معاشرتی امن و امان میں پختون روایتی مصالحت اور تحکیم کا کردار: ایک تحقیقی مطالعہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ الایضاح
عنوان معاشرتی امن و امان میں پختون روایتی مصالحت اور تحکیم کا کردار: ایک تحقیقی مطالعہ
انگریزی عنوان
The Role of Pakhtūn Traditional Arbitration and Taḥkīm in Conflict Resolution: An Analytical Review
مصنف خان، جاوید، حافظ صالح الدین
جلد 35
شمارہ 2
سال 2017
صفحات 27-57
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
The Pakhtūn’S Traditional Reconciliation Process, Social Peace, Conflicts, Taḥkīm, Harmony
شکاگو 16 خان، جاوید، حافظ صالح الدین۔ "معاشرتی امن و امان میں پختون روایتی مصالحت اور تحکیم کا کردار: ایک تحقیقی مطالعہ۔" الایضاح 35, شمارہ۔ 2 (2017)۔
جدید قانونی تصورات پر مذہب اور اخلاق کا اثر: مغربی اور اسلامی تناظر میں ایک تقابلی و تنقیدی جائزہ
معاشرتی امن و امان میں پختون روایتی مصالحت اور تحکیم کا کردار: ایک تحقیقی مطالعہ
انسانی دودھ کی خرید وفروخت اور رضاعت کے مسائل
مسائل میراث حل کرنے کے قدیم اور جدید حسابی طریقوں کا تقابلی جائزہ
عرب عہد جاہلیت میں ’’طلاق‘‘ کا تصور: تحقیقی جائزہ
مروجہ جاگیردارانہ نظام کا تاریخی ارتقاء اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تقابلی جائزہ
یاسا کا تعارف اور ناقدانہ جائزہ
فقہی اختلافات کے مابین امام شعرانی اور شاہ ولی اللہ کے اسالیب تطبیق
قرائن الترجیح العامة بين الروايات المختلفة المعلة مع الأمثلة التطبيقية من كتاب العلل الواردة في الأحاديث النبوية
أهمية المنهج التطبيقي في تدريس الحديث النبوي وعلومه
ابتكارات العلامة الزمخشري في علم المعاني خلال أسلوب السؤال والجواب في تفسيره الكشاف
الروائع البلاغية للتذييل في النثر، والشعر
أوزان شعر محمود سامي البارودي وموسيقاه: دراسة تحليلية إحصائية
Antecedents of “Quality of Work” in Islamic Perspective Through Mediating Effect of Perceived Job Performance
Syed Ali Tarmizi and Akhun Darwaiza: Mughal Agents or Popular Saints
An Analysis of Prisons’ Staff Role in the Reintegration of the Prisoners
Spirituality and Psychological Well-Being Among Muslims and Christians Adolescents and Young Adults
Quran and War Media: Towards a More Constructed Approach to Conflict Reporting
Higher Education for Women in Peshawar: Barriers and Issues
Development of Kabul under Mughals 1504-1738 AD
The Status of Medical Manuscripts by Muslim Scientists at Islamia College Peshawar Library

Abstract

To maintain and enhance social peace and mutual interaction among people it is mandatory to resolve their mutual conflicts. The eradication of mutual conflicts and working for reconciliation is obligatory on the Muslims. Al-mighty Allah has declared reconciliation and resolution of conflicts among all the Muslims as legitimate action. There are numerous verses of the Holy Quran and Hadith of the Prophet where Muslims have been ordered for reconciliation aiming to promote brotherhood and peace in society. The main rationale behind this is to bring harmony and peace in the social order of life. What are the pre-requisites of reconciliation from Sharia’s perspective, in which conflict reconciliation is permissible and in which cases it is not allowed. This study emphasizes to answer the above mentioned question. Furthermore, efforts have been made to provide a sharia’s foundation for those who are involved in the process of reconciliation in the form of Taḥkīm. This will not only encourage them, but will help in the maintenance of peace in the society. Similarly, a comparison will also be made between the merits and demerits of Pakhtūn’s traditional reconciliation process, and important suggestions will be made to make the Pakhtūn’s traditional reconciliation process more productive and valuable.

