برصغیر میں اصول تفسیر کے مناہج و دبستان اور نمائندہ شخصیات کی علمی تراث کا تجزیاتی مطالعہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ إیقان
عنوان برصغیر میں اصول تفسیر کے مناہج و دبستان اور نمائندہ شخصیات کی علمی تراث کا تجزیاتی مطالعہ
انگریزی عنوان
Principles of Interpretations and its Schools & Methods in Sub-Continent, Analytical Study of the Literary Work Regarding their Representatives
مصنف Rahman، Ubaid Ur، Hafiz Hamid Hammad
جلد 1
شمارہ 1
سال 2019
صفحات 1-22
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Quranic sciences, principles, interpretation, methodology, sub-continent, principalities
شکاگو 16 Rahman، Ubaid Ur، Hafiz Hamid Hammad۔ "برصغیر میں اصول تفسیر کے مناہج و دبستان اور نمائندہ شخصیات کی علمی تراث کا تجزیاتی مطالعہ۔" إیقان 1, شمارہ۔ 1 (2019)۔

Abstract

The Quranic sciences of interpretations and principles of interpretations were originated in the epoch of holy prophet (saw) but compilation of both were started later. This is called principles of interpretations, which is the basic and important part of Islamic studies. Islamic scholars, commentators and explicators explained the holy Quran in the light of principles of interpretations. These are such basic principles those are guide lines for them so they will not deviate or drop the right way while interpreting and explaining the holy verses. These principles are laid down and followed by them so that they may find the will of Allah and actual meaning of holy Quran. A little difference in principles causes a huge difference in interpretation. Different methodology in principles resulted in many schools of thought. This article focusses on examining these schools of thought found in sub-continent and introduce their main books. This article deals with chronological evolution of said knowledge i.e. principles of interpretations, and Quranic sciences specially originated by the famous principalities and interpreters of sub-continent.

تعارف:

علوم اسلامیہ کی فہارس میں علم تفسیر کی ایک اپنی ہی شان ہے۔ بلاشبہ یہ عظیم ترین علم ہے اور ہر عہد میں علما ءِ امت کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ اسی علم کا ایک کلیدی شعبہ ’’اصول تفسیر‘‘ ہے۔اصول تفسیر ایسے اصول و قواعد کا نام ہے جو مفسرینِ قرآن کے لیے دورانِ تفسیر نشانِ منزل کی تعیین کرتے ہیں تاکہ کلام اللہ کی تفسیر کرنے والا ان کی رہنمائی اور روشنی میں ہر طرح کے ممکنہ سہو وتسامح سے محفوظ رہے اور قرآن کے منشاء و مفہوم کا صحیح ادراک کر سکے۔علمِ اصول تفسیر کی حیثیت تفسیرِ قرآن میں اساسی اور بنیاد ی نوعیت کی ہے اس لیے اصول میں اختلاف یا معمولی تبدیلی تفسیر ِقرآن پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے جس سے مختلف النوع مناہج و مکاتبِ فکر نے جنم لیا ہے۔اصول تفسیر کے ان مناہج کا اختلاف بڑے تفسیری اختلاف کا پیش خیمہ بھی بنا ہے۔برصغیر میں اصولِ تفسیر میں اسی قسم کے اختلافات کی وجہ سے بعض مناہج و دبستان معرضِ وجود میں آئے۔ اس مقالہ میں برصغیر میں اصول تفسیر کے انھی مناہج اور مکاتب فکر اور ان کی نمائندہ کتب کا تعارف و تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔

برصغیر میں علمِ اصول تفسیر:

قرآن فہمی کے لیے اس موضوع کی اساسی اہمیت کے پیش نظر توقع یہ تھی کہ اس کا حق ادا کیا گیا ہو گا اور اس میں خود علم تفسیر کی طرح بے شمار کتب تصنیف کی گئی ہوں گی لیکن صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ امر باعثِ حیرت ہے کہ تفسیر کا اتنا عظیم الشان کلیدی شعبہ دیگر علوم کی بہ نسبت بالعموم محققین کی تحقیقات سے قدرے محروم رہا ہےجب کہ برصغیر میں علم اصول تفسیر سے بے اعتنائی اس سے بھی زیادہ محسوس کی گئی ہے۔ یہاں تفسیر نویسی آٹھویں صدی ہجری میں باقاعدہ شروع ہو چکی تھی لیکن اصول تفسیر سے بے اعتنائی کا یہ عالم ہے کہ بارہویں صدی ہجری تک اس موضوع پر کوئی مستقل کتاب نہیں ملتی۔[1]چنانچہ یہاں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (م 1176ھ) کی ’’الفوز الکبیر فی أصول التفسیر‘‘کو اس موضوع پر پہلی معروف کتاب کا مقام حاصل ہوا۔ [2]حالانکہ اس سےقبل عماد الدین عارف (م ۱۶۱۲ء) کی اصولِ تفسیر پر تصنیف ’دستور المفسرین‘ احاطہ تحریر میں آچکی تھی مگر نہ یہ معروف ہوئی نہ ہی اسے اس قبولیتِ عامہ کا شرف حاصل ہوا جو الفوز الکبیر کے حصے میں آیا۔

تقریباً چار سو سال کے اس عرصہ میں برصغیر کے مفسرین قرآن کے سامنے اصول تفسیر کا کوئی واضح نقشہ موجود نہ تھا اور نہ

ہی تفسیر کے اصول و خطوط متعین تھے۔ جس کی وجہ سے علم اصول تفسیر کا یہ عظیم المرتبت شعبہ مدتوں تک ایک منظم، مدوّن اور باقاعدہ علم کے طور پر یہاں سامنے نہ آ سکا حالانکہ برِ صغیر کے نامور مفسرین اپنے اپنے انداز میں تفاسیر رقم فرماتے رہے۔ یہاں مخصوص تہذیبی پس منظر اور ماحول میں تفسیر قرآن کے نام پر فلسفہ و معقولات کی خالص فنی مباحث یا پھر اذواق و الطاف اور کشوفات کا غلبہ اس قدر رہا ہے کہ خود نص قرآنی اور اس کا پیغام ربانی پردۂ خفا میں رہا جبکہ اگر تفسیر قرآن کے اصول و قواعد منضبط شکل میں موجود ہوتے تو شاید صورت حال یکسر مختلف ہوتی۔

اصول تفسیر کے مناہج :

شاہ ولی اللہؒ جیسی نابغہ روزگار ہستی کے بعد اس صورتِحال میں بہت مثبت تبدیلی آئی۔ قرآن مجید ایک نئے انداز اور جدید اسلوب و منہاج میں افکار و تحقیقات کا مرکز بنا۔ تطور و ارتقا کے اس موڑ پر اصول تفسیر پر مواد کی کمی کا احساس بہت سے لوگوں نے کیا اور اپنی علمی استطاعت و نظریاتی میلان کے مطابق اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش بھی کی جس سے موضوع پر نہایت قابل قدر کاوشیں منظر عام پر آئیں۔ ارتقاء و تغیر کے اس موڑ پر درج ذیل واضح اور متعین مدارس فکر وجود میں آئے جنہیں ہم برصغیر کے اساسی و بنیادی نوعیت کے ’’مناہج اصول تفسیر‘‘ قرار دے سکتے ہیں:

مدرسہ تفسیر بالمأثور:

یہ مدرسہ فکر اس بات کا حامی ہے کہ تفسیر و تشریح قرآن کے سلسلے میں منقول ہی پر اکتفا کیا جائے اور فکر و نظر کی ان بدعات کو اس کے دائرے میں نہ لایا جائے جن سے اسلام کی بنیادی روح متاثر ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک تفسیر قرآن کے لیے انھی بنیادی وسائل و طرق کو استعمال کیا جائے جو رسالت مآب ﷺ کے عہدِ مبارک میں متعین تھےاور اس سے تفہیم و تبلیغ زیادہ واضح اور مؤثرصورت میں سامنے آتی رہی۔اس طبقہ کے نزدیک قرآن کی روح اصلاً تفسیر بالقرآن سے باقی و دائم ہے اور یہی قرآن کا مقصودبہا اورشرعی معانی و مطالب کی تعیین سے مطلوب ہے۔

مدرسہ تفسیر بالنظم:

برصغیر میں یہ فراہی مکتب فکر سے معروف ہے۔ یہ مدرسہ فکر قرآن مجید کے اندرونی نظم کو تفسیر میں ایک فیصلہ کن عامل کی حیثیت دیتا ہے۔ یہ مکتب فکر اس بات کا پرُزور قائل ہے کہ قرآن مجید کی ہر سورت کا ایک عمود (مرکزی مضمون) ہوتا ہے اور اس سورہ کی تمام آیتیں اس سے مربوط ہوتی ہیں۔ ان کی اصطلاح میں اسے نظم القرآن یا نظام القرآن کہا گیا ہے۔ ان کے یہاں یہ قاعدہ ہے کہ جب تک یہ نظم سمجھ میں نہ آئے اس وقت تک نہ تو اس سورہ کی قدر و قیمت اور حکمت واضح ہوتی ہے اور نہ اس سورہ کی متفرق آیات کی صحیح تفسیر متعین ہوتی ہے۔[3]


مدرسہ تفسیر بالرائے محمود:

مفسر کا اپنی عقل و اجتہاد اور غور وفکر کے ذریعے قرآن مجید کی تفسیر کرنا تفسیر بالرائے کہلاتا ہے۔ یہ اصلاً دو اقسام پر مشتمل ہے،اول تفسیر بالرائے محمود جس سے مراد یہ ہے کہ تفسیری رائے کو کتاب و سنت ، کلام عرب کے اسالیب و اوضاع اور شروطِ تفسیر کے ماتحت رکھا جائے۔ صحابہ کرام سے منقول مختلف تفسیری اقوال کا ذخیرہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ اپنے اجتہاد و رائے سے بھی کلام الہی کی تفسیر کیا کرتے تھے۔

مدرسہ تفسیر بالرائے مذموم:

اس سے مراد یہ ہے کہ تفسیری رائے میں کتاب و سنت، اسالیب کلام عرب اور شرائط تفسیر کو بالائے طاق رکھ دیا جائے۔ اگرچہ قرآنی معنی کی تعبیر و تفہیم میں عقل کا استعمال پسندیدہ ہے تاہم اسے کتاب و سنت کے دیگر حوالوں اور مقامات کے ماتحت رکھنا ضروری ہے اور جب عقل کے آزادانہ استعمال سے ایسا نتیجہ برآمد ہو جو منقول شرعی مفاہیم ومسلمات کے خلاف ہو تو عقل کے ایسے ہی استعمال کو تفسیر بالرائے المذموم کہا جاتا ہے ۔منقولات پر عقل کی اسی فوقیت سے اس مدرسہ فکر کا ظہور ہوا ۔ عقل کے اسی تفوق کی وجہ سے اس مدرسہ فکر سے وابستہ افراد نے آیات قرآنیہ سے ایسے معانی کشید کیے جو مروج افکار سے تو میل رکھتے تھے مگر وہ ارکان اسلام اور ایمانیات جیسے بنیادی معاملات میں جمہور امت کے تصورات سے مختلف تھے۔

