Playstore.png

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مروجہ پاکستانی ٹریفک قوانین کی پاسداری کی اہمیت

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ الایضاح
عنوان اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مروجہ پاکستانی ٹریفک قوانین کی پاسداری کی اہمیت
انگریزی عنوان
The Importance of the Adherence to the Existing Pakistani Traffic Rules and Regulations in the Light of Islamic Teachings: An Analytical Study
مصنف الدین، صالح، مسعود الرحمن
جلد 32
شمارہ 1
سال 2016
صفحات 179-191
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
شکاگو 16 الدین، صالح، مسعود الرحمن۔ "اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مروجہ پاکستانی ٹریفک قوانین کی پاسداری کی اہمیت۔" الایضاح 32, شمارہ۔ 1 (2016)۔
عصرحاضر کے تقاضوں کے تناظر میں جامعات دینیہ کا قضیہ: عملی تجاویز
طبی میدان عمل میں ضرورت کی بنیاد پر رخصت کا اطلاق
تعلیمی نظام کی اصلاح کے بارے میں امام بخاری کا نظریہ
فلسفہ احکام میراث
ریاست کے اداراتی مقاصد کے تناظر میں نظریہ انفرادیت اور اجتماعیت پسندی
ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا: احوال و خدمات کا تحقیقی مطالعہ
شریعت اسلامی میں رسم و رواج کے ساتھ تعامل کا جائزہ: مختلف اسلامی ادوار کی روشنی میں
تفسیر قرآن میں ام المؤمنین سیدۃ عائشه کا مقام
اشیاء خورد و نوش و ادویہ میں جلاٹین کے استعمال کا طریقہ کار اور اس کا شرعی جائزہ
عقیدہ تناسخ اور عہد الست میں فرق کے حوالے سے امام رازی کے موقف کا جائزہ
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مروجہ پاکستانی ٹریفک قوانین کی پاسداری کی اہمیت
أعلام النثر العربي في شبه القارة الهندية
موقف محمود سامي البارودي ومحمد إقبال من السياسة: دراسة تحليلية وموازنة
المحاسن البلاغية والأدبية في الأحاديث النبوية في كتاب الفرائض
المحكم والمتشابه وموقف المفسر منهما
الجملة المعترضة فى القرآن الكريم: دراسة بلاغية
The Analytical Study of Well Thought-Out Legitimate Pakhtun’s Trends Regarding Marriage Binding Shariah Perspective
Lunar Calendar and Ramadan Effect on Islamic Mutual Funds Performance in Pakistan
Concept of Peace and Harmony in the Buddhism amd Islam: A Comparative Study
Social Media and Cyber-Jihad in Pakistan
Economic Facilities for Non-Muslims in a Muslim Country in the Light of Quran and Sunnah
A Proposed Islamic Microfinance Impact Assessment Methodology
Relationship Between Quality Culture and Organizational Performance With Mediating Effect of Competitive Advantage
Allama Sahabbir Ahmed Uthmani’s Efforts for Islamization in Pakistan
Time Management in Islam
Muslim-Christian Relationship in the Context of Status of Prophet Muhammad SAW

Abstract

Islam is a comprehensive code of conduct which encompasses to each sphere of human life. This also owns and endorses those manmade rules which serve the cause of humanity and not entering to its fundamentals. Adherence to Pakistani Traffic rules also falls under the preview of the same doctrine. It is very pertinent to note here, that the same traffic rules such as fastening of seat built, proper use of indicators, speed control etc. have been devised to ensure the safety which starts from a pedestrian and ends up to a rider of any vehicle class. Any violation of traffic rules is an indirect breech of divine discipline imposed by Allah the Almighty. If the violation costs any damage, injury or fatal accident, this will directly be dealt under the principles set by Islam. This study aims at highlighting the significance of adherence to traffic rules which is directly linked to the ground safety. This ultimately serves the main purpose of saving any precious human life. If the same is ensured, no doubt the purpose of the holy verse would be fulfilled

وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا

تمہید:

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں معاشرتی نظام کو بھی بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے معاشرتی نظام کے لیے حقوق العباد وضع فرمائےہیں جن کو جدید اصطلاح میں ہیومن رائٹس(Human Rights) کے نام سے یا د کیا جا تا ہے۔حقو ق ا للہ اور حقوق العباد کے حوالہ سے قرآن اور سنّت نبوی ﷺ میں ہدایات و احکام کا ایک وسیع سلسلہ موجود ہے اور ایسا منظّم و مربوط ہے کہ کو ئی اور سسٹم حقوق انسانی کی وہ تفصیلات و ترجیحات بیان ہی نہیں کرسکتا جن کی نشان دہی قرآن و سنّت نے کی ہے۔یہاں یہ اُصول ملحوظ خا طر رہے کہ اسلام حقو ق اللہ اور حقوق العباد میں توازن برقرار رکھنے کا حکم دیتا ہے اور حقوق اللہ کی ادائیگی کی کو ئی صورت قبول نہیں کرتا جس سے حقو ق العباد یعنی ہیومن رائٹس متا ثر ہو تے ہوں۔ اسلام کے جتنے قوانین ہیں ان میں دوسروں کی عزت اور جان ومال کی حفاظت کی خاص رعایت رکھی گئی ہے۔ان کے نفاذ کا اختیار اسلام نے حاکم وقت کو دیا ہےکہ معاشرتی بگاڑ کوختم کرنے کے لیےوہ ایسےقوانین نافذ کرے جن میں لوگوں کی عزت وآبرو اور جان ومال کی حفاظت ہوتی ہو۔ جناب رسالت مآب ﷺ نے حقوق و فرائض میں توازن قائم کیا۔زیر نظر آرٹیکل میں حاکم ِ وقت کی اطاعت،طریق کاراور حدود ولایت کے ساتھ ساتھ ٹریفک قوانین کےشرعی احكام اور معاشرے کے عوام اور خواص کے لیے مناسب اور پر سکون نقل و حرکت کو یقینی بنا نے کے لیے حاکم اور رعایا کے باہمی نسبت کو تعلیما ت نبویﷺ کی روشنی میں واضح کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔

