ختم نبوت تورات و انجیل کى تعلیمات کى روشنى میں

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ الایضاح
عنوان ختم نبوت تورات و انجیل کى تعلیمات کى روشنى میں
انگریزی عنوان
Seal of Prophet-Hood in the Light of Torah & Gospel
مصنف بتول، فوزیہ، عطاء اللہ فیضی
جلد 36
شمارہ 2
سال 2018
صفحات 48-72
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Islam, Seal of Prophet-Hood, Gospel, Predictions, The Stone of Corner, Jesus
شکاگو 16 بتول، فوزیہ، عطاء اللہ فیضی۔ "ختم نبوت تورات و انجیل کى تعلیمات کى روشنى میں۔" الایضاح 36, شمارہ۔ 2 (2018)۔
سند قانون: فقہائے اسلام اور مغربى مفکرین کى آراء کا تحقیقى وتنقیدى جائزہ
شاذ: محدثىین اور احناف کى آراء کا تقابلى جائزہ
ختم نبوت تورات و انجیل کى تعلیمات کى روشنى میں
امت مسلمہ کى عالمگیریت قرآنى تعلیمات کى روشنى میں
عتبات النص: البنية والدلالة في رواية غاردينا
الدّراسة النّقدية لكتاب “Muslim Tradition” في ضوء الكتاب البدر المنير للإمام ابن الملقّن
حكم شراء البيوت للسكنى عن طريق القرض من البنك الربويل لأقليات المسلمة
أحاديث الأحكام المختلفة على سفيان الثوري بابدال الراوي وأثرها على اختلاف الفقهاء
أوهام الإمام البزار فى الأسانيد والرجال من خلال مسنده البحر الزخار
Education in Pakistan: The Need for Greater Alignment Between Policy and Praxis
Comparative Analysis of Islamic Banking Products in Pakistan and Malaysia
Islamic View of Leadership in the Perspective of the Article 62 and 63 of the Constitution and Ideological Orientations of Pakistan
Role of Religious Interventions in the Reintegration of Prisoners: A Case Study of Selected Jails of Khyber Pakhtunkhwa/Kp, Pakistan
Students’ Perceptions About Internet Usage and its Impact on Their Academic Performance
Historical Roots of Radicalization in Pashtun’s Society

Abstract

Seal of Prophet-hood (Khatam-e-Nabuwat) is one of the critical issues which Islam has particularly emphasized to such a degree that a person cannot enter in the fold of Islam or may remain a Muslim without it. People, who believed in Torah & Gospel also believed that a prophet of mercy will descend with clear signs of prophet-hood. He will lead the world and guide them to the righteous path and will disclose the changes in Gospel. They also believed that the Prophet Muhammad (PBUH) will reveal the prophet-hood of Jesus and confirm that Jesus is a man of Allah with bestowed miracles. The world knows that the complete code of life after Moses was given only to the last Prophet Muhammad (PBUH). The prophet-hood has been sealed with Hazrat Muhammad (PBUH) is proven from Holy Quran as well as from Torah & Gospel. Torah & Gospel openly declare the prophet-hood of Hazrat Muhammad (PBUH) as “The Stone of Corner”. So the Holy Prophet (PBUH) himself announced the seal of his prophet-hood which none of the prophets of Bani Israel claimed in their lives. The prophet Jesus (A.S) also made efforts to clarify this point in front of his followers through several parables. These parables openly depict the authenticity of Islam and Hazrat Muhammad (PBUH) being the seal of prophets. This article provides information regarding predictions about Hazrat Muhammad (PBUH) as the last and final of the prophets of Allah Almighty, through Old & New Testaments as justified by Holy Quran. It also explains the status and value of the belief of “Finality of Prophet-hood” according to the Islamic teachings.


نبوت و رسالت کا معاملہ ایسا نہیں کہ اس کے بارے میں کسی بھى درجے کی بے اعتنائی اختیار کی جاسکے۔ انسان کی اخروی نجات کا دارومدار اس بات پر ہے کہ وہ خدا کے پیغمبروں کے بارے میں کیا رویہ اختیار کرتا ہے ۔ اگر وہ ان کی تصدیق کرتا اور ان کے ساتھ مطابقت وہم آہنگی کا رویہ اختیار کرتا ہے تو اخروی کامیابی اپنی کامل شکل میں اس کی منتظر ہوتی ہےاور اگر وہ ان کی تکذیب کرتا ہے اور ان کے ساتھ سرکشی و نافرمانی کا رویہ اختیار کرتا ہے تو پھر اخروی عذاب اس کا مقدر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں بہت اہتمام فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی رشد و ہدایت کے لیے حضرت آدمؑ سے جس سلسلہ نبوت ورسالت کا آغاز فرمایا تھاوہ نبی اکرمﷺ کے اس جہاں میں تشریف لانے کے بعد اپنے درجہ کمال کو پہنچ کر ختم ہو گیا۔

پچھلی کچھ صدیوں سے بالواسطہ یا بلا واسطہ یہود و نصاریٰ کی طرف سے اہلِ اسلام کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا اور ان کے مقدس تاریخی ورثے کا مذاق اڑانا ایک مستقل روایت بن چکی ہے ۔اظہارِ رائے کی آزادی کا ملمع لیبل لگا کر وقفے وقفے سے کوئی نہ کوئی گستاخ اور تنگ نظر پیغمبرِ اسلام اور دوسرے مشاہیر امت کی شان میں زبان درازی کرتے ہیں ۔یہود و نصاریٰ یہ اس لیے کر رہے ہیں کہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آخری نبی مانتے ہیں اوراکثر یہودی اب بھی اُس کے انتظار میں ہیں ۔یہ سب کچھ وہ ان باتوں کی بنیاد پر کر رہے ہیں کہ ان میں سے اکثر حضور ﷺ کو پیغمبر مانتے ہی نہیں اور آپ ﷺ کی شان اقدس کو نشانہ بنایا ہوا ہے۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ واضح کیا جائے کہ جو کچھ یہ کہتے ہیں وہ درست ہے یا نہیں ، اور ان کی مقدس کتب اس حوالے سے کیا کہتی ہیں؟ ضروری ہے کہ اس کا جواب خود انہی کی کتب یعنی تورات و انجیل سے واضح کیا جائے کہ ان کی اپنی کتابوں میں جس آنے والے آخری نبی کا ذکر ہے وہ کون ہے؟ تا کہ ان کے اس عقیدے کا رد کیا جا سکے اور یہ حقیقت سامنے آ جائے کہ بائبل کا خاتم النبیین کون ہے ۔

ختم نبوت کا معنیٰ و مفہوم:

عربی میں لغت اور محاورے کی رو سے ’’ختم‘‘ کے معنی مہر لگانے، بند کرنے، آخر تک پہنچ جانےاور کسی کام کو پورا کر کے فارغ ہوجانے کے ہیں۔

امام ابومنصور الازہریؒ(282-370ھ) لفظ ختم کے معنی کی وضاحت میں ابو اسحاق نحوى کا قول نقل کرتے ہىں:

(ابو اسحاق نحوی نے کہا : لغت میں طبع اور ختم کے معنی ایک ہیں یعنی کسی شے کو ڈھانپ دینا اور مضبوطی سے باندھ دینا تاکہ اس میں کوئی شے داخل نہ ہو سکے ([1]) ([2])

ارشاد باری تعالیٰ ہے:یا ان کے دلوں پر تالے پڑ گئے ہیں۔

امام زجاج نے بھی ختم کا یہی معنیٰ بیان کیا ہے۔([3]) لسان العرب میں امام ابن منظور(م 711ھ)لکھتے ہیں:

’’وخاتم کل شیء و خاتمته: عاقبته وآخره‘‘([4]) (خاتم اور خاتمہ ہر چیز کے آخر اور انجام کو کہا جاتا ہے)

لہٰذا ختم کے لغوی معنیٰ ہوئے مہر لگانا، بند کرنا، آخر تک پہنچ جانا، کسی شئے کو ڈھانپ دینا،باندھ دینا وغیرہ لفظِ نبوت نَبَأ سے مشتق ہے جس کے معنی اہم خبرکے ہیں۔چنانچہ علامہ راغب اصفہانی(502ھ)’’نَبَأ‘‘ کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’النباءخبرذو فائدة عظیمة بحصل به علم أوعلیة ظنّ ولا یقال للخبرفی الأصل نباء حتّی یتضمّن هذه الأشیاء الثلاثة‘‘([5])

(نبا اس خبر کو کہتے ہیں جو بڑے فائدے والی ہو اور اس سے علم یقین یا ایسا علم جس پر یقین غالب ہو حاصل ہو اور کسی خبر کو اس وقت تک نبا نہیں کہتے جب تک کہ اس میں یہ تین چیزیں نہ ہوں)

اسی سے نبی کا مفہوم بھی واضح ہوتا ہے۔ جیسا کہ علامہ شریف جرجانی(م 1413ھ) نبی کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’إنسان بعثه الله إلیٰ الخلقِ لتبلیغ الأحکام‘‘([6]) (وہ انسان ہے جسے اللہ تعالیٰ لوگوں کی طرف اپنا حکم دے کر بھیجے)

گویا نبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر اور علم لے کر آتا ہے جس کے حق و صداقت پر مبنی ہونے میں کوئی شائبہ نہیں ہوتا اور وہ لوگوں کے دنیوی و اخروی فائدے اور ہدایت کے لیے ہوتا ہے۔

اصطلاحاً ختم نبوت سے مرادیہ ہے کہ حضرت محمدﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخری نبی و رسول ہیں۔اس حوالے سے حضرت عبداللہ بن عباس(متوفیٰ 68ھ) فرماتے ہیں:

’’(وخاتم النبیین) ختم الله به النبیین قبله فلا یكون نبی بعده‘‘ ([7]) (خاتم النبیین کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سلسلہ انبیاء حضورؐ کی ذات اقدس پر ختم فرمادیا ہےپس آپؐ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا)

ختم نبوت نا صرف قرآن و احادیث سے ثابت ہے بلکہ اس کے معنی ومفہوم پر امتِ مسلمه ميں دورِ صحابہ کرام سے لیکر آج تک کا اس بات پر اجماع ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺاللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور آپﷺکے بعد یہ سلسلہ نبوت و رسالت منقطع ہوچکا ہے لہٰذا اب قیامت تک نہ کوئی نبی آئے گانہ ہی کو ئی رسول آئے گا ۔ اور اس عقیدہ کا منکر خارج از اسلام ہے۔

ختمِ نبوت تورات و انجیل کى تعلىمات کى روشنى مىں:

آنحضرت ﷺ کی ذاتِ مبارکہ پر ختم نبوت کا موضوع محض اسلامی تعلیمات کا ہی حصہ نہیں ہے بلکہ اس کی افادیت و ضرورت اور نتائج و اثرات بہت اہم ہیں ۔تورات و انجیل میں نبی آخر الزمان ﷺ کے متعلق بیان کردہ پیشین گوئیوں کی رو سے اس نبی کی خاتمیت ، ابدی الہٰی قانون و شریعت اور آخری نبی ہونے کی علامات و نشانیاں ذکر کی گئیں ہیں جس سے آپﷺ کا آخری نبی ہونا ثابت ہوتا ہے۔اس مختصر مقالے میں ان تمام پیشین گوئیوں کا احاطہ ممکن نہیں تاہم چند اہم کو درج کرنے کی ممکنہ حد تک کوشش کی گئی ہے۔

ختم نبوت تو رات کی روشنی میں:

تورات حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی اللہ کی کتاب ہے جس پر تمام یہود کا اعتقاد ہے۔اس کتاب کی تعلیمات میں رسول اللہ ﷺ کے اوصاف و کمالات کے ساتھ ساتھ آپﷺ کی ختمِ نبوت کے متعلق درج ذیل پیش گوئیاں کی گئی ہیں:

۱۔ حضورﷺابدی الہٰی قانون و شریعت کے حامل ہیں:

زبور میں ایک جگہ حضرت داؤدؑ فرماتے ہیں:

’’خداوند ابد تک تخت نشین ہے اس نے عدالت کے لیے اپنی مسند تیار کی ہے اور یوں وہ عدل و انصاف سے جہاں کاانصاف کرےگا اور راستی سے قوموں کی عدالت کرے گا۔خداوند مظلوموں کے لیے محکم مکان ہے۔‘‘([8])

زبور کی یہ آیات حضور ﷺکی ختم نبوت پر دلالت کرتی ہیں کہ آپﷺکے بعد کوئی نبی نہیں جو آپﷺ کی شریعت کو منسوخ کر دے۔ آپﷺکے ظہور کے ساتھ نبوت کا سلسلہ جو حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا تھا وہ درجہ کمال کی انتہا کو پہنچ کرختم ہو گیا۔اللہ تعالیٰ کا قانون اور دین مکمل ہو چکا ہے اور آپﷺآخری نبی ہیں اور آپﷺ کی نبوت ہمیشہ اور تا ابد قائم رہے گی۔

۲۔ حضورﷺ نبوت کی عمارت کا آخری پتھرہیں:

حضرت داؤدؑ کی اس پیشنگوئی میں نہایت وضاحت کے ساتھ رسول اللہﷺ کی ختم نبوت کا ذکر یوں کیا گیا ہے:

’’میں تیری حمد و ثنا کروں گا۔تو نے میری سن لی اور میری نجات ہو ئی جس پتھر کو معماروں نے رد کیا، وہی کونے کے سر ے کا پتھر(چوٹی کا پتھر) ([9])ہو گیا۔یہ خداوند کی طرف سے ہوا، اور ہماری نظرمیں عجیب ہے۔یہ وہی دن ہےجسے خدا وند نے مقرر کیا، ہم ا س میں شادماں ہوں گے اور خوشی منائیں گے۔ مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام سے آتا ہے۔‘‘([10])

اس پیشینگوئی میں سب سے پہلے حضرت داؤدعلیہ السلام کا ارشاد ہے کہ ’’میں تیری حمد وثنا کروں گا‘‘ یہود ایسے بد بخت تھے کہ انہوں نے حضرت داؤعلیہ السلام پر ایسے مکروہ عیب لگائے کہ جن کا ذکر کرنا گنا ہ عظیم ہے، یہ سب کچھ بائیبل میں موجود ہے۔ رسول ﷺ جب دنیا میں تشریف لائے تو آپﷺ نے حضرت داؤدعلیہ السلام کو ان گناہوں اور الزامات سے مبراء اور معصوم قرار دیتے ہوئے سختی سے ان سب عیوب کی تردید فرمائی۔حضرت داؤدؑ مدتوں پہلے رسول اور نبی ہونے کی حیثیت سے یہ سب جانتے تھے کہ میرے اوپر قوم الزامات و عیوب لگائے گی جس کی تردید حضرت محمد ﷺ فرمائیں گے ۔اور یوں مجھے ان لگائے گئے عیوب سے نجات ملے گی اس لیے فرمایا میں داؤداس عظیم محمدﷺ ہستی کی حمد و ثناء کرتا ہوں۔

’’وہ پتھر جسے معماروں نے رد کیا۔‘‘رسول اللہﷺ اور آپﷺ کی امت و قوم ہی وہ پتھر ہے جسے بنی اسرائیل کے معماروں یعنی علماء وغیرہ نے ہٹ دھرمی اور تعصب کی بنا پر رد کیا۔ اور کہا کہ بنی اسماعیل میں تو کوئی خوبی ہی نہیں، یہ تو ہمارے نزدیک ایک رد شدہ قوم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب محمد رسول اللہﷺکو بنی اسماعیل میں مبعوث فرمایا جنھوں نے چوٹی کا پتھر ہونے کی حیثیت سے نبوت عالم کے عمل کی تکمیل فرمائی ۔اگر یہ چوٹی کا پتھر یعنی محمد رسول اللہ ﷺ دنیا میں تشریف نہ لاتے تو قصر ِنبوت کی ساری عمارت ہی بے کار ہوتی۔عربی بائبل میں اس چوٹی کے پتھر کو ’’روش پناہ‘‘ کہا گیا ہے جو گنبد کی چوٹی کا پتھر ہوتا ہےپھر وہ عمارت جو دشمن سے محفوظ رہنے کے لیے بنائی جاتی ہےاس میں تعمیر شدہ برج کے آخری پتھر کو بھی ’’روش پناہ‘‘ کہا جاتا ہے۔پناہ کے معنی حفاظتی برج کے ہیں۔([11])

مذکورہ تشریح سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ قصر نبوت کی چوٹی کے پتھر سے مراد صرف اور صرف رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس ہی ہے جس نے دنیا میں تشریف لا کر تمام نبوتوں کا خاتمہ فرمادیا اور یوں آپﷺکے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا۔تاریخ گواہ ہے کہ بنی اسرائیل میں کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے خود یا اس کے متعلق خالق کائنات نے یہ کہا ہو یا دعوٰی کیا ہو کہ وہ خاتم النبیین ہے اور اس کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا ۔ اور حضور اکرمﷺ نے خود اللہ کے حکم سے اپنے لیے خاتم النبیین کا دعویٰ کیا ہے۔

۳۔ حضورﷺایک صاحب ِ عزت و شرف نبی:

حضرت یسعیاہؑ سرکار دوعالمﷺکی ختم نبوت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے پہلے زبلون اور نفتالی(پسران یعقوبؑ) کی سرزمین کو ذلت دی پھر آخر زمانہ میں غیر قوموں کے جلیل میں سمندر کی طرف یردن کے پار شرف دے گا۔ جو لوگ تاریکی میں چلتے تھے انھوں نے بڑی روشنی دیکھی۔ جو موت کے سائے کے ملک میں رہتے تھےان پر نور چمکا۔ ہمارے لیے ایک لڑکا تو لد ہوااور ہم کو ایک بیٹا بخشاگیا اور سلطنت اس کے کندھے پر ہوگی اور اس کا نام عجیب مشیر خدائے قادر ابدیت کا باپ سلامتی کا شہزادہ ہوگااسکی سلطنت کے اقبال اور سلامتی کی کچھ انتہا نہ ہوگی۔ وہ داؤدعلیہ السلام کے تخت اور اس کی مملکت پر ابتدا سے ابد تک حکمران رہے گا اور عدالت و صداقت سے اسے قیام بخشے گا۔ رب الافواج کی غیوری یہ کرے گی۔([12])

حضرت یسعیاہ ؑکی اس بشارت کو غور سے پڑھا جائے تو پانچ چیزیں ایسی ہیں جنکا ذکر کیا گیا ہے جن کی روشنی میں یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہےکہ سرور کائنات حضرت محمدﷺ خاتم النبیین ہیں۔اس نے پہلے زبلون اور نفتالی کی سرزمین کو ذلت دی۔زبلون اور نفتالی حضرت یعقوبؑ کی پسران کی سرزمین جلیل کہلاتی ہے۔ اس کو خداوند تعالیٰ نے ذلت دی۔ یعنی جب بنی اسرائیل بد اعمالیوں میں انتہا کو پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ذلیل کردیا اور ان سے انکا ملک چھین لیا۔ اس ذلت آمیززندگی کے بعد پھر آخری زمانہ میں جب بنی اسرائیل مکمل طور پر دم توڑ چکے ہوں گے تو حکومت اور نبوت ان سے چھین لی جائے گی۔ اس کے بعد وہ وقت آئے گا کہ ان کو مقررہ شرافت دی جائے۔([13])

