Playstore.png

مسلح تصادم کے دوران و ما بعد غیر مقاتلین کے حقوق

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ الایضاح
عنوان مسلح تصادم کے دوران و ما بعد غیر مقاتلین کے حقوق
انگریزی عنوان
The Rights of Non-Combatants During and After an Armed Conflict
مصنف احمد، رشید
جلد 28
شمارہ 1
سال 2014
صفحات 16-28
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
شکاگو 16 احمد، رشید۔ "مسلح تصادم کے دوران و ما بعد غیر مقاتلین کے حقوق۔" الایضاح 28, شمارہ۔ 1 (2014)۔
البدایہ و النہایہ کا ایک مطالعہ مصدر سیرت کی حیثیت سے
مسلح تصادم کے دوران و ما بعد غیر مقاتلین کے حقوق
زین الدین ابن نجىم اور ہربرٹ بروم کى فقہی و قانونی تعبیرات کے حوالے سے قاعدہ ازالہ ضرر و مشقت کا عمومی جائزہ
قرآن کا تصور رنگ: ایک تجزیاتی مطالعہ
ڈاکٹر اسرار احمد: بیسویں صدی کا عظیم مدرس و داعی قرآن
اسیران جنگ سے متعلق اسلام کے شرعى احکام کا علمى و تحقیقی جائزہ
آپریشن (سرجری) کا شرعی جائزہ
اسلامی تصوف کے مصادر اور مستشرقین كى آراء کا ایک تجزیاتی مطالعہ
دار العلوم دیو بند کی تعلیمی و عصری خدمات کا تنقیدی مطالعہ
پاکستان کا مسئلہ نمبر 1 کرپشن: اسباب اور خاتمہ تعلیمات نبویﷺ کے آئینے میں
واقعہ 11/9 کے پاکستانی معیشت پر اثرات اور اسلامی تعلیمات: تجزیاتی مطالعہ
اختلاف امت سے متعلقہ احادیث کی روشنی میں راہ حق کی تعیین: ایک تحقیقی اور تنقیدی مطالعہ
اسلام اور مغرب: ڈاکٹر محمود احمد غازی کے افکار کا خصوصی مطالعہ
ظاهرة تزويج القاصرات من منظور شرعي
الحرية الدينية فى الاسلام
مسؤولية المجتمع في معالجة البطالة على سبيل الوجوب في ضوء السنة
Exploring the Objectives of Model Madaris Curriculum: Practical Approach Analysis
The Social and Financial Performance of Conventional and Islamic Microfinance Institutions in Pakistan
Global Structural Changes and Global Islamic Identity
The Perception of Quran and Hadith on Bullying As a Social Problem
The Present Day Applications of Initial Muslim-Christian Interactions.

Abstract

Islam is a religion of peace and values the sanctity of life and blood. It clearly prohibits unlawful killing. However,  it is also a  fact that observing this rule is very difficult during an armed conflict but still Islam has laid down  clear injunctions about this. It has divided the belligerent groups into combatants and non-combatants and the rights of each one has been mentioned. In this article the later has been discussed. In this regard verses from the Holy Qura’n , Traditions of the Prophet (PBUH) and views of the  jurists  have been quoted. All of them guarantee sanctity of life of non-combatants. At the end, relevant articles of the International Humanitarian Law (IHL) have also been quoted, which are in  consonance with the teachings of Islam.

تمہید:

ا للہ تعا لی کی مخلو قا ت میں ا نسا ن ا یک امتیا ز ی حیثیت ر کھتا ہے ۔ کیو نکہ بیک و قت یہ بہیمی اورملکو تی دونوں صفا ت کا حا مل ہے ۔دو نو ں صفا ت کے ا متز ا ج سے ا نسا ن تشکیل پا تا ہے۔در حقیقت انسا ن تمام کائنات کا مقصو د ہے ۔ ا ور اس کی خا طر یہ سب کچھ پیدا کیا گیا ہے ۔ یہی و جہ ہے کہ ا للہ تعا لی نے انسا ن کی خا طر تما م قو تو ں کو مسخر کر د یا ہے ۔ ا ب یہ ا نسا ن کا کا م ہے کہ ا نسا ن ان کے ذر یعے ا پنے ر ب کو سمجھے ا ور ا پنی تر قی و تکمیل کر ے۔اس لئے یہ اس کی بنیا د ی ذ مہ دا ر ی ہے کہ د نیا کو ا یک بہتر جگہ بنا ئے اس سے ظلم کو دور کر ے ا من قا ئم کر ے ا ور ا پنی آ خر ت بہتر بنا ئے ۔[1]

ظلم کو دور کر نا اور امن کا قیا م ایک مسلما ن کا او لین فر یضہ ہے۔ کیو نکہ لفظ اسلا م خو د اس کا متقاضی ہے۔جس کا معنی ہی امن اور سلا متی ہے۔ا للہ تعا لی کے ا سما ئے حسنہ میں ا یک نا م ا لسلا م ہے ۔ جس کا معنی سلامتی ہےاور ا یک اور نا م ا لمؤمن یعنی ا من دینے وا لا ۔جبکہ ا للہ تعا لی نے ا پنے ر سو ل ﷺ کو رحمت اللعا لمین کے لقب سے پکا را ۔اور سلا متی کا اظہا ر ا یک مسلما ن ا لسلا م علیکم سے کر تا ہے ۔یعنی میں آ پ کو امن پیش کر تا ہو ں ۔اورا حا د یث میں بھی سلام کو عام کرنے کى فضىلت آئى ہے۔