اسلام میں حاکم کی اطاعت کاحکم:

دوسروں کی جان ومال کی حفاظت کے لیے شریعت محمدی ﷺنے حاکم کو اختیار دیا ہے ۔ وہ اس کے لیے مختلف اقدامات اور قوانین وضع کرتاہے۔ان قوانین کی دو قسمیں ہیں:

۱۔وہ قوانین جوشریعت کےمخالف نہ ہوں اور کسی مصلحت پر مبنی ہوں:

اگر حاکم وقت ایسے قوانین وضع کرے جو شریعت محمدیﷺکے معارض نہ ہوں اور کسی مصلحت پر مبنی ہوں تو ان کی اطاعت کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔ذیل میں اس پر دلائل ذکر کیے جاتے ہیں :

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الأَمْرِ مِنكُمْ"([1]) ترجمہ :مؤمنو!اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت ہیں ان کی بھی۔

اس آیت مبارک میں اولى الأمر سے مراد امراءاور حکام ہیں،یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہﷺنے سیدنا عمار بن یاسر([2])اور سیدنا خالد بن ولید([3]) کو ایک جماعت کا امیر بناکرجہاد کے لیے روانہ کیا([4]

 سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور جو حاکمِ وقت کی اطاعت کرے، تو اس نے میری اطاعت کی اور جس نے اس کی نافرمانی کی، اس نے میری نافرمانی کی([5]

رسول الله ﷺ کاارشاد ہے: اسمَعُوا وَ اطِیعُواوَاِن استُعمِلَ عَلَیکُم عَبد حَبشِیّ َكَانَّ رَاسَه زَبِیبَة([6]) ترجمہ: حکم مانو اور اطاعت کرو اگر چہ تم پر ایک حبشی غلام جس کا سرکشمش کی مانند ہو(یعنی ادنی غلام)([7])، حاکم مقرر ہوجائے۔

اسی طرح رسول اللہ ﷺکاارشادہے: عَلَى المرءِ المسلِمِ، الطَّاعَةُ فِيمَا أحَبّ وكَرِهَ، إلّا أن يّؤمَرَ بِمَعصِيَة؛ فَمَن أُمِرَ بِمَعصِيَة فَلَا طَاعَةَ([8])

ترجمہ: مسلمان کے لیے امیر کی اطاعت ضروری ہے خواہ یہ اس کو پسند کرے یاناپسند البتہ اگر کسی معصیت کا حکم دے تو پھر اس کی اطاعت نہ کرے۔

حدیث نبویﷺ میں ہے: سَيَلِيكُمْ بَعْدِي وُلَاةٌ، فَيَلِيكُمْ الْبَرُّ بِبِرِّهِ، وَ الْفَاجِرُ بِفُجُورِهِ، فَاسْمَعُوا لَهُمْ وَأَطِيعُوا فِي كُلِّ مَا وَافَقَ الْحَقَّ، فَإِنْ أَحْسَنُوا فَلَكُمْ وَلَهُمْ، وَإِنْ أَسَاءُوا فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ([9])

ترجمہ: میرےبعد کئی لوگ آپ کے ولی ہوں گے،نیکوکار امام نیکی اور بدکار، بدی کے ساتھ حکمرانی کریں گے،لہذا ان کی ہر وہ بات جو حق کے موافق ہو اس کی اطاعت کر و ۔اگروہ اچھا کرے توآپ سب کے لیے اس میں بھلائی ہے اور اگر برا کرے تو آپ پر صبر اور ان کے لیے وبال ہے۔

اسی طرح امام احمد بن حنبل ؒ ([10])نے فرمایا: اگر کسی کو حاکم (امیرالمؤمنین )بنایا گیا تو اس کی اتباع ہر اس شخص پر لازم ہے جواللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو خواہ وہ نیکوکار ہو یا بدکار([11]

ایک اور حدیث میں سیدنا عبداللہ بن عباسروایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے امیر میں کوئی برائی دیکھے اور وہ اس کو ناگوار لگے تو اسے صبر سے کام لینا چاہیے کیونکہ جو شخص بالشت بھر بھی جماعت سے باہر ہوا اور مرگیا توجاہلیت کی موت مرا([12]

