Playstore.png

تدریس قرآن حکیم کا مروجہ اسلوب روایتی و غیر روایتی دینی اداروں کا تقابلی جائزہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search

Warning: Page language "ur" overrides earlier page language "".

کتابیات
مجلہ التفسیر
عنوان تدریس قرآن حکیم کا مروجہ اسلوب روایتی و غیر روایتی دینی اداروں کا تقابلی جائزہ
مصنف شیخ، محمد کاشف
جلد 34
شمارہ 1
سال 2019
صفحات 124-145
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Quranic Education, Religious Seminaries, Teaching Methods, Strategies, Non-Traditional Institutes
شکاگو 16 شیخ، محمد کاشف۔ "تدریس قرآن حکیم کا مروجہ اسلوب روایتی و غیر روایتی دینی اداروں کا تقابلی جائزہ۔" التفسیر 34, شمارہ۔ 1 (2019)۔
سید محمد محسن اور ان کا منظوم ترجمۂ قرآن: ایک تنقیدی مطالعہ
مولانا سید زوار حسین شاہ کے تراجم: ایک تعارفی جائزہ
تفسیر نجوم الفرقان کے فقہی طرز استدلال کا تجزیاتی مطالعہ
امام محمد اور ان کی قرآن فہمی
قرآن کا اسلوب دعوت اور معاشرے پر اس کے اثرات
قرون اولی میں مناہج اصول فقہ اور اس کا نشو و ارتقاء
صحیح بخاری کی کتاب التفسیر کے فنی مباحث کا اختصاصی مطالعہ
تدریس قرآن حکیم کا مروجہ اسلوب روایتی و غیر روایتی دینی اداروں کا تقابلی جائزہ
اجتہادی مسائل میں ادب الاختلاف: علامہ غلام رسول سعیدی کے منہج کا مطالعہ
سودی نظام کے بعض اہم شبہات اور ان کا رد
اسلام میں سد ذرائع کی اہمیت
عصر حاضر میں وحدت الادیان کا تصور اور اسلامی نکتہ نظر
مشاجرات صحابہ کرام کا علمی اور تحقیقی جائزہ
مذہبی انتہا پسندی (غلو فی الدین): ایک تجزیہ
سنت ترکیہ کی شرعی حیثیت: ایک تحقیقی مطالعہ
اسلامی ریاست کے مالیاتی نظام کا تصور ملکیت، محاصل و مصارف
سندھی ہندو سیرت نگار
عالمی تغیرات کے بعد سرزمین ہندوستان پر عورت کی حیثیت اور اسلامی تعلیمات
The Scope of the Death Penalty under the Sharia Law
The Study of Possible Shariah Non Compliance Risks of Ijarah Along With Their Risk Management Mechanism
Blashphemy Law and its Interpretation a Pakistans Perspective
Computing of Personality Interference in Muslim World

Abstract

The Holy Quran aims to all Muslims to implement the teachings of the Quran in their lives and apply these guidelines which are considered as mandatory code of life for every Muslim. Advancement of Quranic education in society is a great duty for all Muslim as well as they have to utilize maximum available resources and human skills for promotion of Holy Quran in the society. There are two types of institutions they provide Quranic education with a focus on understanding of the Quran. One of them the religious seminaries who follow traditional teaching methods for Quranic education. There are many academic institutions other than the religious seminaries they use different and non-traditional methods for teaching of the Quran. Various academic activities to develop the understanding of the Quran through multi model approaches and strategies of teaching Arabic language are being organized by non-traditional institutes. In this regards nontraditional institutes introduced “Quranic Arabic Language” and easy Arabic Grammar practices for non-Arabic population. Comparison of two different systems, traditional and non-traditional institutes of Quranic education in Pakistan in this research article has been presented.

تمہید

فروغ مطالعہ قرآن کو اسلام کی رو سے مسلمانوں کے فرائض منصبی میں نمایاں حیثیت حاصل ہے ،جس کا

سب سے بڑا ظاہری محرک (Motive)وہ ترغیبات ہیں جو قرآن حکیم کو بطور ضابطہ حیات (Code of Life)اختیار کرنے کے سلسلے میں خود قرآن حکیم کی زبانی بیان کی گئی ہیں ۔ قرآن حکیم دنیا کی وہ کتاب ہدایت ہے جس کی تفہیم (Understanding)اور اشاعت (Promotion)کے لیے ہر دور میں اس وقت کے دستیاب بہترین وسائل و ذرائع (Resources)اور صلاحیتیں (Skills)بروئے کار لائی گئیں ۔ نت نئے طریقے اپنائے گئے ۔ اسلام اور مسلمانوں کے زیر سایہ جو علوم و فنون تشکیل و تاسیس سے لے کر تدوین و ارتقا کے مراحل سے گزرے وہ قرآن حکیم ہی کے رہینِ منت ہیں ۔عہد نزول قرآن سے لے کر آج تک یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔

ہمارے معاشرے میں قرآن حکیم کی درس و تدریس کا سلسلہ زیادہ تر دینی مدارس جنھیں اشاعت قرآن کے روایتی اداروں میں شمار کیا جاتا ہے ، کے ذریعے قائم رہا ہے ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تدریس و اشاعت قرآن حکیم میں وسیع تاریخی پس منظر کے حامل روایتی دینی اداروں (یعنی دینی مدارس )کے علاوہ کئی غیر روایتی دینی اداروں نے بھی خدمات انجام دینا شروع کیں۔ روایتی و غیر روایتی دونوں طرز کے اداروں کے اسلوب تدریس ہی نہیں بعض اوقات مقاصد تک میں فرق محسوس کیا گیا ۔ اس اعتبار سے ابتدا میں کسی درجے میں روایتی اداروں کی جانب سے غیر روایتی اداروں کے طریق کار پر تنقید بھی کی گئی لیکن بعض حوالوں سے غیر روایتی اداروں کے کام کو پذیرائی بھی ملی ۔اس مقالے میں تدریسِ قرآن حکیم کے مروجہ اسلوب کے سلسلے میں روایتی وغیرروایتی دینی اداروں کے رجحانات کاتقابلی جائزہ پیش کیاگیا ہے۔اس ضمن میں دونوں طرز کے اداروں کے تفہیم ِ قرآن کے بنیادی تصورات کو بھی زیرِ بحث لایاگیا ہے۔روایتی اداروں میں پاکستان کے دینی تعلیم کے مختلف مکاتبِ فکر کی نمائندگی کرنے والے بورڈز کے علاوہ حکومتِ پاکستان کے تحت قائم ماڈل مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے مطالعۂ قرآن کے نصاب (Curriculum) ،طریقۂ تدریس (Teaching Methodology) اورجانچ(Assessment) کے طریقِ کار کوموضوعِ بحث بنایاگیاہے۔ اس کے مقابلے میں قرآن فہمی میں سرگرم عمل چندغیرروایتی دینی اداروں کے پروگراموں اورکورسز کاجائزہ پیش کیاگیا ہے جن میں خصوصیت کے ساتھ قرآن اکیڈمی لاہوروکراچی،قرآن انسٹی ٹیوٹ کراچی،الہدیٰ انٹرنیشنل اسلام آباد اورUnderstand Quran Academyشامل ہیں۔تقابلی جائزے میں دونوں طرح کے اداروں کے مطالعہ قرآن اورقرآن فہمی کے نصاب، کورسز اورپروگراموں کے معاشرے پرپڑنے والے اثرات ونتائج کابھی تذکرہ کیاگیاہے۔

تدریسِ قرآن حکیم کا اسلوب

روایتی وغیر روایتی دینی اداروں کے رجحانات کاتقابلی جائزہ

اسلام کی تاریخ میں اول روز سے دین اور علم کا رشتہ باہم جڑا ہوا ہے۔آغاز اسلام میں مختلف علوم کی درس و تدریس کا مرکز مسجد میں قائم ہوتا تھا۔ رفتہ رفتہ مساجد کے ساتھ مستقل درس گاہوں کے قیام کا سلسلہ شروع ہوا جس نے آگے چل کر باقاعدہ جامعات کی شکل اختیار کی۔مشہور سلجوقی وزیر نظام الملک طوسی(م485ھ/1092ء)کے زمانے میں پہلے مدرسہ نظامیہ بغداد اور اس کے بعد اسی نام سے بلاد اسلامیہ میں قیام مدارس میں روز افزوں اضافہ ہوا۔ان مدارس کے ذریعے درس وتدریس کو با ضابطہ فن اور پیشے کی حیثیت حاصل ہوئی جہاں درجہ بندی کے ساتھ مستقل نصاب کا تعین کیا جاتا تھا،مدارس میں وظائف پر ماہر اساتذہ کا تقرر کیا جاتا تھااورتصنیف و تالیف کا عام چرچا تھا۔ان مدارس کی ضروریات کی تکمیل اور عمومی سرپرستی وقت کے حکمرانوں کے فرائض منصبی میں شامل تھی ۔

