تجارت میں جعل سازی کا بڑھتا ہوا رحجان اور حکومتی ذمے داریاں

From Asian Research Index - Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ التفسیر
عنوان تجارت میں جعل سازی کا بڑھتا ہوا رحجان اور حکومتی ذمے داریاں
مصنف اللہ، سمیع
جلد 35
شمارہ 1
سال 2020
صفحات 342-359
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Fraud, Trade, misrepresentation, government responsibilities.
شکاگو 16 اللہ، سمیع۔ "تجارت میں جعل سازی کا بڑھتا ہوا رحجان اور حکومتی ذمے داریاں۔" التفسیر 35, شمارہ۔ 1 (2020)۔

Contents

شیخ سعید حوی اور ان کی تفسیر: ایک مطالعہ
علامہ اسید الحق قادری بدایونی کی کتاب ”قرآن کی سائنسی تفسیر“: ایک مطالعہ
ترجمۃ القرآن از عبد السلام بن محمد کے خصائص و ممیزات اور تفسیر القرآن کا تحقیقی مطالعہ
علماء اہلسنت (بریلوی) کی تفاسیر کا اسلوب بیان: ایک جائزہ
مذہبی اجارہ داری کے انسداد میں مفسرین کی خدمات کا تجزیاتی مطالعہ
تشبہ بالکفار اور قرآنی تعلیمات: ایک تحقیقی جائزہ
عورت کی ازدواجی حیثیت اور تولیدی صحت سے متعلق تصورات کا تجزیہ
خلع میں شوہر کی رضامندی کے دلائل اور عدالت کا دائرہ اختیار: تجزیاتی مطالعہ
قتل غیرت اور اسلامی تعلیمات: فیصل آباد ڈویژن کے تناظر میں: ایک تجزیاتی جائزہ 2016ء تا 2018
سیرت رسول ﷺ اور انسانیت کا احیاء تہذیبوں کے پیرائے میں
عہد رسالت میں مملکت کا بنیادی تصور: ایک تحقیقی جائزہ
سماج کے کمزور طبقات کے ساتھ رسول اللہﷺ کا طرز عمل
صوفیہ کے ملفوظاتی ادب میں معجزہ معراج النبی ﷺ: ایک مطالعہ
ماحولیات، جدید چیلنج اور تعلیمات نبوی ﷺ
فقہی مسائل میں تطبیق: ” کتاب المیزان “ کا تعارف و جائزہ
امام غزالی کے فکری اسفار کا مطالعہ
مولانا ابو یوسف محمد شریف محدث کوٹلوی کی خدمات حدیث شریف
اسلام اور مغرب میں خاندانی نظام کا تقابلی جائزہ
فیملی بزنس میں زکوۃ کے مسائل اور ان کا حل
تجارت میں جعل سازی کا بڑھتا ہوا رحجان اور حکومتی ذمے داریاں
لسان العرب کا تعارفی و تحقیقی مطالعہ
Evolution of Arabic Literature in Nigeria: Case Study of Tafa’sir
Stealing, Usury, Wine and Divorce in the Sami Religions of the World
Haq Bakhshish (Marriage to Quran) : A Custom Confused With Religion: A Case Study of Qaisra Sharaz’S Protogonist ‘Zari Bano’ from the Novel Holy Woman
Religious Education and Community Services: Importance of Islamic Studies Education As Tool for Social Services and Community Welfare
Role of Media in Building an Islamic Society
Soft Power: An Invasion to Pakistani Culture

Abstract

Allah Almighty has blessed us with Islam, which contains comprehensive teachings for all the fields of life. It also guides its followers about business & trade. The Islamic Sharia has urged the followers to always speak the truth _ particularly in financial transactions _ and to avoid falsehood, misrepresentation, fraud, deceitfulness etc. The present-day industrial and technological developments have introduced new products and that too on a very large scale. International trade as well as local trade has flourished multifold. But along with all this, many types of fraud have also become rampant. In such circumstances, it is the responsibility of the government to eradicate such evil practices so that the public and consumers are protected . In this article, we will discuss different forms of fraud in trade and the government responsibilities to control them.

تجارت میں جعل سازی کا بڑھتا ہوا رحجان اور حکومتی ذمے داریاں

(شری وعقل دلائل کی روشنی میں ایک علمی وتحقیقی جائزہ)

سمیع اللہ[1]

Abstract

Allah Almighty has blessed us with Islam, which contains comprehensive teachings for all the fields of life. It also guides its followers about business & trade. The Islamic Sharia has urged the followers to always speak the truth _ particularly in financial transactions _ and to avoid falsehood, misrepresentation, fraud, deceitfulness etc.

The present-day industrial and technological developments have introduced new products and that too on a very large scale. International trade as well as local trade has flourished multifold. But along with all this, many types of fraud have also become rampant. In such circumstances, it is the responsibility of the government to eradicate such evil practices so that the public and consumers are protected .

In this article, we will discuss different forms of fraud in trade and the government responsibilities to control them.

KEYWORDS: Fraud, Trade, misrepresentation, government responsibilities.

اللہ تبارک وتعالی نے مذہب ِاسلام کی شکل میں ہمیں جودین عطافرمایاہے وہ اتناکامل اورمکمل ہے کہ اس میں زندگی کے ہر شعبے سے متعلق واضح اورابدی ہدایات موجود ہیں۔ ہمارے دین میں دنیوی حیات کا کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں ہے جس کے متعلق دوسرے مذاہب کی طرح یہ کہہ دیاگیاہو کہ یہ انسان کی نجی زندگی سے تعلق رکھتاہے اوروہ اس میں مکمل آزاد ہے ،جیسے چاہے کرے۔ بلکہ اسلام نے انسان کی فطری آزادی کی رعایت رکھتے ہوئے زندگی کے ہر پہلو سے متعلق اس کی بہترین رہنمائی کی ہے ۔ چنانچہ کاروباروتجارت( جوکہ انسانی زندگی کاایک لازمی اوراہم ترین جز ہے) سے

متعلق دین ِاسلام کی نہایت قیمتی اوربہترین تعلیمات موجود ہیں۔ شریعت ِ مطہرہ نے تمام باہمی معاملات صاف صاف کرنے کی ترغیب دی ہے،بالخصوص مالی معاملات میں سچائی،راست بازی اورصاف گوئی کاحکم دیاہے ۔ جھوٹ،غلط بیانی، دھوکا دہی اورجعل سازی سے بچنے کاتاکیدی حکم اوران برائیوں کے وبال میں پڑنے سےخوب ڈرایاہے ۔

موجودہ دور چونکہ ایک صنعتی دور ہے ۔اس لیے اس میں جہاں ایک طرف معاشرے اورافراد کی ضروریات میں جدت آئی ہے وہیں مارکیٹ میں نت نئی مصنوعات اورجدید سازوسامان کی بھی کثرت ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں ہر شخص جدید سے جدید اشیا کامتلاشی ہے ۔صنعتی ممالک نے جہاں ایک طرف حیران کن مصنوعات کی بھر مار کردی ہے وہیں دوسری طرف زبردست مارکیٹنگ کرکے دنیاکے ہر خطے میں ان کی ڈیمانڈ بھی پیدا کردی ہے ۔ اسی وجہ سے آج کاروباراور تجارت کا میدان بہت وسیع ہوگیاہے ،ملکی تجارت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تجارت میں بھی خوب ترقی ہوئی ہے ۔ مختلف کمپنیوں کے درمیان مصنوعات کوتیار کرنے اوربیچنے میں مقابلے کی فضا قائم ہوگئی ہے ۔ اس گرم بازاری اورمقابلے کی فضا پیداہونے کے نتیجے میں دھوکا دہی اور جعل سازی بھی ایک فن کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔مارکیٹ میں فراڈ اور غلط بیانی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ا س کی مختلف صورتیں اورنئے نئے اسلوب اورجدیدترین طریقے متعارف ہوگئے ہیں۔خاص طور پر صنعتی ممالک میں گاہکوں کواشیاکےخریدنے پرابھارنے کےلیے ایڈورٹائزنگ کےنئےنئےفن ایجادہوچکے ہیں۔ تاجروں اور خریداروں کواپنی مصنوعات،پیداوار اورجدیدسازوسامان کی طرف راغب کرنے کے لیے بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔اس مقصد کے لیے اپنی پروڈکٹ کی مبالغہ آمیز تعریفیں کی جاتی ہیں ،اس کے عیوب چھپائے جاتے ہیں ، ایڈورٹائزنگ کے جدید ذرائع اور اسباب استعمال کرکے گاہکوں کو ان مصنوعات کی غیر حقیقی صورت ِحال باور کرائی جاتی ہے ۔

