Playstore.png

غیر مسلم اقوام کی مشابہت: اصولی ابحاث اور فقہاء کے استنباطات کا عصری انطباق

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ إیقان
عنوان غیر مسلم اقوام کی مشابہت: اصولی ابحاث اور فقہاء کے استنباطات کا عصری انطباق
انگریزی عنوان
Resemblance of Non-Muslim Nations, Principal Quests and Implementation: In the Light of Inferences of Jurists
مصنف Farooq، Yasir
جلد 1
شمارہ 1
سال 2018
صفحات 105-124
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
resemblance, obligations, festivals, distinguished, differences
شکاگو 16 Farooq، Yasir۔ "غیر مسلم اقوام کی مشابہت: اصولی ابحاث اور فقہاء کے استنباطات کا عصری انطباق۔" إیقان 1, شمارہ۔ 1 (2018)۔

Abstract

Islam, as a religion, has a clear distinguished. It gives evident rules, religious obligations, terms and conditions to his followers. Every Muslim should follow these commands. The logic behind the traditions of holy prophet (pbuh) which are in prohibition of resemblance with polytheist and unbelievers is, these are compulsory for a religious person to remain in touch his own culture and civilization. Through the traditions of the holy prophet, we concluded that he (pbuh) strictly disliked any Muslim to adopt and copy of non-Muslim’s deeds which leaving Islamic culture civilization, because all the non-Muslims have their own religious obligations. However, Islam condemn all religious obligations, festivals and conditions that are against Islam. If, a Muslim is doing such deeds against the teaching of Islam, what would be the result of this behavior and attitude according to Islam? in this article, same rules and conditions are discussed to discriminate the differences and its impact between the cultures of Islam and other religions. what would be the result of this behavior and attitude according to Islam? And author presented many principles is this regard so a Muslim may be able to distinguish his religious and as well as his cultural values in Islamic society.

تعارف:

اسلام ایک ایسا ضابطہ حیات اور دستور ِ زندگی ہے جس میں مسلمان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام پہلوؤں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایات دی گئی ہیں اور مسلمان کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی زندگی انھی ہدایات کی روشنی میں بسرکرے۔ نبی اکرمﷺ نے ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنی سیرت طیبہ سے مسلمانوں کو عملاً نمونہ فراہم کیا ہے ۔ مسلمانوں کی دینی اور دنیوی زندگی کی کامیابی انھی اصولوں اور نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ کی پیروی میں ہی مضمر ہے۔ انسانی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جس بھی فرد نے اس ضابطہ حیات اور اسوۂ حسنہ کی پیروی کی تو کامیابی اس کا مقدر ٹھہری اور جس نے اس نسخہ کیمیا سے اعراض برتا وہ دنیوی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ذلت و ادبار کا مستحق ٹھہرا۔

نبی اکرم کے وہ فرامین جو کفار و مشرکین سے مشابہت کی ممانعت [1] میں وارد ہوئے ہیں ان کے پیچھے یہی حکمت کا ر فرما تھی کہ مسلمانوں کے لیے اپنی تہذیب و ثقافت سے جڑا رہنا ازحد ضروری ہے۔ فرامین ِ نبوی ﷺ کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس بات کو سخت ناپسند کرتے تھے کہ کوئی مسلمان اسلامی تہذیب و ثقافت کو چھوڑ کر کفار کی نقل کرے یا ان کی مشابہت اختیار کرے۔

عصرِ حاضر میں مسلمانوں کو سماجی اورمعاشرتی زندگی کے حوالے سے جو مسائل درپیش ہیں ان میں ایک مسئلہ اسلامی تہذیب و ثقافت کی شناخت کو برقرار رکھنے اور اس کی حفاظت کرنے کا بھی ہے۔ آج دنیا گلوبل ولیج کی شکل اختیار کر چکی ہے جس کے باعث مغربی تہذیب اسلامی معاشروں میں اثر پذیر ہو رہی ہے ۔عصر حاضر کی اس ثقافتی جنگ میں مسلم معاشرے میں عمومی طور پر بعض ایسے رویے پائے جا تے ہیں جن کی وجہ سے اسلامی تشخص لاعلمی کی بنیاد پر کئی اشکالات واعتراضات کا شکار ہوکر مبہم ہوتا چلاجارہا ہے اور اسلام کی اصل اور حقیقی تعلیمات سے لوگ دور ہوتے جارہے ہیں۔حالانکہ دینِ اسلام کا اپنا ایک تشخص ہے اور یہ اپنے پیروکاروں کو جو تعلیمات دیتاہے وہ دیگر تمام ادیان کی نسبت ممتاز ہیں ۔ان کا ماننا اور ان پر عمل پیرا ہونا ہی اصل کامیابی ہے ، اسی ضمن میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ ‘‘[2]

’’بلاشبہ دین اللہ کے ہاں اسلام ہی ہے۔‘‘

حافظ ابن کثیر ؒ اس آیت مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ’’اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے فرمان (ان الدین عنداللہ الاسلام) میں اس بات کی خبر دے رہا ہے کہ اس کے ہاں اسلام کے علاوہ کوئی اور دین ہرگز قبول نہیں ہوگااور وہ یہ ہے کہ ہرپل اس کے پیغمبر وں کی اس چیز میں پیروی کی جائے جو اس نے ان کو دے کر بھیجی ہے یہاں تک کہ ان کا سلسلہ محمد ﷺپر آکر ختم ہوگیاجس نے آکر اس کی طرف جانے والے تمام راستے(احکامات،شریعتیں) مسدود کردیے ماسوا اپنی جہت (شریعت)کے،پس جو اللہ کومحمدﷺکی بعثت کے بعد کسی ایسے دین پر عمل کرتے ہوئے ملا جو اس (محمد ﷺ)کی شریعت کے مخالف ہوا تو وہ دین اس سے ہرگزقبول نہیں کیا جائےگا۔ [3]اسلام کی ان الہامی تعلیمات کو مستردیا کسی اور تہذیب وثقافت کو اختیار کرنے والے اس شخص کے بارے میں جو اسلام پر عمل نہیں کرتا ،اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ ‘‘[4]

’’اور جو اسلام کے علاوہ کوئی اوردین تلاش کرے تو وہ اس سے ہرگزقبول نہ کیا جائے گااوروہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔‘‘

اس کا مطلب یہ ہے کہ شریعت ِ اسلامیہ میں جو امتیاز اس کے پیروکاروں کو دیا گیا ہے اس کو کسی اور قوم یا معاشرے کی نقالی کرکے زائل نہ کیا جائے،ا ور نہ ہی کسی قسم کے قول و فعل میں ان کی مشابہت کی جائے۔ اس لیے کہ ایسی مشابہت درحقیقت اس قوم کے مذہبی اعتقادات اور معاملات میں پیروی اور اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو اختیار کرنے کے مترادف ہے،جسے ’’ کوئی اور دین تلاش کرنے‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

مشابہتِ غیر مسلم اور روایتی بیانیہ:

چھٹی صدی ہجری جب اسلامی معاشرے میں یونانی ، ایرانی اوردوسری ثقافتوں کے زیر اثر مختلف فرقوں کا ظہو رہوا اور کلامی بحثوں میں اسلامی شناخت اور کفر اور تکفیر کے مسائل اٹھے تو کفار سے مشابہت پر بھی بحث ہوئی۔ امام ابو حامد غزالی ؒ( ۵۰۵م )نے اس مسئلہ کا تفصیلی تجزیہ ضروری سمجھا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ انہوں نے اس مسئلے کو دینی حیثیت سے نہیں ، بلکہ معاشرتی اور ثقافتی سوال کے طورپر اٹھایا ۔ اسی لیے انہوں نے اس مسئلے کو اپنی کتاب احیاء علوم الدین میں کتاب آداب الالفتہ والاخرۃ والصحبتہ والمعاشرۃ مع اصناف الخلق (لوگوں کے مختلف گروہوں کے ساتھ محبت ، اخوت ، تعلقات اور معاشرے کے آداب) کے باب میں ذکر کیا اور اس کے نفسیاتی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔[5]

انہوں نے واضح کیا کہ انسان محبت اور انس کی بناء پر دوسرے کی مشابہت اختیار کرتا ہے اور نفرت اور حقارت کی بنیاد پر مشابہت سے گریز کرتا ہے ۔ امام موصوف کے نزدیک یہ محبت اور نفرت دین کے حوالے سے ہے ۔ نفر ت کی وجہ کفراور بدعت ہیں اور محبت ایمان کی وجہ سے ہے۔ تاہم اگر حالت جنگ نہیں ہے تو عام میل جول میں کسی مسلمان کو کسی کافر کو نقصان پہنچانے کا کوئی حق نہیں ۔ البتہ غیر مسلموں سے غیر ضروری میل ملاقات اور دوستی سے اجتناب کیا جائے۔ ان سے سلام میں پہل نہ کی جائے ۔ اگر راستے

میں مسلمان اور غیر مسلم کا آمنا سامنا ہوجائے تو غیر مسلم راستے کے کنارے پر چلے۔[6]

مشابہتِ غیر مسلم کے بارے ابن تیمیہ ؒ کا نکتہ نظر:

امام ابن تیمیہ ؒ( م 728)اپنے دور کے مسلم معاشرے سے شکوہ کناں ہیں کہ غیر مسلموں سے مشابہت کے بارے میں مسلمانوں کا رویہ بہت نرم پڑتا جا رہا تھا۔ انہوں نے اس مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر اس کی طرف خصوصی توجہ دی ۔ احادیث میں مسلمان معاشروں کے بارے میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ مسلمان یہود کے نقش قدم پر چلنے لگیں گے اور تفرقے میں پڑ جائیں گے۔ امام ابن تیمیہ ؒ اس پیش گوئی کو سورۃ الفاتحہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں جس میں بنی نوع انسان کے تین گروہ بیان ہوئے ہیں:

’’اول وہ جو صراط مستقیم اور سیدھے راستے پر چلتے ہیں،دوسرے وہ جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا تیسرے وہ جو سیدھے راستے سے بھٹک گئے ۔ان کے نزدیک پہلے گروہ سے مراد مسلمان ہیں،دوسرے یہود اور تیسرے نصاریٰ ہیں۔‘‘

یہو دو نصاریٰ چونکہ صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے ہیں اس لیے امام ابن تیمیہ ؒ مسلمانوں میں گروہ بندی اور تفرقے کو یہود و نصاریٰ کی مشابہت کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے کئی رسائل میں تشبہ کے مسئلے پر بحث کی ہے لیکن ان کی شہرہ آفاق کتاب ’اقتضاء الصراط المستقیم مخالفتہ اصحاب الجحیم ‘ خاص طورپر اس استدلال پر مبنی ہے کہ سیدھا راستہ اہل جہنم کی مخالفت سے ہی مل سکتا ہے ۔ ابن تیمیہؒ کے ہاں مشابہت کی ممانعت کا مطلب صرف کفار کی نقل کی ممانعت ہی نہیں بلکہ ان کی مخالفت بھی اس ممانعت میں شامل ہے۔

اس لحاظ سے تشبہ کے دو مفہوم ہیں ایک محض نقل اور دوسرے اغراض و مقاصد میں پیروی ۔ اگرچہ دونوں کفار سے مشابہت کے زمرے میں آتے ہیں ۔ لیکن دوسرا مفہوم زیادہ قابل مذمت ہے ۔ اور اسی مفہوم کی بنیاد پر مشابہت کی ممانعت کا تقاضا ہے کہ کفار کی مخالفت کی جائے ۔ امام ابن تیمیہ ؒ قرآنی آیات اور احادیث کا حوالہ بھی دیتے ہیں ، جن میں کفار خصوصاً یہود ونصاریٰ سے مشابہت کو منع کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن کریم اور احادیث میں صرف کفار کے افعال کی نقل سے منع نہیں کیا گیا بلکہ ان کی مخالفت کا بھی حکم دیا گیا ہے کہ کفار کے افعال اور رسوم و رواج کی مخالفت کرو۔ مثلاً یہود بیت المقدس کو قبلہ مانتے تھے، رسول ﷺ نے (اللہ کے حکم سے) اس کو بدل کے بیت اللہ کو قبلہ قراردیا ۔ نماز کے اوقات یہود اور نصاریٰ کے برعکس متعین کئے۔ خضاب ، ڈارھی اور حجامت میں یہود اور نصاریٰ کے رواج کی مخالفت کی، یہاں تک کہ یہودچیخ اٹھے کہ اس شخص (رسول اللہ ﷺ) نے ہماری مخالفت کی قسم اٹھا رکھی ہے۔[7]

اما م ابن تیمیہ ؒ کے نزدیک تشبہ کی ممانعت کا ماخذ سنت نبویہ کے علاوہ صدر اسلام میں غیر مسلموں سے کیے گئے معاہدات بھی ہیں۔ امام صاحب کے بقول ان دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ غیر مسلموں نے یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ فاتح مسلمانوں کے احترام میں

لباس ، ٹوپی یا عمامہ اور بالوں کا ایسا انداز اختیار نہیں کریں گے جو مسلمانوں کا شعار ہے اور وہ جوتے نہیں پہنیں گے ، جو مسلمان پہنتے ہیں۔[8]

مشابہت میں ممنوعہ امور:

عامۃ الناس کو چار قسم کے امور میں کفار کی مشابہت سے روکا گیا ہے جو درج ذیل ہیں ؛

۱۔ غیر مسلموں کی اعتقادی امور میں موافقت:

مشابہت کے باقی ماندہ امور میں سے یہ معاملہ سب سے زیادہ خطر ناک ہے۔ عقائد میں مشابہت دراصل کفر اور شرک ہے۔ جیسے نیک لوگوں کو مقدس جان کر ان کی تعظیم میں مبالغہ آرائی کرنا۔ اسی طرح اقسام عبادت میں سے کسی کا رخ غیر اللہ کی طرف پھیر دینا یا مخلوق میں سے کسی کو اللہ کا بیٹا یا اللہ کا باپ بنا دینا جیسے عیسائیوں نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور یہودیوں نے سیدنا عزیر علیہ السلام کے بارے میں دعویٰ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں ۔ دین میں فرقہ بندی سے مراد ہے مخالفت یا حزبیت کی بنا پر حق کو چھوڑ دینا (اجتہادی مسائل میں اختلاف اس میں داخل نہیں کیونکہ یہ دین سے علیحدگی نہیں ) یا قانون الٰہی کی بالادستی تسلیم کرنے کی بجائے کوئی دوسرا قانون اپنا لینا۔ یہ اور اس طرح کے دوسرے کفر و شرک کے جو معاملات ہیں ان سب کا تعلق عقائد سے ہے۔

۲۔ قومی و مذہبی تہواروں میں موافقت :

اعیاد و تہوار اگرچہ عبادات میں بھی داخل ہیں لیکن بعض اوقات ان کا شمار عادات میں ہوتا ہے ۔تاہم شریعت نے مختلف دلائل اور قطعی احکام کے ذریعے انہیں خاص کر دیا ہے۔ان کی اہمیت کے پیش نظر خصوصی طور پر ان کے منانے میں کفار کی مشابہت سے روکا گیا ہے اور یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے لیے سال میں صرف دو تہوار یعنی دو عیدیں ہیں ۔ ان کے علاوہ دیگر اقوام کے تہوار یا جشن جیسے سالگرہ منانا، قومی دن کا انعقاد یا وہ باقاعدہ جشن جن کے لیے سال میں یا مہینے میں کوئی خاص دن مقرر ہومثلاً مختلف ایام کرسمس ، دیوالی، نوروز اور یومِ والدہ و والد وغیرہ۔ اسی طرح کوئی دن یا ہفتہ جو تکرار سے منایا جائے اور لوگ اس کے منانے کا اہتمام کریں ، مشابہت کی ایسی واضح باتیں ہیں جن کے متعلق شرعی نصوص موجود ہیں ۔

۳۔ عبادات و معاملات سے متعلق امور موافقت :

نبی ﷺنے اپنے بہت سے فرامین میں تفصیل کے ساتھ عبادات میں کفار کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا اور ان امور کی نشان دہی بھی کی ہے جن میں مشابہت ممنوع ہےمثلاً :

۱۔ مغرب کی نماز میں تاخیر [9]

۲۔ روزہ افطار کرنے میں دیر کرنا[10]

۳۔ سحری کھائے بغیر روزہ رکھنا[11]۔

۴۔ عمومی عادات و اطوار اور اخلاقیات میں موافقت:

اس قسم کا تعلق عادات و اطوار اور اخلاقیات سے ہے۔ جیسے لباس وغیرہ جسے’’ الہدی الظاھر‘‘ سے موسوم کیا گیا ہے۔ (الھدی الظاھر) سے آدمی کی ہیئت کذائی ، ظاہری شکل و صورت، لباس، طور و اطوار اور عادات و اخلاق وغیرہ مراد ہے۔ ان باتوں میں بھی واضح طور پر کہیں مختصر اور کہیں تفصیل سے مشابہت اختیار کرنے سے روکا گیا ہے۔مثلاً داڑھی منڈوانا،سونے کے برتن استعمال کرنا اور ایسا لباس پہننا جو کفار کا شعار و امتیاز ہو ممنوع قرار دیا گیا ہے بے پردگی، مردوں اور عورتوں کا آزادانہ میل جول، مردوں کی عورتوں سے مشابہت اور عورتوں کی مردوں سے مشابہت اور اسی قسم کی دوسری عادات میں مشابہت سے منع کیا گیا ہے۔

تشبہ با لکفارکے دنیوی و اخروی مفاسد :

غیرمسلموں کی مشابہت اور ان کی وضع قطع اور ان جیسا لباس اختیار کرنے میں بہت سے مفاسد ہیں:

(۱) سب سے پہلا نتیجہ یہ سامنے آتا ہے کہ کفر اور اسلام میں ظاہراً کوئی امتیاز نہیں رہتا اور ملتِ حقہ ،ملتِ باطلہ کے ساتھ ملتبس ہو جاتی ہے ۔

(۲) دوم یہ کہ غیروں کی مشابہت اختیار کرنا غیرت کے بھی خلاف ہے۔ جیسے دیگر قومیں اپنی وضع کی پابند رہتی ہیں، مسلمان بھی اپنی وضع قطع اور مسلمات ِ دینیہ کا پابند رہے،کیونکہ مسلم مذہبیات سے ہی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شخص مسلمان ہے۔