مشہور فقہی قاعدہ ہے :تَصَرُّفُ الإمَامِ بِالرَّعِيَّةِ مَنُوط بِالمصلَحَةِ([13])۔یعنی امام اور حاکم وقت کا تصرف اور حکم رعایا کے لیے اس وقت معتبر ہوگا جب وہ کسی مصلحت پر مبنی ہو۔

۲۔وہ قوانین جوشریعت کے مخالف ہوں:

دوسری قسم کے قوانین وہ ہیں جو قرآن وحدیث کے متعارض ہوں یا اسلامی اصولوں کے مخالف ہوں تو ان قوانین کی اطاعت کرنا گناہ ہوگا۔ذیل میں اس پر دلائل ذکر کیے جاتے ہیں:

قرآن میں اللہ تعالی ٰوالدین کی اطاعت کا ذکر کرتے ہیں کہ ہم نے انسان کو والدین کے ساتھ اچھائی کا حکم دیاہے حتی کہ انسان پر سب سے زیادہ حق والدین کا ہے ([14])،لیکن اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

ترجمہ: اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو ان کا کہا نہ ماننا۔ ([15])

والدین جن کا انسان پر زیادہ حق ہے،ان کی اطاعت اوربات ماننا معصیت میں جائز نہیں تو حاکم کی اطاعت بھی صرف اور صرف ان قوانین میں ہوگا جو شریعت کے معارض نہ ہو۔

ایک حدیث میں ہے : رسول اللہ ﷺنے صحابہ کی ایک جماعت کو جہاد پر بھیجا اور ان پر ایک امیر مقرر فرمایا،اس نے آگ جلا کر ان کو اس آگ میں کودنے کا حکم دیا ۔بعض صحابہ نے ارادہ کیا اور بعض نے اس سے انکار کیا،رسول اللہﷺکو جب اس کا پتہ چلا تو جنہوں نے آگ میں کودنے کا ارادہ فرمایا تھا ان کو ارشاد فرمایاکہ اگر آگ میں کو د جاتے تو قیامت تک اس آگ میں ہوتےاور جنہوں نے انکار کیا ان کو ارشاد فرمایاکہ اطاعت صرف نیکی کے کام میں ہونی چاہیے ،اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کوئی اطاعت نہیں([16]

ایک اور حدیث میں ارشاد نبوی ہے:لَا طَاعَةَ لِمَخلُوق فِی مَعصِیَةِ الخَالِقِ ([17]

ترجمہ: مخلوق کی اطاعت کرنا جائز نہیں جب وہ کسی معصیت کا حکم دے۔

اسی طرح رسول اللہ ﷺکاارشادہے: عَلَى المرءِ المسلِمِ، الطَّاعَةُ فِيمَا أحَبّ وكَرِهَ، إلّا أن يّؤمَرَ بِمَعصِيَة؛ فَمَن أُمِرَ بِمَعصِيَة فَلَا طَاعَةَ([18])

ترجمہ: مسلمان کے لیے امیر کی اطاعت ضروری ہے خواہ یہ اس کو پسند کرے یاناپسند البتہ اگر کسی معصیت کا حکم دے تو پھر اس کی اطاعت نہ کرے۔

مروجہ ٹریفک قوانین اسلامی نقطۂ نظر سے:

مذکورہ با لا تفصیل کی روشنی میں ہم ٹریفک کے قوانین کا جائزہ لیتے ہیں کہ ان قوانین کا تعلق کون سی قسم سے ہے،کیا یہ قوانین شریعت محمدی ﷺکے معارض ہیں یا ان میں کوئی مصلحت موجود ہے؟

ٹریفک کے اصول وضوابط حاکم لاگو کرتا ہے ،ان میں دو باتوں کی رعایت رکھی جاتی ہے :

ان اصولوں کی خلاف ورزی کرنے سے ڈرائیور کی اپنی جان کو نقصان پہنچتا ہے یا دوسروں کو نقصان پہنچانے کا خطرہ ہوتا ہے۔شریعت محمدی نےاپنی جان کو یا دوسروں کو نقصان پہنچانے سے منع فرمایا ہےلہذا ان اصول وضوابط کی اطاعت کرنا رعایا پر لازم ہوگا۔

پہلی قسم:

وہ قوانین جن کی خلاف ورزی کرنے سے اپنی جان کے نقصان کا خدشہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

ترجمہ: اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو کچھ شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ تم پر مہربان ہے۔ ([19])

علامہ ثعالبیؒ([20])اس آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں کہ ہر وہ حالت جس کے کرنے سے جان کو خطرہ ہو اس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے([21])۔اسی وجہ سے سیدنا عمروبن العاصؓ ([22])نے اس آیت کو دلیل بنا کرجنابت کی حالت میں ٹھنڈے پانی سے غسل کرنے سےمنع ہوئے اس میں نفس کے ہلاک ہونے کا خطرہ تھا([23]

