Playstore.png

تفسیر بدیع التفاسیر کے فقہی محاسن

From Religion
< Bannu University Research Journal in Islamic Studies
Revision as of 15:49, 23 January 2020 by Rauf (talk | contribs)
(diff) ← Older revision | Latest revision (diff) | Newer revision → (diff)
Jump to navigation Jump to search

Warning: Page language "ur" overrides earlier page language "".

کتابیات
مجلہ برجس
عنوان تفسیر بدیع التفاسیر کے فقہی محاسن
انگریزی عنوان
The Juristic Benefits of Badiul Tafasir
مصنف درس، بشیر احمد، بشیر احمد رند
جلد 2
شمارہ 2
سال 2015
صفحات 107-123
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Tafsir, Badi‘ul Tafasir, Sindhi, jurisprudential, Sayyed Badi‘ ud-Din Shah al-R┐shidi.
شکاگو 16 درس، بشیر احمد، بشیر احمد رند۔ "تفسیر بدیع التفاسیر کے فقہی محاسن۔" برجس 2, شمارہ۔ 2 (2015)۔

Abstract

Sindh remains a center of great Islamic scholar in early ages till now, scholars of Sindh served in all the fields of Islamic studies. Among Islamic Scholars of Sindh who have left unmatchable repute Sayyed Badi‘ud-Din Shah al-R┐shidi, is one of them. He was at home in Quran and its sciences, Hadith and its science, Fiqah and its science. He was author of many books among them was Badi‘ul Taf┐sir, Badi‘ul Taf┐sir (بدیع التفاسر) currently Contains 11th volumes including excurses (مقدمہ) this tafsir adheres to the following sequence: (1) Tafsir of Quran by the Sunnah. (2) Tafsir of Quran by Language. (3) Tafsir of Quran by Opinion. Badi‘ul Tafasir is worthy to get the award of best Sindhi tafsir of this time. In this manuscript it is proved that Badi‘ul Tafasir is best collection of Religious commandments which has been described in detail according to jurisprudential Viewpoints and qualities.

تفسیر کا اجمالی تعارف:

تفسیر بدیع التفاسیر سندھی زبان میں   ایک انتہائی جامع او ر مدلل ومفصل تفسیر ہے ،  یہ تفسیر قرآن مجید کی مندرجہ ذیل تفسیری اقسام  کا بیش بہا خزانہ ہے ۔

(الف) تفسیر القرآن بالقرآن (ب) تفسیر القرآن بالحدیث (ج) تفسیر القرآن باقوال الصحابہ والتابعین

(د) تفسیر باللغۃ العربی۔

یہ تفسیر ایک مقدمہ اور دس جلدوں پر مشتمل  ہے،    ان دس جلدوں میں سورۃ بقرہ  سے سورۃ ابرہیم   تک مکمل تفسیر ہے  ۔سورۃ ابراہیم کی تفسیر      انیس تاریخ بروزاتوار اکتوبر 1995 کو مکمل ہوئی ، بعدازاں سورۃ  حجر کی  16 آیات کا ترجمہ اور ابتدائی آیات کی تفسیر کی تکمیل کے بعد 26  رجب  1416 ھ بمطابق 19 دسمبر   1995 کو  شیخ بدیع الدین شاہ راشدی رحمۃ اللہ کی  طبیعت ناساز ہوگئی ۔ (1)16 شعبان 1416 ھ بمطابق 8 جنوری  1996 ء کو وفات  ہوئی اور یوں اس عظیم الشان سندھی تفسیر کا کام پایہءتکمیل تک نہیں پہنچ سکا۔

  تفیسر کی تمام جلدوں کا اجمالی تعارف   پیش خدمت  ہے :

مقدمۃ التفسیر

شیخ بدیع الدین شاہ راشدی ؒ نے بدیع التفاسیر کا جامع مقدمہ تحریر فرمایا جو 433صفحات پر مشتمل  ہے سن اشاعت   1977ء طبع اول   1997طبع دوئم یہ مقدمہ گیارہ ابواب پر مشتمل ہے۔ ان ابواب میں  تفسیرالقرآن واصول التفسیر کے متعلق بنیادی معلومات تحریر کی گئی ہے ۔ عرب اہل علم کے اصرار پر آپ نے بدیع التفاسیر کا عربی ترجمہ بھی شروع کیا تھا ، مقدمہ کا مکمل ترجمہ  ہوگیا تھا اور سورۃ فاتحہ کی دو تہائی عربی ترجمہ بھی مکمل ہوگیا تھا  لیکن داعی اجل نے مہلت نہ دی ۔

