اہل بدعت سے تحدیث و سماع کا حکم: علامہ احمد شاکر کی آراء کا اختصاصی مطالعہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ إیقان
عنوان اہل بدعت سے تحدیث و سماع کا حکم: علامہ احمد شاکر کی آراء کا اختصاصی مطالعہ
انگریزی عنوان
Status of Deriving Hadith and Narration by Ahl e Bid’at, Specific Study of Allama Ahmad Shakir’s
مصنف Rahman، Habib Ur
جلد 1
شمارہ 1
سال 2018
صفحات 47-60
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Ahmad Shakir, principalities, ahl e bid’at, principles of hadith, narrators.
شکاگو 16 Rahman، Habib Ur۔ "اہل بدعت سے تحدیث و سماع کا حکم: علامہ احمد شاکر کی آراء کا اختصاصی مطالعہ۔" إیقان 1, شمارہ۔ 1 (2018)۔

Abstract

Allama Ahmad Shakir was a great researcher and has a good command on religious literatures and studies. In his era, he took a great place among the scholars as a specialist in hadith, Islamic jurisprudence, Quranic interpretation, history & principals of aforementioned Subjecta. Now, he is recognized as an authority on principalities of sciences of hadith and jurisprudence. He discussed in his books regarding Sciences of hadith about narrators of hadith which are called ahl e bid‘at and the status of their Ahadīth. Because, there is a huge conflict between many principalities in perspective of accepting their Ahadīth or rejecting them. In this article, based an analytical study, some of his major and innovent concepts and justified principals about ahl e bid‘at are discussed which he had presented in his books or shows his research methodologies in different books with a special study on al-musnad by Imam Ahmad Bin Hanbal (r.a). The research shows his viewpoints regarding this kind of narrators that they are, with some conditions, acceptable and their Ahadīth are also should be narrated. Although, some ancient scholars do not allow with primarily conditions, which are described in this study along with their status & conditions.

تعارف:

نبی کریم ﷺ کے فرامین کی حفظ وتبلیغ کا تمام تر دارومدار ناقلینِ حدیث اور احوالِ راویان پر ہے۔ مسلم علمی تراث کا طرہ امتیاز ہے کہ مسلمانوں نے اپنے نبی ﷺ کے اقوال و فرامین کو محفوظ کرنے کے لیے ان راویانِ حدیث کی زندگیوں کو علوم کے ارتقاء کے ساتھ ہی محفوظ کردیا ۔آپ ﷺ کے فرمودات کا ہم تک پہنچنا یقینا کسی جان گسل امر سے کم نہیں۔ جن لوگوں نے ان فرامین کو ہم تک پہنچایا محدثین و علماء عظام نے ان کے احوال و آثار اور جمیع افکار و نظریات کو مقررہ اصول وضوابط کی روشنی میں پرکھا، اور اگر ان کا زاویہ نظر کسی بھی اسلامی فکر یا عقیدہ کے مخالف یا متصادم پایا گیا تو اس کی روایت کو قبول کرنے سے توقف کیا گیا۔ اسی طرح جس کا عقیدہ و نظریہ عین نصوصِ شریعت کے مطابق تھا اس کی روایت کو لیا گیا ااور آگے پہنچانا فریضہ قرار پایا۔ مسلّماتِ دینیہ کے حوالے سے اس طرزعمل کی نظیر دیگر کسی بھی مذہب کے پیروکاروں میں ہرگز نہیں ملتی۔

چنانچہ یہ امر معروف ہے کہ کتاب و سنت کے مطابق نظریات کے ہی حاملین سے منقول تمام تر روایات عائد شروط کو پورا کرتے ہوئے مقبول و حجت ٹھہرتی ہیں تاہم جن لوگوں کے نظریات اس کے برعکس ہیں ان کی روایات کو تفتیش کے عمل سے گزارا جاتا ہے۔ وہ لوگ جن کی روایات کو اس عمل سے گزارا جاتا ہے ان میں بدعی( کتاب و سنت کے مخالف یا تاویل شدہ) نظریات کے حاملین بھی ہیں جن کے بارے محدثین کے اصول وضوابط بہت سخت اور منظم ہیں۔اس ضمن میں عصرِ قریب میں علمِ حدیث پر کام کرنے والوں میں علامہ احمد شاکرؒ (م ۱۹۵۸ء) کا نام بہت نمایاں ہے۔

علا مہ احمد شاکرؒ (م ۱۹۵۸ء) عصر ِ قریب کی ایک نابغہ ءروزگار علمی شخصیت ہیں ۔ آپ ؒ کا تعلق مصر کے علاقے جرجا(اسکندریہ )سے تھا۔ آپ ؒایک جید اورمحقق عالم ِ دین تھے ،اور شرعی واصولی علوم میں مہارت تامہ رکھتے تھے۔اپنے دور میں آپ علوم ِ شریعہ با لخصوص حدیث تفسیر اور متعلقہ علوم وفنون میں دیگر علماء پر فائق تھے ۔ ابتدائی طور پر آپ نے جب علوم کا اخذ واستفادہ شروع کیا تواس میں غیر معمو لی شغف کی بنا ء پر دیگر علوم ِ کسبیہ ودنیویہ سے لا تعلق ہو کر رہ گئے۔آپ ؒ کی خدمات بالخصوص علمِ حدیث کے حوالے سے کافی معروف ہیں جن میں خاص طور پر مسندِ احمد کی تحقیق و تخریج ہے۔علماء نے تحقیقاتِ حدیث میں ان سے خوب اخذو استفادہ کیا ہے۔بدعت اور اہلِ بدعت سے اخذ و سماع کے حوالے سے آپ ؒ کی تصریحات یا مقرر کردہ اصول کیا ہیں اس مقالہ میں ان کا جائزہ لیتے ہوئے جمہور اہلِ فن اور احمد شاکر ؒکے معاصرین کی آراء کا تقابل کیاگیاہے۔ [1]

روایت پر بدعت کے اثرات:

نقل و بیان کے عمل میں کسی بھی ناقل یا راوی کے احوال کی دو قسمیں ہیں ؛ ایک اس کے ضبط اور دوسری عدالت کے اعتبار سے۔ ان دونوں کو محدثین نے قبولِ روایت کا معیار قرار دیا ہے۔راوی کے ضبط میں نقص ہو یا اس کی عدالت مجروح ہو تو اس کی روایت لینے سے توقف کیا جاتا ہے تآنکہ اس کے شواہد یا متابعات میسر ہوں۔ ان میں سے ہر ایک کی مزید ذیلی اقسام ہیں ۔ ہمارے پیشِ نظر مسئلہ ’اہلِ بدعت سے تحدیث و سما ع کا حکم‘ ہے او ریہ عدالت میں نقد کاایک بنیادی سبب ہے ۔اس حوالے سےمحدثین کے اصول ا ور ان کے قدیم و جدید منا ہج کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہو تا ہےکہ کسی بھی بدعتی راوی کی روایت کو علی الاطلاق ردّ نہیں کیا جا سکتا ۔بلکہ اس پر نقد کرنے سے قبل یہ ضروری ہے کہ اس میں پا ئی جا نے والی بدعت یا اعتقادی انحراف کو واضح کیا جا ئے تا کہ اس کے اعتقادات کی نو عیت اور ان کے ممکنہ نتا ئج واثرات سے صحیح واقفیت حاصل ہو سکے۔

