لسان العرب کا تعارفی و تحقیقی مطالعہ

From Asian Research Index - Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ التفسیر
عنوان لسان العرب کا تعارفی و تحقیقی مطالعہ
مصنف الدین، عمیر رئیس، سنبل انصار
جلد 35
شمارہ 1
سال 2020
صفحات 260-373
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Lisan al-Arab, Ibn Manzoor, Semitic language, Arabic dictionaries
شکاگو 16 الدین، عمیر رئیس، سنبل انصار۔ "لسان العرب کا تعارفی و تحقیقی مطالعہ۔" التفسیر 35, شمارہ۔ 1 (2020)۔
شیخ سعید حوی اور ان کی تفسیر: ایک مطالعہ
علامہ اسید الحق قادری بدایونی کی کتاب ”قرآن کی سائنسی تفسیر“: ایک مطالعہ
ترجمۃ القرآن از عبد السلام بن محمد کے خصائص و ممیزات اور تفسیر القرآن کا تحقیقی مطالعہ
علماء اہلسنت (بریلوی) کی تفاسیر کا اسلوب بیان: ایک جائزہ
مذہبی اجارہ داری کے انسداد میں مفسرین کی خدمات کا تجزیاتی مطالعہ
تشبہ بالکفار اور قرآنی تعلیمات: ایک تحقیقی جائزہ
عورت کی ازدواجی حیثیت اور تولیدی صحت سے متعلق تصورات کا تجزیہ
خلع میں شوہر کی رضامندی کے دلائل اور عدالت کا دائرہ اختیار: تجزیاتی مطالعہ
قتل غیرت اور اسلامی تعلیمات: فیصل آباد ڈویژن کے تناظر میں: ایک تجزیاتی جائزہ 2016ء تا 2018
سیرت رسول ﷺ اور انسانیت کا احیاء تہذیبوں کے پیرائے میں
عہد رسالت میں مملکت کا بنیادی تصور: ایک تحقیقی جائزہ
سماج کے کمزور طبقات کے ساتھ رسول اللہﷺ کا طرز عمل
صوفیہ کے ملفوظاتی ادب میں معجزہ معراج النبی ﷺ: ایک مطالعہ
ماحولیات، جدید چیلنج اور تعلیمات نبوی ﷺ
فقہی مسائل میں تطبیق: ” کتاب المیزان “ کا تعارف و جائزہ
امام غزالی کے فکری اسفار کا مطالعہ
مولانا ابو یوسف محمد شریف محدث کوٹلوی کی خدمات حدیث شریف
اسلام اور مغرب میں خاندانی نظام کا تقابلی جائزہ
فیملی بزنس میں زکوۃ کے مسائل اور ان کا حل
تجارت میں جعل سازی کا بڑھتا ہوا رحجان اور حکومتی ذمے داریاں
لسان العرب کا تعارفی و تحقیقی مطالعہ
Evolution of Arabic Literature in Nigeria: Case Study of Tafa’sir
Stealing, Usury, Wine and Divorce in the Sami Religions of the World
Haq Bakhshish (Marriage to Quran) : A Custom Confused With Religion: A Case Study of Qaisra Sharaz’S Protogonist ‘Zari Bano’ from the Novel Holy Woman
Religious Education and Community Services: Importance of Islamic Studies Education As Tool for Social Services and Community Welfare
Role of Media in Building an Islamic Society
Soft Power: An Invasion to Pakistani Culture

Abstract

The dictionaries have played a vital role in understating and preserving any language. Arabic is a Semitic language; it has a large, deep and rich history. The Arabs have always tried to keep the Arabic language safe, but all these efforts were verbal, they did not have a tradition of writing in pre Islamic era. After the Islam they focused on writing and began the writing activities such as: exegesis of Quranic verses, Hadith and explanation of some difficult words used in Quranic verses. In the 2nd century, the first initial stage of Arabic dictionary writing began with the efforts of Al-Khalil, who is considered as a founder of Arabic dictionary writing. After that, language scholars created a great work in promotion of Arabic dictionary. Of these scholars Ibn Manzoor who sacrificed his life for the preserving Arabic language through his writing and research. And his valuable and great benefit book (Lisan-al-Arab) which is considered one of the most important source on said subject. In this Paper, we have presented an introductory and detailed study of his said book, So that Urdu readers can benefit from this scholarly investment.

ابتدائیہ

لغت نویسی زبان کو محفوظ رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہوتی ہے۔فنِ لغت نویسی کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔تاریخی شواہد کے مطابق اس سلسلے کی پہلی کتاب سنسکرت کے قواعد پر پانینی ([1])نے چوتھی صدی قبل مسیح میں واضح مذہبی مقاصد کے پیش نظر لکھی۔اس کتاب میں سنسکرت کے صوتی وصرفی ونحوی نظام کونہایت خوش اسلوبی سے بیان کیاگیاہے۔یہ کتاب اس بات پربھی شاہد ہے کہ اہل یونان اور رومی لسانیات سے آگاہ تھے لیکن ان کے ہاں باقاعدہ کوئی کتاب نہیں تھی۔([2])عربوں میں چونکہ لکھنےکا رواج نہیں تھا اس لیے اُنھوں نے اس فن پر کوئی خاص توجہ نہیں دی۔عربوں کا کتابت سے براہ راست رشتہ نزول قرآن کی وجہ سے اُستوارہوا۔ آپ ﷺ نے کاتبین ِ وحی کے ذریعے قرآن مجید کی کتابت کا اہتمام کروایا۔تاہم ابتداء میں یہ کتابت وحی الٰہی کےساتھ مخصوص رہی۔ صحابۂ کرام کو جب کسی لفظ کے معانی و تشریح کی ضرورت پڑتی تو وہ براہ راست آپ ﷺ سے دریافت کرلیا کرتے تھے۔یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ عہدنبوی ﷺ میں لغت نویسی کا سلسلہ بالمشافہ جاری رہا۔ خلفائے راشدین کے دور میں بھی یہ سلسلہ اسی طرح چلتارہا۔ البتہ بعض صحابہ کرام ؓ نے قرآن وحدیث میں وارد شدہ مشکل وغریب الفاظ کی تشریح و وضاحت کو لکھنا شروع کردیا لیکن اس کا دائرہ کار بہت محدود تھا۔ اس کوعربی لغت نویسی کی ابتدائی کاوشوں سے تعبیرکیا جاسکتاہے۔ ان ابتدائی کوششوں میں سب سے نمایاں نام حضرت ابن عباس ؓ کا آتاہے جو خود ماہر لسانیات تھے آپ نےسب سے پہلے کلام عرب کی مددسے قرآن مجید کے غریب الفاظ کی وضاحت وتفسیر پیش کی۔آپ کی طرف "غریب القرآن " نامی کتاب منسوب ہے لیکن مؤرخین کا اس کی نسبت میں اختلاف ہے۔بہرحال اس فن کی باقاعدہ نشوونماخلیل بن احمد الفراہیدی کے ہاتھوں ہوئی جنھوں نے "کتاب العین" نامی منفرد کتاب تصنیف کی۔بلاشبہ یہ ایک تخلیقی کاوش تھی ۔ جس نے بعد میں آنے والے لغت نگاروں کے لیے باقاعدہ ایک راہ متعین کی۔خلف الاحمر،الکسائی، ابن درید وغیرہ نے اس کے کام کو آگے بڑھایا اوریوں عربی لغت نویسی میں ایک نئےتدوینی مرحلے کا آغاز ہوگیا۔

