Playstore.png

شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کا نظریہ تشکیل اخلاقیات

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ برجس
عنوان شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کا نظریہ تشکیل اخلاقیات
انگریزی عنوان
The Theory of Shah Wali Ullah in Ethics Form
مصنف محمد، حسین، فخر الدین
جلد 2
شمارہ 2
سال 2015
صفحات 123-135
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Ethics, ‘Ib┐da, Transparency, Capitulation, Gainful, Abstinence.
شکاگو 16 محمد، حسین، فخر الدین۔ "شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کا نظریہ تشکیل اخلاقیات۔" برجس 2, شمارہ۔ 2 (2015)۔

Abstract

This research article consist unique study regarding constitution of Human being character building in the thoughts of eminent philosopher Shah Wali Ullah (1703-1764). In present critique the focus has been made to explore how individual characters build in the specific environments? How surrounding effects on the character building? Moreover linkage of Islamic ‘IB└DA and its positive impact on the Muslim society has been explored. In interpretation of Shah Wali Ullah, All ‘IB└DA are like tools which lead to generate four basic ethics i.e purity and transparency capitulation, gainful and abstinence. These are the basic moral code which are the ultimate result of the four kind of ‘IB└DA i.e prayer, fasting, zakat and hajj. Muslim has inestimable inner power in the form of six lat┐’ef(لطائف) , which ultimately resulted upon the change of behavior. Character building are etiquettes, noble practices, decentness and good morality. It is generally refers to a code of conduct, that an individual group or society hold as authoritative in distinguishing right from wrong. Ethics are phenomenon values and can develop up to reasonable universal standards. Conduct in Islam governs all aspects of life and specifically addresses such principles as truthfulness, honesty, trust, sincerity, brotherhood and justice, while Islam forbid false, conspiracy, dodge, rude, irascibility, corruption. To materialize the virtues and disgrace the fake a role model prophet Muhammad (S.A.W) were deputed from Allah to guide the human being. So In present article character building in the theory of Shah Wali Ullah especially while in other Muslims scholars in general has diagnosed.

اللہ تبارک وتعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک بڑی دولت اور نعمت سے نوازاہے،وہ نعمت اور دولت اخلاق ہےکیونکہ اسلام کی  تبلیغ میں اس کا بہت بڑا حصہ ہے۔ ہمارے نبی حضرت محمدﷺ اخلاق کے اعلیٰ معیار پر تھے، قرآن کے اخلاقی نظام کے عملی پیکر تھے،چنانچہ آپ کی راز دار اور آپ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کان خلقه القرآن(1) ۔"آپﷺ کے ا خلاق وہی تھے ،جو قرآن  میں بیان کردہ ہیں"۔

اخلاق کی تشکیل کیسی ہوتی ہے؟، نفسی اصلاح کے مواقع بھی موجود ہیں یا نہیں ؟بر صغیر کے اٹھارویں صدی کےمجدد شاہ ولیؒ اللہ م ۱۷۰۳؁(2) اس حوالہ سے  کیامخصو ص نظر  رکھتے تھے؟ شاہ ولیؒ اللہ کا نظریہ تشکیلِ اخلاقیات کیا تھا؟ پیشِ نظر مضمون میں اُ ٹھا ئیے گئے ان سوالات کا تحقیقی تجزیہ   اس مقالہ میں پیش  کیاجائے گا۔

در اصل انسان کے ارادی کردار واعمال کی پُشت پر نظریاتی واخلاقی جذبہ محرکہ کارفرما رہتا ہے۔اعلی اخلاقی اقدارجوطبیعت کا حصہ بن جاتی ہیں اور زندگی کے تمام لمحات میں اس کے مظاہر د یکھنے کو ملتےہیں،انسانی شرافت کی معراج ہے۔ یہ اعلیٰ اخلاق انضباتی عمل ہے،اس سے  زندگی میں حُسن آتا ہے ، جب کہ بد اخلاقی معاشرتی روگ وبد انتظامی ہے۔تمام الہامی مذاہب اور معروف فلسفوں میں اخلاقیات کو نمایاں مقام حاصل رہا ہے حتیٰ  کہ دینِ اسلام میں جہا ں اخلاقی تعمیر کا حُکم دیا گیا ہے،وہاں قرآن حکیم کے اخلاقی نظا م کےاطلاق وتطبیق کےلئے نمونہ کامل آنحضرت ﷺ کی  بعثت کا بھی التزام کیا گیا ، تاکہ جوبھی اخلاق کے اعلیٰ مرتبہ پر فائز ہونا چاہتا ہو وہ اس ہستی کے اعمال و افعال ورویوں کو اختیار کرکےفلاح وکامیا بی سے ہمکنار ہو سکےاور آپ ﷺکی زندگی انسا نیت کے لئے مشعل کا کام دےسکے۔ اخلاق وتشکیل اخلاقیات کی اہمیت کااندازہ اس امر سے بھی لگایاجاسکتاہے کہ یونانی فلسفہ جہاں ماوراء الطبیعات،علم المنطق، فلسفہ وقانون،علم الجمالیات وعلم الاجتماع کو زیر بحث لاتا ہےوہاں علم النفس و اخلاقی تعمیر و تشکیل کو بھی اہم تر ین مو ضوع کے طور پر ا ختیار کرتا ہے(3)۔دورِ جدید میں ژونگ، اڈلر اور سیگمنٹ فرائڈ (4)نے تحلیل ِ نفسی کے نظریات پیش کر کے اس مو ضوع کو نئی جہت د ی ،  ان  مفکر ین نے اخلاقی تعمیر میں جنسی آزادی کواسا سی عامل  کے طور پرمتعارف کیا   ،اس کے برعکس اسلامی نظام ِ تر بیت ،نفسی اصلاح کی راہ سے اخلاقی تعمیرچا ہتا ہے۔ اصلا ح کا اہم ذر یعہ عبادات  کا منضبط نظام بھی ہے کیونکہ عبادات کا انسانی شخصیت سازی میں نما یاں عمل دخل ہے۔  عبادت اور اخلاق سے متعلق شاہ ولیؒ اللہ کا نظریہ جاننے سے پہلے اخلاق کی تعریف ضروری ہے۔