چنا نچہ اس ضمن میں محدثین کی تصریحات بہت زیادہ طویل ہیں جن کو ذیلی مبا حث کے ضمن میں جامع مانع صورت میں پیش کیا گیا ہے تا کہ اہل بدعت کے حوالےسے متقدمین و متا خرین کی آراء سے نتائج اخذ کرتےہو ئے علامہ احمد شاکر ؒ کے موقف کو واضح کیا جا سکے کہ آیا ان کے نزدیک بدعتی راوی اور اس کی روایت کاحکم جمہور محدثین کے موافق ہے یا پھر اس میں تنوع اور اختلاف ہے۔

ذیل میں بدعت کی تعریف اور وضاحت پیش کی جاتی ہے جس کے بعد محدثین کے اجمالی اصول و قواعد بیان کیے جائیں گے تا کہ اہل بدعت سے اخذ واستفادہ کی شرائط اور ان کی روایت کا حکم واضح ہو سکے ،نیز احمد شاکر ؒ کی رائے سے تقابل ہوسکے۔

بدعت کی تعریف اور اطلاقات:

لفظ بدعت ’ب د ع‘سے ماخوذ ہے جس میں کسی بھی چیز میں جدت ، ندرت ایجا د کا مفہوم پایا جا تا ہے ۔یہ اصلاً ’’بدع یبدع‘‘سے مصدر ہے جس کا معنیٰ نئی چیز پیدا کر ناہے ۔[2]

اصطلاحی طور پر اس کی درج ذیل دوتعریفات بہت ہی اہم اور واضح ہیں جو اس کا با لکل صحیح و حقیقی معنی و مفہو م بیان کرتی ہیں، چنانچہ اس کی تعریف کرتے ہو ئے ڈاکٹر محمود الطحا ن لکھتے ہیں :

’’الحدیث فی الدین بعد الاکمال ،أو ما استحدث بعد النبی ﷺ من الاهواء والأعمال‘‘[3]

’’دین کے مکمل ہو جا نے کےبعدمیں کسی چیز کا اضافہ یا نبی ﷺکی وفا ت کے بعد خواہشا ت و اعما ل کا اضافہ کرنا۔‘‘

اس اعتبا ر سے ہر قول یا فعل جو بنا دلیل و استناد اور بغیر مستدل بہ کے ہو گا وہ بھی بدعت کہلا ئےگااورہر وہ فکر ی و اعتقادی اور نظریاتی انحراف جو مسلمّا تِ دینیہ اور متفقہ اعتقادات کے بر عکس ہو گا وہ بھی بدعت شما ر ہو گا۔یہ اختیا ری و غیراختیا ر ی دونوں حالتوں میں ہوسکتا ہے ۔چنانچہ اس کی دوسری تعریف جو حافظ ابن حجر ؒننے کی ہے درج ذیل ہے :

’’اعتقاد ما حدیث علی خلاف المعروف عن النبی و اصحابه لا لمعاندة بل بنوع شبهة‘‘[4]

’’نبی اکرم ﷺ و صحابہ کرام ؓ سے منقول و معروف نظریا ت کے خلاف اعتقاد رکھنا محض ایک قسم کے شبہ کی وجہ سے نہ

کہ ضد عنا د رکھتے ہوئے ۔‘‘

یہ تعریف اس معنی و نو عیت میں واضح ہے کہ مسلما ت وہی ہیں جو نبی اکرم اور صحابہ کرام سے ثابت ہیں اور ان کی خلاف ورزی بدعت ہے لیکن اس میں یہ سقم مو جو د ہے کہ اس میں وہ لوگ جو معاندانہ رویہ رکھتے ہیں اور اہل السنہ والجما عت سے منقول متواتر نظریا ت سے اتفا ق نہیں رکھتے وہ تو اس میں شامل نہیں ہو ں گے تاہم اگر اس کو علی وجہ الاولیٰ لیا جا ئے تو تب یہ معنیٰ درست ہو گا کہ جس شخص کو محض شبہ ہوا وہ بدعتی ہے ۔لہٰذا معاندانہ طورپر فکری و نظری اختلاف رکھنے والا تو اس کےمقابل با لا ولیٰ بدعتی شما ر ہو گا ۔لیکن ان دونوں کےدرجا ت و حکم میں یقینی فرق ہو گا۔

ان کے علا وہ بھی کچھ تعریف کی گئی ہیں جن میں علامہ ابن رجب حنبلی کی تعریف بھی اہم ہے ۔وہ فرما تے ہیں :

’’المراد بالبدعة ما أُحدث مما لا أصل له في الشريعة يدل عليه‘‘[5]

’’بدعت سے مراد اس نئےامر کو لیا جائے گا جس کی شریعت میں کو ئی اصل نہ ہوجو اس پر دلالت کر سکے ۔‘‘

اس تعریف کی رو سے تمام منسوب لوگ اہل ِ بدعت و اہلِ اھواء کہلائیں گے ۔اس لیے علامہ جر جا نیؒ لکھتے ہیں:

’’أهل الأهواء أهل القبلة الذين لا يكون معتقدُهم معتقدَ أهل السنة وهم الجبرية والقدرية والروافض والخوارج والمعطِّلة والمشبِّهة‘‘[6]

’’اہل اہواء سے مراد اہل قبلہ ہیں جن کے نظریا ت اہل السنت والجما عت کے نظریا ت جیسےنہیں ،ان میں خاص طور پر جبر یہ ،روافض ، خوارج ،معطلہ اور مشبہہ ہیں۔‘‘

ان کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے امام یما نی ؒ فرما تے ہیں :

’’أهل البدع والأهواء سموا بهذا الاسم لابتداعهم لأشياء ليست من الشريعة، وهوايتهم لأمور استحسنوها فدَعَوُا الناس إلى الدُّخول فيها وهي بعيدة من الحق الأنور والشرع الأظهر‘‘[7]

’’اہل بدعت واہل اھواءکو یہ نام اس لیے دیا گیا کہ انھوں نے ایسے اعتقادات ایجادکیے جو شریعت میں نہیں اور ان کی خواہشات نے جن

امور کو اچھا سمجھا ان کو لوگوں میں پکا ر پکا ر کر داخل کر نے کی کوشش کی حالانکہ یہ سب امو ر واضح حق اور غالب شریعت سے بہت دور ہیں۔‘‘

بد عتی راوی کی درج ذیل دو اقسام ہیں:

اہلِ بدعت کی پہلی قسم :

