شاذ: محدثىین اور احناف کى آراء کا تقابلى جائزہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ Al-Idah
عنوان شاذ: محدثىین اور احناف کى آراء کا تقابلى جائزہ
مصنف اقبال، نوید، انعام الحق
جلد 36
شمارہ 2
سال 2018
صفحات 32-47
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
شکاگو 16 اقبال، نوید، انعام الحق۔ "شاذ: محدثىین اور احناف کى آراء کا تقابلى جائزہ۔" Al-Idah 36, شمارہ۔ 2 (2018)۔
سند قانون: فقہائے اسلام اور مغربى مفکرین کى آراء کا تحقیقى وتنقیدى جائزہ
شاذ: محدثىین اور احناف کى آراء کا تقابلى جائزہ
ختم نبوت تورات و انجیل کى تعلیمات کى روشنى میں
امت مسلمہ کى عالمگیریت قرآنى تعلیمات کى روشنى میں
عتبات النص: البنية والدلالة في رواية غاردينا
الدّراسة النّقدية لكتاب “Muslim Tradition” في ضوء الكتاب البدر المنير للإمام ابن الملقّن
حكم شراء البيوت للسكنى عن طريق القرض من البنك الربويل لأقليات المسلمة
أحاديث الأحكام المختلفة على سفيان الثوري بابدال الراوي وأثرها على اختلاف الفقهاء
أوهام الإمام البزار فى الأسانيد والرجال من خلال مسنده البحر الزخار
Education in Pakistan: The Need for Greater Alignment Between Policy and Praxis
Comparative Analysis of Islamic Banking Products in Pakistan and Malaysia
Islamic View of Leadership in the Perspective of the Article 62 and 63 of the Constitution and Ideological Orientations of Pakistan
Role of Religious Interventions in the Reintegration of Prisoners: A Case Study of Selected Jails of Khyber Pakhtunkhwa/Kp, Pakistan
Students’ Perceptions About Internet Usage and its Impact on Their Academic Performance
Historical Roots of Radicalization in Pashtun’s Society

Abstract

This research article aims to trace the history of radical movements in the North-West frontier of sub-continent. Historically, radical movements have long roots in Pakhtun Society.  People recruited in different epochs from Pakhtun society branch into various freedom movements before the partition of sub-continent. Freedom movements against the Sikh, Hindu and the British lifted radical impact on Pakhtun Society before the partition of sub-continent.  Radical movements after the partition of sub-continent also established their roots in the North-West region of Pakistan. These radical movements engineered the pluralistic cultural values of Pakhtun Society. These movements have lifted radical trends in the North-West frontier of sub-continent. Pakhtuns and their cultural values were not only exposed to violence but the evolution of their culture had been disturbed.

تشریع اسلامی کے دوسرے ماخذ کی حیثیت سے تارىخ مىں حدیث کی ایک منفرد حیثیت رہی ہے۔ اس کے مختلف پہلووں پر اہل علم نے ہر زمانے میں تحقیق کے بے مثال نمونے چھوڑے ہیں۔ جہاں جمع و تحقیق احادیث کے میدان میں محدثین کی بے مثال خدمات ہیں ، وہیں فہم وتطبیق احکام کے پہلو سے فقہا کی بے نظیر کاوشیں ہیں۔ محدثىن کے ہاں روایات کے فہم کے لیے مرتب کردہ قواعد "مصطلح الحديث"، " اصول حدیث " کے عناوین کے تحت دیکھنے کو ملتے ہیں، اسى طرح فقہاء اصولیین کے ہاں یہی بحث "باب السنة" كے عنوان کے تحت ملتی ہے ؛ انہوں نے مستقل کتب کے بجائے اصول کی کتب میں سنت كے رد و قبول سے متعلق اصول و قواعد بيان كرنے پر اكتفاء کیا، البتہ یہ علیحدہ بحث ہے کہ ان اصولوں کے باب میں محدثین اور فقہا کے مابین اختلافات رہے ہیں۔

کسی حدیث کے صحیح ہونے کا حکم ان شرائط کی موجودگی کے ساتھ جوڑ دیا گیا جن کو اہل علم نے طویل تحقیق و تمحیص کے بعد متعین کیا ہے۔ دیگر میادین علم کی طرح اس میدان میں بھی اہل علم کے مابین اختلاف رہا ہے، بعض نے کسی ایک شرط کو قبول حدیث کے لیے لازمی قرار دیا ،تو دوسرے نے اس سے اختلاف کیا ، انہى شرائط میں سے ایک:’’ حدیث کا شاذ نہ ہونا‘‘ ہے، جس کے لیے عدم شذوذ کی اصطلاح استعمال کیجاتی ہے۔ شاذ كے معنى اور مدلول کے تعین میں محدثين اور فقہاء حنفيہ كے درميان اختلاف ہے ، اس کے علاوہ خود محدثين سے بھی شاذ کی تعريف اور مدلول كے بارے ميں كئی اقوال منقول ہیں۔اس اصولی اختلاف کے باعث کئی مسائل میں اخبار احاد کے قبول وعدم قبول کے حوالے سے محدثین اور فقہائے احناف میں اختلافات پائے جاتے ہیں اور مسئلے کو اصولی طور پر نہ سمجھنے کی وجہ سے علمی غلطیاں سامنے آتی ہیں اور ان ائمہ کبار کے بارے میں غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔ اسی سوچ کے پیش نظر یہ مقالہ محدثین اور فقہا ء کے نزدیک شاذ حدیث کے مدلول کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔جس میں پہلے محدثين كے نزديك شذوذ كے معنی اور مدلول كو بيان کیا گیا ہے، اس کے بعد فقہاء حنفیہ كے نزديك شذوذ كے معنى اور مدلول كو بيا ن کیا گیا ہے اور پھران دونوں کے مابین سامنے آنے والے فرق كو مختصر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