جلد اول  بنام احسن الخطاب فی تفسیرام الکتاب  ، تقطیع :20+30/8، ۔  صفحات:494 پر مشتمل ہے ، سن اشاعت اگست 1986۔ ابتدائی الفاظ :ڈاکٹر عبدالعزیز نھڑیو ، ناشر جمعیت اہل حدیث سندھ۔ اس جلد میں سورۃ فاتحہ کی انتہائی مفصل انداز میں تفسیر بیان کی گئی ہے۔

جلددوئم    بنام بشری ٰ البررہ فی تفسیر سورۃ البقرہ ، تقطیع :20+30/8 سن اشاعت: 1986 ء  کل صفحات 558   ناشر جمعیت اہل حدیث سندھ ،اس جلد میں سورۃ بقرہ کے ابتدائی دس رکوع کی انتہائی مدلل تفسیر بیان کی گئی ہے۔

جلد سوئم :  بنام بشری البررہ فی تفسیر سورۃ البقرہ ، تقطیع :20+30/8سن اشاعت : طبع اول1990ء طبع دوئم : اکتوبر1994 صفحات: 787  ناشر جمعیت اہل حدیث سندھ  پر مشتمل ہے۔

جلد چہارم :بشری البررہ فی تفسیر سورۃ البقرہ  ، تقطیع :20+30/8،اشاعت اپریل  1992 صفحات: 547 ، پیش لفظ :از ادیب سندھ منصور ویراگی، ناشر: جمعیت اہل حدیث سندھ۔

جلد پنجم  بنام: الاء الرحمٰن فی تفسیر سورۃ آل عمران، تقطیع :20+30/8 ، صفحات 574  طبع اولیٰ  اپریل 1994 ء   ناشر جمعیت اہل حدیث سندھ۔

بدیع التفاسیر کی پانچویں جلد میں سورۃ آل عمران کی تفسیر بیان کی گئی ہے  یہ جلد 572 صفحات پر مشتمل ہے ، ناشر جمعیت اہل حدیث سندھ۔

جلدششم  بنام النداء والدعاء فی تفسیر سورۃ النساء  ، تقطیع :20+30/8سن اشاعت اپریل  1995 صفحات 542    مقدمہ از ادیب سندھ پروفیسر مولا بخش  محمدی ، ناشر جمعیت اہل حدیث سندھ۔

جلد ہفتم :  نام : الماھدۃ فی تفسیر المائدہ  ، تقطیع :20+30/8،سن اشاعت جنوری 1998 صفحات 388  پر مشتمل ہے  ، پیش لفظ از پروفیسر حافظ محمد کھٹی ، ناشر جمعیت اہل حدیث سندھ۔

جلد ہشتم : الاحکام فی سورۃ الانعام  " الالفا فی تفسیر سورۃ الاعراف، تقطیع :20+30/8  433 صفحات سن  اشاعت 1999 ، مقد،مہ از  مولانا عبدالرحمٰن اوٹھو صاحب ۔ناشر جمعیت اہل حدیث سندھ۔

جلد نہم : نام : الانوال فی تفسیر سورۃ االانفال  والبراعۃ فی تفسیر البراءۃ  اشاعت اپریل  2001 صفحات 609  پیش لفظ از پروفیسر محمد جمن کنبھر صاحب  ، ناشر جمعیت اہل حدیث سندھ۔

جلد دہم : صفحات 666 اگست سن اشاعت 2004  پیش لفظ از ابوجبیر محمد اسلم سندھی ، مقدمہ از شیخ الحدیث عبدالرزاق ابراھیمی ۔

مؤلف کی مختصر سوانح حیات:

سندھ کا راشدی خاندان ( پیر آف جھنڈہ ) اپنی علمی خدمات کی وجہ سے نہ صرف سرزمین سندھ  کا ایک سرمایہ ہے بلکہ انہی خدمات کے عوض عالم اسلام میں بھی ایک مشہور و معروف خاندان کے طور پر متعارف ہوا اس خاندان کی  تاریخ ، علم حدیث ، فقہ ، لغت حکمت وفلسفہ ادب وشعر کئی ایسی علمی خدمات ہیں جن پر ڈاکٹر عبدالعزیز نھڑیو صاحب ایک تحقیقی مقالہ لکھ  کر یونیورسٹی آف سندھ   سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کرچکے ہیں۔ بدیع الدین شاہ راشدی ؒ سندھ کےاسی  معروف  راشدی خاندان کے چشم وچراغ تھے،آپ 18 ذوالحجہ  بمطابق  10 جولائی 1925  بمقام  گاؤں سید فضل اللہ شاہ ( قدیم پیر آف جھنڈہ ) میں پیدا ہوئے تھے (2)یہ گاؤں حیدرآباد سے شہر شمال مشرق میں تقریبا 75 کلومیڑ پر واقع ہے ۔آپ کی سوانح حیات کا احاطہ اس مضمون میں تو ممکن نہیں لیکن  عرب وعجم کی انتہائی جلیل القدر علمی شخصیت ہونے کا اندازہ آپ کی تصانیف  سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