(۳) غیرمسلموں کا معاشرہ ، تمدن اور لباس اختیار کرنا درپردہ ان کی سیادت اور برتری کو تسلیم کرنا ہے اور ان کی ثقافت سے مرعوبیت کا نتیجہ ہے؛ بلکہ اپنی کمتری اور تابع ہونے کا اقرار اور اعلان ہے، جس کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا۔

(۴) تشبہ بالکفارکا نتیجہ یہ ہے کہ رفتہ رفتہ کافروں سے مشابہت کا دل میں میلان پیدا ہو گا، جو نصِ قرآنی سے ممنوع ہے:

’’وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ ‘‘[12]

’’اور تم ان کی طرف مت جھکو، جو ظالم ہیں، مبادا ان کی طرف مائل ہونے کی وجہ سے تم کو آگ نہ پکڑ لے، اور اللہ کے سوا کوئی تمہارا دوست اور مددگار نہیں، پھر تم کہیں مدد نہ پاوٴگے۔‘‘

 بلکہ غیر مسلموں کا لباس اور شعار اختیار کرنا ان کی محبت کی علامت ہے، جو شرعاً ممنوع ہے،

’’يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ

فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ‘‘[13]

’’اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست مت بناوٴ، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست اور رفیق ہیں، وہ تمھارے دوست نہیں اور تم میں سے جو ان کو دوست بنائے گا، وہ انہی میں سے ہو گا، تحقیق اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا۔‘‘

 (۵) اس کے بعد رفتہ رفتہ اسلامی لباس اور اسلامی تمدن کے استہزاء اور تمسخر کی نوبت آتی ہے، اسلامی لباس و عادات کو حقارت کا لبادہ پہنادیاجاتا ہے اور تبعاً اس کے پہننے والوں کوبھی حقیر سمجھا جاتا ہے۔ یہ دراصل موجودہ دور کے تلخ ترین معاشرتی رویے ہیں جن کا مشاہدہ عام ہے۔

(۶) اسلامی احکام کے اجراء میں دشواری پیش آئے گی، مسلمان اس کافرانہ صورت کو دیکھ کر گمان کریں گے کہ یہ کوئی یہودی یا نصرانی ہے، یا ہندو ہے، اور اگر کوئی ایسی لاش مل جائے توتردد ہو گا کہ اس کافر نما مسلمان کی نمازِ جنازہ پڑھیں یا نہیں؟! اور کس قبرستان میں دفن کریں؟

(۷) جب اسلامی وضع کو چھوڑ کر دوسری قوم کی وضع اختیار کرے گا تو قوم میں اس کی کوئی عزت باقی نہیں رہے گی، لہٰذا اغیار سے عزت کی توقع محال ہے،کیونکہ غیر قومیں بھی اُسی کی عزت کرتے ہیں جس کی قوم میں عزت ہو۔

(۸) دوسری قوم کا لباس اختیار کرنا اپنی قوم سے لا تعلقی کی علامت ہے۔

فطری امور میں تشبہ اختیار کرنے کا حکم:

فطرت سے مراد وہ امور ہیں جن کے ایجاد و عدمِ ایجاد میں انسانی اختیارات کو کوئی دخل نہیں ہوتا، مثلاً: انسان کی خلقی اوضاع و اطواراور جبلّی اقتضاء ات، یعنی اس کے اعضاء ِ بدن ، چہرہ مہرہ، پھر اس کے ذاتی عوارض، مثلاً: بھوک پیاس لگنا، اس اندرونی داعیہ کی بناء پر کھانے پینے پر مجبور ہونا، اپنے بدن کو ڈھانپنا وغیرہ ایسے امور ہیں جو اضطراری ہیں اور وہ نہ بھی چاہے ، تب بھی یہ جذبات اس کے دل پر ہجوم کرتے رہتے ہیں۔

اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ شریعت ایسے امور میں انسان کو خطاب نہیں کرتی، یہ امور کفار و غیر کفار میں مشترک ہیں، یہ نہیں کہا جائے گا کہ منع تشبہ کی وجہ سے اس اشتراک کو ختم کیا جائے، یعنی شریعت میں ان امور سے یہ مطالبہ نہیں کیا گیا کہ کفار کے کھانا کھانے یا ان کے جوارح ہونے کی وجہ سے کھانا نہ کھایا جائے یا اعضاءِ جوارح کو مفلوج کردیا جائے، یا ان کی مانند کسی بھی حیاتِ انسانی کے جزوِ لازم کو خواہ وہ داخلی ہو یا خارجی ، زائل کردیا جائے۔

ذی بدل اشیاء میں غیروں کی مشابہت کا حکم:

مباح بالذات امور میں مسلمانوں کے پاس امتیازی طورپر ایسے طور طریقے موجود ہوں جو کفار کے طور طریقوں کے مشابہہ

نہ ہوں تو ایسے امور میں غیروں کی مشابہت مکروہ ہے، کیوں کہ اسلامی غیرت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم ان اقوام کی ان اشیاء کا استعمال بھی ترک کر دیں جن کا بدل ہمارے پاس موجود ہو، ورنہ یہ مسلم اقوام کے لیے عزت کے خلاف ایک چیزہو گی اور بلا ضرورت خوامخواہ دوسروں کا محتاج و دستِ نگر بننا پڑے گا۔جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے ہاتھ میں فارسی کمان (یعنی : ملکِ ایران کی بنی ہوئی کمان) دیکھی تو ارشاد فرمایا کہ’’ یہ کیا لیے ہوئے ہو؟ اسے پھینک دو اور عربی کمان اپنے ہاتھ میں رکھو ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوت و شوکت دی اور بلادِ ارض کو مفتوح کیا‘‘۔[14]فارسی کمان کا بدل عربی کمان موجود تھا اس لیے نبی کریمﷺنے غیرت دلا کر روک دیا تاکہ غیر اقوام کے ساتھ ہر ممکن امتیاز پیدا ہو سکے اور چھوٹے سے چھوٹے اشتراک کا بھی انقطاع ہو جائے۔

غیر ذی بدل اشیاء میں غیروں کی مشابہت کا حکم:

فقہاء اربعہ کے نزدیک اگر غیر اقوام کی اشیاء ایسی ہوں کہ ان کا کوئی بدل مسلم اقوام کے پاس موجود نہ ہو ، جیسے آج یورپ کی نئی نئی ایجادات، جدید اسلحہ، تہذیب و تمدن کے نئے نئے سامان، تو اس کی پھر دوصورتیں ہیں یا تو ان کا استعمال تشبہ کی نیت سے کیا جائے گا یا تشبہ کی نیت سے نہیں کیا جائے گا، پہلی صورت میں استعمال جائز نہیں ہوگا؛کیوں کہ تشبہ بالکفار کومقصود بنا لینا، ان کی طرف میلان و رغبت کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا، اور کفار کی طرف میلان یقینا اسلام کی چیز نہیں ہے؛ بلکہ اسلام سے نکال دینے والی چیز ہے۔غیر مسلموں کی تقلید کسی مسلم کو بامِ عروج پر نہیں پہنچا سکتی، جیسا کہ ظلمت کی تقلید نور کی چمک میں، مرض کی تقلید صحت میں، اور کسی ضد کی تقلید دوسری ضد میں کوئی اضافہ و قوت پیدا نہیں کرسکتی، تاہم اگر ان چیزوں میں تشبہ کی نیت نہ ہو بلکہ اتفاقی طور پر یا ضرورت کے طور پراستعمال میں آرہی ہوں، تو ضرورت کی حد تک ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔

مشابہت کے حکم میں احتیاط و تورع :

فکری وعملی مشابہت ومماثلت کی بنا پراسلام سے خارج کرنا بہت ہی حساس امرہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ کبار علماء اس سے ہر ممکنہ حد تک احتراز کرتے تھے،جیساکہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ سے منقول ہے۔امام ذہبی ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے امام اشعریؒ کا ایک صحیح السند کلام دیکھا جس نے مجھے حیرت وتعجب میں ڈال دیا ۔زاہر بن احمد السرخسی کہتے ہیں کہ میرے گھر بغداد میں ابوالحسن الاشعریؒ کی موت کا وقت قریب آیا تو انھوں نے مجھے بلایا۔میں ان کے پاس گیا تو انھوں نے کہا: مجھ پر گواہ ہوجا ،میں اہلِ قبلہ میں سے کسی ایک کی بھی تکفیر نہیں کرتا،اس لیے کہ تمام اہل قبلہ ایک معبود کی جانب اشارہ (سجدہ) کرتے ہیں اور یہ محض عبارات کا اختلاف ہے۔آگے امام ذہبی ؒ اپنا موقف بیا ن کرتے ہوئے فرماتے ہیں: 

’’میں(ذہبی)کہتا ہوں کہ اس طرز عمل کو میں بھی مانتا ہوں اور اسی طرح اس کو ہمارے شیخ امام ابن تیمیہ ؒ بھی اپنی

زندگی کے آخری ایام میں اس طرح کہتے تھے: میں اس امت میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتا ،اور وہ کہتے تھے : نبی کریم ﷺ نے فرمایاہے: وضو کی حفاظت مومن کے علاوہ کوئی نہیں کر تاتو جس نے وضو کے ساتھ نمازوں کو لازم کرلیاوہ مسلمان ہے۔‘‘[15]