تعارف:

معاشرتی امن و امان اورباہمی ربط وتعاون بڑھانے کے لئے لوگوں کے مابین درپیش تنازعات اور لڑائی جھگڑوں کا خاتمہ ضروری ہے اور شرعی لحاظ سے مسلمانوں پر یہ فرض کفایہ ہے کہ صلح مصالحت کے ذریعے لوگوں کے مابین لڑائی جھگڑوں کا خاتمہ کریں ۔اسی مصلحت کی خاطراللہ تعالی ٰنے انسانوں کے مابین صلح مصالحت کوجائز قراردیاہے اور لڑائی جھگڑوں کو ختم کرکے آپس میں بھائی چارے کی زندگی گزارنے کے متعلق قرآن وحدیث میں بہت سارے فضائل سمیت احکامات وارد ہوے ہیں ۔ مصالحت کا بنیادی مقصدمقامی اور علاقائی سطح پر لوگوں کے تنازعات کاپرامن حل نکالنا ہے اور اس مقصد کی حوصلہ افزائی قرآن کریم اور احادیث مبارکہ سے ہوتی ہے ۔

شرعی طورپر مصالحت کے کیاتقاضے ہیں ؟ مصالحت کن معاملات میں جائز ہے اور کن معاملات میں ناجائزہے ؟ مصالحین کے لئے شریعت نے کیاشرائط بیان کی ہیں ؟ مصالحت کن طریقوں سے جائزہے ؟مصالحت کاشرعی حکم کیاہے؟تحکیم سے کیا مراد ہے اور اس کا دائرہ کار کیا ہے؟

زیر نظر آرٹیکل میں درجہ بالاقضایا اور سوالات کے حل کے نتیجے میں امن عالم کا یقینی ہو نا منقح ہو جا ئے گا اور یو ں معاشرہ کو صا لح افراد ملنے کی حوصلہ افزائی ہو گی اور جنگ و جدال کا قلع قمع ہو کراس کا سہرہ مصالحین کے مصالحت کی روایتی تشکلیلات کو بروئے کار لا نے اور تحکیم پر ہو گا جو کہ زیر نظر تحقیقی مطالعے کا بنیادی ہدف گردانا گیاہے اور یوں لوگوں کے باہمی جھگڑوں اور مقدمات کا فیصلہ کرنے کے متعلق ایک نئے باب کانہایت مفید اضافہ ہو گاجس کے ذریعے مقامی سطح پرحکومت تک پہنچنے سے قبل ہی بہت سے مقدمات اور جھگڑوںکو برادریوں کی سطح پر پنچائیت کے ذریعے حل ہو جا نے کی روش جاری ہو سکے گی۔

مصالحت کی لغوی واصطلاحی تعریف:

مصالحت عربی زبان کالفظ ہے جو’’صَلُحَ ‘‘سے باب مفاعلہ کامصدرہے۔لغت میں مصالحت کا اطلاق فساد ،نزاع اورخصومت کی ضد پر کیا جاتاہے۔ اُردو زبان میں درستگی،صحت،برابری اور اچھائی جیسے الفاظ کے ساتھ اس کی تعبیر کی جاتی ہے،تاہم لڑائی جھگڑا،جنگ،نفرت اور دشمنی ختم کرنے میں اس کا استعمال زیادہ عام اور مشہور ہے۔ چنانچہ مشہور عربی لغت’’المغرب‘‘ نے لکھاہے:

وَالصُّلْحُ اسْمٌ بِمَعْنَى الْمُصَالَحَةِ وَالتَّصَالُحِ خِلَافُ الْمُخَاصَمَةِ وَالتَّخَاصُمِ([1])

’’صلح ،مصالحت اورتصالح کے معنی پرآتی ہے جولڑائی اورجھگڑے کی ضدہے۔‘‘

عربی اُردو ڈکشنری "القاموس الوحید "میں اس کا معنیٰ لکھا گیا ہے ،ٹھیک ہونا،خرابی کا دور ہونا،نیک ہونا ([2])

شرعی اصطلاح میں صلح مصالحت کی تعریف یوں کی گئی ہے:

