Playstore.png

اسلام کے عبوری قوانین

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ برجس
عنوان اسلام کے عبوری قوانین
انگریزی عنوان
The Transitional Law of Islam
مصنف آرائیں، عبد الحمید، انور اللہ
جلد 2
شمارہ 2
سال 2015
صفحات 70-79
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Qura’n, Sunnah, Islamic Law (Fiqh) Jurisprudence.
شکاگو 16 آرائیں، عبد الحمید، انور اللہ۔ "اسلام کے عبوری قوانین۔" برجس 2, شمارہ۔ 2 (2015)۔

Abstract

Being the natural religion, Islam demands peaceful, liberal and civilized society. To achieve this goal Islam introduces two types of laws; permanent and Transitional law. Permanent law are those which are abide by every person of the Muslim society i.e Marriage laws, economic laws, political laws, Family laws, heir ship laws, social laws and other such laws. On the other hand there are some temporary or Transitional laws; i.e War laws, Divorce laws, laws for Slave or laws to end slavery, Criminal Laws (Qis┐s, Diyat, Rajam and Lashes etc), there laws are put into practice only in conditional situations. After achieving the goal these Transitional laws are no more in practice. Islam is complete code of life and gives Laws and Rules for any situation. Islam is natural and liberal religion, its laws since beginning are very much practicable and result oriented. Whenever and where ever Islamic laws have been put into practice society has got its fruits. In this article Islamic Transitional Law are briefly discussed to understand the background of transitional laws. Detail of these laws can be seen in Hadith and Fiqah books.

اسلام ِ دین فطرت ہے ۔ اسلامی تہذیب کا متمع ِ نظر ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں امن سکون ہو ، آپس میں بھائی چارہ ہو ، ایک دوسرے کے حقوق پوری طرح ادا کیے جائیں یعنی کسی کی حق تلفی نہ ہو۔ایسے معاشرے کے قیام کے لیے اسلام نے دو قسم کے قوانین یا اصول دیے ہیں: مستقل یا اصلی قانون  دوسرا عبوری یا عارضی قانون۔مستقل یا اصلی قانون سے مراد ایسے قوانین ہیں جو کہ ایک مہذب معاشرے کے لیے ضروری ہیں جیسا کہ اخلاقیات، معاملات اورعائلی قوانین۔مثلاً: نکاح کے احکام

زندگی کی ابتدا جس مرحلے سے شروع ہوتی ہے اس کا نام دینی اصطلاح میں نکاح ہے۔ نکاح دراصل ایک معاہدہ ہے جس کے ذریعے ایک الگ گھر بسا کر علیحدہ خاندان کی بنیاد ڈالی جا تی ہے۔مرد و زن میں ایک فطری کشش ہے   اسلام اس فطرتی جذبہ کی قدر کرتے ہوئے نہ تو تجرد کی تعلیم دیتا ہے اور نہ ہی اسے کھلا چھوڑ کر معاشرے میں فحاشی اور بے حیائی کو فروغ دیتا ہے بلکہ  راہ ِ اعتدال کو اپنانے کی ہدایت کی ہے کہ:

وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَاِمَائِكُمْ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِه وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ (1)

"تم خود مختاروں میں اور تمہارے زیر دستوں میں جو لوگ مجرد ہیں اور نکاح کے قابل ہیں ان کا نکاح کرا دو۔ اگر وہ محتا ج بھی ہوں گے تو اللہ انہیں غنی کر دے گا"۔

مندرجہ باالا آیت میں یہ حکم دیا گیا کہ نہ صرف صاحب ِ حیثیت لوگ اپنا نکاح کر لیں بلکہ ان کی اولاد، کنبے کے افراد اور زیر دستوں  نوکروں وغیرہ میں جو مرد و زن صالح(قابل ِ ازدواج) ہوں ان کا بھی نکاح کرانے میں دلچسپی لیں اور کوشش کر یں۔

اسی طرح نبی ﷺ نے فرمایا:

"نکاح میرا طریقہ ہے جو اس سے منہ موڑتا ہے وہ میرے حلقے سے باہر ہے"۔ (2)

دوسری جگہ فرمایا:

"تم میں جو نکاح کر سکتا ہو وہ ضرور شادی کرے کیونکہ یہ نگاہوں اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کے لیے سب سے بہتر ذریعہ ہے"۔ (3)

معاملات

معاشرے میں تمام انسان جب ایک دوسرے کے ساتھ معاملات کرتے ہیں  تو انھیں ان سب میں توازن

رکھنے کے لیے کسی قانون کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ کسی کی حق تلفی نہ ہو، دل آزاری نہ ہو۔آپس میں معاملات کے بہت سے شعبے ہیں مثلاً:

خاندانی معاملات(قانون ِ وراثت وغیرہ)

قومی معاملات (ملکی معاملات)

سیاسی یا بین الاقوامی معاملات

معاشی یا اقتصادی معاملات (کاروباری قوانین)

یہ سب عمرانی (سوشل) زندگی کے شعبے ہیں۔اسلام نے مندرجہ بالا معاملات میں انسان کی رہنمائی کی ہے۔ اسلام کا کوئی بھی قانون  چاہے وہ زندگی کے کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھتا ہو وہ صرف قانون نہیں ہوتا  بلکہ اس میں اخلاقی پہلو نمایاں اور غالب ہوتا ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ تمام اسلامی قوانین کی بنیاد اخلاق ہی پر رکھی گئی ہے تو غلط  نہ ہوگا۔ ان شعبوں کے متعلق احکامات مستقل یا اصلی قوانین کا درجہ رکھتے ہیں۔

عبوری قوانین

           مستقل یا اصلی قانون تک پہنچنے کے لیے جو احکامات دیے گئے ہیں انہیں عبوری حکم دیا جا تا ہے ۔ جب اصل مقصد حاصل ہو جائے تو پھر ان قوانین کی ضرورت نہیں رہتی ۔مثلاً:

1۔        ==غلامی==

           قرآن کے نزول کے وقت غلامی کا دور تھا۔غلامی دنیا کے تمام متمدن ممالک مثلاً چین، ہندوستان، مصر،روم اور ایران میں ہزاروں سالوں سے رائج تھی۔عرب میں بھی عام لوگوں کے پاس غلام تھے۔ منڈیوں میں جانوروں کی طرح انسانوں کی نیلامی کی جاتی تھی۔

عیسائی حضرات بائبل کی تعلیمات کو انسانیت کے لیے بہت بڑا تحفہ کہتے ہیں جب کہ موجودہ انجیل میں غلامی جیسی لعنت کو ختم کرنے کے متعلق ایک لفظ بھی  موجود نہیں  بلکہ پولوس نے غلامی کو مزید مستحکم کرنے کے لئے یہاں تک زور دیا:

"اے غلامو! تم ان کی جو جسم کی نسبت تمہارے خداوند ہیں اپنے دلوں کی صفائی سے ڈرتے رہو اور تھرتھراتے ہوئے ایسے فرمانبردار بنو جیسے مسیحؑ کے" ۔(4)

دوسری طرف اگر اسلامی تعلیمات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آجائے گی   کہ قرآن و حدیث میں غلامی

کی صورت میں انسانیت کی تذلیل روکنے کے لیے کئی احکامات دیے گئے ہیں۔غلاموں کی آزادی کو حصول

نجات کا ذریعہ بتایا گیاہے جیسے:

بعض تقصیرات میں بطور تعزیر و کفارہ غلاموں کی آزادی کو مقرر فرما کر یا  مثال کے طور پر قتلِ خطا جسے موجودہ قانون قتل کی سزا کا مستحق قرار دیتا ہے اس کی تین باتوں میں؛

ا:          مقتول مسلمان ہو تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک غلام کو آزاد کرنا۔ (5)

ب:        مقتول مسلمان ہو مگر دشمن کے قبیلہ کا فرہ سے  ہو تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک غلام کو آزاد کرنا۔ (6)

ج:        مقتول غیر مسلم ہو لیکن معاہد قوم میں سے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک غلام کو آزاد کرنا۔ (7)

           اس کی دوسری تقصیرات میں بھی مثلاً

ا:          نقض یمین(قسم توڑنے) میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک غلام کو آزاد کرنا۔ (8)