جمہو ر محدثین نے بدعتی راوی کی تقسیم کرتے ہوئے اس کو ’’بدعت ِ مفسّقہ ‘‘کا نام دیا ہے ان کے نزدیک یہ ایسی بدعت ہے کہ جس کا قائل کافر قرار نہیں پا تا اس لیے کہ وہ غالی نہیں ہو تا یا اگر کسی ایسے گروہ میں سے ہو جو اہل السنہ کے منہج و عقیدے کے خلاف ہو تو اس میں غلو باقی لوگو ں کی نسبت بہت کم یا نا پید ہو تا ہے جیسے کہ بعض شیعہ اور خوارج ہیں جو اپنے نظریا ت میں غلو نہیں کرتے اور نہ ہی ان کی ترویج کو اپنے لیے ضروری قرار دیتے ہیں ۔یہ گروہ ہو ئے تو اہل السنہ والجماعت کے مخالف ہیں تا ہم ان میں مخالفت بنا دلیل نہیں ہو تی بلکہ تاویل ِ فاسد کرتے ہیں جو ظاہری طور پردرست یا مقبو ل نظرآتی ہے۔

اہلِ بدعت کی دوسری قسم :

دوسری قسم سے مراد وہ بدعتی ہیں جن کی تکفیر جمہور سلف سے منقول ہے اور تمام امت نے شرعی اصول و قواعد کو پیش ِ نظر رکھتے ہوئے متفقہ طور پر ان کو اہل بدعت واہواء شمار کیا ہے ۔مثال کے طور پر غالی رافضی جو حضرت علی ؓ میں حلول کا عقیدہ رکھتے ہیں یا ان کے قیامت سے قبل دنیا میں رجوع کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔

اہل بدعت سے روایت کا حکم اوراحمد شاکر ؒ کا موقف

اہل بدعت اور ان کی روایت کے حکم کے حوالے سے احمد شاکر ؒ کے کلام کا فی عمدہ اور قدرے تفصیلی ہے ۔ انہوں نے اس میں علماء اور قرونِ اولیٰ کے فقہاء کے ساتھ ساتھ ائمہ اربعہ اور ان کے مذاہب کو اختیار کرنے والے مشہور و کبار اصحاب کی آراء کا سامنے رکھا ہے ۔ اور ان کے اقوال کو ہر پہلو سے جانچنے کے بعد اپنا موقف بیان کیا ہے، ان کی اس حوالے سے تصریحات مختلف کتب میں ملتی ہیں تاہم معروف ترین بحث اور اس پر احمد شاکرؒ کے کلام کو الباعث الحثیث اور الفیۃ السیوطی سے یہاں نقل کیا جارہا ہے۔چنا نچہ اس حوالے سے احمد شا کر کے کلام الباعت الحثیث اور الفیہ السیوطی کی شرح میں موجود ہے ،وہ فرما تے ہیں:

’’مسئلة : المبتدع إن كفر ببدعته، فلا إشكال في رد روايته. وإذا لم يكفر، فإن استحل الكذب رُدت أيضاً،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وهذا من أكبر الدعاة إلى البدعة! والله أعلم‘‘[8]

’’مبتدع کی روایت کا مسئلہ ، اگر اس کی تکفیر کی گئی ہے تو اس کی روایت ردّ کرنے میں کو ئی شک اشکال نہیں،اور اگر تکفیر نہیں کی گئی لیکن وہ کذب کو حلال سمجھتا ہے تو اس کی روایت رد کر دی جا ئے گی ۔اور اگروہ کذب کو حلال نہیں جانتا تو کیا اس کی روایت کو قبول کیا جائے گا یا نہیں؟یا اس کے داعی ہو نے یا نہ ہونے میں فرق کیا جا ئےگا ؟اس میں قدیم و جدید علما ء کا اختلاف معروف ہے۔اکثر علماء کا موقف ہے وہ داعی ہونے یا نہ ہو نے کے حوالے سے تفصیل طلب ،فرق پر مبنی ہے ۔امام شافعی سے جو منصوص ہے ابن حبان نے اس پر اتفا ق کیا ہے اور کہا ہے کہ ہما رے تمام آئمہ سلف کے نزدیک اس کی روایت سے حجت پکڑنا کسی طور پر صحیح نہیں ،مجھے ان میں کسی اختلاف کا معلوم نہیں۔حا فظ ابن الصلاح ؒ فرما تے ہیں : یہی عادلانہ فیصلہ اور بہترین رائے ہے ۔لہٰذا اس حوالےسے مطلقاً منع کا قول بھی محل نظر ہے اور اہل علم کی آراء معروضہ سے ہٹ کر ہے کیو نکہ ان کی کتب ان اہل بدعت کی روایات سے بھری ہیں جو بدعت کے داعی نہیں تھے۔صحیحین میں اس قبیل کی متعدد روایات ہیں جو اصول او ر شواہد ہر دو اعتبا ر سے ہیں ۔ ‘‘

احمد شاکر ؒ نے اس کے علاوہ کئی مقامات پر اپنے اس نظریہ کی توثیق کی ہے اور جمہور ائمہ کی تصریحات کو نقل کیا ہے، ان کے نزدیک یہ امر نصوص ِ شریعت اور قرونِ اولیٰ کے فقہاء و علماء سے بھی ثابت ہے ۔ چنانچہ ایک جگہ ان کا بیان ہے کہ امام شافعی ؒنے اس حوالے سے کہاہے کہ میں روافض میں سے خطا بیہ کے علاوہ دیگر اہل اھواء کی شہا دت کو قبول کرتا ہوں کیو نکہ وہ اپنے موافق نظریا ت رکھنے والوں کے لیے چھوٹی گواہی کو بھی جا ئز خیال کرتے ہیں ۔امام شافعی ؒ نے اس میں داعیہ وغیرداعیہ کی تعریف نہیں کی پھر یہاں یہ بات بھی ملحوظ رکھناضروری ہے کہ اس تقسیم میں فرق کسی معنیٰ میں ہے؟حالانکہ امام بخاری ؒجیسے أئمہ نےعمران بن حطان خارجی جو کہ قاتل ِ علی، عبدالرحمٰن بن ملجم کی مدح کرتا تھا اس کی روایت کو بھی صحیح میں نقل کیا ہے حالانکہ وہ بدعت کے بڑے داعیوں میں سے تھا ۔ [9]