ابتدامیں لغت نگاروں نے عربی زبان کے الفاظ کو خالص عرب بدوؤں سے جمع کرنا شروع کیا تاکہ زبان عجمی اثرات اور دخیل الفاظ سے محفوظ ہو سکے۔یہ سلسلہ تقریباً سوسال پر محیط تھا یعنی پہلی صدی ہجری کے اواخر سے دوسری صدی ہجری کے اختتام تک ۔ یہی دور احادیث، شعروادب کی جمع وتدوین کا بھی ہے۔مؤرخین اس دور کو تدوینِ لغت کا پہلا مرحلہ شمار کرتے ہیں۔اس دور میں بغیر کسی ترتیب وتنظیم کے صرف اورصرف جمع وتدوین پر زور دیاگیا۔اس دور کی نمایاں کتابوں میں کتب الغربین اور کتب النوادر ہیں۔

دوسرے مرحلے میں لغت کی تدوین چھوٹے چھوٹے رسائل کی صورت میں کی گئی ۔ لغت نگاروں نے الفاظ کو معانی وموضوعات اور اضداد کے لحاظ سے جمع کرنا شروع کیا۔بعض نے ثلاثی حروف کی بنیاد پر رسائل مرتب کیے مثلاً: قطرب کی کتاب" فعل وأفعل" ، ابراہیم بن السری الزجاج کی" فعلت وأفعلت " اسی طرح کتاب النباتات، کتاب الحشرات، کتاب الإبل، کتاب الخیل، کتاب خلق الأرض وغیرہ معرض ِوجود میں آئیں۔ ([3])

خلیل بن احمد الفراہیدی کی معرکہ آراتصنیف"كتاب العين" لغت نگاروں کے لیے مہمیز ثابت ہوئی جس نے ان کی روحوں کو بیدار کیا،عقلوں کو سیراب کیا،فن لغت نویسی میں ان کی دلچسپی وشوق کو دوام بخشا۔ علمائے لغت نے دیگر علوم کی طرح اس علم کی ترقی وترویج میں بھی اپنا کردار ادا کیا اورنایاب کتب تدوین کیں ہیں۔

مؤرخین نےعربی لغت نویسی کی دوسوسالہ بنیادی تاریخ کو چارنکتہ ہائے فکر میں تقسیم کیاہے۔ یعنی دوسری صدی ہجری کے اوائل سے لے کر چوتھی صدی ہجری کے آواخر تک کا عرصہ یا ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ خلیل بن احمد کےدور سے لے کر امام جوہری کے دورتک کا عرصہ جو تقریباً دو سو سال پر محیط ہے۔ اس دور میں میں لغت نویسی بڑے نشیب وفراز سے دوچارہوئی۔ نئےتجربات ومشاہدات کی روشنی میں لغت نگاری جدید نکتہ ہائے فکر سے روشناس ہوئی۔لامحالہ ارتقا کی یہ تمام کاوشیں لغت نویسی کے لیے سودمند ثابت ہوئیں۔انھی کی بدولت آج ہمارے سامنے علم لغت اپنے ایک مضبوط ومربوط و ہم آہنگ نظام کے تحت زنداں وجادواں ہے ۔ اورعصر حاضر کے تمام تقاضوں کو اپنے اندر سمونے کی طاقت رکھتاہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے ذیل میں ہم ان چار بنیادی نکتہ ہائے فکرکا مختصراً تعارف پیش کررہے ہیں۔

1۔دبستان خلیل

عربی لغت نویسی کی تاریخ میں یہ پہلا نکتۂ فکر ہے جس نےاس فن کی باقاعدہ داغ بیل ڈالی، یہ خلیل بن احمد الفراہیدی کا مکتب فکر ہے۔جنھوں نے اپنی تخلیقانہ صلاحیتوں کی بدولت ” کتاب العین“ نامی کتاب تصنیف کی۔خلیل نےاپنی کتاب کی ترتیب حروفِ ہجاء پربلحاظ مخارج رکھی ہے۔یعنی جس حرف کا مخرج حلق سے قریب ہوگا وہ پہلے ہوگا مثلاً: ع، ح، ه، خ، ق،ج، ش، ض، ص،س، ز، ط، د، ت،ث،ذ، ر، ل، ن، ف، ب ،م، و، ا، ي،ء

خلیل نے اپنی کتاب کو چند کتابوں میں تقسیم کیا ہے پھر ہر کتاب کے تحت ابواب قائم کیے ہیں۔ اس گروہ کے نمایاں لغت نگار جنھوں نے خلیل کے منہج کی پیروی کی ہے اُن میں ابو علی القالی(کتاب البارع)،الازہری (تهذيب اللغة)، صاحب بن عباد(المحیط)،ابن سیدہ الاندلسی(المحکم ،والمسحیط الاعظم) وغیرہ شامل ہیں۔([4])

2۔دبستان البرمکی

اس دبستان کےبانی ابوالمعالی محمدبن تمیم البرمکی ہیں جنھوں نے لغت نویسی میں مروجہ الفبائی طریقےکوتخلیق کیا۔ ۔ اس طریقہ کے مطابق کلمہ کے پہلے حرف کے ساتھ ساتھ دوسرے اور تیسرے حرف کو بھی پیش نظر رکھا جائے گا۔ مثلاً:أ، آ، ابب ابت، ابث، ابد، ابر، ابز، ابس، ابض، ابط، ابغ، ابق، ابل،ابن، ابه، ابو، ابي

