Playstore.png

تاریخ طبری کے ضعیف اورجھوٹے راویوں کی روایات کا تحقیقی جائزہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ برجس
عنوان تاریخ طبری کے ضعیف اورجھوٹے راویوں کی روایات کا تحقیقی جائزہ
انگریزی عنوان
The Weak and False Narrators in Tarikh Tabari: An Analytical Approach
مصنف اللہ، کلیم، ساجد محمود
جلد 2
شمارہ 2
سال 2015
صفحات 79-93
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Ibne Jar┘r ║ibar┘, History, Narrators, False sayings.
شکاگو 16 اللہ، کلیم، ساجد محمود۔ "تاریخ طبری کے ضعیف اورجھوٹے راویوں کی روایات کا تحقیقی جائزہ۔" برجس 2, شمارہ۔ 2 (2015)۔

Abstract

History of Tibari is the well-known book of late ‘allama ibne jar┘r ║ibar┘. Its real name is Tar┘kh- ul ’ummam wal Mul┴k. History of ║ibar┘ is considered the comprehensive and encyclopedia for the first three decades and the backbone in the history of Islam. He is considered a great and lofty character especially in the history of Islam, although all the historians of the present as well as of the past take guidance from his book. Inspite of the facts there are also baseless and false quotations written about Su╒┐ba’ kir┐m, explanation of which is not reasonable. As there are present some false, man-made and illogical sayings in Tar┘kh ║ibar┘. Therefore, an explanatory summary is presented of the narrators so that it may be clyster clear that ‘Allama ║ibar┘ is trusty and worthy but his works are the combination of both facts and false.

تاریخ طبری علامہ ابن جریر طبری )متوفیٰ 310ھ(  کی مشہور تصنیف ہے جس کا اصل نام  "تاریخ الامم والملوک "ہے تاریخ طبری عہداسلامی کی تاریخ کا ایک اہم مصدر ہونے کے علاوہ قرون ثلاثہ کے حوالے سے کثیر المعلومات اور مستند سمجھی جانے والی کتاب ہے۔ موصوف چوں کہ بڑے اور بلند مرتبہ کے عالم سمجھے جاتے ہیں خاص کر قرون ثلاثہ کی تاریخ کے حوالہ سے ان کا نا م اور کتاب کسی تعارف کا محتاج نہیں ، قدیم وجدید تمام مؤرخین نے ان سے استفادہ کیا ہے۔ان ساری خصوصیات کے باوجود تاریخ طبری میں جگہ جگہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق ایسی بے بنیاداور جھوٹی روایات مروی ہیں جن کی کوئی معقول ومناسب توجیہ نہیں کی جاسکتی ہے جب کہ عدالت صحابہ کرام پر موجود قطعی نصوص قرآن وسنت اوراجماع امت کے پیش نظر منصف مزاج اہل علم امام طبری اور خاص کر ان کی تاریخ میں مروی اس طرح کی روایات پر کلام کرنے پہ مجبور ہوئےہیں ۔چوں کہ تاریخ طبری بڑے بڑے دروغ گو ،کذاب اور متہم بالکذب راویوں کی روایت سے بھری ہوئی ہے اس لئے تاریخ طبری کے راویوں کا اجمالی جائزہ پیش کیا جاتا ہے تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ علامہ طبری خود ثقہ ہیں لیکن ان کی کتاب رطب ویابس کا مجموعہ ہے ۔

تعارف ابن جریر طبری ؒ:

نام محمد ،ولدیت جریر،دادا کا نام یزید اور کنیت ابو جعفر ہے ۔پیدائش طبرستان میں ہوئی تو اس کی نسبت سے طبری کہلاتے ہیں۔سن ولادت میں دواقوال ہیں :

پہلا قول :224ھ کے آخر میں پیدا ہوئے ۔دوسراقول :225ھ کے اول میں پیداہوئے ۔

ابن جریر خود اپنے ابتدائی حالات زندگی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "میں نے سات سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کرلیا ،آٹھ سال کی عمر میں لوگوں کو نمازیں پڑھانا شروع کردیں اور نو سال کی عمر میں حدیث لکھنا شروع کردیا تھا "۔

ابن جریر طبری نے علوم وفنون کی تکمیل کے لئے مختلف علماء اور علاقوں کی طرف اسفار کئے ۔عراق میں ابو مقاتل سے فقہ پڑھی ،احمد بن حماد دولابی سے کتاب المبتداء لکھی ،مغازی محمد بن اسحاق کے واسطہ سے سلمہ بن فضل سے حاصل کی اور اسی پر اپنے  کتاب کی  بنیاد رکھی ۔کوفہ میں ہناد بن السری اور موسی ٰ بن اسماعیل سے حدیث لکھی ،سلیمان بن خلاد طلحی سے قراءت کاعلم حاصل کیا پھر وہاں سے بغداد لوٹ آئے ،احمد بن یوسف تغلبی کی صحبت میں رہے اور اس کے بعد فقہ شافعی کی تحصیل کی طرف متوجہ ہوئے اور اسی کو اپنا مسلک ٹھہراکرکئی سال تک اس کے مطابق فتویٰ دیتے رہے ،بیروت میں عباس بن ولید بیروتی سے شامیوں کی روایت میں قرآت وتلاوت مکمل کی ۔مصر میں بھی ایک طویل دور تک قیام پزیر رہے، اسی اثناء میں شام چلے گئے پھر لوٹ آئے اور امام مزنی اور عبدالحکیم کے صاحبزادوں سے فقہ شافعی کا علم حاصل کیا اور ابن وہب کے شاگردوں سے فقہ مالکی کی تحصیل کی ۔غرض علامہ طبری نے حدیث ،تفسیر ،قراءت ،فقہ ،تاریخ ، شعروشاعری اور تمام متداول علوم وفنون میں مہارت حاصل کرلی تھی ۔مختلف عنوانات پر 26کے قریب کتابیں تصنیف کیں ،ان میں تفسیر طبری کے علاوہ تاریخ طبری بہت زیادہ مشہور ومعروف ہے (1)