پھریہ دھوکا دہی اورجعل سازی صرف استعمالی مصنوعات ہی میں نہیں ہے بلکہ غذائی مواد اوربنیادی ضرورت کی اشیا میں بھی پھیلی ہوئی ہے اور اس کے نتیجے میں انسانی صحت پر اس کے مضر اثرات بہت تیزی کے ساتھ واقع ہورہے ہیں جن کامشاہدہ ہرشخص اپنے اردگرد کے ماحول میں کرسکتاہے ۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ تجارت کے اکثر معاملات میں دھوکا دہی اورجعل سازی کی برائی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہوتی ہے ،یہاں تک کہ آج مارکیٹ میں اس کوتاجر کی بڑی مہارت اورسمجھ داری سمجھا جانے لگاہے ،اسی وجہ سے اس برائی سے بچنے کی طرف کوئی توجہ اور دھیان نہیں ۔

اگر غور کیاجائے تو ہمارے معاشرے میں دھوکا د ہی اور ملاوٹ کی جدید صورتیں اوراس کی نئی نئی اقسام ایک ایسی اجتماعی آفت ومصیبت کی شکل اختیار کرچکی ہیں کہ ان کے نتیجے میں تجارت کے بنیادی اصولوں میں خلل واقع ہوگیاہے، انسانی اخلاقی اقدار پامال ہورہی ہیں ،اصل انسانی زندگی کی صورت مسخ ہوگئی ہے ۔ اس دھوکا دہی اورجعل سازی کانقصان صرف صارفین تک ہی محدود نہیں رہابلکہ پیداواری گروپ اورمعاشرے کے دیگر افراد بھی اس کے مضر اثرات سے محفوظ نہیں ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ سوسائٹی کی موجودہ صورت ِحال ایک صحت مند معاشرے کے وجود کو چیلنج کررہی ہے ۔ معاشی اور اقتصادی شرحِ نمو کو نقصان پہنچارہی ہے اورمعاشرے کے افراد کے درمیان باہمی اعتماد کی فضا کوختم کررہی ہے ۔یہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے صارفین معاملات کرنے سے گریزاں ہیں ،جس کے نتیجے میں ہم کساد بازاری کاشکار ہیں اوردن بہ دن معیشت تنزلی کی جانب رواں دواں ہے ۔

ایسے حالات میں جہاں ایک طرف تاجر برادری میں اس برائی سے بچنے کاشعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے وہیں حکومت پر بھی یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مارکیٹ کی موجودہ غیر تسلی بخش صورت ِحال کوکنٹرول کرے اوراپنے اداروں کواس سلسلے میں فعال کرداراداکرنے کاپابند کرے، تاکہ ا پنے عوام اور صارفین کونقصانات سے بچایاجائے ، اس طرح کے نقصانات سے تحفظ کرنا یعنی عوام کوجعل سازی اوردھوکے سے بچاناحکومت کی بنیادی ذمے داری ہے ۔

اس مقالے میں ہم شرعی حوالے سے اس پر گفتگوکرنے کے ساتھ ساتھ اس سلسلے میں حکومت پر جوشرعی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالیں گے ۔کیونکہ موجودہ حالات میں مسلمانوں کا معاملات اورتجارت سے متعلق شرعی احکام کوسمجھنابہت ہی اہم ہے اورانھی احکام پر عمل کرنے سے ہماری تجارت اورمعیشت زبردست ترقی کرسکتی ہے ،خاص طور پر اس زمانے میں جس میں معاملات کے بے شمار طریقے وجود میں آگئے ہیں،تجارت کے نئے میدان کھل گئے ہیں اوراس کے مختلف اسلوب رائج ہوچکے ہیں ۔

اسلام میں تجارت کا ایک اہم اصول

اللہ تعالی نے قرآن کریم میں کاروبار اور تجارت سےمتعلق ایک ایساجامع اصول بیان فرمادیاہے جوتجارت کوہرقسم کی برائی سے پاک کرنے کے لیے کافی وافی ہے ،قران کریم میں اللہ تعالی کاارشاد ہے :

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ([2])

”اے ایمان والو!آپس میں ایک دوسرے کے اموال ناحق طریقے سے مت کھاؤ،الّایہ کہ کوئی تجارت باہمی رضامندی سے وجود میں آئی ہو(تووہ جائز ہے )۔ “

یہ آیت مالی معاملات اوراسلامی تجارت کی روح ہے،اس آیت میں واضح طورپر کسی کامال ناحق طریقے پر کھانے سے منع کردیاگیاہےاور تجارت میں باہمی رضامندی کوشرط قراردیاگیا ہے ۔اور ظاہر ہے کہ مالی معاملات میں باہمی رضامندی اسی وقت موجود ہوسکتی ہے جب معاملہ بالکل واضح ہو،اس میں کسی قسم کا دھوکا ،فریب اور جعل سازی نہ ہو ، صاف ستھرااور بے غبار معاملہ ہو،کسی قسم کااس میں اشتباہ نہ ہو، نہ وہ کسی لڑائی جھگڑے کا ذریعہ بنے۔

تجارت میں باہمی رضامندی انسانی فطرت کاتقاضاہے

تجارت میں انسان اپنامال دے کر دوسرے کامال حاصل کرتاہے ،اموال کاایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ ہوتاہے۔ ہرانسان کی دلی تمنا اورخواہش ہوتی ہے کہ میرامال ضائع نہ ہو،مجھے اس کامعقول اورمناسب عوض ملے ،میرے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی اورزیادتی نہ ہو،میری رضامندی سے میرامال دوسرے کے پاس جائے۔اگر انسان کی فطرت سلیم ہوتووہ دوسرے کے مال کے بارے میں بھی یہی سوچتاہے کہ وہ اس کی مکمل خوشی کے ساتھ میرے پاس آئے اوراس کے ساتھ کسی قسم کاظلم نہ ہو،اس کوبھی اپنے مال کی مناسب قیمت ملے۔ اسلام چونکہ دین ِفطرت ہے ،اس لیے اس کاہرحکم انسان کواس کی اصل فطرت کی طرف بلاتاہے ۔اسلام کاکوئی حکم بھی انسانی فطرت کے خلاف نہیں ہوتا۔چنانچہ اسی انسانی فطرت کی رعایت رکھتے ہوئے اللہ تعالی نے مذکورہ بالاآیت میں باہمی رضامندی کوتجارت کے لیے شرط قراردیا۔ہاں اگر ماحول کی خرابی کی وجہ سے انسان کی فطرت ہی سلیم نہ رہے تو ظاہرہے کہ اس سے کسی خیر کی توقع نہیں رکھی جاسکتی ۔ ایسی صورت میں پھر انسان دوہرے معیار اپناتاہے کہ اپنے لیے الگ معیاراوردوسرے کے لیے الگ معیارمقرر کرلیتاہے ۔اسی خصلت کوختم کرنے کے لیے حدیث میں یہ ترغیب دی گئی ہے :

عن أنس رضی اللہ عنہ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا يؤمن أحدكم، حتى يحب لأخيه ما يحب لنفسه([3])

”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسندنہ کرے جواپنے لیے پسند کرتاہے ۔“

اوربیہقی کی روایت میں یہی بات اس سے زیادہ عام الفاظ میں بیان کی گئی ہے :

أحب للناس ما تحب لنفسك([4]) ”لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جواپنی ذات کے لیے پسند کرتے ہو۔“

ظاہر ہے کہ جب انسان دوسرے کے لیے اس زاویۂ نگاہ سےسوچےگا،جس زاویے سے وہ اپنے بارے میں سوچتاہے تو یقیناوہ نہ کسی کودھوکا دے گا،نہ کسی کاحق مارے گا،نہ جھوٹ بولے گااور نہ ہی کسی کے ساتھ بددیانتی کاارتکاب کرے گا۔بلکہ وہ ان باتوں کودوسرے کے لیے بھی ایسے ہی ناپسند کرے گاجیسے اپنے لیے ناپسند کرتاہے ۔

اسلام میں تجارت ایک مقد س پیشہ

اسلام میں تجارت کو ایک اہم اور مقدس پیشے کے طورپر متعارف کرایاگیاہے ،سچی اورصحیح اصولوں پر مبنی تجارت کی خوب حوصلہ افذائی کی گئی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارت میں صدق وامانت اختیار کرنے والوں کے بارے میں فرمایا ہے:التاجر الصدوق الأمين مع النبيين والصديقين والشهداء([5])

”وہ تاجر جو تجارت میں صدق وامانت کااہتمام کرتا ہے وہ(قیامت کے دن) ابنیاء،صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔“

