Playstore.png

علّامہ ابن الجوزی کی تفسیر (زاد المسیر فی علم التفسیر) میں اشعار سے استشہاد کا علمی اور تحقیقی جائزہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search

Warning: Page language "ur" overrides earlier page language "".

کتابیات
مجلہ مجلہ علوم اسلامیہ و دینیہ
عنوان علّامہ ابن الجوزی کی تفسیر (زاد المسیر فی علم التفسیر) میں اشعار سے استشہاد کا علمی اور تحقیقی جائزہ
انگریزی عنوان
A View of Cross-Referencing from Arbic Poetry in Tafsār Zād Al Masīr by Ibn Al Jawzī
مصنف الازہری، محمد ریاض خان، محمد اسرار
جلد 1
شمارہ 2
سال 2016
صفحات 93-107
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Tafsār Zād Al Masīr, Ibn Al Jawzī, Arabic Poetry
شکاگو 16 الازہری، محمد ریاض خان، محمد اسرار۔ "علّامہ ابن الجوزی کی تفسیر (زاد المسیر فی علم التفسیر) میں اشعار سے استشہاد کا علمی اور تحقیقی جائزہ۔" مجلہ علوم اسلامیہ و دینیہ 1, شمارہ۔ 2 (2016)۔
کتاب التجرید میں امام قدوری کا منہج و اسلوب
پاکستان میں رائج جبری شادیوں کا تعارف اور شرعی جائزہ
بیسویں صدی کی معروف بائبلوں کے تصور جہنم کا تجزیاتی اور بیانی مطالعہ
نظریہ فوقیت یا نسلی برتری: مذاہب عالم اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک جائزہ
بہاء اللہ کی تعلیمات میں علمی سرقات کا تنقیدی جائزہ
عِبَادَتْ اور اسْتِعانَتْ سورۃ الفاتحۃ کی روشنی میں
علّامہ ابن الجوزی کی تفسیر (زاد المسیر فی علم التفسیر) میں اشعار سے استشہاد کا علمی اور تحقیقی جائزہ
ذخیرہ اندوزی سے متعلق ہندومت، یہودیت اور اسلام کے احکام کا جائزہ
التماسك النصي وعلاقته بالنص القرآني دراسة نظرية في ضوء التراث النقدي والبلاغي
استدراكات الحافظ ابن حجر في فتح الباري على الإمام الكرماني في الكواكب الدراري في الحكم على المتون
المجتمع في أدب المنفلوطي الإبداعي
ملامح البديع و البيان في آيات سورة الرحمن
محاورة المرسلين مع أهل القرية دراسة بلاغية تحليلية فى آيات من سورة يس
العلامة محمد إقبال في عيون الأدباء العرب
الوحدة العضوية في القصيدة العربية قديما وحديثا
Conflict Between Religions a Study of Modern Approaches in Sῑrah Writing
Tradition and Modernity within Islamic Civilization

Abstract

This paper describes that if we want to know about poetry we must understand that out of context we can never arrive at our destination. The Qur‘ān should be read and understood in totality of its message and spirit. Its verses are local and universal. Some verses are in local environments but leave universal and external message. The verses of Sūrah Yāsīn and Sūrah Najm related to poetry clearly exhibit the truth that God rejected the claim of the infidels who regarded the Qur‘ān as the book of poetry and Prophet Muhammad as a poet. It is an apt reply to the infidels that Qur‘ān is a message of God with a serious mission and motto. The Holy prophet used to ask people to recite the Holy poetry of Abu ║ālib. ╓assān bin thābit used to recite ‘Nāt’ in the presence of the Prophet. They enhanced the divine mission of the prophets through their facile pen and noble spirit. Hence in the light of above brief dissertation we can profess that Islam does not oppose poetry if it is written on didactic and divine lines.

تمہید

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے جو خاتم الانبیاء محمد ِ مصطفی ﷺ پر نازل ہوئی۔ اس کی زبان خا لص عربی زبان ہےارشاد ربّانی ہے: إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ۔[1]

ترجمہ: ہم نے اس کو اتارا ہے قرآن عربی زبان کا تاکہ تم سمجھ لو۔

دوسری جگہ ارشاد ہے: قُرْآنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ۔[2]

ترجمہ:قرآن ہے عربی زبان کا جس میں کجی نہیں تاکہ وہ بچ کر چلیں۔

عربی زبان کو اللہ تعالیٰ نے جو خصوصیات و امتیازات دی ہیں وہ دنیا کی کسی زبان میں نہیں پائی جاتیں اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے عربوں کو بھی بعض ایسی خصوصیات عطاء فرمائی تھیں جن کی نظیر دوسری اقوام میں ملنا مشکل ہے، ان خصوصیات میں سے ایک حافظہ کی قوت تھی۔ چنانچہ عربوں کو اللہ تعالٰی نے ایسا حافظہ دیا تھا کہ ایک ہی مجلس میں سو سو اشعار کا قصیدہ سنتے تو انہیں فوراً یاد ہو جاتا ۔

قتادہ ؒکے بارے میں آتا ہے کہ آپ سعید بن المسیبؒ کے مجلس میں آئے اور کئی دنوں تک آپ سے سوالات کرتے رہے ،ایک دن سعید بن المسیبؒ نے اس سے پوچھا کہ جو کچھ آپ نے مجھ سے سنا ہے وہ سب یاد ہیں؟ قتادہؒ نے جواب دیا : ہاں، سعید بن المسیبؒ بہت متعجب ہوئے تو قتادہؒ نے کہا: میرا سوال یہ تھا اور آپ کا جواب یہ تھا حتی کہ اس نے مجلس میں جو کچھ سنا تھا سب بتا دیا اس پر سعید بن المسیبؒ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ جیسا کسی کو پیدا نہیں کیا ہے۔ایک مرتبہ فرمایا: میرے پاس قتادہؒ سے زیادہ بہتر کوئی عراقی نہیں آیا ہے۔ایک مرتبہ قتادہؒ کے سامنے جابررضی اللہ عنہ کا صحیفہ پڑھا گیا تو وہ آپ کو یادہوگیا۔[3]

عربی زبان کی خصوصیات کی وجہ سے عربی زبان کو کافی اہمیت حاصل ہے اور اس اہمیت کے پیش نظر رسول اللہ ﷺنے عربوں کے ساتھ محبت کرنے کا حکم فرمایا ہے:

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحِبُّوا الْعَرَبَ لِثَلَاثٍ: لِأَنِّي عَرَبِيٌّ وَالْقُرْآنَ عَرَبِيٌّ وَكَلَامَ أَهْلِ الْجَنَّةِ عَرَبِيٌّ " [4]

ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین وجہ سے عربوں کے ساتھ محبت کرو کیونکہ میں عربی ہوں قرآن عربی زبان میں ہے اور اہلِ جنت کی زبان بھی عربی ہوگی۔

اس کے ساتھ عربی ادب میں اشعار کو کافی اہمیت حاصل ہے کیونکہ کلام اللہ اور احادیث نبویہ کے فہم میں اشعار کو کافی عمل دخل ہے۔اشعار کی اہمیت کے لئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ مقولہ کافی ہے۔ آپ کا ارشاد ہے:

فقال عمر: أيها الناس، عليكم بديوانكم لا يضل. قالوا: وما ديواننا؟ قال: شعر الجاهلية، فإن فيه تفسير كتابکم۔[5]