تاریخ الامم والملوک کا مختصر تعارف :

اس کتاب کا نام "تاریخ الرسل والملوک" یا "تاریخ الامم والملوک"ہے ۔البتہ عوام وخواص میں تاریخ طبری کے نام سے مشہور ہے ۔علامہ طبری کی یہ تصنیف عربی تصانیف میں مکمل اور جامع تصنیف شمار کی جاتی ہے ،یہ کتاب ان سے پہلے کے مؤرخین یعقوبی ،بلاذری ،واقدی ،ابن سعد ،وغیرہ کے مقابلہ میں کامل اور ان کےبعد کے مؤرخین ،مسعودی ،ابن مسکویہ ،ابن اثیر ،اور ابن خلدون وغیرہ کے لئے ایک راہنماتصنیف بنی ۔معجم الادباء میں یاقوت حموی نے لکھا ہے کہ:

ابن جریر نے اپنی اس تالیف میں 302ھ کے آخر تک کے واقعات کو بیان کیا  اور بروز بدھ 27 ربیع الاول 303 ھ میں اس کی تکمیل کی ۔(2)

طرزتصنیف  ومنہج:

ابن جریر نے اپنی تاریخ کی ابتداء حدوث زمانہ کے ذکر سے کی ہے۔اول تخلیق یعنی قلم ودیگر مخلوقات کے تذکرہ سے کیا پھر اس کے بعد آدم علیہ السلام اور دیگر انبیاء ورسل کے اخبار وحالات کو تورات میں انبیا ء کی مذکور ترتیب کے مطابق بیان کیا یہاں تک کہ حضور ﷺکی بعثت تک تمام اقوام اور ان کے واقعات کو بھی بیان کیا ہے۔ اسلامی تاریخ کے حوادثات کو ہجرت کے سال سے لے کر 302ہجری تک مرتب کیا اور ہر سال مشہور واقعات وحوادثات کو بیان کیا۔ اس کے علاوہ اس کتاب میں حدیث ،تفسیر ، لغت ، ادب ، سیرت ، مغازی ، واقعات وشخصیات ، اشعار ، خطبات ومعاہدات وغیرہ کو خوبصورت اسلوب میں مناسب ترتیب کے ساتھ بیان کیاہے۔ ہر روایت کو اس راوی اور قائل کی طرف بغیر نقد وتحقیق کے منسوب کیا ہے ۔ان کو   کتاب وفصول کے عنوان سے تقسیم کر کے  علماء کے اقوال سے مزین کیا ہے ۔پوری کتاب میں مصنف کا اسلوب یہ ہے کہ واقعات وحوادثات اور روایات کو اس اسناد کے ساتھ بغیر کسی کلام کے ذکر کرتے چلے گئے ہیں ۔جن کتابوں  اور مؤلفین سے استفادہ کیاہے تو جگہ جگہ ان  کے ناموں کی  صراحت کی ہے ۔ تاریخ طبری کے بہت سارے تکملات لکھے گئے اور کئی لوگوں نے اس کا اختصار بھی کیا اور خود طبری نے سب سے پہلے اس  کا ذیل لکھا۔ بعض حضرات نے اس کا فارسی میں ترجمہ کیا پھر فارسی سے ترکی زبان میں بھی ترجمہ کیا گیا۔

==مصادر تصنیف== :

علامہ طبری نے اپنی اس تصنیف کے لیے جن مصادر کا انتخاب کیا وہ درجہ ذیل ہیں ۔

(1)تفسیر عکرمہ ومجاہد  (2) سیرت ابان  بن عثمان ،عروہ بن زبیر ،شرجیل بن سعد ،موسی بن عقبہ اور ابن اسحاق سے نقل   (3)  ارتداد اور فتوحات بلاد کے واقعات سیف بن عمر اسدی سے نقل کیے (4) جنگ جمل اور صفین کے واقعات ابو مخنف اور مدائنی سے نقل کیے (5) بنو امیہ کی تاریخ عوانہ بن حکم سے نقل کی (6)بنو عباس کے حالات احمد بن ابو خیثمہ کے کتابوں سے لکھیں (7) اسلام سے پہلے عربوں کے حالات عبید بن شریۃالجرہمی،محمد بن کعب قرظی اور وہب بن منبہ سے لیے (8) اہل فارس کے حالات فارسی کتابوں کے عربی ترجموں سے لیے۔ (3)

علامہ ابن جریر طبری کا مذہب اور ایک غلطی ازالہ :

تاریخ طبری کے مصنف ابن جریر طبری کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ سنی شافعی المسلک تھے طبقات شافعیہ اور دیگر رجال کی کتابوں میں یہی مذکور ہے (4)لیکن یاد رہے کہ اسی نام وولدیت سے ایک اور شخص گزراہے جو رافضی تھا چنانچہ علمائے رجال نے وضاحت کے ساتھ لکھا ہے کہ ابو جعفر محمد بن جریر بن رستم طبری رافضی تھا ، اس کی بہت ساری تصانیف بھی ہیں ان میں سے ایک:کتاب الرواة عن اهل البیت ہے۔ حافظ سلیمانی ؒ کےکلام "کان یضع للروافض" کا مصداق بھی یہی شخص ہے (5)  