قرآن مجید کو نصاب تعلیم میں ہر دور میں اساسی اور مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے،بلاشبہ قرآن حکیم کی تعلیم ہر مسلمان مردوعورت کے لیے لازمی ہے،نماز اور زندگی کے مختلف مواقع پر قرآن مجید پڑھنا ہر مسلمان کی زندگی کا جزولاینفک ہے،اسی اعتبار سے دینی مدارس اور ہر مسجدو محلے میں قائم مکاتب میں سب سے پہلے بچوں کو عربی قاعدہ اور ناظرہ قرآن مجید کی تعلیم دی جاتی ہے۔

علوم دینیہ میں درس و تدریس اور نصاب سازی کے اصول

قدیم دور میں ابتدائی تعلیم کے لیے مسلمان بچوں اور بچیوں کے قرآن حکیم ،بنیادی احکام کی تعلیم اور اخلاقیات وغیرہ کے درس پر اکتفا کیا جاتا تھا۔اعلیٰ درجات میں ذریعۂ تعلیم عمومی طور پر مسلم معاشروں میں عربی زبان رہی ہے۔اس لیے علوم دینیہ کی تحصیل میں زیادہ تر قرآن و سنت کے ساتھ عربی زبان پر مشتمل کتب رکھی جاتی تھیں۔یونانی فلسفہ کا توڑ کرنے کے لیے نصاب درس میں امام غزالیؒ(م505ھ/1111ء)نے فلسفہ کو شامل کرنے کی سفارش کی تاکہ مسلمان کسی فلسفہ دان کی مغالطہ انگیزی کا شکار نہ ہوں۔ ([1])

درسی کتب کے انتخاب میں جو اصول مد نظر رکھے جاتے تھےان کے مطابق ایسی کتب شامل نصاب کی جاتی تھیں جن سے دین کی بنیادی معلومات حاصل ہوں اور بتدریج کتب کے انتخاب میں اسلوب کے اعتبار سے دقّت، اغلاق (پیچید گی)اور اختصار کے اصولوں کو مد نظر رکھا جاتا تھا۔مشکل متن پر مشتمل کتب کی تشریح و توضیح کے لیے شروح کی ضرورت رہتی تھی،اس وجہ سے کتب کی شرح در شرح کا طویل سلسلہ جاری رہتا تھا۔کتب کے انتخاب میں یہ اصول بھی پیش نظر رکھا جاتا تھا کہ متعلقہ فن کی منتہیانہ کتب پورے اہتمام کے ساتھ نصاب میں رکھی جائیں تا کہ طالب علم انھیں سمجھ لے اور پھر اس فن کی دیگر کتب اس کے لیے پڑھنا دشوار نہ رہے۔

مواد ِدرس کی مقدار کے اعتبار سےنصابی کتب کی درجہ بندی مختصرات،متوسطات اور مطولات کے تین مراحل میں کی جاتی تھی جویہ ہیں:

  1. تشریحی(Explanatory) طریقہ مختصرات کے لیے اختیار کیا جاتا تھا۔اسے طریقہ سرد بھی کہتے ہیں۔
  2. دقیق (Intensive)مطالعے کا طریقہ متوسطات درجے کی کتب کے لیے استعمال میں لایا جاتا تھا جسے طریقہ بحث و تعمق بھی کہا جاتا ہے۔
  3. توسیعی (Extensive) مطالعے کا طریقہ بالعموم مطولات درجے کی کتب کے لیے بروئے کار لایا جاتا تھا۔ یہ تحقیقی طریقہ ہے جس میں متعلقہ کتاب کی دیگر شروح کے حوالے بھی دیے جاتے تھے۔ ان طریقوں سے طلبہ میں اعلیٰ درجے کی فکری وتحقیقی صلاحیت اور مہارت پیدا کی جاتی تھی جو قدیم دور کے نظام تعلیم کا امتیازی وصف سمجھا جاتا تھا۔([2])

برصغیر میں مختلف ادوار کےدینی تعلیم کے نصاب میں مطالعہ قرآن

دور اول کا نصاب * درجہ فضل۔ بارھویں تا پندرھویں صدی عیسوی کے درمیان کے دور کانصاب
* نو علوم 20کتابیں
* تفسیر میں مدارک،بیضاوی،کشاف
دور دوم * 1489ءمیں سکندر لودھی کی تخت نشینی سے آغاز
* دس علوم 28کتابیں
* تفسیر میں مدارک ،بیضاوی ،کشاف
دور سوم * 1583ءسے دور اکبری میں فتح اللہ شیرازی( متوفی)1588ءکامرتب کردہ
* تیرہ علوم 25کتابیں
* تفسیر میں مدارک ، بیضاوی
دور چہارم * درسِ نظامی، مرتبہ: ملا نظام الدین سہالوی (متوفی 1747ء)
* گیارہ علوم 43کتب
* تفسیر میں جلالین ،بیضاوی ([3])

ملا نظام الدین سہالوی کا مرتب کردہ درس نظامی سابقہ نصابات کی طرح زیادہ تر معقو لات کی کتب پر مشتمل تھا۔ گیارہ علوم اور تینتالیس کتب پر مشتمل نصاب میں مضامین کی تقسیم کچھ اس طرح تھی:

کتب معقولات 20 کتب لسانیات 14 کتب شریعات 9
منطق 8 صرف 7 تفسیر 2
حکمت 3 نحو 5 حدیث 1
علم الکلام 4 بلاغت 2 فقہ 2
اصولِ فقہ 4

اس نصاب میں تقریبا ًنصف حصہ معقولات پر مشتمل تھا ۔شریعات میں کتابوں کی تعداد سب سے کم ہی نہیں بلکہ کتابیں بھی مختصر ترین تھیں ۔قرآن مجید کے نصاب میں مشہور عربی تفاسیر جلالین اور بیضاوی کو شامل رکھا گیا تھا۔([4])

مطالعۂ قرآن کے نصاب میں ردوبدل کی تاریخ

پاکستان کے دینی مدارس میں رائج نصاب کو "درس نظامی"کہاجاتا ہے لیکن ملا نظام الدین سہالوی (متوفی 1747ء)کے جس نصاب کا تذکرہ اوپر گزرچکا ہے ،مختلف ادوار میں اس نصاب میں ردوبدل کیا جاتا رہا ہے۔(ذیل میں صرف علوم قرآن کے حوالے سے مختلف اداروں کے نصابات میں کیے گئے ردوبدل کا تذکرہ کیا گیا ہے)۔

دارالعلوم دیوبند(1867ء)

دارالعلوم دیوبند کے نصاب میں تفسیر کے لیے تفسیر جلالین ،تفسیر بیضاوی(سورہ بقرہ)کو شامل درس کیا گیا۔علاوہ ازیں دورہ تفسیر کے لیے دورہ حدیث کے بعد ایک سال کا اضافہ کیا گیا جس میں تفسیر ابن کثیر اور تفسیر بیضاوی مکمل شامل درس کی گئی تھیں اور تجویدالقرآن کے لیے بھی کچھ کتب پڑھائی جاتی تھیں۔اصول تفسیر کے سلسلے میں شاہ ولی اللہ(متوفی 1762ء)کی تالیف الفوزالکبیر فی اصول التفسیر کو شامل درس کیا گیا۔([5])

دارالعلوم دیوبند کے نصاب میں قدیم درس نظامی کے اعتبار سے بہت کچھ ردوبدل کیے جانے کےباوجود بعض علوم کے نصاب پر اہل نقد کی جانب سے تنقید کی جاتی رہی۔دیوبند کے نصاب پر تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسرسید محمد سلیم لکھتے ہیں:

”دینی علوم تفسیر ،حدیث اور فقہ کو بھی اس نصاب میں وہ اہمیت حاصل نہیں ہے جس کے وہ مستحق ہیں۔ تفسیر میں سورہ بقرہ بلکہ پہلے پارہ ربع اول پر ہی تمام زور صرف ہو جاتا ہے، بقیہ کا مطالعہ سرسری طور پر ہوتا ہے۔“([6])

مدرسۃالاصلاح، سرائے میر(1910ء)

اس درس گاہ کے مقاصد قیام اور نصاب درس میں قرآن حکیم کو مرکزی مقام دیا گیا تھا۔اس ادارے کے مقاصد میں واضح طور پر درج کیا گیا:

1۔تمام علوم خدام قرآن کی حیثیت سے اخذ کیے جائیں۔

2۔قرآن فہمی کے لیے احادیث پاک کے علاوہ جاہلی ادب اور اسلامی دور کے عربی ادیبوں کے کلام کا مطالعہ ضرور کیا جائے اور صرف انھیں کی روشنی میں قرآن مجید کے مضامین متعین کیے جائیں اور قرآن فہمی پر زیادہ زور دیا جائے۔فقہ بطور تفقہ حاصل کی جائے۔([7])