محدثین كے نزدیك شذوذ كے معنى:

محدثین م 
شذوز کی ذکر کردہ تعریفات کو اگر پیش نظر رکھا جائے تو ان کو تین اقوال میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ 
پہلا قول: ان حضرات کے مطابق شاذ ایسی حدیث ہے جس میں ایک ثقہ راوی ، حفظ و ضبط میں خود سے قوی راوی یا رواۃ کی اىک جماعت مخالفت کرے، یہ مذہب امام شافعی رحمہ اللہ سے یوں منقول ہے: 
" لیس الشاذ من الحدیث ان یروی الثقة ما لا یرويه غیره، هذا لیس بشاذ، انما الشاذ ان یروی الثقة حدیثا یخالف فيه الناس، هذا الشاذ من الحدیث"[1] 
فرماتے ہیں کہ شاذ یہ نہیں کہ ثقہ راوی اكیلے روایت كرے بلکہ شاذ یہ ہےکہ ثقہ راوی دوسرے لوگوں كے مخالف روایت كرے ۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اسی قول کی تصویب کی ہے[2] اور ابن حجر رحمہ اللہ نے اس تعریف پر اعتماد کىا ہے [3] 

دوسرا قول : ان حضرات کے مطابق محض تفرد راوی ہی شذوذ ہے ، خواہ مخالفت موجود ہو یا نہ ہو، حافظ ابو یعلی الخلیلی رحمہ اللہ سے تعریف یوں منقول ہے: "الشاذ ما ليس لها الا اسناد واحد، يشذ بذالك شيخ ثقة كان أو غير ثقة, فما كان من غير ثقة فمتروك لا يقبل, و ماكان عن غير ثقة يتوقف فيه و لا يحتج به"[4]

فرماتے ہیں: شاذ وہ حدیث ہےجسکی سند ایك ہو خواہ اس كو روایت كرنے والاثقہ ہو یا غیر ثقہ۔ اگر غیرثقہ راوی اكیلے روایت كرے تو وہ حدیث متروك اور غیر مقبول ہوگی اور اگر راوی ثقہ ہےتو توقف كیا جائے گا اور اس كو دلیل كے طور پر ذكر نہیں كیا جائے گا۔ انہوں نے اس قول کو حفاظ الحدیث کی طرف منسوب کیا ہے ۔ ابن رجب الحنبلی رحمہ اللہ نے اس قول کو متقدمىن کى اىک کثىر تعداد کا قول قرار دیا ہے اور ایسی کیفیت کو شذوذ کے بجائے علۃ کی بحث میں شمارکیا ہے[5]

تیسرا قول: ان حضرات کے مطابق ثقہ راوی کا تفرد شذوذ کہلاتا ہے، اس کو امام حاکم رحمہ اللہ یوں بیان فرماتے ہیں: " الحديث الذي يتفرد بها ثقة من الثقات، و ليس لها اصل متابع لذالك الثقة"[6]

شاذ ایسی حدیث ہےجس کو نقل کرنے میں کو ئی ثقہ راوی متفرد ہو اور اس حدیث کے اس راوی کا کوئی اصل متابع موجود نہ ۔[7] طاہر الجزائری نے توجیہ النظر میں اسی تعریف کو اختیار کیا ہے۔

اگرچہ معرفة علوم الحدیث میں امام حاکم رحمہ اللہ سے مندرجہ بالا تعریف منقول ہے لیکن المستدرك على الصحيحىن میں بعض ایسی احادیث کو بھی شاذ کہا ہے جس کا راوی متفرد اور ضعیف ہے۔[8]

ان تینوں اقوا ل پر جامع تبصرہ ابن صلاح رحمہ اللہ نے فرمایا ہے ،وہ امام ابو یعلی الخلیلی اور امام حاکم رحمہما اللہ کی ذکر کردہ تعریف میں تفرد کے اطلاق پر اعتراض کرنے کے بعد اپنے موقف کو بیان کرتے ہیں ، جس کو تین نکات میں ذکر کیا جاسکتا ہے:

۱۔ اگر تفرد اختىار کرنے والا راوى متفرد ثقہ، یا حسن درجے کا ہو تو اس کا تفرد مردود نہیں۔

۲۔ ضعیف راوی کا تفرد مردود ہے، جس کے لیے وہ ’’الشاذ المنكر‘‘ کی اصطلا ح استعمال کرتے ہیں۔

۳۔تفرد اختىار کرنے والا راوی کی حفظ و وضبط میں خود سے قوی رواۃ کی مخالفت شذوذ مردود ہے۔ اس کے لیے وہ الشاذ المردودکی اصطلاح استعمال کرتے ہیں[9]۔( یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ تعریف میں ثقہ اور ضعیف کے درمیان کوئی فرق نہیں ذکر کیا گیا )۔ امام نووی رحمہ اللہ سے بھی ایسی ہى تعریف منقو ل ہے[10] اس سے متصل بعد کی نوع میں ابن صلاح رحمہ اللہ نےالمنکر کی تعریف میں بھی اسی انداز بیان کو اختیار کىا ہوا ہے، اور اس کو شاذ کی طرح بتاتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ہاں شذوذ اور نکارت ایک ہی چیز ہے جس کی دو قسمیں بنتی ہیں :