ترجمہ:اے لوگوں!اپنے اوپر اپنی دیوان لازم کرلو،بھٹکو گے نہیں،لوگوں نے عرض کیا،ہمارا دیوان کیا ہے؟عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :جاہلی اشعار کیونکہ اس میں تمہاری کتاب کی تفسیر ہے۔

شعر کی اس اہمیت کو مدِ نظر رکھ کر مفسرین حضرات نے آیات کی تفسیر میں جگہ جگہ اشعار بطورِ استشہاد ذکر کئے ہیں۔علامہ ابن الجوزیؒ بھی اپنی تفسیر میں مختلف مقامات پر استشہاد کے لئے اشعار پیش کرتے ہیں،زیرِ نظر سطور میں شعر سے متعلق ضروری مباحث ذکر کرنے کے بعد تفسیر زاد المسیر میں اشعار سے استشہادکا علمی اور تحقیقی جائزہ پیش کیا جائے گا۔

شعر کا لغوی معنی:

شعر بابِ "نصر"اور بابِ "کرم" سے مستعمل ہے۔ جب اس کے صلہ میں با آجائے تو اس کا معنی" جاننا اور محسوس کرنا" ہوتاہے اور جب ا س کے صلہ میں لام آجائے تو اس کےمعنی "سمجھنے" کے آتا ہے ۔[6]

لفظ شعر کو عموماً"شعور "کا مترادف سمجھا جاتا ہے جس کا مطلب کسی چیز کا علم یا ادراک واحساس رکھنا ہے۔ چنانچہ"لیت شعر ی"کا مطلب ہے "لیت علمی"کاش مجھے اس بات کا علم ہوتا۔ اس اعتبار سے شاعر کا لفظی مطلب صاحبِ علم وادراک یا صاحبِ شعور ہوا۔ لسان العر ب میں ہے کہ شاعر اسی لیے شاعر ہے کہ وہ ان امور کا شعور یا علم رکھتاہے جن کا شعور دوسرے نہیں رکھتے۔[7]

شعر کی اصطلاحی تعریف:

شعر کی اصطلاحی تعریف یہ ہے۔ الكلام الموزون المقفى قصدا۔ [8]

ترجمہ: وہ کلام جیسے ارادتاً وزن اور قافیے کی قید میں لایا جائے ،

شعر کے بارے میں اسلامی نقطہءنظر:

قرآن ونت کامطالعہ کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ ایسے اشعار جو غیر شرعی الفاظ اور کنایات پر مشتمل نہ ہو شریعت ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے بالخصوص وہ اشعار جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ،رسول اللہﷺ کی رسالت ، اخلاقی وشرعی ہدایات اور اسلامی تعلیمات پر مشتمل ہوں ان میں اسلام کی ا لفت کا بیان اور آخرت کے تذکرے ہوں تو ایسے اشعار کہنے کا اسلام نہ صرف اجازت دیتا ہے بلکہ ایسے اشعار کہنے والوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے۔ایسے ہی اشعار کے بارے میں حضورﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:ان من الشعر حکمة۔[9]

ترجمہ :بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں۔

اورجن روایات میں شعر وشاعری کی مذمت آئی ہے ،ان سے مقصود یہ ہے کہ اشعارمیں اتنا مصروف اور منہمک ہو جائے کہ ذکراللہ ،عبادت اور قرآن سے غافل ہوجائے نیز یہ کہ وہ اشعار فحش گوئی ،زبان درازی اور غیر شرعی اقوال پر مبنی ہوں۔

امام بخاری ؒ نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں اس بات کو مستقل عنوان کے تحت ذکر کیا ہے اور اس میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ روایت ذکر کیا ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:«لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا يَرِيهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا»[10]

ترجمہ: کوئی آدمی اپنا پیٹ پیپ سے بھرلے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اپنا سینہ اشعار سے بھرلے۔

امام بخاری ؒ فرماتے ہیں : میرے نزدیک یہ وعید اس صورت میں ہے جب شعر میں انہماک اللہ تعالیٰ کےذکر ،قرآن اور علم کے مقابلہ میں زیادہ ہو،لیکن اگر شعر مغلوب ہے تو پھر برا نہیں۔

اسی طرح وہٍ اشعار جو فحش مضامین یا لوگوں پر طعن وتشنیع یا دوسرے خلافِ شرع مضامین پر مشتمل ہوں وہ باجماعِ امت حرام اور نا جائز ہیں اور یہ حکم شعر کے ساتھ مخصوص نہیں جو نثر کلام ایسا ہو اس کا بھی یہی حکم ہے۔[11]

سورۂ شعراء کی آیت کا سببِ نزول:

وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا وَانْتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ ۔[12]

ترجمہ: اور شاعروں کی بات پر چلیں وہی جو بے راہ ہیں تو نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر میدان میں سر مارتے پھرتے ہیں اور یہ وہ کہتے ہیں جو نہیں کرتے مگر وہ لوگ جو یقین لائے اور کام کئے اچھے اور یاد اللہ کی بہت اور بدلہ اس کے پیچھے کہ ان پر ظلم ہوا اور اب معلوم کرلیں گے ظلم کرنے والے کہ کس کروٹ الٹتے ہیں۔

جب سورہ شعراءکی یہ آیتیں نازل ہوئیں تو سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا حسّان بن ثابت رضی اللہ عنہ اور سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ جو شعراء صحابہ تھے ،روتے ہوئے سرکار دوعالمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا"یا رسول اللہ ﷺ:اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی ہیں اور ہم بھی شعر کہتے ہیں۔حضور ﷺ نے فرمایا : ان آیات کے آخری حصے کو پڑھو۔[13]

رسول اللہ ﷺ کامقصد یہ تھا کہ تمہارے اشعار بے ہودہ اور غلط مقصد کے لیے نہیں ہوتے اس لئے تم اس استثناء میں داخل ہو جو آخری آیت میں مذکور ہے۔

مفسرینؒ فرماتے ہیں : ابتدائی آیات میں مشرکین شعراءمراد ہیں کیونکہ گمراہ لوگ،سرکش شیاطین اور نافرمان جن ان مشرکین شعراءکے اشعار کی اتباع اور روایت کرتے تھے۔[14]

آپﷺ اور شاعری:

آپﷺ شرعی اور اخلاقی تعلیمات پر مشتمل اشعار کو پسند فرمایا کرتے تھے اور ایسے اشعار کہنے والوں کی حوصلہ افزائی بھی فرماتے تھے۔بطور نمونہ چند روایات پیش کی جاتی ہیں:

1۔ عمرو بن شریدؒ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے مجھ سے امیہ بن ابی الصلت کے سوقافیے تک اشعارسنے تھے۔[15]

2۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:عربوں کا سب سے بہترین شعر لبید کا یہ مصرع ہے : ألا كل شيء ما خلا الله باطل۔[16]

ترجمہ:یادرکھو !اللہ کے علاوہ ہر چیز باطل اور بے بنیاد ہے ۔

3۔ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بیٹھاکرتے تھے ،آپ ﷺ کے اصحاب آپ کو اشعارسناتے اور زمانہ جاہلیت کی باتیں کیا کرتے تھے۔آپﷺخاموش رہتے اور کبھی کبھار تبسم فرمایا کرتے تھے۔[17]