مُعَاقَدَةٌ يَرْتَفِعُ بِهَا النِّزَاعُ بَيْنَ الْخُصُومِ، وَيُتَوَصَّل بِهَا إِلَى الْمُوَافَقَةِ بَيْنَ الْمُخْتَلِفِينَ([3])

’’صلح ایک ایسا عقدہے جس کی وجہ سے فریقین کے مابین لڑائی جھگڑا ختم ہوجاتاہےاور مخالفین کے مابین اختلاف دور ہوکرموافقت اور ہم آہنگی پیدا ہوجاتی ہے۔‘‘

فقہ حنفی کی مشہورکتاب شرح مجلۃ لاحکام میں اس کی تعریف یوں لکھی گئی ہے:

عَقدٌیَرفَعُ النَّزَاعَ بِالتَّرَاضِی([4]) ’’وہ عقد جس کے ذریعےباہمی رضامندی سے نزاع کو ختم کیا جائے۔‘‘

مصالحت کی مشروعیت:

قرآنی آیات کی روشنی میں:

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے صلح مصالحت کے متعلق ارشاد فرمایاہے:

﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ﴾([5])

’’اگر کوئی عورت شوہر کے لڑنے یاجی پھرجانے سے ڈرے تودونوں پرکچھ گناہ نہیں کہ آپس میں کسی طرح صلح کرلیں اورصلح بہت بہتر ہے۔

اس طرح دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَoإِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُون﴾ ([6])

’’اگر مسلمانوں کے دوفریق آپس میں لڑپڑیں توان میں صلح کردوپھراگرایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے توتم زیادتی کرنے والے کےساتھ لڑویہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پھرآئے،اگرپھرآیاتوان کے درمیان برابری اورانصاف سے صلح کرادو بے شک اللہ کوانصاف والے پسندہوتے ہیں۔مسلمان جوہیں سوبھائی بھائی ہیں لہٰذااپنے بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ اوراللہ سے ڈرتے رہوتاکہ تم پررحم ہو۔ ‘‘

یہ بات واضح ہے کہ مسلمانوں کے مابین کسی بھی تنازعہ کی صورت میں صلح کرنا جائز ہے ۔ پہلی آیت کی تفسیر میں امام جصاص ؒ(م:۳۷۰ھ) لکھتےہیں:

’’فَأَبَاحَ اللَّهُ لَهُمَا الصُّلْحَ فَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَجَازَ لَهُمَا أَنْ يَصْطَلِحَا عَلَى تَرْكِ بَعْضِ مَهْرِهَا أَوْ بَعْضِ أَيَّامِهَا بِأَنْ تَجْعَلَهُ لِغَيْرِهَاوَقَالَ عُمَرُ مَا اصْطَلَحَا عَلَيْهِ مِنْ شَيْءٍ فَهُو جَائِز‘‘([7])

’’ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں (میاں بیوی)کوصلح کرانے کی اجازت دی ہے چنانچہ حضرت علیؓ اور حضرت ابن عباسؓ کے ہاں ان دونوں کے لئے جائز ہے کہ وہ مہر کےکچھ حصےیااس کےحصےکے بعض ایام کودوسری بیوی کو دینے پر صلح کریں اورحضرت عمرؓ(م:23ھ)کے ہاں جس چیز پر بھی صلح کی جائے تو جائز ہے۔‘‘

گوکہ آیت میں صرف زوجین کےدرمیان صلح کی کیفیت بیان کی گئی ہے تاہم کسی بھی تنازع میں مصالحت صرف زوجین کےباہمی معاملات تک محدودنہیں بلکہ ہر قسم کے معاملات میں جائز ہے چنانچہ امام جصاصؒ (م:۳۷۰ھ)نے لکھا ہے:

’’وَأَجَازَتْ الصُّلْحَ فِي سَائِرِ الْوُجُوهِ وقَوْله تعالى وَالصُّلْحُ خَيْرٌ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ يَعْنِي خَيْرٌمِنْ الْإِعْرَاضِ وَالنُّشُوزِ وَقَالَ آخَرُونَ مِنْ الْفُرْقَةِ وَجَائِزٌ أَنْ يَكُونَ عُمُومًا فِي جَوَازِ الصُّلْحِ فِي سَائِرِ الْأَشْيَاءِ‘‘([8])

