Playstore.png

الشمامۃ العنبریۃ من مولد خیر البریۃ از نواب صدیق حسن کے خصائص و بدیعیات کا تنقیدی جائزہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ إیقان
عنوان الشمامۃ العنبریۃ من مولد خیر البریۃ از نواب صدیق حسن کے خصائص و بدیعیات کا تنقیدی جائزہ
انگریزی عنوان
Features of Al Shmamat ul Anbriyah min maulid e khair ul briyah by Nawab Siddique Hassan, and Critical Study of Unique Subjects
مصنف Ali، Usman، Muhammad Munir Azhar
جلد 1
شمارہ 2
سال 2019
صفحات 53-70
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Nawab Siddique Hassan Khan, Methodology, characteristics, Shmamah, Sub-Continent, Seerat study.
شکاگو 16 Ali، Usman، Muhammad Munir Azhar۔ "الشمامۃ العنبریۃ من مولد خیر البریۃ از نواب صدیق حسن کے خصائص و بدیعیات کا تنقیدی جائزہ۔" إیقان 1, شمارہ۔ 2 (2019)۔

Abstract

Nawab Siddique Hassan Khan is renowned author of Sub-Continent and placed a well-known award for his writings. This article describes the methodology and characteristics of Al Shmamat ul Anbriyah min maulid e khair ul briyah. This book is basically a seerat study and contains on many new but unfamiliar sources of Seerah. So, he had a great addition on seerat by writing this book. It was in ancient Urdu, hardly to understand its text. The author made this possible in his research work and he also examined its methodology. In this article a managed and detailed description of this book is presented. However, we found some unique errors of references and textual study of seerah. Mostly he used a random method during the writing of this book. Author found many features of this book, whom doesn’t exist in other seerat books like this. still there are many points, which decrease its importance and creates negative opinion regarding his seerat writing, as some times he included third party research and paid its credit to himself and many places he added irrelevant narrations to his subject.

تعارف:

نواب صدیق حسن خان انیسویں صدی کے معروف علمی شخصیت ہیں ۔ آپ کی نادر روزگار تصانیف اور علوم و فنون کی اشاعت کے لیے مساعی اصحابِ علم ودانش کے ہاں قدرومنزلت کی حامل ہیں۔ نواب صاحب ۱۴ اکتوبر ۱۸۳۲ء کو پیدا ہوئے۔ آپ نے ۲۰ فروری ۱۸۹۰ء کو عمر کی ۵۸ بہاریں دیکھ کر داعی اجل کو لبیک کہا۔ آپ کا آبائی وطن قنوج تھا بعد میں آپ ریاست بھوپال کے والی بھی رہے ہیں۔ نواب صاحب کی تالیفات کی طویل فہرست ملاحظہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہےکہ آپ نے علوم وفنون کے ہر میدان میں اپنی مہارت کے کارنامے رقم کیے ہیں۔آپ نے قر آن ،حدیث،فقہ،تاریخ،لغت وادب،عربی گرامر،تراجم اور دیگر علوم میں اپنی مہارت ظاہر کی ہے۔مختلف علوم فنون کی طرح انہوں نے سیرت النبیﷺ کو بھی موضوع بحث بنا یا ہے،اگرچہ اس میدان میں انکی عبقریت فقط ایک رسالے تک محدود ہےجوکہ بنیادی طور پرمیلاد نامہ ہےلیکن اس کے مندرجات کسی بھی ایک مکمل کتاب سیرت سے کم نہیں جیساکہ موضوعات کی تفصیل سے واضح ہوگا۔

الشمامۃ العنبریۃ کا اجمالی تعارف :

آپ کا یہ مولود نامہ ۱۸۸۷ ءبمطابق ۱۳۰۵ھ میں بھوپال سے شائع ہوا ،اس کی زبان قدیم اردو ہےاور اس کا مکمل نام الشمامۃ العنبریہ من مولد خیر البریہ ہےجیسا کہ آپ کے سوانح نگاروں نے بھی ذکر کیا ہےالبتہ عنوان میں کچھ اختلاف بھی موجود ہے۔آپ کے فرزند گرامی قدر سید محمد علی حسن خان نے اس رسالے کا عنوان بیان مولد شریف ذکر کیاہے ۔[1]جبکہ سید اجتبا ندوی نے’’الشمامۃ العنبریہ فی مولد خیر البریۃ‘‘ذکر کیا ہے۔[2]

ہمارے پیش نظر اس مولود نامے کا جو نسخہ ہےوہ فاران اکیڈمی نے لاہور سے شائع کیا ہےاور اس کی تاریخ اشاعت مرقوم نہیں ہے۔ یہ نسخہ دراصل ۱۳۰۵ھ/ ۱۸۸۷ ء میں بھوپال سےشائع ہونے والے نسخے کا ہی عکس ہے۔فاران اکیڈمی کا شائع کردہ نسخہ دو رسالوں کا مجموعہ ہے؛ پہلا رسالہ الشمامۃ العنبریۃمن مولد خیر البریہ کے نام سے موسوم ہےجوکہ مولود نامہ ہےاور ۱۱۶صفحات پر مشتمل ہے۔اس کے بعد دس صفحات پر مشتمل ایک نظم ہےجس میں جنت کی صفات بیان کی گئی ہیں اور یہ نظم سید جمیل احمد شہسوالیؒ کی ہےجبکہ دوسرا رسالہ خلفائے راشدین کےمناقب کے بارے میں ہے،اس کا نام’’تکریم المؤمنین بتقویم مناقب الخلفاءالراشدین‘‘ یہ دوسرا رسالہ ۱۳۷ صفحات پر مشتمل ہے۔ان دونوں رسائل کے مئولف گرامی نواب صدیق حسن خان صاحب ہیں ،ہمارا موضوع بحث اول الذکر رسالہ ہے۔ درحقیقت الشمامۃ العنبریۃ کوئی مستقل کتاب نہیں ہےبلکہ سید امام شیخ شبلنجی ؒالمعروف مومن کی کتاب سیرت ’’نور الابصار‘‘کاخلاصہ ہےجیساکہ مؤلف گرامی قدر نے خودالشمامۃ کے مقدمہ میں ذکر کیا ہے۔[3]

شیخ شبلنجی ؒ مصری عالم دین تھے،ان کا نام ونسب یوں تھا:سید مومن بن حسن مومن اور ان کی نسبت شبلنجی تھی۔آپ۱۲۲۵ھ میں پیدا ہوئے تھے۔آپکی کتاب کا مکمل نام ’’نور الابصارفی مناقب آل بیت النبی المختار‘‘ہے۔یہ کتاب ۱۳۲۲ھ میں یمینیہ مصر سے شائع ہوئی۔(نواب صاحب کے پیش نظر جو نسخہ تھااس کی تاریخ طباعت معلوم نہیں ہوسکی)نور الابصار کا سیرت پر مشتمل حصہ صفحہ ۹ سے۴۷ تک مشتمل ہے۔الشمامۃ العنبریہ چھوٹے سائز کے ۱۱۴صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں ١٣ فصول ہیں اور پھر ہر فصل کے ذیلی عناوین بھی بہت تفصیلی ہیں ۔ ہر عنوان کے تحت درجنوں روایات ہیں خصوصاً خصائص و دلائل، شمائل، معجزات اور غزوات کی فصول میں تو اختصار و جامعیت کی مکمل تصویر دکھائی دیتی ہے ۔ایک ایک جملہ ایک ایک روایت پر مبنی ہے ۔

سبب تالیف:

مؤلف محترم نے اس مولود نامے کے مقدمہ میں جہاں مؤ لفات میلاد شریف کے بارے میں بحث کی ہےوہاں اس کتاب کا سبب تالیف بھی ذکر کیا ہے۔جیساکہ وہ رقم طراز ہیں کہ "مکمل سیرت النبی پر ہمارے اسلاف کی بکثر ت کتب موجود ہیں لیکن ان کتب کا تعلیم وتعلم عرصہ دراز سے متروک ہے۔رسول اللہﷺ کی سیرت کے لیےعام وخاص نےجو رسائل تالیف کیے ہیں وہ اکثر رطب ویابس کا مجموعہ ہیں حالانکہ ان رسائل کی تالیف کے لیےمئولفین کو’’ الشفا فی حقوق المصطفی،مواھب اللدنیہ و شروحات،ہدی نبوی،صراط مستقیم ‘‘ جیسی کتب پر اعتماد کرنا چاہیے تھا۔فی زمانہ رسائل میلاد نبوی کی تعداد پچاس سے متجاوز ہے لیکن کوئی بھی رسالہ لائقِ اعتماد کلی نہیں ہے۔ان رسائل کی اکثر روایات بے اصل،ضعیف اور مبالغہ آمیزی پر مبنی ہیں۔اس صورت حال کے باعث میں نے سمجھاکہ ایک ایسا رسالہ لکھوں جس میں ولادت مبارکہ سے وفات حسرت آیات تک کے حالات بالاختصار مذکور ہوں اور فقط مضامین ماثورہ پر اعتماد کیا جائے۔اگر میں چاہتاتو سیرت النبیﷺ پر مفصل کتاب بھی قلم بند کر سکتا تھا لیکن ابنائے زمان کی کم ہمتی دیکھ کرفقط ضبط اطراف پر اکتفاکیا۔[4]

