اسلام اور یہودیت میں تصور طلاق کا تقابلی جائزہ

From Asian Research Index - Religion
Jump to navigation Jump to search
m
Tag: 2017 source edit
 
m
Tag: 2017 source edit
 
Line 1: Line 1:
 
{{Article Bibliographic Information Urdu
 
{{Article Bibliographic Information Urdu
|journal = ابحاث
+
|journal = الملل: مجلہ برائے ادیان و افکار
 
|title = اسلام اور یہودیت میں تصور طلاق کا تقابلی جائزہ
 
|title = اسلام اور یہودیت میں تصور طلاق کا تقابلی جائزہ
 
|english-title = A Comparative Review of Divorce in Islam and Judaism
 
|english-title = A Comparative Review of Divorce in Islam and Judaism

Latest revision as of 07:11, 30 June 2020

کتابیات
مجلہ الملل: مجلہ برائے ادیان و افکار
عنوان اسلام اور یہودیت میں تصور طلاق کا تقابلی جائزہ
انگریزی عنوان
A Comparative Review of Divorce in Islam and Judaism
مصنف اورنگزیب، امان اللہ
جلد 1
شمارہ 2
سال 2019
صفحات 29-46
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Islam, Judaism, Divorce, Teachings, Women and Comparative Study
شکاگو 16 اورنگزیب، امان اللہ۔ "اسلام اور یہودیت میں تصور طلاق کا تقابلی جائزہ۔" الملل: مجلہ برائے ادیان و افکار 1, شمارہ۔ 2 (2019)۔

Abstract

The theme of exchange among religions and similar investigation of religions has turned out to be significant in the current time. Many religious scholars have presented a comparative overview of the subject of many commandments and beliefs in religions, but the issue of divorce in Jews and Islam as a regular subject is almost never discussed. Although it is mentioned as an ancillary subject, such books were written on the topics of marriage and divorce in world religions. But question is, why is divorce comparative review important in Judaism and Islam? Because most of the believers in Islam and Judaism are based on their religious teachings and worried about the problem of rising numbers of divorces. According to the principles of comparative study the researchers have tried to do work on this topic in an objective manner. Finally, it has been concluded that the teachings of these two religions are in principle quite alike. While there is some disagreement on the side issues that open the door to mutual dialogue, it is possible that through comparative research on other topics between these two religions is conducted it will provide further avenues of dialogue and mutual understanding between two major revealed religious traditions.

تمہید

اہلِ کتاب اور مسلمانوں میں عقائد اور بہت سی دینی تعلیمات میں یکسانیت ہے جن کے مطالعہ سے ہمیں آسمانی تعلیمات کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔اگر ہم ان کی تعلیمات کو ان کے ان مذاہب کے اصلی مآخذ کی روشنی میں سمجھیں تو ہمیں دونوں مذاہب میں بہت سے احکامات میں ایک دوسرے کی توضیح و تشریح معلوم ہوتے ہیں۔ یہودی مذہب بنسبت اسلام کے قدیم مذاہب میں شمار کیا جاتا ہے اور ان کے عقائد کے مطابق بنی اسرائیل خدا کے منتخب کردہ لوگ ہیں اور زمین پر بسنے والے تمام انسانوں میں سب سےزیادہ معزز و مکرم ہیں۔ یہ مذہب نسلی بنیادوں پر یعنی صرف اولادِ یعقوبؑ پر محیط ہے کوئی غیر بنی اسرائیلی اس مذہب میں داخل ہو کر نسلی یہودی کی سی مذہبی حیثیت حاصل نہیں کر سکتا۔

یہود کے لیے بنیادی مآخذ وہ صحیفے ہیں جو حضرت موسیٰ ؑ پر نازل ہوئے جنہیں تورات کہتے ہیں۔ عہد نامہ قدیم کے پہلے پانچ ابواب اہلِ یہود کے ہاں بالاتفاق قابلِ قبول ہیں لیکن اس کے علاوہ ابواب میں کلام ہے نیز عہد نامہ جدید (انجیل اور مختلف پیشواؤں کے خطوط پر مشتمل حصے) کواہل یہود اپنے دین کے لیے مآخذ اصلی و مقدس نہیں مانتے ہیں۔ جبکہ مسلمان اُس تورات کو، جوان کے عقیدے کے مطابق اللہ تعالیٰ کے رسول حضرت موسیٰ ؑ پر نازل ہوئی، مقدس کتاب مانتے ہیں اور اس پر ایمان لانے کو بھی لازم سمجھتے ہیں، لیکن موجودہ تورات کو تحریف شدہ تصور کرتے ہیں اور اس کی تعلیمات کو قرآنِ کریم کے مقابلے میں منسوخ سمجھتے ہیں۔

یہودیت اور اسلام میں طلاق کےتقابلی عنوان سے تحقیقی کام شاذونادر ہی ملتا ہے، بعض اہلِ عرب محققین نے طلاق کے بارےمیں مذاہب عالم پر لکھتے ہوئےبطورِ مذہب اہل یہود کے ہاں طلاق کا ذکر کیا ہے جیسے عبد الرحمٰن صابونی نے ’’مد حریۃ الزوجین فی الطلاق فی الشریعۃ الاسلامیۃ‘‘ میں اور شیخ عبد اللہ المراغی نے ’’الزواج و الطلاق فی جمیع الادیان‘‘ میں لیکن خاص کر یہودیت اور اسلام میں طلاق کے تقابلی جائزہ پر مبنی تحقیقی کام کم یاب ہے۔حالانکہ ماسوائے چند فروعی احکامات کے ، یہود اور مسلمین میں طلاق کا معاملہ کافی حد تک مشترک ہے۔

اہلِ یہودمیں طلاق کی حیثیت

قدیم عہد میں اہلِ یہود میں نکاح و طلاق کی حیثیت فقط ایک معاہدے کی سی رہی اور نکاح کی طرح طلاق بھی معاشرے کا ایک حصہ قرار دیا جاتا تھا۔ لیکن جب دستور سازی کی گئی توطلاق نامناسب فعل قرار پایا لیکن عورت کے معمولی غلطی پر بھی مرد حقِ طلاق کو استعمال کر سکتا تھا بلکہ بغیر وجہ کے طلاق دینے کو بھی کوئی غلط فعل نہیں کہتا[1]۔ جبکہ اس کے برخلاف تالمور سے متعلقہ ربّی نکاح کو ایک مقدس رشتہ قرار دیتے ہیں جبکہ طلاق کو غیر مقدس عمل مانتے ہیں[2]۔جبکہ اصل میں طلاق ایک مذموم فعل ہے جیسا کہ عہد نامہ قدیم میں مذکور ہے: "کیونکہ خداوند اسرائیل کا خدا فرماتا ہے میں طلاق سے بیزار ہوں اور اس سے بھی جو اپنی بیوی پر ظلم کرتاہے رب الافواج فرماتا ہے اس لیے تم اپنے نفس سے خبردار رہو تاکہ بے وفائی نہ کرو۔"[3]جبکہ مشنا ء ، جو کہ یہودی فقہی قوانین اور فروعی مسائل پر مبنی کتاب ہے جومتعدد علمائے یہود نے تقریباً دوصدیوں میں مرتب کی ہے،[4] میں مذکور ہے۔

The school of Shammai say: A man may not divorce his wife unless he has found unchastity in her, for it is written, because he hath found in her indecency in anything. And the School of Hillel say: [He may divorce her] even if she spoiled a dish for him, for it is written, because he hath found in her indecency in anything. R.Akiba says: Even if the found another fairer than she, for it is written.[5]