علامہ ابن قیم ؒنے لکھا ہے کہ ابن جریر سنی کے بارے میں مسح رجلین کے قائل ہونے کا شبہ اس لیے پیدا ہوا کہ ابن جریر جو مسح رجلین کا قائل تھا وہ ان کے علاوہ ایک اور شخص ہے جو شیعہ تھا ان دونوں کے نام اور  ولدیت ایک جیسی ہیں۔  میں نے اس ابن جریر شیعی کی شیعہ مذہب کے اصول وفروع کے بارے میں کتابیں دیکھی ہیں ۔(6)

حافظ ابن حجرؒ نے فرمایا کہ ابن جریر کے مسح رجلین کے قائل ہونے کی جو حکایت بیان کی جاتی ہے تو اس سے مراد محمد بن جریر بن رستم رافضی ہے کیوں کہ یہ ان کا مذہب ہے نہ کہ اہل سنت کا ۔(7)

چونکہ دونوں کا نام ولدیت اور کنیت ایک جیسی ہے اس لیے بہت سارے خواص اس سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ پہچان کا طریقہ یہ ہے  کہ دونوں کے دادا کا نام جدا جدا ہے سنی ابن جریر کے دادا کانام  یزید ہے اوررافضی ابن جریر کے دادا کا نام رستم ہے ۔(8)

خود شیعہ مصنفین اور اصحاب رجال میں سے بحر العلوم طبا بائی ،ابن ندیم ،علی بن داؤد حلی ،ابو جعفر طوسی ، ابو عباس نجاشی اور اور سید خوئی وغیرہ نے ابن جریر  بن رستم طبری کے اہل تشیع  میں سے ہونے کی تصریح کی ہے (9)

بہر حال  دونو ں ناموں ولدیت وکنیت میں تشابہ ہے اس تشابہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شیعہ علما نے ابن جریر شیعی کی بہت ساری کتابوں کی نسبت ابن جریر سنی کی طرف کرنے کی کوشش کی ہے چنانچہ ڈاکٹر ناصر بن عبداللہ بن علی قفازی نے "اصول مذہب الشیعۃ الامامیۃ الاثنا عشریۃعرض ونقد"میں لکھا ہے :

روافض نے اس تشابہ کو غنیمت جان کر ابن جریر سنی کی طرف بعض ان کتابوں کی نسبت کی ہے جس سے ان کے مذہب کی تائید ہوتی ہے ،جیسا کہ ابن الندیم نے الفہرست ،ص335میں "کتاب المسترشد فی الامامۃ" کی نسبت ابن جریر سنی کی طرف کی ہے حالاں کہ وہ ابن جریر شیعی کی ہے ۔دیکھئے  :طبقات اعلام الشیعۃ فی المائۃ الرابعۃ ،ص:252،ابن شھر آشوب ،معالم العلماء ،ص:106۔آج بھی روافض بعض ان اخبار کی نسبت امام طبری کی طرف کرتے ہیں جن سے ان کے مذہب کی تائید ہوتی ہے ،حالاں کہ وہ اس سے بری ہیں ۔دیکھئے :الامینی النجفی ،الغدیر :ج1،ص214-216۔روافض کے اس طرز عمل نے ابن جریر طبری سنی کو ان کی زندگی میں بہت سارے مصائب سے دوچار کیا یہاں تک کہ عوام میں سے بعض لوگوں نے انہیں رفض سے متہم بھی کیا ،جیساکہ ابن کثیر ؒ نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے ۔دیکھئے :البدایہ والنھایہ : ج11،ص146۔(10)

==تاریخ طبری کا اجمالی جائزہ== :

ان تمام خصوصیات کے باوجود تاریخ طبری میں جگہ جگہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق ایسی بے بنیاداور جھوٹی روایات مروی ہیں جن کی کوئی معقول ومناسب توجیہ نہیں کی جاسکتی ہے جب کہ عدالت صحابہ کرام پر موجود قطعی نصوص قرآن وسنت اوراجماع امت کے پیش نظر منصف مزاج اہل علم امام طبری اور خاص کر ان کی تاریخ میں مروی اس طرح کی روایات پر کلام کرنے پر مجبور ہوئے  ہیں ، چوں کہ تاریخ طبری بڑے بڑے دروغ گو اور متہم بالکذب راویوں کی روایات سے بھری ہوئی ہے ۔ مثلاًتاریخ طبری کی روایا ت کا ایک جائزہ  لینے کے لئے ڈاکٹر خالد علال کبیر صاحب نے تاریخ طبری میں موجود ثقہ وغیر ثقہ راویوں  کی روایا ت کا ایک اجمالی خاکہ پیش کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں:

تاریخ طبری میں اس بارہ (12)مرکزی رواۃ کی روایات کا جائزہ لیتے ہیں جن میں سے سات راوی کذاب یا متہم بالکذب ہیں اور پانچ ثقہ ہیں ۔

جھوٹے اور متہم بالکذب راویوں کی روایات کا اجمالی خاکہ :

محمد بن سائب کلبی کی بارہ (12)روایات ۔

حشام بن محمد کلبی کی پچپن (55)روایات ۔

محمد بن عمر کی چارسو چالیس (440)روایات  ۔

سیف بن عمر تمیمی کی سات سو(700)روایات ۔

ابو محنف لوط بن یحیی کی چھ سو بارہ (612)روایات ۔

ہیثم بن عدی کی سولہ (16)روایات ۔

محمد بن اسحاق بن یسار کی ایک سو چونسٹھ (164)روایات ۔

ان سب روایات  کا مجموعہ جن کو مؤرخ طبری نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے وہ انیس سو ننانوے (1999)ہے