اگرچہ البرمکی نے بذات خود کوئی لغت تصنیف نہیں کی ہے بلکہ اس نے اپنے ایجاد کردہ طریقے کے مطابق جوھری کی صحاح کو ازسرِنو مرتب کیاہے۔زمخشری نے اساس البلاغة میں مذکورہ طریقے کو ہی اختیار کیاہےلیکن مؤرخین کی رائے کے مطابق اما م البرمکی ہی اس طریقے کے موجدہیں۔دور حاضر کی تمام معاجم وقوامیس اسی منہج پر گامزن ہیں۔ امام البرمکی کے علاوہ اس دبستا ن کے مشہور لغت نگاروں میں امام شیبانی(كتاب الجيم)،ابن دريد(جمهرة اللغة)،ابن فارس(مقاييس اللغة)،زمخشری(أساس البلاغة) سرفہرست ہیں۔([5])

3۔دبستان جوہری

اس دبستان کے بانی امام ابو النصر اسماعیل بن حماہ الجوہری ہیں جو” تاج اللغة وصحاح اللغة “ نامی مشہور لغت کے مصنف ہیں۔ امام جوہری نےسابقین کے برخلاف ایک انوکھا اسلوب ایجاد کیا۔جس کے مطابق الفاظ کی ترتیب تو حروف تہجی کے مطابق ہی رکھی گئی ہے۔ البتہ ابواب کی ترتیب لفظ کے آخری حرف جبکہ فصول کی ترتیب لفظ کے پہلے حرف کی بنیاد پر رکھی ۔مثلاً: اگر كتب تلاش کرنا ہو تو کتاب الباء اور فصل الكاف میں دیکھنا ہوگا۔ اس طریقےکے پیروکاروں میں سب سے نمایاں ابن منظور صاحب لسان العرب ہیں جن کی کتاب لغت نویسی میں سب سے ضخیم مفصل اورمتداول ہے۔ ان کے علاوہ فیروزآبادی کی القاموس المحيط، مرتضی الزبیدی کی تاج العروس من جواهر القاموس میں بھی اسی طریقے کو اختیار کیاگیاہے۔([6])

4۔دبستان ابو عبیدہ

اس دبستان کے خالق ابوعبیدالقاسم بن سلام ہیں ۔آپ کی مشہور کتاب ”الغريب المصنف“ہے۔ یہ لغت نویسی کے ابتدائی دور کی شاہکار ہے۔ مصنف نے اس میں معانی وموضوعات کے لحاظ سے عربی مفردات کو مختلف موضوعات کی مناسبت سےالگ الگ کتاب کی صورت میں سلیقے سے جمع کیاہے۔ مثال کے طورپر کتاب النساء میں وہ تما م الفاظ جمع کردیے ہیں جوعورتوں سےمتعلق تھے۔ کتاب الفرح میں خوشی سے متعلق، کتاب الاطعمۃ میں کھانے سے متعلق الفاظ کو جمع کردیاگیاہے۔بنیادی طور پر یہ مختلف معانی و موضوعات پر لکھے گئے رسائل وکتب کا مجموعہ ہے۔اس طرزپر لکھی گئی کتابوں میں اصمعی کی کتاب الخیل ،ابو زید انصاری کی کتاب المطر،إبن السكيت کی كتاب الألفاظ، ہمزانی کی کتاب الألفاظ الكتابية ، ثعالبی کی فقه اللغة اور ابن سیدہ اندلسی کی ” المخصص “قابل ذکر ہیں ۔([7])

دور جدید کی لغت نویسی کی اصل اور بنیاد تو علمائے سلف کی کاوشوں ہی پر مبنی ہے۔ اس سلسلے میں اب تک امام البرمکی کا الف بائی طریقہ ہی رائج ہے۔ البتہ بدلتے دور کے ساتھ ساتھ نِت نئےلسانی مسائل و مفردات کااحاطہ دور جدید کے تقاضوں کے مطابق بھرپور ہم آہنگی کے ساتھ کیا جارہاہے۔ جس کی وجہ سے دخیل اورمعرب الفاظ بکثرت شامل ہوگئے ہیں۔عصرحاضرکی نمایاں لغات (ڈکشنریاں)میں المنجد،الرائد، المورد، القاموس العصری،الفرائد الدریہ ، القاموس الفرید وغیرہ قابل ذکر ہیں۔موجودہ دورمیں ہر علم ایک نئے ارتقائی مرحلے سے گزر رہاہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اسلوب ووضع اوراستفادے کے طریقۂ کارکو یکسر بدل دیاہے ۔قدیم مصادر ومراجع اور ضخیم کتب اب نئے سافٹ وئیر اور موبائل ا یپلیکیشن کی صورت میں ہر طالب علم کے زیرِدَست ہیں۔ سہولیات اوررسائی کے دستیاب وسائل کی روشنی میں یہ کہا جاسکتاہے کہ قدیم لغت نویسی کے منہج کو ایک نئے سادہ وآسان طریقہ بحث کی صورت میں ڈھال دیاجائے گا۔بہرحال یہ بھی ایک لازمی امر ہے کہ جدیدیت کے ساتھ اپنے قدیم علمی ورثے کا احیاء، اُس کا تعارف ومتقدمین کی کاوشوں کو ہمیشہ سراہاجانا چاہیے۔ اسی غرض سے میں نے مذکورہ موضوع کا انتخاب کیاہے۔ تاکہ اُردو قارئین اس گراں قدر علمی سرمایہ سے مستفید ہوسکیں۔

مختصر تعارف

ابوالفضل جمال الدین محمد بن مکرم الافریقی المصری الانصاری الرویفعی جو ابن منظور کے نام سے معروف ہیں۔ قاہرہ میں 630ھ میں پیدا ہوئے آپ کانسب صحابی رسول ﷺ حضرت رویفع بن ثابت کے خاندان سے ملتاہے۔([8]) آپ قرآن مجید کے حافظ ،علوم عربیہ کے ماہر، نحووصرف کے عالم، لغت اورتاریخ نویسی میں نابغہ روزگارتھے ۔ادب وانشاء پروازی میں بھی آپ کو کمال حاصل تھا۔