(Shammai) مسلک کے مطابق ایک مرد کواس وقت تک طلاق نہیں دینی چاہیے جب تک کہ عورت میں کسی بھی طرح نامعقولیت عیاں نا ہوجائے۔ جبکہ (Hillel) مسلک کے مطابق کوئی مردکو طلاق دے سکتا ہے فقط کھانے کے خراب کرنے پربھی ۔ اور (R.Akiba)کے مطابق۔‘‘جبکہ اسے اپنی زوجہ سے کوئی اور زیادہ خوبصورت عورت ملے اور وہ اس بات پر طلاق نامہ لکھ دے۔

عہد نامہ قدیم میں درج طلاق کی مذمت کے باوجود اہلِ یہود میں طلاق کو بہت زیادہ مذموم فعل نہیں سمجھا جاتا۔خصوصاً اس وقت کہ جب زوجین کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان ہو اورزندگی محض سمجھوتہ کرتے ہوئے بسرکرنا پڑے تو ایسی زندگی گزارنے سے بہترہے کہ طلاق دے کر دونوں کی جدائی کر دی جائے، اس طرح طلاق دینے کو امرِ مستحسن جانا جانے لگا۔

یہودی قوانین کے مطابق مرد ہی طلاق دینے کا حق رکھتا ہے۔ چاہے تو کسی سبب سے طلاق دے یا بغیر کسی سبب کے طلاق دے۔تالمود میں یہاں تک مذکور ہے کہ کوئی شخص اپنی زوجہ کو اس بات پر بھی طلاق دے سکتا ہے کہ اس کی زوجہ نے کھانا خراب کر دیاہو۔یا اپنی زوجہ کے علاوہ کوئی اور پرکشش عورت مل جائے۔اور ان وجوہات کی بنا پر طلاق دینے میں عورت کی رضا کو کچھ دخل نہیں۔اگر کوئی عورت بدکاری کا ارتکاب کرے تو شوہر کو ضروری ہے کہ اس کو طلاق دے۔اگرچہ شوہر اس کو معاف بھی کر لے۔

طلاق دینے کی صورت میں خاوند عقد نکاح کی تحریر کے وقت زوجہ کی طرف سے جملہ تحریر شدہ شرائط کو پورا کرنے کا پابند ہوتا ہے۔اور ان شرائط میں طلاق کی صورت میں ،جو مال مذکور ہو، وہ خاوند کو ادا کرنا ہوتا ہے۔یہودی بنیادی ماخذ تورات میں دوام نکاح کی ترغیب اور بوقتِ ضرورت طلاق دینے کے طریقہ کار نیز ان زوجین کو طلاق سے پہلے کن کوائف کی تکمیل کرنی چاہیے اس سے متعلق تفصیلی احکامات درج نہیں التبہ مشنا میں اس کے فروعی مسائل اختلافِ مسالک کی روشنی میں درج کیئے گئے ہیں۔ جبکہ یہودی تعلیمات کے برخلاف اسلامی شریعت میں طلاق سے متعلق تفصیلی احکامات بنیادی مآخذ یعنی قرآن کریم میں مفصلاً مذکور ہیں۔

اسلامی شریعت میں طلاق کی حیثیت

یہودی تعلیمات کی طرح اسلامی شریعت میں بھی طلاق ایک مذموم فعل ہے اور بغیر شرعی عذر کے طلاق دینے میں دلیری وہی شخص کر سکتا ہے جو دینی اعتبار سے کمزور ہو۔اور بوقتِ ضرورت طلاق دینے کے لیے ایسے قوانین و تعلیمات دی گئی ہیں کہ جن سے فریقین اس بندھن کے انقطاع کے بعد سکون کی زندگی اپنی مرضی کے مطابق گزار سکیں۔

کسی بھی نظام کو چلانے کے لیے انتظامی طور پر کسی ایک سرپرست یا حاکم کا ہونا ضروری ہوتا ہے ،اگر ایک سے زاہد ایسے اشخاص کو ایسا منصب دیا جائے کہ جن کے ہاتھ فیصلہ کرنے سمیت جملہ افعال کے مساوی اختیارات ہوں تو شدید اختلافِ رائے کے پیشِ نظر انتظامی امور کا چلنا دشوار ہو جاتا ہے۔اسی تناظر میں اسلام نےازدواجی نظام کی حاکمیت خاوند کو دی ہے،اور اس کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ اسلامی عقیدے کے مطابق اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کے خالق و مالک ہیں اور مالک کو اپنی تخلیقات میں تصرف کا مکمل حق حاصل ہوتا ہے تو اللہ جو مالکِ مطلق ہیں اُن کو حق ہے کہ اپنے فضل سے جس کو چاہیں حاکم بنائیں اور جس کو چاہیں محکوم، جب یہ امر مسلم ہے تو کوئی اشکال باقی نہ رہا ،مع ہذا فضیلت کی ایک ظاہری وجہ بتلادی کہ زوجہ کے جملہ اخرجات برائے نان نفقہ، لباس و رہائش خاوند کے ذمہ ہونے کی وجہ سےخاوند کو عائلی انتظام میں عورت پر حاکم مقرر کیا گیا ہے۔ جیسا کہ حق تعالیٰ شانہ فرماکا فرمان ہے:"الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ۔" [6]یعنی "مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس لیے کہ اللہ نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے اور اس لیے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں ۔"

خاوند اس حاکمیت کو اپنی من مانی یافقط ذاتیات اور اپنے جذباتی کیفیت کے زیرِ اثر یا عورت پر اپنی فوقیت جتلانے کے لیے استعمال کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیئے گئے اختیار کو غلط استعمال کرنے کی وجہ سےبارگاہِ خداوندی میں مجرم ہوگا ۔اور اگر عورت کو نقصان پہنچانے کے لیے ایسا کرے تو ظالم اور سخت گنہگار ہوگا۔مرد وں کو اپنی حاکمیت اور فیصلوں میں یکسر آزاد نہیں چھوڑا گیا بلکہ انہیں اپنے اختیارات کے استعمال کے طریقے اور اس حاکمیت کو ازدواجی رشتے کے قِیام و دوام کے لیے استعمال کرنے کی پرزور ترغیب دی گئی ہے اگرچہ زوجہ میں کچھ نقائص پائے جاتے ہوں۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:"وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا"[7]"اور ان کے ساتھ اچھی طرح سے رہو سہو، اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو عجب نہیں کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت سی بھلائی پیدا کردے"

اسلام میں طلاق کی مذمت

اسلام میں طلاق دینا مباح اور جائز ہے، لیکن اسے ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔لہذا جب تک شدید ضرورت نہ ہو تب تک طلاق دینے سے اجتناب برتنا چاہیےکیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :"ما أحل الله شيئا أبغض إليه من الطلاق۔"[8] " اللہ تعالیٰ نے جتنی چیزیں حلال کی ہیں ان میں سب سے زیادہ مبغوض شے اللہ کے ہاں طلاق ہے۔"طلاق کے امرِ عظیم ہونے کے بارے میں حدیث میں وار ہے :"تزوجوا ولا تطلقوا فإن الطلاق يهتز منه العرش"[9]"شادی کرو اور طلاق نہ دو کیونکہ طلاق دینے سے عرش لرز جاتا ہے۔ "اسی طرح ایک اور روایت میں وارد ہے کہ حضرت معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:"يا معاذ ما خلق الله شيئا على وجه الأرض أحب إليه من العتاق ولا خلق الله شيئا على وجه الأرض أبغض إليه من الطلاق"[10]"اے معاذ!اللہ تعالیٰ نے ر وئے زمین پر جتنی مستحب چیزیں پیدا کی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ چیزغلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر جتنی حلال : چیزیں پیدا کی ہیں ان میں سب سے زیادہ بُری چیز طلاق دینا ہے۔"