اس مدرسے میں بر صغیر کی دو نام ور شخصیات علامہ شبلی نعمانی اور مولانا حمیدالدین فراہی نے خدمات انجام دیں۔مولانا حمیدالدین فراہی جنھیں قرآن مجید کی تفسیر کے سلسلے میں منفرد مقام حاصل ہے ،انھوں نے تا حیات اس ادارے میں تحقیقی درس قرآن کا سلسلہ جاری رکھا انھوں نے نصاب میں جملہ علوم کا سرچشمہ قرآن حکیم کو قرار دے کر قدیم وجدید تمام علوم کو اس کی روشنی میں پڑھانے کی طرح ڈالی۔ اس ادارے میں عرب شعرائے جاہلیہ کے کلام کو خاص اہمیت دی جاتی تھی جس سے قرآن مجید کے محاوروں اور اسلوب بیان کے لیے استشہاد کرتے تھے۔علوم عقلیہ کو کم تر اہمیت دی جاتی تھی۔صرف ومنطق کے بس دو چار رسالے پڑھائے جاتے تھے جن کو نئے ڈھنگ سے مرتب کیا گیا تھا ، یہاں قدیم مغلق اور پیچیدہ کتابوں کے بجائے درسی کتب واضح اور سہل انداز میں پڑھانے کا رواج تھا۔([8])

ندوۃالعلماء،لکھنؤ(1898ء)

اس ادارے کے قیام کا حقیقی مقصد اصلاح نصاب تھا۔تاہم ندوہ نے قرآن حکیم کی زبان، عربی کی تدریس و اشاعت میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ یہی وجہ ہے کہ ندوہ کے فارغ طلباء نے عربی تحریر و تقریر کا لوہا ہندوستان سے باہر عرب ممالک سے بھی منوالیا۔ تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی دارالمصنفین اعظم گڑھ کو ندوہ کا تتمہ سمجھا جاتا ہے۔([9])

ندوہ میں 1940ءسے عربی زبان کے نصاب کی تیاری کے سلسلے میں کوششوں کا آغاز کیا گیا۔ اس حوالے سے سب سے نمایاں اور اہم اقدام راست طریقے یعنی الطریق المباشر(Direct Method(کےمطابق عربی زبان کی تدریس کا دینی مدارس میں آغاز کرنا ہے۔ عربی زبان وادب کی کئی تالیفات بھی ندوہ کے پلیٹ فارم سے تیار کی گئیں جو دینی مدارس کے نصاب میں شامل کی گئیں۔([10])

روایتی دینی اداروں میں تدریس قرآن حکیم کی صور ت حال

مسلم معاشرے میں زیادہ تر قرآن حکیم کی درس و تدریس کا سلسلہ دینی مدارس کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور اس اعتبار سے ان اداروں کو اشاعت قرآن حکیم کے اہم مراکز میں بھی شمار کیا جاتا ہے اور یہ قدیم تاریخی پس منظر کے حامل ادارے ہونے کی وجہ سے روایتی دینی ادارے سمجھے جاتے ہیں۔ انسانی معاشروں میں یہ کمزوری بالعموم پائی جاتی ہے کہ قدیم روایت کے ساتھ جڑے ہوئے افراد اور ادارے طرز کہن سے ما ورا ہوکر سوچنے ،سمجھنے اور پیش قدمی کرنے کی صلاحیت سے تقریباً عاری ہوتے ہیں اور اگر صورت حال بالکلیہ ایسی نہ بھی ہو تب بھی ان میں نئےاسلوب اختیار کرنے کا عمل بے انتہا سست روی کا شکار ہوتا ہے۔جس میں کئی مراحل پر ان اداروں کے ذمّہ داران کو داخلی طورپر مزاحمت سے سابقہ رہتا ہے، اس وجہ سے بھی نئے طور اطوار کے چاہنے والے عناصر کی کارکردگی کی رفتارکمزور رہتی ہے۔اسی سے ملتا جلتا تاثر روایتی دینی اداروں میں نصاب درس Curriculum))اور تدریسی طریقے Teaching Methodology)) کے حوالے سے پیش کیا جاتا ہے۔

پاکستان کے دینی وفاق ہائے امتحان میں مطالعہ قرآن کانصاب

ذیل میں پاکستان میں مختلف دینی وفاق ہائے امتحان میں تدریس ِ قرآن حکیم کے رائج نصابات کاخاکہ پیش کیاگیا ہے۔* وفاق المدارس العربیہ پاکستان

مرحلہ /درجہ دورانیہ مقررہ نصاب ِ قرآن حکیم
متوسطہ(مڈل) 3 سال ناظرہ قرآن مجید مکمل (مع حدر)

خلاصۃ التجوید مؤلفہ اظہار احمدتھانوی (سال سوم)

عمّ پارہ مکمل حفظ

ثانویہ عامّہ(میٹرک) 2 سال ترجمہ وتفسیر عمّ پارہ مکمل

جمال القرآن(تجوید)

ثانویہ خاصّہ(ایف۔ اے) 2 سال ترجمہ وتفسیر سورہ یونس تاعمّ پارہ
عالیہ(بی۔ اے) 2 سال ترجمہ تفسیر سورہ فاتحہ تاسورہ یونس(سال اول) /جلالین (سال دوم)

الفوزالکبیر فی اصول التفسیر

عالمیہ(ایم ۔اے) 2 سال تفسیر بیضاوی ربع پارہ اول (سال اول)

التبیان فی علوم القرآن (سال اول) ([11])

  • رابطۃ المدارس الاسلامیہ پاکستان
مرحلہ /درجہ دورانیہ مقررہ نصاب ِ قرآن حکیم
متوسطہ(مڈل) 3 سال ناظرہ قرآن مجید مکمل

خلاصۃ التجوید

عمّ پارہ مکمل حفظ

ثانویہ عامّہ(میٹرک) 2 سال ترجمہ سورہ فاتحہ تا سورہ توبہ

جمال القرآن/فوائدِ مکیہ(تجوید)

ثانویہ خاصّہ(ایف۔ اے) 2 سال ترجمہ سورہ یونس تاسورہ مرسلات
مرحلہ /درجہ دورانیہ مقررہ نصاب ِ قرآن حکیم
عالیہ(بی۔ اے) 2 سال تفسیرجلالین(مکمل)
عالمیہ (ایم۔ اے) 2 سال تفسیر بیضاوی]سورہ توبہ[ (سال اول)

الفوزالکبیر فی اصول التفسیر ([12])

تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان

مرحلہ /درجہ دورانیہ مقررہ نصاب ِ قرآن حکیم
ثانویہ عامّہ (میٹرک) 2 سال ترجمہ پارہ اول تااختتام پارہ9

قواعد تجوید عمّ پارہ

ثانویہ خاصّہ(ایف۔ اے) 2 سال ترجمہ پارہ 10 تا اختتام پارہ 16 (سال اول)

تفسیر جلالین پارہ 19 تااختتام پارہ 24 (سال دوم)

عالیہ(بی۔ اے) 2 سال تفسیرجلالین پارہ 25 تااختتام پارہ 30 (سال اول)

الفوزالکبیر فی ا صول التفسیر (سال اول)

تفسیر بیضاوی پہلا پارہ نصف اول(سال دوم)

التبیان فی علوم القرآن (سال دوم)

عالمیہ(ایم۔ اے) 2 سال ([13])

وفاق المدارس السلفیہ پاکستان

مرحلہ /درجہ دورانیہ مقررہ نصاب ِ قرآن حکیم
ثانویہ عامّہ(میٹرک) 2 سال ترجمہ سورہ فاتحہ،یٰسین وہود (سال اول)

سورہ یوسف تاسورۃ الکہف (سال دوم)

حفظ پارہ عمّ

تیسیر التجوید (از قاری محمدادریس عاصم)

ثانویہ خاصّہ(ایف۔ اے) 2 سال ترجمہ سورہ مریم تا سورہ ص (سال اول)

ترجمہ سورہ زمر تا آخر (سال دوم)

عالیہ(بی۔ اے) 2 سال نیل المرام فی تفسیر آیات الاحکام سورہ مائدہ تا آخر کتاب (سال اول)

تفسیر الجلالین من سورۃ البقرۃ الیٰ سورۃ التوبۃ (سال دوم)

مقدمہ فی اصول التفسیر ]ابن تیمیہ[ (سال اول)

مباحث فی علوم القرآن ]منّاع القطان[ (سال دوم)

عالمیہ (ایم۔ اے) 2 سال تفسیر فتح القدیر ]منتخب سورتیں[ (سال اول)