’’تمام اشیاء میں صلح کرنے کی اجازت ہے اور صلح بہت بہتر ہے۔ بعض اہل علم حضرات نے فرمایا ہے کہ منہ موڑنے اور نافرمانی کےمقابلے میں صلح کرنا بہتر ہے اور بعض حضرات نےزوجین کےباہم علیحدہ ہونے کے بجائےان کاباہم صلح کرنا بہتر لکھا ہے ۔

اوریہ جائز ہے کہ تمام اشیاء میں صلح کے جواز کے لئے اس آیت سے استدلا ل کیا جائے۔‘‘

اِسی طرح قرآن کریم میں قصداً قتل کئے گئے شخص کے اولیاء کے متعلق ارشاد فرمایا گیاہے:

﴿فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ﴾([9])

’’جس کومقتول کے بھائیوں(اولیاء) کی طرف سے کچھ معاف کیا جائےتو پھراس کودستور کےموافق اوراچھے طریقے سے ادائیگی کرنی چاہیے۔‘‘

اس سے یہ بھی واضح ہوتاہےکہ قتل عمد میں بھی مقتول کے اولیاء صلح کر سکتے ہیں جیسا کہ امام جصاص(م:۳۷۰ھ) نے فرما یا ہے :

’’إنَّ الْآيَةَ اقْتَضَتْ جَوَازَ الصُّلْحِ۔۔۔۔۔وَلَوْ صَالَحَ مِنْ دَمٍ عَمْدٍ عَلَى مَالٍ بِاتِّفَاقِ الْجَمِيعِ قُبِل َذَلِكَ فَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ دَمَ الْعَمْدِ مَالٌ فِي الْأَصْلِ لَوْلَا ذَلِكَ لَمَا صَحَّ الصُّلْحُ كَمَا لَمْ يَصِحَّ عَنْ حَدِّ الْقَذْف‘‘([10])

’’بے شک یہ آیت صلح کے جائز ہونے کا تقاضا کرتی ہے ۔۔۔ اور اگر قتل عمد میں سب ورثاءکے اتفاق سےمال پر صلح کی جائے ۔تو اس صلح کو قبول کیا جائے گا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دم عمد اصل میں مال ہے اس لئے کہ اگر یہ مال نہ ہو تو اس کے بدلے صلح کرنا درست نہ ہوتا جیساکہ حدقذف پر صلح کرنا درست نہیں۔‘‘

مزیدبرآں قرآن کریم میں ایسے شخص سے صلح کرانے کا حکم دیا گیا ہے جو مرض وفات میں وصیت کرکے ظلم کررہا ہو یعنی ایسی وصیت کررہا ہو کہ ایک شخص(وارث) کو محروم کررہاہو اور دوسرے کو نواز رہاہو چنانچہ ارشادِباری تعالیٰ ہے:

﴿فَمَنْ خَافَ مِنْ مُوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيم﴾([11])

’’جوشخص وصیت کرنے والے کی طرف داری یاگناہ سے ڈرے پھران کاآپس میں صلح کرادے تواس پرکوئی گناہ نہیں‘‘۔

اس آیت کی تفسیر میں ابن عربیؒ(م:۴۴۹ھ)فرماتے ہیں:

’’إنْ خِفْتُمْ مِنْ مُوصٍ مَيْلًافِي الْوَصِيَّةِ،وَعُدُولًاعَنْ الْحَقِّ،وَوُقُوعًا فِي إثْمٍ،وَلَمْ يُخْرِجْهَابِالْمَعْرُوفِ فَبَادِرُواإلَى السَّعْيِ فِي الْإِصْلَاحِ بَيْنَهُمْ فَإِذَاوَقَعَ الصُّلْحُ سَقَطَ الْإِثْمُ عَن الْمُصْلِح‘‘([12])

