Playstore.png

تجارتی معاملات میں ترغیبات و مراعات کی انواع و اقسام: شریعت کی روشنی میں تحقیقی مطالعہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ إیقان
عنوان تجارتی معاملات میں ترغیبات و مراعات کی انواع و اقسام: شریعت کی روشنی میں تحقیقی مطالعہ
انگریزی عنوان
Types of Incentives and Advertisements in Commercial Deals, A Research Study in the Light of Shariah
مصنف Kouser، Hafiza Humaria، Muhammad Hammad Lakhvi
جلد 1
شمارہ 1
سال 2018
صفحات 81-104
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
advertisement, traders, incentives, legitimate, commercial
شکاگو 16 Kouser، Hafiza Humaria، Muhammad Hammad Lakhvi۔ "تجارتی معاملات میں ترغیبات و مراعات کی انواع و اقسام: شریعت کی روشنی میں تحقیقی مطالعہ۔" إیقان 1, شمارہ۔ 1 (2018)۔

Abstract

Wherever person goes, he finds unless it finds advertisement tools in various shapes and sizes. These ads, which have become an important pattern in the life of traders are indispensable for them than in contemporary reality. But now companies are specializing in the production of these ads and incentives, taking advantage of all the modern means of magazines and broadcasting video and audio formats and even mobile internet services. Each of these companies have their own philosophy of it, some of which consider the legitimate controls in advertisements but other are to make money regardless of the appropriateness of these ads or following the controls of legitimacy and this research aims at highlighting the most important of these Islamic perspective controls which must be adhered when designing these commercials ads. Islam regulates the trade system and provides a sound guideline to its followers. It has forbidden all the malpractices being exercised in business and its advertisement. The research talks about the commercial advertisements, their types, aims and the opinions of Islamic experts about them. Besides, the research proves that advertisement is permissible according to shariah.

تعارف:

گلوبل دنیا میں وسیع پیمانے پر تجارتی و اقتصادی معاملات کی جدید صورتوں اوران سے متعلق پیش آمدہ نئے مسائل کے نتیجہ میں تجارت ومعیشت نے مستقل علم کی حیثیت اختیار کرلی ہے،بالخصوص صارف تک مصنوعات پہنچانا اور ان کا کثیر مقدار میں فروخت اس علم ایک اہم ترین پہلو سمجھا جاتا ہے۔درحقیقت خریدار تک مارکیٹ میں موجود اپنی پروڈکٹ، برانڈ، اس کی اقسام اورفوائد پہنچانے کابہترین ذریعہ کثیر المقاصد تجارتی تشہیر (Advertising)سمجھاجاتاہے۔تاجرحضرات اپنی پروڈکٹ کی فروخت کےلیے میڈیا، اخبارات،میگزین، فلائر، بروشرز، ای میل، ویب سائٹ ایڈ، ریڈیو، فون کالزوغیر ہ کا استعمال کرتےہیں اورمختلف حربوں سےخریداروں کومختلف قسم کی ترغیبات ومراعات دیتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ان میں مختلف طرز کی انعامی سکیمیں، تین پیک خریدنے پر ایک مفت، ایک پیک خریدنے پر کوئی اور چیز بطور تحفہ ساتھ دینااور اسی طرز کی دیگر سکیمیں شامل ہیں۔صارفین کومتوجہ کرنےوالےان لالچی ہتھکنڈوں کے ذریعے حتی المقدوراپنی مصنوعات خریدنےپرآمادہ کرنے اوراپنی پروڈکٹ کی فروخت میں اضافہ کرنے کےلیے جوطریقہ انھیں مفیدنظرآتاہےاختیارکرتےچلے جارہےہیں ۔قطع نظراس سے کہ دی جانےوالی ترغیبات ومراعات اوران کے طریقہ کارمیں اخلاقی اورشرعی نقطہ نظرسے کون سی قباحتیں ہیں اس تحقیقی مضمون میں مروجہ ترغیبات ومراعات میں پائی جانےوالی اخلاقی اورشرعی قباحتوں کی نشاندہی کےساتھ حتی الامکان ان کےبارے شرعی نقطہ نظرکوبھی واضح کیاجائےگا۔

ترغیبات ومراعات کاپسِ منظروپیش منظر:

وہ معلومات جو گاہک کی خواہشات اور ضرورتوں کو بدل ڈالیں، کسی خاص شے کے بارے میں اس کے طرزِ عمل اور رجحان پر اثر انداز ہوں اور اس شے کی فروخت بڑھانے میں اہم کردار ادا کریں، ایسی معلومات ترغیبات ومراعات کہلاتی ہیں۔اگرچہ بیسویں صدی کو ایڈورٹائز منٹ کی صدی کہاگیا ہے ، لیکن ایسا نہیں کہ ترغیب واشاعت پہلے بالکل موجود نہ تھی۔ اس کا سراغ قدیم روم میں ملتا ہے جہاں پومپیائی (Pompeii) کے شہر میں قصاب کی دکان کے باہر گائے کی رانوں کی تصویریں آویزاں تھیں۔ گھر کرائے پر دینے کے اشتہار لگائے جاتے تھے ۔ شراب کی فروخت بڑھانے کے لیے دیواروں پر ڈسپلے پینٹ کیے گئے۔

جب پریس ایجاد ہوا تو ایڈورٹائزمنٹ میں اس کا خوب استعمال کیا گیا ۔۱۷۰۴ء میں Boston News Letter میں پہلی دفعہ اشتہارات چھپے۔ ٹریڈمارک، Insignia اور Catalogue کا رواج شروع ہوا تو ۱۸۸۰ء میں Colgate, Ivory اور Pears برانڈز کے ناموں سے صابن بنے جو آج بھی چل رہے ہیں،پھر اس ضرورت کے لیے ڈاک سے استفادہ کیا گیا اور لوگوں کے گھروں میں پمفلٹ پوسٹ کیے جانے لگے۔[1]

۱۹۲۰ء میں Pittsburgh میں دنیا کا پہلا ریڈیو اسٹیشن قائم ہوا تو اشتہار بازی کو ایک نئی جہت مل گئی ۔ کمرشل سروس شروع کی گئی اور مختلف کمپنیوں کی طرف سے Sponsored پروگرام پیش کیے جانے لگے۔پہلی اور دوسری جنگِ عظیم نے بھی ایڈورٹائزمنٹ پر گہرا اثر ڈالا۔ جنگ میں لوگوں کی شمولیت کو بھر پور بنانے اور جنگ کی آفات سے لوگوں کو بچانے کے لیے اشتہارات کا استعمال کیا گیا ۔ اس دوران بجلی سے منور بورڈوں (Neon Signs) کا چلن ہوا۔ دیواروں پر تصویریں کندہ کی جانے لگیں۔ Thompson پہلی ایجنسی تھی جس نے فوٹوگرافی کا عنصر شامل کیا۔[2]

۱۹۴۶ء میں ٹی وی مارکیٹ ہونا شروع ہوا تو اشتہاری کمپنیوں نے اپنی توجہ اس پر مرکوز کردی ۔ اب ظاہری احوال اور گلیمر کا دور شروع ہوا ۔ Visuals کے آنے سے حسن و ادا کی نمائش شروع ہوئی اور اشتہارات میں پاپ گروپس اور رقاصاؤں کے ڈانس شامل کیے جانے لگے جو کہ آج کل عروج پرنظرآتاہے۔تجارتی لین دین میں ان ترغیبات ومراعات کو بطورمحرک استعمال کیا جاتا ہے اور معاشی ترقی اورتجارت کی رفتارتیز کرنے کے لیےان محرکات کوصارفین تک پہنچانے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جاتے ہیں جہاں یہ محرکات بطورعامل کے کام کرتے ہیں۔

مراعاتIncentives/:

معاشی لین دین میں ترغیبات ومراعات کے لیے incentivesکی اصطلاح استعمال ہوتی ہےکیونکہ یہ بطورمحرک کے کام کرتی ہیں۔مارکیٹ میں فروخت کرنے والا (seller )خریدار (Buyer )کو اپنی پروڈکٹ کی تفصیلات اس طرح پہنچاتاہے کہ خریدار اس کی طرف راغب ہو تاہے اورزیادہ سے زیادہ اشیاءخریدنے کاجذبہ اس کے اندر پیداہوتا ہے:

‘‘A thing that motivates or encourages someone to do something’’[3]

پروڈکٹ کی تفصیلات صارفین تک پہنچانے کے لیے سب سے اہم طریقہ جواستعمال کیا جاتا ہے وہ اشتہارکار ی ہے ۔ترغیب کے لیے عموماً تشہیر کا لفظ استعمال کیاجاتاہےتشہیرکے وسیع تر مفہوم میں اپنی مصنوعات (Products) کو شہرت دینا، ان کی فروخت میں اضافہ کرنا، لوگوں کے ذہنوں میں اپنی مصنوعات کے بارے مثبت رائے کو فروغ دینا، لوگوں کو اپنا برانڈ خریدنے پر آمادہ کرنا اور اسی سے متعلق تمام لوازمات شامل ہیں۔

ترغیبات ومراعات کے وسائل وذرائع:

مصنوعات کو مشہور کرنے کے جو بھی طریقے اختیار کیے جائیں انہیں تشہیریاPromotionکہتےہیں۔اوراس تشہیرکامقصدصارفین کی توجہ حاصل کرناہوتاہے تاکہ ان مصنوعات کی فروخت کوزیادہ سے زیادہ بڑھایاجاسکے۔مختلف طریقوں کےذریعےصارفین کے لیےبعض پروڈدکٹ پرکچھ مراعات کااعلان بھی کیاجاتاہےجن کامقصدومدعابھی عوام کےذہنوںمیں ان

مصنوعات کےبارے میں پسندیدگی پیداکرناہوتاہے۔ عام طور پر تشہیر کےدو اہم طریقے استعمال کیے جاتے ہیں: 

1 ۔اشتہار بازی (Advertising)2۔پبلسٹی(Publicity)

1۔اشتہاربازی:

اس سے مراد اپنی مصنوعات سے عوام کو مختلف ذرائع کے تحت روشناس کرانا اوران مصنوعات کوخریدنےکےلیےترغیب دلاناہوتاہے۔یہ ذرائع عام طور پر اشاعتی ،بصارتی اور سماعتی نوعیت کےہوتے ہیں۔

اشاعتی ذرائع:

ان ذرائع میں بالخصوص اخبارات (News Papers)، رسائل وجرائد (Magazines & Journals) ،پمفلٹ/ ہینڈ بل (Pamphlet/Hand Bill )،بل بورڈ (Bill Board) اور ہوائی جہاز پر تحریریں (Aero planes & Sky-Writing)معروف ہیں۔  اسی طرح بہت سے ادارے ہر سال اپنے ادارے کے نام سے کیلنڈر اور ڈائریاں بھی تقسیم کرتے ہیں۔

بصری وسمعی ذرائع:

بصری ذرائع (Video Media) کئی ایک ہیں، مثلا: ٹیلی وژن ،سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی سہولیات وغیرہ۔ جبکہ سمعی میں ریڈیو اورٹیلی وژن وغیرہ شامل ہیں۔

2۔پبلسٹی:

یہ تشہیر کا دوسرا اہم اور بنیادی ذریعہ ہے۔ اس سے مراد وہ خبر یا ایڈیٹوریل یعنی اداریہ یا فیچر ہے جو ادارے یا اس کی مصنوعات کے بارے میں شائع کیا جائے۔پبلسٹی دو قسم کی ہوتی ہیں: 

