Playstore.png

مولانا محمد ادریس کاندھلوی کی تفسیر "معارف القرآن" کی "سورۃ الاحزاب" میں واقع چند ضعیف و موضوع روایات

From Religion
Jump to navigation Jump to search

Warning: Page language "ur" overrides earlier page language "".

کتابیات
مجلہ برجس
عنوان مولانا محمد ادریس کاندھلوی کی تفسیر "معارف القرآن" کی "سورۃ الاحزاب" میں واقع چند ضعیف و موضوع روایات کا علمی جائزہ
انگریزی عنوان
Academic Study of Some Weak and Fake Narrations in Surah “Al- Ahzab” Mentioned in Kandehlavi Tafseer
مصنف علی، گلزار، استراج خان
جلد 1
شمارہ 1
سال 2015
صفحات 27-40
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Hadith Modhog, Narrators, Modhog traditions
شکاگو 16 علی، گلزار، استراج خان۔ "مولانا محمد ادریس کاندھلوی کی تفسیر "معارف القرآن" کی "سورۃ الاحزاب" میں واقع چند ضعیف و موضوع روایات کا علمی جائزہ۔" برجس 1, شمارہ۔ 1 (2015)۔

Abstract

In Sciences of Hadith Modhog") refer to the narrations originating from some narrators by self or from those narrators who had been found,with solid arguments, telling a lie rather than from other well-accepted sources that quote the prophet Muhammad (SAWS),his Sahaba or Tabieen. These wrongly attributed "traditions" got mingled with the Islamic Literature from various sources and the people used to quote them from one another without being properly probed and analyzed. During the era of the compilation of tafa'asir of the Holy Quran, some Arabic commentators mistakenly quoted those traditions in their respective tafa'asir. Many tafa'asirs contain a large number of such traditions.Some Urdu tafa'asirs relied upon Arabic tafa'asirs without analyzing those traditions and quoted them. Tafsir Maarif ul Quran is also one of those referred tafa'asirs. It is a need of the day that the research scholars in Islamic Studies should focus on this issue and all these tafa'asirs should be carefully analyzed and made free from baseless "Modhug Traditions". This research effort is an attempt to give a base for analyzing such traditions and to protect Islamic literature from the Modhog traditions ۔

مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔ مولانا نے اپنے علمی وتحقیقی مباحث کی بنیاد پر ہندوستان میں تفسیر کے میدان میں ایسی تفسیری خدمت سرانجام دی ہے جو کہ نہ صرف عوام بلکہ  علماء بھی ان کی تفسیر سے استفادہ کرتے ہیں۔ چونکہ مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ نے اپنی تفسیر میں احادیث کا بہت بڑا ذخیرہ جمع کیا ہے جس کی وجہ سے اگر اس تفسیر کو تفسیر بالماثور کے زمرہ میں شامل کردیا جائے تو یہ بات بڑی حد تک صحیح ثابت ہو سکتی ہے، لیکن مولانا موصوف نے چند تفاسیر پر اعتماد کرکے ان کے ذکر کردہ احادیث جمع کیے ہیں جس کی وجہ سے ان کی تفسیر میں ضعیف احادیث کا ایک بڑا ذخیرہ اور چند موضوع روایات بھی جمع ہوگئے ہیں اور مولانا صاحب نے بھی اس طرف التفات نہیں کیا ہے۔ اس مقالہ میں ان احادیث میں سے "سورۃ الاحزاب" کی چند روایات کا جائزہ پیش کیا جائے گا ، جس کا طریقہ کار مندرجہ ذیل ہوگا:

۱: مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کی ذکرکردہ نص حدیث کو پیش کیا جائےگا۔

۲: اس حدیث کی تخریج کی جائے گی۔

۳: آخر میں حدیث پر تحقیقی بحث کی جائے گی یعنی یہ واضح کیا جائے گا کہ حدیث کس بنیاد پر ضعیف یا موضوع ہے۔

اس مقالے کے لکھنے کا مقصد یہی ہے کہ اس کو بنیاد بنا کر محققین اس تفسیر کی تخریج وتحقیق پر قلم اٹھا کر اس کے ضعیف احادیث کو صحیح سے الگ کردیں تاکہ "تفسیر معارف القرآن" سے استفادہ کرتے وقت عوام ان ضعیف احادیث کی وجہ سے فتنہ میں پڑنے سے محفوظ رہیں۔

تفسیر معارف القرآن کا تعارف:

ہندوستان میں تفسیر معارف القرآن کے نام پر دو تفاسیر مشہور ہیں۔ ان میں ایک مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کی تفسیر ہے۔ یہ تفسیر آٹھ ضخیم جلدوں میں شائع ہوچکی ہے۔ مولانا ادریس کاندھلویؒ نے ۱۹۶۲ء میں اس تفسیر کا آغاز کیا اور ابھی "سورۃ الصافات" کے اختتام تک پہنچے تھے کہ داعئی اجل نے لبیک کہا۔ پھر "سورۃ ص" سے آخر تک بطور تکملہ آپؒ کے فرزند ارجمند مولانا مالک کاندھلویؒ نے تحریر فرمائی۔ دراصل یہ تفسیر مولانا شاہ عبد القادرؒ کی تفسیر "موضح القرآن" کی تشریح ہے۔

آپؒ قرآن کریم کا لفظی ترجمہ کرتے ہیں جس کے بعد بامحاورہ ترجمہ ذکر کرتے ہیں، لیکن اس میں عنوان دے کر اور کبھی بغیر عنوان دیئے ہوئے ان آیات کی تفسیر بھی کردیتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ اور سلف صالحینؒ کی تفاسیر سے زیادہ استفادہ کرتے ہیں۔ چنانچہ اس تفسیر میں زیادہ احادیث ذکر کیے گئے ہیں ۔ تفسیر قرطبی اور تفسیر ابن کثیر سے زیادہ استفادہ کرتے ہیں۔ جدید مباحث اور عقلی نکات ذکر کرتے ہیں۔ نظم قرآن اور اسباب نزول کے مباحث کو بھی نظر انداز نہیں کرتے۔ ربط بین الآیات والسور کے بیان کا خاص التزام کرتے ہیں۔ فقہی اور کلامی مسائل ضرورت سمجھنے کے وقت ذکر کرتے ہیں۔ بلاغت وفصاحت سے متعلق قرآن کریم کے نکات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

ان تمام خوبیوں کے حامل ہونے کے ساتھ تفسیر "معارف القرآن" کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ایک عام فہم اور آسان تفسیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں یہ ہر خاص وعام کے ہاتھ میں متداول ہے۔ عام لوگوں کے ساتھ ساتھ طلباء کرام اور علماء بھی اس تفسیر سے استفادہ کرکے قرآن کریم کے نکات کو سمجھنے میں اس سے مدد لیتے ہیں۔

مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کا تعارف:

شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ ان علمائے حق میں سے تھے جن کا علم وفضل، زہد وتقوی اور خلوص وللّٰہیت ایک امر مسلمہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ ایک بلند پایہ علمی خاندان سے تعلق رکھتے تھےاور سلسلہ نسب سیدنا ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔ آپ کا آبائی وطن یوپی کا مردم خیز علاقہ قصبہ کاندھلہ ضلع مظفر نگر ہے۔ آپؒ کے والد ماجد حافظ محمد اسماعیل صاحب ایک ممتاز عالم دین اور صاحب نسبت بزرگ تھے اور شیخ المشائخ حاجی امداد اللہ تھانویؒ مہاجر مکی قدس سرہ سے بیعت کئے ہوئے تھے۔ آپؒ ۱۲ ربیع الثانی ۱۳۱۷ھ بمطابق ۱۹۰۰ء میں بھوپال میں پیدا ہوئے۔ آپؒ کے والد محکمہ جنگلات کے آفیسر تھے۔ نو سال کی عمر میں اپنے والد ماجد سے قرآن مجید حفظ کیا۔ پھر آپؒ نے ابتدائی تعلیم حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے مدرسہ اشرفیہ سے حاصل کی ۔ آپؒ نے مولانا خلیل الرحمن سہارنپوریؒ، مولانا حافظ عبد اللطیفؒ، مولانا ثابت علی صاحبؒ اور مولانا ظفر احمد عثمانیؒ جیسے اکابر سے استفادہ کیا۔ انیس برس کی عمر میں دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے اور مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ، شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، مفتی عزیر الرحمنؒ، مولانا حبیب الرحمنؒ اور مولانا سید اصغر حسینؒ سے استفادہ کرکے دو مرتبہ دورہ حدیث سے فراغت حاصل کی۔ 

۱۹۲۱ء میں مدرسہ امینیہ میں کچھ عرصہ درس کی خدمت انجام دے کر واپس دیوبند چل کر درس کی خدمت انجام دیتے رہیں۔ پھر حیدر آباد دکن چلے گئےاور وہاں پر ۹ برس قیام کیا۔ آپؒ نے وہاں پر قیام کے دوران "التعلیق الصبیح شرح مشکوۃ المصابیح" لکھی۔

آپؒ نے مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا اور قیمتی کتابیں تحریر کیں جن میں "تفسیر معارف القرآن" بھی شامل ہے۔ ۷ رجب المرجب ۱۳۹۴ھ بمطابق ۲۸ جولائی ۱۹۷۴ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے [1]۔

مولانا محمد مالک کاندھلویؒ کا تعارف:

مولانا محمد مالک کاندھلویؒ ہندوستان کے صوبہ یوپی کے قصبہ کاندھلہ میں ۱۹۲۵ء کو پیدا ہوئے۔ دارالعلوم مظاہر العلوم سہارنپور، دارالعلوم دیوبند اور جامعہ علوم اسلامیہ ڈابھیل میں علوم کی تکمیل کی اور ان ہی جامعات میں مختلف علوم وفنون کی تکمیل کی۔ اپنے والد مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کی وفات کے بعد جامعہ اشرفیہ لاہور میں اپنے والد کی مسند تدریس سنبھال لی۔ آپؒ معقولات اور منقولات دونوں کے جامع عالم تھے۔ مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا اور نادر شذرے تحریر کیے جن میں معارف القرآن کا تکملہ بھی شامل ہے۔ ۸ ربیع الاول ۱۴۰۹ھ بمطابق ۲۱ اکتوبر ۱۹۸۸ء کو رحلت فرمائی[2]۔ 

ضعیف اور موضوع روایت کی تعریف اور حکم:

ضعیف حدیث: ضعیف حدیث کی تعریف میں امام سیوطیؒ فرماتے ہیں:

"وهو ما لَم یَجمع صِفةً الصَّحیحِ أوِ الحَسنِ"[3]

"ضعیف حدیث وہ ہے جس میں حدیث صحیح اور حدیث حسن کے صفات نہ پائے جائیں"

امام سیوطیؒ فرماتے ہیں کہ امام ابن دقیق العیدؒ نے ضعیف حدیث کی تعریف میں صحیح حدیث کا ذکر نہیں کیا ہے، کیونکہ جو حدیث حسن کے مرتبہ سے گر جائے تو وہ صحیح کے مرتبہ سے بھی گر جاتاہے، لیکن امام ابن الصلاحؒ نے اس کی تعریف میں صحیح حدیث کا ذکر کیا ہے۔

===ضعیف حدیث کے اقسام:=== امام ابن حبانؒ نے ضعیف حدیث کے ۱۴۹ اقسام، امام ابن الصلاحؒ نے ۴۲ اور قاضی القضاۃ شرف الدین نوویؒ نے ۱۲۹ اقسام ذکر کیے ہیں[4]۔

مگر شیخ الاسلام حافظ ابن حجرؒ نے اس پر رد کرکے فرمایا ہے:"اِنّ ذٰلک تعبٌ لیسَ وراءَه أربٌ"[5]۔

"یہ بلاوجہ تھکاوٹ ہے اور اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے"

==اسباب رد: اسباب رد کے بارے میں حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں:

"ومُوجَب الرَّدِ اِماأن یَّکونَ لسقطٍ فِی اِسنَادٍ أو طعنٍ فِی راوٍ"[6]۔

"رد کے اسباب یہ ہیں کہ اسناد سے کوئی راوی ساقط ہوجائے یا کسی راوی میں طعن پایا جائے"

اسناد میں کسی راوی کے ہوتے ہوئے بھی اس کا ذکر نہ کرنے کو سقط کہتے ہیں جب کہ طعن راوی میں کسی ایسے عیب کو کہتے ہیں جو حدیث کی قبولیت کے لیے مانع ہو۔

موضوع روایت: موضوع روایت کے بارے میں حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں:

"وھُو الطَّعنُ بکِذبِ الرَّاوی فِی الحَدیثِ النَّبوِی"[7]۔

"موضوع  یہ ہے کہ حدیث نبوی میں کسی راوی کے جھوٹ بولنے کا عیب پایا جائے"

امام سیوطیؒ فرماتے ہیں:

"ھُو المُختلقُ المَصنُوعُ"[8] یعنی "جو من گھڑت اور خود ساختہ ہو"۔

حدیث پر وضع کا حکم:

۱: موضوع روایت پر وضع کا حکم کسی راوی کے متعلق ظن غالب سے لگایا جاتاہےکیونکہ کبھی کبھار جھوٹ کا عادی بھی سچ بولتاہے۔

۲: اگر راوی خود اقرار کرلے تو اس صورت میں بھی اس روایت  پر وضع کا حکم لگایا جائے گا اگر چہ راوی اپنے اقرار میں جھوٹا کیوں نہ ہو[9]۔

۳: راوی یا حدیث میں کوئی ایسا قرینہ مل جائے جو وضع پر دلالت کرتاہو[10]۔

موضوع  روایت کا حکم:

امام سیوطیؒ فرماتے ہیں کہ موضوع روایت کو نقل کرنا باتفاق محدثین اور فقہاء حرام ہےالبتہ اگر اس نیت سے موضوع روایت نقل کرے تاکہ لوگوں پر واضح کردے کہ یہ روایت موضوع ہے تو اس صورت میں نقل کرنا حرام نہیں ہوگا [11]۔

موضوع روایت کے نقل کرنے کی حرمت کی وجہ نبی کریمﷺ کا یہ فرمان ہے:

"مَن کذَبَ علیَّ مُتعمِّدًا فَلیتَبوَّأ مقعَدہٗ مِن النَّارِ"[12]۔

"جو شخص مجھ پرقصداً جھوٹ بولے تو جہنم میں اپنے لئےٹھکانہ تیار کرلے"

متکلم فیہ احادیث سورۃ الاحزاب:

حدیث1: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بر سر منبر یہ آیت پڑھی اور فرمایا کہ آنحضرتﷺنے اپنے عہد مبارک میں رجم کیا اور ہم نے بھی آپﷺ کے بعد ایسے زانی اور زانیہ کا رجم کیا پر مجھے خوف ہے کہ جب لوگوں پر زمانہ دراز گزر جائے تو کہنے والا یہ نہ کہنے لگے کہ ہم کتاب الٰہی میں آیت الرجم نہیں پاتے اور پھر اللہ تعالیٰ کے اس فریضہ کے (یعنی رجم کے حکم قطعی کے) چھوڑنے سے گمراہ ہوجائیں[13]۔

متن حدیث: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ عُمَرُ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَطُولَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ حَتَّى يَقُولَ قَائِلٌ لاَ نَجِدُ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللهِ فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ أَلاَ وَإِنَّ الرَّجْمَ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى وَقَدْ أَحْصَنَ إِذَا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ، أَوْ كَانَ الْحَمْلُ، أَوْ الاِعْتِرَافُ- قَالَ سُفْيَانُ كَذَا حَفِظْتُ - أَلاَ وَقَدْ رَجَمَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ[14]"

حکم حدیث: یہ روایت صحیح ہے۔ اسے امام بخاریؒ اور سنن نسائیؒ کبرٰی دونوں نے ذکر کیا ہے لیکن اس روایت کے ذکر کرنے سے ایک اہم بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے اور وہ یہ کہ:

صحیح بخاری کی روایت اور سنن کبرٰی کی روایت کے متون ایک جیسے ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ سنن کبرٰی کی روایت میں آیت:﴿ألشيخ والشيخة إذا زنيت فارجموهما البتة﴾ذکر کردیا گیا ہے جب کہ امام بخاریؒ نے اس آیت کو ذکر نہیں کیا ہے۔

حافظ ابن حجرؒ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ولعلَّ البُخارِی هوَ الَّذِی حذفَ ذٰلک عمدًا" یعنی "امام بخاریؒ نے آیت کو قصداً حذف کیا ہے۔"

پھر اس کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ امام نسائی ؒ سفیان کی روایت کو ذکر کرنے کےبعد فرماتے ہیں: لاأعلمُ أنَّ أحدًا ذکرَ فِی هذا الحدِیثِ: ﴿ ألشيخ والشيخة إذا زنيت فارجموهما البتة ﴾غیرُ سفیانَ، ویَنبَغِی أن یَّکون وهِمَ والله أعلم"۔

"میں سفیان کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا جس نے اس حدیث میں : ﴿ ألشيخ والشيخة إذا زنيت فارجموهما البتة﴾ ذکر کیا ہو۔ مناسب یہی معلوم ہوتاہے کہ ان کو وہم ہوا ہے"۔

حافظ ابن حجرعسقلانیؒ امام نسائیؒ کے ذکر کردہ قول نقل کرنے کے بعد اس کی تائید میں فرماتے ہیں:

"وقَد أخرجَ الأَئِمَّةَ هذا الحدِیثَ مِن روایَةِ مالکٍ ویونُسَ ومَعمرٍ وصالحِ بنِ کیسانَ وعقیلٍ وغیرِهم مِّن الحفَّاظِ عنِ الزُّهرِی فلَم یَذکرُوهَا[15]"

"ائمہ نے اس حدیث کو مالک، یونس، معمر، صالح بن کیسان اور عقیل وغیرہ جیسے حفاظ کے واسطے سے زہری سے نقل کیا ہے ، مگر اس (آیت) کو ذکر نہیں کیا ہے"۔

اس روایت کے  نقل کرنے کا مقصد یہی ہے کہ صرف سفیانؒ کے نقل کرنے سے : ﴿ ألشيخ والشيخة إذا زنيت فارجموهما البتة﴾ قرآن کی آیت نہیں بن سکتی، کیونکہ قرآن کے ثبوت کے لیے تواتر ضروری ہے۔ حافظ ابن حجرؒ کی تائید کا مقصد بھی یہی ہے۔

خلاصہ یہ ہواکہ یہ روایت صحیح بخاری اور سنن کبری نسائی و بیہقی دونوں میں منقول ہے۔ صحیح بخاری کی روایت باقی روایات کی طرح صحت کے اعلی معیار پر ہے لیکن سنن کبرٰی نسائی و بیہقی کی روایت موہوم ہے۔اس کی وجہ حافظ ابن حجرؒ نے یہ بیان کی ہے کہ یہ روایت مالک، یونس، معمر، صالح بن کیسان اور عقیل جیسے حفاظ سے منقول ہے لیکن ان کی روایات میں ﴿ألشيخ والشيخة إذا زنيت فارجموهما البتة﴾ کے الفاظ موجود نہیں ہیں۔ ان کے مقابلے میں صرف سفیان ایسا راوی ہے جس نے اس روایت میں ان الفاظ کا ذکر کیا ہے۔ امام نسائیؒ فرماتے ہیں کہ ان سے وہم ہوا ہےاور بقول حافظ ابن حجرؒ شاید یہی وجہ ہے کہ امام بخاریؒ نے اگر چہ یہ روایت بواسطہ سفیان نقل کی ہے لیکن اس میں ان الفاظ کا ذکر نہیں کیا ہے۔