تصانیف

عبدالرشید عراقی کی تحقیق کے مطابق آپ کی تصانیف کی تعداد  108 ہے  ۔

"عربی کتابوں   کی تعداد: 60 ، سندھی  کتابوں کی تعداد : 28 ، اردو کتابوں کی تعداد :19 عربی وسندھی کتاب :  1 " (3)۔

عر بی تصانیف :

1: الطوام المرعشہ فی بیان تحریفات اھل الرای المدھشہ مطبوع  2:  عین الشین بترک رفع الیدین    مطبوع

3:  جلاء العینین بتخریج روایات البخاری فی جزء رفع الیدین  مطبوع 4:  التعلیق المنصور علی فتح الغفور فی تحقیق وضع الیدین علی الصدور(مطبوع) 5: السمط الابریز حاشیہ مسند عمربن عبدالعزیز تالیف ابن الباغندی(مطبوع) 6:  انما ء الزکن فی تنقید انھاء السکن  مطبوع 7:  زیادۃ الخشوع بوضع  الیدین فی القیام بعد الرکوع (مطبوع)8:  منجد المستجیز لروایۃ السنۃ والکتاب العزیز 9:  القندیل المشعول فی تحقیق حدیث (اقتلو الفاعل والمفعول ) غیر مطبوع 10:  جزء منظوم فی اسماء المدلسین مطبوع 11: العجوز لھدایۃ العجوز  12: اظھار البراۃ عن حدیث من کان لہ امام فقراۃ الامام  لہ قراۃ  ۔

سندھی تصانیف :

1:مقدمہ بدیع التفاسیر 2: بدیع التفاسیر 3:  تمییز الطیب من الخبیث4:  فقہ وحدیث 5:  التفصیل الجلیل فی ابطال تاویل العلیل 6:  المبسوط المغبوط فی جواب المخطوط المھبوط 7: ضرب الیدین علی منکری رفع الیدین

8: نماز جو مسنون دعاؤں 9: حجۃالوداع10:  عوام جی عدالت م 11: الوسیق فی جواب الوثیق  12: نماز نبوی مسئلہ فاتحۃ خلف الامام 13:  تحفہ نما مغرب  14:  الاربعین فی اثبات الجھر بآمین  15: تنویر العینین باثبات رفع الیدین 16: ہر برائی کا علاج جہاد 17: چالیھ  حدیثون 18:  توحید ربانی 19: قادیانی خاندان جھنڈائی خاندان بینهما برزخ  لایبغیان۔

اردو تصانیف :

1:توحید خالص (مطبوع) 2:تنقید سدید برد رسالہ اجتھاد وتقلید (مطبوع) 3:  القنوط والیاس لاھل الارسال من نیل الامانی وحصول آلامال( مطبوع) 4: مصنف بہاولپوری کے جواب مین رکوع کے بعد ہاتھ باندھنا (مطبوع)5: الدلیل التام علی ان سنۃ المصلی الوضع کلما قام  (مطبوع)6: الاعلام بجواب رفع الابھام وتایید  الدلیل التام  (مطبوع) 7: اسکات الجزوع فی جواب ما بعد الرکوع (مطبوع)8: ھدیہ البدیع الی اخیہ الکریم الرفیع 9: الجواب الوقیع عن التعقب المنیع 10: رسالہ عجاب وعجالہ لاجواب  11:  صحیح بخاری کی ایک حدیث اور مسئلہ وضع الیدین فی القیام بعد الرکوع (مطبوع) 12:  تواتر عملی یا حیلہ جدلی (مطبوع) 13: نشاط العبد بجھر ربنا ولک الحمد 14:اتباع سنت (مطبوع) 15: براۃ اہل حدیث  (مطبوع)16: الضرب الشدید  علی القول السدید 16: رفع الاختلاف فی مسائل الخلاف (مطبوع)17:  امام صحیح العقیدہ ہونا چاہئے  (مطبوع)

18: الجراء والقضاء بامراللہ متی یشاء (مطبوع)19:  اسلام میں داڑھی کا مقام (مطبوع) 20:  احسن الدلائل علی بعض المسائل 21:  میلاد کی شرعی حیثیت (مطبوع)22: حقوق العباد(مطبوع)23:  الاہی عتاب برسیاہ خضاب  (مطبوع)24 :اسلام مین عورت کا مقام (مطبوع)

وفات :