(1)مثبت پبلسٹی

(2) منفی پبلسٹی 

اول الذکر میں اخبار،میڈیایا کوئی بھی ادارہ آپ کے ادارے یا مصنوعات کی تعریف کرتا ہے، جب کہ ثانی الذکرمیں ادارے یا مصنوعات کے بارے میں کوئی منفی بات لکھی جائے، مثلاً ادارے میں ہڑتال یا تصادم کی خبر یا مصنوعات کے کسی منفی پہلو پر تبصرہ وغیرہ۔[4] پبلسٹی میں اس کے علاوہ استعمال کیے جانے والے ذرائع درج ذیل ہیں؛

سوونیئر کا اجراء:مختلف اشیاء مثلاً پین، پرس وغیرہ پر کمپنی یا برانڈ کا نام لکھ کر تقسیم کرنا ۔

نمائش:اس کے ذریعے مصنوعات عوام کو متعارف کرائی جاتی ہیں اور ان کو نسبتاً بازار کی قیمت سے کم پر بیچا جاتا ہے۔

سالانہ رعایتی سیل:بہت سے ادارے اپنی مصنوعات کی مختلف مواقع پر رعایتی سیل لگاتے ہیں۔

مقابلے:مختلف نوعیت کے مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں اور اس کے لیے انعامات مقرر کیے جاتے ہیں۔

اندرونی سجاوٹ:دکانوں کی بیرونی اور اندرونی خوبصورتی والی سجاوٹ بھی تشہیروترغیب کا ایک طریقہ ہے۔ اس میں ونڈو ڈریسنگ بھی شامل ہے۔ 

بونس اسکیم:اس کے تحت گاہکوں کو اضافی مصنوعات/مراعات دی جاتی ہیں، مثلاً: تین ٹوتھ پیسٹ کے ساتھ ایک ٹوتھ پیسٹ برش مفت یا ایک درجن مال خریدنے پر 3 عدد مفت ۔

اسپانسر(سر پرستی کرنا)کرنا:مختلف کھیلوں کی نشر و اشاعت کے لیے ادارہ اپنی طرف سے قیمت ادا کرتا ہے، مثلاً: کرکٹ کی کمنٹری کو ہمیشہ کوئی تجارتی ادارہ اسپانسر(سرپرستی)کرتا ہے۔ 

ریبیٹ اور کوپن:ان کے ذریعے قیمتوں میں کمی کر دی جاتی ہے۔ 

عطیہ اشتہار:اخبارات یا رسائل میں کسی فلاحی اشتہار کے لیے رقم ادا کرنا اور نیچے اپنا نام دے دینا۔

مفت نمونے:مختلف کمپنیوں کےملازمین گھرگھرجاکرمتعلقہ لوگوں کو مفت نمونے فراہم کرتے ہیں۔ یہ صرف کم قیمت مصنوعات کے لیے ممکن ہے۔ 

تعلقات عامہ:اس ذریعے سے ادارہ اپنی مصنوعات کی ساکھ کو ترقی دیتا ہے۔ 

فیشن شو:یہ طریقہ کار عام طور پر ٹیکسٹائل ملز اورمختلف برانڈزوالے اختیار کرتے ہیں۔ عمومی طور پر اس میں بے ہودگی، بے پردگی اور جسم کی نمائش کی جاتی ہے ۔[5]

ترغیبات ومراعات کی اقسام:

۱۔ممبرشپ سرٹیفکیٹ:

اس کا طریقہٴ کار یہ ہے کہ کمپنی کی مصنوعات کھلی مارکیٹ میں فروخت نہیں ہوتیں ، بلکہ جو شخص رجسٹریشن فیس دےکر کمپنی کا ممبرشپ سرٹیفکیٹ اورکوڈنمبرحاصل کرتا ہےاسی کو کمپنی کی مصنوعات فراہم کی جاتی ہیں،اور خریدار کو خریدی ہوئی اشیاء رعایتی قیمت پرملتی ہیں۔ اس کےعلاوہ کمپنی اپنابزنس چلانے کےلیےمراعات دیتی ہےجس میں بزنس کٹ رسالہ جات،٪20رعایت پرخریداری کاحق،اورقیمتی ٹریننگ فری ہوتی ہے۔اگر کوئی آدمی براہِ راست ممبر بننا چاہے تو بعض کمپنیوں میں اس کی اجازت نہیں ہوتی، اس کو بھی کسی ممبرکے تحت ہی ممبر بننا پڑتا ہے۔اس طرح کی کمپنیوں میں اکثر ایسی ہیں جن کی مصنوعات ممبر ہی کے توسط سے خریدی جاسکتی ہیں۔البتہ بعض کمپنیاں بغیر ممبر بنے بھی اپنی مصنوعات کے خریدے جانے کی سہولت دیتی ہیں، مگر رعایت(Discount) ممبر ہی کے ساتھ خاص ہوتی ہے۔کمپنی کےلیےممبراگرمزیدممبرنہ بناسکےتوکمپنی اس شخص کی ممبرشپ ختم کردیتی ہےاس طرح اس شخص کی ساری محنت اوروقت ضائع ہوجاتاہے۔ [6]

۲۔کمیشن:

کمپنی اپنےممبرکویہ ترغیب بھی دیتی ہے کہ وہ اپنے تحت مزید ممبر بنائےاور کمپنی کا سامان فروخت کرنے میں تعاون کرے۔لہٰذا خریدار جن لوگوں کو ممبر بناتا ہے، اور کمپنی سے سامان خریدنے کے لیے آمادہ کرتاہے،اس پر کمپنی کمیشن دیتی ہے۔ پھر یہ کمیشن صرف ان خریداروں تک محدود نہیں رہتا۔جن کو اس نے خریدار بنایا ہے۔بلکہ اس کے ذریعہ بنے ہوئے خریداروں سے آگے جتنے خریدار تیار ہوں گے۔ ان کی خریداری پر بھی پہلے شخص کو کمیشن ملتا رہےگا اور یوں یہ سلسلہ مرحلہ وار آگے تک چلاجاتا ہے۔یہ وہی کمیشن ہےجودوسری کمپنیاں اپنی مصنوعات کی تشہیر کےلیےٹی وی اوراخبارات وغیرہ کودیتی ہیں جبکہ ان کمپنیوں میں یہ کام کمیشن ایجنٹ کرتےہیں اوراگرکمپنی کاممبرآگے مزیدممبرز نہ بناسکےتوکمیشن ملنابھی بندہوجاتاہے ۔[7]

۳۔عہدہ:

کمپنی رجسٹریشن فیس لے کر فروخت کنندہ کو اپنے نمائندے کی حیثیت سے رجسٹرکرتی ہے ۔اور اس کو ون سٹار کا درجہ دیتی ہے۔ مثال کےطورپرون سٹار جوکہ کمپنی کارجسٹرڈ نمائندہ ہے،جب اس کےذاتی ویلیو پوائنٹس ایک سو (۱۰۰) سے زیادہ ہوجائیں گے تو وہ ٹو سٹاربن جاتاہے اورجب اس کےppv (Personal Point Value)300 سے زیادہ ہوں گے تو وہ تھری سٹار بن جائےگا اورپرسنل پوائنٹ ویلیوکا انحصار رجسٹرڈ ون سٹار کی ذاتی خریداری پر ہوتاہے۔گویا کہ ون سٹار جتنی زیادہ خرید اری کرے گا اتنے ہی اس کے پرسنل پوائنٹ ویلیومیں اضافہ ہوگا ۔پھر یہ تھری اسٹار کمپنی کی مصنوعات کو فروخت کرنے کے لیے اپنی ٹیم بناتاہے،رینک اورکمیشن میں اضافےکے لالچ میں نئے لوگوں کو کمپنی میں رجسٹرڈ کرواتاہے ۔وہ جتنے لوگوں کو بھی محنت کرکے اپنی ٹیم میں شامل کرناچاہے کرسکتاہے ۔جس طرح یہ سلسلہ اوپر تک چلتارہتاہے اسی طرح گروپ لیڈر اوران کی ٹیم کے دیگرارکان کی ترقی ،کمیشن اوررینک میں اضافہ ہوتاجاتاہے ۔دوسری طرف کمپنی کےنمائندوں میں اضافہ ہوتاہے جس سے کمپنی کی مصنوعات کی تشہیر ،فروخت اورمنافع میں اضافہ ہوتارہتاہے۔[8]

۴۔رائلٹی (Royalty) رقم /بونس:

کمپنی نمائندےکی کارکردگی ظاہر ہونے اور مصنوعات کی فروخت کی ایک مخصوص اونچی سطح پر پہنچنے کی صورت میں متعینہ کمیشن کےعلاوہ نمائندےکو کچھ رقم اعزازی طورپر رائلٹی کے نام سے دیتی ہے۔جس سے نمائندوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ دوسرے لوگوں کوکمپنی کاممبربنانے کےلیے پہلے سے زیادہ محنت تندہی سےکام کرتے ہیں۔دراصل رائلٹی کا یہ تصور ایک ہی کمپنی میں کام کرنے والے مختلف طبقات کے لوگوں میں مقابلہ پیدا کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔

۵۔کیپٹل گین(Capital Gain):

آئن لائن خریدوفروخت اوراسٹاک ایکسچینج مارکیٹ میں خریدوفروخت کے دوران خریدارشیئرزاوراشیاء کوقیمت کم ہونےپرخریدلیتےہیں اوراس وقت ان چیزوں کوفروخت کرتےہیں جب ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتاہے۔اس طریقہ ءکارسےفروخت کاروں کومنافع حاصل ہوتاہے۔ اس منافع کےحصول میں جسے کیپٹل گین (Capital Gain)کہاجاتاہے،کمپنی صارف کووقتاًفوقتاًرہنمائی کےساتھ مارکیٹ ریٹ سےآگاہ کرتی رہتی ہے کہ کون سی چیزکب خریدی یابیچی جائےتوزیادہ منافع حاصل ہوتاہے۔اس پرکمپنی اپنامتعین شدہ کمیشن وصول کرتی ہے۔اس قسم میں فاریکس،کامیکس اور سٹاک ایکسچینج جیسے ادارے شامل ہیں۔[9]

۶۔انعامی اسکیمیں:

ملکی و بین الاقوامی سطح کی بڑی کمپنیز مصنوعات کی تشہیر کے لیے انعامی سکیموں کا اجراء کرتی ہیں جس سے لوگوں کی توجہ کو اپنی پروڈکٹ کی طرف مبذول کرانا مقصود ہوتا ہے۔اس میں بالعموم درج ذیل طریقے استعمال کیے جاتے ہیں:

1۔Super Surprise جیتیں ،مختلف اشیاءکی خریداری پرعمرے کےٹکٹ،ڈائمنڈرنگز،سونے کے سکے ،تعلیمی اسکالرشپ اوردیگر قیمتی انعامات بذریعہ قرعہ اندازی جیتیں۔

2۔بعض کمپنیاں اپنی مصنوعات کےاندرکوئی کوپن،سکہ یاکوئی تصویری معمہ ڈال دیتی ہیں ان مصنوعات کی خریداری پریہ اشیاءکمپنی کوارسال کرنے پرقرعہ اندازی کےذریعےمختلف انعامات مثلاً دبئی کےریٹرن ٹکٹ اور عمرےکےٹکٹ دیئےجاتے ہیں۔