’’اگر وصیت کرنے والے کے وصیت میں کسی ایک طرف میلان ، حق سے عدول اور گناہ میں پڑنے کا اندیشہ ظاہر ہو اور وہ اچھےطریقے سے وصیت نہ کرے تو(مسلمانوں کو حکم ہے کہ) ان کے مابین صلح کریں چنانچہ جب صلح ہوجائے تو صلح کرانے والے کا گناہ ختم ہوجائے گا۔‘‘

احادیث مبارکہ کی روشنی میں:

نبی کریمﷺ کی مبارک زندگی سے بھی مسلمانوں کے مابین صلح مصالحت کےبہت سے آثار ملتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے خودصلح مصالحت کواختیارفرمایاتھا،ان میں سے چندکا تذکرہ ذیل میں کیا جاتاہے:

امام بخاریؒ(م:۲۵۶ھ)نے صلح مصالحت کے بارے میں اس حدیث مبارک کونقل کیا ہے فرمایا:

’’عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ أَهْلَ قُبَاءٍ اقْتَتَلُوا حَتَّى تَرَامَوْا بِالحِجَارَةِ، فَأُخْبِرَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَقَالَ اذْهَبُوا بِنَا نُصْلِحُ بَيْنَهُمْ‘‘ ([13])

’’حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ قباوالے آپس میں لڑپڑے یہاں تک کہ ایک دوسرے پرپتھراؤکیا اس کی خبر نبی کریم ﷺ کو دی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایامیرے ساتھ چلوکہ ان کے درمیان صلح کر لیں۔‘‘

اسی طرح صلح کی مشروعیت اور جواز کے متعلق نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

’’الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ المُسْلِمِينَ، إِلَّا صُلْحًا حَرَّمَ حَلَالًا، أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا، وَالمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ،إِلَّاشَرْطًا حَرَّمَ حَلَالًا، أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا‘‘ ([14] )

’’ مسلمانوں کے مابین صلح مصالحت کرنا جائز ہے مگروہ صلح جو حلال کو حرام یا حرام کو حلال کردے (وہ جائز نہیں)اور مسلمان اپنے شروط پر قائم رہیں گے مگروہ شرط جو حلال کو حرام یا حرام کو حلال کردے(تو ایسے شرطوں کی پابندی جائز نہیں)‘‘

نبی کریمﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر مشرکین سے صلح کی تھی جیسا کہ حضرت براءبن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’صَالَحَ النَبِیُ ﷺ المُشرِکِینَ یَومَ الحُدَیبِيه۔۔۔۔الخ‘‘([15])

’’ نبی کریمﷺ نے حدیبیہ کے دن مشرکین کے ساتھ صلح فرمائی تھی۔۔۔‘‘

صلح مصالحت کے فضائل:

مسلمانوں کے مابین لڑائی جھگڑوں کو دور کرکے ان کو آپس میں ملانا اور ان کی صلح کرانے کے متعلق قرآن وحدیث میں کئی فضائل بیان کیے گئے ہیں ۔ان کا مختصراً تذکرہ ذیل میں کیا جاتاہے،چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

﴿لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نَجْوَاهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا﴾([16])

’’زیادہ مشوروں میں کوئی خیرنہیں مگر وہ جوصدقہ کرنے،نیک کام کرنےیالوگوں کے درمیان صلح کرنے پرمشتمل ہو اور جوشخص اللہ کی رضامندی کے لئے یہ کام کرےتوہم اس کو بڑاثواب دیں گے‘‘

اس طرح نبی کریمﷺ نے مسلمانوں کے مابین صلح کرنے والے کے فضائل بیان کرتے ہوےارشادفرمایا:

’’مَن اَصلَحَ بَینَ اِثنَینِ اَعطَاه الله بِکُلِ کَلِمة عِتقَ رَقَبة‘‘([17])

’’جو شخص دو آدمیوں کے مابین صلح کرے گا اللہ تبارک وتعالیٰ اس کو ہر ایک بات کے بدلے ایک غلام آزادکرنے کا ثواب عطافرمائیں گے۔‘‘

دوسری جگہ ارشاد گرامی ہے کہ نبی کریمﷺ نے حضرت ابو ایوب ؓ کو ارشاد فرمایا:

’’اَلَا اَدُلُکَ عَلیٰ صَدَقة یَرضَی الله وَرَسُوله مُوضِعهما، قَالَ بَلیٰ قَالَ: تُصلِحُ بَینَ النَاسِ اِذَا تَفَاسَدُوا وَتُقرِبُ بَینهم اِذَا تَبَاعَدُوا‘‘([18])

’’کیامیں تمہیں ایسا صدقہ نہ بتلاؤں جس کو اللہ اور اس کا رسول پسند کرتاہے فرمایا کیوں نہیں؟ فرمایا لوگوں کے مابین صلح کرو جب ان میں فساد پیدا ہوجائے اور ان کو قریب کرو جب وہ ایک دوسرے سے دور ہونے لگیں‘‘

اس طرح امام اوازعیؒ(م:۱۴۷ھ)نے فرمایا:

’’مَاخُطوة اَحَبَ اِلَی اللهِ عَزَوَجَلَّ مِن خُطوة فِی اِصلَاحِ ذَاتِ البَینِ وَمَن اَصلَحَ بَینَ اثنَینِ کَتَبَ الله له بَرَأة مِنَ النَّار‘‘([19])

’’جو قدم لوگوں کے مابین صلح کرنے کے لئے اٹھ جائیں اس سے زیادہ محبوب قدم اللہ کو اور کوئی نہیں اور جو دوبندوں کے مابین صلح کرے گا اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے لئے جہنم سے برأت لکھ دیں گے۔‘‘

محمد بن المنکدر ؒ (م:۱۳۱ھ)فرماتے ہیں:

’’تَنَازَعَ رَجُلَانِ فِی نَاحِیة المَسجِدِ فَمِلتُ اِلَيهمَاوَلَم أَزَل بهمَاحَتّیٰ اصطَلَحَا، فَقَالَ أَبُوهرَیرةَوَهویَرَانِی:سَمِعتُ رَسُولَ اللهﷺ یَقُولُ:مَن اَصلَحَ بَینَ اثنَینِ استُوجِبَ ثَوَابَ شهَیدٍ‘‘ ([20])

’’مسجد کے ایک کونے میں دو آدمی جھگڑنے لگے تو میں ان کی طرف متوجہ ہوا اور جب تک انہوں نے صلح نہیں کی میں ان ہی کے ساتھ رہا تو حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا جو مجھے دیکھ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص دوآدمیوں کے مابین صلح کرے اسے شہید کا اجر دیا جائے گا۔‘‘

نبی کریم ﷺ کا ایک اور ارشاد گرامی حضرت ابودرداء ؓ نے نقل کیا ہے،فرمایا:

’’أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَةِ الصِّيَامِ وَالصَّلَاةِ وَالصَّدَقَةِ،قَالُوا:بَلَى،قَالَ:صَلَاحُ ذَاتِ البَيْنِ‘‘([21])

’’کیا میں تمھیں نماز ، روزہ اور صدقہ سے افضل درجہ کی چیز نہ بتلاؤں ؟صحابہ کرام نے عرض کیا،کیوں نہیں، فرمایا:آپس کی صلح مصالحت کرانا۔‘‘

اسی طرح ایک لمبی حدیث میں آیاہے :

’’وَمَنْ مَشَى فِي صُلْحٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يَرْجِعَ وَأُعْطِيَ أَجْرَ لَيْلَةِ الْقَدْروَمَنْ مَشَى فِي قَطِيعَةٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْوِزْرِبِقَدْرِمَاأُعْطِي مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ اثْنَيْنِ مِنَ الْأَجْرِ وَوَجَبَتْ عَلَيْهِ اللَّعْنَةُ حَتَّى يَدْخُلَ جَهَنَّمَ فَيُضَاعَفُ عَلَيْهِ الْعَذَابُ‘‘([22] )