شیخ بدیع الدین راشدی  کی وفات 16 شعبان 1416 ھ بمطابق 8 جنوری  1996 ء میں   ہوئی (4) آپ کی نماز جنازہ  شیخ عبداللہ ناصر رحمانی نے پڑھائی آپ کو  پیر جھنڈہ کے قبرستان میں اپنے بڑے بھائی محب اللہ شاہ راشدی کے پہلو میں سپر د خاک کیا گیا ۔

بدیع التفاسیر فقہی محاسن :

احکام القرآن پر سندھی زبان کی پہلی تفسیر

بلاشبہ عربی زبان میں احکام القرآن پر کئی علمی تفاسیر لکھی گئی ہیں   لیکن سندھی زبان میں یہ پہلی علمی تفسیر  ہے  جس  میں قرآن مجید کے احکام پر مفصل بحث کی گئی ہے ، اس تفسیر کا اردو ترجمہ جامع بحرالعلوم کی  جانب سے مکمل ہوچکا  ہے ، یقینا اردو زبان میں اشاعت کے بعد  یہ اردو زبان کی بھی پہلی تفسیر ہوگی جس میں تفصیل کے ساتھ  احکام القرآن کی تفسیر کی گئی ہو۔

آیات سے فقہی استنباطات: 

پوری تفسیر میں ایسے کئی مقامات ہیں جن  میں وہ کئی آیات سے فقہی استنباطات بیان کرتے ہیں عمومًا ایسے استنباطات کوفوائد  کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں  :

سورۃ نساء کی آیت :77کی تفسیر میں رقم طراز ہیں :

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ قِيْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَيْدِيَكُمْ وَ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ

"فائدہ 2 : اس آیت سے ثابت ہوا  ہے کہ نماز اور زکواۃ کی فرضیت جہاد کی فرضیت سے مقدم اور پہلے ہے اور یہی ترتیب عقل سلیم کے مطابق ہے  کیوں کہ نماز کا اصل مقصد  یہ ہے کہ اللہ کی عظمت اور کبریائی انسان کے دل میں گھر کر جاتی ہےاور زکواۃ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی مخلوق کے لئے رحمت اور شفقت کا جذبہ ہو یقینا یہ دونوں مقدمات جہاد کے لئے تمہید اور تیاری ہیں کیوں کہ اطاعت کی اہمیت دل میں ہوگی تو بندہ  جہاد جیسے مشکل کام کے حکم کی تعمیل کے لئے تیار ہوگا  ، جس کے دل میں مساکین ، محتاج لوگوں کے لئے شفقت کا جذبہ ہوگا وہی ان کی آزادی کے لئے جہاد کرے گا" (5)

آپ قرآنی آیات سے مستنبط مسائل کو "احکام " کے عنوان سے لکھتے ہیں اور مستنبط احکام کو  نمبر دے کر لکھتے ہیں :

سورۃ  بقرہ کی آیت نمبر  9 تادس 10 کی تفسیر کے اخیر میں احکام  کا عنوان  لکھ   تین استنباطات کو انتہائی  علمی انداز میں بیان کیا  ہے ملاحظہ ہو (6)

اسلامی فقہی مسائل کا  دیگر ادیان کے مسائل سے تقابل کرنا:

آپ  تفسیر میں اسلامی فقہی مسائل بیان کرنے  کے ساتھ جہاں ضرورت ہو وہاں پر  دیگر ادیان  کے مسائل کو بیان کرکے ان پر علمی تنقید بھی کرتے ہیں :

سورۃ نساء کی آیت :3

وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ کی تفسیر میں رقم طراز ہیں :

" مسئلہ نمبر 1 بیک وقت ایک مرد چار عورتوں سے نکاح کرسکتا ہے  ۔ یہ قانون عین فطرت  کے موافق ہے اور اللہ تعالیٰ نے حسب ضرورت اجازت دی ہے کیونکہ بعض حالات میں زیادہ ضرورت پیش آتی ہے مثلاً عورت بیمار ہے یا اسے کوئی شرعی عذر لاحق ہے مثلا ایام مخصوصہ  ہیں یا عورت حاملہ ہے اور ہمبستری    برداشت نہیں کرسکتی تو ایسی صورت میں دوسری عورت کی ضرورت ہوسکتی ہے اس مسئلہ پر زیادہ تر اعتراض کرنے والے دو فرقے ہیں  (1) عیسائی (2) آریہ سماج  حالانکہ عیسائیوں میں عیاشی اور عورت سے میلاپ دنیا میں مشہور ہے  جو کہ بے غیرتی کی بدترین مثال ہے ۔ اس کے مقابلے میں اسلام کا سمجھایا ہوا طریقہ انتہائی موزوں  ہے کہ حسب ضرورت دو یا تین یا چار عورتیں عقد نکاح میں رکھ کر  اپنی خواہشات کے  غلط استعمال کو روکے۔ اس طرح  عورتوں کی بے جا آزادی  جو ان کی آوارہ گردی کا باعث بنے گی  وہ اس سے بچ جائیں گی ۔ آریہ سماج کے پاس  نیوگ ہے یعنی جس کو اولاد نہیں ہوتا  اس کی عورت کا حق ہے کہ دوسرے مرد کے ساتھ رہے  اور اولاد جن کر دے  جیسا کہ  ستھیارتھ پرکاش ص  118-119 باب 4 ) میں ہے " (7)