مذکورہ بالابیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ طلاق دینااسلامی تعلیمات میں کس قدر ناپسندیدہ ہے۔ اس ناپسندیدگی کی علت نکاح سے حاصل ہونے والےانفرادی اور اجتماعی فوائد سے محرومی ہے،کیونکہ نکاح سے رفیقئہ حیات سےراحت و تسکین کا حصول،جنسی بےاعتدالیوں سے تحفیظ،افزائش نسل،بچوں کی تعلیم و تربیت،بہتر معاشی اور معاشرتی معاملات جیسے فوائد فقط زوجین کے باہمی خوشگوار تعلقات پر موقوف ہیں۔ اگر خدانخواستہ ازدواجی تعلقات میں تناؤ اور زوجین کے باہمی حقوق مجروح ہوجائیں تو کئی گھرانے، خاندان اور نسلیں تک متاثر ہوتی ہیں اورمتاثراہ افراد میں شرانگیزی ،جرائم،احساس محرومی اور سفاکیت جیسے جملہ شیطانی افعال معارض وجود میں آسکتی ہیں۔جیسا کہ حدیث میں وارد ہے کہ شیطان اپنے چیلوں کی کارگزاری سنتے ہوئے اُس چیلے سے سب سے زیادہ خوش ہوتا ہے اور اسے اپنے قریب کر تا ہے جو کہتا ہے۔"ما تركته حتى فرقت بينه وبين امرأته"[11]"میں نے (ایک بندہ کو گمراہ کرنا شروع کیا اور ) اس وقت تک اس آدمی کا پیچھا نہیں چھوڑا جب تک کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہ ڈالو دی۔"

مذکورہ بالا بحث سے یہ امر واضح ہے کہ یہودیت اور اسلامی تعلیمات میں طلاق ایک مذموم فعل ہے اور بحالتِ ضرورت طلاق دی جا سکتی ہے لیکن طلاق دینے کے لیے یہودی تعلیمات میں اتنی سختی نہیں کہ جتنی اسلام میں ہے نیز اسلام میں نکاح کے قیام و دوام کے لیے تفصلی احکامات ہیں اور ترغیب و ترہیب کے ذریعہ طلاق سے باز رہنے پر زودیا گیا ہے ،پھر بوقت ضرورت بھی اسلامی تعلیمات میں طلاق نہ دینے کو بہتر سمجھا جاتا ہے سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ حقوق کی ادائیگی محال ہو یا معاملہ ظلم تک جاپہنچنے کا قوی امکان ہوتو طلاق دینے کو امر مستحسن قرار دیا گیا ہے۔جیسا کہ ارشادِ نبویﷺ ہے:"ثلاثة يدعون الله فلا يستجاب لهم: رجل كانت تحته امرأة سيئة الخلق فلم يطلقها، ورجل كان له على رجل مال فلم يشهد عليه، ورجل آتى سفيها ماله وقد قال الله عز وجل {ولا تؤتوا السفهاء أموالكم۔"[12]

تین لوگ ایسے ہیں کہ جن کی دعاء اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتے(۱)ایسا شخص جس کی زوجیت میں نہایت ہی بُرے اخلاق والی عورت ہو لیکن وہ اسے طلاق نہ دیتا ہو۔(۲)دوسرا وہ شخص جس کا کسی دوسری پر مال ہو لیکن اس پر گواہ نہ بنائے۔(۳) تیسرا وہ شخص جو کسی بچے کو (ذہنی بلوغت سے پہلے ہی)اس کا مال دے دے جبکہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں ‘‘اور مت دو (ذہنی اعتبار سے نابلد)بچوں کو اپنا مال۔

یہودیت میں طلاق دینے کا طریقہ

تورات کے مطابق طلاق دینے کا طریقہ بہت سادہ ہے وہ یہ کہ خاوند ایک طلاق نامہ زوجہ کو دیدے اور اسے روانہ کردے۔اور عورت کسی بھی طرح خاوند کو طلاق دینے سے روکنے کا حق نہیں رکھتی۔ لیکن بعد میں ربّیوں نے اجتہاد کے ذریعے طلاق دینے کے عمل کو پیچیدہ کر دیا۔ اس طرح کہ پہلے مخصوص طریقے سے طلاق نامہ لکھا جائے پھر زوجہ کو دینا پھر زوجہ کا اس طلاق نامے کو وصول کرنا۔ربّیوں کے تنظیم نے اس بات کو بھی لاگو کیا ہے کہ طلاق دینے والا ،قبل از طلاق کسی ربّی سے مشورہ ضرور کر لے۔[13]مشنا میں طلاق نامہ کے مفصلاً احکامات کو (GITTIN)کے عنوان سے مرتب کیا گیا ہے۔

یہودیوں کے ہاں طلاق چونکہ تحریری طور پر دی جاتی ہے تو اس تحریر کو کہ جس میں خاوند رشتۂ ازدواجیت کو ختم کرنے کی بات لکھتا ہے اسے Get یا Gett کہتے ہیں،جو آج کل یہودیوں میں معروف ہے ،جبکہ تالمور کے مطابق اسے (Sefer K’ritut) جس کے لفظی معنی” کاٹنے والا دستاویز” ہے اور اس سے مراد طلاق نامہ ہے[14]۔طلاق نامے میں اس بات کو صراحتاً ذکر کیا جاتا ہے کہ اب یہ عورت کسی بھی دوسرے مرد سے شادی کرنے کے لیے آزاد ہے۔اگر اپنی زوجہ کو صراحتاً متعین کر کےطلاق نامہ میں ذکر کیا تو طلاق نامہ قابلِ قبول ہوگا اور اگر فقط ضمائر،اشارات و کنایات پر اکتفاءکیا تو یہ طلاق نامہ قابلِ قبول نہ ہوگا جیسا کہ مشنا میں مذکور ہے:

"No bill of divorce is valid that is not written expressly for the woman"[15].

"کوئی طلاق نامہ درست نہ ہوگا جبکہ اس میں صریح طور پر عورت کے لیے تحریر نہ ہو۔"

یہ ضروری نہیں کہ خاوند خود ہی طلاق نامہ زوجہ کو دے،بلکہ وہ کسی وکیل کو گواہوں کے ساتھ طلاق نامہ دے کر بھیج سکتا ہے۔

طلاق نامہ وکیل کے ذریعے بھی بھیج سکتا ہے اور بھیجنے کے بعد اگر خاوند طلاق سے رجوع کرنا چاہے تو رجوع کرسکتا ہے۔لیکن اگر زوجہ کو پہلے طلاق نامہ مل جائے اور بعد میں خاوند کے رجوع کا پیغام ملے یا خود خاوند رجوع کرنے کے لیے پہنچ جائے تو طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ مشنا میں مذکور ہے۔

"If a man said, "deliver this bill of divorce to my wife' or 'this writ of emancipation to my slave", and he wished in either case to retract, he may retract."[16]

"اگر کوئی شخص کہے،'یہ طلاق نامہ میری زوجہ کو دے دو' یا 'یہ آزادی کا تحریرنامہ میرے غلام کو دے دو' اوروہ کسی بھی طرح اس سے رجوع کرنا چاہتا ہو تو وہ رجوع کر سکتا ہے۔"

If a man sent a bill of divorce to his wife and then over took the messenger or sent another messenger after him, and said to him, "The bill of divorce that I gave to thee is void", it thereby becomes void. If he reached his wife first or sent another messenger to her, and said to her, "The bill of divorce that I have sent to thee is void", it thereby becomes void. But [If he or the messenger reached her] after the bill of divorce came into her hand he can no more render it void.[17]