ان کی شرافت کا سامان کس ملک میں پیدا ہو گا ؟ غیر قوموں کے جلیل یعنی سرزمین یا علاقہ میں’’سمندر کی جانب یردن کے پار ان کو پھر شرف دے گا‘‘، جلیل کے معنی عبرانى زبان میں علاقہ یا سرزمین کے ہیں۔ غیر قوموں کے جلیل سے مراد وہ علاقہ ہے جہاں یہود دوسری قوموں کے ساتھ رہتے

ہوں وہ علاقہ کونسا ہے تاریخ عالم گواہ ہے کہ یہود جس علاقے میں دوسری قو موں کے ساتھ رہتے تھے وہ مدینہ منورہ ہے۔ سرکار دوعالمﷺجب ہجرت فرما کر یثرب میں تشریف لائےتو آپﷺکى وجہ سے یثرب مدینہ منورہ بن گیا اور یوں اس شہر کی ہی قسمت نہیں بدلی بلکہ وہاں کے رہنے والے یہود نے اسلام قبول کرلیااور یوں وہ لوگ بھی اس شرف و عزت میں حصہ دار بن گئے جو حضور ﷺ کے طفىل مسلمانوں کو نصیب ہوئی۔ اس سرزمین کا بشارت میں دوسرا نشان یہ بتایا گیا کہ وہ تاریکی کا ملک تھا۔موت کے سایہ کی سرزمین تھی۔ جہالت،بت پرستی، گمراہی، اور قتل وغارت کا بازار گرم تھا۔وہاں انھوں نے نورانی روشنی دیکھی جس نے دنیا کی قسمت بدل کر رکھ دی۔ وہ نورایک ایسے لڑکے کے ذریعے عطا کیاگیا جسے خود اللہ تعالیٰ نے اس غرض کے لیے مبعوث فرمایا۔ وہ نور والا ایسی کامل و اکمل شریعت لے کر تشریف لایا جس نے ہر سو امن ، سلامتی اور بھا ئی چارہ کی نہ ختم ہونے والی حقیقی فضا پیدا فرمادی۔ یہ شریعت حضرت محمدﷺکو عطا کی گئی۔

اس پیش گوئی میں آیا ہے کہ ’’اور سلطنت اس کے کاندھے پر ہوگی۔‘‘ تاریخ گواہ ہے کہ حضورﷺکو خالق کائنات نے سلطنت اور شریعت دونوں چیزیں عطا فرمائیں جبکہ بنی اسرائیل میں کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کو سلطنت و شریعت دونوں چیزیں ایک ہی وقت میں عطا کی گئی ہوں یہی وجہ ہے کہ فر مایا اس کا نام ہے :

’’پیلے یو عیص ایل حیورابی اور سر شلوم‘‘([14]) ( وہ آنے والاموعود بے نظیر و اعظ، خدا وند قدرت ہمیشہ رہنے والا باپ ہے)

اس ارشاد کے مطابق سرکا ر دو عالم ﷺبے نظیر واعظ ، قدرت اور طاقت والے ہیں جو ہمیشہ رہیں گے۔ آپﷺ ہمیشہ کے لیے نبی اور خاتم النبیین ہیں۔آپ ﷺکے بعد دنیا میں قیامت تک کوئی دوسرا نبی نہیں آئے گاکہ وہ کسی بھی قوم کا باپ کہلا سکے ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺکی ابوت اور نبوت دائمی ہے۔اس پیش گوئی میں مشیرِ خدائے قادر ہونا آپﷺ کا وصفِ امتیازی بھی ہے ۔

چنانچہ آپﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے:

﴿ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ﴾([15]) (اور دین کے کام میں ان کو بھی شریک مشورہ رکھو)

ایک اور صفت ابدیت کی بتائی گئی ہے ۔یہ بھی رسو ل ﷺکی ذاتِ مبارک ہے کہ جنہیں خاتم النبیین بنا کر بھیجا گیا ہے۔جن کی شریعت قیامت تک کے لوگوں کے لیے ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾([16])

(اور (اے نبیؐ،) ہم نے تم کو تمام ہی انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں)

اس پیشینگوئی میں لفظ ’’شلوم‘‘ کا استعمال ہوا ہےجس کے معنی سلامتی دینے والایا مسلم کے ہیں۔ رسول اللہﷺ کا اسم گرامی اور ذات مقدسہ ہی شلوم یعنی سلامتی دینے والا یا مسلم ہے۔قران کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

﴿وَأُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ﴾([17]) (اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلم بنوں)

اس میں اول المسلمین کا خطاب آپﷺ کو دیا گیا ہے۔عبرانی الفاظ کی بنا پرآپؐ بے مثال واعظ، ہمیشہ دشمنوں پر غالب آنے والے اور تمام اقوام کے والد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسولﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا کہ وہ امت کا باپ کہلا سکے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

﴿ مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَـٰكِن رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ﴾ ([18])

(محمدﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں مگر اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں یعنی جن کے بعد کوئی نبی نہیں)

حضرت یسعیاہؑ نے اسی کی توضیح کے لیے فرمایا:

اس کی سلطنت کے اقبال اور سلامتی کی کچھ انتہا نہ ہو گی۔وہ داؤدؑ کے تخت اور اس کی مملکت پر ابتداء سے ابد تک حکمران رہے گا اور عدالت اور صداقت سے اسے قیام بخشےگا۔رب الافواج کی غیوری یہ کرے گی۔‘‘

تاریخ گوا ہ ہے کہ حضرت داؤد ؑ کا تخت مسلمانوں کے قبضے میں آیا اور ابد تک انہی کے قبضہ میں رہے گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس پیشنگوئی میں داؤد ؑ کا تخت اضافت کے ساتھ شان و شوکت اور پر شکوہ حکومت و تخت کے اظہار کے لیے استعمال ہوا ہو۔ جس طرح حضرت داؤدؑ دشمنوں سے انتہائی دکھ اور تکلیف اٹھا کر ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اور ہجرت کے بعد اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل کر کےایک زبردست سلطنت کے بانی ہوئے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کو بھی مکہ مکرمہ میں آپؐ کے قبیلے والوں اور مشرکین نےبڑی تکلیفیں اور دکھ پہنچائے یہاں تک کہ حضور اکرمﷺ نے بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی۔کچھ عرصہ بعد ہی حضور اکرمﷺ اپنے جانی دشمنوں پر اس شان و شوکت سے فاتح بن کرغالب آئے جسکی مثال تاریخ عالم میں نہ پہلے کبھی تھی اور نہ ہی قیامت تک ہو گی۔رسول اللہﷺ نےجس عظیم الشان اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی اللہ کے فضل و کرم سے اب تک قائم ہے او ر قیامت تک قائم رہے گی۔

بنی اسرائیل میں اب تک کوئی موعود ایسا پیدا نہیں ہوا او ر یہ سارےنشانات چونکہ حضورﷺ پر پورے ہوتے ہیں۔ لہٰذا بنی اسرائیل کا غیر قوموں کے علاقہ میں شرف دینے والا صرف آنحضرتﷺ ہیں اور آپﷺ ہی خاتم النبیین مسلم اور سب قوموں کےروحانی باپ ہیں اور حکومت و سلطنت کے اعتبار سے تخت داؤ دعلیہ السلام کے وارث ہیں۔

۴۔ حضور ﷺ تمام اقوام کو ایک جھنڈے کے نیچے جمع کریں گے:

حضرت یسعیاہ ؑنےیہ بشارت ارشاد فرمائی جس میں اقوام عالم کے لیے ایک جھنڈا اور مدینہ منورہ کا ذکر فرمایا:

’’اور اس دن ایساہو گا کہ یشی کی اس جڑ کی جو قوموں کے لیے علم کی طرح کھڑی ہوگی۔قومیں طالب ہوں گی۔اور اسکی آرام گاہ جلال بنے گی اور اس دن ایسا ہو گا کہ خدا وند دوسری مرتبہ اپنا ہاتھ بڑھا کےاپنے لوگوں کا بقیہ بچ رہا ہوا سورااور مصر فتروش اور کوش اور ایلام اور صنعاء اور حمات اور سمندری اطراف سے پھیر لائے گا۔ اور وہ تمام قوم کا ایک جھنڈا کھڑاکرے گا۔اور ان اسرائیلیوں کو جو خارج کیے گئے ہیں جمع کرے گا اور سارے بنی یہوداہ کو جو پراگندہ ہوں گے زمین کے چاروں کونوں سے فراہم کرے گا۔‘‘([19])