ابن منظورنے ابتدائی تعلیم والد محترم کی سرپرستی میں حاصل کی۔ آپ کا گھرانہ علوم اسلامیہ،ادب، ثقافت و فقاہت کامرکز تھا۔ آپ بچپن سے ہی علمی وادبی مجالس میں شریک رہے۔ دینی تربیت ،علمی ماحول، علماء کی صحبت،والدمحترم کی علم وادب سے دلچسپی، مطالعہ کا ذوق ،غیر معمولی ذہانت وفطانت اور علمی اسفار نے آپ کی صلاحیتوں کو مزید نکھار دیا۔آپ کے نمایاں اساتذہ میں مرتضی، ابن المقیر، یوسف بن المخیلی اور ابن طفیل قابل ذکرہیں ۔

امام ذہبی اور علامہ سبکی رحمہما اللہ نےبھی آپ سے روایت کیاہے۔ اس کے علاوہ ابن سعید المغربی، علم الدین البرازیلی،خلیل بن صفدی، قطب الدین ابن المکرم آپ کے نمایاں شاگردوں میں سے ہیں۔([9])

علمی مشاغل

ابن منظوربچپن سے ہی کتابوں کے شیدائی تھے۔ مطالعہ غوروفکر ،درس وتدریس اور تصنیف وتالیف آپ کا مقصدِ حیات تھا۔ آپ نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ”ديوان الإنشاء “مصر اور طرابلس میں عہدہ ٔقضاء کی ذمہ داریوں کونبھاتے ہوئے گزاردیا اس کے باوجود آپ تصنیف وتالیف سے قطعاًغافل نہیں ہوئے۔آپ تاریخ نویسی کے انتہائی شوقین تھے۔ضخیم تاریخی وادبی کتب کو اختصاروجامع انداز میں پیش کرنے میں آپ کو تفوق حاصل تھا۔بقول خلیل صفدی:

”ادب اوراس کے علاوہ کسی بھی موضوع کی ضخیم کتاب کو میں نہیں جانتاجس کو ابن منظور نے مختصر نہ کیا ہو۔ مزید فرماتےہیں: ابن منظور کے بیٹے قطب الدین نے مجھے بتایا کہ ان کے والد نے اپنی لکھائی میں پانچ سو (500) کتابیں باقی چھوڑی ہیں۔“([10])

آپ نے جن مشہور کتب کا جامع انداز میں خلاصہ پیش کیا اُن میں سے چندکے نام درج ذیل ہیں:

  1. مختار الأغاني في الأخبار والتهاني: یہ اصفہانی کی مشہور کتابکتاب الاغانی کاخلاصہ ہے۔
  2. مختصرتاریخ دمشق: یہ ابن عساکر کی کتاب تاریخ دمشق کا خلاصہ ہے۔
  3. مختصر تاریخ بغداد : یہ امام سمعانی کی تصنیف تاريخ بغداد کا خلاصہ ہے۔
  4. ذخيرة ابن بسام: یہ لطائف الذخيرة في محاسن أهل الجزيرة کا خلاصہ ہے۔
  5. مختصر كتاب الحيوان: یہ جاحظ کی کتاب الحیوان کا خلاصہ ہے۔
  6. مختصر زهر الآداب وثمر الألباب: یہ امام قیروانی کی کتاب زهر الآداب کی تلخیص ہے۔
  7. مختصرصفوة الصفوة:یہ امام جوزی کی تصنیفصفوة الصفوة کی تلخیص ہے۔
  8. مختصر العقد الفريد:اس کا تذکرہ امام ابن حجررحمہ اللہ نے کیاہے۔

لسان العرب کاتعارف

ابن منظور کا تصنیف وتالیف میں سب سے اہم کارنامہ”لسان العرب“ کی تدوین ہے۔یہ بیس جلدوں پر محیط عربی لغت کا مستند انسائیکلوپیڈیا ہے۔جس میں مؤلف نے سابقہ مشہور عربی معاجم: جوہری کی الصحاح ،ابن سیدہ کی المحکم ، ازہری کی تہذیب، ابن بری کی الحواشی اور ابن اثیر کی النهاية کو جمع کردیاہے۔اس کے علاوہ الفاظ کی تشریحات میں بیشتر مقامات پرقرآنی آیات، احادیث، آثار صحابہ، محاورات، امثال اور اشعار بھی پیش کیے گئے ہیں۔ معانی الفاظ کی مناسبت سے صرف ونحو ، بلاغت اور فقہ وادب کی مفید معلومات بھی اس میں درج ہیں۔کم وبیش 80 ہزارالفاظ کی تشریحات 1700 شعراء کے نام، 40 ہزار اشعار اوربہت سی نادر معلومات کا ذخیرہ اس ڈکشنری میں موجود ہے۔

بقول صفدی: اس کتاب کا پہلا نسخہ جسے مصنف نے اپنے خوبصورت قلم سے لکھاتھا مصر کے دفتر انشاء کے مہتمم المقر الاشرف کمالی کی ملکیت میں تھا جوستائیس حصوں پر مشتمل تھا۔لیکن یہ حصے مصرسے 1300 ھ میں 20 جلدوں میں شائع ہوئے ہیں۔([11])

کتاب کا آغاز تین صفحات پر مشتمل مقدمے سے کیا گیاہے۔جس میں مؤلف نے حمدباری تعالیٰ اور صلوٰۃ وسلام کےبعد عربی زبان کی عظمت اور قرآن مجید کے ساتھ اس کے روابط پر روشنی ڈالی ہے۔پھر سابقہ معاجم میں سےتہذیب، محکم اور صحاح پر تنقید کرتے ہوئےکتاب کی غرض وغایت اور کتاب کے منہج کی وضاحت کی ہے۔مقدمہ کے بعد مؤلف نے دو ابوا ب قائم کیے ہیں۔ پہلے باب میں بعض سورتوں کے آغاز میں آنے والے حروف مقطعات کی تفسیرپیش کی ہے جبکہ دوسرے باب میں لفظ”معجم“ کے حروف ومعانی کی خصوصیات، اعراب،تذکیر وتانیث اور جمع کے حوالے سے بحث کی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ابن منظور نے ان دونوں ابواب کو سابقہ معاجم ہی سے اخذ کیاہے۔پہلا باب انھوں نے ازہری کی تہذیب سےبعض ترمیم واضافے کے ساتھ من وعن نقل کیاہے ۔جیساکہ اُنھوں نے مقدمے میں تہذیب پر تنقید کرتے ہوئے لکھاہے کہ ازہری نے حروف مقطعات کی تفسیر کتاب کے آخر میں نقل کی ہے۔ جبکہ دوسر اباب ابو الحسن على بن احمد الحرالی کی کتاب سے نقل کیا گیاہے۔