چونکہ مولانا ادریس کاندھلویؒ نے سنن کبرٰی کی روایت ذکر کی ہے کیونکہ اس میں ﴿ ألشيخ والشيخة إذا زنيت فارجموهما البتة﴾ کے الفاظ ذکر کیے ہیں، لہذا اس روایت سے بحث کرنے کی ضرورت سمجھی گئی۔

وجہ استدلال مولانا کاندھلویؒ: مولانا کاندھلویؒ نے یہ روایت اس تسلسل میں ذکر کی ہے کہ سورۃ الاحزاب ابتداء میں قریب قریب سورۃ البقرہ کی تھی جس میں یہ آیت بھی شامل تھی لیکن اللہ نے اس سورت سے جس قدر حصہ چاہا  اٹھا لیا۔

حدیث2: سیدنا ابو سفیان بن حرب اور سیدنا عکرمہ بن ابی جہل اور ابو اعور عمرو بن سفیان سلمی یہ لوگ مکہ سے چل کر مدینہ آئے اور رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی بن سلول کے یہاں ٹھہرے اور گفتگو کے لیے نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بھی آپﷺ کی خدمت میں موجود تھے۔ ان لوگوں نے حاضر ہوکر نبی کریمﷺ سے کہا کہ آپ ہمارے معبودوں کو برا بھلا نہ کہیے ہم آپ کو آپ کے رب کے متعلق کچھ نہ کہیں گے۔ آنحضرتﷺ کو ان لوگوں کی یہ بات نہایت شاق گزری۔ سیدنا عمرؓ نے یہ دیکھ کر عرض کیا کہ حکم دیجیے کہ ان کو قتل کردیا جائے۔ آپﷺ نے فرمایا: ان کو امان دے رکھی ہے۔ اس کے بعد آنحضرتﷺ نے حکم دیا کہ ان کو مدینہ سے نکال دیا جائے چنانچہ وہ نکال دیے گئے۔ اس موقعہ پر مذکورہ بالا آیتیں نازل ہوئیں[16]۔ "

متن حدیث: نزَلت فِی أبِی سفیانَ بنِ حربٍ وعکرَمة بنِ أبِی جهلٍ وأبِی الأَعورِ عمرِو بنِ سفیانَ، نزَلُوا المَدِینة علٰی عبدِ اللّه بنِ أُبیِّ بنِ سلولَ رأسِ المُنافِقینَ بعد أحدٍ، وقَد أعطاهم النَّبِیﷺ الأَمانَ علٰی أن یُّکلِّموهُ، فقامَ معهم عبدُ الله بنُ سعدِ بنِ أبِی سرحٍ وطُعمة بنُ أبیرقٍ، فقالُوا للنَّبِی ﷺ وعندہٗ عمرُ بنُ الخطابِ: اِرفض ذِکرَ الهَتِنا اللاتَ والعزّٰی ومناة، وقُل: اِنَّ لها شفاعةً ومنَعةَ لِمن عبدها، وندَعُک وربَّک، فشقَّ علَی النَّبِیﷺ ما قَالُوا، فقالَ عمرُ: یا رسولَ الله! اِءذَن لِّی فِی قتلهم، فقالَ النَّبِیﷺ: اِنِّی أعطیتهم الأَمانَ، فقالَ عمرُ: أُخرجُوا فِی لعنة الله وغضَبِه، فأمرَ النَّبِیﷺ أن یَّخرُجوا مِن المدِینةِ فنزَلتِ الآية: ﴿یٰأَیُّها النَّبِیُّ اتَّقِ الله َ﴾"[17]۔

حکم حدیث: یہ روایت امام ماوردیؒ اور امام قرطبی ؒ نے اپنی تفاسیر میں ذکر کی ہے لیکن دونوں نے اس کی کوئی سند ذکر نہیں کی ہے اور تلاش بسیار کے باوجود حدیث کی کتابوں میں  ایسی کوئی روایت نہیں ملی۔

وجہ استدلال مولانا کاندھلویؒ: مولانا کاندھلویؒ نے یہ روایت آیت: ﴿یٰأَیُّها النَّبِیُّ اتَّقِ الله َ وَلا تُطِعِ الکَافِرِینَ وَالمُنَافِقِینَ اِنَّ اللهَ کَانَ عَلِیمًا حَکِیمًا[18]﴾ کے لیے بطور شان نزول ذکر کی ہے۔

حدیث3: طلبُ العلمِ فریضةٌ علٰی کلِّ مسلمٍ ومسلمةٍ" یعنی علم کی طلب ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے"[19]۔

متن حدیث: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَليْهِ وسَلَّمَ: طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، وَوَاضِعُ الْعِلْمِ عِنْدَ غَيْرِ أَهْلِهِ كَمُقَلِّدِ الْخَنَازِيرِ الْجَوْهَرَ وَاللُّؤْلُؤَ وَالذَّهَبَ[20]"

حکم حدیث: امام ابن عراق کنانیؒ نے اس روایت کو ضعیف کہا ہے[21]۔

امام پٹنیؒ نے اس روایت پر طویل بحث کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے یہ روایت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کئی طرق سے منقول ہے جو کہ تمام کے تمام معلول اور ضعیف ہیں لیکن اس کے باوجود امام بیہقیؒ نے فرمایا ہے کہ اس روایت کی متن مشہور ہے اگر چہ سند ضعیف ہے۔ امام عراقیؒ فرماتے ہیں کہ بعض ائمہ نے اس حدیث کے بعض طرق کی تصحیح کی ہے۔

امام پٹنیؒ نے اس حدیث کے متعلق امام مزنیؒ کا قول نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں :  کہ کثرت طرق کی بناء پر یہ روایت حسن ہے۔ پھر فرمایا ہے کہ بعض مصنفین نے اس روایت کے آخر میں "ومسلمۃ" کا لفظ بڑھایا ہےلیکن اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا[22]۔

امام پٹنیؒ نے بھی اس حدیث کو حسن کہا ہے۔

خلاصہ یہ ہوا کہ یہ روایت حسن ہے لیکن یہاں پر اس کے ذکر کرنے کا مقصد یہی ہے کہ اس میں بعض لوگ " ومسلمۃ" کا لفظ بڑھاتے ہیں جس کا کوئی ثبوت نہیں ہےجیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا۔

