Playstore.png

عقیدہ تناسخ اور عہد الست میں فرق کے حوالے سے امام رازی کے موقف کا جائزہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ الایضاح
عنوان عقیدہ تناسخ اور عہد الست میں فرق کے حوالے سے امام رازی کے موقف کا جائزہ
انگریزی عنوان
Reincarnation and the Covenant of “Alast” (عہدالست) and the Argument of Imam Razi
مصنف عزیز، محمد، عبد الرحمن
جلد 32
شمارہ 1
سال 2016
صفحات 167-178
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
شکاگو 16 عزیز، محمد، عبد الرحمن۔ "عقیدہ تناسخ اور عہد الست میں فرق کے حوالے سے امام رازی کے موقف کا جائزہ۔" الایضاح 32, شمارہ۔ 1 (2016)۔
عصرحاضر کے تقاضوں کے تناظر میں جامعات دینیہ کا قضیہ: عملی تجاویز
طبی میدان عمل میں ضرورت کی بنیاد پر رخصت کا اطلاق
تعلیمی نظام کی اصلاح کے بارے میں امام بخاری کا نظریہ
فلسفہ احکام میراث
ریاست کے اداراتی مقاصد کے تناظر میں نظریہ انفرادیت اور اجتماعیت پسندی
ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا: احوال و خدمات کا تحقیقی مطالعہ
شریعت اسلامی میں رسم و رواج کے ساتھ تعامل کا جائزہ: مختلف اسلامی ادوار کی روشنی میں
تفسیر قرآن میں ام المؤمنین سیدۃ عائشه کا مقام
اشیاء خورد و نوش و ادویہ میں جلاٹین کے استعمال کا طریقہ کار اور اس کا شرعی جائزہ
عقیدہ تناسخ اور عہد الست میں فرق کے حوالے سے امام رازی کے موقف کا جائزہ
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مروجہ پاکستانی ٹریفک قوانین کی پاسداری کی اہمیت
أعلام النثر العربي في شبه القارة الهندية
موقف محمود سامي البارودي ومحمد إقبال من السياسة: دراسة تحليلية وموازنة
المحاسن البلاغية والأدبية في الأحاديث النبوية في كتاب الفرائض
المحكم والمتشابه وموقف المفسر منهما
الجملة المعترضة فى القرآن الكريم: دراسة بلاغية
The Analytical Study of Well Thought-Out Legitimate Pakhtun’s Trends Regarding Marriage Binding Shariah Perspective
Lunar Calendar and Ramadan Effect on Islamic Mutual Funds Performance in Pakistan
Concept of Peace and Harmony in the Buddhism amd Islam: A Comparative Study
Social Media and Cyber-Jihad in Pakistan
Economic Facilities for Non-Muslims in a Muslim Country in the Light of Quran and Sunnah
A Proposed Islamic Microfinance Impact Assessment Methodology
Relationship Between Quality Culture and Organizational Performance With Mediating Effect of Competitive Advantage
Allama Sahabbir Ahmed Uthmani’s Efforts for Islamization in Pakistan
Time Management in Islam
Muslim-Christian Relationship in the Context of Status of Prophet Muhammad SAW

Abstract

Reincarnation is a basic Hindu belief according to which the soul of a person is recreated for second time in different shapes according to their different actions. It is known as the belief of Samsara or reincarnation in Hinduism. If the person who passes away is good, his soul is transferred into a beautiful and nice body like that of birds etc. But if he is an evil person, his soul is transferred into ugly insects and animals etc. According to this belief, the difference between two human beings is due to the difference in their previous action or “karma” that he has committed in his previous birth. Human actions cannot be fruitful in this world and this is why a second birth is needed. This belief is wrong from Shariah perspective and it contradicts the basic Islamic belief of resurrection. Reincarnation assumes that there is no specific day on which actions will be rewarded; rather it is Auagun or Juni Cycle through which a human being deserves positive or negative reward. Imam Razi has refuted this belief through both logical and textual evidences. He has also replied the objections raised against the covenant of “alast”. (الست) According to Shariah, there is a second world beyond this physical for reward or punishment of deeds which is known as the Day of Judgment Doomsday.  On this day, the Scale will be set and human actions will be weighed. Consequently, he will deserve either Paradise or hell. Paradise is an abode of perpetual rest and satisfaction whereas hell is a place of humiliation and degradation.  

