فقہی اختلافات کے مابین امام شعرانی اور شاہ ولی اللہ کے اسالیب تطبیق

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ الایضاح
عنوان فقہی اختلافات کے مابین امام شعرانی اور شاہ ولی اللہ کے اسالیب تطبیق
انگریزی عنوان
The Difference of Interpretation of Fiqh Between Imam Sha’rani (Ra) and Shah Waliullah (Ra)
مصنف احمد، سعید، محمد اعجاز
جلد 35
شمارہ 2
سال 2017
صفحات 149-170
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
شکاگو 16 احمد، سعید، محمد اعجاز۔ "فقہی اختلافات کے مابین امام شعرانی اور شاہ ولی اللہ کے اسالیب تطبیق۔" الایضاح 35, شمارہ۔ 2 (2017)۔
جدید قانونی تصورات پر مذہب اور اخلاق کا اثر: مغربی اور اسلامی تناظر میں ایک تقابلی و تنقیدی جائزہ
معاشرتی امن و امان میں پختون روایتی مصالحت اور تحکیم کا کردار: ایک تحقیقی مطالعہ
انسانی دودھ کی خرید وفروخت اور رضاعت کے مسائل
مسائل میراث حل کرنے کے قدیم اور جدید حسابی طریقوں کا تقابلی جائزہ
عرب عہد جاہلیت میں ’’طلاق‘‘ کا تصور: تحقیقی جائزہ
مروجہ جاگیردارانہ نظام کا تاریخی ارتقاء اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تقابلی جائزہ
یاسا کا تعارف اور ناقدانہ جائزہ
فقہی اختلافات کے مابین امام شعرانی اور شاہ ولی اللہ کے اسالیب تطبیق
قرائن الترجیح العامة بين الروايات المختلفة المعلة مع الأمثلة التطبيقية من كتاب العلل الواردة في الأحاديث النبوية
أهمية المنهج التطبيقي في تدريس الحديث النبوي وعلومه
ابتكارات العلامة الزمخشري في علم المعاني خلال أسلوب السؤال والجواب في تفسيره الكشاف
الروائع البلاغية للتذييل في النثر، والشعر
أوزان شعر محمود سامي البارودي وموسيقاه: دراسة تحليلية إحصائية
Antecedents of “Quality of Work” in Islamic Perspective Through Mediating Effect of Perceived Job Performance
Syed Ali Tarmizi and Akhun Darwaiza: Mughal Agents or Popular Saints
An Analysis of Prisons’ Staff Role in the Reintegration of the Prisoners
Spirituality and Psychological Well-Being Among Muslims and Christians Adolescents and Young Adults
Quran and War Media: Towards a More Constructed Approach to Conflict Reporting
Higher Education for Women in Peshawar: Barriers and Issues
Development of Kabul under Mughals 1504-1738 AD
The Status of Medical Manuscripts by Muslim Scientists at Islamia College Peshawar Library

Abstract

In the Islamic Sharia there are two types of texts, as for the first one, there is no need for any interpretations. For instance: Tauhid (unity of Allah), while few interpretations have modiefied with the changing circumstances. The expertises of Islamic jurists highlight the interpretations of the text according to prevailing social and political environment which can create harmony between Islamic Sharia and importunity of nature. Imam Sharani and Shah Wali Ullah are those personalities who evaluated the intellectual efforts of Islamic jurists and describe their diligencial and margenial secondary level differences. They created a road of conformity between their minor level marginal differences which are legitimate. Imam Sharani and Shah Wali Ullah‘s methodologies of uniformity represent the facts that differences in the approaches of jurists, which are considered as segregation in the reality that is benevolence for Muslim Ummah. Their methodologies of uniformity are not only practical but also very useful in the context of global village. In this age ethical, social, and family problems can be solved through the method of uniformity. For the solution of issues like intellectual extremism, prejudice and terrorism, Imam Sharani and Shah Wali Ullah‘s methodologies of uniformity are beaconhouse.

تمہید:

شریعت اسلامیہ کی نصوص دو طرح کی ہیں کچھ نصوص توکسی تعبیرکی محتاج نہیں،ہردورمیں ہم اُسی تعبیرکے پابندہیں جو رسول اللہ ﷺ نے کی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کر آج تک تما م مسلمان اُسی تعبیر پر عمل پیراہیں،جبکہ کچھ نصوص ایسی بھی ہیں جن کی تعبیرہرزمانہ کے لحاظ سے مختلف ہوسکتی ہے۔شریعت اسلامیہ کے ماہرفقہا ءزمانہ کے حالات کوسامنے رکھ کر نئی تعبیرکرسکتے ہیں۔انہی نصوص کی نئی تعبیروتشریح میں اختلاف رونما ہوتاہےجوفطرت کے تقاضوں سے ہم آہنگ بھی ہے اورامت مسلمہ کے لیے وسعت ورحمت کا پیغام بھی ۔

"امام عبدالوہاب شعرانی ؒؒ اور شاہ ولی اللہ ؒ ہر دو شخصیات نے اپنے عہد کے تقاضوں کے مطابق ائمہ فقہ کے مقام و مرتبہ کے تعین و اثبات کے ساتھ ان کے درمیان پائے جانے والے اجتہادی اور فقہی و فروعی اختلافات کو نہ صرف محمود و مشروع قرار دیا بلکہ ان کے مابین تطبیق و توفيق دے کر باہمی فروعی اختلافات کو رفع بھی کیا۔ ذیل میں دونوں شخصیات کے اسالیب اورمناہج تطبیق کا مختصر تذکرہ کیا جا رہا ہے۔"

امام عبدالوہاب شعرانی ؒ کا اُسلوبِ تطبیق:

امام عبدالوہاب شعرانی ؒ نے نہ صرف ائمہ فقہ کی جلالتِ علمی، ورع و تقویٰ اور اخلاص و للہیت کو واضح کیا ہےبلکہ اُن کے مابین ممکنہ اختلافات کی لطیف توجیہات بھی کی ہیں کیونکہ اُن کے نزدیک ائمہ فقہ کے مابین اختلاف کا ماخذ و منشا قرآن و سنت اور اقوالِ صحابہؓ کی مختلف توجیہات ہیں جو اپنی اپنی جگہ مبنی برحق ہیں۔ امام عبدالوہاب شعرانی ؒنے اپنی دیگر تصانیف میں بالعموم اور ’’المیزان الکبری’’ میں بالخصوص اپنا نظریہ اور اُسلوبِ تطبیق پیش کیا ہے جو عقل و نقل کے معیار پر پورا اُترتا ہے۔ آپ نے ’’المیزان الکبری’’ کی دونوں جلدوں میں "کتاب الطهارة" سے لے کر "كتاب أمهات الأولاد" تک کے مختلف فيہا مسائل کے مابین تطبیق و توفيق دے کر عملی راہنمائی بھی کی ہے۔ آپ نہ صرف اقوالِ صحابہ کے مابین تطبیق و توافق پیدا کرتے ہیں بلکہ احادیثِ مختلفہ کی حکمت افروز اور متاثر کن توجیہات بھی کرتے ہیں۔ چنانچہ احادیثِ مختلفہ کے مابین تطبیق سے پہلے اپنا نقطۂ نظر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"ولنشرع في الجمع بین الأحادیث الشریفة تنزیلها علی مرتبتي الشریعة المطهرة من تخفيف وتشدید عملاً بقول الإمام الشافعي وغیره إن إعمال الحدیثین بحملهما علی حالین أولی من إلغاء أحدهما"[1]

”اب ہم مقصود کو شروع کرتے ہیں۔ پہلے ہم احادیث کو باہم جمع کرکے اور ان کو شریعتِ مطہرہ کے دونوں مرتبوں (تشدید و تخفيف) کی طرف لوٹا کر دکھلاتے ہیں تاکہ امام شافعیؒ کے اس قول پر عمل ہوجائے کہ دو مختلف حدیثوں پر اس طرح عمل کرنا کہ دونوں کو مختلف احوال پر محمول کیا جائے، اس سے بہتر ہے کہ ان دونوں میں سے ایک کو لغو قرار دیا جائے۔“

ازالۂ شبہ:

امام شعرانی ؒ ”المیزان الکبری“ کی تصنیف کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ طلبہ نے متعدد بار درد مندانہ استدعا کی کہ جب ہم جملہ ائمہ مجتہدین کے برسر ہدایت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو یہ دعویٰ ہمارے قلبی اعتقاد کے مطابق کیوں نہیں ہوتا؟ امام شعرانی فرماتے ہیں، تب میں نے شریعتِ مطہرہ کے تمام دلائل اور ائمہ مجتہدین کے جملہ اقوال میں جب امعانِ نظر سے دیکھا تو انھیں دو مرتبوں، تشدید اور تخفيف سے باہر نہ پایا، درجۂ تشدید اقویاء (ایمان اور جسم کے اعتبار سے قوی) کے لیے اور درجۂ تخفيف ضعفاء (ایمان اور جسم کے اعتبار سے کمزور) کے لیے۔ کیا ایسے بھی احکام شرع میں موجود ہیں، جن میں قوی و ضعیف، دونوں کو شرع نے اختیار دیا ہو کہ جس درجہ پر بھی عمل پیرا ہونا چاہیں، ہوجائیں؟ اس شبہ کا جواب دیتے ہوئے امام شعرانی ؒلکھتے ہیں:

"لكن ینبغي استثناء ما ورد من الأحكام بحكم التخییر فإن للقوي أن ینزل إلی مرتبة الرخصة والتخفيف مع القدرة علی فعل الأشد، ولا تكون المرتبتان المذكورتان في المیزان فيه علی الترتیب الوجوبي وذلك كت خییر المتوضیء إذا كان لابس الخف بین نزعه و غسل الرجلین وبین مسحه بلا نزع، مع أن إحدى المرتبتین أفضل من الأخری كما تری، فإن غسل الرجلین أفضل إلا لمن نفرت نفسه من المسح مع علمه بصحة الأحادیث فيه فإن المسح له أفضل، علی أنه لقائل أن یقول إن المرتبین في حق هذا الشخص أیضاً علی الترتیب الوجوبی بمعنی أنه لو أراد أن یعبد الله تعالی بالأفضل كان الواجب علیه في الإتیان بالأفضل ارتكاب العزیمة، وهو إما الغسل بالنظر إلی حال غالب الناس و إما المسح بالنظر إلی ذلك الفرد النادر الذی نفرت نفسه من فعل السنة لا سیما وقولنا أفضل غیر مناف للوجوب كما تقول لمن تنصحه: علیك یا أخي برضا الله تعالی فإنه أولی لك من سخطه، و كذلك ینبغي أن یستثني من وجوب الترتیب في مرتبتي المیزان ما إذا ثبت عن الشارع فعل أمرین معاً في وقتین من غیر ثبوت نسخ لأحدهما كمسح جمیع الرأس في وقت ومسح بعضه في وقت آخر، وكموالاة الوضوء تارة وعدم الموالاة فيه تارة أخری ونحو ذلك، فمثل هذا لا یجب فيه تقدیم مسح جمیع الرأس والموالاة علی مسح بعضه وعدم الموالاة إلا إذا أراد المكلف التقرب إلی الله تعالی بالأولی فقط وقس علی ذلك نظائره۔"[2]

”لیکن اس کلیہ سے وہ احکام مستثنیٰ ہیں جن میں شرع نے اختیار دیا ہے کیونکہ اس قسم کے احکام میں قوی کے لیے جائز ہے کہ وہ رخصت کو اپناتے ہوئے تخفيف پر عمل پیرا ہو باوجودیکہ وہ عزیمت و تشدید پر عمل کرنے کی قدرت رکھتا ہو اور اس قسم کے احکام میں یہ کتاب، میزان کے دونوں درجوں میں ترتیب کو واجب قرار نہیں دے گی مثلاً وضو کرنے والے کو جب وہ موزے پہنے ہوئے ہو، اختیار ہے کہ چاہے ان موزوں پر مسح کرے یا ان کو اُتار کر پاؤں دھوئے اگرچہ ان دونوں مرتبوں میں ایک مرتبہ (مسح کرنے کی بجائے پاؤں دھونا) افضل ہے مگر اُس شخص کے لیے جو صحیح احادیث موجود ہونے کے باوجود بھی مسح سے نفرت کرتا ہو، تو اُس کے حق میں مسح کرنا افضل ہوگا۔ اگر اس شخص کے متعلق کوئی کہے کہ اُس کو استثناء دینے کی ضرورت نہیں بلکہ اس میں بھی ترتیب کا لحاظ واجب ہے اس معنی میں کہ اگر یہ شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت بطریق افضل کرنا چاہے تو اُس کے لیے عزیمت کی بجا آوری لازم ہے اور یہ یا تو پاؤں کا دھونا ہے جیسا کہ اکثر لوگوں کا معمول ہے یا مسح کرنا ہے اور یہ اُس شخص کے ساتھ خاص ہے جو عالم ہونے کے باوجود بھی سنت فعل کی ادائیگی سے متنفر ہو اور ہمارا اس کو افضل کہنا، اس کے وجوب کے منافي نہیں ہے اور اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے تم کسی کو نصیحت کرتے ہوئے کہو کہ اللہ کی رضا کو لازم پکڑو کیونکہ اُس کی رضا، اُس کی ناراضگی سے بہتر ہے (حالانکہ اُسے راضی رکھنا واجب ہے۔)

اسی طرح اس کلیہ سے وہ دو اُمور بھی مستثنیٰ ہیں جن کا ثبوت دو مختلف اوقات میں ہو اور اُن میں سے کسی ایک کا منسوخ ہونا بھی ثابت نہ ہو جیسے رسول اللہﷺ کا بعض اوقات تمام سر مبارک کا مسح کرنا اور بعض میں سر مبارک کے کچھ حصہ کا۔ اسی طرح کبھی پے در پے اعضا کا دھونا اور کبھی نہ دھونا مگر اس صورت میں جب بندہ تقرب الی اللہ کا ارادہ رکھتا ہو اور اس پر اس کے باقی نظائر کو قیاس کرلو۔"

عزیمت کی بجائے رخصت پر عمل کرنا— کب پسندیدہ؟

امام شعرانی ؒنے یہ بھی واضح کیا ہے کہ بعض اوقات عزیمت کی بجائے رخصت پر عمل کرنا افضل ہوتا ہے جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے:

((لیس من البر الصیام في السفر))[3]

"سفر میں روزہ رکھنا بھلائی کی بات نہیں ہے۔"

تو مسافر کے لیے اولیٰ یہ ہے کہ وہ سفر میں روزہ نہ رکھے اور ویسے بھی ہم شارع ؑ کے تابع ہیں۔ خود صاحب شریعت نہیں ہیں۔ شارع ؑکے طریق سے ہٹ کر قربِ باری تعالیٰ حاصل کرنا جائز نہیں ہے۔ نیز رخصتوں پر اُس وقت عمل کرو جب اُن پر عمل کرنے کی شرطیں موجود ہوں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو یہ امر پسندیدہ ہے کہ اُس کی رخصتوں پر عمل کیا جائے جس طرح وُہ اپنی عزیمتوں پر عمل کرانا پسند فرماتا ہے۔[4]

رخصت و عزیمت میں سے صرف ایک پر عمل:

"فإن قال قائل: فمن أین جعلتم كلام المجتهدین من جملة الشریعة مع أن الشارع لم یصرّح بما استنبطوه؟ فالجواب أنه یجب حملهم علی أنهم علموا ذلك الوجوب أو التحریم من قرائن الأدلة أو علموا أنه مراد الشارع من طریق كشفهم لا بدّ لهم من أحد هذین الطریقین وقد یجتمعان عند بعض المجتهدین۔ فإن قال قائل: فما تقولون فيما ورد فرداً من الأحادیث والأقوال؟ فالجواب مثل ذلك لا مقابل له بل هو شرع مجمع علیه فلا یأتی فيه مرتبتا المیزان وذلك كالحدیث الذی نسخ مقابله أو كالقول الذی رجع عنه المجتهد أو أجمع العلماء علی خلافه، فلیس فيما ذكر إلا مرتبة واحدة لجمیع المكلفين لعدم وجود مشقة علی أحد في فعله ترجح علی مشقة تركه خلاف ما فيه المشقة المذكورة فإنه یجیء فيه التخفيف والتشدید كالأمر بالمعروف والنهی عن المنكر مثلاً فإنه ورد في كل منهما التخفيف والتشدید، فالتشدید كونه عند بعضهم لا یسقط عن المكلف بخوفه علی نفسه أو ماله، والتخفيف سقوطه عنه بخوفه المذكور عند آخرین، فالأوّل في حق الأقویاء في الدین كالعلماء والصالحین، والثاني في حق الضعفاء من العوام في الإیمان والیقین۔"[5]

”اگرکوئی سوال کرے کہ اس حدیث یا قول کے بارے میں کیا کہو گے جو ایک ہی واقع ہوا ہو تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے قول یا حدیث کا چونکہ کوئی مقابل نہیں ہے۔ اس وجہ سے اس میں میزان کے دو مرتبے جاری نہ ہوں گے بلکہ وہ امر متفق علیہ سمجھا جائے گا۔ اور اس کی مثال:

ا- وہ حدیث ہے جس کا مقابل منسوخ ہو گیا ہو۔

ب- یا وہ قول جس سے مجتہد نے رجوع کر لیا ہو۔

ج- یا اس کے خلاف پر علماء کا اجماع ہو گیا ہو۔

تو ایسی مثالوں میں تمام مکلفين کے لیے ایک ہی مرتبہ ہو گا کیونکہ ان کی بجا آوری کے وقت کسی مکلف پر ایسی مشقت نہیں ہوتی جس کو ان کے ترک کرنے کی مشقت پر ترجیح ہو۔ برخلاف ان احکام کے کہ جن میں ایسی مشقت پائی جاتی ہے تو ان کے اندر دونوں مرتبے جاری ہوں گے جیسے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کہ ان میں سے ہر ایک کے اندر دونوں مرتبے جاری ہوتے ہیں۔ ان میں عزیمت تو یہ ہے کہ یہ دونوں کبھی ساقط نہیں ہوتے، چاہے جان اور مال کا خوف بھی کیوں نہ ہو اور رخصت یہ ہے کہ بعض ائمہ کے نزدیک جان اور مال کے خوف کے وقت یہ ساقط ہو جاتے ہیں۔ ان میں عزیمت قوی لوگوں کے لیے ہے جیسے علماء اور صالحین اور رخصت عوام کے واسطے ہے جو ایمان اور یقین میں کمزور ہوں.

امام شعرانی ؒنے یہ بھی فرمایا ہے کہ میزان کے دونوں مرتبے قیاس اور استنباط احکام میں بھی جاری ہوتے ہیں۔[6]

اگر صرف ایک درجۂ تشدید یا تخفيف ہوتا تو؟

امام شعرانی ؒ اس امر کی وضاحت، (اگر احکامِ شرع میں صرف ایک ہی درجہ تشدید یا تخفيف ہوتا)، کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"فعلم أن الشریعة لو كانت جاءت علی إحدی مرتبتی المیزان فقط، لكان فيها حرج شدید علی الأمة في قسم التشدید، ولم یظهر للدین شعار في قسم التخفيف، وكان كل من قلد إماماً في مسألة قال فيها بالتشدید لا یجوز العمل بقول غیره في مضایق الأحوال والضرورات، فكانت المشقة تعظم علی الأمة بذلك، فالحمد لله الذي جاءت شریعة نبینا محمد صلی الله علیه وسلم علی أكمل حال بحكم الاعتدال، فلا یوجد فيها شيء فيه مشقة علی شخص إلا ویوجد فيها شيء آخر فيه التخفيف علیه إما حدیث أو أثر أو قول إمام آخر أو قول في مذهب ذلك المشدد مرجوح یخفف عنه"[7]

’’تو یہ امر معلوم ہوگیا کہ شریعت کے ان دو مرتبوں کی( جو ”المیزان الکبریٰ“ میں بیان کیے گئے ہیں) بجائے صرف ایک ہی مرتبہ (تشدید یا تخفيف) ہوتا تو برتقدیر مرتبۂ تشدید کے، اُمت پر نہایت تنگی ہوتی اور تخفيف کی صورت میں دین کے شعار کا اظہار نہ ہو پاتا۔ اور ہر شخص جب کسی امام کی کسی مسئلہ میں، جس میں اُس نے تشدید کا فتویٰ دیا ہوتا، تقلید کرنے والا شدید ضرورت اور حالات کی تنگی میں بھی دوسرے امام کے قول پر عمل نہ کرپاتا تو اس صورت میں اُمت پر مشقت دوچند ہوجاتی۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہمارے پیارے نبیﷺ کی شریعت اعتدال کے حکم کے ساتھ اکمل ترین حالت میں ظہور پذیر ہوئی۔ پس اب یہ صورت ہے کہ اگر ایک حکم کسی شخص پر شاق ہے تو وہاں دوسرا حکم بھی موجود ہے، جس میں تخفيف ہے چاہے وہ حدیث ہو یا اثر یا کسی دوسرے امام کا قول ہو، بہر صورت تشدید کے ساتھ تخفيف بھی موجود ہوگی۔‘‘

ہاں اگر صرف ایک روایت ہو تو قوی اور ضعیف ہر دو پر اُس پر عمل پیرا ہونا لازم ہوگا اور دونوں میں عمل کرنے کی طاقت بھی موجود ہوگی کیونکہ شرع میں ”تکلیف ما لا یطاق“ ممنوع ہے مثلاً صیغۂ تشہد کے حوالے سے امام شعرانی ؒ نے دو روایتیں نقل کی ہیں۔ ایک حضرت ابو موسیٰ اشعری ؒ اور دوسری حضرت جابر ؓ سے۔ پھر امام بخاری ؒ کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"و قال البخاری: حدیث جابر خطأ، فعلی ذلك یرجع الأمر إلی مرتبة واحدة كالحدیث الذي ورد فرداً"[8]

"اور امام بخاری کہتے ہیں کہ حضرت جابر سے مروی روایت خطا پر مبنی ہے تو اس بنا پر معاملہ میزان کے ایک مرتبہ کی طرف راجع ہوگا، اس حدیث کی طرح جو (اپنے موضوع کے حوالے سے) فرد واقع ہوئی ہو۔"

ائمۂ مجتہدین کے مختلف فيہا اقوال کے مابین تطبیق

مختلف فيہا روایات کے مابین تطبیق کی طرح ائمہ فقہ کے فقہی اختلافات کے مابین بھی امام شعرانیؒ نے تطبیق دی ہے۔ فقہاء کے مختلف فيہا اقوال کے ذکر اور اُن کے مابین تطبیق سے قبل آپ تقریباً ہر کتاب اور باب کے شروع میں پہلے اُن مسائل کا ذکر کرتے ہیں جو متفق علیہا اور اجماعی ہوتے ہیں مثلاً ”کتاب الطهارة“ میں مختلف فيہا مسائل کا ذکر کرنے سے پہلے اجماعی اور متفق علیہ مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"أجمع الأئمة الأربعة علی وجوب الطهارة بالماء للصلاة مع التمكن من استعماله فيها حسّاً أو شرعاً، كما أجمعوا علی وجوب التیمّم عند حصول فقده كذلك، وعلی أن ماء الورد والخلاف لا یطهر عن الحدث، وعلی أن المتغیر بطول المكث طهور وعلی أن السواك مأمور به۔ هذه مسائل الاجماع في هذا الباب"[9]

"اس امر پر ائمہ اربعہ کا اجماع ہے کہ نماز کے لیے پانی سے طہارت حاصل کرنا واجب ہے بشرطیکہ نمازی شرعاً اور حسّاً دونوں طرح پانی کے استعمال پر قدرت رکھتا ہو۔ اسی طرح اس پر بھی اتفاق ہے کہ اگر کسی وجہ سے پانی کے استعمال پر نمازی قادر نہ ہو تو تیمم کرنا واجب ہے۔ اسی طرح اس پر بھی ائمہ اربعہ کا اجماع ہے کہ گلاب اور بید کے درخت کے پانی سے وضو کرنا حدث سے پاک نہیں کرتا اور اگر پانی کسی جگہ زیادہ ٹھہرنے کی وجہ سے رنگت یا ذائقے کے اعتبار سے بدل جائے تو بھی اُس سے وضو کرنا درست ہوگا اور یہ کہ مسواک کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس باب کے یہ وہ مسائل ہیں جن پر ائمہ اربعہ کا اجماع ہے۔"

اگر کسی حکم میں دو سے زیادہ اقوال ہوں تو؟

امام شعرانی عموماً فقہی فروعی اختلافات کو میزان کے دو درجوں کی طرف راجع کرتے ہیں، البتہ بعض مقامات پر دو کی بجائے تین مرتبے (تشدید، تخفيف اور متوسط) بھی بیان کر دیتے ہیں، مثلاً "لمس المرأۃ" سے متعلق فقہاء کا اختلاف نقل کرنے کے بعد میزان کے دو درجوں کی طرف راجع کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

"فمن العلماء المشدد والمتوسط والمخفّف"[10]

"پس علماء میں سے بعض متشدد، بعض متوسط اور بعض تخفيف کرنے والے ہیں۔"

اگر کوئی قول تشدید یا تخفيف کے قریب ہو تو اُسے اپنے قریب کے ساتھ ملا لیا جائے گا۔ فرماتے ہیں:

"ثم إنه قد یكون في الحكم الواحد أكثر من قولین فالحاذق یرّد ما قارب التشدید إلی التشدید وما قارب التخفيف إلی التخفيف"[11]

