احادیث نبویہ میں وارد احکام حیوانات کا تحقیقی جائزہ

کتابیات
مجلہ برجس
عنوان احادیث نبویہ میں وارد احکام حیوانات کا تحقیقی جائزہ
انگریزی عنوان
Analytical Study of Alight Ahadith of Livestock
مصنف علی، گلزار، استراج خان
جلد 2
شمارہ 2
سال 2015
صفحات 21-34
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Livestock, Ahadiths, Islamic Teachings, Muhammad (S.A.W).
شکاگو 16 علی، گلزار، استراج خان۔ "احادیث نبویہ میں وارد احکام حیوانات کا تحقیقی جائزہ۔" برجس 2, شمارہ۔ 2 (2015)۔

Abstract

Livestock has a vital role in life of human beings. Allah says: And he has created the livestock for you, to provide you with warmth, and many other benefits, as well as food. They also provide you luxury during your leisure and when you travel and they carry your load to lands that you could not reach without a great hardship. Surely, your lord is compassionate and most merciful. There is no doubt about the above statement but the Prophet (SAW) has directed us to keep ourselves away from tyranny and heartlessness during getting service of livestock. This article is an effort to proffer the guidance given to us by the Prophet (SAW) to get advantages of them.

تعارف:

دنیا کا تمام نظام اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے مسخر کیا ہوا ہے جس میں بے جان کے ساتھ ساتھ جاندار بھی شامل ہیں، خاص کر مویشی جن سے انسان مختلف فوائد حاصل کرتا ہے۔ ان کےفوائد کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان الفاظ سے کیا ہے: وَالأنْعَامَ خَلَقَهَا لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ وَمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ، وَلَكُمْ فِيهَا جَمَالٌ حِينَ تُرِيحُونَ وَحِينَ تَسْرَحُونَ،   وَتَحْمِلُ أَثْقَالَكُمْ إِلَى بَلَدٍ لَمْ تَكُونُوا بَالِغِيهِ إِلا بِشِقِّ الأنْفُسِ إِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ، وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً(1) "اور مویشیوں کو بھی اسی نے پیدا کیا۔ ان میں تمہارے لیے سردی سے بچاؤ اور بہت سے دوسرے فوائد ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ہو اور جب شام کو انہیں جنگل سے لاتے ہو اور جب صبح کو جنگل چرانے لے جاتے ہو تو ان سے تمہاری عزت وشان کا اظہار ہوتاہے اور دور دراز شہروں سے جہاں تم سخت محنت کے بغیر پہنچ نہیں سکتے وہ تمہارے بوجھ اٹھاکر لے جاتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار نہایت شفقت والا مہربان ہےاور اسی نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کیے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ تمہارے لیے رونق وزینت بھی ہیں "۔

حیوانات سے مذکورہ خدمات کا حصول بلاشک وشبہ جائز ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم مویشیوں سے اپنے فوائد ومقاصد تو حاصل کریں لیکن  ان کی دیکھ بھال میں غفلت برتیں بلکہ شریعت اسلامی نے مویشیوں کے بھی کچھ حقوق انسان پر فرض کیے ہیں تاکہ ان سے خدمت لیتے وقت ان سے بے جان جیسا رویہ نہ کیا جائے۔مویشیوں کے ان حقوق وفرائض کا لحاظ رکھنا ہر اس  انسان کی اولین ذمہ داری ہے جو ان سے خدمت لیتا ہے۔اس مقالہ میں مویشیوں کے ان حقوق پر احادیث کی روشنی میں  روشنی ڈالی گئی ہے۔

احکام حیوانات:

حیوان پر لعنت بھیجنا اور گالیاں دینا:== نبی کریمﷺ نے حیوان پر لعنت بھیجنے سے ممانعت فرمائی ہے، چنانچہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِى بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَامْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ عَلَى نَاقَةٍ فَضَجِرَتْ فَلَعَنَتْهَا فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ: خُذُوا مَا عَلَيْهَا وَدَعُوهَا فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ. قَالَ عِمْرَانُ فَكَأَنِّى أَرَاهَا الآنَ تَمْشِى فِى النَّاسِ مَا يَعْرِضُ لَهَا أَحَدٌ.(2)

"آنحضرتﷺ ایک سفر میں تھے اور ایک انصاری عورت ایک اونٹنی پر تھی، وہ تڑپی تو انصاری عورت

نے اس پر لعنت کی جسے حضورﷺ نے سن لیا۔ آپﷺ نے فرمایا: اونٹنی پر جو سامان ہے وہ لے لواور اسے چھوڑ دوکیونکہ یہ ملعون ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اب تک میری نظر میں وہ سماں ہے کہ اونٹنی لوگوں میں یونہی پھر رہی تھی اور اس سے کوئی تعرض نہیں کررہا"۔

