ہیں جن سے یہ سورتیں لی گئیں۔جیسا کہ کیتھ میسی، نولڈیکے اور ہرش فیلڈ کے نقطہ نظر کو غلط اور بے بنیاد قرار دیتا ہے اور کہتا ہے حروف مقطعات کو ماخذوں کے ناموں کا اختصار قرار دینا اورپھر اس سے ان کے نام اخذ کر لینا کسی طور پر اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ ان کا نقطہ نظر درست ہے۔ ان کے خیال میں نولڈیکے اور ہرشفیلڈ کے نظریہ اور ان جیسے دیگر نظریات کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ یہ اپنے دعوی کو درست ثابت نہیں کر سکتے۔ اشخاص کے ناموں یا مکمل حروف کے حوالے سے پیش کردہ یہ فہرست حروف مقطعات کے درست مفہوم سے زیادہ محقق کی تصورانہ صلاحیتوں کا اظہار نظر آتی ہے۔[45] اس نے بڑی چالاکی سے ان حروف کے متبادل اس دور کے مضبوط امیدواروں کو پیش کیا ہے۔لیکن یہ درست ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ کیوں کہ یہ نام ان کاتبین وحی کے بھی ہو سکتے ہیں جن کا ذکر کسی بھی روایت یا پھر ابتدائی ادب میں نہ ظاہر ہوا ہو۔[46]

جہاں تک اس بات کاتعلق ہے کہ قرآن مجید وحی الہٰی نہیں ہے بلکہ نبی کریم ﷺ نے اسے یہود و نصاری کی کتب سے اخذ کیا ہے تو قرآن مجید کے ساتھ ساتھ خود مستشرقین بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان کو ایسے کوئی شواہد نہیں ملتے جن کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا جا سکے کہ قرآن مجید کے متن کو یہود و نصاری کی کتب سے اخذ کیا گیا ہے۔ جیسا کہ Rodwell کے نزدیک:

“We have no evidence that Muhammad had access to the Christian scriptures, though it is just possible that fragments of the old or New Testament may have reached him through Chadijah or waraka other Meccan Christians, possessing MSS.”[47]

ہمارے پاس ایسے ثبوت نہیں ہیں جن سے یہ پتہ چلے کہ حضرت محمدﷺ کی عیسائیوں کی مقدس کتب تک رسائی تھی۔اگرچہ یہ ممکن ہےکہ ان کو حضر ت خدیجہ ، ورقا یا پھر مکہ میں موجود عیسائیوں کے ذریعے جن کے پاس یہ موجود ہوں عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید کے کچھ اجزاء ملے ہوں۔

اسی طرح بیل Bellنولڈیکے Noldekey کے نظریہ کو بھی جو کہ انھوں نے بعد میں اختیار کیا تھا تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ وہ اس کے نقطہ نظر کا رد کر تے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ حروف دراصل پراسرار حروف ہیں جن کی ابھی تک کوئی بھی تسلی بخش وضاحت نہیں کی جا سکی۔وہ لکھتے ہیں:

“That suggestion, however, like others, seems impossible to carry through. We end where we began; the letters are mysterious, and have so far baffled interpretation.”[48]

یہ تجاویز تاہم دوسری تجاویز کی طرح ایسی نہیں ہیں کہ ان پر اعتماد کیا جا سکے۔ لہذا ہم نے جہاں سے آغاز کیا تھا وہیں پر اختتام کرتے ہیں کہ یہ حروف دراصل راز ہیں اور ابھی تک کی گئی تاویلات ایسی ہیں جو چکرا کر رکھ دیں۔

اسی طرح ہنس باؤر (Hans Baur) آٹو لوتھ کے نقطہ نظر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کہنا کہ یہ حروف دراصل قرآن کے متن میں آنے والے معروف الفاظ کا اختصار ہیں ، غلط ہے۔ان کے نزدیک یہ نظریہ اتنا ہی بے قاعدہ ہے جتنا کہ سپرنگر کا اور اس کو اس بنیاد پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے کیونکہ اگر اس بات کو درست مان لیا جائےتو پھر جو علامات ہیں ان کو سادہ اور انسانی عقل کے مطابق ہونا چاہیے تھا۔ لیکن یہ حروف تو نہایت پیچیدہ ہیں۔[49]