اخلاق کی لغوی تعریف:

خلق کا مادہ(خ،ل،ق) ہے اگر ''لفظ خ'' کے اوپر زبر پڑھیں یعنی خَلق پڑھیں تو اس کے معنی ہیں ظاہری شکل وصورت اور اگر ''خ'' پر پیش پڑھیں یعنی ''خُلق '' پڑھیں تو باطنی اور داخلی ونفسانی شکل وصورت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے مثلاََ اگر کوئی یہ کہے کہ فلاں انسان خُلق وخَلق دونوں اعتبار سے نیک ہے ،تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ظاہری صورت بھی اچھی ہے اور باطنی صورت بھی، جس طرح انسانوں کی ظاہری شکل وصورت مختلف ہوتی ہے اسی طرح باطنی شکل وصورت میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے  (5)

اصطلاحی تعریف:

خُلق : انسان کے اس نفسانی ملکہ کو کہا جاتا ہے کہ انسان بغیر فکرو تأ مل اور غورو خوض کے خاص افعال انجام دےیعنی اس کے ذریعہ بہترین کام انجام دینے کو خُلق کہا جاتا ہے ۔

الخَلق والخُلق: فی الاصل واحد کا الشَرب والشُرب لٰکن خُصَّ الخَلق باالهیأت والصور المدرکة بالبصر وخُصَّ الخُلُق بالقویٰ والسجایا المدرکة بالبصیرة(6)

" خَلق اور خُلق در اصل ایک ہی ہیں  لیکن خلق مخصوص ہے ظاہری شکل وصورت سے اور خُلق کو مخصوص کردیا گیا باطنی اور معنوی شکل وصورت سے"۔

تعریف علم اخلاق

علم اخلاق وہ علم ہے جو انسان کو فضیلت اور رذیلت کی پہچان کراتا ہے(کون سا کام اچھا ہے کون

سا کام برا ہے ، جو انسان کو یہ سب بتائے اس علم کو علم اخلاق کہا جاتا ہے) (7)

اخلاق: عربی گرائمر کے اعتبار سے اخلاق ''افعال'' کے وزن پر ہے اور ''خُلق''کی جمع ہے، خُلق :انسان کی نفسانی خصوصیات کو کہا جاتا ہے بالکل اسی طرح جیسے خَلق ، انسان کے بدن کی صفات کو کہا جاتا ہے۔

اخلاق: روش، شیوہ، سلوک کا نام ہے،یعنی طور طریقہ اور رفتار و گفتار کو اخلاق کہتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ  سے دعا فرماتے ہیں: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ اللَّهُمَّ كَمَا حَسَّنْتَ خَلْقِي فَحَسِّنْ خُلُقِي۔(8)

" اے اللہ !میرے خُلق کو بھی اسی طرح بہتر قرار دے جس طرح میرے خَلق کو بہتر بنایا ہے"۔(یعنی جس طرح میری خلقت نیک طینت ہے اسی طرح میرے اخلاق کو بھی اخلاق حسنہ قرار دے۔

انسان کے تمام اعمال نفسیاتی خصوصیات پر موقوف ہیں یعنی اگر انسان کا اخلاق اچھے اور نیک ہوں گے تو اس کے اعمال بھی اچھے ہوں گے۔ (9)

اخلاق طبیعت میں راسخ کیفیت کا نام ہے جیسے کہ امام غزالیؒ( م۵۰۵) لکھتے ہیں:فاما الخلق عبارة عن هیئة فی نفس راسخة عنها تصدر الاعمال بسهولة ویسر من غیر حاجة الی فکر(10)