مذکو رہ بالا عبارت سے اس با ت کی تصریح ہو تی ہے کہ احمد شاکر ؒکے نزدیک اہل بدعت کو ترک کرنا محض اس بات پر موقوف نہیں کہ وہ بدعت کا داعی ہو بلکہ ان کا موقف اس کے برعکس ہے کہ اگر شروطِ صحت پوری ہوں تو روایت کو قبو ل کیا جا ئے گا اگر چہ وہ اس کا بہت بڑا داعی کیو ں نہ ہو ! اس کی مزید تفصیل انھوں نے الفیۃالسیوطی میں ذکر کی ہے ،اس حوالے سے وہ فرماتے ہیں کہ اہل بدعت واھواء کی بدعت ایسی ہو کہ اس کے قائل پر کفر کا حکم لگا یا گیا ہو تو اس کی روایت کو با لا تفا ق قبو ل نہیں کیا جائے گا جیسا کہ امام ثوریؒ سے منقول ہے ،البتہ امام سیوطی نے ثوری کے اس اتفاق کے دعوی کی تردیدکی ہے اور ایک دوسرا قول بھی نقل کیا ہے جس کے مطابق ان کی روایت مطلقاًقبو ل کی جا ئے گی ،نیز ایک تیسراقول بھی ذکر کیا ہے کہ اگر وہ جھوٹ کی حرمت کا اعتقاد رکھتاہے تو اس کی روایت مقبو ل ہو گی ،اس پر مؤلف نے ابن حجر ؒ کا یہ قول نقل کیا ہے ۔ [10]

احمد شاکر کے موقف کی توضیح :

احمد شاکر ؒ کے ان اقوال میں تحقیق کا خلاصہ یہ ہےکہ وجہ سے کا فر قرار دیے جا نے والے ہر راوی کی روایت ردّ نہیں کی جائے گی اس لیے کہ ہر گروہ یہ کہتا ہے کہ اس کا مخالف بدعتی،بلکہ مبالغہ کرتے ہو ئےاسکی تکفیر تک پہنچ جا تے ہیں ۔اگر اس با ت کو لے لیا جا ئے مطلق طور پر توتمام گروہوں کی تکفیر لازم آئےگی۔چنانچہ معتمد ترین قول یہ ہے کہ اس شخص کی روایت کو رد کیا جا ئے گا جس نے شریعت کسی متواتر امر سے انکا ر کیا ہو بد یہی طور پر معلوم و معروف ہو یا پھر اس کے بر عکس نظریہ و عقیدہ رکھا ہو ۔لہٰذا جو اس کے برعکس ہو گا اس پر مستزاد روایت میں اس کا ضبط وحفظ اور اس کا ورع و تقویٰ بھی ملا ہو تو اس کی حدیث قبول کرنے سے کچھ بھی ما ئع نہیں ۔

احمد شاکر ؒ اس قول کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

’’وهذا الذی قاله الحافظ هوالحق الجدیر بالاعتبار و یوید النظر الصحیح‘‘[11]

’’حافظ ابن حجر کا یہ قول ہی دراصل قبو لیت کے لائق ہے نیز صحیح غور و فکر بھی اس کی تائید کرتی ہے ۔‘‘

اس کے بعد اما م شافعی ؒ کے مذکورہ با لا قول کو نقل کرتےہو ئےلکھتے ہیں کہ جہاں تک اس بدعت کا تعلق ہے جس سے کفر لازم نہیں آتا تو بعض محدثین نے اس کی روایت بھی علی الاطلا ق قبول نہیں کی جو بلا دلیل غلو ہے ۔جبکہ بعض نے اس شرط پر اس کی روایت کو قبول کیا ہے کہ وہ کذب کو جا ئز سمجھنے والا نہ ہو یا اپنے مذہب کی تا ئید و نصرت میں اسے نشر نہ کرے،امام شافعی ؒ اس حوالے سے فرماتے ہیں:

’’مارأیت فی اهل الاهواء قوماً أشهد بالزور من الرافضة‘‘[12]

’’میں نے خواہش پرستوں میں روافض سے بڑھ کر ایسی کو ئی قوم نہیں دیکھی جو جھوٹ پر بھی گواہی دیتی ہے ۔‘‘

احمد شاکر ؒ اس پر تبصرہ کرتے ہو ئے لکھتے ہیں کہ ہما ری قید ۔کہ وہ جھوٹ کو حلال نہ سمجھتا ہو ۔کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایسے داعی سے مشروط نہیں کرتے کیو نکہ یہ بات معروف ہے کہ جو شخص بھی اپنے کلام حدیث میں جھوٹ کی وجہ سے معروف ہو جا ئے تو اس کی روایت قبول نہیں کی جائے گی یا جھوٹی گواہی کا ارتکاب کرے ۔اسی طرح بعض محدثین کا یہ موقف ہے کہ بدعتی کی روایت اس وقت قبول کی جائے گی جب وہ اپنی بدعت کا داعی نہ ہو۔لیکن اگر وہ اس کا داعی ہے تو روایت قبو ل نہیں کی جا ئے گی ،امام نووی اس قول کو تر جیح دی ہے اور کہا ہے کہ یہی عادلا نہ اور فیصلہ کن قول ہے نیزاکثر محدثین کا یہی موقف ہے ۔امام ابو اسحاق الجوزجا نی ؒ نے اس میں مزید ایک شرط یہ بھی عائد کی ہے کہ وہ اگر ایسی روایت بیان کرے جو اس کے مذہب کو تقویت نہ دیتی ہو ۔[اس کے بر عکس ہو تو رد کر دی جا تی ہے ]۔

یہ سب اقوال محض نظریا تی ہیں کیو نکہ روایت کا اعتبا ر راوی کے صدق وامانت اور دین میں پختگی سے ہو تا ہے ۔چنا نچہ نا ظر اکثر بدعتی روات کے احوال پر جب نظر دوڑاتا ہے تو اسے ان میں تو ثیق اور اطمینان ملتاہے اگر چہ وہ اپنی آراء کے موافق ہی روایت کرنے والے ہوں اور کبھی اس کے الٹ بھی ہو جا تاہے کہ متعددد روایات بیان کرنے والے کی توثیق ہی نہیں ملتی یہی وجہ ہےکہ امام ذہبی ؒ نے ابان بن تغلب الکوفی کے تر جمہ میں لکھا ہے :

’’شیعی جلد،لکنه صدوق ،فلنا صدقه و علیه بدعته‘‘[13]

’’وہ شیعہ ہے او رکو ڑےکھا نے والا ہے ،لیکن صدوق ہے ،ہمارے لیے اس کا صدق (مقبول ہے) جب کہ اس کی بدعت اس پر ہے ۔‘‘

اس کے بعد انھوں نے ابا ن کی تو ثیق امام احمد سے نقل کی اور کہا ہو سکتا ہے کہ کو ئی شخص کہے ،کسی مبتدع کی تو ثیق کیسے ممکن ہے؟جبکہ تو ثیق کے لیےحد عدالت و اتفاق ہے پس کو ئی شخص کیو نکر بدعتی ہونے کے باوجود عادل قرار پا سکتا ہے ؟

اس حوالے سے یہ امر معروف ہے کہ بدعت کی اصلاً دو اقسام ہیں :

ایک بدعت ِ صغریٰ ہے جیساکہ تشیع میں بلا غلو ،یہ تا بعین اور تبع تا بعین میں ان کے دین ،صدق اور ورع کے باوجود بہت پا یا گیا ہے ۔اگران کی حدیث کو رد کر دیا جائے تو تقریباً آثار ، نبویہ ضائع ہو جا نے کا خدشہ ہے اور اس کے نقصان میں کسی کو شک نہیں۔