عَنْ أَبِى بَرْزَةَ الأَسْلَمِىِّ قَالَ بَيْنَمَا جَارِيَةٌ عَلَى نَاقَةٍ عَلَيْهَا بَعْضُ مَتَاعِ الْقَوْمِ إِذْ بَصُرَتْ بِالنَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم وَتَضَايَقَ بِهِمُ الْجَبَلُ فَقَالَتْ حَلْ اللَّهُمَّ الْعَنْهَا. قَالَ فَقَالَ النَّبِىُّ صلى الله عليه وسلم: لاَ تُصَاحِبُنَا نَاقَةٌ عَلَيْهَا لَعْنَةٌ.(3)

"سیدنا ابو برزۃ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک باندی ایک اونٹنی پر سوار تھی لوگوں کا کچھ سامان بھی اونٹنی پر لدھا ہوا تھا، اچانک اس نے آنحضرتﷺ کو دیکھا اور راستہ میں پہاڑ کی تنگ راہ تھی، اس باندی نے کہا: چل  اے اللہ اس پر لعنت کر، تب آنحضرتﷺ نے فرمایا :ہمارے ساتھ لعنت والی اونٹنی نہ رہے"۔

امام خطابیؒ فرماتے ہیں کہ بعض علماء کی رائے ہے  کہ نبی کریمﷺ نے ان کو اونٹنی کے  چھوڑنے کا حکم دیا کیونکہ لعنت کی بددعا قبول ہوئی تھی جس کی دلیل آپﷺ کا فرمان: فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ ہے، البتہ یہ بھی احتمال ہے کہ آپﷺ نے زجرًا ان کو یہ حکم دیا ہو تاکہ آئندہ لعنت جیسی بات کرنے سے منع ہوجائیں۔ (4)

امام بہوتیؒ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی بنیاد پرجانور پر لعنت بھیجنا حرام ہے اور امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ بزرگ شخصیتوں کے نزدیک جانور پر لعنت بھیجنے والے آدمی کی گواہی قابل تردید ہے۔(5)

اسی طرح ایک اور روایت میں ہے:

عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ تَسُبُّوا الدِّيكَ فَإِنَّهُ يُوقِظُ لِلصَّلاَةِ (6)   ۔"سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: مرغ کو گالی مت دو کیونکہ وہ نماز کے لیے اٹھاتا ہے"۔

شمس الحق عظیم آبادیؒ فرماتے ہیں کہ مرغ اپنی آواز سے تہجد کے لیے اٹھاتا ہے اور جو چیز کسی نیک کام میں مدد دیتا ہے وہ قابل مدح ہوتی ہے نہ کہ قابل مذمت۔(7)

امام حلیمیؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ ہر اس چیز کی مذمت کرنا اور اسے گالیاں دینا جائز

نہیں ہے جس سے کوئی خیر مستفاد ہو بلکہ وہ قابل اکرام اور قابل شکر ہے اور احسان ادا کرنے کی مستحق

ہے۔(8)

حیوان کے چہرے پر داغ دینا: چہرہ چاہے انسان کا ہو یا حیوان کا لیکن چونکہ ایک محترم اور مکرم عضو ہے اس لیے نبی کریمﷺ نے چہرے پر داغ دینے سے منع فرمایا ہے، چنانچہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: أَنَّ النَّبِىَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ عَلَيْهِ حِمَارٌ قَدْ وُسِمَ فِى وَجْهِهِ فَقَالَ: لَعَنَ اللَّهُ الَّذِى وَسَمَهُ(9)

" نبی کریمﷺ کے سامنے سے ایک گدھا گزرا جس کے منہ پر داغ دیا گیا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا: اللہ اس پر لعنت کرے جس نے اسے داغا ہے"۔

عن ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِمَارًا مَوْسُومَ الْوَجْهِ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ قَالَ فَوَاللَّهِ لاَ أَسِمُهُ إِلاَّ فِى أَقْصَى شَىْءٍ مِنَ الْوَجْهِ. فَأَمَرَ بِحِمَارٍ لَهُ فَكُوِىَ فِى جَاعِرَتَيْهِ فَهُوَ أَوَّلُ مَنْ كَوَى الْجَاعِرَتَيْنِ (10)

"حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے ایک گدھا دیکھا جس کے منہ پر داغ تھا، آپﷺ نے اس چیز کو برا کہا اور فرمایا: خدا کی قسم میں تو داغ نہیں دیتا مگر اس حصہ کو جو چہرے سے بہت دور ہے اور اپنے گدھے کے متعلق حکم دیا چنانچہ اس کے پٹھوں پر داغ دیا گیا اور سب سے پہلے آپﷺ نے پٹھوں پر داغا"۔

عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِىَّ صلى الله عليه وسلم مُرَّ عَلَيْهِ بِحِمَارٍ قَدْ وُسِمَ فِى وَجْهِهِ فَقَالَ: أَمَا بَلَغَكُمْ أَنِّى قَدْ لَعَنْتُ مَنْ وَسَمَ الْبَهِيمَةَ فِى وَجْهِهَا أَوْ ضَرَبَهَا فِى وَجْهِهَا. فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ.(11)

"سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کے سامنے سے ایک گدھا گزرا جسے منہ پر داغا گیا تھا، آپﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے لعنت بھیجی ہے اس پر جو جانور کو منہ پر داغ دیتا ہے یا اسے چہرے پر مارتا ہے، پس آپﷺ نے اس سے منع فرمایا"۔

امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ انسان کو چہرے اور چہرے کے علاوہ کسی بھی اندام پر داغنا حرام ہے، اس لیے کہ انسان محترم ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ انسان کو داغ دینے کی کوئی حاجت بھی نہیں ہے لہٰذا اسے بلاوجہ  تکلیف دینا جائز نہیں ہے۔ اس طرح علماء کا اجماع ہے کہ حیوان کو چہرے پر داغنا ممنوع ہے، البتہ یہ ممانعت مکروہ ہےیا حرام تو بعض شوافع کے نزدیک یہ مکروہ ہے لیکن امام بغویؒ فرماتے ہیں کہ یہ جائز نہیں ہے۔ امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ ان کا اشارہ حرمت کی طرف ہے جو کہ راجح ہے اس لیے کہ نبی کریمﷺ نے ایسا

کرنے والے پر لعنت بھیجی ہے اور لعنت حرمت کا تقاضا کرتی ہے۔(12)

امام قرطبیؒ فرماتے ہیں کہ چونکہ چہرہ مجمع محاسن ہے، روح کا مدخل ومخرج ہےاور تمام ناطقہ اور غیر ناطقہ حیوانات کی زندگی کا قیام اس پر ہےلہٰذا شریعت نے چہرے کے اس مرتبہ ومقام کی وجہ سے اس کا احترام ملحوظ رکھا ہےاور اس کی کسی قسم کی اہانت، تذلیل اور تقبیح سے منع فرمایا ہے۔(13)

جانور کو چہرے کے علاوہ کسی دوسرے اندام پر داغ دینا جائز ہے چنانچہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: أَنَّ أُمَّهُ حِينَ وَلَدَتِ انْطَلَقُوا بِالصَّبِىِّ إِلَى النَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم يُحَنِّكُهُ قَالَ فَإِذَا النَّبِىُّ صلى الله عليه وسلم فِى مِرْبَدٍ يَسِمُ غَنَمًا. قَالَ شُعْبَةُ وَأَكْثَرُ عِلْمِى أَنَّهُ قَالَ فِى آذَانِهَا(14)

"ان کی والدہ نے جس وقت بچہ جنا، تو فرمایا کہ اس بچے کو آنحضرتﷺ کی خدمت میں لے جاؤ، آپﷺ اس کی تحنیک فرمادیں گے۔ میں نے دیکھا تو آنحضرتﷺ بکریوں کے گلے میں تھے اور انہیں داغ رہے تھے۔ شعبہ بیان کرتے ہیں کہ میرا گمان یہ ہے کہ ان کے کانوں پر داغ لگا رہے تھے"۔

حیوان کو زینت اور فائدے کے لیے سدھانا: حیوان اور پرندے کو ضرورت، زینت اور کسی غرض کے لیے سدھانا جائز ہے چنانچہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: قَالَ كَانَ النَّبِىُّ  صلى الله عليه وسلم أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا، وَكَانَ لِى أَخٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ قَالَ أَحْسِبُهُ فَطِيمٌ  وَكَانَ إِذَا جَاءَ قَالَ يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ. نُغَرٌ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ، فَرُبَّمَا حَضَرَ الصَّلاَةَ وَهُوَ فِى بَيْتِنَا، فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِى تَحْتَهُ فَيُكْنَسُ وَيُنْضَحُ، ثُمَّ يَقُومُ وَنَقُومُ خَلْفَهُ فَيُصَلِّى بِنَا.(15)

"فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ اخلاق کے اعتبار سے سب سے بہتر تھے۔ میرا ایک بھائی ابوعمیر نامی تھا۔ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ بچے کا دودھ چھوٹ چکا تھا۔ آنحضرتﷺ جب تشریف لاتے تو اس سے مزاحاً فرماتے : اے ابوعمیر! نغیر کا کیا ہوا؟ (نغیر عربی زبان میں ایک چڑیا کا نام ہےجو کہ کبوتر سے چھوٹی اور چڑیا سے بڑی ہوتی ہے غالباً مینا)، ایک چڑیا تھی جس کے ساتھ وہ کھیلتا تھا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ نماز کا وقت ہوجاتااور آنحضورﷺ ہمارے گھر میں ہوتے۔ آپﷺ اس بستر کو بچھانے کا حکم دیتے جس پر آپ بیٹھے ہوئے تھے، چنانچہ اسے جھاڑ کر اس پر پانی چھڑک دیا جاتا۔ پھر آپ کھڑے ہوتے اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوتے اور آپﷺ ہمیں نماز پڑھاتے"۔

