Playstore.png

Volume 1 Issue 1

From Religion
Jump to navigation Jump to search

Alhamdu Lillah, the first issue of AMJRT is being presented here with a diversity of articles. We have received 16 odd papers and 10 of these are finally selected for the first issue on behalf of national and foreign blind peer reviews. The Urdu section contains 7 papers. The first paper is by Hafiz Waqas khan entitled, “Ideological Challenges of Atheism to the Muslim Societies and their Solutions from Islamic Perspective”. The second paper is, “Reformation of Moral Philosophy and its foundation in Sīrah of the Prophet Muḥammad (ﷺ)”, by Hafiz Muhammad Shariq. The third paper is, “Ethical Vices in Divine Books: A Comparative Study in the Light of Islamic Teachings”, by Dr. Abdul Hameed Arain. The fourth paper is, “Islamic Philosophy of Fundamental Rights of Non-Muslim Minorities: A Qur’ānic Perspective”, by Mr. Muhammad Muddassar. The fifth paper is, “Sources of Qur’ānic Narrates of Syedah Mariam (AS) (A Critical Analysis of the Orientalistic Approach”, by Dr. Muhammad Tayyib Usmani. The sixth paper is, “Critiques of Fr. Zakaria Boutros on Noble Sīrah of the Prophet Muhammad ﷺ: A Scholarly Review”, by Mr. Saeed ul Haq Jadoon & Dr. Saeed ul Rehman. The seventh paper is, “Understanding the Importance of Consensus in Islamic Schools of Thought: Overview in the Context of Pakistan”, by Dr. Samina Nasir.

Al-Milal: Journal of Religion and Thought 
Al-Milal- Journal of Religion and Thought.jpg
English title of the first issue of Al-Milal Journal of Religion and Thought.
DisciplineComparative Religions
Double blind
LanguageEnglish, Urdu, Arabic
Edited byBilal Ahmad Qureshi
Publication details
History2019-present
Publisher
Pakistan Society of Religions (Pakistan)
Frequency2 issues per year
Open Access
LicenseCreative Commons Attribution-NonCommercial 4.0 International License. CC BY NC
ISO 4Find out here
Indexing
ISSN2663-4392 (print)
2706-6436 (web)
Links
None
None
24 Weeks

The English and Arabic sections contain a total of three papers. The eighth paper is in Arabic Language and entitled, “Christian Monasticism and Islamic Mysticism and its Impact on Various Aspects of Human Life: An Analysis from Islamic Perspective”, by Mr. Muhammad Zulqarnain. The ninth paper, which is in English language, is presented by an African scholar, Dr. Nkoberanyi Caroline, entitled, “Christian-Muslim Theological Dialogue: A Case of Catholic Universities in East African Universities”, and the tenth and last paper, which is also in English language, is written by Dr. Riaz Ahmad Saeed, entitled, “Western Parameters of Freedom of Expression: A Critique from Islamic Perspective.”

عصر حاضر میں مسلم معاشروں کو درپیش نظریہ الحاد کا فکری چیلنج اور اسلامی تناظر میں اس کا حل

مصنف/مصنفین: خان، حافظ وقاص

عصرِ حاضر میں مسلم معاشروں کو نظریہ الحاد کا فکری چیلنج درپیش ہے ، الحادی فکر کا مقابلہ کرنے کے لیے اور مسلم معاشروں کو اس سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس نظریہ کا عمیق مطالعہ کیا جائے ، اسے سمجھ کر مدلّل انداز اپناتے ہوئے نظریاتی میدان میں اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی جائے اور ساتھ ہی اسلامی تناظر میں اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے تجاویز پیش کی جائیں۔ اس مقالے میں الحاد کی تعریف ، تاریخ ، اقسام، اسباب ، ملحدین کی سرگرمیاں اور اسلامی معاشروں پر اس کے اثرات بیان کرتے ہوئے اسلامی تناظر میں اس کا حل اور تجاویز پیش کی جائیں گی ۔