۷۔ڈسکاؤنٹ:

۱۔مختلف مصنوعات کی خریداری پربعض تجارتی مراکز میں پچیس (۲۵) فی صد سے لے کر ۷۵ فی صد تک رعایت دی جاتی ہے مثلاً عید، رمضان المبارک ، Mother Day وغیرہ جیسےمواقع پریاجب کمپنی چاہے۔مثلاًگل احمد،کھاڈی،Bata Shoes، وغیرہ پر جیسے ہی کمپنی یاکسی بھی برانڈکی طرف سےاس قسم کےرعایتی پیکج کااعلان ہوتاہےاس طرح کم آمدنی والےصارفین کوبھی اپنی ضرورت کی اشیاءکم قیمت پرخریدنےکاموقع مل جاتا ہے اس لیے کہ ڈسکاؤنٹ پیکج کےبعداشیاءکی قیمت دوگناہ یاتین گناہ کم ہوجاتی ہے۔ مثلاً پہلے اگر ایک شرٹ 5000روپےکی تھی تو رعایتی نرخوں کے بعد2000یا2500روپےکی ہوجاتی ہے۔

۲۔ڈسکاؤنٹ کی ایک صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ مروجہ قیمت پر شےکی مقدارمیں اضافہ کردیاجاتاہے۔یاپھرشےکی مقررہ مقدارپرقیمت میں کمی کردی جاتی ہے۔

۸۔واؤچرز:

اپنی مصنوعات کی فروخت میں نمایاں اضافہ کرنے کے لیے کمپنیاں صارفین کوواؤچرز دیتی ہیں جن کی کم ازکم قیمت 500 اورزیادہ سےزیادہ 5000 ہوتی ہے، مثلاً کپڑوں کی مشہور زمانہ کمپنی گل احمد اس قسم کے واؤچرز دیتی ہے۔اس کےعلاوہ بعض ٹی وی چینلزکےمالکان کے ( مثلاً ARY)مخصوص تجارتی مراکز سےبھی خریداری پرصارفین کوواؤچرز دیتےہیں ۔اس کے بعدقرعہ اندازی کےذریعے خریدار کو اپنےپسندیدہ ٹی وی شوز(مثلاًجیتوپاکستان شو)میں جانےکاموقع ملتاہےاوروہاں مختلف گیمزکےذریعےقیمتی انعامات دیئے جاتے ہیں۔

۹۔گفٹ کارڈ:

تشہیر کی ایک مروجہ صورت یہ بھی ہے کہ کمپنی خریداروں کوایک کارڈمہیاکرتی ہےجس کی قیمت خریدارکی مرضی کےمطابق رکھی جاتی ہے۔ اس کو وہ گفٹ کارڈ کا نام دیتی ہے جسے حاصل کرنےکےبعدخریدار کہیں بھی جاکرکسی بھی برانڈسےخریداری کرسکتاہے۔ آج کل سفروغیرہ کےدوران چونکہ رقم کی حفاظت خاصامشکل کام ہےاس لیےگفٹ کارڈکی صورت میں خریدارآسانی سےاپنی رقم کوایک جگہ سےدوسری جگہ منتقل کرسکتاہے اورمحفوظ مقام پرپہنچ کراپنی ضرورت کی اشیاءبھی خریدسکتاہے۔[10]

۱۰۔ایک پر ایک مفتBuy One get One Free/:

بعض تجارتی مراکز اکثرااوقات مختلف اشیاء کی خریداری پر ایک کے ساتھ ایک مفت( Buy One get One Free) کی آفرز دیتے ہیں۔مثلاًکپڑوں،جوتوں، کھانےپینے کی اشیاء،میک اپ اوردیگرمصنوعات وغیرہ کی خریداری پر صارفین کےلیےاس قسم کی آفرزبڑی حوصلہ افزا اورفائدہ مندثابت ہوتی ہیں۔ایک چیزکی قیمت میں دویاتین اشیاءکاحصول اس مہنگائی کےدورمیں خریداروں کےلیےکسی نعمت سے کم نہیں ۔کم آمدنی والےصارفین بھی اس قسم کی آفرزسےخوب مستفیدہوتے ہیں۔اس قسم کی آفرزکورعایتی ترغیبات بھی کہا جا سکتاہے۔

۱۱۔سکور میں اضافہPoint Scoring/:

مشہور برانڈز کی طرف سےخریدارکوہرخریداری پرقیمت کےحساب سےپوائنٹ ملتے ہیں جن کی قیمت اگرکسی بھی ایک چیز کی قیمت کےبرابرہوجائے تووہ چیزصارف کوفری ملتی ہے،مثلاً Kayseriوغیرہ۔اس کاطریقہ کاریہ ہے کہ پہلی خریداری پرصارف کوشناختی کارڈنمبراورفون نمبرکےذریعےرجسٹرڈکیاجاتاہے۔اس کے بعددوسری خریداری سے پوائنٹ ملناشروع ہوجاتے ہیں اورپھراسی مخصوص برانڈ سے ہر خریداری پریہ سلسلہ جاری رہتاہے۔جب وہ پوائنٹ اس برانڈمیں موجودکسی بھی ایک چیز کی قیمت کےبرابرہوجائیں تووہ چیزصارف کوفری دے دی جاتی ہے۔ یہ سلسلہ مخصوص مدت کے لیے ہوتاہے جس کاذکرعموماًصارف سےنہیں کیا جاتا اور مخصوص مدت ختم ہوجائےتوصارف کےپوائنٹ کاسلسلہ بھی ختم ہوجاتا ہے ۔ان پوائنٹ کےحساب سےجورقم صارف کی بنتی ہےوہ بھی ہڑپ کرلی جاتی ہےیعنی Point Scoring کےذریعےجورقم بنتی ہےاس کاکوئی ذکریاحساب نہیں کیاجاتااگراس مخصوص مدت کےبعدصارف خریداری کرے تو نئے سرے سےوہ سلسلہ صفرسےشروع کیاجاتاہے۔[11]

۱۲۔زیادہ خریداری پرگفٹ:

اکثرتجارتی مراکزپر زیادہ سےزیادہ خریداری پرفروخت کنندہ کی طرف سےخریدارکو کوئی نہ کوئی چیز گفٹ کی صورت میں دی جاتی ہے۔جس سےصارف پرتاجرکےاس رویے کا اچھا اثر پڑتا ہے پھر صارفین خریداری کے لیےانھیں مارکیٹوں یا دکانوں کارخ کرتے ہیں جن سےوہ متاثرہوتے ہیں یاجن سےکوئی نہ کوئی فائدہ نظرآتاہے ۔

۱۳۔گولڈن صارف کارڈ:

ملٹی نیشنل برانڈز کی طرف سےاکثروبیشتر خریداری کرنےوالےصارفین کوگولڈن صارف کارڈدیاجاتاہے،یعنی کچھ خریداراپنی پسنداورضرورت کی اشیاءکسی مخصوص برانڈسے ہی خریدتے ہیں ۔ایسےخریداروں کی حوصلہ افزائی کےلیےبرانڈگولڈن صارف کارڈ فراہم کرتاہے جس کے ذریعے خریدار کو یہ محسوس کروایاجاتاہے کہ وہ کمپنی کےلیےبہت سپیشل کسٹمرہیں ۔کارڈکی فراہمی کےبعدہر خریدارکومطلوبہ برانڈ سےہرخریداری پر٪10ڈسکاؤنٹ ملتا ہےاوراچھی سروس مہیاکی جاتی ہے۔

۱۴۔کریڈٹ یاڈیبٹ کارڈزکےذریعےملنےوالا ڈسکاؤنٹ:

کریڈٹ کارڈیاڈیبٹ کارڈکےذریعےبعض تجارتی مراکزسے خریداری پرصارفین کو٪5یا٪10ڈسکاؤنٹ دیاجاتاہے۔یہ ڈسکاؤنٹ بقول کمپنی ان کے اور بینک کےدونوں کے اشتراک سے ہوتا ہے ۔

۱۵۔ڈاکٹر وں کاکمیشن لینا:

میڈیکل کمپنیاں یہ اعلان کرتی ہیں کہ جو ڈاکٹر ہماری ادویات یا مصنوعات کو مریضوں کے لئے تجویز کرے گا ، اسے دس فیصدیا پندرہ فیصد منافع بطور انعام یاکمیشن کے دیا جائے گا۔وہ انعام یا منافع اس لئے دیا جاتا ہے کہ ڈاکٹرمطلوبہ کمپنی کی دوائی لکھ کرمخصوص میڈیکل سٹورسےمریضوں کودوائی خریدنےکوکہتے ہیں ، جس کی وجہ سے دوائیاں زیادہ فروخت ہونےپرکمپنی اورمیڈیکل سٹوردونوں کومنافع ہوتاہے۔اس کےعلاوہ ڈاکٹر اپنے مریضوں کوامراض کی تشخیص کےلیےٹیسٹ کروانے کےلیےمخصوص لیبارٹریوں میں جانےکےلیے مجبورکرتے ہیں اوریہ بھی کہتے ہیں کہ اسی مخصوص لیبارٹری کاٹیسٹ ہی قابل قبول اوردرست تشخیص

کاحامل ہوگا۔اس کےعوض ڈاکٹرحضرات ان لیبارٹریوں سے بھی طےشدہ کمیشن لیتےہیں۔

۱۶۔فری ہوم ڈیلیوری:

آئن لائن اشیاء کی خریداری پربعض برانڈ اورکمپنیاں فری ہوم ڈیلیوری کی رعایت بھی دیتی ہیں  ۔ اس طرز پر آج کل زیادہ تر جن اشیاء کی خرید و فروخت ہورہی ہے ان میں موبائل فونز، الیکٹرانکس اشیاء، سجاوٹی مصنوعات، گارمنٹس، بیگ،کپڑے، جوتے اور کھلونے وغیرہ شامل ہیں ۔اس طریقہ سے کوئی بھی گھر بیٹھے مختلف اشیاء کی قیمتوں کا موازنہ کرکے اپنی پسندیدہ اشیاء کو موزوں ترین قیمتوں پرحاصل کرسکتاہے۔خریدارانٹرنیٹ پرمختلف اشیاء کے اشتہارات دیکھ کر اپنی ضرورت اورپسندکی اشیاءکی ساری معلومات مثلاًسوٹ کارنگ،قیمت،کوڈوغیرہ جواشتہارمیں دیاہوتاہے آئن لائن یہ ساری معلومات مطلوبہ برانڈ پر نوٹ کرواکےآڈربک کرواتاہے۔فروخت کنندہ کی طرف سے وہ اشیاءخریدارکےدیےگئے پتا پرفری پہنچائی جاتی ہیں۔البتہ اس طرح آن لائن خریداری کی صورت میں دھوکہ دہی اور اشیاءکےناقص ہونےکاعنصرموجودرہتاہے۔

۱۷۔فری سروسز (Free Service)مہیاکرنا:

کمپنیاں مارکیٹنگ کےمیدان میں بہت سی چیزوں پر فری سروس دیتی ہیں ، مثلاً: کمپنی کے ذمہ ہو تا ہے کہ ایک سال کے درمیان اگر کوئی خرابی پیدا ہوجائے، تو بلا معاوضہ درست کرکے دی جائے گی، اسے وارنٹی بھی کہا جاتا ہے۔فریج، کمپیوٹر، واشنگ مشین، کولر وغیرہ پر ایک سال یا دوسال کی وارنٹی دی جاتی ہے ۔اس کےعلاوہ بعض شوروم،دکانوں اوربیوٹی پارلر وغیرہ میں بھی ایک سروس کی خریدپردوسری سروس فری دی جاتی ہے۔مثلاًگاڑی کی سروس کروانےپرواش کروانےکی سہولت فری دی جاتی ہے۔ان فری دی جانے والی سروسزکی وجہ سےصارفین پرمثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اوروہ انھی مراکزکوترجیح دیتےہیں جن پراخراجات کم سے کم ہوں۔[12]