اسی طرح سنن ابی داؤد میں منقول ہے:عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم

يَدْخُلُ عَلَيْنَا وَلِى أَخٌ صَغِيرٌ يُكْنَى أَبَا عُمَيْرٍ وَكَانَ لَهُ نُغَرٌ يَلْعَبُ بِهِ فَمَاتَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِىُّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ فَرَآهُ حَزِينًا فَقَالَ: مَا شَأْنُهُ. قَالُوا مَاتَ نُغَرُهُ فَقَالَ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ.(16)

"سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ ہم لوگوں کے پاس تشریف لایا کرتے تھے، میرا ایک چھوٹا بھائی تھا جس کی کنیت ابو عمیر تھی اور اس کے پاس ایک چڑیا تھی جس سے وہ کھیلا کرتا تھا۔ اتفاقا وہ چڑیا مرگئی پھر ایک دن آنحضرتﷺ تشریف لائے۔ آپﷺ نے دیکھا کہ وہ رنجیدہ ہے۔ آپﷺ نے اس کی وجہ دریافت فرمائی، لوگوں نے کہا کہ اس کی پالتو چڑیا مرگئی (اس لیے رنجیدہ بیٹھا ہے)۔ آپﷺ نے فرمایا: اے ابو عمیر! (تمہارے) نغیر کا کیا ہوا؟"۔

حیوان کے مارنے سےمتعلق ہدایات: حیوان کو ضرورت کی بناء پر شدت سے بچتے ہوئے مارنا جائز ہے، البتہ بلاضرورت حیوان کو مارنا جائز نہیں ہے۔ مندرجہ ذیل روایات حیوان کے مارنے کے متعلق مکمل ہدایات فراہم کرتے ہیں:

عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لَطْمِ خُدُودِ الدَّوَابِّ، وَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ جَعَلَ لَكُمْ عِصِيًّا وَسِيَاطًا (17)

" مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا کہ آپﷺ نے جانور کو چہرے پر مارنے سےمنع فرمایا اور کہا: یقینا اللہ تعالیٰ نے تمہارے (جانور کومارنے کے)لیے لاٹھیاں اور کوڑے پیدا کیے ہیں "۔

اس حدیث سے جانور کو چہرے کے علاوہ کسی دوسرے اندام پر لاٹھی اور کوڑے سے مارنے کا جواز معلوم ہوتا ہے لیکن بلاضرورت مارنا جائز نہیں ہے اور اگر ضرورت پڑی تو شدت ضرب اور ظلم سے بچنا لازمی ہے،(18)چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: قالت: أعطاني رسول الله صلى الله عليه وسلم ناقة سوداء كأنها فحمة ضعيفة لم تخطم فمسحها ثم دعا عليها بالبركة ثم قال: "يا عائشة اركبي وأرفقي"(19)

" فرماتی ہے کہ رسول اللہﷺ نے مجھے کوئلہ کی طرح ایک کالی اور کمزور اونٹنی دیدی جس پر منہ بند نہیں

چڑھائی گئی تھی۔پھر اس کو مسح کیا اور اس کے لیے برکت کی دعاکی پھر آپﷺ نے فرمایا: اے عائشہ!

(اس پر) سواری کر لیکن (اس کے بارے میں) نرمی وشفقت سے کام لیا کر"۔

حیوانات کو ایک دوسرے سے لڑانا: چوپاؤں، کتوں اور مرغیوں وغیرہ کو آپس میں لڑانا حرام ہے چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ التَّحْرِيشِ بَيْنَ الْبَهَائِمِ (20)" رسول اللہﷺ نے چوپاؤں کو ایک دوسرے سے لڑانے سے منع فرمایا ہے"۔

موسوعہ فقہیہ میں منقول ہے کہ حیوانات کو آپس میں لڑانے کی حرمت پر فقہاء بلا اختلاف متفق ہیں کیونکہ یہ عبث اور حیوان کو بلاوجہ تکلیف دینے والا کام ہے اور کبھی  کبھی  اس میں کسی غرض مشروع کے بغیر حیوان مربھی جاتا ہے۔(21)

حیوان کو خصی کرنا: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہﷺ نے اونٹ، بیل، مینڈھے اور گھوڑے کو خصی کرنے سے منع فرمایا ہے۔(22)

عن عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَبْرِ الرُّوحِ قَالَ الزُّهْرِىُّ وَالإِخْصَاءُ صَبْرٌ شَدِيدٌ (23)