’’ جو شخص دو آدمیوں کے مابین صلح کرتاہو فرشتے اس کے لئے مغفرت کی دعائیں اس وقت تک مانگتے ہیں جب تک وہ واپس نہ ہو جائے اور اس کو شب قدر(میں عبادت کرنے) کے برابر ثواب ملتاہے اور جو شخص دو آدمیوں کے مابین جدائی لانے کی کوشش کرتاہو اس کا گنا ہ اتنا ہوگا جتنا کہ دو آدمیوں کے مابین صلح کرنے والے کو اجر ملتاہے اور اس پر لعنت واجب ہوجاتی ہے یہاں تک کہ جہنم میں داخل ہوجائے اور اس کو دوگنا عذاب ملے گا۔‘‘

صلح مصالحت کاشرعی حکم:

مذکورہ بالا تمام قرآنی آیات اور احادیث نبویہ سے صلح کرانے کی فضیلت اور اہمیت معلوم ہوتی ہے کہ معاشرے کے امن وسکون کو برقرار رکھنے کےلئے لوگوں کے مابین درپیش تنازعات اور لڑائی جھگڑوں کا خاتمہ ضروری ہے اور شرعی لحاظ سے مسلمانوں پر یہ فرض کفایہ ہے کہ لوگوں کے مابین لڑائی جھگڑوں کا خاتمہ صلح مصالحت کے ذریعے کریں۔ فرض کفایہ کا مطلب یہ ہے کہ اگرمسلمانوں میں سے چند افراد مل کر نزاع کو ختم کرالیں اور فریقین میں صلح کرکے ان کو راضی کرلیں تو تمام مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داری اداہوگئی اور اگر کوئی بھی اس فریضے کو ادانہ کرےتو تمام مسلمان اس کی وجہ سے گناہ گار ہوتے ہیں جیسا کہ ابن عربی(م:۴۴۹ھ)نے احکام القرآن میں اس کی وضاحت کر تے ہوئے فرمایا:

أَنَّ إصْلَاحَ الْفَسَادِ فَرْضٌ عَلَى الْكِفَايَةِ، فَإِذَا قَامَ بِهِ أَحَدُهُمْ سَقَطَ عَنْ الْبَاقِينَ، وَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا أَثِمَ الْكُل([23])

’’فساد(لڑائی جھگڑے وغیرہ) کی اصلاح کرنا فرض کفایہ ہے جب(مسلمانوں میں سے) کوئی ایک اس فریضے کو سرانجام دے تو باقی (مسلمانوں) کے ذمے سے ساقط ہوجائے گا اور اگر کوئی نہ کرے تو سب گناہ گار ہوں گے۔

مسلمانوں کےمابین صلح کرنے کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ جھوٹ بولناجو ایک گناہ کبیرہ ہے اور جھوٹ بولنے والے پرا للہ کی لعنت ہوتی ہے اور وہ شخص منافق سمجھا جاتاہے([24])لیکن دومسلمانوں کے مابین صلح کرانے کے لئے ان میں سے ہر ایک کو جھوٹ بول کر دوسرے کی خوبیاں بیان کرنے کی اجازت دی گئی ہے کہ ان کے دل ایک دوسرے کے لئے صاف ہوجائیں اور آپس کے تنازعہ کو ختم کرلیں۔ چنانچہ نبی کریمﷺ نے اس کے متعلق ارشاد فرمایا:

’’لَيْسَ الكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ، فَيَنْمِي خَيْرًا، أَوْ يَقُولُ خَيْرًا‘‘ ([25])

’’ وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے مابین صلح کرانے کے لئے ( اپنی طرف سے وضع کردہ) اچھی بات کو دوسروں تک پہنچائے یا اچھی بات کہہ دے۔‘‘

اس روایت سے معلوم ہوتاہے کہ لوگوں کے مابین اتفاق اور اتحاد پیداکرنے کے لئے اور ان کوآپس میں جوڑنے کے لئے اگر جھوٹ بھی بولا جائے تو یہ جائز ہے ،جھوٹ اس طرح بولا جائے کہ ایک فریق کے سامنے ظاہر کیاجائے کہ فریق ثانی اس کے لئے اچھے جذبات رکھتاہےیاوہ اپنے عمل پرپشیمان ہیں ۔

صلح مصالحت کی اقسام:

مدعی اور مدعیٰ علیہ کے مابین درپیش تنازعہ کی صورت میں جوصلح کی جاتی ہے اس کی تین بڑی قسمیں ہیں([26])