لہٰذافعل وعمل میں کسی بھی جزوی فعل کی مماثلت پر کفر اوردین سے خروج کا فتوی لگانا بہرحال اہل السنہ والجماعۃ کا موقف نہیں۔اس ضمن میں کچھ ایسے اصول وضوابط طے ہیں جو تشبہ بالغیرکا حکم یا امر واقع کو سمجھنے کے لئے ضروری ہیں ، جن کو ذیل میں بیان کیا جاتا ہے۔

مشابہت کا دارومدار:

بعض علماء نے مشابہت کے باب میں’’نیت‘‘کو حکم لگانے کے لیے ضروری قرار دیا ہے،گویا کہ مشابہت کرنے والا اس نیت سے فعل کرے کہ وہ مشابہت کررہاہے ،یہ موقف مرجوح ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مشابہت کا حکم عمل کے ساتھ مرتبط ہے جیساکہ فقہاء اس کی وضاحت کرتے ہیں؛

’’لأن الحكم عُلق على مجرد صورته فهذا العمل لا يحتاج إلى نية لأنه مُعلق بمجرد الفعل فالنية تؤثر في الأعمال الصالحة وتصحيحها ‘‘[16]

’’کیونکہ حکم محض صورت پر معلق ہے ،پس یہ عمل نیت کا محتاج نہیں کیونکہ یہ مجرد فعل سے معلق ہے ۔نیت اعمالِ صالحہ میں اثر انداز ہوتی ہے اور ان کی صحت کا باعث بنتی ہے۔‘‘

اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین کی مشابہت سے بچا جائے اگرچہ انسان ان کی مشابہت کا ارادہ نہ کرے۔ یہ بات اہلِ علم پر مخفی رہ گئی ہے ،اس لیے کہ انہوں نے سمجھا ہے کہ تشبہ حرام تب ہوتا ہے جب اس میں مشابہت کا ارادہ اور نیت کی جائے۔حالانکہ شریعت نے تشبہ کے حکم کو اس طورپرمعلق کیا ہے کہ جب بھی انسان کوئی ایسا فعل کرے گا جو کفار کے مشابہہ ہوگاخواہ نیت کرے یا نہ کرے، اس پر تشبہ کا حکم لاگو ہوگا۔ اس لیے جمہور علماء نے مسئلہ تشبہ میں یہ صراحت کی ہے کہ مجرد صورتِ تشبہ پر بھی مشابہت کا حکم لگایا جائے گا۔چنانچہ فقہائے احناف کے ہاں یہ تصریح موجود ہے کہ نیت کے علاوہ مجرد فعل بھی اس حکم کا موجب ہے۔ امام محمد بن عبدالوہاب ؒ کے اس قول’’باب لا یذبح لله بمکان یذبح فیه لغیر الله، المسألة التاسعة : الحذر من مشابهة المشرکین فی أعیادهم ولو لم یقصدہ‘‘[17] اس بات کا بیان کہ جس مکان میں غیر اللہ کے لیے ذبح کیا جاتا ہو وہاں اللہ کے لیے ذبح نہ کیا جائے، نواں مسئلہ؛ مشرکین کے تہواروں میں مشابہت سے بچنا اگرچہ اس کا قصد نہ بھی ہو،کی تائید میں لکھا گیا ہے کہ حکمِ تشبہ میں نیت کی شرط عائد کرنا ایسے ہے جیسے کسی فعلِ کفر میں استحلال کی شرط لگائی جائے۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ بھی اس مسئلہ میں یہی فرماتے ہیں کہ تشبہ (کے حکم)کے حصول میں نیت وارادے کے وجود کی شرط نہیں لگائی جائے گی، اس سے بچا ہی جائے گااگرچہ قصد نہ بھی ہو۔ لیکن اگر قصد ہوگا تو گناہ اس سے بھی زیادہ ہوگا۔علامہ عبدالرحمٰن بن السحیم نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا؛

’’لا یُشترط فی التقلید أو التشبّه بالکفار وجود النیة فی ذلک بل متی وُجِدت المشابهة تعیّن النهی‘‘[18]

’’تقلید اور تشبہ بالکفارمیں نیت کے وجود کی شرط عائد نہیں ہوگی بلکہ جب مشابہت پائی جائے گی تو منع کرنا واجب ہوگا۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے صحابہ کرام کو یہودومنافقین کی ایک کلمہ میں بھی مشابہت سے منع فرمایا ہے حالانکہ یہ بات یقینی تھی کہ صحابہ کرام کے دلوں میں ان کی مشابہت کا اندیشہ بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ چنانچہ انہیں يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوا وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ کے حکم سے تنبیہ فرمادی۔نیزاختلافِ مقاصد کے باوجود مسلمانوں کو طلوع و غروبِ شمس کے وقت نماز پڑھنے سے بھی منع کردیا گیاہے کہ اس وقت کفار سجدہ کرتے ہیں اور شیطان اس میں شریک ہوتا ہے۔اس ساری کلام کا ماحصل یہ ہے کہ مشابہت میں ارادہ و نیت کا وجود شرط نہیں،جبکہ حدیثِ’’انما الاعمال بالنیات‘‘عام ہے اور تشبہ بالکفار سے ممانعت کی احادیث خاص ہیں اور یہ بات معلوم ہے کہ خاص اورعام میں تعارض نہیں ہوتا۔

مشابہت سے ممانعت اور سدِ ذریعہ کا اصول:

کفار کی عبادات یاان کی خاص عادات ورسوم میں ظاہری طور پر اتفاق ممنوع یامکروہ ہوتا ہے خواہ قصدِمشابہت ہو یا نہ ہو ۔اس لیے ہر وہ کام یاعبادت جو مشرک سرانجام دیتے ہیں جو نہ کفر ہو اور نہ نیۃً گناہ تو اس کے سدباب اور اس کی اصلیت کو ختم کرنے کے لیے اس کے ظاہر سے روک دیاگیا ہے اگرچہ وہ اس سے مشرکین جیسی مراد نہ لیں۔[19]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ اس بارے میں فرماتے ہیں کہ اس میں شریعت کا امتیاز ہے کہ جن چیزوں میں مشابہت کا خطرہ تھا ،شریعت نے کفار کی مخالفت کرتے ہوئے ان سے منع کردیا تاکہ لوگ ان سے بچ جائیں۔[20] گویاکہ اس قاعدہ میں "سدذریعہ"کے طور پر موافقت سے منع کرنے کی حکمت مذکور ہے۔ مثال اللہ رب العزت کا یہ فرمان ’’لا تقولوا راعنا‘‘ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کو سدِذریعہ کے طور پر اس بات سے منع کردیا کہ وہ "راعنا" کا لفظ استعمال کریں جبکہ کفاربدل کر غلط لفظ بولتے جو آپ ﷺکی شانِ اقدس میں گستاخی کا پہلو پیدا کرتاتھا۔

اسی طرح سدِذریعہ ہی کی وجہ سے فقہاء نے ذی روح اشیاء [21]، پتھر[22]او رآگ کی طرف منہ کرکے نماز اد اکرنے سے منع کیا ہے[23]۔اسی طرح جس امر سے سدِ ذریعہ کے طورپر منع کردیا گیا ہو اس کوراجح مصلحت کی بنا پر کیاجاسکتا ہے کیونکہ اصلاً اس امر سے منع کا حکم اس میں پائے جانے والے مفسدہ کی وجہ سے ہوتا ہے جو کہ ختم ہوجانے یا اس پر مصلحت کے راجح ہوجانے کی وجہ سے زائل ہوجاتا ہے اور واپس اصل حالت میں آتا ہے اور جس سے یہ اباحت کے دائرے میں چلاجاتا ہے۔چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ ا س حوالے سے فرماتے ہیں:

’’ماکان منهیا عنه للذریعة فانه یفعل لاجل المصلحة الراجحة‘‘[24]

’’جو امر سدِ ذریعہ کے طور پر ممنوع ہو اس کو راجح مصلحت کی بنا پر کیا جاسکتا ہے۔‘‘

لہٰذا بطورِ تمثیل فقہاء کی عبارات میں مذکور ہے کہ کفار کے بنائے ہوئے اسلحہ کااستعمال ان کی خوبیوں کی وجہ سے راجح مصلحت کی بناء پر جائز ہے جیساکہ فقہاء نے ابن ماجہ کی مذکورہ بالا روایت کی موجودگی میں بھی اسی بنیاد پر فارسی نیزوں کے استعمال میں جواز کافتویٰ دیا تھا ۔[25]

اہل کفر کی مشابہت کا حکم اور ضوابط:

ابتدائی طور پر تشبہ اس وقت تک لازم نہیں آتا جب تک کہ کفار اور مسلمانوں میں اسکی تمیز نہ ہوجائے کہ یہ ان کا شعار ہے یا ان کے افعالِ دینیہ کا حصہ ہے، جیساکہ حدیثِ مبارکہ میں کفار کے استعمال میں معروف کپڑوں کے بارے میں ہے کہ’’ان ھذہ ثیاب الکفار فلاتلبسها‘‘[26]یہ کفار کا لباس ہے اسے مت پہنو۔لہٰذااس بات کی گنجائش نہیں کہ اس میں مشابہت کی جائے کیونکہ یہاں امتیازی حالت کاذکرآگیاہے۔

اس کی تائید امام ذہبی ؒ کی کلام سے بھی ہوتی ہے ۔وہ فرماتے ہیں:

’’لایکون التشبه بالکفار الابفعل ما اختصوا به من دینهم او من عاداتهم‘‘[27]

’’کفار کی مشابہت عام طور پر اس فعل میں ہوتی ہے جو ان کے دین یا عادات کا حصہ (یا ان سے مختص) ہوتا ہے۔‘‘

قدیم فقہاء کا موقف ہے کہ نیلایا پیلا عمامہ پہننا ہمارے لیے حلال تھا،لیکن ساتویں صدی میں جب سلطان ملک ناصر نے (کفار کی مشابہت کرتے ہوئے)اس کا استعمال شروع کیا تو(اس مشابہتی سبب کی وجہ سے)اب ہم پر اس کاپہننا حرام ہے۔ [28]

اس حوالے سے امام منصور بن یونس البہوتی ؒ نے لکھا ہےکہ:

’’ولما صارت العمامة الصفراء او الزرقاء من شعارهم حرم لباسها‘‘[29]

’’جب پیلایا نیلا عمامہ ان کا شعار بن چکا ہے تو (مسلمانوں کے لیے)اس کا پہننا حرام ہے۔‘‘ 

تاہم اگر کوئی فعل اپنی اصل پر موجود ہے اور اس میں کوئی ایسا اضافہ نہیں کیا گیا جو ان کفارکے ساتھ موافقت کی راہ ہموارکرے تو اس کا کرنا جائز ہے ۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اعمال میں اضافہ کیاجائے (جس سے موافقت کا اندیشہ ہو)تو اس کاخواہ ارادہ کیا جائے یا نہ تویہ ممنوع ہی ہوگا۔[30]

اس ضمن میں دوسرا اہم امر یہ ہے کہ جس فعل سے کفار کا شعار ہونا زائل ہوجائے تو اس کا کرنا جائز ہے بشرطیکہ وہ خودفی نفسہ حرام نہ ہو۔حافظ ابن ِحجرؒنےاس بات کومطلق بیان کیاہےتاہم اکثرعلماءنےاس کومقیداورمشروط بیان کیا ہے۔یہ قاعدہ سابقہ اصول سےاس طورپرمختلف ہےکہ وہ مشابہت ِممنوعہ کی ماہیت کےمتعلق تھااوراس میں جس فعل کا حکم مذکور ہے ضروری ہے کہ وہ کفار سے مختص نہ رہے، جیساکہ اس کی مثال بیان کرتے ہوئے ابنِ حجر ؒ فرماتے ہیں کہ لوگ "طیالسۃ" کے بارے میں یہود کا شعار ہونے کی و جہ سے یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ یہ پہننا حرام ہے جبکہ وہ اس کا استعمال کرسکتے ہیں کیونکہ اب اس کا اختصاص یہود کے ساتھ نہیں رہا،وہ فرماتے ہیں:

’’وانما یصلح الاستدلال بقصة الیهود فی الوقت الذی تکون الطیالسة من شعارهم وقد ارتفع

ذلک فی هذه الأزمنة فصار داخلا فی عموم المباح‘‘[31]

’’بلاشبہ یہود کے اس عمل سے دلیل پکڑنا اس وقت صحیح ہوتا جب یہ ان کا شعار تھا لیکن اب یہ حکم باقی نہیں رہاکیونکہ یہ

ان کا شعار رہا ہی نہیں (سو)یہ مباح کے عموم میں چلا گیا ہے۔‘‘

تیسرا اصول یہ ہے کہ جن امور میں مختلف ادیان متفق ہوں ان میں تشبہ نہیں ہوتا۔علامہ ابن ہمامؒ نے اس بات کو محاذاۃ الامام کے مسئلہ کے ضمن میں ذکر کیا ہے ۔[32]

اس سے مرادیہ ہے کہ اسلام جن احکامات کو لے کر آیا ہے اور وہی احکامات یہودونصاریٰ میں بھی ہیں تو یہ تشبہ نہیں ،جیساکہ توحید کے بنیادی اور ابتدائی نظریات، اصول وعقائد اور وہ محاسن وغیرہ ہیں جن کی اسلام نے بھی تاکید کی ہے اور دیگر ادیان نے بھی ، جیساکہ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ صومِ عاشوراء جس کی اصل تو یہود کے دین میں تھی جب کہ جو اس کا اہتمام کرے گا اسے مشابہت کرنے والا نہیں بلکہ عاملِ سنت کہا جائے گا۔

چوتھا ضابطہ یہ ہے کہ ہر فعل جس میں کوئی مسلمان بھی اگر کسی مسئلہ میں کفار کی مشابہت کرنے کی کوشش کرے تو اس کا تعاون نہ کیا جائے،چہ جائیکہ اگر وہ کفار کا ساتھ دے اور ان کی کسی بھی قسم کی معاونت کرے، امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں:

’’فمن صنع دعوة مخالفة للعادة فی أعیادهم لم تجب دعوته‘‘[33]

’’مسلمانوں میں جس نے کفار کی خلافِ عادت ان کے تہوار وں پر دعوت کی اسے ہرگز قبول نہ کیا جائے۔ ‘‘

عصرِ حاضر میں اگر کوئی شخص غیرمسلموں کے کسی تہوار کو منائے یا اس میں ان کی موافقت کرتے ہوئے اسے اچھا سمجھے تو اس امر میں اس کی اعانت نہ کی جائے ۔ اسی طرح بعض دفعہ کفار کے یہاں کسی تقریب کا اہتمام کیا جاتا ہے تو مسلمان ممالک میں بھی اس پر خوب چرچے ہوتے ہیں اور ان کے دیکھا دیکھی ویسا ہی انتظام و انصرام کیا جاتا ہے دعوتیں کی جاتی ہیں،یہ سب اس حکم میں شامل ہیں اور ان میں شرکت کرنا شرعاً فعلِ کفر میں اعانت شمار ہوگا۔

جدید لباسوں کا استعمال:

علماء کے ایک طبقہ کا خیال ہے کہ دور ِ حاضر میں پتلون اور شرٹ پہننے کا اتنا رواج ہو گیا ہے کہ اب یہ کسی خاص قوم کا شعار نہیں رہا۔نیزقرونِ اولیٰ میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے لباس میں کوئی امتیازی نشان نہیں تھا، یہ بات اس خیال کو تقویت دیتی ہے کہ من تشبه بقوم فهو منهم میں جس مشابہت کا ذکر ہے، مشابہتِ لباس اس میں داخل نہیں ہے؛ اس لیے پتلون اور شرٹ کا پہننا جائز معلوم ہوتا ہے۔ تاہم آج کل کوٹ پتلون وغیرہ کا اگرچہ مسلمانوں میں عام رواج ہو گیا ہے؛ مگر اس کے باوجود اسے انگریزی لباس ہی سمجھا جاتا ہے۔

جبکہ دوسرے طبقہ کی تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ اس قسم کے لباس کے بارے بالفرض یہ بھی خیال کرلیا جائے کہ ان میں تشبہ بالکفار نہیں ہے لیکن ان سے تشبہ بالفساق میں تو کوئی شبہ نہیں، لہٰذا ایسے لباس سے احتراز ضروری ہے۔یہ کہنا صحیح نہیں کہ پہلے زمانہ میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے لباس میں کوئی امتیاز نہ تھا، نیز اگر کسی زمانہ یا کسی علاقہ میں امتیاز نہ ہو تو وہاں تشبہ کا مسئلہ ہی پیدا نہ ہو گا، یہ مسئلہ تو وہاں پیدا ہو گا، جہاں غیر مسلم قوم کاکوئی مخصوص لباس ہو، احادیث میں غیر مسلموں کے مخصوص لباس سے ممانعت صراحتاً وارد ہوئی ہے۔

مذکورہ بالا تفصیل اس لباس کے بارے میں ہے، جس سے واجب الستر اعضاء کی بناوٹ اور ساخت نظر نہ آتا ہو، اگر پتلون اتنی چست اور تنگ ہو اس سے اعضاء کی بناوٹ اور ساخت نظر آتا ہو، جیسا آج کل ایسی پتلون کا کثرت سے رواج ہو گیا ہے، تو اس کا پہننا علماء کے نزدیک حرام ہے، کیونکہ یہ ننگے آدمی کو دیکھنے کی مانند ہے جو کہ حرام ہے۔

اسی کے مثل ٹائی ہے جو ایک وقت میں نصاریٰ کا شعار تھا، تب اس کا حکم بھی سخت تھا۔اب چونکہ غیرِ نصاریٰ بھی بکثرت استعمال کرتے ہیں تو اس کے حکم میں تخفیف ہے اور اس کو شرک یا حرام نہیں کہا جائے گا تاہم کراہیت سے یہ بھی خالی نہیں ۔تاہم کہیں کراہیت شدیدہو گی، کہیں ہلکی، جہاں اس کا استعمال عام ہو جائے، وہاں اس کے منع پر زور نہیں دیا جائے گا۔ چنانچہ ٹائی کا استعمال اگرچہ مسلمانوں میں بھی عام ہو گیا ہے؛ مگر اس کے باوجود انگریزی لباس کا حصہ ہی ہے۔ اگر انگریزی لباس تصور نہ کیا جائے؛ لیکن فساق و فجار کا لباس تو بہر حال ہے، لہٰذا تشبہ بالفساق کی وجہ سے ممنوع قرار دیا جائے گا۔