مذکورہ بالا چاروں شرکائے بزم نے اپنے اپنے متعین کردہ اسلوب و منہاج کے مطابق تعبیر و تشریح قرآن کے دائروں میں وسعت و عمق پیدا کیے اور تفسیر کے اصول مدوّن کیے۔ ان میں سے کچھ اصحاب علم و فضل نے اصول تفسیر پر مستقل تصانیف و تالیفات سے امت کو مستفید کیا، پھر اس کے مطابق تفاسیر بھی قلمبند کیں اور بعد میں آنے والوں پر دوررس اثرات مرتب کیے۔کچھ دیگر صاحبان علم و تحقیق نے اصول تفسیر کے اس سلسلے کو آگے بڑھایا، ان کی تشریح و توضیح سے خوب تعرض کیا اور اصول تفسیر کے متفرق مسائل پر فہم و ادراک کے جوہر دکھاتے ہوئے ان پر سیر حاصل بحث کی۔ ان تمام شخصیات اور ان کی خدمات و تالیفات کا دائرہ خاصہ وسیع ہے۔

(ا)منہج تفسیر بالمأثور کی نمائندہ شخصیات:

۱۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ (م ۱۷۶۲ء):

تفسیر بالماثور کے سلسلہ میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی خدمات کا دائرہ انتہا درجہ وسیع ہے۔ آپ ؒ کی سب سے اہم خدمت یہ ہے کہ آپ نے فہم قرآن کی راہیں امت کے ہر طبقے کے لیے روشن کیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ خدمت اس دور میں لی جب برصغیر تو کیا تقریباً پوری عجمی دنیا ،جس میں برصغیر کے ہمسایہ ملک ترکستان، افغانستان اور ایران بالخصوص قابل ذکر ہیں، میں یہ تسلیم کر لیا گیا تھا کہ قرآن مجید اخص الخواص طبقہ کے لیے ہے۔ اس کا مطالعہ، غور وفکر، تدبر اور فہم و تفہیم ایک درجن سے زیادہ علوم پر

موقوف ہے۔اس کو عوام میں لانا سخت خطر ناک، ایک بڑی گمراہی اور فتنہ کا دروازہ کھولنے کے مرادف ہے۔ [4]شاہ ولی اللہ ؒ نے اس خلا کو پر کرنے اور اس سرزمین میں قرآنی تعلیمات کو پھیلانے کے لیے براہ راست قرآن مجید کو موضوع بنایا اور اس حوالے سے درج ذیل تصنیفات بطور یاد گار چھوڑیں؛

المقدّمہ فی قوانین الترجمۃ (فارسی):

یہ رسالہ اصول ترجمہ پر تحریر کیا گیا ہے جو مختصر ہونے کے باوجود بڑا بصیرت افروز اور عالمانہ ہے۔ اسے ہم دوسرے لفظوں میں اصول تفسیر، پر ایک جامع رسالہ قرار دے سکتے ہیں کیونکہ ترجمہ کئی لحاظ سے تفسیر ہی کی ایک قسم ہے۔ شاہ صاحب خود اس رسالہ کی ابتداء میں لکھتے ہیں:

’’یقول الفقیر الی رحمۃ اللہ الکریم ولی اللہ بن عبدالرحیم ایں رسالہ ایست در قواعد ترجمہ مسماۃ بالمقدمۃ فی قوانین الترجمۃ کہ درحقیقت تسوید ترجمۃ قرآن قلم بہ ضبط آں جاری شدہ‘‘[5]

’’اللہ کرم والے کی رحمت کا فقیر ولی اللہ بن عبدالرحیم کہتا ہے کہ یہ رسالہ جس کا نام ترجمہ کے قوانین رکھا ہے ،قواعدِ ترجمہ پر مشتمل ہے ،کیونکہ درحقیقت قرآن کا ترجمہ اس وقت ضبطِ تحریر میں جاری ہے۔‘‘

فتح الرحمن بترجمۃ القرآن (فارسی):

محققین کے مطابق برصغیر کا پہلا فارسی ترجمہ باب الاسلام سندھ میں ہوااور مخدوم لطف اللہ بن مخدوم نعمت اللہ المعروف مخدوم نوح اللہ(م 998ھ/ 1589ء) ساکن ہالہ (حیدر آباد) نے یہ شرف حاصل کیا۔[6]درحقیقت اگر تفصیل سے اس کا تجزیہ کیا جائے تو اس حوالے سے دو نکات سامنے آتے ہیں؛

اولاً:یہ کہ مذکورہ بالا ترجمہ پردہ خفا میں رہا۔

ثانیاً: تحقیقات کی دنیا میں مخطوط کی حد تک اسے پہلا ترجمہ کہا جا سکتا ہے۔

تاہم حالات و واقعات اور عمیق اثرات کے لحاظ سے دیکھا جائے تو شاہ صاحب کے ترجمے پر تقریباً پونے تین سو سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ اس اثنا میں بے شمار اہل علم نے قرآن کے ترجمے کیے۔ علاقائی زبانوں میں بھی اس کے ترجمے ہوئے لیکن جو قبولیت عامہ اور سند شاہ صاحب کے ترجمہ کو حاصل ہوئی وہ کسی اور کے نصیب میں نہیں تھی۔ مولانا اسحاق بھٹیؒ لکھتے ہیں:

’’اس (ترجمہ) کی اولیت کا سہرا شاہ ولی اللہ کے سر ہی بندھے گا۔ وہ پہلے عالم ہیں، جن کے ترجمے نے بے پناہ قبولیت حاصل کی اور لوگوں کی وسیع تعداد نے اس سے استفادہ کیا۔ اب بھی حوالے کے لیے اس ترجمہ کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شاہ صاحب ان تمام اوصاف سے متصف اور ان تمام خصوصیات سے (بدرجہ اتم) مالا مال تھے جن سے قرآن کے مترجم کو ہونا چاہیے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ آج تک کسی مترجم میں وہ اوصاف جمع نہیں ہوئے جو اللہ تعالیٰ نے شاہ صاحب میں جمع فرما دیے تھے۔‘‘[7]

اس دور کے حالات کو دیکھا جائے تو شاہ صاحب کا کارنامہ محض یہ نہیں کہ قرآن کریم کا ترجمہ کیا بلکہ اصل کارنامہ تو یہ تھا کہ قرآن فہمی کے حوالہ سے عرصے سے چلے آتے جمود کو توڑااور لوگوں کی غلط فہمی کو دور کرکے انھیں براہ راست قرآن سے جوڑا۔ اگر آپ اس فکر کا رد نہ کرتے کہ قرآن کو کوئی بہت بڑا عالم ہی سمجھ سکتا ہے، تو شاید آپ کے ترجمہ قرآن کو اتنی قبولیت حاصل نہ ہوپاتی۔ دوسرے یہ کہ شرعی و لغوی علوم سے گہری واقفیت کی بنا پر آپ کے ترجمہ قرآن کی ایک اہم خصوصیت علمی پختگی اور رسوخ تھا۔

الفوز الکبیر فی أصول التفسیر (فارسی):

یہ حقیقت ہے کہ شاہ صاحب کی اس منفرد نوعیت کی تصنیف سے پہلے برصغیر میں اس موضوع پر کوئی مفصل کتاب نہیں ملتی تھی۔ عام طور پر مفسرین اپنی تفاسیر کے مقدمات میں چند صفحات لکھ دیتے تھے۔ مولانا ابو الحسن علی ندوی، شاہ صاحب کی اس کتاب انھیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’دعوت الی القرآن اور خواص و اہل علم کے حلقہ میں تدبر قرآن کی صلاحیت پیدا کرنے اور اس کے ذریعہ سے امت کی اصلاح کا جذبہ پیدا کرنے کے سلسلہ میں شاہ صاحب کی ایک تجدیدی و انقلابی خدمت اور کارنامہ ان کی تصنیف ’’الفوزالکبیر‘‘ ہے جو اپنے موضوع پر (ہمارے علم میں پورے اسلامی کتب خانہ میں) منفرد کتاب ہے۔‘‘[8]

الفوز لکبیرفی اصول التفسیر اگرچہ مختصر کتاب ہےتاہم ساری کی ساری بہت اہم نکات و کلیات پر مشتمل ہے اور جس شخص کو فہم قرآن کی مشکلات کا عملی تجربہ ہے اس کے لیے یہ ایک قیمتی اور نادرخزانہ ہے۔ سینکڑوں کتب کے مطالعہ ماحصل اس ایک چھوٹے سے کتابچہ میں مضمر ہے۔

فتح الخبیر بما لا بد من حفظہ فی علم التفسیر:

یہ شاہ ولی اللہ ؒ کی علم غریب القرآن پر بہترین تصنیف ہے جس میں انتہائی اختصار کے ساتھ سورتوں کی ترتیب سے قرآن مجید کے مشکل الفاظ کی تشریح کی گئی ہے۔ یہ مختصر کتابچہ در اصل الفوز الکبیر کا ہی ایک حصہ، تکمہ اور تتمہ ہے اور بیشتر طباعتوں میں اس کے ساتھ ہی مطبوع ہے البتہ موضوع کے الگ ہونے کی وجہ سے نام الگ دے دیا گیاہے۔

اس کے مقدمہ میں مصنف خود فرماتے ہیں کہ میں نے حبر الامہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کی وہ تفسیر جو بہترین طریق سے ہے اور اسباب نزول میں سے محدثین بخاری، ترمذی اور حاکم وغیرہم کی نقل کردہ بہترین چیز جس کی ضرورت کسی مفسر کو

پڑ سکتی ہے ، یہاں بیان کی ہے۔ [9]فتح الخبیر دراصل قرآنِ مجید کے غریب الفاظ پر لکھی گئی برصغیر کی پہلی مستقل اور منضبط تالیف ہے ۔

۲۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (م ۱۸۲۳ء):