فقہاء  کے مشہور الفاظ اور اصطلاحات کی تائید وتفصیل  :

فقہ کی وہ خاص اصطلاحات جو عمومی طور پر قرآنی تفاسیر میں  استعمال ہوتی ہیں  شاہ صاحب ؒ نے مقدمہ التفسیر  میں ان کے حوالے سے چار فصلیں قائم کی ہیں :

"آٹھویں فصل : خاص اصطلاحات کا بیان جن کے بیان کی  قرآنی تفسیر میں استعمال کی توقع ہے  " (8)

اس فصل میں فقہ اصول فقہ ، حدیث ، اصول حدیث اور علم  البلاغہ کی تمام مشہور اصطلاحات کی عام فہم سادہ تعریف  دی گئی ہے ۔

"نویں فصل :مشترک او ر اس کے حکم کے بیان میں " (9)

"دسویں فصل مطلق اور مقید کے بیان میں " (10)

آپ فقہاء کرام کی مشہور الفاظ  یا اصطلاحات کی وجہ تسمیہ  بھی بیان فرماتے ہیں

سورۃ نساء آیت نمبر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی تفسیر کے ضمن میں رقم طراز ہیں

"(ظ) فقہاء  کے نزدیک چھ حصوں کے نام  یعنی نصف (آدھا) ربع(چوتھائی )  ثمن (آٹھوان حصہ ) ثلثان(دوتہائی) ثلث (تہائی) سُدس (چھٹا حصہ)  یہ سب اسی مضمون سے ماخوذ ہیں " (11)

فقہی مسائل کی تائید میں احادیث کو بیان کرنا :

احکام کے حوالے سے احادیث کو بھی تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں  ،

سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 219  

يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَيْسِرِ قُلْ فِيْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِيْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَ

کی تفسیر کرتے ہوئے شراب کی مذمت میں  17 احادیث کو بیان کیا ۔  ملاحظہ ہو (12)

سورۃ  بقرہ آیت : 280

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيْسَرَةٍ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ کی تفسیر میں    لکھتے ہیں:تنگ حال کو  مہلت دینے کی فضیلت کے حوالے سے  سات (7) احادیث   بمع عربی متن وتخریج وترجمہ لکھی ہیں ۔ (13)

فقہی مسائل  کے ادلہ کی صحت وضعف پر بحث کرنا :

آپ  فقہی مسائل بیان فرمانے کے ساتھ ان کے دلائل کو بیان کرتے ہیں اور دلیل کی صحت اور سقم پر بھی تفصیل سے بحث فرماتے ہیں  ۔

مدرک الرکوع کی رکعت  کا شمار ہونا یا نہ ہونا ایک مختلف فیہ مسئلہ ہے   آپ نے اس مسئلہ پر بہت مفصل لکھا ہے ۔ ایک  دلیل کے  بارے میں تحریر فرماتے ہیں :

دوسری دلیل  ابوداؤد ص 129 سے پیش کرتے ہیں   حدثنا محمد بن یحی بن فارس ان سعید بن الحکم حدثهم انا نافع بن یزید حدثنی  یحیٰ بن سیلمان عن زید بن ابی  العتاب وابن المقبری عن ابی هریرة قال قال رسول الله صلی الله علیه وسلم  اذا جئتم  الی الصلواة ونحن سجود فاسجدوا ولا تعدوها شیئا ومن ادرک الرکعة فقدادرک الصلواة۔ (14)

"ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب نماز کے وقت نماز کے لئے آؤ  اور ہم سجدہ میں ہوں تو آپ سجدہ میں شامل ہوجاؤ اور اس کو شمار نہ کرو لیکن جو رکعت کو پہنچا وہ نماز کو پہنچا "۔

الجواب :  یہ روایت ضعیف ہے امام بخاری جزء القراۃ  ص 26 پر فرماتے ہیں کہ ویحیٰ منکرالحدیث ۔یعنی اس روایت کا روای یحیٰ بن ابی سلیمان منکرالحدیث ہے  ۔" (15)

آپ  نے اس دلیل کے ضعیف  ہونے کی تفصیل سے بحث کی ہے  

خون کا نکلنا ناقض الوضوء ہونے کے حوالے سے  لکھتے ہیں :