4۔ ایک مرتبہ حسّان بن ثابت رضی اللہ عنہ مسجد میں بیٹھے اشعار سنارہے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا تو فرمایا:ارے حسّان!یہ کیا تم مسجد میں بیٹھ کر اشعار پڑھ رہے ہو ؟ حضرت حسّان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا:

«قَدْ كُنْتُ أُنْشِدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ» أَوْ «كُنْتُ أُنْشِدُ فِيهِ، وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ» ۔[18]

ترجمہ: میں اس مسجد میں اس ذات کو اشعار سنایا کرتا تھا جو تم سے بہتر تھے یعنی رسول اللہ ﷺ۔

5۔ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:الشِّعْرُ بِمَنْزِلَةِ الْكَلَامِ، حَسَنُهُ كَحَسَنِ الْكَلَامِ، وَقَبِيحُهُ كَقَبِيحِ الْكَلَامِ۔[19]

ترجمہ: عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے نبی کریمﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ شعر ایک کلام ہے اگر اس کا مضمون اچھا اور مفیدہے تو شعر اچھا ہے اور مضمون برایا گناہ کا ہے تو شعر برا ہے۔

6۔ نبی کریم ﷺ کا یہ شعر بھی ملاحظہ فرمائے: إن من الشعر حکمة۔[20]

ترجمہ: بعض شعر حکمت ہوتے ہیں۔

مشاہیرِ اسلام اور شاعری:

ذیل میں چند اقوال وآثار پیش کئے جارہے ہیں جن کے مطالعے سے اسلام میں مثبت اور بامعنی شاعری کی حوصلہ افزائی اور مشاہیرِِ اہلِ اسلام کا طرز بخوبی معلوم ہوگا۔

1۔ عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعَ مُطَرِّفًا قَالَ: صَحِبْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ مِنَ الْكُوفَةِ إِلَى الْبَصْرَةِ، فَقَلَّ مَنْزِلٌ يَنْزِلُهُ إِلَّا وَهُوَ يُنْشِدُنِي شِعْرًا ۔[21]

ترجمہ:مطرفؒ روایت کرتے ہیں کہ میں نے کوفہ سے بصرہ تک سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ[22] کے ساتھ سفر کیا ہر منزل پر وہ شعر سناتے تھے۔

2۔ أَسْنَدَ الطَّبَرِيُّ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنْ كِبَارِ الصَّحَابَةِ وَمِنْ كِبَارِ التَّابِعِينَ أَنَّهُمْ قَالُوا الشِّعْرَ وَأَنْشَدُوهُ وَاسْتَنْشَدُوهُ۔[23]

ترجمہ: طبریؒ نے کبار صحابہ اور کبار تابعین کے متعلق کہا ہے کہ وہ شعر کہتے سنتے اور سناتے تھے۔

3 ۔ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: الشِّعْرُ مِنْهُ حَسَنٌ وَمِنْهُ قَبِيحٌ، خُذْ بِالْحَسَنِ وَدَعِ الْقَبِيحَ، وَلَقَدْ رَوَيْتُ مِنْ شِعْرِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَشْعَارًا، مِنْهَا الْقَصِيدَةُ فِيهَا أَرْبَعُونَ بَيْتًا، وَدُونَ ذَلِكَ[24]

ترجمہ:سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: بعض اشعار حسن ہیں اور بعض قبیح ہیں لہذ آپ حسن کو لے لیں اور قبیح کو چھوڑ دیں اور میں کعب بن مالک رٖٖٖٖضی اللہ عنہ کے اشعار کو روایت کرتی ہوں،ان میں سے بعض قصیدے چالیس ابیات کے ہوتے ہیں اور بعض اس سے کم۔

4۔وَكَانَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَحَدُ فُقَهَاءِ الْمَدِينَةِ الْعَشَرَةِ ثُمَّ الْمَشْيَخَةِ السَّبْعَةِ شَاعِرًا مُجِيدًا مُقَدَّمًا فِيه۔[25]

ترجمہ: مدینہ منورہ کے فقہاءِ عشرہ میں سے ایک عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعودؒ تھے جومشہور اور قادر الکلام شاعر تھے

5۔قاضی زبیر بن بکاّرؒکے اشعار مختلف کتابوں میں جمع ہیں ۔[26]

6۔ قَالَ أَبُو عُمَرَ: وَلَا يُنْكِرُ الْحَسَنَ مِنَ الشِّعْرِ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَلَا مِنْ أُولِي النُّهَى، وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ كِبَارِ الصَّحَابَةِ وَأَهْلِ الْعِلْمِ وَمَوْضِعِ الْقُدْوَةِ إِلَّا وَقَدْ قَالَ الشِّعْرَ، أَوْ تَمَثَّلَ بِهِ أَوْ سَمِعَهُ فَرَضِيَهُ مَا كَانَ حِكْمَةً أَوْ مُبَاحًا۔[27]

ترجمہ: اچھے مضامین پر مشتمل اشعار کو اہل علم اور اہل عقل میں سے کوئی برا نہیں کہ سکتا،کیونکہ اکابر صحابہ جو دین کے مقتدا ہیں ان میں کوئی بھی ایسا نہیں جس نے خود شعر نہ کہے ہوں یا دوسرے کے اشعار نہ پڑھے یا سنے ہوں اور پسند کیا ہو۔

7۔ عَنِ البَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ: «اهْجُهُمْ - أَوْ هَاجِهِمْ وَجِبْرِيلُ مَعَكَ»[28]

ترجمہ:سیدنا براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان الفاظ میں دعا دی۔"مشرکین کو ان کی ہجو کا جواب دو،جبرائیل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں۔"

8۔ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَاءِ المُشْرِكِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَكَيْفَ بِنَسَبِي» فَقَالَ حَسَّانُ: لَأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعَرَةُ مِنَ العَجِينِ۔[29]

ترجمہ: سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضورﷺ سے اس بات کی اجازت مانگی کہ وہ مشرکین کی ہجو بیان کریں، حضور ﷺ نے فرمایا:میرے نسب کا کیا کرو گے، حسّان نے عرض کیا: میں آپ کو قریش میں سے ایسی عمدگی اور خوبصورتی سے نکالوں گا جیسے آٹے سے بال نکالا جاتا ہے۔

امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کی حالاتِ زندگی:

مفسرینِ کرام اور واعظینِ عظام میں ایک نام اما م عبد الرحمن بن علی بن محمد الجوزیؒ کی ہے۔آپ کی کنیت ابو الفرج اور لقب جمال الدین ہے۔تاریخِ پیدائش کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔بعض کے نزدیک508ھ ، بعض کے نزدیک509ھ اور بعض کے نزدیک510 ہیں اور وفات 597ھ ہیں۔ آپ بغداد کے رہنے والے جلیل القدر حافظِ حدیث،عالمِ عراق اور واعظِ آفاق تھے، سلسلہءنسب سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے،حنبلی مسلک سے وابستہ تھے۔امام احمد بن حنبلؒ کے قبر کے قریب باب الحرب میں مدفون ہیں۔

زادالمسیر فی علم التفسیر کا علمی مقام:

ابن جوزی رحمہ اللہ کو مختلف علوم و فنون پر اہم اورمفید تالیفات کےساتھ ساتھ قرآن کی تفسیرکا شرف بھی حاصل ہے۔ابن جوزی رحمہ اللہ نے تین تفاسیر تالیف کی ہے۔ جن میں مفصل تفسیر"المغنی" اورمختصرتفسیر"تذکرۃ الاریب فی تفسیر الغریب" اورمتوسط تفسیر" زاد المسیر فی علم التفسیر "ہے۔ یہ تفسیر کئی مرتبہ شائع ہوچکی ہے یہ چار جلدوں پر مشتمل دارالکتاب العربی بیروت سے پہلی مرتبہ2001ء میں شائع ہوئی۔

زادالمسیر فی علم التفسیر میں روایات وآثار،سلف کے اقوال اورلغت سے استشہاد کیاگیاہے۔ آیات کی تفسیر کے موقع پر قراءت متواترہ اور شاذہ دونوں بیان کیا گیا ہے اورآیت کا سببِ نزول ،ناسخ ومنسوخ آیات اورفقہی مسائل کو بقدرضرورت بیان کیاگیاہے۔

سبب ِتالیف:

زادالمسیر فی علم التفسیر کی ابتدا میں ایک مقدمہ درج ہے جس میں حمد وثناء کے بعد ابن الجوزی رحمہ اللہ نے خود سبب ِتالیف بیان کیا ہیں ، چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

”وانی نظرت فی جملۃ من کتب التفسیر فوجدتھا بین کبیر قدیئس الحافظ منہ وصغیر لایستفاد کل المقصود منہ والمتوسط منھا قلیل الفوائد عدیم الترتیب وربما اھمل فیہ المشکل وشرح غیر الغریب فاتیتک بھذا المختصر الیسیر منطویا علی العلم الغزیر وسمتہ بزادالمسیر فی علم التفسیر“[30]

ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اس عبارت میں تین قسم کی تفاسیر کی طرف اشارہ کیاہے پہلی جو زیادہ مفصل ہوجن کا ضبط کرنا مشکل ہے ،دوسری قسم مختصر جس سے معانی کی وضاحت پوری نہیں ہوتی،تیسری متوسط جو مختصرہو اور بہت سے علوم کے لئے جامع ہو ۔

اب مندرجہ ذیل سطور میں ہم زاد المسیرمیں مذکوراشعار سے ابن الجوزی رحمہ اللہ کےاستشہاد واستدلال کا تحقیقی جائزہ پیش کر رہے ہیں۔

الف۔لغت میں اشعار عرب سے استشہاد:

امام ابن الجوزی ؒ نے جابجا لغت کے اثبات کے لئے اشعار سے استشہاد کیا ہے ۔کسی آیت کی تفسیر کے دوران جہاں کہیں مشکل لفظ آتا ہے تو امام ابن الجوزی ؒ پہلے اس لفظ کا معنی بیان کرتے ہیں پھر اس کے لیے اشعارِعرب بطورِ استشہاد پیش کرتے ہیں جس سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ شاعر کے نزدیک بھی اس لفظ کا لغوی معنی یہی ہے اور اس قسم کے اشعار کا ذخیرہ ابن الجوزی ؒ کی تفسیر میں بہت پایا جاتا ہے۔ چنانچہ آپ کی تفسیر کے مطالعہ سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے ۔

ذیل میں چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں جن سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ابن الجوزی ؒ لغوی معنی کے اثبات کے لئے اشعار کو بطور استشہاد پیش کرتے ہیں۔

1۔ سورۂ انعام آیت نمبر: 25میں آتا ہے : وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ وَجَعَلْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَنْ يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا۔اس آیت میں ابن الجوزی ؒ"الوقر "کا معنی یوں بیان کرتے ہیں "«الوقر» : ثِقَلُ السمع، يقال: في أذنه وَقْر، وَقد وُقِرَتِ الأذن تُوْقَر.یعنی "وقر" کا لغوی معنی کان کا بوجھ یا بوجھل ہونا ہے۔ اس کے بعد بطور استشہاد شاعر(مثقب عبدی)[31] کا یہ شعر پیش کیا ہے: وكلامٌ سيّئ قد وُقِرَتْ ... أُذُني عنه وما بي من صَمَمْ۔ [32]

ترجمہ: بُرے کلام سے میرے کان بوجھل ہوگئے ،حالانکہ میں بہرا نہیں ہوں۔

2۔ سورۂانعام آیت نمبر: 31 "قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِلِقَاءِ اللَّهِ حَتَّى إِذَا جَاءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً " الخ میں "بَغْتَةً " کا معنی بیان کرتے ہیں،، البغتۃ الفجاءۃ،قال الزجاج :کل ما اتی فجاۃ فھو بغت یقال: قد بغته الأمر يَبْغَتُه بَغْتاً وبغتةً: اذا اتاہ فجاۃ۔ یعنی بغتۃ کا معنی یہ ہے کہ کوئی چیز اچانک آجائے ۔ اسی معنی کے اثبات کے لیے ابن الجوزیؒ نے بطور استشہاد یہ شعر پیش کیا ہے جس میں شاعر (یزید بن ضبہ الثقفی)[33]نے اچانک آنے والی مصیبت کے لئے لفظ "البغت " استعمال کیا ہے۔

شاعر کہتا ہے : وَلكَنَّهم بانُوا وَلَمْ أَخْشَ بَغْتَةً ... وَأَفْظَعُ شيءٍ حِينَ يَفْجَؤُكَ البَغْتُ۔[34]

ترجمہ: لیکن وہ جدا ہوئے اور میں اچانک آنے والی مصیبت سے نہیں ڈرتا۔اور زیادہ ڈرانے والی چیز جو آپ کو درد دے وہ مصیبت کا اچانک آنا ہے۔

3۔ سورۂ انعام آیت نمبر :44"فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ" میں "مبلسون" کا معنیٰ بیان کرکے لکھتے ہیں کہ مبلس کے مرادمیں پانچ اقوال ہیں : ایک معنی یہ ہے کہ اس سے مرادوہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نا امید ہو ۔چنانچہ فراء[35] کا قول ہے: کہ مبلس اس نا امید کو کہا جاتا ہے جس کی امید ختم ہوچکی ہو، اور اسی وجہ سے اس آدمی کے بارے میں، جو دلیل نہ ہونے کے وقت خاموش ہو جائے اور اس کے پاس کوئی جواب نہ ہو،کہا جاتاہے ، قد ابلس یعنی وہ نا امید ہوا اور اس سے کوئی جواب نہ بن سکا۔ اس معنیٰ کے استشہاد کے لئے عجاج[36] کا یہ شعر پیش کیا ہے:

قال الشاعر:يا صَاحِ هَلْ تعْرِفُ رَسْماً مُكْرَساً ... قَالَ نَعَمْ! أعْرِفُه! وأبْلَسَا۔[37]

ترجمہ: اے دوست!کیا تو گھر کے مٹے ہوئے نشانات جانتا ہے جہاں اونٹوں نے بول و براز کیا ہو، اس نے کہا: ہاں میں اسے جانتا ہوں اور اس نے غم کی وجہ سے کوئی جواب نہ دیا۔

4۔سورۂ آلِ عمران آیت نمبر : 52 " فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسَى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ " کی تفسیر میں"حواریون" کے معنیٰ میں چھ اقوال ذکرکرتے ہیں، جن میں چوتھا قول یہ ہے کہ" حوارین" کا معنیٰ مجا ہدین ہے ۔ اس کے استشہاد میں ابن الجوزیؒ نے یہ شعر پیش کیا ہے:

ونحن أناسٌ يملأ البَيض هامنا ... ونحن حواريون حين نزاحف

جَماجِمُنا يوم اللقاء تراسُنا ... إِلى الموت نمشي ليس فينا تحانف۔[38]

ترجمہ:ہم ایسے لوگ ہیں کہ ہماری کھوپڑیوں کو خود ڈھانپ لیتی ہے اور جب جنگ کرتے ہیں تو ہم مجاہد ہوتے ہیں ۔

اورہماری کھو پڑیاں جنگ کے دن ہمارے ڈھال ہوتے ہیں ہم موت کی طرف دوڑتے ہیں دشمن کے سامنے جھکتےنہیں۔

5۔ سورۃ الانبیاءکی آیت نمبر:95 " وَحَرامٌ عَلى قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها أَنَّهُمْ لا يَرْجِعُونَ" میں حرام کے معنی میں علامہ ابن الجوزی ؒ نے دو قول ذکر کئے ہیں ایک یہ کہ حرام یہاں پر واجب کے معنی میں ہے اور استشہاد کے لئے ابن الجوزیؒ نے یہ شعر پیش کیا ہے:

فَإنَّ حَرَاماً لاَ أَرَى الدَّهْرَ بَاكِياً ... عَلَى شَجْوِه إِلاَّ بَكَيْتُ على عَمْرو[39]

ترجمہ:بے شک واجب یہ ہے کہ میں زمانہ کو اس حال میں دیکھتا ہوں کہ وہ اس کے غم اورمصیبت پر نہیں روتی مگر میں عمرو کے مصیبت پر روتا ہوں۔

ب۔ بلاغت میں اشعار عرب سے استشہاد:

ابن الجوزی ؒنے مختلف مقامات پر بلاغت کے سلسلے میں بھی اشعارِ عرب سے استشہاد واستدلال کیا ہے ، قرآن کریم چونکہ فصاحت وبلاغت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہے جس کا مقابلہ عرب کے فصحاء وبلغاء باوجود قرآن مجید کے بار بار چیلنج کے نہ کرسکے۔ مرو ی ہے کہ مشہور اور مایہ ناز انشاء پرداز ابن المقفع[40] نے ایک مرتبہ قرآن کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کیا، تو اس نے ایک بچے کو قرآن پاک کی اس آیت کو تلاوت کرتے ہوئے سنا:

وَقِيلَ يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَيَا سَمَاءُ أَقْلِعِي وَغِيضَ الْمَاءُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِيِّ وَقِيلَ بُعْدًا لِلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ۔[41]

ترجمہ:اور حکم آیا! اے زمین نگل جااپنا پانی اور اے آسمان!تھم جااور سوکھا دیا گیاپانی اور ہوچکا کام اورکشتی ٹھہری جودی پہاڑ پر اورحکم ہواکہ دور ہو قوم ظالم ۔

اس آیت کا سننا تھا کہاس نے قلم توڑ ڈالا اور جن صفحات پر معارضہ ومقابلہ کے متعلق لکھنا شروع کیا تھا وہ پھاڑ ڈالے،اور کہا کہ خدا کی قسم! یہ کسی انسان کی بس کی بات نہیں کہ وہ اس کی مثل لے آئے، اور جمع کردہ تحریر کو ریزہ ریزہ کر دیا اور اس کا اظہا ر کرتے ہوئے اپنے آپ سے شرم محسوس کرنے لگا۔[42]

اکثر مقامات پر امام ابن الجوزیؒ قرآنی آیات کی تفسیر میں بلاغت کا کوئی قاعدہ ذکر کرتے ہیں اور اس کے استشہاد کے لئے عرب کے اشعار پیش کرتے ہیں ۔ اس کی چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں ۔

1۔سورۂ فاتحہ آیت نمبر: 4 " إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ " کی تفسیر میں ابن الانباریؒ [43]کا قول نقل کرکے لکھتے ہیں کہ آیت کےمعنی یہ ہے :قل یا محمد ، إِياك يُعْبَد ۔ اس کے بعد بلاغت کا قاعدہ ذکر کرتے ہیں کہ عرب غیبت سے خطاب کی طرف اور خطاب سے غیبت کی طرف التفات کرتے ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول : حَتَّى إِذا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِمْ بِرِيحٍ طَيِّبَة ۔الخ[44] ، وقوله: وَسَقاهُمْ رَبُّهُمْ شَراباً طَهُوراً إِنَّ هذا كانَ لَكُمْ جَزاءً۔الخ[45]

اسی قاعدہ کے استشہاد کے لئے" لبید" کا یہ شعر نقل کیا ہے :

باتت تشكى إليَّ النفس مجهشة ... وقد حملتك سبعا بعد سبعينا۔[46]

ترجمہ: ميري جان نے حالتِ دہشت ميں ميري طرف شکايت کرتے ہوئے رات بسر کي ، تحقيق تجھ کو محمول کيا سات سالوں کے بعد سات سال يعني تجھ پر پہلے سات سال بھي بھاري رہے اور دوسرےسات سال بھي بھاري رہے۔

ج۔ نحوی قواعد کے لئے اشعار عرب سے استشہاد:

ابن الجوزیؒ اپنی تفسیر میں جا بجا نحوی قواعد ذکر کرتے ہیں جن سےمعلوم ہوتا ہے کہ آپ کو علم النحو میں خاص مہارت حاصل تھی اور یہ بات آپ کی تفسیر کے مطالعہ کرنے والے پرمخفی نہیں،چنانچہ آپ کسی آیت کی تفسیر کے ضمن میں نحوی قاعدہ ذکرکرکے اس کی استشہاد کے لئے اشعارِ عرب میں سے کوئی شعر پیش کرتے ہیں۔اس کی چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں

1۔نحویوں کا قاعدہ ہے کہ بعض مقامات پر ہمزۂ استفہام مقدر ہوتا ہے یعنی لفظاً مذکور نہیں ہوتالیکن معنیً مقصود ہوتا ہے ۔اسی قاعدہ کے لئے آپ سورۂ انعام کی آیت نمبر:76 " فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأى كَوْكَباً قالَ هذا رَبِّي فَلَمَّا أَفَلَ قالَ لا أُحِبُّ الْآفِلِينَ "کو بطورِ استشہاد پیش کرکے فرماتے ہیں :کہ اس آیت میں "قالَ هذا رَبِّي" کی تفسیرمیں تین اقوال ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ ابراہیمؑ نے بطور استفہام کہا تھا یعنی اس میں ہمزۂ استفہام مقدر ہے اصل میں" اھذا ربی" ہے۔جیسا کہ اللہ تعالی کے اس قول : أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخالِدُونَ۔[47] میں ہمزۂ استفہام مضمر ہے۔أي: أفَهُمُ الخالدون؟

امام ابن الجوزی ؒ نے اس کے استشہاد کے لئے " اخطل"کا یہ شعر پیش کیا ہے جس میں ہمزۂ استفہام مقدر ہے ۔

قال الشاعر: كَذَبَتْكَ عَيْنُكَ أَمْ رَأيْتَ بِوَاسِطٍ ... غَلَسَ الظَّلام مِنَ الرَّبَابِ خَيَالا۔[48]