۱۔ متفرد راوی کا حفظ و ضبط میں خود سے قوی راوی کی مخالفت کرنا۔

۲۔ ضعیف راوی کا تفرد ( یعنی ضعیف راوی کا ایسے روایت کرنا جس میں کوئی دوسرا راوی اس جیسی روایت نہ کر رہا ہو)[11]

اوپر ذكرکی گئی تعریفات كا خلاصہ:

امام شافعی رحمہ اللہ كے نزدیك شاذ وہ حدیث ہے جس میں دو شرطیں پائی جائیں : ثقہ راوی متفرد ہو اور دیگر راویوں کی مخالفت بھی پائی جاتی ہو۔ امام ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اسی تعریف کو اختیار کیا ہے۔

حافظ ابو یعلی الخلیلی رحمہ اللہ كے نزدیك شذوذ کے لیے راوی کا متفرد ہونا کافی ہے، خواہ راوی ثقہ ہو یا غیر ثقہ اور دیگر رواۃ کی مخالفت ہو یا نہ ہو۔ جبکہ امام حاکم رحمہ اللہ اس میں ثقہ راوی کی تخصیص کرتے ہیں یعنی ان کے نزدیک ثقہ راوی کا تفرد شذوذ ہے۔

ابن صلاح رحمہ اللہ کی ذکر کردہ تعریف سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شذوذ ِ مردود کی دو قسمیں ہیں: ایک یہ کہ متفرد راوی حفظ و ضبط میں خود سے قوی رواۃ کی مخالفت کرے(یہاں پر متفرد راوی کے ثقہ یا ضعیف ہونےسے بحث نہیں کی گئی) ۔ دوسری قسم میں ضعیف راوی کے تفرد کو شذوذ کے لیےکافی سمجھا گیا ہے۔تو اگر متفرد راوی ثقہ یا حسن کے درجے کا راوی ہو ، اور روایت میں دیگر رواۃ کی مخالفت نہ پائی جاتی ہو تو یہ تفرد مضر نہیں ہوگا۔

محدثین کے ہاں شاذ حدیث کا حکم:

اس عنوان کے تحت دو نکات پر بحث کی جاسکتی ہے: اول یہ کہ: کیا شاذ حدیث کو صحیح کا نام دیا جاسکتا ہے؟، دوم یہ کہ کیا شاذ حدیث قابل احتجاج ہوتی ہے یا نہیں ؟

کیا شاذ حدیث کو صحیح کا نام دیا جاسکتا ہے؟

امام حاکم رحمہ اللہ چونکہ محض تفرد ثقہ کو شذوذ قرار دیتے ہیں اس وجہ سے ان کے ہاں شا ذ حدیث صحیح بھی ہو سکتی ہے آپ ایک حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتےہیں:

"لعل متوهما يتوهم ان هذا متن شاذ، فلینظر فی الكتابین لیجد من المتون الشاذة التی لیس لهاالا اسناد واحد ما یتعجب منه، ثم لیقس هذا عليها"[12]

فرماتے ہیں کہ وہم كرنے والا یہ وہم كرے گا کہ یہ متن شاذ ہے، سو وہ ان دو كتابوں (صحیحین) میں دیكھ لے تو ان میں ایسےشاذ متون كو پائے گا، جن کی صرف ایک سند ہوگی، جس پر حیرانگی ہوتی ہے، سواس (مذکورہ حدیث) كو ان پر قیاس كریں۔

اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ امام ابن حجر رحمہ اللہ امام حاکم کے ایک ایسی روایت کو شاذکہنے پر اعتراض کرتے ہیں جس کو امام بخاری رحمہ اللہ نے اسی طریق سے اپنی صحیح میں نقل کیا ، آخر میں فرماتے ہیں :

"قلت: وهذا الحديث أخرجه البخاري في صحيحه من هذا الوجه، والحاكم موافق على صحته إلا أنه يسميه شاذاولا مشاحة في التسمية"[13]

اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ امام حاکم صحیح حدیث کو بھی شاذ کہہ دیتے ہیں۔

امام ابن حجر رحمہ اللہ جہاں صحیح کی تعریف کرتے ہیں وہاں تو عد م الشذوذ کی شرط لگاتے ہیں ، لیکن دیگر مقامات پر ان کی تحریروں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شاذ حدیث کو ضعیف حدیث کہنے کے بھی قائل نہیں ہیں، چنانچہ امام سیوطی رحمہ اللہ ان کا قول نقل کرتے ہیں کہ: صحیح حدیث کی تعریف میں عدم شذوذ کی شرط لگانا اور فقدان شرط کی صورت میں اس حدیث کو صحت کادرجہ نہ دینا یہ مشکل معاملہ ہے۔ آگے وجہ بیان کرتے ہیں:

"لان الإسناد إذا كان متصلا ورواته كلهم عدولا ضابطين، فقد انتفت عنه العلل الظاهرة. ثم إذا انتفى كونه معلولا فما المانع من الحكم بصحته؟ فمجرد مخالفة أحد رواته لمن هو أوثق منه أو أكثر عددا لا يستلزم الضعف، بل يكون من باب صحيح وأصح"[14]