"اس حوالے سے کوئی بھی روایت صحیح وارد نہیں ہے  جو بھی روایتیں پیش کی جاتی ہیں  وہ ثابت نہیں ہیں ، ان کے حوالے سے بحث کی  جارہی ہے :" (16)

آپ نے تمام دلائل کاضعف تحقیق کے ساتھ پیش کیا ہے اور تائید میں جلیل القدر فقہاء کے اقوال بیان کئے  ہیں ملاحظہ ص 108 تا 111 جلد 7

مختلف فیہ  فقہی مسائل کے وقت    آپ کا منھج :

اگر کسی مسئلہ میں فقہاء کے درمیان  اختلاف ہوتا ہے تو  آپ اس اختلاف  کو مفصل بیان کرنے کے بجائے  اپنا تحقیقی مؤقف مکمل دلائل سے پیش کرتے ہیں سورۃ نساء کی آیت نمبر 101 :

وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِکی تفسیر میں  لکھتے ہیں :

ضربتم  سے مراد زمیں پر چلنا ہے ،لہذا تھوڑا یا زیادہ چلنے کو سفر کہہ سکتے ہیں  او ر نماز کتنے فاصلے پر قصر پڑھی جائے اس کے بارے میں علماء میں بہت زیادہ اختلاف چلتا ہوا آرہا ہے  ، لیکن تمام اقوال اور آراء کو چھوڑکر  حدیث شریف کو دیکھا جائے گا  "  ۔ چنانچہ  صحیح مسلم ص 142 ج 1 میں یحی بن ہنائی سے روایت ہے  کہ سالت انس بن مالک عن قصر الصلاة فقال کان رسول الله صلی الله علیه وسلم  اذا خرج میسرة ثلاثة امیال او ثلاثة فراسخ، شعبه الشاک صلی رکعتین (17)۔" میں نے انس رضی اللہ عنہ سے قصر نماز کے بارے میں پوچھا  انہوں نے بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  تین میل یا تین فراسخ   جتنے سفر پر نکلے تو دو رکعتیں نماز پڑھا کرتے تھے ۔تین میل یا تین فرسخ کے لفظ کے بارے میں روای شعبہ کو شک ہے " ۔

پھر آپ نے  تین میل اقل مسافت معتبر ہونے پر  کئی  دلائل پیش کئے ہیں تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو :ص 383 -385 جلد 6

اقوال  فقہاء بیان کرنا :

آپ  متفق علیہ یا مختلف فیہ مسائل میں فقہاء کے مختلف اقوال بیان کرتے ہیں    یا جو قول آپ کے نزدیک راجح ہوتا ہے اس کے بارے میں  دیگر فقہاء کے اقوال بھی بیان فرماتے ہیں۔ نکاح میں ولایت کے مسئلہ کو بیان کرتے ہوئے  لکھتے ہیں :

"ولی کے سوا کوئی نکاح نہیں ہے ، کوئی عورت  خود کا نکاح نہیں کرواسکتی ہے ، وہ عورت بدکار ہوگی جو خود کا نکاح (ولی کے سوا) کروائے گی ، ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں بدکار ہیں وہ عورتیں جو  اولیاء کی اجازت کے سوا خود کا نکاح کرواتی ہیں ، امیر عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کو اپنے مال اور بیٹیوں کے نکاح کروانے کا اخیتار دیا تھا لیکن اس کے باجود انہوں نے   یہ اختیار استعمال نہیں کیا بلکہ اپنے بھائی عبداللہ کو ولی بنایا جس نے ان کا نکاح کروایا ، اس طرح عبد اللہ بن عمر ، خلیفہ عمربن عبدالعزیز، ابراہیم نخعی، حسن بصری ،جابر بن زید اور مکحول شامی کے اقوال ہیں ، اسی طرح فقہاء اور ائمہ دین کا کہنا ہے  مثلا ابن شبرمہ ، ابن ابی لیلیٰ ،سفیان ثوری ، حسن بن حیئ ، شافعی ، احمد بن حنبل ، اسحاق بن راہویہ ، ابوعبید قاسم بن سلام اور عبداللہ بن مبارک  سب کہتے ہیں کہ ولی  کے سوا نکاح نہیں ہوگا "المحلی  ص 253-254 جلد 9 " (18)

مختصر فقہی اشاریہ :

بدیع التفاسیر میں قرآنی آیات  کے احکام اور ضمناً متعلقہ احکام کو بہت زیاہ تفصیل سےبیان کیا ہے ، جس کا احاطہ اس مختصر مضمون میں ممکن نہیں ہے  لیکن طائرانہ نظر سے ایک مختصر  فقہی اشاریہ مرتب کیا جارہا ہےجس  سے تفاسیر الاحکام میں اس تفسیر کا ممتاز مقام بالکل واضح ہوجاتا ہے :