تناسخ کے لغوی معنی:

تناسخ کا لغوی معنی ایک چیز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے آتے ہیں ، چنانچہ اس حوالے زبیدی لکھتے ہیں:

النَّسْخ: نَقْلُ الشَّيءِ من مَكانٍ، إِلى مكان، [1]

یعنی نسخ کا مطلب ایک چیز کوایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ہے ۔

تناسخ Samsara) ( کا اصطلاحی مفہوم :

روح انسانی کاایک بدن سے دوسرے بدن کی طرف منتقل ہونے کے عمل کو عربی میں “التناسخ ” جبکہ سنسکرت میں اسے آواگون یعنی ( آنا جانا ) اورہندی میں پونر جنم کہا جاتا ہے ۔ یہ ایک قدیم ہندی عقیدہ ہے جس کی رو سے جب انسان مر جاتا ہے تو اس کی روح کسی اور جسم ( جسم انسانی ،حیوانی یا نباتی ) میں منتقل ہو سابقہ اعمال کے مطابق جو اس نے پہلے کیے ہیں سعادت یا بدبختی کا شکار ہوتا ہے۔ اسی طرح روح اپنے عمل کے حساب سے کئی جسموں کا مکین بن کر راحت و اذیت سے دو چار ہوتا رہتا ہے ۔ ان کے ہاں یہ ایک لا متناہی سلسلہ ہے جو نہ ختم ہونے والا ہے۔

تناسخ کی تاریخ صدیوں پرانی ہے اور ہندوؤں کے بنیادی عقائد میں اس کا شمار ہوتا ہے۔اس عقیدہ کی رو سے روحیں اپنے اعمال کے نتیجہ میں جنم لیتی رہتی ہیں اور اس جنم کے چکّر سے کسی طرح آزاد نہیں ہوپاتیں ۔ اگر کوئی شخص نیک عمل کرتا ہے تو اسے اچھا جنم دیا جاتا ہے اور بد اعمال شخص برے جنم میں ڈالا جاتا ہے ۔ کائنات کی پیدائش ہی سے یہ دور چلا آیا ہے اور اسی طرح جاری رہے گا ۔کسی کو اس سے مفر نہیں ۔ اگر کسی کو اس چکر سے مکتی یعنی نجات ملتی بھی ہے تو محض عارضی طور پر ملتی ہے اور پھر وہ روح آواگوان کے چکر میں ڈال دی جاتی ہے کیونکہ ان کے گمان میں محدود عمل کی غیر محدود جزا نہیں مل سکتی۔[2]

ہندوؤں کے ہاں اس جونی چکر سے نجات حاصل کرنے کے تین مختلف طریقے ہیں ۔چونکہ انسانوں کے اندر صلاحیتیں بھی مختلف ہوتی ہیں تو کوئی بھی شخص اپنے مزاج اور صلاحیت کے اعتبار سے ان میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرکے نجات حاصل کرسکتا ہے ۔

پہلاطریقہ :

کرمامارگ (Path of action) الطریق العملی

کرما سے مراد عمل اور سرگرمی ہے ۔اور مارگ سے مراد راستہ اور راہ ہے ۔یہ پہلا طریقہ ہے جس کے ذریعے انسان اس جونی چکر سے چھٹکارا پاسکتا ہے ۔یہ انسان کے کردار سے وابستہ ومنسلک ہے ۔ اس کا تعلق انسان کے ان افعال سے بھی ہے جو بدن سے سرزد ہوتے ہیں اور ان اعمال کو بھی شامل ہے جو انسانی ذہن سرانجام دیتا ہے ۔ اس طریقے کو اپنا تے ہوئے مختلف اچھے اور نیک اعمال اداکرکے نجات حاصل کی جاسکتی ہے جیسے کہ دیوتاؤں کے لیے قربانیاں کرنا‘ انسانیت کی خدمت وغیرہ ۔اس کی روسے انسان اچھے کام کو اس لئے کرتا ہے کہ وہ درست ہے نہ کہ اس وجہ سے کہ اس میں اس کا کوئی مفاد ہے۔

دوسرا طریقہ:

جنانا مارگ (Path of knowledge) الطريق العلمی:

جناناکے معنی سمجھ اور علم کے ہیں ۔ جو لوگ منطقی استدلال اوراعلیٰ عقلی تجربات کرنے کے عادی ہوتے ہیں وہ اس راستہ کو اپناتے ہیں ۔ صحیح علم حاصل کرنے کے لئے ہندوؤں کے عقیدہ کے تین افکار ویدانتا، سانکھیا اور یوگا کو پڑھناپڑے گا۔اسی طرح اس راہ کا سالک روحانی علوم میں بھی آگے بڑھتا رہتا ہے اور پروردگار سے اپنا تعلق قائم کرنے میں کامیاب ہوتا ہے ۔ہندؤوں کے نزدیک اس علم کو آخری منزل تصور کیاجاتا ہے جس پرپہنچ کر انسان یہ گمان کرتا ہے کہ اس کے اور برہما( خدا)کے درمیان کوئی فرق نہیں رہا۔یہ آزادی کی جانب مختصر مگر تیزترین سفر ہے۔

تیسراطریقہ:

بھگتی مارگ (Path of devotion) الطريق الحوض و الاخلاص :

بھگتی بھی سنسکرت کالفظ ہے جس کے معنی خودکو سپرد اور وقف کردینے کے ہیں جبکہ ہندواصطلاح میں اس سے مراد کسی خاص شخص یادیوتاسے والہانہ عقیدت کااظہار ہے۔یہ ان لوگوں کے لئے ہے جو جذباتی قسم کے ہوں اور اپنے پسند کے خدا یا خداؤں کو پوچتے ہوں ۔اس قسم کی عبادت سے خود غرضی کے خدشات ختم ہوجاتے ہیں ۔

مسلمان مصنفین نے جہاں تناسخ کا ذکر کیا وہاں فیثاغورث کے پیروکاروں سے زیادہ اس کو ہندوؤں کی طرف منسوب کیا کیونکہ ہندو اس عقیدے پر شدت سے کاربند ہیں ۔

علامہ شہرستانی نے ”الملل والنحل “ میں اور صدر المتألهين نے ’’الأسفار العقلية الأربعة“ میں اسے یونانیوں کا جبکہ البیرونی نے اسے ہندؤں کے ساتھ ساتھ سقراط کا عقیدہ بھی بتایا ہے .[3]

ابوالریحان البیرونی نے اپنی کتاب ’’تحقيق ما للهند من مقولة مقبولة في العقل او مرذولة“ میں لکھتے ہیں :” سورۃ اخلاص جس طرح مسلمانوں کے ایمان کا شعار ہے ،تثلیث نصرانیت کی علامت جانی جاتی ہے ، سبت منانا یہودیوں کا عقیدہ ہے ،اسی طرح تناسخ ہندو مذہب کی نمایاں علامت ہے“[4]۔ دوسرے مصنفین کی طرح البیرونی نے بھی اہل تناسخ کی قسمیں ذکر کی ہیں جو درجہ بندی کے اعتبار سے چار بنتی ہیں۔[5]

1۔اہل نسخ:

ان کا اعتقاد ہے کہ مرنے کے بعد انسان کی روح کسی دوسرے انسان میں منتقل ہوتی ہے، اگرمرنے والا انسان اچھا ہوتو اس کی روح نیک انسان کے بدن میں منتقل ہوتی ہے اور اگر برا ہو تو اس کی روح کفار کے بدن میں منتقل ہوتی ہے-

2۔ اہل مسخ:

ان کے عقیدے کے مطابق مرنے والا نیک ہو تو اس کی روح بلبل اورطوطے جیسی پرندوں میں منتقل ہوتی ہے اور اگر مرنے والا برا آدمی ہوتو اس کی روح کتے ،اور سورجیسے برے حیوانات میں منتقل ہوتی ہے-

3۔ اہل فسخ:

ان لوگوں کے مطابق اگر مرنے والا نیک انسان ہو تو اس کی روح مفید نباتات جیسے پھول اور پھلوںمیں منتقل ہوتی ہے اور اگر برا ہو تو اس کی روح تلخ اور بدبودار نباتات جیسےپیاز اور لہسن میں منتقل ہوتی ہے-

4۔ اہل رسخ:

ان کا عقیدہ ہے کہ نیک انسانوں کی روح قیمتی معدنیات ، جیسے سونا چاندی اور جواہرات میں منتقل ہوتی ہےاور برے انسانوں کی روح گھٹیا اور بے کار معدنیات جیسے ٹھییکروں اور سنگریزوں میں منتقل ہوتی ہے[6]