بہر حا ل یہ بھی ا یک حقیقت ہے کہ د نیا میں بسنے وا لے ا نسا ن ا یک جیسے نہیں ہیں ۔ ان میں اچھے بھی ہیں اور بر ے بھی۔جبکہ خیر وشر کی کشمکش کا سلسلہ حضر ت آ د مؑ کے ز ما نے سے شر و ع ہوا جب آپؑ کے ا یک بیٹے قا بیل نے ہا بیل کو قتل کیا اور ظلم کا دور شرو ع ہوا۔ کو ئی بھی معا شر ہ ا یسا نہیں ہے کہ وہاں کو ئی نہ کو ئی فکر ی یا مسلح تصا دم نہ ہو ۔یہی و جہ ہے کہ د ین ا سلا م ہمیں ہر ا یک کے دفع کر نے کا طریقہ وسلیقہ سکھا تا ہے۔جہا ں تک مسلح تصا د م کا تعلق ہے تو اسلا م سے پہلے بھی جنگیں ہوا کر تی تھیں۔ لیکن اس و قت مقا صد جنگ کچھ اور تھے مثلا ما ل غنیمت کا شو ق ، ذا تی تفا خر ا نتقا م و غیر ہ ۔ لیکن ا سلا م نے نہ صرف مقاصد جنگ کی تطہیر کی بلکہ طر یق جنگ کو بھی ا یک قا نو ن و ضا بطہ کے تحت لے آیا ۔

ا س حو ا لے سے زىر نظر مقالہ کے درج ذىل بنىادى حصے ہىں ۔

پہلے حصے میں مختصر اً جہا د ا ور اس کے اسلا می تصور پر مختصر بحث کی جا ئے گی اور دو سر ے حصے میں جنگ کے دورا ن غیر مقا تلین پر حملے کی مما نعت کے حوا لے سے اسلا می تعلیما ت پر بحث ہو گی۔

جہا د کی لغو ی و ا صلا حی تعر یف:

جہا د عر بی ز با ن کا لفظ ہے۔ اور جہد سے نکلا ہے ۔جس کا معنی ہے۔ سخت کو شش کر نا ۔[2] جبکہ اصطلا ح میں اعلا ئے کلمتہ اللہ کے لیے ہر کو شش کا نا م جہا د ہے اورا س کی مختلف صو ر تیں ہو سکتی ہیں۔مثلاً کبھی قلم سے اور کبھی قتا ل کی صو ر ت میں۔ تا ہم اسلا می شر یعت نے ہر ا یک کے ضوا بط کا تعین کیا ہے۔

قر آ ن پا ک میں جہا د دو معنوں میں استعما ل ہو ا ہے۔ ایک عا م معنی لئے ہوئے ہیں جس پر ا للہ کی رضا کے لئے ہر کو شش کا نا م جہا د ہے۔ اور دو سرے معنی قتا ل کے ہیں۔

اللہ تعا لی فر ما تا ہے:

وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ سَخِرَ اللَّهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ”[3]

" اور ان لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں جن کے پاس راہ خدا میں دینے کے لۓ اس کے سوا کچھ نہیں ہے جو اپنے اوپر مشقت برداشت کرکے دیتے ہیں۔اللہ ان مذاق اڑانے والوں کا مذاق اڑاتاہے اور ان کے لۓ دردناک سزا ہے۔”

انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ [4]

“ نکلو خوا ہ ہلکے ہو یا بو جھل اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالو ں اور اپنی جا نو ں سے”

ایک اور جگہ ار شا د خدا وندی ہے۔

لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًا[5]

“ مسلمانو ں میں و ہ لو گ جو کسی معذ و ر ی کے بغیر گھر بیٹھے ر ہتے ہیں ا و ر وہ لوگ جو ا للہ کی را ہ میں جا ن و ما ل سے جہا د کر تے ہیں ، دو نو ں کی حیثیت یکساں نہیں ہے، ا للہ نے بیٹھنے وا لو ں کی نسبت جان و ما ل سے جہا د کر نے وا لو ں کا در جہ بڑا ر کھا ہے ۔ا گر چہ ا للہ نے ہر ا یک کے لئے بھلا ئی ہی کا وعد ہ فرما یا،مگر اس کے ہا ں مجا ہد و ں کی خد ما ت کا ا جر بیٹھنے وا لو ں سے ز یا دہ ہے”

فر ما یا:

كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَكُمْ”[6]

تمھیں جنگ کا حکم د یا گیا ہے اور وہ تمہیں نا گو ا ر ہے

وَجَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا [7]

“اور اس قر ا ٓ ن کو لے کر ان کے سا تھ جہا د کر و”

یہا ں جہا د کبیر تین معنو ں میں ا ستعما ل ہو ا ہے ۔ا یک انتہا ئی کو شش جس میں آ د می سعی وکاوش وجا ن فشا نی کا کو ئی د قیقہ فروگزاشت نہ کرے۔دو سر ے بڑے پیما نے پر جدو جہد جس میں آ دمی کو شش کا کو ئی پہلو اور مقا بلے کا کو ئی محا ذ نہ چھو ڑ ے۔جس محا ذ پر باطل کی طا قتیں کا م کر ر ہی ہىں اس پر ا پنی طا قت بھی لگا دے،اور جس جس پہلو سے بھی حق کی سر بلند ی کے لئے کا م کر نے کی ضرو رت ہو کر ے۔اس میں زبان و قلم کا جہا د بھی شا مل ہے ا ور جا ن و ما ل کا بھی اور تو پ و تفنگ کا بھی۔ـ[8]

مقصد جہا د :