"خُلق اس ہیئت سے عبارت ہے جو نفس میں راسخ ہوتا ہے جس سے سہولت کے ساتھ اعمال کا صدور ہوتا ہے اور اس میں فکر کی حاجت نہیں ہوتی"۔

خُلق طبعی خصلت ،مروت وعادت کے معنوں میں مستعمل ہے۔ خَلقَ کی جمع ’’اخلاق‘‘ ہے۔انسان سے سرزد ہونے والے ارادی اعمال پر اچھے یا بُرے ہونے کا حکم لگانا علم الاخلاق کامیدان ہے۔اخلاق کی تعمیر وتشکیل ایک فن کے طورپر سامنے آرہاہے، لہذا شاہ ولیؒ اللہ کے فلسفہ تشکیل اخلاق کا ما حصل پیش کرنا اس مضمون کا ہدف ہے۔انسانی کردار پر اس حیثیت سے بحث کہ وہ صواب وخیر یا خطاءو شرمرتب نظام کی شکل میں متشکل ہوجاتاہے اور ان اصولوں کی طرف راہنمائی میں مدد دےجو انسانی کردار کے صحیح مقاصد کی تعین اور قدروقیمت میں مدد دے،علم تشکیل اخلاق کہلاتا ہے۔اس علم کافائدہ برائیو ں سے اجتناب اور بھلائیوں پر عمل کرنے کا جذبہ بیدار کرنا ہے۔

     شاہ ولی اللہ کا اخلاقی تشکیلی فلسفہ قرآن وسنت ہی کی جلومیں پروان چڑ ھتا نظر آتاہے، وہ انسانی ترکیب میں دو حیوانی و روحانی قو یٰ کو دخیل مانتے ہیں، البتہ روحانی وملکوتی قُویٰ کو غالب کرکے اعلیٰ اخلاق تشکیل دیتا ہے۔ دیکھا جائے تو جہا ں اُصولی طور پراللہ تعالیٰ نے اعلیٰ اخلاق پر فائز مثالی شخصیت امام نوع انسانی آنحضرتﷺ کی صورت میں متمثل کیا اور ان کی موافقت کو کامیابی کا اساس بتلادیاگیا، وہاں انسان کی خود ترکیب میں خیر وشر کی متقابل قوتیں و دیعت کرکے مجازات کا سلسلہ بطریق تسبیب قائم کیا ۔انسان اپنے اختیار سے مرتبہ عزم تک صدورِفعل کا ذریعہ بنا، یوں انسان مکلف بھی ٹھرا اور مستوجب سزا و جزاء کا بھی مستحق قرار پایا ۔ حاصل یہ کہ شاہ  ولی اللہ انسانی  ترکیب میں جسمانی و شہوانی اور روحانی وملکوتی عناصر کو دخیل مانتے ہے، مزید یہ کہ نیک اس شخص کو کہا جائے گا  جس پر ہمیشہ عمدہ رحجانات کا غلبہ رہے اور بد وہ شخص ہے جس پر نیکیوں کے برعکس رُحجانات کا غلبہ ہو۔ مو ضوع پر باقاعدہ بحث کرنے سے پہلے مناسب ہے کہ معلوم ہو کہ آیا انسانی اخلاق کی تعمیر واصلاح ممکن بھی ہے؟

ایک حدیث سے مستفادہےکہ اخلاق وعادات ناقابل تغییر ہیں،جو حدیث اس حوالہ سے زدِ لسانِ عام ہے وہ امام احمد کی مسند کی یہ  حد یث ہے۔اذاسمعتُم بجبلٍ مال من مکانِه فصدقوه واذا سَمِعتم بِرَجلٍ زال عن خُلقِه فلا تصدِقوه فاِنه سیعود اِلی ماجُبِل علیه۔ (11)

" تم اگرپہاڑ کے بارے میں سُنو کہ وہ اپنی جگہ سے ٹل گیا ہے  تو اس امرکی تصدیق کرنا،لیکن اگر کسی شخص کے بارے میں سُنو کہ اس کے اخلاق میں تبدیلی آئی تو ہر گز اس کو سچ نہ ماننا اس لئے کہ انجام کار میں اس کو اپنی جبلت کی طرف لوٹ آنا ہے"۔