اگر کوئی شخص طلاق نامہ اپنی زوجہ کو بھجوائے اور پھرپیغام بھیجنے والے کو منع کرے یا ایک اور پیغام لے جانے والا بھیجے جو پہلے پیغام رساں کو بتائے کہ “جو طلاق نامہ میں نے تمہیں دیا ہے وہ منسوخ ہے” تو وہ طلاق نامہ باطل ہوجائے گا۔اگر دوسرا قاصد پیغام لے کر پہلے والے پیغام رساں سے پہلے پہنچا یا خاوند نے ایک اور پیغام براہ راست زوجہ کی طرف بھیجا (قبل پہلے والے طلاق نامے کے پہنچنے کے) اور اس (دوسرے)پیغام میں مذکور ہو”میں نے جو طلاق نامہ بھیجا تھا وہ منسوخ ہے” توطلاق باطل ہوگا۔لیکن اگرخاوند یا دوسرا پیغام رساں ،پہلے والے قاصد کے بعد پہنچا اس حال میں کہ طلاق نامہ زوجہ کے ہاتھ پہنچ چکا تھا تو طلاق باطل نہ ہوگی۔

طلاق نامہ کسی سے بھی لکھوا سکتا ہے لیکن طلاق نامہ دینے کے لیے مخصوص اوصاف کے حامل افراد ہی متعین ہیں جن کی تفصیل مشنا میں یوں مذکور ہے:

"All are qualified to write a bill of divorce, even a deaf-mute, an imbecile, or a minor………. All are qualified to bring a bill of divorce excepting a deaf-mute, an imbecile, a minor, a blind man, or a gentile."[18]

"سب لوگ طلا ق نامہ لکھنے کی اہلیت رکھتے ہیں یہاں تک کہ گونگا ،بہرہ،کم عقل یا نابالغ۔ اور تمام لوگ طلاق نامہ لانے کی اہلیت رکھتے ہیں سوائے بہرے ،گونگے،کم عقل،نابالغ،نابینا یا غیر یہودی کے۔"

طلاق نامہ مفقود ہونے کی صورت میں مشنا میں مذکور ہے:

"If a man brought a bill of divorce and lost it but straightway found it again, it remains valid; otherwise it becomes invalid."[19]

"اگر کوئی شخص طلاق نامہ لا رہا تھا اور پھر اُس سے وہ طلاق نامہ کھو جائے اگر فوراًوہی واپس مل جائے تو طلاق درست ہوگا۔ بصورتِ دیگروہ طلاق نامہ درست نہ ہوگا۔"

اگر خاوند دور دراز علاقے سے طلاق نامہ بھیجنا چاہتا ہے تو اسے گواہوں کی موجودگی میں طلاق نامہ لکھوانا اور اس پر دستخط کرنا ہوگا اور پھر یہ گواہ طلاق نامہ زوجہ کو دیتے وقت اپنے حضوریت میں خاوند کی تحریر اور دستخط کرنے پر گواہی دینگے۔ لہذا مشنا میں مذکورہ ہے۔

"If a man brought a bill of divorce from beyond the sea he must say, "It was written in my presence and it was signed in my presence."[20]

"اگر کوئی شخص طلاق نامہ لائے سمندر پار سے تو اسے لازم ہے کہ یوں کہے،"یہ تحریر میری موجودگی میں لکھی گئی ہے اور اس پر میری موجودگی میں دستخط کیئے گئے ہیں۔"

سمندر پار کی تفصیل کے بارے میں مذکور ہےکہ شوہر اگر اسرائیل کی زمین سے باہر رہتا ہو اور اس کی زوجہ اسرائیل کی زمین میں رہنے والی ہو۔جب تک عورت طلاق نامہ وصول نہ کر لےاور خاوند نکاح کے معاہدے کی شرائط کے مطابق جملہ منقولہ اور غیر منقولہ اموال عورت کوادا نہ کرلےتب تک طلاق واقع نہیں ہوتی اور نکاح برقرار رہتا ہے۔

اسلامی شریعت میں طلاق دینے کا طریقہ

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کوئی شخص اپنی زبان سے اپنی زوجہ کو طلاق کا لفظ کہہ کر یا نیت کے ساتھ کوئی ایسی بات کہے کہ جس سے طلاق دینا مفہوم ہو تو طلاق واقع ہوجاتی ہے۔خواہ ایسا مذاق سے کہے یا غصے سے بہر حال طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:"ثلاث جدهن جد وهزلهن جد النكاح والطلاق والرجعة"[21] یعنی "تین چیزیں ایسی ہیں کہ انہیں چاہے سنجیدگی سے کہا جائے یا ہنسی مذاق میں ان کا اعتبار ہوگا، (وہ یہ ہیں۔)نکاح،طلاق اور رجوع کرنا۔"اسلام میں فقط الفاظِ طلاق کی ادائیگی سے طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ طلاق کی اس قدر آسانی سے ادائیگی کے سبب ہر زوج کو شرعی طور پر طلاق دینے میں بہت احتیاط کی تلقین کی گئی ہے۔ اسی لیے اس معاملے میں مذاق سےبھی منع کیا گیا ہے۔اسلامی شریعت میں طلاق دینے کے بنیادی طور پر دو طریقے ہیں:

(1)طلاقِ سنت(مسنون طریقہ)(2)طلاقِ بدعت(مکروہ طریقہ)

(1)طلاقِ سنت

طلاقِ سنت سے مراد طلاق دینے کا ایسا طریقہ ہے جس میں خاوند اپنی مدخولہ زوجہ کو ایسے پاکی کے زمانے میں کہ جس میں ہمبستری نہ کی ہو،ایک طلاقِ رجعی دے۔اب اس کی دو صورتیں ہیں۔(۱)احسن (۲)حسن۔

احسن: اگر ایک طلاقِ رجعی دینے کے بعدپھر مکمل عدت گزرنے تک شوہر رجوع نہ کرے تو عورت بائنہ یعنی نکاح کے بندھن سے آزاد ہوجائےگی، اس طرح نکاح کے بندھن سے خلاصی کو طلاقِ احسن کہتے ہیں۔ طلاقِ احسن دینے کی صورت میں اگر خاوند دورانِ عدت رجوع کرنا چاہے تو بیوی کی رضامندی کے بغیر بھی رجوع کر سکتا ہے۔ لیکن اس طلاق کی عدت گزرنے کے بعد رجوع کرنے کے لیے دوبارہ نکاح کرنا ہوگا یعنی مرد اور عورت دونوں کی رضامندی ضروری ہےاور قبل از تکمیلِ عدت رجوع کرنے یاعدت گزرنے کے بعد دوبارہ نکاح کرنے کے بعد خاوند دو طلاق کامالک ہوگا کیونکہ وہ نکاح کے ذریعہ ملنے والے تین طلاقوں میں سے ایک طلاق دے چکا ہے۔"طلاقِ احسن" کے بارے میں ابن سیرین حضرت علی ؓ سے روایت نقل فرماتے ہیں۔

"لو أن الناس أصابوا حد الطلاق ما ندم رجل على أمرأة يطلقها واحدة ثم يتركها حتى تحيض ثلاث حيض"[22]"اگر لوگ طلاق دینے کی حد کو پہنچ ہی گئے ہوں تو وہ شخص (طلاق دینے )پر نادم نہیں ہوگا جو عورت کو ایک طلاق دے پھر اسے چھوڑ دے یہاں تک کہ تین حیض گزر جائیں۔"

امام طاؤسؒ(متوفیٰ:۱۰۶ھ) سے روایت ہے کہتے ہیں: "طلاق السنة أن يطلق الرجل امرأته طاهرا في غير جماع ثم يدعها حتى تنقضي عدتها"[23]"طلاقِ سنت یہ ہے کہ ایک شخص اپنی زوجہ کو ایسے طہر میں طلاق دے کہ جس میں جماع نہ کیا ہو اور پھر اسے چھوڑ دے یہاں تک کہ وہ اپنی عدت پوری کرے۔"عام طور پر صحابہؓ اور تابعینؒ طلاق کے اسی طریقہ کو پسند کرتے تھے، کیونکہ طلاق دینا مباح لیکن ناپسندیدہ عمل ہے جو بوقتِ ضرورت ہی دی جاتی ہے لہذا جب اس معاملے میں مقصود ایک طلاق ہی سے حاصل ہو جاتا ہے تو دوسری مرتبہ اسے استعمال نہ ہی کرنا بہتر ہے ۔