آپ شاہ ولی اللہ ؒ کے سب سے بڑے فرزند ہیں اور علماء نے آپ کو ’’سراج الہند‘‘ اور بعض نے ’’حجۃ اللہ‘‘ کا لقب دیا۔[10]27ستمبر 1746ء دہلی میں پیدا ہوئے۔60سال درس حدیث دیا۔ شوال 1238ھ، 17جولائی 1823ء کو خالق حقیقی سے جا ملے۔[11] 79سال عمر پائی، جنازے میں 25رمضان المبارک 1159ء میں لوگوں کا اس قدر ہجوم تھا کہ 55مرتبہ جنازہ پڑھا گیا۔انہوں نے اس میدان میں درج ذیل اسلوب پر کام کیا:

درس قرآن:

اس درس سے دارالسلطنت دہلی میں قرآن مجید کا ذوق عام ہوا، اصلاح عقائد کی ایک طاقتور رو چلی اور ترجمہ قرآن و درس قرآن کا وہ مبارک سلسلہ شروع ہوا جو اس وقت تک برصغیر میں جاری ہے۔[12] آج بھی برصغیر پاک وہند میں مختلف مقامات پر فہم قرآن کلاسز کا جو اہتمام نظر آتا ہے ، اس کے جاری رہنے میں بھی شاہ صاحب کے اسی سلسلہ دروس کے اثرات پائے جاتے ہیں۔

تفسیر فتح العزیز(فارسی):

جسے ’’تفسیر عزیزی‘‘اور ’’بستان التفاسیر‘‘ کا نام بھی دیا گیا ہے۔ یہ شاہ صاحب کی باقاعدہ املا کی ہوئی مستقل تصنیف ہے۔ کچھ مقامات بوجوہ مکمل نہ ہوسکے اس لیے بعض لوگوں نے اس کا تکملہ بھی لکھا۔ [13]تفسیر عزیزی المعروف مواعظ عزیزمطبع انصاری دہلی میں طبع ہوئی ۔یہ شاہ صاحب کے باقاعدہ املا شدہ تفسیری دروس کا مجموعہ ہے، جس کو بعد ازاں طبع کرایا گیا۔[14]

۳- شاہ عبدالقادر محدث دہلوی (م ۱۸۱۵ء):

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے عمر کی ترتیب کے لحاظ سے تیسرے فرزند گرامی شاہ عبدالقادرتھے۔ انہوں نے اپنے برادر اکبر یعنی عبدالعزیز سے کسب فیض کیا اور اس عہد کے علوم متداولہ کی تحصیل انہی سے کی۔ [15]

اصولِ تفسیر اور تفسیرِ قرآن کے حوالے سے ان کی خدمات درج ذیل ہیں:

اردو ترجمہ قرآن:

آپ پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی عنایت یہ تھی کہ آپ کو اردو زبان میں قرآن مجید کے ترجمہ و تفسیر کی توفیق ملی۔ شاہ صاحب کا یہ ترجمہ اردو زبان کا پہلا باقاعدہ مکمل اور متداول ترجمہ ہے۔[16]

تفسیر موضح قرآن :

ترجمہ پر شاہ صاحب نے حواشی قلم بند کیےجنھیں ’’موضح قرآن‘‘ کا نام دیا۔[17] مولانا اخلاق حسین قاسمی دہلوی ؒ اس کے بارے لکھتے ہیں:

’’ شاہ صاحب کا ترجمہ علمی، ادبی اور قبول عام کے لحاظ سے اردو ترجموں میں کیا درجہ رکھتا ہے؟ اس کے لیے اتنی بات کافی ہے کہ اہل علم اور ارباب طریقت دونوں اس ترجمے کو ”الہامی قرار دیتے ہیں۔‘‘[18]

اسی حوالے سے مولانا ابو الحسن علی ندوی لکھتے ہیں:

’’اس کی خصوصیات میں سے یہ ہے کہ انہوں نے زبان کے مقابلے میں ایسی زبان اختیار کی ہے، جس میں عموم و خصوص اور اطلاق و تقیید اور محل استعمال کا پورا لحاظ ہے، یہ اللہ کی ایسی عنایت ہے جس کے لیے وہ چند ہی لوگوں کو مخصوص کرتا ہے۔‘‘[19]

عام طور پر ’’موضح القرآن‘‘(لفظِ قرآن پر الف لام کے ساتھ) معروف ہے لیکن اصل نام ’’موضح قرآن‘‘ ہے۔ [20]

۴۔ شاہ رفیع الدین دہلوی (م ۱۸۱۸ء ):

شاہ ولی اللہ کے دوسرے فرزند گرامی قدر تھے۔ 1162ھ/ 1749ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔[21]

اپنے برادر اکبر شاہ عبدالعزیز سے تحصیل علم کی منازل طے کیں۔[22] اور 6شوال 1233ھ / 9اگست 1818ء کو وفات پائی۔[23]دیگر منفرد قسم کی تصنیفات کے علاوہ ان کا بہت بڑا کارنامہ ترجمہ قرآن مجید ہے۔ بعض محققین کے نزدیک یہ پہلا ترجمہ ہے اور ان کے برادر شاہ عبدالقادر دہلوی کا ترجمہ ان کے بعد کا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پہلا ترجمہ شاہ عبدالقادر کا ہے۔ [24]

۵۔ نواب صدیق حسن خان قنوجی (م ۱۸۳۲ء ):

قرآن کے مفسر، حدیث کے شارح، علوم عربیہ کے ماہر اور کثیر کتب کے مصنف سید صدیق حسن خان، نواب صاحب کے لقب سے زیادہ معروف ہیں۔ 13نومبر 1832ء کو پیدا ہوئے اور 59سال عمر کی بہاریں اور تغیرات احوال دیکھ کر 29جمادی الاخریٰ1307ھ/ 17فروری 1890ء کو راہی ملکِ عدم ہوئے۔[25]کثرت تصانیف اور تنوع موضوعات میں ان کو ’’برصغیر کا سیوطی‘‘ کہا جا تا ہے۔ تفسیر کے باب میں بھی ان کا دائرہ تصنیف بہت قابل قدر ہے، تفسیر و اصول تفسیر پر ان کی چند اہم تصانیف یہ ہیں:

فتح البیان فی مقاصد القرآن :

عربی زبان میں چار جلدوں میں یہ تفسیر نواب صدیق صاحب نے اپنی زندگی میں شائع کرائی۔ اس کے بعد عرب دنیا سے بھی اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ [26]

ترجمان القرآن بلطائف البیان:

نواب صاحب کی یہ تفسیر اردو زبان میں ہے۔ عمر کے آخری دور میں لکھنا شروع کی۔ پہلے آخری دو پاروں کی تفسیر ایک جلد میں مکمل کی، اس کے بعد ابتداء سے آخر سورہ الکہف تک مفصل تفسیر پر قلم اٹھایا۔ اس کے بعد ضعف و اضمحلال کی بنا پر اپنے شاگرد رشید سید ذوالفقار احمد سے تکمیل کا کہا۔ انہوں نے پہلے تو عذر پیش کئے لیکن نواب صاحب کی وفات کے بعد اس اہم منصوبہ کی تکمیل کرتے ہوئے انہوں نے آٹھ جلدیں سورہ مریم تا الناس حوالہ قرطاس کیں۔ [27]

اس طرح یہ عظیم الشان تفسیر بالمأثور 15جلدوں میں تکمیل کو پہنچی اور شائع ہوئی لیکن اب نادر کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔اس کی بھی مکمل پندرہ جلدیں سابق الذکر ضلع اوکاڑہ کے قدیم تعلیمی، تبلیغی و تحقیقی مرکز ’’دارالحدیث الجامعۃ الکمالیۃ راجووال‘‘کی لائبریری میں محفوظ ہیں۔ نیز اس کا ایک ایڈیشن ۱۶ جلدوں میں بھی مطبوع ہے۔

نیل المرام من تفسیر آیات الاحکام:

نواب صدیق حسن خان کی یہ فقہی طرزِ تفسیر پر مشتمل تصنیف عربی زبان میں ہے اور یہ ان آیات کے مجموعے پر مشتمل ہے جن کی پہچان اور تفسیر ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو قرآن کے احکام شرعیہ کی معرفت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس کتاب میں تقریباً دوسو ایسی آیات کو جمع کیا گیا ہے جو فقہی احکام پر مشتمل ہیں۔ اس کتاب کو حافظ ابوبکر ظفر صاحب نےاردو قالب میں ڈھالا ہے جسے مکتبہ محمدیہ لاہور نے شائع کیا ہے۔ نواب صدیق الحسن خاں کی یہ تصنیف آیاتِ احکام کی منہج محدثین پر زبردست تفسیر ہے ۔

اکسیر فی أصول التفسیر:

یہ کتاب فارسی میں ہے۔ مطبوع ہے۔ اس میں اصول تفسیر پر خاطر خواہ مواد نہیں ہے، البتہ تاریخ تفسیر و مفسرین پر غالباً برصغیر کی سب سے پہلی کتاب ہے۔ مطبع نظامی کانپور سے 1290ھ میں شائع ہوئی۔

۶۔ سید امیر علی ملیح آبادی (م ۱۹۱۹ء ):

سید نذیر حسین محدث دہلوی کے تلامذہ میں سے ہیں۔دارالعلوم العلما ء لکھنؤ میں شیخ الحدیث کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیتے رہے۔ ان کی تفسیر ’’مواہب الرحمن‘‘اپنی تحقیق و تفصیل کے لحاظ سے منفرد حیثیت کی حامل ہے۔ [28] اس عظیم تفسیر کے مقدمہ میں انہوں نے اصول تفسیر اور جمع و تدوین قرآن کی اہم مباحث کو تفصیلاً موضوع بحث بنایا ہے اور تفسیر بالرائے کو حرام قرار دیا ہے۔[29]

۷۔سید احمد حسن محدث دہلوی (م۱۹۲۰ء) :

ڈپٹی سید احمد حسن محدث دہلوی کا شمار بیسویں صدی عیسوی کے بلند پایہ علماء کی جماعت میں ہوتا ہے۔ آپ 1842 ء میں

دہلی میں پیدا ہوئے۔ آپ بیک وقت مفسر،محدث، مصنف اور طبیب تھے۔میاں سید نذیر حسین محدث دہلوی سے تفسیر و حدیث کی

کتب پڑھیں اور سند حاصل کی۔[30]

قرآن مجید سے متعلق ان کی مساعی جمیلہ مختصراً درج ذیل ہیں:

احسن الفوائد:

ڈپٹی کلکٹری کی ملازمت کے دوران موصوف نے تین مترجمین کے تراجم پر مشتمل قرآن مجید کا ایک مجموعی ترجمہ کیا۔ پہلا شاہ ولی اللہ کا فارسی ترجمہ، دوسرا شاہ رفیع الدین کا تحت اللفظ اردو ترجمہ اور تیسرا شاہ عبدالقادر کا بامحاورہ اردو ترجمہ۔ اس پر احسن الفوائد کے نام سے اردو میں حواشی تحریر فرمائے۔ یہ قرآن مجید ڈپٹی صاحب نے خود اپنے خرچ سے طبع کرایا۔[31]

احسن التفاسیر:

سید احمد حسن کی یہ ایک بیش قیمت اور گراں قدر تصنیف ہے ۔تفسیر بالماثور کے منہج کی بہترین نمائندگی کرتی ہے۔یہ سات جلدوں پر مشتمل قرآن مجید کی تفسیر ہے۔اس میں مصنف نے احادیث صحیحہ حسنہ اور اقوال صحابہ ودیگر سلف سے قرآن مجید کی تفسیر کی ہے اور صحت روایت کا التزام بھی کیا ہے ۔معتبر تفاسیر مثلا جامع البیان المعروف تفسیر ابن جریر، تفسیر ابن کثیر،معالم التفسیر، تفسیرِ خازن، تفسیر الدرالمنثور، اور فتح البیان کے اہم مطالب کا انتخاب کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ صحیح روایات کے ذریعے آیات کے شان نزول کو بھی بیان کیا ہے۔ یہ کتاب المکتبۃ السلفیہ ، شیش محل روڈ لاہور کی طرف سے طبع شدہ ہے۔ بلال گروپ آف انڈسٹریز نے اس تفسیر کو پانچ جلدوں میں بھی شائع کیا ہے۔

مقدمہ تفسیر احسن التفاسیر:

اگرچہ یہ تصنیف تفسیر احسن التفاسیر کا مقدمہ ہے تاہم یہ صرف اس تفسیر کے مشمولات کا مقدمہ نہیں بلکہ اس میں تفسیر بالمأثور کے اصول، فرقہ نیچریہ و فرقِ ضالّہ کا رد اور علوم القرآن کی دیگر مباحث پر سیر حاصل گفتگو کی گئی اور اس میں اصول تفسیر کے بعض عناوین پر قیمتی اور قیم شذرات موجود ہیں۔

تفسیر آیات الاحکام:

مصنف کی ایک اور بہترین تصنیف تفسیر آیات الاحکام ہے مگر یہ نامکمل تفسیر ہے، جو سورہ بقرہ تک پہنچ سکی ہے۔[32]اس کتاب میں مصنف نے ان آیات کی تفسیر کی ہے جن کا تعلق فقہی احکام اور زندگی میں پیش آمدہ عملی مسائل سے ہے ۔جن کا بیان عموما حلت و حرمت کی وضاحت پر مشتمل ہوتا ہے۔

(ب) مدرسہ تفسیر بالنظم کی نمائندہ شخصیات:

۱۔ عبدالحمید فراہی (م ۱۹۳۰ء ):

ان کا لقب حمید الدین اور کنیت ابو احمد اور نام عبدالحمید ہے۔ یو پی کے معروف ضلع اعظم گڑھ کے ایک قصبے ’پھریہا ‘میں

1280ھ کو پیدا ہوئے۔ علامہ شبلی نعمانی (م ۱۹۱۴ء) کے ماموں زاد تھے۔ انہی سے بنیادی علوم حاصل کیے۔ 16سال کی عمر میں فارسی شعر و شاعری کرنے لگے تھے۔ پھر نحو، لغت، منطق، فلسفہ و دیگر دینیات کی تعلیم اپنے ماموں زاد بھائی سے حاصل کی۔ علامہ شبلی نعمانی ؒ ان سے صرف چھ سال بڑے تھے۔ اس کے بعد علامہ ابو الحسنات عبدالحئی لکھنوی (م 1304ھ) سے استفادہ کیا۔ مزید تحصیل علم کے لیے لاہور میں عربی ادب کے امام و شاعر فیض الحسن سہارنپوری (م 1304ھ شارح حماسہ و معلقات) کے سامنے اورنیٹل کالج میں زانوئے تلمذ طے کیے۔ جامعہ علی گڑھ سے انگلش اور الٰہ آباد یونیورسٹی سے فلسفہ سیکھا۔

تعلیم سے فراغت کے بعد مدرسۃ الاسلام کراچی میں بطور پروفیسر عربی تعینات رہے۔ اس کے بعد علی گڑھ یونیورسٹی میں تعینات ہوئے اور اس دوران جرمن مستشرق جوزف ہورووِتس (J.Horovitsم 1931ء) سے عبرانی زبان سیکھی۔ جامعہ عثمانیہ حیدر آباد میں بھی کچھ دیر ذمہ داریاں ادا کیں۔ لیکن حالات سے مطمئن نہ ہوئے اور وطن واپس آکر مدرسۃ الاصلاح سرائے میر کے ہولیے۔ اس کا نصاب جدید طور پر استوار کیا اور مدرسہ کے امور کی نگرانی کرتے رہے۔ 1341ھ / 1930ء میں وفات ہوئی۔ [33]

اصول تفسیر و فہم قرآن پر مولانا فراہی کی تالیفات درج ذیل ہیں:

دلائل النظام:

اس میں انہوں نے نظام القرآن کی ضرورت و اہمیت پر دلائل پیش کئے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہر سورت کا دوسری سورت اور ماقبل و مابعد کی سورتوں کےساتھ اس کے ربط و تعلق کو بیان کیا ہے۔ مولانا نے دراصل اس کتاب میں اس چیز کو ثابت کیا ہے کہ قرآن کریم مکمل طور پر ایک موضوعی ترتیب اور وحدت میں پروئی کتاب ہےجس میں نہ صرف سورتیں بلکہ سورتوں کی آیات بھی خاص نظم میں موجود ہیں اورقرآنی امثلہ کے ذریعے اس نظم کو واضح کیا ۔

أسالیب القرآن:

مولانا فراہی نے اس کتاب میں قرآن مجید کے اعجاز بلاغت پر گفتگو کی ہے اور کلام الہی کے بلیغانہ اسالیب پر روشنی ڈالی ہے ۔ اس کے ساتھ مختلف اسالیب کی دلالتوں اور ان کے استعمالات پر مفصل گفتگو کی ہے۔ہر زبان کی کچھ اپنی خصوصیات ہوتی ہیں ، وہ خصوصیات یا اسالیب جن کا تعلق صرف عربی زبان سے ہے اور وہ قرآن میں ہیں یا زبان و بیان کے ایسے اسالیب جو صرف قرآن میں ملتے ہیں ۔

مولانا نے کلام عرب اور قرآنی امثلہ سے انھیں واضح کیا ہے تاکہ ان اسالیب بیان کو سمجھا جاسکے اور اور اس کی روشنی میں فہم قرآن میں مدد لی جاسکے بلکہ ان کے بقول انھیں نہ سمجھنے کی وجہ سے فہم قرآن میں جو مشکلات پیش آتی ہیں انھیں دور کیا جاسکے۔

التکمیل فی أصول التأویل:

یہ اصول تفسیر کی تفصیلی مباحث پر مشتمل ہے۔ بنیادی طور پر درج بالا تینوں رسائل مولانا فراہی کی فکر ’’نظام القرآن‘‘کا نچوڑ ہیں۔تینوں کتب میں کثرت سے بیاضات ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ ان کو حتمی شکل دینے کے لیے ان کی زندگی نے وفا نہیں کی۔

یہ تینوں دائرہ حمیدیہ سے ’’رسائل الامام الفراہی فی علوم القرآن‘‘کے نام سے الگ الگ اور پھر یکجا مطبوع ہوئے۔ [34]

تفسیر نظام القرآن و تأویل الفرقان بالفرقان:

مولانا فراہی کے تصور نظم کو عملی شکل میں کو سمجھنے کے لیے سورہ البقرہ کی تفسیر ’’نظام القرآن و تأویل الفرقان بالفرق‘‘ بنیادی حیثیت کی حامل ہے۔[35]اس کے علاوہ سورہ الذاریات، التحریم، القیامۃ، المرسلات، العبس، الشمس، التین، العصر، الفیل،الکوثر، الکافرون، اللھب اور الاخلاص کی تفسیر الگ اجزاء میں شائع ہوتی رہیں ۔سابقہ پانچ کے علاوہ قرآنیات سے متعلقہ ان کی دیگر تالیفات کے نام یہ ہیں:

(۶)إمعان فی أقسام القرآن(۷) أسباب النزول(۸)اوصاف القرآن(۹) فقہ القرآن(۱۰)حجج القرآن(۱۱) کتاب الرسوخ فی معرفۃ الناسخ والمنسوخ(۱۲)مفردات القرآن

۲۔ مولانا امین احسن اصلاحی (م۱۹۹۷ء) [36]:

مولانا امین احسن ضلع اعظم گڑھ ۔یوپی میں 1904ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد دینی و عصری تعلیم کے لیے انہیں مدرسۃ الاصلاح سرائے میر میں داخل کروا دیا گیا۔ اس مدرسے سے 1922ء میں سند فراغت حاصل کی اور اس کی طرح ’’اصلاحی‘‘کی نسبت ان کے نام کا لاحقہ بن گئی۔ اس ادارہ میں مولانا عبدالرحمن نگرامی نے مولانا کی علمی، ادبی اور تقریری صلاحیتوں کو پروان چڑھایا۔ 1925سے 1930ء تک ’’نظام القرآن‘‘کے مؤلف اپنے شیخ خاص مولانا عبدالحمید فراہی سے قرآن سیکھنے لگے اور پانچ سال کامل انہماک کے ساتھ اپنی ساری صلاحیتیں تدبر فی القرآن علی منہاج الفراہی صرف کیں۔ انھوں نے بہت عرق ریزی سے اپنے استاذِ گرامی کے اس نظریہ کو سمجھا۔ نیز نظام القرآن اور ادب جاہلی پر بھی خصوصی توجہ دی۔ [37]

مدرسۃ الاصلاح اور مولانا فراہی سے کسب فیض کے بعد شارح ترمذی مولانا عبدالرحمن مبارکپوری سے رجوع کیا اور ان سے سند حدیث لی۔[38]1972ء میں مولانا مالی مشکلات کی بنا پر لاہور چھوڑ کر شیخوپورہ کے نواح میں ایک گاؤں رحمان آباد میں منتقل ہوگئے، جہاں ان کی اہلیہ کی زمین تھی، یہاں تفسیر کے کام میں یکسو ہو کر مصروف ہوئے، تحریر میں تسلسل اور تیزی آئی، 1980ء میں نظم القرآن کی بنیاد پر ان کی معروف تفسیر ’’تدبرِ قرآن‘‘ تقریباً تیئس سالہ محنت شاقہ کے بعد نو جلدوں میں مکمل ہوئی۔[39]مولانا امین اصلاحی 15دسمبر 1997کی صبح اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ [40]