تفسیر بیضاوی ]جزء اول[ (سال دوم)

الفوزالکبیر فی ا صول التفسیر (سال اول)

التفسیر والمفسرون /محمدحسین الذہبی]منتخب حصے[ (سال دوم) ([14])

وفاق المدارس شیعہ پاکستان

مرحلہ /درجہ دورانیہ مقررہ نصاب ِ قرآن حکیم
ثانویہ عامّہ(میٹرک) 2 سال تجوید القرآن ترجمہ قرآن (نصف اول)
ثانویہ خاصّہ(ایف۔ اے) 2 سال ترجمہ قرآن (نصف ثانی)
عالیہ(بی۔ اے) 2 سال تفسیر القرآن (1-15) عبداللہ شبر
عالمیہ(ایم۔ اے) 2 سال تفسیرالقرآن (نصف آخر) عبداللہ شبر

تفسیر صافی

تفسیر موضوعی ([15])

ماڈل دینی مدارس /ماڈل دارالعلوم پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ اسلام آباد

مرحلہ /درجہ دورانیہ مقررہ نصاب ِ قرآن حکیم
متوسطہ(مڈل) 3 سال سال اول: تیسواں پارہ لفظی وبامحاورہ ترجمہ از حافظ نذر احمد

حفظ وتجوید تیسواں پارہ

علم التجوید مؤلفہ قاری غلام رسول

سال دوم: ترجمہ وتفسیر تیسواں پارہ نصف اول

حفظ وتجوید انتیسواں پارہ

فوائدمکیہ از عبدالرحمٰن مکی

سال سوم: حفظ وترجمہ مع تجوید

]سورۂ الفرقان الفتح، الحجرات، الصف،المعارج ، المزمل[

ثانویہ عامّہ(میٹرک) 2 سال سال اول: لفظی وبامحاورہ ترجمہ مع تشریحِ مسائل

]سورہ یونس تا سورہ عنکبوت[

سال دوم: ترجمہ وتفسیر(حافظ نذراحمد)

]سورہ الفاتحہ تا سورہ توبہ[

ثانویہ خاصّہ(ایف۔ اے) 2 سال سال اول: تفسیر (پارہ 21 تا 30)

سال دوم: تفسیر بیضاوی (سورۃ البقرہ واٰل عمران)

عالیہ(بی۔ اے) 2 سال سال اول: علوم القرآن از صبحی صالح

الفوز الکبیر ازشاہ ولی اللہ دہلوی

تفسیر حقانی از مولانا عبدالحق حقانی] منتخب اجزاء[

سال دوم: التفسیر والمفسرون از محمدحسین ذہبی

تاریخ تفسیر ومفسرین ازغلام احمدحریری] منتخب اجزاء[([16])

وفاق ہائے دینی مدارس کے نصاب برائے مطالعہ قرآن کاجائزہ

مختلف مکاتب فکر کی نمائندگی کرنے والے دینی مدارس کے تعلیمی بورڈ بشمول ماڈل مدرسہ /ماڈل دارالعلوم کے نصابات میں مطالعۂ قرآن حکیم کی صورت حال اوپر دیے گیے خاکے کی مددسے پیش کی گئی ہے، جن پر نظرڈالنے سے دینی مدارس بورڈ ز کے نصاب مطالعہ قرآن کے سلسلے میں درج ذیل نکات سامنے آتے ہیں:

حفظ،ترجمہ،تجوید

  • پاکستان میں دینی تعلیم کے روایتی اداروں میں تھوڑے بہت فرق کے ساتھ قرآن حکیم کی یکساں نصابی اسکیم رائج ہے جس کے مطابق ابتدائی درجات میں آخری پارے کے حفظ، ترجمے اورتجوید کے ساتھ بتدریج مکمل قرآن مجید کاترجمہ کرایاجاتاہے۔
  • بالعموم ترجمے میں لفظی یابامحاورہ ترجمے کی تفریق نہیں کی جاتی۔البتہ ماڈل مدرسہ کے نصاب میں حافظ نذر احمدکے ترجمے کاتعین کیاگیاہے جس میں لفظی اوربامحاورہ دونوں طرح کے تراجم دیے گئے ہیں۔
  • تجوید کے لیے زیادہ تر کتب کاسہارا لیاگیا ہے حالانکہ تجوید کاتعلق ابتدائی درجات میں Theory سے زیادہ Practice سے ہوتاہے۔

تفسیر

  • زیادہ تر تعلیمی بورڈز میں تفسیر کے لیے تفسیر جلالین تقریباً مکمل اور تفسیر بیضاوی کاابتدائی حصہ شامل درس کیاگیاہے۔اس سلسلے میں غالباً بورڈز نے پیش نظر متعلقہ فن کی مشکل ترین یامختصر ترین کتب کے انتخاب کاقدیم درس نظامی کانصاب سازی کااصول پیش نظر رکھاہے۔
  • بعض بورڈز نے روایت شکنی کی طرح ڈالتے ہوئے مذکورۃ الصدر دوتفاسیر کے علاوہ دیگر تفاسیر کو بھی مطالعہ قرآن کے نصاب کاحصہ بنایا ہے۔ جویہ ہیں:
  • نیل المرام فی تفسیر آیات القرآنوفاق المدارس السلفیہ
  • تفسیر فتح القدیروفاق المدارس السلفیہ
  • تفسیر القرآنوفاق المدارس شیعہ
  • تفسیر صافیوفاق المدارس شیعہ
  • تفسیر موضوعیوفاق المدارس شیعہ
  • تفسیر حقانیماڈل مدرسہ/دارالعلوم

اصولِ تفسیر وتاریخ تفسیر

بعض بورڈ ز نےاصول تفسیر کے سلسلے میں کچھ مختلف کتب متعارف کرائی ہیں:*

    • التبیان فی علوم القرآن وفاق المدارس العربیہ
    • مقدمہ فی اصول التفسیروفاق المدارس السلفیہ
    • مباحث فی علوم القرآنوفاق المدارس السلفیہ
    • علوم القرآن (صبحی صالح)ماڈل مدرسہ/ماڈل دارالعلوم

بعض بورڈ ز نے تاریخِ تفسیر کے سلسلے میں علیحدہ کتب شامل نصاب کی ہیں:*

    • التفسیر والمفسرون وفاق المدارس السلفیہ
    • التفسیر والمفسرون ماڈل مدرسہ /ماڈل دارالعلوم
    • تاریخ تفسیر ومفسرین(حریری)ماڈل مدرسہ /ماڈل دارالعلوم

دیگر نکات

اشاعت وفروغ تعلیمات قرآن میں پاکستان میں قائم مختلف مکاتب فکر کے دینی مدارس نے بلا مبالغہ نمایاں کردار اداکیاہے جسے پاکستان کے معروضی حالات کے تناظر میں کسی طور پر نظر انداز نہیں کہاجاسکتا۔* قرآن حکیم کے گہرے اور پختہ علم،قرآن حکیم کی تفہیم اور تشریح کے لیے وضع کیے گئے مختلف علوم وفنون بالخصوص علم صرف، علمِ نحو، علم تجوید و قرات، عربی زبان وادب، علم بلاغت ومعانی اوران سب سے بڑھ کر علم حدیث وغیرہ کو جواہمیت دینی مدارس کے ماحول میں حاصل ہے، کہیں اوراس کاتصور نہیں ہے۔ہرفن کی امہاتِ کُتب (Basic Resources) میں سے ضروری حدتک کتب کوشامل کرنا دینی مداراس کے نصابِ درس کاامتیازی وصف ہے۔ جس سے طلبہ میں اہم کتبِ تفسیر سے استفادے کی صلاحیت اوررجحان فروغ پاتے ہیں۔

  • دینی مدارس کے نصاب میں جہاں دیگر کئی علوم وفنون کی مختلف اہم کتب کو شامل رکھاگیاہے، اس سے یہ مشکل ضرورسامنے آتی ہےکہ گویا وہ تمام علوم مقصود بالذات ہوں ا س بنا پر ترجمہ وتفسیر قرآن حکیم کو وہ اہمیت نہ مل پائی ہوجوا س کاواقعی حق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دینی مدارس کے نصاب میں قرآن حکیم کی عدم مرکزیت کاشکوہ اہلِ علم کی جانب سے بجاطور پر کیاجاتاہے۔([17])

دینی مدارس میں قرآن حکیم کے طریقہ تدریس (Teaching Methodology) کاجائزہ

دینی مدارس میں رائج تدریس قرآن حکیم کے طریقے قدیم روایات اوراسلوب پر مبنی ہیں۔ دینی مدارس میں تدریس قرآن کے اسلوب کے چند نمایاں پہلو یہ ہیں:* بالعموم دینی مدارس میں قرآن حکیم کی تدریس میں قواعد وترجمہ (Grammar and Translation Method)کااصول مدِّ نظر رکھاجاتاہے۔