کتاب التوحید جلد و صفحہ
توحید ربوبیت 10/21۔22،203
توحید الوہیت 10/21۔202،391
توحید اسماء وصفات 10/21،  203
شرک اور اس کی مذمت 1/264
شرک کبیرہ گناہ 6/212-214
شرک کی تردید 8/113
ظلم سے مراد شرک ہے 8/126
کتاب العقائد
تقدیر کا مسئلہ 10/204
قبروں سے اٹھنے کا بیان 10/209
عقیدہ ختم نبوت 1/232
قیامت  کے دن کے نام 1/186
میزان کے متعلق احادیث 8/298
موت کا بیان 6/301
کتاب الطھارۃ
پانی کےمتعلق دو مسائل 6/275
جنابت کے مسائل 6/207-210
تیمم کے مسائل 6/156
وضو سے پہلے بسم اللہ پڑھنا 7/82
موزوں پر مسح کا بیان 7/82
غسل کے اہم مسائل 7/87
نواقض الوضوء 7/104
کتاب الصلواۃ
نماز کی اہمیت وفضیلت 2/48-64
تارک نماز کے بارے میں علمائے ملت کے اقوال 2/59
امامت کے مسائل 2/333
کیا عورت امامت کروا سکتی ہے 2/337
نماز کے اوقات 6/397
سفر نماز کے مسائل 6/393،383
صلواۃ الخوف کا حکم 4/217
نماز اشراق اور اس کا حکم 4/244
چاشت کی نماز 4/244
صلواۃ العیدین 4/250
کتاب الصیام
روزے کی فضیلت وفرضیت 3/523
بیماری کی حالت میں روزے کا حکم 3/590-630
روزوں کے مسائل 3/590-630
حاملہ اور مرضعہ کو روزہ چھوڑنے کی اجازت 3/536
روزے میں حرام کام 3/620
کتاب الزکواۃ
مسافر کو زکوٰۃ دینا 9/444
زکوٰۃ اور اس کے متعلق تمام مسائل
فرضی زکوٰۃ کا نصاب
صدقہ الفطر کے مسائل
کتاب الحج
حج کے احکام 3/731
حج کے متعلق مسائل 3/757-787
احرام کے مسائل 3/688، 703،706
دوران حج خرید وفروخت کرنا 3/726
طواف افاضہ 3/774
کتاب النکاح
نکاح کا حکم اور اس کے مسائل 6/25-26
نکاح میں ولی کا حکم 4/124
حق مہر کے مسائل 6/35-40
حق مہر کا حکم 4/199
کتاب الرضاع
رضاعت اور اس کے مسائل 6/119-122
رضاعت کے متعلق احکام 4/182
رضاعت کی مدت 4/179
رضاعت کے متعلق چند مسئلے 6/120
کتاب الطلاق
مطلقہ عورتوں کی اقسام 4/199
خلع اور اس کے احکام و شرائط 4/166-167
ایلاء کا حکم 4/144
کتاب العدۃ
عدت کے مسائل 4/191-197
اسلام اور جاہلیت میں عدت کے طریقے 3/193
کتاب الوصایا
وصیت کا حکم استحبابی ہے 3/517
وصیت کے متعلق اہم مسائل 3/517
وصیت کا پورا کرنا 3/541
کتاب المیراث
میراث کے مسائل 7/67-18
میراث کی تقسیم 4/55-60
کلالہ کا بیان 6/541
           کتاب الاستغفار
توبہ کی فضیلت 4/134
توبہ کے مسائل 6/95-96
کبیرہ گناہوں کا بیان 4/186-161
کتاب البیوع
تجارت میں جھوٹی قسم کھانا 6/154
سود کے احکام 4/468
کتاب الشھادات
گواہی کے احکام 4/494-512
گواہی صرف معتبر دے سکتا ہے 3/324
کتاب النذر
نذر ونیاز کے احکامات 4/224
نذر کی فضیلت احادیث کی روشنی میں 4/422
کتاب الرؤیا
خواب کی حقیقت 10/387
نبیوں کے خواب وحی ہوتے ہیں 10/388
کتاب اللباس
کپڑے پہننے کے اسلامی آداب 8/338
سفید کپڑا پہننے کی فضیلت 8/338
کتاب مساوی الاخلاق
بداخلاقی کی مذمت 1/293
ریاء کی مذمت 4/393
فرقہ بندی کی مذمت 1/294
تکبر کی مذمت 1/279
عصبیت وغیبت کی مذمت 1/278
ظلم کی مذمت 1/277
عشق کی مذمت 1/274
تکبر وفخر کی مذمت 1/279 ،6/192
قتل وغارت کی مذمت 2/553
بخیلی کی مذمت 6/194، 460
دکھاوے کی مذمت 6/195
زنا ولواطت کی مذمت 6/85-94
حسد کی مذمت 6/134-135
جادو کی مذمت 3/78
غلو کی مذمت 6/531
خودکشی کی مذمت 9/389
رشوت لینا حرام ہے 3/642