وجہ استدلال مولانا کاندھلویؒ: مولانا کاندھلویؒ نے یہ روایت مخالفین پردہ کے دلائل میں ذکر کی ہے جو کہتے ہیں کہ پردہ علم کے حصول میں مانع ہے، حالانکہ اس روایت کی رو سے علم کا حصول مرد وزن دونوں پر فرض ہے۔ ان متمدنین کے نزدیک مذکورہ روایت  میں علم سے مراد علم دنیوی ہے۔ مولانا نے اس کے بعد وہ دلائل ذکر کیے ہیں جن سے ثابت ہوتاہے کہ مذکورہ روایت میں علم سے مراد علم اخروی ہے۔

حدیث4: اگر میرا فرزند ابراہیم رضی اللہ عنہ زندہ رہتا تو نبی اور صدیق ہوتا[23]۔

متن حدیث: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ  ابْنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَليْهِ وسَلَّمَ، صَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَليْهِ وسَلَّمَ، وَقَالَ: إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ، وَلَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا، وَلَوْ عَاشَ لَعَتَقَتْ أَخْوَالُهُ الْقِبْطُ، وَمَا اسْتُرِقَّ قِبْطِيٌّ"[24]۔

حکم حدیث: اس روایت میں ابراہیم بن عثمان ضعیف ہے، چنانچہ ان کے بارے میں امام یحیی بن معینؒ نے ضعیف، امام ترمذیؒ نے منکر الحدیث اور امام نسائی ؒ نے متروک الحدیث کہا ہے[25]۔

علامہ البانی اس روایت کی تحقیق میں لکھتے ہیں کہ یہ جملہ: اگرابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے" مرفوع حدیث کے طور پر ثابت نہیں ہے البتہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے قول کے طور پر صحیح ہے۔

مزید لکھتے ہیں کہ مذکورہ روایت اس جملے: وَلَوْ عَاشَ لَعَتَقَتْ أَخْوَالُهُ الْقِبْطُ، وَمَا اسْتُرِقَّ قِبْطِيٌّ" کے سوا صحیح ہے۔ نیز دکتور بشار عواد معروف نے بھی اس روایت کو آخری جملے: لَعَتَقَتْ أَخْوَالُهُ" کے سوا صحیح قرار دیا ہے۔

تفصیل کے لیے دیکھیے:[سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ۱: ۳۸۷، ۳۸۸، حدیث: ۲۲۰، وصحیح سنن ابن ماجہ: ۱۲۳۶، وسنن ابن ماجہ محقق للدکتور بشار عواد معروف: ۱۵۱۱]

وجہ استدلال مولانا کاندھلویؒ: مولانا نے یہ روایت ختم نبوت کے تسلسل میں ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ جس طرح سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے متعلق احادیث فرض وتقدیر پر محمول ہیں یعنی اگر بالفرض وتقدیر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو یہ لوگ ہوتے لیکن میرے بعد کسی نبی کا امکان نہیں ہے۔ بالکل اسی طرح سیدنا ابراہیمؓ کے متعلق یہ روایت بھی فرض وتقدیر پر محمول ہے۔

حدیث5: عادل بادشاہ کو ظل اللہ کہا گیا [26]۔

متن حدیث: حَدَّثنا عَبد الله بن أحمد، حَدَّثنا أَبُو اليمان الحكم بن نافع، حَدَّثنا أَبُو المهدي سَعِيد بن سنان، عَن أبي الزاهرية، عَن كثير بن مرة، عَن ابن عُمَر، عَن النَّبِيّ صَلَّى الله عَلَيه وَسَلَّم قال: السلطان ظل الله في الأرض يأوي إليه كل مظلوم من عباده۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"[27]۔

حکم حدیث: مذکورہ الفاظ مسند بزار کے ہیں۔ اس روایت میں ابو مہدی سعید بن سنانؒ ضعیف ہے، چنانچہ ان کو امام ابو حاتمؒ نے ضعیف الحدیث، امام بخاریؒ نے منکر الحدیث، اور امام نسائیؒ نے متروک  الحدیث کہا ہے[28]۔

امام ذہبیؒ نے ان کے کئی احادیث جن میں مذکورہ روایت بھی شامل ہے، ذکر کرکے فرمایا ہے:

"ولأَبِی مھدیٍّ أحادیثُ کثِیرۃٌ وھو بیِّنُ الضَّعفِ"[29]۔

"ابو مہدی سے کئی احادیث منقول ہیں البتہ ان کا ضعف ظاہر ہے"۔

امام ابن عدیؒ فرماتے ہیں: عام طور پر اس کے احادیث محفوظ نہیں ہیں خاص کر وہ جو ابوالزاہریہ کے واسطے سے منقول ہیں"[30]۔

سنن کبرٰی نے اس روایت کو ان الفاظ سے نقل کیا ہے:

" اِذا مررتَ ببَلدةٍ لیسَ فيها سلطانٌ فلا تدخُلها، اِنما السُّلطانُ ظلُّ اللهِ فِی الأَرضِ ورُمحهُ[31]۔

یہ روایت بھی ضعیف ہے کیونکہ اس کےراوی ربیع بن صبیح کو امام ابن معینؒ اور امام نسائیؒ نے ضعیف قرار دیا ہے[32]۔

حافظ سخاویؒ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دے کر فرمایا ہے: اس باب میں سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا ا بن عمر، سیدنا ابوبکرہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم اور کئی دوسرے حضرات سے روایت منقول ہے[33]۔"

شیخ مناویؒ اس روایت کے ثبوت کی طرف مائل ہیں، چنانچہ انہوں نے مذکورہ طرق والے روایات کو ذکر کرکے ان تمام کو ضعیف کہا ہے، البتہ سنن کبرٰی کی روایت کے بارے میں فرمایا ہے: ضعفهُ السخاوِی لٰکن لهُ شاهدٌ"یعنی" اگر چہ امام سخاویؒ نے اس کو ضعیف کہا ہے لیکن اس کا شاہد موجود ہے[34]۔"

شیخ مناویؒ کی بات اس لیے وزنی نہیں ہے کہ انہوں اس روایت کے شاہد کے وجود کا دعوی تو کیا ہے لیکن اس کو ذکر نہیں کیا ہے۔

وجہ استدلال مولانا کاندھلویؒ: مرزا قادیانی نے خود کو ظل کہا ہے اور اس سے استدلال کیا ہے کہ سایہ ذی سایہ کا عین ہوتا ہے۔ مولانا نے ان کے اس استدلال پر رد کیا ہے۔ پھر فرمایا ہے کہ اگر ظل سے مراد یہ ہے کہ ذی ظل کی کوئی صفت اس میں آجائے تو اس سے بھی عینیت ثابت نہیں ہوتی، جس طرح حدیث میں شاہ عادل کو ظل اللہ کہا گیا ہے لیکن اس سے شاہ عادل کی الوہیت ثابت نہیں ہوتی۔