"عبید اللہ بن عبد اللہؒ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے جاندار کو باندھ کر مارنے سے فرمایا ہے۔ امام زہریؒ کہتے ہیں کہ خصی کرنا صبر شدید میں داخل ہے"۔

ان احادیث کی بنیاد پر اگر چہ بعض فقہاء نے جانور کو خصی کرنے سے منع فرمایا ہے لیکن امام طحاویؒ فرماتے ہیں کہ مذکورہ روایت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے موقوفاً صحیح ہے اورنبی کریمﷺ سے مرفوعا جانور کو خصی کرنے کی ممانعت منقول نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں بروایت صحیح منقول ہے کہ نبی کریمﷺ نے دو خصی مینڈھوں سے قربانی فرمائی لہذا اگر خصاء ممنوع ہوتا تو نبی کریمﷺ ہرگز خصی مینڈھے سے قربانی نہ فرماتے۔(24)

یہی وجہ ہے کہ ائمہ اربعہ حلال جانور کے خصاء کے جواز  پر متفق ہیں کیونکہ اس میں ایک منفعت موجود ہے جو کہ اس کے گوشت میں بہتری آنے کاہے، البتہ امام مالکؒ اور امام شافعیؒ غیر ماکول جانور کی کراہت کے قائل ہیں کیونکہ ایسے جانور کا خصاء اس کو بلاغرض تکلیف دینا ہے۔(25)

زندہ حیوان کو نشانہ بنانا: جاہلیت میں لوگ زندہ پرندے یا حیوان کو نشانہ بناکر تیر مارتے تھے۔ نبی کریمﷺ نے اس عمل سے سختی سے منع فرمایا۔ مندرجہ ذیل روایات اس پر دال ہیں:

عن هِشَامَ بْنَ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ جَدِّى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ دَارَ الْحَكَمِ بْنِ أَيُّوبَ فَإِذَا قَوْمٌ قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا قَالَ فَقَالَ أَنَسٌ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ (26)

"ہشام بن زید بن انس ؒ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے داد سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے

گھر گیا، وہاں کچھ لوگوں نے ایک مرغی کو نشانہ بنایا تھااور اس پر تیر ماررہے تھے۔ بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آنحضرتﷺ نے جانوروں کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے"۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِىَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: لاَ تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا(27)

"حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کسی جاندار کو نشانہ  مت بناؤ"۔

عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ مَرَّ ابْنُ عُمَرَ بِنَفَرٍ قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَتَرَامَوْنَهَا فَلَمَّا رَأَوُا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا عَنْهَا. فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ مَنْ فَعَلَ هَذَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَعَنَ مَنْ فَعَلَ هَذَا (28)

"سعید بن جبیرؒ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما چند لوگوں پر سے گزرے جنہوں نے ایک مرغی کو نشانہ بنا رکھا تھااور اس پر تیر چلا رہے تھے۔ جب انہوں نے سیدنا ابن عمرؓ کو دیکھا تو وہاں سے متفرق ہوگئے۔ سیدنا ابن عمرؓ نے فرمایا یہ کام کس نے کیا؟ آنحضرتﷺ نے تو ایسا کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے"۔

عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ مَرَّ ابْنُ عُمَرَ بِفِتْيَانٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ نَصَبُوا طَيْرًا وَهُمْ يَرْمُونَهُ وَقَدْ جَعَلُوا لِصَاحِبِ الطَّيْرِ كُلَّ خَاطِئَةٍ مِنْ نَبْلِهِمْ فَلَمَّا رَأَوُا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ مَنْ فَعَلَ هَذَا لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَعَنَ مَنِ اتَّخَذَ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا (29)

"سعید بن جبیرؒ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما قریش کے چند نوجوانوں پر سے گزرے۔ انہوں نے ایک پرندہ کو نشانہ بنا رکھا تھا، اس پر تیر ماررہے تھے اور صاحب پرندہ سے یہ ٹھہرا تھا کہ جو تیر نشانہ پر نہ لگےتو اس کو وہ لے لے۔ جب انہوں نے سیدنا ابن عمرؓ کو دیکھا تو ہٹ گئے۔ سیدنا ابن عمرؓ نے فرمایا یہ کس نے کیا ہے؟ اللہ نے ایسا کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے اور حضورﷺ نے اس پر لعنت فرمائی ہے جو کسی جاندار کو نشانہ بنائے "۔

عن جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُقْتَلَ شَىْءٌ مِنَ الدَّوَابِّ

صَبْرًا(30)

"سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے کسی جانور کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے"۔

حیوان سے کام لینے اور خوراک دینے کے متعلق ہدایات:

اللہ تعالیٰ نے حیوانات  انسان کے لیے مسخر کیے 

ہیں تاکہ انسان ان سے اپنی ضرورت کا کام لے سکے لیکن ان سے اپنی طاقت سے زیادہ کام نہ لے اور ان کے لیے گھاس پھوس کا انتظام بھی بروقت کرے، چنانچہ سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِبَعِيرٍ قَدْ لَحِقَ ظَهْرُهُ بِبَطْنِهِ فَقَالَ: اتَّقُوا اللَّهَ فِى هَذِهِ الْبَهَائِمِ الْمُعْجَمَةِ فَارْكَبُوهَا وَكُلُوهَا صَالِحَة(31)

"آنحضرتﷺ نے ایک اونٹ کو دیکھا جس کا پیٹ اس کی پشت سے لگ گیا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا تم لوگ ان بے زبان جانوروں کے سلسلے میں اللہ کا خوف کرو، ان پر اچھی طرح سوار ہو اور ان کو ٹھیک طرح کھلاؤ پلاؤ"۔

سیدنا جعفر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: قَالَ: أَرْدَفَنِى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَلْفَهُ ذَاتَ يَوْمٍ فَأَسَرَّ إِلَىَّ حَدِيثًا لاَ أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ وَكَانَ أَحَبُّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِحَاجَتِهِ هَدَفًا أَوْ حَائِشَ نَخْلٍ. قَالَ: فَدَخَلَ حَائِطًا لِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَإِذَا جَمَلٌ فَلَمَّا رَأَى النَّبِىَّ صلى الله عليه وسلم حَنَّ وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ فَأَتَاهُ النَّبِىُّ صلى الله عليه وسلم فَمَسَحَ ذِفْرَاهُ فَسَكَتَ فَقَالَ: مَنْ رَبُّ هَذَا الْجَمَلِ لِمَنْ هَذَا الْجَمَلُ. فَجَاءَ فَتًى مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ: لِى يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ: أَفَلاَ تَتَّقِى اللَّهَ فِى هَذِهِ الْبَهِيمَةِ الَّتِى مَلَّكَكَ اللَّهُ إِيَّاهَا فَإِنَّهُ شَكَى إِلَىَّ أَنَّكَ تُجِيعُهُ وَتُدْئِبُهُ(32)

"فرماتے ہیں کہ مجھے آنحضرتﷺ نے ایک روز اپنے ہمراہ سوار کیا اور آپ نے آہستہ سے مجھے ایک بات ارشاد فرمائی جو میں کسی کو نہیں بتاؤں گا اور آنحضرتﷺ کو قضاء حاجت کے لیے چھپ جانے کے مقامات میں دو مقام زیادہ پسندیدہ تھے یا تو کوئی جگہ بلند ہویا درختوں کا جھنڈ ہو۔ ایک مرتبہ آپﷺ کسی انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے اس طرف سے ایک اونٹ آیا اور آپﷺ کو دیکھتے ہی اس نے رونا شروع کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ آنحضرتﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے اور (شفقت سے) اونٹ کے سر پر ہاتھ مبارک پھیرا تووہ خاموش ہوگیا۔ اس کے بعد آپﷺ نے دریافت فرمایا کہ یہ کس کا اونٹ ہے؟ انصار میں سے ایک نوجوان حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہﷺ یہ میرا اونٹ ہے۔ آپﷺ نے فرمایا تم اس جانور کے بارے میں اللہ کا خوف نہیں کرتے جس کا اللہ تعالیٰ نے تم کو مالک بنایاہے۔ اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی کہ تم اس کو بھوکا رکھتے ہو اور (زیادہ کام لے کر یا زیادہ بوجھ لاد کر) اس کو تھکاتے ہو"۔

ذبح کے وقت ذبیحہ کو آرام پہنچانے کا حکم: اگر چہ انسان کی ضرورت کی خاطر شریعت نے بعض جانداروں کو ذبح کرنے کی اجازت دی ہے لیکن اس میں بھی شریعت نے جانور کو زیادہ نکلیف دینے سے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے فرماتے  ہیں: ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ فَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَه(33)

"میں نے دو باتیں رسول اللہﷺ سے یاد کر رکھی ہیں، آپﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر ایک چیز میں بھلائی فرض کی ہے لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو اور تم سے ہر ایک کو اپنی چھری تیز کرلینی چاہیے اور جانور کو آرام دینا چاہیے"۔