علامہ شہرستانی نے” اصحاب التناسخ “ کے عنوان سے اس عقیدے پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں ” دوسرے معنوں میں تناسخ سے مراد روح الہی کا دنیا کی مخلوق میں حلول کرجا نا اور تقسیم ہوجانا ہے۔اہل تشیع کے انتہا پسند طبقہ بھی تناسخ کاقائل ہے،وہ جزء ِ الہی کے کلی یا جزوی طور پر انسانوں میں حلول کاعقیدہ رکھتے ہیں ۔اس طرح اہل تناسخ نے یہ عقیدہ مجوس میں مزدکیہ ،ہندوؤں میں برہمن اور فلاسفہ میں صائبہ سے لیا ہے.‘‘[7]

دور حاضر کے محقق ڈاکٹر ذاکر نائیک سمسارا کے متعلق لکھتے ہیں کہ ہندووں کے نزدیک اگر کوئی بچہ معذور اور اپاہچ پیدا ہوتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ اپنے کرما یعنی ماضی میں کیے ہوئے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے اس طرح کے حالت سے دوچار ہے۔زندگی میں تما م اعمال بارآور نہیں ہوسکتے ہیں اس لئے ایک اورجنم کی ضرورت ناگزیر ہے ۔ [8]

اس بات کو اپنشد حصہ چہارم سورت آیت نمبر 4 میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ :

’’جس طرح تتلی ایک پھول سے رس حاصل کرکے دوسرے پھول کا رخ کرتی ہے بالکل اسی طرح روح اپنے جسم سے نکل کر ایک نئے جنم میں وجود پذیر ہوتی ہے ‘‘۔[9]

تناسخ کا نظریہ اور قرآن :

قرآن ارواح کا کسی دوسرے شخص ، یا جانداروں کی صورت میں جنم لے کر گزشتہ اعمال کی تلافی کر نے کے نظریہ کو قبول نہیں کرتا ہے بلکہ اسے کھلم کھلا مسترد کر تا ہے ۔ یہ نظریہ اسلام کے مبادیات اور مسلمہ اصولوں سے متصادم ہے ۔یہ عقیدہ بعث بعد الموت ،جزا وسزا اور رسولوں کی جملہ تعلیمات کے برخلاف ہے ۔[10]

قرآن مجید اس سلسلہ میں ارشاد فر ماتا ہے:

حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ ۔ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ۔ [11]

یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت آگئی تو کہنے لگا ،اے میرے پروردگارا! مجھے لوٹا دیں، شاید میں دوسری بار کوئی نیک عمل انجام دوں ۔ ہرگز نہیں یہ ایک (بے بنیاد) بات ہے جو یہ کہہ رہا ہے اور ان کے پیچھے ایک عالم بر زخ ہے جو قیامت کے دن تک قائم رہنے والا ہے-

اہل تناسخ کے ہاں ، قیامت ، حساب وکتاب، بہشت و دوزخ اور آخرت کے ثواب و عذاب کی کوئی حقیقت نہیں ، وه کہتے ہیں کہ تقریباً اکثر لوگ مر نے کے بعد مسلسل دنیا میں دوباره پلٹ کر آتے رہتےہیں اور ہر بار دنیا میں اپنے اعمال کے جزا وسزا پاتے ہیں۔

تناسخ کے قائلین کا بعض قرآنی آیات سے استدلال کی کوشش

پہلا اعتراض : وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِينَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِي السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ[12]

ان آیات سے بھی ہمارے موقف کی تائید ہوتی ہے کہ نافرمانی اور برے اعمال کی بدولت ان کی روحین بندروں میں منتقل ہوگئی تھیں،

جواب:

مذکورہ آیات کے حوالے سے مفسرین کے آرا اگرچہ مختلف ہیں کہ آیا اصحاب سبت حقیقی طور پر بندر ہی بن گئے تھے یا معنوی طور پر بندروں اور خنزیروں کی صفات ان میں آگئے تھے۔بعض علماء کے نزدیک ان کے دل ودماغ مسخ ہوگئے اور بندروں اور خنزیروں کی صفات سے ہم آہنگ ہوگئے تھے۔ سید قطبؒ فرماتے ہیں :