اس پیشنگوئی میں یشی کا لفظ استعمال ہوا ہے اہل یہود و نصاریٰ اپنی فطرت کے مطابق ہر لفظ کو جس میں رسول ﷺ کے متعلق بیان ہوا سے اپنے لفظوں کے ہیر پھیر سے اس کے مطلب کو اپنی قوم یا اپنے پیغمبر کے ساتھ غلط انداز سے منسوب کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ یشی حضرت داؤدؑ کے والد کا نام تھا۔ یہود علماء پیشنگوئی کے اس لفظ یشی کی تشریح میں بیان کرتے ہیں کہ یشی کا ایک ہی بیٹا داؤدؑ تھا یوں موعود کا نسل داؤدؑ سے ہونا فرض کیا جاتا ہے حالانکہ سموئیل اول سے یہ ثابت ہے کہ یشی کےحضرت داؤدؑ کے علاوہ سات بیٹے اور بیٹیاں بھی تھیں۔ ان میں سے ایک بیٹی ابی جبل کا نکاح میترا اسماعیل کے ساتھ ہوا تھا اگر یشی سے مراد حضرت داؤد ؑ کے والد لیے جائیں تو اس سے عماسا میترا اسماعیل کا بیٹا تھا۔ پس یوں یشی سے مرادان کی بیٹی کی اولاد بنی اسماعیل ہیں جن میں رسول اللہﷺ پیدا ہوئے۔ یشی سے عبرانی زبان میں مراد حضرت داؤدؑ کے والد نہیں بلکہ اس لفظ کو یشماعیل کا مخفف بتایا گیا ہے جس سے مراد سیدنا حضرت اسماعیل ؑ کا اسم مبارک ہے۔ عبری بائیبل کا قائدہ ہے کہ اکثر لمبے ناموں کو مختصر یا مخفف کر کے لکھا جاتا ہے۔ یوں یشی ان کے نزدیک یشماعیل کا مخفف ہے اس سلسلے میں تمام مخففات کے بارے میں انسائیکلو پیڈیا ببلیکامیں لکھا ہے:

‘‘Other abbreviations have the ending “i or ai” the first part of the name being sometime more violently contracted.’’([20])

( جن الفاظ کے آخر میں’ی‘ یا ’آئی‘ آتا ہے وہ الفاظ اکثر مخفف ہوئے ہیں مثلاً امصی، اماصیہ کا یشی یشعیاہ کا ذکری ذکریا کا اور زبی اور زبادیاہ کا مخفف ہے)

اسی سائیکلو پیڈیا ببلیکا میں جہاں Names کی بحث ہے وہاں یشی کے بارے میں یوں لکھا ہے:

“Jesse is contracted from yeshmail” ([21])

( یشی اسماعیل کا مخفف ہے)

حضرت یسعیاہؑ جناب یشی کی اس جڑ کے متعلق فرماتے ہیں کہ وہ قوموں کو ایک جگہ جمع کرنے کا علم ہو گی یعنی جھنڈا ہوگی تمام قومیں اسکی طلبگار ہوں گی، اور اس کی آرام گاہ جلال بنے گی۔ ساری دنیا کی قوموں کے ایک ہی مطلوب شہنشاہ محمدرسول اللہﷺ ہیں۔آپﷺ کا ہی وہ عظیم الشان جھنڈا ہے جس کے نىچے اقوام عالم کے لوگ جمع ہوئےہیں اور ان شاءاللہ یہ سلسلہ قیامت تک یوں ہی جاری رہےگا۔ دنیا میں اسلام ہی وہ واحد دین حق ہے جس نے دیگر تمام مذاہب سے خراج وصول کیا ہے اور ہمیشہ کرتا رہےگا۔رسولﷺ کی آرام گاہ کے جلال کا یہ عالم ہے کہ کوئی بھی ذی روح آپؐ کے روضہ انور کے اردگردآواز بلند نہیں کرسکتا۔ قیامت تک کسی کی مجال نہیں کہ روضہ اقدس پر بلند آواز سے گفتگو کرے۔قرآن کریم میں حکم باری تعالی ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ﴾ ([22]) (ایمان والو خبردار اپنی آواز کو نبی کی آواز پر بلند نہ کرنا)

یہ پیشگوئی آپﷺکی ذات اقدس کے لیے ہی ہے۔ تاریخ گواہ ہ کہ اس کے الفاظ’’اس کی آرام گاہ جلال بنے گی‘‘ کے مصداق حضورﷺ ہیں۔اس بشارت کے اگلے الفاظ ہیں’’اس دن ایسا ہو گا کہ خداوند دوسری مرتبہ اپنا ہاتھ بڑھا کے اپنے لوگوں کا باقی حصہ جو بچ رہا ہو گا ۔ اسورا اور مصر فتروش کوش اور ابلام صنعا اور حمات اور سمندری اطراف سے لائےگا اور سب قوموں کے لیےایک جھنڈا کھڑا کرےگا۔‘‘ قرآن کریم کے الفاظ یسعیاہؑ کی اس مذکورہ بشارت کی تائید کرتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے جو ارشاد اپنی آخری کتاب میں اسرائیل کے متعلق فرمایا وہ لفظ بلفظ پورا ہوا۔اس سلسلے میں ساری دنیا کی گواہی اور شہادت موجود ہے۔

چنانچہ بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَقُلْنَا مِن بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ اسْكُنُوا الْأَرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا﴾ ([23])

(اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ اب تم زمین میں بسو، پھر جب آخرت کے وعدے کا وقت آن پورا ہوگا تو ہم تم سب کو ایک ساتھ لا حاضر کریں گے)

اس مذکورہ بشارت کا رسول ﷺکے حق میں ثابت ہونے کا واضح ثبوت تاریخ اسلام کے مطالعے سےکھل کر سامنے آجاتا ہےوہ اس طرح کہ جب بنی اسرائیل کی گمشدہ یا گمراہ شدہ اقوام جو اسیریا مصرکوش، فتروش یعنی جنوبی مصر وغیرہ میں سکونت پذیرتھیں سب سرکار کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دست حق پر ایمان لاکر اسلامی فتح کے جھنڈے کے نیچے اکٹھی ہو گئیں اور قیامت تک آپکے جھنڈے تلے رہیں گی تمام اقوام کے لیے ایک جھنڈا کھڑا کرنا اور اقوام کا ان کے نیچے اکٹھا ہونا ختم نبوت کی صریح نشانی ہے۔مزید الفاظ بشارت کے یہ ہیں کہ ان اسرائیلىوں کو جو خارج کیے گئے ہیں جمع کرے گا اور سارے بنی یہود ا جو پراگندہ ہو جائیں ان کو زمین کے چاروں کونوں سے فراہم کرے گا۔

بنی اسرائیل کی وہ قومیں جو پراگندہ ہو کر بت پرست ہو گئیں اور ان لوگوں نے وسطی ایشیاء اور افغانستان میں سکونت اختیار کرلی۔ ان اقوام کو رسولﷺ نے یا آپ کے متبعین نے جمع کیا اور وہ آج اسلام پر جمع ہیں۔ جو حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسحاقؑ اور حضرت اسماعیلؑ کا اسلام تھا۔ مغرب میں عرب شام اور مصر کے اسرائیلی مسلمان ہو ئےتو مشرق میں افغانستان اور وسطی ایشیا کے تمام اسرائیلی مسلمان ہو گئےاور یوں زمین کے تمام کونوں سے نبی اسرائیل کو ایک دین یعنی دین اسلام فراہم کر دیا گیا اور یوں یہ دین ہمیشہ رہے گا۔

۵۔ حضورﷺ کی حق و صداقت پر مبنی تعلیمات ابدی نجات کی ضامن ہیں

یسعیاہ کی پیشین گوئی کے مطابق:

’’میری طرف متوجہ ہو اے میرے لوگو ! میری طرف کا ن لگا اے میری امت! کیونکہ شریعت مجھ سے صادر ہو گی اور میں اپنے عدل کو لوگوں کی روشنی کے لیے قائم کروں گا۔ میری صداقت نزدیک ہے میری نجات ظاہر ہے اور میرے بازو لوگوں پر حکمرانی کریں گے جزیرے میرا انتظار کریں گے اور میرے بازو پر ان کا توکل ہوگا۔اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھاؤ اور نیچےزمین پر نگاہ کرو کیونکہ آسمان دھوئیں کی مانند غائب ہو جائیں گے اور زمین کپڑے کی طرح پرانی ہو جائے گی اور اسکے باشندے مچھروں کی طرح مرجائیں گے لیکن میری نجات ابد تک رہے گی اور میری صداقت موقوف نہ ہو گی۔‘‘([24])

قران کریم اس پیشگوئی کے متعلق فرماتا ہے :

﴿قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ؛ يَهْدِي بِهِ اللَّه مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ ﴾([25])

(تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی اورکتاب مبین آ چکی، جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کو جو اس کی رضا کے طالب ہیں سلامتی کے طریقے بتاتا ہے)

اس بشارت میں شریعت اسلامیہ کے نشانات کا ذکر ہےاور اس نور کا جس کے ساتھ جو کوئی بھی اس کی مرضی کے مطابق چلتاہے نجات پاتا ہے۔اس نور اور روشنی کی برکت سے مسلمانوں نے غیر اقوام پر حکومت کی، بحری ممالک کو فتح کیا۔ ہسپانیہ میں مسلمانوں نے خدا کی مدد پر بھروسہ کرتے ہوئےاپنے جہازوں کو جلا دیا۔ آسمان کے دھوئیں کی مانند غائب اور زمین کپڑے کی مانند پرانی ہو گئی یعنی آسمان سے وحی الہٰی کی بارش غائب ہو گئی اور سابقہ شرائع کمزور اور بوسیدہ ہوگئیں۔ مگر قرآن مجید کی مبینہ نجات ہمیشہ رہے گی اور اس کی صداقت کبھی موقوف نہ ہو گی۔ یہ بشارت اور نشانات کے علاوہ آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت پر بھی ایک صریح شہادت ہے۔