جاندار کو آگ سے جلانا: شریعت میں کسی جاندار کو جلانا جائز نہیں ہے کیونکہ آگ سے عذاب دینا اللہ تعالیٰ کی شان ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِى بَعْثٍ، وَقَالَ لَنَا إِنْ لَقِيتُمْ فُلاَنًا وَفُلاَنًا لِرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ سَمَّاهُمَا فَحَرِّقُوهُمَا بِالنَّارِ. قَالَ ثُمَّ أَتَيْنَاهُ نُوَدِّعُهُ حِينَ أَرَدْنَا الْخُرُوجَ فَقَالَ: إِنِّى كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ تُحَرِّقُوا فُلاَنًا وَفُلاَنًا بِالنَّارِ، وَإِنَّ النَّارَ لاَ يُعَذِّبُ بِهَا إِلاَّ اللَّهُ، فَإِنْ أَخَذْتُمُوهُمَا فَاقْتُلُوهُمَا (34)

" رسول اللہﷺ نے ہمیں ایک مہم پر بھیجا اور ہمیں ہدایت کی کہ اگر فلاں فلاں دو قریشوں کا آپﷺ نے نام لیا، مل جائیں تو انہیں آگ میں جلادینا۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب ہم نے کوچ کا ارادہ کیا تو آپﷺ کی خدمت میں رخصت ہونے کے لیے حاضر ہوئے اس وقت آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے تمہیں ہدایت کی تھی کہ فلاں فلاں شخص اگر تمہیں مل جائیں تو انہیں آگ میں جلا دینا لیکن حقیقت یہ ہے کہ آگ کی سزا دینا اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کے لیے مناسب نہیں ہے لہذا اب اگر وہ تمہیں مل جائیں تو انہیں قتل کردینا"۔

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِى سَفَرٍ فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ فَرَأَيْنَا حُمَّرَةً مَعَهَا فَرْخَانِ فَأَخَذْنَا فَرْخَيْهَا فَجَاءَتِ الْحُمَّرَةُ فَجَعَلَتْ تُعَرِّشُ فَجَاءَ النَّبِىُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ: مَنْ فَجَعَ هَذِهِ بِوَلَدِهَا رُدُّوا وَلَدَهَا إِلَيْهَا. وَرَأَى قَرْيَةَ نَمْلٍ قَدْ حَرَّقْنَاهَا فَقَالَ: مَنْ حَرَّقَ هَذِهِ. قُلْنَا نَحْنُ. قَالَ: إِنَّهُ لاَ يَنْبَغِى أَنْ يُعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلاَّ رَبُّ النَّارِ(35)

"فرماتے ہیں کہ ہم لوگ سفر میں آنحضرتﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ قضاء حاجت کے لیے تشریف لے گئے ہم لوگوں نے ایک چڑیا دیکھی جس کے دو بچے تھے ہم نے اس کے بچے اٹھا لیے۔ اس کی ماں گرنے اور تڑپنے لگی۔ رسول اللہﷺ تشریف لائے اور دریافت فرمایا اس چڑیا کا بچہ لے کر کس نے اس کو اذیت میں مبتلا کیا؟ اس کا بچہ اس کو واپس کردو اور آپﷺ نے چیونٹیوں کا ایک بل دیکھا جو ہم نے جلا ڈالا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا اس کو کس نے جلا ڈالا؟ ہم نے عرض کیا ہم نے۔ آپﷺ نے فرمایا یہ مناسب نہیں کہ آگ کے رب کے علاوہ کوئی شخص کسی مخلوق کو جلائے"۔

خلاصہ:

§                    کسی جاندار پر لعنت بھیجنا اور اسے گالیاں دینا حرام ہے۔

§                    حیوان کو چہرے پر مارنا اور داغ دینا جائز نہیں ہے البتہ چہرے کے علاوہ دوسرے اندام پر داغ دینا جائز ہے۔

§                    حیوان کو زینت اور فائدہ کے لیے سدھانا جائز ہے۔

§                    حیوانات کو ایک دوسرے سے لڑانا حرام ہے۔

§                    ماکول حیوان کو خصی کرنا باتفاق ائمہ اربعہ جائز ہے۔

§                    زندہ حیوان کو نشانہ بنانا حرام ہے۔

§                    حیوان سے اس کی طاقت کے مطابق کام لینا اور اس کے گھاس پھوس کا انتظام بروقت کر نا۔

§                    ذبح کے وقت چھری تیز کردینا لازمی ہے تاکہ ذبیحہ کو زیادہ تکلیف نہ ہو۔

§                    کسی جاندار کو آگ سے جلانا جائز نہیں ہے۔


حوالہ جات:

1: سورۃ النحل، ۵ ۔ ۸۔

2: قشیری،مسلم بن الحجاج، الصحیح، کتاب البر والصلۃ والآداب [۴۶]، باب: النھی عن لعن الدواب وغیرھا[۲۴]، حدیث ۶۷۶۹، دار الجیل بیروت۔

3: ایضاً، حدیث ۶۷۷۱۔

4:  خطابی، حمد بن محمد، معالم السنن شرح سنن ابی داؤد ۲/ ۲۵۱، المکتبۃ العلمیہ۔ بیروت، ۱۴۰۱ھ/ ۱۹۸۱ء۔