"پھر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک حکم سے متعلق دو سے زیادہ اقوال ہوتے ہیں تو ماہرِ فن یہ کرتا ہے کہ جو تشدید کے قریب ہو اُسے درجۂ تشدید میں اور جو تخفيف کے قریب ہو اُسے درجۂ تخفيف میں رکھتا ہے۔"

اگر ائمہ کے کلام میں تناقض ہو تو:

امام شعرانی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے مرشد علی الخواص کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

"كلّ ما ترونه في كلام الشارع وكلام أحد من الأئمة مخالفاً للآخر في الظاهر فهو محمول علی حالین لأن كلام الشارع یجلّ عن التناقض و كذلك كلام الأئمة لمن نظر فيه بعین العلم والإنصاف لا بعین الجهل والتعصّب"[12]

"جب تم شارع ؑاورکسی امام کے کلام کو بظاہر باہم مخالف دیکھو، تو وہ مختلف حالتوں پر محمول ہوگا، کیونکہ شارع ؑاور اسی طرح ائمہ مجتہدین کا کلام تناقض سے بالا ہے بشرطیکہ جہالت و تعصب کی بجائے علم و انصاف کی نظر سے دیکھا جائے۔"

مختلف فيہا مسائل میں پوشيدہ اسرار و حکم کی توضیح:

امام شعرانی نے ائمہ فقہ کے فقہی فروعی اختلافات کے مابین تطبیق کے ساتھ مختلف فيہا مسائل میں پوشيدہ اسرار و حِکَم کی بھی توضیح کی ہے مثلاً سجدہ ہائے تلاوت کے وجوب و استحباب کی حکمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”سمعت سیدي علیاً الخواص رحمه الله یقول: وجوب السجود خاص بالأصاغر الذین لم یكملوا في مقام التواضع و استحبابه خاص بالأكابر الذین محق الله تعالی جمیع ما كان في نفوسهم من الكبر، وصار أحدهم یری نفسه قد استحقت الخسف به لولا عفو الله عزوجل، وصارت قلوب الخلق كلهم تشهد لهم بالذل ولانكسار بین یدي الله عزوجل، فرحم الله الإمام أبا حنیفة ما كان أدق نظره وخفاء مواضع استنباطاته ورحم الله بقیة الأئمة في تخفيفهم عن العامة بعدم وجوب سجودة التلاوة علیهم لأنهم تحت سیاج العفو فيما عندهم من الكبر فلا یكاد أحدهم یخرج عنه بل ربما رأی نفسه بالسجود علی من لم یسجد مثله فوقع في الكبر أیضاً زیادة علی الكبر الأصلي وتكبر في محل الذل والانكسار فافهم“[13]

”میں نے علی الخواص کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سجودِ تلاوت کا وجوب اُن اصاغر (چھوٹے درجہ کے لوگ) کے ساتھ خاص ہے جو مقامِ تواضع میں درجۂ کمال کو نہیں پہنچے اور اس کا استحباب اُن اکابر (بڑے درجہ کے لوگ) کے ساتھ مخصوص ہے کہ جن کے نفوس میں جملہ قسم کے تکبر کو اللہ تعالیٰ نے مٹا دیا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کا عفو و کرم نہ ہوتا تو ان میں سے ہر ایک اپنے نفس کو زمین میں دھنسا دیا جانے کا مستحق جانتا۔ اور تمام مخلوق کے قلوب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کے تذلل و انکسار کی گواہی دینے لگیں گے ۔پس اللہ تعالیٰ امام ابوحنیفہ پر رحم فرمائے کہ وہ کتنے دقیق النظر تھے اور اُن کے مقاماتِ استنباط کس قدر (لوگوں کی نظروں سے) درجۂ خفا میں ہیں اور (اسی طرح) بقیہ ائمہ مجتہدین پر بھی رحم فرمائے کہ انھوں نے سجدہ ہائے تلاوت کے عدم وجوب کے قول کے ذریعے عامۃ الناس کے لیے تخفيف کی ہے کیونکہ وہ اس تکبر کی وجہ سے، جو اُن کے اندر موجود ہے، (اللہ تعالیٰ کی) معافي کے باڑہ اور احاطہ میں ہیں اس طرح کہ کوئی بھی اس باڑے سے خارج نہیں بلکہ بسا اوقات سجدہ کرنےسے اپنے آپ کو سجدہ نہ کرنے والوں سے برتر سمجھنے لگتا ہے۔ پس اُن کے اندر اُس کبر میں جو اصلی تھا اور اضافہ ہوجاتا ہے اور تذلل و انکسار کے مقام پر تکبر کرنے لگتے ہیں اس نکتہ کو ذہن نشين کرلو۔“

انعقادِ جمعہ کے حوالے سے لطیف نکات اُٹھاتے ہوئے لکھتے ہیں:

"وسمعت سیدي علیاً الخواص رحمه الله یقول: أصل مشروعیة الجماعة في الجمعة وغیرها عدم قدرة العبد علی الوقوف بین یدي الله وحده، فشرع الله الجماعة لیستأنس العبد بشهود جنسه حتی یقدر علی إتمام الصلاة مع شهود عظمة الله التی تتجلي لقلبه، وقد جاء اختلاف العلماء في العدد الذي تقام به الجمعة علی اختلاف مقامات الناس في القوة والضعف، فمن قوي منهم كفاه الصلاة مع ما دون الأربعین إلی الثلاثة أو الاثنین مع الإمام كما قال أبو حنیفة أو مع الواحد كما قال به غیره و من ضعف منهم لا یكفيه إلا الصلاة مع الأربعین أو الخمسین كما قال به الشافعي و أحمد والله أعلم۔“[14]

"میں نے علی الخواص کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جمعہ کی جماعت کی مشروعیت کی اصل وجہ بندہ کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اکیلا کھڑے ہونے پر عدم قدرت ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی جماعت مشروع کر دی تاکہ بندہ اپنے ہم جنسوں کو دیکھ کر موانست حاصل کرسکے تاکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے مشاہدہ کے باوجود جو اُس کے قلب پر متجلی ہو رہی ہے، نما زکی تکمیل پر قادر ہوسکے۔ اور جمعہ کے قیام کے سلسلے میں افراد کی تعداد کے تعین میں جو علماء کا اختلاف منقول ہے وہ لوگوں کی قوت و ضعف کے اعتبار سے مقامات کے اختلاف کی وجہ سے ہے۔ پس جو لوگ اس میں سے قوی ہیں تو اُن کے لیے چالیس سے کم افراد کے ساتھ بھی نمازِ جمعہ ادا کرنا کافي ہے اگرچہ امام کے ساتھ صرف دو یا تین افراد بھی کیوں نہ ہوں جیسا کہ امام ابوحنیفہ نے فرمایا ہے بلکہ امام کے ساتھ ایک آدمی بھی کیوں نہ ہو نمازِ جمعہ صحیح ہے جیسا کہ امام ابوحنیفہ کے علاوہ دیگر فقہاء نے بھی کہا ہے۔ اور جو ان میں سے کمزور ہیں تو ان کے لیے چالیس یا پچاس آدمیوں سے کم تعداد کے ساتھ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کافي نہیں ہے جیسا کہ امام شافعی اور امام احمد نے فرمایا ہے۔ واللہ اعلم"

تشہد اخیر میں درود کے واجب یا سنت ہونے کے اختلاف کی حکمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"وإیضاح ذلك أن الأصاغر ربما تجلى الحق لقلوبهم فدهشوا بین جماله وجلاله واصطلموا عن شهود ما سواه، فلو أوجبوا علیهم الصلاة علی رسول الله صلی الله علیه وسلم لشق ذلك علیهم بخلاف الأكابر الذین أقدرهم الله تعالی علی تحمل تجلیاته في قلوبهم وقدروا علی شهود الخلق مع شهود الحق تعالی فإنه یجب علیهم الصلاة علی رسول الله صلی الله- علیه وسلم- لیعطوا كل ذي حق حقه، فحال الأصاغر كحال عائشة رضي الله تعالی عنها لما أنزل الله تعالی براءتها من السماء وقال لها أبوها قومي إلی رسول الله - صلی الله علیه وسلم- فاشكري من فضله، فقالت: والله لا أقوم إلیه ولا أحمد إلا الله تعالی انتهي۔ فكانت مصطلمة عن الخلق لما تجلی لها من عظیم نعمة الله تعالی علیها ببراءتها من السماء، ولو أنها كانت في مقام أبیها لسمعت لوالدها وقامت إلی رسول الله صلی الله علیه وسلم، فشكرت فضله، فإن الحق تعالی ما اعتنی بها هذا الاعتناء إلا إكراماً لنبیه محمد صلی الله علیه وسلم۔"[15]