وجہ تالیف

ابن منظور سے قبل لغت نویسی میں متعدد کتب تصنیف ہوچکی تھیں۔ جن میں سے ہر ایک کوخاص اہمیت کی حامل ہے۔بہرحال انسانی تخلیقات میں کمی ونقص کا پایاجانا ایک لازمی امر ہے جس سے بچنا ممکن نہیں۔ابن منظورنے فن ِلغت نویسی میں کوئی نئی ایجاد نہیں کی بلکہ سابقین کی معجمات کو ہی جمع کیاہے۔لسان العر ب کی وجہ تالیف کے بارے میں خود فرماتے ہیں:

” میں مسلسل علم لغت کی کتابوں کے مطالعے میں مصروف رہا اور ان کی تصانیف کی وجوہات جاننے میں لگا رہا ۔ میں نے علمائے لغت کو دو حصوں میں پایا: اگر کسی کی جمع وتدوین اچھی تھی تو اس کی ترتیب اچھی نہیں، اور جس کی ترتیب وتنظیم درست تھی تو اُس کی جمع وتدوین ٹھیک نہیں تھی۔بُری ترتیب کے ساتھ اچھی جمع وتدوین فائدہ مندنہیں بالکل اسی طرح اچھی جمع وتدوین کے ساتھ بری ترتیب سود مندنہیں۔ مجھے لغت کی کتابوںمیں ازہری کی تہذیب اللغۃ سے زیادہ اچھی اور ابن سیدہ کی ا لمحکم سے زیادہ اکمل کوئی کتاب نہیں ملی۔ تحقیقی نقطہ ٔنظرسے یہ دونوں لغت کی بنیادی کتابوں میں سے ہیں۔ ان دونوں کتابوں کا مطلوب مشکل اور مصادر خراب ہیں۔ گویاکہ مؤلفین نے لوگوں کے لیے شیریں مصادر مہیاکرکے ان کو اس سے دور کردیا، ان کے لیےپتھریلی راہ تلاش کی۔ اور اس سے ان کو منع کردیا۔ ذہن کو ثنائی ، مضاعف، اور مقلوب کی بحث میں اُلجھادیا۔اور فکر کو لفیف، معتل، رباعی اور خماسی میں غرق کردیا۔نتیجتاًمقصد ضائع ہوگیا۔ عوام الناس میں ان دونوں کتابوں کی اہمیت ماند پڑنے لگی اور وہ آہستہ آہستہ اس سے دور ہونے لگے۔ شہروں میں اس کا استعمال متروک و مفقود ہونے لگا۔اس کا بنیاد ی سبب بدصورت ترتیب و ابواب اور تفاصیل کا خلط ملط ہوجاناتھا۔ ابونصر اسماعیل بن حماد الجوہری نے اپنی مختصر کو بہت خوبصورت انداز میں ترتیب دیاہے۔ یہ سہل وآسان ترتیب کی وجہ سے مشہورہوئی۔“([12])

ابن منظور نے اس کتاب کی تیاری میں لغت کی دواہم کتابوں پر زیادہ انحصار کیاہے۔ جن میں سے ایک ابن بری کی”الحواشی“ اور دوسری ابن اثیر کی”غریب الحدیث“ہے۔ مؤلف نے ان کتابوں میں وارد شدہ تمام حروف ومعانی اور شواہد کو جمع کردیاہے۔ جیساکہ وہ مقدمے میں لکھتے ہیں:

”مجھے اس کتاب کی تخلیق میں کوئی فضیلت حاصل نہیں، اورکوئی ایساذریعہ بھی نہیں جس کی وجہ سے میں اس کا متحمل ہوں۔ سوائے اس کے کہ میں نے سابقہ علمی کتابوں میں بکھرے ہوئے مواد کو یکجا کر دیا ہے۔یہ کہا جاسکتاہے میں اس آسانی سے مطمئن نہیں تھا۔ طالب علم ، علم کا شیدائی ہوتاہے۔ بس جس نے اس کے صحیح یا غلط یا صحت اور خرابی پر شک وشبہ کیا۔ مگر میں نے اس کو پہلے مصنف سے مربوط کردیاہے۔ اُس کے اصل مواد کی تعریف وتذمیم کی ہے جس سے میں نے نقل کیاہے۔ کیونکہ میں نے مکمل نفسِ مضمون کو نقل کیا ہے اوراس میں کسی بھی چیز کی تبدیلی نہیں کی ہے۔ پس جو بھی میری اس کتاب سے نقل کرتا ہے گویا وہ انھی پانچ اصول سے نقل کررہاہے۔ وہ ان ستاروں کی طرف رخ کرنے سے اعراض کرے گا۔جب تک اُن کا آفتاب دمک رہاہے وہ غائب رہیں گے۔“([13])

اس کتاب کو لکھنے کا بنیاد ی مقصد قرآن مجید کی زبان کو محفوظ کرنا بھی تھا جیساکہ لسان العرب کے مقدمے میں رقم طرازہیں:

”اس کتاب کو لکھنے کا مقصد اس نبوی زبان کے اصول وفضل کی حفاظت کرناہے ۔ جو قرآن مجید اورسنت نبویہ کے احکام کا محورہے۔کیونکہ کائنات اپنے اسراروغوامض میں زبان کی نیت کے موافق اور مخالف کو جانتی ہے ۔ اس لیے جب میں نے دیکھا کہ اس برتن میں غیر مقبول لہجہ غالب ہے اورعربی تلفظ عیب داراور غیرمقبول ہوگیاہے۔ اور لوگ عجمی زبان میں سرُاور تال گھڑنےمیں مسابقت کررہے ہیں ۔ اور غیر عربی زبان میں فصاحت کااظہار کررہے ہیں۔ تو میں نے اس کتاب کومعاصرین کی زبان کے بغیر جمع کرنا شروع کیا جبکہ وہ وہ اپنی زبان پر فخر کررہے تھے۔ میں نے اس کو اس طرح وضع کیاجیساکہ حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی کو بنایاجبکہ قوم اُن کے ساتھ تمسخر کررہی تھی. میں نے اس کو لسان العرب کے نام سے موسوم کیا۔میں اللہ تعالیٰ سے اُمید کرتاہوں کہ وہ اس کتاب کی قدرومنزلت کو بلند کرے۔ اور اس کے ذخائز علوم کو نفع بخش بنائے۔ اورعلماء کے ذریعے اس کے فوائد کو دنیا میں عام کرے۔اور آخرت میں اہل جنت اس کے ذریعے کلام کریں ۔“([14])