تجارت کے ایک مقدس پیشہ ہونے پر ا س سے بڑھ کرکیادلیل ہوسکتی ہے کہ دونوں جہانوں کے سردار،نبی آخرالزمان،تاجدارِختم نبوت حضرت محمد ﷺنے بذاتِ خود تجارت میں حصہ لیااور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا سرمایہ اورمال لے کر تجارت کے لیے شام تشریف لے گئے اور بین الاقوامی تجارت میں امانت ودیانت کی روشن مثالیں قائم فرمائیں اور جس نے آپ کی تجارت کودیکھاوہ آپ کے حسن ِمعاملہ سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔

تجارت میں صاف گوئی اورسچائی حصول ِبرکت کااہم ذریعہ

اسلام میں ویسے تو ہرمعاملے میں سچائی کی پُرزور تاکید کی گئی ہے اورجگہ جگہ سچے لوگوں کی تعریف کی گئی ہے،اسلامی تاریخ سچائی اختیارکرنے اورجھوٹ سے بچنے کے ایسے سنہرے واقعات سے بھری ہوئی ہے جن کوپڑھ کرعقل دنگ رہ جاتی ہے ،تلوار کے سائے میں بھی سچے مسلمانوں کی زبان سے سچ کے علاوہ کوئی بات نہیں نکلی ،سچائی کواختیارکرنے کے لیے اپنی جان کوخطرے میں ڈالنے سے بھی گریزنہیں کیاگیا۔مگرتجارت اورکاروبار میں تواسلام نے سچائی اورصاف گوئی کوبنیادی عنصرقراردیاہے ،اس کو حصول ِبرکت کااہم ذریعہ بتایاہے ،غلط بیانی ،جھوٹ اورعیب چھپانے کی برائی کوبرکت سے محرومی کاسبب قراردیاہے ۔چنانچہ سرکارِدوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے :

البيعان بالخيار ما لم يتفرقا أو قال حتى يتفرقا فإن صدقا وبينا بورك لهما في بيعهما وإن كتما وكذبا محقت بركة بيعهما.([6])

”خرید وفروخت کامعاملہ کرنے والوں کے پاس اختیار ہوتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوئے ہوں ، اگر وہ معاملہ کرنے میں سچائی اختیار کریں اور چیز کی حقیقت صاف صاف بتادیں تو ان کے سودے میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور اگر وہ حقیقت کو چھپالیں اور غلط بیانی کاارتکاب کریں توان کےسودے کی برکت مٹادی جاتی ہے۔“

تجارت میں جعل سازی سے متعلق معاشرے کی عمومی صورت حال

کچھ عرصہ پہلے تک ہمارے معاشرے میں یہ سمجھا جاتاتھا کہ معاملات میں غش یعنی جھوٹ ، دھوکا دہی ، جعل سازی اور خیانت ایک گناہ ہے اور آخرت میں اس پر گرفت ہے ، مگرتربیت بالکل نہ ہونے اورپیسے کی شدید حرص نےاب یہ صورت ِحال پیدا کردی ہے کہ اس کوگناہ ہی نہیں سمجھاجاتا، بالخصوص مالی معاملات تجارت اورکاروبار میں اس کے گناہ ہونے کاتصور ہی لوگوں کے دلوں سے مٹ گیاہے۔لوگ اس کوتجارت کالازمی حصہ اوراپنی فنی مہارت کابہترین ثبوت سمجھتے ہیں۔اگر کسی کو آخرت کاخیال آتابھی ہےتو صرف اس حد تک کہ یہ ایک برائی ہے جس سے بچناچاہیے ۔اس پر توبہ واستغفار کرناچاہیے۔کل قیامت کے دن اللہ تعالی کواس کا حساب دینا ہوگا۔ مگر دنیا میں اس عمل کے کیا شرعی اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟ عموما اس کی طرف کوئی توجہ نہیں ہوتی اور نہ ہی لوگوں کو اس کا علم ہوتا ہے ، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دھوکا دینے والا صرف توبہ واستغفار پر اکتفا کرتا ہے اور دھوکا کھانے والااس کو اپنی قسمت اور مقدر کا فیصلہ سمجھتا ہےاور آخرت میں انصاف کی امید لگاکر دل کو تسلی دیتا ہے ۔حالانکہ یہاں معاملہ صرف آخرت کا نہیں ہے، بلکہ شریعت مطہرہ نے دنیا میں بھی اس طرح کے معاملات کا بہترین حل پیش کرکے فریقین کو اس پر عمل درآمد کا پابند بنایاہے۔

صاف اورشفاف تجارت سے متعلق مسلمانوں اورغیر مسلموں کاعمومی رویہ

اس وقت افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ اسلام نے جتنازور صاف اورشفاف تجارت اپنانے پردیا ہے ہم اتناہی اس معاملے میں غافل ہیں ، اسلام نے جن برائیوں سے بڑی شدت کے ساتھ منع کیاہے ہم بے فکری کے ساتھ ان میں مبتلا ہیں ۔آج غیر مسلموں نے محض اپناکاروبار بڑھانے اوردنیا کے نقصان سے بچنے کے لیے تجارت میں راست بازی ،صاف گوئی اورشفافیت کو بھرپور انداز میں اختیار کرلیاہےجس کی وجہ سے دنیا کی تجارت پر غیرمسلم چھاگئے ہیں اور مسلمان ان سے پیچھے رہ گئے ہیں ۔

آج عالمی سطح پر تجارت کے میدان میں مسلمان تاجروں کاکردار وہ نہیں رہاجوقرونِ اولیٰ میں تھا،جن کے کردار کودیکھ کر لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتے تھے۔برِصغیر پاک وہند میں اسلام انھی نیک دل اورسچے کردار کے مالک تاجروں کی بدولت پھیلناشروع ہوااوررفتہ رفتہ پورے برصغیر میں اسلام لوگوں کے دلوں میں گھرکرگیااورخطے کاپسندیدہ ترین مذہب شمار ہونے لگا ۔جب کہ آج مسلمان تاجروں کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ یہ جھوٹ ،غلط بیانی اور دھوکا دہی سے نہیں چوکتے،جس کی وجہ سے بہت سے لوگ مسلمانوں کے ساتھ معاملات کرنے سے کتراتے ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ اسلام نے معاملات کے لیے ہمیں جن زریں اصولوں کاسبق دیاہےوہ ہم نے نہ صرف یہ کہ بھلادیےہیں بلکہ بہت سے سادہ لوح مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ معاملات میں ہم آزاد ہیں ،اسلام صرف عقائد اور چند عبادات تک محدود ہے،حالانکہ اسلام تو ایک مکمل ضابطہ ٔحیات ہے،زندگی کاکوئی پہلواس سے خارج نہیں ہے۔

اس وقت مسلمانوں پرجدت پسندی اورروشن خیالی کاجوبھوت سوار ہےوہ معاملات میں اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ہمارے یہ نادان مسلمان بھائی یہ سمجھتے ہیں کہ یورپ کی ظاہری ترقی کاراز اسلام سے دوری ہے۔وہ معاملات میں اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں،اسلامی تعلیمات سے اس غفلت اورلاپروائی کے نتیجے میں ہم معاملات کے میدان میں دنیا کی دیگر اقوام سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں ۔

ان حالات میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم معاملات سے متعلق اسلامی تعلیمات اور قیمتی ہدایات کوصحیح معنوں میں سمجھیں ،ان پر پوراپوراعمل کریں اورمعاشرے میں ان کوعام کریں ،تاکہ دنیاکے سامنے اسلام کی عادلانہ معاشی تعلیمات اپنی تمام تر خوبیوں کے ساتھ نکھر کر سامنے آجائیں اور بنی نوع انسان ان ابدی معاشی تعلیمات سے مستفید ہوسکے۔

تجارت میں عیوب نہ چھپانے کی نصیحت حدیث کی روشنی میں

نبی کریم ﷺ نے تجارت میں صرف عیب چھپانے ہی سے منع نہیں فرمایا بلکہ عیب کوبیان کرنے کا حکم دیاہے ۔ آپ کاارشاد ہے :

المسلم أخو المسلم ولا يحل لمسلم إن باع من أخيه بيعا فيه عيب أن لا يبينه له.([7])

”مسلمان مسلمان کابھائی ہے ،مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کوعیب دار چیز فروخت کرے جب تک کہ اس عیب کوگاہک کے سامنے بیان نہ کردے ۔“

پھر نبی کریم ﷺ نے عقد کرنے والے کےلیے مبیع کا عیب ظاہر کرنے کوصرف صاحب ِسامان یااس کے بائع ہی پرواجب نہیں فرمایا بلکہ ہر اس شخص پر جوعیب کوجانتاہو یہ لازم کردیاہے کہ اگر عیب ظاہر اورواضح نہ ہوتو وہ اس کو خریدار کے سامنے بیان کرے اوریہ اس خیرخواہی کاتقاضاہے جس پردین ِاسلام کی بنیاد قائم ہے،خود رسول االلہ ﷺ کا یہ ارشاد ایک حدیث میں مروی ہے :