  • دینی مدارس میں کمرہ وجماعت کی تدریس بالعموم خاموش سماعت (Listening) پرمبنی ہوتی ہے۔عملِ تدریس کازیادہ تر مرکز معلم ہوتاہے۔ قرآن حکیم کی تدریس میں بھی یہی اسلوب کارفرما دکھائی دیتاہے۔ ایسے ماحول میں فہم اورتفہیم قرآن حکیم کے حوالے سے بسااوقات طلبہ میں بنیادی مہارت بھی پروان نہیں چڑھتی اور وہ قرآن حکیم کے اہم ترین مقصد ابلاغ سے سدا محروم رہتے ہیں۔
  • بعض دینی مدارس میں عصر حاضر کے تقاضوں کے پیش نظر قرآن حکیم کے بڑے پیمانے پرابلاغ کے لیے اپنے طلبہ اورخصوصیت کے ساتھ فاضلین (Graduates) کودرسِ قرآن دینے کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔
  • درسِ قرآ ن کی تیاری ،درس دینے اورپیشکاری وابلاغ کی مہارتوں (Presentation and Communication Skills) کی باقاعدہ مشق بھی کرائی جاتی ہے۔ایسے دینی مدارس کے زیر اہتمام مستقل بنیادوں پر حلقہ ہائے دروس قرآن قائم کیے گیے ہیں۔القرآن کورسز نیٹ ورک کراچی کی جانب سے www.darsequran.com نامی ویب سائٹ قائم کی گئی۔مساجد اوردینی مدارس کی سطح پرعوام الناس کوقرآن حکیم کے احکام ومطالب سے روشناس کرانے کے لیے دروس قرآن کے پروگرامات کاسلسلہ تیزی سے فروغ پذیر ہے۔([18]) دینی مدارس کے زیراہتمام مختصر دورانیے کے مختلف تعلیمی وتربیتی کورسز اس کے علاوہ ہیں۔
  • زیادہ تر دینی مدارس کےتدریس قرآن حکیم کے لیے تدریسی ٹیکنالوجی،سمعی وبصری معاونات(Audio Visual Aids) کے استعمال سے گریز کارویہ ان کے اثرات بڑھانے میں سدِّ راہ بناہواہے۔
  • دینی مدارس میں جانچ (Assessment) کے خاصے پرانے طریقے رائج چلے آرہے ہیں۔تدریس قرآن حکیم اور اس کی جانچ میں دلچسپی پیداکرنے کے لیے قرآنی جغرافیہ،قصص القرآن،لغات القرآن وغیرہ پرمبنی بیانیہ کے علاوہ مختصر جوابی سوالات (Short Answer Questions) اور کثیر الانتخابی سوالات (Multiple Choice Questions) کواپنایا جاسکتاہے۔

تدریس قرآن حکیم میں غیرروایتی دینی اداروں کے رجحانات

سطور بالا میں بیان کیاجاچکا ہے کہ پاکستان میں تدریس واشاعت قرآن حکیم میں زیادہ تر دینی مدارس کرداراداکرتے رہے ہیں۔وقت گزرنے کے ساتھ روایتی دینی اداروں(یعنی دینی مدارس) کے علاوہ کئی غیرروایتی دینی اداروں نے بھی فروغِ تعلیم قرآن کی خدمت انجام دیناشروع کی۔دینی مدارس سے ہٹ کر جن دینی اداروں نے اس سلسلے میں پیش رفت کی ، ان کے مقاصد میں سب سے نمایاں مقصد یہی تھا کہ عام مسلمان جن کی اکثریت غیر عربی داں طبقے پرمشتمل ہے انھیں قرآن مجید کافہم حاصل کرنے کےقابل بنایاجائے۔اس کے لیے ہروہ طریقہ اپنایاجائے جس سے بآسانی عام مسلمانوں میں قرآن حکیم کو براہ راست سیکھنے کاجذبہ پیداکیا جاسکتاہے۔بلا شبہ غیرروایتی دینی اداروں نے دینی مدارس کی بہ نسبت قرآن حکیم سے براہ راست استفادے کی راہ ہموار کرنے کے لیے تمام وسائل وذرائع بروئے کارلاتے ہوئے طریقے اختیار کیے۔غیرروایتی دینی اداروں میں قرآن حکیم کی تعلیم دینے والے مدرسین کی بڑی تعداد معروف معنوں میں فارغ التحصیل علمائے کرام پرمبنی نہیں تھی،لیکن وہ مختلف شعبوں میں غیرمعمولی صلاحیتوں کے طفیل اورقرآن حکیم وعربی زبان کے ساتھ گہرے شغف اورذوق وشوق کے نتیجے میں قرآن حکیم کوسمجھنے اورسمجھانے میں علیحدہ شناخت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ذیل میں ایسے چند غیرروایتی دینی اداروں کاتعارف اختصار کے ساتھ پیش کیاجارہاہے۔نیز اس ضمن میں ان اداروں کے تدریس قرآن حکیم کے اسلوب کابھی جائزہ لیاگیا ہے۔

قرآن فہمی آسان راستہ (مرتبہ ڈاکٹر حسن الدین احمد )

  • اس مرتّبہ مواد میں قرآن مجید کے الفاظ کی دو فہرستیں دی گئی ہیں۔پہلی فہرست میں 840 الفاظ ہیں جن کی تکرار قرآن مجید میں دس اوردس سے زائد بار ہے۔دوسری فہرست میں قرآن مجید کے 976 الفاظ ہیں جن کی تکرار قرآن مجید میں پانچ سے نو تک ہے۔ان الفاظ کے انگریزی اوراردو معنی بھی دیے گئے ہیں۔یہ فہرستیں قرآن فہمی منصوبے کے لیے تیار کی گئی ہیں جس کامقصد مسلمانوں میں قرآن فہمی عام اور قرآن مجید خودسمجھنے کی استعداد پیداکرنا ہے۔
  • اس مواد کی تیاری میں مرتب نے محمدفواد عبدالباقی کی”المعجم المفہرس لالفاظ القرآن الکریم“ سے مدد لی ہے۔ اس کی تفصیل مرتب نے کچھ یوں بیان کی ہے:

موجودہ طریقہ کار اورالمعجم المفہرس کے بموجب قرآن مجید میں جملہ 11742 مختلف اشکال یاالفاظ ہیں جن میں سے:

6579 اشکا ل یاالفاظ ایسے ہیں جن کی تکرار قرآن مجید میں ایک ہے۔
3352 اشکا ل یاالفاظ ایسے ہیں جن کی تکرار قرآن مجید میں دوتاچار ہے۔قرآن مجید میں ان کی جملہ تعداد8621ہے۔
976 اشکا ل یاالفاظ ایسے ہیں جن کی تکرار قرآن مجید میں پانچ تانو ہے۔قرآن مجید میں ان کی جملہ تعداد 6258ہے۔
840 اشکا ل یاالفاظ ایسے ہیں جن کی تکرار قرآن مجید میں دس یادس سے زائد ہے۔ قرآن مجید میں ان کی جملہ تعداد 30312 ہے۔
اشکال یاالفاظ مندرجہ 3،4 کوعلی الترتیب حصہ اول اوردوم میں شامل کیاگیا ہے۔قرآن شریف کے مندرجہ بالا 11742 اشکال یاالفاظ کی جملہ تعدادتکرار کی بناپر 51770 ہے۔

مندرجہ بالانقشے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے حصے کے آٹھ سوچالیس الفاظ سے واقف ہونے سے قرآن مجیدکے 70تا64 فی صد متن سے واقفیت ہوجاتی ہے۔([19])

قرآن کلب لاہور

قرآن کلب لاہور کے مقاصد میں ہے:* قرآن مجید کے ترجمے کوآسان فہم بنانے کی کوشش کرنا۔

  • قرآنی تعلیمات پر مبنی ایسی عام فہم کتب کی اشاعت کرنا جن سے قرآن فہمی میں مددملے۔
  • قرآنی گرامر کوآسان تر بنانے کی کوشش کرنا۔
  • قرآن مجید سے متعلقہ موضوعات پرمختلف سیمینار کرانا۔
  • قرآن فہمی کے لیے شارٹ کورسز کاانعقاد کرانا۔
  • قرآن فہمی کے لیے ٹیچرٹریننگ کورسز منعقد کرانا۔
  • انٹرنیٹ کے ذریے فہم قرآن میں مدد دینا۔ ([20])