وليس من الضروري أن يستحيلوا قردة بأجسامهم، فقد استحالوا إليها بأرواحهم وأفكارهم، وانطباعات الشعور والتفكير تعكس على الوجوه والملامح سمات تؤثر في السحنة وتلقي ظلها العميق! ومضت هذه الحادثة عبرة رادعة للمخالفين في زمانها وفيما يليه، وموعظة نافعة للمؤمنين في جميع العصور:[13]

اسی طرح وھبہ الزحیلی ؒ بھی اسے مسخ حقیقی کہنے کے لئے تیار نہیں ہیں:

كُونُوا قِرَدَةً ليس الأمر على حقيقته، وإنما أريد به معنى الإهانة والتحقير لِما بَيْنَ يَدَيْها وَما خَلْفَها كناية عمن أتى قبلها أو بعدها من الخلائق[14]

بہرحال جمہور کے ہاں یہ مسخ حقیقی تھا یعنی کہ وہ بندر بنادیے گئے تھے ۔چنانچہ امام قرطبی فرماتے ہیں :

وظاهر القرآن أنهم مسخوا قردة على الحقيقة، وعلى ذلك جمهور المفسرين- وهو الصحيح[15]

بنی اسرائیل کے ان نافرمانوں اور ظالموں کے ساتھ یہ سزا اسی وقت اور اسی لمحے خاص تھاجنہوں نے تعدی کرکے حکم خداوندی کو پامال کیا ۔ان آیات میں کوئی عموم نہیں ہے کہ تمام نافرمانوں حتی کہ کافروں کی روح تک کو اللہ تعالی حیوانات میں منتقل اور ان کے شکلوں کو مسخ کرے گا۔

کفر ومعاصی ہی کواگر علت قرار دے کر بطور سزا ارواح کو بہائم میں حلول کےلئے قاعدہ قرار دیا جائے تو آج کل کفر عصیان اور بے راہ روی کا دور دورہ ہے تو چاہیے یہ تھا کہ سب نافرمانوں کی شکلیں مسخ ہو کرجانوروں کی طرح بن جائیں یا ان کے ارواح جانوروں میں منتقل ہوں ۔لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔پتہ چلا کہ یہ عذاب ان نافرمانوں کے ساتھ مخصوص تھا۔

دوسرا اعتراض:

” كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ [16]

اس آیتِ کریمہ میں بھی پے درپے موت وحیات کا تذکرہ ہے جس سے ہمارے موقف کی تائید ہوتی ہے ۔

جواب: اس ایت کریم سے تناسخ پر استدلال کم فہمی پر مبنی ہے کیونکہ یہاں وجود سے پہلے عدم کا تذکرہ ہے جس کو موت سے تعبیر کیا ،اس کے بعد وجود کو حیات کہا جو اس کے بعد وقوع پذیر ہوا ،پھر اس کے بعد زندگی کا اختتام یعنی موت کا ورود ہوتا ہے ،اخر میں قبروں سے اٹھائے جانے کا ذکر ہے جو کہ ابدی حیات ہے، پھرتمام انسانوں کا اللہ تعالی کے ہاں محاسبہ کا ذکر ہے ۔یہاں تنا سخ کہاں سے آیا ؟۔

عہد الست :

جب حق سبحانہ وتعالی نے مٹی سے انسان کا پتلا بنایا، پھر اس میں اپنی روح پھونک کر حیات دی ۔ اس کے بعد عالم ارواح[17] میں انسان کی پشت سے پیدا ہونے والے تمام انسانوں کی روحوں کو حاضر کیا، ان سے اپنا تعارف کرایا، دنیا کے بارے میں اپنا بنایا ہوا نقشہ بتایا کہ وہاں ان کی سکونت عارضی ہے ،ایک محدود وقت گزار کر پھر رب کے حضور حاضر ہونا ہے ۔

ارشاد ربانی ہے : وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ (172) أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ (173) وَكَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ وَلَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (174)

’’اور جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی پیٹھوں سے ان کی اولاد نکالی توان سے خود ان کے مقابلے میں اقرار کرالیا یعنی ان سے پوچھا کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ۔وہ کہنے لگے! کیوں نہیں ہم گواہ ہیں کہ تو ہمارا پروردگار ہے یہ اقرار اس لئے کرایا تھا کہ قیامت کے دن کہیں یوں نہ کہنے لگوکہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی ‘‘”یا یہ نہ کہوکہ شرک تو پہلے ہمارے بڑوں نے کیا تھا اور ہم تو ان کی اولاد تھے جو ان کے بعد پیدا ہوئے تو کیا جو کام اہل باطل کرتے رہے اس کے بدلے میں تو ہمیں ہلا ک کرتا ہے ‘‘