ترجمہ:کیا تمہاری آنکھوں نے تمہیں جھٹلایا یا واسط کے مقام پر تاریک اندھیروں میں سفید بادلوں سے کوئی خیال دیکھا۔

اس شعرمیں بھی ہمزۂ استفہام مقدر ہے، اور محلِ استشہاد" كَذَبَتْكَ عَيْنُكَ " ہے جوساصل میں"أكذبتك عَيْنُكَ " ہے۔

2۔ہمزہ بعض مواضع میں ایجاب وتقریر کے لئے آتا ہے یعنی وہ اپنے مدخول کے معنی ٰکو مؤکدکرنے کے لئے آتا ہے جیسا کہ سورۂ بقرہ کی آیت نمبر: 30" أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاء"میں ہمزۂتقریری ہے، اس کی تقدیر یوں ہوگی" ستجعل فيها من يفسد فيها۔ابن الجوزی ؒنے اس کے استشہاد کے لئے "جریر" کا یہ شعر پیش کیا ہے:

أَلَسْتُمْ خَيْرَ مَنْ رَكِبَ المَطايَا ... وأندى العالَمِينَ بطون راح۔ [49]

ترجمہ: کياتم لوگ بہترين شخصيت والے لوگ نہيںہوجواونٹوںکي پشتوںپرسوارہوئے حالانکہ تم اہل دنيا کي راحت ہو?اس کامعنی يہ ہے کہ تم شاہسواروں ميں سے سب سے بہترہو۔

اس کا معنی ہے: أنتم خير من ركب المطايا۔

3۔نحویوں کا قاعدہ ہے کہ بعض مواضع میں لام زائد ہوتا ہے اس صورت میں یہ تاکید کے لئے ہوگااور اس کا ما بعد والا اسم لفظاً مجرور ہوگا اور یہ لام کسی کے ساتھ متعلق نہیں ہوگا۔ان مواضع میں ایک وہ ہے جب یہ لام مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان آجائے جس کو لامِ مقحمہ کہا جاتا ہے۔اس کے علاوہ یہ لام فعل اور اس کے مفعول کے درمیان بھی زائد ہوتا ہے۔

چنانچہ سورۂ آلِ عمران کی آیت نمبر:73" وَلَا تُؤْمِنُوا إِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِينَكُمْ "کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ"لِمَنْ "میں لام زائد ہے اور یہ تاکید کا معنیٰ دیتا ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے۔" عَسى أَنْ يَكُونَ رَدِفَ لَكُمْ "[50] ای عَسى أَنْ يَكُونَ رَدِفَكُم۔ یہاں پر یہ لام مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان واقع ہے۔اس کے استشہادکے لئے ابن الجوزیؒ نے یہ اشعار پیش کئے ہیں۔ شاعر کہتا ہے:

ما كنتُ أخدعُ للخليل بخلَّة ... حتى يكون ليَ الخليلُ خَدوعا[51]

ترجمہ: میں دوست کو دوستی میں دھوکہ نہیں دیتا تاکہ میرے لئے ایک دھوکہ باز دوست ہو۔

اصل میں "ما كنت أخدع الخليل"ہے، یعنی فعل اور مفعول کے درمیان لام زائد ہے۔

د۔ عرب کےکسی عرف وعادت کے لئے اشعارِعرب سے استشہاد:

ابن الجوزی ؒ قرآنی آیات کی تفسیر کے ضمن میں عرب کے عرف و عادت کا ذکر کرتے ہیں اور اس کے استشہاد کے لئے اشعار ِعرب کو بطورِ دلیل پیش کرتے ہیں۔

ذیل میں اس کی چند مثالیں پیش کی جاتے ہیں:

1۔عرب کی عادت ہے کہ وہ بعض اوقات کسی لفظ کو پورا ذکر کرنے کے بجائے اس لفظ کے کسی ایک حرف پر اکتفی کرکے صرف اس کو ذکر کرتے ہیں۔مثلاًسورۂ بقرہ کے شروع میں" الم" کے بارے میں ابن الجوزیؒ نے مختلف اقوال مختلف اقوال ذکر کئے ہیں اس میں ایک قول یہ ہے ۔ یہ وہ اشارہ ہے جس کو عرب کلام کے دوران استعمال کرتے ہیں۔ جیسا کہ ایک آدمی کسی کو یہ کہے: "ھل تا" تو دوسرا جواب میں کہے : بلٰی ۔ پہلے آدمی کا مطلب یہ ہوتاہے" ھل تاتی ؟ "پس اس نے " تاتی" کے حروف میں سے ایک حرف" تا "پر اکتفیٰ کیا۔ اس عادت کے استشہاد کے لئے ابن الجوزی ؒنے کچھ اشعار پیش کئے ہیں۔

قال الشاعر: قلنا لها قفي لنا فقالت قاف

ترجمہ: شاعر کہتا ہے:ہم نے اسے کہا ہمارے لئے رک جاؤ اس نے کہا میں رکتی ہوں۔

یہاں پر محلِ استشہاد لفظِ "قاف" ہے جو" اقف" سے مخفف ہے۔

اسی طرح اس شعر میں ہے:

نادوهم أن ألجموا ألا تا ... قالوا جميعا كلّهم بلى فا

ترجمہ: انھوں نے آواز دی کہ چوپایوں کو لگام دو، کیا تم سوار نہیں ہوتے؟ سب نے کہا کیوں نہیں،پس سوار ہوجاؤ۔

يريد: ألا تركبون؟ قالوا: بلى فاركبوا.

اسی طرح اس شعر میں بھی ہے:

بالخير خيرات وإن شراً فا ... ولا أريد الشر إِلا أن تا

ترجمہ:بھلائی، بھلائی کے ساتھ ہے اور اگر شر ہے تو اس کے ساتھ شر ہوگی اور میں شر کا ارادہ نہیں رکھتا مگر جب تو شر کا ارادہ کرے۔

معناه: وإن شراً فشر ولا أريد الشر إِلا أن تشاء.[52]

2۔عرب کی ایک عادت یہ ہے کہ وہ کلام کے جزء مقدم کو مؤخر اور مؤخر کو مقدم کرتے ہیں ۔ اور یہ بات قرآن مجید میں بعض مواقع پر آئی ہے۔ چنانچہ سورۂ بقرہ آیت نمبر:72 " وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْساً فَادَّارَأْتُمْ فِيها وَاللَّهُ مُخْرِجٌ ما كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ"کے بارے میں امام ابن الجوزیؒ رقمطراز ہیں کہ یہ آیت تلاوت میں مؤخر لیکن معنی میں مقدم ہے ۔تقدیر کلام یہ ہے ، وإِذ قتلتم نفساً فادّارأتم فيها، فسألتم موسى فقال: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً "اس طرح سورۂ کہف کی آیت نمبر: 1۔2 " وَلَمْ يَجْعَلْ لَهُ عِوَجاً قَيِّماً " میں بھی تقدیم وتاخیر ہے،تقدیرِ کلام یہ ہے:" أنزل الكتاب قيماً، ولم يجعل له عوجاً،" عرب کی اس عادت کے استشہاد میں ابن الجوزیؒ نے تین اشعار پیش کئے ہیں ۔

1 ۔قال الفرزدق:إِن الفرزدق صخرة ملمومة ... طالت فليس تنالها الأوعالا

ترجمہ: بے شک فرزدق سخت گول چٹان کی مانند ہے جس کا مکان کافی دور ہے پس تو اس کو حاصل نہیں کر سکتا ہے۔