دوسری بدعت کبریٰ ہے جیسے رفضِ کامل اور اس میں غلو شیخین کے با رے میں گستاخانہ و نا زیبارویہ رکھنا ،اور اس کی طرف دعوت دینا وغیرہ۔اس قسم کی بدعت سے دلیل پکڑناصحیح نہیں اور نہ ہی کو ئی بات ہے ۔مجھے اس وقت ایسا کو ئی راوی یاد نہیں جو اس قسم سے ہو لیکن صدق و خطاسے محفوظ ہو بلکہ کذب ان کا اوڑھنابچھوناہے ۔تقیہ اور نفاق ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے ،ان کی حالت کی وجہ سے روایت کیونکر قبول کی جا سکتی ہے ؟

سلف کے با رے میں اہلِ رفض کی پہچان یہ تھی کہ حضرت عثمان ، طلحہ ،زبیر معاویہ اور علی ؓ سے لڑنے والوں کی شان میں گستا خی کرتے اور ان کو گالیاں دیا کرتے تھے ۔جبکہ ہما رے زمانے میں اور ہمارے ہاں جو معروف ہے وہ یہ کہ اہلِ رفض یا غالی بدعتی وہ ہے جو ان سرداروں کی تکفیر کرے اورشیخین پر تبرا کرتا ہو ،یہ بڑے درجے کا گمراہ اور کذاب شمار ہو تا ہے ۔ حافظ ابن حجر ؒ کے کلام کے بعد جو ضیمہ امام ذہبی ؒ نے لکھا ہے وہی اصول ِ روایت کے اعتبا ر سے دقیق علمی و حقیقی ضابطہ اورعملی تحقیق بھی ہے ۔[14]واللہ اعلم

اس سارے کلام سے احمد شا کر ؒ کا جو موقف سا منےآتا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک رد ّ روایت کے لیے راوی کا داعی ہو نا یا نہ ہونا معتبر نہیں بلکہ اصلاً ا س میں بدعت کا غلو یا عدم اور نظریاتی طور پر مسلماتِ دینیہ سے متصادم و مخالف اعتقادات کا وجود ہے ،چنانچہ اس کی تا ئید میں انھوں نے سلف میں سے امام ذہبی و ابن حجر کے اقوال کو سامنے رکھا ہے ۔

۱۔تشیع فی الروای اوراحمدشاکر کا تجزیہ:

امام احمد ؒ کا تشیع فی الراوی کی بابت یہ منہج ہے کہ وہ راوی میں تشیع کو بسا اوقات جب وہ غلو کی حد کو پہنچا ہو تو اس کی روایت کو رد کر دیتے ہیں اس طرح کبھی ان کی روایات کوذکر بھی کر دیتے ہیں ،بلکہ خود صراحت فرما تے ہیں کہ انھوں نے اس راوی سے روایات لی ہیں اور ان کو لکھا بھی ہے ۔چنا نچہ اس کے ذیل میں چند ایک امثلہ کو بھی بیان کیا گیا تھایہاں یہ با ت ذکر کرنا منا سب ہے کہ امام احمد نے مسند میں محض ایک یا دو روات سے اخذ و بیان کیا ہے جن میں تشیع پایاگیا ہے جس سےمعلوم ہو تا ہے کہ وہ ان کے نزدیک قابلِ اعتماد ہیں تا ہم ان میں ایک ’’علی بن بذیمہ السوائی ‘‘ہیں جو سردار انِ شیعہ میں سے تھے ۔امام احمد ؒ کے عمل سے معلوم ہو تا ہے کہ انھوں نے اس غلو کا اعتبا ر نہیں کیا بلکہ ان کے نزدیک اس کا داعی نہ ہونا اور روایت کا شروط ِ صحت پورا کرناہی وہ مو جب ہے جس کی بنا ء پر روایت کو قبو ل کیا گیا ہے ،مسند احمد میں اس کی لی ہو ئی روایت درج ذیل ہے :

’’حدثنا أبو أحمد حدثنا سفيان عن علي بن بَذيمة حدثني قيس بن حَبْتَر قال: سألتُ ابن عباس عن الجرّ الأبيض واَلجرّ الأخضر والجرّ الأحمر؟، فقال: إن أول من سأل النبي - صلى الله عليه وسلم - وفدُ عبد القيس، فقالوا: إنا نصيب من الثَّقَل، فأيّ الأسقية؟، فقال:’لا تشربوا في الدُّبَّاء والمزفَّت والنَّقير والحنَتْم، واشربوا في الأسقية‘، ثم قال:’إن الله حَرَّم عليّ‘، أو ’حَرَّم الخَمرَ والميسرَ والكُوبة، وكلُّ مسكرٍ حرام‘، قال سفيان: قلتُ لعلي بن بَذِيمة: ما الكُوبة؟، قال: الطَّبْل‘‘[15]

مندرجہ بالا حدیث میں نبی کریم ﷺ سے بعض برتنوں اور کے بارے سوال کیا گیا ہے، جس کی تفصیل میں یہ حدیث وارد ہوئی ہے۔احمد شا کر ؒ نےاس پر جو تجزیہ و حکم درج کیا ہے وہ ذیل میں ہے :

’’إسناده صحيح، علي بن بذيمة، فتح الباء وكسر الذال المعجمة الحِزري: ثقة، وثقه ابن معين وأبو زرعة والنسائي وغيرهم، وقال أحمد:’ثقة وفيه شيء‘! وقال أيضاً:صالح الحديث، ولكن كان رأساً في التشيع ‘‘

’’اس کی سند صحیح ہے ،علی بن بذیمہ (باء کے فتحہ اور ذال کے کسرہ کے ساتھ )الحرزی ، ثقہ ہے ،ابن معین ،ابو زرعہ ،اور امام نسائی وغیرھم نے اس کی توثیق کی ہے ۔امام احمد نے کہا ہے کہ یہ ثقہ ہے اگر چہ اس میں کچھ کلام ہے ۔اسی طرح ان سے دوسراقول یہ بھی ہےمروی ہے کہ وہ صالح الحدیث ہے اگر چہ تشیع میں سردار ہے ۔ ‘‘

احمد شاکر کے کلام کا تجزیہ :

مذکو رہ با لا کلام سے معلوم ہو تاہے کہ احمد شا کر ؒنے امام احمد کے قول اور ان کے علی بن بذیمہ کی روایت کو اخذ و نقل کر نے کو تصحیح ِ حدیث پر محمول کیا ہے ۔اس لیے انھوں نے امام احمد ؒ کا کلام کی طرف اشارہ فرما یا اور روایت پر اسے صحیح قرار دیا ۔دوسراامر اس حوالے سے یہ ہے کہ ’’علی بن بذیمہ السوائی الحرزی ‘‘پر احمد شا کر نے خود کو ئی تبصرہ نہیں کیا بلکہ متقدمین کے اقوال کی روشنی میں ثقہ قرار دیا ہے اور روایت کو صحیح کہا ہے ۔معاصرین نے بھی اس پر کلام نہیں کیااور اصحاب ِ سنن کو اس بطور دلیل پیش کیا ہے کہ انھوں

