Playstore.png

جنگی قیدیوں کے حقوق شریعت اسلامیہ اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ الایضاح
عنوان جنگی قیدیوں کے حقوق شریعت اسلامیہ اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں
انگریزی عنوان
Rights of War-Prisoners in the Light of Islamic and International Law
مصنف شاہ، سید مبارک، عبد الوہاب مفتی
جلد 30
شمارہ 1
سال 2015
صفحات 165-181
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
شکاگو 16 شاہ، سید مبارک، عبد الوہاب مفتی۔ "جنگی قیدیوں کے حقوق شریعت اسلامیہ اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں۔" الایضاح 30, شمارہ۔ 1 (2015)۔
عالمی امن میں اسلام کا کردار
دینی مدارس پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کے الزامات: ایک تجزیاتی مطالعہ
عرب اسلامی روایت کے برصغیر پاک و ہند میں تفسیر نگاری پر اثرات: عہد رسالت تا خلافت عباسیہ کے تناظر میں اختصاصی مطالعہ
حضرت آدم علیہ السلام بائبل اور قرآن کى روشنى میں
اسلام میں امن اور دہشت گردی کا تصور: ایک علمی اور تحقیقی جائزہ
قذف اور پاکستانی معاشرہ: اسلامی حوالے سے تنقیدی جائزہ
قانون ٹارٹ كا فقہ اسلامى كى روشنى میں جائزہ
افغانستان کی اسلامی تاریخ کے پیش رو صحابہ کرام: عہد خلافت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ
حلالہ اور مروجہ حلالہ سنٹرز: ایک تجزیاتی مطالعہ
جنگی قیدیوں کے حقوق شریعت اسلامیہ اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں
اسلام اور ہندو مت میں مادی اور روحانی طہارت کے اصول
اسلام اور جین مت میں طہارت کا تقابلی جائزہ
علاج معالجہ اور دم کی شرعی حیثیت
جنگی جرائم اسلام اور بین الاقوامی قانون کے تناظر میں
علامہ عینی اور ان کی خدمات کا علمی جائزہ
سورة الكوثر بين الإعجاز البلاغي وتحديات الترجمة
الزمخشري وموقفه من الاستشهاد بشعر المؤلدين في ضوء تفسيره الكشاف
مؤسسة الإزدواج والأسرة في ضوء الشريعة الاسلامية
ضوابط قبول التفرد في رواية الحديث دراسة مع أمثلة من تطبيقات النقاد
مميزات التشريع الجنائي في الفقه الإسلامي: دراسة تحليلية
Principles and Rules of Jihad: A Juristic Approach
Peace, the Essential Message of Islam
Orientalists on the Style of Quran: A Critical Study
The Genesis of Shi’ism in Islam
Origin of Earth: A Quranic Perspective
Rights of Non-Muslim Minorities in a Muslim Country in the Light of Qur’an and Sunnah
Pakistan’s Stance on the War on Terror: Challenging the Western Narrative
Impact of Hajj on Muslims With Special Reference to Pakistan

Abstract

Islam encourages treating war-prisoners positively. The prophet Muhammad (peace be upon him) showed it by his conduct as he never mal  treated any war-prisinor. Quran also teaches it as Allah describes the qualities of true believers as “and they give food, inspite of their love for it (or for the love of Him), to the Miskīn (the poor), the orphan, and the captive. [Al-Dahar; 8] The same teachings are in practice in the international law. The present article dicusses the rights of war-prisoners both in the light of Islamic and international law.   


تمہید:

اسلام دین امن واشتی ہے ،اسلام بدامنی ،انتشار اور ظلم وعدوان کا استیصال چاہتا ہے اور معاشرے میں اطمینان وسکون کی فضا قائم کرنا چاہتا ہے ،جہاں ہر ایک کو جان ، مال اور عزت وآبرو کی حفاظت میسر ہو۔

اسلام دین رحمت ومہربانی ہے اس کی مہر بانی تمام مخلوقات کے لئے عام ہے ، یہ دین انسانیت (Humantarian) ہے ، اس کی ہمدردی ،خیر خواہی ، اور بھلائی تمام انسانوں کے لئےء بلا تخصیص عام ہے۔اسلام کے احسان اور مہر بانی سے جنگی قیدی بھی محروم نہیں ہیں ۔اسلام نے ایک ایسے دور میں جنگی قیدیوں کو حقوق عطا فرمائے جس دور میں جنگوں میں ہر قسم کا ظلم روارکھا جا تا تھا۔جنگی قیدیوں کو ہاتھ آئے شکار کی مانند سمجھا جا تا تھا اُن پر مخالف فریق کو جس کے ہاتھ وہ قید ہو تے تھے،ہر قسم کے ظلم کرنے کا اختیار ہو تا تھا انسانیت سوز سلوک ہوتا تھا ، زندہ جلا دیا جا تا تھاتیل میں ڈال کر بھنا جا تا تھا جیسا کہ بعض مسلمان قیدیوں کے ساتھ بعض عیسائی بادشاہوں نے کیا تھا ۔آج بھی بعض قوموں کے ہا ں یہ محاورہ پا یا جا تا ہے کہ "Every thing is fair in Love and War" جب کہ اسلام نے جنگوں کے لئے بھی اصول واحکام اور ہدایات وآداب متعین کئے اور اپنے پیروکاروں کو ان ہدایات کا ایسا ہی پابند کیا جیسا کہ اسلامی شریعت کے دیگر احکام اور عبادات کے مسائل کا پا بند کیا ہے ۔اس ضمن میں اگر اسلامی احکامات کا مطالعہ کیا جائے تو واضح ہو جا تا ہے کہ اسلامی شریعت جنگ میں بھی انسانی کرامت وشرافت کی حفاظت کر تی ہے جیسا کہاایام ِ امن میں کر تی ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ٰ ہے ۔

’’ وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلاً‘‘[1]

’’اور ہم نے عزت دی ہے آدم کی اولاد کو اور سواری دی کہ ان کو خشکی اور دریا میں اور روزی دی ان کو ستھری چیزوں سے اور ان کو فضلیت دی بہت سوں پر جن کو ہم نے پید ا کیا ‘‘.