حدیث میں ہےکہ جو شخص ایسے چھت پر سوئے جس کی چار دیواری نہ ہو اللہ تعالیٰ اس سے بری ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے لیکن جو شخص خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال دے تو یہ ذمہ ساقط ہو جاتا ہے([24])۔اس قسم میں مندرجہ ذیل قوانین آتےہیں:

۱۔سیٹ بیلٹ کا استعمال:

اصل حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے ہی لیا ہے،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

ترجمہ: سو اللہ تعالیٰ ہی بہتر نگہبان ہے۔([25])

لیکن چند تدابیر ایسے ہوتے ہیں جو ماتحت الاسباب حفاظت کے لیے اختیار کرنا لازمی ہوتے ہیں۔جس طرح کہ اوپر گزر چکا کہ بغیرچاردیواری والےچھت پر سونے والےکےبارے میں رسول اللہ ﷺنےبہت سخت وعید سنا دی ہے، اسی طرح سیٹ بیلٹ کا باندھنا بھی ہےکہ اس پر عمل نہ کرنے سے جان کو نقصان کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے،لہذا اس کی رعایت بھی ضروری ہے۔

۲۔ مقررہ حد رفتار ی کی پابندی کرنا:

حکومت کی جانب سے رفتار کی ایک حد مقر ر ہوتی ہے ۔اس حد کو پار کرنے میں جان کےنقصان کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔اس لیے اس کی رعایت رکھنا بھی ضروری ہے۔

تیررفتاری کرنا شریعت میں بھی ناپسندیدہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں عبا دالرحمن کی صفت بیان کی ہے. ترجمہ: جو زمین پر نرمی کے ساتھ چلتے ہیں۔ ([26])

ایک حدیث میں ہے: التَّأَنِّي مِنَ اللَّهِ، وَالْعَجَلَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ یعنی وقار اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور جلدی شیطان کی طرف سے ہے([27])۔لفظ التَّأَنِّي بنیاد ہے جسے رسول اﷲ ﷺسفرمیں لوگوں کی تیز رفتار منع کرنے کے لیے فرمارہے ہیں،خاص طورپر جب سڑک پرگاڑیوں کا رش زیادہ ہو،ایسے موقع پر چلنے میں آہستگی اختیار کرنااور بے جاجلدبازی سے بچنامسلمان کے عمدہ اخلاق میں سے ہیں۔

تیز رفتاری دوسروں کو ڈرانےکاسبب بھی بنتا ہےجس سے رسول اللہ ﷺنے منع فرمایا ہے۔حدیث میں ہے:لَایَحِلُّ لمسلِم أن یُّرَوّع مُسلِمَا([28])یعنی کسی بھی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دوسرے مسلمان کو ڈرائے۔

۳۔ ڈرائیونگ کے دوران موبا ئل فون کا استعمال سے گریز :

موبا ئل فون کا استعمال بھی جان کے نقصان کا سبب بنتاہے۔

۴۔ ہیلمٹ پہن کرموٹر سائیکل چلانا:

یہ بات واضح ہے کہ بغیر ہیلمٹ کے گاڑی چلانے سے جان کو خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔لہذا مندرجہ بالا احادیث کے وعید میں بغیر ہیلمٹ کےموٹر سائیکل چلانا بھی داخل ہے۔

۵۔غیر محفوظ حالت میں گاڑی نہ چلانا:

غیر محفوظ حالت سے مراد نیند،نشہ یا بیماری کی حالت ہے ،کیوں کہ ان تمام صورتوں میں جان کو خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

۶۔ٹریفک سگنلز کی خلاف ورزی نہ کرنا:

حکومت نےلوگوں کی جانوں کی حفاظت کی خاطر لائٹس لگائیں ہوتے ہیں جن کو ٹریفک سگنلز کہتے ہیں ،ان کی خلاف ورزی کرنے سے جان کا نقصان ہے۔

۷۔رف قسم کی ڈرائیونگ سے اجتناب کرنا :

حکومت نے خراب گاڑی کے چلانے پر پابندی عائد کی ہے کیوں کہ یہ بھی جان کے نقصا ن کا سبب بنتا ہے۔

دوسری قسم:

ٹریفک کے وہ قوانین جن میں دوسروں کو نقصان کا خدشہ ہو۔دوسروں کو نقصان پہنچانے سےشریعت محمدیﷺنےہمیں سختی کے ساتھ منع کیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے اورکامل مؤمن وہ ہے جس سے لوگوں کا خون اور جان محفوظ ہو ([29]

ایک اور روایت میں سیدنا عبداللہ بن عمرؓ فرماتےہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو دیکھا کہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے فرمارہے ہیں:تو کیا عمدہ ہےاور تیری خوشبو کس قدر اچھی ہے،تو کتنی عظمت کا خاوند اور تیری حرمت کتنی عظیم ہے،اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے،مؤمن کی حرمت اور اس کےمال وجان کی حرمت اللہ تعالیٰ کےنزدیک تیری حرمت سےبڑھ کرہے([30])۔لہذا دوسروں کی جان ومال کی حفاظت ہر مسلمان کےذمہ ہے۔