یعنی جب حدیث ظاہری اعتبار سے صحیح ہے تو محض اس وجہ سے حدیث کو ضعیف قرار دینا کہ ایک ثقہ راوی اپنے سے حفظ و ضبط میں قوی ایک یا زیادہ راویوں کی مخالفت کر رہا ہے درست نہیں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک روایت صحیح اور دوسری اصح ہے ۔ بالفاظ دیگر یہ ترجیح کا مسئلہ ہے تصحیح وتضعیف کا نہیں۔ آگے اپنی تائید میں اس بات کا بھی ذکرکرتے ہیں کہ ائمہ حدیث سے صحت حدیث کی بحث میں عدم شذوذ کی شرط منقول نہیں ہے، البتہ ان کے ہاں یہ عمل ضرور پایا جاتا ہے کہ وہ ایسی کیفیت میں ایک روایت کو دوسری روایت پر ترجیح دیتے ہیں، جس کی مثالیں صحیحین میں بھی موجود ہیں ۔اسی موقف کو امام سخاوی رحمہ اللہ نے بھی ذکر کیا ہے، اور صحیح شاذ کی اصطلاح نقل کی ہے[15]

امام ابن صلاح رحمہ اللہ نے جو شذوذ کو عدم صحت کی دلیل کہا ہے اس پر بھی امام ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے یہ ان کا اپنا قول نہ ہو اس لیے کہ انہوں نے صرف محدثین کا موقف بیان کیا ہے اپنی طرف سے کوئی صراحت نہیں کی،ان کی تعریف پر ہونے والے ایک اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرماتےہیں:

"ولعله يرى بعدم اشتراط نفي الشذوذ في شرط الصحيح لأنه هناك لم يصرح عن نفسه باختيار شيء (بل اقتصر) على نقل ما عند المحدثين"[16]

اس بحث کو تفصیل سے دیکھنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچنا ممکن ہے کہ امام ابن حجر رحمہ اللہ کا یہ موقف صرف اس قسم سے متعلق ہے جس میں ایک ثقہ راوی ، حفظ و ضبط میں خود سے قوی راوی یا رواۃ کی مخالفت کرتا ہے، ایسے میں یہ کہا جاسکتا ہےکہ ایک حدیث کو سند کے اعتبار سے صحیح کہا جائے لیکن متن کے اعتبار سے وہ شاذ قرار دی جائے ، جیسا کہ امام بیہقی ایک روایت کے بارے میں فرماتے ہیں :"إسناد هذا عن ابن عباس رضي الله عنهما صحيح، وهو شاذ بمرة، لا أعلم لأبي الضحى عليه متابعا والله أعلم"[17] امام نووی نے بھی اس قول کو نقل کیا ہے [18]

امام سخاوی رحمہ اللہ نے اس بارے میں فرمایا ہے کہ: "وبالجملة فالشذوذ سبب للترك إما صحة أو عملا"[19] یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ شاذ حدیث صرف عمل کے اعتبار سے بھی متروک ہوسکتی ہے جس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ نفس امر میں تو اس کو ضعیف نہیں کہا جائے گا لیکن مرجوح ہونے کی وجہ سے اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کا رجحان بھی اسی طرف ہے[20]

امام مناوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:اگرچہ محدثین کے ہاں معتمد یہی ہے کہ: جب وہ کسی حدیث کے بارے میں کہہ دیں کہ : صحیح الاسناد تو اس سے مراد یہی ہوتی ہے کہ حدیث صحیح ہے، لیکن کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ کسی حدیث کے بارے میں اس کی صحت سند کی وجہ سے کہہ دیتے ہیں کہ: هذا حدیث صحیح لیکن اصل میں حدیث شذوذ یا علت کی موجودگی کی وجہ سے صحیح نہیں ہوتی.[21]

خلاصہ بحث یہ ہوا کہ حدیث کو ظاہری اعتبار سے تو صحیح کہنے کی گنجائش موجود ہے، لیکن مخالفت کی وجہ سے اس کو شاذ کہا جائے گاا ور عملا ایک مرجوح روایت ہوگی۔

کیا شاذ حدیث قابل احتجاج ہوتی ہے؟

ایک بات تو اوپر کی تعریفات سے واضح ہوتی ہے کہ اگر شذوذ سے مراد ضعیف راوی کا تفردلیا جائے تو یہ کسی کے مطابق بھی قابل قبول نہیں ہے، امام ابویعلی ٰ کی تعریف میں تو یہ شق بالکل واضح ہے کہ"فماكان من غیرثقة فمتروك لایقبل"[22] امام نووی نے بھی اس قسم کو مردود قرار دیا ہے[23] اور اگر ایسے میں کسی قوی راوی کی مخالفت بھی پائی جائے جس کو امام ابن صلاح رحمہ اللہ الشاذ المنکر[24] اور امام ابن حجرمنکرسے تعبیر کرتے ہیں [25]تو یہ روایت بدرجہ اولی غیر مقبول ہوگی ۔(کہ جب ضعىف راوى کا تفرد مقبول نہیں تو ثقہ کى مخالفت کیسے قابل قبول ہوسکتی ہے)

اگر شاذ سے مراد ثقہ راوی کی اپنے سے حفظ و ضبط میں قوی راوی کی مخالفت لی جائے تو امام شافعی رحمہ اللہ سے اس کے مقبول نہ ہونے کا قول منقول ہے، آپ فرماتے ہیں: "الشاذ من الحدیث لا یؤخذ به" شاذ حدیث قبول نہیں کی جاتی ۔[26]

ابویعلی الخلیلی رحمہ اللہ کے مطابق ایسی روایت میں کم از کم توقف کا حکم معلوم ہوتا ہے ، اس لیے کہ جب وہ ثقہ راوی کے تفرد کے بارے میں توقف کا حکم دیتے ہیں ، "وماكان عن ثقةیتوقف فيه ولایحتج به"[27]تو مخالفت کی صورت میں تو یہ حکم بدرجہ اولی ٰ منطبق ہوگا "جبکہ امام حاکم رحمہ اللہ کی ذکر کردہ تعریف میں اس حوالے سے کوئی تفصیل منقو ل نہیں ہے۔