اس حدیث کی روشنی میں خُلق و عادت میں تغیر کوناممکن بتایا گیا ہے۔ دراصل یہ عدم تغییرفِی الخُلق مزاج میں عدم تغیر ہےاور قواعد ِحکمت کے تحت مزاج میں تبدیلی ممکن نہیں، شخصی مزاج چار مدارج بچپن، لڑکپن، جوانی اور پختگی عمر کے مراحل طے کرکے ہی دورانیہ پوراکرتا ہے،ہر شخص خاص مزاج اور جبلت لے کر آتا ہے جو غیر مبتدل ہوتا ہے۔جبلت اور عادت کے برعکس نفس انسانی کردار کے اعتبار  سے  قا بل تغیر ہے۔ اس حوا لہ سے نفس تین امور میں سے کسی ایک امر سے متعلق ہو تا ہے ، وہ تین امور طبیعت ، حال اور ملکہ ہے۔طبیعت حیات کانام ہے، اس میں تغییروتبّدل کا قطعی امکان ہی نہیں ۔حدیث کا مصداق یہی طبیعت وعادت ہے۔حال: نفس کی اس کیفیت کا نام ہے  جس سے استعداد قبول کی بناء پر نفس متکیف ہوکر جلد ہی زوال بھی قبول کرلیتا ہےجب کہ ملکہ اس کیفیت کا نام ہے جو نفسِ انسانی میں راسخ ہوجاتی ہے۔اس کا زوال بتکلف ممکن ہوتا ہے۔ (12)

اس تفصیل کے بعد یہ واضح ہے کہ خُلق ان تینوں کیفیات میں سے نفس کی اس کیفیت سے متعلق ہےجو ملکہ کہلاتی ہے اور اس کا حال مزاج کا سا نہیں جو غیر متبدل ہے بلکہ نفسی کیفیت کی تہذیب واصلاح ممکن ہے، نفس قا بل  اصلاح امر اورقدیم اسلامی کتب میں حکمت کے تین شعبوںمیں سے ، تدبیرمنزل ، سیاست مدینہ کے بعد تہذیب اخلاق (13)کو جو زیر بحث لایا جاتا ہے، یہ علم خالصۃً انسان کی ذاتی مصلحتوں کو جاننے، برائیوں سے پاک ہوکر خوبیوں سے خود  کو آراستہ کرنے کا عمل ہے۔یوں نفس کو صیقل کرکے متحلیٰ کیا جا سکتا ہے جیسے کہ سورۃ الشمس میں ہے : ونفس وما سواها فالهمها فجورها وتقوٰها(14)

تسویہ نفس کا مطلب اخلاقی تعمیر ہی ہے۔ قرآن میں مذکورنفس امارہ کا نفس لوامہ اور نفسِ مطمئنہ کی طرف سفر کا امکان یہ ظا ہر کرتا ہے کہ نفس ایک قابل اصلاح عمل ہے۔قرآن نے جہاں اصلاح نفس کی حقیقت کا اعلان کیا وہاں اہل حکمت نے اس کی اہمیت و اطلاق کے متنوع طریقے بھی وضع کئے۔مشہور یونانی فلاسفر بقراط کا نظریہ یہ ہے کہ انسان جب تک باطنی طور پر  مزکیٰ نہ ہو،مادی خوراک سے اخلاقی تعمیر کی بجائے اخلاقی تخریب پیش آتی ہے،اُن کا لکھنا ہے:ان الابدان التی لیست بنقیة کُلما غزیتُها زدتهاشراً (15)

"جو اجسام پاک صاف نہیں ہیں ان کوجب بھی مادی غذا دی جائے گی  تو بُرائی ہی  بڑھے گی"۔

مسلمانوں میں پہلا اخلاقی مفکر ابن  مسکو یہ ہیں جنہوں نے اخلاقیات کو مستقل موضوع کے طورپر لیا اور ممتاز فکر پیش کیا ۔ عربی مفکر کندی ، فارابی ،ابن سینا اخلاقیات کو سیاسیات کاحصہ سمجھتے تھے۔ابن مسکو یہ اپنی کتاب تہذیب الاخلاق میں روح کی فطرت سے متعلق بحث کرتا ہےکہ یہ اپنے وجودکی شعوررکھتی ہے اور      

باعتبار  ذات قدسی ہے، یہ حِسی وتصوراتی علم کی حامل ہے، یہ عقلی علوم سے ممتاز کر تی ہے۔مسکو یہ کے خیال کے مطابق کچھ لوگ فطری طورپر نیک ہوتے   ہیں، کچھ نہ نیک نہ بد بلکہ ماحول و تربیت ان کی اخلاقی تشکیل کرتی ہے۔ابن مسکویہ کےخیال کے مطابق انسان میں تین قوتیں ہیں،قوت شہوانی ،قوت غضبیہ اورقوت عقل جو انسان کے اندرچارخصلیتں پیدا کر تی ہیں یعنی ہمت،جُرات،عقل اورعدالت۔ان قُو یٰ کے توازن سے انسانی شخصیت جنم پا تی ہیں۔ان کے عدم توازن سے انسا نی شخصیت متاثر ہو تی ہے۔