جہا د کا مقصد ا علا ء کلمتہ ا للہ اور فتنہ کا استیصا ل ہے اور جب ا علائے کلمتہ اللہ ہو گا تو اس سے فتنہ (PERSECUTION)کمزو رو ں پر ظلم،جبر و ا ستبدادکے سا تھ حق کو د با نا، قبو ل حق سے رو کنا،لو گو ں کو حق کے خلا ف کر نا اور گمرا ہ کر نا،غیر حق کے لئے جنگ کر نا اور نا جا ئز ا غرا ض کے لئے قتل وخو ن اور جھتہ بند ی جیسے جرا ئم کا استیصا ل ہو گا-[9]

مسلح جہا د:

جب مسلما نو ں کے لئے جہا د کا مر حلہ شروع ہو تا ہے۔ تو اس مر حلہ پر بھی ر سو لﷺ کا اسو ۂ یہ ہے کہ جتنا ممکن ہو جنگ سے بچا جا ئے۔اور ا گر بچنا نا ممکن ہو تو پھر یہ بھر پورکو شش ہو نی چا ہئے کہ خونرىزى کم سے کم ہو۔ مسلح تصا دم کے حوا لے سے مسلما ن فقہا ءنے گرا ں قدر خد ما ت سر ا نجا م دئیے ہیں۔

اس حوا لے سے ا لسیر کے نا م سے پو را لٹر یچر مو جو د ہے۔ جس میں مسلح تصا دم کے حو ا لے سے احکا ما ت مو جو د ہیں۔

ا یک ا سلا می ر یا ست کا مسلح تصا دم د یگر غیر ا سلا می ر یا ست سے بھی ہو سکتا ہے اور خو د ا سلا می ریا ست کے ا ند ر با غیو ں کے سا تھ بھی ہو سکتا ہے۔

ہر دوصو ر توں میں ا سلا م اس امر کا لحا ظ ر کھتا ہے کہ ا ہل قتا ل اور غیر قتا ل کے درمیا ن امتیاز رکھا جا ئے۔مثلا ً اسلا م نے اہل قتا ل کے حوا لے سے مند ر جہ ذیل ا مو ر کا خیا ل رکھنا لا ز می کر ر کھا ہے ۔

۱۔ جنگ سے پہلے ضرو ری ہے کہ ان کو ا سلا م پیش کیا جا ئے ا گر ا سلا م قبو ل نہ کر ے تو بحیثیت ذمی، اسلا می ریا ست کے شہر ی ہو نا پیش کیا جا ئے جبکہ مسلح تصا دم آ خر ی چا رہ ہو۔

۲۔غفلت میں حملہ نہ کیا جا ئے ۔

۳۔آگ میں نہ جلا یا جا ئے۔

۴۔قتل صبرسے مما نعت کی گئی۔

۵۔لو ٹ ما ر کی مما نعت۔

۶۔تبا ہ کا ر ی کی مما نعت۔

۷۔مثلہ کی مما نعت۔

۸۔قتل اسیر کی مما نعت۔

۹ ۔قتل سفیر کی مما نعت ۔

۱۰۔بدنظمی و ا نتشا ر کی مما نعت۔

۱۱۔شو روغو غا کی مما نعت۔[10]

غیر مقا تلین پر حملے کی مما نعت:

محا ر بین کے دو طبقے ہیں:

ا ہل قتا ل اور غیر ا ہل قتا ل۔

ا ہل قتا ل کے حقو ق و فرائض کا ذ کر کتب فقہ میں مفصلاً مذکور ہیں۔اہل قتا ل سے مرا د وہ لو گ ہیں جو عملاً جنگ میں حصہ لیتے ہیں جبکہ غیر ا ہل قتا ل سے مر ا د و ہ لو گ ہیں جو عملاً جنگ میں حصہ نہیں لیتے۔ ا ن میں عا م طو ر پر عو ر تیں،بچے،بو ڑ ھے ،بیما ر، زخمی،ا ند ھے ،مجنو ن، خا نقا ہ نشین زا ہد، مند رو ں کے مجا ور ا ور ایسے دو سر ے بے ضرر لو گ ہیں۔

اس حوا لے سے ڈ ا کٹر محمو د ا حمد غا ز ی صا حب فر ما تے ہیں۔

"اس با ت پر بھی مسلما نو ں کے تما م گر وہ ا ور فقہاءمتفق ہیں اور اس میں کسی قا بل ذ کر فقیہ کا کوئی ا ختلا ف نہیں کہ جب میدا ن جنگ میں مسلما ن پہنچ جا ئیں اور جنگ کی نو بت آ جا ئے تو صر ف ا ن لوگوں پر تلوا ر ا ٹھا نا اور حملہ کر نا جا ئز ہے جو عملاً جنگ میں حصہ لے رہے ہو ں،غیر مقا تلین کو قتل کرنا،جیسا کہ ر سو ل اللہﷺ کی ہدا یا ت جنگ سےوا ضح ہو تا ہے۔ا ن ہدا یا ت پر عمل پیرا ہو نا جنگ کی شدت کے دو را ن با لخصو ص اس ز ما نے کی د ست بد ست جنگ میں جتنا مشکل کا م تھا ظا ہر ہے۔ا یسی صورتحا ل میں کہ د شمن کے ملک میں فو ج دا خل ہو گئی ہو اور معر کہ عا م شرو ع ہو گیا ہو اس میں کسی کو یہ تمیز نہیں ر ہتی کہ کو ن جنگ کر نے آ یا ہے اور کو ن جنگ کر نے نہیں آ یا جو شخص تلوا ر نہیں ا ٹھا تا، چاہے وہ د شمن فو ج کے سا تھ ہو،چا ہے وہ دشمن ملک کا آ د می ہو،اس کو قتل نہیں کیا جا ئے گا۔جو لو گ مذہبی طو ر پر تا رک د نیا ہیں اور ا پنے مند رو ں، گر جو ں اور عبا دت خا نو ں میں رہتے ہیں ان کو قتل نہیں کیا جا ئے گا۔نا بینا کو قتل نہ کیا جا ئے خا نہ بدو شوں اور سیا حو ں کو قتل نہ کیا جا ئے گا۔ا یسے بو ڑھےکو جو جنگ میں حصہ نہ لے سکے، قتل نہیں کیا جا ئے گا۔ کسی بے عقل اور بے و قو ف آ د می جس کی عقل در ست نہیں قتل نہیں کیا جا ئے گا۔عو رت۔بچے ،بیما ر،معذو ر اور ا پا ہج کو قتل نہیں کیاجا ئے گا۔ا لبتہ ان ہدا یا ت میں استثنا ٔ ہے ،وہ یہ کہ ا گر ان میں سے کو ئی کسی طو ر پر بھی جنگ میں ہو تو حملے کی ز د میں آ سکتا ہے اور قتل کیا جا سکتا ہے۔[11]