نے اس کی روایت نقل کی ہے۔[16]

۲۔قدریہ کی روایت احمد شاکر کا تجزیہ :

اما م احمد ؒ نے مسند میں بعض قدریہ کے مشاہیر سے روایات لی ہیں ۔ان میں خاص طور پر عباد بن منصور النا جی القاضی ہیں جن سے امام احمد نے ایک مفصل روایت مسند میں نقل کی ہے ۔احمد شاکر نے اس پر نہا یت تفصیلی تبصرہ کیاہے اور اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔[17]

اس کے علاوہ معبد الجھنی ‘‘سے بھی ایک روایت نقل کی ہے جس پر احمد شاکرؒ نے مختصر تبصرہ کیا اور اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے ۔چنانچہ مسند احمد نے درج ذیل روایت ان سے نقل کی ہے :

’’حدثنا إسحق بن يوسف حدثنا عوف الأعرابي عن معبد الجهني عن حمران بن أبان قال: كنا عند عثمان بن عفان فدعا بماء فتوضأ، فلما فرغ من وضوئه تبسم، فقال: هل تدرون مما ضحكت؟ قال: فقال: توضأ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - كما توضأت، ثم تبسم، ثم قال: هل تدرون ممّ ضحكت؟ قال: قلنا: الله ورسوله أعلم، قال: إن العبد إذا توضأ فأتم وضوءه، ثم دخل في صلاته فأتم صلاته، خرج من صلاته، كما خرج من بطن أمه من الذنوب‘‘[18]

احمد شاکر نے اس پر درج ذیل تجزیہ کیا ہے اورصحت کا حکم لگا یا ہے :

’’ إسناده صحيح، إسحق بن يوسف: هو الأزرق، عوف الأعابي، هو ابن أبي جميلة، معبد الجهني: هو أول من تكلم في القدر بالبصرة، وكان رأساً في القدر، ولكنه تابعي ثقة، كان لا يتهم بالكذب‘‘[19]

’’اس کی سند صحیح ہے اسحاق بن یوسف وہ ازرق ہے ۔عوف الاعرابی ، ابن ابو جمیلہ ہے ،معبد الجھنی:بصرہ پر تقدیرپرسب سے پہلے اس نے کلام کیا ۔لیکن یہ ثقہ تا بعی ہے ۔اس کوکذب سے متھم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ‘‘

اس سے معلوم ہو ا کہ امام احمد نے قدری کی روایت کو اس شرط پر قبول کیا ہےکہ وہ ثقہ ہے اور اس کی قدری ہو نا موجب ِ رد نہیں، جبکہ احمد شاکرؒنے بھی اس کو درست قرار دیا ہے ۔جبکہ ’’عبا د بن منصور الناجی ‘‘کی روایت پر احمد شاکر ؒ کا کلام اسی نکتہ کے اردگرد ہے۔ چنانچہ انھوں نے عبا دکی روایت کو صحیح قرار دیا ہے حالانکہ اس پر تفصیلی کلام کیا ہے ۔احمد شاکر ؒ کا تبصرہ درج ذیل ہے :

’’إسناده صحيح، عباد بن منصور الناجي القاضي: ثقة، قال يحيى بن سعيد: ’’عباد ثقة، لا ينبغي أن يترك حديثه لرأي أخطأ فيه" يعني القدر،۔۔۔۔۔۔۔۔ونسبه أيضاً لعبد الرزاق وعبد بن حميد وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مروديه‘‘[20]

’’اس کی سند صحیح ہے ۔عبا دبن منصور الناجی القاضی ثقہ ہے ،یحیی بن سعید کہتے ہیں کہ عبا د ثقہ ہے اس کی حدیث ترک کرناصحیح نہیں محض اس رائے کی وجہ سے جس میں خطا کی یعنی قدرمیں ۔۔۔ ۔اس سب کاخلاصہ یہی ہے کہ احمد شاکر نے عباد بن منصور کے قدری ہو نے کو وجہ ردقرار نہیں دیا نیز اس پر تدلیس کے الزام کو زائل کرتے ہو ئے سما ع کی صراحت پر مبنی روایات نقل کی ہیں۔‘‘

احمد شاکر کے معاصرین نے بھی اس حدیث کو حسن کہا ہے او ر اس کے حفظ میں کلام کیا ہے اور سا تھ ہی متا بعا ت کا ذکر کیا ہے جو ضعف کو منجبر کرتی ہیں ۔[21]

۳۔مرجئہ کی روایات اور احمد شاکر کا تجزیہ :

مسند میں امام احمدؒ نے مرجئہ سے بھی قلیل روایات لی ہیں جس سے معلوم ہو تا ہے کہ ان کے نزدیک ارجاء ان کی مرویا ت کو رد کر نے کا موجب نہیں ۔البتہ زیا دات میں امام احمد کے بیٹے عبداللہ نے بعض دیگر روات مثلاًشبابہ بن سوار وغیرہ کی مرویا ت بھی نقل کی ہیں۔ احمد شاکر نے اس حوالے سے جو تبصرہ کیاہے اس کی مثال درج ذیل حدیث ہے :

’’حدثنا مروان بن شجاع قال: ما أَحفظهُ إلا سالماً الأفْطَسَ الجزري ابنَ عَجْلانَ حدثني عن سِعيد بنِ جبَير عن ابن عباس قال: "الشفاء في ثلاثة: شربة عسل، وشَرطةُ مِحْجَم، وكيّةُ نار، وأَنهى أُمتي عن الكي‘‘[22]

احمد شاکر ؒ نےاس پر تبصرہ اور حکم لگاتے ہو ئے لکھتے ہیں:

’’إسناده صحيح، سالم بن عجلان الأفطس الجزري: ثقة، تكلموا فيه من ناحية الإرجاء.وقول مروان بن شجاع "ما أحفظه" إلخ: يريد أنه سمعه من سالم بن عجلان ولكنه شك فيه بعض الشيء، وهذا الشك قد رُفع بجزمه بالتحديث عنه سماعاً في البخاري وابن ماجة‘‘[23]

’’اس کی سند صحیح ہے ۔سالم بن عجلان الأفطس الجزری ثقہ ہے ۔محدثین نے اس پر ارجا ء کے حوالے سے کلام کیا ہے۔ مروان کا کہنا ہے کہ وہ بہترین حا فظے والا ہے ، اس سے مراد یہ ہے کہ اس نے سمالم بن عجلان سے سما ع کیا ہے تا ہم بعض روایا ت میں اسے شک ہے۔اس کا یہ شک بخاری و ابن ما جہ مین مذکور بالجزم سما ع سے رفع کیا جا سکتا ہے ۔اس حدیث کا سیا ق بھی ظاہری طورپر تقاضاکرتا ہے کہ یہ عبا س سے موقوف ثابت ہے لیکن آخر ی الفاظ ’’وانھی أمتی عن الکی‘‘اس کے مرفوع ہو نے پر دلالت کرتے ہیں ۔بخاری نے اسے روایت (۱۰/ ۱۱۶، ۱۱۵)کے آخر میں نقل کیا ہے کہ اس نے یہ حدیث مرفوع بیان کی ہے ۔پھر اس کے بعد ایک مرفوع روایت بھی ذکر کی ہے ۔نیز اسی طرح ابن ماجہ (۲/ ۱۸۴)میں ہے کہ یہ حدیث مرفوع بیان کی ہے۔‘‘