"اس کی توضیح یہ ہے کہ جب کبھی اصاغر کے قلوب پر حق تعالیٰ تجلی فرماتا ہے تو پھر وہ اس کے جلال و جمال کے درمیان دہشت زدہ رہ جاتے ہیں اور ماسوی اللہ کے مشاہدہ سے بالکلیہ نکل جاتے ہیں تو اگر (اس حالت میں) اُن پر درود شریف پڑھنا واجب کردیتے تو یہ اُن پر بہت شاق اور گراں ہوتا، بخلاف ان اکابر حضرات کے، جنھیں حق تعالیٰ نے اُن کے قلوب پر اپنی تجلیات کے نزول کے تحمل کی قدرت بخشي ہے اور وہ حق تعالیٰ کے مشاہدہ کے باوجود مشاہدۂ مخلوق پر بھی قادر ہیں۔ اس لیے ان پر رسول اللہﷺ پر درود پڑھنا واجب ہے تاکہ ہر صاحبِ حق کا حق ادا کرسکیں۔ پس اصاغر کا حال حضرت عائشہ کے حال کے مشابہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اُن کی براءت نازل فرمائی اور آپ کے والد (حضرت ابوبکر صدیق) نے آپ سے فرمایا کہ رسول اللہﷺ کی بارگاہ میں جاؤ اور اُن کے فضل کا شکریہ بجا لاؤ تو آپ نے جواب دیا کہ نہ میں آپﷺ کی بارگاہ میں جاؤں گی اور نہ تعریف کروں گی بجز اللہ تعالیٰ کے۔ تو اُس وقت آپ مخلوق سے بالکل الگ تھلگ تھیں (اور حق تعالیٰ میں مشغول تھیں) کیونکہ اُن پر اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت؛ آسمان سے آپ کی براءت، نازل ہو رہی تھی اور اگر اُس وقت آپ اپنے والد ماجد کے مقام پر متمکن ہوتیں تو ضرور وہ اپنے والدِ محترم کے مشورہ کو سنتیں اور رسول اللہﷺ کی بارگاہ میں جاکر آپﷺ کے اس فضل و انعام کا شکر بجا لاتیں کیونکہ حق تعالیٰ نے آپ کا اس قدر اعتناء و اکرام صرف اور صرف اپنے نبی حضرت محمدﷺ کے اکرام کی خاطر کیا۔"

”المیزان الکبری“ کے مطالعہ کے دوران متعدد مقامات ایسے آتے ہیں جہاں امام شعرانی نے امام ابوحنیفہ کے نقطۂ نظر کی نہایت لطیف توجیہ کے ساتھ اُن کی دقتِ نظری اور فقہِ حنفي کے عمق کو واضح کیا ہے مثلاً سجدہ ہائے تلاوت کی بحث کو سمیٹتے ہوئے لکھتے ہیں:

"و هذا ممّا یشهد للإمام أبي حنیفة في قوله بوجوب السجود، فافهم"[16]

"یہ بات اُس قبیلہ سے ہے جو امام ابوحنیفہ کے اس قول کی شاہد اور مؤید ہے کہ سجدۂ تلاوت واجب ہے۔ پس اس نکتہ کو خوب سمجھ لو۔"

”منی کے نجس ہونے“ کے متعلق امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے قول کی توضیح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"فكلام أبي حنیفة و مالك خاص بالأكابر من العلماء والصالحین"[17]

"پس امام ابوحنیفہ اور امام مالک کا نقطۂ نظر علماء و صالحین میں سے اکابر کے ساتھ خاص ہے۔"

سجدہ ہائے تلاوت سے متعلق امام ابوحنیفہ کی دقت و بالغ نظری اور فقہ حنفي کے عمق کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"فرحم الله الإمام أبا حنیفة ما كان أدق نظره وخفاء مواضع استنباطاته"[18]

"پس اللہ تعالیٰ امام ابوحنیفہ پر رحم فرمائے کہ وہ کتنے دقیق النظرتھے اور آپ کے مواضع استنباط کس قدر (لوگوں کی نظروں سے) درجۂ خفاء میں تھے۔ "

شاہ ولی اللہ کا اُسلوبِ تطبیق:

شاہ ولی اللہ نے فقہ حدیث سے متعلق کام، زیادہ تر اپنی تین کتابوں حجة الله البالغة، المسوی شرح الموطا اور مصفى شرح المؤطا میں کیا ہے۔ حجة الله البالغة میں اس سلسلہ میں جو کچھ کام ہے یا ان کی بعض دوسری تصانیف میں اس سلسلہ کے شاذ و نادر جو مسائل ہیں وہ تمام المسوی شرح الموطا میں موجود ہیں لہٰذا صرف انھیں دو کتابوں (المسوی اور مصفى) کا تتبع کرکے یہ معلوم کرنے کی سعی کی گئی ہے کہ اختلافي مسائل میں شاہ صاحب کا اُسلوبِ تطبیق کیا ہے اور اس میں وہ صرف ائمہ فقہ کا باہمی اختلاف نقل کرکے تطبیق و توافق پیدا کرتے ہیں یا کسی مذہبِ فقہ کے نقطۂ نظر کو ترجیح بھی دیتے ہیں؟

قیامِ حرمین کے دوران شاہ صاحب جس ذہنی کشمکش میں مبتلا تھے اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ رسول اللہﷺ کی جانب سے انھیں روحانی طور پر تین باتوں کا حکم ملا۔ ان میں سے ایک حکم کا اظہار یوں کیا ہے:

"’وثانیها الوصاة بالتقید بهذه المذاهب الارٔبعة، لا أخرج منها والتوفيق ما استطعت وجبلتي تابى التقلید وتأنف منه رأساً ولكن شيء طلب مني التعبدیة بخلاف نفسي‘‘[19]

"ان امور میں سے دوسرا امر جس کے لیے مجھے کہا گیا وہ یہ ہے کہ میں ان چار (فقہی) مذاہب کا پابند رہوں اور ان کے دائرہ سے باہر نہ نکلوں اور جہاں تک ممکن ہو ان کے مابین تطبیق و توفيق کا فریضہ سرانجام دوں حالانکہ میری طبیعت تقلید سے اباء کرتی تھی اور اسے سرے سے تقلید سے انکار تھا لیکن چونکہ یہ چیز خود میری اپنی طبیعت کے خلاف اطاعت و عبادت کی طرح مجھ سے طلب کی گئی تھی اس لیے مجھے اس سے جائے مفر نہ تھی۔"

حصولِ تعلیم کے بعد دورانِ تدریس مذاہبِ اربعہ کی فقہ اور اصولِ فقہ کی کتب اور ان احادیث میں غوروفکر کا موقع ملا جن سے ائمہ مجتہدین تمسک کرتے ہیں تو شاہ صاحب نے ایک ممتاز روش اختیار کی جس کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"وبعد ملاحظہ کتب مذاہبِ اربعہ و اصول فقہ ایشاں و احادیثے کہ متمسک ایشاں است قرارداد خاطر بمدد نور غیبی روش فقہائے محدثین افتاد۔"[20]

"مذاہبِ اربعہ کی کتب اور ان کے اصولِ فقہ اور جو احادیث ان کا مستدل ہیں، ان کے ملاحظہ کرنے کے بعد نورِ غیبی کی مدد سے فقہاء محدثین کی روش اختیار کرنے کی دل میں آمادگی پیدا ہوئی۔"

جمع و تطبیق کے اس نازک عمل کے لیے اللہ تعالیٰ نے حق تک رسائی کے لیے آپ کو ایک میزان بھی عطا فرمایا۔ شاہ صاحب رقمطراز ہیں:

"انّ الله تعالی جعل في قلبي وقتاً من الأوقات میزاناً أعرف به سبب كلّ اختلافٍ وقع في الملّة المحمدّیة علی صاحبها الصلٰوة والسلام، وما هو الحقّ عند الله و عند رسولِه، و مكنني مِنْ أنْ اُثْبِتَ بالدلائل العقلیة والنقلیة بحیث لا یبقی فيه شبهة ولا إشكال۔" [21]

"اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں کسی خاص وقت میں ایسا میزان رکھ دیا جس سے میں اس اُمت محمدیہ علی صاحبھا الصلوٰۃ والسلام میں ہونے والے ہر اختلاف کا سبب پہچان لیتا ہوں اور یہ کہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے نزدیک حق کیا ہے؟ اور مجھے یہ قدرت بھی عطا فرمائی کہ میں اس کو عقلی اور نقلی دلائل سے اس طرح ثابت کر دوں کہ اس میں کوئی شبہ اور اشکال باقی نہ رہ جائے۔"