قرآن کلب کے مقاصد کے حصول کے لیے درسی مواد تیار کیاگیا ہے۔جس کابنیادی مواد ”مفتاح القرآن “ کے نام سے پیش کیاگیا ہے۔اس کلید میں فہمِ قرآن کے نقطہ نظر سے رسمی گرامر کاحوالہ دیے بغیر عربی زبان کی تحصیل کاسہل طریقہ ایجاد کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔عربی زبان کے مفہوم کاانحصار مختلف علامات پر ہے اس بنیادی پہلو کو پیشِ نظر رکھ کر” مفتاح القرآن“ کے اسباق کو ان علامات کے حوالے سے مرتب کیاگیاہے۔اس کورس کی تیاری میں عربی قواعد کے درس وتدریس کے معروف اسلوب سے ہٹ کر نیاانداز اورطریقہ اختیارکیاگیاہے۔ علامات کونمایاں کرنے کے لیے رنگوں کی تکنیک استعمال کی گئی ہے۔علامات کے استعمال کے حوالے سے مُرتِّب نے کچھ یوں اظہارِ خیال کیاہے:

” جولوگ گرامر کومشکل اورتھکادینے والاسلسلہ سمجھتے ہیں،ان کوگرامر کی بجائے ایک آسان راستہ مہیا کیاگیاہے۔قرآن کے مطالب تک بذریعہ علامات پہنچنے کی کوشش کی گئی ہے۔یہ آسان فہم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دلچسپ اورمنفرد طریقہ بھی ہے، اس سے قاری اکتاہٹ محسوس نہیں کرتا اوراس کی دلچسپی مسلسل برقرار رہتی ہے۔قرآن مجید کے اکثر الفاظ واحد،تثنیہ،جمع ،مذکر،مؤنث اوردیگر حیثیات سے استعمال ہوئے ہیں، جو کہ علامتوں کے ذریعے بآسانی پہچانے جاسکتے ہیں۔یہ علامتیں باربار استعمال ہونے کی وجہ سے خود بخود یادہوجاتی ہیں۔اگرترجمۃ القرآن کے راہی کو یہ علامات بتادی جائیں تو توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ منزل تک بآسانی پہنچ سکتاہے۔اس طرح بغیر گرامر کے قرآن کے سمجھنے میں کافی حد تک مددملتی ہے۔مذکورہ کتاب میں ہرعلامت اوراس کے ترجمے کو سرخ رنگ میں ظاہر کیاگیاہے۔“([21])

فہمِ قرآن انسٹی ٹیوٹ لاہور

فہمِ قرآن انسٹی ٹیوٹ لاہور کے مرتب کردہ آسان قرآنی /عربی گرامر کورس بنام "تیسیرالقرآن" میں قرآن کلب لاہور کے برعکس عربی قواعد کو قرآن فہمی کے لیے لازمی قراردیاگیاہے۔

کورس کے حوالے سے پروفیسر عطاء الرحمٰن ثاقب لکھتے ہیں:

”ہم نے جو یہ سلیبس ترتیب دیا ہے وہ عربی گرامر کے ان قواعد وضوابط پرمشتمل ہے جو قرآن وحدیث کاترجمہ سمجھنے کے لیے ضروری ہے....ہمارے ہاں جو گرامر پڑھائی جاتی ہے اسے قرآن مجید سے وابستہ نہیں کیاجاتا ۔عربی گرامرکے قواعد کی مثالیں قرآن مجید کی آیات اوراحادیث نبویہؐ میں سے دینے کے بجائے اِدھر اُدھر سے دی جاتی ہیں۔تیسیرالقرآن میں دی گئی مثالیں زیادہ تر قرآن مجید میں سے ہیں اوریوں عربی گرامر کے ساتھ ساتھ قرآنی ذخیرہ الفاظ کاایک وافر حصہ بھی موجود ہے.....قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے عربی گرامر کے بنیادی قواعد وضوابط سے واقفیت بہت ضروری ہے۔“([22])

انڈرسٹینڈ القرآن اکیڈمی (Understand Al-Quran Academy)

یہ اکیڈمی پاکستان سمیت دنیا بھر میں قرآن فہمی اورآسان عربی کے کورسز کرارہی ہے۔اکیڈمی کے کورسز انٹرنیٹ پرآن لائن بھی دستیاب ہیں۔اکیڈمی کابنیادی مقصد قرآن سے دوری کوختم کرنا اورایسی نسل کی تیاری میں مددکرنا ہے جو قرآن مجید کوپڑھے،سمجھے ،عمل کرے اوردوسروں تک ا س کے پیغام کوپہنچائے ۔اس کامقصد قرآنی علوم کے ماہرین کوتیارکرنا نہیں ہے بلکہ اس کامقصد یہ ہے کہ عام مسلمان قرآن کے بنیادی پیغام کوسمجھ سکے۔ اس طریقہ تعلیم میں نئے طریقوں کواستعمال کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے۔

اکیڈمی کامشن یہ ہے کہ قرآنی عربی کوآسان ترین انداز میں سکھایاجائے،بچے ، نوجوان اوربڑے لوگوں کے لیے تین مختلف انداز ِ تعلیم تیار کیے جائیں۔

اکیڈمی کاطریقہ تعلیم

  1. قرآنی عربی مؤثر طریقے سے سکھانا،شوق دلانے کے لیے آیات ،احادیث،واقعات، مثالیں اور اس کے بعد موجودہ نئے طریقوں کا استعمال کرنا۔
  2. قرآن کے پیغام اورعربی زبان کے قواعد کوسکھانے کے لیے تحقیقات کواستعمال کرتے ہوئے طریقے ترتیب دینا۔
  3. ان تمام وسائل کااستعمال جو اس کام میں فائدہ مند ہوں مثلاً آڈیو،ویڈیو،کارڈز،پوسٹرز،مسابقاتی کھیل وغیرہ۔
  4. ٹیچر ٹریننگ پروگرام کرنا۔

اس کورس کی اہم خصوصیت اس کاعربی گرامرسکھانے کاانداز ہے۔چونکہ اس کورس کامقصد طالب علموں کوقرآن کریم کے موجودہ تراجم کے ذریعے قرآن کو سمجھنے میں مدد دینا ہے،اس وجہ سے اس کورس میں "صرف" پرزیادہ توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ "صرف" کی تعلیم کے لیے ایک نہایت ہی عام فہم اور عملی تربیتی ٹیکنیک (TPI: Total Physical Interaction) کاانتخاب کیاگیاہے۔

اکیڈمی کے پیش کردہ قرآن فہمی وآسان عربی کے ایک ابتدائی کورس میں قرآن مجید کے تقریبا 125،اہم الفاظ سکھائےگئے ہیں جو قرآن میں 40000 سے زیادہ بار آئے ہیں،یعنی ایک طرح سے ان الفاظ کو جان کر 50 فیصد الفاظ کے معنی ومطلب سے واقف ہوسکتے ہیں۔ ([23])

دی علم فاؤنڈیشن (The Ilm Foundation)

”دی علم فاؤنڈیشن“ کاقیام 2010ء میں عمل میں آیا۔ جس کامقصد نئی نسل تک قرآن حکیم کی تعلیمات کوپہنچانا ہے۔ ادارہ یہ فریضہ رضائے الٰہی کی خاطر بغیر کسی مالی منفعت کے سرانجام دے رہاہے۔ادارے کے تحت قرآنی تعلیمات کاایک جامع نصاب ”مطالعہ قرآن حکیم برائے طلباء وطالبات “ کے نام سے ترتیب دیاگیا ہے جوکہ سات حصوں پرمشتمل ہے۔

”مطالعہ قرآن حکیم برائے طلباء وطالبات“ آسان اورعام فہم انداز میں ابتدائی عمر سے قرآن حکیم سے تعلق جوڑنے کی ایک مربوط کوشش ہے۔ یہ مطالعہ قرآن حکیم طلباء کوان کی عصری تعلیم ہی کے دوران ” اسلامیات“ کے عمومی نصاب کے ساتھ کرایاجائے گا جس کے لیے کوئی اضافی وقت درکار نہیں ہوگا۔ اس طرح ساڑھے چھے سالوں (تقریباً 350 گھنٹوں ) میں طلباء پورے قرآن حکیم کے ترجمے،مختصر تشریح،اہم مضامین اورعملی ہدایت سے واقف ہوسکتے ہیں۔ ادارے کے ذمہ داران کے مطابق اس وقت ملک کے طول وعرض میں گورنمنٹ کے چند اسکولوں کے ساتھ سینکڑوں پرائیویٹ اسکولوں میں ایک لاکھ سے زائد طلباء وطالبات اس نصاب سے مستفید ہورہے ہیں جن کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہاہے۔ ان اسکولوں میں میٹرک سسٹم کے علاوہ کیمبرج اورمدرسہ سسٹم کےتحت چلنے والے اسکول بھی شامل ہیں۔