۶۔ شاہ بابل کا خواب اور حضرت دانیال علیہ السلام کی تعبیر:

شاہ بابل بخت نصر نے ایک خواب دیکھا اور بھول گیا، پھر حضرت دانیال علیہ السلام کو وحی کے ذریعے وہ خواب اور اس کی تعبیرمعلوم ہو گئی، جسے انہوں نے بادشاہ کے سامنے اس طرح بیان فرمایا:

’’اے بادشاہ تو نے بڑی مورت دیکھی وہ بڑی مورت جسکی رونق بے نہایت تھی، تیرے سامنے کھڑی ہوئی، اور اس کی صورت ہیبت ناک تھی، اس مورت کا سر خالص سونے کا تھا اسکا سینہ او ر بازو چاندی کے اور اسکا شکم او ر اسکی رانیں تانبے کی تھیں، اسکی ٹانگیں لوہے کی اور اسکے پاؤں کچھ لوہے کے اور کچھ مٹی کےتھے،تو اسے دیکھتا رہا، یہاں تک کہ ایک پتھر ہاتھ لگائےبغیر ہی کاٹا گیا، اور اس مورت کے پاؤں پر جو لوہے او ر مٹی کے تھے لگا اور ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تب لوہا اور مٹی اور تانبا اور چاندی اور سونا ٹکڑےٹکڑے کیے گئے اور تابستانی کھلیان کے بھوسے کی مانند ہوئے اور وہ پتھر جس نے اس مورت کو توڑا ایک بڑا پہاڑ بن گیا، اور تمام زمین میں پھیل گیا،وہ خواب یہ ہےاوراس کی تعبیر بادشاہ کے حضور بیان کرتا ہوں، اے بادشاہ تو شہنشاہ ہے، جس کو آسمان کے خدا نے بادشاہی و توانائی اور قدرت و شوکت بخشی ہے، اور جہاں کہیں بنی آدم سکونت کرتےاس نے میدان کے چرندے اورہوا کے پرندے تیرے حوالہ کرکے تجھ کو ان سب کا حاکم بنایاہے، وہ سونے کا سر تو ہی ہے، اور تیرے بعد ایک اور سلطنت برپا ہو گی جو تجھ سے چھوٹی ہو گی، اور اس کے بعد ایک اور سلطنت تانبے کی جو تمام زمین پر حکومت کرے گی،، اور چوتھی سلطنت لوہے کی مانند مضبوط ہو گی اور جس طرح لوہا توڑڈالتا ہے اور سب چیزوں پر غالب آتا ہے، ہاں جس طرح لوہا سب چیزوں کو ٹکڑےٹکڑے کرتا اور کچلتا ہے اسی طرح وہ ٹکڑے ٹکڑے کرے گی، اور کچل ڈالےگی، اور جو تونے دیکھا کہ اسکے پاؤں اور انگلیاں کچھ تو کمہار کی مٹی کی اور کچھ لوہے کی تھیں، سواس سلطنت میں تفرقہ ہوگا، مگر جیسا کہ تو نے دیکھا کہ اس میں لوہا مٹی سے ملا ہوا تھا، اس میں لوہے کی مضبوطی ہو گی،اور چونکہ پاؤں کی انگلیاں کچھ لوہے کی اور کچھ مٹی کی تھیں، اس لیے سلطنت کچھ قوی اور کچھ ضعیف ہوگی، اور جیسا تو نے دیکھا کہ لوہا مٹی سے ملا ہوا تھاوہ بنی آدم سے آمیختہ ہوں گے، لیکن جیسےلوہا مٹی سے میل نہیں کھاتا ویسا ہی وہ بھی باہم میل نہ کھائیں گے،اور ان بادشاہوں کے ایام میں آسمان کا خدا ایک سلطنت برپا کرےگا،جوتا ابد نیست نہ ہو گی،اور اس کی حکومت کسی دوسری قوم کے حوالہ نہ کی جائے گی،بلکہ وہ ان تمام مملکتوں کوٹکڑے ٹکڑے اور نیست کرے گی،اور وہی ابد تک قائم رہے گی، جیسا تونے دیکھا کہ وہ پتھر ہاتھ لگائے بغیر ہی پہاڑسے کاٹا گیا، اور اس نے لوہے اور تانبےاور مٹی اور چاندی اور سونے کو ٹکڑے ٹکڑے کیا،خدائے تعالیٰ نے بادشاہ کو وہ کچھ دکھایا جو آگے کو ہونے والا ہے، اور یہ خواب یقینی ہے اور اسکی تعبیر یقینی۔‘‘ ([26])

اس خواب میں پہلی سلطنت سے مراد بخت نصر کی بادشاہت ہے ، اور دوسری سلطنت مادتین([27]) کی حکومت ہے جوبخت نصر کے قتل کے بعد مسلط ہوگئے تھے۔ مگر ان کی سلطنت کلدانیوں([28])کی نسبت کمزور تھی۔ تیسری بادشاہت سے مراد کیانیوں ([29])کی حکومت ہے، اس لیے ایران کا بادشاہ خورش ([30]) حضرت مسیح ؑ کی ولادت سے 536 سال قبل بابل پر مسلط ہوگیا تھا، اور چونکہ کیانیوں کی حکومت بڑی طاقتور تھی، اس لحاظ سے گویا ان کا تسلط ساری روئے زمین پر تھا۔ چوتھی حکومت سے مراد اسکندریہ فیلفوس رومی کی سلطنت ہے جو قوت کے لحاظ سے لوہے کی مانند تھا۔ سکندر نے فارس کی سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے اور چند بادشاہوں کو بانٹ دی۔ جس کی وجہ سے یہ سلطنت ساسانیوں کے ظہور تک کمزور رہی، لیکن ساسانیوں کے دور میں پھر مضبوط اور طاقتور ہوگئی، پھر کبھی مضبوط اور کبھی کمزور ہوتی رہی۔ یہاں تک نوشیروان کے دور میں حضرت محمدﷺپیدا ہوئے اللہ نے آپؐ کو ظاہر ی باطنی بادشاہت اور حکومت عطا کی، آپؐ کے متبعین تھوڑی ہی مدت میں مشرق ومغرب پر چھا گئے، اسی طرح فارس کے ان تمام علاقوں پر بھی قابض ہوگئے جن سے اس خواب اور اس کی تعبیر کا تعلق ہے بت سے مراد تمام امتیں اور مروجہ مذاہب ہیں اور پتھر سے مراد اللہ کا دین ہے جس کی مدد سے تمام ادیان عالم کو جو باطل ہیں اس دنیا سے مٹا دیا جائے گا اور ایک اللہ کا یہی دین سب پر غالب آکر دنیا میں پھیل جائے گا۔ اللہ تعالیٰ عرب میں ایک نبی امی ﷺکو مبعوث فرمائے گا اور اس عظیم ہستی کے ذریعے دنیا کے تمام دینوں اور امتوں کو ان کے تابع فرما کر تمام شریعتیں اور ادیان منسوخ فرمادے گا۔ جس طرح پتھر نے ساری زمین کو اپنے احاطے میں لے لیا تھا اسی طرح اللہ کا وہ دین پوری کائنات روئے زمین اور ہواؤں فضاؤں پر محیط ہوگا۔ اپنے نبی کی بدولت ان پڑھوں کو علم عطا کرے گا کمزوروں کو قوت اور دنیا کی نظروں میں حقیر وذلیل لوگوں کو عزت، رفعت اور بلند درجہ مرتبہ عطا فرمائے گا۔

الغرض یہی وہ ابدی بادشاہت ہے جو ہمیشہ قائم ودائم رہے گی اور کبھی نہیں مٹے گی۔ قیامت تک یہ بادشاہت وحکومت رہے گی۔ یہی وہ پتھر ہے جو پہاڑ سے جدا ہوگیا تھا، اور جس نے ٹھیکرے، لوہے، تانبے، چاندی، سونے کو پیس ڈالا تھا اور خود بڑا بھاری پہاڑ بن گیا تھا اور پوری زمین پر چھا گیا تھا اور اس کا مصداق حضورﷺ کی ذات گرامی ہے۔

۷۔ حضورﷺ رؤیائے نبوت پر مہر:

آنحضرت ﷺکے آخری نبی ہونے پر حضرت دانیال علیہ السلام کی ایک اور پیشنگوئی یہ ہے کہ:

’’مجھ کو اس نے خبر دی اور باتیں کیں اور کہا اے دانیال اس بات کو بوجھ اور اس روایت کو سمجھ ستر ہفتے تیرے لوگوں اور تیرے شہر مقدس کے لیے مقرر کیے گئے ہیں تاکہ اس مدت میں شرارت ختم ہو اور خطا کاریاں آخر ہو جائیں اور بدکاری کی بابت کفارہ کیا جائے اور ابدی راست بازی پیش کی جائے۔ رویاء نبوت پر مہر ہو۔‘‘([31])

کلام اللہ کی اصطلاح میں عام طور پر یہ بات ہے کہ ایک دن اللہ کا ایک سال ہوا کرتا ہےاور بعض دفعہ ایک ہزار سال کا اور بعض دفعہ پچاس ہزار سال کا ہے۔ مندرجہ بالا پیش گوئی میں حضورﷺکے ظہور کی تاریخ بحساب فی دن ایک سال بعد خرابی بیت المقدس چار سو نوے برس میں ہوئی۔ بیت المقدس 80ء میں تباہ و برباد ہوا اس حساب سے 570ء میں حضور سرور عالمﷺ کا ظہور ہے۔([32])