حدیث 6: میری امت کے علماء انبیاء بنی اسرائیل کے مشابہ ہیں[35]۔

متن حدیث: علماء أمتي كأنبياء بني إسرائيل"

حکم حدیث: یہ روایت موضوع ہے۔

کیونکہ اس روایت کے بارے میں امام زرکشیؒ فرماتے ہیں: لا أصلَ لہٗ[36]" یعنی "اس کی کوئی اصل اور بنیاد موجود نہیں ہے۔"

حافظ سخاویؒ فرماتے ہیں: قالَ شیخُنا ومِن قبلهِ الدِّمیریُّ والزَّرکشِی: اِنهُ لا أصلَ لهُ، زادَ بعضُهم: ولایُعرَف فِی کتابٍ مُّعتبرٍ[37]۔

"میرے شیخ [حافظ ابن حجرؒ]، ان سے پہلے امام دمیریؒ اور امام زرکشیؒ نے فرمایا ہے: اس روایت کی کوئی اصل موجود نہیں ہے اور بعض [محدثین] نے مزید کہا ہے: نہ کسی معتبر کتاب میں منقول ہے۔"

امام عجلونیؒ فرماتے ہیں: قال السیوطی فی الدُّرر: لاأصلَ لہٗ[38]

"امام سیوطیؒ نے "الدرر" میں فرمایا ہے: اس کی کوئی اصل موجود نہیں ہے۔"

ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں: لاأصلَ لہٗ[39]" یعنی "اس کی کوئی اصل موجود نہیں ہے۔"

محمد بن درویش حوتؒ فرماتے ہیں: موضوعٌ لا أصلَ لهُ، کما قالهُ غیرُ واحدٍ، ویذکرهُ کثِیرٌ مِّن العلمَاءِ فِی کتُبِهم غفلةً عن قولِ الحفَّاظِ[40]"

"یہ روایت موضوع ہے اور اس کی کوئی اصل موجود نہیں ہے جیساکہ اکثر حفاظ نے کہا ہے لیکن اکثر علماء حفاظ کے قول سے غفلت کی وجہ اسے اپنی کتابوں میں ذکر کرتے ہیں۔"

وجہ استدلال مولانا کاندھلویؒ : مرزا قادیانی کی ظلیت کی تردید کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مولانا فرماتے ہیں کہ اگر کوئی کہے کہ مرزا قادیانی کا ظل سے مراد یہ ہے کہ جس طرح آئینہ میں کسی شخص کا عکس پڑجاتا ہے اسی طرح مرزا صاحب میں بھی کمالات محمدیہ کا عکس پڑا ہے، تو یہ استدلال اس وجہ سے صحیح نہیں ہے کہ عکس سے آئینہ میں ذی عکس کی کوئی حقیقی صفت نہیں آجاتی بلکہ ایک قسم کی مشابہت آجاتی ہے، لیکن اس سے بھی مرزا کی نبوت اس لیے ثابت نہیں ہوتی کہ مشابہت عینیت پر دلالت نہیں کرتی، کیونکہ حدیث میں ہے میری امت کے علماء انبیاء بنی اسرائیل کے مشابہ ہیں۔ اس حدیث کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ علماء حقیقۃ پیغمبر ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ علماء ان کے کمالات کا نمونہ ہیں۔

حدیث 7: جس وقت سورہ توبہ نازل ہوئی تو آنحضرتﷺ نے منافقین کو مسجد میں جمع کرکے خطبہ دیا اور خطبہ کے بعد نام بنام فرمایا: اے فلانے! تو کھڑا ہو اور نکل جا۔ تو منافق ہے۔ پھر ان منافقوں کے قرابت دار جو مؤمنین صالحین تھے اٹھے اور اٹھ کر ان منافقین کو ذلت وخواری کے ساتھ مسجد سے نکال دیا[41]۔

متن حدیث: حدثنا الحسين بن محمد بن عمرو العنقري قال حدثنا أبي قال حدثنا أسباط بن نصر عن السدي عن أبي مالك عن بن عباس: في قوله { وممن حولكم من الأعراب منافقون ومن أهل المدينة مردوا على النفاق لا تعلمهم نحن نعلمهم سنعذبهم مرتين ثم يردون إلى عذاب عظيم } قال قام رسول الله يوم جمعة خطيبا فقال قم يا فلان فاخرج فإنك منافق اخرج يا فلان فإنك منافق فأخرجهم بأسمائهم ففضحهم ولم يكن عمر بن الخطاب شهد تلك الجمعة لحاجة كانت له فلقيهم عمر وهم يخرجون من المسجد فاختبأ منهم أستحياء أنه لم يشهد الجمعة وظن الناس قد انصرفوا واختبئوا هم من عمر فظنوا أنه قد علم بأمرهم فدخل عمر المسجد فإذا الناس لم ينصرفوا فقال له رجل أبشر يا عمر فقد فضح الله المنافقين اليوم فهذا العذاب الأول والعذاب الثاني عذاب القبر لم يرو هذا الحديث عن السدي إلا أسباط بن نصر[42]"

ترجمہ روایت:حسین بن عمرو عنقزی از اسباط از سدی از ابومالک از ابن عباس رضی اللہ عنہما وعنہم سے اللہ تعالیٰ کے اس قول: { وممن حولكم من الأعراب منافقون ومن أهل المدينة مردوا على النفاق لا تعلمهم نحن نعلمهم سنعذبهم مرتين ثم يردون إلى عذاب عظيم }کے بارے میں روایت ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جمعہ کے دن خطبہ پڑھنے کے لیے کھڑے ہوگئے اور اچانک فرمایا: اے فلان! نکل جا تو منافق ہے۔ اے فلان! نکل جا تو منافق ہے۔اسی طرح آپﷺ نے مسجد سے چند افراد نکال دیئے۔ جب وہ مسجد سے نکل رہے تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا ۔ آپؓ نےان سے کنارہ اختیار کیا کیونکہ آپؓ کا گمان یہ تھا کہ لوگ نماز سے فارغ ہوگئے جب کہ آپؓ نے جمعہ میں حاضری نہیں کی۔ وہ لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے چھپنے لگے۔ ان کا گمان یہ تھاکہ آپؓ پر ان کا معاملہ آشکارا ہوگیا ہے۔ جب سیدنا عمررضی اللہ عنہ مسجد آئے تو لوگوں نے نماز نہیں پڑھی تھی۔ مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے آپؓ سے کہا: اےعمر!مبارک ہو، اللہ تعالیٰ نےآج منافقین کو رسوا کردیا۔ آپﷺ کا ان کو مسجد سے نکالنا یہ وہ پہلا عذاب ہے (جس کا آیت میں ذکر ہے)جب کہ دوسرا عذاب قبر کا عذاب ہے۔"