تفسیر و اصول تفسیر پر آپ کی تالیفات درج ذیل ہیں:

تدبر قرآن:

یقینا مولانا امین احسن اصلاحی اپنے پیش رَو استاذ مولانا حمید الدین فراہی کے نظریہ نظام القرآن کے حقیقی امین ٹھہرے۔ اور ان کے نظرئیے کی ترویج کے لیے گراں قدر کام کیا۔آپ کی تفسیر ’’تدبر قرآن‘‘ہی حقیقت میں وہ تفسیر ہے جس نے نظریہ نظام القرآن کے احیاء و ترویج میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس تفسیر کے مقدمہ میں بھی مولانا نے اصول تفسیر و نظریہ نظم پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔یہ تفسیر انشاء و تحریر کا اعلی نمونہ ہے اور اس میں خاص ادبی انفرادیت پائی جاتی ہے۔ اسلوب و بیان کی اسی خوبی اور ادب و انشاء کی چاشنی اس تفسیر کا خاصا ہے ۔جس کی وجہ سے اس تفسیر میں پائی جانے والی خامیوں اور منہجی کمزوریوں پر بہت کم لوگ اطلاع پاسکے۔ بعض اہل علم نے اس تفسیر میں مذکور علمی انحرافات پر تحقیقی نقد کیا ہے ۔[41]

مبادی تدبر قرآن:

مبادی تدبر قرآن مولانا اصلاحی کے مختلف مقالات مجموعہ ہے۔ پہلے یہ مقالات انفرادی طور پر شائع ہوئے بعد ترتیب کے

ساتھ کتابی شکل میں شائع کیا گیا۔ اس کتاب میں شرح و بسط کے ساتھ مولانا نے اپنے نظریہ نظام القرآن پر مبنی اصول تفسیر پیش کئے

ہیں بلکہ اگر بنظرِ غائر دیکھا جائے تو یہ تفسیر تدبر قرآن کا مقدمہ ہی ہے۔

اصول فہم قرآن:

جب مولانا نے تصنیف میں دقت محسوس کرنا شروع کی تو اس وقت انھوں نے یہ علمی دروس اور لیکچرز دیے۔ ان لیکچرز کو

ریکارڈ کرلیا گیا اور بعد میں احاطہ تحریر میں لایا گیا۔ اسے تحریر کرنے اور کتابی شکل میں لانے کاکام عبداللہ غلام احمد نے سرانجام دیا۔ چونکہ اسے لیکچرز سے کتابی شکل میں لایا گیا ہے تو اس میں الفاظ و کلمات میں مناسب تغیر و تبدل اور معمولی حکّ و اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ یہ کام بھی ادارہ تدبر قرآن کے رفیق عبدللہ غلام احمد نے کیا۔ مولانا اصلاحی کے دیکھنے کے بعد ادارہ تدبر قرآن و حدیث لاہور کی طرف سے ۱۹۹۹ء میں شائع کیا گیا۔ یہ کتابچہ چھوٹی تختی پر ۶۲ صفحات پر مشتمل ہے۔

(ج)تفسیر بالرائے المحمود کی نمائندہ شخصیات:

۱۔ مولانا ابو الکلام آزاد (م ۱۹۵۸ء):

مدرسہ تفسیر بالرائے محمود کے حوالہ سے مولانا ابو الکلام آزاد ؒ کو بر صغیر کی نمائندہ شخصیت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ تفسیر اپنے مندرجات اور مباحث ، نیز اسلوب و بیانات میں جدتِ فکر پر مشتمل ہے جس پر کلام معروف ہے تاہم ترجمان القرآن اس مدرسہ کی نمائندہ تفسیر شمار کی جاتی ہے۔ [42]

۲۔ سید ابوالاعلی مودودی( م ۱۹۷۹ء) :

مولانا مودودی بانی جماعت اسلامی کی تفسیر تفہیم القرآن اردو تفسیری ادب میں بلاشبہ ایک نمایاں اور ممتاز مقام کی حامل ہے۔ یہ تفسیر اردوں خواں طبقے بالخصوص تحریکی حلقوں میں مقبول و متداول ہے۔ مولانا اپنی تفسیر لکھنے کا آغاز ۱۹۴۲ ء میں کیا اور یہ سلسلہ تفسیر ۱۹۷۲ ءکو پایہ تکمیل تک پہنچا۔ علمی حلقوں میں اس تفسیر کے مداحین بھی ہیں اور ناقدین بھی۔ تاہم یہ طے ہے کہ تفہیم القرآن برصغیر میں تفسیر بالرائے محمود کی نمائندہ ہے۔ اس کی خصوصیات و امتیازات میں خاص طور پر یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ یہ دعوتی و تحریکی اسلوب پر لکھی گئی ہے اور مختلف نظام ہائے زندگی کے بارے بہترین تصریحات پر مشتمل ہے۔

(د)تفسیر بالرائے المذموم کی نمائندہ شخصیات:

۱۔ سرسید احمد خان (م ۱۸۹۸ء) :

5ذوالحجہ 1232ھ / 17اکتوبر 1817ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ پہلے قرآن مجید پڑھا۔ پھر اس دور کی درسی کتابیں مثلاً کریما، خالق باری، آمد نامہ، بوستاں وغیرہ پڑھی۔ عربی میں شرح ملا، شرح تہذیب، میبذی، مختصر معانی اور مطول کا کچھ حصہ پڑھا۔

1846ء تا 1855ء میں،جب وہ دہلی میں میں منصفی پر مامور تھے تحصیل علم میں زیادہ ترقی کی۔ [43]35سال مختلف عہدوں پر، مختلف مقامات پر ملازمت کی۔ 1876ء کے آخر میں پنشن لے کر علی گڑھ آئے اور اپنی زندگی کے باقی بائیس سال اپنے ارادوں کی تکمیل میں یہیں گزارے۔ [44] مختلف تعلیمی و سیاسی خدمات سر انجام دینے کے بعد5ذوالقعدہ 1315ھ / 27مارچ 1898ء کو وفات پاگئے اور مدرسۃ العلوم علی گڑھ کی مسجد کے احاطے میں دفن ہوئے۔[45]

تفسیر و اصول پر تصنیفات:

سرسیدؒ کی تصانیف اور ان کے موضوعات کا دائرہ کار بہت وسیع ہے ۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ تاریخی اور دینی موضوعات سے انہیں خصوصی طور پر دل چسپی تھی۔ سرسید جدید اردو نثر کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ اور ان کا رسالہ ”تہذیب الاخلاق“ اپنے عہد کا ایک تاریخ ساز رسالہ تھا۔ مولانا ابو الکلام نے 20فروری 1949ء کو علی گڑھ یونیورسٹی کے جلسہ اسناد میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا:

’’اغلب خیال یہ ہے کہ عوام کے ذہنی رجحانات پر جتنے ہمہ گیر اثرات تہذیب الاخلاق نے چھوڑے ہیں، ہندوستان (برصغیر پاک و ہند) کے کسی اور رسالے نے نہیں چھوڑے، اس رسالے کے اجرا سے موجودہ اردو ادب کی تاریخ کا آغاز ہوتا ہے۔ اردو نے اس رسالے کی بدولت اتنا فروغ پایا کہ دقیق سے دقیق مطالب کا اظہار اس زبان میں ہونے لگا۔ اس دور کا کوئی مسلمان ادیب ایسا نہ تھا، جو تہذیب الاخلاق کے حلقہ ادب سے متأثر نہ ہوا ہو۔ دور جدید کے بلند معیار مصنفین نے اسی خوانِ نعمت سے لقمے چنے اور اسی حلقہ کے اثرو نفوذ سے نقد و بصر کی نئی قدریں اور فکر و نظر کے نئے زاوئیے متعین ہوئے۔‘‘[46]

سرسیدنے اپنے تفسیری خیالات کے لیے اسی رسالہ ’’ تہذیب الاخلاق‘‘ کو ذریعہ بنایا۔ [47]اس پر مستزاد یہ کہ سرسید علی گڑھ کالج اور محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کی روح رواں تھے۔ ان اسباب کی بنا پر سرسید کے تفسیری نظریات نے ردّو قبول کے دونوں حلقوں میں وسیع اثرات مرتب کیے۔تفسیر و اصول تفسیر پر ان کی یہ دو کتابیں قابل ذکر ہیں:

تفسیر القرآن:

سر سید کی اس تفسیر کا پورا نام تفسیر القرآن وھو الھدی و الفرقان ہے۔ انھوں نے فضل الدین ککے زئی کی فرمائش پر یہ تفسیر مرتب کی مگر اپنی یہ تفسیر زندگی کی بے وفائی کی وجہ سے مکمل نہ کرسکے۔ ان کی یہ تفسیر پہلے پندرہ پاروں کی تفسیر پر مشتمل ہے۔ اس تفسیر میں انھوں نے اپنے عقائد و تصورات اور نظریات کو بیان کیا ہے۔ ان کے بقول یہ تفسیر عوام الناس کے لیے نہیں لکھی گئی بلکہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو حشر و نشر، جزا و سزا، جنت جہنم وغیرہ پر یقین نہیں رکھتے یا ان کا انکار کرتے ہیں یا ان کے بارہ میں متردد یا متزلزل ہیں۔ بلکہ ان کا کہنا کہ عوام الناس میں اس تفسیر کا شائع ہونا اچھا نہیں ہے۔ [48] رفاہ عام سٹیم پریس لاہور سے ۶ مجلدات میں چھپی ہے۔ ساتویں جلد ان کی وفات کے بعد بھی چھپی جس میں سورہ طہ تک کی تفسیر دستیاب ہوئی۔

التحریر فی اصول التفسیر:

یہ باقاعدہ طور پر الگ سے کتاب نہیں بلکہ سر سید احمد نے اپنی تفسیر تفسیر القرآن وھو الھدی و الفرقان کے شروع میں تقریبا بیس صفحات پر مشتمل تفسیر کے کچھ اصول ذکر کیے ہیں، یہی تحریر فی اصول التفسیر ہے۔اس رسالہ میں انہوں نے اپنی طرز کے مطابق ’’جدید علم الکلام‘‘کی بنیاد پر اصول تفسیر بالکل نئے انداز میں پیش کیے۔یہ تقریباً پندرہ اصول ہیں جن میں سے بعض کلیتا درست اور بعض جزوی طور پر اور بعض انتہائی غلط اور خطرناک ہیں جن پر اہل علم نے ان کی خوب گرفت کی ہے۔