فلسفۂ اخلاق کی تشکیل نو اور سیرت طیبہ میں اس کی نظریاتی بنیادیں

مصنف/مصنفین: شارق، حافظ محمد

انسانی اپنی فطرت کے ہی اعتبار سے ایک ایسی مخلوق ہے اور وہ کبھی بھی تنہا زندگی بسر نہیں کر سکتی۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ ایک ناتواں وجود ہے جسے پرورش کے لیے خاندان اور افراد کی ضرورت ہوتی ہے ، سماجی تعلقات کی یہ احتیاج محض بچپن کی مجبوری نہیں بلکہ آخری لمحے تک کی ضرورت ہے۔ انسان دنیا میں رہتے ہوئے اپنی خواشات اور مفادات کے بارے میں بھی سوچتا ہے اور لوگوں سے تعامل بھی کرتا ہے ۔یہ بھی ذہن نشین رہے کہ اسے ارادہ و اختیار بھی حاصل ہے، چنانچہ بہت سی صورتوں میں اس کی خواہشات یا رویہ سماج کے دیگر افراد کے ہم آہنگ نہیں ہوتیں۔ ایسے میں لازم ہے انسان کے پاس ایک ضابطہ موجود ہو جس کی روشنی میں وہ یہ طے کر سکے کہ اسے معاشرے میں کس طرح دوسروں سے ہم آہنگ زندگی بسر کرنی ہے۔ انسانیت کا یہی تقاضا ضابطہ اخلاق کی صورت میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ کسی سماج میں اگر اخلاق ناپید ہو جائیں تو وہ معاشرہ انتشار اور تباہی کا شکار ہوجاتا ہے جبکہ اخلاقی اعتبار سے بلند معاشرے دنیا و آخرت میں کامرانی کا ضامن ہوتے ہیں۔اخلاق کی اسی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے قدیم زمانے سےہی اس موضوع پر غور و فکر کیا جاتا رہا ہے۔ زمانہ قدیم سے آج تک اخلاقیات کے سینکڑوں فلسفے پیش کیے جاچکے ہیں جن میں بہت گردشِ ایام کی نذر ہوچکے ہیں جبکہ بہت سے نظریات آج بھی زندہ ہیں۔ اس تحقیقی مضمون میں ہم جدید اخلاقی نظریات کا تجزیاتی مطالعہ کریں گے اور ساتھ ہی یہ دیکھیں گے کہ ہمیں فلسفہ اخلاق کے بارے میں سیرت سے کیا تعلیمات و اصول مل سکتے ہیں۔

الہامی کتب (تورات، زبور، انجیل اور قرآن) میں وارد اخلاقی رزائل کا تقابلی مطالعہ

مصنف/مصنفین: آرائیں، عبد الحمید

انسانوں کی راہنمائی کے لیے ہر زمانے اور ہر قوم میں پیغمبر و ہادی مبعوث ہوتے رہے۔ان کے ساتھ ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ نے الہامی کتب بھی نازل فرمائیں ۔ اور اس طرح بنی نوع ِ انسان کی ہدایت و رہنمائی کا مکمل سامان کر دیا۔ ان میں سے چار کتب کا نام اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ۔ جیسا کہ تورات، زبور، انجیل اور قرآن مجید۔اس کے علاوہ اگر حالات و واقعات کا جائزہ لیا جائے تو بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہی چار کتب الہامی ہیں اورعصرِ حاضر تک کسی نہ کسی حالت میں موجود ہیں۔ان کتب میں مختلف انداز اور مختلف طریقوں سے بنی نوع انسان کو اخلاقی رزائل سے بچنے کی تلقین و تاکید کی کئی ہے۔مقالہ ہذا میں ان اخلاقی رزائل کا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جائزہ لیا گیا ہے تاکہ مقالہ کی تعلیم مفصل، قابل عمل اور دوررس نتائج کی حامل ہو۔

غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق کا اسلامی فلسفہ: قرآنی تناظر میں تجزیاتی مطالعہ

مصنف/مصنفین: مدثر، محمد اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ۔پھر لا تعداد مخلوقات کو تخلیق کیا ۔جن میں چرند ، پرند ،حیوانات ،نباتا ت اور جمادات وغیرہ شامل ہیں ان میں سے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا۔ ارشادِباری تعالیٰ ہے ۔ ﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ ۔۔۔ وَفَضَّلْنٰهُمْ عَلٰي كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيْلًا﴾ "اور ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی …اور ہم نے ان کو بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی"