اسی مفہوم کی ایک روایت ہے جو ابن عباس سے مروی ہے :

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَخَذَ اللهُ الْمِيثَاقَ مِنْ ظَهْرِ آدَمَ بِنَعْمَانَ - يَعْنِي عَرَفَةَ - فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِهِ كُلَّ ذُرِّيَّةٍ ذَرَأَهَا، فَنَثَرَهُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ كَالذَّرِّ، ثُمَّ كَلَّمَهُمْ قِبَلًا "قَالَ: أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ ۔ [18]

عقیدہ تناسخ کا عقلی رو سے ابطال :

عقیدہ تناسخ کے بطلان جہاں قرآن وسنت کے مسلمہ اصولوں سے ہوتی ہے وہاں بہت سارےعقلی دلائل بھی اس کی تردید اور بطلان پر شاہد ہیں ۔ان میں سے ایک دلیل گزشتہ زندگی اور گذشتہ یادوں کو مطلق فراموش کرناہے۔

اس بات کو اگر تسلیم بھی کیا جائے کہ ناقص یا کامل روحیں دوبارہ کسی اور جسم میں بھیج دی جاتی ہوں تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ اپنے گذشتہ تمام واقعات اور حوادث کو بھی بالکل فراموش کردیں۔[19]

گذشتہ واقعات یا گذشتہ زندگی کی ایک معمولی جھلک اپنے ذہن میں نہ لاسکےاور وہ سب نسیا منسیا ہو جائیں اور دماغ کے نہاں خانے میں کوئی گزری ہوئی حیات کی کوئی تصویر قائم ہی نہ رہ سکے ۔ایک شخص جس نے چالیس پچاس سال اس دنیا میں گزاری ہو، تعلیم حاصل کی ہو، بے شمار مہارتوں اور ہنر کا مالک رہاہو ، ہزاروں تلخ و شیرین حوادث سے پالا پڑا ہو، سینکڑوں دوست و دشمن سے ملا ہو لیکن پھر بھی اسے اپنی گذشتہ زندگی کا ایک لمحہ بھی یا د نہ ہو، روح کے لئے ایسا نسیان غیر ممکن ہے ۔

حالانکہ قرآن مجید اور عقلی دلائل کی بنیاد پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ روز قیامت روحیں اپنے مخصوص جسموں کے ساتھ محشر میں حاضر ہوں گے ۔انہیں سب کچھ یاد ہوگا جو کچھ کیا ہے وہ یاد ہوگا ، یہاں تک کہ وہ اپنے ماں باپ ،عزیز واقارب اور دوست دشمن کو دیکھیں گے توانہیں پہچان بھی لیں گے ۔

اس صورت میں کیسے ممکن ہے کہ اس جہان میں بازگشت اور روز قیامت میں بازگشت میں اتنا فاصلہ ہو اور ایک انسان اپنی نئی زندگی میں کسی بھی قسم کی یاد سے محروم ہو اور اسے کچھ بھی یا د نہ ہو اور اگر ایسا فرض ممکن ہوجائے تو پھر بھی یہ ایک بے فائدہ عمل ہے اس لئے کہ ا س عقیدہ کے حاملین کا کہنا ہے کہ نئی زندگی ،تکامل یا معصیت کی سزا دینے کے لئے ہوتی ہے ۔لیکن جسے کچھ بھی یا د نہ ہو اس کے لئے تکامل اور سزا بے معنی ہے، وہ نہ تو اپنی گذشتہ خطاؤں کو جانتا ہے کہ جسے یاد کر کے وہ عبرت لے اور نہ ہی گذشتہ زندگی کی ناکامیوں اور محرومیوں کو جانتا ہے کہ جس کی وجہ سے عبرت حاصل کرے اور نہ ہی گذشتہ ناکامیوں اور محرومیوں کو جانتا ہے کہ جس کے بعد اپنی نئی زندگی میں ملنے والی کامیابیوں سے مسرور ہو کہ یہ سب کچھ اس کے حافظہ سے مربوط ہے ، جب اس کے حافظہ میں ہی کچھ نہیں ہے تو عبرت و سرور کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہوگا ۔

’’عہد الست‘‘ پر ایک اعتراض :