مشہور مستشرق رچرڈ بیل کے مطابق وہ تمام لوگ غلطی پر ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ یہ ان ماخذوں کے نام ہیں جن سے ان سورتوں کو حاصل کیا گیا۔کچھ یورپی محققین نے ان حروف کو ان لوگوں کے نامو ں کا اختصار قرار دیا ہے جن کے پاس ان کے ذاتی استعمال کے لیے یہ سورتیں موجود تھیں انھوں نے ان کو جمع کر رکھا تھا ،ان کو زبانی یاد کیا ہوا تھا ، ان کو لکھ رکھا تھا ، جن سے بعد میں زید نے ان سورتوں کو حاصل کیا۔ان کے نزدیک یہ ایک ایسا نظریہ ہے جو قرین قیاس دکھائی دیتا ہے۔ مگر جن ناموں کو یہ حروف ظاہر کرتے ہیں ان کو اخذ کرنا مشکل ہے ۔ کسی نے بھی اس مسئلے کا تسلی بخش حل پیش نہیں کیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ بات ماننا بھی مشکل ہے کہ اہم سورتوں جیسا کہ دوسری اور تیسری سورت کو قرآن کے متن کا حصہ بناتے ہوئے بظاہر صرف ایک انسان پر انحصار کیا گیا(الم) جس کو ہرشفیلڈ نے المغیرہ سمجھا ہے جب کہ اس کے مقابلے میں دیگر غیر اہم سورتوں کے آغاز میں یہ (حروف ) موجود نہیں ہیں ان کے بارے میں ہمیں یہ ماننا ہو گا کہ وہ (سورتیں ) عوامی ملکیت تھیں۔)[50]یہ حروف قرآن کے متن کا حصہ تھے اس نقطہ نظر کو بیان کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

These letters always follow the bismillah, and we have seen reasons to think that the bismillah belongs to the text and not to the editing. It seems probable, therefore, that these letters also belong to the composition of the text, and were not external marks added either in Muhammad’s life-time or by later compiler.[51]

یہ حروف ہمیشہ بسم اللہ کے بعد آئے ہیں اور ہمارے سامنے ایسے دلائل موجود ہیں جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ بسم اللہ کا تعلق متن سے ہے نہ کہ تالیف سے۔ یہ ممکن دکھائی دیتا ہے کہ یہ حروف قرآن کے متن کے اجزاء سے تعلق رکھتے ہوں اور ایسی بیرونی علامات نہ ہوں جن کو حضرت محمد ﷺ کی زندگی یا پھر ان کے بعد کے دور میں تدوین کرنے والوں نے شامل کر دیا ہو۔

کچھ مستشرقین تو حروف مقطعات کے حوالے سے پیش کی گئی تمام آراء کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہیں۔ان کے نزدیک حروف مقطعات کے حوالے سے ابھی تک کوئی بھی ایسا نظریہ پیش نہیں کیا گیا جو کہ ان کے درست مفہو م کو بیان کرتا ہو اور ان کی یہاں موجودگی کا جواز فراہم کر سکے۔جیسا کہ رچرڈ بیل جو کہ ایک معروف مستشرق ہیں ان کا بھی یہی ماننا ہے کہ اگر یہ کوئی مفہوم رکھتے ہیں تو ابھی تک اس حوالے سے کوئی تسلی بخش وضاحت فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہی ان کی یہاں موجودگی کے حوالے سے کوئی ایسی وضاحت پیش کی گئی جس پر قائل ہوا جا سکے۔[52]وہ خود اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ مستشرقین کے پیش کیے جانے والے زیادہ تر نظریات درحقیقت ان حقائق پر مبنی ہیں جو کہ قرآن کے متن اور اس کی تدوین کے حوالے سے مستشرقین پیش کر چکے ہیں ۔بیلامی اپنی قوم کی اسی خامی کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

“The readers will soon observe that much of what follows is based on facts already established by scholars who have dealt with problems related to the composition and textual history of the Koran.”[53]