اسی طرح رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:جو شخص مسلمانوں کو راستوں میں تکلیف دیتا ہے تو اس پر لوگوں کی لعنت واجب اور لازم ہو جاتی ہے([31]

تکلیف دینے سے مراد راستے میں گندگی پھیلاناہے، مثلا قضائےحاجت کرنا یا کوئی پتھر وغیرہ گرانا۔علامہ راغب([32]) کےنزدیک اذی کا معنی جسمانی تکلیف دینا ہے([33]) ،لہذا اس سے مراد کسی کو جسمانی تکلیف دینا ہے([34]

ارشاد نبویﷺ ہے:اِنَّ اللهَ یُعَذِّبُ الَّذِینَ یُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِی الدُّنیَا([35]) ترجمہ: اللہ تعالیٰ اس شخص کو عذاب میں مبتلا کرتا ہےجو لوگوں کو دنیا میں (نا حق) تکلیف دیتا ہو۔

ایک اور روایت میں رسول اللہﷺکا ارشاد ہے کہ دولعنت زدہ اشخاص سے بچو ۔صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ اس سے کون مراد ہیں؟آپﷺ نے ارشاد فرمایا:وہ شخص جو لوگوں کے راستے یا سایہ دار جگہوں میں پیشاپ کرتے ہیں([36]

مذکورہ بالا تمام احادیث سے معلوم ہو ا کہ دوسرے مسلمان کو کسی بھی قسم کی تکلیف دینا عذاب الہی کا سبب بنتا ہے۔

دوسری قسم میں مندرجہ ذیل قوانین آتے ہیں:

۱۔ ممنوعہ علاقہ میں ہارن نہ بجانااور اس کا بے جااستعمال نہ کرنا:

ممنوعہ علاقے سے مراد ہسپتال یا اسکول وغیرہ ہیں کہ جس میں مریضوں کوہارن بجانے سے تکلیف ہو ،اسی طرح ہارن کا بے جا استعمال ممنوع ہے کیوں کہ اس میں لوگوں کو انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ جوشخص اپنے غصے اور کینے کا اظہار مسلمانوں کے راستوں میں کرتا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ ،اس کے فرشتے او ر تمام لوگ لعنت بھیجتے ہیں([37])۔لوگوں کوراستوں میں تکلیف دینےکے بارےمیں کتنی سخت وعید آئی ہے۔

۲۔ایمبولنس کو راستہ دینا:

ایمبولنس کو عربی میں سیارۃ الاسعاف کہا جاتاہے۔یہ گاڑی مریضوں کے لیے خاص ہوتی ہے،اس کا راستہ بند کرنا بھی ضرر سے خالی نہیں۔

۳۔کسی بلڈنگ کے گیٹ کےسامنے پارکنگ نہ کرنا:

بلڈنگ کے گیٹ کے سامنے گاڑی کھڑی کرنا دوسروں کی تکلیف کا سبب بنتی ہے۔

۴۔دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کا استعمال سے گریز کرنا:

دھواں چونکہ صحت کے لیے مضر ہے ،اس وجہ سے حکومت نے اس قسم کی گاڑی کے استعمال سے منع کیا ہے جو زیادہ دھواں چھوڑنے والی ہو ۔

۵۔ دوسری گاڑی کو راستے کاحق دینا:

دوسری گاڑی کو راستہ نہ دینے سے دوسروں کو تکلیف ہوتی ہے۔ارشاد ربا نی ہے:

ترجمہ: مومنو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں کھل کر بیٹھو تو کھل بیٹھا کرو۔ اللہ تعالیٰ تم کو کشادگی بخشے گا۔([38])

آیت صرف مجلس کے ساتھ خاص نہیں بلکہ تفسح سے مراد تما م وہ مقامات ہیں جہاں مسلمان کو خوش کرکے خیرخواہی ممکن ہو ([39])۔لہذا دوسری گاڑی کو راستہ دینا بھی اس میں داخل ہے۔

۵۔گاڑی کی غلط پارکنگ اور مخالف سمت پر گاڑی کانہ چلانا:

راستے سے تکلیف دہ چیزکو دور کرنا خواہ وہ پتھراور کانٹا ہو یا کوئی گاڑی وغیرہ کیوں کہ یہ تمام چیزیں دوسروں کو تکلیف کا ذریعہ بنتی ہیں۔اسی طرح گاڑی کوغلط پارک کرنا یا یک طرفہ ٹريک پر مخالف سمت سے گاڑی چلاناجو کہ دوسروں کو تکلیف دینے سے خالی نہیں۔رسول اللہﷺنے راستے سے تکلیف دہ چیز کے دور کرنے کو ایمان کے شاخوں میں سے قرار دیاہے([40])۔صحیحین کی روایت جو سیدنا ابوہریرۃ ؓ سے منقول ہے،جس میں تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے([41]

ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے راستے سے کانٹے کی ایک شاخ کو دور کیا ،اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت فرمادی([42])۔صحیح مسلم کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے جنت میں ایسے شخص کوچلتے پھرتے دیکھا جس نے راستے سے تکلیف دہ درخت کو راستے سے کاٹ دیا تھا([43])۔لہذا گاڑی کوغلط پارک کرنا یا مخالف سمت سے گاڑی چلانا جائزنہ ہوگا۔

ایک غلط فہمی کا ازالہ:

یہ با ت مسلم ہےکہ حکم اپنے وجود اور عدم میں علت کےگرد گھومتا ہےنہ کہ حکمت کے،یعنی جب علت پایا جائے تو حکم بھی پایا جائےگا ورنہ نہیں،مثلا ٹریفک کے قوانین میں سے یہ ہےکہ سرخ سگنل (ٹریفک سگنلزمیں سے)کے وقت رکنا ہےلہذا رُکناحکم ہےاور سرخ سگنل علت ہے،جب کہ اکسیڈنٹ سے بچنا حکمت ہے۔اگر سڑک پر کوئی گاڑی بھی نہ ہو لیکن سگنل سرخ (یعنی علت موجود)ہے تو رُکنا لازم ہےاگرچہ ایکسیڈنٹ(جو کہ حکمت ہے)کا کوئی خطرہ نہ ہو([44]

ہماری ذمہ داریاں:

ٹریفک کے قوانین سے متعلق ہم پر بہت سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہے۔ہمیں چاہئے کہ ان قوانین پر عمل پیراہوں تاکہ راستے کاحقوق اداکرکے تمام لوگوں کی جان ومال محفوظ رہے۔ان قوانین کےحوالہ سے پولس اہلکاروں سے بھی بھرپورتعاون کرناچاہئے۔ان قوانین کو پامال کرنےوالا معاشرے کی توہین کا مرتکب اور اس کو نقصان پہنچانےکےدرپےہوتا ہےجبكه اس کی پاسداری کرنےوالا اپنی جان ومال کےساتھ دوسروں کی حفاظت کرتاہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں راستوں کےحقوق ادا کرنے،دوران سفر نرمی ،وقار اور تواضع وانکساری کا مظاہرہ کرنےکی توفیق عطا فرئے۔

تجاویز:

۱۔حکومت وقت کوچاہئےکہ قوانین کی آگہی کےلیےایسےاقدامات کرےجس سےلوگ ان قوانین سےآسانی سےخبردار ہوسکے۔

۲۔گاڑی کا فٹنس سرٹیفیکیٹ جاری کرے جس کےبغیر گاڑی کا چلانا ممنوع ہو۔

۳۔گنجان آباد علاقوں میں ایمبولنس کےلیے الگ راستے بنائےجائیں جس کی وجہ سے لوگوں کی جانیں محفوظ ہوں۔

نتائج:

۱۔حاکم کی اطاعت ان احکامات میں ضروری ہے جو شریعت کے متصادم نہ ہو،ان میں ٹریفک کے قوانین شامل ہیں۔

۲۔انسانی جان بہت ہی قیمتی ہے خواہ وہ اپنی ہویا دوسروں کی، اس کی حفاظت لازم ہے۔

۳۔اگر جان کاخطرہ نہ ہوتب بھی دوسروں کو تکلیف دینا جائز نہیں ہوگا۔

۴۔قانون کا احترام ہر صورت میں لازمی ہےخواہ اس میں کوئی حکمت ہو یا نہ ہو۔

۵۔ایک اچھے شہری اور اچھے مسلمان کی حیثیت سےہماری ذمہ داری ہےکہ قوانین کااحترام کر کےاپنے اور دوسروں کی جان ومال کی حفاظت کریں۔