یہاں پر محلِ استشہاد بیت کا دوسرا ٹکڑا ہے جس میں تقدیم و تاخیر ہے اصل عبارت یوں ہے، طالت الأوعال فليس تنالها۔

2۔وقال جرير:طاف الخيال وأين منك لماما ... فارجع لزورك بالسلام سلاماً

ترجمہ: اس کا خیال مختصر وقت کے لئے آیا اوراس کا تیرے ساتھ کیا مناسبت؟ پس تو اپنے ملاقات کرنے والے کے سلام کا جواب دو۔

یہاں پر محلِ استشہاد بیت کا پہلاٹکڑا ہے جس میں تقدیم و تاخیر ہے اصل عبارت یوں ہے،طاف الخيال لماماً، وأين هو منك؟

3۔وقال الآخر:خير من القوم العصاة أَميرهم ... - يا قوم فاستحيوا- النساء الجلَّس

ترجمہ: نافرمان قوم میں سے بہتر وہ ہے جس کا امیر شریف عورتیں ہو جو گھروں میں پردہ میں رہتی ہیں ،اے میری قوم اس سے حیا کروں۔

یہاں پر محلِ استشہاد بیت کا دوسراٹکڑا ہے جس میں تقدیم و تاخیر ہے اصل عبارت یوں ہے:خير من القوم العصاة أَميرهم النساء الجلَّس ، يا قوم فاستحيوا من هذا.[53]

س۔ علم الصرف کے قواعد کے لئے اشعار عرب سے استشہاد:

امام ابن الجوزی ؒ اپنی تفسیر میں علم الصرف کے بعض مباحث بھی زیر بحث لاتے ہیں۔ علماءِ صرف کے نزدیک ہر باب کے کچھ خاصیات ہوتے ہیں اور ان سے مراد وہ معانی ہیں جو لغوی معنی سے زائد لیکن اس کے ساتھ لازم ہوتے ہیں۔

1۔بابِ استفعال کے دیگر خاصیات کے علاوہ ایک خاصیت "موافقتِ افعال" ہے، اس کا مطلب یہ کہ بابِ ستفعالمعنیٰ میں بابِ افعال کے ہو۔

چنانچہ اس قاعدہ کےپیش نظر امام ابن الجوزی ؒسورۂبقرہ کی آیت:17میں" استوقد نارا " کے بارے میں رقمطراز ہے کہ اس میں دو قول ہیں: ایک یہ کہ اس میں سین زائدہ ہے یعنی یہ " اوقد "کے معنی میں ہے اس کے لئے بطورِ استشہاد کعب بن سعد الغنوی کا شعر پیش کیا ہے ۔ جس میں "فلم یستجبہ"معنی میں "فلم یجبہ " کےہے ۔

قال الشاعر: وداعٍ دعا يا من يجيب إِلى الندى ... فلم يستجبه عند ذاك مجيب[54]

ترجمہ: اورپکارنے والے نے پکارااے وہ ذات جوپکارنے والے کوجواب ديتي ہے اس وقت کوئي جواب دینے والا اس کي پکارکاجواب نہيں ديتا۔

یہاں پر محلِ استشہاد" فلم يستجبه " ہے جس میں سین زائد ہے اور یہ"فلم یجبہ" کے معنی میں ہے

نتائج البحث:

1۔ علامہ ابن الجوزی ؒ کا اپنی تفسیر میں اشعارِعرب سےاستشہاد آپ کا ادبی ذوق اور ادب ِعربی کے ساتھ مناسبت کی نشاندہی کرتا ہے۔

2۔ خصوصاً جاہلی اشعار سے استشہاد کی وجہ سے آپ کی تفسیر ادبی تفسیر میں تبدیل ہوگئی ہے۔

3۔اشعار سے استشہاد کی وجہ سےآپ کی تفسیر میں ادب ِعربی کا بہت بڑاذخیرہ پایا جاتا ہے۔

4۔ادبِِ عربی کے دو اجزاء ہیں ۔1۔نثر 2۔ شعر ،عربی ادب میں اشعارکو کافی اہمیت حاصل ہے اور ان اشعار میں ادب کا بہت بڑا ذخیرہ پایا جاتا ہے اشعار کی اہمیت کے لئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول کافی ہے۔

فقال عمر: أيها الناس، عليكم بديوانكم لا يضل. قالوا: وما ديواننا؟ قال: شعر الجاهلية، فإن فيه تفسير كتابکم۔

ترجمہ:اے لوگوں!اپنے اوپر اپنی دیوان لازم کرلو،بھٹکو گے نہیں،لوگوں نے عرض کیا،ہمارا دیوان کیا ہے؟عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :جاہلی اشعار کیونکہ اس میں تمہاری کتاب کی تفسیر ہے۔