اور اگر شذوذ سے ثقہ راوی کا تفرد مراد ہو تو ابن صلاح رحمہ اللہ کے مطابق یہ شذوذ ہی نہیں ہے اس وجہ سے مقبول ہے، اور امام ابویعلیٰ کی تعریف کے مطابق اس کے بارے میں توقف اختیار کیا جائے گا، جبکہ امام حاکم رحمہ اللہ کے کلام سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تفرد ثقہ مقبول ہے [28]

اس تفصیل سے واضح ہوا کہ شذوذ کے بارے میں کوئی ایک حکم جاری کرنا مشکل ہے، اس لیے جب کسی حدیث کے بارے میں کہا جائے کہ وہ شاذ ہے تو اس کے صحیح یا ضعیف ہونے، مقبول و غیر مقبول ہونے کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ شذوذ کا حکم کس نے لگایا ہے اور اس کے مطابق شذوذ سے کیا مراد ہے۔ ایسے میں شذوذ کے قادح ہونے یا نہ ہونے، حدیث کے مقبول ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کیا جاسکے گا۔ محض کسی حدیث کے بارے میں شاذ ہونے کا حکم لکھا ہونا کوئی حتمی اور قطعی فیصلہ نہیں قرار دیا جاسکتا ۔ واللہ اعلم

’’شاذ‘‘ فقہاء احناف کے نزدىک:

احناف کے نزدیک شاذ حدیث کا دارومدار بھی مخالفت پر ہے، لیکن ان کے ہاں مخالفت کا یہ دائرہ زیادہ وسعت اختیار کر جاتا ہے، اور صرف روایات کی مخالفت پر اکتفا کرنے کے بجائے، ظاہر قرآن، سنت معلومہ، قواعد متفق علیھا، اور عمل الناس کی مخالفت جیسے امور کی وجہ سے بھی حدیث کو شاذ قرار دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کے ہاں کئی ایسی احادیث شاذ قرار پاتی ہیں جو محدثین کے نزدیک صحیح ہوتی ہیں۔ اس موضوع کو سمجھنے کے لیے ائمہ مذہب کی آراء پر اکتفا کیا جائے گا۔ امام ابوحنىفہ رحمہ اللہ جو فقہ حنفی کے موسس اور سرخیل ہیں، ان پر عموما یہ اعتراض کیا جاتا رہا ہے کہ وہ کئی صحیح احادیث کو رد کرتے ہیں ، علامہ ابن عبد البر الاندلسی معترضین کو جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

"كثير من أهل الحديث استجازوا الطعن على أبي حنيفة لرده كثيرا من أخبار الآحاد العدول لأنه كان يذهب في ذلك إلى عرضها على ما اجتمع عليه من الأحاديث ومعاني القرآن فما شذ عن ذلك رده وسماه شاذا"[29]

الغرض ان کے نزدیک شاذ حدیث ایسی حدیث ہے جو دیگر احادیث، اور معانی القرآن کے خلاف ہو۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مایہ ناز شاگرد امام ابو یوسف رحمہ اللہ قبول حدیث کے معیار کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

"فعليك من الحديث بما تعرفه العامة وإياك والشاذ منه"[30]

دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:

"والرواية تزداد كثرة ويخرج منها ما لا يعرف ولا يعرفه أهل الفقه ولا يوافق الكتاب ولا السنة فإياك وشاذ الحديث وعليك بما عليه الجماعة من الحديث وما يعرفه الفقهاء وما يوافق الكتاب والسنة فقس الأشياء على ذلك فما خالف القرآن فليس عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وإن جاءت به الروايةفاجعل القرآن والسنة المعروفة لك إماما قائدا واتبع ذلك وقس عليه ما يرد عليك مما لم يوضح لك في القرآن والسنة"[31]

عبارت مذكوره بالا سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک شاذ ایسی حدیث ہے جو قرآن اور سنت معروفہ کے خلاف ہو۔

امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے بعد اس موضوع پر تفصیلی انداز میں لکھنے والے امام محمد بن الحسن الشیبانی کے شاگرد عیسی بن ابان ہیں جن کی کتاب الحجج الصغیر کا تذکرہ ، ابوبکر الجصاص اپنی کتاب’’ الفصول فی الاصول‘‘ میں کرتے ہىں۔ یہاں ان کی اسی کتاب سے چند اقتباسات پیش خدمت ہیں۔

امام عیسی ابن ابان خبرواحد مردود کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

"خبر الواحد يرد لمعارضة السنة الثابتة إياه. أو أن يتعلق القرآن بخلافه فيما لا يحتمل المعاني. أو يكون من الأمور العامة، فيجيء خبر خاص لا تعرفه العامة. أو يكون شاذا قد رواه الناس، وعملوا بخلافه"[32]

اس مقام پر تو انہوں نے شاذ حدیث ایسی حدیث کو قرار دیا ہے جس پر لوگوں کا عمل نہ ہو، لیکن دوسرے مقام پر وہ اس دائرے کو وسعت دیتے ہوئے قرآن سنت کی مخالف خبر واحد کو بھی شاذ کہتے ہیں، آپ فرماتے ہیں:

"کا قول نقل کیا ے ے نزدیک وأما إذا روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - حديث خاص وكان ظاهر معناه بيان (السنن) والأحكام أو كان ينقض سنة مجمعا عليها أو يخالف شيئا من ظاهر القرآن فكان للحديث وجه ومعنى يحمل عليه لا يخالف ذلك حمل معناه على أحسن وجوهه وأشبهه بالسنن وأوفقه لظاهر القرآن فإن لم يكن معنى يحمل ذلك فهو شاذ"[33]

اس عبارت سے ظاہر ہوتا کہ ہے کہ اگر حدیث کو ظاہر قرآن اور متفق علیہا سنن کے موافق معنی پر محمول کرنا ممکن نہ ہو تو وہ حدیث شاذ ہوگی۔ بالفاظ دیگر ایسی خبر واحد جو قرآن اور سنت معروفہ مشہورہ کے ایسے خلاف ہو کہ ان دونوں کا جمع کرنا ممکن نہ ہو تو یہ خبر واحد شاذ کہلائے گی۔

امام ابوبکر الجصاص رحمہ اللہ اصول کے مخالف روایات کو بھی شاذ قرار دیتے ہیں:

"وهذا من أحاديث أبي هريرة التي ترد لمخالفتها الأصول، مثل ما روي أن ولد الزنا شر الثلاثة، وأن ولد الزنا لا يدخل الجنة، ولا وضوء لمن لم يذكر اسم الله عليه، ومن غسل ميتا فليغتسل ومن حمله فليتوضأ; هذه كلها أخبار شاذة قد اتفق الفقهاء على خلاف ظواهرها"[34]

یہاں پر وہ مذکورہ احادیث کو اس وجہ سے شاذ قرار دے رہے ہیں کہ یہ اصول شریعت کے خلاف ہیں۔

امام سرخسی رحمہ اللہ نے مبسوط میں مختلف مقامات پر شاذ کے مختلف مدلول متعین کیے ہیں، جن میں سے قرآن کے خلاف ہونا،[35]صحیح حدیث کے مخالف ہونا[36] عموم بلوی سے متعلق مسئلے میں خبر واحد کا آنا،[37] عمل الناس کے مخالف ہونا [38]جیسے امور کو ذکر کیاہے

امام طحاوی رحمہ اللہ ایک حدیث کے مقابلے میں استدلال پیش کرتے ہوئے شاذ حدیث کو قرآن اور سنت ثابتہ کے مقابلے میں ذکر کرتے ہیں :

"فكيف يجوز لأحد ترك آيتين من كتاب الله عز وجل، وسنن ثابتة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم متفق على صحة مجيئها إلى حديث شاذ"[39]

عبد المجید الترکمانی نے احناف کے موقف کو ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا ہے:

"اخبار الاحاد المخالفة لقواعد الشريعة و مقاصدها، والاصول المجتمعة بعد الاستقراء التام لا تقبل، ويعد الخبر المخالف شاذا، والامام الطحاوي رحمه الله يراعى هذا الاصل في معاني الاثار"[40]

ان تعریفات سے معلوم ہوا کہ احناف کے ہاں وہ روایت شاذ کہلائے گی جس میں ان امور میں سے کوئی ایک یا زیادہ امور پائے جائیں

۱۔خبر واحد جو قرآن کے مخالف ہو۔

۲۔ خبر واحد جو احادیث متواترہ یا مشہورہ کے خلاف ہو۔

۳۔ خبر واحدجو قواعد شریعت یا مقاصد شریعت سے متصاد م ہو۔

۴۔خبر واحد جو عمل الناس (سلف صالحین یعنی صحابہ اور تابعین) کے خلاف ہو۔

۵۔عموم بلوی سے متعلقہ مسئلے میں آنے والی خبر واحد (ایسے مواقع کثرت ناقلین کا متقاضی ہوتا ہے)

لیکن یہاں پر یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ اس اختلاف کے تعین میں ہر کسی کی بات کا اعتبار نہیں بلکہ ایسے اہلِ علم کا اعتبار ہے جو مسئلے کے حوالے سے وسیع معلومات رکھتے ہوں۔

ہم یہاں پر وضاحت كے لئے چند مثالیں ذكر كرنا مناسب سمجھتے ہیں جن كو علماء احناف نے اپنی كتابوں میں شاذ حدیث كہہ کررد كیا ہے۔

۱۔جس شخص نے حج تمتع کیا ہو اور اس کے پاس ہدی کی گنجائش نہ ہو تو قرآن نے اس کو دس روزے رکھنے کا حکم دیا ہے جس میں سے تین روزے وہیں رکھے گا اور باقی کے سات روزے اپنے وطن واپس لوٹنے پر[41]۔ ان تین روزوں کے بارے میں قرآن نے پے در پے کی شرط نہیں لگائی جب کہ ابی بن کعب رضی اللہ کی روایت میں تتابع یعنی پے در پے ہونے کی شرط کا ذکر ہے، امام سرخسی اس روایت کو قرآن کے مخالف ہونے کی وجہ سے شاذ قرار دیتے ہیں :

"والذي روي في قراءة أبي بن كعب فصيام ثلاثة أيام متتابعة في الحج شاذ غير مشهور والزيادة على النص بمثله لا تثبت"[42]

۲۔امام کاسانی رحمہ اللہ سورج طلوع ہوتے وقت نماز کی کراہت کے مسئلے پر بحث کرتے ہوئے، اس حدیث کو شاذ قرار دیتے ہیں جس میں مکہ کی استثنا کا ذکر ہے، آپ فرماتے ہیں:"وما روي من النهي إلا بمكة شاذ لا يقبل في معارضة المشهور"[43]

