Playstore.png

بیوہ عورت کی کفالت سیرت طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ حبیبیہ اسالمیکس
عنوان بیوہ عورت کی کفالت سیرت طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں
انگریزی عنوان
Sponsor/Support of Widow in the Light of Holy Prophet (PBUH) Teachings
مصنف Channar، Mahmoodul Hasan، Aziz-ur-Rehman Saifee، Nosheen Bano
جلد 1
شمارہ 1
سال 2017
صفحات 15-35
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Widows in Islam, Rights of widows, Seerat and widow, Sponsor of widow, Widows development
شکاگو 16 Channar، Mahmoodul Hasan، Aziz-ur-Rehman Saifee، Nosheen Bano۔ "بیوہ عورت کی کفالت سیرت طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں۔" حبیبیہ اسالمیکس 1, شمارہ۔ 1 (2017)۔

Abstract

Holy Prophet (PBUH) has been made blessing for Humanity, and the being of Prophet (PBUH) is such an ocean of blessings that no any strata of society is derived of by his teachings. Before the arrival of Holy Prophet (PBUH), the weak strata of society used to be oppressed in all its forms and manifestations, and suffered all sort of atrocity and cohesion. It is very core to the Teachings of Prophet (PBUH) that, it restored the rights of former oppressed class and brought its status equal to all. The list of oppressed and weak strata of society remained long, but our discussion is confined to the widow. Before Islam, the status of widow was very deplorable and she was ground under the oppression of all other strata of society. Even though in some religions, she was burnt alive with the corpse of husband. And somewhere her second marriage was denied and somewhere so on. But, a teaching of Islam and Holy Prophet (PBUH) has given a very crucial, respectable and safe as well as significant place to her in society. This article deals with this subject in detail, with solid references from different resources. In the end this articles carries suggestion for the welfare and development of widows.

الحمد للہ الذي أمَرعباده بالإحسان إلى الضُّعَفاء والمساكين والأرامل، وأشاد ذكرهم، ورَفَع قدْرهم في كتابه المبين، وأمر نبيه ورسوله محمدا صلى الله عليه وسلم- أن يدنيهم ويجلس معهم ويجعلهم إليه منَ المقرّبين، حثّ ورغب في السعي على الأرملة والمسكين وما فيهما من الأجر العظيم، وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله، الذي قال: السَّاعِي عَلَى الأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَكَالَّذِي يَقُومُ اللَّيلَ وَيَصُومُ النَّهَارَ ، صلى الله عليه وسلم صلاة مستمرة إلى يوم الدين، وعلى آله وصحبه الطاهرين الطيبين. أما بعد! 

سید الاولین والآخرین امام الانبیاء والرسل جناب رسول اکرمﷺ تمام جہانوں کے لیے رحمت للعالمین بنا کر مبعوث کیے گئے آپ کی شان رحمت وفیضان سے مخلوقات کی کوئی نوع اوربالخصوص نسل آدم کا کوئی طبقہ بھی ایسا نہیں ملتا جو اس بحر ناپید کنار سے فیض یاب نہ ہوا ہواورآپ نے ان کو اخلاق فاضلہ اور فضائل محمودہ اور محاسن جمیلہ اور صفات کاملہ کی تعلیم نہ دی ہو،قبل بعثت نسل آدم کے کمزور طبقات ظلم کی چکی میں پسے جا رہے تھے، اورطرح طرح کے مظالم ڈھائے جا رہے تھے کمزور طبقات کا استحصال عروج پر تھا آپ کی بعثت سے ہی انسانوں کو ہر طرح کے جہاں حقوق ملنا شروع ہوئے اور وہاں معاشرے کے ہر فرد کو اتنا باشعوربنا دیا کہ ان کمزور طبقات افراد کےحقوق کی تلفی کا کوئی سوچ بھی نہ سکے، ان کمزور طبقات کی فہرست تو بہت طویل ہے قرآن کریم نے ان میں سائل، غلام ونوکر،مقروض،قیدی،بیوہ اورمحروموں کو شمار کیا ہے اور ان کے حقوق کی طرف سماج کو توجہ دلائی ہے۔ان کمزور طبقات میں بیوہ اور مطلقہ عورت بھی شامل ہے جو اس تحریر کا مرکزی موضوع ہےجس پر تفصیل سے کچھ روشنی ڈالی جائے گی۔


تاریخ اس بات کی شاہد ہےمظلوم عورت کو لوگ ہمیشہ اپنی عیش وعشرت کے لیے خرید کر پھران سے حیوانوں جیسا بدسلوک کرتے تھے اور یہ ان کی فطرت بن چکی تھی، یہ صنف ضعیف بھیڑ بکریوں کی طرح بازاروں میں بکتی تھی، کوئی ان کی سماجی حیثیت نہیں تھی انہیں معاشی وسیاسی حقوق سے محروم تھی، آزادانہ طریقہ سے لین دین ممنوع تھی اور ان کو معاشرے میں حقیر وذلیل سمجھا جاتاتھا یہاں تک کہ اہل عرب میں سے بعض شقی القلب لوگ عورت کو عار سمجھتے تھے۔معصوم لڑکی کے پیدا ہوتے ہی منحوس اور باعث ذلت سمجھ کر ان کو زندہ درگور کر دیتے تھے،۔ قرآن کریم اس بھیانک منظر کی عکاسی یوں کرتا ہے:


وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّهُوَ كَظِيْمٌ، يَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْۗءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ ۭ اَيُمْسِكُهٗ عَلٰي هُوْنٍ اَمْ يَدُسُّهٗ فِي التُّرَابِ ۭ اَلَا سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ۔


’’اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصہ کھاتا ہے، لوگوں سے چھپا پھرتا ہے اس بشارت کی برائی کے سبب، کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں دبادے گا، ارے بہت ہی برا حکم لگاتے ہیں۔‘‘([1])


اس کا ذکراجمالا دوبارہ ان الفاظ سے کیا گیا:


وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّهُوَ كَظِيْمٌ۔


’’اور جب ان میں کسی کو خوشخبری ملے اس چیز کی جس کو رحمن کے نام لگایا تو سارے دن رہے منہ اس کا سیاہ اور وہ دل میں گھٹ رہا ہے۔‘‘([2])


 قرآن کریم نےان کے اس بے ہودہ کام پر سخت تہدید کی او راسے زندہ رہنے کا حق بخشااور فرمایا کہ جو شخص اس کے حق سے روگردانی کرے گا، روز محشر اللہ تعالی کے سامنے اس کا جوابدہ ہوگا ، ارشاد باری تعالی ہے:


وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ، بِاَيِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْ۔([3])


’’اور جب زندہ گاڑھی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ پر قتل کی گئی تھی۔‘‘


ایک طرف ان معصوم بچیوں کے زندہ درگور کرنے اور ظلم وزیادتی پر جہنم جیسی ہیبت ناک جگہ کی وعید سنائی گئی تو دوسری طرف ایسے لوگوں کو جنت جیسی عالیشان جگہ کی خوشخبری کا مژدہ سنایا گیا جن کادامن اس ظلم وبربریت سے پاک ہو او رلڑکیوں کے ساتھ وہی سلوک اختیار کیا جو لڑکوں کے ساتھ کیا اور دونوں میں کوئی فرق نہ کیا۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا :


من كانَت له أُنثى، فلم يَئِدْها ولم يُهِنْها،ولم يُؤثِرْ ولدَه عليها۔قال: يعني الذكور، أدخلَه اللهُ الجنةَ۔([4])


’’ کہ جس شخص کی لڑکی ہو وہ نہ تو اسے زندہ درگور کیااور نہ اس کے ساتھ حقارت آمیز سلوک کیا اور نہ اس پر اپنے لڑکے کو ترجیح دی تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔‘‘


مولانا الطاف حسین حالی مرحوم نےاہل عرب کےاُس وقت کے لوگوں کا حال کچھ یوں پیش کیا ہے:



جوہوتی تھی پیدا کسی گھر میں دختر تو خوف شماتت سے بے رحم مادر
پھر سے دیکھتی جب تھی شوہر کے تیور کہیں زندہ گاڑ آتی تھی اس کو جا کر
وہ گود اپنی نفرت سے کرتی تھی خالی جنے سانپ جیسے کوئی جننے والی([5])
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس صنف ضعیف کو ہر دؤر میں انسانی معاشرے نے صحیح حق نہیں دیا، حقیقت یہ ہے کہ اسلامی نظام حیات نے اس کو ذلت وپستی کے گڑہوں سے نکال کربے پناہ حقوق عطا فرمائے، قومی وملی زندگی میں عورتوں کی کیا اہمیت ومقام ہے؟سوسائٹی میں اسکی صنفی ذمہ داریاں کون سی ہیں؟ اسلام نے اس کی فطرت کے مطابق اس کو ذمہ داریاں سونپ کر اس پرخصوصی توجہ دی،اب بہتر ہوگا کہ قبل اسلام اس صنف ضعیف یعنی بیوہ اور مطلقہ عورت کی مختلف مذاہب میں کیا حیثیت تھی اس کا جائزہ لیا جائے۔ درج ذیل بحث اس پر ہے۔


بیوہ عورت کو عربی زبان میں ارملہ کہا جاتا ہے اصطلاح میں اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کا خاوند فوت ہو جائے اور عرب میں جب نان نفقہ کسی کا ختم ہوجاتا تو کہا جاتا ، ارمل فلان کہ اس کا زاد راہ ختم ہو گیا اور وہ فقیر بن گیا ،عورت کا جب خاوند مرجاتا ہے تو وہ انتہائی کمزور حالت میں ہوتی ہے کیونکہ اس کے چین و سکون اور حمایت کا ذریعہ ختم ہوجاتا ہے اور اسکے بچےہر قسم کی رعایت سے محروم ہوجاتے ہیں اور وہ بڑی تلخی و درد محسوس کرتی ہے، اور اس کا ذریعہ معاش کمانے والا بھی نہیں رہتا تو اس وجہ سے اس کو ارملہ (بیوہ) کہا جاتا ہے۔ ([6]) جبکہ اردو زبان میں ایسی عورت کو بیوہ کہا جاتاہے کہ اس کی کوئی واہ نہیں ، واہ دکہانے والا اس کا شوہر وفات پا گیا ہے۔