مندرجہ بالا اقتباسات سے یہ حقیقت مترشح ہوتی ہے کہ مذاہبِ اربعہ بالعموم اور مذہبِ حنفي وشافعی کے مابین بالخصوص تطبیق کے غیبی اشارے، اُس کا اسلوب اور پھر غلط و صحیح کے درمیان امتیاز کے لیے ”میزان“ کا عطا ہونا۔ یہ سب انعاماتِ الٰہیہ اور فيوضاتِ نبویہ تھے اور واقعتاً یہ مشکل کام خصوصی انعامات و فيوضات کے بغیر مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے شاہ صاحب کو اس مستحسن و مطلوب کارنامہ کو سرانجام دینے کی استعداد مرحمت فرمائی شروع میں آپ نے مذہبِ حنفي و شافعی کے مابین تطبیق کا فریضہ سرانجام دیا بعد میں مذاہبِ اربعہ کے مابین نہ صرف تطبیق و توفيق کا فرض نبھایا بلکہ متعدد مقامات پر کسی ایک مذہبِ فقہ کو اپنے عہد کے تقاضوں کے پیش نظر ترجیح بھی دی۔ ذیل میں قدرے تفصیل دی جا رہی ہے۔

فقہِ حنفي اور فقہِ شافعی کے مختلف فيہا مسائل میں تطبیق کا اُسلوب:

شاه ولی الله نے مذكوره بالا تمام اسباب اور غیبی اشارے کی بناء پر مذاہبِ فقہ کے مابین تطبیق کرنے کا عزم فرمایا۔ سب سے پہلے آپ نے مذہبِ حنفي و شافعی کے درمیان اختلافات کے مابین تطبیق کے لیے عملی قدم اُٹھایا۔ آپ کا منہج کیا تھا اور ایک ہی مسئلہ میں دو مختلف آراء کے مابین تطبیق کی آپ نے کیا شکل نکالی؟اِن اُمور کی توضیح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"انّ الحقّ الموافق لعلوم الملاء الأعلٰی الیوم أن یجعلا كمذهب واحد یعرضان علٰی الكتب المدوّنة في حدیث النبي صلی الله علیه وسلم من الفریقین، فما كان موافقاً بها یبقي وما لم یوجد له أصلٌ یسقط والثابت منها بعد النقد أن توافق بعضه بعضاً فذالك الذّي یعضّ علیه بالنواجذ وان یخالف تجعل المسئلة علي قولین ویصحّ الحمل علیهما، أویكون مِنْ قبیل اختلاف أحرف القرآن، أو علٰی الرخصة والعزیمة، أویكونان طریقین للخروج من المضیق كتعدّد الكفّارات أویكون أخذاً بالمباحین المستویین، لا یعدو الأمر هذه الوجود ان شاء الله تعالی۔" [22]

"علوم الملاء اعلیٰ کے موافق حق یہ ہے کہ دونوں مذاہب (فقہ، حنفي اور فقہ شافعی) کو ایک مذہب کی طرح کر دیا جائے اس طور پر کہ دونوں مذاہب کے فقہی مسائل کو ان ہی کی تدوین کردہ کتبِ حدیث پر پیش کیا جائے، جو مسئلہ حدیث کے موافق ہو اُسے باقی رکھا جائے اور جو حدیث کے مخالف ہو اُسے ساقط کر دیا جائے اور جس مسئلہ میں اختلاف ہو اُسے ’’مسئلہ علیٰ قولین‘‘ قرار دیا جائے اور دونوں پر عمل صحیح قرار پائے یا ہر دو قول کو اس طرح سمجھا جائے جیسے قرآن میں بعض الفاظ کی قرأت میں دو قول ہیں یا ایک قول کو رخصت اور دوسرے قول کو عزیمت پر محمول کیا جائے یا یہ سمجھا جائے کہ کفارہ کے طریقوں کی طرح ایک عمل کی ادائیگی کے دو طریقے یا دونوں کو برابر درجہ کا مباح سمجھا جائے اور کوئی بھی مسئلہ ان مذکورہ بالا وجوہات سے باہر نہیں ہو گا(ان شاء اللہ تعالیٰ)۔"

اجتہادی اور فقہی فروعی مسائل کے مابین تطبیق کے اُسلوب کی مزید توضیح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"ونحن نأخذ من الفروع ما اتفق علیه العلماء ولاسیما هاتان الفرقتان العظیمتان; الحنفية والشافعیة وخصوصاً في الطهارة والصلٰوة، فان لم یتیسر الاتفاق واختلفوا فنأخذُ بما یشْهدُ لَه ظاهر الحدیث وَمعروُفُه و نحن لانزدري أحداً من العلماء فالكلّ طالبوا الحق ولا نعتقد العصمة في أحدٍ غیر النبي صلی الله علیه وسلم۔"[23]

"ہم فروعات میں اسے اختیار کرتے ہیں جس پر علما ء بالخصوص دو بڑے گروہ: حنفيہ اور شافعیہ کا اتفاق ہو، خصوصاً طہارت و نماز میں، اگر اتفاق میسر نہ آئے تو ہم اُسے اختیار کرتے ہیں جس کے حق میں ظاہر و معروف حدیث ہو، ہم کسی بھی عالم کی تحقیر نہیں کرتے، سب کے سب حق کے طالب ہیں اورہم نبی کریمﷺ کے علاوہ کسی کے معصوم ہونے کا اعتقاد نہیں رکھتے۔"

فقہ حنفي وشافعی کے مابین تطبیق کی مثالیں:

۱- ”بول الصبي“ کی وجہ سے مطلوبہ مقام کو دھونا ضروری ہے یا محض اُس پر پانی چھڑکنا؟ کے حوالے سے فقہ حنفي و شافعی کے مابین تطبیق دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

”قلت: قال الشافعي: ینضح من بول الغلام ما لم یطعم ویغسل من بول الجاریة، فسره البغوي بأن بول الصبي نجس غیر أنه یكتفي فيه بالرش وهو أن ینضح الماء علیه بحیث یصل إلی جمعیه فيطهر من غیر مرس ولا دلل۔ و قال أبو حنیفة: یغسل منهما سواء، و یتجه أن یقال من جانب أبي حنیفة أن المراد بالنضح الغسل الخفيف وبالغسل المرس والدلك وأصل المسألة أن التطهیر إنما یكون بإزالة عین النجاسة وأثرها وبول الجاریة أغلظ وأنتن فاحتیج فيه إلی زیادة المرس۔" [24]

"میں (شاہ ولی اللہ) کہتا ہوں کہ امام شافعی نے فرمایا کہ ”بول الغلام“ (بچے کے پیشاب) کی صورت میں صرف پانی چھڑکا جائے گا جب تک اُس نے کھانا کھانا شروع نہ کیا ہو جب کہ بچی کے پیشاب کی صورت میں دھویا جائے گا۔ امام بغوی نے اس کی یہ توضیح کی ہے کہ بچے کا پیشاب ناپاک ہے مگر اس میں صرف پانی چھڑکنا کافي ہے اور وہ اس طرح پانی ڈالا جائے کہ پورے مقام تک پانی پہنچ جائے اور یہ بغیر مَلنے کے پاک ہوجائے گا۔ امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ دونوں صورتوں میں دھویا جائے گا اور آپ کے اس قول کی یہ توجیہ کی جائے گی کہ نضخ سے مراد ہلکا سا دھونا اور ”غَسل“ سے مراد ملنا اور رگڑنا ہے اور مسئلہ کی اصل یہ ہے کہ تطہیر (پاک کرنا) کبھی نجاست کے عین کو زائل کرنے سے ہوتی ہے اور کبھی اس کے اثر کو زائل کرنے سے اور ”بول الجاریة“ (بچی کا پیشاب) چونکہ زیادہ ”غلیظ“ اور ”نتن“ ہوتا ہے اس لیے اس کو زیادہ ملنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔"

۲- رکوع و سجود میں اقامت صلب کے ساتھ، طمانیت و اعتدال کے حوالے سے فقہ حنفي اور فقہ شافعی کے اختلاف کے مابین تطبیق دیتے ہوئے ارقام فرماتے ہیں:

"قلت: ذهب الشافعي إلی أنه لو ترك إقامة الصلب في الركوع والسجود والطمأنینة فيهما وفي الاعتدال عن الركوع والسجود فصلاته فاسدة، و مذهب أبی حنیفة علی تخریج الكرخی أن الطمأنینة واجبة في الركوع والسجود، وسنة في الاعتدال عن الركوع والسجود وهو الصحیح درایة، والمشهور عند أصحابه ان الطمأنینة غیر واجبة وكذا الاعتدال بعد الركوع والجلوس بین السجدتین، فالتشبیه بالسرقة عند الشافعی للتحریم وعند أبی حنیفة علی المشهور للكراهیة۔"[25]