حسناگر حالتِ طہر میں خاوند اپنی مدخول بہا زوجہ کو ایک طلاقِ رجعی دے پھر دوسرے طہر میں دوسری طلاق دے اور تیسرے طہر میں تیسری طلاق دے ۔تو طلاق بھی واقع ہوجائیں گی اور تیسرے حیض سے فراغت پر عدت بھی مکمل ہوجائیگی۔جیسا کہ عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں: "طلاق السنة أن يطلقها في كل طهر تطليقة فإذا كان آخر ذلك فتلك العدة التي أمر الله بها"[24]"طلاقِ سنت (میں ایک طریقہ)یہ (بھی)ہے کہ کوئی شخص (اپنی منکوحہ کو) ہر طہر میں ایک طلاق دے ،پس جب آخری (تیسری)طلاق دے تو یہ وہ عدت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اس(مطلقہ)عورت کو حکم دیا ہے۔"

لیکن تین طلاقوں کے بعد زوجین کے باہمی رضامندی سے بھی ان دونوں کا نکاح نہیں ہوپائے گا یہاں تک کہ عورت کسی اور نامحرم مرد سے نکاح و حقوقِ زوجیت ادا نہ کر لے اور پھر وہ زوجِ ثانی از خود طلاق دے یاانتقال کر جائے اور یہ عورت عدت گزارے۔ جملہ تقاضوں کی تکمیل پر مذکورہ عورت اپنے سابقہ خاوند سے نکاح کر سکتی ہے اور اب خاوند ایک بار پھر تین طلاقوں کا مالک ہوگا۔جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: "فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ"[25]"پھر اگر شوہر (دو طلاقوں کے بعد تیسری)طلاق عورت کو دے دے تو اس کے بعد جب تک عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کر لے اس پہلے شوہر پر حلال نہیں ہوگی۔ہاں اگر دوسرا خاوند بھی طلاق دے دے پھر(یہ زوجِ ثانی سے مطلقہ) عورت اور پہلا خاوند پھر ایک دوسرے کی طرف رجوع کر لیں تو ان پرکچھ گناہ نہیں بشرطیکہ دونوں یقین کریں کہ اللہ کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے اور یہ اللہ کی حدیں ہیں ان (حدود) کو وہ ان لوگوں کے لیے بیان فرماتا ہے جو علم رکھتے ہیں۔"

طلاق کو ایسے طہر میں دینے کا حکم ہے کہ جس میں جماع نہ کیا ہو، اس کی علت فقہاء کرام یہ بتاتے ہیں کہ حالتِ حیض میں شوہر کی رغبت بیوی کی طرف کامل نہیں ہوتی ،ممکن ہے کہ حیض کی طلاق کے بعد آنے والے پاکی کے زمانے میں رغبت بڑھنے پر خاوند نادم ہوجیسا کہ علاءالدین کاسانی ؒ فرماتے ہیں:"والطلاق في طهر لا جماع فيه دليل على عدم الندم لأن الطهر الذي لا جماع فيه زمان كمال الرغبة"[26]"اور (شرعی حکم کے مطابق) ایسے طہر میں طلاق دینا کہ جس میں جماع نہ کیا ہو (یہ حکم) خاوند کے (طلاق کے فیصلے پر)نادم نہ ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ ایسی طہر جس میں جماع نہ کی گئی ہو ،ایسا زمانہ ہوتا ہے جس میں خاوند کا (اپنی زوجہ کی طرف) کمالِ رغبت ہوتا ہے۔"

اور جماع نہ کرنے کی علت یہ بتائی گئی ہےکہ طہر میں اگر جماع کرنے کے بعد طلاق دی جائے اور پھر معلوم پڑے کہ زوجہ امید سے ہوگئی ہے تب خاوند کو طلاق دینے پر ندامت ہوجائے ۔لہذا اگرزوجہ حاملہ ہے یا ایسی عورتوں میں سے ہے کہ جنہیں حیض نہیں آتے صغر یا کبر کی وجہ سے تو انہیں کبھی بھی طلاق دے سکتے ہیں اگرچہ جماع کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔لہذا " أبو المعالي برهان الدينؒرقم فرماتے ہیں:"وإن كانت ممن لا تحيض لصغر أو كبر طلقها متى شاء واحدة، وإن كان عقيب الجماع وكذلك الحامل"[27]"اور اگر عورت ایسی ہو کہ جسے صغر(نابالغہ ہونے)یا بڑھاپے کی وجہ سے حیض نہ آتے ہوں انہیں کبھی بھی ایک طلاق دے سکتے ہیں اگرچہ جماع کے بعد بھی اور یہی حکم حاملہ کا بھی ہے۔"لہذا طلاق دینے کے لیے ایسے وقت کا انتخاب کیا گیا کہ جب خاوند انتہائی رغبت رکھتا ہو،اب اگر باوجود رغبت کے طلاق دے تو معلوم ہوا کہ یہ جذباتی فیصلہ نہیں بلکہ خوب غور و فکر کرنے کے بعد کا فیصلہ ہے ۔

اگر زوجہ ایسی ہو کہ اسے حمل یا کسی اور وجہ سے حیض نہیں آتے یا حاملہ ہونے سے(بیماری یا صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے ) ناامید ہوتو اُسے ایسے طہر میں بھی طلاق بلا کراہت دے سکتے ہیں کہ جس میں جماع کی ہو، کیونکہ یہاں مذکورہ بالا علت نہیں پائی جاتی۔اسی لیے حسن بصریؒ اور محمد بن سیرینؒ فرماتے ہیں: "طلاق السنة في قبل العدة يطلقها طاهرا في غير جماع وإن كان بها حمل طلقها متى شاء"[28]"طلاقِ سنت کے عدت کے معاملے میں یہ ہےبات ہے کہ ایسے طہر میں طلاق دی جائے کہ جس میں جماع نہ کیا ہو اور اگر عورت حاملہ ہو تو کبھی بھی(جماع سے پہلے یا بعد میں)طلاق دے سکتے ہیں۔"دونوں ہی صورتوں میں شریعت کی تعلیمات شوہر کو حفظِ ما تقدم کے طور پر حکم دیتی ہے کہ ایک طہر میں ایک ہی طلاق دے کیونکہ ممکن ہے کہ اگلے طہر کے زمانے میں رجوع کی کوئی صورت بن جائے۔

امام مالک ؒ کے ہاں طلاقِ سنت فقط ایک طلاق ایسے طہر میں دینے کا نام ہے جس میں جماع نہ کیا ہو ، پھرمطلقہ عدت گزارے۔اگرایک طہر ،غیر جماع میں ایک طلاق اور دوسرے طہر میں دوسری طلاق دی جائے تو امام مالک ؒ کے ہاں یہ سنت طلاق نہیں ہوگی۔کیونکہ امام مالک ؒ فرماتے ہیں: "ما أدركت أحدا من أهل بلدنا يرى ذلك ولا يفتي به ولا أرى أن يطلقها ثلاث تطليقات عند كل طهر طلقة، ولكن تطليقة واحدة ويمهل حتى تنقضي العدة"[29] " میں نے کسی ایک کو بھی نہیں دیکھا ہمارے شہر(مدینہ) میں اور نہ ہی کسی نے فتویٰ دیا ہے اور میں بھی نہیں سمجھتا کہ کوئی شخص اپنی زوجہ کو تین طلاق(اس طرح) دے (کہ)ہر طہرمیں ایک طلاق دے۔لیکن(سنت طریقہ یہ ہے کہ)ایک ہی طلاق دے یہاں تک کہ عدت پوری ہوجائے۔"