۳۔فقہائے حنفیہ پر کئے جانے والے اعتراضات میں سے ایک اہم اعتراض حدیث مصراۃ کو نہ قبول کرنے کے حوالے سے ہے، جس کے مختلف جوابات دیے جاتے ہیں، ابن امیر الحاج رحمہ اللہ اس کو مخالفت اصول پر محمول کرتے ہیں ، آپ فرماتے ہیں:

"ولم يأخذ أبو يوسف ومحمد به لأنه خبر مخالف للأصول (فإن اللبن مثلي وضمانه بالمثل) بالنص والإجماع"[44]

۴۔حج کے لئے لے کر جانے والی قربانیوں پر علامتی نشانی لگانا سنت عمل ہے، احناف اس کو صرف بڑے جانوروں کے ساتھ خاص کرتے ہیں ، جب کہ امام مالک رحمہ اللہ چھوٹے جانوروں مثلا بھیڑ بکری وغیرہ کو بھی نشانی لگانے کے قائل ہیں، اور اس کو سنت قرار دیتے ہیں، امام سرخسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اس بارے میں اثر (حدیث) تو موجود ہے لیکن وہ شاذ ہے اور اسی کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کا عمل اس کے خلاف ہے کہ وہ چھوٹے جانور (بھیڑ ، بکری)کو نشانی نہیں لگاتے[45]

۵۔امام سرخسی عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے مرد، یا مرد کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے عورت کے وضو کرنے کے مسئلے میں منقول روایت کو اس وجہ سے شاذ قرار دیتے ہیں کہ یہ عموم بلوی سے متعلقہ مسئلہ ہے اس میں خبر واحد حجت نہیں، آ پ فرماتے ہیں:"والذي روي أن النبي صلى الله عليه وسلم "نهى أن يتوضأ الرجل بفضل وضوء المرأة، والمرأة بفضل وضوء الرجل» شاذ فيما تعم به البلوى فلا يكون حجة"[46]

خلاصہ کلام:

محدثین کے نزدیک شاذ کی تعریف میں اختلاف کے باوجود معتمد بہ قول یہ ہے کہ شاذ ایسی حدیث کو کہتے ہیں جس میں کوئی ثقہ راوی، حفظ و ضبط میں خود سے قوی راوی، یا رواۃ کی مخالفت کرے۔ ایسی حدیث ناقابل قبول ہے اور اس پر عمل کرنا جائز نہیں۔ البتہ ایسی حدیث کو صحیح کہا جاسکے گا یا نہیں امام ابن حجر رحمہ اللہ کے مطابق اس کو ضعیف کہنا درست نہیں کہ یہ معاملہ ترجیح کا ہے تصحیح و تضعیف کا نہیں۔

یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ کسی حدیث کے بارے میں اگر یہ قول ملے کہ وہ شاذ ہے تو اس سے لازمی طور پر یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا ہے کہ حدیث شاذ مردود ہے اس لیے کہ محدثین کسی حدیث کو شاذ کہنے کے معاملے میں مختلف نظرىات کے قائل ہیں، اس لیے جب کسی حدیث کے بارے میں شاذ ہونے کا حکم ملے تو اس کے صحیح یا ضعیف ہونے، مقبول و غیر مقبول ہونے کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ شذوذ کا حکم کس محدث نے لگایا ہے اور محدث کے مطابق شذوذسے کیا مراد ہے۔ ایسے میں شذوذ کے قادح ہونے یا نہ ہونے، حدیث کے مقبول ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کیا جاسکے گا۔ محض کسی حدیث کے بارے میں شاذ ہونے کا حکم لکھا ہونا کوئی حتمی اور قطعی فیصلہ نہیں قرار دیا جاسکتا ۔ واللہ اعلم

فقہا احناف کسی حدیث کو شاذ کہنے کے معاملے میں راوی کی مخالفت کى بجائے زیاد ہ قوی دلائل یعنی: قرآن، سنت متواترہ، سنت مشہورہ، عمل الناس، قواعد و مقاصد شریعت کی مخالفت کا اعتبار کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے ان کے نزدیک شذوذ کا دائرہ زیادہ وسیع ہے۔ اسی وجہ سے کئی ایسی احادیث جس کو محدثین صحیح کہتے ہیں احناف کے ہاں مذکورہ بالا قاعدے کی روشنی میں شاذ قرار پاتی ہىں۔ شذوذ کے حوالے سے ان کے اس موقف کو سمجھنے سے ان کے بارے میں اس غلط فہمی کا بھی تدارک ہو گا کہ احناف بلا وجہ صحیح احادیث کو رد کر دیتے ہیں ۔