میں (شاہ ولی اللہ) کہتا ہوں کہ امام شافعی اس طرف گئے ہیں کہ اگر کوئی (نمازی) رکوع و سجود میں اقامتِ صلب (کمر سیدھی رکھنا)، طمانیت اور اعتدال کو ترک کر دے گا تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی جب کہ کرخی کی تخریج کے مطابق امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ رکوع و سجود میں طمانینت واجب ہے اور رکوع و سجود سے اُٹھتے وقت سنت ہے اور عقل کی رو سے (درایۃً) بھی یہی نقطۂ نظر درست ہے اور آپ کے اصحاب کے ہاں بھی یہی معروف ہے کہ طمانیت واجب نہیں ہےا س طرح "قومہ" اور "جلوس" میں بھی واجب نہیں ہے۔ امام شافعی کا عدم طمانینت کو سرقہ کے ساتھ تشبیہ دینا تحریم کے لیے ہے جبکہ امام ابوحنیفہ کے مشہور قول کے مطابق یہ تشبیہ کراہت پر مبنی ہے۔"

مذاہبِ اربعہ کے مختلف فيہا مسائل کے مابین تطبیق کا اُسلوب:

دوسرے مرحلے میں شاہ ولی اللہ نے مذاہبِ اربعہ کے مختلف فيہا مسائل کے مابین تطبیق و توفيق کا کام شروع فرمایا۔ چنانچہ اپنی تصنیف ”مصفي شرح المؤطا“ (جو المسوی شرح المؤطا کے بعد کی تصنیف ہے) میں اسی نہج پر سعی فرمائی۔ ”مصفي شرح المؤطا“ کے مقدمہ میں رقمطراز ہیں:

"ایں فقیررا مدّتے بسبب اختلاف فقہاء و کثرت احزاب علماء وکشيدن ہر کسے بجانب تشویشے رائے داد… بعد ازاں بتضرع تمام بحضرت باری جلّ مجدہ متوجہ شُدوگفت ﴿لَىِٕنْ لَّمْ یهْدِنِي رَبِّي لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلینَ﴾[26] پس اشارہ بکتاب موطأ کہ تالیف امام حجۃ الاسلام مالک بن انس است، واقع شُد… کہ امروز ہیچ کتابے از کتب فقہ أقوی از مؤطا نیست۔"[27]

"اختلافِ فقہاء، علماء کی گروہی مخالفت اور ان میں سے ہر ایک کا اپنی طرف کھینچنے نے فقیر کو ایک مدت تک تشویش میں مبتلا رکھا… اس کے بعد تمام تر عجز و تضرع کے ساتھ بارگاہ باری تعالیٰ جلّ مجدہٗ میں عرض گزار ہوا:

"یقینا اگر میرے رب نے مجھے ہدایت نہ عطا فرمائی ہوتی تو میں بالیقین گمراہ لوگوں سے ہو جاتا"… پس مجھے حجۃ الاسلام امام مالک بن انس کی تالیف "’مؤطاء " کا اشارہ ہوا… کیونکہ عصر حاضر میں کتب فقہ میں سے کوئی کتاب بھی "مؤطاء ً" سے زیادہ مستند نہیں ہے۔"

مندرجہ بالا اقتباس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فقہاء کے مابین فقہی و فروعی اختلاف کی وجہ سے شاہ ولی اللہ کافي عرصہ تشویش میں مبتلا رہے۔ اور جب اس کے رفع کی کوئی صورت سامنے نہ آئی تو مجبور ہوکر رب العالمین کی بارگاہ میں طلبِ ہدایت کی استدعا کی۔ نتیجتاً مؤطا امام مالک کو اختیار کرنے کا اشارہ ہوا اور آہستہ آہستہ شاہ صاحب کو اس حقیقت کا ادراک بھی ہوگیا کہ اس وقت کتبِ فقہ میں سے کوئی کتاب مؤطا سے زیادہ مستند اور معتمد نہیں ہے۔ چنانچہ مصفي شرح المؤطا میں آپ نے نہ صرف مذاہبِ اربعہ بلکہ دوسرے ائمہ مجتہدین کے نقطہ ہائے نظر بھی نقل کرنے کا اہتمام فرمایا۔ اور تطبیق کے علاوہ مجتہد فيہ مسائل میں حدیث کی رو سے کسی ایک مذہبِ فقہ کو ترجیح بھی دی ہے۔

مذاہبِ اربعہ کے مابین تطبیق و ترجیح کی چند مثالیں:

شاہ صاحب نے مذاہبِ اربعہ کے مابین تطبیق کے بعد کسی ایک مذہبِ فقہ کو ترجیح دی ہے اگرچہ یہ چند مسائل میں کیا ہے تاہم اس سے ان کا اُسلوبِ تطبیق و ترجیح واضح ہوجاتا ہے۔ ذیل میں مذاہبِ اربعہ میں سے ہر مذہبِ فقہ کو ترجیح دینے کی ایک ایک مثال دی جا رہی ہے۔

۱- "بول الصبي" اور "بول الجاریة" کے حوالے سے ائمہ فقہ کا اختلاف نقل کرنے کے بعد مذہبِ شافعی کو ترجیح دیتے ہوئے کہتے ہیں:

"مسئلہ: معنیِ حدیث نزدیک شافعی آنست کہ رش انداختن آبست بوجہیکہ عام و غالب شود در موضع بول بغیر سیلان و نزدیک غیر او چنانکہ خطابی اشارہ کردہ است نضح امرار آبست بر محل بول برفق از غیر مرس و دلک و در غسل رش و دلک بیباید و اول اُولیٰ و اقوی است۔ " [28]

"مسئلہ: امام شافعی کے نزدیک حدیث کا معنی یہ ہے کہ بول کی جگہ پر بغیر گرائے اس طرح سے پانی چھڑکا جائے کہ عام اور غالب ہوجائے اور امام شافعی کے علاوہ دیگر فقہاء کے نزدیک، جیسا کہ خطابی نے اشارہ کیا ہے کہ بول کے محل پر بغیر ملے نرمی کے ساتھ پانی چھڑکنا "نضح" ہے جب کہ "غسل" میں پانی چھڑکنا اور ملنا دونوں شامل ہیں۔ پہلا قول زیادہ اولیٰ اور اقوی ہے۔"

۲- "منی کے نجس ہونے" کے حوالے سے مذہبِ حنفي کو ترجیح دیتے ہوئے شاہ صاحب لکھتے ہیں:

"مترجم گوید مستحب است کہ برمواضع شبہ آب افشانند و ازیں حدیث[29] مفہوم میشود کہ منی نجس است وہو الأصح"[30]

"مترجم (شاہ ولی اللہ) کہتے ہىں کہ مواضع شبہ پر پانی بہانا مستحب ہے اور اس حدیث سے یہ مفہوم ظاہر ہوتا ہے کہ منی نجس ہے اور یہی اصح ترین قول ہے۔"

۳- "کپڑے پر منی کے لگنے کی صورت میں، چاہے خشک ہو یا تر، دھونا لازم ہے یا نہیں؟"کے مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے مذہبِ مالکی کو ترجیح دیتے ہوئے شاہ صاحب ارقم فرماتےہیں:

"منی آدمی طاہر است نزدیک شافعی بحدیث شيخین عن عائشۃ "أنها كانت تحك المنّی عَن ثوب رسول الله صلی الله علیه وسلّم ثم یصلی فيه‘‘ و نجس است نزدیک ابی حنیفہ و مالک و غیر آنکہ ابو حنیفہ میگوید فرک یابس کفایت میکند و مالک میگوید کفایت نمیکند و أقوی نزدیک فقیر قول مالک است زیراکہ شستن عمر ثوب را درینوقت باین اہتمام دلالت میکند برنجاست او و أما حدیث ’’کانت تحك…‘‘ معنیش نزدیک فقیر تحك في أثناء الغسل مثل قرص دحت در حدیث غسل دم زیرا کہ اکثر طریق این حدیث مشتمل اندبر غسل و طرقِ شاذہ رابر ہماں معنی حمل باید کرد واللہ أعلم۔"[31]