إن الدين النصيحة إن الدين النصيحة إن الدين النصيحة. قالوا :لمن ؟يا رسول الله! قال: لله وكتابه ورسوله وأئمة المؤمنين وعامتهم وأئمة المسلمين وعامتهم ([8])

”بے شک دین توسراسر خیرخواہی کانام ہے، بے شک دین توسراسر خیرخواہی کانام ہے، بے شک دین توسراسر خیرخواہی کانام ہے،صحابہ نے پوچھا:یارسول اللہ ! کس کےلیے خیرخواہی مراد ہے ؟آپ علیہ السلام نے جواب میں فرمایاکہ اللہ تعالی کے لیے ،اللہ کی کتاب اوراس کے رسول کے لیے ، اہلِ ایمان اورمسلمانوں کے پیشواؤں ،حکمرانوں اورعوام وغیرہ سب کے لیے ۔“

یہ حدیث اس بات پر دلالت کرنے کے لیے کافی اوروافی ہے کہ اسلام لوگوں کوخیرخواہی اورہمدردی کے تصورات اورجذبات کوپیش ِنظر رکھتے ہوئے معاملات کی ترغیب دیتاہے ،تاکہ ایک طرف مالی وغیر مالی معاملات پوری دیانت داری،صاف گوئی ،سچائی اورشفافیت کے ساتھ انجام پائیں تو دوسری طرف معاشرے میں اخوت و محبت اورباہمی اعتمادکی فضاقائم ہواور اس کے نتیجے میں ایک مثالی معاشرہ وجود میں آئے جوپوری دنیاکے لیے ایک رول ماڈل ہو۔

لوگوں کے اموال کا تحفظ

مذکورہ تفصیل سے یہ بات بھی ا چھی طرح واضح ہوگئی کہ اسلام لوگوں کے اموال کی بھرپور حفاظت کرتاہے،ہرشخص کواس کاحق اداکرنے پر زوردیتاہے ،دوسرے کا مال صرف اس کی مکمل رضامندی کے ساتھ لینے کی اجازت دیتاہے۔ ناجائزاورغلط ذرائع سے مسلمانو ں کامال لوٹنے والے شخص کی نہ صر ف حوصلہ شکنی کرتاہے بلکہ اس پر وعیدوں کوبیان کرکے آخرت کی خطرناک سزاؤں سے بچنے کی زبردست تاکید کرتاہے ۔اس لیے ایک اسلامی حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ مسلمانوں کی مارکیٹوں میں اسلامی تعلیمات پر عمل کروائے اورلوگوں کے اموال کی حفاظت کی ذمہ داری لے۔ذیل میں ہم اس کے متعلق حکومتی ذمہ داریوں کی تفصیل عرض کرتے ہیں ۔

مارکیٹ میں جعل سازی کوروکنے کے لیے حکومتی ذمےداریاں

ریاست میں جواچھے یابرے کام ہورہے ہوتے ہیں ان کی نسبت کسی نہ کسی درجے میں ریاست اورحکومت کی طرف ضرور ہوتی ہےاسی وجہ سے حکومت کوسب چیزوں پر نظر رکھنی چاہیے ،بالخصوص مارکیٹوں کی نگرانی ریاست کے اولین فرائض میں سے ہے، کیونکہ ریاست کامعاشی سسٹم اسی کے ساتھ وابستہ ہوتاہے ۔اس لیے ریاست کومارکیٹوں کی کڑی نگرانی کرنی چاہیے،تاکہ مارکیٹ کانظام صحیح چلتارہے ۔یہی وجہ ہے کہ جب سے اسلامی حکومتیں وجود میں آئی ہیں اسی وقت سے وہ مارکیٹوں کے نظام کی دیکھ بھال کرنے کااہتمام کرتی چلی آئی ہیں ۔

صارفین کے اموال کاتحفظ حکومت کی بنیادی ذمہ داری

صارفین اور ان کے اموال کاتحفظ حکومت کا اہم فريضہ ہے ۔ حکومت اور ان کے مختلف اداروں کو اس بات کاخاص اہتمام کرناچاہیے کہ اپنے عوام اور صارفین کو تجارتی نقصانات اور خسارے سے بچائیں ۔جعل سازاوردھوکے باز قسم کے لوگوں کے چنگل سے ان کی حفاظت کریں اوریہ حکومت کی بنیادی ذمے داریوں میں داخل ہے ۔چنانچہ علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

ومعظم ولايته وقاعدتها : الإنكار على هؤلاء الزغلية ، وأرباب الغش في المطاعم والمشارب والملابس وغيرها ، فإن هؤلاء يفسدون مصالح الأمة ، والضرر بهم عام لا يمكن الاحتراز منه ، فعليه ألا يهمل أمرهم ، وأن ينكل بهم وأمثالهم ، ولا يرفع عنهم عقوبته ، فإن البلية بهم عظيمة ، والمضرة بهم شاملة. ([9])

”حاکم کے فرائضِ منصبی میں یہ داخل ہے کہ وہ کھانے پینے،لباس اوردیگر اشیا میں دھوکا دہی کاارتکاب کرنے والے گھٹیا قسم کے لوگوں کی جعل سازی کو طاقت کے ذریعے روکے، کیونکہ یہ لوگ امت کے مصالح میں فساد پیدا کررہے ہیں، جس کانقصان اتناعام ہے کہ اس سے بچنا ممکن نہیں ۔لہذا حاکم پرلازم ہے کہ وہ ان جعل سازوں کوکسی قسم کی چھوٹ نہ دے بلکہ ان کوعبرت ناک سزائیں دے ،ان کی سزاؤں کومعاف نہ کرے کیونکہ ان کوآزاد چھوڑنے میں بہت بڑا نقصان ہے اورایساضرر ہے جوبہت ہی عام ہے ۔“

بازاروں میں جعل سازی کے خلاف مہم کاآغازابتداءِ اسلام میں

بازاروں میں جعل سازی کے خلاف مہم کاآغازتو اسلام کے ابتدائی زمانے ہی میں ہوگیاتھا،تاہم یہ مہم غیر منظم،انفرادی نوعیت اور غیر سرکاری قسم کی تھی ،شروع میں یہ مہم امربالمعروف اورنہی عن المنکر کے شرعی حکم پر عمل کرتے ہوئے ایک وعظ ونصیحت کی شکل میں تھی ۔پھر اس میں رفتہ رفتہ ترقی ہوئی ، یہاں تک کہ سرکاری سطح پریہ "حسبہ"کے نام سے مشہور ہوگئی اور اسلامی سلطنت کاباقاعدہ ایک محکمہ بن گیا جسے عموماً عدالت کادرجہ حاصل ہوتاتھا،یہ ادارہ سب سے پہلے عباسی دورکےشروع میں قائم ہوا۔تاہم اس سے پہلے بھی مارکیٹ کی نگرانی ہوتی تھی، مگر وہ انفرادی نوعیت کی ہوتی تھی،باقاعدہ محکمے کی شکل میں نہیں تھی ۔

عہدِ رسالت میں سرکارِ دوعالمﷺ کابذات خود مارکیٹ کی نگرانی کرنا

حضور اکرم ﷺ بہ نفسِ نفیس دعوتی اوردیگر مقاصد کے لیے مارکیٹوں میں تشریف لے جاتے تھے اورجہاں آپ ﷺ کومارکیٹ میں کسی خرابی کاعلم ہوتاتوآپ علیہ السلام اس کی بھرپور مذمت فرماتے ، چنانچہ مشہور واقعہ ہے کہ مارکیٹ میں بیچنے کے لیے رکھی گئی غلے کی ایک ڈھیری پر رسول اللہ ﷺ کا گزر ہوا،آپ علیہ السلام نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کیاتو آپ علیہ السلام کوانگلیوں پرکچھ تری محسوس ہوئی ۔آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: اے غلّے والے! یہ گندم تر کیوں ہے ؟ اس نے کہا: اس پر بارش ہوگئی تھی یارسول اللہ !اس پر آپ علیہ السلام نے فرمایا: تم نے اس بھیگے ہوئے غلے کواوپر کیوں نہیں رکھاتاکہ لوگ اس کودیکھ لیں ؟ پھر آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: جو دھوکا دے مجھ سے اس کاکوئی تعلق نہیں ہے ([10])

یہاں آپ علیہ الصلاۃ والسلام کاغلے میں ہاتھ داخل کرنا اس بات پرواضح دلالت کرتاہے کہ آپ علیہ السلام بازاروں کی نگرانی فرمایاکرتے تھے اورپھر آپ علیہ السلام کااس شخص کے عمل پر نکیر اورتنبیہ کرنااس بات پر دلالت کرتاہے کہ آپ علیہ السلام نے معاملات میں کسی بھی طریقے سے دھوکا دہی اورجعل سازی سےسخت ممانعت فرمائی ہے۔