اخلاقی تشکیل کے حوالہ سے مسلم مفکرین میں دوسری شخصیت امام غزالی  م ۵۰۵؁کی ہے۔ان کی تین کتابیں احیاءعلوم الدین ،المیزان اور کیمیا ئے سعادت، انسانی اخلاقی تشکیل سے متعلق ہیں۔محمدالغزالی کی اخلاقیات ابن مسکویہ سے مماثل ہے۔امام احمدالغزالی کا فلسفہ اخلاقیات وہی کُچھ ہے جوصوفیاءکا ہے (16) ۔ جہاں تک شاہ ولی اللہ کےنظریہ تشکیل اخلاقیات کا تعلق ہے تو وہ خود چونکہ صوفی تھے۔ان کی کتاب حجۃاللہ البالغہ ایسے دور میں لکھی گئی کہ  اس وقت انسانی عقلی تشکیلِ کےبا رے میں نئے نظر یات سامنے آرہے تھے،اقتصادی فلسفے متعارف ہو رہے، نئے اقدار، نئے اخلاقی سانچے متعارف ہور ہے تھے۔ اس تناظرمیں اگر دیکھا جائےتو یہ حقیقت کُھل کرسامنے آتی ہے کہ شاہ و لیؒ اللہ نے اس میدان میں منفرد نظریہ پیش کر کے  نئی طُرح متعارف کی اور اپنی حیثیت کا امتیاز بر قرار رکھا۔شاہ ولیؒ اللہ جہاں ماحول اور خاندنی توارث کو اعلیٰ اخلاق کی تشکیل کا اہم ذریعہ کے طور پر تسلیم کرتے ہیں، وہاں  وہ اس کےڈ انڈ ے ماوراءالطبیعات قوتوں سے اُستوار کرتے ہیں، وہ عقائد اور عباداتِ اسلامی کو رویوںواخلاق بنانے میں اہم عوامل سمجھتے ہیں۔ماحول کا انسانی اخلاق کی تشکیل کی حقیقت سےمتعلق وہ لکھتے ہیں۔انماالاخلاقُ بالاحوال لابالعلوم (17)  "اخلاق کی تشکیل میں احوال کو اساسی اہمیت حاصل ہے،نہ کہ علم و تعلم کو "۔

شاہ و لیؒ اللہ انسانی اخلاقی تشکیل میں عبا دات  کو خا ص مقا م دیتے ہیں ، اسلامی عبادات کی دو حشیات کی اساس پر وہ منفرد تجزیہ پیش کرتے ہیں ،وہ اس  تناظر میں  بے لاگ نقد کرتےہیں اور عبادات کی انتہا ئی حکمت کو  وہ انسانی اناکی تشکیل پر منتج مانتے ہیں۔  اُن کی نظر میں نفس کردار کے اعتبار سے چار  بنیادی اخلاقیات کی تشکیل  کا متحمل ہے، یہ اُم اخلاق ہیں۔ ان اساسی اخلاقیات کے نتیجہ میں ا ٹھارہ اخلاقیات پروان چڑھتی ہیں اور ان اخلاقیات کی ضد سے بچاؤ کا بھی  جذبہ پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ چار بنیادی اخلاقیات عبادات نماز، زکواۃ ، روزہ اور حج جیسےاعمال کےبار بار دُہرانے سے پیدا  ہو تے ہیں  ۔وہ  چا ر اخلاق درج ذ یل ہیں۔

۱:   طہارت            

۲:    اخبات              

۳:سماحت             

۴:    عدالت

ان اخلا ق کی تشکیل سے متعلق شاہ ولیؒ اللہ عمیق ا نتقا د پیش کرتے ہیں۔ تصوف(انسان کے باطنی قویٰ)اور

اعمالِ انسانی(شر یعت ) کی پیروی کی حقیقت پر بحث کرتے ہو ئے شا ہ ولیؒ اللہ لکھتے ہیں۔النظر الی الاعمال (ای) العبادات من حیث ایصالِها الی هیئات نفسانیة (18)

"احسان و سلوک اعمال سے اس حیثیت سے بحث کرنے کا نام ہے کہ وہ کیفیات نفسانیہ یعنی اخلاق و ملکات تک کس طرح مفضی ہوتے ہیں"۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے اختیار وارادہ سے کوئی اچھا یا بُرا کام کرتا ہے تو وجود میں آکر ختم نہیں ہوتا بلکہ اس کے نفس کے ساتھ وابستہ ہوجاتا ہے،  اندرون دل اس سے اثرپذ یر ہوجاتا ہے، یہی کیفیت نفسانیہ ہے، پھر جب تک وہ کیفیت عارضی ہوتی ہے تو یہ حال کہلاتی ہے اور جب وہ راسخ ہوجاتی ہے تو  ملکات بنتے ہیں۔صورت حال یہ ہے کہ اعمال و  عبادات  اورہیئات نفسانیہ میں ربط وارتباط ہوتا ہے، اعمال ہیئات نفسانی کو کُمک پہنچاتے ہیں اور وہی ہیئات نفسانیہ کی تشریح وترجمانی بھی کرتے ہیں کیونکہ اعمال ان اندرونی کیفیات کے پیکر اور صورتیں ہیں۔ بزبانِ شاہ ولیؒ اللہ اشباہ و تماثیل ہیں کیونکہ  آخرت میں جز او سزااعمال پر ہوگی مگر حقیقت میں مفید یا مضر ملکات حسنہ یا سیئہ دونوں ہوں گے۔یہ طے ہے کہ شارع نے اصالۃً و بالذات لوگوں کو اعمال ہی کا مکلف بنایا ہے  خواہ اعمال ا یجا بی  ہوں یا سلبی مگر مطلق یعنی ملکات سے قطع نظر کرتے ہوئے مکّلف نہیں بنایا بلکہ اس حیثیت سے مکّلف بنایا ہے کہ وہ اعمال انہی ہیئات نفسانیہ سے اُبھرتے اور وجود میں آتے ہیں مجردا ًنہیں اس لئے لوگ ثانوی درجے میں اس کے بھی مکّلف ہیں کہ وہ اچھے ملکات کی تحصیل کی سعی کریں اور بُرے ملکات سے اجتناب کریں۔