ب:        ظہار کے کفارہ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک غلام کو آزاد کرنا۔ (9)

ج:        رمضان کے روزہ کو توڑنے کا کفارہ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک غلام کو آزاد کرنا۔ (10)

د:          آقا غلام کو سخت مارے تو اس کا کفارہ۔۔۔۔۔۔۔ ایک غلام کو آزاد کرنا۔ (11)

ھ:         سورج گرہن کے وقت حکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک غلام کو آزاد کرنا۔ (12)

           اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسلامی سلطنت کی آمدنی کا آٹھواں حصہ غلاموں کی آزادی کے لیے مخصوص کر دیا گیا۔ انہی احکامات و قوانین کا نتیجہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی بعثت کے کچھ عرصہ کے بعد ہی غلامی کا دور ختم ہو گیا اور انسانیت کو اس لعنت سے نجات ملی۔اسلام نے غلام و نوکروں سے تعلقات کے  جو احکامات دیے ہیں  اس لیے نہیں کہ دنیا میں غلامی باقی رہے بلکہ اس لیے ہیں کہ اس طرح رفتہ رفتہ غلامی ختم ہو جائے۔

2۔زکوٰاۃ

           معاشرے میں امیر غریب ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں اسلام نےدین ِ فطرت ہونے کے ناطے سے امیروں کے مال میں سے کچھ حصہ غریبوں کے لیے بھی مقرر کیا ہے۔جسے زکوٰۃ کہا جاتا ہے۔ موجودہ فقہی صورت میں زکو ٰۃ یعنی  مال کے ایک سال مکمل ہونے (13)پر اس  کا چالیسواں (14)حصہ نکالنے کا حکم۔یہ حکم  اس لیے نہیں کہ غریب غرباء اسی کے انتظار میں بیٹھے رہیں اور خود کچھ نہ کریں۔بلکہ یہ حکم عارضی طور پر ان کی مدد  کرنے کے لیے دیا گیا ہے نہ کہ اس کا منشاء یہ ہے کہ لوگ اسی پر انحصار کریں۔دوسری طرف یہ معاملہ  چالیسویں حصے پر ہی  آ کر رک جائے بلکہ انفاق کی ایسی متوازن عادت ہو جائے کہ "قل العفو" (15)کی منزل تک پہنچ کر دم لے اور زکوٰۃ لینے والا کوئی نہ رہے۔یعنی یہ ایک ایسا عبوری حکم ہے جو اس وقت لاگو ہو گا جب کوئی صاحب نصاب ہو گا (16)اور یہ زکوٰۃ ہر کسی کو نہیں دی جاسکتی بلکہ شریعت اسلامیہ نے زکوٰۃ کے  جو آٹھ مصارف بتائے ہیں ان کو دیا جائے گا (17)۔

جہاں تک زکوٰۃ کی ادائیگی اور اس کے فائدوں کا تعلق ہے تو اس کا سب سے پہلا فائدہ  یہ پہنچتا ہے کہ مال کی محبت کی وجہ سے انسان جس خود غرضی کا شکار ہو سکتا تھا اس سے بچ جاتا ہے اور بخل کے عیب سے بھی بچا رہتا ہے۔

دوسرا اہم فائدہ یہ ہے کہ وہ اپنی قوم کے غریبوں اور مسکینوں کو اپنی قوم کا ہی ایک جزو سمجھتا ہے اور دوسروں کی مدد کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔

سوئم فائدہ یہ کہ بے حد دولت جمع کر کے متکبر،مغرور اور سرکش نہ بن جائے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ غریبوں کے ایک گروہ کو جن کی قوم میں اکثریت ہوتی ہے اس سے خاص انس اور خیر خواہی پیدا ہو جاتی ہے۔

اسلام نے زکوٰۃ "اموال نامیہ" پر ہی فرض کی ہے جو بڑھتے ہیں جن سے زکوٰۃ ادا کرنا ناگوار بھی نہیں گزرتا مثلاً تجارت، زراعت،مویشی،نقدیت،معادن اور دفائن۔