(2)طلاقِ بدعت

طلاقِ بدعت طلاق دینے کے ایسے طریقے کو کہتے ہیں کہ جو طلاقِ سنت کے خلاف ہو۔اس طرح طلاق دینا شرعا ًممنوع و مکروہ ہے نیز طلاق دینے والا بارگاہِ خداوندی میں گنہگار بھی ہوگا۔لیکن ان صورتوں میں طلاق واقع ہوجاتی ہیں۔طلاقِ بدعت کی مختلف صورتیں مندرجہ ذیل ہیں:

۱- مدخول بہا بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دینا، لیکن ایسی حالت میں اگر ایک یا دو طلاقِ رجعی دی ہے تو رجوع کرلینا چا ہیے۔جیسا کہ روایت میں وارد ہے:"طلق ابن عمر امرأته وهى حائض ، فذكر عمر للنبى - صلى الله عليه وسلم - فقال " ليراجعها."[30]"حضرت ابن عمرؓ نے اپنی زوجہ کو طلاق دی جبکہ وہ حیض کی حالت میں تھیں،تو حضرت عمرؓ نے اس کا تذکرہ نبی ﷺ سے کیا، جس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ،اسے چاہیے کہ وہ ،اس سے رجوع کر لے۔"فقہاءکرام نے اس مراجعت کو رسول اللہ ﷺ کی طرف سے حکم دینے کی وجہ سے واجب کہا ہے لہذا امام زبیدیؒ فرماتے ہیں کہ اس روایت سے معلوم ہوا کہ طلاقِ بدعت ممنوع ہونے کے باوجود واقع ہوجاتی ہے اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے حیض میں دیئے گئے طلاق کے عدمِ وقوع کا نہیں فرمایا بلکہ ارشاد فرمایا"« ليراجعها »" یعنی زوجہ سے رجوع کرے،اور رجوع وہی کرتا ہے جس کی طلاق واقع ہو۔نیزحدیث میں وارد رجوع سے متعلق زبیدی ؒ فرماتے ہیں:"قوله (وإذا طلق امرأته في حال الحيض وقع الطلاق ويستحب له أن يراجعها) الاستحباب قول بعض المشايخ والأصح أنه واجب عملا بحقيقة الأمر وهو وهو «قوله - عليه السلام - لعمر - رضي الله عنه - مر ابنك فليراجعها وكان قد طلقها وهي حائض"[31]"مصنف کا قول،( اور جب طلاق دے کوئی شخص اپنی زوجہ کو حیض کی حالت میں تو طلاق واقع ہوجائے گی اور اس شخص کے لیے مستحب ہے کہ وہ طلاق سے رجوع کر لے۔)یہ استحباب کا قول بعض مشائخ کا ہے جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ مرد کا ایسی صورت میں رجوع کرنا واجب ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو فرمایا کہ اپنے بیٹے کو حکم دو کہ وہ اپنی زوجہ سے رجوع کرے جبکہ اس نے اپنی زوجہ کو حیض کی حالت میں طلاق دی تھی۔"

اسلامی شریعت میں خاوند اپنی زوجہ کو ایسے طہر میں طلاق نہ دے کہ جس میں جماع کر چکا ہو۔جیسا کہ ابن عباسؓ کا قول منقول ہے :" الطلاق على أربعة وجوه وجهان حلال ووجهان حرام فأما الحلال فأن يطلقها طاهرا عن غير جماع وأن يطلقها حاملا مستبينا وأما الحرام فأن يطلقها وهي حائض أو يطلقها حين يجامعها لا تدري أشتمل الرحم على ولد أم لا"[32]"طلاق کی چار صورتیں ہیں جن میں سے دو حلال ہیں اور صورتیں حرام ہیں۔ جہاں تک پہلے حلال کا تعلق ہے تو وہ یہ کہ(۱) کوئی شخص اپنی زوجہ کو ایسے طہر میں کہ جس میں جماع نہ کیا ہو ۔(۲)اور اگر ایسی حاملہ عورت کو طلاق دی کہ جس کا حمل ظاہر ہو چکا تھا۔ اور دو حرام صورتیں یہ ہیں کہ (۳)طلاق حیض کی حالت میں دی جائے۔(۴)اور چہارم یہ کہ پاکی کی حالت میں جماع کے بعد طلاق دے ، کیونکہ کہ جماع سے اب یہ معلوم نہیں کہ رحم میں اولاد ہے یا نہیں؟۔"ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں:"أو في طهر قد جامعها فيه ......فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيا."[33]"(طلاق بدعت کی ایک صورت یہ ہے کہ) ایسے طہر میں طلاق دے جس میں جماع کیا ہو۔۔۔۔جب (جماع والی طہر )طلاق دیدی تو طلاق واقع ہو جائے گی اور طلاق دینے والا گنہگار ہوگا۔"

تعلیماتِ اسلامی کی روشنی میں ایک ہی طہر میں ایک سے زائد بار (دو یا تین) طلاق دینا، یا ایک جملہ میں تینوں طلاق دینے کی مذمت اس روایت سے ظاہر ہے:"عن أنس، قال:كان عمر إذا أتي برجل قد طلق امرأته ثلاثا في مجلس أوجعه ضربا وفرق بينهما"[34]"حضرت انس ؓ کہتے سے روایت ہے کہ جب حضرت عمرؓ کے پاس ایسے شخص کو لایا جاتا جس نے اپنی زوجہ کو تین طلاق ایک مجلس میں دیئے ہوتے تو آپؓ اسے (سزاکے طور پر کوڑے )مار تے اور زوجین میں جدائی کردیتے۔"اسی طرح ایک طہر میں دو طلاق دینا بھی طلاقِ بدعت ہوگا جیسا کہ صاحبِ ھدایۃ رقم فرماتے ہیں: "وكذا إيقاع الثنتين في الطهر الواحد بدعة"[35]"اسی طرح ایک طہر میں دو طلاق دینا بھی (طلاقِ) بدعت ہے۔"

طلاقِ بائن دینا:طلاقِ بائن دینا بعض علمائے کرام کے ہاں بدعت ہے جیسا کہ علامہ ابن عابدینؒ نے نقل کیا ہے : "فالواحدة البائنة بدعية."[36] "ایک طلاقِ بائن دینا بدعت ہے۔"لیکن اس امر میں اختلاف ہے بعض علمائے کرام طلاق بائن کو طلاقِ مطلق پر زیادتی قرار دے کر ضرورت سے زائد امر شمار کرتے ہوئے دو طلاقوں پر قیاس کرتے ہوئے خلافِ سنت کہتے ہیں اور بعض کے ہاں یہ مکروہ نہیں کیونکہ وہ ایک طلاق سے نکاح کو ختم کرنا چاہتا ہے۔تو ایک طلاق ایک طہر میں واقع ہونے کی وجہ سے خلاف سنت نہیں ہے۔[37]اسلامی فقہ میں نابالغہ بیوی کو یا بڑی عمر والی بیوی کو، کہ جسے حیض نہ آتا ہو،ایک حیض کی جگہ ایک مہینے میں ایک سے زیادہ طلاق دینے سے منع کیا گیا ہےکیونکہ فقہائے کرام نے دو طہر کے درمیان حیض کو بطور فصل قرار دیا کہ طہر میں طلاق دی جائے اور حیض میں طلاق ممنوع ہے اور ایک طہر میں ایک ہی طلاق دی جائے ۔جیسا کہ صاحبِ عنایہؒ رقم فرماتے ہیں:"وإذا كانت المرأة لا تحيض من صغر أو كبر فأراد أن يطلقها ثلاثا للسنة طلقها واحدة، فإذا مضى شهر طلقها أخرى، فإذا مضى شهر طلقها أخرى) ؛ لأن الشهر في حقها قائم مقام الحيض"[38]"اور جب عورت ایسی ہو کہ جسے حیض نہ آتے ہوں کم عمر(نابالغہ )ہونے یا عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے تو اسے اگر کوئی تین طلاقِ سنت دینا چاہتا ہوایک طلاق دے پھر ایک مہینہ گزر جانے کے بعد دوسری طلاق دے اور پھر ایک مہینہ گزرجانے کے بعد تیسری طلاق دے۔ اس لیے کہ ایسی عورت کے حق میں ایک مہینہ ایک حیض کے قائم مقام ہے۔" حاصلِ کلام یہ کہ طلاق دینے کےاوپر ذکر کیئے گئے طریقے بدعت اور ممنوع ہیں، اگر کسی نے اس طرح طلاق دی تو وہ شخص سخت گنہگار ہوگا ،لہذااسلامی تعلیمات کے مطابق جب شرعی ضرورت پیش آئے تو طلاق کے معاملے میں سنت طریقے کو اپنانا چاہیے اور غیر سنت طریقوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔

تقابلی جائزہ

یہودی مذہب اور دینِ اسلام میں طلاق کے معاملے کا تقابلی جائزہ مندرجہ ذیل نقاط میں جدول کی صورت میں تلخیص کے ساتھ مرتب کیئے جا رہے ہیں جن کو ماسبق میں حوالوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے:

یہودی تعلیمات اسلامی شریعت
طلاق ایک مذموم فعل ہے لیکن اس کا قبیح ہونا کوئی امرِ عظیم نہیں۔ طلاق اس قدر قبیح فعل ہے کہ عرشِ الٰہی لرز جاتا ہے نیز شیطان اس پر سب سے زیادہ خوش ہوتاہے۔
طلاق دینے میں اصل شوہر ہے اس میں عورت کو کوئی دخل نہیں البتہ خاوند نکاح کے وقت معاہدے میں عورت کو حقِ طلاق تفویض کرسکتا ہے۔ طلاق دینا اصل میں خاوند کا حق ہے اور وہ چاہے تو یہ حق زوجہ کو تفویض کر سکتا ہے جبکہ اگر زوجین میں حدوداللہ کی خلاف ورزی ہو تو زوجہ کو خلع کے ذریعے طلاق کایا فسخِ نکاح کا حق حاصل ہے۔
شوہر کے لیے اپنی زوجہ کوطلاق دینا جائز ہے جبکہ زوجہ میں کوئی نامعقولیت پائی جائے یاکھانا خراب کرے یا زوجہ سے بہتر کوئی دوسری عورت مل جائے۔ خاوند کے لے طلاق دینا درست ہے جبکہ عورت حقوقِ واجبہ کی ادائیگی نہ کرے یا نہایت ہی بُرے اخلاق کی ہو یا خاوند کی نافرمانی کرے۔
بدکاری کے ارتکاب پر خاوند پر لازم ہے کہ اسے طلاق دے، اگرچہ خاوند اس کے اس فعل کو معاف بھی کرے تب بھی لازم ہے کہ طلاق دے۔ زوجہ کی بدکاری کی صورت اگر قاضی کے ہاں قضیہ نہ لیجایا گیا توخاوند معاف کر کے ازدواجی تعلقات قائم رکھ سکتا ہے۔ورنہ قاضی کے حضور اقرارِ جرم پر سنگسار یا خاوند کی طرف سے قاضی کے حضور شکایت اور عورت کے انکار پر لعان کے احکامات ہیں۔
ایک مرتبہ طلاق دینے کے بعدشوہر پھر اس عورت سے کسی بھی طرح دوبارہ ازدواجی تعلق نہیں جوڑ سکتا اگرچہ عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے پھر دوسرا خاوند فوت ہوجائے یا وہ بھی طلاق دے تب بھی پہلے خاوند سے شادی نہیں ہوسکتی۔ پہلی اور دوسری طلاقِ رجعی کے بعد بغیرتجدیدِنکاح کے خاوند رجوع کر سکتا ہے جبکہ عدت گزنے کے بعد یا طلاقِ بائن کے بعد باقاعدہ نکاح کے ذریعے زوجیت کا رشتہ قائم کیا جا سکتا ہے، جبکہ تین طلاق دینے کے بعد عورت بعد از عدت عورت کسی اور مرد سے شادی کرے اور حقوقِ زوجیت ادا کرے پھر خاوند انتقال کرجائے یا شوہر طلاق دے تو عدت کے بعد پہلے شوہر سے نکاح ہو سکتا ہے۔
طلاق دینے کے لیے ضروری ہے کہ خاوند طلاق نامہ خود لکھے یا کسی سے لکھوائے۔ شوہر طلاق کے الفاظ زبان سے ادا کرے یا قابلِ رؤیت تحریر لکھے یا پہلے سے لکھے طلاق نامے پر دستخط کرے ،بشرطیکہ جانتا ہو کہ یہ طلاق نامہ ہے ،تو طلاق جملہ صورتوں میں واقع ہو جاتی ہے۔
طلاق اصلاً خاوند کا ہی حق ہے عورت کو طلاق کے واقع ہونے یا نہ ہونے پر کچھ اختیار نہیں، سوائے اس کے کہ شوہر حقِ طلاق زوجہ کو تفویض کر دے۔ طلاق دینا خاوند کا ہی حق ہے جبکہ عورت حق تلفی یا خاوند کی طرف سے ظلم کے سبب خلع لے سکتی ہے اسی طرح بغیر حق تلفی یا ظلم کے بھی خلع کی پیشکش کر سکتی ہے جبکہ قاضی کے حکم سے خلع بصورت طلاق یا فسخِ نکاح نافذ ہوگا۔ اس کے علاوہ خاوند طلاق کا حق زوجہ کو تفویض کر سکتا ہے۔
طلاق کا واقع ہونا صرف اس وقت تصور کیا جائے گا کہ جب طلاق نامہ عورت کو پہنچے۔اگر طلاق نامہ پہنچنے سے پہلے خاوند کی طرف سے رجوع نامہ موصول ہوا تو طلاق منسوخ شمار ہوگا۔ جبکہ طلاق نامہ ملنے کے بعد کسی بھی طرح طلاق منسوخ نہیں ہو سکتا ۔اور اگر طلاق نامہ کھو جائے تو طلاق منسوخ شمار ہوگا۔ خاوند کا اپنی زوجہ کے لیےالفاظِ طلاق کہتے ہی یا اپنے الفاظِ طلاق لکھتے ہی یا پہلے سے تحریر شدہ طلاق نامے پر دستخط کرتے ہی (جبکہ اسے معلوم ہو کہ یہ طلاق نامہ ہے)طلاق واقع ہوجاتاہے اس کے لیے زوجہ کو معلوم ہونا یا زوجہ تک تحریر پہنچنا ضروری نہیں۔

نتائج البحث

مذکورہ بالا تعلیمات کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ اسلام اور یہودیت میں طلاق کے معاملے میں کئی احکامات میں یکسانیت پائی جاتی ہے جیسے طلاق کا حق مرد کو حاصل ہونا زوجہ کا اس کے وقوع میں کچھ دخل نہ ہونا وغیرہ۔ اگر خاوند زوجہ کے حقوقِ واجبہ ادا نہ کرے اور اس پر ظلم کرے تو عورت کے پاس اہلِ یہود کے ہاں کوئی حق نہیں کہ وہ سلسلئہ ازدواجیت کو ختم کر سکےیہ الگ بات ہے کہ بعد کے علمائے یہود نے اجتہادی طور پر عورت کے اس شکایت کو قابلِ سماعت قضیہ مانتے ہوئے خاوند کو حقوقِ واجبہ کی عدم فراہمی پر اپنی زوجہ کی شکایت اور بعداز ثبوتِ حق تلفی خاوند کو طلاق دینے پر مجبور کیا، لیکن اصولی طور پر یہ حق عورت کے لیے مذکور نہیں۔ جبکہ روزِ اول سے اسلام نے حق تلفی کی صورت میں خلع کا حق زوجات کو دیا ہے۔ طلاق کی حیثیت اور طریقہ کار کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام نے بنسبت یہودی تعلیمات کے قدرِ تفصیلی احکامات صادر کیئے ہیں اور ہر گوشے کے متعین حدود قائم کیئے ہیں جبکہ یہودی تعلیمات میں عورت زیادہ کمزور حیثیت کی معلوم ہوتی ہے۔