قارئین کو جلد ہی اندازہ ہو جائے گا کہ جو پیش کیا جائے گا وہ دراصل ان حقائق پر مشتمل ہے جو کہ اس سے قبل قرآن کی تدوین اور اس کے متن کی تاریخ سے تعلق رکھنے والے مسائل پر تحقیق کرتے ہوئے محققین نے قائم کر دیئے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ان کے افکار و نظریات بے بنیاد حکایتوں پر مشتمل ہیں اور ٹھوس ثبوتوں سے عاری ہیں۔یہ لوگ تاریخی مسلمات کو محض ظن و گمان کی بنیاد پر رد کرتے ہیں اور مدلل دلائل کےبغیر محض قیاس آرائیوں سے کام لیتے ہوئے اپنے افکار و نظریات کو پیش کرتے ہیں اور پھر اپنی معلومات کے لیے وہ اسلامی تاریخ کے بنیادی ماخذوں پر انحصار کرنے کی بجائے یا تو تقلید کا طریقہ کار اختیار کرتے ہیں یا پھر مستشرقین کے پیش کردہ حقائق کو بنیاد بناتے ہیں پھر چاہے وہ حقائق اصل حقیقت سے کتنے ہی متضاد کیوں نہ ہوں۔

الغرض مستشرقین میں سے چند مستشرق اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں دور صحابہ میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی تدوین کے عمل کے دوران واقع نہیں ہوئی لہذا یہ بات خارج از امکان ہے کہ حرو ف مقطعات کو بعد میں قرآن کا حصہ بنا دیا گیا ۔ ان کے نزدیک حروف مقطعات کے حوالے سے پیش کردہ ناموں کی فہرست جن سے بطور ماخذ سورتوں کو حاصل کیا گیا حقائق سےزیادہ مصنف کی تصوراتی مہارت کا نتیجہ ظاہر ہوتی ہے۔ جبکہ یہ الفاظ علم قبالہ کی طرز پر مبنی ہوں اس کا بھی انکار مستشرقین خصوصا بیل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کچھ مستشرقین تو اس بات کو بھی مانتے ہیں کہ حروف مقطعات کے حوالے سے پیش کردہ کوئی بھی رائے تسلی بخش نہیں ہے۔

نتائج

  1. نولڈیکے کا حروف مقطعات کے حوالے سے پیش کردہ نظریہ " یہ ان ماخذوں کے ناموں کا اختصار ہے جس سے ان سورتوں کو حاصل کیا گیا" حقائق و قرائن کی روشنی میں غلط ثابت ہوا ہے۔
  2. مستشرقین کا یہ ماننا کہ حروف مقطعات قرآن میں یہودیوں کے علم قبالہ سے متاثر ہو کر شامل ہوئے درست نہیں ہے۔ ان میں علم قبالہ سے ماخوذ الفاظ میں کسی بھی قسم کی مطابقت نہیں ملتی۔
  3. حروف مقطعات کے حوالے سے نولڈیکے اور آٹو لوتھ کا پیش کردہ نقطہ نظر درست نہیں ہے ۔وہ تعصب اور لاعلمی پر مبنی ہے۔
  4. نولڈیکے اور آٹو لوتھ کے نظریات کی بنیاد حقائق کی بجائے قرآن کے حوالے سے موجود دیگر مستشرقین کی آراء ہیں۔
  5. مستشرقین بذات خود نولڈیکے اور آٹولوتھ کے حروف مقطعات کے حوالے سے پیش کردہ نظریات سے نہ صرف اختلاف کرتے ہیں بلکہ ان کو تصوراتی تخیل کا نتیجہ گردانتے ہیں۔

سفارشات

  1. نولڈیکے اور آٹو لوتھ کے علاوہ دیگر مستشرقین جن میں ہرٹ وگ ہرشفیلڈ Hartwig Hirschfeld(1854-1934) اور رچرڈ بیل Richard bell(1876-1952) شامل ہیں انھوں نے حروف مقطعات کے حوالے سے جن آراء کا اظہار کیا ہے ان کا تجزیاتی مطالعہ بھی ضروری ہے۔
  2. حروف مقطعات کے حوالے سے مستشرقین کے نظریات و افکار کی بنیاد جو عوامل ہیں ان کا مطالعہ بھی تحقیقی لحاظ سے اہم ہے۔
  3. مقالہ ہذا میں مستشرقین کی آراء کا قرآن و سنت اور مسلم مفکرین کی آراء کی روشنی میں تجزیہ کیا گیا ہے۔ جبکہ حروف مقطعات کے حوالے سے مستشرقین کی آراء کے تقابلی مطالعہ کو بھی موضوع تحقیق بنایا جا سکتا ہے۔

Bibliography

Al-Hashimi, Noor ur din. Majma u zawaid wa majma ul fawaid, Dar ul Kitab ul Arabi, Barut, 1967.