نواب صاحب نےاپنا مولود نامہ اس لیے تالیف کیاتھا کہ روایات ِضعیفہ وموضوعہ اور مبالغہ آمیزی سےپاک ایسا مولود نامہ تالیف کیا جائے جو صحیح اور ماثور روایات پر مبنی ہوجس سے آپﷺ کی سیرت مبارکہ کابالکل درست عکس عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔مزید وہ چاہتے تھےکی عامۃ الناس کے دل محبت رسول خدا سےمنور ہو جائیں،فرماتے ہیں’اگر کوئی ایماندار شخص انہیں مأثور روایات سے واقف ہوکرمحبت رسولﷺ کا متوالا ہو جائےتو یہ سعادت کی بات ہےکیونکہ حدیث رسول ﷺ ہے:

’’المرءمع من احب وانت مع من احببت‘‘ انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس وہ محبت کرتا ہے اور تو اس کے ساتھ ہوگا جس سے تو محبت کرتا ہے۔اور انسانی اعمال میں سےکوئی عمل رفعت ومنزلت اور قدرو قیمت کے اعتبار سےمحبت خدا اور محبت رسول اللہ کے برابر نہیں ہے۔[5]

الشمامۃ العنبریۃ کے مضامین اور ان کی اہمیت:

مؤلف نے اپنے مختصر رسالہ سیرت کو مختلف فصول میں تقسیم کیا ہے۔ان فصول کے نام،ترتیب اور صفحات نمبر حسب ذیل ہیں۔کتاب کی ابتداءحمدو صلوۃ کے بعد ،سیرت النبیﷺ کے مطالعہ کی اہمیت وفضیلت سے ہوتی ہے۔اس کے بعد صفحہ۳ تا ۶ ایک مقدمہ ہےجس میں میلاد شریف کے بارے کتب پر بحث ہے،ان کے مضامین پر گفتگو ہےاور اہم کتب سیرت کی وضاحت کی ہےجن کی مدد سے کوئی رسالہ سیرت تالیف کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح اپنے میلاد نامے کے سبب تالیف کی وضاحت کی ہےاور کچھ ضمنی موضوعات پر بحث کے ساتھ اس بات کی تاکید کی ہےکہ ہم مسلمان بکثرت سیرت النبی ﷺ کا مطالعہ کریں اور اس کا تعلیم وتعلم اپنی زندگی کالازمہ بنا لیں اور فقط صحیح روایات کا التزام کریں۔آخر میں بتایا کہ میرا یہ رسالہ سیرت’نور الابصار ‘ کا خلاصہ ہے اور ساتھ میں کچھ اضافات میری طرف سے ہیں۔بقیہ کتاب کے موضوعات میں ’نسب اور ولادت نبویﷺ کا بیان، مرضعات نبوت کا بیان، قریش کا آپؐ کے قتل کے لیے معاہدہ کرنا،سفر طائف اور انصار میں اسلام کی ابتداء کا تذکرہ،ہجرت کا تذکرہ، خصائص ودلائل نبوتﷺ، اسماء والقاب نبوی،شمائل نبویﷺ ، معجزات شریفہ، غزوات، آپؐ کے اعمام وعمات اور ازواج وخدام وغیرہ،سیرت النبیؐ اور سیرت خلفاء راشدین، مرض الموت اور وفات آنحضرتؐ، وفات النبیﷺ پر ندبہ ومرثیہ خوانی ‘شامل ہیں۔

اس کتاب کے مضامین اس کی اہمیت اور جامعّیت پر دلالت کرتے ہیں،اس کی صرف فصول دیکھنے سے اس کے مضامین کا صحیح

اندازہ نہیں ہو پاتا کیونکہ مصنف نے ہر فصل میں کئی مباحث کو یکجا کردیا ہے۔اس کا اسلوب عام کتب سیرت سے ذرا مختلف ہے عموماً ہمارے سیرت نگارتاریخی لحاظ سے ترتیب دیتے ہیں جبکہ نواب صاحب نے موضوعاتی اعتبار سےکتاب ترتیب دی ہے۔ایسا نہیں کہ نواب صاحب نے زمانی ترتیب کو نظر انداز کیا ہے بلکہ پہلی چار فصول اور غزوات کی فصل زمانی اعتبار سے ہی ہیں ہاں البتہ انہوں نے مولود ناموں ،نورناموں ،معراج ناموں اور دیگر مختصرات سیرت کی مانند اور آپﷺ کی سیرت کے منتخب واقعات،شمائل،ولادت ووفات، خصائص ومعجزات اور فضیلت سے متعلقہ واقعات وروایات کو ترجیح دی ہے اسی وجہ سے اس کتاب کے مضامین پر خصائص ودلائل اور معجزات وشمائل کا غلبہ نظر آتا ہے۔خصائص ودلائل اور معجزات وشمائل والے مضامین دو تہائی کتاب پر حاوی ہیں ۔

سیرت نبویؐ کی ضخیم کتب کی تالیف کے ساتھ ساتھ زمانہ قدیم سے مختصرات سیرت کا بھی رجحان رہا،سیرت پر مختصر رسائل اور اجزاء طلباء وحفاظ کے لیے لکھے جاتے یا بقول نواب صاحب کم ہمت نوجوانوں کے لیے تاکہ وہ ایک مختصر کتاب کے ذریعے کم وقت میں سیرت النبیﷺکی ا ہم مباحث سے واقف ہو جائیں اس طرز کے رسائل کو مختصرات کا نام دیا گیا نواب صاحب کا یہ رسالہ سیرت بھی اسی نوع کے مختصرات میں سے ایک ہے البتہ اس کے مضامین سیرت النبیﷺ کے تمام متعلقہ مباحث پر حاوی ہیں۔

الشمامۃ العنبریۃ کا اسلوب ِسیرت نگاری:

مختصر سیرت کا ایک تو قدیم رجحان یہ تھا کہ مؤلفین اپنی طبع زاد مگر کافی ملخّص سیرت لکھتے تھے جیسا کہ ابتدائی چار پانچ صدیوں کے مؤلفین سیرت کے ہاں نظر آتا ہے۔دوسرا رجحان یہ پیدا ہوا کہ مختلف امّہات کتب سیرت کی بنیاد پر ایک خلاصہ سیرت ترتیب دیا جانے لگا یہ رجحان ہمارے برصغیر میں کافی مروج رہا اور دیگر ممالک میں بھی ترقی پذیر رہا اس کی امثلہ چہار دانگِ عالم میں موجود ہیں۔ایک تیسرا رجحان یہ بھی پیدا ہوا کہ بعض عربی مختصرات کے فارسی یا دیگر زبانوں میں تراجم ہوئے اور ان میں مترجمین نے اضافات واستدراکات کیے یہ رجحان بھی ہمارے ہمارے خطے میں کافی رواج پذیررہا مثلاً شاہ ولی اللہ نے امام ابن سید الناس کی مختصر سیرت ’’ نور العین‘‘ کا فارسی ترجمہ کیا اور اس میں اضافات اور استدراک کرکے ’’سرور المحزون ‘‘کے نام سے نیا رسالہ ترتیب دیا ۔ایک چوتھا رجحان یہ پیدا ہوا کسی ہیش رو مختصر نگار کو بنیاد بنایا جائے یا کسی ضخیم تألیفِ سیرت کا خلاصہ کیا جائے،اس میں اپنی طرف سے اضافہ کرتے ہوئے غلط روایات پر استدراک کیا جائے اور ناقص وناتمام معلومات وروایات کو مکمل کیا جائے اسکی مثال بحث کتابِ سیرت’’الشمامۃ العنبریۃ‘‘ ہے۔