لسان العرب کا منہج

ابن منظور نے لسان العرب کو امام جوہری کےمنہج ہی پر ترتیب دیاہے۔ البتہ اس کتاب کی تدوین میں جوہری کی صحاح کے علاوہ ازہری کی تہذیب، ابن سیدہ کی” المحکم“، ابن بری کی” الحواشي“ اور ابن اثیر کی” نہایۃ“ سے بھی استفادے کیا گیا ہے۔ مؤلف نے ہرکتاب سے استفادہ میں ایک خاص طریقہ اختیارکیاہے۔ یعنی عام طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ابن منظور نےان تمام مصادر میں واردشدہ الفاظ ومعانی اورشواہد کو لسان العرب میں بعض ترمیم واضافہ کے ساتھ ضم کردیاہے۔ مثلاً: مؤلف نے” تہذیب“ کے مقابلے میں” الصحاح “اور ”المحکم“ کی نصوص پر زیادہ انحصار کیاہے۔اور ان میں سے چند ایک کوہی حذف کیا ہے جو اپنے موضوعِ محل کے لحاظ سے مناسبت نہیں رکھتی تھیں۔ اسی طرح یہی طریقہ” نہایۃ “ اور ”الحواشی“ سے مواد اخذ کرنے میں بھی اختیارکیا گیاہے۔تاہم نہایۃ میں سے محدثین کرام کے نام جبکہ الحواشی میں سے راویوں کے نام حذف کردیے گئے ہیں۔([15])

لسان العرب حروف تہجی یعنی الف بائی ترتیب میں مدون کی گئی ہے۔ ابواب کی تقسیم آخری حرف پر جبکہ فصول کی ترتیب پہلے حرف پررکھی گئی ہے۔ مثلاً: اگرکوئی محقق کلمہ ”شرب“تلاش کرنا چاہتاہے تو اسے کتاب الباء اور فصل الشين میں دیکھناہوگا۔ اسی طرح کلمہ” خرج“ دیکھنا ہو تو اسے کتاب الجیم اور فصل الخاء میں تلاش کرنا ہوگا۔ اسی طرح کلمہ ”سمع“تلاش کرناہوتو کتاب العین اور فصل السین میں دیکھناہوگا۔

ابن منظور نےتمام حروف کو ان کے مادہ ٔ اصلی کے اعتبارسے مرتب کیاہے۔ مثلا اگر کوئی اجتهدتلاش کرنا چاہتاہے تو اسے سب سے پہلے حروف زائدہ ہمزہ اور تاء کو الگ کرنا ہوگا پھرجهد کے باب میں دیکھنا ہوگا یعنی کتاب الدال اور فصل الجیم میں تلاش کرنا ہوگا۔

اسی طرح وہ کلمات جن کے آخر میں ہمزہ اصلی آتاہو اورجو واؤ اور یا میں تبدیل نہیں ہوتے ان کو کتاب الهمزة میں درج کیاگیاہے۔مثلاً:الردء،الظماء اورالفيئ، اسی طرح السماءاور القضاء جیسے کلمات جو بسبب تعلیل یا ابدال واؤ یا یاءمیں تبدیل ہوجاتے ہیں اُنھیں کتاب الواؤ اور کتاب الیا ہی میں ذکر کیاہے۔ابن منظور نے جوہری کے برعکس فصل الہاء كو فصل الواو پر مقدم کیاہے۔

لسان العرب کے مواد کا تجزیہ

ہم یہاں بطور نمونہ مادہ” شرب“ کی مختصراً شرح وتفسیر پیش کررہےہیں۔اگر ہم لفظ شرب کو لسان العرب میں تلاش کرنا چاہیں تو ہمیں کتاب الباءاور فصل الشين میں دیکھنا ہوگا۔

مادہ ”شرب“

الشَّرْبُ: مصدر شَرِبْتُ أَشْرَبُ شَرْباً وشُرْباً.

ابن سيده کے مطابق: شَرِبَ الماءَ وغيره شَرْباً وشُرْباً وشِرْباً؛ اسی طرح فرمان باری تعالیٰ ہے: فشارِبون عليه من الـحَميمِ فشارِبون شُرْبَ الـهِـيمِ اس کی تین وجوہات ہیں.سعيد بن يحيـى الأُموي کہتاہے: میں نے ابو جریج کو اس طرح پڑھتے ہوئے سناہے: (فشارِبون شَرْبَ الـهِـيمِ) تو میں نے اس کا ذکر جعفر بن محمد سے کیا،تو اُنھوں نے کہا: یہ آیت اس طرح نہیں ہے بلکہ یہ شُرْب الـهِـيمِ ہے۔ امام فراء نے کہا: تمام قراء نے شین کو پیش (شُرْب)کے ساتھ پڑھاہے. أَيـّامِ التَّشْريق کی حدیث میں مذکور ہے: إِنها أَيامُ أَكل وشُربٍ؛ زبر اور پیش کے ساتھ مروی ہے، دونوں ہم معنی ہیں۔اور زبر دونوں لغات میں کم ہے، اور جس کو أَبو عمرو نے پڑھا ہے:(شَرْب الـهِـيمِ) جس سے مراد وہ ایام ہیں جن میں روزہ رکھنا جائز نہیں۔ابو عبيدة نے کہاہے: الشَّرْبُ،زبر کے ساتھ مصدر ہے، پیش اور زیر کے ساتھ دونوں شربت کے اسم ہیں۔ والتَّشْرابُ: الشُّرْبُ؛ البتہ ابو ذوئیب کا قول ہے:

شَرِبنَ بماءِ البحرِ، ثم تَرَفَّعَتْ،مَتى حَبَشِـيَّاتٍ، لَـهُنَّ نئِـيجُ

ابو ذوئیب نے اس شعر میں بادلوں کا وصف بیان کیاہے کہ اُنھوں نے سمندر کا پانی پیاپھر اوپر گئے اوربارش برسائی۔

اس قول (بماء البحر) میں الباء زائد ہےجو اصل میں : شَرِبنَ ماء البحر ہے، ابن جنی کہتاہے: هذا هو الظاهر من الحالِ، والعُدُولُ عنه تَعَسُّفٌ؛ قال: اور بعض علمائے لغت کے نزدیک :شَرِبنَ مِن ماء البحر، الباء کی جگہ النون ہے، قال: وعندي أَنه لما كان شَرِبنَ في معنى رَوِينَ، وكان رَوِينَ مما يتعدَّى بالباءِ، عَدَّى شَرِبنَ بالباءِ، ومثله كثير؛ منه ما مَضَى، ومنه ماسيأْتي، فلا تَسْتَوْحِش منه.