۲۰۔ڈیلزمیں فری اشیاء:

صارفین کوبعض برانڈزاورکمپنیوں کی طرف سےمختلف قسم کی ڈیلزدی جاتی ہیں جن میں بعض اشیاء فری دی جاتی ہیں۔ برانڈزاور کمپنیاں صارفین کی ترغیب کےلیےمراعاتی ترغیب پرمبنی ڈیلزکااعلان کرتی ہیں جس سےصارف کم قیمت پرمختلف اورزیادہ اشیاءسے لطف اندوزہوتاہےمثلاًKFC برگرکی خریداری پرساتھ کول ڈرنک فری ملتی ہے۔بعض ڈیلزمیں ایک،بعض میں دوجبکہ بعض میں تین تین اشیاء بھی فری ملتی ہیں اس طرح صارف اپنےکم بجٹ کوسامنے رکھتےہوئےبہترڈیل کاانتخاب کرسکتاہے۔اس طریقہ سے کمپنی کی اشیاء کامثبت اثرصارف کےذہنوں میں راسخ ہوتاہے اورخریدار،خریداری کےلیےانھیں تجارتی مراکزکارخ کرتےہیں جواس قسم کی ڈیلزفراہم کرتے ہیں۔اگرچہ اکثرڈیلزمیں ملنےوالی مفت اشیاءناقص اورغیرمعیاری ہوتی ہیں ۔

۲۱۔موبائل فون کمپنیوں کی طرف سےفری پیکجز:

1۔مختلف موبائل فون کال سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی طرف سےمختلف پیکجز دیے جاتے ہیں جن میں صارف کےایک پیکج خریدنے پرساتھ دوسرے پیکجزفری ملتے ہیں۔اس طرح خریدارکم بیلنس میں اپنی ضرورت کےبیک وقت کئی کام موبائل پرانجام دےسکتاہے۔جیسےکال پیکج کےساتھSMSاورانٹرنیٹ پیکج فری ملتاہے جوکہ موبائل فون کمپنیوں کادعویٰ ہےجبکہ عملاًایسانہیں ہوتا بلکہ اکثروبیشتر اضافی چارجز صارف کومطلع کیے بغیرکاٹ لیےجاتےہیں اوراس طرح صارف کوفری کے نام پےدھوکہ دیاجاتاہے ۔

2۔ ٹیلی نار ایزی پیسہ والے اپنے موبائل اکاونٹ میں ماہانہ 2000 روپے برقرار رکھنے پر صارف کو روزانہ کے حساب سے 60 منٹ کا مفت ٹاک ٹائم دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ مفت بیمہ کی سہولت بھی دیتے ہیں ۔ اگر طبعی موت ہوتو 50000 اور حادثاتی موت ہو تو100000 روپے دیتے ہیں۔ اس طرح سے مفت کال منٹ بھی مل جاتےہیں جس کےلئے اضافی ادا نہیں کرنا پڑتا۔

3۔ موبائل کمپنی کی طرف سے نئی سم کی خریداری پربیلنس،میسجزاورانٹرنیٹ ڈیٹا کی مراعات بھی دی جاتی ہیں۔ [13]

۲۲۔آئن لائن ادائیگیاں:

موبائل فون کمپنیوں کی طرف سےآئن لائن بل جمع کروانے،کرنسی کاتبادلہ،فنڈزٹرانسفروغیرہ جیسی مراعات بھی دی جاتی ہیں۔اس طریقہ سےUsersکےوقت کی بچت بھی ہوتی اوربل جمع کروانے کے لیے لمبی لائنوں میں نہیں لگنا پڑتااور نہ ہی سفری اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں ۔ ان ادائیگیوں کےلیےصارف کےاکاؤنٹ میں مطلوبہ رقم کا ہونالازمی ہےایسی مراعات صارفین کےلیےبہت حوصلہ افزا اورآسانی کاباعث بنتی ہیں۔[14]

ترغیبات ومراعات کی شرعی حیثیت:

معاملات دین کا ایک اہم شعبہ ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں عبادات کا مکلف بنایا ہے، اسی طرح معاملات میں بھی کچھ احکام کا مکلف بنایا ، تا کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ لین دین کے وقت ان باتوں کا خیال رکھیں کہ کونسی چیزیں حلال ہیں، اور کون سی چیزیں حرام ہیں۔ سورۂ نساء میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:

’’  وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ ‘‘[15]

’’تم آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے مت کھاؤ۔

آیتِ مذکورہ معاملات کی تمام ناجائز ذرائعِ آمدنی کو شامل ہے ،جنہیں اللہ رب العزت نے ناجائز وحرام قرار دیا ہے۔حرام

سے بچنے اور حلال کو حاصل کرنے کے لیے قرآن وسنت میں مختلف عنوانات سے تاکیدیں کی گئی ہیں۔ ایک آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ حلال کھانے کو انسان کے اعمال واخلاق میں بہت بڑا دخل ہے ، ارشادِ ربانی ہے کہ:

’’ يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا ‘‘[16]

’’ حلال اور پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو‘‘

گویا کہ اعمالِ صالحہ کا صدور اسی وقت ہوسکتا ہے، جب انسان کا کھانا پینا حلال ہو ۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے :

’’يَا رَبِّ يَا رَبِّ وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَغُذِّيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ؟‘‘

’’بہت سے لوگ عبادت کرتے ہیں، اپنے رب کے سامنے گڑ گڑاتے ہیں ، مگر ان کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام ، توان کی دعا کیسے قبول ہوسکتی ہے‘‘

جہاں تک بذات خود ترغیب واشاعت کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں اسلام کو کوئی اعتراض نہیں۔ ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دوسرے کی مرضی سے اسے کوئی اپنی کوئی بھی چیز فروخت کرے۔ قرآن مجید میں ارشادباری تعالیٰ ہے:

’’يَاأيّهُا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلاَّ أنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ ‘‘ [17]

 ’’اے ایمان والو، آپس میں ایک دوسرے کے اموال باطل طریقے سے نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ یہ تمہاری مرضی کی تجارت ہو۔‘‘ 

  کسی کو بھی اپنی تیار کردہ اشیاء فروخت کرنے کے لئے اسے ان کے بارے میں آگاہ بھی کیا جاسکتا ہے اوراسے ان کے فوائد بتا کر خریدنے کے بارے میں ترغیب بھی دی جاسکتی ہے ۔ یہ کام دور قدیم کی طرح بازار میں کھڑے ہوکر آواز لگانے سے بھی ہوسکتا ہے اور دور جدید کی طرح میڈیا کے ذریعے بھی۔ ترغیب واشاعت کی اس عام اجازت کے باوجود دور جدید کی اشتہاربازی میں میں بعض ایسے عوامل بھی داخل ہوگئے ہیں جو اخلاقی اعتبار سے کسی طرح بھی قابل قبول نہیں۔ 

خلافِ شرع ترغیب و تشہیر:

شرعاً ترغیب وتشہير ميں مندرجہ ذیل ضوابط ہیں :

۱۔وہ مقاصدِ شرع کے خلاف نہ ہو ورنہ وہ حرمت کے دائرے میں آسکتی ہے۔مثلاًناچ گانا،شراب ،لاٹری ،انعامی بانڈزوغیرہ۔

۲۔جس چيز کا اعلان کياجارہا ہے وہ خلافِ حقيقت نہ ہو، ورنہ غررہے ،جس سے اسلام نے منع کياہے ۔

۳- ترغیب وتشہیر میں ممنوعاتِ شرعیہ کا ارتکاب لازم نہ آتاہو، مثلاً کوئی دواساز کمپنی اپنی دوا کی تشہیر کے لیے کسی خاتون کی خدمات حاصل کرے اوروہ اپنے جسم کے اس حصے کو اخباروں اور ٹی وی پر ظاہر کرے ، جہاں اس دوا کے مفید اثرات مرتب ہوئے ہوں۔یہ حرمت کو مستلزم امر ہے۔

۴- یہ اعلان وتشہیر کسی حرام وناجائزکام میں وقوع کاسبب وذریعہ نہ بنے،جیسے فلموں کی یا خرید وفروخت کی اُن صورتوں کی تشہیر جو شرعاً ناجائزوحرام ہے ۔

۵۔جو امور مجموعی طور پر ضروریات خمسہ(دین ،جان ،نسل و نسب،مال اورعقل ) کے مخالف ہوں،وہ بھی ناجائز شمار ہوں گے کیونکہ انھی کا تحفظ اصلاً شریعت کا مطلوب و مقصود ہے۔[18]

۶۔دھوکے سے قیمتیں نا بڑھائی جائیں جسے اصطلاحِ شرعی میں نجش کہتے ہیں:

’’النجش:وهواَنْ يَزِيدَ فِي ثَمَنِ السِّلعةِ لَا لِرَغْبَة فِيها بَلْ لِيَخْدَعَ غَيْرَه وَيَغُرهاُ لِيَزِيدَ وَيَشْتَرِيَها وَهذَا حَرَامٌ بِالاِجْمَاعِ ‘‘ [19]

’’نجش یہ ہےکہ :صرف مال کی قیمت بڑھانےکےلیےبائع(فروخت کنندہ )سےبات چیت کرناجبکہ خریدنےمیں دلچسپی نہ ہواورایسا کام اس لیے کیاجائےکہ دوسروں کودھوکےمیں ڈالاجائےتاکہ وہ دھوکےمیں آکرچیززیادہ قیمت پرخریدلیں ایسا کرنا حرام ہےاوراس کےحرام ہونےپرتمام فقہاءکااجماع ہے۔‘‘

ایسے وسائل ہرگز استعمال نا کیے جائیں جن میں حرام امور کا ارتکاب ہویا ان میں حرام اشیاء کا عمل دخل ہو، اصول یہ ہے:

’’الوسیلة او الذریعة تکون محرمة إذا کان المقصد محرما، وتکون واجبة إذا کان المقصد واجبا‘‘[20]

’’حرام مقصدکےحصول کےلیےاستعمال کیاگیاوسیلہ اورذریعہ بھی حرام ہی ہوگااوراگرمقصدواجب ہویعنی مقصدکاحصول واجب ہوتوذریعہ اوروسیلہ بھی واجب ہوگا۔‘‘

۷۔مسلمانوں کو خسارے میں ڈالنا حرام ہے اور اس قسم کی تشہیر کرکے ان کا مال تلف کرنے اور لوٹنے کے مترادف ہے۔ مسلمان کی خوش دلی یا اجازت کے بغیر مال ہتھیانا بھی حرام ہے جو عام طور پر اس قسم کی مراعات کو حربے کے طور پر استعمال کیا جاتا

ہے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے فرمایاکہ کسی مسلمان کا مال اس کی رضامندی کےبغیر حاصل کرنا ہرگز حلال نہیں۔[21]

یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے اس قسم کو درج ذیل اصول کے ضمن میں بیان کیا ہے:

’’درء المفاسد اَولی من جلب المنافع ‘‘[22]

’’خسارےکودورکرنانفع حاصل کرنےسےزیادہ اچھاہے۔‘‘

تجارتی انعامی سکیم کے تحت ملنے والے انعام کی حیثیت :

انعام کی خاطر کمپنی کے دیے ہوئے خرید یا فروخت کے ہدف (Target) تک بائع یا خریدار زائد محنت اور زائد سرمایہ لگا کر پہنچتے ہیں کمپنی ان میں سے ہر ایک کو انعام نہیں دیتی بلکہ ان کے درمیان قرعہ اندازی کرتی ہے اور قرعہ سے جس کا نام نکلتا ہے اصل انعام اس کو دیتی ہے اور باقی افراد کو یا تو کچھ نہیں دیتی یا ان کا دل رکھنے کو بہت تھوڑی مالیت کا انعام (Consolation Prize) دیتی ہے۔غرض تجارتی انعام کی بنیاد زائد خریداری اور زائد محنت ہے تاہم کمپنی انعام دینے کی بنیاد صرف اس کو نہیں بناتی بلکہ اس کے بعد قرعہ اندازی کو بناتی ہے۔ اس انعام کوگفٹ یاہدیہ کہنا بھی شرعاً درست نہیں ہے جس کی وجوہات یہ ہیں :

۱۔گفٹ /ہدیہ میں مقاصد ِ شرعیہ کا فقدان:

اول: یہ ایک مسلّم فقہی ضابطہ ہے کہ’’ اَلاَمُورُ بِمَقَاصِدِهَا‘‘ یعنی کاموں کا دارومدار ان کے مقاصد پر ہوتا ہے۔اس لیے گفٹ یاہدیہ کا دنیوی مقصد یا تو جس کو ہدیہ دیا ہے اس سے عوض حاصل کرنا ہوتا ہے یا اس کی جانب سے مدح حاصل کرنا یا اس کی محبت حاصل کرنا ہوتا ہے ۔جیسا کہ درالمختار اور البحر میں تحریرہے:

’’وَسَبَبُهاَ إرَادَةُ الْخَيْرِ لِلْوَاهِبِ دُنْيَوِيٌّ كَعِوَضٍ وَمَحَبَّةٍ وَحُسْنِ ثَنَاءٍوَالمُحَبةِ مِنَ المَوهُوبُ لَهُ‘‘ [23]

’’اوراس کاسبب نیکی کاارادہ کرناہےانعام دینےوالےکےلیےخواہ وہ دنیاوی ہویادینوی،بدلہ اورمحبت اورتعریف وتوصیف اورمحبت ایسےشخص کی طرف سےجسےکوئی چیزہبہ(انعام)کےطورپردی جارہی ہے۔‘‘

تجارتی مقابلے کی انعامی سکیم میں ان میں سے کوئی بھی مقصد نہیں ہوتا اس لیے یہ ہدیہ شمار نہیں ہوگا۔ سکیم کے انعام سے مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو مزید خریداری میں رغبت ہو جو کہ ہدیہ کا مقصد بالکل نہیں ہے۔ تجارتی رواج میں اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے یہ طریقہ ہے کہ خریدار کے لئے یا تو مبیع میں اضافہ کی پیشکش کی جاتی ہے یا قیمت میں کمی کر دی جاتی ہے۔ اس مسلمہ تجارتی طریقہ کار کو نظر انداز کرنا اور مبیع پر اضافہ کے بجائے اس کے انعام یا ہدیہ ہونے پر اصرار کرنا درست نہیں ۔

دوم: مقاصد حکم کی علت نہیں ہوتے بلکہ حکم پر مرتب ہونے والے اثرات ہوتے ہیں؛

اس لیے ان کے نہ ہونے سے حکم معدوم نہیں ہوتا ،مثال کے طور پر روزے سے مقصود تقوٰی حاصل کرنا ہے۔ لیکن اگر کوئی روزہ رکھ کر بھی گناہ کرتا رہے تو یہ نہ کہیں گے کہ روزہ ہی نہ ہوا۔ اسی طرح جب بائع نے خریدار کو سودے کی بنیاد پر ہدیہ کیا اور اس پر ہدیہ کے مذکورہ مقاصد میں سے کوئی مرتب نہ ہو تو یہ نہ کہا جائے گا کہ ہدیہ ثابت نہ ہوا۔عبادات ہوں یا معاملات ان کی حقیقت و صورت کو متعین کرنے میں ان کے مقاصد بڑی اہمیت رکھتے ہیں ۔ البتہ دونوں میں اتنا فرق ہے ،کہ عبادات کی حقیقت و صورت شارع کی وضع کی ہوئی ہے اور خود ان کی صورت کو ادا کرنا شارع کی طرف سے وجوب یا ندب کے طور پر مطلوب ہوتا ہے۔ عبادات کے برعکس معاملات کی حقیقت وصورت نہ تو شارع کی وضع کی ہوئی ہے اور نہ ہی ان کی صورت کو ادا کرنا شارع کی جانب سے وجوب یا ندب کے طور پر مطلوب ہوتا ہے۔حنفیہ کے ائمہ ثلاثہ کے نزدیک :’’یہ ثمن میں اضافہ ہے۔ ‘‘امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک :’’ہدیہ ہے لیکن وہ ہدیہ جو کسی فقیر کو دیا جائے صدقہ ہوتا ہے جو کہ عبادت اور ثواب کا کام ہے لہٰذا اس میں صدقہ دینے والے کو فقیر سے کسی مدح کی توقع نہ رکھنی چاہئے ورنہ صدقہ کا ثواب نہ ملے گا۔‘‘[24]

مباحات اور مکروہات کا دائرہ کار:

بعض اوقات خریداروں کوترغیب دینےکےلیےایسی سکیمیں بھی نکالی جاتی ہیں، جن میں چیز کی اصل قیمت سے زیادہ قیمت طلب کی جاتی ہے اور اس میں انعام نکلنے کی امید بھی ہوتی ہے۔ مثلاً ایک چیز کی اصل قیمت بیس روپے ہے۔ سکیم کے دوران اس کی قیمت تیس روپے کر دی جاتی ہے اور ساتھ ہی قرعہ اندازی کے ذریعے انعام بھی دیا جاتا ہے۔ ایسی صورت واضح طور پر جوئے کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ اگر انعام نہ نکلے تو خریدار کے دس روپے ضائع جاتے ہیں۔ عام طور پر اچھی کمپنیاں اس قسم کی سکیمیں نہیں نکالتیں بلکہ اس طریقے سے گھٹیا قسم کی پراڈکٹس بیچی جاتی ہیں۔ ان میں یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ بیچنے والا ادارہ اپنی پراڈکٹ کو بیچ کر منافع نہیں کمانا چاہتا بلکہ ریفل ٹکٹ کے انداز میں رقم اکٹھی کرنا چاہتا ہے۔یہ بھی انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ اس قسم کے کاموں میں بعض رفاہی ادارے بھی شامل ہو جاتے ہیں حالانکہ رفاہ عامہ کے نیک کام صرف اور صرف حلال آمدنی ہی سے کرنے چاہئیں۔شریعت ِاسلامیہ ایسے مباح کام سے بھی منع کرتی ہے جو فرائض وواجبات کی ادائیگی میں مخل ہو، یا دین میں کسی خرابی کاذریعہ بنے ،فقہ اسلامی میں اس کی بے شمار نظیریں موجود ہیں،مثلا :

1۔عام حالات میں خریدوفروخت مباح ہے ،مگر اذانِ جمعہ کے بعد اس میں مشغول ہونا مکروہِ تحریمی ہے ،کیونکہ یہ ایک واجب ِشرعی یعنی اداء جمعہ میں مخل ہے۔ 

2۔خالق کی خلقت وصنعت کو دیکھنا اور اس میں غوروفکر کرنا گرچہ مباح ہے ، مگر جب غیر محرم سامنے ہو تو نظر کونیچے کرنا واجب ہے، کیونکہ یہ امرِممنوع کے ارتکاب کا ذریعہ ہے۔

ترغیبات کا شرعی دائرہ کار: 

مروجہ ترغیبات ومراعات کامقصدعوام کی فلاح وبہبودنہیں بلکہ پیسہ کمانا ہے۔ پیسہ کمانا فی نفسہ ممنوع نہیں لیکن شریعت نے اسے حاصل کرنے کے اصول وضوابط متعین کئے ہیں۔اگر ان اصول وضوابط کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو بہ نگاہِ شرع یہ اکلِ ا موال بالباطل میں داخل ہوکر حرام ہوتاہے۔اسی طرح ترغیب وتشہیر فی نفسہ جائز ہے جیساکہ سابقا ذکر کیا گیا ہے ۔اگر کوئی چیز ترغیب واشاعت کے بغیر نہیں بکتی تو بائع کو ایڈورٹائزمنٹ پر کچھ رقم صرف کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے بشرط یہ کہ وہ ناجائز ہتھکنڈے استعمال نا کرے اور نا ہی ممنوعہ امور کو بطور وسیلہ استعمال کرے، لیکن تمام تصرفات کی طرح ترغیب واشاعت کو بھی شریعت کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا۔ خریدار تک پروڈکٹ کی تفصیلا ت پہنچانے میں شریعت ہماری کیا رہنمائی کرتی ہے اس کے لیے ذخیرہ احادیث میں غور کیا جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بے شمار فرامین موجو د ہیں ،ان میں سے دو نقل کیے جاتے ہیں:

1۔حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خرید وفروخت کرنے والوں کو اختیار ہوتاہے جب تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدانہ ہوں، پس اگر انہوں نے ایک دوسرے سے سچ بولا اور درست وضاحت کی تو ان کی بیع میں برکت ڈال دی جائے گی اور اگر جھوٹ بولا اور مبیع کو چھپایا تو ان کی بیع سےبرکت اٹھالی جائے گی ۔[25]

2۔عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نہیں حلال کسی مسلمان کے لیے کہ وہ اپنا سامان بیچے، اس حال میں کہ اس کو معلوم ہو کہ اس میں خرابی ہے مگر یہ کہ اسے خریدار کو بتادے۔[26]

ترغیب واشاعت کا مقصد بھی خرید ار کو خوبیاں اور خامیاں بتاناہو نہ کہ اپنی خوبیوں اور اپنے مدِمقابل کی خامیوں کاپرچار کیاجائے، نیز جھوٹی یقین دہانیوں سے بھی اجتناب کرنا ہو گا۔

تشہیر(ایڈورٹائزنگ)کے لیے چونکہ آج کل کے زمانہ میں بہت سے ذرائع استعمال کیے جارہے ہیں۔اس لیے ان کے ذریعہ سے اشتہارکو ایسے انداز میں ترتیب دے کر عوام کے سامنے اس طرح پیش کیا جاتاہے، تاکہ عوام الناس پروڈکٹ سے باخبر ہوں اور

پروڈکٹ ان میں مقبولیت پائے۔

مصنوعات(Products)اور خدمات(Services) کو بیچنے کے لیے ان کی تشہیر کرنا تاکہ لوگوں کے علم میں آجائے اور اگر وہ خریدنا چاہیں تو خرید سکیں، بذاتِ خود جائز ہے،درج ذیل احادیث سے اس کا جواز ثابت ہوتا ہے:

۱۔آپ ﷺنے ایک صحابی کی چٹکی بھری اور یہ اعلان کیا کہ:”کون ہے جو مجھ سے یہ غلام خریدے؟‘‘۔[27]