اور نیز ارشاد ہے :

’’ وَلاَ يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلاَّ تَعْدِلُواْ اعْدِلُواْ هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى ‘‘[2]

’’اور کسی قوم سے دشمنی کے باعث انصاف کو ہر گز نہ چھوڑو۔عدل کر ویہی بات زیادہ نزدیک ہے تقوی کے ‘‘

چنانچہ تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہو تا ہے کہ مسلمانوں سے بڑھ کر کوئی قوم جنگی قیدیوں کے لئے رحمت اور سایہ عاطفت ثابت نہ ہوئی ۔جب کہ مسلمانوں کی دشمن قوموں نے ہمیشہ مسلمانوں کے ساتھ ظلم ،سختی اور جبروزبردستی کی چنانچہ صلیبی جنگوں کی تاریخ میں مسلمان قائدین نے غیر مسلم قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک،انسانیت نوازی اور رحمت وشفقت کا مظاہرہ کیا اور انہی دشمنوں نے مسلمان قیدیوں کے ساتھ سفاکی، سنگ دلی اور ظلم وبربریت کا معاملہ کیا ۔صلاح الدین ایوبی نے فرنگیوں کے قیدیوں کو ہر آرام اور سہولت بہم پہنچائی جب کہ فرنگیوں کے قائد رچرد نے مسلمان قیدیوں سے ہر قسم کا انتقام لیا اور انہیں ذہنی اور جسمانی اذىتىں دیں۔[3]

کافر کی جنگ اور مسلمان کا جہاد:

کا فر کی جنگ سیاسی مقاصد کے لئے ہو تی ہے جب کہ اسلام کا جہا د اعلا ء کلمتہ اللہ کے لئے ہوتا ہے چونکہ مسلمان اللہ تعالی ٰ کے دین کی سربلند ی کے لئے لڑتا ہے اس لئے اس کی لڑائی میں ذاتی انتقام یا ذاتی مفاد اور قومی مفاد کی گنجائش نہیں ہوتی ہے وہ عین جنگ کے دوران ابھی اللہ تعالی کے دین کے احکام کی پابندی کر تا ہے جب کہ کافر جنگ میں اپنے آپ کو ہر قسم کے قانون اور ضابطے سے آزاد سمجھتا ہے وہ ہر طرح سے اپنے سیاسی مقاصد ، ذاتی مفاد اور ملکی مفا د کو حاصل کر نا اپنا حق سمجھتا ہے ، چنا نچہ یہ بات ان کے ہاں جنگ کی تعریف سے بھی سامنے آتی ہے ۔

Encyclopedia of Bridanice میں جنگ (WAR)کى تعریف یوں کی گئی ہے :

‘‘Armed conflict between political units’’ [4]

’’سیاسی گروہوں کے درمیان مسلح تنازع کو جنگ کہا جا تا ہے ‘‘

انسائیکلوپیڈیا Words and Phrasesکا مقالہ نگار یوں تعریف کر تا ہے :

‘‘War is an armed contest between different states on a qauestion of public right’’[5]

’’جنگ مختلف ملکوں کے درمیان مسلم تصادم کا نام ہے جو وہ عوام کے حقوق کے مسئلہ پر لڑتے ہیں‘‘

Claus Witz اس کی تعریف اور بھی بُرئے انداز سے کر تے ہیں وہ لکھتے ہیں:

‘‘War is an act of Violance intended to compel our opponent to fulfil our will’’[6]

’’جنگ ایک ایسا تشدد آمىز عمل ہے کہ وہ ہمارے مخالف کو اس پرآمادہ کر دےكہ وہ ہماری خواہش کی پیروی کرلے‘‘

مندرجہ بالا تعریفات سے جنگ کے جو مقاصد سامنے آتے ہیں اسلام میں ان میں سے کسی ایک کے لئے بھی لڑنا جائز اور حلال نہیں سمجھتا ۔اسلام ایسی جنگ کو ’’حرب‘‘کے نام سے موسوم کر تا ہے اور قرآن کریم میں عموماًغیر شرعی مقاصد کے تحت لڑنے والی جنگوں کے لئے ’’حرب‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے اس لئے غیر شرعی لڑائی لڑنے والے محارب wariersکہلائے جاتے ہیں ،مجاہد یعنی جہاد کر نے والے نہیں ۔چنانچہ قرآن کریم نے باغیوں کو ’’مُحارِبین‘‘ کے لفظ سے ذکر کیا ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

’’ إِنَّمَا جَزَاء الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا ‘‘[7]

’’یہ سزا ہے ان کی جو لڑتے ہیں اللہ اور اس کے رسول سے (ڈاکو ،باغی) اور کوشش کرتے ہیں ملک میں فساد کی ‘‘

اسی طرح متعدد آیات میں کفار اور منافقین کی مسلمانوں کے ساتھ لڑائی کو حرب کہا ہے ۔اس لئے کہ مسلمانوں کے مخالفین کی لڑائی کا مقصد دین اسلامی کی سربلندی اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا حصول نہیں ہوسکتا ۔جیسا کہ ارشاد ہے ۔

’’ كُلَّمَا أَوْقَدُواْ نَارًا لِّلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا ‘‘[8]

’’جب کبھی آگ سلگاتے ہیں لڑائی کے لئے اللہ اس کو بجھا دیتا ہے ۔‘‘

’’ فَإِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِي الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِم مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ ‘‘[9]

’’سو اگر کبھی تو پائے ان کو لڑائی میں تو ان کو ایسی سزا دے کہ دیکھ کر بھاگ جائیں ۔ان کے پچھلے تا کہ ان کو عبرت ہو۔‘‘

’’ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ‘‘[10]

’’پھر یا احسان کی جیو اور یا معاوضہ لےجیو جب تک رکھ دے لڑائی اپنے ہتھیا ر‘‘

اس کے برعكس شریعت اسلامیہ مسلمانوں کو جس جنگ کی اجازت دیتی ہے وہ اپنے اصول واحکام اور مقاصد واہداف کے لحاظ سے مختلف ہے ۔جس کا اصطلاحی نام ’’جہاد ‘‘ ہے جہاد اسلامی کا مقصد واحددین کی سر بلندی ہے ، اس ایک مقصد کے سوا باقی کسی بھی مقصد و ہدف کے لئے لڑی جانے والی جنگ جہاد نہیں ہو سکتی ہے چنانچہ آنحضرت ﷺنےء اس کی صراحت فرمادی ہے ۔

’’عن أبى موسى فچاء رجل إلى النبى صلى الله عليه وسلم فقال! الرجل يقاتل للمغنم. والرجل يقاتل للذكر. والرجل يقاتل ليرى مكانه، فمن فى سبيل الله؟ قال من قاتل لتكون كلمة الله هى العليا فهو في سبيل الله‘‘[11]