دوسرا امر یہ کہ اہلِ صلاح اس لباس کو پسند بھی نہیں کرتے ؛ کیوں کہ یہ علماء و صلحاء کے لباس کے خلاف ہے، تیسری بات یہ کہ اس کے علاوہ ٹائی میں ایک اور خرابی یہ بھی ہے کہ عیسائی ا س سے اپنے عقیدہ ’’صلیب عیسیٰ علیہ السلام‘‘یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب کیے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جو کہ نص قرآنی کے خلاف ہے، لہٰذا تشبہ بالکفار کے ساتھ ساتھ عیسائیوں کی مذہبی یادگار اور مذہبی شعار ہونے کی وجہ سے بھی پہننا جائز نہیں:

’’عن ابن عمر رضي اللّٰه تعالیٰ عنهما قال: قال رسول اللّٰه صلی الله علیه وسلم: ”مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ“ أي: مَنْ شَبَّهَ نَفْسَه بِالْکُفَّارِ، مثلاً: فِي اللِّبَاسِ وَغَیْرِہ، أو بِالْفُسَّاقِ أوْ بِالْفُجَّارِ، أوْ بِأهْلِ التَّصَوُّفِ وَالصُّلَحَاءِ الأبْرَارِ․”فَهُو مِنْهُمْ“، أي: في الاثْمِ وَالْخَیْرِ“ [34]

’’ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے کسی قوم کی مشابہت کی یعنی اپنے آپ کو کفار وغیرہ کے لباس میں ان سے ملایا،یا فاسقوں ،فاجروں کے یا اہلِ تصوف و نیکوکاروں کے تو گناہ وثواب میں وہ ان کے ساتھ ہوگا۔‘‘

اس حوالے سے استثنائی صورتوں میں علماء کے نزدیک یہ ہے کہ اگر کسی ادارہ یا حکومت کی طرف سے پابندی ہواور اس قسم

کا لباس نہ پہننے پر سزا دی جاتی ہو، یا کوئی اور رکاوٹ بنتا ہو تو اس صورت میں لگانے والے پر گناہ نہیں ہو گا اور یہ مکرہ علیہ متصور ہوگا۔تاہم اس ادارے یا حکومت کے ارکان پر گناہ عائد ہو گا، جس نے ایسا خلافِ شرع ضابطہ بنایا۔

اس قسم کے مسائل میں شریعت کا نکتہ نظر بالکل واضح ہوتا ہے جس پر نصوص ِ قرآنیہ و حدیثیہ کی روشنی میں ابحاث ہیں۔

عجمیوں سے مشابہت کاحکم ۔اصول وضوابط:

اعاجم میں سے،جن کی اصل کفار کے ساتھ ہے، قدر مشترک کی وجہ سے ان کے اقوال وافعال کی مشابہت حرام ہے،اس کی وجہ ان کا عجمی ہونا نہیں بلکہ کفرہے جو حقیقت میں مانع ہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺنے ناخن سے ذبح کرنے سے منع کردیا اور اسکی علت یہ بیان فرمائی کہ یہ حبشہ (اعاجم)کاخاصہ وفعل ہے۔یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر جمیل لویحق لکھتے ہیں:

’’کل تشبه بالاعاجم الکفار فالاصل فیه التحریم‘‘[35]

’’عجمی کافروں کی ہر معاملہ میں مشابہت اصلاحرام ہے۔‘‘

جہاں تک اہلِ عجم میں سے مسلمان ہونے والوں کے افعال کا تعلق ہے تو بالعموم یہ قاعدہ ہے کہ’’کل تشبه بالاعاجم المسلمین فالاصل فیه الکراهة‘‘۔[36] مذکورہ بالا اصول کفار میں خاص اعاجم سے متعلق تھا جبکہ اس میں مسلمان اعاجم کی مشابہت کاحکم ذکر کیا گیا ہے اس کی مثال یہ ہے کہ یوم نیروزیاسالگرہ منانا دیگر کفار سے درآمد شدہ امور جن کو مسلمان عجمی کرتے ہیں ان کو مکروہ ہے ۔اسی طرح امام غزالی ؒ نے جماعت کی صورت میں خاموشی سے کھانا کھانے کو مکروہ کہا ہے کیونکہ یہ کفار کی عادت ہے۔[37]

اگر ان کے افعال کفار سے درآمد ہوں تو پھر اس کی حرمت واضح ہے اور اگر ان کے ساتھ خاص امور ہوں جن کی اسلام میں کوئی مذمت یا کراہت نہ پائی جاتی ہو تو وہ کیے جاسکتے ہیں ۔

اہلِ جاہلیت کی مشابہت کا حکم:

جاہلی معاشرے کی مشابہت شرعاً مذموم ہے، استقراء سے بھی اس کی تائید ملتی ہے ،اسی لیے فقہاء کے ہاں یہ اصول متداول ہے کہ ’’ کل ما نهی عنه لانه من امر الجاهلیة فهو محر م‘‘[38]ہر وہ کام جس سے صرف اس لیے منع کیا گیا ہو کہ وہ جاہلیت کے امور سے ہے وہ حرام ہے۔جاہلی اعمال کی عدم مشابہت کے لیے یہ ضابطہ انتہائی اہمیت کاحامل ہے۔ اس کے مستدلات فقہاء کے ہاں حدیثِ ابوذر رضی اللہ عنہ (جس میں ہے کہ انہوں نے اپنے ایک غلام کو عار دلائی تو آپ ﷺنے فرمایا: انک امرء فیک جاهلیة ،تو ایک ایسا انسان ہے جس میں جاہلیت کی رمق ابھی موجود ہے[39]اور حدیث ’’ أبغض الناس إلی الله ثلاثة: ملحد فی الحرم، ومبتغ فی الإسلام سنة الجاهلیة، ومطلب دم امریء بغیر حق لیهریق دمه‘‘ [40]ہیں۔فقہاء نے اسی بناء پر یہ کہا ہے میت کے ساتھ کسی بھی چیزکا دفن کرنا حرام ہے کیونکہ یہ اہلِ جاہلیت کی علامت ہے۔[41]

شیطان سے منسوب امور میں موافقت کی ممانعت اور حکم:

ہر وہ فعل جو شیطان کی طرف منسوب ہو وہ حرام ہے، شیطان کی طرف سے وسوسے یا اس کے حاوی ہوجانے کے بعد جو فعل ہو، وہ شیطان کی مشابہت ہے اس لیے کہ ہر برے فعل کو شیطان کرتا ہے یا اسے مزین کرکے دکھلاتا ہے اور یہی اس کی مشابہت کی وجہ بن جاتا ہے ،چنانچہ حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں:

’’کل فعل ینسب الیٰ شیطان فهو حرام‘‘[42]

’’ہر وہ فعل جو شیطان کی طرف منسوب ہو وہ حرام ہے۔‘‘

حدیث میں جو مذکور ہے کہ ’’الراکب شیطان والرکبان شیطانان والثلاثة رکب‘‘[43] اکیلا سوار شیطان ہے اور دو سوار بھی شیطان ہیں جبکہ تین لوگ قافلہ ہوتے ہیں،اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ شیطان جس طرح خود اکیلا خالی جگہوں ،وادیوں اور کھنڈرات وپرانے مقامات پر چلتا پھرتا ہے یہ اکیلا انسان بھی اسی طرح شمارہوتا ہے[44]

اہلِ بدعت سے تشبہ کے حکم میں ضابطہ:

کسی بھی سنت کو بدعتی کے اس پر عمل کرنے کی وجہ سے ترک نہیں کیا جاسکتا [45]لہٰذا جو لوگ کسی سنت کو اس لیے ترک کردیتے ہیں کہ اس پر بدعتی کا عمل ہے تو یہ شرعا درست نہیں ۔اعمال جن میں اہل سنت اور اہل بدعت میں مشترک ہیں ان کی درج ذیل دو اقسام ہیں:

اول وہ جو شرعا واجب ہیں ۔ یہ اگرچہ اہلِ بدعت کرتے ہیں مگر ان کو ترک نہیں کیا جائے گا ۔

دوم وہ جو مباح ہیں لیکن ان کے مقابلہ میں افضل اور مستحب اعمال بھی ہیں لیکن اہل بدعت کا عمل مباحات پر ہے ایسے اعمال میں ان کی مشابہت سے گریز کرتے ہوئے افضل اور مستحب اعمال کرنا لازم ہے۔ اگر انہوں نے ترک کردیا ہو تو پھر جواز ہے،جیساکہ علماء مدینہ نے اس بات کو فتویٰ جاری کیا کہ دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنی جائے کیونکہ اس کو اہلِ بدعت نے ترک کردیا ہے۔[46]

اسی طرح جب کوئی فعل اہلِ بدع کے شعار کے طور پر معروف ہو جس کی وجہ سے وہ جمہور اہل سنت سے منفرد ہوں تو اس کی مخالفت واجب ہے اگرچہ اس کی دلیل صحیح ہی کیوں نہ ہو[47]،اس حوالے سے علامہ صنعانی ؒ فرماتے ہیں:

’’من تشبه بالفساق کان منهم او بالکفار او المبتدعة فی ای شیء مما یختص بهم من ملبوس او مرکوب او هیئة‘‘[48]