اہل تناسخ کی طرف سے ایک اعتراض یہ ہوتا ہے کہ ”عہد الست“ میں بھی آدم علیہ السلام اور قیامت تک آنے والی ان کی تمام ذریت جب اللہ تعالی کے حضور اللہ تعالی کی ربوبیت اور اپنی عبودیت کا اقرار کررہے تھے تو اس وقت ان کے ارواح اس وقت اور جسموں میں تھے ، اب ہماری ارواح موجودہ جسموں میں ہیں ۔کیا ہمیں اس دن کے اور اس بدن کے حالات یاد ہیں ؟۔ اگر نہیں تو عہد الست اور اس میں لیا گیا وعدہ بھی غلط ہے کیونکہ وہ بھی ہمیں یاد نہیں ۔سابقہ بدن کے حالات وواقعات سے مطلقا فراموشی اگر تناسخ کے عقیدہ ابطال کی دلیل ہے تو یہ بات ”عہد الست “ پر بھی صادق آتا ہے ۔ اس رو سے اسے بھی باطل ہونا چاہیے حالانکہ ”عہد الست “ قرآن وسنت کے ٹھوس دلائل سے ثابت ہے اور اسے آپ حق اور سچ مانتے ہیں اور عقلی اعتبار بھی اسے جائز اور درست مانتے ہیں ۔

امام رازی ؒ کا جواب:

امام رازیؒ فرماتے ہیں کہ ان دو باتوں میں بڑا فرق ہے۔ اس لئے کہ جب ہم عقیدہ تناسخ کی رو سے ایک بدن کے فنا ہوجانے کے بعد دوسرے بدن میں منتقل ہوئے تو گزشتہ زندگی میں ہم اس بدن میں کئی سال اور لمبی مدت رہے ، اور عادۃ اس طرح کے چیزوں کا بھول جانا ناممکن ہے ۔ہونا تو یہ چاہیے کہ اس طویل حیات میں کوئی نہ کوئی بات یا واقعہ ہمیں یاد ہوتا ،حالانکہ ہمیں اس میں سے کچھ بھی یاد نہیں ۔اور ذریت آدم سے وعدہ لینے کا واقعہ تو آنا فانا اوربہت جلدی اور تیزی کے ساتھ ہوا اور اسطرح کے چیزوں کو بھول جانا بعید نہیں ہے ۔[20]

اس لئے کہ جب انسان کسی حالت یا عمل پر کئی سال گزارے تو ناممکن ہے کہ اسے بھلا دے،کیونکہ گزرتا ہوا ہر ایک لمحہ نئے نئے نقوش ان کے ذہن میں ڈالتا ہے ،اسی طرح اس کے عقل وشعور میں وہ حرکات ،وہ باتیں اور وہ حادثات ان مٹ نقوش چھوڑ جاتی ہیں ۔اگر کسی کام کے ساتھ ممارست ایک لمحہ کے لئے ہو تو وہ اس کے حافظہ میں دھندلائی ہوئی تصویر کی صورت میں موجود ہوتی ہے ،پھر واضح اور صاف تصویروں کی موجودگی میں وہ پس منظر میں چلا جاتا ہے پھر وہ اسے بھول جاتا ہے ۔اس طرح ان دونوں کے درمیاں مابہ الفرق واضح ہوگیا ۔[21]

نتائج:

1۔تناسخ یا سمسارا (samsara) ہندؤں کا بنیادی اور اہم عقیدہ ہے ۔

2۔اس عقیدے کی رو سے جزا وسزا کے لئے کوئی الگ دن نہیں ہے ۔انسان اپنے اعمال کی پاداش میں اسی دنیا میں ”جونی چکر “کے ذریعے دوسرے جنم میں پاتا ہے ۔ اچھے اعمال پر اچھا جنم ملتا ہے جبکہ برے اعمال کی بدولت برا جنم ملتا ہے۔

3۔یہ اسلام کے بنیادی عقائد خصوصا بعث بعد الموت سے متصادم ہے ۔اسلام میں دنیا دارالعمل ہے ۔ جزا اور سزا کے لئے ایک الگ جہاں ہے جسے قیامت کہا جاتا ہے ۔ عمدہ اعمال کا بدلہ جنت جبکہ بے اعمال کا بدلہ جہنم ہے۔