۲۔غلام احمد پرویز (م ۱۹۸۵ء):

تفسیر بالرائے المذموم کی دوسری نمائندہ شخصیت غلام احمد پرویز ہیں۔ پرویز 9جولائی 1903ء کو موجودہ مشرقی پنجاب کے ضلع گورداسپور کے قصبہ بٹالہ میں پیدا ہوئے۔ان کی ابتدائی تعلیم و تربیت یہیں ہوئی تھی ۔[49]علومِ دینیہ سے خاصا شغف رکھتے تھے۔ان کا شمار برصغیر کے معروف منکرینِ حدیث میں ہوتا ہے۔زیادہ استفادہ اسلم جیراج پوری سے کیا جو برصغیر کے منکرین حدیث میں نمایاں ہیں۔ [50]ان کی 15اکتوبر 1985ء میں وفات ہوئی۔تفسیر و معارف قرآنی کے حوالے سے غلام احمد پرویز نے درج ذیل کتابوں میں خصوصی طور پر خامہ فرسائی کی ہے[51]:

معارف القرآن:

جلد اول:غلام احمد پرویز کی اس اولین تصنیف کا مرکز و محور ’’اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات‘‘ہیں۔ مصنف نے اللہ تعالیٰ کی صفاتِ جلیلہ اور اسمائے حسنیٰ کو قرآن کریم کی روشنی میں بیان کیا ہے۔ بعض صفات و اسماء پر تفصیلی بحث ہے اور بعض پر نہایت مختصر۔

جلددوم:اس میں غلام احمد پرویز نے نبوت و رسالت کی تفہیم کے لیے تمہیدی مباحث پیش کی ہیں۔ ارتقائے پیکر انسانی، سرکشیِ ابلیس، فطرتِ شیطانی، مسجود ملائکہ، مقام رسالت اور طوفان نوح وغیرہ پر ابحاث ہیں۔

جلدسوم:اس میں انبیاء قرآن کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ یہ ابراہیم سے عیسیٰ علیہم الصلاۃ والسلام تک انبیائے سابقین کی دعوت و رسالت اور اقوام و ملل ماضیہ کی عبرت آموز داستانِ عروج و زوال پر مشتمل ہے۔

جلدچہارم:یہ سلسلہ معارفِ پرویز کی آخری جلد ہے جس میں رسول امین کی سیرت طیبہ کو موضوع بحث بنایا گیاہے۔

ناموں کی تبدیلی اور نئے نظریات:

غلام احمد پرویز نے اس سلسلہ معارف القرآن سے تصنیفی زندگی کا آغاز کیا اور بھر پور مقبولیت حاصل کی۔ جب اچھی طرح قبولیت عامہ حاصل ہوئی تو انہوں نے ان کی فکر پر کی گئی نقد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سلسلہ معارف کی ان چار جلدوں میں بہت کچھ حکّ و اضافہ کیا۔اپنے سابقہ بہت سے افکار تک کوحذف کردیا اور اس سلسلہ کو بالکل نئے قالب میں ڈھالا اور بڑے پیمانے پر تغیرات زیر تحریر لائے، حتی کہ سلسلہ معارف کے ابتدائی نام تک بدل ڈالے اور اب سلسلہ معارف کی چار جلدیں درج ذیل سات کتابوں [52]کی شکل میں نئے روپ میں منظر عام پر آئیں۔ کتابوں کے نام بدلنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟اس حوالے سے ڈاکٹر محمد دین قاسمی لکھتے ہیں:

’’اس کی وجہ اس کے سوا کچھ اور محسوس نہیں ہوتی کہ ابتداء ًوہ جن خیالات و افکار کو عامۃ الناس کی ہمنوائی میں، اپنے ضمیر کے خلاف، محض مصلحتاً پیش کیا کرتے تھے، بعد میں اپنے ایک مستقل حلقہ قارئین کے فراہم ہو جانے پر اب وہ مصلحت باقی نہ رہی، لہٰذا انہیں حذف کر دیا گیا اور ساتھ ہی ان افکار و نظریات کو بھی ان اعادہ شدہ ایڈیشنوں میں سمو دیا گیا، جنہیں ابتداء ً وہ اپنے دماغ میں مکتوم و مخفی رکھے ہوئے تھے۔ اس طرح معارف القرآن کی چاروں جلدوں کے مواد کو جب نئی کتب کے سانچے میں ڈھالا گیا تو بڑے پیمانے پر تغیرات سامنے آئے حتی کہ اس سلسلہ کتب کے ابتدائی نام تک بدل ڈالے گئے۔‘‘[53]

من ویزداں :

یہ سلسلہ معارف کی جلد اول کا تبدیل شدہ ایڈیشن ہے جس میں اللہ تعالیٰ اور انسان کے متعلق غلام احمد پرویز کے ترمیم شدہ افکار ہیں۔ اس کتاب کا بنیادی موضوع اللہ کی ذات و صفات ہیں اور اس میں قرآن کی روشنی میں اللہ کی صفات جلیلہ اور اسمائے حسنی کو اپنی مخصوص فکر اور طریق پر بیان کیا ہے۔بعض صفات الہیہ پر مفصل گفتگو ہے اور بعض پر بالکل ہی مختصر کلام کی گئی ہے تاہم ان میں اکثرصفات کی تاویل کی گئی ہے اور اہلِ السنہ والجماعہ کے اجماعی نظریات سے انحراف پایا جاتا ہے۔

ابلیس و آدم :

یہ سلسلہ معارف القرآن کی جلد دوم کا ترمیم شدہ ایڈیشن ہے۔ تخلیق آدم، قصہ ابلیس و آدم، جنات، ملائکہ اور وحی و رسالت جیسے اہم اور بنیادی اسلامی عقائد کو اپنے افکار کا لبادہ پہنایا گیا۔ سرسید احمد خان کےعمومی نظریات وخیالات کی گہری چھاپ نمایاں ہے، بلکہ انہی کے خیالات کا چربہ ہے۔


جوئے نور :

نوح علیہ السلام سے شعیب علیہ السلام تک کے حالات و واقعات اور ان کی اقوام کی عبرت انگیز داستان ہے۔ معارف

القرآن جلد دوم و سوم میں ترمیم و تبدّل کر کے اسے’’ جُوئے نور‘‘ کا نام دے دیا گیا ہے۔

برق طور:

موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام، فرعونِ مصر اور بنی اسرائیل کے عروج و زوال کی داستان ہے۔ اس کتاب میں معارف القرآن

جلد سوم کا موادحکّ و اضافہ کے بعد سمو دیا گیا ہے۔

شعلہ مستور:

عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کے سوانح حیات ’’جدید تاریخی انکشافات‘‘ کو قرآنی بیانات کے ثبوت کے طور پر ایک مخصوص لبادہ میں پیش کئے گئے ہیں۔ یہ کتاب بھی بعد از ترمیمات معارف القرآن جلد سوم سے مأخوذ ہے۔

معراج انسانیت:

سلسلہ معارف القرآن کی جلد چہارم جو سیرت النبی پر مشتمل تھی کاٹ چھانٹ کے بعد نصف کے قریب رہ گئی ہے، باقی مندرجات اڑا دیے گئے ہیں اور اسے ’’معراج انسانیت‘‘کا نام دیا گیا ہے۔ اب اس کے مندرجات زیادہ تر حیاتِ نبوی کے احوالِ لیل و نہار پر مشتمل ہیں۔

مذاہب عالم کی آسمانی کتابیں :

اس کتاب کا مواد بھی زیادہ تر معارف القرآن کی جلد چہارم سے ماخوذ ہے۔ دیگر مذاہب عالم کی کتابوں میں تحریفات کی داستان، اور حفاظت قرآن اس کا موضوع ہے۔ کتاب کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف نے یہ کتاب اصلاً ان کے افادات پر مشتمل ہے جو انھوں نے بعدازاں مستقل تالیف کی صورت میں شائع کی اور اس میں موضوع سے متعلقہ مواد کو مختلف کتب و تفاسیر سے جمع کیا گیا ہے۔

تفسیر مطالب الفرقان:

یہ غلام احمد پرویز کی سات جلدوں پر مشتمل قرآن مجید کی تفسیر ہے جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:

جلد اول:الفاتحہ۔ البقرۃ کی ابتدائی 29آیات

جلد دوم: سورہ بقرۃ (آیت 30تا 112)

جلد سوم: سورہ بقرۃ (آیت 113تا 286اختتام سورہ بقرہ)

جلد چہارم:از سورہ آل عمران تا اختتام سورہ مائدہ

جلد پنجم: از سورہ انعام تا سورہ الاعراف آیت 158

جلد ششم: سورہ الاعراف آیت 159تا اختتام سورہ ہود

جلد ہفتم: از آغاز سورہ یوسف تا اختتام سورہ الحجر

درج ذیل تفصیل سے واضح ہے کہ یہ پوری قرآن مجید کی تفسیر نہیں ہے بلکہ ابتدا سے سورہ حجر تک (پ1تا 14) ہے۔ تفسیر کے پیش لفظ سے پتہ چلتا ہے کہ ابتدائی پانچ جلدیں پرویز کی زندگی میں شائع ہوئیں اور آخری دو جلدیں ان کی وفات کے بعد۔ جلد ہفتم کے پیش لفظ میں مرقوم ہے:

’’اس سلسلہ کی پانچ جلدیں ان کی زندگی ہی میں پیش نظر قارئین ہو کر داد تحسین حاصل کر چکی تھیں۔ جلد ششم طباعت کےلیے تیار تھی کہ وہ اپنے سفر حیات کی اگلی منزل کی طرف جادہ پیما ہوگئے۔ چنانچہ یہ جلد ان کے بعد شائع ہوئی۔محترم پرویز نے زیر نظر، جلد ہفتم کا مسودہ اکتوبر 1984(بستر علالت پر فراش ہونے) سے پہلے ہی لکھ ڈالا تھا۔۔‘‘[54]

اصول تفسیر پر غلام احمد پرویز اپنے ’’اجتہادات‘‘ضبط تحریر میں نہیں لائے۔ تاہم ان کی ابتدائی کتاب ’’معارف القرآن‘‘جلد اول کے مقدمہ میں اصول تفسیر کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ اپنی کتاب کا مقدمہ پرویز نے اپنے استاد جناب محمد اسلم جیراج پوری سے لکھوایا تھا، انہوں نے اصول بھی مرتب کئے ۔جناب پرویز چونکہ فکری طور پر ان کے ہم نوا تھے اور شاگرد بھی،لہٰذا انہوں نے ان اصولوں پر ہی تفسیر مرتب کی۔[55]