قبل اسلام بیوہ عورت کی حیثیت

اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت میں یہ رسم تھی کہ جو عورت بیوہ ہوجاتی اسے ایک سال کی عدت گزارنا پڑتی اور اسے نہایت منحوس سمجھا جاتا۔ ایک سال تک اسےغسل اور منہ ہاتھ دھونے کے لئے پانی تک نہ دیا جاتا اور نہ پہننے کے لئے لباس فراہم کیا جاتا۔ جیساکہ حدیث نبویﷺمیں ہے۔


فَقَالَتْ زَيْنَبُ: كَانَتِ المَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، دَخَلَتْ حِفْشًا، وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا، وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا حَتَّى تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ، ثُمَّ تُؤْتَى بِدَابَّةٍ، حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَائِرٍ، فَتَفْتَضُّ بِهِ، فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَيْءٍ إِلَّا مَاتَ، ثُمَّ تَخْرُجُ فَتُعْطَى بَعَرَةً، فَتَرْمِي، ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَاءَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ۔([7])


’’حضرت زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تو وہ ایک نہایت تنگ وتاریک کو ٹھڑی میں داخل ہو جاتی، سب سے برے کپڑے پہنتی اور خوشبو کا استعمال ترک کر دیتی ، یہاں تک کہ اسی حالت میں ایک سال گزر جاتا پھر کسی چوپائے گدھے یا بکری یا پرندہ کو اس کے پاس لایا جاتا اور و ہ عدت سے باہر آنے کے لیے اس پر ہاتھ پھیرتی ۔ ایسا کم ہو تا تھا کہ وہ کسی جانور پر ہاتھ پھیر دے اور وہ مر نہ جائے ۔ اس کے بعد وہ نکالی جاتی اور اسے مینگنی دی جاتی جسے وہ پھینکتی ، اب وہ خوشبو وغیرہ کوئی بھی چیز استعمال کر سکتی تھی۔‘‘


اہل عرب میں راوج یہ تھا کہ بیوہ عورت شوہروں کے وارثوں کی ملکیت بن جاتی تھی اور وہ جو چاہتے اس کے ساتھ کرسکتے تھے، اس کو تکلیفیں دےدے کر اس سے دین مہر معاف کراتےتھے، اور اس کو اپنی مرضی کے بغیر شادی نہیں کرنے دیتے تھے۔([8]) شوہر کے مرنےیا طلاق دینے کے بعد اس کو اجازت نہیں تھی کہ اپنی پسند سے دوسرا نکاح کر سکے ، دوسرے سامان اور حیوانات کی طرح وہ بھی وراثت میں منتقل ہوتی رہتی تھی۔([9])


یہودی مذہب میں بیوہ عورت

یہودی مذہب میں عورت کی کوئی حیثیت نہیں تھی اور اولاد نرینہ کی موجودگی میں عورت کے حق وراثت کا تصور نہیں کیا جا سکتا تھا، عورت مرد کی کنیز اور لونڈی ہوتی تھی اس مذہب میں بیوی کو بعولہ یعنی منقولہ جائیداد اور شوہر کوبُعل یعنی مالک کہا گیا ہے، اور ان کے معاشرے میں اپنے بنیادی حقوق سے بھی محروم رہی ہے، اور میراث سے اس کو کوئی حصہ نہ تھا، عورت کے حقوق وفرائض سے متعلق یہودی مذہب میں کوئی قانون نہیں،وہ دوسری شادی کےحق سے بھی محروم رکھی گئی ہے۔([10])


اور یہودی مذہب میں بیوہ عورت ایک بھائی کے مرنے کے بعد دوسرے بھائی کی ملک ہو جاتی تھی ، وہ جس طرح چاہتا تھا اس سے معاملہ کرسکتا تھا یہاں تک کہ عورت کی مرضی کو اس زن وشوئی کے مجبورانہ تعلق میں کوئی دخل نہ تھا۔([11])


جو پھلوٹا اس سے پیدا ہو تو اس کے متوفی بھائی کے نام شمار ہوگا تاکہ اسرائیل سے اس کانام نہ مٹ جائے، اگر یہ شوہر بننے سے انکار کرے تو اس کے بھائی کی بیوی ججوں کے سامنے اس کے نزدیک اپنے پاؤں کی جوتی نکالے اور اس کے منہ پر تھوک دے اور جواب دے اور کہےکہ اس شخص کے ساتھ جو اپنے بھائی کا گھر نہ بنائے گا، یہی کیا جائیگا اور اسرائیل میں اس کانام یہ رکھا جائے گاکہ یہ اس شخص کا گھر ہے جس کا جوتا نکالا گیا۔([12])


عیسائی مذہب میں بیوہ عورت

عیسائی معاشرہ میں عورت مکمل طور پر مرد کے قابو میں تھی، طلاق وخلع کی بھی اسے اجازت نہ تھی زوجین میں خواہ کتنی ہی نا چاقی ہو وہ زبردستی ایک دوسرے کے ساتھ بندھے رہنے پر مجبور تھے ، بعض انتہائی حالات میں انہیں صرف علیحدگی کا حق تھالیکن نکاح ثانی کا حق پھر بھی دونوں کو حاصل نہ تھا، شوہر کی وفات کے بعد بیوی کو اور بیوی کے مرنے کے بعد شوہر کے نکاح ثانی کو مسیحی علماء شہوت کی بندگی اور ہوس زنی کا نام دے کر اسے مہذب زناکاری قرار دیتے تھے۔


ڈاکٹر مبارک علی یہودیت وعیسائیت میں مرد وعورت کے تعلق کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ان دونوں مذاہب میں مرد وعورت کے تعلق کو صرف اس حد تک جائز قرار دیا گیاہے کہ اس کے ذریعے بچے پیدا کیے جائیں اس کو کسی بھی حیثیت سے یہ حق نہ تھاکہ وہ مرد کے ساتھ مل کر خوشی وغم میں شریک ہو اور اپنی آزادنہ حیثیت کو برقرار رکھ سکے۔([13])


ہندو مذہب میں بیوہ عورت

ہندوستان میں ہندو مت کے ماننے والے لوگوں کے ہاں ’’ستی‘‘ جیسی بھیانک رسم رہی ہے، کہ خاوند کی وفات کے بعد اس بیوہ عورت سے زندہ رہنے کا حق ہی چھین لیا جاتا تھا، رسم ستی کے بارے میں ابو ریحان البیرونی کتاب الہندمیں تحریر کرتے ہیں : عورت کا شوہر جب مر جاتا تو اسے بیاہ کرنے کا حق نہیں ہے اور اس کو دو حال میں سے ایک اختیار کرنا ہو گا، یا زندگی بھر بیوہ رہے یا جل کر ہلاک ہو جائے اور دونوں صورتوں میں سےستی اس کے لیے زیادہ بہتر ہے۔ اس لیے کہ وہ مدت العمر عذاب میں رہے گی، ہندوؤں کا دستور یہ ہے کہ وہ راجاؤں کی بیویوں کو جلا دیتے ہیں، خواہ وہ جلنا چاہیں یا اس سے انکار کریں، راجہ کی بیویوں میں صرف بوڑھی عورتیں اور صاحب اولاد، جن کے بیٹے ماں کو بچائے رکھنے کی اور حفاظت کی ذمہ داری کریں، چھوڑ دی جاتی ہیں۔([14])


جو عورت ستی ہو جاتی تو ہندومذہب کے مطابق اس کارتبہ اورمقام ایک مقدس دیوی جیساہوتا جوکہ وفاداری کی وجہ سے اپنےشوہرپرقربان ہوتی تھی، زندہ رہنےکی صورت میں جواسکی حالت ہوتی وہ موت سےبھی بدتر ہوتی، جوکہ درحقیقت ستی ہی کی ایک قسم ہے کہ وہ بیوہ عورت بس ایک زندہ لاش بن کررہتی اور تا حیات رنگین کپڑوں اوربناؤسنگھارسے محروم کردی جاتی۔


مسلمان مؤرخ اور سیلانی ابن بطوطہ( متوفی 779سن ھجری) ہندستان میں رسم ستی کے بارے میں لکھتے ہیں:


إحراق المرأة بعد زوجها عندهم أمر مندوب إليه غير واجب، لكن من أحرقت نفسها بعد زوجها أحرز أهل بيتها شرفا بذلك، ونُسبوا إلى الوفاء، ومن لم تحرق نفسها لبست خشن الثياب، وأقامت عند أهلها بائسة ممتهنة لعدم وفائها، ولكنها لا تكره على إحراق نفسها۔


’’ستی ہونا ہندوں میں واجب نہیں ہے لیکن جو بیوائیں اپنے خاوند کے ساتھ جل جاتی ہیں ان کا خاندان معزز گنا جاتاہے اور وہ خود اہل وفا میں گنی جاتی ہیں اور جو بیوائیں ستی نہ ہوتیں اُن کو موٹے کپڑے پہننے پڑتے ہیں اور طرح طرح کی خواری میں زندگی بسر کرنا پڑتی ہے، اور ان کو اہل وفا بھی نہیں سمجھتے ، لیکن کسی کو ستی ہونے پر مجبور نہیں کیا جاتا۔اورمزید لکھتے ہیں کہ اس وحشت ناک منظرکو خود دیکھا، ایسا ہی ایک منظر دیکھتے دیکھتے بے ہوش ہوکر گھوڑے سے زمین پر گرنے لگا تو لوگوں نے سنبھالا ۔‘‘([15])


مولانا ابوالحسن ندوی رحمہ اللہ تعالی ڈاکٹر لی بان کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ بیواؤں کو اپنے شوہروں کی لاش کے ساتھ جلانے کا ذکرمنوشاستر میں نہیں ہےلیکن معلوم ہوتا ہےکہ یہ رسم ہندستان میں عام ہو چلی تھی، کیونکہ یونانی مؤرخین نے ان کو ذکر کیا ہے۔([16])


ڈاکٹرخالدعلوی صاحب ہندو مت مذہب میں عورت کی حالت کا تذکرہ کچھ یوں کرتے ہیں کہ رسم ستی خود اس بات کا ثبوت ہے کہ عورت کی کوئی حیثیت نہیں، عورت کو خلع اور وراثت کا کوئی حق نہیں، اس کے رشتےدار جائیداد لیں گے، لیکن اس کو کوئی حصہ نہیں ملے گا، اسے مذہبی تعلیم سے بھی محروم کیا جاتا تھا، سنسکرت میں لڑکی کو ’’دوہتر‘‘(دور کی ہوئی)، بیوی کو ’’پتنی‘‘(مملوکہ) کہا جاتا ہے۔ ان تمام باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ ہندو معاشرہ میں عورت کو کیا مقام حاصل ہے، ہندستان کے مذہبی رہنماؤں میں مہاتما بدہ کا مقام بہت اونچا ہے، انہوں نے بیوی بچے چھوڑ کر جنگل میں جا ٹھکانا بنایا، انہیں عورت سے طبعی نفرت تھی اور اس دھرم میں عورت کی حقیقت نفرت پر مبنی ہے، پہلے بدہ مت میں عورتوں کو شامل نہیں کیا جاتا تھا، بعد میں جب انہیں دھرم میں شامل کیا گیا تو بدہ مہاراج نے کہا کہ اب یہ دھرم صرف پانچ سو سال چلے گا، اگر عورت دھرم میں شامل نہ ہوتی تو یہ ہزار سال چلتا۔([17])