الشِّرْبةُ اسم ہے عن اللحياني؛ اور کہا جاتاہے: الشَّرْبُ مصدرہے، والشِّرْبُ اسم ہے۔

والشَّرْبةُ من الماءِ: ما يُشْرَبُ مَرَّةً. والشَّرْبةُ أَيضاً: المرةُ الواحدة من الشُّرْبِ.

والشِّرْبُ: الـحَظُّ من الماءِ، بالكسر. وفي المثل: آخِرُها أَقَلُّها

شِرْباً؛ وأَصلُهُ في سَقْيِ الإِبل، لأَنَّ آخِرَها يرد، وقد نُزِفَ

الحوْضُ؛ وقيل: الشِّرْبُ هو وقتُ الشُّرْبِ. أَبو زيد نے کہا: الشِّرْبُ الـمَوْرِد، وجمعه أَشْرابٌ. قال: والـمَشْرَبُ الماء نَفسُ

الاسم. والشِّرْبُ: الماء، والجمع أَشرابٌ.

والشَّرابُ: ما شُرِب من أَيِّ نوْعٍ كان، وعلى أَيّ حال كان. اورابو حنيفہ نے کہا: الشَّرابُ، والشَّرُوبُ، والشَّرِيبُ واحد، يَرْفَع ذلك إِلى أَبي زيد.

ورَجلٌ شارِبٌ، وشَرُوبٌ وشَرّابٌ وشِرِّيبٌ: مُولَع بالشَّرابِ،

كخِمِّيرٍ. التهذيب: الشَّرِيبُ الـمُولَع بالشَّراب؛ والشَّرَّابُ: الكثيرُ

الشُّرْبِ؛ ورجل شَروبٌ: شديدُ الشُّرْب. حدیث شریف میں مذکورہے: مَن شَرِبَ الخَمْرَ في الدنيا، لم يَشْرَبها في الآخرة؛ ابن الأَثير فرماتے ہیں: هذا من باب التَّعْلِـيقِ في البيان؛ أَراد: أَنه لم يَدْخُلِ الجنَّةَ، لأَنَّ الجنةَ شرابُ أَهلِها الخمْرُ، فإِذا لم يَشْرَبْها في الآخرة، لم يَكن قد دَخَلَ الجنةَ. والشَّرْبُ والشُّرُوبُ: القَوم يَشْرَبُون، ويجْتَمعون على الشَّراب؛ ابن سيده نے کہا: فأَما الشَّرْبُ، فاسم لجمع شارِب، كرَكْبٍ ورَجْلٍ؛ وقيل: هو جمع. وأَما الشُّروب، عندي، فجمع شاربٍ، كشاهدٍ وشُهودٍ، وجعله ابن الأَعرابي جمع شَرْبٍ؛ قال: وهو خطأٌ؛ قال: وهذا مـمَّا يَضِـيقُ عنه عِلْمُه لجهله بالنحو؛ اعشى کا شعرہے:

هو الواهِبُ الـمُسْمِعاتِ الشُّرُوبَبَين الـحَـر يرِ وبَينَ الكَتَنْ

جیساکہ ثعلب نے فرمایا:

يَحْسَبُ أَطْمَاري عَليَّ جُلُبا،مِثلَ الـمَنادِيلِ، تُعاطَى الأَشرُبا

اعشی کےبقول شَرْبٍ کی جمع یہ ہوگی:

لها أَرَجٌ، في البَيْتِ، عالٍ، كأَنما أَلمَّ بهِ، مِن تَجْرِ دارِينَ، أَرْكُبُ

فأَرْكُبٌ: جمع رَكْبٍ، ويكون جمع شَارِبٍ وراكِبٍ، وكلاهما نادر، لأَنَّ سيبويه لم يذكر أَن فاعلاً قد يُكَسَّر على أَفْعُلٍ.

وفي حديث علي وحمزة، رضي اللّه عنهما: (وهو في هذا البيت في شَرْبٍ من الأَنصار؛ الشَّرْبُ، بفتح الشين وسكون الراء: الجماعة يَشْرَبُونَ الخمْر).التهذيب، ابن السكيت: الشِّرْبُ: الماءُ بعَينهِ يُشْرَبُ. والشِّرْبُ: النَّصِـيبُ من الماء. ([16])

لسان العرب کے محاسن و نقائص

عربی معاجم کی تاریخ میں لسان العرب کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ابن منظور نے اپنی انتھک کوششوں ،محنت ولگن ، مطالعہ کتب بینی اور غیرمعمولی حافظہ کی بنیاد پر اس شاہکار ڈکشنری کو ترتیب دیا۔جس پر جتنا بھی فخرکیاجائے کم ہے۔مختصراًہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہمارے اسلاف کی علم وکتاب دوستی کا بین ثبوت ہے جنہوں نے دن رات ایک کرکے یہ علمی شہ پارے تخلیق کیے ۔ ذیل میں ہم چند محاسن کا تذکرہ کررہےہیں:

محاسن

  1. ابن منظور نے لسان العرب میں الجوھری کی طرح قافیہ کے نظام کی پابندی کی ہے جو تقلیبات کے نظام کے مقابلے میں سادہ اور آسان ہے۔
  2. ضخامت اورشرح وتفسیرالفاظ کےاعتبار سےلسان العرب کا مرتبہ سب سے بلند وبرترہے۔مؤلف نے اس میں لغوی،دینی اور ادبی ذخیرہ الفاظ کو جمع کیاہے۔
  3. قرآن وحدیث ، عربی اشعار وتراکیب، امثال ومحاورات اور اقوال ماثورہ کے دلائل سے آراستہ ہے۔نیز مترادف ونوادر کلمات کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔
  4. مواد کو حسن ترتیب وتدوین سے پیش کی گیاہے۔ابواب اور فصول کی ترتیب و تنظیم مناسب ومربوط ہے۔
  5. اہم خاصہ یہ ہے کہ مؤلف نے اشعار کے قائلین کا بھی ذکر کیاہے جس کی وجہ سے یہ ایک اہم ماخذ کی صورت اختیارکرگئی ہے۔
  6. عربی لہجات اوربالخصوص عربی الفاظ کے تلفظ وقراءات(پڑھنے) کے حوالے سے دلچسپ ومفید رہنمائی پیش کی گئی ہے۔
  7. عربی قواعد: صرف ونحو کے اصول اور ان کی بحث وافر مقدار میں موجودہیں۔