حکم روایت : یہ روایت حسین بن عمرو عنقزی کی وجہ سے ضعیف ہے، چنانچہ آپ کے بارے میں امام ابو زرعہؒ فرماتے ہیں: وہ سچ نہیں بولتا تھا[43]۔"

امام ہیثمیؒ اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: اس حدیث میں حسین بن عمرو بن محمد عنقزی ضعیف ہے[44]۔"

وجہ استدلال مولانا کاندھلویؒ: مولانا نے یہ روایت اس آیت کے لیے بطور تائید ذکر کی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر منافقین اپنی شرارتوں سے باز نہیں آتے تو ہم تم کو ان پر مسلط کردیں گےاور گزشتہ لوگوں کے بارے میں بھی اللہ کا یہی طریقہ ودستور رہا ہے[45]۔چنانچہ مولانا نے اس روایت سے یہ استدلال کیا ہے کہ اس حدیث نے منافقوں کا پردہ چاک کردیا۔

حدیث8: كنت كنزا مخفيا فأحببت أن أعرف"یعنی میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا تو میں نے چاہا کہ مجھے پہچانا جائے[46]۔"

متن حدیث: كنت كنزا مخفيا فأحببت أن أعرف فخلقت الخلق فبي عرفونی[47]"

حکم حدیث: اس روایت کے بارے میں امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں: موضوع ليس من كلام النبي ولا يعرف له سند صحيح ولا ضعيف[48]"

"یہ نبیﷺ کا کلام نہیں ہے اور اس کی کوئی صحیح سند موجود ہے نہ ضعیف۔"

حافظ زرکشیؒ فرماتے ہیں: قالَ بعضُ الحفّاظِ: ليس من كلام النبي ولا يعرف له سند صحيح ولا ضعيف[49]"

"بعض حفاظ کہتے ہیں: یہ نبیﷺ کا کلام نہیں ہے اور اس کی کوئی صحیح سند موجود ہے نہ ضعیف۔"

امام سیوطیؒ فرماتے ہیں: اس کی کوئی اصل موجود نہیں ہے۔"

امام عجلونیؒ فرماتے ہیں: وهو واقع كثيرا في كلام الصوفية وبنوا عليه أصولا لهم[50]"

"یہ صوفیہ کے کلام میں بہت زیادہ موجود ہے۔ انہوں نے اس پر اعتماد کیا ہے اور اس کی بنیاد پر اپنے لیے اصول وضع کیے ہیں۔"

حافظ سخاویؒ اور محمد بن خلیل طرابلسیؒ فرماتے ہیں: قالَ ابنُ تیمِیَّة: لیسَ هذا مِن کلامِ النَّبِی ولا یُعرَف لهُ سندٌ صحیحٌ ولاضَعیفٌ وتبِعهُ الزَّرکشِی وابنُ حجرٍ[51]"

"حافظ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں: یہ نبیﷺ کا کلام نہیں ہے اور نہ اس کی کوئی صحیح سند یا ضعیف موجود ہے۔ حافظ زرکشیؒ اور حافظ  ابن حجرؒ نے ان کی تائید کی ہے۔"

وجہ استدلال مولانا کاندھلویؒ: مولانا نے اس روایت کو  انسان کی کرامت اور عبودیت کے لیے جنات کے مقابلے میں زیادہ اصل ہونےکے تسلسل میں ذکر کیا ہے، چنانچہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مظہر اتم بنایا اور اللہ تعالیٰ کی صفات جمالیہ وکمالیہ کا پورا پورا ظہور انسان کے ذریعہ سے ہوا جیسا کہ مذکورہ روایت سے معلوم ہوتا ہے۔

حواشی و حوالہ جات


: بخاری،محمداکبر شاہ، حافظ،  اکابر علماء دیوبند : ص ۲۱۵–۲۲۰، ادارہ اسلامیات کراچی، سن طباعت ۱۴۱۹ھ=۱۹۹۹ء۔[1]

: ایضاً:ص،۴۰۵–۴۰۹[2]

: سیوطی،عبد الرحمن بن ابی بکر، تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی: ۱/ ۹۷۱، مکتبۃ الریاض الحدیثہ،سن طباعت ندارد[3]

: ایضاً۔[4]

: عسقلانی، ابن حجر، حافظ،  نزہۃ النظر فی شرح نخبۃ الفکر: ۱/ ۹۸، مطبعہ سفیر ریاض، سن طباعت ۲۲۱۴ھ۔[5]

:ایضاً:۱/ ۱۰۷[6]

:ایضاً۔[7]

تدریب الراوی:۱/ ۲۴۷[8]

: نزہۃ النظر۱/ ۱۰۹[9]

:تدریب الراوی۱/۲۷۵[10]

: ایضاً: ۱/ ۲۴۷[11]

[12]:بخاری، محمد بن اسماعیل،صحیح بخاری، کتاب العلم[۳]، باب: اِثمِ مَن کذبَ علَی النَّبِیﷺ[۳۹]، حدیث: ۱۰۷، دارالمعرفہ بیروت لبنان، ۱۴۳۱ھ=۲۰۱۰ء

: کاندھلوی، محمد ادریس، مولانا، معارف القرآن: ۶/ ۲۱۷، بذیل تفسیر سورۃ الاحزاب۳۳: ۱، مکتبۃ الحسن، سن طباعت ندارد[13]

[14]:صحیح بخاری، کتاب الحدود[۸۶]، بابُ: الاِعتِرافِ بالزِّنا[۳۰]، حدیث ۶۸۲۹، بابُ: رجمِ الحبلٰی مِن الزِّنا اِذا أُحصِنت[۳۱]، حدیث ۶۸۳۰، دارالمعرفہ  بیروت لبنان،۱۴۳۱ھ=۲۰۱۰، نسائی، احمد بن شعیب، کتاب الرجم، باب تثبیت الرجم، سنن کبرٰی: ۴/ ۲۷۳، دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۴۱۱ھ=۱۹۹۱ء، بیہقی، احمد بن حسین، سنن کبری،  ۸/ ۲۱۱، دائرۃ المعارف النظامیہ، حیدر آباد، ۱۳۴۴ھ

: عسقلانی، ابن حجر ، حافظ ، فتح الباری شرح صحیح البخاری:۱۲/ ۱۴۳، دارالمعرفہ بیروت، ۱۳۷۹ھ[15]

معارف القرآن۶/ ۲۲۲، بذیل تفسیر سورۃ الاحزاب۳۳/ ۱[16]