یہ ایک پیش رو مختصر نگار علامہ شبلنجی کی مختصرسیرت ’’نور الأبصار‘‘ کا خلاصہ ہے اس میں نواب صاحب نے کئی گراں قدر اضافات کیے،غلط اور موضوع روایات کا محاکمہ کیا ،بعض مواقع پر روایات پر حکم لگایا۔توقیت پر مفید مباحث کا اضافہ کیا اور کئی مواقع پر نقد بھی کیا ۔بعض موقع پر نواب صاحب سے کچھ تسامحات بھی ہو ئے ہیں کچھ ضعیف اور موضوع روایات داخل ِکتاب کیں،کئی جگہوں پر مخصوص نقطہ نظر کی بناء پر صحیح وجمہور مؤقف کے خلاف مباحث پیش کیں اور انہی کو ترجیح دی۔مذکورہ بالا تمام مباحث کی تفصیل تنقیدی جائزے میں پیش کی جائےگی؛

الشمامۃ العنبریۃ کے امتیازات و خصوصیات:

کسی بھی کتاب کی قدر و قیمت جاننے اور صحیح مقام ومرتبہ متعین کرنے کے لیے اس کا تنقیدی جائزہ لیناضروری ہے ،اس تنقیدی جائزے کے ذریعے کتاب کی خوبیوں اور خامیوں کی نشاندہی ہوتی ہے، کتاب کے محاسن واضح ہو جاتے ہیں اور عیوب و نقائص کی وضاحت ہو جاتی ہے اس تنقیدی جائزے کا بنیادی وصف معروضیت ہوتی ہے معروضی جائزہ وہ پیمانہ ہے جس سے کھوٹے کھرے کی صحیح جانچ پرکھ ہوتی ہے۔الشمامۃ العنبریۃ کے کچھ ایسے ممیزات اور خصائص ہیں جو دیگر مولود ناموں میں نایاب نہ صحیح لیکن کم یاب ضرور ہیں۔ ذیل میں اس کا مفصل تجزیہ پیش کیا جارہا ہے؛

۱۔فصلوں کے ذیلی موضوعات کی عمدہ تقسیم و ترتیب :

اگر مضامین کی ترتیب و تنظیم عمدہ ہو توکتاب کی افادیت دو چند ہو جاتی ہے۔ نواب صدیق حسن ایک فصل کے تحت ذیلی عنوانات کی تقسیم بہت عمدہ کرتے ہیں، اگرچہ نواب صاحب نے فصول کے ذیلی عنوانات بہت کم ذکر کیے ہیں ۔عموماً ایک ہی فصل سے متعلقہ معلومات وروایات بلاعنوان ذکر کی ہیں لیکن جہاں ذیلی عنوانات کا تذکرہ کیا ہے وہاں عنوانات کی تقسیم و ترتیب بہت عمدہ ہے۔مثال کے طور پر خصائص و دلائل والی فصل ملاحظہ کیجیے، نواب صاحب نے آپ کے خصائص کو آٹھ انواع میں تقسیم کر کے سب پر الگ الگ بحث کی ہے۔

پہلی قسم میں وہ خصائص ہیں جو دنیا میں آپ کے ساتھ خاص تھے، دوسری میں وہ جو دنیا میں آپ اور آپ کی امت کے ساتھ خاص ہیں، تیسری میں وہ جو آخرت میں آپ کے ساتھ خاص ہیں وہ جو آخرت میں آپ اور آپ کی امت دونوں کے ساتھ خاص ہیں، پانچویں قسم میں وہ خصائص جو آپ کے لیے بقیہ لوگوں سے الگ واجب چھٹی قسم میں وہ خصائص جو دوسرے لوگوں کے علاوہ صرف آپ کے لیے حرام اشیاء تھیں، ساتویں میں وہ خصائص ہیں جو تمام لوگوں کے علاوہ فقط آپ کے لیے مباح اشیاء تھیں، جبکہ آٹھویں میں وہ خصائص ہیں جن کا تعلق کرامات و فضائل سے ہے۔ [6]

اس ذیلی تقسیم کے باعث نبی کی ہرخصوصیت کی کتاب میں تلاش بہت آسان ہو گئی ہے۔ اسی طرح غزوات کی فصل ہے۔ نواب صاحب نے ہجرت مدینہ کے بعد کے تمام واقعات کو سن وار بیان کیا ہے وہ بالترتیب سال اوّل، دوم، سوم الخ واقعات کا تذکرہ کرتے ہیں اس طرح ہر سال کے اہم واقعات کو ایک ہی جگہ تلاش کیا جا سکتا ہے۔ [7]

أعمام و عمات اور ازواج و خدام کی فصل بھی عمدہ تقسیم اور حسن ترتیب کی آئینہ دار ہے۔ اس میں آپ کے اعمام و عمات، ازواج مطہرات، لونڈیاں اور اولاد، خدام، نجباء، حواری، نائبین مدینہ، کاتبین، امراء وغیر ھم۔[8]

مذکورہ بالا سب کا بالترتیب تذکرہ ہے اور ہر ذیلی عنوان کے تحت تمام معلومات بآسانی حاصل کی جا سکتی ہیں۔

۲۔معروف سیرت نگاروں کی بہ نسبت نئی معلومات کا اضافہ :

نواب صاحب کا یہ مختصر رسالہ بہت سی نئی معلومات و روایات کی بھی نشاندہی کرتا ہے جو دیگر سیرت نگاروں کے ہاں عمومی طور پر مفقود ہیں جن کا تذکرہ متداول مصادر میں نہیں پایا جاتا جو اس رسالہ کی قدر و قیمت میں اضافہ کا باعث ہیں ، مثلاً فرماتے ہیں :

’’ آپ نے اپنے چچا زبیر اور عباس کے ہمراہ تجارت کے لیے یمن کا بھی سفر کیا تھا۔‘‘[9]

اسی طرح نواب صاحب کا موقف ہے کہ رسالت محمدی کی ابتداء سورۃ المدثر کےنزول سے ہوئی ۔ وہ رقم طراز ہیں :

’’ پھر جبریل سورۂ ’’یایھا المدثر‘‘ لے کر آئے اور پھر مسلسل وحی نازل ہونے لگی، اس سورت کا نزول رسالت کی ابتداء

تھی یہ سورت نبوت سے تین سال بعد آئی اور بعض کے نبوت کے ساتھ ہی آئی۔‘‘ [10]

طائف سے واپسی کے بعد حضورکہاں تشریف لائے تھے ،اس بارے رقم طراز ہیں :

’’ پھر آپ وہاں (طائف) سے حراء تشریف لائے۔‘‘ [11]

دارالندوہ میں جب حضورکے قتل کے لیے مجلس مشاورت ہوئی تو فرماتے ہیں کہ ’اس مجلس میں کوئی ہاشمی شریک نہیں تھا۔‘[12]

۳۔تواریخ اور اعداد و شمار کا التزام :

تواریخ اور اعداد و شمار تاریخ و سیر کا لازمہ ہے ان کے بغیر علوم سیرت اور تاریخ نامکمل ہیں۔ نواب صاحب کے ہاں ان چیزوں کا بہت اہتمام ہے ۔وہ بعض اعداد و شمار اور تواریخ وغیرہ بہت قطعیت کے ساتھ ذکر کرتےہیں۔ اس طرح یہ اس مولود نامے کی بہت بڑی خصوصیت بن کر سامنے آتی ہے کچھ امثلہ حسب ذیل ہیں :

آپ کی زرہوں کی تعداد سات، حرابوں کی تعداد پانچ، خودوں کی تعداد دو حواریوں کی تعداد بارہ، کاتبین کی تعداد دس، خدام کی تعداد چھ اور لونڈیوں کی تعداد چار تھی۔[13] اسی طرح سن ٩ھ کے واقعات کے بارے رقم طراز ہیں :

’’ہجرت کے نویں سال غزوۂ تبوک ہوا، مسجد ضرار کا انہدام ہوا، لگاتار وفود آنے لگے، حضرت ابوبکرے تین سو مرد اور بیس قربانی کے جانوروں کے ہمراہ حج کیا نیز اسی سال نجاشی اور حضور کی بیٹی ام کلثوم کا انتقال ہوا۔ ‘‘[14]

حضورجب ۱۰ نبوی میں طائف دعوت کے لیے گئے تو حضورکی واپسی کی تاریخ کے بارے رقم طراز ہیں :

’’حضور کی طائف سے واپسی ٢٣ ذی قعدہ کی شب کو ہوئی۔‘‘ [15]