ہندودھرم میں زوجہ کے غیروفادار ہونے کی صورت میں اسے انتہائی کڑی سزادی جانی چاہیے،عورت کبھی بھی آزادنہیں ہوسکتی،وہ ترکہ نہیں پاسکتی،شوہرکے مرنے پراپنے سب سے بڑے بیٹے کے تحت زندگی گزارنی ہوگی۔([18])


ہندو مذہب میں یہ ساری صورتیں کتنی ظالمانہ اور اورننگ انسانیت تھیں جن کو سن کر رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اس ظالمانہ اورسفاکانہ رسم کو برطانوی گورنر جنرل(LORD WILLIAM CAVENDISH BENTINCK)نے6جمادی الثانی 1245ہجری موافق 4 دسمبر1829 عیسوی میں ایک قانون کے ذریعے ستی کو جرم قرار دے دیا،اور اس میں مدد کرنے والا بھی مجرم قرار دیا۔([19])


ہندو معاشرہ میں بیوہ عورت کی حالت زار اب بھی ویسی کی ویسی ہے، اور آج تک انکے بعض علاقوں میں بیوائیں جانوروں سے بدترزندگی گزارنےپرموت کو ترجیح دے کر خود کشی کر لیتی ہیں۔وطن عزیزپاکستان کےمتعددعلاقوں میں جیسے پنجاب کے پسماندہ علاقےاور اندرون سندہ کےپسماندہ علاقے،بلوچستان اورخیبرپختونخواہ کے کئی علاقے آج بھی اس قسم کے ظالمانہ رواجوںمیں جکڑے ہوئےہیں، جہاں بیوہ کانکاح معیوب سمجھاجاتاہے، انڈین فلموں اورڈراموں کے ذریعے ہندورسم ورواج سے متاثرہوکر ستی کی ٹھیک وہی رسم ادا کی جارہی ہےکہ جس کےمطابق عورت کوتمام خوشیوں سےمحروم کرکے صرف زوج اول کی یادوں کے سہارے زندہ رہنےپرمجبورکیاجاتا ہے، جس میں بیوہ عورت نہ توشادی بیاہ کی تقریبات میں شریک ہوگی بلکہ اسکی شرکت منحوس تصورکیاجاتا ہے،نہ کسی قسم کے خوشنماورنگدارملبوسات زیب تن کرے گی۔


 مندرجہ بالاسطورکوپڑھیں اورغورکریں کہ اس روئے زمین پرکیا اسلام کے علاوہ کوئی بھی ایسا مذہب ہے جس نے اس کمزور صنف کواتنے واضح حقوق عطاکیے ہوں؟آپ دنیاکی تاریخ پڑھ ڈالیں،مذاہب کاتقابلی مطالعہ کریں توآپ کومعلوم ہوگاکہ اسلام کے علاوہ کسی مذہب اورنہ ہی کسی انسانی قانون نے خصوصا بیوہ عورتوں کواتنے حقوق دیے ہیں۔


دین اسلام اور بیوہ عورت

قبل اسلام دنیا کی مختلف تہذیبوں اور معاشروں کا بنظرغائرمطالعہ کیاجائے تویہ بات آفتابِ نیم روزکی طرح ثابت ہو جاتی ہے کہ نسائیات میں خصوصا بیوہ ومطلقہ کی تاریخ بڑی دردناک اور کربناک ہے، وہ سوسائٹی میں بے یارو مددگار در بدریں ٹھوکریں کھانے پر مجبورتھی مگر اس کی عظمت، احترام اور اس کی صحیح حیثیت کا واضح تصور اسلام کے علاوہ کہیں نظر نہیں آتا، اس کو ظلم کے گرداب سے نکال کراس کے ساتھ انصاف کیا، اسے انسانی حقوق دیئے، عزت وسربلندی بخشی، اور تمام پرانے دقیانوسی خیالات کا خاتمہ کر کے پوری قوت کے ساتھ اپنے دامن حمایت کے سایہ میں لیا اور اس کی عائلی زندگی کو خوشگوار ماحول کے قالب میں ڈھال کر معاشرہ کو اس کا احترام سکھایا اسے وہ بلند مقام عطا کیا جس کی وہ مستحق تھی۔


اسلام نےبیوہ عورتوں کےحقوق کے باب میں اتنا زیادہ خیال رکھا ہے کہ دنیا کا کوئی مذہب اور معاشرہ اس کی نظیر نہیں دے سکتا، عام طور پر کمزور کو جائز حقوق تب ملتے ہیں، جب حقوق حاصل کرنے کے لیے کافی محنت وکوشش کی جائے، ورنہ تصور بھی نہیں کیا جاتا، موجودہ دؤرمیں احتجاج کے بعد عورت کے کچھ بنیادی حقوق تسلیم کیے گئے، حالاں کہ اس پر یہ احسان اسلام کا ہے۔یہ حقوق اسلام نے اس لیے نہیں دیے کہ بیوہ عورت اس کامطالبہ کررہی تھی، بلکہ اس لیے کہ یہ اس کے فطری حقوق تھے جو اسے ملنا ہی چاہیے تھے۔یہاں پر ان حقوق کاذکر کیاجاتا ہے جو اسلام نے بیوہ اور مطلقہ عورت کو دیے؛بلکہ ترغیب و ترہیب کے ذریعہ اسے ادا کرنے کا حکم بھی صادر کر کے واضح فرمایا کہ کسی صورت میں بھی ان کی اہانت اور دل آزاری برداشت نہیں کی جاسکتی جو دین اسلام سے قبل برتی جارہی تھی۔چنانچہ ارشاد ربانی ہے:


وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ ۚ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ۔


’’اور جو لوگ تم میں سے مرجاویں اور چھوڑ جاویں اپنی عورتیں تو وہ وصیت کردیں اپنی عورتوں کے واسطے خرچ دینا ایک برس تک بغیر نکالنے کے گھر سے پھر اگر وہ عورتیں آپ نکل جاویں تو کچھ گناہ نہیں تم پر اس میں کہ کریں وہ عورتیں اپنے حق میں بھلی بات اور اللہ زبردست ہے حکمت والا۔‘‘([20])


ابتدائے اسلام میں بیوہ کی عدّت ایک سال کی تھی اور ایک سال کامل وہ شوہر کے یہاں رہ کر نان و نفقہ پانے کی مستحق ہوتی تھی کہ عرب کے لوگ اپنے مورث کی بیوہ کانکلنایاغیر سے نکاح کرنابالکل گوارا ہی نہ کرتے تھے اور اس کو عار سمجھتے تھے اس لئے اگر ایک دم چار ماہ دس روز کی عدت مقرر کی جاتی تو یہ ان پر بہت شاق ہوتی لہذا بتدریج انہیں راہ پر لایا گیا، یہ آیت کریمہ تلاوت کے اعتبار سے اگرچہ مقدم ہے مگر نزول کے اعتبار سے موخر ہے، پھر ایک سال کی عدت تو اس آیت سے منسوخ ہوئی۔


وَالَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا يَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّعَشْرًا ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْمَا فَعَلْنَ فِيْٓ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ۔


’’اور جو لوگ مر جاویں تم میں سے اور چھوڑجاویں اپنی عورتیں تو چاہیے کہ وہ عورتیں انتظار میں رکھیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن، پھر جب پورا کر چکیں اپنی عدت کو تم پر کچھ گناہ نہیں اس بات میں کہ کریں وہ اپنے حق میں فائدے کے موافق اور اللہ کو تمہارے تمام کاموں کی خبرہے۔‘‘([21])


بیوہ عورت کی عدت کی مدت بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے خرابیاں اور پریشانیاں بھی بہت تھیں، تو دین اسلام نے عدت کی مدت بھی چار مہینہ دس دن کردی، اور اس میں خرابی اور پریشانی بھی نہیں۔ انقضاء عدت کے بعد ایسی عورتیں دستور کے مطابق جو کریں اس میں ورثاء پر کوئی گناہ نہیں، کیونکہ عدت گزرنے کے بعد ان کو زیب وزینت اختیار کرنے اور نئے نکاح کی اجازت ہے۔ اور جو زیب و زینت اس سے پہلے ان کے لیے ممنوع تھی وہ اب مباح ہوگئی۔ ہاں اگر عدت کی تکمیل سے پہلے اس طرح کی کوئی بات کرتیں تو ان کے سرپرستوں اور دوسرے مسلمانوں کو ان کے روکنے کا حق تھا۔ یہاں تک کہ ان کو اس سلسلہ میں حکومت وقت سے مدد لینے کی ضرورت پڑتی تو بھی لیتے۔ لیکن عدت کو پورا کر لینے کے بعد ان پر ایسی کوئی روک اور پابندی روا نہیں ۔ بلکہ وہ اپنے معاملے میں آزاد اور خود مختار ہیں ۔اور اس آیت سے معلوم ہوا کہ بیوہ کے عقد ثانی کو برا سمجھنا چاہئے نہ اس میں رکاوٹ ڈالنی چاہئے، جیسا کہ ہندؤں کے اثرات سے ہمارے معاشرے میں یہ چیز پائی جاتی ہے۔


جاہل لوگ انہیں اپنے ظلم کا تختہء مشق بنائے ہوئے تھے ، خاص کر بیوہ عورت پر ایک ظلم یہ بھی ہوتا تھا کہ شوہر کے مر جانے کے بعد اس کے گھر کے لوگ اس کے مال کی طرح اس کی عورت کے بھی زبردستی وارث بن بیٹھتے تھےاگر وہ چاہتے تو دوسرے کسی کے نکاح میں دے دیتے اگر چاہتے تو نکاح ہی نہ کرنے دیتے میکے والوں سے زیادہ اس عورت کے حقدار سسرال والے ہی گنے جاتے تھے، وہ لوگ اس عورت کو مجبور کرتے کہ وہ مہر کے حق سے دست بردار ہو جائے یا یونہی بغیرنکاح کیے بیٹھی رہے اور ساری عمر یونہی رہنے پر مجبور ہوتی، یا خاوند کےمرتے ہی کوئی بھی آ کر اس پر اپنا کپڑا ڈال دیتااور وہی اس کا مختار سمجھا جاتا ، اسلام نے ظلم کے ان تمام طریقوں سے منع فرمایا اورجاہلیت کی اس رسم کے خلاف یہ آیت نازل ہوئی۔([22])


يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَاۗءَ كَرْهًا ۭوَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَآ اٰتَيْتُمُوْھُنَّ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ۚ وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ۚ فَاِنْ كَرِھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَهُوْا شَـيْـــــًٔـا وَّيَجْعَلَ اللّٰهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيْرًا۔


’’ اے ایمان والو! حلال نہیں تم کو کہ میراث میں لے لو عورتوں کو زور سے (زبردستی) ۔ اور نہ ان کو بند کرو (دباؤ ڈالو) ، کہ لے لو ان سے کچھ اپنا دیا، مگر کہ وہ کریں بے حیائی صریح۔ اور گذران (برتاؤ) کرو عورتوں کے ساتھ معقول۔ پھر اگر وہ تم کو نہ بھائیں (نا پسند ہو) ، تو شاید تم کو نہ بھائے (نا پسند ہو) ایک چیز اور اللہ اس میں رکھے بہت خوبی۔‘‘([23])


اس کا شان نزول یہ ہے کہ ایک بار حضرت سعد بن الربیع رضی اللہ عنہ کی بیوہ خدمت نبویﷺ میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ یہ دونوں بیٹیاں سعد بن ربیع کی ہیں جو غزوہ احد میں شہید ہوگئے ہیں ، اب ان کے چچا ان کا حق نہیں دینا چاہتے،جس پر آیت میراث نازل ہوئی، آپﷺنے ان بچیوں کے چچا کو بلا کر فرمایا کہ سعد کی دونوں بیٹیوں کو دو تہائی حصہ دو اور انکی بیوہ کو آٹھواں حصہ اور اس کے بعد جو بچے وہ تمہارا ہے۔([24])


دین اسلام میں مطلقہ

اسلام میں انسان کے لیے عفت اور عصمت کی زندگی گزارنے کے لیے نکاح سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں، جب تک زوجین میں محبت، الفت،برداشت، اور جذبہ ایثار نہ ہو،مزاج میں ہم آہنگی نہ ہوسکے تو دین اسلام نے زوجین کے لیے دو راستے متعین کیے ہیں، ایک یہ کہ اپنی زندگیوں کوتلخیوں کی نذرکرکےدنیا وآخرت میں بربادی لیں، دوسرا یہ کہ آپس میں جدائی کا راستہ متعین کریں، اسلام اسی راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے، وہ جدائی کا راستہ طلاق ہے، لیکن ساتھ یہ بھی واضح کردیاکہ یہ کوئی مستحسن کام نہیں، بلکہ اللہ رب العزت کے ہاں ایک سخت ناپسندیدہ اقدام ہے،ضرورت اورسخت مجبوری میں یہ اقدام ہوناچاہیے،چنانچہ حضرت عبدللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نےفرمایا:


أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى الطَّلَاقُ۔


’’ اللہ تعالی کے ہاں حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسند یدہ چیزطلاق ہے۔‘‘([25])


ایک دوسری روایت میں رسول اللہﷺ نے حضرت معاذرضی اللہ عنہ کوفرمایا:


يَا مُعَاذُ مَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الْعَتَاقِ , وَلَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَبْغَضَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّلَاقِ۔


’’اےمعاذ! اللہ سبحانہ وتعالی نےسطح زمین پرکوئی ایسی چیزپیدانہیں کی جوغلام کوآزاد کرنےسےزیادہ اسے پسندہو، اسی طرح اس نےروئےزمین پرکوئی ایسی چیزپیدانہیں کی جوطلاق سے زیادہ اسےناپسندیدہ ہو۔‘‘([26])


ایک طرف اگردین اسلام نےمردکومتنبہ کیاکہ طلاق ایک ناپسندیدہ عمل ہےتودوسری طرف عورت کوبھی خبردارکیاکہ بلاوجہ وہ بھی طلاق کامطالبہ نہ کرے،جیساحضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سےمروی ہےکہ آقاعلیہ السلام نےفرمایا:


أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا الطَّلَاقَ مِنْ غَيْر بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ


’’جوعورت بغیرکسی مجبوری کے اپنے خاوندسےطلاق کامطالبہ کرےتوایسی عورت پرجنت کی خوشبوبھی حرام ہے۔‘‘([27])


اسلام نے باقی قوانین کی طرح مطلقہ کے بارے میں بھی فطرت کے مطابق حکم دیا ہے، اسلام سے قبل دنیا طلاق کے متعلق افراط وتفریط کا شکار تھی لیکن دین اسلام مطلقہ کے حقوق کی پاسداری کرتے ہوئےاس کو دوسرا نکاح بیاہ کرنے کا اختیار تفویض کیا ہے، چنانچہ مطلقہ کے بارے میں ارشاد ربانی ہے:


وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَاَمْسِكُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَلَا تُمْسِكُوْھُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ ۭ وَلَا تَتَّخِذُوْٓا اٰيٰتِ اللّٰهِ ھُزُوًا ۡ وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَمَآ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُمْ بِهٖ ۭ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ۔ وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ ۭ ذٰلِكَ يُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَاَطْهَرُ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۔


’’اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت (پوری ہونے) کو آ پہنچیں تو انہیں اچھے طریقے سے (اپنی زوجیّت میں) روک لو یا انہیں اچھے طریقے سے چھوڑ دو، اور انہیں محض تکلیف دینے کے لئے نہ روکے رکھو کہ (ان پر) زیادتی کرتے رہو، اور جو کوئی ایسا کرے پس اس نے اپنی ہی جان پر ظلم کیا، اور اللہ کے احکام کو مذاق نہ بنا لو، اور یاد کرو اللہ کی اس نعمت کو جو تم پر (کی گئی) ہے اور اس کتاب کو جو اس نے تم پر نازل فرمائی ہے اور دانائی (کی باتوں) کو (جن کی اس نے تمہیں تعلیم دی ہے) وہ تمہیں (اس امر کی) نصیحت فرماتا ہے، اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ بیشک اللہ سب کچھ جاننے والا ہے۔جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت (پوری ہونے) کو آپہنچیں تو جب وہ شرعی دستور کے مطابق باہم رضامند ہو جائیں تو انہیں اپنے (پرانے یا نئے) شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو، اس شخص کو اس امر


کی نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ پر اور یوم قیامت پر ایمان رکھتا ہو، یہ تمہارے لئے بہت ستھری اور نہایت پاکیزہ بات ہے، اور اللہ جانتا ہے اور تم (بہت سی باتوں کو) نہیں جانتے۔‘‘([28])


مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ علیہ نے اس آیت کا شان نزول بیان کر کے یہ واضح کردیا کہ ایک عورت کو نہ تو پہلا خاوند کہیں نکاح کرنے سے روک سکتا ہے اور نہ مطلقہ عورت کا ولی اسے نکاح سے روک سکتا ہے۔ایک عورت کو اس کے خاوند نے ایک یا دو طلاق دی اور پھر عدت میں رجعت بھی نہ کی جب عدت ختم ہو چکی تو دوسرے لوگوں کے ساتھ زوج اول نے بھی نکاح کا پیغام دیا عورت بھی اس پر راضی تھی مگر عورت کے بھائی کو غصہ آیا اور نکاح کو روک دیا اس پر یہ حکم نازل ہوا کہ عورت کی خوشنودی اور بہبودی کو ملحوظ رکھو اسی کے موافق نکاح ہونا چاہیے اپنے کسی خیال اور ناخوشی کو دخل مت دو اور یہ خطاب عام ہے نکاح سے روکنے والے سب لوگوں کو خواہ زوج اول جس نے کہ طلاق دی ہے وہ دوسری جگہ عورت کو نکاح کرنے سے روکے یا عورت کے ولی اور وارث عورت کو پہلے خاوند سے یا کسی دوسری جگہ نکاح کرنے سے مانع ہوں سب کو روکنے سے ممانعت آگئی، ہاں اگر خلاف قاعدہ کوئی بات ہو مثلاغیر کفو میں عورت نکاح کرنے لگے یا پہلے خاوند کی عدت کے اندر کسی دوسرے سے نکاح کرنا چاہے تو بیشک ایسے نکاح سے روکنے کا حق ہے بالمعروف فرمانے کا یہی مطلب ہے۔([29])


مفتی محمد شفیع ؒ فرماتے ہیں کہ قانون سازی اور اس کی تنفیذ میں قرآن کریم نے بینظیر حکیمانہ اصول پیش فرمایا کہ مطلقہ عورتوں کو اپنی مرضی کے مطابق نکاح سے روکنا جرم ہے اس قانون کو بیان فرمانے کے بعد اس پر عمل کرنے کو سہل اور اس کے لئے عوام کے ذہنوں کو ہموار کرنے کے واسطے تین جملے ارشاد فرمائے جن میں سے پہلے جملے میں روزِ قیامت کے حساب اور جرائم کی سزا سے ڈرا کر انسان کو اس قانون پر عمل کرنے کے لئے آمادہ فرمایا دوسرے جملے میں اس قانون کی پابندی کی خلاف ورزی میں جو مفاسد اور انسانیت کے لئے مضرتیں ہیں ان کو بتلا کر قانون کی پابندی کے لئے تیار کیا۔ تیسرے جملے میں یہ ارشاد فرمایا کہ تمہاری اپنی مصلحت بھی اسی میں ہے کہ خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے قانون کی پابندی کرو اس کے خلاف کرنے میں اگر تم کوئی مصلحت سوچتے ہو تو وہ تمہاری کوتاہ نظری اور عواقب سے بے خبری کا نتیجہ ہے۔([30]) سورہ بقرہ میں ارشاد باری ہے:


وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ ۭحَقًّا عَلَي الْمُتَّقِيْنَ


’’اور طلاق دی ہوئی عورتوں کے واسطے خرچ دینا ہے قاعدہ کے موافق لازم ہے پرہیزگاروں پر۔‘‘([31])