ا یک مر تبہ میدا ن جنگ میں ر سو لﷺ نے ا یک عو ر ت کی لا ش پڑ ی د یکھی۔ نا ر ا ض ہو کر آپﷺ نے فر ما یا کہ ؛"ما كانت هذه تقاتل فيمن يقاتل" ، یہ تو لڑ نے و ا لو ں میں شا مل نہ تھی۔پھرسا لا ر فو ج حضر ت خا لد بن و لیدؓ کو کہلا بھیجا لا تقتلن امراة ولا عسيفاً. یعنی عو ر تو ں اور ا جیر کو ہرگز قتل نہ کرو۔ ایک د و سر ی روا یت کے مطا بق اس کے بعد آ پ ﷺ نے عو ر تو ں اور بچو ں کے قتل کی عا م مما نعت فر ما د ی تھی۔

فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ”[12]

ا لبتہ فقہا ئے کرا م نے عو ر تو ں کے با رے میں لکھا ہے:’ و ان قا تلن قتلن للد فع ” یعنی اگر د شمن کی عو رتیں جنگ میں لڑ ر ہی ہو ں تو ان کو اپنے د فا ع کی خا طر قتل کیا جا سکتا ہے-[13]

نیز مقا تلین کے حوا لے سے ا یک د فعہ ر سو ل ﷺ نے فر ما یا :

وَلَا تَقْتُلُوا شَيْخًا فَانِيًا وَلَا طِفْلًا وَلَا صَغِيرًا وَلَا امْرَأَةً، وَلَا تَغُلُّوا، وَضُمُّوا غَنَائِمَكُمْ، وَأَصْلِحُوا وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ [14]

"اورنہ کسی بو ڑ ھے ضعیف کو قتل کر و، نہ چھو ٹے بچے کو اور نہ عورت کو۔ ما ل غنیمت میں چوری نہ کر وجنگ میں جو کچھ ہا تھ آ ئے سب ا یک جگہ جمع کرو۔ نیکی واحسا ن کرو کیو نکہ ا للہ تعا لی محسنو ں کو پسند کر تا ہے”

اس طر ح فتح مکہ کے مو قع پر آ پ ﷺ نے پہلے سے ہدا یت فر ما دی کہ نہ کسی ز خمی پر حملہ کرنا، جو کو ئی جا ن بچا کر بھا گے اس کا پیچھا نہ کر نا اور جو کو ئی ا پنا در وا زہ بند کر کے بیٹھ جا ئے اس کو ا ما ن دینا ۔

ا بن عبا سؓ سے ر وا یت کہ ر سو ل ﷺ جب کہیں فو ج بھیجتے تھے تو ہدا یت کر د یتے تھے کہ معا بد کے بےقصو ر خا دمو ں اور خا نقا ہ نشین زا ہدو ں کو قتل نہ کر نا ’’لَا تَقْتُلُوا أَصْحَابَ الصَّوَامِع”۔[15]

خلیفہ ا ول حضر ت ا بو بکر ؓ نے جب شا م کی طر ف فو جیں ر وا نہ کیں تو ان کو دس ہدا یا ت دی تھیں۔

۱۔ عو ر تیں ، بچے ،اور بو ڑ ھے قتل نہ کئے جا ئیں۔

۲۔مثلہ نہ کیا جا ئے ۔

۳۔را ہبو ں اور عا بدو ں کو نہ ستا یا جا ئے اور نہ ان کے معا بد مسما ر کئے جا ئیں۔

۴۔کو ئی پھل دا ر در خت نہ کا ٹا جا ئے نہ کھیتیا ں جلا ئی جا ئیں۔

۵۔جا نو رو ں کو ہلا ک نہ کیا جا ئے۔

۶۔آ با د یا ں و یرا ن نہ کی جا ئے۔

۷۔بد عہد ی سے ہر حا ل میں ا حترا ز کیا جا ئے۔

۸۔جو لو گ ا طا عت کر ے ان کی جا ن ما ل کا اسي طرح ا حتر ا م کیا جا ئے جو مسلما نو ں کی جا ن و ما ل کا ہے۔

۹۔ما ل غنیمت میں خیا نت نہ کی جا ئے۔

۱۰۔جنگ میں پیٹھ نہ پھیری جا ئے۔[16]