نقائص

  1. مختلف معاجم سے مواد نقل کرنےکی وجہ سے بعض جگہوں پر الفاظ کی شرح وتفسیر میں تکرار پائی جاتی ہے ۔
  2. معانی کی شرح وتفسیر کے سلسلے میں چند معاجم کے علاوہ سابقہ معاجم سے استفادہ نہیں کیا گیا ۔
  3. كتاب العين، والجمهرة، والبارع ودیگر بنیادی مصادرمیں منقول صیغوں ودلائل کو ذکر نہیں کیاگیا۔
  4. بعض جگہ اشعارکے قائلین یا اشعار کے پہلےیا دوسرے مصرعہ میں نسیان ہواہے۔
  5. بعض جگہ قواعد وطباعت کی غلطیاں بھی سرزد ہوئی ہیں۔

تاہم اس قسم کی اغلاط کا وقوع ہوناکوئی انوکھی بات نہیں ۔نسیان بشری نقص ہے جس سے بچاؤ ممکن نہیں۔ بہرحال بعد میں آنے والے علمائے کرام نے ان اغلاط کی تصحیح کی ہے جن میں سے چند نمایاں نام مندرجہ ذیل ہیں۔

  1. تحقیقات وتنبيهات في معجم لسان العرب، عبدالسلام محمد هارون، مطبوع:1987ء، دار الجيل، بيروت
  2. تصحیح لسان العرب، احمد تیمور، مطبوع 1915ء ، بيروت
  3. مقالة "لسان العرب"، الشيخ ابراهيم اليازجي، مجلة الضياء، مطبوع:1903-1904
  4. تصحيحات لسان العرب، عبدالستار أحمد فراج، ناشر: مجلة مجمع اللغة العربية في القاهرة، 1960م
  5. أمثلة من الأغلاط الواقعة في لسان العرب، توفيق داؤد قربان، ناشر: مجلة المجمع العلمي العربي بدمشق، 1964م
  6. لغة العرب، عبدالعزيز الميمني، مجلة شهرية ادبية علمية تاريخية، ناشر: مركز الملك الفيصل، الرياض،مئی1930م
  7. الدكتورة حكمت كشلي فواز في لسان العرب لإبن منظور، دراسة تحليل ونقد، ناشر: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان

خلاصہ ٔبحث

  1. عربی سامی زبان ہے۔قرآن کی زبان کا شرف حاصل ہونے کی وجہ سےاللہ تعالیٰ نے اسے تاقیامت تک محفوظ کردیاہے۔
  2. بدلتے زمانے اور جدیدتقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت اس میں بقدراتم موجودہے۔
  3. لغت نویسی کی تاریخ میں عربی وہ واحد زبان ہے جس کی لغت ابتداء میں مخارج کے لحاظ سے ترتیب دی گئی ۔ یہ طریقہ عربی زبان ہی کا خاصہ ہے۔
  4. عربی لغت نگاری کی تدوین میں لسان العرب کے مصنف کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ یہ کتاب عربی لغت نویسی کے بنیادی مصادر میں سےہے۔
  5. ابن منظور نے عربی لغت نویسی کو ایک نئے مربوط ومنظم اسلوب وڈھنگ سے روشناس کروایا۔جس نے لغت نگاری کو فروغ دیا۔
  6. اُردوعربی ثقافت کے فروغ کےلیے عربی علوم کا اُردومیں منتقل کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے۔
  7. عربی زبان وادب کی تفہیم کے لیےعربی لغت نگاری کی تاریخ وارتقاء کا موضوع انتہائی اہم ہے تاہم اُردو ادب اس گراں قدرعلمی سرمایہ سے ابھی تک محروم ہے۔

جامعات کی سطح پر تحقیقی مقالہ جات، تصنیف وتالیف پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔


حوالہ جات

  1. ۔ پانینی: دنیا کا پہلا معلوم عالم لسانیات، دنیا کی قدیم تریم سنسکرت کی قواعد کی کتاب کا مصنف، پیدائش چوتھی صدی قبل مسیح
  2. ۔ڈاکٹر احسان الحق، پروفیسر، اُردو عربی کے لسانی رشتے، ادارہ قرطاس، کراچی یونیورسٹی، دسمبر 2005ء،باراول، ص 15
  3. ۔ عبداللطیف الصوفی، ڈاکٹر، اللغة ومعاجمها في المكتبة العربية، دار للدراسات والترجمة والنشر، دمشق، 1986م، ص39
  4. ۔ ایضاً، ص85-86
  5. ۔ ایضاً،ص 125-152
  6. ۔ ایضاً، ص158-170
  7. ۔اللغة ومعاجمها في المكتبة، ص: 231-261
  8. ۔ العسقلاني، شهاب الدين أحمد بن حجر، الدرر الكامنة في أعيان المائة الثامنة، العسقلاني دار النشر مجلس دائرة المعارف العثمانية حيدرآباد/الهند، ،1972ء، ج 2 ، ص107
  9. ۔الدرر الكامنه، ج4، ص262۔ 263
  10. ۔ العسقلاني، ایضا، ج۵، ص32
  11. ۔ احمد حسن زیات، تاریخ ادب عربی، مترجم: محمد نعیم صدیقی،ناشر: شیخ محمد بشیراینڈ سنز،اُردو بازار، لاہور
  12. ۔ مقدمہ لسان العرب: ابن منظور،ص، خ، د.
  13. ۔ ایضاً،ج1، ص8
  14. ۔ ایضاً،ج 1
  15. ۔ حسين نصار، الدكتور، المعجم العربي نشأته وتطوره، مصر، 1408 ھ– 1988ء، ج 1،ص 450-457
  16. ۔ ابن منظور،والفضل جمال الدین محمد بن مکرم الافریقی المصری الانصاری، لسان العرب، دار صادر-بيروت، طبع ثالث 1414ھ، ج1، ص487-489