5: بہوتی، منصور بن یونس، کشاف القناع ۵/ ۵۷۴، مطبعۃ الحکومۃ السعودیہ، مکہ مکرمہ، ۱۳۹۴ھ۔

6: سجستانی، ابوداؤد، سلیمان بن اشعث، السنن، کتاب الادب [۴۲]، باب: ماجاء فی الدیک والبھائم[۱۱۶]، حدیث ۵۱۰۳، دار الکتاب العربی، بیروت۔

7: عظیم آبادی، محمد شمس الحق، عون المعبود شرح سنن ابی داؤد، المکتبۃ السلفیہ، مدینہ منورہ، ۱۳۸۸ھ/ ۱۹۶۸ء۔

8: مناوی، محمد عبد الرؤؤف، فیض القدیر شرح الجامع الصغیر۶/ ۳۹۹، دار الفکر بیروت۔

9: صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ [۳۸]، باب: النھی عن ضرب الحیوان فی وجھہ ووسمہ فیہ [۲۹]، حدیث ۵۶۷۴۔

10: ایضاً، حدیث ۵۶۷۵۔

11: سنن ابی داؤد، کتاب الجہاد [۱۵]، باب: النھی عن الوسم فی الوجہ والضرب فی الوجہ [۵۸]، حدیث ۲۵۶۶۔

12: نووی، یحیی بن شرف، المنہاج شرح  صحیح مسلم بن الحجاج ۱۴/ ۹۷، دار احیاء التراث العربی بیروت، ۱۳۹۲ھ۔

13: قرطبی، عمر بن ابراہیم، المفہم لما أشکل من تلخیص کتاب مسلم ۱۷/ ۱۱۳۔

14: صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ [۳۸]، باب: جواز وسم الحیوان غیر الآدمی فی غیر الوجہ [۳۰]، حدیث ۵۶۷۷۔

15: بخاری، محمد بن اسماعیل، الصحیح، کتاب الادب [۷۸]، باب الکنیۃ للصبی قبل أن یولد للرجل [۱۱۲]، حدیث ۶۲۰۳۔

16: سنن ابی داؤد، کتاب الادب [۴۲]، باب: ماجاء فی الرجل یتکنی ولیس لہ ولد [۷۷]، حدیث ۴۹۷۱۔

17: الشیبانی، ابو عبد اللہ، احمد بن حنبل، المسند ۴/ ۱۳۱، مؤسسۃ قرطبہ ،قاہرہ۔

18: وزارۃ الشؤون والاوقاف الاسلامیہ، الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ ۱۲/۲۴۷، دار السلاسل کویت، ۱۴۰۴ھ۔

19: ہیثمی، نور الدین، علی بن ابی بکر، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد ۷/ ۳۲۷، دار الفکر بیروت، ۱۴۱۲ھ/۱۹۹۲ء۔

20: سنن ابی داؤد، کتاب الجہاد [۱۵]، باب: فی التحریش بین البھائم [۵۶]، حدیث ۲۵۶۴۔

21: الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ ۱۰/ ۱۹۵۔

22: طحاوی، ابوجعفر، احمد بن محمد بن سلامہ، شرح معانی الآثار ۴/ ۳۱۷، عالم الکتب، ۱۴۱۴ھ، ۱۹۹۴ء۔

23: بیہقی، ابوبکر، احمد بن حسین بن علی، السنن الکبری ۱۰/ ۲۴، مجلس دائرۃ المعارف النظامیہ، ہند حیدر آباد، ۱۳۴۴ھ۔

24: طحاوی، شرح معانی الآثار ۴: ۳۱۷۔

25: الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ ۱۹/ ۱۲۲۔

26: صحیح مسلم، کتاب الصید والذبائح [۳۵]، باب: النھی عن صبر البھائم [۱۲]، حدیث ۵۱۶۹۔

27: ایضاً، حدیث ۵۱۷۱۔

28: ایضاً، حدیث ۵۱۷۳۔

29: ایضاً، حدیث ۵۱۷۴۔

30: ایضاً، حدیث ۵۱۷۵۔

31: سنن ابی داؤد، کتاب الجہاد [۱۵]، باب ما یؤمربہ من القیام علی الدواب والبھائم [۴۷]، حدیث ۲۵۵۰۔

32: ایضاً، حدیث ۲۵۵۱۔

33: ایضاً، باب: الأمر باحسان الذبح والقتل وتحدید الشفرۃ [۱۱]، حدیث ۵۱۶۷۔

34: صحیح البخاری، کتاب الجہاد [۵۶]، باب: التودیع [۱۰۷]، حدیث ۲۹۵۴۔

35: سنن ابی داؤد، کتاب الادب[۲]، باب: فی قتل الذر [۱۷۷]، حدیث ۵۲۷۰۔