’’حضرت ابو موسی اشعریؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی آنحضر ت ﷺ کے پاس آىا اور آپؐ سے پوچھا۔ایک آدمی مال غنیمت کے لئے لڑتا ہے ایک آدمی شریعت کے لئے لڑتا ہے اور ایک اپنی بہادری کا مرتبہ دکھانے کے لئے لڑتا ہے ان میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑنے والا کون ہے ؟رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔جو صرف اس لئے لڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دین اور کلمۂ اسلام سربلند ہو وہی ایک اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہا د کرنے والا ہے ‘‘۔

لفظ ’’جہاد ‘‘کا اطلاق تو کفار کے ساتھ جہاد پر ہوتا ہے لیکن باغیوں اور مرتدین کے خلاف لڑنے کو بھی ’’جہاد ‘‘ کہا جاتا ہے جیسا کہ ابن دقیق العید نے اس کی تصریح کی ہے ۔ [12]

قرآن وحدیث میں جہاد کے لئے لفظ ’’ قتال ‘‘ بھی استعمال ہوا ہے جس کا لغوی معنی لڑنے کے ہیں لیکن جب یہ لفظ فی سبیل اللہ کی قید کے ساتھ استعمال ہو یعنی ’’قتال فی سبیل اللہ ‘‘ تو اس سے اصطلاحی جہاد ہی مراد ہوتا ہے ۔ [13]

جنگی قیدی:

جنگی قیدی کی فقہاء کرام کے ہا ں تعریف یوں کی گئی ہے ۔

’’کل من يؤخذ فى الحرب مع الکفار أو فى نهايتها في القتال أو غير القتال مثل أن تقليه السفينة إلينا أويضل الطريق أو يوخذ بحيلة‘‘‘[14]

’’جنگی قیدی ‘‘ سے مراد ہر وہ شخص ہے کہ جس کفار کے ساتھ جنگ کے وقت یا اس کے اختتا م پر پکڑا جائے چاہے لڑائی کے دوران یا بغیر لڑائی کے مثلاً اگر کشتی سے وہ ہماری طرف گر جائے یا راستہ بھول جائے یا اس کو حیلہ سے گرفتار کیا جائے ‘‘

اسی طرح فقہاء کرام ’’ جنگی قیدی کا اطلاق اس شخص پر کرتے ہیں جو حربی ہو اور دارالاسلام میں بغیر امان (یعنی ویزہ ) کے داخل ہو یا مرتدین اور باغیوں کے ساتھ مسلمانوں کی لڑائی کے دوران گرفتا ر کرلئے جائیں۔[15]

اسی طرح ’’جنگی قیدیوں ‘‘کا اطلاق فقہاء کرام کے ہاں اس مسلمان پر بھی ہوتا ہے کہ جس کو دشمن قوت (کفار) نے جنگ کے دوران گرفتار کیا ہو۔[16]

قانون وضعی میں ’’ جنگی قیدی ‘‘ کی تعریف یہ کی گئی ہے۔

’’ہر وہ شخص جس کو کسی ارتکاب جرم کی وجہ سے نہیں بلکہ عسکری وجوہات ہر جنگ کے دوران گرفتار کیا گیا ہو‘‘[17]

چنانچہ اس سے معلوم ہو اکہ ’’ جنگی قیدی ‘‘ کی تعریف شریعت اسلامیہ میں وضعی قوانین سے عام ہے ،تعریف میں اس اختلاف کی وجہ سے اس کی ماہیت ،قواعد اور اصول میں بھی اختلاف ہوگا جس کی وجہ سے دونوں قوانین میں متحاربین باہمی تعلقات اور قیدیوں کے احکامات سے متعلق اختلاف پیدا ہوجائے گا۔

یہاں ’’جنگی قیدی‘‘ سے مراد وہ شخص ہے جس کو دومتحارب قوتوں کے درمیان جنگ کے دوران گرفتار ہو جائے چاہے عین لڑائی کے دوران یا لڑائی کے احتمال کے وقت اس کو گرفتار کیا گیا ہو ۔

جنگی قیدی کا خوراک ولبا س کا حق:

خوراک کے بارے میں تو قرآن کریم نے قیدیوں کو کھانا کھلانے کو سب سے بڑی نیکی اور مؤمن کے خصوصی اوصاف میں شمار کیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس عمل کو اپنی محبت کی علامت قرار دیا ہے چنا نچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

’’ وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا. إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاء وَلَا شُكُورًا‘‘[18]

نیز رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو ہدایت د ی کہ قیدیوں کے ساتھ خیر اور بھلائی کا معاملہ کرو آنحضرت ﷺ نےجنگ بد ر کے قیدیوں کے بارے میں صحابہ کرامؓ کو وصیت کی کہ ان کا خوب اکرام کرو۔[19]

انہی ہدایات کی وجہ سے صحابہ کرامؓ قیدیوں کو کھانے پینے میں اپنے اوپر ترجیح دیتے تھے گو یا کہ وہ قیدی نہیں بلکہ مہمان تھے۔حتی کہ بعض نے تو اپنی اولاد پر ان کو ترجیح دی ،بچوں کو بھو کا سلایا اور قیدی کو کھا نا کھلایا اور اس عمل کی قرآن کریم نے بھی بڑی تعریف کی ۔نبی کریم ﷺ خو د اپنے مبارک ہاتھوں سے قیدیوں کو کھا نا کھلاتے تھے۔[20]

’’عمیر بن ہشام فرماتے ہیں کہ جنگ بد ر کے دوران میں بھی دیگر کفار کے ساتھ گرفتار ہو گیا تھا۔میں انصار کی جماعت کے پا س تھا ۔ان کے لئے جب دوپہر یا شام کا کھانا لایا جاتا تھا تو وہ روٹی مجھے دیتے اور خود کھجوروں پر گزارہ کر تے تھے ۔ ان میں سے اگر کسی کے ہاتھ سےروٹی کا ٹکڑا گر تا تو وہ مجھے دیتے میں شرما کر ان کو واپس کر تا لیکن وہ اس کو ہاتھ لگائے بغیر مجھے دیتے تھے ۔کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ان کو اس کی ہدایت دی تھی‘‘[21]