’’جس شخص نے فاسقوں ،کافروں یا بدعتی لوگوں کے ان اعمال میں مشابہت کی جو ان کے ساتھ خاص ہیں تو وہ انہی میں سے ہوگا خواہ وہ لباس کے معاملہ میں ہو یا سواری میں ،یا کسی بھی اور حالت میں۔‘‘

مثال کے طور پر ؛

ا۔ امام جنازہ میں چار سے زائد تکبیرات کہے تو اس کی متابعت نہ کی جائے جبکہ مقتدی کے علم میں ہو کہ یہ بدعتی ہے یا روافض سے متاثر ہے۔[49]

ب۔ عاشوراء کے دن کوئی ایسا عمل کرنا جو غم خواری پر دلالت کرے کیونکہ اس میں اہلِ الرفض کی مشابہت ہے یا پھر کوئی ایساعمل کرنا جو خوشی کی علامت ہو تو یہ ناصبہ کی مشابہت ہے۔[50]

مشابہت کی عرفی صورتوں سے ممانعت کاحکم:

جب کوئی خاص رہن سہن یا حالت عرفی طور پر اہلِ فسق کے ساتھ خاص ہوجائے تو اس کا کرنا حرام ہے،جیساکہ فقہاء نے کھڑے ہو کر جھومتے ہوئے پانی پینے سے منع کیا ہے۔[51]اسی طرح جب کسی فعل کی دلیل شرعی مرد یا عورت میں سے کسی ایک کے لیے جواز ثابت کرے تو اس میں دوسرے کی خصوصیت ختم ہوجائے گی،ریشم کا مرد کے لیے پہننا جائز نہیں ماسوائے اس کے کہ جو حدیث میں استثناء وارد ہے کیونکہ یہ عورتوں کے لیے خاص ہے۔[52]

ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ جب انسان حیوان کی مماثلت اور اللہ کی تخلیق کی تبدیلی کا ارادہ کرتا ہے تو یہ اس کی فطرت اور شریعت کو فساد میں ڈالنے کے مترادف ہے جوکہ حرام ہے۔ یہا ں یہ بات ذکر کرنا مناسب ہے کہ اکثر فقہاء وعلماء اس کو مکروہ قرار دیتے ہیں جبکہ یہ حرام کے درجہ میں ہوگا۔[53]

ہر مشابہت کی صورت جس میں دھوکہ دہی ہو وہ حرام ہے، جیساکہ علماء کا خیال ہے کہ لونڈی کا پردہ کرناصحیح نہیں اس لیے کہ کہیں اسے آزاد نہ تصور کرلیا جائے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک لونڈی کو ،جس نے پردہ کیا ہوا تھا ،مارا اور کہا کہ اپنا سر ڈھانپ کر رکھو لیکن آزاد عورت کی مشابہت مت کرو[54]

عمومی احکامات:

مشابہت کے تمام اصول و احکامات کا مکمل اور تفصیل کے ساتھ احاطہ ممکن نہیں ،اس لیے کہ تمام صورتوں میں ہر ایک کا حکم جاننے کے لیے ضروری ہے کہ اسے شرعی نصوص او ر ان سے مستنبط ہونے والے اصولوں کی کسوٹی پر پرکھا جائے اور اہلِ علم اور فقہاء کے بتلائے ہوئے شرعی قوانین پر پیش کیاجائے۔تاہم بعض عمومی احکامات اس قسم کے موجود ہیں جن کے ضمن میں تقریباً تشبہ بالغیر کی صورتیں بالعموم داخل ہوجاتی ہیں جن کی امثلہ درج ذیل ہیں؛

مشابہت کی اقسام میں پہلی قسم ایسی ہے جس کا اختیار کرنا شرک اور کفرہے جیساکہ اصول واعتقادات اور عبادات میں مشابہت اختیار کرنا۔اسی طرح اہلِ کتاب اور مجوسیوں سے ان امور میں مشابہت جو عقیدہ توحید سے متصادم ہوں،مثلاً صفاتِ باری تعالیٰ میں تعطیل کا اعتقاد رکھنا، یا کسی بھی اعتبار سے ان کی نفی و تمثیل جو الحاد تک لے جائے اسے عقیدہ بنانا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بارے میں حلول یا امت میں سے کسی ایک فرد سے اتحاد کا نظریہ قائم کرنایا خود ساختہ قوانین اور انسانی کمزوریوں پر مشتمل اصولوں کے مطابق فیصلے کرنا۔

اس حوالے سے دوسری قسم وہ ہے جو کفر وشرک تک تو نہیں لے جاتی تاہم اس سے فسق یا فجور لازم آتا ہے،مثال کے طورپر بائیں ہاتھ سے کفار کی مشابہت اختیار کرتے ہوئے کھانا تناول کرنا،مردوں کا سونے کی انگوٹھی پہننا،ڈاڑھی وغیرہ کا کفار کی نقالی کرتے ہوئے منڈوانا وغیرہ۔

اور تیسری قسم ان امور پر مشتمل ہے جن کا اختیارکرنا مکروہ عمل ہے اس لیے کہ ان میں حرمت یاحلت کا حکم واضح نہیں ہوتا لیکن یہ وہ معلق امور ہوتے ہیں جن کا فیصلہ اس کے کسی قوم میں شائع ہونے یا اس کے اس فعل یا قول سے متعلق نظریے نے کرنا ہوتا ہے۔اس قسم میں عام عادات واطوار اور دنیوی چیزوں کا استعمال ہے جو کفار کی علامت بن جائیں۔ یہ چونکہ اپنے استعمال کے اعتبار سے بالکل ضروری امور واشیاء ہوتی ہیں تاہم ان کی عرف کفار سے متعلق ہوتا ہے اس بنا پر ان کو کراہت کے زمرے میں لایا جاتا ہے۔

خلاصہ بحث :

  • مشابہت کے اطلاقات میں ایک بڑی قسم ایسی ہے جس کا اختیار کرنا شرک اور کفرہے جیساکہ اصول واعتقادات اور عبادات میں مشابہت اختیار کرنا۔
  • اسی طرح اہلِ کتاب اور مجوسیوں سے ان امور میں مشابہت جو عقیدہ توحید سے متصادم ہوں،مثلاً صفاتِ باری تعالیٰ میں تعطیل کا اعتقاد رکھنا، یا کسی بھی اعتبار سے ان کی نفی و تمثیل جو الحاد تک لے جائے اسے عقیدہ بنانا۔
  • اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بارے میں حلول یا امت میں سے کسی ایک فرد سے اتحادِ اجسام کانظریہ قائم کرنایا خود ساختہ قوانین اور انسانی کمزوریوں پر مشتمل اصولوں کے مطابق فیصلے کرنا۔
  • دوسری قسم وہ ہے جو کفر وشرک تک تو نہیں لے جاتی تاہم اس سے فسق یا فجور لازم آتا ہے،مثال کے طورپر کفار کی مشابہت اختیار کرتے ہوئے بائیں ہاتھ سے کھانا تناول کرنا،مردوں کا سونے کی انگوٹھی پہننا،ڈاڑھی وغیرہ کا کفار کی نقالی کرتے ہوئے منڈوانا وغیرہ۔
  • اسلام کے مخالف، غیر مسلموں کی مشابہت میں کیے جانے والے افعال پر علی الاطلاق حکم لگانا محلِ نظر ہے جب تک کہ ان کی شرعاً حیثیت اور ان شروط وضوابط کو ملحوظ نہ رکھ لیا جائے جو ان امور کے حکم کو واضح کردیں۔
  • اگر بنا کسی شرط یا ضابطے کہ محض فعل کی مماثلت پر حکم لگایا جائے تو اس سے معاشرے میں فساد لازم آئے گا اور ہر شخص دوسرے کو دائرہ اسلام سے خارج کرتا یا سمجھتا نظرآئے گا، ایسی صورتحال میں اسلام کے وہ جمیع محاسن ومحامد چھپ جائیں گے جن کی وجہ سے ایک غیر مسلم اسلام کو حسنِ نظر سے دیکھتا اور پرکھتا ہے۔
  • البتہ جہاں تک ان امور میں اباحت کا مسئلہ ہے جو اہلِ کفر اور اہلِ اسلام کے مابین معروف ہیں تو ان میں محض صالحیت کا عنصر غالب سمجھا جائے گا۔
  • اس لیے جن کاموں میں مسلمان اور کفارایک دوسرے سے ممتاز ہوں اور ان کا تعلق خالص مادی ترقی یا ایجادات سے ہوتو اس میں پیروی یا ان کا ارتکاب مضر نہیں۔دراصل یہ امور یا چیزیں بالعموم ماموربہ کی ادائیگی سے تعلق رکھتی ہیں۔
  • ایسے خالص دنیوی علوم جو اسلامی عقائد واخلاقیات سے متصادم نہیں ان کو بھی مباح سمجھا جائے گا بلکہ بسااوقات اہلِ کفر سے سیکھ کر ان سے استفادہ واجب کے زمر ے میں بھی آتاہے اس لیے اصولی نوعیت کو سامنے رکھتے ہوئے ان پر قدغن کسی طور پر درست نہیں نیز ان کی تعلیم وتعلم میں کسی قسم کی قباحت نہیں یہاں تک کہ یہ شریعت کی روح یا اصول وضوابط کے ساتھ ساتھ نصوص سے متصادم ہوجائیں۔
  • غیر مسلم اقوام سے تعلیمی و ترقیاتی امور میں معاہدات دراصل ’’ ما لا یتم الواجب الا بہ فھو واجب‘‘ کے دائرہ کار میں مشروط طور پر جائز اور مباح قرار پاتے ہیں،جس سے مسلم اقوام میں علمی و ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ مل سکتا ہے اور اس میں امت کی بہتری کا امکان زیادہ قوی ہے۔
  • اسلحہ سازی یا صنعتی ترقی کے جو امور غیرمسلم اقوام کے یہاں عروج پر ہیں، ان کو حاصل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں،بشرط یہ کہ اس میں امتِ مسلمہ کی اہانت یا ذلت و تحقیر کا پہلو نا ہو۔