دو را ن جنگ غیر مقا تل کی ایک صو رت یہ بھی بن سکتی ہے کہ جب کسی محا رب سپا ہی کو شبہ ہو جا ئے کہ اسے ا ما ن دی گئی اور وہ ا ما ن دینے وا لا مسلما ن ہو،مسلمانوں کی فوج کا کوئي غیر مسلم سپاہی ہو،وہ اپنے مقام و منصب کے اعتبار سے کوئي عا م سپا ہی ہو یا سپہ سا لا ر ہو ۔ا گر اس نے دشمن کے کسی سپا ہی کو امان د ے دی، بلکہ اس کی طر ف سے محض ا ما ن د یئے جا نے کا تا ثر بھی د یا گیا اور اس تا ثر کے نتیجے میں دشمن کے کسی سپا ہی نے ہتھیا ر ڈا ل ديا تو پھر اس کو کسی صو رت میں بھی قتل کر نا جا ئز نہیں ہو گا۔حضرت عمر ؓ نے فر ما یا کہ مجھے اطلا ع ملی ہے کہ ہما رے کسی سپا ہی نے کسی غیر مسلم ﴿ایر ا نی) سے کہا ہے،مترس ، یعنی مت ڈ رو اور اسے قتل کر د یا تو میں اس کے خلاف مقد مہ چلا ؤں گا اور اس کو قصا ص میں قتل کر دو ں گا۔[17]

جنگ کے بعد ا سیر ا ن کا مسئلہ بھی غیر مقا تلین کے زمر ے مىں آ تا ہے ۔ اگر چہ حا لت جنگ میں ان کو قتل کر نا جا ئز ہے لیکن ا یک دفعہ جب وہ قید ی بن جا ئىں تو پھر نہ صر ف ان کے قتل کی مما نعت وا رد ہوئی ہے بلکہ ان کے سا تھ ا نتہا ئی نر می و ملا طفت کا سلو ک کر نے کا حکم د یا ہے۔

قر آ ن کر یم میں ا ر شا د با ری تعا لی ہے :

وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا ۔ إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا ۔ إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا”[18]

و ہ خا ص ا للہ کی خو شنو دی کے لئے مسکین اور یتیم ا سیر کو کھا نا کھلا تے ہیں۔ کسی جزا یا شکر یہ کے خوا ستگا ر نہیں ہیں، ہم تو صر ف اس تنگی کے دن سےڈر تے ہیں جس میں شدت تکلیف سےچہرے بگڑ جائیں گے”.

غز وہ بدر میں جب قیدی پکڑ ے گئے تھے تو ر سو لﷺ نے ان کے سا تھ فیا ضی کا بر تا ؤ کیا ۔اور صحا بہ کرا مؓ کو حکم دیا کہ ان کے سا تھ ا چھا سلو ک کر یں۔ تو ا نہو ں نے ا ٓ پﷺ کے اس حکم کی تعمیل میں اچھے سےاچھا کھا نا د یا، خو د کھجو ر کھا تے تھے اور قید یو ں کو سا لن کھلا تے تھے۔ قید یو ں کے پا س جب اپنے کپڑ ے نہ ر ہے تو ر سو ل ﷺ نے ا پنے پا س سے کپڑ ے پہنا ئے۔ حا لا نکہ یہ وہ و قت تھا کہ مسلما ن خو د بہت محتا ج تھے۔[19]

ا ختتا م جنگ پر مفتو حین کی دو قسمیں بن جا تی ہیں:

۱۔معا ہد ین۔

۲۔غیر معا ہد ین۔

جہا ں تک معا ہد ین کا تعلق ہے تو اس سے مرا د وہ لو گ ہیں جو جنگ سے پہلے یا دورا ن جنگ اطاعت قبو ل کر نے پر را ضی ہو جا ئیں اور اسلا می ر یا ست سے شرا ئط طے کر لیں۔ تو اس صو رت میں اسلامی قا نو ن کے مطا بق تما م معا ملا ت ان شرا ئط کے مطا بق کئے جا ئیں گے جو ان سے طے ہو ئی ہیں:

ر سو ل ﷺ نے فر ما یا:

«لَعَلَّكُمْ تُقَاتِلُونَ قَوْمًا، فَتَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ، فَيَتَّقُونَكُمْ بِأَمْوَالِهِمْ دُونَ أَنْفُسِهِمْ، وَأَبْنَائِهِمْ» ، قَالَ سَعِيدٌ فِي حَدِيثِهِ: «فَيُصَالِحُونَكُمْ عَلَى صُلْحٍ، ثُمَّ اتَّفَقَا، فَلَا تُصِيبُوا مِنْهُمْ شَيْئًا فَوْقَ ذَلِكَ فَإِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لَكُمْ»” ۔[20]

“ ا گر تم کسی قو م سے لڑ و اور اس پر غا لب آ جا ؤ اور وہ قو م ا پنی اور ا پنی او لا د کی جا ن بچا نے کے لئے تم کو خراج دے تو منظو ر کر لو(ا یک دو سر ی حد یث میں ہے کہ تم سے ایک صلح نا مہ طےکرلىں اور متفق ہوجاۓ)تو پھر تم اس مقرر خرا ج سے ا یک حبہ بھی ز ا ئد نہ لینا کیو نکہ وہ تمھا رے لئے در ست نہ ہو گا۔

ایک اور حد یث میں ہے:

«أَلَا مَنْ ظَلَمَ مُعَاهِدًا، أَوِ انْتَقَصَهُ، أَوْ كَلَّفَهُ فَوْقَ طَاقَتِهِ، أَوْ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ، فَأَنَا حَجِيجُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»۔[21]

“خبر دا ر! جو شخص کسی معا ہد پر ظلم کر ے گا یا اس کے حقو ق میں کمی کرے گا یا اس کی طا قت سے ز یا دہ اس پر بو جھ ڈا لے گا یااس سے کو ئی چیز اس کی مر ضی کے خلا ف و صو ل کر ے گا اس کے خلا ف قیامت کے دن میں خو د مستغیث بنوں گا۔