اعمال و عباداتِ انسانی اور ہیئات نفسانیہ کے بارے میں کچھ مزید تفصیل یہ ہے:اعمال کے سلسلے میں دیکھا گیا ہے کہ کن اعمال سے کون کونسے ملکات پیدا ہوتے ہیں؟ اعمال میں انضباط ہوں، ان میں مجبوریوں کے مواقع کی رعایت برتی گئی ہوں  جو مطلوبہ ہیئات نفسانیہ تک مفضی ہوں، اعمال ان اندرونی کیفیات کے پیکر اور صورتیں ہیں۔شارع  نے اصالۃً و باالذات لوگوں کو مکّلف بنایا ہے، تاہم ہیئاتِ نفسانی بھی مقصودہیں، لہذا کیفیت نفسانیہ اور اعمال دونوں مطلوب ہیں اگر اس امر کوایک مثال سے واضح کیا جا ئے تو مناسب ہوگا۔’’اخبات‘‘ ایک ملکہ ہے، اس کو نماز سے حاصل کیا جا سکتا ہے، لہذا اخبات کی حقیقت معلوم کرنا بھی ضروری ہے اور نماز کا عمل  جو اذکار، تلاوت ، مخصوص طرز یعنی رکوع و سجود پر مشتمل اعلیٰ درجہ کی بندگی ہے، سے متعلق جاننا بھی ضروری ہے۔ یہ بات و ثوق کو پہنچتی ہے کہ نماز کے عمل کو دہرانے سے ’’اخبات‘‘ کی کیفیتِ حال  پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح تمام احکام کے بارے میں یہ سمجھنا کہ اعمال وارکانِ اسلام بمنزل اسباب وآلات ’’Tools‘‘ کے ہیں، ان سے مقصود نفس کا علاج اور دیکھ بھال ہے، یہ اعمال کیسے انسان کے

باطن پر اثر انداز ہو تے ہیں؟ اعمال سے اصلاحِ باطن کیسے ممکن ہے؟ بطورِ مثال اس طرح سمجھا جاسکتا ہے، جس طرح طبیب مریض کا علاج کرتا ہے اور ان کے احوال کو سنوارتا ہے، اس طرح اعمال کے ذریعے انسان اپنی اصلاح کرتا رہتا ہے۔ جس شخص کوآلات و اسباب کی کماحقہ معرفت حاصل نہیں ہوتی وہ کبھی آلات کو اندھا دھند استعمال کرکے نقصان بھی اُٹھا سکتاہے ۔ معرفت کی اساس وجدان پر ہے، چونکہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام اپنے ذوق و وجدان سے اعمال اور ان کے نتیجہ میں حاصل ہونے والے باطنی کیفیات دونوں سے واقف تھےاس لئے  اُس وقت شریعت و طریقت کی تقسیم کا تصور ہی نہ تھا ، بعد کے ادوار میں ظاہری اعمال کا نام شریعت اور اس پر عمل کے نتیجہ میں باطنی کیفیات کا نام تصوف پڑ گیا، تصوف بھی کوئی خارجی چیز نہیں ،شریعت انسا نی اعماق میں اُ تر جائے  اور طبیعت کی روپ د ھار لےتو یہی طر یقت ہے۔ شاہ ولیؒ اللہ اعمال کے نتیجہ میں چارام الاخلاق یعنی طہارت اس کی ضد حدث، اخبات اس کی ضد استکبار، سماحت اس کی ضد خود غرضی اور عدالت اس کی ضد ظلم کی صفات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ چاراُم الاخلاق ہیں کیونکہ  دوسرے اخلاقیات ان سے ماخوذ ہیں۔ عبادات سے ان چاراُم الاخلاق کا حصول اور ان کی ضد سے اجتناب مقصود ہے۔ ان چاراُم الاخلاق ؛ یعنی طہارت ، اخبات، سماحت اور عدالت  پر متفرع دوسرے اخلاق درج ذیل ہیں:

نمبرشمار اخلاق حسنہ اخلاق سیئہ
1 اخلاص ولٰلھیت نام ونمود
۲ شکر ناشکری
۳ صبر جزع فزع
۴ قناعت حرص
۵ امانت داری خیانت
۶ صدق کذب
۷ سخاوت بخل
۸ محبت عداوت
۹ ایثار خودغرضی
۱۰ استغناء طمع
۱۱ تواضع وخاکساری غروروتکبر
۱۲ ایفائے عہد بد عہدی
۱۳ خوش کلامی فحش گوئی
۱۴ رحم دلی بے رحمی
۱۵ نرم مزاجی درشت خوئی
۱۶ عفودرگزر انتقام
۱۷ احسان وسلوک بدسلوکی
۱۸ انس و یگانگت بیگانگی
۱۹ توکل اسباب پرتکیہ
۲۰ کم سخنی دروغ گوئی

1.      اخلاق سیئہ میں نفرت ، بغض ، کینہ ، حسد ، بد گمانی ، چغل خوری ، غیبت ، بہتان، جلد بازی ، بے وقاری ، دورخاپن وغیرہ بھی شامل ہیں۔ (19)   سماحت جب انسانی فطرت بن جاتی ہے تو وہ اس کے خلاف کوئی کام نہیں کرتا ، اس صنف سے مزین ہونے کے نتیجہ میں انسان میں نفسانی سماحت ہی دوسری جُز  ہے جو عبادت بجا لانے سے اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے۔ سماحت عجز اور فروتنی کو کہتے ہیں، عجز انکساری کی خوبی اگر دولت وثروت والا اپنے اندر پیدا کرلے تو یہ سعادت مندی ہے اور قرب اِلٰہی کا موجب ہے۔سماحت کی خوبی انسان کے اندر اعتماد اورخودی کی کیفیت بڑھاتی ہے۔ یہ حصول علم میں معاون قدرہے۔عدالت کی سعادت کا تعلق انتظامی امور سے ہے، ان امور کو رضاء خداوندی کے مطابق انجام دیا جا نا چاہیے ، عدالت سے متعلق امور کا علم بذریعہ ملائکہ نزول کرتے ہیں، رب تعالیٰ اپنے پیغام کو پیغمبروں کے ذریعہ پہنچاتا ہے۔


خلاصہ بحث

خلاصہ یہ  ہے کہ انسانی نفسی  روح قابل اصلاح حقیقت ہے،اس کی تربییت سے انسان میں اندرونی مثبت تبدیلی آتی ہے، اسی مثبت تبد یلی کے مظاہر  انسانی جوارح اور رویوں میں کُھلے عام د یکھے جاسکتے ہیں۔نوع انسانی پر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے یہ احسان فرمایا کہ نمونہ کامل آنحضرت ﷺ کی شکل میں متشکل کیا تا کہ اپنے اخلاق  ان کے اعلیٰ اخلاق کود یکھ کر ٹھیک کر سکے۔  



حواشی وحوالہ جات

1: ابو عبداللہ الشیبانی، احمد بن حنبل، مسند:6/91، رقم، 24645، مؤسسۃ قرطبہ۔ القاہرہ۔

2: شاہ ولی اللہ (1703ء تا 1763ء ) مغل حکمرانوں کے زوال کے وقت شاہ ولی ؒاللہ نے مجدد کی حیثیت کے طور پر

کام کیا۔ انہوں نے مسلمانوں کے زوال کے اسباب پر بھی غور کیا اور مناسب علاج بھی تجو یز کیا ۔اُنہوں نے محسوس کیا کہ اسلامی معاشرے کا ہر فرد انفرادی طور پر  تز کیہ و تعمیر اخلاق کا محتاج ہے۔ آپ کے نزدیک  یہ امر مسلم تھا کہ اسلامی معاشرے کا وجود و بقا ایسے افراد پر منحصر ہے جو اخلاقی جدوجہد کرنے والے اور روحانی الذہن ہوں۔ ایسے مطلوبہ افراد صرف اسی صورت میں میسر آسکتے ہیں جب انسانی شعور انحراف کے تمام میلانات سے پاک ومنزہ ہو۔ جب تک نفس انسانی  منزہ نہ ہو اختلال و فساد   کے رفع ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ غیر مزکی نفس، انسان کو ہمیشہ بداعمالیوں پر اکساتا ہے۔ایسے حالات میں  شاہ ولیؒ اللہ نے نفسی اصلا ح کے لئے سائنسی خطوط پر مبنی نظریہ متعارف کیا ،اُن کا لکھناہے کہ انسا نی اخلاق نفسی کو  اصلاح کی راہ سے درست کیا جا سکتا ہے۔اس حوالہ سے  اُ نہوں نےفکر انگیز کتاب،الطاف القدس فی معرفۃ النفس لکھی۔اس کتاب کی اہم بحث انسانی وجود کے اندر متعدد لطا ئف ہیں ،ان کی تحر یک سے انسان ملکوتی صفات سے مزین ہو سکتا ہے