مشابہتِ اقوام کے حوالے سے موجودہ دور میں کئی اہم پہلو تشنہ ء تحقیق ہیں، جن میں خاص طور پر مسلم اور غیر مسلم اقوام میں جنگی و بین الاقوامی امداد و مناصرت سے متعلقہ امور اور ان کے شریعت کی روشنی میں احکامات میں تحقیق کی ازحد ضرورت ہے۔ اسی طرح جدید معاشی مسائل اور ترقیاتی منصوبوں میں ان کی اعانت کی شرعی حیثیت اور مروجہ نکتہ ہائے نظر اور افکارِ علماء کا تجزیہ و تحقیق بھی کی جائے۔

حوالہ جات

  1. حدیث :’’ من تشبه بقوم فهو منهم ‘‘، دیکھیے:== ==السجستانی، ابوداؤد سلیمان بن اشعث، السنن (الریاض: دارالسلام للنشر والتوازیع،۱۹۹۹ء)، حدیث :۳۷۱۲
  2. آل عمران:۱۹
  3. ابن کثیر،أبو الفداء ،اسماعیل بن عمر،تفسیر القرآن العظیم (الریاض:دارطیبۃللنشروالتوزیع،۱۴۲۰ھ)، ۱: ۲۲۵
  4. آل عمران:۸۵
  5. الغزالی، ابو حامد محمد بن محمد، احیاء علوم الدین ( بیروت :دارالمعرفۃ)، ۲: ۱۵۷
  6. محمد بن محمدالغزالی، احیاء علوم الدین ، ۲: ۱۵۷
  7. السجستانی، ابوداؤد سلیمان بن اشعث، السنن (بیروت: مکتبہ العصریۃ)،حدیث :۲۵۸
  8. ابن تیمیہ، عبدالحلیم بن عباس ، اقتضاء الصراط المستقیم(بیروت: دارالکتب العلمیۃ، ۱۹۹۹ء)،ص: ۱۸۹
  9. احمد بن حنبل، المسند(بیروت:موسسۃ الرسالۃ،۲۰۰۱ء)، ۳۱: ۴۱۶
  10. ابوداود،السنن،حدیث: ۲۳۵۳
  11. القشیری، مسلم بن الحجاج،الجامع الصحیح(الریاض: دارالسلام،۲۰۰۰ء)،حدیث: ۲۵۵۰
  12. ھود: ۱۱۳
  13. المائدة: ۵۱
  14. حدیث یہ ہے:عن علی قال: کانت بید رسول الله صلی الله علیه وسلم قوس عربیة، فرأی رجلا بیده قوس فارسیة، فقال: ما هذه؟ ألقها، وعلیکم بهذه وأشباهها، ورماح القنا، فإنهما یزید الله لکم بهما فی الدین، ویمکن لکم فی البلاد، دیکھیے:ابن ماجہ،ابو عبداللہ محمد بن یزید،السنن ==( الریاض :دارالسلام ،۲۰۰۱ء)، حدیث:۲۸۱۰
  15. الذہبی، محمد بن أحمد بن عثمان ، سیر أعلام النبلاء (القاہرۃ:دارالحدیث،۱۴۲۷ھ)، ۱۱: ۳۹۳
  16. العثیمین ،محمد بن صالح بن محمد،القول المفید علی کتاب التوحید (الریاض:دار ابن الجوزی، ۱۴۲۴ھ)، ۱: ۴۰۸
  17. النجدی ،محمد بن عبدالوھاب،کتاب التوحید (القاہرۃ:مکتبۃ العلوم والحکم ،۲۰۰۸ء )، ص: ۴۱
  18. ابن تیمیۃ ، أحمد بن عبد الحلیم بن عبد السلام ، اقتضاء الصراط المستقیم لمخالفۃ أصحاب الجحیم ) بیروت :دار عالم الکتب، ۱۴۱۹ھ(،۱: ۲۲۰== ==نیزسدِذریعہ کی حافظ ابن القیم ؒ نے۱۱۰کے قریب صورتیں بیان فرمائی ہیں جن کو اعلام الموقعین میں ملاحظہ کیاجاسکتا ہے۔
  19. ابن تیمیہ، اقتضاء الصراط المستقیم،ص، ۱: ۵۴۰
  20. السرخسی ،محمد بن أحمد بن أبی سہل، المبسوط ( بیروت :دار المعرفۃ ،۱۴۱۴ھ)، ۱: ۲۱۰
  21. الامام، مالک بن أنس المدنی،المدونۃ ( بیروت: دار الکتب العلمیۃ، ۱۴۱۵ھ)، ۱: ۱۹۸
  22. ابن قدامۃ، عبد اللہ بن أحمد ، المغنی (القاہرۃ:مکتبۃ القاہرۃ ،۱۳۸۸ھ)،۳: ۸۸
  23. ا بن تیمیۃ، مجموع الفتاوی (المدینۃ المنورۃ:مجمع الملک فہد لطباعۃ المصحف الشریف، ۱۴۱۶ھ)،۲۲: ۲۹۸
  24. ابن قدامہ ، المغنی،۱۳: ۴۳۲
  25. مسلم بن الحجاج،الجامع الصحیح ، حدیث :۲۰۷۷
  26. الذھبی ، محمد بن أحمد بن عثمان،رسالۃ تشبیہ الخسیس باھل الخمیس (مطبوع ضمن :مجلۃ الحکمۃ،شمارہ ۴)،ص: ۱۷۸
  27. ا لذھبی ،تشبیہ الخسیس باھل الخمیس ،ص: ۱۹۱
  28. البہوتی ، منصور بن یونس بن صلاح الدین ،کشاف القناع عن متن الإقناع (بیروت: دار الکتب العلمیۃ،س ن )،۳: ۱۲۸
  29. ایضاً
  30. ابن حجر ،أحمد بن علی العسقلانی ،فتح الباری شرح صحیح البخاری ( بیروت :دار المعرفۃ ، س ن )،۱۰: ۲۷۵
  31. ابن الہمام، کمال الدین محمد بن عبد الواحد ، فتح القدیر (بیروت:دار الفکر،س ن)،۱: ۴۱۳
  32. ابن تیمیہ،اقتضاء الصراط المستقیم،۲: ۱۲
  33. القاری، علی بن محمد الملا، مرقاةالمفاتیح(دہلی:مکتبہ رشیدیہ ،س ن )، ۸: ۱۵۵
  34. اللویحق،محمد جمیل ، التشبہ المنھی عنہ،ص: ۱۳۲
  35. ایضاً ،ص :۱۳۴
  36. الغزالی ، احیاء علوم الدین، ۲: ۱۷
  37. اللویحق،محمد جمیل ، التشبہ المنھی عنہ،ص: ۱۴۰
  38. البخاری، محمد بن اسماعیل، الجامع الصحیح ،( الریاض :دارالسلام ،۱۹۹۹ء)، حدیث :۳۰
  39. البخاری، الجامع الصحیح ، حدیث :۶۸۸۲
  40. السرخسی،المبسوط،۲: ۵۰
  41. ابن حجر نقلاً عن ابن العربی ،فتح الباری،۹: ۵۲۳
  42. ابوداؤد ،السنن حدیث :۲۶۰۷
  43. الغزی،علامہ نجم الدین،حسن التنبہ لما ورد فی التشبہ (بیروت:دارالنور ،۱۴۳۲ھ)، ۴: ۶
  44. النووی،یحیی بن شرف ، المجموع (بیروت: دار الفکر،۲۰۰۸ء )،۴: ۴۶۲
  45. البغدادی، عبد الوہاب بن علی بن نصر،المعونۃ علی مذہب عالم المدینۃ (مکۃ المکرمۃ :المکتبۃ التجاریۃ مصطفی أحمد الباز)،۳: ۱۷۲۰
  46. الغزی، محمد صدقی بن أحمد بن محمد، موسوعۃ القواعد الفقھیۃ ( بیروت :مؤسسۃ الرسالۃ ،۱۴۲۴ھ)،۲: ۲۰۱
  47. الصنعانی ، محمد بن إسماعیل ، سبل السلام (القاہرۃ: دار الحدیث ،س ن )۲: ۶۴۶
  48. البہوتی ،منصور بن یونس ،کشاف القناع عن متن الإقناع ،۲: ۱۱۸
  49. ابن تیمیہ،مجموع الفتاوی،۲۵: ۳۰۱
  50. ابن عابدین،ردالمحتار علی الدر المختار،۹: ۵۳۵
  51. ابن حجر، فتح الباری،۱۰: ۲۸۴
  52. ابن تیمیہ،مجموع الفتاوی،۳۲: ۲۶۰
  53. البانی ،ناصر الدین،ارواء الغلیل ( بیروت : المکتب الاسلامی ،۱۹۸۵ء)،۶: ۳۰۳