اس آیات سے واضح ہوتا ہے کہ مطلقہ عورتوں کے حقوق کو ادا کرنا واجب ہے اور انکی حق تلفی سے سخت منع فرمایاہے۔ اگر کوئی شخص لاپرواہی کر کے اس کومہیا کردہ حقوق ادا نہیں کرتا تو تقویٰ اور احسان کی صفات پر مبنی ہونے کی وجہ سے قانون چاہے اس پر گرفت نہ کر سکے، لیکن اللہ کے ہاں وہ اس پر یقیناًماخوذ ہو گااور آخرت میں اس کے ایمان و احسان کا وزن اس کے لحاظ سے متعین کیا جائے گا ۔


اسلام انسان کے لیے ازدواجی زندگی کو بہت ضروری سمجھتا ہے، اس نے پورے معاشرے کوہدایت کی ہےکہ ازدواجی زندگی گزارنے میں افراد کی مدد کرے، ارشاد باری تعالی ہے:


وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَاِمَاۗىِٕكُمْ ۭ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَاۗءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ ۭ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ۔


’’اور نکاح کردو اپنوں میں ان کا جو بےنکاح ہوں، اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا اگر وہ فقیر ہوں تو اللہ انھیں غنی کردے گا اپنے فضل کے سبب اور اللہ وسعت والا علم والا ہے۔‘‘([32])


مذکورہ آیت میں لفظ اَیَامٰی " جمع ہے " ایم " کی جس کے معنیٰ بے نکاح کے آتے ہیں ۔ خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ چنانچہ " ایم " اس مرد کو بھی کہا جاتا ہے جس کی بیوی نہ ہو اور اس عورت کو بھی جس کا شوہر نہ ہو ۔ اور خواہ اس نے سرے سے نکاح کیا ہی نہ ہو یا ہونے کے بعد کسی وجہ سے ختم ہوگیا ہو۔اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ بغیر نکاح کے مجرد رہنا عمر کے کسی مرحلہ میں بھی مرد اور عورت کے لیے مناسب نہیں اسی لیے فقیہ الامت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر میری حیاتی کے صرف دس دن باقی ہوں اور مجھے یقین ہو کہ آج میرا مرنا یقینی ہو تو فتنے کے خوف سے میں نکاح کرنا پسند کروں گا۔([33])


ایک دوسری حدیث میں آتا ہے:


مِسْكِينٌ مِسْكِينٌ مِسْكِينٌ رَجُلٌ لَيْسَتْ لَهُ امْرَأَةٌ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ كَانَ كَثِيرَ الْمَالِ؟ قَالَ: وَإِنْ كَانَ كَثِيرَ الْمَالِ، مِسْكِينَةٌ مِسْكِينَةٌ مِسْكِينَةٌ امْرَأَةٌ لَيْسَ لَهَا زَوْجٌ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ كَانَتْ غَنِيَّةً مُكْثِرَةً ؟ قَالَ: وَإِنْ كَانَتْ غَنِيَّةً مُكْثِرَةً ۔


’’ مسکین ہے، مسکین ہے،مسکین ہے، (تین بار حضورﷺ نے فرمایا) وہ شخص جس کی بیوی نہیں، صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم نے عرض کیا: چاہے وہ مالدار ہو تب بھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا:گو وہ مال دار ہی کیوں نہ ہو، اگر بیوی نہیں تو وہ مسکین ہے، پھر آپﷺ نے فرمایا: وہ عورت مسکینہ ہے(تین بار فرمایا) جس کا شوہر نہیں، صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگرچہ اس کے پاس بہت کچھ مال ہو، تب بھی وہ مسکینہ ہے؟ آپﷺنے فرمایا: ہاں تب بھی وہ مسکینہ ہے۔‘‘([34])


کچھ صحابہ نے نکاح نہ کرنے کا اصرار کیا تو آپ نے ان کے اس عمل کو پسند نہیں فرمایا۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے:


يَا عَلِيُّ، ثَلَاثٌ لَا تُؤَخِّرْهَا: الصَّلَاةُ إِذَا اَ تَتْ، وَالجَنَازَةُ إِذَا حَضَرَتْ، وَالأَيِّمُ إِذَا وَجَدْتَّ لَهَا كُفْئًا۔


’’اے علی! تین باتوں کے کرنے میں دیر نہ کیا کرنا۔ ایک تو نماز ادا کرنے میں جب کہ وقت ہو جائے ، دوسرے جنازے میں جب تیار ہو جائے اور تیسری بے خاوند عورت کے نکاح میں جب کہ اس کا کفو (یعنی ہم قوم مرد) مل جائے۔‘‘ ([35])


لسان نبوت سے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو جو تین حکم بیان کیے اس سےان کاموں کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے، تیسرا حکم بیوہ کے نکاح کی تاکید اس لئے کی گئی کہ آج کل یہ عام رواج سا ہوتا جا رہا ہے کہ لڑکیوں کی شادی میں بہت تاخیر کی جاتی ہے چنانچہ اس کے نتائج آج کل جس انداز سے ہمارے سامنے آ رہے ہیں، وہ کسی سے مخفی نہیں کہ زنا کی لعنت عام ہو گئی ہے ، بے حیائی و بے غیرتی کا دور دورہ ہے اور اخلاق و کردار انتہائی پستیوں میں گرتے جا رہے ہیں، پھر نہ صرف یہ کہ کنواری لڑکیوں کی شادی میں تاخیر کی جا رہی ہے بلکہ اگر کوئی عورت خاوند کے انتقال یا طلاق کی وجہ سے بیوہ ہو جاتی ہے تو اس کے دوبارہ نکاح کو انتہائی معیوب سمجھ کر اس بے چاری کے تمام جذبات وخواہشات کو فنا کے گھاٹ اتار کر اس کی پوری زندگی کو رنج و الم اور حسرت و بے کیفی کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے،ان کے نکاح میں کبھی میکہ اور کبھی سسرال کی طرف سے رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔


اب یہ چیزیں نہ صرف ہمارے آقا علیہ السلام کے حکم و فرمان کے سراسر خلاف ہیں بلکہ ان بیوہ عورتوں کی فطرت اور ان کے جذبات کا گلا گھونٹ کر ان پر ظلم کے مترادف بھی ہے، جو قومیں بیواؤں کے نکاح پر ناک بھوں چڑھاتی ہیں ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ ان کا ایمان سلامت نہیں، وہ اپنے ایمان کی فکر کریں ۔


بیوہ کے حقوق سیرت طیبہ کی روشنی میں

حضور ﷺ تمام جہانوں کے لیے تڑپتی اور سسکتی ہوئی انسانیت کے لئے رحمت بن کر آئے ۔ آپ کا وجود سراپا رحمت ہے، شان رحمت کا فیضان اس کائنات میں ہر سو پھیلا ہوا ہے، اس کی رحمت کی فراوانیاں بے کراں کا ہر گوشہ اس سراج منیر کی ضوفشانی سے منور ہے،آپ کی بعثت کے بدولت  ان تمام طبقات عالم کو نہ صرف عزت ملی، بلکہ ان کو ان کے سلب کیے ہوئے ان کے جائز حقوق بھی عطا کیے، وہاں وہ دیرینہ مجبور، لاچار ، بے کس ، بے بس اور ظلم کی چکی میں پسی ہوئی اس صنف نازک بیوہ اور مطلقہ عورت کے متعلق ( اس عظیم مصلح اعظم نے )مشرکانہ، جاہلانہ عقائد سے ہر قسم کی استحصالی قوتوں سے نجات دلا کر ایک مثالی معاشرہ کا فرد بنایا ، کہ جس معاشرہ میں بیوہ سے نفرت اور حقارت کا سلوک منحوس سمجھا جانا، باپ کے مرنے کے بعد بیٹا اس کی منکوحہ سے شادی رچا لینا جیسا ظلم ہو تو آپ ﷺ نے اس کمزور ناتواں بیوہ عورت کو وہ مقام عطا کیا کہ تا قیامت کوئی قانون ساز مصلح و مدعی، کوئی رہنما، اور کوئی مہاتما اسے نہ دے سکے گا۔


اس سلسلے میں میرے آقا جناب رسول اللہﷺ کی عائلی اور نجی زندگی پورے اقوام عالم کے لیے ایک کھلی کتاب کی مانند ہے اور جہالت کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں قندیل روشن کی طرح تھی اور ہے، ان سارے ظالمانہ تعصبانہ رویوں کے بر عکس محسن انسانیت سرورکائناتﷺ نے اپنے اسوہ حسنہ کے ذریعہ عملی طور پرنکاح بیوگان کی ابتدا اپنی ذات مبارکہ سے کی، آپﷺ نے اپنا نکاح ایک بیوہ چالیس سالہ خاتون حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا سے کیا، جن کی پہلے دو شادیاں ہو چکی تھیں اور اُن کے پہلے شوہروں سے بچے بھی تھے، اورآپ سے عمر میں پندرہ سال بڑی بھی تھیں،ایک عالی النسب،خوبروشخص جس کےلئے جوانی میں معاشرتی اور معاشی لحاظ سےمتعدد شادیاں کرنے میں کوئی ممانعت بھی نہ ہو،اور نہ ہی اس زمانے میں متعدد شادیوں کو کوئی عیب بھی سمجھا جاتاہو پھربھی وہ اپنی پوری جوانی (25 سے 50 سال کی عمر) صرف ایک بیوہ عورت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ گزاردی،آپ کی عمر پچاس برس ہوئی تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوگیا، ان کے انتقال کے بعد پھر جس خاتون کو شرف زوجیت بخشا وہ پچاس سالہ بیوہ تھیں، اور اس کے بعد آٹھ دیگر بیواؤں میں حضرت سودہ، حضرت حفصہ، حضرت زینب ام المساکین، حضرت ام سلمہ، حضرت جویریہ، حضرت ام حبیبہ، حضرت میمونہ، اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنھن سے نکاح کیا، صرف ایک کنواری حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں اور آج وہی خواتین امت کی مائیں ہیں۔