۴۔مصادر و مراجع کی تنوع اور کثرت :

دیکھنے میں تو نواب صاحب کی مختصر سیرت محض ایک مولود نامہ ہے لیکن ماٰخذ و مصادر کے اعتبار سے یہ بیشتر عظیم کتب سیرت کا جامع ہے نواب صاحب نے اس کومآخذ و مصادر کا مجمع البحار بنا دیا ہے بلاشبہ اس میں تمام متداول اور عظیم مصادر کا حوالہ تو نہیں ملتا، لیکن چند ایسے غیر معروف مصادر کا سیرت کے باب میں حوالہ ملتا ہے جو کہ ہمارے معاصرین کے ہاں مفقود ہیں اس طرح سیرت کے باب میں ان مصادر کو متعارف کرانا بھی نواب صاحب کا کارنامہ ہے، مثلاً بابلی فی سیرتہ، حیاۃ الحیوان للزرکشی، بھجۃ الحاوی لزکریا انصاری، محاضرات سامرات لابن عربی، ربیع الابرار للزمخشری، حاشیۃ الشنوانی علی المولد، نکتہ للیافعی، مراٰۃ الجنان لیافعی، شوق العروس و انس النفوس لحسین بن محمد رافعانی اور سلوۃ الکتیب بذکر الحبیب لرفیع الدین مراد آبادی وغیرھم ۔الشمامۃ العنبریۃ میں اختصار و ایجاز کے باوجود ماٰخذ و مصادر کی کثرت ہے اس کی وجہ شاید نواب صاحب کا قدیم عالمانہ طریق کار ہے۔ جس کی بدولت انھوں نے تقریباً احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اس کتاب کے مصادر و مراجع کی تعداد اسی(۸۰) کے قریب ہے ۔

۵۔فقہی مباحث کا تذکرہ :

سیرت النبی ہماری عملی زندگی کے لیے بہترین نمونہ ہے تاریخ و سیر میں عمومی منہج یہ ہوتا ہے کہ فقط معلومات کو جمع کیا جاتا ہے اور نبوی اسوۂ حسنہ کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کے لیے کوئی رہنمائی پیش نہیں کی جاتی البتہ کچھ استثناء ا ت بھی موجود ہیں جہاں سیرت النبی کے عملی پہلو کی بھی ترغیب دی جاتی ہے اور فقہی مباحث و مستنبط مسائل کا تذکرہ کر کے سیرت النبی کو قابل عمل بنایا جاتا ہے۔ حقیقت میں دروس و عبر اور فقہی مباحث تاریخ و سیر کا موضوع بحث تو نہیں ہے لیکن اگر کوئی مصنف ان چیزوں کا اہتمام کرتا ہے تو وہ کتاب کو چار چاند لگا دیتاہے، نواب صاحب ان چیزوں کا بخوبی التزام فرماتے ہیں اور سیرت النبی کا عملی پہلو بھی ہمارے سامنے لاتے ہیں اس بحث میں فقہی مباحث اور مستنبط مسائل کی امثلہ پیش کی جاتی ہیں، نواب صاحب آپ کے خصائص کی فصل میں چند فقہی مباحث پر بھی بحث کرتے ہیں مثلاً اگر کوئی تنگ دست مسلمان فوت ہو جائے تو اس کے قضائے دین کا مسئلہ ہے، نواب صاحب اس بارے رقم طراز ہیں :

’’ ایک قول یہ ہے کہ تنگ دست اور مقروض مسلمان میت کی طرف سے قرض ادا کرنا حضورپر واجب تھا اوریہی صحیح ہے

اور بعض دوسرے علماء کے ہاں آپ یہ ادائیگی قرض بطریق تکرم فرماتے تھے آپ پر فرض نہ تھا۔‘‘ [16]

اسی طرح ایک اور فقہی مسئلہ قبروں کی تسطیح اور تسنیم کا ہے، نواب صاحب اس بارے رقم طراز ہیں :

’’آئمہ اربعہ نے تسنیم کو مستحب کہا ہے اور قدماء شافعیہ تسطیح کو مستحب بتاتے ہیں۔ افضلیت میں اختلاف ہے، اصل جواز ہے اور تسطیح راجح ہے اس کے دلائل میں سے صحیح مسلم کی حدیث ہے حضرت فضالہ بن عبید کا گزر ایک قبرپر ہوا آپ نے اس قبر کو برابر کر کے کہا میں نے حضورکو فرماتے ہوئے سنا کہ قبروں کو برابر کر دو۔ اسی طرح آپنے حضرت علی کو حکم فرمایا تھا کہ جو قبر پاؤ اس کو زمین کے برابر کر دو۔‘‘ [17]

مسئلہ زیارت قبر نبی کے لیے سفر اختیار کرنا ہے اس بارے نواب صاحب فرماتے ہیں :

’’آپ کی زیارت کے لیے سفر اختیار کرنے میں اختلاف ہے بہتر یہ ہے کہ حج سے پہلے یا بعد میں مسجد نبوی میں نماز کی

ادائیگی کی نیت کرے کیونکہ یہ سفر بلااختلاف جائز ہے اور پھر جب مدینہ منورہ میں داخل ہو تو آداب ماثورہ کے مطابق زیارت شریف بجا لائے۔‘‘[18]

۶۔روایاتِ سیرت سے مستنبط مسائل کا تذکرہ:

مستنبط مسائل کے باب میں بھی نواب صاحب کو کافی درک حاصل ہے۔ جب حضور ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کے بخار کی حجفہ منتقلی کی دعا فرمائی نواب صاحب اس بارے رقم طراز ہیں :

’’ اس حدیث میں جوازہے کہ کفار کی بیماری کے لیے بد دعا کی جائے۔‘‘ [19]

اسی طرح مصنف شیخ عبد الحق دہلوی کی عبارت نقل کرنے کے بعد مستنبط مسائل کے بارے کچھ اس طرح رقم طراز ہیں :

’’ شیخ عبد الحق دہلوی کی اس عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عمل مولد میں منکرات کو ختم کرنا چاہیے اور اس عبارت سے نمایاں طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی ولادت پر خوشی محسوس کی جائے جس کو آپ کی ولادت کے احوال سن کر فرحت حاصل نہ ہو اور وہ اس نعمت پر خدائے تعالیٰ کا شکر ادا نہ کرے تو وہ مسلمان نہیں۔‘‘ [20]

۷۔متونِ روایات جمع و تطبیق اور ترجیح کا خصوصی التزام :

سیرت و تاریخ میں بالخصوص اور دوسرے علوم و فنون میں بالعموم ایک واقعہ یا مسئلہ میں بعض اوقات ایک سے زائد اقوال اور آراء پائی جاتی ہیں متعدد روایات و اقوال میں تائیدسے زیادہ تضاد و تصادم کا عنصر صاحب قلم کے لیے مشکل پیدا کر دیتا ہے، اکثر اہل قلم ایسے مواقع پر فقط نقل روایات و اقوال پر اکتفا کرتے ہیں ان میں جمع و تطبیق اور ترجیح کی کوشش نہیں کرتے، کیونکہ جمع و تطبیق اور ترجیح عالمانہ گہرائی و گیرائی اور مجتہدانہ بصیرت کا تقاضا کرتی ہے نواب صاحب بالعموم ان چیزوں کا اہتمام فرماتے ہیں و ہ اکثر و بیشتر باہم متصادم اقوال و روایات پر بحث کرتے ہیں ممکن ہو تو ترجیح دیتے ہیں اور ترجیح کے لیے وجوہ و اسباب کی تلاش کی جستجو بھی کرتے ہیں، اس کی چند امثلہ حسب ذیل ہیں؛

آپ کو نبوت عطا ہونے کی وقت آپ کی عمر کیا تھی اس بارے کئی اقوال نقل کیے اور چالیس برس والے قول کو ترجیح دی۔[21]

اسی طرح مسئلہ خواب میں آپ کی زیارت کا ہے نواب صاحب کے ہاں خواب میں حضور کی زیارت ممکن ہےآپ نے اس مؤقف کو اس لیے ترجیح دی کیونکہ خواب میں شیطان آپ کا ہم شکل نہیں ہو سکتا۔ [22]یہاں وجہ ترجیح بھی ذکر کی ہے۔

اسی طرح اگر حضور خواب میں کسی کام کا حکم دیں تو اس پر عمل کرنے کا کیا حکم ہے، نواب صاحب اقوال علماء نقل کرنے کے بعد تطبیقی صورت یوں بیان کرتے ہیں:

’’آپ کےحکم پر عمل کرنا اس وقت واجب ہو گا جب وہ شریعت کے امور ظاہر یہ کے مخالف نہ ہو گا، اگر وہ حکم امور شریعت کے مخالف ہو گا تو وہ فہم نائم میں غلطی ہو گی نہ کہ فرمانِ رسول ہیں۔‘‘[23]

۸۔فصول کے آخر پر دروس و عبر اور پیغام سیرت کا اہتمام :

سیرت النبی کا عملی پہلو نمایاں کرنے کے لیے نواب صاحب فقہی مسائل اور دروس و عبر کا بھی اہتمام فرماتےہیں اور تقریباً اکثر فصول کے آخر میں پیغام سیرت پہنچانے کا بھی التزام فرماتے ہیں مثلاً خصائص و دلائل کی فصل کے آخر میں امت محمدیہ کے اعزاز و

مرتب کے حوالہ سے رقم طراز ہیں :

’’اس امت کو چاہیے کہ اس نعمت کی قدر و قیمت کو سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ملت اسلام میں پیدا فرمایا جس کی تمنا اولو العزم انبیاء کر چکے ہیں : ’’قل بفضل الله و برحمته فبذالک فلیفرحوا ‘‘[24]شمائل نبوی کی فصل کے آخر میں یوں رقم طراز ہیں : ’’اہل مولود پر فرض بلکہ قرض ہے کہ جب کسی کتاب مولد میں مفاخر ولادت شریف پر اطلاع پائیں تو ان شمائل کو بھی وظیفۂ درس کریں اور ان پر عمل کے لیے کمر کس لیں اور ان بابرکات خصال کے حصول کے لیے کامل سعی و کوشش کریں کیونکہ فقط محبت کے دعوؤں سے مدعا ثابت نہیں ہوتا جب تک شہودِ عدل شہادتِ صادقہ ادا نہ کریں اس

جگہ وہ شہادت اتباع رسول ہے : ’’قل إن کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله‘‘ [25]

سیرت النبی کی فصل میں اتباع رسول کا درس دیتے ہوئے رقم طراز ہیں :

’’مشتاقانِ جمال و کمال نبوی پر لازم ہے کہ ولادتِ رسول کے فضائل دریافت کرنے کے بعد اپنی صورت و سیرت اور سمت و ہدایت میں بھی حضور کی موافقت اختیار کریں کیونکہ روزِ آخرت درجات کی بلندی اور مراتب کی رفعت اسی اتباع و موافقت کے بقدر ہی ہو گی، فقط ذکر ولادت سن کر معاصرین کے ہمراہ خوشی منا لینا، اطاعت کی فکر کرنے کے بجائے بدعات و منکرات میں آلودہ رہنا، کبائر کا مرتکب اور اعمال صالحہ کا تارک ہونا انسان کے لیے ذرا بھی مفید نہیں ہو گا، بلکہ ہلاکت کا باعث ہو گا، ایسی خشک ( زبانی) فرحت خدا و رسول سے محبت کے دعویٰ کو سچ ثابت نہیں کر سکتی:قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله جنت میں وہی شخص جائے گا جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہو گا، اب معاملہ برعکس ہے اہل اسلام نے علوم و أعمال کو چھوڑ کر رسوم و رواج کو اختیار کر لیا ہے اور ان افعال شنیعہ کو اخروی نجات کا موجب

سمجھ لیا ہے۔ [26]

اس کے علاوہ دیگر فصول کے آخر میں بھی امثلہ موجود ہیں جو پیغام سیرت پر عمل کی آئینہ دار ہیں۔نواب صدیق حسن خان کے یہاں سیرت کے اس پیغام کو عملی قالب میں ڈھالنے کے لیے انفرادی واجتماعی ہر ممکنہ کوشش کی جانی چاہیے تاکہ نبی کریم ﷺ کی تمام تر زندگی اور روایا ت کا ذخیرہ علمی و علمی ہر دو اعتبار سے محفوظ و مصون رہے۔

۹۔موضوع سے متعلقہ خاص اضافہ جات:

نواب صاحب نے فقط علامہ شبلنجی کی کتاب نور الابصار کی معلومات پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ موقع بموقع بہت سےمفیداضافہ جات بھی فرمائے جو ان کی علمی وسعت پر دلالت کناں ہیں۔یہاں کچھ مفید اضافہ جات کی امثلہ پیش کر کے یہ وضاحت کرنا مقصود ہے کہ یہ اضافہ جات اس کتاب کی بہت بڑی خصوصیت ہیں اور یہ نواب صاحب کے اس دعویٰ کی تصدیق بھی ہیں کہ وہ چاہتے تو اس کتاب کو مفصل بھی تحریر کر سکتے تھے جس پر ان کو دسترس تھی چند اضافی امور کی نشاندہی حسب ذیل ہے:

انبیائے سابقین کے مختون پیدا ہونے کی بحث ۔[27] حضرت ثویبہ کی نسبت اسلمیہ۔[28]

انبیائے کے بکریاں چرانے کی حکمت۔[29] ،ام معبد خزاعیہ سےملاقات کا واقعہ[30] ،ہجرت اور دخول مدینہ کے واقعات [31]،حضور کے مزاح کے واقعات[32] ،حضرت فاطمہ کی افضلیت کی بحث[33] ،مناقب حضرات حسنین [34]،حضرت ابوہریرۃ کے اسلام کی تاریخ[35] ،حضرت ابو بکر کی امارت میں حج کا واقعہ۔[36]

اس کے علاوہ بھی دیگر اضافہ جات قابل تحسین ہیں۔

۱۰۔ الشمامۃ العنبریۃ میں معلومات کی وسعت اور عمومی خصائص :

نواب صاحب کی ایک بڑی خصوصیت وسعت مطالعہ اور تبحر علمی ہے، اس مختصر مولودنامے میں جس قدر معلومات کی وسعت ہے وہ ان کی علمی وسعت پر دلالت کرتی ہے ۔دورانِ سیرت نگاری نواب صدیق حسن ؒ نے اس بات کا خاص اہتمام کیا ہے کہ وہ موضوع سے متعلقہ کتب کے بارے نشاندہی کرتے ہیں تاکہ مزید معلومات کے لیے ان کتب سے استفادہ کیا جائے اس طرح قاری ایک موضوع کے بارے مزید تفصیلات کے لیے ان کتب سے رجوع کر سکتا ہے۔ اسی طرح کتاب کی یہ بھی خصوصیت ہے کہ اس میں اقوال و روایات پر نقد و محاکمہ جابجا ملتاہے ۔نواب صدیق حسنؒ اکثر و بیشتر روایات پر تنقیدی محاکمہ کرتے ہیں اور بقدرِ ضرورت احادیث و اقوال کی صحت و ضعف واضح کرتے ہیں۔اس دوران اگرخطا یا تسامح ہو تو اس کی نشاندہی بھی کرتے ہیں اور اگر روایات معتبر ہوں تو تعدیل کرتے ہیں۔ نواب صدیق حسن ؒ جب کسی موضوع کو زیر بحث لاتے ہیں تو کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ قاری کی تشنگی باقی رہ جائے وہ دوران سیاقِ روایات متعلقہ اشخاص و مقامات اور اشیاء کا تعارف بھی کراتے جاتے ہیں تاکہ واقعہ کی تفہیم آسان ہو سکے اگر کوئی شخص ہے تو اس کا اسلام، اس کی وفات یا اس کی اوّلیت کا تعارف کرائیں گے، کوئی مقام ہے تو اس کا محل وقوع وغیرہ بتائیں گے اگر کوئی حیوان وغیرہ ہے یا کوئی اورچیز ہے تو اس کی ملکیت اور اہمیت وغیرہ بتائیں گے۔یہ اس کتاب کی چیدہ چیدہ خصوصیات ہیں جس سے کتاب کی قدر و قیمت واضح ہوتی ہے اور دیگر معاصروں مولود ناموں میں اس کا مقام و مرتبہ بھی معین ہوتا ہے۔

الشمامۃ العنبریۃ کے قابلِ نقد پہلو:

کسی بھی کتاب کے منصفانہ اور معروضی جائزے و تجزیے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی خوبیوں اور خامیوں کو بلا امتیاز واضح کر دیا جائے خامیوں کی نشاندہی کا مقصد ان کی اصلاح کی سبیل پیدا کرنا ہوتا ہے نہ کہ محض تنقید، اسی نقطہ نظر سے ’’الشمامۃ‘‘ کے قابلِ نقد پہلوؤں میں کو ذیل میں پیش کیا جاتا ہے؛