[17]: ماوردی، علی بن محمد، النکت والعیون: ۴/ ۴۱۱، دارالکتب العلمیہ بیروت، سن طباعت ندارد، قرطبی، محمد بن احمد، الجامع لاحکام القرآن:

۱۴/۱۱۴، دارالکتب  مصر قاہرہ، سن طباعت ۱۳۸۴ھ= ۱۹۴۶ء

[18]: سورۃ الاحزاب۳۳: ۱

:معارف القرآن۶/ ۲۶۰، بذیل تفسیر سورۃ الاحزاب۳۳: ۳۴[19]

: القزوینی، محمد بن یزید،سنن ابن ماجہ، مقدمہ، بابُ: فضلِ مَن تعلَّم القرآن وعلَّمہٗ[۱۵]، حدیث۲۲۴، دارالکتب العلمیہ بیروت، ۲۰۰۸ء[20]

: کنانی، ابن عراق ، تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ عن الاحادیث الشنیعۃ الموضوعۃ:۱/ ۲۶۲، دارالکتب العلمیہ، ۱۹۸۱ء[21]

: محمد طاہر پٹنی،تذکرۃ الموضوعات: ۱/ ۱۷، داراحیاء التراث العربی، ۱۴۲۰ھ=۱۹۹۹ء[22]

:معارف القرآن۶/ ۲۹۸، بذیل تفسیر سورۃ الاحزاب۳۳: ۴۰[23]

:سنن ابن ماجہ، کتاب الجنائز[۶]، بابُ: ماجاءَ فِی الصَّلاۃِ علی ابنِ رسولِ اللّٰہﷺ وذکرِ وفاتہٖ[۲۷]، حدیث ۱۵۱۱[24]

: مزی،یوسف بن الزکی، تہذیب الکمال: ۲/ ۱۴۸، مؤسسۃ الرسالہ بیروت، ۱۴۰۰ھ=۱۹۸۰ء[25]

:معارف القرآن۶/ ۳۰۵، بذیل تفسیر سورۃ الاحزاب۳۳: ۴۰[26]

: ابوبکر ،  احمد بن عمرو بن عبد الخالق،مسند بزار: ۱۲/ ۱۷، مکتبۃ العلوم والحکم مدینہ منورہ، ۱۹۸۸۔۲۰۰۹، سنن کبرٰی للنسائی۸/ ۱۶۲[27]

:تہذیب الکمال۱۰/ ۴۹۷[28]

: ذہبی، شمس الدین ، میزان الاعتدال فی نقد الرجال: ۲/ ۱۴۵، دارالمعرفہ بیروت، بدون تاریخ۔[29]

: الجرجانی، عبداللہ بن عدی،الکامل فی ضعفاء الرجال: ۴/ ۴۰۳، دارالکتب العلمیہ بیروت، ۱۴۱۸ھ=۱۹۹۷ء[30]

: ابوبکر بیہقی،احمد بن الحسین، السنن الکبرٰی: ۸/ ۱۶۲، دائرۃ المعارف، حیدر آباد، ۱۳۴۴ھ[31]

:تہذیب الکمال:۹/ ۹۲، ۹۳[32]

: سخاوی، عبد الرحمن، حافظ، المقاصد الحسنہ: ۱/ ۱۸۱، دارالکتاب العربی۔بیروت۔[33]

: مناوی، عبد الرؤؤف ، التیسیر: ۲/ ۱۴۰، مکتبۃ الامام الشافعی ریاض، ۱۴۰۸ھ=۱۹۸۸ء[34]

:معارف القرآن۶/ ۳۰۵، بذیل تفسیر سورۃ الاحزاب۳۳: ۴۰[35]

:الزرکشی، محمد بن عبدا للہ، التذکرۃ فی الاحادیث المشتہرہ:۱/ ۱۶۶، دارالکتب العلمیہ بیروت، ۱۴۰۶ھ=۱۹۸۶ء[36]

:المقاصد الحسنہ۱/ ۴۵۹[37]

[38]: اعجلونی،اسماعیل بن محمد الجراحی، کشف الخفاء ومزیل الالباس عما اشتہر من الاحادیث علی السنۃ الناس: ۲/ ۶۴، داراحیاء التراث العربی۔بیروت۔  

:القاری، علی بن سلطان الہروی، المصنوع فی معرفۃ الحدیث الموضوع:۱/ ۱۲۳، مکتب المطبوعات الاسلامیہ۔[39]

: حوت،محمد بن درویش بن محمد، اسنی المطالب فی احادیث مختلفۃ المراتب:۱/ ۱۸۴، دارالکتب العلمیہ بیروت۔[40]

:معارف القرآن۶/ ۳۳۲، بذیل تفسیر سورۃ الاحزاب۳۳: ۶۲[41]

[42]:الرازی، امام عبدالرحمن ، تفسیر ابن ابی حاتم: ۶/ ۱۸۷۰، مطبوع مکتبہ عصریہ صیدا۔ جامع البیان فی تفسیر القرآن۱۱/ ۶۴۴، طبرانی،سلیمان بن طاہر ، المعجم الاوسط:۱/ ۲۴۱، مطبوع دارالحرمین قاہرہ ۔

: ابن ابی حاتم،الجرح والتعدیل: ۳/ ۶۲، داراحیاء التراث العربی بیروت۔[43]

: ہیثمی، نور الدین، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: ۶/ ۴۰۱، دارالفکر بیروت، ۱۴۱۲ھ=۱۹۹۲ء[44]

:سورۃ الاحزاب ۳۳:۶۲[45]

:معارف القرآن۶/ ۳۴۳، بذیل تفسیر سورۃ الاحزاب۳۳: ۷۲[46]

[47]: ابن تیمیہ،احمد بن عبدالحلیم، احادیث القصاص: ۱/ ۵۵، المکتب الاسلامی بیروت، ۱۴۰۸ھ=۱۹۸۸ء، ابن تیمیہ،مجموع الفتاوی: ۱۸/ ۱۲۲، دارالوفاء، ۱۴۲۶ھ=۲۰۰۵ء

:التذکرۃ فی الاحادیث المشتہرہ:۱/ ۱۳۶[48]

: سیوطی، عبدالرحمن  بن ابی بکر، الدرر المنتثرۃ فی الاحادیث المشتہرہ:۱/ ۳۵۲، دارالفکر بیروت۔[49]

:کشف الخفاء۲/ ۱۳۲[50]

[51]:المقاصد الحسنہ۱/ ۵۲۱، طرابلسی، محمد بن خلیل، اللؤلؤ المرصوع فیما لااصل لہ أو باصلہ موضوع:۱/ ۱۴۳، دارالبشاءر الاسلامیہ بیروت، ۱۴۱۵۔