3۔تعزیرات و حدود کا قانون

           تعزیرات و حدود کا قانون اس لیے نہیں کہ دنیا میں جرم ہوتا رہے اور سزائیں دے دے کر ثواب دارین حاصل کیا جاتا رہے بلکہ اس کی اصل غرض یہ ہے کہ دنیا سے جرم ختم ہو جائے اور کسی کو سزا دینے کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔جیسا کہ اللہ تبارک تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيٰوةٌ يّـٰٓــاُولِي الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ (18)

" اور اے اہل دانش! تمہارے لیے قصاص ہی میں زندگی ہے"۔

قصاص ، دیت، زنا ،چوری ،شراب نوشی  وغیرہ جیسے جرائم کی سزائیں دراصل معاشرہ میں امن و سکون اور

عزت و عصمت، جان و مال کی حفاظت کے لیے مقرر کی گئی ہیں تا کہ جرائم پیشہ افراد ڈر جائیں اور اس طرح

معاشرہ میں امن و سکون برقرار رہ سکےاور جب معاشرے میں جرائم نہ ہوں تو سزا کے ان قوانین پر عمل

کرنے کی بھی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

4==۔ جنگ کے قوانین==

           عام طور پر لڑائی سلطنت کی توسیع یا کسی دنیوی مقصد کے لیے لڑی جا تی ہے۔ اسی لیے اس میں ہر طرح کے جائز و ناجائز ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں۔ حتیٰ کے آج کے ترقی یافتہ و مہذب ممالک بھی عام آبادی پر بم برساتے ہیں۔ ہزاروں لاکھوں بچوں اور بوڑھوں کو قتل کرتے ہیں۔مگر سرور دو عالم ﷺ نے جو جنگ بھی  مجبوری سے کی اور محض اس وجہ سے کی کہ معاشرے میں امن قائم ہو سکے، دعوت دین کا کام آسانی سے ہو سکے،ہر شخص کو آزادی رائے کا حاصل ہو سکے، مظالم سے نجات اور خدا تعالیٰ سے لگاؤ پیدا ہو۔اسی لیے اس جنگ کا مقصد نہ استحصال تھا نہ استعمار اور نہ یہ جنگ ذاتی اعراض یا مفاد کے لیے تھی۔ بلکہ بنی نوع انسان اور جملہ خلائق کے فائد ہ کے لیے تھی۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِه صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ۔ (19)

"اور اللہ کی راہ میں اس طرح صف باندھ کر لڑتے ہیں جیسے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہو"۔

ان پاک مقاصد کے حصول کے لیے جو جنگیں لڑیں گئی ان کے آپ ﷺ نے صاف صاف احکامات دیے تھے کہ :"کوئی بوڑھا، کوئی بچہ اور کوئی عورت قتل نہ کی جائے۔لڑائی سے دور رہنے والی شہری آبادی کو کچھ نہ کہا جائے۔عبادت گاہوں میں عابدوں کو نہ چھیڑا جائے۔ عہد شکنی نہ کی جائے۔ کسی کو بے گناہ نہ مارا جائے۔  بدکاری نہ کی جائے۔نماز روزہ کی پابندی کی جائے۔ کسی مذہب میں مداخلت نہ ہو۔کسی گرجےیا مندر کو نہ گرایا جائے۔ جنگ میں کسی کی ناک کان اور اعضاء نہ کاٹے جائیں۔دشمن کی لاشوں کو بھی دفن کیا جائے۔ ان کے مریضوں کا علاج کیا جائے۔ عین حالت جنگ میں جو امان مانگے اس کو امان دے دو بلکہ اگر ایک مسلمان جس کو امن  دیدے اس کی پابندی تمام مسلمانوں کو کرنا پڑے گی۔ اس شخص کو کو ئی دوسرا مسلمان بھی قتل نہیں کر سکتا۔رات کو حملہ نہ کیا جائے۔ صلح کی درخواست قبول کر لی جائے۔ قیدیوں سے بہتر سلوک کیا جائے" (20)۔

جنگ کے قوانین بھی اس لیے نہیں کہ ہمیشہ یہ زیر ِمشق رہیں بلکہ دنیا میں ایسا نظام ِ امن قائم ہو جائے کہ