جہاں تک لبا س کا تعلق ہے تو یہ ایسا امر ہے جو اسلام میں مطلوب ہے ، اور سترولبا س کی اسلام میں انتہائی تاکید ہے جس میں مسلم، غیر مسلم یا قیدی غیر قیدی کی تخصیص نہیں۔حضر ت جابرؓ فرماتے ہیں کہ جنگ بد ر کے قیدیوں میں کفار کے ساتھ حضرت عباسؓ جو اس وقت مسلمان نہ ہوئے تھے ، اس جنگ میں گرفتار ہو گئے تھے،ا ن کے بدن پر لبا س نہ تھا تو آنحضرت ﷺ نے ا ن کے لئے لبا س کا حکم دیا۔چنا نچہ عبداللہ بن اُبی كى قیمص ان پر پوری آئی اور وہی ان کو پہنائی گئی۔اسی طرح جب حاتم الطائی کی بیٹی مسلمانوں کی قید میں آئی تو رسول اللہ ﷺ نے خودا سے کھلایا ،پلایا اور کپڑئے پہنائے اور آزاد کرکے اس کی قوم کی ایک جماعت کے ساتھ اس کو واپس بھیج دیا۔[22]

بین الاقوامی قوانین میں بھی جنگی قیدیوں کے لئے کھانے اور لباس کا حق تسلیم کیا گیا ہے جنیوا میں 1949 ؁ء میں ایک بین الاقوامی معاہدہ طے پایا ۔ جس کا تعلق جنگی قیدیوں کے حقوق سے متعلق ہے ، جو تقریباً 142دفعات پر مشتمل ہے اس کی دفعہ نمبر 26میں جنگی قیدیوں کے کھانے سے متعلق قوانین میں لکھا گیا ہے کہ ہر جنگی قیدی کو روزانہ اتنا کھا نا اور پانی دیا جائے گا کہ وہ مقدار اور معیا ر کے لحاظ سے اس کے لئے کافی ہو نیز کھانا بھی وہ دیا جائے گا جو وہ اپنے ملک اور علاقے میں کھانے کے عادی تھے۔[23]

نیز اگر ممکن ہو تو یہ اجازت دی جائے گی کہ اگر وہ مشترک طور پر اپنے لئے کھا نا تیار کرتے ہوں تو انہی میں سے کسی کو پکانے کی ذمہ دداری سونپی جائے۔[24]

لباس کے بارے میں قانون میں یہ صراحت کر دی گئی ہے کہ جنگی قیدی اپنا فوجی لباس اپنے فوجی مرتبے کی علامات کے ساتھ پہن سکتے ہیں۔گرفتار کرنے والا ملک جنگی قیدیوں كو اوپر پہننے والا لباس اور نیچے پہننے والا لباس نیز جوتے اتنی مقدار میں مہیا کرے گا کہ وہ ان کے لئے کا فی ہوں ۔اور اگر گرفتا ر کر نے والے ملک نے دوران جنگ دوسرے ملک کا فوجی لبا س اور وردیاں بطور غنیمت کے قبضہ میں لی ہیں تو وہ انہی قیدیوں کو مہیا کردے جب ان کا لباس پرا نا ہو جائے بہر حال اس بات کی رعایت رکھی جائے گی کہ ان کو مہیا کیا گیا لباس اس کے علاقے کے موسم کے موافق ہو،اور اگر بعض قیدی کسی اضافى کام پر لگادیئے گئے ہیں تو ان کو ایسا لبا س دیا جائے گا جو اس کا م کی نوعیت کے مناسب ہو۔[25]

شریعت اسلامیہ نے جنگی قیدیوں کے ساتھ جو مشفقانہ سلوک چودہ سو سال پہلے کیا تھا اور اس کی تاکید کی تھی ۔آج کے قوانین نے اس سے زائد کوئی چیز نہیں دی ہے البتہ جس ایثار کا مسلمانوں نے جنگی قیدیوں کے کھانے پینے اور لباس میں ثبوت دیا وہ موجودہ قوانین میں مفقود ہے۔

مزید برآں شریعت اسلامیہ کی پیروی ہر فردپر انفرادی اجتماعی اورتنظیمی طورپر لازم ہے۔دنیا کی کوئی طاقت اگر مسلمانوں کو ان قوانین پر عمل درآمد مجبور نہ بھی کر ے تو پھر بھی آخرت کی جوابدہی کے احساس کے تحت وہ اپنی مرضی سے اس پر عمل پیرا ہو تے ہیں۔

دوسری طرف یہ دیکھا گیا ہے کہ جب بھی کسی غیر مسلم طاقت نے مو قع پایا ہے ۔ تو ان قوانین کی دھجیاں بکھیر ی ہیں چنانچہ دوسری جنگ عظیم میں سوویت نے یونین ہالینڈ کے15000پندرہ ہزار جنگی قیدیوں کو پھانسی دی۔ اسی طرح 1965 ؁ء میں شمالی کوریا نے بین الاقوامی ریڈ کراس کے جنیوا میں واقع دفتر کو لکھا کہ وہ امریکی جہازوں کے پائیلٹوں کے ساتھ جنگی مجرموں والا سلوک کریں گے نہ کہ جنگی قیدیوں والا۔[26]

11ستمبر کے واقعہ کے بعد امریکہ نے جیسا سلوک دہشت گردی کے نام پر جنگ میں گرفتار لوگوں کے ساتھ کیا۔اور ان کی غذا اور لبا س کے سلسلے میں جس طرح بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں کیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے لیکن طاقت ور امریکہ سے کون پوچھ سکتا ہے۔؟

رہائش کا حق:

ابتدائے اسلام میں قیدیوں کے لئے الگ جیل خانہ جات کا نظام نہیں تھا ۔چونکہ مسلمانوں کے پاس وسائل بھی کم تھے۔اور جرائم بھی نہ ہونے کے برابر تھے ۔ اس وجہ سے جنگی قیدیوں کے لئے کوئی مختص جگہ نہ ہوتی تھی۔ چنانچہ اہل یمامہ کا سردار ثمامہ بن اثال جب جنگ میں گرفتار ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے اس كومسجد نبوی میں رکھا۔[27] سہیل بن عمرو جو کہ جنگ بدر کے قیدیوں میں سے تھا، رسول اللہ ﷺ نے اس کو اپنے گھر میں رکھا۔ا س کے بعد آپؐ نے جنگ بدر کے دیگر قیدیوں کو صحابہ کرامؓ میں تقسیم کر کے ان کو ہدایات دی کہ ان کے ساتھ بھلائی کا سلوک کریں اور اچھے طریقے سے ان کو رکھیں۔بعد کے زمانوں مىں مخصوص جیلیں بنائی گئیں جس کا آغاز حضرت عمرفاروقؓ کے دور سے ہوا اور مابعد کے خلفاء کے ادوار میں اس میں مزید اصلاحات اور بہتری لائی گئی۔[28]