رویاء نبوت پر مہر سے مراد یہ ہے کہ اس نبی کے ظہور کے بعد وحی رسالت بند ہوگی اور وہ راست بازی کے اصول جو آنحضرتﷺ کے زمانہ میں قائم ہوئے اتنے ٹھوس ہیں کہ ان میں کسی بھی قسم کى کمی بیشی کی گنجائش نہیں۔

پس تورات میں نبی اخر الزمانﷺ کی مختلف علامات اور مقام و منزلت بیان کر کے بنو اسرائیل پر یہ واضح کیا گیا کہ ایک آخری نبی نے ابھی آنا ہے جس کی شریعت آخری شریعت اورجس کی لائی ہوئی کتاب آخری کتاب ہو گی۔اوران علامات اور پیش گوئیوں کا کامل نمونہ رسول اللہﷺ کی ذات ہی ہیں ۔

ختمِ نبوت انجیل کی روشنی میں

۱۔ آسمانی بادشاہت:

آسمانی بادشاہت کے متعلق انجیل میں لکھا ہے:

’’ان دنوں میں یوحنا بپتسمہ دینے والا آیا، اور یہودیہ کے بیابان میں یہ منادی کرنے لگا کہ توبہ کرو، کیونکہ آسمان کی بادشاہی نزدیک آگئی ہے۔‘‘([33])

حضرت عیسىٰ علیہ السلام نے اپنے حواریوں کو نماز کا طریقہ بتلاتے ہوئے یہ دعا سکھائی:’’تیری بادشاہی آئے۔‘‘([34])

انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے شاگردوں کو تبلیغ کے لیے اسرائیلی شہروں میں بھیجا توان کو مختلف نصیحتیں کرتے ہوئے ایک نصیحت یہ بھی کی :

’’اور چلتے چلتے یہ منادی کرنا کہ آسمان کی بادشاہی نزدیک آگئی ہے۔‘‘([35])

اسی طرح ایک اور مقام پر ملتا ہےکہ:

’’ان باتوں کے بعد خداوند نے ستر آدمی اور مقررکیے ، اور جس جس شہر اور جگہ کو خود جانے والا تھا، وہاں انھیں دو دو کرکے آگے بھیجا ،جس شہر میں داخل ہو اور وہاں کے لوگ تمہیں قبول کریں تو جو کچھ تمہارے سامنے رکھا جائے کھاؤ، اور وہاں کے بیماروں کو اچھا کرو اور ان سے کہو کہ خدا کی بادشاہی تمہارے نزدیک آپہنچی ہے، لیکن جس شہر میں داخل ہو اور وہاں کے لوگ تمہیں قبول نہ کریں تو اس کے بازوں میں جاکر کہو کہ ہم اس گرد کو بھی جو تمہارے شہر سے ہمارے پاؤں میں لگی ہے تمہارے سامنے جھاڑے دیتے ہیں مگر یہ جان لو کہ خدا کی بادشاہی نزدیک آپہنچی ہے۔‘‘([36])

ان بشارات سے معلوم ہوا کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دونوں بزرگوں نے اور ان کے حواری اورستّر شاگردوں نے آسمانی بادشاہت کی خوش خبری سنائی اورحضرت عیسیٰ علیہ السلام نے لفظ بلفظ انہی الفاظ کے ساتھ بشارت دی جن الفاظ سے حضرت یحیی علیہ السلام نے خوشخبری دے دی تھی۔ ظاہر ہے کہ وہ بادشاہت جس طرح عہد یحییٰ ؑمیں ظاہر نہیں ہوئی ، اس طرح حضرت عیسیٰؑ کے عہد میں بھی ظاہر نہیں ہوئی اور نہ ہی حواریوں اور ستر شاگردوں کے دور میں بلکہ ان میں سے ہر ایک بشارت دیتا گیا اور اس کی خوبیاں بیان کرتا رہااور اس کی آمد کا متوقع رہا۔ اس لیے آسمانی بادشاہت کا مصداق وہ طریقہ نجات ہرگز نہیں ہوسکتا جو شریعت عیسوی کی شکل میں ظاہر ہوا، ورنہ عیسیٰ علیہ السلام اور حواری اور ستر شاگرد یوں نہ کہتے کہ وہ قریب آنے والا ہے، اور نہ ان کو نمازوں میں پڑھنے کے لیے یہ دعا تعلیم دیتے کہ’’اور تیری بادشاہی آئے‘‘، کیونکہ یہ طریقہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نبی ہونے کے دعویٰ کرنے کے بعد ان کی شریعت کی شکل میں ظاہر ہو ہی ہوچکا تھا۔([37])

لہٰذا ثابت ہوا کہ اس کا مصداق درحقیقت وہ طریقہ نجات ہے جو شریعت محمدی ﷺ کی صورت میں نمودار ہوا، اور یہ سب حضرات اسی عظیم الشان طریقہ کی بشارت دیتے رہے، اور خود آسمانی حکومت یا بادشاہت کے الفاظ بھی اس امر پر واضح طور پر دلالت کررہے ہیں کہ یہ بادشاہت سلطنت اور قوت کی شکل میں ہوسکتی ہے نا کہ عاجزی اور کمزوری کی صورت میں، اس طرح مخالفین کے ساتھ جنگ وجدل اسی سبب سے ہوگا۔

الغرض یہ الفاظ یہ بھی بتا رہے ہیں کہ اس کے قوانین کی بنیاد ضروری ہے کہ کسی آسمانی کتاب پر ہو، اور یہ تمام باتیں صرف شریعت محمدی ﷺ پر ہی صادق آتی ہىں۔عیسائی علماء یہ کہتے ہیں کہ اس بادشاہت سے ساری دنیا میں ملت ِمسیحؑ کا پھیل جانا اور اس کا نزول عیسیٰ علیہ السلام کے بعد ساری دنیا پر چھاجانا مراد ہے ۔مگر یہ تاویل بالکل کمزور اور ظاہری معنیٰ کے خلاف ہے اور وہ مثالیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے انجیل متی میں منقول ہیں وہ بھی اس خیال کی تردید کرتی ہیں مثلاً آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ:

’’آسمان کی بادشاہی اس رائی کے دانہ کی مانند ہے جسے کسی آدمی نے لے کر اپنے کھیت میں بودیا۔وہ سب بیجوں سے چھوٹا تو ہے مگر جب بڑھتا ہے تو سب ترکاریوں سے بڑا اور ایسا درخت ہو جاتا ہے کہ ہوا کے پرندے آ کر اس کی ڈالیوں پر بسیرا کر تےہیں‘‘([38])

اس بشارت کا ذکر قرآن مجید میں اس طرح آیا ہے:

﴿وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ﴾([39])

(اور انجیل میں اُن کی مثال یوں دی گئی ہے کہ گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی، پھر اس کو تقویت دی، پھر وہ گدرائی، پھر اپنے تنے پر کھڑی ہو گئی کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے)

لہٰذا آسمانی بادشاہت وہی طریقہ نجات ہے جو محمدﷺ کی شریعت سے ظاہر ہوا حضورﷺنے ایسی قوم میں نشوونما پائی جو ساری دنیا کے نزدیک کا شتکار اور فلاح تھے، اس لیے ان میں اکثر لوگ دیہات کے باشندے تھے، علوم اور صنعتوں سے بے بہرہ، جسمانی لذتوں اور دنیوی آرائشوں سے آزاد تھے، خاص کر یہود کی نظر میں اس لیے کہ یہ لوگ حضرت ہاجرہؑ کی اولاد سے تھے، آپ ﷺکی بعثت اسی قوم میں ہوئی، لہٰذا آپؐ کی شریعت ابتداء میں رائی کے دانہ کی مانند بظاہر چھوٹی سی شریعت تھی، مگر وہ اپنے عام اور عالمگیر ہونے کی وجہ سے قلیل مدت میں ترقی پاکر اتنی بڑی ہوگئی کہ تمام مشرق ومغرب کا احاطہ کر لیا، یہاں تک کہ جو لوگ کبھی بھی کسی شریعت کے پابند اور مطیع نہ ہوئے تھے وہ بھی اس کے دامن سے وابستہ ہوگئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ :

’’آسمان کی بادشاہی اس خمیر کی مانند ہے جسے کسی عورت نے لے کر تین پیمانے آٹے میں ملا دیا، اور وہ ہوتے ہوتے سب خمیر ہوگیا۔‘‘([40])

اس مثال میں آسمانی بادشاہت کو ایک ایسے انسان سے تشبیہ دے رہے ہیں کہ جس نے کھیتی بوئی، نہ کہ کھیتی بڑھنے اور کاٹنے کے ساتھ ، اسی طرح رائی کے دانہ سے تشبیہ دی نہ کہ اس کے عظیم الشان درخت بننے سے، اسی طرح خمیر کے ساتھ اس کی تشبیہ دی گئی نہ کہ سارے آٹے کے خمیر بننے کے ساتھ۔اسی طرح ایک اور تمثیل بیان کی جاتی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں:

’’خدا کی بادشاہی تم سے لی جائے گی، اور اس قوم کو جو اس کے پھل لائے دیدی جائے گی۔‘‘([41])