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشراف المخلوقات بنایا ہے اور اسےعقل اور قوت گویائی جیسی نعمتوں سے نوازا ہے ۔انسان کیلئے زمین کو بچھونا بنایا اور پھر زمین میں بلندوبالا پہاڑنصب کر دیے اور ان پہاڑوں کے اندر انواع واقسام کی معدنیات کے ذخائر رکھ دیے۔سمندر بنائے ان آبی مخلوقات سےانسان فائدہ اٹھاتے ہیں اور سمندروں کے ذریعے تجارت کرتے ہیں ۔ آسمان کو چھت بنایا اور اس میں ا نگنت ستارے اور سیارے بنا کر آسمان کو انسان کیلئے مزین کیا انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اس کو آزاد اور بے مقصد نہیں چھوڑا بلکہ بتایا کہ انس و جن کی تخلیق کا مقصد عبادت الہی قرار دیاہے اور پھر انسان کی ہدایت و رہنما ئی کیلئے مختلف زمانو ں میں اپنے انبیاء والرسل بھیجے جو انسانوں کو صراط مستقیم کی طر ف رہنمائی کرتے رہے اس سلسلے کی آخری کڑی حضرت محمدﷺ خاتم الرسل ہیں اور اس سلسلے کی آخری الہامی کتاب قرآن حکیم ہے جو تا قیامت تمام انسانیت کو ہدایت کی طر ف بلاتی اور راہنمائی فرماتی ہے حضر ت محمدﷺ خاتم الرسل ہیں آپﷺ کے بعد تاقیامت کوئی نبی یارسول نہیں آئے گا لہذا آپ کی تعلیمات تمام کائنات کے بسنے والے انسانو ں کیلئے تا قیامت رشد وہدارہدایت کا ذریعہ ہیں قرآن وسنت صرف ماننے والوں کیلئے ہی ضابطہ حیات نہیں ہے بلکہ تمام انسانو ں کیلئے ہے اسلام انسان کو اشرف المخلوقات قرار دے کر اپنے منکرین کا حق انسانیت ان سے چھینتا نہیں بلکہ قرار دیتا ہے۔یہاں تک کہ قرآن حکیم غیر مسلم اقلیتوں کو بھی برا بھلا کہنے سے بھی منع فرماتا ہے

قرآنی قصص مریم علیھا السلام کا ماخذ: استشراقی رجحانات کا تنقیدی جائزہ

مصنف/مصنفین: عثمانی، محمد طیب فطرتِ انسانی ہے کہ وہ سابقہ اقوام و قریٰ کے احوال و قصص کی سماعت و قراءت سے اپنے اندر ایک داخلی تأثر محسوس کرتا ہے،ایک سلیم الفطرت والعقل فرد اپنے اردگرد پیش آنے والے سانحات و حادثات میں غور کرتا ہے اور اس کے مبادیات ومقدمات اور ان کے ذریعے حاصل ہونے والے نتائج میں غور و فکر کرتا ہے تاکہ ایجابی و سلبی پہلوؤں تک رسائی حاصل کرے اور پھر حصول مقاصد میں ان سلبی پہلوؤں سے پہلو تہی اور مثبت پہلوؤں کو اختیار کر کے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکے ۔ قرآن کریم جو قیامت تک آنے والے انسانوں کی ہدایت وراہنمائی کرنے والی الہامی آخری کتاب ہے‘ نے ان قصص و وقائع کے بیان سے انسانی فطری مزاج کے اس تارکو چھیڑا ہے۔ عموما ان احوال ِاقوام و اشخاص کے قرآنی بیانات کی وجہ حصولِ خیر و حسن کی رغبت دلا کر انسانیت کو سعادت و شقاوت کا فرق سمجھانا ہے ، لیکن کچھ ایسے قصص بھی ہیں جن کے مقاصدان قصص کی جزی تفصیلات پر پڑی گرد کو ہٹا کر اہل ایمان کے لیے ان شخصیات کے بارے میں ضروری تفصیلات فراہم کرنا ہے ۔ انہی قصص میں مریم علیھا السلام کا قصہ بھی ہے۔قرآن کریم نے اس قصے کی ایسی تفصیلات فراہم کیں ، جن سے سابقہ کتب ِ سماویہ خالی تھیں ۔ ان تفصیلات کے بارے میں استشراقی مطالعات کا حاصل ہمیشہ یہی رہاہے کہ پیغمبر ِ اسلام ﷺ نے یہود ی و مسیحی متنی مآخذ سے استفادہ کیا اور اسے قرآنی الہامی مواد کے طور پر پیش کردیا ۔ مریم علیھا السلام کے قرآنی قصص کے بارے میں مستشرقین کے شبھات دو طرح ہیں : 1- مریم علیھاالسلام کے نام میں قرآنی غلطی ۔