آنحضرت ﷺکا ان مظلوم، جنس لطیف سے عقد نکاح کی وجہ سے ان کو معاشرے(اور سوسائٹی میں جو بے یارو مددگار، دربدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور تھیں)بگڑی ہوئی صورتحال کو سامنے رکھ کر، ذلت وپستی سے نکال کر انہیں اہم مقام دینا تھا کیونکہ بیوہ اور مطلقہ عورتوں کا معاشرے میں کوئی مقام نہیں تھا۔ لہذا آپ ﷺنے اپنے عمل کے ذریعے تمام مسلمانوں کو یتیموں اور بیوگان کے مقام کا تحفظ فراہم کرنے کا شعور عطا فرمایا،ان مظلوموں کو سر اٹھانے کا موقعہ ملا، افراط وتفریط ختم ہوئی، جور وستم میں پسنے والی اس نازک صفت کو معاشرے کا ایک فرد گردانا، اور ان کے اور انکے واجبی حقوق متعین فرمائے ، نیز انسانیت کو بیوہ عورتوں اور یتیموں کی کفالت اور غمخواری کرنے کا درس دیا اور اپنے فرامین مبارک میں اس مظلوم طبقہ کی خدمت کو عظیم نیکی قرار دیتے ہوئے راہ خدا میں جہاد کے برابر، اور رات بھر نفل نمازیں پڑہنے، اور ہمیشہ روزہ رکھنے والے کا درجہ عطا فرمایا، چنانچہ حدیث شریف میں ہےسرکار دوعالم رسول اللہ ﷺنے فرمایا:


السَّاعِي عَلَى الأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَحْسِبُهُ، قَالَ كالْقَائِمِ لَا يَفْتُرُ، وكا لصَّائِمِ لَا يُفْطِرُ۔([36])


’’ بیوہ عورت اور مسکین کے (کاموں) کے لئے کوشش کرنے والا خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے (راوی کہتے ہیں) میں گمان کرتا ہوں کہ نبی اکرم ﷺ نےیہ بھی فرمایا:جیسے وہ نمازی جیسے نماز سے نہیں تھکتا، اور وہ روزہ دار اپنا روزہ نہیں توڑتا۔‘‘


دوسری حدیث میں فرمایا:


السَّاعِي عَلَى الأَرْمَلَةِ وَالمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ كَالَّذِي يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ۔([37])


’’ بیوہ عورت اور مسکین کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والا اللہ کی راہ کے مجاہد کی طرح ہے، اور اس کے برابر جو دن بھر روزہ اوررات بھر نماز پڑھا کرے۔‘‘


جہادفی سبیل اللہ، رات کا قیام کرنا اور دن کو ہمیشہ روزے رکھنا یہ تینوں عمل قابل رشک ہیں، جو انسان یہ تینوں بڑے عمل کرنے سے عاجز ہو تو اس کو چاہیے کہ اپنے معاشرے اور سوسائٹی میں ضرورتمند غریبوں ، بیواؤں اور یتیموں کے ساتھ ہمدردی ، تعاون ان کی کفالت خبرگیری او ران کے اخراجات کی فکر میں اللہ تعالی کی رضا کی خاطرمصروف عمل رہے تو ایسا آدمی روز محشر مجاہدین، قیام اللیل اور صائم النھار افراد میں شمار ہوگا،اگر کوئی بھی انسان اپنے اندر بے حسی اور سخت دلی محسوس کرتا ہو تو اس کا روحانی علاج یہ ہے کہ وہ خصوصی طور پر ان افراد کی خدمت وکفالت کرے۔


دعوت اسلام کی تبلیغ سےقبل بھی آپﷺبیوہ خواتین اور یتیموں کی خبر گیری اور مدد فرماتے تھے، جیسا کہ بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن دینار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲعنہما کو ابو طالب کا یہ شعر پڑھتے ہوئے سنا:



وَأَبْيَضُ یَستَسْقِیْ الْغَمَامُ بِوَجْهِه ثِمَالُ الْيَتَامٰی عِصْمَةٌ لِـلأَرَامِلِ
یعنی آپ کا رنگ ایسا خوشنما ہے کہ آپ کے چہرہ مبارک کے دیدار سے ابر سیراب ہوتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم یتیموں کے والی اور بیواؤں کا سہارا ہیں۔([38])


اور سنن نسائی شریف میں رسول اکرم ﷺ کے معمولات زندگی میں جہاں عبادات کا ذکر آتا ہے وہاں یہ بھی آتا ہے:


وَلَا يَأْنَفُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَ الأَرْمَلَةِ وَالْمِسْکِيْنِ فَيَقْضِيَ لَهُ الْحَاجَةَ۔([39])


’’نبی کریم ﷺ بیواؤں اور مسکینوں کی حاجت روائی کرنے کے لئے اُن کے ساتھ چلنے میں کوئی عار محسوس نہیں فرماتے تھے۔‘‘


بیوہ خواتین کی بھی آپ خبر گیری فرماتے لوگوں کو اس کی ترغیب دیتے فتح مکہ کے موقع پر حضرت سراقہ بن جعشم ؓسے فرمایا:


أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَعْظَمِ الصَّدَقَةِ، أَوْ مِنْ أَعْظَمِ الصَّدَقَةِ؟» قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «ابْنَتُكَ مَرْدُودَةٌ إِلَيْكَ، لَيْسَ لَهَا كَاسِبٌ غَيْرُكَ۔


’’ کیا میں تم کو بتلاوٴں کہ سب سے بڑا صدقہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا ضرور ارشاد فرمائیں، آپ نے فرمایا تم اپنی اس بیٹی کا خیال رکھو جو تمہارے پاس لوٹا دی گئی ہو اور تمہارے علاوہ کوئی اس کی نگہداشت کرنے والا نہ ہو۔‘‘([40]) 


بچوں والی بیوہ یا مطلقہ کی تسکین کی خاطرجو محض اپنے یتیم بچوں کی پرورش اور ان کی خدمت کی خاطر اپنے جذبات کو کچل کر ازواجی زندگی کی خوشیوں و مسرتوں سے دور رہے کر اپنے آپ کودوسرے شخص سے نکاح کے بندہن میں نہیں باندہتیں، صبرو استقامت عفت وپاکدامنی اور ترک زیب وزینت کو اختیار کر کے اپنی زندگی کے بقیہ ایام کو قربان کرتے اپنے حسن وجمال کو برباد کردیتی ہے تو ایسی حوصلہ مند باہمت عورت کے بارے میں امام الانبیاء رسول اللہﷺنے فرمایا:


أَنَا وَامْرَأَةٌ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ كَهَاتَيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» وَأَوْمَأَ يَزِيدُ بِالْوُسْطَى وَالسَّبَّابَةِ «امْرَأَةٌ آمَتْ مِنْ زَوْجِهَا ذَاتُ مَنْصِبٍ، وَجَمَالٍ، حَبَسَتْ نَفْسَهَا عَلَى يَتَامَاهَا حَتَّى بَانُوا أَوْ مَاتُوا۔


’’وہ عورت کہ جس کا چہرہ ( اپنی اولاد کی پرورش و دیکھ بھال کی محنت اور مشقت کی وجہ سے) سیاہ پڑ گیا ہو قیامت کے دن اسی طرح ہوں گے (اس حدیث کے روای )یزید رحمہ اللہ تعالی نے یہ الفاظ بیان کرنے کے بعد شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کیا ( مطلب یہ تھا کہ جس طرح یہ دونوں انگلیاں ایک دوسرے کے قریب ہیں اسی طرح قیامت کے دن آپﷺاور وہ بیوہ عورت قریب ہوں گے۔ رسول اللہﷺ اور سیاہ چہرے والی عورت کی تشریح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس سے مراد) وہ عورت ہے جو بیوہ ہو گئی ہو اور حسن و جمال عزت ومنصب والی ہونے کی باوجود محض اپنے یتیم بچوں( کی پرورش) کی خاطر دوسرا نکاح کرنے سے باز رہے یہاں تک کہ وہ بچے بالغ ہو جانے کی وجہ سے اپنی ماں کے محتاج نہ رہیں یا موت ان کے درمیان جدائی ڈال دے۔‘‘([41])


ایک اور حدیث میں حضور پُرنورﷺ نے اُس بیوہ کی بے حد ہی تعریف فرمائی جواپنے یتیم بچوں کولئے بیٹھی رہی اور اپنے بچوں کی تربیت میں لگی رہے تو اسکے لیے بڑے اجر کا اعلان فرمایا ہے:


أَيُّمَا امْرَأَةٍ قَعَدَتْ عَلَى بَيْتِ أَوْلادِهَا فَهِيَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ ، وَأَشَارَ بِأصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى۔


’’جو عورت اپنی اولاد پر بیٹھی رہے گی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگی یہ کہہ کر آپﷺنے بیچ کی انگلی اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا(ایسی عورت جنت میں مجھ سے ایسی نزدیک ہو گی جیسے کلمہ والی اُنگلی اور بیچ کی اُنگلی)۔‘‘([42])


ایک دوسری حدیث میں نبیﷺ اس کو ایک واقعہ کی صورت میں بیان فرمایا:


أَنَا أَوَّلُ مَنْ يُفْتَحُ لَهُ بَابُ الْجَنَّةِ، إِلَّا أَنَّهُ تَأْتِي امْرَأَةٌ تُبَادِرُنِي فَأَقُولُ لَهَا: مَا لَكِ؟ وَمَا أَنْتِ؟ فَتَقُولُ: أَنَا امْرَأَةٌ قَعَدْتُ عَلَى أَيْتَامٍ لِي۔


’’ قیامت کے دن سب سے پہلے میں جنت کا دروازہ کھلواؤں گا تو دیکھوں گا کہ ایک عورت مجھ سے پہلے اندر جانا چاہتی ہے۔ میں اُس سے پوچھوں گا کہ تم کون ہو؟ وہ کہے گی میں ایک بیوہ عورت ہوں، میرے بچے یتیم تھے۔‘‘([43])


آپﷺ کے دیکھا دیکھی اور ان بیواؤں سے متعلق وارد فضائل کی وجہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بیوگان سے شادیاں کیں جس کی وجہ سے بے آسرا گھرا نے آباد ہوگئے۔