سفارشات

ایک مدّت سے مسلمانوں میں اہلِ یہود سے متعلق فقط نفرت انگیز سوچ فروغ پا رہی ہے یہ ایک علیحدہ معاملہ ہے کہ شریر لوگوں کی شرانگیزیوں سے محتاط رہنا چاہیے لیکن یہ حقیقت بھی کسی سے پنہاں نہیں کہ ہمارے اکابر صحابہؓ ائمہ مفسرین اور مؤرخین نے اہل کتاب خاص کر یہودی و اسرائیلی روایات کو بطور تفسیر، ترغیب و ترہیب بیان کیا ہے۔ اہلِ یہود کے پاس اب بھی وحی اور سابقہ انبیاء ؑ کی تعلیمات اوراحکامات پرمشتمل علم کا ایک وافر حصہ موجود ہے جسے اگر ہم غیر جانبدارانہ طور پر حاصل کر لیں تو ہمیں اسلامی تعلیمات کا تسلسل جو عہدِ رسالت مآبﷺ سے قبل چلی آئی تھیں ان سے واقفیت ہوگی۔ اور یہ بات بدرجہ اتم مفہوم ہوگی کہ اسلام دینِ حق ہے جو سیدنا آدمؑ سے شروع ہو کر مختلف ادوار سے گزر کر محمد ﷺ پر مکمل ہوا جیسا کہ طلاق کے معاملے میں ہم نے آگئی حاصل کی کہ طلاق کو جیسے ہم سمجھتے ہیں وہ قبل از اسلام بھی مستعمل تھی لیکن اس کی صورت اس زمانے اور حالات کے لحاظ سے مختلف تھی۔اگر یہودی مآخذ کی مؤثر تشہیر اور ان کے عقائد و نظریات نیز احکامات پر مبنی کتب کو حکومتی سطح پر کوشش کر کے مختلف لائبریریز اور خاص کر جامعات تک رسائی کو آسان بنایا جائے تو ان علوم سے بھرپور استفادہ کیا جا سکتا ہے۔


  1. "Divorce Level: Basic, Jewish Attitude Toward Divorce," http://jewfaq.org/divorce.htm, accessed on October 2, 2019.
  2. "Issues in Jewish Ethics: Divorce," http://jewishvirtuallibrary.org/divorce-in-judaism, assessed on October 5, 2019.
  3. پیدائش 2:16
  4. Mishna, Jewish Laws," https://www.britannica.com/topic/Mishna, accessed on October 5, 2019.
  5. The Mishnah, trans. Herbert Danby, (New York: Oxford University Press, 1993), 321.
  6. القرآن 4:34
  7. القرآن، 4:19
  8. سلمان بن الاشعث ابوداؤد ، السنن،کتاب الطلاق،باب فی کراھیۃ الطلاق(بیروت:دار الفکر،1426ھ)،حدیث نمبر:2177،1:661۔
  9. علی بن حسام متقی ، کنز العمال فی سنن الاقوال و الافعال،کتاب الطلاق من قسم الاقوال،الفصل الثانی فی الترھیب عن الطلاق، (بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ،1989ء)،حدیث نمبر:27874،9:1161۔
  10. علی بن عمر،سنن الدار قطنی،کتاب الطلاق و الخلع و الایلاء( بیروت :دارالمعرفۃ، 1386ھ)،حدیث نمبر:94،4:35۔
  11. مسلم بن حجاج قشیری،الصحیح،کتاب صفۃ القیامۃ و الجنۃ و النار،باب تحریش الشیطان و بعثہ سرایاہ لفتنۃ الناس و ان مع کل انسان قرینا، (بیروت : دار احیاءالتراث العربی، 1424ھ) ،حدیث نمبر:2813،4:2167۔
  12. ابو عبداللہ حمد بن عبداللہ الحاکم ، المستدرک علی الصحیحین، کتاب التفسیر،تفسیر سورۃ النساء (بیروت: دارالکتب، العلمیۃ، 1990ء)،حدیث نمبر: 3181،1:331۔
  13. Danby, The Mishnah, 311.
  14. Divorce Level: Basic, "Jewish Attitude toward Divorce", http://jewfaq.org/divorce.htm, accessed on October 2, 2019.
  15. Danby, The Mishnah, 309.
  16. Ibid., 307.
  17. Ibid., 310.
  18. Ibid., 308.
  19. Ibid., 309.
  20. Ibid., 307.
  21. ابو داؤد، السنن،کتاب الطلاق،باب فی الطلاق علی الھزل،حدیث نمبر:2194 ،1:666۔
  22. عبد اللہ بن محمد ابن ابی شیبۃ، المصنف فی الاحادیث و الآثار، کتاب الطلاق، ما قالوا فی طلاق السنۃ ما و متی یطلق؟(ریاض: مکتبۃ الرشد، 1409ھ)،حدیث نمبر:17728، 4:55۔
  23. ایضا۔،ما یستحب من طلاق السنۃ، و کیف ھو؟،حدیث نمبر:17740، 4:56۔
  24. دارقطنی،سنن الدارقطنی،کتاب الطلاق و الخلع و الایلا، حدیث نمبر : 4، 4:5۔
  25. القرآن 230:2
  26. ابو بکر بن مسعود بن احمد علاء الدین کاسانی، بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع(بیروت: دار الکتب العلمیۃ،1406ھ) ،3:88۔
  27. محمود بن احمد، المحیط البرھانی فی الفقہ النعمانی( بیروت،دارالکتب العلمیۃ،1424ھ) ،3:200۔
  28. ابن ابی شیبۃ ، مصنف فی الاحادیث و الاثار،کتاب کتاب الطلاق، ماقالوا فی طلاق السنۃ ما و متی یطلق، حدیث نمبر:17729 ، 4:55۔
  29. مالک بن انس، المدونۃ،(بیروت: دار الکتب العلمیۃ،1415ھ ) ،2/3۔
  30. محمد بن اسماعیل البخاری،الجامع الصحیح،کتاب الطلاق،باب اذا طلقت الحائض یعتد بذالک الطلاق(بیروت: دار ابن کثیر،1407ھ)،حدیث نمبر:4954،5:2011۔
  31. ابوبکر بن علی زبیدی ،الجوھرۃ النیرۃ(مصر: المطبعۃ الخیریۃ، 1322ھ )،2:32۔
  32. دار قطنی ، سنن الدارقطنی،کتاب الطلاق و الخلع و الایلا، ،حدیث نمبر:3890، 5:8۔
  33. ملا علی قاری ،مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح( بیروت: دارالفکر ،1422ھ) ،5:2146۔
  34. ابن ابی شیبہ، المصنف فی الادیث و الآثار،کتاب الطلاق، باب من کرہ ان یطلق الرجل امرؤتہ ثلاثا فی مقعد واحد، و اجاز ذلک علیہ،حدیث: 17790، 4:61۔
  35. علی بن ابی بکر مرغینانی ،الھدایۃ (پاکستان: مکتبۃ البشری،1432ھ) ،3:133۔
  36. محمد امین ابن عابدین،ردالمحتارعلی الدر المختار (بیروت: دارالفکر، 1412ھ )، 3:231۔
  37. ابوبکر بن علی زبیدی ،الجوھرۃ النیر ۃ،2/31۔
  38. محمد بن محمد، العنایۃ شرح الھدایۃ(بیروت،دارالفکر، 1427ھ)،3:474،475۔


حوالہ جات