۱۔ الشمامۃ العنبریۃ کا غیر منظم اسلوب :

کتاب کی ترتیب و تدوین میں نظم برقرار رکھنا ایک بہت اہم خصوصیت ہے کتاب کے حسن اور علو مرتبت کا دارومدار اس کی اعلیٰ تنظیم و ترتیب پر ہے موصوف نواب صاحب کےہاں اس چیز کا کافی حد تک فقدان ہے ۔اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ نواب صاحب کی کتاب کا دارومدار ’’نورالابصار‘‘ پر ہے وہ فصول کے عنوان قائم کرنے میں تو علامہ شبلنجی کی پیروی کرتے ہیں البتہ ذیلی معلومات کے مہیا کرنے میں اپنی طرف سے اضافے بھی کرتےہیں۔کتاب کی تنظیم وترتیب اسی وقت بگڑی ہے، جب وہ اپنے خاص اضافہ جات کو بغیر کسی عنوان کے داخل کتاب کر دیتے ہیں اس طرح ہرفصل میں کچھ ایسی معلومات بھی آ جاتی ہیں جن کا بظاہر اس فصل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اس غیر منظم اسلوب کی کچھ امثلہ حسب ذیل ہیں:

فصل نمبر ٣ میں جنوں سے ملاقات کا واقعہ فصل سے غیر متعلقہ ہے۔[37]اسی فصل میں معراج کا واقعہ، تحویل قبلہ اور شق صدر وغیرہ کے واقعات[38]

ہجرت کی فصل میں مسجد نبوی کی تعمیر و توسیع کے واقعات۔[39]

اسی طرح غزوات کی فصل میں درجنوں واقعات غزوات سے غیر متعلقہ ہیں، مثلاً سالِ فرضیتِ حج، آپ کے عمروں کی تعداد، ابی بن خلف کے قتل کا واقعہ اور دیگر واقعات۔ [40]

رثائے نبوی کی فصل میں زیارتِ قبر نبوی کے آداب کی بحث اور خواب میں آپ کی زیارت کے جواز کی بحث ۔[41]

ایسے تمام اضافہ جات نے کتاب کے اسلوب کو غیر منظم اور غیر مرتب کر دیا ہے۔

۲۔بعض غیر معقولی و غیر منطقی استدلالات :

نواب صاحب بعض اوقات عقیدت و محبت کے پیش نظر غیر منطقی اور غیر صریح استدلال کر جاتے ہیں اگرچہ وہ روایت جس سے استدلال کیا جا رہا ہے، بے سروپا ہی ہو ایسے استدلالات کتاب کی قدر و قیمت کم کر دیتے ہیں، مثلاً سیرِ خلفاء اربعہ کی فصل میں بعض آیاتِ قرآنیہ سے یوں مراد لیتے ہیں:

’’ ابن عباس نے فرمایا : ’’و نزعنا ما فی صدورهم من غل اخوانا علی سررمتقابلین‘‘ اس سے مراد خلفائے اربعہ ہیں جو بروزِ قیامت سرخ، زرد، سبز اور سفید رنگ کے یاقوت کے تختوں پر براجمان ہوں گے۔[42]

اسی طرح اللہ کا فرمان ہے :

’’وهو الذی خلق من الماء بشرا فجعله نسبا و صهرا و کان ربک قدیراً ‘‘

یہاں بشرو نسب اور صہر سے مراد خلفاء اربعہ ہیں۔ [43]

اسی طرح سورۃ العصر کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

’’ ان الانسان لفی خسر، اس سے مراد ابو جہل ہے، الا الذین اٰمنوا سے مراد ابو بکر ہیں، و عملوا الصالحات سے مراد عمر ہیں، وتواصوا بالحق سے عثمان اور وتواصوا بالصبر سے علی مراد ہیں۔‘‘[44]

آپ کے نبی ہونے کی وجہ سے یہ استدلال کیا کہ آپ کا سایہ نہیں تھا اور آپ کی قضائے حاجت کے آثار نہیں دیکھے گئے۔ [45]

۳۔اہم مقامات پر بغیر حوالے کے نقل روایات :

کسی بھی کتاب کی قدر وقیمت کا اندازہ اس کے مندرجات سے ہوتا ہے اگر مندرجات مستند اور موضوع کی مکمل وضاحت کر رہے ہوں توکتاب کی قدر وقیمت بڑھ جاتی ہےاور بغیر حوالہ کے نقل روایات سے کتاب کے مندرجات مشکوک ہو جاتے ہیں، نواب صاحب کافی مقامات پر اپنے مصاد و مراجع کی وضاحت کرتے ہیں، اس کے باوجود بکثرت ایسے مقامات بھی موجود ہیں جہاں نواب صاحب بغیر مصادر و مراجع کی نشاندہی کے روایات نقل کر دیتے ہیں، کتاب میں مصادر کی نشاندہی کا ذکر ہو چکا، یہاں بطور نمونہ کچھ ایسی امثلہ درج کی جاتی ہیں جو بغیر حوالہ کے نواب صاحب نے نقل کی ہیں۔ وہ ہجرت کی فصل میں ایک اہم واقعہ درج کرتے ہیں :

’’حضور نے ہجرت کے وقت سے تاریخ لکھنے کا حکم دیا اس سے پہلے عام الفیل سے تاریخ لکھی جاتی تھی۔‘‘[46]

یہ ایک بہت اہم اضافہ ہے ورنہ ہمارےہاں معروف ہے کہ ہجرت سے تاریخ لکھنے کا واقعہ حضرت عمر کے دور کا ہے لیکن نواب صاحب نے اس اہم واقعہ کا کوئی حوالہ یا سند ذکر نہیں کی۔

ہجرت ہی کی فصل میں حضورکے مدینہ داخل ہونے کے وقت ایک روایت نقل کرتے ہیں، جس کا کوئی حوالہ ذکر نہیں کیا : ’’انس بن مالک کہتےہیں جس دن حضرت مدینہ داخل ہوئے تو مدینہ کی ہر چیز روشن ہوگئی۔‘‘[47]

آپ کے خصائص کی فصل میں بکثرت ایسی روایات ہیں جو بغیر حوالہ کے ہیں،مثلاً پل صراط کے وقت خصائص النبی میں یہ بھی تذکرہ کیا ہے :

’’اور اہل جمع کو حکم ہو گا کہ وہ اپنی آنکھیں بند کر لیں تاکہ آپ کی صاحبزادی حصرت فاطمہ پل صراط سے گزر جائیں۔‘‘ [48]

آپ کی وفات حسرت آیات کے بعد صحابہ میں اختلاف ہوا کہ آپکو کہاں دفن کیا جائے اس موقع پر حضرت ابو بکر ؓنے حدیث سنائی :

’’لا یُدفن نبی إلا حیث قبض ‘‘ [49]

’’اس روایت کا بھی کوئی حوالہ ذکر نہیں کیا۔ ‘‘

اس کے علاوہ ہر فصل ایسی روایات موجود ہیں جو بغیر حوالہ کے نقل کی گئی ہیں، اس کی وجہ شاید اس دور کا عمومی رواج ہے بکثرت ایسے مولود نامے موجود ہیں جن میں فقط روایات منقول ہیں لیکن حوالہ درج نہیں دراصل مصنف اپنی افتاد طبع کے مطابق خود مطالعہ کے بعد واقعات و روایات نقل کر دیتاتھا اور حوالہ ضروری خیال نہ کرتا تھا کیونکہ اس دورکا عمومی رواج یہی تھا۔

۴۔بعض ضعیف و موضوع روایات سے استشہاد :

ہمارے ہاں مولود ناموں کی روایت بہت مضبوط اورمستحکم ہے ہمارا معاشرتی پس منظر اورعقیدت سے بھر پور گفتگو اس بات کی متقاضی ہوتی ہے کہ ہمارے ممدوح کی ذات دنیا جہاں کی تمام خصوصیات کی جامع ہو پھر ان خصوصیات سے اپنے ممدوح کو مزین ثابت کرنے کے لیے ہم ہرطرح کی کوشش کرتے ہیں مثلاً ضعیف روایات سے استشہاد، موضوع روایات کا سہارا اور دیگر اقوام کی نقالی میں مبالغہ آرائی ایسی صفات۔برصغیر کے مولود نگار بھی عموماً عوامی تقاضے کے زیر اثر ایسی روایتی غلطیاں کرتے ہیں نواب صاحب اگرچہ صحیح روایات کا بہت اہتمام فرماتے تھے لیکن روایتی عقیدت کے زیر اثر وہ بھی ایسی غلطیوں کے مرتکب ہوئے ہیں اور ضعیف و موضوع روایات کے سہارے سیرت النبی بیان کرنے کی کوشش کی ہے اس کی چند امثلہ حسب ذیل ہیں :