بیوہ کا عقد ثانی شرعی نقطہ نظر اور مسلمان سوسائٹی میں کبھی معیوب نہیں سمجھا گیا، ہر دؤر میں جلیل القدر علماء کرام بزرگان دین،مصلحین بلا تامل اپنےپیارے محبوب نبی ﷺ کی سنت پے عمل پیرا ہوتے بیوہ عورتوں سے خود شادی کرتے، اور اپنی بیوہ بہنوں اور بیٹیوں کی شادی کراتے تھے، اور تاریخ میں ان کو عزت واحترام کی نگاہ سے یاد کیا جاتا ہے ان میں سےمجاہد اسلام حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کی نمایاں دعوتی خدمات اور امتیازی خصوصیات میں سے ایک نکاح بیوگان کی تحریک کا ہے کہ سید صاحب نے اپنے منجھلے بھائی سید اسحاق کی جوان بیوہ سے نکاح کیا (ان کا صرف ایک بچہ تھا، جس کی عمر بمشکل چھ سات برس تھی) سید صاحب نکاح بیوگان کا اجراء چاہتے تھے احیاء سنت کے احیاء وترویج کے اس جاہلی خیال کے استیصال کے ليے تحریرو تقریرسے بڑھ کرعملی اقدام کی ضرورت تھی،تو سید صاحب کے زمانے میں بیوہ کے نکاح کو بڑے ننگ وعار کی بات اور خلافِ ادب نہایت قبیح وشنیع تصور کیا جاتا تھا، اور بیوہ جو نکاح کر لے اسے بہت ہی نازیبا الفاظ سے مطعون کیا جاتا، سید صاحب نے اس مدتوں سے متروک سنت حضرت خیرالانامﷺ کوعملی جامہ پہنچایا، اس عظیم الشان اصلاحی خدمت کا اثر سینکڑوں خاندانوں،ہزاروں زندہ درگور عورتوں پر پڑا، سید صاحب نے اس پر اکتفاء نہیں کیا؛ بلکہ شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی اور اپنے خلفاء کے نام خط لکھوائے جس میں واقعہ کی اطلاع اوراحیاء سنت کی ترغیب دی جس کی وجہ سے یہ سنت دوبارہ زندہ ہوئی۔([44])


حجۃ الاسلام امام محمد قاسم النانوتوی نوراللہ مرقدہ تیرہویں صدی ہجری کی ان عبقری شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے عالم اسلام کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، مسلمانوں کے اندر رائج بیہودہ اور قبیح رسموں کے خلاف تحریک اصلاح عقد بیوگان کی ترویج بھی ان کا ایک عظیم الشان معاشرتی اور اصلاحی کارنامہ ہے مولانا کی مساعی جمیلہ سے عقد بیوگان کو خوب شیوع ہوا،حضرت نانوتوی نے اپنی بیوہ بہن کو جو عمر میں ان سے بڑی تھیں اور بوڑھی ہوچکی تھیں نکاح پر آمادہ کرکے اس قبیح رسم کو اس طرح توڑدیا کہ اب کوئی یہ بھی نہیں جانتاکہ یہاں کبھی یہ رسم موجود بھی تھی۔([45])


علماء مصلحین نے اس ذہنیت اور جاہلی حمیت کے خلاف زبان وقلم سے تبلیغ کی اور اس موضوع پرسید احمد شہید رحمہ اللہ تعالی نے فارسی زبان میں ایک رسالہ در نکاح بیوگان کے ثبوت وفضیلت اور اس کو فعل قبیح سمجھنے والوں کی مذمت وتردید میں تحریر کرایا تھا، جس کےمتعلق علامہ غلام رسول مہر رحمہ اللہ تعالی نے لکھا ہے کے اس رسالہ کی نقل میرے پاس موجود ہے۔([46]) یہ رسالہ اب تک نہیں چھپا۔اور اپنی دوسری عظیم کتاب صراط مستقیم میں اس مردہ سنت کو زندہ کرنے اور اس کی ترویج پر زور دیا ہےاور بیوہ کے نکاح ثانی کو قبیح سمجھنے کو ہندؤں کی صحبت واختلاط کا نتیجہ قراردیاہے۔


استاذ محترم علامہ محدث محقق ڈاکٹرمولانا عبدالحلیم چشتی دامت برکاتہ فرماتے ہیں کہ فارسی میں ہمیں اس موضوع پر دو رسالوں کا علم ہے، جن میں سے ایک مولانا شاہ رفیع الدین دہلوی کا، دوسرا ان کے بھتیجے شاہ محمد اسماعیل شہید کا، جن کا ترجمہ اردو نواب محمد علی خان بہادر نے تحفۃ المحبین فی اجراء سنۃ سیدالمرسلین کے نام سے کیا تھا۔([47])


مولانا ثنا ء اللہ امرتسری رحمہ اللہ تعالی نے اس سلسلے میں " شادی بیوگان اور نیوگ" کے عنوان سے ایک رسالہ تحریر کیا جس میں مذکورہ مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے ثابت کیا کہ جس طرح غیر مدخولہ کا نکاح ضروری ہے اسی طرح مدخولہ بیوہ کا نکاح ثانی بھی اس کی فطری ضرورت ہے۔ یہ آریہ سماج کی نا سمجھی ہے کہ نصف حصہ کو مانتے ہیں اور بقیہ نصف سے انکار کرتے ہیں۔([48])


علامہ احمد رضا خان بریلوی غفراللہ لہ نے اطائب التھانی فی النکاح الثانی (بیوہ کے نکاح ثانی کے مفصل احکام کے نام سے ایک رسالہ تحریر فرمایا ہے جو فتاوی رضویہ کا حصہ ہے۔ولی کامل حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ تعالی نے اسلام میں نکاح بیوگان کے عنوان سے مختصر رسالہ تحریرکیا (انجمن خدام الدین لاہور سے شائع ہوا ہے جو 16 صفحات پر مشتمل ہے)۔


شمس العلماء مولانا الطاف حسین حالی نے " مناجاتِ بیوہ"کے نام سے 1886م، نظم لکھی جو 26 صفحات پر مشتمل ہے، اس نظم میں ایک کمسن بیوہ کی درد ناک حالت کا نقشہ اس انداز سے کھینچا ہے کہ دل کانپ اُٹھتا ہے، ایک ایک شعر معلوم ہوتا ہے کہ شاعر کا دل چیر کر نکلا ہے اور قاری کے دل میں اترتا چلا جاتا ہے،حالی باوجود مرد ہونے کے ایسا درد بھرے اشعار اور اتنا نازک دل کہاں سے لائے جس نے کم سِن بدنصیب بیوہ عورتوں کے صحیح جذبات و احساسات کو اسطرح محسوس کیا جیسے یہ سب کچھ خود ان پر بیت چکا ہو، اردو میں جتنی یہ مقبول ہوئی اتناہی ہندستان کی دیگر زبانوں میں بھی دیکھتے ہی دیکھتے دس زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوچکاہے۔ کچھ اقتباس مناجات کے یوں ہیں:



دن ہیں بھیانک رات ڈراؤنی



یوں گزری یہ ساری جوانی



کوئی نہیں دل کا بہلا وہ =



آ نہیں چکتا میرا بلا وہ



آٹھ پہر کا ہے یہ جلا پا



= کاٹوں گی کس طرح رنڈاپا​



پیت نہ تھی جب پایا پیتم



= پیت ہوئی تو گنوایا پیتم



یہ مناجات سن 1910 عیسوی میں باہتمام شیخ عبدالعزیز پرنٹر امرتسر ہندستان سے طبع ہو چکی ہے۔


اقوام متحدہ نے2011 سے پہلی مرتبہ ہرسال23جون کو بیواؤں کے عالمی دن (International Widows Day) کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہوا ہے، اس کا مقصد بیواؤں کے حوالے سے عوام میں شعور اور آگہی فراہم کرنا ہے، رپورٹ کے مطابق دنیا میں 245 ملین بیواؤں کی تعداد ہے کہ جو اپنے خاوند کے انتقال کے بعد نہایت مجبوری، کسمپرسی کے عالم میں گزار رہی ہیں، بھارت میں 50ملین جبکہ پاکستان میں 6ملین کے قریب بیوائیں موجود ہیں،رپورٹ کے مطابق ایسی بیوائیں کہ جن کے شوہر گورنمنٹ سروس کے دوران وفات پا جاتے ہیں ان کے لیے تو گورنمنٹ پنشن اور دیگر فنڈز کی مد میں مدد کرتی ہیں، مگر جن کے خاوند پرائیویٹ سیکٹر سے تعلق رکھتے ہیں ،ان کی باقی کی زندگی گزارنے کے لیے کوئی ادارہ موثر طور کام نہیں کر رہا اور ایسی بیواؤں کی تعداد بہت کثرت میں ہے جو نہایت مجبوری اور مایوسی کے عالم میں جی رہی ہیں۔ اس دن کے منانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ایسی بیوہ خواتین اور ان کے بچوں کی فلاح بہبود کے لیے نہ صرف حکومتی سطح پر بلکہ عوامی سطح پر بھی ایسے ادارے قائم کیے جائیں جن سے ان کی سپورٹ اور مدد کی جاسکے۔([49])

(تجاویز)

۱۔ اگرچہ بیوہ بے چاری شرم وحیا کی وجہ سے نکاح ثانی کی خواہش کا اظہار نہیں کرپاتیں، غیرت وشرافت کی وجہ سے نکاح سےپرہیز کریں پھر بھی ہمیں ان سے مناسب طریقہ سے معلوم کر کے ان کی شادی کا بندوبست کرنا چاہیے کیا جائے، اگر وہ نکاح پر مائل نہ بھی ہو تب بھی ورثاء کی ذمہ داری ہے کہ اسے مناسب طریقے سے راضی کریں، اگر اس پر عمل ہوجائے تو ان کا معاشی مسئلہ خود بخود حل ہو جائیگا، جب تک اس پر عمل تھا تو بیوہ اور مطلقہ کا مسئلہ عملا موجود نہ تھا، فی الجملہ ایسی بیوہ عورتوں کی مشابہت رسول اللہﷺ کے ازواج مطہرات رضوان اللہ علیھن کے ساتھ ہوگی،اور وہ اجر کی مستحق ہونگیں۔


۲۔ کوئی بیوہ اپنے خاوند کی وفات کے بعد دوسری شادی کر لے تو اس پر الزامات کی بارش،اور انگلیاں اٹھانے کے بجائے اس عمل پر اس کی حوصلہ افزائی کی جائے، اور ان کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک جامعہ میکینزم بنایا جائے ۔


۳۔ بیوہ کی زندگی خاوند کی موت سے ختم نہیں ہوتی، کے دیگر مذاہب کی طرح جلنے اور رہبانیت کا درس نہیں دیتا بلکہ دین اسلام اس کو اس مصیبت میں صبر کی تلقین کرتا ہے۔


۴۔ حکومت کی طرف سے ایک مستقل ڈپارٹمنٹ اور رفاہی ادارے بناکر ماہانہ بنیادوں پران کے لیے بیت المال سے آسان طریقے سے گزارہ الاؤنس کےنام سے فنڈ کا اجراء کیا۔


۵۔ ان کے بچوں کے لیے حکومتی اداروں/ پرایئوٹ اداروں  میں اعلی تعلیم دینے تک کا مفت بندوبست کیا جائے۔