۲۔ اسی طرح ایک روایت میں آتا ہےکہ ’’علی رضی اللہ عنہ کوفہ کے بازار میں اپنی تلوار لہراکر اعلان کررہے تھے کہ کون ہے جو مجھ سے میری تلوار خریدےگا۔‘‘ [28]

شیخ یاسر بن طٰہ نے تشہیر کے جواز پریہ دلیل پیش کی ہے :

’’الاعلان والدعاية فيهما شبه بعمل الدلال، وهو من يعرّف بمكان السلعة وصاحبها، وينادي في الاسواق عليها، وقد أجاز أهل العلم عمل الدلال، وجرى على ذلك عمل المسلمين، ولم ينقل إنكارہ عن أحد من أهل العلم‘‘ [29]

’’تشہیر ایک طرح سے دلال(ایجنٹ) کے عمل کے مشابہ ہے،کیونکہ دلال بھی مصنوعات کی صفات بیان کرتاہے،کسٹمر کو ترغیب دیکر مصنوعات کے میسر ہونےکے مقامات کی طرف راہنمائی کرتا ہے اورفروخت کنندہ کے لیے گاہک مہیا کرتا ہے، تشہیر کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے، اور دلال کے عمل کے جائز ہونےپر تقریبا تمام اہلِ علم کا اتفاق ہے،لہذا اگرترغیب وتشہیر میں شرعی خرابیوں(دھوکہ،جھوٹ،موسیقی اور حرام تصاویر وغیرہ)سے احتراز کیا جائے تو یہ بھی جائز ہے۔‘‘

دراصل یہ عمل اعلان کرنےاوربلانےمیں دلال(ایجنٹ)کےعمل کی مشابہت ہےیعنی دلال بھی ایک نوعیت کاکام سرانجام دے رہا ہوتا ہے۔اہل علم نےدلال کےکام کوجائز قرار دیاہے اورمسلمانوں کا اس پرعمل بھی رہاہےاوراہل علم میں سےکسی نےاس کاانکاربھی نہیں کیا۔اس حوالے سے امام ابوحیان الغرناطي ؒ فرماتے ہیں:

’’والباطل هو کل طریق لم تبحه الشریعة ، فیدخل فیه السرقة، والخیانة ، والغصب، والقمار،

وعقود الربا وقال السدي: هوان یاکل بالربا والقمار والبخس والظلم، وغیره ذلک مما لم یبح الله تعالی أکل المال فیه۔‘‘[30]

’’ہروہ طریقہ باطل ہےجسےشریعت نےجائزقرارنہیں دیاپس اس میں چوری،بددیانتی ،ظلم،جوااورسودپرمبنی سودابازی شامل ہے۔اورسعدی نےکہا:جوا،ظلم اورزیادتی کےذریعےمال کاکھاناباطل ہےاس طرح ہروہ چیزجس کاکھانااللہ تعالیٰ نے مباح (جائز)قرارنہیں دیا۔‘‘

اپنے ملک کی مصنوعات کے استعمال میں دینی و دُنیوی فوائد ہیں لہذا ان کو ترجیح دے کر استعمال کی رغبت دلانا جائز و مباح ہے ایسےطریق سے کہ ملک میں فساد برپا نہ ہو۔[31]

رعایت فی المعاملہ:

جہاں تک فی نفسہ اس امر کا تعلق ہے تو تاجرکاخریدارکےلیےقیمت میں رعایت کرنایا بالکل قیمت وصول نہ کرنادونوں عمل موجبِ ثواب ہیں۔[32]مالک کواپنی مملوکہ مبیع کم یازیادہ قیمت پربیچنےکااختیارہوتاہے۔لیکن حکومت کے قانون کی خلاف ورزی کرکےاپنی عزت،جان اورمال کوخطرےمیں ڈالنےسےپرہیزکرناچاہیے۔تجارت کی ہی نفع کےلیےجاتی ہےلیکن ضرورت مند،نادارسےزیادہ نفع لیناخلاف مروت ہے۔[33]تاہم انعامات کو اس سے الگ صورت یعنی الجائزۃ میں رکھا جاتا ہے، اور لغت میں جائزہ یعنی انعام کو عطیہ و ہدیہ کہتے ہیں ۔ ابن منظور افریقی رحمہ اللہ لسان العرب میں لکھتے ہیں :

’’انعام عطیہ کو کہتے ہیں اور اس کی اصل یہ ہے سالار لشکر کا دشمن سے مقابلہ ہے لیکن دونوں کے مابین ایک دریا یا بڑی نہرہے۔ سالار لشکر اپنے لشکر والوں سے کہتا ہے کہ جو کوئی اس نہر کو پار کرے گا اس کو اتنا انعام ملے گا۔ تو لشکر میں سے جو بھی وہ نہر پار کرتا ہے اس کو انعام ملتا ہے۔ دوسرے حضرات کا کہنا ہے کہ جائزہ کی اصل یہ تھی کہ آدمی دوسرے (مسافر) آدمی کو پانی دیتا تھا اور اس کو اتنا پانی دیتا تھاجس سے وہ اگلے چشمہ یا کنویں تک پہنچ جائے۔ چنانچہ ایک مسافر جب کسی چشمے یا کنویں پر پہنچتا تھا تو وہ پانی کے نگران سے کہتا تھا کہ" اجزنی "یعنی مجھے اتنا پانی دے دو کہ میں اپنے راستے پر جا سکوں اور تم سے گزر جاؤں اور اپنے سفر پر نکل جاؤں ۔پھر یہ استعمال کثرت سے ہونے لگا تو عطیہ کو انعام کہا جانے لگا۔پھر انعام کے لفظ کا استعمال اس عطیہ کے لیے ہونے لگا جو کسی کو اکرام کے طور پر دیا جائے۔ اسی معنی میں اس لفظ کا استعمال عام طور سے اس عطیہ پر ہونے لگا جو کسی شخص کو کسی بھی میدان میں اچھی کار کردگی دکھانے پر دیا جائے۔ ‘‘[34]

اسی معنی میں اس لفظ کا استعمال ابو شریح کعبی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہواہے:’’ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے اور مہمان کا انعام و اکرام ایک دن رات کا ہے۔‘‘[35]

آج کل انعام کے لفظ کا استعمال عام طور سے اس عطیہ پر ہونے لگا جو کسی شخص کو کسی بھی میدان میں اچھی کارکردگی دکھانے پر دیا جائے تاکہ اس کا اکرام بھی ہو اور دوسروں کو بھی اس کام کو کرنے کا حوصلہ ہو۔ جہاد کے موقع میں امیر لشکر فوجیوں کو لڑائی پر ابھارنے اور دشمن کے سامنے ثابت قدم رہنے میں وہ ترغیب کے طور پر وعدہ کرتا ہے کہ جو کوئی کسی دشمن کو قتل کرے گا تو گواہ ہونے کی صورت میں مقتول دشمن کا سارا سامان اس فوجی کو ملے گا)۔ چونکہ انعام کی حقیقت یہ ہے کہ وہ ہبہ ہے جو عوض سے خالی ہو اس لیے انعام عقود معاوضہ میں سے نہیں ہے بلکہ تبرعات کے قبیل سے ہے اور اس کے جواز کی شرائط یہ ہیں کہ وہ دینے والے کی طرف سے تبرع ہو اور انعام لینے والا شخص پہلے (دینے والے)سے وعدہ نہ کرے کہ وہ انعام کے مقابلے میں مالی عوض دے گا۔ اس طرح سے انعام کی دو قسمیں بنتی ہیں ؛

انعام کی پہلی قسم:

وہ انعام جو انعام دینے والے کی طرف سے کسی التزام یا سابقہ وعدے کے بغیر دیا جائے مثلاً ایک طالب علم امتحان میں اچھے نمبروں سے پاس ہوا تو کسی سابقہ وعدے یا سابقہ التزام کے بغیر اس کا استاد یا اس کا کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی اور شخص اس طالب علم کو انعام دے۔ یہ صورت بلاشبہ ہبہ اور تبرع کی ہے اور اس کی حلت میں بھی کسی قسم کا کوئی شک نہیں ۔

انعام کی دوسری قسم:

وہ انعام جو کسی التزام اور سابقہ وعدہ کی بنیاد پر دیا جائے۔ انعام دینے والا التزام کرتا ہے کہ وہ کسی خاص واقعہ کے وقوع پر انعام دے گا جس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ وہ واقع ہو گا یا نہیں ۔ اس کے جواز کی شرائط یہ ہیں کہ وہ انعام دینے والے کی طرف سے محض تبرع ہو اور جس کو انعام دیا گیا ہے اس پر یہ شرط نہ ہو کہ وہ مخاطرہ یعنی مقابلہ میں شامل ہونے کے لیے عوض دے کیونکہ اگر انعام میں ایسی شرط ہو تو وہ عقود معاوضہ میں داخل ہو گا جن میں غرر اور مخاطرہ حرام ہوتے ہیں اور اس میں قمار (جوا) ہوتا ہے۔[36]

دوسرے کا مال حلال ہونے کے لئے تجارت اور تراضی کی دو شرطیں:

قرآنِ مجید میں تجارت کے ساتھ’’عَن ترَاضٍ مِنکُم‘‘ فرما کر یہ بتلا دیا کہ جہاں تجارت ہی نہ ہو بلکہ تجارت کے نام پر جواء، سٹہ، یا ربوٰ اور سود کا معاملہ ہو یا مال ابھی موجود نہیں، محض ذہنی قرار داد پر اس کا سودا کیا گیا ہو وہ بیع باطل اور حرام ہے۔اس طرح اگر تجارت یعنی مبادلہ اموال تو ہو لیکن اس میں فریقین کی رضامندی نہ ہو وہ بھی بیع فاسد اور ناجائز ہے اور یہ دونوں صورتیں باطل میں داخل ہیں، پہلی صورت کو فقہاء بیع باطل کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور دوسری صورت کو بیع فاسد کے نام سے ذکر کرتےہیں ۔

ترغیب ورعایت کے ناجائز پہلو اور حدودِ شرعیہ:

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ اشتہارات آج کی دنیا میں مصنوعات اور خدمات وغیرہ کی ترویج وترغیب کا اہم ذریعہ ہیں اور آج کے معاشرے میں یہ ایک بنیادی ضرورت بن چکی ہے،لیکن اشتہارات کی ایک بہت بڑی تعداد فحاشی، موسیقی اور اس جیسی دیگر شرعی خرابیوں پر بھی مشتمل ہوتی ہے۔اس لیے ذیل میں تشہیر کےذریعےدی جانےوالی ترغیبات اورمراعات کےجواز کی حدود بیان کی جاتی ہیں۔کسی بھی چیز کی ترغیب واشاعت کرتےاور اشتہاربناتے وقت اِ ن حدود سے تجاوز کرنا شرعا درست نہیں ہے۔

۱۔اسراف ِبےجا:

ترغیب واشاعت کا منفی پہلو فضول خرچی ہے۔ قرآن مجید میں اسراف سے بچنے کو اہل ایمان کی صفت قرار دیا ہے:

’’ وَالَّذِينَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قَوَاماً‘‘ [37] 

’’یہ وہی لوگ ہیں جو جب خرچ کرتے ہیں تو نہ تو فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ ہی کنجوسی۔ یہ ان دونوں کے درمیان اعتدال سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘ 