حوالہ جات

  1. () سورۃ النساء،۵۹:۴
  2. () آپ کاپورانام عمار بن یاسر بن عمار بن مالک بن کنانہ بن قیس بن الوذیم العنسی ہے۔بدری صحابیٔ رسول ہیں۔والدہ کا نام سمیہ ؓ جو کہ کبا ر صحابیات میں سے ہیں۔سابقین اولین میں سے دوصحابہ ایسے ہیں جن کے والدین اسلام کی روشنی سے منور ہوئےتھے،ان میں ایک عمار بن یاسر ؓ اور دوسرے سیدنا ابوبکرؓ ہیں۔[سیر اعلام النبلاء،شمس الدین ابو عبد اللہ محمد الذہبی،ج۱،ص۴۱۰،مؤسسۃ الرسالۃ ،بیروت، ۱۴۰۵ھ=۱۹۸۵ء]
  3. () سیدنا خالد بن الولید بن المغیرۃ بن عبداللہ ،کنیت سلیمان ،والدہ کا نام عصماءہے۔غزوہ بد ر،احد اور خندق میں مسلمانوں کے خلاف لڑے،فتح مکہ کو اسلام قبول کیا،سیدنا عمر بن الخطاب کے زمانہ ٔخلافت ۲۰ ہجری کو ۶۰ سال کی عمر میں وفات پائی۔[الطبقات الکبری،ابو عبد اللہ محمد بن سعد،ج۷،ص۲۸۰،دارالکتب العلمیۃ،بیروت،۱۴۱۰ھ=۱۹۹۰ء]
  4. () تفسیر الماوردی،ابو الحسن علی بن محمدالماوردی،ج۱،ص۵۰۰،دار الکتب العلمیۃ،بیروت،لبنان
  5. () صحیح مسلم،مسلم بن حجاج بن مسلم،ج۳،ص۱۴۶۶،رقم۱۸۳۵،دار احیاء التراث العربی،بیروت
  6. () صحیح البخاری،ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل،ج۱،ص۱۴۰،رقم۶۹۳،باب امامۃ العبد والمولی،دار طوق النجاۃ،۱۴۲۲ھ
  7. () زبیبۃ یہ زبیب کی مؤنث ہےجو انگور کے خشک دانے کو کہتے ہیں،عرب میں یہ بطور تمثیل حقارت کےلیے استعمال ہوتا ہے۔[فتح الباری، علامہ ابن حجر احمد بن علی عسقلانی،ج۱۳،ص۱۲۲،دارالمعرفۃ، بیروت،۱۳۷۹ھ]
  8. () تفسیر الطبری،ج۸،ص۵۰۳
  9. () علامہ طبر انی نے اس روایت کو محمد بن علی کے حوالہ سے سیدنا ابوہریرہ ؓسے نقل کی ہے۔[المعجم الاوسط،ابو القاسم سلیمان بن احمد الطبر انی،ج۶،ص۲۴۷،رقم۶۳۱۰،دار الحرمین،قاہرۃ]علامہ دارقطنی نے بھی اس کوان الفاظ کے ساتھ اپنی سنن میں ابو حامد محمد بن ہارون کے حوالہ سے سیدنا ابو ہریرہ ؓسے نقل کی ہے۔[سنن دار قطنی،ابو الحسن علی بن عمردارقطنی،ج،ص،مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، لبنان، ۱۴۲۴ھ=۲۰۰۴ء]
  10. () آپ کا پورانام عبد اللہ احمد بن محمد بن حنبل بن ہلا ل (۱۶۴ھ)،اما م المحدثین ہیں ،ان کی کتاب: مسند احمد بن حنبل مستند کتابوں میں سے ہے۔[وفیات الاعیان،ابن خلکان شمس الدین احمد بن محمد،ج۱،ص۶۳،دار صادر ،بیروت،۱۹۹۴ء]
  11. () شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ،ابو القاسم ہبۃ اللہ بن الحسن اللالکائی،ج۱،ص۱۷۵،رقم ۳۱۷، دارطیبۃ ،السعودیۃ،۱۴۲۳ھ=۲۰۰۳ء
  12. () صحیح البخاری،ج۹،ص۴۷،رقم ۷۰۵۴،با ب قول النبی ﷺ:سترون بعدی امورا تنکرونہا
  13. () المنثور فی القواعد الفقہیۃ،بد رالدین محمد بن عبداللہ الزرکشی،ج۱،ص۳۰۹،وزارۃ الاوقاف الکویتیۃ،۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵ء
  14. () عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قَالَ: أُمُّكَ قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أُمُّكَ قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أُمُّكَ قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:ثُمَّ أَبُوكَ[صحیح البخاری،ج۸،ص۲،رقم۵۹۷۱]
  15. () سورۃ لقمان،۱۵:۳۱
  16. () صحیح مسلم، ج۳، ص۱۴۶۹، رقم۱۸۴۰
  17. () امام ترمذیؒ نے یہ روایت قتیبہ کے حوالہ سے سیدنا ابن عمر ؓ سے نقل کی ہےاور اس پر صحیح کا حکم لگایا ہے۔[سنن ترمذی،محمد بن عیسی الترمذی،ج۴،ص۲۰۹،رقم۱۷۰۷،شرکۃ مکتبۃ ومطبعۃ مصطفی الحلبی ،مصر،۱۳۹۵ھ=۱۹۷۵ء]
  18. () تفسیر الطبری،ج۸،ص۵۰۳
  19. () سورۃ النساء ،۲۹:۴