اختصاراً مذکورہ بالاکلام میں دو نکا ت اہم ہیں :

پہلانکتہ یہ ہے سالم بن عجلان الافطس ارجاء کا قائل تھا اور امام بخاری وابن ماجہ کے ساتھ امام احمد نے بھی اس کی روایت کو نقل کیاہے اور اس پر ارجاء کے الزام کی وجہ سے کوئی حکم نہیں لگا یا بلکہ حدیث کو اصول میں درج کیا ہے ۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اس حدیث کے وقف ورفع میں اختلاف ہے ۔امام بخاری وابن ما جہ کی نقل کردہ روایت کے بعد انھوں نے اس کے مرفوع ہو نےکو تر جیح دی ہے اور ان کے علاوہ احمد نے بنا کسی ترجیح کے اس کو نقل کیاہے ۔احمد شاکر کے نزدیک اس کا مرفوع ہونا راجح ہے اسی لیے انھوں نے امام بخاری و ابن ما جہ کے ان الفاظ کونقل کیا ہے جو مرفوع ہو نے کی تائید کرتےہیں۔ معاصرین نےبھی اس کو صحیح کہا ہےاور سالم کو رواتِ بخاری میں شما ر کرتے ہو ئے اس کی روایت درست قرار دی ہے تا ہم انھوں نے ارجاء کی طرف اشارہ نہیں کیا۔محض بخاری کے اس روایت لے لینے کو ہی معیار قرار دیاہے جو اس کی تو ثیق کو مستلزم ہے ۔[24]

۴۔زیا دات عبداللہ سے مر جئہ کی روایت اور احمد شا کر کا تجزیہ:

امام احمد کے بیٹے عبداللہ نے مسند میں جو روایات نقل کی ہیں اور ان کا اضافہ کیا ہے ان میں ایک روایت ایسی ہے جس میں ایک مرجی ہے اور اس پراحمد شا کر نے کلام کیا ہے ،وہ روایت درج ذیل ہے :

’’قال [عبد الله بن أحمد]: قرأتُ على أبي من ها هنا فأقَرّ به، وقال: حدثني محمد بن إدريس الشافعي أخبرنا سعيد بن سالم، يعني القَدَّاح، أخبرنا ابن جُرَيج أن إسماعيل بن أُمَيّة أخبره عن عبد الملِك بن عُمَير أنه قال: حضرتُ أبا عُبيدة بن عبد الله بن مسعود وأتاه رجلان يتبايعان سلْعةً؟ فقال هذا: أخذتُ بكذا وكذا، وقال هذا: بعتُ بكذا. وكذا، فقال أبَو عُبيدهْ: أُتي عبدُ الله بن مسعود في مثل هذا، فقَال: حضرتُ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أُتي في مثل هذا، فأمر

بالبائع أن يُسْتَحْلَف، ثم يُخَّيرَ المُبتاع، إن شاء أخذ، وإن شاء ترك‘‘[25]

یہ حدیث زیاداتِ عبداللہ بن احمد بن حنبل ؒ سے ہے جس پر احمدشاکر ؒ تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’اس کی سند ضعیف ہے ،انقطاع کی وجہ سے ابوعبیداللہ بن عبداللہ بن مسعود نے اپنے باپ کو نہیں پا یا جیسا کہ ہم متعدد با ر کہہ چکے ہیں۔سعید بن سالم القداح ثقہ راوی ہے ۔ابن معین وغیرہ نے اس کی تو ثیق بیان کی ہے اور بعض نے اس پر کلام بھی کی ہے محدثین کا اس پر بالعموم کلام اس وجہ سے ہے کہ وہ ارجاء کا قائل تھا ۔امام بخاری نے التاریخ الکبیر (۲/ ۱/ ۴۴۱)میں اس کا تر جمہ نقل کیاہے اور لکھا ہے کہ وہ ارجاء کا قائل تھا ۔میں (احمد شاکر )یہ کہتا ہوں کہ یہ کو ئی ایسی وجہ نہیں کہ جس کی بنا پر اس طرح کے سچے اور اپنی احادیث سے صحیح واقفیت رکھنے والوں کی تضعیف کی جائے اس حدیث کو امام بیہقی (السنن الکبری :۵/ ۳۳۲)نے بطریق ’’احمد بن عبیدالصفار عن عبداللہ بن احمد بن حنبل ؒ نقل کیا ہے ۔‘‘[26]

اس کا مطلب یہی ہے کہ احمد شاکر کے نزدیک بھی جب کسی راوی میں شروط صحت کا مل ہوں اگر چہ وہ عقیدے میں قدرے ارجاء وغیرہ کا قائل ہو تواس کی روایت کو قبو ل کیاجا ئے گا ،نیز اس کا یہ ارجاء اس کی روایات کو ردّکرنے کا موجب نہیں۔

خلاصہ و نتائجِ بحث:

کسی بھی روایت کے راوی کے ضبط میں نقص ہو یا اس کی عدالت مجروح ہو تو اس کی روایت لینے سے توقف کیا جاتا ہے تآنکہ اس کے شواہد یا متابعات میسر ہوں۔ ان میں سے ہر ایک کی مزید ذیلی اقسام ہیں ۔ ہمارے پیشِ نظر مسئلہ ’اہلِ بدعت سے تحدیث و سما ع کا حکم‘ ہے او ریہ عدالت میں نقد کاایک بنیادی سبب ہے ۔

اس حوالے سےمحدثین کے اصول ا ور ان کے قدیم و جدید منا ہج کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہو تا ہےکہ کسی بھی بدعتی راوی کی روایت کو علی الاطلاق ردّ نہیں کیا جا سکتا ۔بلکہ اس پر نقد کرنے سے قبل یہ ضروری ہے کہ اس میں پا ئی جا نے والی بدعت یا اعتقادی انحراف کو واضح کیا جا ئے تا کہ اس کے اعتقادات کی نو عیت اور ان کے ممکنہ نتا ئج واثرات سے صحیح واقفیت حاصل ہو سکے۔