بازار کی نگرانی کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کاتقرر

نبی کریم ﷺ کی زندگی میں جب بازاروں کے اندر احکام شرع کی خلاف ورزی ہونے لگی تو آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کومدینے کے بازار کانگران مقررفرمایا،چنانچہ" السیرۃ الحلبیہ "کے مصنف اپنی کتاب میں تحریر فرماتے ہیں :

واستعمل عمر بن الخطاب رضي الله عنه على سوق المدينة.([11])

”اور حضور ﷺنے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو مدینے کے بازار پر نگران مقررفرمایا۔“

اسی طرح آپ علیہ السلام نےسعید بن العاص کومکے کے بازار کانگران بنایا،علامہ ابن عبد البر اپنی کتاب "الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب" میں فرماتے ہیں :

سعيد بن العاص بن أمية بن عبد شمس بن عبد مناف القرشي الأموي. استشهد يوم الطائف، وكان إسلامه قبل فتح مكة بيسير، واستعمله رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بعد الفتح على سوق مكة. ([12])

”سعید بن العاص جوطائف کے دن شہید ہوئے اورفتح ِمکہ سے کچھ ہی عرصہ پہلے اسلام لائے تھے ،ان کوحضورﷺنےفتح ِ مکہ کے بعد مکے کے بازار کانگران مقررفرمایا۔ “

خلفائےراشدین کے دور میں مارکیٹوں کی نگرانی

پھر خلفائے راشدین نے آپ علیہ السلام کی وفات کے بعد آپ علیہ السلام کی اقتداء میں اس سلسلے کوجاری رکھااور وقتاًفوقتاًخود بھی نگرانی فرمائی جب کہ عموماًاس مقصد کے لیے مستقل نگران بھی مقررکررکھے تھے ۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ بذات ِخود بازاروں کی نگرانی فرمایا کرتے تھے اورمارکیٹوں کے حالات کی گہری تحقیق فرمایاکرتے تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بازاروں کی نگرانی اس حد تک فرمایاکرتے تھے کہ بازار میں رائج کیل اوروزن کے پیمانے اورمختلف غلّوں کی کوالٹی کوبذات خود دیکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ چیزوں کے عیوب چھپانے والوں اورجعل سازوں کوسخت سزائیں دیاکرتے تھے ۔ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھاکہ ایک شخص نے بیچنے کے لیے دودھ میں پانی ملایا ہےتو آپ رضی اللہ عنہ نے وہ سارا دودھ گرادیا۔([13])

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس معاملے میں صرف اپنی نگرانی ہی کو کافی نہیں سمجھابلکہ عبد اللہ بن عتبہ اورسائب بن یزید کومدینے کے بازار کا مستقل نگران مقرر فرمایاتاکہ وہ لوگوں میں ہونے والے معاملات کی نگرانی کریں۔خریدوفروخت میں دھوکا دہی اورجعل سازی کوروکیں اورکیل اوروزن کے پیمانوں کوچیک کریں۔چنانچہ علامہ ابن عبد البر اپنی کتاب" الاستیعاب" میں فرماتے ہیں :

السائب بن يزيد ......... كان عاملا لعمر على سوق المدينة مع عبد الله بن عتبة مسعود. ([14])

”حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے سائب بن یزید عبد اللہ بن عتبہ کے ساتھ مدینے کے بازار کے نگران تھے ۔“

نیزحضرت عبد اللہ بن عتبہ کے ا س عہدے اور منصب کا ذکر کنزا لعمال میں بھی آیاہے :

عن الزهري أن عمر بن الخطاب استعمل عبد الله بن عتبة على السوق. "ابن سعد" قال العلماء هذا أصل ولاية الحسبة.([15])

”حضرت زہری سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عبد اللہ بن عتبہ کومدینے کے بازار کانگران مقررفرمایا۔ علماء نے فرمایاہے کہ یہ روایت نگرانی اوراحتساب کی دلیل ہے ۔“

اس کے علاوہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت شفابنت عبد اللہ کوبھی عورتوں کی مخصوص اشیا سےمتعلق مدینے کے بازار کانگران مقرر فرمایا، [16]یہ سب اس لیے کیاتاکہ مسلمانوں کے بازاروں کودھوکا دہی ،جعل سازی اورحیلہ بازی کے طریقوں سے روکا جائے جائے۔

بازاروں کی نگرانی کرنے والے پہلے شخص کون ہیں ؟

چونکہ حضرت عمر رضی اللہ بازاروں کی بہت سخت نگرانی فرمایاکرتے تھےاس لیے ان کی نگرانی کے واقعات لوگوں میں بہت مشہور ہوئے ہیں جس کی وجہ سے بعض لوگوں نے یہ سمجھ لیاکہ اسلام میں بازاروں کی نگرانی کرنے والے پہلے شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں ، چنانچہ علامہ قلقشندی اپنی کتاب" صبح الاعشی" میں" المحتسب" کے ذیل میں فرماتے ہیں :

وأوّل من قام بهذا الأمر وصنع الدّرّة عمر بن الخطّاب رضي الله عنه في خلافته. ([17])

”اور پہلے وہ شخص جنھوں نے اپنی خلافت میں یہ عمل یعنی احتساب کاکام شروع کیا اور اس کے لیے کوڑاتیارکیاوہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں ۔“

علامہ قلقشندی کی رائے سے عدم اتفاق

مگر علامہ قلقشندی کی یہ بات حقیقت کے مطابق معلوم نہیں ہوتی کیونکہ ہم اوپر یہ ثابت کرچکے ہیں کہ بازاروں کی نگرانی اور احتساب کاعمل خود عہدِ رسالت ہی میں شروع ہوگیاتھااور سرکار ِدوعالم ﷺ نے بنفسِ نفیس مارکیٹ کادورہ کیااور جعل سازی کاارتکاب کرنے والے شخص سے برأت کااعلان فرمایاجواس ماحول میں اس کے لیے بہت بڑی سزا تھی ۔

یہی عمل حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اپنے اپنے عہدِ خلافت میں منقول ہے ۔ ابن سعد نے "الطبقات الکبریٰ "میں یہ نقل کیاہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب اپنے گھر سے نکلتے تو ان پر دو چادریں ہوتی تھیں،ایک چادر(لنگی ) نصف پنڈلی تک ہوتی تھی اور دوسری چادر بھی اسی کے قریب قریب ہوتی تھی جو جسم پر لپٹی ہوئی ہوتی تھی اورآپ کے ہاتھ میں ایک کوڑا ہوتاتھا جس کولے کرآپ رضی اللہ عنہ بازار میں لے کرچلاکرتے تھے ۔ اس دوران آپ رضی اللہ عنہ لوگوں کوتقویٰ اورحسنِ بیع کی تلقین فرمایاکرتے تھے ۔اورلوگوں سے کہتے تھے کہ کیل اوروزن پوراپورا کیاکرو،اوریہ بھی فرمایاکرتے تھے کہ گوشت کوپُھلایانہ کرو۔([18])

بنوامیہ اوربنوعباس کے عہد میں مارکیٹوں کی نگرانی

پھر امویوں نے اس کے بعد اس بات کابہت زیادہ اہتمام کیاکہ بازاروں میں جعل سازی ،دھوکا دہی اورملاوٹ وغیرہ کاارتکاب نہ ہو۔پھر عباسیوں کے دور میں بھی اس پر عمل ہوابلکہ ان کے دور میں تو بازاروں کی نگرانی کے لیے باقاعدہ ایک محکمہ قائم کیاگیا۔اور انھوں نے اس مقصد کے لیے باقاعدہ ملازمین تعینات کیے جوصرف بازاروں کی نگرانی پر مامور تھے ،اس کے علاوہ ان کی کوئی اورذمے داری نہیں تھی ۔اوربازاروں کی نگرانی کاعمل ایوبی اورفاطمی سلطنت میں بھی رہا([19])اور مسلمانوں کی عالمی حکومت "خلافتِ عثمانیہ" میں تو اپنے عروج پر جاپہنچا۔چنانچہ ذیل میں اس کی کچھ تفصیل پیش کی جاتی ہے ۔