3: گیلانی،منا ظر احسن ،اخلاق و فلسفہ اخلاق ،طیب پبلشرز ،لاہور ،طبع پنجم ؁ ۲۰۰۰ ،ص۲۵۔

4: سیگمنٹ فرائڈ ، نظریہ تحلیل نفسی ، یونیورسٹی  بک سنٹر ،لاہور ، 1900ء، صفحہ ۸۰۔یہ تینوں اُونچے پائے کےماہر نفسیات ہیں۔سیگمنٹ فرائڈ نے انسانی اخلاقی تشکیل میں جنسی آزادی کو اساس بنایا۔وہ ایک جسمانی ڈاکٹر تھے اور اُن کا لکھنا ہے کہ خواتین کی اکثر بیماریاں ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہیں ۔

5: الافریقی، محمد بن مکرم  ابن منظور،لسان العرب،10/85، تحت مادہ خ ل ق، دار صادر۔بیروت۔

6: دہلوی،سید احمد،؛فر ہنگ آ صفیہ،2/203، 204، مطبع رفاہ  عام پریس، لاہور، مئی 1908ء۔

7: گیلانی ،سید مناظر احسن ، اخلا ق و علم الاخلاق، ص ۱۲۸۔

8:ابو القاسم الطبرانی، سلیمان بن احمد، الدعاء لطبرانی، 1/145، باب: القول عند الخروج من المنزل، دار الکتب العلمیۃ۔ بیروت، 1413ھ۔

9:   The contribution of Muslim scholars in the field of philosophy, Prof

Muhammad Saeed, Urdu Bazar, Lahor. Page 70-75

10: گیلانی ،سید مناظر احسن ، اخلا ق و علم الاخلاق، ص ۲۲۸۔

11: ا لغزالی،محمد بن محمد ،،احیاءعلوم الد ین،3/53، بیان حقیقۃ حسن الخلق وسوء الخلق، دار المعرفۃ۔ بیروت۔

12: ابو عبداللہ الشیبانی، ا حمد بن حنبل،مسند، 6/443، رقم، 27539، باب: ومن حدیث ابی الدرداء۔

13: دہلوی، شاہ و لی اللہ ، احمد بن عبدا لرحیم، حجۃ اللہ البالغۃ،1/54، اختلاف الناس في جبلتهم المستوجب لاختلاف أخلاقهم  وأعمالهم ومراتب كمالهم۔دار الکتب الحدیثۃ۔ قاہرہ۔

14: سورۃ الشمس: آیت ۷۔۸۔

15: بقراط،  تا ر یخ فلاسفہ   یونان میں بقراط کو  فلسفہ تشکیل اخلاقیات میں ممتاز مقام حاصل ہےحتٰی کہ ارسطو  نے سعید انسان کی پانچ قسمیں بنائیں ہیں،اورابن مسکویہ  کی اپنی تصنیف "تہذ یب اخلاق "کی نہج پر  اخلاقی تعمیرکے بارے میں اُصولی بحث کی ہے۔ارسطو کی نظر میں سعادت کی پانچ قسمیں ہیں۔پہلی سعادت بدن ِ انسان سے متعلق ہے۔دوسری سعادت کسبِ مال سے ہے تاکہ اصحاب حاجات اُن سے اچھے مراسم رکھیں۔تیسری سعادت خود ان کے اخلاقی روئیے  ہیں۔چوتھی قسم کی سعادت  مذکورہ بالا  سعادتوں کے بارے میں اُن کاعزم و پختہ ارادہ ہے،جس کی وجہ سے ایک شخص  متوازن انسان بنتاہے۔پانچویں سعادت دین دنیا کے معاملہ میں سلامت فکر کا حامل ہونا۔ بقراط اور ارسطو کے فلسفہ تشکیل اخلاقیات میں تقریبا یکسانیت  پائی جاتی ہے۔( آس والڈ کلپے، فلسفہ کیا ہے؟، ص 221، مترجم، مرزا ہادی، سٹی بک پوائنٹ، کراچی، 2014ء)۔

16: ا لغزالی،محمد بن محمد ،،کیمیائے سعادت، بشیر سنز، لاہور ۱۹۹۳؁ ، ص412، 414۔

17: دہلوی، شاہ و لی اللہ ، احمد بن عبدا لرحیم، حجۃ اللہ البالغہ:1/55۔

18: ایضاً، 1/56۔

19: پالن پوری سعید احمد ، شارح، حجتہ  اللہ البالغۃ  بنام رحمۃ اللہ الواسعہ، ج ۴،  زم زم پبلیشرز ۲۰۰۵؁، کراچی۔