۶۔ جو مرد حضرات دوسری شادی کا ارادہ رکھتے ہوں تو ان کو بیوہ یا مطلقہ عورتوں سے سنت سمجھ شادی کرنی چاہیے، تا کہ ان بیواؤں اوریتیموں کاتحفظ بھی ہو جائے اور سنت پر اس فساد زمن میں سو شہیدوں کا ثواب بھی مل جائے۔


۷۔ بیوہ اورطلاق یافتہ عورتوں پر ان کے خاندانوں اور معاشرے کی جانب سے ہونے والے بے جا ظلم و زیادتی کی روک تھام کرنے کے لیے سخت قوانین متعارف کرا کر ان سے ظلم وزیادتی کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جائیں۔


۸۔ قاضیوں کو عدالت سے رجوع کرنے والی بیوہ و مطلقہ کے عائلی تنازعات اور ان کی شکایات کا جلد از جلد حل کرنا چاہیے۔


۹۔ بیوہ خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبہ جات میں سلائی اور دستکاری مشینوں کی مفت فراہمی کا بندوبست کیا جانا چاہیے، تاکہ وہ بیوہ محنت مزدوری کر کے اپنااور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے اور معاشی طور پر معاشرے میں باوقارطریقے سے زندگی گزارنے کے قابل ہونگی۔


۱۰۔ مذہبی علماء مصلحین کو اس ہندوانہ تاثر کو ختم کرنے کے لیے عملی جدوجہدکے ساتھ ساتھ منبر ومحراب پر اس پر ہونے والے مظالم ومصائب کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔


۱۱۔ قرآن وسنت کی تعلیمات بالخصوص سیرت طیبہ کی روشنی میں آپﷺکے بتائے ہوئے اصولوں کو مدنظر رکھ کراس صنف کمزور پر مظالم ومصائب کا استحصال کر کے آپﷺ کی خوشنودی کا آسان ذریعہ ہے۔


۱۲۔ خصوصا ملازمین حضرات کو اپنی مدد آپ کے تحت معاشرے میں بہتری تبدیلی لانے کیلئے عملی طور پر اپنی تنخواہ میں سے ماہانہ کچھ مخصوص رقم ان بے سہارا نادار بیواؤں اور ان کی اولاد پر خرچ کریں ۔


۱۳۔ تمام مذاہب کے متبعین کو چاہئے کہ ان تعلیمات کی ترویج وتفہیم کی کوششیں کی جائے جس سے انسانیت کی بہبود وترقی کی حصول کوممکن بنایا جاسکے۔امت وسط ہونے کی بناء پر مسلمانوں پر دوہری ذمہ دارى عائد ہوتی ہے کہ قرآن وسنت کی تعلیمات کی روشنی میں دنیا کے سامنے سماجی فلاح وبہبود کا بہترین نمونہ پیش کریں، تاکہ دنیا سے ظلم استحصال اورغربت وفلاس کا خاتمہ کیا جاسکے۔


۱۴۔ بارگاہ رب العالمین میں دعا ہےکہ ہمیں ان کی مدد کرنے والا اور ان کے دفاع وتحفظ کی ذمہ داری ادا کرنے والا بنائے، اور ہماری تمام آفات و بلیات کو ٹال دے ۔ آمین۔


حوالہ جات

  1. - القرآن: سورہ نحل آیت نمبر 58-59۔ ترجمہ کنز الایمان،مولانا احمد رضا خان
  2. - القرآن: سورہ زخرف آیت نمبر 17۔ ترجمہ شیخ الہند
  3. - القرآن: سورہ تکویر آیت نمبر8-9، ترجمہ بیان القرآن مولانا اشرف علی تھانوی
  4. - ابوداؤد: سنن ابوداوٴد، للامام سلیمان بن اشعث، حدیث نمبر5146، دارالرسالہ العالمیۃ۔ط 1/1430ھ
  5. - حالی: الطاف حسین حالی۔ مسدس ص 14
  6. - الزبیدی: تاج العروس، للعلامہ مرتضی زبیدی ، ج29/101۔ مکتبہ دارالھدایہ
  7. - امام بخاری: صحیح بخاری شریف ، للامام محمد بن اسماعیل بخاری ۔ حدیث نمبر5337، دار طوق نجات بیروت۔ط 1/1422ھ
  8. - سلیمان ندوی، سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم،حصہ 6/429، ادارہ اسلامیات لاہور سن طباعت 2002م
  9. - ابوالحسن الندوی، اسلام میں عورت کا درجہ اور اس کے حقوق وفرائض ، ص 39ناشر جامعہ مؤمنات اسلامیہ لکھنؤ 1999م
  10. - حافظ ضیاء الدین، عورت قبل از اسلام وبعد از اسلام، ص 33-35، تصرف کے ساتھ، :راحت ایجوکیشن کراچی۔2006م
  11. - سلیمان ندوی، سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم،حصہ 6/429، ادارہ اسلامیات لاہور سن طباعت 2002م
  12. - محمد ظفیرالدین،اسلام کا نظام عفت وعصمت ص40۔د ار الاندلس لاہور
  13. - حافظ ضیاء الدین، عورت قبل از اسلام وبعد از اسلام، ص 48-49،راحت ایجوکیشن کراچی۔2006م
  14. - البیرونی، کتاب الہند، ترجمہ سید اصغر علی، ص 506، ناشر الفیصل ناشران لاہور 2005م
  15. - ابن بطوطۃ،تُحفة النُّظار في غرائب الأمصار وعجائب الأسفار المعروف باسم رحلة ابن بطوطةص411-412،دار الفکر بیروت
  16. - ابوالحسن الندوی، اسلام میں عورت کا درجہ اور اس کے حقوق وفرائض ، ص 37، ناشر جامعہ مؤمنات اسلامیہ لکہنؤ 1999م
  17. - خالدعلوی، اسلام کا معاشرتی نظام، ص 468، ناشر الفیصل ناشران لاہور 2009م
  18. - انسائیکلوپیڈیا آف مذہب واخلاق۔۲۷۱،بحوالہ اسلام میں عورت کادرجہ اوراس کامقام ص 34
  19. - وجاہت مسعود، آرٹیکل، بی بی سی نیوز لندن، 14 دسمبر 2005م
  20. - سورہ بقرہ آیت نمبر 240، ترجمہ معارف القرآن
  21. - سورہ بقرہ آیت نمبر 234، ترجمہ معارف القرآن
  22. - ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم ج3/396-397، تحقیق:مصطفى السيد محمد دار النشر : مؤسسة قرطبة بیروت
  23. - سورہ نساء آیت نمبر 19، ترجمہ شاہ عبدالقادر
  24. - ابوداؤد۔ سنن ابی داؤد، سلیمان بن اشعث،حدیث نمبر2891، الناشر:دار الرسالة العالمية بیروت،ط1/2009م
  25. - ابوداؤد: سنن ابوداوٴد، للامام سلیمان بن اشعث، حدیث نمبر2178
  26. - دارقطنی،امام ابوالحسن علی بن عمر،سنن دارقطنی،حدیث نمبر3984،مؤسسة الرسالة بيروت،ط1/1424
  27. - احمد،مسنداحمدبن حنبل،حدیث نمبر22379، مؤسسة الرسالة بيروت،ط1/1421ھ
  28. - سورہ بقرہ آیت نمبر 231-232، ترجمہ عرفان القرآن
  29. - عثمانی،علامہ شبیر احمد عثمانی، تفسیر عثمانی ص 46
  30. - مفتی شفیع عثمانی، مفتی محمد شفیع عثمانی، معارف القرآن ج1/577
  31. - سورہ بقرہ آیت نمبر 241، ترجمہ معارف القرآن
  32. - سورہ النور آیت نمبر32، ترجمہ کنز الایمان
  33. - ابن منصور، سنن سعید بن منصور،حدیث نمبر493،تحقیق حبیب الرحمن اعظمی، دارالکتب العلمیہ بیروت
  34. - الھیتمی، مجمع الزوائد، للعلامہ نورالدین الھیتمی، حدیث نمبر7311 ، دارالکتب العلمیہ بیروت
  35. - امام ترمذی، سنن ترمذی، للامام ابی عیسی الترمذی، حدیث نمبر171، ناشر مصطفى البابي الحلبي ، مصر،ط2/1975
  36. - مسلم، امام مسلم بن حجاج، صحیح مسلم حدیث نمبر(2982)دار إحياء التراث العربي بيروت
  37. - بخاری، امام محمد بن اسماعیل، صحیح بخاری،حدیث نمبر(6006)، تحقیق محمد زهيرناصر،دارطوق النجاة
  38. - بخاری، امام محمد بن اسماعیل، صحیح بخاری،حدیث نمبر(963)، تحقیق محمد زهيرناصر،دارطوق النجاة
  39. - نسائی، امام احمد بن شعیب،سنن نسائی، حدیث نمبر(1414)مكتب المطبوعات الإسلاميةحلب،ط2/1406ھ
  40. - بخاری، امام محمد بن اسماعیل، ادب المفرد،حدیث نمبر(80) دارالبشائرالإسلامية بيروت۔ط3/1989م
  41. - ابوداؤد، امام سلیمان بن اشعث، سنن ابی داؤد،حدیث نمبر(5149)محمد محی الدین المكتبة العصرية بيروت
  42. - ابن بشران۔ابوقاسم بشران،امالی ابن بشران،حدیث نمبر(869)الناشر،دار الوطن الرياض،ط1/1418ھ
  43. - ابویعلی، امام ابویعلی الموصلی، مسند ابویعلی،حدیث نمبر(6651) دارالمأمون للتراث دمشق۔ط/1401ھ
  44. - غلام رسول مہر، سوانح سید احمد شہید ص 144-148)ناشر غلام علی سنزلاہور،ط3/1968م
  45. - سید محبوب رضوی، تاریخ دارالعلوم دیوبند ص120-121،، المیزان ناشر ان وتاجران کتب لاہور 2005م
  46. - غلام رسول مہر، سوانح سید احمد شہید ص 144-148)ناشر غلام علی سنزلاہور،ط3/1968م
  47. - النعمانی، ڈاکٹرعبدالحلیم چشتی،سید احمد شہید کی اردو تصانیف، ص41)الرحیم اکیڈمی کراچی ط2/1986م
  48. - امرتسری،مولانا ثناء اﷲ، شادی بیوگان اور نیوگ، بحوالہ:مولانا محمد داؤد راز دہلوی. حیات ثنائی.ط: ادارہ نور الایمان، اجمیری گیٹ، دہلی، ص 312
  49. - The Global World Report, A Global overview of Deprivation Faced by Widows and their Children.March.2015. The Loomba Foundation.