2- احوال مریم علیھا السلام کے بارے میں قرآنی بیانات کا ماخذ: مسیحی لٹریچر ۔

سیرت طیبہ پر قسِیس زکریا بطرس کی تنقیدات کا تجزیاتی مطالعہ

مصنف/مصنفین: جدون، سعید الحق، سعید الرحمن

سیدنامحمدﷺ قیامت تک تمام انسانوں کے لیے رہبراور مثالی قائد ہیں۔ بنی نوعِ انسان کے لیے آپ ﷺ کی سیرت ایک بہترین اورلائقِ تقلید نمونہ ہے مگر قابلِ افسوس امریہ ہے کہ بعض احبار، قسِیس اور مستشرقین وملحدین کو نبئ رحمت ﷺ کی حیات طیبہ کسی طوربھی قبول نہیں ہے ،وہ آپ ﷺ کی تعلیمات کے ساتھ ذاتِ پاک کو تنقید کا نشانۂ بناتے رہے ہیں اس طرح مختلف نوعیت کے اعتراضات سے سیرتِ طیبہ کو مشکوک بنانے کے لئے سرگرم ہیں ۔ اس حوالے سے عرب وعجم میں مختلف لوگوں نے اسلامی مآخذ سے ضعیف اور موضوع روایات کا سہارا لےکر آپ ﷺ کی سیرت طیبہ پر وارکیے ہیں، اسی ضمن میں عالم ِ عرب کے مشہور قسِیس زکریا بطرس کو بڑی شہرت حاصل ہوئی، جس نے "حوار الحق" کے نام سے مختلف ٹی وی پروگرامزمیں دینِ اسلام، قرآن مجید اور بالخصوص سیرتِ طیبہ پر مختلف قسم کے اعتراضات کئے ہیں، جواباً عالم اسلام کے علماء اور محققین نے مختلف اوقات میں اظہارِ خیال بھی کیا ہے۔ان پروگرامز میں زکریابطرس نے ضعیف اور موضوع روایات کی بنیاد پر سیرت طیبہ کی اصل شکل کومسخ کرنے کی لاحاصل سعی کی ہے،اس طرح انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں جس میں اس طرح کے اشکالات کو بیان کیا ہے

مسالک کے مشترکات کے ادراک کی اہمیت: پاکستان کے تناظر میں تجزیاتی مطالعہ

مصنف/مصنفین: ناصر، ثمینہ

اسلام امن و محبت کا پیامبر ہے۔ اسلامی فلاحی معاشرہ کی تشکیل میں اتفاق و اتحاد بنیادی تعلیمات ہیں۔معاشرہ اسی صورت میں پروان چڑھتا ہے جب افراد ِ معاشرہ میں اتفاق و اتحاد، مذہبی و مسلکی ہم آہنگی ہو۔ پاکستانی معاشرے میں انتشار و افتراق کی بنیادی وجہ جہالت ،دوسرے فرقوں کے بارے میں لاعلمی ،غلط فہمیاں ،غلط تصورات اور افواہیں ہیں۔پاکستان کے سماجی مسائل میں میں سے ایک بنیادی اور اہم مسئلہ فرقہ واریت ہے۔اس کے اسباب زیادہ تر سیاسی و سماجی نوعیت کے ہیں تاہم کچھ چیزیں علمی نوعیت کی بھی ہیں جنہیں علماء تک ہی محدود ہونا چاہیے ۔الزام و التزام کے رویوں، مفاہمانہ اور مکالمانہ انداز کے بجائے مناظرانہ اور جارحانہ طرز نے ہمارے اخلاقی معیار کو پست کر دیا ہے۔پاکستان کے تناظر میں اس مقالے کا مرکزی موضوع یہ رہے گا کہ ان اصولوں کی نشاندہی کی جائے جن پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بنیادیں استوار ہو سکیں۔اس مقالہ میں ہم مسلکی متفرقات کی بجائے مشترکات کا جائزہ لیں گے اور اس کے ادراک کی اہمیت کو واضح کریں گے۔ تاکہ امت مسلمہ، خصوصاً پاکستان کے اصحاب فکر و نظر اپنے علم و تحقیق کی حد تک کسی ایسے نتیجہ پر پہنچ سکیں جو ہمیں کسی مشترک لائحہ عمل تک پہنچا سکے۔ مقالے کا انداز بیانیہ اور تجزیاتی( Descriptive and Analytical)اختیار کیا گیا ہے۔