 موجودہ دورمیں اپنی پروڈکٹ کی ترغیب واشاعت پر ہر بڑی کمپنی سالانہ اربوں روپے خرچ کرتی ہے۔ پاکستان میں چھوٹے سے دورانیے کی اشتہاری فلم بنانے پر تین سے لے کر دس لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ یہ دورانیہ عموماً پندرہ بیس سیکنڈ سے لے کر چالیس پچاس سیکنڈ پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگر اسی فلم کی شوٹنگ اور دیگر کام بیرون ملک سے کروائے جائیں تو اس پر ساٹھ ستر لاکھ سے لے کر دو تین کروڑ روپے تک کی لاگت بھی آجاتی ہے۔ اس رقم میں بڑا حصہ ماڈلز ، ڈائریکٹرز اور دیگر افراد کا معاوضہ، فلم کی تیاری میں استعمال ہونے والے ساز و سامان کا کرایہ، فلم کو ایڈٹ کرنے کے اخراجات اور دیگر کئی امور شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بیرون ملک ہونے والی شوٹنگ میں آمد و رفت اور بیرون ملک بڑے ہوٹلوں میں ٹھہرنے کے اخراجات بھی شامل ہیں۔

۲۔پروڈکٹ کی صفات اور عیوب:

پہلی اور بنیادی شرط یہ ہے کہ پروڈکٹ حلال ہو۔پھرترغیب و تشہیر کے وقت کسی چیز کی محض اطلاع دینا مقصود ہوتی ہے، توایسی صورت میں یہ ضروری نہیں ہے کہ اس چیز کے عیوب کو بھی ذکر کیا جائے۔البتہ جب عملاً خرید وفروخت کا معاملہ ہورہا ہو تو اس وقت خریدار کو اس چیز کے عیوب کے بارے میں بتانا ضروری ہے۔لیکن اگر تشہیر کے وقت کسی چیز کا مکمل تعارف کرانا بھی مقصود ہوجس میں اس چیز کی خصوصیات اور فوائدذکر کیے جارہے ہوں تواس چیز کے درست صفات کا تذکرہ ضروری ہوگا۔جھوٹ بول کرایسے فوائد کو ذکر کرنا جائز نہیں ہوگا جو درحقیقت اس چیز میں نا پائے جاتے ہوں ۔

اسی طرح اس وقت اس چیز کے اندر پائے جانے والے عیوب کا حقیقت پسندی سے تذکرہ کرنا بھی ضروری ہوگا،کیونکہ اگر اس وقت عیوب نہ بتائے گئے تو خریدار صرف فوائد دیکھ کر چیزخرید لے گا، جس کی وجہ سے اُسے دھوکہ ہوگا جو کہ شرعاً جائز نہیں ہے۔ترغیب واشاعت کے لیے فرضی کہانی(Realistic) بنانے کا بھی یہی حکم ہے کہ وہ جھوٹ پر مبنی نہ ہواور کہانی میں جن فوائد وخصوصیات کاتذکرہ کیا جائے وہ واقعی اُس پروڈکٹ میں پائی جارہی ہیں تو ایسی کہانی بنانے کی بھی گنجائش ہے۔[38]

۳۔ صارفین میں تعیشات کی زیادہ سے زیادہ طلب پیدا کرنا:

بہت سی اشیاء و خدمات ایسی بھی ہیں جن کے بغیر بھی انسان کی زندگی بڑے آرام سے گزر جاتی ہے۔ ان کا استعمال محض لطف اٹھانے اور عیش پرستی کےلئے ہوتا ہے۔ علم معاشیات میں ان اشیاء و خدمات کو  تعیشات یا (Luxuries) کہا جاتا ہے۔جب ایسی اشیاءکی ترغیب واشاعت کی جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں عوام الناس میں ان کی ڈیمانڈ پیدا ہوتی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ بھی اس ڈیمانڈ کو پورا کرنے کے لئے دولت کو ہر جائز و ناجائز طریقے سے حاصل کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اگر وہ غربت کو ختم نہیں کرسکتی تو ایسی اشیاء و خدمات کی تشہیر پر مناسب پابندیاں عائد کرے جس سے معاشرے کے غریب طبقات میں فرسٹریشن پیدا ہورہی ہو۔ اگر حکومت اپنی ذمہ داری کو پورا نہ کر رہی ہو تو ان کمپنیوں کو، جو اپنے کاروبار میں اخلاقی اصولوں کو بہت اہمیت دیتی ہیں، خیال رکھنا چاہئے۔ [39]

۴۔تصاویراور انسانی اعضاء کی نمائش:

تشہیر میں کسی غیرجاندار چیز(جیسے درخت، پہاڑ وغیرہ) کی تصویر دکھانا بلاشبہ جائز ہے،البتہ جاندار کی تصویر کے حکم سے

پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ذرائعِ ابلاغ دو قسم کے ہیں:ایک وہ ذرائع ہیں جن میں اشتہار کا کوئی پرنٹ نہیں نکالا جاتا، جیسے ملٹی میڈیا (سی ڈی،ٹی وی،کمپیوٹر وغیرہ)ذرائعِ ابلاغ کی دوسری قسم وہ ہے جس میں اشتہار کا باقاعدہ پرنٹ نکال کرشائع کیا جاتا ہے،جیسے پرنٹ میڈیا یعنی اخبارات ورسائل اور سائن بورڈ کے اشتہارات،درج بالا دونوں قسموں کا حکم الگ ہے:

’’ ملٹی میڈیا کے ذریعے ترغیب کی غرض سےتشہیر کرتے وقت کسی جانور یا مرد کی تصویر دکھانا جائز ہے،بشرطیکہ مرد کے ستر کی جگہ نہ دکھائی جائے جو کہ ناف سے لیکر گھٹنوں کے نیچے تک کے حصے پر مشتمل ہے۔جہاں تک عورت کی تصویر کی بات ہے تو عورت کے جسم کا کوئی بھی حصہ دکھانا جائز نہیں ہے،البتہ ضرورت کے وقت صرف ہاتھ اور پاؤں دکھائےجاسکتے ہیں۔‘‘ [40]

تاہم یہ مجوزین کا قول ہے جن کے نزدیک تصویر سازی محدود یا لامحدود سب جائز ہیں، البتہ جن کے یہاں یہ جائز نہیں ان کا

ترغیبات و تشہیر میں موقف بالکل واضح ہے کہ بلاتصویر ترغیب و تشہیر جائز ہے اور اس میں تصاویر کا استعمال حرام ہے۔

۵۔صارفین کے جذبات کو اپیل کرنا:

ترغیب/تشہیر کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اپنی پراڈکٹ یا برانڈ کے متعلق لوگوں میں آگاہی پیدا کردی جائے اور انہیں اس کے فوائد بتا کر عقلی طور پر اس بات پر قائل کیا جائے کو وہ ان پراڈکٹس کو خرید لیں۔ہمارے معاشرے میں اپنی پراڈکٹس کے فوائد بتلا کر ان کو خریدنے کی ترغیب پیدا کرنے کا کام بھی کیا جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ زیادہ زور اس بات پر ہے کہ لوگ اپنی عقل و دانش کے تحت تجزیہ کر کے نہیں بلکہ اپنے جذبات کے ہاتھوں ان پراڈکٹس کو خریدنے پر مجبور ہوجائیں۔

اس مقصد کے لئے ہر برانڈ کو کسی مخصوص جذبے مثلاً دوستی، عشق و محبت ، مامتا، اپنائیت، ذہنی سکون، ایڈونچر حتیٰ کہ جنسی خواہش کے ساتھ وابستہ کردیا جاتا ہے۔ جن افراد میں یہ جذبات شدت سے پائے جاتے ہیں، اشتہارات ان کے انہی جذبوں میں تحریک پیدا کرتے ہیں اور انہیں اس کے ذریعے اپنا برانڈ خریدنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان اشتہارات کو بار بار دکھا کر ، انہیں میوزک اورنغموں (Jingles) کے ذریعے ذہنوں میں اتار کر، اور ان میں نت نئی ورائٹی پیدا کرکے انہیں زیادہ سے زیادہ دلچسپ بنا کر ان جذبات کی شدت میں اور اضافہ کیا جاتا ہے۔

۶۔خلابہ (گمراہ کن مارکیٹنگ ) کا وجود:

خلابہ کامطلب ہےگمراہ کرنا،آج کل کی نوجوان نسل میں چونکہ دین سے دوری پائی جاتی ہے اور اس پر مستزاد اس طرح سے فحش قسم کے تشہیر ی اشتہارات کی اتنی بھرمار کہ ہر طرف بے حیائی نظر آتی ہے۔اس سے ایک طرف تو نوجوان نسل جنسی بے راہ روی کا شکار ہوتی ہے اور دوسری طرف معاشرے میں ان لوگوں کو اشتہارکاری کے ذریعہ ملنے والے پروٹوکول سے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہی انداز عزت کامعیار ہے۔ جس سے وہ ان کے اسٹائل ،لباس ،فیشن وغیرہ کی نقالی کرتے ہیں اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں ۔اس طرح سے ان کا دین اور اخلاق دونوں تباہ ہوجاتے ہیں ۔اس لیے موجودہ دور میں مسلمان تاجروں کو مارکیٹنگ کرنے کے لیے طریقوں کا استعمال سیکھنا چاہیے۔اسلام اس سے منع نہیں کرتا،لیکن اس کے اپنانے میں اگر اللہ کی ناراضگی مول لینی پڑے تو یہ مہنگا سوداہے جو کہ دنیا اور آخرت دونوں جہانوں میں خسارے کا باعث ہے۔جدید ذرائع میں سے جو اس حوالے سے جائز ہیں ان کو استعمال کیا جائے اور جو ناجائز ہیں ان سے اجتناب کیا جائے ۔[41]

۷۔ناجائز اشیا کی ایڈورٹائزنگ:

ایڈورٹائزنگ کا ایک اور منفی پہلو ایسی اشیاء کی تشہیر ہے جن کی دین اسلام نے ممانعت کی ہے۔ ظاہر ہے جس چیز کا استعمال

گناہ ہے ، اس کو استعمال کرنے کی ترغیب دینا بھی گناہ ہے۔ اسی اصول پر شراب، جوا، سود، بدکاری اور اسی قسم کی دیگر اشیاء و خدمات کی ایڈورٹائزنگ اور مارکیٹنگ بھی منع ہے۔ چنانچہ جو لوگ اس شعبے سے وابستہ ہیں اور اپنے دل میں خدا کا خوف ہیں، ان پر لازم ہے کہ وہ ایسی اشیاء کے لئے اشتہارات کی تیاری، ان کے لئے ایئر ٹائم کی خریداری اور دیگر معاملات سے اجتناب کریں۔ اس قسم کی صریحاً ناجائز چیزوں کے علاوہ بعض ایسی چیزیں بھی ہوتی ہیں جن کے زیادہ استعمال سے انسان کی صحت کو شدید خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ اس کی مثال سگریٹ اور بہت سی ادویات ہیں۔ ایسی اشیاء کی ایڈورٹائزنگ بھی درست نہیں کیونکہ ان کے نتیجے میں بہت سے انسانوں کو نقصان پہنچنے کا غالب اندیشہ ہوتا ہے۔

۸۔قوانین کی پابندی:

تشہیر و ترغیب کے سلسلے میں حکومتِ وقت نے جن قوانین کی پابندی کو لازم قرار دیا ہے،اُن کی رعایت رکھنا ضروری ہے۔ کیونکہ اگر حکومت عوامی مصلحت کے لیے کوئی جائز قانون بنائے جس کے ساتھ مملکت کی یا عوام کی مصلحت وابستہ ہو تو عوام کے لیے شرعاً اس کی پابندی ضروری ہےاور اس کی خلاف ورزی جائز نہیں،خلاف ورزی کرنے والا گناہ گار ہوگا۔ [42]

خلاصہ بحث و سفارشات:

درج بالا بحث سے تشہیر و ترغیب کی بنیادی ضروریات اور اس کی شرعی حیثیت واضح ہوتی، ذیل میں اس سے اخذ ہونےوالے نتائج و سفارشات ذکر کیے جاتے ہیں؛

  • عقائد وعبادت کی طرح معاملات بھی دین کا ایک اہم شعبہ ہے۔ شریعت اسلامی نے معاملات کی تفصیلات بھی بیان کیں‌ اور حلال وحرام، مکروہ و مباح اور جائز و طیب کے مکمل احکام بھی ارشاد فرمائے ہیں۔
  • شرع متین نے کاروبارمیں ہمیشہ سچائی،دیانت اورامانت کواختیارکرنے اور جھوٹ، فریب، ناپ تول میں‌ کمی سے احتراز کرنے کا حکم دیا۔
  • مختلف قسم کی ترغیبات ومراعات کےکچھ فوائدہونےکےساتھ ساتھ نقصانات کی مقداراوربرے اثرات زیادہ واضح ہیں ۔لہذاان ترغیب واشاعت کی اقسام اورطریقہ کارکواعتدال میں لانے کی ضرورت ہےاوراس کے لیےشرعی قوانین کےنفاذکےساتھ ساتھ ملکی قوانین بھی ایسے بنائےجائیں جوتجارتی کمپنیوں کےلیےحدودمقررکریں ۔
  • ان وسائل و ذرائع کو کنٹرول میں لاکر معاشرےمیں غریب عوام اورسرمایہ داروں کےدرمیان تفاوت کوکم کیاجاسکتا ہے اورکسی حد تک توازن بحال کرنےکی سعی ہوسکےاوراس ترغیب واشاعت کےطوفانِ سےمتاثرہوکر جرائم کےبڑھتے ہوئےگراف کونیچےلایاجاسکے۔
  • اسلام نے ہر اس معاملہ کومسترد کردیا ہے، جس میں دغا فریب اور دھوکہ دہی پائی جاتی ہو ،نیز جس میں ملکی بدانتظامی اور لوگوں کی

ضرررسانی کا عنصر پایا جائے، یا جس میں مفادِ عامہ کی چیزوں پر چند افراد کے قبضہ کی صورت پائی جائے۔

  • اسی طرح جس میں خرید وفروخت کے ساتھ کوئی شرط لگادی جائے یا ایسا معاملہ ہو کہ جس میں بیع کے ساتھ کسی دوسرے معاملہ کا قصد کیا جاتا ہو اور بیع کا صرف بہانہ ہو،سب ممنوع ہیں۔
  • اسی طرح وہ معاملہ بھی شریعت کے مزاج سے ہم آہنگ نہیں، جس میں نزاع اور لڑائی کا احتمال ہو۔
  • اگر Direct advertisement کو فروغ دیا جائے جو انسانی تہذیب کا ہمیشہ سے خاصہ رہی ہے اورماس کمیونیکیشن سے توجہ ہٹا لی جائے تو ان تجاوزات کا ازالہ کیا جاسکتاہے ۔
  • روزمرہ کے استعمال کی چیزوں کی تشہیر بازاروں اور کاروباری مراکز میں اشتہار ، پمفلٹ اور معلوماتی لٹریچر مہیا کرکے کی جاسکتی ہے۔
  • فالتو ، فری اور انعامی اسکیموں کے لالچ میں لوگوں کو نہ پھنسایا جائے ، بلکہ کمپنیاں اپنی لاگت کم کرنے اور صارفین کو رعایت دینے کے طریقے اپنائیں۔
  • قسط وار اشیا دینے کی حوصلہ شکنی کی جائے ، اس لیے کہ یہ سود کا عنصر اپنے اندر رکھتی ہیں ۔اس کی بجائے لوگوں کو قرضِ حسنہ دے کر اپنی ساکھ بہتر بنائی جاسکتی ہے۔
  • سامان تعیش اور Luxuries کی ایڈورٹائزمنٹ کو سختی سے بند کرنا چاہیے کیونکہ یہ معاشرتی اور نفسیاتی بے چینی کا باعث بنتی ہیں۔ اس لحاظ سے یہ نفسیاتی طور پر لوگوں کو مختلف امراض میں بھی مبتلا کرنے کا باعث ہے۔

حوالہ جات

  1. صمدانی، اعجاز احمد،تجارتی کمپنیوں کالائحہ عمل ) کراچی :ادارہ اسلامیات ،۲۰۰۸ء)، ص: ۲۳۹
  2. ایضا،ص : ۲۱
  3. www.en.oxforddictionaries.com, (accessed 13 Mar, 2018)
  4. رضا ،محمد حسنین ،اخبار میں اشتہار کی اہمیت وافادیت:
    www.hamariweb.com, (accessed July 15, 2018)
  5. http://shariahandbiz.com, (accessed July 15, 2018)
  6. قاسمی ،اشتیاق احمد ، نیٹ ورک مارکیٹنگ، مشمولہ :ماہ نامہ دارالعلوم ديوبند(حیدرآباد:، جولائی۲۰۰۸ء،، شماره : ۷، جلد : ۹۲)،ص: ۳
  7. ثاقب مجید​،گولڈ مائن انٹرنیشنل(GMI)کی فریب کاریاں:
    www.urdumajlis.net, (accessed July 15, 2018)
  8. www.llqiacademy.blogspot.com (accessed July 15, 2018)
  9. مفتی ،تقی عثمانی ،اسلام اورجدیدمعیشت وتجارت ( کراچی :ادارۃ المعارف،۱۴۱۴ھ)،ص: ۷۶۔۷۷
  10. مضمون نگار،سوالنامہ برائےتجارتی مراکز،سروے کی تاریخ:2017-09-05
  11. مضمون نگار،سوالنامہ برائےتجارتی مراکز،سروے کی تاریخ:2017-09-05
  12. ام عبدمنیب،لاٹری (لاہور:مشربہ علم وحکمت،۱۴۳۴ھ)،ص: ۸
  13. رحمانی، جعفر ملی ،المسائل المہمہ فیما ابتلت بہ العامہ (مہارشٹرا: مکتبہ السلام، ۲۰۱۷ء)،۱۰: ۲۴۰
  14. ام عبدمنیب،اشیائے ضرورت کااسلامی معیار (لاہور:مشربہ علم وحکمت،۱۴۴۵ھ)،ص: ۱۱
  15. البقرہ: ۱۸۸
  16. المومنون: ۵۱
  17. سورۃالنساء:۴
  18. الشاطبی،ابراهيم بن موسىٰ،الموافقات فی اصول الاحکام (بیروت:دار ابن عفان،۱۹۹۷ء)،۲: ۱۹
  19. النووی ،أبو زكريا محيي الدين، شرح النووي علی مسلم ( بيروت: دار احیاء التراث العربي ،۱۳۹۲ء ) ،۱۰: ۱۵۹
  20. نور الدين بن مختار،علم ا لمقاصد الشرعیۃ (قاہرہ : مكتبۃ العبيكان،۲۰۰۱ء)،ص: ۴۶
  21. البیہقی،احمد بن الحسین،السنن الکبریٰ (بیروت:دارالکتب العلمیۃ،۲۰۰۳ء)،۸: ۳۱۶، حدیث: ۱۶۷۵۶
  22. المجددي ،محمد عميم الاحسان ،قواعد الفقہ (کراچی:الصدف پبلشرز، ۱۹۸۶ء )،ص: ۸۱
  23. ابن عابدین،محمدامین ، ردالمحتار ( بیروت :دارالکتب العلمیہ،۲۰۰۳ء )،کتاب الھبہ ۵: ۶۸۷،
    مزید دیکھیے:ابن نجيم، زين الدين بن ابراہيم ،البحر الرائق شرح کنزالدقائق (دمشق: دار الكتاب الإسلامی،۱۱۳۸ء)کتاب الھبہ، ۷: ۲۸۴
  24. مفتی عبد الواحد ،جدید معاشی مسائل کی اسلامائزیشن کا شرعی جائزہ ( لاہور :جامعہ دارالتقویٰ ،س ن )،ص: ۲۶۷
  25. النووی ، شرح النووی علی مسلم ،حدیث :۱۵۳۲
  26. الترمذی ، محمد بن عیسیٰ،الجامع ( الریاض: دارالسلام للنشر والتوزیع،۱۹۹۹ء )،حدیث :۲۲۴۶؛ الحاکم ، المستدرك على الصحيحين (بيروت :دار الكتب
    العلميۃ،۱۹۹۰ء )، حدیث: ۲۱۵۲
  27. الموصلی،أبو يعلى أحمد بن علی،المسند(دمشق :دار المأمون للتراث ، ۱۹۸۴ء)،حدیث : ۳۴۵۶
  28. الطبرانی،ابوالقاسم سلیمان بن احمد،المعجم الاوسط (قاھرہ :دارالحرمین، ۱۹۹۵ء )باب المیم ، ۷: ۱۷۴،حدیث : ۷۱۹۸
  29. على كراويہ،ياسر بن طٰہ ، ا لمعاملات الماليۃ المعاصرة فی الفكر الاقتصادی الإسلامی (غیر مطبوع: ۲۰۱۱ء )،ص: ۶۷
  30. اندلسی،ابو حيان محمد بن يوسف، البحر المحیط ( بيروت :دار الفكر ، ۱۴۲۰ھ) ،۳: ۳۲۲
  31. www.elmedeen.com, )accessed July 17, 2018)
  32. تھانوی ،اشرف علی ، امداد الفتاوی ( کراچی :مکتبہ دار العلم ،۲۰۱۰ء )،۳: ۲۱
  33. گنگوہی ،محمود حسن ، فتاوی محمودیہ (کراچی:دار الافتاء جامعہ فاروقیہ، ۲۰۰۵ء)،۲۳: ۳۶۳
  34. عبد الواحد، معاشی مسائل کی اسلامائزیشن کا شرعی جائزہ(لاہور :جامعہ دارالتقوی،س ن)،ص: ۷۳۔۷۵
  35. البخاری،محمد بن اسماعیل، الجامع الصحیح (الریاض: دارالسلام،۲۰۰۰ء)، حدیث : ۶۰۱۹
  36. عبد الواحد، معاشی مسائل کی اسلامائزیشن کا شرعی جائزہ ، ص: ۷۷۔۷۹
  37. الفرقان :۲۵
  38. نذیر،محمدمبشر، اسلام اور دورحاضرکی تبدیلیاں ،ص: ۶
  39. ایضاً، ص : ۲۴
  40.  عثمانی،شبير احمد ، تكملہ فتح الملهم ( بیروت :دار إحياء التراث العربي ،۲۰۰۶ء)، ۴: ۱۶۴
  41. محمدایوب، اسلامی مالیات (اسلام آباد :رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی،۲۰۱۰ء )،ص: ۹۱
  42. شبير أحمد عثمانی ،تکملہ فتح الملہم،۳: ۳۲۳