مندرجہ با لا ١گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ جنگی قیدیوں کی رہائش کے سلسلے میں زمانے کے ارتقاء کے ساتھ چلے،اور بہتری کی کوئی بھی صورت اپنائی جاسکتی ہے ۔ اس لیے کہ جنگ میں گرفتار کئے ہوئے فوجیوں کی قید ان کی سزا نہیں بلکہ محض ان کو جنگ مىں دوبارہ شامل ہونے سے روکنا ہے۔

(جنیوا معاہدہ برائے اسیرانِ جنگ) میں جنگی قیدیوں کی رہائش کے لئے جو ہدایات دی گئی ہیں ان کا خلاصہ حسب ذیل ہے :

  1. ان کی رہائش کے لئے تعمیرات سطح زمین پر ہوں زیر زمین (Underground) نہ ہوں۔
  2. وہ ایسے دور مقامات پر ہوں کہ جو جنگی کاروائیوں سے محفوظ ہوں۔
  3. ان میں فضائی حملوں سے حفاظت کے انتظامات اور دیگر خطرات سے بچنے کے لئے ایسے انتظامات کئے گئے ہوں جیسا کہ اس علاقے کے ملکی باشندوں کی حفاظت کے لئے کئے گئے ہیں۔
  4. جنگی قیدیوں کے لئے تعمیر کئی گئی رہائش گاہیں ایسی جگہوں پر ہونی چاہیے کہ وہ قیدیوں کی عادات اور روایات کے مناسب ہوں اور کسی حال میں ان کو ایسی جگہ تعمیر نہ کی جائے کہ جو قیدیوں کی صحت کے لئے ضرر ر ساں ہو۔
  5. ان رہائش گاہوں کے اندر قیدیوں کی سکونت کی جگہیں گیلی نہ ہوں اور وہاں موسم کی سردی سے بچنے کے لئے گرم رہنے کے مناسب انتظامات اور روشنی کے وسائل خاص کر شام اور رات کے اوقات میں اور اس کو بجھانے کے انتظامات اس طور پر ہوں کہ اس کی وجہ سے وہاں پر آگ لگنے اور جلنے کے خطرات نہ ہوں۔
  6. جنگی قیدیوں کی رہائش گاہوں کو جلی حروف (Prisoners of War) P.W سے ممتاز کیا جائے گا یہ حروف کسی اور فوجی چھاونی وغیرہ پر نہیں لکھے جائیں گے۔

نیز جنگی قیدیوں کی رہائش گاہوں کو قوم یا زبان یا عادات کے اعتبار سے الگ الگ رکھنا چاہئے ۔یہ جائز نہیں کہ كسى ملک کے فوجیوں کو دوسرے ملک کے فوجیوں پر ترجیح دی جائے۔اگر جنگی قیدیوں میں عورتیں بھی ہوں تو ان کے سونے کی جگہیں مردوں کے سونے کی جگہوں سے الگ ہوں۔[29]

اسلام کے آغاز میں چونکہ قیدیوں کے لئے الگ تعمیرات نہیں ہوتى تھیں۔اس لیے مختلف گھروں میں تقسیم کئے جاتے تھے،اور چونکہ اسلام ہر ایک کے لئے رکھوالے کی حیثیت رکھتا ہے خصوصاً قیدیوں کے معاملے میں اسلام کی وسیع القلبی اور نرم دلی ڈھکی چھپی نہیں اس لیے مندرجہ بالاقوانین اسلام کے مزاج کے خلاف نہیں۔جب کہ یہ قوانین بین الاقوامی معاہدات کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں معاہدوں کی پابندی کی اسلام تاکید کر تا ہے ۔اس لئے ان قوانین پر عمل درآمد ایک مسلم کی دینی ذمہ داری بنتی ہےلیکن دنیا دیکھ رہی ہے کہ دنیا کی سپر طاقت امریکہ نے گوانتا نا موبے میں جنگی قیدیوں کو رکھ کر ان قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

جنگی قیدی کی ملکیت کی بقاء:

مسلمان جنگی قیدی جو کفار کی قید میں ہو، ان کی ملکیت اپنے اموال و جائیداد پر اسی طرح باقی رہتی ہے جس طرح کہ قید سے پہلے تھی اس کی بیع ،ہبہ ،صدقہ وغیرہ تمام تصرفات نافذ العمل ہوں گے ،وہ جس قسم کے تصرفات بھی کرے گا جب تک اس پر زبردستی نہ کی گئی ہو وہ سب درست ہوں گےاور شریعت اسلامیہ میں وہ جائز ہیں اس کا اگر کوئی مورث وفات پا جائے تو اس کو اس کی میراث میں سے اپنا حصہ ملے گا۔اگر مسلمان قیدی کفار کی قید میں مرتد ہو گیا اور معلوم نہ ہو کہ وہ اپنی مرضی سے مرتد ہوا ہے یا کہ اس پر زبردستی کی گئی ہے تو اس کا مال موقوف ہو گا تا آنکہ وہ وفات ہو جائے اس کے بعدوہ مال مسلمانوں کے بیت المال میں جائیگا۔[30]

کافر جنگی قیدی جو مسلمانوں کی قید میں ہو تو اس کا وہ مال جو اس کے پا س قید سے پہلے تھا وہ مجاہدین کے لئے غنیمت ہو گا اور جو قید کے بعد کمائے گا وہ فئی ہوگا [31]اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کافر قیدی کا اس کے مال پر کوئی حق نہیں ہے۔

لیکن موجودہ دور کے فقہاء لکھتے ہیں کہ یہ فقہی حکم ہے شر عی حکم نہیں۔یہ اس زمانے کی بات ہے جب کہ مخالفین بھی مسلمان قیدیوں کے اموال کو اپنے قبضہ میں لے کر ضبط کر تے تھے اس لئے مسلمان فقہاء کرام نے اپنے زمانے كے عرف پر ان مسائل کا استخراج کیا ہے زمانے کی تبدیلی سے ان میں تبدیلی ممکن ہے۔[32]خاص کر جب ان کا تعلق بین الاقوامی معاہدوں سےہو جبكہ ایک مسلمان کے لئے ان معاہدوں کی پابندی لازم ہے۔

موجودہ بین الاقوامی قوانین میں یہ بات کی گئی ہے کہ قید کرنے والا ملک آغاز میں ہر قیدی سے نقدی اور قیمتی اشیاء الگ کر کے ان کو رجسٹر میں درج کر ے گا اور قیدی کو اس میں سے ضروری خرچ دے گا اگر قیدیوں کا ملک ان کو اضافی تنخواہ بھیج دیتا ہے تو قید کرنے والا ملك پابند ہو گا کہ وہ لے کر ان قیدیوں پر برابر تقسیم کردے ۔[33]