Ahmad bin Hanbal, Al-Masnad, Dar ul Kutub ul Arbiya, Barut, 1997.

Batash Kabra, Ahmad bin Mustafa, Miftah us sayada, Maktaba e Labnan, Labnan, 1994.

Bauer, Hans. Uber die Anordnung der Suren und aber die geheimnisvollen Buchstaben im Qoran, Zeitschrift der Deutschen Morgenländischen Gesellschaft, 75 (1921).

Bell, Richard. Introduction to the Quran. (T.T. Clark, 1937)

Bellamy,James A..old abbreviations of the basmalah, (Journal of the American Oriental Society,Vol. 93, No. 3 (Jul. - Sep., 1973)

Abu Dawod, Salman Bin Ashath, Sunan Abu Dawood, Dar ul Salaam lil Nashar wa tauzeh, Riyadh, 1998.

Bukhari, Abu Abdullah Muhammad bin Ismail, Al Jami u Sahih, Dar ul Salaam lil Nashar wa tauzeh, Riyad, 1998.

Ibn e Kasir, Imaad u din Abu Al fida, Tafseer ul Quran il Azeem, Dar Ahya Turas ul Arabi, Barut, 2005.

Jaffery, Arthur, Thy mystic letters of the Koran, Netherlands, 1962.

Loth, Otto.Tabari’s Koran commentar’. Zeitschrift der Deutschen Morgenländischen Gesellschaft, V:35, 1881.

Mahmood Akhtar, Hifazat-e-Quran-e-Majeed aur Mustashriqeen, Dar-ul-Nawadar, Lahore, 2018

Massey, Keith. A new investigation into the mystery letters of the Quran. http||www.keith Massey.com Libra PDF2013. Accessed on 3/04/2020

Maududi, Sayad Abu al Aala, Tafheem ul Quran, Tarjaman ul Quran, Lahore, 2009.

Muir, Willium, Life of Mahomet, Smitha & Elder Publishers, London, 1861.

Nisai, Abu Abdul Rehman Ahmad bin Shuaib, Sunan Nisai, Dar ul Salaam lil Nashar wa tauzeh, Riyad, 2001.

Noldeke, Theodor.The history of the Quran, Edited by Wolfgang H. Behn, Brill. Leiden: Boston, 2013

Rodwell, J. M, The Karan, Dentt, London, 1909.

Suyoti, Jalal u Din. Al- Itqan fi uloom ul Quran, Idara Islamia, Barut ,2003.

Tarbrasi, Fazal Bin Hasan, Majma ul Biyan Fi Tafseer ul Quran, Dar ul Marifa, Barut, 1986.

Tirimzi, Muhammad bin Essa, Al-Tirimzi, Dar ul Salaam lil Nashar wa tauzeh, Riyad, 1998.

Tosi, Ibn-e-Jaffar Muhammad bin Hasan, Attibyan Fi Tafseer ul Quran, Maktab ul Aalaam ul Islami, Barut ,1409 AH.

Zarqani, Muhammad abdul Azeez, Minahi lul Irfan, Dar ul Ahya ul Kutub ul Arabiya, Egypt, 1996.