  20. () عبد الرحمن بن محمد بن مخلوف الثعالبی (۱۳۸۴ھ-۱۴۷۰ھ) کنیت ابو زید،مشہور مفسر قرآن ہیں۔ان کی تصنیفات میں سے الجواہر الحسان فی تفسیر القرآن،الانوارفی المعجزات النبویۃاورالارشاد فی مصالح العبا د ہیں۔[الاعلام،خیر الدین بن محمود الزرکلی، ج۳،ص۳۳۱،دار العلم للملایین،۲۰۰۲ء]
  21. () تفسیر الثعالبی،ابو زید عبدالرحمن بن محمد الثعالبی،ج۲،ص۲۲۴،داراحیاء التراث العربی،۱۴۱۸ھ
  22. () عمرو بن العاص بن وائل بن ہاشم(وفات:۴۳ھ)کنیت ابو عبداللہ،مشہور صحابیٔ رسول ہیں۔حبشہ میں ایمان لائے تھے،سن ۸ہجری کو مدینہ منورہ ہجرت کی۔[الطبقات الکبری،ج۷،ص۳۴۲]
  23. () پوری حدیث یہ ہے:عن عمرو بن العاص قال: احتلمت في ليلة باردة في غزوة ذات السلاسل فأشفقت إن اغتسلت أن أهلك فتيممت، ثم صليت بأصحابي الصبح فذكروا ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: «يا عمرو صليت بأصحابك وأنت جنب؟» فأخبرته بالذي منعني من الاغتسال وقلت إني سمعت الله يقول: ولا تقتلوا أنفسكم إن الله كان بكم رحيما فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يقل شيئا[سنن ابی داؤد،ج۱،ص۹۲،رقم۳۳۴]
  24. () مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح،ابو الحسن علی بن محمد ،ج۷،ص۲۹۸۱،رقم۴۷۲۰،دار الفکر ،بیروت ،لبنان، ۱۴۲۲ھ =۲۰۰۲ء
  25. () سورۃ یوسف،۶۴:۱۲
  26. () سورۃ فرقان،۶۳:۲۵
  27. () مکارم الاخلاق ،ابو بکر محمد بن جعفر الخرائطی،ج۱،ص۲۲۸،رقم۶۸۶،دار الافاق العربیۃ ،قاہرہ،۱۴۱۹ھ=۱۹۹۹ء
  28. () ابوداؤد ؒ نے اس حدیث کو محمد بن سلیمان الانباری کے حوالہ سے عبدالرحمن بن ابی لیلی سے نقل کی ہے۔[سنن ابی داؤد،ج۴، ص۳۰۱،رقم۵۰۰۴]
  29. () امام ترمذی ؒ نے اس حدیث کو قتیبہ کے حوالہ سے سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے نقل کرکے حسن صحیح کا حکم لگایاہے۔[سنن ترمذی،ج۵،ص۱۷،رقم ۲۶۲۷]
  30. () امام ابن ماجہ نے یہ حدیث ابو القاسم بن ابی ضمرہ کے حوالہ سے سیدناعبد اللہ بن عمرسے نقل کیاہے۔[سنن ابن ماجہ، ج۲،ص۱۲۹۷،رقم۳۹۳۲]
  31. () علامہ طبرانی ؒ نے اس حدیث کو عبدان بن احمد کے حوالہ سے سیدنا حذیفہ بن اسیدؓ سے نقل کی ہے۔ [المعجم الکبیر،سلیمان بن احمد الطبرانی،ج۳، ص۱۷۹، رقم۳۰۵۰، مکتبۃ ابن تیمیہ ،قاہرہ،۱۴۱۵ھ=۱۹۹۴ء]
  32. () حسین بن محمد بن المفضل الاصفہانی(وفات:۵۰۲ھ=۱۱۰۸ء)راغب سے مشہور ہیں۔ان کی کتابو ں میں محاضرات الأدباء،الأخلاق،جامع التفاسیراور المفردات فی غریب القرآن مشہور ہیں۔[سیر أعلام النبلاء،ج۱۸،ص۱۲۰]
  33. () المفردات فی غریب القرآن،ابوالقاسم الحسین بن محمد،ج۱،ص۷۱،دار القلم،الدار الشامیۃ، دمشق، بیروت،۱۴۱۲ھ
  34. () سبل السلام،محمد بن اسماعیل،ج۱،ص۱۰۹،دار الحدیث
  35. () صحیح مسلم،ج۴،ص۲۰۱۷،رقم۲۶۱۳
  36. () صحیح مسلم،ج۱،ص۲۲۶،رقم۲۶۹،باب النہی عن التخلی فی الطرق والظلال
  37. () امام حاکم نے اس حدیث کو ابو بکر بن اسحاق کے حوالہ سے سیدنا ابو ہریرہ ؓسے نقل کرکےحدیث عزیز کا حکم لگایا ہے۔[ المستدرک علی الصحیحین،ابو عبد اللہ محمد بن عبداللہ،ج۱،ص۲۹۶،رقم۶۶۵،دار الکتب العلمیۃ،بیروت،۱۴۱۱ھ=۱۹۹۰ء]
  38. () سورۃ المجادلۃ ،۱۱:۵۸
  39. () مفاتیح الغیب ،ابو عبد اللہ محمد بن عمر رازی،ج،۲۹،ص۴۹۴،دار احیاء التراث العربی ،بیروت،۱۴۲۰ھ
  40. () صحیح المسلم ،ج۱،ج۱،ص۶۳،رقم۳۵
  41. () صحیح البخاری،ج۴،ص۵۶،رقم۲۹۸۹۔صحیح المسلم،ج۲،ص۶۹۹،رقم۱۰۰۹،باب بیان ان اسم الصدقۃ یقع علی کل نوع من الصدقۃ
  42. () صحیح البخاری،ج۱،ص۱۳۲،رقم۶۵۲،باب فضل التہہجیز الی الظہر
  43. () صحیح مسلم،ج۴،ص۲۰۲۱
  44. () اصول افتاء،مفتی تقی عثمانی،ص۲۴۱،مکتبہ معارف القرآن،کراچی ،پاکستان،۱۴۳۳ھ=۲۰۱۲