==ثقہ روایوں کی روایات کا اجمالی خاکہ== :

زبیر بن بکا رکی آٹھ (8)روایات ۔

محمد بن سعد کی ایک سو چونسٹھ (164)روایات ۔

موسیٰ بن عقبہ کی سات (7)روایات ۔

خلیفہ بن خیاط کی ایک (1)روایت ۔

وہب بن منبہ  کی چھیالیس روایات ۔

تاریخ طبری کے ان پانچ ثقہ راویوں کی روایات کا مجموعہ دوسونو(209)ہے ۔

تو گویا تاریخ طبری میں دوسو نو ثقہ روایات کے مقابلے میں ان سات جھوٹے اور متہم بالکذب راویوں کی انیس سو ننانوے (1999)روایات ہیں ۔ان دونوں کے تناسب سے اندازہ لگاجاسکتا ہے کہ تاریخ طبری جیسی قدیم اور مستند سمجھی جانی والی کتاب کا جب یہ حال ہے تو تاریخ کی باقی کتابوں کا کیا حال ہوگا (11)

==علامہ طبری کا اعتراف== :

مذکورہ بالاباتوں کی تائید خود علامہ طبری کے  اپنی تاریخ کےمقدمہ کے اس اعتراف سے بھی ہوتی ہے جس میں انہوں نے واضح طور سے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب میں بغیر نقد وتمحیص کے مختلف فرقوں اور گروہوں کے راویوں کی روایات کو اسانید کے ساتھ ذکر کئے ہیں۔وہ فرماتے ہیں: وليعلم الناظر في كتابنا هذا أن اعتمادي في كل ما أحضرت ذكره فيه مما شرطت أني راسمه فيه، إنما هو على ما رويت من الأخبار التي أنا ذاكرها فيه، والآثار التي أنا مسندها إلى رواتها فيه، دون ما أدرك بحجج العقول، واستنبط بفكر النفوس، إلا اليسير القليل منه، إذ كان العلم بما كان من أخبار الماضين، وما هو كائن من أنباء الحادثين، غير واصل إلى من لم يشاهدهم ولم يدرك زمانهم، إلا بأخبار المخبرين، ونقل الناقلين، دون الاستخراج بالعقول، والاستنباط بفكر النفوس فما يكن في كتابي هذا من خبر ذكرناه عن بعض الماضين مما يستنكره قارئه، أو يستشنعه سامعه، من أجل أنه لم يعرف له وجها في الصحة، ولا معنى في الحقيقة، فليعلم انه لم يؤت في ذلك من قبلنا، وإنما أتى من قبل بعض ناقليه إلينا، وإنا إنما أدينا ذلك على نحو ما أدي إلينا(12)

"ہماری کتاب میں دیکھنے والے (پڑھنے والے کو)یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ جو کچھ سابقہ  تفصیل اس کتاب میں بیان کیا جائے گا  اس کا اصل مواد  وہ احادیث وآثار ہیں جو اس مقام پر بیان ہوں گی ، عقلی دلائل اور فکری استنباط کے نتائج  اس میں بہت کم اورضرورت کے مطابق لکھے جائیں گے کیونکہ اخبار گذشتہ اور ماضی کے حوادث کا علم ،اس قوم کو جس نے ان کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ،صرف خبروں اوربیان دینے والوں کے بیان سے ہی مل سکتا ہے جب کہ ہم استخراج عقلیہ اوراستنباط فکریہ کے ساتھ ان کے حالات کا علم نہیں لگا سکتے ۔لہذاہماری اس کتاب میں پڑھنے والاکسی خبر وروایت کو اجنبی سمجھے یا سننے والا قبیح قراردے صرف اس بناء کہ وہ اس روایت کو درست نہیں سمجھتا تو اسے جان لینا چاہیے کہ ہم نے اپنی طرف سے کوئی ملمع سازی یا رنگ آمیزی نہیں کی بلکہ  بعض ناقلین سےوہ  ہمیں اس طرح آ پہنچی ہیں

پس ہم نےان کواسی طرح آگے لکھ دیا جس طرح وہ ہم تک پہنچی تھیں ۔   (13)

غور فرمائیے ! کیا صرف سند کے ساتھ رطب ویابس ،غث وسمین اور ثقہ وغیر معتبر ہر طرح کی روایات کا نقل محض کسی بھی ثقہ مصنف کے لئے معقول عذر بن سکتا ہے؟اس پر اپنی ذاتی رائے اور نقطہ نظر پیش کرنے کی بجائے ہم محقق علماء کی آراء نقل کرکے فیصلہ انصاف پسند قارئین پر چھوڑتے ہیں ۔

==علامہ ذہبی اور حافظ ابن حجر کا اعتراف== :

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ابن جریر طبری ائمہ جرح وتعدیل کے نزدیک ثقہ ہیں ،لیکن ان کے بارے میں تشیع کی طرف میلان کا قول بھی مروی ہے ۔چناں چہ علامہ ذہبی اور حافظ ابن حجر رحمھما اللہ نے ان کی توثیق کرنے کے ساتھ ساتھ دبے الفاظ میں ان کے تشیع کی طرف میلان کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے ۔ثقة صادق فیه تشیع یسیر وموالاة لا تضر(14)