References

  1. ۔شافعی، محمد بن ادریس، الأم، دار الوفاء، بیروت، 2001،ج۷ ، ص۳۸۱
  2. ۔ابن کثیر، محمد بن إسماعیل، الباعث الحثيث إلى اختصار علوم الحديث، دار الكتب العلميۃ، بيروت ، لبنان 58
  3. ۔"الشاذ: ما رواه المقبول مخالفا لمن هو أولى منه. وهذا هو المعتمد في تعريف الشاذ بحسب الاصطلاح وهذا هُو المُعْتَمَدُ في تعريفِ الشاذِّ بحَسَبِ الاصْطِلاحِ."العسقلانی، ابن حجر، نزهة النظر فی توضیح نخبة الفکر، مطبعۃ الصباح، دمشق، 1421ھ ص ۷۲
  4. ۔خلیلی، حافظ ابو یعلی ، الإرشاد فی معرفة علماء الحدیث، مکتبۃ الرشد، 1409ھ ج1، ص177
  5. ۔ابن رجب الحنبلی ، شرح علل الترمذي، ابن رجب الحنبلی، مكتبۃ المنار،اردن، 1407 ھ، ج2، ص 582
  6. ۔جزائری، طاہر بن صالح، توجيه النظر إلی أصول الاثر، دار الآفاق الجديدة، بيروت، 1400 ھ ج 1، ص434
  7. ۔حاکم، محمد بن عبد اللہ النیسابوری، معرفة علوم الحدیث ، بیروت ، 1497ھ، ص، 119۔
  8. ۔مثال کے لئے ملاحظہ ہو: حاکم، محمد بن عبد اللہ النیسابوری ، المستدرک علی الصحیحین، دار الكتب العلميۃ بیروت، ۱۴۱۱ھ، ج3، ص 53۔
  9. ۔ابن الصلاح، عثمان بن عبد الرحمن ، معرفة انواع علوم الحدیث (المعروف بمقدمة ابن الصلاح)، دار الفكر،بيروت، 1406ھ: ص79
  10. ۔نووی، محیی الدین، التقريب والتيسير لمعرفة سنن البشير النذير في أصول الحديث، دار الكتاب العربي، بيروت، 1405 ھ : ص40
  11. ۔مقد مۃ ابن الصلاح ص،79-82
  12. ۔مستدرك حاكم ج1، ص21
  13. ۔عسقلانی، ابن حجر، النكت على کتاب ابن الصلاح، عمادة البحث العلمي،المدينة المنورة،1404 ھ : ج2، ص 670، 671
  14. ۔سیوطی، جلال الدین، تدریب الروی شرح تقریب النووی، دار طيبۃ ،ج 1،ص 64
  15. ۔سخاوی،شمس الدین، فتح المغيث بشرح الفية الحديث للعراقي، مکتبۃ السنہ ، مصر، 1424ھ، ج 1، ص32۔
  16. ۔النكت على کتاب ابن الصلاح، ج2،ص 654
  17. ۔بیہقی، ابوبکر احمد بن الحسین، الأسماء والصفات، مكتبۃ السوادي، جدة، 1413 ھ، ج2،ص 268 رقم الحديث 832
  18. ۔تدريب الراوي، ج1،ص 269
  19. ۔فتح المغیث، ج 1،ص32۔
  20. ۔عثمانی، شبیر احمد، فتح الملهم بشرح صحیح مسلم، دار احیا ءالتراث العربی، بیروت، ۱۴۲۶ھ، ج1،ص130
  21. مناوی، زین الدین، اليواقيت والدرر في شرح شرح نخبۃ ابن حجر ج1، ص342
  22. ۔الارشاد ،ج1، ص177
  23. ۔التقريب والتيسير، ج1، ص 40
  24. ۔مقدمة ابن الصلاح، ج، 1، ص،79
  25. ۔نزهة النظر ، ص 86
  26. ۔ الأم، ج 7،ص۳۸۱
  27. ۔الارشاد، ج1، ص177
  28. ۔مستدرك حاکم، ج،1، ص،21
  29. ۔اندلسی،ابن عبد البر، الانتقاء في فضائل الأئمة الفقهاء، دار الكتب العلميۃ– بيروت ص 149
  30. ۔ابو یوسف، یعقوب بن ابراھیم ، الرد على سير الأوزاعي، إحياء المعارف النعمانيۃ، مصر ص 24
  31. ۔الرد على سير الأوزاعي ص 31، 32
  32. ۔جصاص، ابو بکر احمد بن علی، الفصول في الاصول ، وزارة الأوقاف الكويتية، 1414ھ، ج3، ص113
  33. ۔ الفصول فی الاصول، ج، 1،ص، 156
  34. ۔جصاص، ابوبکر احمد بن علی ، أحكام القران للجصاص، دار احیا ءالتراث العربی، بیروت، 1405ھ ج، ص 404
  35. ۔مبسوط ج،۳۔ص۸۲
  36. ۔سرخسی، شمس الائمۃ، محمد بن احمد، المبسوط، دار المعرفة – بيروت، ۱۴۱۴ھ، ج۱،ص۴۸
  37. ۔مبسوط ج 1، ص 62، 129، 192، 250
  38. ۔مبسوط، ج23،ص203. ج30،ص161
  39. ۔طحاوی، ابو جعفر ، احمد بن محمد ، شرح معاني الاثار، عالم الكتب1414 ھ، ج4، ص 353
  40. ۔ترکمانی، عبد المجید، دراسات في اصول الحديث على منهج الحنفية، دار ابن کثیر، 1433ھ، ص54
  41. ۔البقرۃ: ۱۹۶
  42. ۔مبسوط، ج3،ص 82
  43. ۔ کاسانی، علاء الدین، ابوبکر بن مسعود، بدائع الصنائع وترتیب الشرائع، دار الكتب العلميۃ، 1406ھ ج۱،ص۲۹۶
  44. ۔ابن امیر الحاج، شمس الدین محمد بن محمد، التقریر والتحبیر، دار الكتب العلميۃ، 1403ھ، ج۲،ص۲۵۰
  45. ۔ مبسوط ج، ص 137۔ اسی موضوع پر دوسری مثال کے لیے دیکھیے: مبسوط ج۲۳،ص۲۰۳
  46. ۔سرخسی، شمس الائمۃ، محمد بن احمد، المبسوط، دار المعرفة – بيروت، ۱۴۱۴ھ، ج۱،ص۶۲