"امام شافعی کے نزدیک روایت شيخین عن عائشۃ کہ آپ رسول اللہﷺ کے کپڑوں سے منی کو کھرچ دیا کرتی تھیں پھر آپﷺ انھی کپڑوں میں نماز ادا فرماتے، کے سبب آدمی کی منی طاہر ہے جبکہ امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے نزدیک نجس ہے مزید یہ کہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک خشک منی کو کھرچ دینا کافي ہے جبکہ امام مالک کہتے ہیں صرف کھرچنا کفایت نہیں کرے گا اور فقیر کے نزدیک امام مالک کا قول اقویٰ ہے کیونکہ حضرت عمر کا اس وقت (یعنی نمازِ صبح کے وقت) اتنے اہتمام کے ساتھ منی سے آلودہ کپڑوں کو دھونا، اس کے نجس ہونے پر دلالت کرتا ہے جہاں تک حدیث ’’کانت تحک‘‘ کا تعلق ہے تو فقیر کے نزدیک اس کا معنی اثناء غسل میں کھرچنا ہے جیسا کہ عورت کا حیض کپڑوں کو دھوتے وقت خون کے اثرات کو کھرچنا ہوتا ہے کیونکہ اس حدیث کے اکثر طرق دھونے پر مشتمل ہیں تو اس صورت میں طرقِ شاذہ کو اسی معنی (یعنی دھونے) پر محمول کرنا چاہیے واللہ أعلم"

۴- اِسی طرح معدن کی زکوٰۃ میں فقہِ حنبلی کو ترجیح دیتے ہوئے شاہ صاحب تحریر فرماتے ہیں:

" پس قول احمد راجح است کہ واجب میشود در ہر معدن برابر است کہ منطبع باشد یا غیر منطبع و اختلاف کردند در قدر واجب از معدن برسہ قول خمس مانند رکاز و ربع عشر مانند نقود و قول ثالث تفصیل است اگر بتعب حاصل میشود مانند نقد است و اگر بغیر تعب حاصل شود مانند رکاز است فقیر گوید لفظ الزکوٰۃ محمل برسہ وجہ میتواندشد اگر بمعنے خمس باشد پس منظور حصر است بہ نسبت تمام گرفتن و اگر ربع العشر باشد منظور حصر است بہ نسبت خمس و اقرب در معدن ذہب و فضہ حمل او بر رکاز است یا ادخال او در لفظ رکاز"[32]

"پس امام احمد کا یہ قول زیادہ راجح ہے کہ ہر معدن میں زکوٰۃ واجب ہے۔ چاہےو ہ منطبع ہو (خود نکلے) یا غیر منطبع (نکالی جائی) اور پھر معدن میں زکوٰۃ کی مقدار کے حوالے سے علماء کا اختلاف ہے اور اس میں تین قول ہیں، رکاز کی مانند خمس ہوگا، نقود کی مانند چودہواں حصہ ہوگا اور قول ثالث کی تفصیل یہ ہے کہ اگر تعب و مشقت کے ساتھ حاصل ہو تو نقود کے حکم میں ہوگی اور اگر بغیر مشقت و تعب کے حاصل ہو رکاز کی مانند ہوگی۔ فقیر (شاہ ولی اللہ) کہتا ہے کہ لفظ زکوٰۃ تینوں توجیہات پر محمول کیا جاسکتا ہے اگر خمس کے معنی میں ہو تو تمام کو قبضے میں نہ لینے کا حصہ ہوگا، اگر چودھواں حصہ مراد لیا جائے تو خمس کے مقابلے میں حصر مقصود ہوگا اور سونے چاندی کی معدن (کان) ہو تو رکاز پر محمول کیا جائے گا یا اُسےلفظ ”رکاز“ کے ذیل میں ہی شمار کیا جائے گا۔"

امام شعرانی اورشاہ ولی اللہ رحمھمااللہ کے اسلوب ہائے تطبیق سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ جن فقہی اختلافات کوشریعت اسلامیہ کی روح سے ناواقف حضرات باعثِ تشتت وافتراق قراردیتے ہیں درحقیقت وہ نہ صرف امت مسلمہ کے لیے پیغام ِ وسعت ورحمت ہیں بلکہ ان کی اجتہادی بصیرت کومہمیز لگانے کامؤوثرذریعہ بھی۔امام شعرانی اورشاہ ولی اللہ رحمھما اللہ کے اسالیب ِ تطبیق نہ صرف قابل عمل ہیں بلکہ لمحہ موجود میں جبکہ دنیاسُکڑکرگلوبل ویلج کی شکل اختیارکرچکی ہے اس میں ان ہردو رجالِ کارکی تطبیقی مساعی سے استفادہ کرتے ہوئے مناکحات ،معاملات اوراخلاقیات میں بھی بہتری کی جانب پیش رفت ممکن بنائی جاسکتی ہے اوروطن عزیزمیں فکری انتہاپسندی ،تنگ نظری،اوردہشت گردی کاجو عفریت سراُٹھارہاہے بلاشبہ اس سے نمٹنے کے لیے امام شعرانی اورشاہ ولی اللہ کی تطبیقی فکرمشعل ِ راہ بن سکتی ہے۔

حوالہ جات

  1. المیزان الكبریٰ،بیروت:دارالکتب العلمیة،ط،۱۴۱۸ھ/۱۹۹۸م,۱/ ۹۵
  2. اىضاً،۱/ ۱۸-۱۹
  3. (۱) الشافعی ، محمد بن ادریس، ’’المسند‘‘ بیروت ، دارالکتب العلمیة ، کتاب اختلاف الحدیث،۱/۱۵۷ (۲)ابو داؤد ، السنن، کتاب الصیام، باب اختیار الفطر۔
  4. ا لمیزان الکبریٰ،۱/ ۲۰
  5. ایضاً،۱/۲۳ ،۲۴
  6. ایضاً
  7. ایضاً،۱/ ۳۵
  8. ایضاً،۱/ ۱۰۴
  9. ایضاً ،۱/ ۱۲۹
  10. ایضاً،۱/ ۱۴۳
  11. ایضاً ،۱/ ۲۶
  12. ایضاً
  13. ایضاً،۱/ ۲۱۱
  14. المیزان الكبریٰ،۱/ ۲۴۲
  15. ایضاً ،۱/ ۱۹۷
  16. ایضاً ،۱/ ۲۱۱
  17. ایضاً،۱/ ۱۴۰
  18. ایضاً،۱/ ۲۱۱
  19. فیوض الحرمین،دہلی:مطبع احمدی (س ن) (تینتسواں مشاہدہ)، ص۸۰
  20. الجزء اللطیف فی ترجمة العبد الضعیف مشمولہ "انفاس العارفین"،دہلی،مطبع احمدی،(س ن) ص ۲۰۳، ۲۰۴
  21. شاہ ولی اللہ ،حجة الله البالغه،کراچی،قدیمی کتب خانہ،(س ن) ۱/ ۴۶۲
  22. التفهیمات الالٰهیة،مدینۃ برقی پریس بجنور،دابھیل:مجلس علمی(۱۹۳۶) ۲ / ۲۰۲
  23. ایضاً۲/۲۰۲
  24. المسوی شرح المؤطا،بیروت:دارالکتب العلمیۃ،۲۰۰۲ء، ص۹۷
  25. ایضاً
  26. الانعام، ۶: ۷۷
  27. مصفی شرح المؤطا،،کراچی:محمدعلی کارخانہ اسلامی کتب،(س ن) ۱/۳
  28. مصفی شرح المؤطا۱/۶۱
  29. حدیث یہ ہے کہ حضرت یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب راوی ہیں کہ انھوں نے ایک قافلہ میں حضرت عمرؒ کے ساتھ عمرہ کیا اس قافلہ میں حضرت عمرو بن العاص بھی تھے حضرت عمر نے پانی کے بعض چشموں کے پاس رات گذاری آپ محتلم ہوگئے صبح ہونے والی تھی لیکن قافلہ میں سے کسی کے پاس پانی نہ تھا آپ سواری پر سوار ہوکر پانی پر پہنچے اور احتلام سے جو کچھ دیکھا تھا اُس کو دھونے لگے یہاں تک اُجالا ہوگیا حضرت عمرو بن العاصؓ نے کہا آپ نے صبح کردی حالانکہ ہمارے پاس کپڑے موجود تھے پس اپنے کپڑوں کو دھونا چھوڑیے۔ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا: واعجباً لك یا عمرو بن العاص لئن کنت تجدثیاباً أو کلّ الناس یجدثیاباً واللّٰه لو فعلتها لکانت سنة بل أغسل ما رأیت وأنضح مالم أر (مصفی شرح المؤطا، ۱/۵۰) ”اے عمرو بن العاص آپ پر تعجب ہے اگر آپ کے پاس کپڑے ہیں یا تمام لوگوں کے پاس کپڑے ہیں۔ اللہ کی قسم اگر میں ایسا کرتا تو سنت ہوتی لیکن میں نے جو (احتلام کا اثر) دیکھا اُسے دھو رہا ہوں اور جو نظر نہیں آیا اُس پر پانی چھڑک رہا ہوں۔“
  30. مصفی شرح المؤطا، ۱/۵۰
  31. ایضاً،۱/۵۱
  32. ایضاً،۱/ ۲۲۴