لغات القرآن:

غلام احمد پرویز کی یہ کتاب قرآنی کلمات کی وضاحت و تشریح پہ چار مجلدات پر مشتمل ہے۔ اس میں انھوں نے قرآنی کلمات کی تشریح و توضیح اپنی من پسند اور خود ساختہ لُغت کی روشنی میں مرتب کی ہے۔اس میں قرآنی الفاظ و اصطلاحات کے مفید مطلب اور خود ساختہ مفاہیم کو شامل کیا گیا ہے اگرچہ وہ دیگر لغات یا قرآن و سنت کے خلاف ہوں۔ جزوی طور پر اس پہ کچھ اہل علم نے تحقیق و نقد اور کیا ہے۔ [56] لغات القرآن کے حوالے سے یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اس میں مختلف الفاظِ قرآنیہ کی توضیحات اہلِ عرب کے اسلوب اور استعمال کے مطابق کی گئی ہیں۔

مفہوم القرآن:

غلام احمد پرویز کی یہ کتاب، جیساکہ کتاب کے سرورق پر لکھاہے ، نہ قرآن مجید کا ترجمہ ہے نہ تفسیر بلکہ مسلسل مفہوم ہے جس

سے ان کے منہجِ و فہم کے مطابق قرآنی مطالب واضح ہوتے ہیں۔ یہ کتاب ترجمانی یا مفہوم ہی پیش کرتی ہے۔ یہ تین مجلدات اور تقریبا ڈیڑھ ہزار صفحات مشتمل ہے۔ در حقیقت اس میں بھی قرآن مجید کی تشریحات کو مشقِ ستم بنایا گیا ہے۔آیات کی تفسیر میں تاویلاتِ غیرصحیحہ اور مرجوحہ کی بھرمار ہے اور اہلِ السنہ والجماعۃ کے متفقہ نظریاتی و فکری مواقف و آراء سے انحراف کیا گیا ہے۔ اس میں بالعموم ان مسائل پر بحث کی گئی ہے جن سے انکارِ حدیث یا حجیتِ حدیث کا پہلو واضح ہوتا ہے۔ اس کے شروع میں تقریبا تیس صفحات مقدمہ اور دیباچہ کے ہیں جس میں اس بات کو بیان کیا ہے کہ کلام الہی ہونے کی وجہ سے قرآن کا ترجمہ کرنا ممکن ہی نہیں اور جو اس وقت معتبر تراجم موجود ہیں ان کے قاری شکایت کرتے ہیں کہ ترجمہ سمجھنے میں انھیں دقت پیش آتی ہے۔

خلاصہ بحث اور نتائج:

ایک طویل عرصہ تک برصغیر کے مفسرینِ قرآن کے سامنے اصول تفسیر کا کوئی واضح نقشہ موجود نہ تھا اور نا ہی تفسیر کے اصول و خطوط متعین تھے۔ جس کی وجہ سے علم اصول تفسیر کا یہ عظیم المرتبت شعبہ صدیوں تک منظم، مدوّن اور باقاعدہ علم کے طور پر سامنے نہ آ سکا حالانکہ نامور مفسرین اپنے اپنے انداز میں تفسیریں رقم فرماتے رہے۔یہ امر باعثِ حیرت ہے کہ تفسیر کا اتنا عظیم الشان کلیدی شعبہ دیگر علوم کی بہ نسبت محققین کی تحقیقات سے قدرے محروم رہا ہے۔بالخصوص برصغیر میں علم اصول تفسیر سے بے اعتنائی اس سے بھی زیادہ محسوس کی گئی ہے۔ تفسیر نویسی آٹھویں صدی ہجری میں باقاعدہ شروع ہو چکی تھی۔ لیکن اصول تفسیر سے بے اعتنائی کا یہ عالم ہے کہ بارہویں صدی ہجری تک اس موضوع پر کوئی مستقل کتاب نہیں ملتی۔چنانچہ یہاں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی ’’الفوز الکبیر فی أصول التفسیر‘‘کو اس موضوع پر پہلی باقاعدہ کتاب کا مقام حاصل ہوا۔ یہاں مخصوص تہذیبی پس منظر اور ماحول میں تفسیر قرآن کے نام پر فلسفہ و معقولات کی خالص فنی مباحث یا پھر اذواق و الطاف اور کشوفات کا غلبہ اس قدر رہا ہے کہ خود نص قرآنی اور اس کا پیغام ربانی پردۂ خفا میں رہا جبکہ اگر تفسیر قرآن کے اصول و قواعد منضبط شکل میں موجود ہوتے تو شاید صورت حال یکسر مختلف ہوتی۔برصغیر میں جن تفسیری مناہج کا وجود سامنے آیا وہ ان میں مدرسہ تفسیر بالماثور، مدرسہ تفسیر بالنظم، مدرسہ تفسیر بالرائے المحمود اور مدرسہ تفسیر بالرائے المذموم ہیں۔ اول الذکر مدرسہ فکر اس بات کا حامی تھا کہ تفسیر و تشریح قرآن کے سلسلے میں ماثور و منقول ہی پر اکتفا کیا جائے اور فکر و نظر کی ان بدعات کو اس کے دائرے میں نہ لایا جائے جن سے اسلام کی بنیادی روح متاثر ہوتی ہے۔مذکورہ بالا چاروں شرکاء بزم نے اپنے اپنے متعین کردہ اسلوب و منہاج کے مطابق تعبیر و تشریح قرآن کے دائروں میں وسعت و عمق پیدا کیے اور تفسیر کے اصول مدوّن کیے۔ان میں سے کچھ اصحاب علم و فضل نے اصول تفسیر پر مستقل تصانیف و تالیفات سے امت کو مستفید کیا، پھر اس کے مطابق تفاسیر بھی قلمبند کیں اور بعد میں آنے والوں پر دوررس اثرات مرتب کیے۔کچھ دیگر صاحبان علم و تحقیق نے اصول تفسیر کے اس سلسلے کو آگے بڑھایا، ان کی تشریح و توضیح سے خوب تعرض کیا اور اصول تفسیر کے متفرق مسائل پر فہم و ادراک کے جوہر دکھاتے ہوئے ان پر سیر حاصل بحث کی۔ ان تمام شخصیات اور ان کی خدمات و تالیفات کا دائرہ خاصا وسیع ہے۔ منقولات ہی اساس اور اصل الاصول ہیں جن سے اخذ واستفادہ کرتے ہوئے قرآن کی تفسیر کی جانے چاہیے اور اس کے مطالب ومفاہیم کو بیان کیاجائے۔ دوسرے مکتبہ فکر نے ایک خاص زاویہ نظر کو سامنے رکھ کر قرآن کی تفسیر کو لکھا اور فروغ دیا، ان کے نزدیک قرآن کی تفسیر کرتے ہوئے یہ بات مدِ نظر رکھی جائے کہ ہر آیتِ کریمہ اور قرآن کا ہر جملہ ایک خاص مضمون کے تحت جڑا ہوتا ہے ، ایک نظم کی صورت قائم ہوتی ہے ،جس کو دورانِ تفسیر واضح کردیا جائے تو صحتِ تفسیر کے ساتھ ساتھ قرآن کے حقیقی مفہوم و مطلوب تک بآسانی پہنچا جاسکتا ہے۔مدرسہ تفسیر القرآن بالرائے محمود میں علومِ شرعیہ و عقلیہ کے ساتھ ساتھ تفسیرِ قرآن کے لیے خادم علوم سے استفادہ کیا جاتا ہے اور ان میں اپنی رائے کا عمل دخل نہیں ہوتا محض علوم کی تطبیق اور ان کے مطابق تفسیر ہوتی ہے، مدرسہ بالرائے مذموم میں عقلیات کے استعمال کے ساتھ ساتھ ذاتی فکر کی بھی گہری چھاپ دکھائی دیتی ہے۔

سفارشات :

مندرجہ بالا تحقیق کی روشنی میں ذیلی سفارشات پیش کی جاتی ہیں:

تفسیر بالماثور بالرائے کی اصطلاحات اور ان کے مقررہ اصول و ضوابط کی روشنی میں برصغیر کی تفاسیر کا تجزیہ کیا جائے۔ بلکہ یہ امر نہایت ضروری ہے کہ برصغیر میں لکھی گئی تفاسیر میں موجود تفسیر بالنظم یا تفسیر بالرائے محمود و مذموم کے منہج و اسلوب اور اس میں انحرافات کا علمی و تحقیقی محاکمہ یا تجزیہ ہونا چاہیے۔ اسی طرح تفسیر سے متعلقہ وضع کیے گئے اصول و ضوابط کا دراسہ ہونا چاہیے کہ آیا ان اصولوں او رضابطوں کو حقیقتاً تفاسیر میں منطبق کیا گیا ہے یا نئے اصول وضع کرکے تفسیر بالرائے کی گئی ہے جس سے تفسیرِ قرآن میں انحراف و تنوع آیا ہے؟ تفسیر کی اس نوع کے مبنی بر صواب و خطا ہونے کے دلائل اکٹھے کیے جائیں، اور ایسی تفاسیر کا مقارنہ کرتے ہوئے ان میں موجود الحاد اور غیر اسلامی و شرعی مطالب و مفاہیم کی نشاندہی کی جائے۔ مختلف مکاتبِ فکر کی ہاں متداول تفاسیر کا اصولِ تفسیر کی روشنی میں اسلوبیاتی مطالعہ کیا جائے۔ مدرسہ نظمِ قرآن میں جو تفاسیر اس وقت مروج ہیں ان کا قدیم تفاسیر کی روشنی میں موازنہ کیا جائے، تاکہ معلوم ہوسکے کہ ان میں تفسیری نکات اور منہجِ تفسیر قدیم (قائلینِ نظمِ قرآن) کا سا اسلوب اختیار کیا گیا ہے یا اس میں جدت پائی جاتی ہے۔ مدرسہ تفسیر بالرائے محمود کے اصولوں کا محققانہ جائزہ پیش کیا جائے تاکہ اس میں موجود مثبت پہلو سامنے آسکیں، نیز اس مسلک کی تفاسیر کا علمی و اصولی پہلو بھی سامنے آسکے۔