یہ قول اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آسمانی بادشاہت سے مراد بذات خود نجات کا طریقہ ہے، تمام عالم میں اس کا پھیلنا اور جہاں پر چھا جانا مراد نہیں ورنہ پھر اس کی اشاعت کا ایک قوم سے چھین جانا اور دوسری قوم کو دیا جانا کچھ بھی مطلب نہیں رکھتا ، اس بادشاہت سے مراد وہی بادشاہت ہے جس کی خبر پیچھے حضرت دانیالؑ اپنی کتاب میں دے چکے ۔ اس لیے اس بادشاہت کا اور سلطنت کے صحیح مصداق خاتم النبیین حضرت محمدﷺ کی نبوت کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔لہٰذا اس پیشن گوئی کا مصداق اسلام ہے جس نے صداقت اور حقانیت کی بنیاد پر چار سو پھیل کردنیا پر غلبہ اور استحکام حاصل کیا ہے۔ اور دین اسلام قیامت تک رہے گا کیونکہ آسمانی بادشاہت کی تکمیل صرف دین اسلام کے ذریعے ہوئی۔

۲۔حضرت عیسی علیہ السلام کی تمثیل:

انجیل متی میں لکھا ہے:

’’ایک گھر کا مالک تھا جس نے تاکستان لگایا اور اس کی چاروں طرف احاطہ گھیرا اور اس میں حوض کھودا اور برج بنایا اور اسے باغبانوں کو ٹھیکے پردے کر پردیس چلاگیا۔ اور جب پھل کا موسم قریب آیا تو اس نے اپنے نوکروں کو باغبانوں کے پاس اپنا پھل لینے کو بھیجا اور باغبانوں نے اس کے نوکروں کو پکڑکر کسی کو پیٹا اور کسی کو قتل کیا اور کسی کو سنگسار کیا۔ پھر اس نے اور نوکروں کو بھیجا جو پہلوں سے زیادہ تھے اور انھوں نے ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا۔ آخر اس نے اپنے بیٹے کو ان کے پاس یہ کہہ کر بھیجا کہ وہ میرے بیٹے کا تو لحاظ کریں گے جب باغبانوں نے بیٹے کو دیکھا تو آپس میں کہا یہی وارث ہے۔آؤ اسے قتل کرکے اس کی میراث پر قبضہ کرلیں اور اسے پکڑ کر تاکستان سے باہر نکالا اور قتل کردیا۔ پس جب تاکستان کا مالک آئے گا تو ان باغبانوں کے ساتھ کیا کرے گا؟ انھوں نے اس سے کہا ان بدکاروں کو بری طرح ہلاک کرے گا اور باغ کا ٹھیکہ دوسرے باغبانوں کودے گا جو موسم پر اس کو پھل دیں۔یسوع نے ان سے کہا کیا تم نے کتاب مقدس میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو معماروں نے رد کیا۔ وہی کونے کے سرے کا پتھر ہوگیا یہ خداوند کی طرف سے ہوا۔ یہ خداوند کی طرف سے ہوا اور ہماری نظر میں عجیب ہے؟ اس لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہی تم سے لے لی جائے گی اور اس قوم کو جو اس کے پھل لائے دیدی جائی گی۔ اور جو اس پتھر پر گرے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا لیکن جس پر وہ گرے گا اسے پیس ڈالے گا۔ اور جب سردار کاہنوں اور فریسیوں نے اس کی تمثیلیں سنیں تو سمجھ گئے کہ ہمارے حق میں کہتا ہے۔ اور وہ اسے پکڑنے کی کوشش میں تھے لیکن لوگوں سے ڈرتے تھے کیونکہ وہ اسے نبی جانتے تھے۔‘‘([42])

اس تمثیل میں مالک مکان سے مراد اللہ تعالیٰ ہیں۔باغ کا مطلب شریعت الہٰی ہے۔ اس کا احاطہ گھیرنے، حوض کھودنے اور برج بنانے سے شریعت کے احکام یعنی اوامر ونواہی اور مباحات کی طرف اشارہ ہے۔ سرکش باغبانوں سے مراد دینِ حق کے مخالفین ہیں جو پہلے صرف یہود تھے اور اب یہود ونصاریٰ دونوں ہیں’’ اس نے نوکروں کو بھیجا‘‘ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہیں کیونکہ وہ بھی عبد ہوتے ہیں اور رسول بھی، یہی اشارہ ’’عبده ورسوله‘‘ میں ہے۔ بیٹے سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور یہ عقیدہ نصاریٰ کا ہے اس کا قتل کرنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب کیے جانے کی طرف اشارہ ہے جیساکہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے۔ تمثیل کی عبارت کہ’’ ان بدکاروں کو بری طرح ہلاک کرلے گا اور تاکستان کا ٹھیکہ دوسرے باغبانوں کو دے گا‘‘ سے مراد یہ ہے کہ دین حق کی نعمتِ عظمیٰ ان سے چھین لی جائے گی جیسے کہ یہود ونصاریٰ سے چھین لی گئی اور ایک دوسری قوم (مسلمانوں) کو دے دی جائے گی۔

معماروں سے بنی اسرائیل مراد ہیں اور کونے کے پتھر سے ہمارے نبی اکرم خاتم النبیین محمد مصطفیٰﷺہیں کیونکہ بنی اسرائیل نے آپﷺ کو رد کرنا چاہا مگر آپ ﷺ تائید الہٰی سے کونے کا سرا یعنی خاتم النبیین ہوکر رہے۔([43])

چنانچہ خود آپ ﷺ اس حوالے سے فرماتے ہیں:

((إنّ مثلی ومثل الأنبیاء من قبلی، کمثل رجل بنی بیتاً فأحسنه وأجمله الاموضع لبنة من زاویة، فجعل الناس یطوفون به ویعجبون له ویقولون: هلا وضعت هذه اللبنة؟ فأنااللبنة وأنا خاتم النبیین))([44])

(میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء علىہم السلام کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک عمارت بنائی اور خوب حسین وجمیل بنائی مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑی ہوئی تھی۔ لوگ اس عمارت کے گرد پھرتے اور اس کی خوبی پر اظہار حیرت کرتے تھے، مگر کہتے تھے کہ اس جگہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ تو وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیینﷺ ہوں)

اس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ ﷺ اس سلسلہ نبوت و رسالت کی آخری کڑی ہیں جو تمام اپنے اپنے زمانے میں قوموں کی ہدایت و تربیت کے لیے بھیجے گئے، اب چونکہ اس نبوت کی عمارت کی تکمیل ہو گئی ہے اس لیے نا تو آپ ﷺ کے بعد نہ کسی نبی نے آنا ہے اور نہ ہی کسی شریعت کا نزول ہو گا۔ لہٰذا آپ ﷺ کی نبوت و شریعت تمام بنی نوع انسان کے لیے تا روزِ قیام ِ قیامت قائم و دائم رہے گی۔چنانچہ قرآن مجید میں اسی نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشادرب العزت ہوتا ہے:

﴿قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّه إِلَيْكُمْ جَمِيعًا﴾([45])(اے محمدؐ، کہو کہ اے انسانو، میں تم سب کی طرف اُس خدا کا پیغمبر ہوں)

آپﷺ کی رسالت عام ہے اور آپ ﷺ تمام لوگوں پر حجتِ خدا ہیں۔اور اس مطلب کی وضاحت خود نبی کریم ﷺ نے اپنی زبان ِ مبارک سے بھی فرمائی۔آپﷺ نے فرمایا:

((کان النبیُ یبعث إلی قومه خاصة وأنا بعثت إلی الناس عامة))([46])

(ہر نبی اپنی خاص قوم کے لیے مبعوث ہوتا تھا لیکن میں تمام لوگوں کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں)

مذکورہ بشارت کا یہ حصہ ’’یہ خداوند کی طرف سے ہوا اور ہماری نظروں میں عجیب ہے‘‘ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ نبو ت کا سلسلہ بنو اسحاق سے منقطع ہوا اور بنو اسماعیل کو دے دیا گیا۔چونکہ نبوت بنو اسحاق میں چلی آرہی تھی،اس لیے بنو اسماعیل میں اس کا منتقل ہونا عجیب ہے، پھل لانے والوں سے مراد امتِ محمدیہﷺکے افراد ہیں، جنھوں نے دین حق پر جانیں قربان کرکے اس کے پھل کو دنیا میں عام کردیا اور اس سے خاص وعام سبھی مستفید ہوئے۔عبارت کے اس حصہ’’جو اس پر گرے گا ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا‘‘ سے مراد ہے کہ جو بھی اس دین حق کے شیدائیوں سے ٹکرائے گا پاش پاش ہوجائے گا۔ اور یہی بات اسلامی تاریخ میں بڑی وضاحت کے ساتھ ثابت ہے کہ ایران، شام اور روم ودیگر مضبوط سلطنتیں جو مسلمانوں سے ٹکرائیں نیست ونابود ہوگئیں۔([47])

لہٰذا اس بشارت کا ایک ایک جملہ اور ایک ایک لفظ حضورخاتم النبیینﷺ پر صادق آتا ہےجو کہ قصرِ نبوت کے آخری پتھر ہیں۔اور انہی کے وجود سے سے انبیاء علیھم اسلام کی عمارت ِنبوت کی تکمیل ہوگئی۔

حاصلِ بحث:

مذکورہ بحث کی روشنی میں یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ حضورﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا ثبوت اسلامی مصادر یعنی قرآن وحدیث کی نصوص سے تو واضح ہے ہی مگر ساتھ ساتھ آپﷺ کی نبوت اورختم نبوت کا تذکرہ سابقہ آسمانی کتب یعنی تورات وانجیل میں بھی واضح الفاظ میں موجود ہے۔یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے وقت اور حالات کے ساتھ یہود و نصاریٰ کے علماء کے ہاتھوں یہ صحیفے تحریف سے محفوظ نہ رہ سکے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے اپنے آخری رسول ﷺ کے ذکر کو محو نہ ہونے دیا۔ لیکن نبوت خاندانِ بنو اسمٰعیل میں منتقل ہو جانے کے باعث یہود و نصاریٰ نے محض خاندانی تعصب و حسد کی بنیاد پر اس سچائی پر ایمان لانے سے انکار کیا اور اب تک اسی تکذیب میں ڈوب کرہدایت اور سعادت و نجات سےمحروم ہو رہے ہیں ۔