شاید ان دونوں حضرات کے کلام کا مقصد یہ ہوکہ چوں کہ علامہ طبری نے اپنی تاریخ میں ایسی روایات بغیر نقد وکلام کے نقل کی ہیں جن سے ان کا تشیع کی طرف میلان معلوم ہوتا ہے ۔لہذا اس تصریح کے بعد طبری کی وہ تمام روایات جن سے اہل تشیع کے مخصوص افکار کی تائید ہوتی ہے وہ غیر معتبر قرار پائیں گے ۔

علامہ ابوبکر ابن العربی کی کتاب العواصم من القواصم ف تحقیق مواقف الصحابۃ بعد وفاة النبی صلى الله علیہ وسلم               کے حاشیہ پرمحقق نے لکھا ہے :

إن التاريخ الإسلامي لم يبدأ تدوينه إلا بعد زوال بني أمية وقيام دول لا يسر رجالها التحدث بمفاخر ذلك الماضي ومحاسن أهله، فتولى تدوين تاريخ الإسلام ثلاث طوائف: طائفة كانت تنشد العيش والجدة من التقرب إلى مبغضي بني أمية بما تكتبه وتؤلفه، وطائفة ظنت أن التدين لا يتم، ولا يكون التقرب إلى الله، ألا بتشويه سمعة أبي بكر وعمر وعثمان وبني عبد شمس جميعًا، وطائفة ثالثة من أهل الإنصاف والدين كالطبري وابن عساكر وابن الأثير وابن كثير رأت أن من الإنصاف أن تجمع أخبار الإخباريين من كل المذاهب والمشارب كلوط بن يحيى الشيعي المحترق، سيف بن عمر العراقي المعتدل ولعل بعضهم اضطر إلى ذلك إرضاء الجهات كان يشعر بقوتها ومكانتها، وقد أثبت أكثر هؤلاء الأسماء رواة الأخبار التي أوردها؛ ليكون الباحث على بصيرة من كل بخبر بالبحث عن حال راويه، وقد وصلت إلينا هذه التركة لا على أنها هي تاريخنا، بل على أنها مادة غزيرة للدرس والبحث يستخرج منها تاريخنا(15)

"تاریخ اسلامی کی تدوین بنوامیہ کے دورحکومت کے زوال  کے بعد ہوئی ہے۔(بنوعباس)کی  حکومت قائم

ہونے  (کے بعد)لوگ(بنوامیہ )کے ماضی کے قابل افتخاراوراچھے کاموں پر بات پسند نہیں کرتے تھے اس لئے تاریخ اسلامی کی تدوین کا کام تین گروہوں میں تقسیم ہوا۔پہلا گروہ تو وہ تھاکہ جوکچھ لکھتا  اورتالیف کرتا اس کے ذریعے زندگی  کو(خوش وخرم )رکھنے  اوربنوامیہ کے ساتھ بغض رکھنے والوں سے تقرب چاہتا تھا ۔دوسراگروہ وہ تھا جس کا گمان یہ تھا کہ دین کا اتمام اور اللہ تعالیٰ کا تقرب اس وقت  تک حاصل نہیں ہوسکتاجب تک ابوبکر رضی اللہ عنہ ،عمررضی اللہ عنہ ،عثمان رضی اللہ عنہ اورتمام بنوعبد شمس کی شہرت اورنیک نامی کو بدنام نہ کیا جائے ۔اورتیسراگروہ اہل انصاف اوردیندارتھا جیسے طبری،ابن عساکر،ابن اثیراورابن کثیرؒ ۔لیکن اہل انصاف میں سے یہ دیکھا گیا ہے  کہ وہ ہرمذہب اورمشرب کے خبردینے والوں سے اخبارنقل کرتے تھے جیسے لوط بن یحیی محترق شیعی اورسیف بن عمر عراقی ۔ شایدان میں سے بعض اس طرف مجبور ہوئے ہیں  کہ وہ ان جہات پر راضی ہیں جو اس کے قوت اورمرتبہ پر خبردیتے  رہے  اور ان اخبار کے روایت کرنے والوں کےاکثر  اسماء لکھے ہوتے ہیں تاکہ تحقیق کرنے والا ہرخبر کے روای کوبطریقہ بصیرت سمجھ لیں،لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ یہ  ترکہ جوہمارے پاس  پہنچا ہے یہ ہماری تاریخ نہیں ہے بلکہ اس سے ہم نے اپنی تاریخ کا استخراج کرنا  ہے۔(کیونکہ اس میں ہر قسم کے اخبارومرویات منقول ہیں )   ۔

==مولانا محمد نافع صاحب کا تبصرہ== :

تاریخ طبری میں منقول معتضد باللہ عباسی کا رسالہ جسے مؤرخ طبری نے 284ھ کے تحت بلا کسی نقد وتمحیص اور کلام کے نقل کیا ہے جس میں حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ دونوں حضرات کے خلاف سب وشتم اور لعن طعن کرنے کے جواز میں مواد فراہم کیا اور اس میں موجبات لعن طعن درج کئے ہیں اس رسالہ پر تنقید کرتے ہوئےمولانا نافع صاحب فرماتے ہیں :

غور طلب بات یہ ہے کہ تاریخ طبری میں مؤرخ طبری کے لئے کون ساایسا داعیہ تھا جس کی بناء پر اس نے عباسیوں کے فراہم کردہ غلیظ مواد کو من وعن اپنی تصنیف میں شامل کیا تھا ؟اور اس نے کونسی مجبوری کی بناء پر یہ کام سرانجام دیا ؟  