خلافت ِعثمانیہ کامارکیٹ کنٹرول سسٹم

اسلامی حکومتوں میں ایک بڑانام خلافتِ عثمانیہ کاہے جوتین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی۔ایشیا سے لے کریورپ اورافریقا تک علاقے اس کے زیرِنگین تھے۔اپنے وقت میں اس حکومت کوپوری دنیاکے مسلمانوں کی نمائندہ حکومت سمجھاجاتاتھا۔اس حکومت کی تاریخ اگر دیکھی جائے تواس میں سب سے زیادہ کام مالی معاملات اورتجارت سے متعلق قانون سازی اور اس کے نفاذ پر ہوا۔انتظامی قانون سازی کے ساتھ ساتھ فقہی قانون سازی کاعظیم الشان کام ہواجس سے آج پوری امت مسلمہ استفادہ کررہی ہے۔چنانچہ فقہی قوانین پر مشتمل دفعات کی شکل میں ایک مسودہ تیار کیاگیاجس کانام "مجلۃالاحکام العدلیۃ" ہے جوآج فقۂ حنفی سے تعلق رکھنے والی پوری امت کے لیے زبردست منضبط علمی سرمایہ ہے جس کی اب تک بہت ساری شروح لکھی گئی ہیں ،ان میں علامہ خالد اتاسی کی” شرح المجلہ“ بہت مشہور ہے ۔ چنانچہ خلافت ِعثمانیہ کے اس عظیم کارنامے سے متعلق کتاب "مجلۃ الاحکام العدلیہ" کے شروع میں یہ عبارت تحریر کی گئی ہے:

وقد وضعت الدولة العلية قديما وحديثا قوانين كثيرة تقابل القانون المدني ،وهي ان لم تكن كافية لبيان جميع المعاملات وفصلها الا ان المسائل المتعلقة بقسم المعاملات من علم الفقه هي كافية وافية للاحتياجات الواقعة في هذا الخصوص.([20])

”عظیم الشان خلافت (خلافت ِعثمانیہ )نے نئے اور پرانے بہت سارے قوانین وضع کیے جو سول قانون کے مقابلے میں تھے۔یہ قوانین اگرچہ تمام معاملات کی تفصیل کے لیے کافی نہیں تھے ،مگر علم ِفقہ سے تعلق رکھنے معاملات (تجارت وغیرہ )کے مسائل میں یہ کافی اوروافی تھے ،ان میں ان تمام واقعی ضروریات کاخیال رکھاگیاتھاجوخاص طورپر معاملات سے تعلق رکھتی تھیں ۔“

دوسری طرف انتظامی حوالے سے دیکھاجائے تواس حکومت کے زمانے میں تجارت سے متعلق انتظامی معاملات میں حکومت کاکنٹرول بہت مضبوط تھا، صارفین کے تحفظ کاپوراپورا خیال رکھاجاتاتھا۔چنانچہ اس خلافت نے اس مقصد کے لیے ایک تو احتساب کاشعبہ قائم کیاہواتھاجوگزشتہ اسلامی حکومتوں کے دور سے چلاآرہاتھااوردوسرااس کے علاوہ بھی انھوں نےصارف کے تحفظ کے لیے مارکیٹ سے متعلق بہت سارے قوانین بنائے ہوئے تھے اوران کی تنفیذ کے لیے بہت ساری کمیٹیاں مقرر کررکھی تھیں۔عمدہ اورصاف ستھری مصنوعات تیار کروانے کے لیے مینوفیکچررز پر بہت ساری پابندیاں عائد کر رکھیں تھیں ،چنانچہ" الدولۃ العثمانیۃ المجہولہ "کے مصنف اپنی کتا ب میں لکھتے ہیں :

وان مراقبة المواد الاولية من التدابير اللازمة التي عملت بها الدولة العثمانية في وتيرة تحسين الجودة بقصد الزام المنتج بالمواصفات المطلوبة وقد بادرت الدولة العثمانية الى اتخاذ مثل هذه التدابير في عصور مبكرة ولم تمل من تكرار النص في قانون الاحتساب والاوامر المرسلة الى قضاة الخارج(خارج استنبول) على متابعة جودة الاولية المستعملة في صناعة السلع بل نجد نصا يحدد نوعية الماء المستعمل في صنع الصابون ويعين نسبته في الخلطة...الخ.([21])

”مصنوعات کے خام مال کی کوالٹی کوچیک کرناان لازمی تدابیر میں سے ہے جن پر عثمانی خلافت نے سختی کےساتھ عمل کیاہے، تاکہ مینوفیکچرر کواس بات کاپابند کیاجائے کہ وہ عمدہ اورمطلوبہ اوصاف پر مشتمل مصنوعات تیار کرے، اس طرح کے قوانین خلافت ِعثمانیہ نے بہت پہلے ہی وضع کرلیے تھے اور احتساب کے قوانین اور ججوں کو دی جانے والی ہدایات میں اشیا کی کوالٹی کنٹرول کرنے کی بہت زیادہ تا کید ہوتی تھی حتی کہ صابن بنانے والی فیکٹریوں کواس بات کا پابند کیاجاتاتھاکہ وہ اس میں کس نوعیت کاپانی استعمال کرسکیں گے اوراس کاتناسب کتنا ہوگا ؟۔۔۔۔الخ “

دوسری جگہ لکھتے ہیں :

وقد منعت الدولة التزييف في المصنوعات وبينت الاصول اللازم اتباعها في عملية الانتاج من اجل دفع الضرر عن المستهلك وحفزت على "حسن استعمال المعمول"واعتبرت قيامها بذلك من واجباتها الاصلية ، فمثلا: فصلت " قانون نامة" احتساب ادرنه في سنة 908ھ/1502م الاصول المرعية في التصنيع ووضعت عقوبات للزجر عن سوء الطوية في العمل الانتاجي وحددت وتيرة للانتاج ومنعت تداول المنتوجات المغشوشة والرديئة.([22])

”خلافت نے مصنوعات میں جعل سازی اور دھوکا دہی سے سخت ممانعت کررکھی تھی اور پیداواری عمل کے لیے کچھ ایسے اصول واضح کردیے تھے جن کی پیروی لازم ہوتی تھی ۔یہ اس لیے ہوتاتھاتاکہ صارف کونقصان سے بچایاجائے ۔یہ اصول "الاصول المرعیۃ فی التصنیع"کے نام سے معروف تھے جن میں پیدوارکی حدود اور اسلوب بیان کیے گئے تھے اورگھٹیااورملاوٹ شدہ اشیاءتیار کرنے پر پایندی عائد کی گئی تھی ۔اور اس کی خلاف ورزی کاارتکاب کرنے پر سزائیں مقررکی گئی تھیں ۔“

یہ ساری تفصیل اس بات پر واضح دلالت کررہی ہے کہ اسلام میں مسلمانوں اورواقف ِحال لوگوں کو معاملات میں ہرطرح کی چال بازی ،حیلہ سازی اورچرب لسانی سے سختی کے ساتھ منع کیاگیاہے، تاکہ مسلمانوں کے معاملات درست سمت میں چلتے رہیں اوران میں برکت جاری رہے ۔اورچونکہ ہماری شریعت میں عام حالات کے اندر تجسس ممنوع ہے اس لیے بعض اہل ِعلم نے خریدوفروخت میں جعل سازی اوردھوکا دہی کوپہنچاننے کے لیے تجسس کے جواز کی تصریح کی ہے۔ چنانچہ جلال الدین عبد الرحمن بن نصر شیزری فرماتے ہیں :

وعلى المحتسب أن يتفقد سوقهم، ويتجسس عليهم، فإن عثر بمن رابى - أو فعل في الصرف ما لا يجوز في الشريعة - عزره وأقامه من السوق.([23])

” احتساب کاعمل کرنے والوں پر لازم ہےکہ وہ بازاروں کے حالات معلوم کریں اوراس کے لیے تجسس کریں ۔اگر ان کو سودی معاملہ کرنے والاشخص ملے یابیع کی ناجائز صورتوں کاارتکاب کرنے والاشخص ملے تو اس پر تعزیری سزا جاری کریں اور اس کو بازارسے اٹھادیں یعنی اس کاتجارتی لائسنس منسوخ کردیں ۔“

یہ سب اس لیے تاکہ بازار میں دھوکا دہی اورجعل سازی کاارتکاب نہ ہواورلوگ صاف ستھرے معاملات کرتے رہیں ۔اوراس کے نتیجے میں اللہ تعالی کی لامحدود برکتوں کے مستحق بن جائیں ۔

نیز مذکورہ بالاتفصیل سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ جب تک مضبوط اسلامی حکومتیں قائم رہیں تو بازاروں اورمارکیٹوں کاکنٹرول بھی بہت زبردست رہا،مگر پھر ہماری اپنی بداعمالی ،دین سے دوری ،ناقص حکمت ِعملی ،حالاتِ حاضرہ کے ساتھ چلنے کی تیاری اورکوشش نہ ہونے کی وجہ سے ایک طرف اسلامی حکومتیں یاتو ختم ہوگئیں یاپھر مسلمانوں کی ایسی حکومتیں وجود میں آئیں جوعالمی کفریہ طاقتوں کی غلامی کواپنے لیے سعادت اورکامیابی کی معراج سمجھتی ہیں ،جس کی وجہ سے بہت سارے شعبوں میں ان کو زبردست انحطاط اورزوال کاسامنا ہے ،انھی شعبوں میں ایک یہ بھی ہے کہ مارکیٹوں کی نگرانی کاعمل آہستہ آہستہ کمزور پڑ گیااورختم ہونے کے قریب ہوگیا،جس کی وجہ سے ہماری مارکیٹوں میں دھوکا،ملاوٹ اور جعل سازی جیسی برائیاں عام ہوگئیں ۔