ہجرت کے واقعہ میں ام معبد خزاعیہ کا قصہ بیان کرتے ہوئے ایک درخت کے معجزاتی اثرات کا تذکرہ کرتے ہیں حالانکہ اس

درخت کے معجزاتی اثرات کے بارے کوئی صحیح روایت موجودنہیں بہت تلاش بسیار کے بعد بھی اس روایت کی تصحیح کہیں سے ثابت نہ ہو سکی۔[50] اسی طرح خصائص کی فصل میں بہت سی موضوع و ضعیف روایات ہیں مثلاً :

’’حضور کا سایہ نہ تھا، آپ کے جسم اطہر پر مکھی نہ بیٹھتی تھی اور آپ کو جوئیں تنگ نہ کرتی تھیں۔‘‘[51]

ہرنی کا آپ کی نبوت کی گواہی دینے والا واقعہ ہے، حافظ ابن حجر کے نزدیک اس کی تمام روایات ضعیف ہیں۔ [52]

۵۔صحت روایات کی بجائے کثرتِ روایات کو ترجیح :

اردو مولود نگاران میں غیر صحت مند رجحان یہ بھی ہے کہ صحیح روایات کے التزام کی بجائے تکثیر روایات کو ترجیح دی جاتی ہے اسی سبب سے ضعیف وموضوع روایات کا ایک انبار کتب سیرت و دیگر کتب میں امنڈ آیا ہے ہر مصنف فقط جمع روایات کو مطمح نظر بناتا ہے ان روایات کی صحت و ضعف کا خیال نہیں کرتا ۔

نواب صاحب بھی اس مقصد کے حصول میں غلطاں و سرگرداں ہیں انھوں نے اس مختصر مولود نامے میں روایات و معلومات کا تو بے بہا ذخیرہ جمع کر دیا ہے لیکن ان کی صحت و ضعف میں کوئی امتیاز نہیں کیا، اگرچہ دیگر مولود ناموں کی نسبت ان کا مولود نامہ بہت بہترہے اس کے مضامین کی اکثریت صحیح روایات پر مبنی ہے لیکن ضعیف روایات سے پاک نہیں ہے اور اس کا سبب وہی کثرتِ روایات کی دوڑہے۔ ان ضعیف و موضوع روایات کی نشاندہی متقدم الذکر دو بحوث میں ہو چکی ہے۔

۶۔معروضیت پر عقیدت کو ترجیح :

رسول اللہ کے ساتھ محبت ہمارے ایمان کا لازمی تقاضا ہے لیکن خود پیغمبر خدا کا تقاضا ہے کہ میری شان میں مبالغہ آرائی سے پرہیز ضروری ہے نیز یہ عقیدت کا تقاضا نہیں کہ ضعیف و موضوع روایات سے استشہاد کیا جائے، ہمارے اکثر و بیشتر مصنفین ذات رسالت مآب اور آپ کے متعلقین کے معاملہ میں بے جا عقیدت سے کام لیتے ہیں جو جادۂ مستقیم سے انحراف ہے، معروضیت کا تقاضا ہے کہ دوران تحریر فقط عقیدت کو غالب نہ آنے دیا جائے بلکہ ہوش و ہواس قائم رکھے جائیں۔

الشمامۃ میں بھی عقیدت کا رنگ بہت نمایاں ہے چونکہ مصنف خود سید خاندان سے تھے اس لیے وہ حضور کی اولاد سے بہت

عقیدت رکھتے تھے اور اسی عقیدت میں غلو کی وجہ سے بسا اوقات ضعیف و موضوع روایات بھی لاتے ہیں۔

مثال کے طور پر فاطمہ ؓ کی عقیدت میں دو روایات نقل کی ہیں اور دونوں موضوع و ضعیف ہیں، فرماتے ہیں :

’’بروز قیامت ایک منادی اعلان کرے گا اپنا سر جھکا لو اور نظریں نیچی کر لو کیونکہ فاطمہ بنت محمد پل صراط سے گزرنے والی ہیں۔‘‘ [53]

اسی طرح حضرت فاطمہ اور ان کی اولاد کے بارے ایک روایت لائے ہیں کہ آپ نے فرمایا :

’’ اے فاطمہ اللہ تعالیٰ تجھے اور تیری اولاد میں سے کسی کو عذاب نہیں دے گا۔‘‘[54]

اس سے پہلے ضعیف اور موضوع روایات کے بارے سید سلیمان ندوی کا تبصرہ ذکر کر دیا گیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ جن روایات میں آپ کے والدین کو زندہ کیے جانے کا تذکرہ ہے وہ بھی ضعیف ہیں۔ [55]

۷۔غیر معروف و شاذ مؤقف کا ذکر :

نواب صاحب بسا اوقات غیر معروف اورمخالف جمہور موقف کو ترجیح دیتے ہیں مثلاً آپ کے والد محترم کے مقام تدفین کے بارے رقم طراز ہیں :

’’مدینے سے مکہ کو آتے تھے راہ میں وفات پائی اور ابواء میں دفن ہیں۔‘‘[56]

حالانکہ یہ موقف غلط ہے ابواء آپ کی والدہ کی جائے تدفین ہے نہ کہ والد کی۔

اسی طرح اسراء کے بارے فرماتے ہیں :

’’علامہ شعرانی کے مطابق آپ کو نیند کی حالت میں ٣٣ بار معراج ہوئی۔‘‘ [57]

یہ موقف بھی جمہور علماء کے خلاف ہے۔

ایک اور اہم مسئلہ تاریخ لکھنے کی ابتداء کا ہے نواب صاحب کے ہاں تاریخ لکھنے کی ابتداء حضور کے ہجرتِ مدینہ کے بعد ہوئی اس سے پہلے عام الفیل سےتاریخ لکھی جاتی تھی۔[58]

حالانکہ جمہور کا مؤقف ہے کہ تاریخ لکھنے کی ابتداء حضرت عمر کے دور مبارک سے ہوئی۔ [59]

اسی طرح کے چند اور واقعات بھی کتاب سےپیش کیے جاسکتے ہیں۔

۸۔نور الابصار کے مضامین کی ’’فائدہ‘‘ کے نام سے اپنی طرف نسبت :

نواب صاحب نے اکثر مقامات پر ’’نور الابصار‘‘ کے مضامین’’فائدہ یا ف‘‘ لکھ کر ذکر کرتے ہیں جس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہ فوائد ان کے اپنے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ! عوام الناس کےہاں ان کی کتب میں مذکور ’’فوائد‘‘ یا اضافہ جات خود انھی کے شمار ہوتے ہیں اس لیے یہ وہم ہوتا ہے کہ شاید یہ عبارات بھی انھی کی ہیں۔ مناسب یہ تھا کہ وہ خالص اپنے اضافہ جات کے لیے کوئی اصطلاح مقررکرتے یا صراحت کر دیتے لیکن انھوں نے علامہ شبلنجی کے مضامین کو ’’ف‘‘ یا ’’فائدہ ‘‘ وغیرہ جیسے الفاظ کےذریعے الشمامۃ العنبریۃ میں درج کیا ہے ۔[60] چند امثلہ حسب ذیل ہیں؛

آپ کے مقامِ ولادت کی بحث کونواب صاحب نے ’’ف‘‘ کے ذریعے بیان کیا ہے، حالانکہ وہ علامہ شبلنجی کی عبارت ہے۔[61]

اسی طرح تیرہ انبیاء کے مختون پیدا ہونے کی بحث ہے، نواب صاحب نے اسے ’’ف‘‘ کے تحت بیان کیا ہے۔ [62]جبکہ یہ علامہ شبلنجی کی عبارت ہے۔ [63]

اس کے علاوہ دیگر امثلہ حسب ذیل ہیں ؛

آپ کا اپنے چچا عباس و زبیر کے ہمراہ یمن کا تجارتی سفر۔[64] ایام وحی کے قریب آپ کا تنہائی پسند ہونا۔ [65]

وفات ابو طالب کے تحت کفر کی چار اقسام کا تذکرہ۔[66]واقعہ اسراء کی تفصیلات۔ [67]