الرهبانية المسيحية والتصوف الإسلامي و تاثيرهما على الجوانب المختلفة للحياة الإنسانية: دراسة تحليلية

مصنف/مصنفین: ذوالقرنین، محمد إن الحمد لله؛ نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضّل له، ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله. أمابعد فإن الحياة الرهبانية التقشفية تُعدّ من أهم االممارسات التى نشرت فى العالم. والناس الذين يختارون هذا النمط للحياة، يسمون بأسماء مختلفة مثل الصوفياء أو المتصوفين أو الرهبان أو النساك. ومن أهم العناصر العقدية أو الفكرية للتمسك بمثل هذا الأسلوب من الحياة الدينية، الإنفصال عن العالم، وتعذيب النفس بالشدائد، وتخلى النفس لكثرة العبادة والرياضة. وهناك بعض الأسباب الداخلية والخارجية لدخول هذه الفكرة فى الإسلام. فعندما دخلت الأمم الأجنبية فى الإسلام، أحضرت معها عقائدها السابقة. فاشتهرت هذه الفكرة الرهبانية بإسم التصوف فى الإسلام، فسوف أناقش قضية ظهور التصوف و مدى تأثيره فيما يأتي حول إستخدام كلمتي التصوف والرهبانية ومدلولاتهما .

ويركز هذا البحث العلمي على نشأة العقيدة الرهبانية فى الميسيحية ثم تأثيرها فى التصوف الإسلامي عبر القرون المختلفة، وآثارها التى تترتب على الحياة الإنسانية، وتحليلها فى ضوء تعاليم الإسلام. فالمنهج الذى أستخدمه في كتابة هذا البحث العلمي فهو المنهج الوصفى والتحليلي بشرح مفهوم العقيدة الرهبانية وتطورها التاريخي، وإنعكاساتها فى الحياة الإنسانية، وتحليلها فى ضوء النصوص الشرعية. ویتكون البحث من مقدمة وأربعة مباحث- ثم الخاتمة.

Christian-Muslim Theological Dialogue: The Case of Catholic Universities of East Africa

Author: Caroline, Nkoberanyi
Christians and Muslims interact on a daily basis but as far as their beliefs and practices are concerned, there is a general mutual apprehension, suspicion, stereotyping, mistrust, insulting and even physical confrontations. The aim of this paper, therefore, is to examine how Catholic universities in East Africa can help Christian students and others to rethink their attitudes towards Muslims in view of the official teaching of the Church. The findings from the reviewed formal Christian and Muslim statements show that theological dialogue is valid and necessary for fostering peaceful relations. It therefore urges Catholic universities and other learning institutions to assist students to know more about their own religious traditions and those of others through formal theological training, seminars and provision of reading materials in order to participate effectively in this kind of dialogue.

Western Parameters of Freedom of Expression: A Critique from Islamic Perspective

Author: Saeed, Riaz Ahmad
This study explores Western parameters and principles of freedom of expression from an Islamic perspective. Western thought advocates infinite freedom of speech but it also has some regulations, limits and restraints. Every Western human rights instrument and convention guarantee freedom of expression, but in fact, the excess of freedom is bringing the society to a harsh kind of clash and conflict. In simple words, freedom without sufficient legal and moral restrictions cannot be managed. It is also observed that without strict legal and moral boundaries, it cannot become fruitful for the state and society. Even the Western world, which is representative of maximum freedom of speech, also bounds freedom of expression with some parameters and restrictions. However, it is propagated that the Western laws provide outclass freedom of expression and speech. The actual situation is not as good as it is expressed, because on one hand, the international instruments provide freedom of speech and on the other, they limit it through certain laws. It means freedom of expression is not free of boundaries in the West also. In other words, it is only a mythology and controlled propaganda that the Western thought and civilization provides absolute and unlimited freedom of expression and press in their countries. Instead, Islamic teachings categorically agree to provide the right to freedom of expression but on the other hand, it binds them with some social, moral and legal boundaries to save the society from any kind of clash and conflict. It is perceived Western legal instruments limit freedom of expression with some legal boundaries and laws rather than ethics and morals. It is recommended on behalf of this study that the Western world also puts moral and religious boundaries on freedom of expression for its safety. An analytical & critical approach with qualitative research methodology is adopted in the study.