حوالہ جات

  1. ابو اسحاق الثعلبی، احمد بن محمد بن ابراھیم النیسا پوری ، الکشف والبیان (بیروت: دار احیاء التراث العربی، 1422 ھ)۔ Abu Ishaq al-thalbi, Ahmad bin Muhammad bin Ibrāhīm al-Nesapuri, Al- kashaf o’l biyān (Barot: Dar Ahyā’turās ul arabī, 1422 AH)
  2. محمد بن عمر بن حسن بن حسین بن علی رازی ، التفسیر الکبیر(تہران: دار الکتب العلمیہ ، 1982ء)۔ Muhammad bin Umar bin Hasan bin Husain bin Ali Rāzi, Al-Tafsīr ul Kabīr(Tahran: Dar ul Kutub ul Ilmiyya, 1982)
  3. ناصر الدین ابی سعید بن عبداللہ بن عمر بن محمد شیرازی بیضاوی، انوار التنزیل واسرار التاویل (لبنان: دارالفکر، 1416ھ)۔ Naṣir ud Dīn Abī S ̒ īd bin Abdullah bin Umer bin Muhammad Shairazi Baizawi, An war ut Tanzīl o isrā rul Tawīl (Labnan: Dar ul Fikr, 1416 AH)
  4. ابو الفضل شہاب الدین السید محمود آلوسی ،روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی( بیروت :دار الاحیاء التراث ، 1987ء)۔ Abu al Fażl Shahāb ud Din Syad Mahmood áloosī, Rūh ul M ̒ani fī tafsīr ul Qurán il Azīm wa sab ̒ l Masānī ( Barot: Dar Ahyā’turās ul arabī,1987)
  5. فضل عباس صالح، الحروف المقطعہ فی اوائل السور(درجہ الماجستر ، جامعہ النجاح الوطنیہ ،2003)۔ Fażal Abās Sāliḥ, Alḥarof al-Muqatt ̒ a fī awā’lissor (Darja al-mājister, Jam ̒ h ul-Nijaḥ ul watnīh, 2003)
  6. ابتھال مہندی التمیمی،" الحروف المقطۃ فی القرآن الحکیم الی اللغۃ الانکلیزیۃ،" مجلہ کلیۃ المامون الجامعہ15 شمارہ2۔ ( 2010ء): 1-20۔ Ibtihal Mahndī al Tamīmī, Alḥarof al-Muqatt ̒ a fīl Qurán il Hakīm ilā Lughat ul inklīziya, Mujalla Kulya tal Mamōn al jāmiyya, 15 Shumara 2, (2010), 1-20.
  7. علی بو صخر، اسرار الحروف والاعداد(ایران: موسسۃ بنت رسول ﷺ الاحیا تراث اھل البیت، 2003ء)۔ Ali bu ṣakhar, Isrār ul Harōf wal Adād,(Iran: Mōsas tu Rasōl, Al-ahyāoturāth Ahlil Bayt,2003)
  8. محمد طاہر القادری، حروف مقطعات کا قرآنی فلسفہ(لاہور: منہاج القرآن پرنٹرز، 2017ء)۔ Muhammad Tahir ul Qadri, Harōf Muqat ̒at ka Qurāni Falsafa (Lahore: Minhāj ul Qurān Printers, 2017)
  9. الطاف علی قریشی، "قرآن مجید کے حروف مقطعات،" علم و فکر 22، شمارہ1۔( 1984ء): 91-106۔ Altaf Ali Qurīshi, Quran Majīd kē Harōf ē Muqat ̒at, Ilm o Fikr Jild 22 Shumāra 1 (1984):91-106.
  10. ثاقب اکبر، "حروف مقطعات : مختلف آراء کا تجزیاتی مطالعہ،" نور معرفت 4 شمارہ۔ 5ٓ(2014ء):19-36۔ Thaqib Akbar, Harōf e Muqat ̒at: Mukhtalif Aāra ka Tajziyaati Mutāl ̒ h, Noor e Marfat 4 Shumāra 5(2014): 19-36
  11. نجمہ بانو، "الحروف المقطعات ومعانیھا،" الثقافۃ السلامیۃ 1 شمارہ۔ 31 (2014ء): 56- 73۔ Najma Banu, Al- Harōf ul Muqat ̒at wa m ̒ ānīhā, Al-thiqafat ul Islamiyya 1 Shumāra 31 (2014): 56-73.
  12. حافظ محمود اختر، حفاظت قرآن مجید اور مستشرقین) لاہور : دالنوادر، 2018ء)۔ Hāfiẓ Mahmūd Akhtar, Hifāẓat e Qurān Majīd aōr Mustashriqīn (Lahore: Dar un Nawadir, 2018)