کتاب و سنت کے مطابق نظریات کے ہی حاملین سے منقول تمام تر روایات عائد شروط کو پورا کرتے ہوئے مقبول و حجت ٹھہرتی ہیں تاہم جن لوگوں کے نظریات اس کے برعکس ہیں ان کی روایات کو تفتیش کے عمل سے گزارا جاتا ہے۔ وہ لوگ جن کی روایات کو اس عمل سے گزارا جاتا ہے ان میں بدعی( کتاب و سنت کے مخالف یا تاویل شدہ) نظریات کے حاملین بھی ہیں جن کے بارے محدثین کے اصول وضوابط بہت سخت اور منظم ہیں۔امام احمد بن حنبل ؒ نے اس حوالے سے گراں قدر توضیحات منقول ہیں جو اصولی نوعیت کی حیثیت سے معروف ہیں۔ جبکہ ان کی کتاب پر تحقیق کرنے والوں میں علامہ احمد شاکرؒ (م ۱۹۵۸ء) کا نام بہت نمایاں ہے، جنھوں نے ان کے اصولوں کی تطبیق اور تحقیق کی ہے۔

جہاں تک اہلِ بدعت سے تحدیث وسماع اور ان کے حکم کا تعلق ہے اس بارے امام احمد بن حنبل ؒ اور علامہ احمد شاکر کو موقف و رائے کا مطالعہ کرنے سے درج ذیل نتائج سامنے آتے ہیں:

احمد شاکر کے نزدیک اہل بدعت کو ترک کرنا محض اس بات پر موقوف نہیں کہ وہ بدعت کا داعی ہو بلکہ ان کا موقف اس کے برعکس ہے کہ اگر شروطِ صحت پوری ہوں تو روایت کو قبو ل کیا جا ئے گا اگر چہ وہ اس کا بہت بڑا داعی کیو ں نہ ہو ۔

اس کی مزید تفصیل انھوں نے الفیۃالسیوطی میں ذکر کی ہے اور تین اقوال میں اس بحث کو سمیٹا ہے؛

پہلا یہ کہ اہل بدعت واھواء کی بدعت ایسی ہو کہ اس کے قائل پر کفر کا حکم لگا یا گیا ہو تو اس کی روایت کو با لا تفا ق قبو ل نہیں کیا جائے گا جیسا کہ امام ثوری سے منقول ہے ،البتہ امام سیوطی نے ثوری کے اس اتفاق کے دعوی کی تردیدکی ہے ۔

دوسرا قول یہ نقل کیا ہے جس کے مطابق مذکورہ بالا طبقہ کی روایت مطلقاًقبو ل کی جا ئے گی ۔

تیسراقول بھی ذکر کیا ہے کہ اگر وہ جھوٹ کی حرمت کا اعتقادہ رکھتاہے تو اس کی روایت مقبو ل ہو گی ،اس پر احمد شاکر ؒنے ابن حجر ؒکا قول نقل کیا ہے ۔

اسی طرح مسند احمد میں اختصاصی مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ احمد شاکر کے نزدیک بھی جب کسی راوی میں شروط صحت کا مل ہوں اگر چہ وہ عقیدے میں تشیع کی طرف مائل ہویااس میں قدریہ کے افکار کی آمیزش ہو یا اس میں ارجاء وغیرہ کا ثبوت مل جائے اور وہ اس کا قائل بھی ہو تواس کی روایت کو قبو ل کیاجا ئے گا ،نیز یہ عقائد محض ان کی روایات کو ارجاء کو ردّ کرنے کا موجب نہیں۔

حوالہ جات

  1. == البراجیلی، المتولی، معالم منھج الشیخ احمد شاکر فی نقد الحدیث ( القاہرہ :مکتبہ السنہ ، ۲۰۱۳ء)،ص: ۳۲==
  2. == الفیروز آبادی،مجد الدین،القاموس المحیط ( بیروت :الرسالۃ،۲۰۰۵ء)،۱: ۱۲۴ ==
  3. محمود الطحان ،دکتور ،تیسیرمصطلح الحديث ( کراچی: مکتبہ البشریٰ، ۲۰۱۰ء) ، ص: ۱۰۴
  4. ابن حجر،احمد بن فضل العسقلانی ،نزهۃ النظر ( بیروت :دارالکتب العلمیۃ، ۲۰۰۳ء )، ص: ۴۴
  5. الحنبلی، ابن رجب، جا مع العلوم والحکم ( بیروت:دارالفکر، ۲۰۱۴ء)،۲: ۱۱۸
  6. الجرجانی،علی بن محمد الشریف،التعر یفا ت ( بیروت :دارالنشر للکتب العربیۃ ،۲۰۰۳ء)، ص: ۵۷
  7. الیمنی،ابو محمد،عقائد الثلات والسبعين فرقۃ ( المدینۃالمنورۃ :مکتبۃ العلوم والحکم،۱۹۹۹ء ) ،۱: ۱۰
  8. احمد محمد شاکر،الباعث الحثیث ( قاہرہ :دارالکتاب، ۲۰۰۳ء)، ص: ۱۲۶
  9. == احمد محمد شاکر،الباعث الحثیث، ص: ۱۲۷==
  10. == السیوطی، جلال الدین،الفیۃ ، تحقیق : احمد شاکر (بیروت:دارالکتب العلمیۃ،۲۰۰۹ء)، ص: ۵۳==
  11. السیوطی ،الفیۃ ، تحقیق : احمد شاکر ،ص :۵۳
  12. ایضاً ، ص: ۵۴
  13. الذھبی، شمس الاسلام محمد بن أحمد بن عثمان ، میزان الاعتدال (بیروت: دارالمعرفۃ،۱۹۶۳ء)، ۱: ۴
  14. == السیوطی ،الفیۃ ، تحقیق : احمد شاکر ، ص: ۵۴ ==
  15. الشیبانی،احمد بن حنبل،المسند،تحقیق :احمد شاکر (القاہرہ:دارالحدیث، ۱۹۹۵ء)،۳: ۱۲۵، حدیث:۲۴۲۶
  16. == الشیبانی ،احمد بن حنبل،المسند،تحقیق :شعیب ارناؤوط (مصر:مکتبۃ الرسالۃ ،۱۹۹۶ء )،۴: ۲۷۹، حدیث:۲۴۷۵==
  17. == الشیبانی،احمد بن حنبل،المسند،تحقیق :احمد شاکر،۲: ۵۳۲، حدیث:۲۱۳۰ ==
  18. الشیبانی، المسند،تحقیق :احمد شاکر،حدیث:۴۳۰
  19. ایضاً
  20. احمد بن حنبل،المسند،تحقیق :احمد شاکر،۲: ۵۳۲
  21. == احمد بن حنبل،المسند،تحقیق :شعیب ارناؤوط،۴: ۳۶، حدیث:۲۱۳۱ ==
  22. احمد بن حنبل،المسند،تحقیق :احمد شاکر،۳: ۱۶
  23. احمد بن حنبل،المسند،تحقیق :احمد شاکر ، ۳: ۱۶ ،حدیث: ۲۲۰۸
  24. == احمد بن حنبل،المسند،تحقیق :شعیب ارناؤوط،۴: ۸۵،حدیث:۲۲۰۸==
  25. احمد بن حنبل،المسند،تحقیق :احمد شاکر، ۴: ۲۵۹
  26. ایضاً