حضر ت ا بو بکر صد یقؓ کے زما نہ میں ا ہل حیرہ کے سا تھ جو معا ہدہ ہوا اس کے ا لفا ظ یہ ہے:

لَا يَهْدِمَ لَهُمْ بَيْعَةً وَلا كَنِيسَةً وَلا قَصْرًا مِنْ قُصُورِهِمُ الَّتِي كَانُوا يَتَحَصَّنُونَ فِيهَا إِذَا نَزَلَ بِهِمْ عَدُوٌ لَهُمْ، وَلَا يمنعنون مَنْ ضَرْبِ النَّوَاقِيسِ وَلا مِنْ إِخْرَاجِ الصُّلْبَانِ فِي يَوْمِ عِيدِهِمْ،”۔[22]

ان کا کو ئی معبد اور گر جا منہد م نہ کیا جا ئے گا،نہ ان قلعو ں میں سے کو ئی قلعہ تو ڑا جا ئے گا جن میں وہ اپنے د شمنو ں سے بچا ؤ کے لئے پنا ہ گز ین ہوا کر تے تھے نہ ا نہیں نا قو س بجا نے سے ر و کا جا ئے گا اور نہ ان کو عید کے دن صلیبیں نکا لنے سے منع کیا جا ئے گا ۔

حضر ت عمر ؓ نے اہل بیت مقد س کو جو صلح نا مہ لکھ کر د یا تھا اس کے ا لفا ظ یہ ہیں:

"أعطاهم أمانا لأنفسهم وأموالهم، ولكنائسهم وصلبانهم، وسقيمها وبريئها وسائر ملتها، أنه لا تسكن كنائسهم ولا تهدم، ولا ينتقص منها ولا من حيزها، ولا من صليبهم، ولا من شيء من أموالهم، ولا يكرهون على دينهم، ولا يضار أحد منه" [23]

“ان کو ا ما ن دی ان کی جا ن و ما ل اور ا ن کی کلیساوں اور صلیبوں اور ان کے تند رستو ں اور بیماروں کے لئے۔ یہ ا ما ن ایلیا کی سا ر ی ملت کے لئے ہے۔ عہد کیا جا تا ہے کہ ان کنیسو ں کو مسلما نو ں کا مسکن نہ بنا یا جا ئے گا۔نہ ان کو منہدم کیا جا ئے گا، نہ ان کے ا حا طو ں اور ان کی عما ر تو ں میں کمی کی جائیگی۔نہ ان کو صلیبو ں اور ان کے ا موا ل میں سے کسی چیز کو نقصا ن پہنچا یا جا ئے گا”۔

مفتو حین کے با رے میں اسلا می تعلیما ت کا مر جح قا نو ن یہ ہے کہ ان کو ذ می بناىا جا ئے اور ان کو اس حا ل پررہنے دیا جا ئے جس پر وہ جنگ سے پہلے تھے۔

اس قسم کے مفتو حین کو ذ می بناىاجا تا ہے تو ان کو چند حقو ق د یئے جا تے ہیں۔ ذ یل میں سے چند کا ذ کر کیا جا تا ہے۔

۱۔جب ا ما م ان سے جز یہ قبو ل کر لے تو ہمیشہ کے لئے عقد ذ مہ قا ئم ہو جا ئے گا ۔ اور ان کی جا ن ومال کی حفا ظت کر نا مسلما نو ں پر فر ض ہو گا۔

۲۔عقد ذ مہ قا ئم ہو جا نے کے بعد وہ ا پنی ز مینو ں کے ما لک ہو ں گے۔

۳۔جز یہ کی مقدا ر ا نکی ما لی حا لت کے لحا ظ سے متعین کی جا ئیگی۔

۴۔جز یہ صر ف ان لو گو ں پر لگا یا جا ئے گا جو اہل قتال ہیں۔غیر ا ہل قتا ل مثلا ً بچے ، عورتیں،مجانین، اند ھے ،ا پا ہج، عبا دت گا ہو ں کے خدا م، از کا ر رفتہ بو ڑ ھے، فقرا ٔ اور سنیا سی لوگ، ا یسے بیما ر جن کی بیما ری سا ل کے ایک بڑ ے حصے تک ممتد ہو جا ئے اور لو نڈ ی غلا م و غیر ہ جز یہ سے مستثنی ہیں۔

۵۔ذ می کے خو ن کی قیمت مسلما ن کے خو ن کے برا بر ہے۔

۶۔تعز یر ا ت میں ذ می اور مسلما ن کے در جہ مسا وی ہے۔

۷۔د یوا نی قا نو ن میں بھی ذ می اور مسلما ن کے در میا ن کا مل مسا وا ت ہے۔

۸۔ذ می کو ز با ن یا ہا تھ پا ؤ ں سے تکلیف پہنچا نا، گو لی ما ر دینا ، ما رنا ،پیٹنا یا اس کی غیبت کر نا اس طرح نا جا ئز ہے جس طر ح مسلما ن کے حق میں نا جا ئز ہے۔

۹۔ذمیو ں کی شخصی معا ملا ت ان کی شر یعت (Personal Law) کے مطا بق طے کئے جا ئیں گے۔

۱۰۔عقد ذ مہ مسلما نو ں کی جا نب سے ا بد ی لزو م ر کھتا ہے، یعنی وہ ا سے با ند ھنے کے بعد تو ڑ د ینے کے مختیا ر نہیں ہیں، لیکن دو سر ی جا نب ذ میو ں کو ا ختیا ر ہے کہ جب تک چا ہیں اس پر قا ئم رہیں اور جب چا ہیں تو ڑ د یں۔[24]