  13. Arthur Jeffery, The Mystic Letters of the Kuran, The Muslim World 13(1924): 247-260.
  14. Sachal Smith, "The Mystery Letters of the Quran," https://medium.com/esoteric-islam/the-mystery-letters-of-quran-huroof-al-muqattaat-fbc0db57e7ab, accessed on 21 August, 2020.
  15. نولڈیکے معروف جرمن اسکالر اور مستشرق تھا۔ یہ1836ءمیںHarburgمیں پیدا ہوا ،اس نے Vienna ,Gottingen ,Leiden ,Berlin یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل کی اور1930ءمیں وفات پائی ۔نولڈیکے نے قرآن پاک کو محمد ﷺ کی تصنیف قرار دیا ہے۔ عربی اور فارسی زبان، عہد نامہ قدیم اور دیگر سریانی کتب اس کی تحقیق کا موضوع خاص تھیں۔ نولڈیکے نے انسائیکلوپیڈیا آف برٹینیکا میں کئی مضامین تحریر کیے۔اس دور کے مستشرقین کے کاموں کا ترجمہ کیا۔اس نے تاریخ طبری کا بھی ترجمہ کیا جو بہت معروف ہوا۔ نولڈیکے قرانی علوم پر اپنی آراء کے حوالے سے خاصی شہرت کے حامل ہیں ۔۱۸۵۹ءمیں نولڈیکے نے تاریخ القرآن [History of the Quran] کے نام سے کتاب مرتّب کی جس میں قرآن پاک کی تاریخی حیثیت کو متعیّن کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے متعدد مباحث کو بھی موضوع بحث بنایا۔
  16. See, Theodor Noldeke, The History of the Quran, ed. Wolfgang H. Behn (Leiden: Brill, 2013), 270.
  17. Ibid.
  18. Ibid., 271.
  19. Ibid.
  20. Ibid.
  21. Ibid., 272-3.
  22. Ibid.
  23. آٹو لوتھ جرمن اسکالر، مستشرق اور ماہر تعلیم تھے۔ آپ کا میدان سماجی علوم اور علوم اسلامیہ تھا۔ ماہر عربی تصور کیے جاتے تھے۔عربی مخطوطات کا مطالعہ آپ کا خصوصی شغف تھا۔ آپ کی لگ بھگ چالیس کتابیں اور مقالات شائع ہوچکے ہیں جو تین زبانوں انگلش، جرمن اورعربی میں تحریر کیے گیے۔ جو کتب آپ نے تحریر کیں ان میں سے A Catalogue of the Arabic Manuscripts in the Library of the India Office بھی شامل ہے۔
  24. Otto Loth, Tabari’s Koran commentary’, Zeitschrift der Deutschen Morgenländischen Gesellschaft, 35 (1881):592-593. Cite according to Chicago 16th.
  25. Ibid., 593.
  26. Ibid., 594.
  27. Ibid., 602-603.
  28. قَبالہ یا قابالاتورات کی باطنی تشریح وتفسیر کا مجموعہ جو یہودی معاشرہ میں زبانی منتقل ہوتا رہا ۔یہ یہودی مذہب کےسفلی، جادوئی اور باطنی علم کا نام ہے۔جس کے ذریعے حواس کے دائرہ سے باہر حقائق تک رسائی حاصل کرنے کا دعوی کیا جاتا رہا ہے۔ اس علم کو یہودی مذہب کے صوفیانہ علوم کی بنیاد بھی قرار دیا جاتا ہے۔
  29. القرآن ، 10 :16 Al- Qurān, 16:10
  30. القرآن، 16 : 101-103 Al- Qurān, 16:101-103
  31. محمد بن عیسیٰ ترمذی ، الجامع، کتاب التفسیر،باب تفسیر الآیات فی سورۃ النساء ( دمشق : احیاء التراث العربیہ، 1965ء )، حدیث: 3033، 2: 438 Muhammad bin īsa Tirimzī, Al-jāmi ̒ , Kitāb ul Tafsīr, bāb Tafsīr ul Aāyāt fī Sorat un Nisā’(Damishq: Ahyā’ Turāth ul A ̒rabiyya, 1965), Hadīth:3033, 2:438
  32. ترمذی ، الجامع، کتاب التفسیر، باب تفسیر الآیات فی سورۃ التوبہ، حدیث:3086 ،2: 476 Tirimzī, Al-jāmi ̒ , Kitāb ul Tafsīr, bāb Tafsīr ul Aāyāt fī Sorat ul Tawbah, Hadīth:3086, 2:476