4۔عقل کی میزان پر پرکھنے سے بھی تناسخ (samsara)کا فلسفہ غلط ہے اور مشاہدات کے بھی منافی ہے ۔

5۔’’عہد الست‘‘ اور ’’عقیدہ تناسخ‘‘ کے عقیدے میں فرق ہے بلکہ دونوں میں کوئی نسبت ہی نہیں۔ عقیدہ الست “ کو بنیاد بنا کر تناسخ کو معقول ثابت کرنا کسی طرح درست نہیں ۔

6۔قطعی نصوص تناسخ کی نفی کرتے ہیں ،قرآن کی کسی بھی آیت سے تناسخ کا اثبات نہیں ہوتا بلکہ اس معاملے میں قرآن نے صراحتا اس کی نفی کی ہے ۔

حوالہ جات

  1. الزبیدی ،ابوالفیض محمد بن محمد بن عبدالرزاق الحسینی ، تاج العروس من جواہر القاموس، دارالہدایۃ، 7/356
  2. الشہرستانی ،ابوالفتح محمد بن عبدالکریم بن ابی بکر احمد،الملل والنحل ،ج3/100
  3. الشیرازی،صدرالمتالھین،محمد بن ابراہیم القوامی،الاسفارالعقیلیہ الاربعۃ، دار احیاء التراث العربی، بیروت، ط 1401ھ ،ج8/335
  4. ۴البیرونی ،ابوالریحان ،محمد بن احمد الخوارزمی ، تحقیق ما للھندمن مقولۃ مقبولۃ فی العقل او مرزولۃ ،عالم الکتب بیروت،ط1413ھ،ص47
  5. ایضاً ص48
  6. ایضاً ص49:مزید دیکھئے :الشہرستانی ،ابوالفتح محمد بن عبدالکریم بن ابی بکر احمد،الملل والنحل ،ج1/175
  7. الشہرستانی ،ابوالفتح محمد بن عبدالکریم بن ابی بکر احمد،الملل والنحل ،ج2/113
  8. ڈاکٹر ذاکر عبدالکریم نائیک ،اسلام اور ہندومت،زبیر پبلشرز اردو بازار لاہور،ص56۔57
  9. ایضاً ص56۔57
  10. ابن قیم ،محمد بن ابی بکر بن ایوب بن سعد شمس الدین الجوزیۃ ،الروح فی الکلام علی الارواح الاموات والاحیاء بالدلائل من الکتاب والسنۃ ،ص 144،دارالکتب العلمیۃ بیروت،
  11. المومنون 99/100
  12. البقرۃ /65
  13. سید قطب،ابراھیم حسین الشاربی،فی ظلال القرآن ج1/77،دارالشروق بیروت القاہرہ،ط 1412ھ
  14. الزحیلی،د وھبہ بن مصفطی،تفسیر منیر، ج1/77 دارالفکر المعاصر بیروت،ط 1418ھ
  15. الالوسی، شهاب الدین محمود بن عبدالله الحسینی،روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی ،ج1/283 دارالکتب العلمیة بیروت
  16. البقرۃ /18
  17. الفریابی،ابو بکر جعفر بن محمد بن الحسن الفستفاض ، کتاب القدر ،ص63،اضواء السلف ،ط اولی 1418، علاؤالدین ،ابن ابو العز،صدرالدین محمد بن علی بن محمد الحنفی الاذرعی الصالحی الدمشقی ، شرح العقیدۃ الطحاویۃ ،ص 210،دارالسلام دار السلام للطباعۃ والنشر والتوزیع والترجمہ ،ط المصریۃ الاولی 1426ھ
  18. الشیبانی ، ،ابو عبداللہ احمد بن محمد بن حنبل بن ہلال ،) مسند الامام احمد بن حنبل ، ج ۴/۲۶۷ ،موسسہ الرسالۃ بیروت ،ط الاولی ۱۴۲۱ھ ۲۰۰۱م۔
  19. الرازي، ابو عبداللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التمیمی الرازی الملقب بفخرالدین خطیب الری ، معالم اصول الدین ،دارالکتب العربی لبنان،،ص119
  20. الرازي، ابو عبداللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التمیمی الرازی الملقب بفخرالدین خطیب الری ، مفاتیح الغیب ۔التفسیر الکبیر ، داراحیاء التراث العربی ،بیروت،ط الثالثہ ،1420 ھ،ج4/152
  21. ایضاً ص153