جنگی قیدیوں کو اجازت ہوگی کہ وہ اپنے ملک میں کسی کو کوئی رقم بھیج دے اور اس پر مندرجہ ذیل معلومات درج کردے۔

  1. اپنا پورا نام ،شخصى نمبر اورعہدہ ۔
  2. جس شخص کى طر ف رقم بھیجنا چاہتا ہے اس کا نام اور مکمل پتہ۔
  3. رقم كا حساب۔

اس صورت میں قید کرنے والا ملک ایک رسید لکھ دے گا ۔جس میں رقم کی مقدار اور قید کرنے والے ملک کی کرنسی کے حساب سے اس کی قیمت وغیرہ لکھی ہوئى ہوگى ۔قیدی اس پر دستخط کرے گا۔[34]

بین الاقوامی قوانین کی یہ تصریحات بہت ہی عمدہ ہیں۔لیکن عموماً یہ نظری باتیں ہوتی ہیں اور عموماً جنگوں میں ان قوانین پر عمل دارآمد بہت ہی کم ہو تا ہے یہی وجہ ہے کہ مختلف ممالک نے اپنے داخلى قوانین میں ان پر عمل درآمد کی کوئی پابندی نہیں رکھی ہے ۔بر خلاف شریعت اسلامیہ کے کہ اس کا ہر شخص انفرادی طور پر بھی پابندی کرے گا۔

کیا جنگی قیدی کو رازوں کے افشاء کرنے پر مارنا جائز ہے؟

اسلام دین رحمت وعدل ہے وہ تمام مخلوقات کے لئے خاص کر کمزوروں کے لئے شفقت اور مہربانی کی تاکید کر تا ہے تو کیا اسلام اس کی اجازت دیتا ہے کہ جنگی رازوں کے معلوم کرنے کے لئے قید ی کو سزادی جائے۔؟

ایک واقعہ نقل کیا جاتا ہے کہ جنگ بد رکے موقعہ پر صحابہ کرامؓ نے ایک کالا غلام پکڑا اور اس سے پوچھتے کہ ابو سفیانؓ کہاں ہیں تو وہ جواب دیتا کہ اس کا مجھے پتہ نہیں البتہ ابوجہل ،عتبہ،شیبہ اور امیہ بن خلف ان جگہوں پر موجودہیں تو صحابہ کرامؓ اس کو مارتے ،تو وہ کہتا وہ ابو سفیان ہے تو وہ چھوڑ دیتے وہ پھر کہتا کہ ابو سفیان کا مجھے پتہ نہیں تو صحابہ کرام پھر مارتے،انحضرت ﷺ نمازپڑھ رہے تھے۔جب آپﷺ نے نما ز ختم کی تو فرمایا جب وہ سچ کہتا ہے تو تم اس کو مارتے ہوں اور جب وہ جھوٹ کہتا ہے کہ تو اس کو چھوڑ دیتے ہو۔[35]

اس سے بعض استدلال کر تے ہیں کہ جنگی قیدی کو جنگی رازیں بتانے کے لئے مارا جا سکتا ہے لیکن درحقیقت یہ غلام جا سوس تھا اور جاسوس کی حیثیت جنگی قیدی سے مختلف ہوتی ہے جاسوس کو سزادی جاسکتی ہے۔

ڈاکٹر و ہبہ الزحیلی لکھتے ہیں کہ :

’’یہ مخصوص واقعہ ہے ،اسلام دین رحمت و شفقت ہے ،اس کو جنگی قیدی کے مارنے کے لئے قانون نہیں بنایا جا سکتا‘‘[36]

جنگی قیدى کا اسلام لانا:

اگر کافر محارب نے دوران جنگ اسلام قبول کر لیا تو اس کی جان ومال محفوظ ہوگئے اس کو قتل کرنا حرام ہوگا اور یہ اصلی مسلمان کی مانند ہوگیا۔البتہ اگر قیدی ہو نے کے بعد اسلام لایا تو اس میں فقہاء کرام کا اختلاف ہے احناف کے نزدیک ایسا قیدی قتل سے بچ گیا البتہ استرقاق اور من وفدا کا حکمران کو اختیار ہے شوافع اور حنابلہ کے نزدیک اب اس کی غلامی متعین ہوگئی اور قتل سے محفوظ ہوا۔[37]

جنگی قیدیوں کو کسی بھی حال میں قتل کرنے یا ان کو غلام بنانے کے سلسلے میں بین الاقوامی معاہدات موجود ہیں اور تمام مسلمان حکمرانوں نے ان معاہدات کی پابندی قبول کی ہے اور چونکہ یہ معاہدات اسلامی اساس اور اصول کے خلاف نہیں ہیں اس لئے ان کی پابندی ایک سچے مسلمان کے لئے ضروری ہے۔

جنگی قیدی کا فرار:

اس پر فقہاء کرام کا اجماع ہے کہ اگر مسلمان غیر مسلموں کی قید میں گرفتار ہوا اور وہ اس پر قادر ہو کہ کسی بھی طریقے سے ان کی قید سے چھوٹ جائے چاہے ان کو مار کر بھا گ جائے اور اگر کفار نے اس کو بیڑیاں پہنائی ہوں تو ان کو توڑ کر بھاگ جائے۔

اگرمسلمان جنگی قیدی نے کفار کے ساتھ معاہدہ کیا اور اس کے بعد بھاگ گیا تو اس بارے میں،حسن بصری، زہری، اوزاعی اور امام احمد ؒ کی رائے یہ ہے کہ اگر اس نے اپنی رضا مندی سے معاہدہ کیا تھا تو اس کو واپس کیا جائے گا اس لئے کہ اللہ تعالی ٰکا ارشاد ہے ۔

’’وَاَوْفُوْا بِعَهْدِ اللهِ اِذَا عَاهَدْتُمْ‘‘[38]’’اللہ تعالی کے عہدوں کو پورا کرو جب تم عہد کرو‘‘

اسی طرح صلح حدیبیہ کے موقعہ پر آپ نے جو معاہد ہ فرمایا تھا اس کی ایک شق ىہ بھی تھی کہ اگر کوئی مسلمان کفار سے بھاگ کر آئے گا تو مسلمان اس کو واپس کر یں گے چنانچہ اس کی وجہ سے آنحضرتﷺ نے ابو جندلؓ کو واپس کیا تھا۔[39]