نتائج البحث

بدیع التفاسیر  کے  فقہی محاسن کے حوالے  انتہائی طائرانہ نظر سے جائزہ لیا گیا ہے ، اس کی تفصیل ایک مستقل کتاب یا ایم فل  لیول کے علمی مقالہ کی متقاضی ہے ۔

(1)  اس تفسیر کا مندرجہ بالا طریقہ سے ایک مفصل فقہی اشاریہ مرتب کیا جائے ۔ 

(2)   تفسیر کو اسی نہج پر مکمل کیا جائے

(3)  تفسیر کی علمی افادیت کےپیش نظر دیگر زبانوں میں اس کا ترجمہ  بے حد ضروری ہے ۔

(4)  راقم نے طوالت سے بچنے کے لئے چند بطور نمونہ کے اہم فقہی محاسن کو بیان کیا ہے  لیکن مزید کام کی گنجائش موجود ہے ۔

حواشی وحوالہ جات:

1: راشدی ، بدیع الدین شاہ ، ابو محمد ، بدیع التفاسیر جلد 10ص  661  ، عنوان خاتمۃ الخیر از پروفیسر عبدالغفار جونیجو    طبع اول اگست  2004 ناشر : جمعیت اہل حدیث سندھ۔

2: عبدالرحمن میمن (مرتب) ، رموز راشدیہ،  ص 11 طبع اول ،  اپریل 1996 ناشر مکتبہ الدعوۃ السلفیہ ، مٹیاری۔     

3: عبدالرشید عراقی ،"مضمون  بدیع الدین شاہ راشدی" مجلہ بحرالعلوم  سہ ماہی  " شیخ العرب والعجم نمبر "ص 237 -238     ناشر جامع بحرالعلوم  سن اشاعت 2007 سلسلہ اشاعت نمبر 9۔

4: پروفیسر مولا بخش محمد ، بطل جلیل جو وچھوڑو "مجلہ بحرالعلوم سہ ماہی " شیخ العرب والعجم  نمبر ص 732  ۔

5: راشدی ،بدیع التفاسیر ،النداء والدعاء فی تفسیر سورۃ النساء  جلد 6 ص 299 ، سن اشاعت  ،طبع اول    اپریل 1995 ء ناشر جمعیت اہل حدیث    سندھ۔

6: بدیع التفاسیر ،بشری البررہ فی تفسیر سورۃ البقرہ   ، جلد 2 ص 101-102 طبع اول  سن اشاعت مئی 1988 ء۔

7: بدیع التفاسیر   ، النداء والدعاء  فی تفسیر سورۃ النساء جلد 6 ص 26  طبع اول   سن اشاعت  اپریل 1995 ء۔

8: مقدمہ التفسیر ص 188- 226 ،طبع دوئم  1997  ۔

9: ایضا ً:ص 227-228۔

10: ایضاً :ص 228۔

11: بدیع التفاسیر ،النداء والدعاء فی تفسیر سورۃ النساء  جلد 6 ص 27۔

12: بدیع التفاسیر ،بشری البررہ فی  تفسیرسورہ البقرہ    جلد ص104 تا 108 4 طبع اول  اپریل سنہ 1992 ء۔

13: ایضاً : جلد 4  ص486 تا 487۔

14: ابوداؤ سلیمان بن اشعث  (متوفیٰ  275 ) سنن ابی داؤد  ، کتاب الصلواۃ ، باب فی الرجل یدرک الامام ساجدا کیف یصنع،   جلد 2 ص 167   طبع 2009ء۔  1430 ھ  ناشر دارالرسالۃ العالمیۃ۔ دمشق ۔

15: بدیع التفاسیر ، احسن الکلام فی تفسیر ام الکتاب  جلد 1 ص 63 طبع اول   سن اشاعت  اگست 1986 ء ۔

16: بدیع التفاسیر،الماہدہ  فی تفسیر سورۃ المائدہ    ج 7 ص 108 طبع اولیٰ ،  جنوری 1998۔

17: بدیع التفاسیر   ، النداء والدعاء فی تفیسر سورۃ النساء جلد 6  ، ص 383۔

18: بدیع التفاسیر بشری البررہ  فی تفسیر سورہ البقرہ   ص 176 جلد 4طبع اول سن اشاعت اپریل سنہ 1992 ء ۔