حوالہ جات

  1. حواشی و مصادر (References) 1۔سورۂ یوسف:3
  2. 2۔سورۂ الزمر:28
  3. ۔تہذیب التہذیب،ج:8،ص:352
  4. ۔المستدرك على الصحيحين،أبو عبد الله الحاكم محمد بن عبد الله ،دار الكتب العلمية – بيروت،ج:4،ص:97
  5. 8۔ الكشاف عن حقائق غوامض التنزيل،أبو القاسم محمود ، الزمخشري جار الله،دار الكتاب العربي– بيروت،ج:2 ص:609
  6. ۔مصباح اللغات،عبد الحفیظ بلیاوی،مکتبۃ الخلیل لاہور،(ص:435 ،مادہ:شعر)
  7. ۔ لسان العرب، محمد بن مكرم ، جمال الدين ابن منظور الإفريقى (المتوفى: 711هـ) دار صادر - بيروت(ج:4،ص:410)
  8. ۔جواهر الأدب في أدبيات وإنشاء لغة العرب،أحمد بن إبراهيم ،مؤسسة المعارف، بيروت،(ج:2،ص:23)
  9. ۔صحيح البخاري،محمد بن إسماعيل أبو عبدالله البخاري الجعفي،دار طوق النجاة، ج:8،ص:34)/سنن أبي داود،أبو داود ، المكتبة العصرية، صيدا،بيروت،(ج:4،ص:303 )
  10. ۔صحيح البخاري،(ج:8،ص:37)/صحیح مسلم،مسلم بن الحجاج ،دار إحياء التراث العربي - بيروت(ج:4،ص:1769)
  11. ۔معارف القرآن، مفتی محمد شفیع ؒ،ادارۃ المعارف،کراچی، ج:6،ص:555
  12. ۔سورۂ شعراء : 224-227
  13. ۔الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار،أبو بكر بن أبي شيبة، مكتبة الرشد - الرياض(ج:6،ص: 277)
  14. 22 ۔معارف القران،( ج:6،ص: 554)
  15. ۔صحيح مسلم،ج:4،ص: 1767/ مسند الإمام أحمد بن حنبل أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ) مؤسسة الرسالة، ج:32 ص:206
  16. ۔صحيح مسلم، ج:4،ص:1768
  17. ۔مسند أحمد بن حنبل،ج:34،ص:405
  18. ۔مسندِ أحمد بن حنبل، ج:36، ص:268
  19. ۔الأدب المفرد،محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة البخاري، أبو عبد الله (المتوفى: 256هـ)،دار البشائر الإسلامية – بيروت ج:1،ص:299۔
  20. ۔صحيح بخاری،ج:8 ،ص:34
  21. ۔الأدب المفرد،ج:1،ص:297
  22. ۔ آپ کانام عمران بْن حُصَيْن بْن عُبَيْد بْن خَلَف الخزاعي الكعبيؒاور کنیت أبو نجید ہے، آپ فتحِ خیبر کے سال مسلمان ہوئے، عبد اللہ بن عامرؒ نے آپ کو بصرہ کا قاضی مقرر کیا تھا کچھ ہی زمانہ بعد آپ نے اس سے استعفی دے دیا،آپ کا شمار فقہاء صحابہ میں سے ہے ۔بصرہ میں رہتے تھے اور وہاں پرمعاویہؒ کے دورِ خلافت میں 52ھ کو فوت ہوئے۔(الاستيعاب في معرفة الأصحاب للقرطبي ،ج:3،ص:1208)
  23. ۔فتح الباري شرح صحيح البخاري،أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي،دار المعرفة – بيروت،ج:10،ص:540
  24. ۔الأدب المفرد،ج:1،ص:299
  25. ۔الجامع لأحكام القرآن (تفسير القرطبي)،أبو عبد الله محمد بن أحمد القرطبي ،دار الكتب المصرية – القاهرة،ج:13،ص:148
  26. ۔معجم الأدباءللحموي ج 3،ص 1322/ الاعلام للزرکلی ج 4،ص 195
  27. ۔تفسير قرطبی،ج:13،ص:147
  28. ۔صحيح بخاري،ج:4،ص:112
  29. ۔صحيح بخاري،ج:8،ص:36
  30. ۔زاد المسير في علم التفسير، جمال الدين أبو الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد الجوزي ،دار الكتاب العربي – بيروت،ج:1،ص:11
  31. ۔یہ بیت مثقب عبدی کاہے ان کانام عائذبن محصن بن ثعلبہ ہے۔بحرین کے جاہلی شعراء میں سے ہے کنیت ابوواثلہ اورلقب مثقب ہے۔وفات٥٧٧ھ میں ہوئی۔ (معجم الشعراء،الإمام المرزباني(مكتبة القدسي،دار الكتب العلمية، بيروت،لبنان،الطبعةالثانية،1402، ج١، ص٣٠٣)
  32. ۔ زاد المسير في علم التفسير، ج:2،ص:18
  33. ۔عبدالعظیم بن عبدللہ فرماتے ہیں:میرا دادا یزیدبنوثقیف کے آزادکردہ غلام تھےاوراس کے باپ کانام مقسم تھااورضبہ اس کی ماں کانام تھا۔بچپن میں باپ کے وفات کے بعدچونکہ آپ کی پرورش آپ کی ماں نے کی تھی اس لئےآپ ماں کی طرف منسوب ہونے لگے۔(تهذيب الكمال في أسماء الرجال،يوسف بن عبد الرحمن ، المزي،مؤسسة الرسالة – بيروت،الطبعة الأولى:1400 ج 32 ، ص 250)
  34. ۔زاد المسير في علم التفسير،ج:2،ص:21
  35. ۔الفراء أبوزکریایحیٰ بن زیادالاسدی العلامہ الکوفی النحویؒ۔آپ کے شیوخ قیس بن الربیعؒ،مندل بن علی،أبی الاحوصؒ،أبی بکر بن عیاشؒ اورعلی بن حمزہ الکسائیؒ وغیرہ تھے۔اورآپ کے شاگردوں میں سلمہ بن عاصم ؒاورمحمد بن ا لاجھم السمریؒ وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔انہیں امیر المؤمنین فی النحو کہا جاتاہے۔سلمہ ؒفرماتے ہیں:فراءؒنے تمام کتابیں یا دکرلی تھیں۔مامون الرشیدؒنے آپ کو اصولِ نحو جمع کرنے کا حکم صادر فرمایا تھا۔آپ207ھ کو 63 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔(نزهة الألباء في طبقات الأدباء لكمال الدين الأنباري ج 1،ص 81)
  36. ۔ آپ کا نام عبداللہ بن رؤبة بن صخر التمیمیؒ اورکنیت ابوالشعثاء ہے، صاحب ِرجز ہے ، آپ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ،ولیدبن عبد الملکؒ کی خلافت میں فوت ہوئے (تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام،شمس الدين الذهبي (المتوفى: 748هـ)،دار الكتاب العربي، بيروت ، ج ٦ ، ص ٤٢٣/ تاریخ دمشق لابن عساکر ٣٢٩٤ ،ج ٢٨ ، ص ١٢٨)
  37. ۔زاد المسير في علم التفسير،ج:2،ص:29
  38. ۔ایضاً:ج:1،ص:286
  39. ۔ ایضاً:ج3،ص 212
  40. 61۔آپ کا نام عبد الله بن المقفع ہے،عراق میں پیدا ہوئے تھے مجوسی تھے پھرعیسی بن علی ؒکے ہاتھ پر مسلمان ہوئے ۔ آپ کے مشہور کتابوں میں كليلة ودمنة کا عربی ترجمہ ہے آپ پر الحاد کی تہمت تھی چنانچہ بصرہ کے امیر سفيان بن معاوية المهلبيؒ نے آپ کو قتل کیا۔ خليل بن أحمدؒ فرماتے ہیں: میں نے اس جیسا کوئی نہیں دیکھا اس کا علم اس کے عقل سے زیادہ تھا۔(سير أعلام النبلاء،شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (المتوفى: 748هـ)،دار الحديث- القاهرة،ج 6،ص 332)
  41. ۔سورۂ ہود:44
  42. ۔معترك الأقران في إعجاز القرآن، ويُسمَّى (إعجاز القرآن ومعترك الأقران)، جلال الدين السيوطي،دار الكتب العلمية - بيروت – لبنان،ج 1،ص 183
  43. 64۔ نام محمد بن القاسم بن محمد بن بشاراور کنیت أبو بكر الانباريؒ ہے۔ آپ أدب اورلغت کے بڑے عالم تھے۔ أنبار میں271 ھ کو پیدا ہوئے اوربغداد میں328ھ کو فوت ہوئے. آپ نے مندرجہ ذیل کتابیں تصنیف فرمائیں۔الزاهر،شرح القصائد السبع الطوال الجاهليات،إيضاح الوقف والابتداء في كتاب الله عزوجل،عجائب علوم القرآن،شرح الألفات،خلق الإنسان،الأمثال،الأضداد ۔آپ کی سب سے بڑی کتاب(غريب الحديث)ہے جو تقریبا 45000 صفحات کا ہے. (نزهة الألباء في طبقات الأدباء،لكمال الدين الأنباري،ج1،ص197)
  44. ۔سورۂ یونس:22
  45. ۔سورۂدہر:21، 22
  46. ۔زاد المسير في علم التفسیر،ج 1،ص 19
  47. ۔سورۂ انبیاء:34
  48. ۔زاد المسير فی علمِ التفسیر،ج 2،ص 48
  49. ۔ایضاً:ج1،ص 50
  50. ۔سورۂ نمل:72
  51. ۔ایضاً:ج 1،ص294ٍ
  52. ۔ایضاً:ج1،ص 26
  53. ۔ایضاً:ج 1،ص 78
  54. ۔ایضاً:ج1،ص 36