اس کے علاوہ بھی کئی امثلہ موجود ہیں جو طوالت کے پیش نظر ترک کی جارہی ہیں۔

خلاصۂ بحث :

الشمامۃ العنبریۃ بہت جامع المعلومات کتاب ہے جس میں اختصار و جامعیت، توقیت کا التزام، مراجع کی کثرت، مزید کتب کی نشاندہی، روایات پر نقد و محاکمہ، ترجیح بین الروایات، جمع و تطبیق، فقہ السیرۃ اورفقہی مسائل کی وضاحت، مختلف شخصیات و مقامات کا تعارف، خاص اضافہ جات ، نئی معلومات اور ذیلی عنوانات کی عمدہ تقسیم جیسی خصوصیات ہیں اس کے علاوہ بلا حوالہ نقل روایات، ضعیف و موضوع روایات سے استشہاد، غیر معروف و مخالف جمہور مؤقف کی ترجیح ، معروضیت پسندی کی بجائے عقیدت پرستی کی آڑ میں ضعیف روایات کی کثرت ، غیر منطقی استدلال اور غیر منظم اسلوب جیسی خامیاں بھی ہیں۔

حوالہ جات

  1. علی حسن خان ،محمد،ماثر صدیق ( لکھنو: نو ل کشور پریس ، ۱۹۲۷ء) ،ص: ۴۷
  2. ندوی، سید اجتباء،الامیر سیدصدیق حسن خان حیاتہ وآثارہ( دمشق : دار ابن کثیر ،۱۹۹۹ء) ،ص:۱۲۴
  3. قنوجی، صدیق حسن خان، الشمامۃ العنبریۃمن مولد خیر البریۃ ( لاہور :فاران اکیڈمی،س ن )، ص:۵۔ ۶
  4. قنوجی ،نواب صدیق حسن ، الشمامۃ العنبریۃ،ص:۳
  5. ایضاً ،ص:۴
  6. قنوجی ، نواب صدیق حسن ، الشمامۃ العنبریۃ،ص:۴۱ تا ۵۰
  7. ایضاً،ص: ۷۲ تا ۷۶
  8. ایضاً، ص: ۸۳ تا ۹۹
  9. ایضاً،ص: ۱۵ ۔ ۱۶
  10. ایضاً ،ص: ۱۸
  11. ایضاً ،ص: ۲۵
  12. ایضاً ،ص: ۳۰
  13. قنوجی ، نواب صدیق حسن ، الشمامۃ العنبریۃ ،ص: ۸۹ تا ۹۸
  14. ایضاً ،ص: ۷۹۔ ۸۰
  15. ایضاً، ص: ۲۵
  16. قنوجی ،نواب صدیق حسن ، الشمامۃ العنبریۃ،ص: ۴۸
  17. ایضاً، ص: ۱۱۳
  18. ایضاً ، ص :۱۱۵
  19. ایضاً،ص :۳۹۔ ۴۰؛ حجفہ ان دنوں یہود کا مسکن تھا اس لیے بد دعا فرمائی تھی۔
  20. قنوجی ،نواب صدیق حسن ، الشمامۃ العنبریۃ ، ص : ۱۱۔۱۲
  21. ایضاً ،ص: ۱۷
  22. ایضاً، ص : ۵۲
  23. ایضاً ،ص :۵۲
  24. قنوجی ، نواب صدیق حسن ، الشمامۃ العنبریۃ ص : ۵۶
  25. ٔایضاً، ص: ۶۶۔ ۶۷
  26. ایضاً ، ص : ۱۰۴ ۔ ۱۰۵
  27. قنوجی ، نواب صدیق حسن ، الشمامۃ العنبریۃ ، ص : ۸
  28. ایضاً،ص : ۱۳
  29. ایضاً ،ص: ۱۶
  30. ایضاً،ص: ۳۶
  31. ایضاً،ص : ۲۵
  32. ایضاً،ص : ۶۴
  33. ایضاً،ص : ۸۸۔ ۸۹
  34. ایضاً،ص : ۹۰
  35. ایضاً،ص : ۷۹
  36. ایضاً، ص : ۸۹۔۹۰
  37. قنوجی ، نواب صدیق حسن ، الشمامۃ العنبریۃ،ص : ۲۵
  38. ٔایضاً، ص : ۲۸
  39. ایضاً،ص : ۳۹
  40. ایضاً،ص: ۸۰
  41. قنوجی ،نواب صدیق حسن ، الشمامۃ العنبریۃ ، ص : ۱۱۵
  42. ایضاً ،ص: ۱۰۶
  43. ایضاً
  44. ایضاً،ص: ۱۰۷
  45. ٔایضاً، ص : ۵۱
  46. قنوجی ،نواب صدیق حسن ، الشمامۃ العنبریۃ ،ص: ۳۷
  47. ایضاً ، ص : ۳۸
  48. ایضاً، ص :۴۶
  49. ایضاً ، ص : ۱۱
  50. قنوجی ،نواب صدیق حسن ، الشمامۃ العنبریۃ ، ص: ۳۵۔ ۳۶
  51. ایضاً، ص : ۵۷؛ علامہ البانی ؒ نے اس روایت کو باطل قراردیا ہے؛ البانی، ناصر الدین، السلسلۃ الضعیفۃ ( ریاض: دارالمعارف ،س ن )، حدیث : ۱۵۹۸
  52. مہدی ، رزق اللہ، سیرت نبوی(بمبئی :دارالعلم،۲۰۱۲ء) ، ۲: ۶۵۰
  53. قنوجی ، نواب صدیق حسن، الشمامۃ العنبریۃ ، ص :۹۰ ؛ اس روایت کو علامہ البانی نے موضوع قرار دیا ہے، دیکھئے: السلسلۃ الضعیفۃ، حدیث : ۲۶۸۸
  54. قنوجی ، نواب صدیق حسن ، الشمامۃ العنبریۃ ، ص :۹۰ ؛ یہ روایت بھی ضعیف ہے اور الطبرانی کے محقق حمدی عبد المجید نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
  55. ندوی، سید سلیمان ، سیرۃ النبی (کراچی : مکتبہ اسلامیات، س ن )، ۳: ۴۱۳
  56. سید سلیمان ، سیرۃ النبی، ص : ۹
  57. أیضاً، ص :۲۷
  58. أیضاً، ص : ۳۷
  59. ابن حجر، احمد بن علی ،فتح الباری (بیروت: دارالمعرفۃ، س ن)، ۷: ۲۶۸
  60. نواب صدیق حسن خان ؒ کے اپنی خودنوشت میں لکھا ہے: ’’اردو فارسی کے اکثر رسائل میں دوسرے لوگوں کی عبارتیں نقل کرتے وقت میں نے دو امور کا بطورِ خاص خیال رکھا ہے۔ ایک یہ کہ جس کی وہ عبارت ہو اس کا نام لکھا جائے۔ میں کسی عالم کی تحقیق کو تدلیساً یا تلبیساً اپنی طرف منسوب کرنا خیانت سمجھتا ہوں۔ اور دوسرے یہ کہ نقلِ مذکور صحیح اور اصل کے مطابق ہو‘‘؛ دیکھیے:قنوجی، نواب صدیق حسن،ابقاء المنن بالقاء المحن( لاہور:دارالدعوۃ السلفیۃ،۱۹۸۶ء)،ص:۹۳ (ادارہ) اس لیے مقالہ نگار کی رائے محلِ نظر ہے۔
  61. صدیقی، یٰسین مظہر، علامہ شبلنجی اور ان کی کتاب سیرت، شش ماہی :جہات الاسلام، ۸: ۲،( لاہور : پنجاب یونیورسٹی، ۲۰۱۵ء)، ص: ۹۳
  62. نواب صدیق حسن، الشمامۃ العنبریۃ ، ص: ۸
  63. یٰسین مظہر صدیقی، علامہ شبلنجی اور ان کی کتاب سیرت، ص : ۹۴
  64. نواب صدیق حسن، الشمامۃ العنبریۃ ، ص : ۱۶؛ یٰسین مظہر صدیقی، علامہ شبلنجی اور ان کی کتاب سیرت، ص: ۹۵
  65. ایضاً ، ص : ۱۷؛ ایضاً ، ص: ۹۶
  66. نواب صدیق حسن، الشمامۃ العنبریۃ ، ص : ۱۸؛ یٰسین مظہر صدیقی، علامہ شبلنجی اور ان کی کتاب سیرت ، ص: ۹۸
  67. ایضاً ، ص : ۲۷؛ ایضاً ، ص: ۹۹