ختم نبوت وہ بنیادی پتھر ہے جس پردین ِ اسلام اور نبوتِ انبیاء علیہم السلام کی عظیم الشان عمارت قائم ہے اور اگر اسے ہٹا دیا جائے تو یہ عمارت نیچے گرجائے گی۔ تورات وانجیل کی بشارات میں آپ کی نبوت کو کونے کے سرے کا پتھر کہا گیا کہ صرف حضورﷺ کی ذات اقدس ہی ہے جس کے دنیا میں تشریف لانے کے بعد تمام نبوتوں کا اختتام ہوا اور اللہ کے پسندیدہ دین اسلام کی تکمیل ہوئی،لہٰذا اب آپﷺکے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ بنی اسرائیل میں کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنے متعلق یہ دعویٰ کیا ہو کہ وہ خاتم النبیین ہے جب کہ آنحضرتﷺ نے خود اپنے متعلق یہ دعویٰ فرمایا تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے حواریوں نے بھی مختلف تمثیلوں کے ذریعے قوم کویہ بات سمجھائی۔اگر ان تمثیلوں پر غور کیا جائے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہ تمثیلیں آنحضرت ﷺکی صداقت ، دین اسلام اور ختم نبوت کے متعلق ہیں اور آپﷺکی نبوت کے تاروزِقیامت قائم ودائم رہنے پر دلالت کرتی ہیں۔ اور ان کے مصداقِ کامل بھی نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰﷺ ہی ہیں،آپ ﷺ کی شریعت ایک ابدی شریعت ہے اور آپ ﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کا حصہ ہے۔

حوالہ جات

  1. () سورۃ محمد:۴۷/۲۴
  2. ()التهذيب فى اللغة ، محمد بن احمد ابو منصور ازہری،دار احیاء التراث العربی بیروت لبنان،۲۰۰۱ء، 1/1113
  3. ()ایضاً
  4. () لسان العرب، محمد بن مکرم ابن منظور، دار احیاء التراث العربی بیروت لبنان،۱۹۹۸ء، 12/164
  5. () المفردات فی غریب القرآن، حسین بن محمد راغب اصفہانی، نور محمداصح المطابع کارخانہ تجارت کراچی،۱۹۶۱ء، ص:431
  6. () کتاب التعریفات،علی بن محمد جرجانی،قاہرہ مصر،۱۲۸۳ھ، ص:96
  7. () تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس، محمد بن یعقوب فیروز آبادی، دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان،ص:354
  8. () کتاب مقدس، بائبل سوسائٹی لاہور، عہد نامہ قدیم،زبور:9/8-9
  9. () بائیبل کے بعض ترجموں میں کونے کا سرا، اور مولانا عبدالحق ودیارتھی نے چوٹی کا پتھر لکھا ہے۔
  10. () کتاب مقدس، عہد نامہ قدیم، زبور:118/21-24، 26
  11. () دیکھیے: کتاب مقدس، عہد نامہ قدیم، تواریخ:26/15،صفینا:1/16، 3/6
  12. () کتاب مقدس، عہد نامہ قدیم،تواریخ:26/15،یسعیاہ:9/1-2، 6-7
  13. () سیرت سرور کونینﷺ، رانا محمد سرور خاں،رانا سرور خان پبلیکیشنزلاہور،۲۰۰۷ء، 3/64
  14. () میثاق النبیین، مولانا عبد الحق ودیارتھی،دارالاشاعت کتب اسلامیہ بمبئی،۱۹۳۶، ص:404
  15. () سورۃ آل عمران:۳/۱۵۹
  16. () سورۃ سبا:۳۴/۲۸
  17. ()سورۃ الزمر:۳۹/۱۲
  18. () سورۃ الاحزاب:۳۳/۴۰
  19. () کتاب مقدس، عہد نامہ قدیم، یسعیاہ:11/10-12
  20. () Encyclopedia Biblica, T.K. Cheyne and J. Sutherland Black, The Macmillan & co. London, 1902,V:3, P:3271
  21. ()Ibid, V:5,P:1507
  22. () سورۃ الحجرات:۴۹/۲
  23. () سورۃ بنی اسرائیل:۱۷/۱۰۴
  24. () کتاب مقدس، عہدنامہ قدیم، یسعیاہ:51/4-6
  25. () سورۃ المائدۃ:۵/۱۵،۱۶
  26. () کتاب مقدس، عہد نامہ قدیم، دانیال:2/21-45
  27. ()مادتین صوبہ مادیٰ کے باشندوں کو کہا جاتا ہے جہاں مشہور بادشاہ دارا حکومت کرتا تھا اور اس نے بابل پرحملہ کرکے اس پرقبضہ کرلیا تھا۔(بائیبل سے قرآن تک، مترجم :اکبرعلی، 3/301)
  28. () کلدانی ایک سامی قوم تھی جو دسویں اور نویں اور نصف چھٹی صدی قبل مسیح میں پائی گئی۔ اس کے بعد یہ بابلی تہذیب میں مدغم ہوگئی۔ https://en.wikipedia.org/wiki/Chaldea, Retrieved: 02-08-2017, 9:15 a.m
  29. () کیانیاں قدیم ایرانی بادشاہت کا سلسلہ دوم ہے جس کا ذکر ایرانی داستانوں میں ملتا ہے۔ زرتشتیوں کی مقدس کتاب "اوستا" میں بھی ان کا ذکر ملتا ہے۔ ,Retrieved: 02-08-2017, 10:15a.m کیانیاں۔ https://fa.wikipedia.org/wiki//
  30. () خورش جس کوخسرو، کوروش، خورس اور سائرس اعظم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ایران کا پہلا عظیم بادشاہ تھا۔ جنوبی ایران سے تعلق رکھنے والے اس جنگجو بادشاہ کی سلطنت مشرق میں دریائے سندھ اور سرزمین ترکستان سے لے کر مغرب میں ساحل اناطولیہ، خط یونان تک پھیلی ہوئی تھی۔ https://daleel.pk/20-16/10/27/1398,Dated: 03-08-2017, 4:30 pm
  31. () کتاب مقدس، عہد نامہ قدیم، دانیال:9/ 23-24
  32. () سرور عالمﷺ،(ترجمہ کتاب: جگت گرو)صدیق دیندار(مترجم: سید امام صاحب)دیندار انجمن کراچی پاکستان،ص:238
  33. () کتاب مقدس، عہد نامہ جدید،متی:3/1
  34. () کتاب مقدس، عہد نامہ جدید،متی:6/10
  35. ()کتاب مقدس، عہد نامہ جدید، متی:10/7
  36. () کتاب مقدس، عہد نامہ جدید،لوقا:10/1، 10-11
  37. ()مذاہب عالم میں تذکرہ خیر الانام، سید آل احمد رضوی، ماڈرن بک ڈپو آبپارہ، اسلام آباد،1991ء، باراول،ص:203-204
  38. () کتاب مقدس، عہد نامہ جدید،متی:13/31
  39. () سورۃ الفتح:۴۸/۲۹ (یہی تمثیل مرقس۴/۳۰۔۳۲ اور لوقا ۱۳/۱۸۔۱۹ میں بھی بیان کی گئی ہے۔)
  40. () کتاب مقدس، عہد نامہ جدید،متی:13/33
  41. () ایضاً،متی:21/41
  42. () کتاب مقدس، عہد نامہ جدید،متی:21/33-46
  43. ()بشارت محمدیہؐ کتب سماویہ میں،اکرام اللہ جان قاسمی، ششماہی السیرۃ، زوار اکیڈیمی پبلی کیشنز کراچی، مئی2001ء،ص:72
  44. ()الجامع الصحیح، محمد بن اسماعیل بخاری،دارالسلام،ریاض،۱۹۹۹ء، کتاب المناقب، باب خاتم النبیین،حدیث نمبر:3342، ص:595 (نیز دیکھئے: صحیح مسلم، مسلم بن حجاج، دارالسلام،ریاض، ۲۰۰۰ء، کتاب الفضائل، باب ذکر کونہ ﷺ خاتم النبیین، حدیث نمبر:2286، ص:1013؛ السنن الکبریٰ،احمدبن شعیب بن علی النسائی، مؤسسۃ الرسالۃ بیروت،1421ھ/2001ء،طبع اولیٰ، حدیث نمبر: 11422، 6/374؛ صحیح ابن حبان بترتیب ابن بلبان،محمد بن حبان بن احمد التمیمی، مؤسسۃ الرسالۃ بیروت،لبنان،۱۹۹۳ء، طبع ثانی، کتاب التاریخ، باب من صفۃ واخبار، حدیث نمبر:6405، 14/315
  45. () ورۃ الاعراف:۷/۱۵۸
  46. ()سنن الدارمی،عبداللہ بن عبدالرحمن الدارمی،دارالکتاب العربی بیروت،۱۴۰۷ھ،کتاب الصلوٰۃ،باب الأرض كلها طهور ما خلا المقبرة والحمام،حدیث نمبر:۱۳۸۹، ۱/۳۷۴
  47. () سیرۃ المصطفیٰﷺ، محمد ادریس کاندھلوی،مکتبہ عثمانیہ لاہور، ۱۹۹۲ء، 2/590-591