گویا طبری نے اس مواد کو اپنی تاریخ میں درج کرکے آنے والے لوگوں کو اس پر آگاہ کیا اور سب شتم ولعن طعن کے جو دلائل عباسیوں نے مرتب کروائے   تھے ان پر آئندہ نسلوں کو مطلع کر نے کا ثواب کمایا ،چنانچہ  شیعہ وروافض رسالہ مذکورہ میں مندرجہ ذیل مواد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی کتب میں ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر مطاعن قائم کرتے ہیں اور شدید اعتراضات پیدا کرتے ہیں ۔در حقیقت الطبری نے اہل اسلام میں انتشار  پھیلانے اور افتراق ڈالنے کے لیے بڑی عجیب تدبیر اور حکمت عملی اختیار کی جس سے مخالفین کو ایک گونہ رہنمائی حاصل ہوئی اور ان کو عداوت پوری کرنے کے لیے ایک تیار شدہ مواد  دستیاب ہوگیا ۔ کئی لوگ ان دلائل پر نظر کرنے میں متذ بذب ہوں گے،  کئی ناظرین صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے  متنفر  ہوں گے اور بعض قارئین دل برداشتہ ہو کر اموی صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے منحرف ہو جائیں گے ۔طبری کو اس باطل مواد کو  تفصیل کے ساتھ ذکر ہی نہیں کرنا چاہیے تھا بلکہ صرف ایک واقعہ تاریخ کی حیثیت سے اجمالاً ذکر کر دینا ہی کافی تھا جیسا کہ باقی مورخین نے واقعہ ہذا اجمالاً درج کیا اور دلائل کی تفصیل کی طرف نہیں گئے اور اگر کسی  وجہ سے ذکر کیا تھا تو مواد کے بطلان پر کچھ تو کلام کرنا چاہئے تھا تاکہ لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں لیکن الطبر ی نے ایسا نہیں کیا ۔یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ صاحب التاریخ طبری کی نیت بخیر نہ  تھی بلکہ فاسد تھی اور ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حق میں طبری خود سوء ظنی کا مریض تھا ۔ (16)انتھی ما قال ۔

==مولانا مہر محمد صاحب ؒ کی رائے== :

"ابن جریر طبری  کا مذہب "، اس عنوان  کے تحت مولانا مہر محمد صاحب ؒنے لکھا ہے کہ: یہ وہی طبر ی المتوفی (310ھ) ہیں جنہیں اہل بغداد نے تشیع سے متہم  کرکے اپنے قبرستان میں دفن نہ ہونے دیا تھا ۔(17)

گو شیعہ  نہیں ہیں تا ہم اپنی تاریخ یا تفسیر میں ایسی کچی پکی روایات خوب نقل کر دیتے ہیں جو شعیوں کی موضوع یا مشہور کی ہوئی ہوتی ہیں ۔(18)

==عرب علماء کی رائے== :

معاصر عرب اہل علم حضرات میں سے ڈاکٹر خالد علال کبیر صاحب نے اپنی کتاب "مدرسۃ الکذابین فی روایۃ التاریخ الاسلامی وتدوینہ "  میں مؤرخ طبری کے اس مخصوص طرز عمل کے بارے میں لکھا ہے کہ:  میرے نزدیک انہوں نے تحقیق وتمحیص کے بغیر صرف اسانید کے ساتھ روایت کو نقل کر کے ایک ناقص کام کیا ہے اور ان تمام روایات  کے وہ خود ذمہ دار ہیں جو انہوں اپنی تاریخ میں مدون کی ہیں پس انہوں عمدہ جھوٹے راویوں سے بکثرت روایات نقل کیں اور ان پر سکوت اختیار کیا۔ یہ انتہائی خطرناک معاملہ ہے جو بعد میں آنے والی بہت سی نسلوں کی گمراہی کا سبب بنا،  انہیں (طبری)چاہیے تھا کہ وہ ان  جھوٹےراویوں کا بغیرہ ضرورت کے تذکرہ نہ کرتے یا ان پر نقد کرتے اور ان روایات کی جانچ پڑتال کرتے،  صرف ان کے اسانید کے ذکر پر اکتفاء کرکے سکوت اختیار نہ کرتے۔ نقد روایات اس لیے ضروری تھا کہ تاریخ طبری کا مطالعہ کرنے والوں  کی غالب اکثریت ان لوگوں کی ہے جن میں اتنی علمی صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ ان روایات کے سند ومتن کے اعتبار سے نقد کر سکیں ، ہاں  اگر اس سے استفادہ کرنے والے صرف حدیث ،تاریخ اور دیگر علوم میں متبحر ہوتے تو تب یہ بات طے شدہ ہوتی کہ وہ نقد وتمحیص کا عمل انجام دیتے۔  (19) ڈاکٹر صاحب موصوف مزید لکھتے ہیں کہ اس معاملہ کو زیادہ سنگین اس بات نے کر دیا کہ طبری کے بعد آنے والےاکثرمؤرخین نے قرون ثلاثہ کے بارے میں ان سے بکثرت روایات نقل کی ہے جیسا کہ ابن جوزی نے اپنی کتاب المنتظم میں اور ابن الااثیر نے الکامل میں اور ابن کثیر نے البدایہ میں بغیر سند کے نقل کیا ہے اور ان حضرات  سے اس طرح بغیر سند کے روایات نقل کرنے میں  ثقہ اور دروغ گو راویوں کی  روایات خلط ملط ہوگئیں۔ بسا اوقات تاریخ طبری کی طرف مراجعت کےبغیر ان روایات میں تمیز مستحیل ہو جاتی ہے ۔ (20)