ضرورت ِ جنگ کا قصہ ہی تمام ہو جائے۔

5۔قانون ِطلاق

           اس قانون سے اسلام کا منشاء یہ نہیں کہ ہر کوئی طلاق دے  یا ان قوانین پر عمل کرے۔زوجین

کی  زندگی میں کبھی ایسے موڑ بھی آ جاتے ہیں کہ ان میں تفریق ہو جاتی ہے۔ نکاح کا مقصد جمع ہے جو اصل قانون ہے مگر یہ عین فطرتی تقاضا ہے کہ اس جمع میں کبھی تفریق کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔اس لیے اسلام نے طلاق کے لیے بھی کچھ اصول و قوانین دیے ہیں۔لیکن قانون ِ طلاق کا منشاء و رجحان "تفریق" نہیں بلکہ تفریق کی روک ہے۔ یعنی صحیح شکل تو یہ ہے کہ طلاق کی نوبت ہی نہ آئے لیکن اگر کبھی یہ کرنا ہی پڑے  تو اس ناگزیر علت کو کس انداز سے اختیار کیا جائے؟

           اسلام نے اول تو طلاق کی نہ کوئی ترغیب دی نہ کوئی حکم لیکن اگر کسی وجہ سے کوئی ارادہ کر ہی بیٹھے تو حتی المکان کوشش کی گئی ہے کہ و ہ  اس حرکت سے باز ہی رہے۔

جب زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:

أمسک عليک زوجک واتق الله (21)"اپنی زوجہ کو روکے رکھ اور اس مکروہ فعل سے پہلے خدا سے ڈر"۔

دوسری جگہ آپ ﷺ نے فرمایا:

أبغض الحلال إلی الله تعالی الطلاق. (22)

"اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ نا پسندیدہ چیز طلاق ہے"

اسی طرح سے طلاق کا طریقہ بھی ایک طرح سے روک ہے:

1۔        طلاق طہر بلاوطی کی حالت میں دینی چاہیے۔ (23)

2۔        صرف ایک ہی طلاق کے بعد عدت گزارنے کا موقع دینا چاہیے لیکن اگر مزید طلاقیں ہی دینی ہوں تو ہر طہر بلا وطی میں ایک طلاق دینی چاہیے (24)۔گویا یہ تین ماہ کی مدت دونوں کو اپنا مستقبل اور اس کے نشیب و فراز کو سوچنے کا موقع دیتی ہے اور اس طویل مدت ِ انتظار میں فطری میلانِ جنسی کے ذریعے اپنی طلاق کو عملاً رجعی بنا دینے  کا بھی قوی امکان موجود رہتا ہے۔

3۔        طلاق کے لیے دو گواہ بھی لانے چاہیے (25)۔ گواہوں کے آنے کی مدت تک وقتی جزبہ و غیظ و

غضب کے دب جانے کا امکان ہے وہی اس بات کا بھی قوی  امکان ہے کہ گواہ  شہادت کے بجائے سمجھا بجھا

کر رفعِ نزاع کا کوئی حل بھی تلاش کر لیں۔

4۔        آخری طلاق تک زوجین کو ایک ہی گھر میں رہنا چاہیے (26) تا کہ اتصال کے مواقع زیادہ یقینی ہوں۔

5۔        اس دوران میں بیوی کا نان نفقہ اور سکنٰی مرد ہی کے ذمے رہے گا۔ (27)

6۔        ارادہ طلاق سے پہلے ایک اور طریقہ بھی بتایا گیا ہے کو اس تفریق کو ختم کر نے کی غرض سے ہے کہ دونوں کی طرف سے ایک ایک حَکم آ کر باہمی موافقت کرانے کی کوشش کریں۔ (28)

الغرض طلاق کے قوانین و احکامات بھی عبوری ہیں جو کہ صرف انتہائی ضرورت کے وقت استعمال میں لائے جا سکتے ہیں ۔

خلاصہ:

           اسلام نے معاشرے میں امن و سلامتی کے لیے دو طرح کے قوانین وضع کیے ہیں مستقل  یا اصلی اور عبوری قوانین۔  اصلی اسے کہا جا تا ہے جن کا منشاء ہے اس کا باقی رہنا۔ عبوری قانون وہ ہیں جو اصلی قانون تک پہنچانے کے لیے وسیلہ و ذریعہ بنتے ہیں۔ جیسا کہ اوپر بیان کی گئی مثالوں سے واضح ہوتا ہے۔

حواشی وحوالہ جات:

1: سورۃالنور: 32۔

2: ابن ماجہ،  محمد بن یزید القزوینی،  ابو عبداللہ،السنن ابن ماجۃ،اسلامی اکادمی،لاہور،1990ء، کتاب النکاح،باب ماجا فی فضل النکاح،       ج۔2، ح۔1846،ص۔21۔

3: ابو داؤد، سلیمان بن اشعث سجستانی:السنن ابی داؤد، اسلامی کتب خانہ،لاہور۔کتاب النکاح،باب التحریض علی النکاح،ج۔2،ح۔278،ص، 88۔

4: بائبل : افسیوں  6: 5 ۔

5: سورۃالنساء: 92۔

6: ایضاً۔

7: ایضاً۔

8: بخاری، محمد بن اسماعیل،  ابو عبداللہ، صحیح بخاری، مکتبہ قدوسیہ، لاہور،2004، کتاب الادب،باب الھجرۃ،

ح۔6073، ج۔7،ص۔469۔

9: ابو داؤد،  سلیمان بن اشعث سجستانی: السنن ابی داؤد، کتاب الطلاق،باب فی الظہار، ح۔446،ج۔2۔ص۔138۔

10: بخاری ، صحیح بخاری،کتاب النفقات، باب نفقۃ المعسر علی اھلہ،ح۔5368،ج۔7،ص۔112۔

11: القشیری النیسابوری ، مسلم بن الحجاج بن مسلم، صحیح مسلم،اسلامی کتب خانہ ، لاہور، کتاب الایمان،باب: صحبۃ الممالیک و کفارۃ من لطم عبدہ،ح۔4302،ج۔2،ص۔268 ۔

12: بخاری،صحیح بخاری، مکتبہ رحمانیہ، لاہور،1999،باب فی العتق وفضلہ،باب ما یستحب من العتاقۃ فی الکسوف، ح۔2351،ج۔1،ص۔1063۔

13: ابو عیسیٰ ترمذی،  محمد بن عیسیٰ ،جامع ترمذی،نعمانی کتب خانہ ، لاہور، 1988، کتاب الزکوٰۃ، باب ماجا لازکوٰۃ علی المال المستفاد حتیٰ یحول علیہ الحول،ج۔1،ص۔246۔

14: ابو داؤد ، السنن ابی داؤد ، کتاب الزکوٰۃ، باب فی الزکاۃ السائمہ،ح۔1562،ج۔

15: سورۃ البقرہ: 219

16: ابو داؤد، السنن ابی داؤد ، کتاب الزکوٰۃ، باب چرنے والے جانوروں  پر زکوٰۃ،ح۔1562،ج۔1

17: سورۃ التوبہ: 60

18: سورۃ البقرۃ  : 179

19: سورۃ الصف: 4

20: الخطیب، محمد بن عبداللہ التبریزی، مشکوٰۃ المصابیح،مکتبہ نعمانیہ، لاہور،2001، کتاب الجہاد،ح۔3603 تا 3633,ج۔3،ص۔277 تا 288۔

21: ترمذی ،جامع ترمذی،کتاب التفسیر، تفسیرسورہ احزاب ،ح۔1162،ج۔3۔

22:  ابو داؤد، السنن ابی داؤد ،کتاب الطلاق، باب فی کراہیۃ الطلاق، ح۔414،ج-2۔

23: سورۃ الطلاق:  1 ۔

24: ابو داؤد،السنن ابی داؤد ،کتاب الطلاق، باب فی طلاق السنۃ، ح۔418،ج۔

25: سورۃ الطلاق:  2 ۔

26: سورۃ الطلاق :  6۔

27: سورۃ الطلاق:  6  ۔

28: سورۃ النساء: 35 ۔