  33. عبدالعظیم زرقانی ، مناہل العرفان(مصر :دارلاحیاء کتب العربیہ، 1996ء)، 173-174۔ Abdul Aa ̒ẓīm Zarqānī, Minahi lul Arfān, (Egypt: Dār ul Ahyā ‘ ul Kutub ul a ̒rbiyya, 1996),173-174
  34. ابو عبد الرحمن احمد بن شعیب نسائی،السنن ،کتاب الصوم، باب السخاوۃ فی شھر رمضان(ریاض : دار السلام للنشر والتوزیع ،2001ء)، حدیث: 2097، 1: 734 Abū Abdul Rehmān Ahmad bin Shu ̒ab Nisa’ī, Al-Sunan, Kitāb ul ṣawm, bāb ul sakhawah fī Shahrī Ramażān (Riāż: Dār ul Salām lil nashir wa tawzīa ̒,2001), Hadīth: 2097, 1:734
  35. ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری ، الجامع الصحیح ، کتاب الفضائل القرآن ،باب تاویل القرآن(ریاض: دار السلام للنشر والتوزیع،2007) ، حدیث :4951 ، 2: 327 Abū Abdullah Muhammad bin Isma ̒īl bukhārī, Al Jāmi ̒ ul ṣahīh, Kitāb ul Faẓāil ul Qurān, bāb Tawīl ul Qurān (Riāż: Dār ul Salām lil nashir wa tawzīa ̒,2007), Hadīth:4951, 2: 347
  36. احمد بن حنبل، المسند(بیروت: دار الکتب العربیہ، 1997ء)، 33: 417۔ Ahmad bin Hanbal, Al- Masnid ( Barot: Dār ul Kutub ul A ̒rbiyya, 1997), 33:417
  37. بخاری ، الجامع الصحیح ،کتاب الجنائز، باب مکروہ النوحہ علی المیۃ، حدیث: 7405، 3: 453 Bukhārī, Al Jāmi ̒ ul ṣahīh, Kitāb ul Janā’z, bāb Makrōh al- nawha alal Mayyitah, Hadīth:7405,3:453
  38. عماد الدین ابو الفدا ء ابن کثیر،تفسیرالقرآن العظیم (بیروت: دار احیاٗ التراث العربی ،2005ء)،1:50۔ Imād duddīn abū al fidā’ Ibn e Kathīr, Tafsīr ul Qurān il Azīm (Barot: Dār ul Aḥya’tarath ul arabī, 2005), 1:50
  39. ابو داؤد سلمان بن اشعث،السنن ، کتاب الحدود ،باب الرجم فی بیان المنکوح(ریاض: دار السلام للنشر والتوزیع1998ء)، حدیث: 4418، 2: 213 Abu Dawōd Salmān bin Asha ̒at, Al-Sunan, Kitāb ul Hadōd, bāb al-Rajam fī biyān ul mankōh (Riāẓ: Dār ul Salām lil nashir wa tawzīa ̒ ,1998), Hadīth:4418, 2:213
  40. حافظ محمود اختر، حفاظت قرآن اور مستشرقین،356 ۔ Hāfiẓ Mahmōd Akhtar, Hifaẓat e Qurān awr Mustashriqīn, 356
  41. زرقانی ، مناہل العرفان، 193۔ Zarqānī, Mihahil ul Irfān, 193
  42. Willium Muir, Life of Mahomet, (London: Smitha & Elder Publishers, 1861), 17.
  43. Ibid., 19.
  44. Ibid., 14.
  45. Keith Massey, "A New Investigation into the Mystery Letters of the Quran," http||www.keith Massey.com, 2013, 497, accessed on 23 August 2020
  46. Ibid., 500.
  47. Rodwell, J. M, The Karan (London: Dentt Publishers, 1909), 10.
  48. Richard Bell, Introduction to the Quran (New York: T.T. Clark Company, 1937), 57.
  49. Hans Bauer, Uber die Anordnung der Suren und aber die geheimnisvollen Buchstaben im Qoran, Zeitschrift der Deutschen Morgenländischen Gesellschaft, 75 (1921): 1-20.
  50. Bell, Introduction to the Quran, 55.
  51. Ibid., 57.
  52. Ibid., 54.
  53. James A. Bellamy, "Old Abbreviations of the Basmalah," Journal of the American Oriental Society 93 no. 3 (1973), 271.