مطالعۂ قرآن حکیم برائے طلباء وطالبات کی خصوصیات

  1. قرآن حکیم کامکمل ترجمہ اورمختصر تشریح
  2. طلباء وطالبات کی ذہنی سطح کے مطابق عام فہم اورآسان ترجمہ
  3. ترجمہ اورعربی متن میں دورنگوں کااستعمال
  4. نصاب کی ترتیب میں بچوں کی ذہنی سطح اوردلچسپی کاخاص خیال
  5. انبیائے کرام ؑ کے قصوںکوبہتر طور پر سمجھانے کے لیے نقشوں کااستعمال
  6. عملی مشق کروانے کے لیے ”گھریلو سرگرمیاں“
  7. اساتذہ کی تدریسی معاونت کے لیے”تدریسی ہدایات“
  8. ہرآیت سے متعلق اہم نکات " نکات برائے اساتذہ " اورمشقوں کے جوابات
  9. مسلکی اختلافات کے بیان سے گریز ([24])

قرآن اکیڈمی

قرآن اکیڈمی کے مؤسس ڈاکٹر اسراراحمد زمانہ طالب علمی سے درس قرآن دینے کاشغف رکھتے تھے۔ڈاکٹر صاحب تفسیر تدبر قرآن کے مؤلف مولانا امین احسن اصلاحی کے اسلوب سے استفادہ کرتے تھے۔ 1968ء میں انہوں نے تحریک رجوع الی القرآن کاآغاز کیا۔1972ء میں مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور اوراس کے تحت قرآن اکیڈمی لاہور قائم کی۔ ملک کے مختلف شہروں میں اس ادارے کی ذیلی شاخیں قائم کی گئیں۔ ([25])

پاکستان میں قرآن حکیم کافہم عام کرنے کے سلسلے میں غیرروایتی اداروں میں انجمن خدام القرآن کو قدیم اداروں میں شمار کیاجاتاہے۔* مرکزی انجمن خدام القرآن کے مقاصد :

    • عربی زبان کی تعلیم وترویج
    • قرآن مجید کے مطالعے کی عام ترغیب وتشویق
    • علوم ِ قرآنی کی عمومی نشرواشاعت
    • ایسے نوجوانوں کی مناسب تعلیم وتربیت جوتعلّم وتعلیم ِ قرآن کومقصدِ زندگی بنالیں۔
    • ایک ایسی قرآن اکیڈمی کاقیام جوقران حکیم کے فلسفہ وحکمت کو وقت کی اعلیٰ ترین سطح پرپیش کرسکے ۔

ان مقاصد کےحصول کے لیے مختلف شہروں میں قرآن فہمی اورعربی گرامر کورس جاری ہیں۔اس سلسلے میں رمضان کے دوران نماز تراویح کے ساتھ ترجمۂ قرآن حکیم کی محافل کاشہر کراچی میں کئی مقامات پر انعقاد بھی عمل میں لایاجاتاہے۔ ([26])

الہدیٰ انٹرنیشنل ویلفیئر فاؤنڈیشن

الہدیٰ انٹرنیشنل ویلفیئر فاؤنڈیشن پاکستان کے زیراہتمام قرآن وسنت کی تعلیم کے فروغ اورمعاشرے میں اسلام کی حقیقی روح کوبیدارکرنے کے لیے نومبر1994ء میں انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک ایجوکیشن فارویمن کاقیام عمل میں لایاگیا۔انسٹی ٹیوٹ کابنیادی مقصد ایسے افراد کی تیاری ہے جو پوری لگن ،شوق ،محنت، اورصرف اللہ کی رضا کی خاطر معاشرے کی تعمیر وترقی میں مثبت کراداراداکرسکیں۔اس مقصد کی تکمیل کے لیے ڈپلومہ ،پوسٹ ڈپلومہ اورسرٹیفیکیٹ کورسز کروائے جاتے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ میں قدیم روایتی اندازِ تعلیم سے ہٹ کر جدید وسائل وطریقوں سے کام لیتے ہوئے طالبات کوپرسکون ،خوشگوار اوردوستانہ ماحول میں علم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں

تعلیم القرآن کورس

تعلیم القرآن کورس کابنیادی مقصد قرآن مجید کوبراہ راست عربی زبان میں سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔گھریلو اورملازم پیشہ خواتین ،کالج اور یونی ورسٹی کی طالبات کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ صبح وشام ، طویل اور مختصر دورانیے کے کورس پیش کرتا ہے تاکہ کوئی بھی قرآن مجید سیکھنے سے محروم نہ رہے۔یہ کورس مختلف دورانیے اوراوقات کے ساتھ دوزبانوں اردو اورانگریزی میں پیش کیاجاتاہے۔ ([27])

غیرروایتی دینی اداروں کے اسلوب تدریس قر آن حکیم کاجائزہ ، چند نکات

سطور بالا میں پاکستان کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے چند ایسے دینی اداروں کاتذکرہ کیاگیا ہے جو قرآن حکیم کافہم عام کرنے کے سلسلے میں مختلف النوع سرگرمیاں منعقد کرنے کی شہرت رکھتے ہیں اور یہ ادارے دینی مدارس کی طرح روایتی دینی اداروں میں شمار نہیں کیے جاتے۔ زیرنظر مقالے میں قرآن حکیم کی تدریس میں مصروف عمل غیرروایتی دینی اداروں کے اعدادوشمار کااحاطہ مقصود نہیں ۔بلکہ صرف چند قابلِ ذکر اداروں کاتذکرہ کرکے ان کاروایتی دینی اداروں(یعنی دینی مدارس) کےاسلوبِ تدریسِ قرآن حکیم کاموازنہ کرنا پیش نظر ہے۔تاہم غیر روایتی دینی اداروں کی سرگرمیوں کابنظرِ غائر جائزہ علومِ اسلامیہ اوردینی مدارس کے حوالے سے تحقیق میں مصروف اہلِ فکر ونظر کی خصوصی توجہ کامتقاضی میدان ہے۔ذیل میں غیرروایتی دینی اداروں کے اسلوبِ تدریسِ قرآن حکیم کانکات وار جائزہ پیش کیاگیاہے۔

تدریسِ قرآن کا نصاب اورمقاصد

غیرروایتی دینی اداروں کے تدریس قرآن حکیم کے مقاصد میں دینی مدارس کے مقابلے میں واضح فرق پایا جاتاہے۔دینی مدارس میں مختلف مضامین اورعلوم کی تدریس کومقصد بنایا گیاہے جب کہ ان اداروں میں از اول تاآخر فہمِ قرآن کو مرکزیت حاصل ہے۔ دینی مدارس کے طلبہ بالعموم کئی سال تک مدارس کے ماحول میں پڑھنے کے عادی ہوتے ہیں۔ اس لیے انھیں ایک ایک فن کی کئی کتب پڑھائی جاتی ہیں۔ قرآن حکیم کی تدریس کے لیے بھی روایتی دینی اداروں میں منتہیانہ کتب کوشامل درس رکھا گیاہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں غیرروایتی دینی ادارے ہیں جہاں قرآن حکیم کی تدریس کوزیادہ پُرکشش،آسان اور دلچسپ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، اس کی بنیادی وجہ ان کے شرکاء کی عام زندگی کی مصروفیات ہوتی ہیں ۔اسی بناپر غیرروایتی دینی اداروں کے زیادہ ترتعلیمی پروگرام مختصر دورانیے کے کورسز پرمبنی ہوتے ہیں۔ان کے شرکاء میں ڈاکٹر ،انجینئر،وکلاء،کاروباری حضرات سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے عام مسلمان ہوتے ہیں،جواپنے اپنے شعبوں میں جدید ترین اشیا کو دینی مدارس کی نسبت زیادہ برتنے کی وجہ سے قرآن فہمی کے پروگراموں میں بھی بآسانی رواج دے سکتے ہیں۔مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ غیرروایتی دینی اداروں کو معاشرے کے مختلف الجہات پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل افراد کی خدمات حاصل ہوتی ہیں، جو کسی نہ کسی درجے میں ان اداروں کی تعلیمی وتربیتی سرگرمیوں میں شریک ہوتے ہیں یا شرکت کرچکے ہوتے ہیں۔ غیرروایتی دینی اداروں کےاثرات وثمرات کے اعتبار سے یہ ایک حوصلہ افزا اورمثبت پہلو ہے۔

مختلف تدریسی حکمت عملی(Different Teaching Strategy)

روایتی دینی اداروں کے مقابلےمیں دینی ادارے قرآن حکیم کی تدریس کے لیے مختلف حکمت عملی پرعمل پیرا ہیں۔ جس کی تفصیل کچھ یوں ہے: * عربی سکھانے کے لیے Direct Method کااستعمال