عصر حا ضر میں مسلح تصا دم کے دو را ن متا ثر ین جنگ کی مدد کے لئےکئی ا دا رے مثلاً بین الاقوامی ر یڈ کراس کمیٹی ICRCاور ہلا ل ا حمر وغیرہ علمی اور جنگی میدا نوں میں مفید خدمات سر ا نجا م د یتے ہیں۔اس حوا لے سے بین ا لا قوا می ریڈ کرا س کمیٹی ICRC اسلا م آ با د ،نے ڈا کٹر عبد الغنی عبد ا لحمید محمو د کی کتا ب “اسلا می شر یعت اور بین ا لا قو امی ا نسا نی قا نو ن میں مسلح جنگو ں کے دو را ن متا ثر ہو نے وا لے ا فرا د کا تحفظ” شا ئع کی ہے مصنف نے اس کتا ب میں مو ضو ع سے ا نصا ف کیا ہے اس کتا ب میں ا نہو ں نے بین ا الا قوا می ا نسا نی قا نو ن کا شہر یو ں کے حقو ق کی حفا ظت کا حوا لہ د یا ہے۔ آپ فرماتے ہیں۔

"بین ا لا قوا می قا نو ن نے دا خلی مسلح جنگ کی حا لت میں شہر یو ں کی حفا ظت کو بہت اہمیت دی ہے۔ضمیمہ دو م سا ل ۱۹۷۷ ٔ کے با ب چہا رم میں ان حقو ق کا ذ کر کر تا ہے۔د فعہ ۱۳ یہ و ضا حت کر تی ہے کہ فو جی کا ر وا ئیو ں کے دو را ن شہر ی ہر قسم کے خطرا ت سے حفا ظت کا حق ر کھتے ہیں۔ حقو ق کی حفا ظت کو فعا ل بنا نے کےلئے یہ قا نو ن شہر یو ں اور ان کی آ با دیو ں پر ہر قسم کے حملے کو منع کر تا ہے،کسی بھی قسم کے تشدد یا دھمکی جس کا مقصد شہر یو ں میں خو ف و ہرا س پھیلا نا ہو حرا م ہے ۔ شہر یو ں کو یہ حقوق اس وقت حا صل ہو ں گے جب تک وہ کسی جنگی کا روا ئی میں شر یک نہ ہو ں۔

ضمیمہ دو م شہر یو ں کو ان کی آ با دی سے نکا لنے کو ممنو ع قرار د یتا ہے لیکن ا گر ا سی میں ان کی بہتری ہے یا فو جی تقا ضا ہو تو پھر ان کا نکا لنا در ست ہو گا -

ضمیمہ دو م شہر یو ں کے لئے ضرو ری ا شیا ء کی تبا ہی کو منع کر تا ہے ۔ ان کو جنگی حکمت عملی کے طور پر بھو کےر کھنا حرا م ہے ۔اس طر ح ا نجینئر نگ تنصیبا ت بڑ ے بڑ ے کا ر خا نو ں میں خطر نا ک چیز یں جمع ہو تی ہىں مثلاً پا نی کے ڈ یم ، بند،ا یٹمی بجلی گھر و غیرہ)ثقا فتی اثاثے اور عبا دت گا ہو ں پر حملہ کر نا ،ان کو تبا ہ کر ناجا ئز نہیں ہے۔

ا سی طر ح ضمیمے کی د فع نمبر ۱۸ امدا دی کا روا ئی کر نے وا لی جما عتو ں کے احکا م پر مشتمل ہے ۔ان

جما عتو ں مثلاً ہلا ل ا حمر اور صلیب ا حمر ،اسد ا حمر اور شمس و غیرہ کو کسی بھی جنگی علا قے میں امدادی

کا ر وا ئی کر نے کے لئے ٹھر نا جا ئز ہے اس طر ح شہر یو ں کے لئے بھی جا ئز ہے کہ وہ ز خمیو ں، مر یضو ںاور سمندر میں پھنسے ہو ئے ا فرا د کى مدد کر یں، ان کے سا تھ مہر با نی سے پیش آ ئیں اور ان کی ہر قسم کی ا عا نت کوممکن بنا نے کے لئے ا قدا ما ت کر نا جا ئز ہے اس طر ح ا نسا نیت کی بنیا د پر بغیر کسی نا جا ئز امتیا ز کے شہریوں کے مفا د کی خا طر اور دو سر ی جا نب کی ر ضا مندی سے ان کی مدد کر نا جا ئز ہے۔در حقیقت دا خلی مسلح جنگ کے متا ثر ین شہر یو ں کے لئے بھی تقر یباً وہ ا حکا م ہیں جو بین ا لا قوا می مسلح جنگ کے متا ثر ین کے لئے مو جو د ہىں کیو نکہ ا نسا نی سلو ک اسی کا تقا ضا کر تا ہے[25]

خلا صہ کلا م یہ ہے کہ د نیا کے تما م مذا ہب اور صاحب فکر زعماءنے تکر یم ا نسا نیت کا درس د یا ہے ضرو رت اس با ت کی ہے کہ اس کا کما حقہ ادا رک کیا جا ئے۔ اور انسا نیت کو صر ف ما د یا ت کے بجا ئے روحانیت کی نظر سے بھی د یکھاجا ئے تا کہ تکر یم ا نسا نیت کا خوا ب شر مندہ ٔ تعبیر ہو سکے۔