یہ تو صرف تاریخ طبری کے متعلق ایک سر سری جائزہ ہے ورنہ ہر روایت پر سند اور متن کے اعتبار سے تفصیلی کلام کے لیے ایک مستقل دفتر کی ضرورت ہے۔ ممکن ہے کہ کسی کو اس جائزہ سے اختلاف ہو یا وہ اسے مبالغہ پر محمول کرے  یا حقیقت سے بعید قرار دے لیکن یاد رہے اس طرح کی باتیں کرنے والا یا تو تاریخ اور اس کی تدوین اور پس منظر اور اس میں دروغ گو ئی کے اسباب واہداف سے ناوافق ہوگا یا ناواقفیت کے باوجود انکار کر رہا ہوگاتو اس کو  تجاہل عارفانہ کے بجائے تجاہل جاہلانہ وعنادیہ قرار دینا زیادہ مناسب ہوگا۔ یہاں صرف اس  کتاب کے بارے میں ایک سر سری جائزہ پیش کیا گیا ہے  ورنہ کوئی صاحب علم وتجربہ اور درستگی فکر کا حامل مؤرخ   جو تراجم میں  فرق اور مختلف مذاہب سے متعلق کتابوں کا نقد وتحقیق  جانتا ہو تو اگر وہ ان کے اصولوں کا معتد لانہ جائزہ لے گاتو اس (کتاب)کوقرون ثلاثہ میں امت مسلمہ کے  سیاسی گروہی اور مختلف فرقوں کی تقسیم کے نتیجہ میں دروغ گو راویوں کا لازمی نتیجہ فکر قرار دئے بغیر کوئی چارہ کار نہیں پائے گا ۔ اور اس سے بھی زیادہ عجیب وغریب باہم مستحیل متناقض قسم کی روایات کو پائے گا ۔

==افتراق وانتشار اورگروہی اختلافات کی اساس== :

غرض کذاب اوردروغ گو راویوں کی موضوع ومن گھڑت اور نصوص شریعت وحاملین دین متین سے متضاد روایات ہی امت مسلمہ میں افتراق وانتشار اورتمام گروہی اختلافات کی اساس وبنیاد ہیں ، جن کو صراط مستقیم سے منحرف فرقوں نے جب مذہبی قدامت کا لبادہ اوڑھ دیا تواس مکتبہ فکر کے ماننے والوں نے ان روایات کو دین اوررجال پر طعن کرنے ،گمراہ افکار کی نصرت وتائید،مسلمہ حقائق اور متوارث تاریخ اسلامی میں تشکیک پیداکرنے کے لئے بطور سلاح استعمال کرنا شروع کردیا ۔

==اتحاد امت کا نسخہ کیمیا== :

امت مسلمہ کا درد رکھنے والا مصنف مزاج محقق ضرور اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ ان دروغ گو مکتبہ فکر کے گمراہ لوگوں نے اپنے مخصوص افکار وعقائد کی بنیاد اپنے مکتبہ فکر کے ان مخصوص اوردروغ گو راویوں کی روایات پر رکھی ہے اورقرآن کریم اورسنت صحیحہ ودیگر نصوص شریعت کودرخور اعتنا نہیں سمجھا،  اگر یہ گمراہ فرقے آج بھی قرآن کریم ،سنت صحیحہ اوردیگر متواتر وقطعی نصوص شریعت کی طرف رجوع کریں تو امت مسلمہ میں ہر طرح کے اختلاف ختم ہوجائیں گے اور یہ امت پھر سے ایک جسد وقلب کی مانند متفق ومتحد ہوجائے گی ،امت مسلمہ کی اتحاد کا یہی ایک نسخہ کیمیا ہے ۔

نسخہ کیمیا سے متعلق علماء کی آراء:

(1)شریعت مطہرہ اور درایت وعقل کے خلاف روایت مردود ہے ،چناں چہ علماء نے صراحت کی ہے کہ جو روایت بھی درایت اور عقل کے خلاف ہو یا اصول شریعت کے مناقض ہو تو جان لیں کہ وہ روایت موضوع ہے اور اس کے راویوں کا کوئی اعتبارنہیں ،اسی طرح جو روایت حس اور  مشاہدہ کے خلاف ہو یا قرآن کریم ، سنت متواترہ اوراجماع قطعی کے مبائن ہو تو وہ روایت بھی قابل قبول نہیں (21)

(2) صحابہ وائمہ دین کی عیب جوئی سے متعلق روایت بھی قابل اعتبار نہیں کیونکہ روایات وضع کرنے والےبعض  وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ائمہ دین کی برائیاں اور عیب بیان کرنے کے لئے یا اپنے دیگر مذموم اغراض ومقاصد کی تکمیل کے لئے روایات وضع کیں ہیں ،ان کا یہ عمل یا تو عناد کی وجہ سے ہے یا تعصب وفساد کی وجہ سے ہے ،پس ان لوگوں کی روایات کا کوئی اعتبار نہیں ، جب تک کہ ان کا کوئی سند معتمد نہ پائی جائے یا سلف صالحین میں سے کسی نے اس پر اعتماد نہ کیا ہو (22)

علامہ نوویؒ نے قاضی عیاض اور علامہ مازری کے حوالے سے لکھا ہے کہ "ہمیں حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ حسن ظن رکھنے اور ہر بری خصلت کی ان سے نفی کا حکم دیا گیا ہے لہذااگر ان کے بارے میں کسی روایت میں اعتراض پایا جائے اور اس کی صحیح تاویل کی کوئی گنجائش نہ ہو تو اس صورت میں ہم اس روایت کے راویوں کی طرف جھوٹ کی نسبت کریں گے "(23)