لیکن جمہور فقہاء کی رائے یہ ہے کہ اس کا کفار کی طرف واپس لوٹنا لازم نہیں اس لئے کہ اس کا معاہد ہ کرنا اس کی آزاد رضامندی سے نہیں بلکہ اس پر جبر وزبردستی ہے نیزقید ایک طرح کی ذلت وعیب ہے مسلمان پر لازم ہے کہ کسی بھی حیلے سے اپنے آپ کو ذلت و عیب سے نکا ل دے اسی طرح کفار کے لئے مسلمان کو قید کرنا کسی طور جائز نہیں اس لئے کہ وہ ناحق لڑتے ہیں تو ان کے لئے جائز نہیں کہ حق والوں کو قید کرے۔[40]

جنگی قید ی کو قتل کر نا یا غلام بنانا:

فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ جب کوئی غیر مسلم عاقل بالغ قید ہو جائے تو امام المسلمین کو چار اختیارات ہیں۔

  1. قتل کردے۔
  2. غلام بنادے
  3. بلا معاوضہ احسان کر کے چھوڑ دے
  4. معاوضہ لے کر چھوڑدے یا مسلمان قیدیوں کے بدلے چھوڑ دے۔[41]

قیدیوں کے قتل کے بارے میں سید قطب کی رائے یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عام حالات میں قیدیوں کے ساتھ من وفدا (یعنی بطور احسان کے بلامعاوضہ یا فدیہ اور معاوضہ لے كر چھوڑنے ) کا معاملہ کیا ہے جہاں تک قتل کرنے کا تعلق ہے تو شاذواقعات ہیں جن کا تعلق فردی امور سے ہے اس کا تعلق ایسے لوگوں سے ہے کہ جن کے جنگ کے علاوہ جرائم ہو تے تھے اور وہی جرائم یا تو جنگ کا سبب بنتے یا جنگ کے ساتھ لاحق ہو تے تھے جس کی وجہ سے وہ مباح الدّم ہوتے تھے محض جنگی قیدی ہو نے کی وجہ سے نہیں ہوتا تھا [42]

غلام بنانے کے متعلق یہ ہے کہ یہ اس وقت معاملہ بالمثل ،عقوبت بالمثل کے قبیل سے تھا ،غلامی کی ایجاداسلام نے نہیں کی ہے بلکہ غلاموں کی آزادی کے راستے کھولے ہیں لیکن جب جنگوں میں مسلمانوں کے دشمن اگر قابو پا تے تو مسلمانوں کو غلام بنانے سے گریز نہیں کر تے تھے تو ممکن نہ تھا کہ مسلمان بھی یہ راستہ بند کر دے لیکن جب بین الاقوامی لحاظ سے اس پر اتفاق ہوگیا کہ جنگی قیدیوں کو غلام نہیں بنایا جائے گا تو مسلمانوں نے اس کو اسلام کا مقصود جا نا تو اتفاق کرلیا۔

مشرق ومغرب میں غلامی کا یہ رواج اٹھارویں صدی کے نصف آخر تک رہا یہاں تک كہ انقلاب فرانس نے 1789 ؁ء میں غلامی کو کالعدم کردیا۔امریکہ میں پھر بھی ىہ رواج قائم رہا حتی کہ ابراہام لنکن نے1863 ؁ء میں اس کو کالعدم کر دیا۔بعدازاں بعد تمام ممالک اسلامیہ اور غیر اسلامیہ نے اس پر اتفاق کر لیاکہ اب کسی بھی جنگی قیدی کو غلام نہیں بنایا جائے گا، یہی اسلام کا مقصود ہے اور یہ بین الاقوامی قانون اسلام کے مزاج اور تعلیمات کے ساتھ مطابق ہے اب صرف دو ہی صورتیں رہتی ہىں من یافدا.

جنگی قیدیوں کے خلاف عدالتی کاروائی:

بین الاقوامی قوانین میں یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ جنگی قیدیوں کے خلاف ان امور میں عدالتی کاروائی نہیں ہوگی جو قید سے پہلے انہوں نے جنگ کے دوران کئے ہیں ہاں اگر دوران جنگ ایسے کام کئے ہوں جن کی بین الاقوامی قوانین میں اجازت نہیں مثلاً ممنوعہ اسلحہ اور کیمیکل کا استعمال اور قیدی کو قتل کر نا وغیرہ ۔ان کو جنگی جرائم کہا جاتا ہے اگر کسی قیدی پر ان میں کوئی ایک جرم کا الزام ہو تو اس کے خلاف عدالتی کاروائی ہو سکتی ہے اسی طرح اگر ملکی قوانین کے خلاف جرم ہے مثلاً امن وامان کو تباہ کر تا ہے یا انسانیت کے خلاف کاروائی کر تا ہے تو یہ بھی جرائم ہے اور ان کی وجہ سے اس کو تادیبی عقوبت ہے کہ وہ اپنا نام ،لقب ،عہدہ،تاریخ پیدائش ،فوجی ڈیوژن کا نام اور نمبر اور اپنا شخصی نمبر بتائے۔اگر وہ اس سے انکاری ہو تو اس کو اپنے عہدے اور مرتبے کے مطابق جو اضافی مراعات حاصل ہیں تو بطور سزا کے وہ ختم کر جاسکتی ہیں۔

جنیوا معاہد ہ کے مطابق تادیب سزائیں (Disciplinary Punishments)حسب ذیل ہیں:

  1. مالی جرمانہ جو قیدی کی ماہانہ تنخواہ کی 50%سے زیادہ نہ ہو۔
  2. ان اضافی مراعات اور خصوصیات کو ختم کرنا جو جینوا معاہدہ کی رو سے اس کو اپنے مرتبے کے مطابق حاصل ہیں۔
  3. اس سے (Fatique Duties) مشقت والا کام لینا جس کا دورانیہ دو گھنٹے روزانہ سے زیادہ نہ ہو۔
  4. اسے قید کرنا۔

قیدیوں کو اگر قانون ثبوت کے بعد سزا دی جائے گی تو وہ ان کے ٹھکانوں پر دی جائے گی ،ان کی رہائش گاہوں سے انہیں منتقل کر نے کی اجازت نہیں اور نہ ہی کسی اور جیل میں ان کو حبس کی سزا دی جائے گی۔[43]

اگر کسی جنگی قیدی سے دوران قید ایسا کام سرزد ہو جائے جو بین الاقوامی قوانین کی رو سے جرم ہو یا اس ملک کے داخلی قانون کے مطابق جرم ہو تو اس کے خلاف عدالتی کاروائی شروع کرنے سے پہلے قید کرنے والا ملک مندرجہ ذیل کاروائی عمل میں لائے گا۔

جنگی قیدی ذمہ دار ملک کی طرف عدالتی کاروائی شروع کرنے سے کم از کم دو ہفتے پہلے لکھے گا اور مندرجہ ذیل معلومات فراہم کرنے کا پاپابند ہوگا:

  1. قید ی کا پورا نام ،عہدہ ،گروپ نمبر،شخصی نمبر،تاریخ پیدائش اور پیشہ وغیرہ
  2. قید کرنے کی جگہ
  3. عدالت کے لئے اس پر الزام کی وضاحت ،اور قانونی طور پر ثبوت کے بعد اس کی ممکنہ سزا کا تعین۔
  4. عدالت کا تعین اور فیصلہ سنانے کی تاریخ کا تعین

نیز قیدی کو اپنے دفاع کے لیے وکیل کی سہولت فراہم کی جائے گا، قید کرنے والا ملک کو چاہیے کہ اس کے لئے وکیل کا بندوبست کر ے ۔ملزم قیدی کو اپنے دفاع کے لئے گواہ پیش کر نے کی سہولت دی جائے گی اگر اس کو ترجمان کی ضرورت ہو تو اس کو اس کی زبان کا ترجمان فراہم کیا جائے گا۔[44]

شریعت اسلامیہ اور موجودہ بین الاقوامی قوانین میں بنیادی فرق یہ ہے شریعت اسلامیہ ہر مسلمان کا دین اور عقیدہ ہے اور اس پر عمل کرنا اس کا دینی فریضہ ہے اس کا جوابدہ فرد ادارہ اور حکومت سب ہوں گے۔نہ صرف دنیا کی ذمہ داری بلکہ موت کے بعد قبر اور حشرو نشر کی جوابدہی بھی ہے اس لئے ان قوانین پر عمل درآمد ایک مسلمان اس وقت بھی کرتا ہے جب کہ اس کی طاقت سب پر حاوی ہو اور باز پرس والاکوئی بھی نہ ہو۔اور ان حالات میں بھی کرتا ہو جب کہ دنیا کی کوئی آنکھ اسے نہ دیکھ رہی ہو لیکن اس کو یقین ہے کہ اللہ تعالی میر ا حاکم مجھے دیکھ رہا ہے۔

اس لیے مسلمانوں نے اس وقت بھی ان قوانین پر عمل درآمد کیا جب کہ ان کے دشمن ان کے ساتھ انسانیت سوز سلو ک کر تے تھے یہ خصوصیت کسی اور کے ہاں نہیں ملے گی۔

حوالہ جات

  1. ۔ الاسرا :70
  2. ۔ المائدہ :8
  3. ۔ تفصیل کے لئے دیکھئے ۔ابن اثیر الکامل فی التاریخ :558-527/11
  4. ۔ 543/19
  5. ۔ 44/78
  6. ۔ ص101
  7. ۔ المائدہ :
  8. ۔ المادئدہ :64
  9. ۔ الأنفال :57
  10. ۔ محمد :04
  11. ۔ البخاری محمد بن اسماعیل ،الجامع الصحیح ،کتاب الجہاد ،باب من قاتل لتکون کلمۃ اللہ ھی العلیا :394/1 
  12. ۔ الصنعانی ،محمد اسماعیل الامیرا الیتمی ،سبل السلام :ص 1330
  13. ۔ ابن منظور الافریقی ، لسان العرب،مادہ ،ق،ت،ل :549/11
  14. ۔ ابن تیمیہ السیاسیۃ الشر عیۃ ،ص124 ،ط،رابعہ ،دارلکتب مصر
  15. ۔ الکاسانی ،بدائع الصنائع :109/7
  16. ۔ ابن رشد ،بدایۃ المجتھد :458/2 ،ط ثالثہ ، مصطفی حلبی
  17. ۔ 8/220 Encyclopadia Britonica ڈاکٹر وہبہ الزحیلی ،آثار الحرب ،ص379 
  18. ۔ 18ص الدھر :9,8
  19. - السیوطی ،الجامع الصغیر ،41/1
  20. ۔ الشوکانی،نیل الاد طار،146/8
  21. ۔ ابن ہشام ،السیرہ ، 686/2
  22. ۔ ابن حجرا العسقلانی فتح الباری :108/6
  23. ۔ جینوا معاہدہ 1949 ؁ ء دفعہ ۔26
  24. ۔ نفس المصدر 
  25. ۔ نفس المصدر ،دفعہ :47
  26. ۔ أسری الحرب عبرا التاریخ :ص 205,،206
  27. ۔ الکاسانی ، البدائع الصنائع :119/7محمد بن الحسن الشیبانی ،السیر الکبیر 1024/3 
  28. ۔ البیھقی ،السنن الکبری ،89/9 ابن کثیر ،البدایۃ والنھایۃ :307/3 السیوطی ،الجامع الصغیر 41/1
  29. ۔ Documents on the laws of war.P.226،جینوا معاہدہ 1949،دفعہ ،امام مالک المدونۃ الکبری مکتبہ خیریہ:166/2
  30. ۔ امام شافعیؓ ،کتاب الام :190,70/4ابن قدامہ المغنی :267/6،امام مالک المدونۃ الکبری مکتبہ خیر یہ : 166/2
  31. ۔ شمس الأئمة السر خسی ،المبسوط :136/8 الد سوقی ،حاشیه :187/2،ابن قدامہ ،المغنی ،437/10
  32. ۔ ڈاکٹر عبداللطیف ،أحکام الأسری والسبایا:ص166
  33. ۔ جنیوا معاہدہ ،دفعہ نمبر 60،/ Documents on the law of war.P.
  34. ۔ جینوا معاہدہ دفعہ نمبر 61
  35. - ابو داؤد ،السنن :78/3
  36. ۔ الکاسانی ، البدائع و الصنائع ،121/7،ابن قدامہ ،المغنی :278/8نہا یۃ المحتاج :66/8
  37. ۔ النحل :91
  38. ۔ فتح الباری،شرح صحیح البخاری ،316/7
  39. ۔ السرخسی،المبسوط :69/10،نھایۃ المحتاج :78/8الزنجانی ،تخریج الفروع علی الأصول :ص 99
  40. ۔ کمال ابن ہمام ،فتح القدیر :306/4،مغنی المحتاج :227/4 الدسوقی،حاشیۃ علی الدرر:184/2،ابن قدامہ ،المغنی :372/8ابن رشد ،بدایۃ المجتھد :382/1
  41. ۔ سید قطب ،فی ظلال القرآن :2285/28،ط،دارالشروق 
  42. ۔ معاہدہ جینوا ،دفعہ نمبر 17
  43. ۔ ایضا دفعہ 90-89
  44. ۔ ایضا دفعہ نمبر :105