ہماری حکومت کا مارکیٹوں پر موجودہ کنٹرول سسٹم

ہمارے ملک ِپاکستان میں مارکیٹوں پر حکومت کاکنٹرول نہ ہونےکے برابر ہے ۔چیک اینڈ بیلنس کانظام بہت ہی کمزور ہے ۔ایسامحسوس ہوتاہے کہ حکومت کانظام صرف سیکیورٹی دینے یا ٹیکس وصولی تک محدود ہے ،باقی حکومت کواس سے کوئی غرض نہیں کہ مارکیٹ میں جواشیا بک رہی ہیں آیاوہ معیاری ہیں یانہیں ،غذائی اجناس ملاوٹ سے بھری ہوئی ہوتی ہیں ،دکانوں کی صفائی اورستھرائی کاکوئی معقول انتظا م نہیں ہوتا۔کھانے پینے کی بہت ہی ناقص اشیا مارکیٹ میں کھلے عام فروخت ہورہی ہوتی ہیں جوظاہر ہے کہ صحت کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں ۔کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ بھی صورتِ حال تسلی بخش نہیں ہے۔قیمت اوربھاؤتاؤ میں بھی جعل سازی ،فراڈ ،غلط بیانی اوردھوکے کوروکنے کاکوئی سسٹم نہیں ۔اگر کسی کسٹمر یاتاجرکے ساتھ کوئی فراڈ یادھوکا ہوجائے تواس کی شنوائی کی کوئی معقول صورت نہیں ہے۔

حکومت نے مارکیٹ کی نگرانی کے لیے جوکمزورسا سسٹم بنایاہواہے اس نے رشوت خوری کابازار گرم کررکھاہے۔اس سسٹم سے منسلک سرکاری نمائندوں کو عوام سے کوئی خیرخواہی نہیں ،ہاں البتہ ان کو اپنی جیبیں گرم کرنے اورخلقِ خداکوستانے کا سنہری موقع ہاتھ آجاتاہے ۔جس کے نتیجے میں یہ نظام عوام کوکوئی ریلیف نہیں دے پاتا۔چنانچہ بےچارے عوام اپنی سادہ لوحی کے باعث مارکیٹوں میں جعل سازتاجروں کے شکنجے میں وقتاًفوقتاً پھنستے رہتے ہیں۔صارفین کے تحفظ کے لیےاگر حکومت درجِ ذیل تجاویز پر عمل کرے تو جعل سازی کوروکنے میں کافی پیش رفت ہوسکتی ہے ۔

مارکیٹوں پرحکومتی کنٹرول سسٹم کومضبوط کرنے کے لیے تجاویز

۱۔مارکیٹوں کی نگرانی کامنظم اورمعقول نظام

مارکیٹ میں لوگوں کوسیکیورٹی فراہم کرنا ہی صرف حکومت کی ذمے داری نہیں بلکہ سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ لوگوں کےمابین ہونے والے معاملات کی نگرانی کرنا بھی ان کے فرائض میں داخل ہے ۔حکومت پرلازم ہے کہ وہ مارکیٹ کی نگرانی کامعقول اورمناسب نظام قائم کرے ۔یہ نظام ایسا ہوجوعوام کی فلاح وبہبود پر مبنی ہو،ان کی خیرخواہی مقصود ہو،عوام اورتاجروں کوتنگ کرنے والانظام نہ ہو،سادہ اورآسان نظام ہو،پیچیدہ اورمشکل نظام نہ ہو۔

۲۔غیر معیاری اشیا پرپابندی

مارکیٹ میں فروخت کے لیے جواشیا آرہی ہوں،ان کوچیک کرناکہ وہ معیاری ہیں یابہت ناقص اورصحت کے لیے نقصان دہ تو نہیں ہیں؟ یہ سب چیزیں چیک کرنا حکومتِ وقت کی ذمے داری ہے ۔اس وقت ہمارے ملک میں حکومت یہ ذمے داری اداکرنے میں کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی۔اس وقت صورت ِحال یہ ہے کہ جو سروے کیے گئے ہیں ان کے مطابق پچاس فی صد غیرمعیاری اشیاکھلے عام فروخت ہورہی ہیں اورکوئی روک ٹوک کرنے والانہیں ہے ۔اوراگر کوئی روک ٹوک کرنے والا سرکاری اہلکار اس میں قدم رکھتاہے تو وہ صرف اورصرف لوگوں کوبلیک میل کرکے رشوت کابازار گرم کرنے کے لیے آتاہے ،ملک وملت اور عوام کے لیے کوئی خیرخواہی اورہمدردی اس کے دل میں نہیں ہوتی ،جس کانتیجہ یہ ہوتاہے کہ لوگ حکومت کی ایسی نگرانی سے تنگ آجاتے ہیں اوروہ اس کے نہ ہونے میں عافیت محسوس کرتے ہیں ۔

۳۔شکایات سیل کاقیام

حکومت کوچاہیے کہ ہر بڑی مارکیٹ میں ایک شکایات سیل کاقیام وجود میں لائے جس میں لوگوں کویہ سہولت فراہم کی گئی ہوکہ جوشخص بھی یہ سمجھتاہوکہ مارکیٹ میں اس کے ساتھ جعل سازی ،دھوکے یافراڈ کا معاملہ ہواہے تو وہاں وہ اپنی شکایت کااندراج کراسکے اوراس پر جلد ازجلد مناسب کاروائی کامعقول انتظام ہو، تاکہ لوگوں کوانصاف ملتاہوا نظر آئے ۔

۴۔ثالثی کمیٹی کا قیام اوراس میں علماء اورقانونی ماہرین کی شمولیت

ہر بڑی مارکیٹ میں ایک ثالثی کمیٹی کا ہونالازم ہے ،یہ ثالثی کمیٹی لوگوں کے درمیان مالی معاملات سے متعلق اختلافات اورجھگڑوں کونمٹانے کی ذمے دار ہو اوردونوں فریق جب اس کمیٹی کے پاس حاضر ہوجائیں تو گویاوہ اس کمیٹی کو ثالث بنانے پر رضامند ہیں ۔وہ کمیٹی ان دونوں کے درمیان جوفیصلہ کرے اس کودونوں پارٹیاں قبول کریں ،مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ کمیٹی کے لوگ بالکل غیرجانب دار اورتجارتی معاملات کی سمجھ بوجھ رکھنے والے اوردیانت دار ہوں۔نیز ا س میں ایسے علماء شامل ہوں جوشرعی اصولوں اورتجارت کے فقہی مسائل میں دسترس رکھتے ہوں ،ان علماء کے ساتھ اس کمیٹی میں ایسے قانونی ماہرین بھی موجود ہوں جوملکی قوانین پر عبور رکھتے ہوں ۔

۵۔خدمات کی فراہمی آسان اورفوری نوعیت کی ہو

حکومت کی ذمے داری ہے کہ مارکیٹ میں لوگوں کوجعل سازی سے بچانے کے لیے جوخدمات فراہم کرے وہ آسان اورفوری نوعیت کی ہوں تاکہ لوگوں کو کم سے کم وقت میں انصاف مل سکے ۔ایسا نہ ہوکہ چھوٹے سے معاملے کو لمباکرکے کئی مہینوں اورسالوں پر محیط کردیاجائے جیساکہ ہمارے ملک میں دیوانی مقدمات میں ہوتا ہے ۔

۶۔جعل سازی پرمکمل کنٹرول کی کوشش ہو

حکومت کے اقدامات ایسے ہوں جس سے جعل سازی کوکنٹرول کرنے میں مددملے اوراس کاتناسب بالکل کم ہوجائے اورمسلمانوں کی تمام منڈیاں صاف وشفاف تجارت کامرکز بن جائیں ۔اگر حکومت ایسے قدامات کرے تومقامی مارکیٹ کے ساتھ انٹرنیشنل مارکیٹ میں بھی ہماری مارکیٹیں دیانت داری اورصاف و شفاف تجارت میں مشہور ہوجائیں گی جس کے نتیجے میں ہمیں زیادہ سےزیادہ آرڈر ملیں گے اور ہماری برآمدات (exports) میں بھی خوب اضافہ ہوگا۔