علامہ عبد العزیز فرہادی ؒنے لکھا ہے کہ "اس بارے میں اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو اس کی مناسب تاویل کی جائے اور اگر مناسب تاویل ممکن نہ ہو تو اس روایت کو رد کرکے سکوت اختیار کرنا واجب ہے اور طعن کو بالیقین ترک کرنا ہوگا اس لئے حق سبحانہ وتعالیٰ نے تمام صحابہ کرام سے مغفرت اور جنت کا وعدہ کیا ہے ۔(24)

خلاصہ:

دنیاوی امور ومعالات میں اگر کسی ثقہ راوی کی روایت دستیاب نہ ہو تو بصورت مجبوری دروغ گو راویوں سے منقول روایات نقل واقعہ کی غرض سے ذکر کرنے کی گنجائش ہوگی مگر اس سے علم یقین حاصل نہ ہوگا ۔ اور دینی امور،  صحابہ کرام وسلف صالحین سے متعلق کسی بھی ایسے دروغ گو راوی کی روایت کو قبول نہیں کیا جائے گابلکہ مستند اور ثقہ راویوں کی روایت ہی قبول  کی جائے گی۔

حواشی وحوالہ جات :

1: السبكی ، تاج الدين عبد الوهاب بن تقی الدين ،طبقات الشافعیۃ الکبریٰ ،2/135۔138، دارالمعرفہ بیروت، الطبعۃ الثانيۃ، 1413ھ۔

2: الحموی شہاب الدين أبو عبد الله ياقوت بن عبد الله، معجم الادباء،6/516، مؤسۃالمعارف ۔

3: الطبری،  محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب الآ ملی، مقدمۃ ملحقۃ فی بدایۃ تاریخ الطبری ،ص7،8، دار التراث بيروت،الطبعۃ الثانیۃ، 1387 ھ۔

4: ،تذکرۃ الحفاظ ؛2/710 ۔716 میزان الاعتدال 3/498،499 لسان المیزان  ؛5/ 100- 103۔

5: ایضاً۔

6:حاشیۃ الامام ابن القیم علیٰ سنن ابی دؤاد فی ذیل عون المعبود ،ج2،ص205۔

7:لسان المیزان ،ج5،ص103۔

8:میزان الاعتدال ،ج3،ص499،لسان المیزان ،ج5،ص103۔

9:الفوائد الرجالیۃ ،ج7،ص199،مکتبۃ العلمین الطوسی وبحرالعلوم فی نجف الاشرف،مکتبۃ الصادق تہران ، ص58، رجال الطوسی لابی جعفر الطوسی ،ج2،ص242،موسسہ النشرالاسلامی قم ،معجم رجال الحدیث للسیدالخوئی ، ج1ص132-ج12،ص156،ایران ۔

10:اصول مذہب الشیعۃ الامامیۃ الاثنی عشریۃ عرض  ونقد ،ج3،ص149۔

11:ڈاکٹر صاحب کی کتاب میں دو بار"یسار"کی جگہ"سیار "آیا ہے غالبا کمپوزنگ کی غلطی ہے۔ محمد بن اسحاق یسار کے بارے میں جرح اور تعدیل دونوں طرح اقوال ملتے ہیں ،البتہ محمدبن اسحاق جمہور کے نزدیک ثقہ ہے ۔

تعلیقات الشیخ عبدالفتاح ابوغدہ علی الرفع والتکمیل ،ص114-116۔مکتبہ الدعوۃ الاسلامیۃ پشاور ۔لیکن یہ ذہن نشین رہے کہ موصوف چوں کہ تشیع سے بھی متہم ہے ۔لہذا وہ تمام روایات جن سے تشیع کی کسی بھی طرح تائید ہوتی ہے غیر معتبر ہوں گی ۔ تہذیب الکمال ،ج24،ص416،موسسہ الرسالہ ۔

12: ابو جعفرطبری، محمد بن جریر(310ھ)، تاریخ الامم والملوک: 1/13، خطبۃ الکتاب، دارالکتب العلمیۃ۔ بیروت، طبع 1407ھ۔

13:مدرسۃ الکاذبین فی روایۃ التاریخ  الاسلامی وتدوینہ ،ص45-47،دارالبلاغ،  الجزائر۔

14:تاریخ الطبری ،خطبۃ الکتاب ،ج1،ص13۔

15: قاضی ابو بکر بن العربی، محمد بن عبداللہ، العواصم من القواصم في تحقيق مواقف الصحابة بعد وفاة النبي صلى الله عليه وسلم: (تحقیقی محب الدین الخطیب)1/179، باب: عاصمہ، دارالجیل۔بیروت، لبنان، طبع، 1407ھ۔1987م۔

16:میزان الاعتدال ،ج3،ص499،لسان المیزان ،ج5،ص100۔

17:فوئدنافعہ ،ج1،ص57-58،دارلکتاب لاہور۔

18:معجم الادباء ،ج6،ص514۔

19:ہزار سوال کا جواب ،ص79،مرحبااکیڈمی ۔

20: مدرسۃ الکاذبین فی روایۃ التاریخ  الاسلامی وتدوینہ ،ص67-68،دارالبلاغ ، الجزائر۔

21:حوالہ بالا

22:فتح المغیث ،ج1،ص249-250۔

23:الاجوبۃ الفاضلۃ للاسئلۃ العشرۃ الکاملۃ ،ص29۔

24:شرح النووی ،کتاب الجہاد ،باب حکم الفئی ،ج12،ص296،دارالمعرفۃ ۔