  • Interactive (تعاملی) کورس جس میں دلچسپ تعلیمی سرگرمیاں (Learning Activities) ، تفویض کار(Assignments) اورجانچ(Assessment) کےمختلف جدید طریقے مثلاً کثیرالانتخابی سوالات (MCQ’s) وغیرہ دیے گیے ہیں۔
  • عربی زبان کی قواعد کی تدریس ضروری حد تک رکھی گئی ہے۔
  • Understand Al-Quran Academy کے کورس میں Total Physical Interaction کوعربی قواعد کی تدریس کے لیے بھرپور طریقے سے استعمال کیاگیاہے۔
  • قرآنی لغات اورمفردات کی تفہیم پرزیادہ زور ۔
  • تدریسی ٹیکنالوجی اورمعاونات کابھرپور استعمال۔
  • دینی مدارس میں DVD’s , CD’s اورآن لائن کورسز کارجحان نہیں ہے لیکن غیرروایتی دینی اداروں کی اکثریت (جن کااوپر تذکرہ کیاگیا ہے) ترجمہ وتفسیر قرآن کی بڑے پیمانے پر اشاعت کے لیے ان ذرائع ووسائل کو بروئے کار لا رہی ہے۔
  • غیرروایتی دینی اداروں میں سے بعض نے ترجمہ قرآن کوآسان بنانے کے لیے سرخ وسیاہ رنگوں کے ذریعے مفرد ات اوران کے معانی میں فرق ظاہر کرنے کی تکنیک کو استعمال کیاہے۔
  • The Ilm Foundation نے اسکولوں کے طلبہ و طالبات کے لیے اسلامیات کے مضمون کے عمومی نصاب کے ساتھ قرآن حکیم کے ترجمہ وتشریح کانصاب مرتب کیاہے۔علاوہ ازیں رہنمائے اساتذہ (Teacher’s Guide) اساتذہ کے لیے تربیتی ورکشاپ اور مختلف ویڈیوز کی مدد سے عمل تدریس کو مزید سہل بنانے کی کوشش کی ہے۔

تجاویزوسفارشات

  1. دینی مدارس اپنے نصاب ونظام میں بہتری لاتے ہوئے مطالعہ قرآن کے حوالے سے مندرجہ ذیل اقدامات کرسکتے ہیں:
  • قرآن حکیم کے منتخب حصوں کا تفسیری وتحقیقی مطالعہ جس میں متنوع مناہج کی تفاسیر شامل ہوں۔
  • تخصص فی علوم القرآن کا باضابطہ شعبہ دینی مدارس میں قائم کریں۔
  • تجوید وحسنِ قرات کاباقاعدہ کورس کرایاجائے۔
  • درس قرآن دینے کی مکمل تربیت دی جائے اورطلبہ پر لازم ہو کہ وہ اپنی کوشش سے حلقاتِ قرآنیہ قائم کریں، جس کے ذریعے عوام الناس کی قرآن حکیم سے دوری کاخاتمہ ممکن ہو۔
  • مدارس میں شیخ الحدیث کی طرح شیخ التفسیر بھی تقررکیے جائیں۔
  1. غیرروایتی دینی اداروں اوردینی مدارس کے مابین فروغ ِ قرآن حکیم کےلیے اشتراکِ عمل اور باہمی تعاون کی راہیں ہموار کرنی چاہیئں تاکہ دونوں کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کی کوتاہیوں کاازالہ ممکن بنایا جاسکے۔
  2. دینی مدارس قرآن فہمی کے آسان ،مختصر دورانیے کے اور شام کے اوقات میں ہمہ نوع ودلچسپ کورسز کابڑے پیمانے پر اہتمام کریں۔
  3. غیرروایتی دینی ادارے دینی مدارس میں موجود ماہرینِ قرآن کی رہنمائی اورمعاونت سے اپنے وسیع کام میں مزید بہتری لاسکتے ہیں۔
  4. فروغِ قرآن حکیم کے لئے قائم غیرروایتی دینی اداروں کےمؤسسین میں زیادہ تر کاتعلق درس نظامی کے فاضل علماء میں سے نہیں۔ان میں سے بعض ادارے ڈاکٹرز،انجینئرز اورپروفیسرحضرات نے قائم کیے۔ایسے اداروں کا معاشرے میں اپنے لیے جگہ بنالینا اورقرآن حکیم کافہم عام کرنے کے لیے خود بھی تدریسِ قرآن کے سلسلے سے جڑجانا غیرمعمولی امر ہے اس کے باوجود غیرروایتی دینی اداروں کے ذمہ داران اورمدرسینِ قرآن عام تعلیم یافتہ افراد ہوتے ہیں جن کے قرآن حکیم کی تلاوت کے لہجے اورترجمہ وتفسیر میں بنیادی غلطیاں پائی جاتی ہیں جن کی اصلاح کے لئے ٹھوس لائحہ عمل بناناضروری ہے۔


حوالہ جات

  1. ۔سلیم،پروفیسرسید محمد، ہندوپاکستان میں مسلمانوں کانظام تعلیم وتربیت،ادارۂ تعلیمی تحقیق تنظیم اساتذہ پاکستان ،1993ء، ص 106
  2. ۔ایضاً، حوالہ بالا،ص 98 ۔101
  3. ۔ صدیقی،پروفیسربختیارحسین،برصغیر پاک وہند کے قدیم عربی مدارس کانظام تعلیم،ادارۂ ثقافت اسلامیہ ،لاہور، 2009ء، ص 10 ۔21
  4. ۔ایضاً ،حوالہ بالا،ص 21
  5. ۔ رضوی،سید محبوب،تاریخ دارالعلوم دیوبند، ادارۂ اسلامیا ت، لاہور۔کراچی، 2005ء،ص 104
  6. ۔محولہ بالا،ہندوپاکستان میں مسلمانوں کانظام تعلیم وتربیت،ص 268 ۔269
  7. ۔ احمد،حافظ نذر،جائزہ مدارس عربیہ اسلامیہ مغربی پاکستان(اول)،جامعہ چشتیہ ٹرسٹ لائل پور،1960ء،ص 771
  8. ۔سلیم، پروفیسر سید محمد،محولہ بالا،ص 297؛فراہی،امام حمیدا لدین،تفسیر قرآن کے اصول ،ترتیب وترجمہ:خالد مسعود،ادارۂ تدبر قرآن وحدیث، لاہور، 1999ء،ص 10
  9. ۔سلیم، پروفیسر سید محمد، ہندوپاکستان میں مسلمانوں کانظام تعلیم وتربیت،ادارہ تعلیمی تحقیق تنظیم اساتذہ پاکستان، ص293۔294
  10. ۔ندوی ، سیدسلمان حسینی ،ہمارانصاب تعلیم کیاہو؟،مجلس نشریات، اسلام ۔کراچی،2004ء،ص 182
  11. ۔www.wifaqulmadaris.org
  12. ۔دستور اورنصاب تعلیم ،رابطۃ المدار س الاسلامیہ پاکستان منصورہ لاہور، س ن
  13. ۔www.tanzeemulmadaris.com/syllabus
  14. ۔ نظام تعلیم اورنظام امتحانات ، وفاق المدارس السلفیہ ،جامعہ سلفیہ، فیصل آباد،2011ء
  15. ۔ خالد،سلیم منصور،دینی مدارس میں تعلیم،کیفیت،مسائل ،امکانات،آئی۔ پی۔ایس اسلام آباد ،2002ء،ص 388 ۔412
  16. ۔نصاب تعلیم برائے ماڈل دینی مدارس /ماڈل دارالعلوم ، پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ، اسلام آباد،2003ء،ص4 ۔17
  17. ۔خالد،سلیم منصور،محولہ بالا،ص 114
  18. ۔شاہ منصور،مفتی ابوالبابہ،درسِ قرآن کیسے دیاجاتاہے؟السعید پبلی کیشن، کراچی،1434ھ،ص 46
  19. ۔احمد،حسن الدین،ڈاکٹر،قرآن فہمی آسان راستہ،مکتبہ تعمیرانسانیت لاہور،س ن، ابتدائی باتیں،ص، ل۔م
  20. ۔طاہر،پروفیسرعبدالرحمن، مفتاح القرآن ،طبع قرآن کلب، لاہور،2003ء،ص 6
  21. ۔طاہر، پروفیسرعبدالرحمن، ص 6
  22. ۔ثاقب،پروفیسرعطا الرحمنٰ،مقدمہ،تیسیر القرآن ،فہم قرآن انسٹی ٹیوٹ ،لاہور ،2008ء
  23. ۔آسان عربی کورس ابتدائی(Understand Al-Quran Academy)، ص 3 ۔7
  24. ۔بروشر ، دی علم فاؤنڈیشن
  25. ۔ڈاکٹراسراراحمداورتنظیم اسلامی ایک تعارف، شعبہ مطبوعات انجمن خدام القرآن، سندھ،2011ء،ص 20۔25۔26
  26. ۔www.quranacademy.com
  27. ۔ www.alhudapk.com