۷۔رقوم کی ادائیگی اوروصولی میں تعاون

تمام مارکیٹوں میں تاجروں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بروقت ادائیگی کاہے ،اگر وقت پر ادائیگی نہ ہوتو باہمی اعتماد کی فضا ختم ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں تجارت انتہائی سست روی کاشکارہوجاتی ہے۔بروقت ادائیگی کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ عموماتجارتی لین دین مین ایک چین چل رہی ہوتی ہے ،ایک جگہ سے ادائیگی ہوتی ہے تواس کے نتیجے میں پوری ایک چین گردش کرنے لگتی ہے اورسب کواس میں راحت اورسکون ملتاہے۔اسی طرح اگر ادائیگی ایک جگہ اٹکتی ہے توپوری ایک چین جام ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں پوراایک سلسلہ بے چینی اور اضطراب کاشکارہوجاتاہے ۔اس لیے یہ حکومت کی بڑی ذمے داری ہے کہ حکومت تاجروں کی ادائیگیوں کاایسانظام وجود میں لائے جس کے نتیجے میں تمام تاجر پورے اہتمام کے ساتھ بروقت ادائیگی کویقینی بنائیں ۔

نتائجِ بحث

  • تجارت میں جعل سازی کابڑھتا ہوارجحان معاشرے کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے ،یہ ایسی چیز نہیں جس کونظرانداز کیاجاسکے یاسرسری طورپر لیاجائے ،اس پر گہرائی کے ساتھ غوروفکر کرنے اوراس پر قابوپانے کی ضرورت ہے ۔
  • صنعت وحرفت اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے جہاں تجارت کی نئی نئی شکلیں اورجدید سے جدیدصورتیں وجود میں آئی ہیں وہیں دھوکا دہی اورجعل سازی بھی اپنے عروج کوپہنچ گئی ہے ،اس میں نہ صرف سادہ لوح عوام مبتلا ہیں بلکہ اچھے خاصے تعلیم یافتہ اورسمجھ دار لوگ اس کاشکار ہوجاتے ہیں ۔
  • دھوکا دہی اورملاوٹ صر ف مستعمل اشیا تک ہی محدود نہیں بلکہ غذائی اجناس اورکھانے پینے کی اشیابھی اس سے محفوظ نہیں جس کی وجہ سے مارکیٹ ملاوٹ شدہ غذائی اجناس اورناقص کھانے پینے کی چیزوں سے بھری ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں لوگ انھی ملاوٹ شدہ اشیا کوخریدنے اوراستعمال کرنے پر مجبور ہیں ،اسی وجہ سے ہماراملک انسانی صحت کے حوالے سے بے شمار مسائل میں گھراہواہے ۔
  • قرآن وسنت کی روشنی میں صاف اورشفاف تجارت کے فضائل وبرکات کواتناعام کیاجائے کہ ہرتاجر کے ذہن میں یہ باتیں پختہ ہوجائیں اوروہ اس کی اہمیت کوجان کران فضائل وبرکات کوحاصل کرنے کے لیے بھر پور آمادہ ہوجائے نیزعقلی اورنقلی دلائل کی روشنی میں جعل سازی اوردھوکا دہی کی مذمت لوگوں کوسامنے مختلف طریقوں سے اتنی زیادہ بیان کی جائے کہ لوگ اس کوایک بہت گھناؤناجرم سمجھنے لگیں اوراس کے قریب بھی نہ پھٹکیں ۔
  • صارفین کو دھوکا دہی اورملا وٹ شدہ اشیا کے بارے میں آگاہی فراہم کرنااوران کواس طرح کے نقصانات سے بچاناحکومت ِوقت کی بنیادی ذمے داری ہے ۔حکومت اپنی اس ذمے داری کوپوراکرنے میں کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دیتی ،اب تک اس کے خلاف کیے جانے والے اقدامات غیرتسلی بخش اورناقابلِ اطمینان ہیں ۔حکومت اس پر خصوصی توجہ دے ۔
  • حکومت کواس مقالے میں جوتجاویز دی گئی ہیں ان پر عمل کرنے سے جعل سازی کی نحوست کنٹرول کرنے میں کافی مدد مل سکتی ہے ،اگران پر عمل کیاجائے توایک صحت مند معاشرے کی تشکیل میں واضح پیش رفت ہوسکتی ہے ۔
  • ادائیگی اوروصولی میں حکومت لوگوں کی خصوصی مدد کرے اوراس کے لیے ایسانظام تشکیل دے جس سے سب لوگوں کوان کے حقوق بروقت ادا ہوں اورکسی کاحق ضائع نہ ہو۔


حوالہ جات

  1. * سمیع اللہ،ریسرچ اسکالر،شعبہ علوم اسلامیہ،جامعہ کراچی،کراچی۔
  2. ۔النساء:29
  3. ۔بخاري ، أبو عبدالله محمد بن إسماعيل ،صحیح البخاری ،دار طوق النجاة،مصر، الطبعةالأولى 1422هـ، ج:1،ص13
  4. ۔بيهقي ،أبو بكر أحمد بن الحسين البيهقي،شعب الایمان ،دار الكتب العلمية ، بيروت،الطبعة الأولى ، 1410ھ،ج7،ص501
  5. ۔ترمذي،محمد بن عيسى،سنن الترمذي ،دار إحياء التراث العربي،بیروت،ج3،ص214
  6. ۔بخاري، أبو عبدالله محمد بن إسماعيل،ٍصحيح البخاري، دار ابن كثير ، بيروت، الطبعة الثالثة ،1407ھ – 1987ء،ج2،ص733
  7. ۔بيهقي ،أبو بكر أحمد بن الحسين بن علي، السنن الكبرى، مجلس دائرة المعارف،حيدر آبادانڈیا،الطبعةالأولى،1344 ھ، ج2،ص329
  8. ۔سجستاني،أبو داود سليمان بن الأشعث،سنن ابی داود ،دار الكتاب العربي ـ بيروت،ج4،ص441
  9. ۔جوزی،شمس الدین ابوعبد اللہ محمد بن قیم ،الطرق الحکمیۃ فی السیاسۃ الشرعیۃ ،شرکۃ طبع الکتب العربیۃ ،مصر،ص220
  10. ۔قشيرى نيسابوري، مسلم بن الحجاج ابن مسلم،صحيح مسلم، دار الفكر، بيروت لبنان،ج1،ص99
  11. ۔حلبي، أبو الفرج علي بن إبراهيم بن أحمد، السيرة الحلبية، دار الكتب العلمية ، بيروت ، الطبعةالثانية – 1427ھ، ج3،ص459
  12. ۔ابن عبد البر، أبو عمر يوسف بن عبد الله بن محمد بن عبد البر بن عاصم، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، دار الجيل، بيروت والطبعة الأولى، 1412ھـ -1992ء، ج2،ص621
  13. ۔ ابن تیمیہ ،تقي الدين أبو العَباس أحمد بن عبد الحليم،الحسبۃ فی الاسلام، دار الكتب العلمية ، بيروت،ص50
  14. ۔ابن عبد البر، أبو عمر يوسف بن عبد الله بن محمد بن عبد البر بن عاصم، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، دار الجيل، بيروت والطبعة الأولى، 1412ھـ - 1992ء، ج2،ص576
  15. ۔ متقي هندي، علاء الدين علي بن حسام الدين، كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال،مؤسسۃ الرسالۃ ، بیروت، الطبعة الخامسة، 1401ھـ1981ء،ج5،ص815
  16. ۔ قرنی ،دکتورعلی بن الحسن ،الحسبۃ فی الماضی والحاضر، دار الكتب العلمية ، بيروت،ج 2،ص513
  17. ۔ القلقشندي ، أحمد بن علي بن أحمد الفزاري ،صبح الاعشی ، دار الكتب العلمية، بيروت ،ج 5،ص425
  18. ۔ ابن سعد، أبو عبد الله محمد بن سعد بن منيع الهاشمي،الطبقات الکبری،، دار الكتب العلمية، بيروت ، الطبعةالأولى، 1410ھـ1990ء،ج 3،ص20
  19. ۔ سلمی ،دکتور عبد اللہ بن ناصر،الغش واثرہ فی العقود،دارکنوز اشبیلیا،ریاض،ج1،ص59
  20. ۔ علی حیدر،دررالحکام شرح مجلۃ الاحکام ،دار الکتب العلمیۃ ،بیروت ،لبنان ،ج1،ص8
  21. ۔ احمد کوندز،سعید اوزتورک،الدولۃ العثمانیۃ المجہولۃ ،وقف البحوث العلمیۃ ،استنبول ،ص707
  22. ۔ ایضاً
  23. ۔ شيزري ، أبو النجيب عبد الرحمن بن نصر بن عبد الله العدوي، نهاية الرتبة الظريفة في طلب الحسبة الشريفة، مطبعة لجنة التأليف ، قاہرہ مصر،ج 1،ص74