حوالہ جات

  1. : مر تضی ملک، شا ہ و لی ا للہ کا فلسفہ ، ص ، ۱۴۷
  2. ا لا فر یقی ،ا بن منظو ر ، لسا ن ا لعر ب، ما دہ جہد۔
  3. : ا لتو بہ،۷۸
  4. : ا لتو بہ ،۴۱
  5. : ا لنسا ء:۹۵
  6. : البقر ہ: ۲۱۶
  7. : ا لفر قا ن:۵۲
  8. : مو دو دی، مو لا نا سیدا بوا لا علی مو دو دی،تفہیم ا لقر آ ن :۳:۴۵۷
  9. : مو دو دی، مو لا نا سیدا بوا لا علی مو دو دی،ا لجہا د فی ا لا سلا م،ص ۱۰۷
  10. : مز ید تفصیل کے لئے ،و ھبہ ا لز حیلی، بین ا لا قو امی تعلقا ت،ا سلا م اور بین ا لا قوا می قا نو ن کا تقا بلی مطا لعہ ،ص ۲۵تا ۵۴ ا ور ا لجہا د فی ا لا سلا م ،ص ۲۲۱ تا۲۳۴۔
  11. : غا زی،محمو د ا حمد ڈا کٹر، اسلا م کا قا نو ن بین ا لمما لک، ص۳۳۸
  12. : ا لبخاری، محمد بن اسماعیل، الصحیح،کتاب الجھاد و السیر،باب قتل النساء فی الحرب
  13. : اسلا م کا قا نو ن بین ا لمما لک :۳۹
  14. : ابوداؤد،سلیمان بن اشعث السجستانی، السنن، کتاب الجھاد،باب ، فی دعاء المشرکین3/37
  15. : ا بن ابی شیبہ، المصنف،6/484
  16. : ابن خلدون، علامہ عبدالرحمن، کتاب العبر فی دیوان المبتداء والخبر ۲ ۔ ۴۴۳ ۔
  17. : ا لبخا ری،محمد بن ا سما عیل ا لصحیح،كتاب الجزيته والموادعته، باب، إذا قالو سبأنا ولم يحسنوا، اسلام كا قانون بين الممالك ،ص ۳۴۰۔
  18. : الدھر:۸:۱۰
  19. : معین ا لد ین شا ہ، تا ریخ اسلا م،ص۲۴۸
  20. : ا بو دا ؤ د، سلیما ن بن اشعث، السنن، کتا ب الجہا د، باب فی تعشیر أهلالذمة إذااختلفوا 3/170
  21. : ا یضاً
  22. : ۔کتا ب ا لخرا ج لابی یوسف1/157
  23. : ا لطبری، التاریخ،4/57
  24. : تفصیل کے لئے:کتا ب ا لخرا ج، اما م ابو یو سف:۳۲ فتح ا لقد یر ا بن الہما م،9 :۳۵۹بدا ئع ا لصنا ئع للکاسانی،2/37 الجہا د فی ا لا سلا م ،ص ۲۸۳
  25. :عبد الغنی عبد الحمید، ڈاکٹر، اسلامی شریعت اور بین الاقوامی انسانی قانون میں مسلح جنگوں کے دوران متاثر ہونے والے افراد کا تحفظ:40 مصادر و مراجع -القرآن الکریم ابن خلدو ن،علا مہ عبد ا لرحمن،الکتا ب ا لعبر و دیوا ن المبتدا ٔ وا لخبر،بیروت،دارالفکر،1988ء - -ابن الہمام، کمال الدین محمد بن عبد الواحد،فتح القدیر،بیروت،داراحیاء التراث العربی،1986ء ا بو دا ؤ د، سلیما ن اشعث، السنن،لاہور،اسلامی اکادمی،س،ن۔ - -ابویوسف الامام، کتاب الخراج،القاہرہ،المکتبہ الازہریۃ للتراث،س،ن۔ ۔ا لبخا ری،محمد بن ا سما عیل ا لصحیح ،دہلی،اصح المطابع،س ن۔ -عبد الغنی عبد الحمید، ڈاکٹر، اسلامی شریعت اور بین الاقوامی انسانی قانون میں مسلح جنگوں کے دوران متاثر ہونے والے افراد کا تحفظ، مترجیمین،محمد منیر،اور محمد مطیع الرحمان ،اسلام آباد، انٹر نیشنل کمیٹی فار رىڈکراس،س،ن۔ -غا زی،محمو د ا حمد ،ڈا کٹر، اسلا م کا قا نو ن بین ا لمما لک، اسلام آباد، شریعہ اکیڈمی،2007ء -ا لا فر یقی ،ا بن منظو ر ، لسا ن ا لعر ب،بیروت،دارصادر،س،ن۔ -الکاسانی،علاؤالدین،ابوبکر بن مسعود،بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع،کوئٹہ،المکتبہ الحبیبیہ،س،ن۔ -مر تضی ملک، شا ہ و لی ا للہ کا فلسفہ ، لاہور،ملک سنز،س،ن،، -مو دو دی، مو لا نا سیدا بوا لا علی ،تفہیم ا لقر آ ن،لاہور،ادارہ ترجمان القرآن،2000ء -مو دو دی، مو لا نا سیدا بوا لا علی ،ا لجہا د فی ا لا سلا م، لاہور،ادارہ ترجمان القرآن،2009ء -ندوی، شاہ معین الدین،تاریخ اسلام،لاہور، مکتبہ،رحمانیہ،س ن، -و ھبة ا لز حیلی، بین ا لا قو امی تعلقا ت،ا سلا م اور بین ا لا قوا می قا نو ن کا تقا بلی مطالعہ ،مترجم، مولانا حکیم اللہ،اسلام آباد، شریعہ اکیڈمی،2010ء