حوالہ جات

  1. عہدِ تغلق (۱۳۲۰ء تا۱۴۱۴ء) میں شیخ ابوبکر بن التاج البکری الملتانی کی کتاب’ خلاصۃ جواہر القرآن(للغزالی)فی بیان معانی القرآن‘ منظرِ عام پر آئی جسے مطالعہ قرآن کے حوالے سے برِصغیر کے علماء کی پہلی کاوش قرار دیا گیا: اکرم،اعجاز فاروق ، ڈاکٹر،برصغیر میں مطالعہ قرآن۔ تراجم و تفاسیر،سہ ماہی: فکر و نظر،خصوصی اشاعت (اسلام آباد :ادارہ تحقیقات اسلامی ،۱۹۹۹ء)،ص: ۷۷
  2. مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نے اسے اس موضوع پر پہلی کتاب کہا ہے:ندوی ،ابو الحسن علی ،تاریخ دعوت و عزیمت (کراچی:مجلس نشریات اسلام،س ن )،۵: ۱۵۰
  3. فراہی،حمید الدین، تفسیر قرآن کے اصول (نئی دہلی: قرآن و سنت اکیڈمی،۲۰۰۳ء)، ص: ۱۲۹
  4. ندوی ،ابو الحسن علی، تاریخ ِ دعوت و عزیمت، ۱ :۱۴۲
  5. ایضاً،۵: ۱۴۷
  6. مہر، امیر الدین، برصغیر میں قرآن مجید کا پہلا ترجمہ، سہ ماہی:فکر و نظر،۳۰: ۴ (اسلام آباد: ادارہ تحقیقاتِ اسلامی،اپریل۔ جون،۱۹۹۳ء)، ص: ۳۱
  7. اسحاق بھٹی ،برصغیر کے اہل حدیث خدام قرآن (دہلی: المنار پبلیکیشنز، س ن )، ص: ۶۷۲
  8. ندوی،ابو الحسن علی ،تاریخ ِ دعو ت وعزیمت، ۵: ۱۵۰
  9. شاہ ولی اللہ،مقدمۃ فتح الخبیر ملحق بالفوز الکبیر (کراچی :کارخانہ تجارت کتب، س ن)، ص: ۸۶
  10. ندوی،ابو الحسن علی ، تاریخ دعوت و عزیمت،۵: ۳۴۶
  11. اسحاق بھٹی،برصغیر کے اہل حدیث خدام قرآن، ص: ۳۳۳
  12. ندوی،ابو الحسن علی،تاریخ دعو ت و عزیمت،۵:۳۵۶تا ۳۵۷
  13. ایضاً
  14. ایضاً
  15. اسحاق بھٹی،برصغیر کے اہل حدیث خدام قرآن، ص: ۳۵۱
  16. اگرچہ اس سے پہلے بھی بعض اردو تراجم و تفاسیر کا پتہ چلتا ہے۔ مولانا حکیم عبدالحئی نے اپنی کتاب ”الثقافۃ الاسلامیہ فی الہند“ میں کچھ تفسیروں کے نام لکھے ہیں۔ لیکن اکثر کے زمانہ تصنیف کا پتہ نہیں چلتا۔ دیکھیے: ندوی ،ابو العرفان ،اسلامی علوم و فنون ہندوستان میں (اعظم گڑھ: دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، ۲۰۰۹ء)، ص: ۲۳۷
  17. اصلاحی،ضیاء الدین ،اردو تفاسیر: ایک جائزہ، شش ماہی ،علوم القرآن (علی گڑھ:، جولائی۔ دسمبر۲۰۰۶ء)، ص: ۵۸
  18. قاسمی، مولانا اخلاق حسین،محاسن موضح قرآن (کراچی:ایچ ایم سعید کمپنی،س ن )، ص: ۲۵
  19. ندوی، ابوالحسن علی،تاریخ دعوت و عزیمت، ۵: ۳۸۲
  20. ایضاً ، ۵: ۳۸۶
  21. اسحاق بھٹی،برصغیر کے اہل حدیث خدام قرآن، ص: ۱۷۹
  22. اسحاق بھٹی،برصغیر کے اہل حدیث خدام قرآن ، ص: ۱۸۱
  23. ایضاً، ص: ۲۵۳
  24. ایضاً
  25. نواب صدیق حسن کی شخصیت پر ایم۔ اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے کئی مقالات لکھے جا چکے ہیں۔ تفصیل کے لیے ان کی خود نوشت و سوانح حیات دیکھیے:نواب صدیق حسن،ابقاء المنن و لقاء المحن (لاہور : دار السلفیہ ، ۱۹۸۶ء)
  26. پہلی اشاعت کا مکمل نسخہ ضلع اوکاڑہ کے معروف دینی و تبلیغی اور تحقیقی مرکز ’’دارالحدیث الجامعۃ الکمالیۃ، راجووال‘‘ کی لائبریری میں موجود ہے۔
  27. اسحاق بھٹی،برصغیر کے اہل حدیث خدام قرآن، ص: ۱۹۹
  28. اسحاق بھٹی، قافلہ حدیث(لاہور:مکتبہ قدوسیہ،۲۰۰۱ء)، ص: ۷۵
  29. امیر علی، سید ، تفسیر مواہب الرحمن(لکھنو: نول کشور پریس،۱۹۴۲ء)،(مقدمہ۱۔۱۳۶)
  30. اسحاق بھٹی،برصغیر کے اہل حدیث خدام قرآن، ص: ۷۱
  31. اسحاق بھٹی،برصغیر کے اہل حدیث خدام قرآن ، ص: ۷۲
  32. ایضا، ص: ۷۳
  33. سید سلیمان ندوی ؒ نے مولانا فراہی ؒ کی وفات کے دو ماہ بعد ان کے مفصل حالات زندگی لکھے ،جنھیں بعد ازاں ناشر نے مولانا فراہی ؒ کی تفسیر ”نظام القرآن و تأویل الفرقان بالفرقان“ کے ابتدامیں ذکر کردیا:ندوی،سید سلیمان، تفسیر”نظام القرآن“ للفراہی،(اعظم گڑھ: دائرہ حمیدیہ،۲۰۰۸ء)، (تقدیم)، ص: ۱۱
  34. فراہی، عبد الحمید، رسائل الامام الفراھی فی علوم القرآن(اعظم گڑھ:الدائرۃ الحمیدیہ ، ۲۰۰۵ء)
  35. یہ ’’رسائل الامام الفراہی فی علوم القرآن‘‘مطبوعہ ۲۰۰۵ ء میں شامل ہے۔
  36. مولانا اصلاحی کی شخصیت و فکر پر مشی گن یونیورسٹی، امریکہ سے مستنصرمیر نے COHERENCE IN THE QURAN , A STUDY OF ISLAHI'S CONCEPT OF NAZM اور پنجاب یونیورسٹی سے ڈاکٹر اختر عزمی صاحب نے ”علوم اسلامیہ کی تشکیل جدید میں مولانا امین اصلاحی کا کردار“ پرمقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی؛مولانا امین احسن اصلاحی کے فکری ارتقا ء پر ’مولانا امین احسن اصلاحی اپنے حدیثی و تفسیری نظریات کی روشنی میں ‘از حافظ صلاح الدین یوسف ،مطبوعہ المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی، ۲۰۱۸ء مفید اورتحقیقی کتاب ہے ۔
  37. شہزاد سلیم، مولانا اصلاحی کی کہانی ان کی اپنی زبانی، ماہ نامہ :اشراق ،جلدو شمارہ ندارد (لاہور:المورد، جنوری۔ فروری ۱۹۹۹ء )، ص: ۱۰۹
  38. شہزاد سلیم، مولانا اصلاحی کی کہانی ان کی اپنی زبانی، ص: ۱۰۹
  39. ایضاً
  40. ایضاً
  41. اس سلسلہ میں ماہ نامہ محدث، لاہور، شمارہ؛ مارچ ۲۰۱۷ میں مولانا صلاح الدین یوسف کا مضمون بعنوان’’ تفسیر تدبر قرآن کے بارے میں حسن ظن کے چند اسباب‘‘ دیکھا جاسکتا ہے۔
  42. اسے نمائندہ کہنے کا یہ معنی نہیں کہ ترجمان القرآن یا آئندہ مذکور تفہیم القرآن میں موجود مصنف کی تمام تفسیری آرا تفسیر بالرائے محمود کے زمرے میں آتی ہیں۔ اسی طرح تفسیر بالرائے مذموم کے حوالہ سے ذکر کردہ کتب تفسیر میں موجود تمام تفسیری آرا تفسیر بالرائے مذموم کے زمرے میں نہیں آتیں۔
  43. شیخ محمد اکرام، موج کوثر (لاہور :ادارہ ثقافت اسلامیہ، س ن )، ص: ۷۷
  44. شیخ محمد اکرام، موج کوثر ، ص: ۸۲
  45. اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ۱: ۱۱۶۔ ۱۲۲
  46. انور عارف، آزاد کی تقریریں (دہلی: ادبی دنیا، ۱۹۶۱ء)، ص: ۲۰۴
  47. محمد اکرام،موج کوثر، ص: ۵۸
  48. محمد الیاس، ڈاکٹر ،تفسیر القرآن از سرسید احمد خان کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ ،شش ماہی:البصیرہ،۴: ۸ (اسلام آباد:نمل، ۲۰۱۵ء )، ص: ۱۰۶
  49. پرویز، غلام احمد ،شاہکار رسالت(لاہور: طلوعِ اسلام ٹرسٹ،س ن ) ،(حاشیہ) ، ص: ۷۲
  50. قاسمی، محمد دین ، ڈاکٹر ،تفسیر مطالب الفرقان کا علمی او رتحقیقی جائزہ(لاہور :ادارہ معارف اسلامی ، ۲۰۰۹ء)،۱: ۱۹۰
  51. ایضاً، ۱ :۱۹۱۔۱۹۲
  52. قاسمی، ڈاکٹر محمد دین ،تفسیر مطالب الفرقان کا علمی او رتحقیقی جائزہ ، ۱: ۱۹۲۔ ۱۹۵
  53. ایضاً ،۱: ۱۹۲
  54. غلام احمد پرویز،تفسیر مطالب الفرقان،(پیش لفظ)، ص: ۷
  55. قاسمی، ڈاکٹر محمد دین،تفسیر مطالب الفرقان کا علمی اور تحقیقی جائزہ،۱: ۲۰۷
  56. ڈاکٹر محمد دین قاسمی صاحب غلام احمد پرویز کے متضاد فیہ مطالب و معانی پر کام کررہے ہیں۔اسی طرح شعبہ علومِ اسلامیہ ،رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی سے ایم فل کی سطح پرعبدالرحمٰن نے ’لغات القرآن میں مصدری و لغوی مباحث (۲۰۱۷ء ) ‘ پر تنقیدی مقالہ لکھا ہے۔ (ادارہ)