1:مدعیٰ علیہ کے اقرار کی صورت میں صلح کرنا:

اس کا مطلب یہ ہے کہ مدعی، اگر مدعیٰ علیہ کے پاس موجود کسی چیز پر اپنے حق کا دعویٰ کرے اور مدعیٰ علیہ اقرار کرےکہ یہ چیز مدعی ہی کی ہے البتہ اس کو مدعی کے حوالے کرنے کے لئے تیار نہ ہو اور مدعی کے ساتھ صلح کرلے تو یہ صلح کرنی جائز ہے ،ایسی صلح پر بیع کے تمام احکامات جاری ہوں گےگویا یہ چیز ایسی ہوگی کہ مدعی نے مدعیٰ علیہ کے ہاتھ اوپربیچ دی ہواورقیمت(ثمن)کے طورپربدلِ صلح لےلی ہو۔فقہی اصطلاح میں ایسی صلح کو‘‘صلح عن اقرار’’کہتے ہیں۔([27])

2:مدعیٰ علیہ کے انکار کی صورت میں صلح کرنا

مدعی جو دعویٰ کررہاہے مدعیٰ علیہ اس سے انکار کرے تاہم مقدمہ کے طویل ہونے اور قسم سے بچنے کے لئے مدعیٰ علیہ، مدعی کو کچھ دے کر صلح کر لے تو ایسی صلح کو "صلح عن انکار"انکار کی صلح کہاجاتا ہےاگر مدعی کو علم ہو کہ مدعیٰ علیہ کے ذمہ میرا کوئی حق نہیں لیکن اس کی شرافت سےغلط فائدہ اٹھا کر صلح کرلے اور اس کے عوض کچھ لے تو مدعیٰ علیہ کےلئے دینا درست ہے البتہ مدعی کے لئے لینا ناجائز اورحرام ہے([28])

3: مدعیٰ علیہ کی خاموشی کی صورت میں صلح کرنا:

اس کا مطلب یہ ہے کہ مدعی، مدعیٰ علیہ پر کسی چیز کا دعویٰ کرے اور مدعیٰ علیہ نہ تو انکار کرے اور نہ اقرار،بلکہ خاموشی اختیار کرکے مدعی کے ساتھ کسی چیز پر صلح کر لے ایسی صلح بھی جائز ہے۔

مصالحین کے اعتبار سے صلح کی دو قسمیں ہیں۔

1:فریقین یعنی مدعی اور مدعیٰ علیہ آپس میں خود صلح کرلیں تو یہ جائز ہے۔

2:مدعی اور مدعیٰ علیہ آپس میں خود صلح نہ کرلیں بلکہ مدعی اور مدعیٰ علیہ کے متعین کردہ وکلاء آپس میں صلح کرلیں اس صورت میں بھی یہ صلح جائز رہے گی اور صلح سے متعلق جتنی بھی ذمہ داریاں ہیں وہ مدعیٰ علیہ یعنی مؤکل کی طرف راجع ہوں گی۔

اور اگر مدعیٰ علیہ کی طرف سے باقاعدہ وکیل نامزد نہ ہوا ہو اور ثالث نے ازخود مدعیٰ علیہ کی طرف سے صلح کی اور مدعی کو کچھ بدل صلح اداکردیا تویہ صلح بھی جائز ہے اور یہ ثالث یا مصالح کی طرف سے مدعیٰ علیہ کے ساتھ تبرع اور احسان سمجھا جائے گا جس میں ثالث کے لئے مدعیٰ علیہ پر رجوع کرنے کا شرعاً کوئی حق نہیں البتہ اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرکے مدعیٰ علیہ، ثالث یا مصالح کو بدل صلح ادا کرسکتاہے لیکن اگرثالث نے مال پر صلح کرکے اس کی نسبت مدعیٰ علیہ کو کرلی اور کہا کہ وہ مدعی کو اتنا مال بدل صلح کے طورپر ادا کرے گا توایسی صلح مدعیٰ علیہ کی اجازت پرموقوف ہوگی اگر وہ انکار کرنا چاہے تو انکار کی گنجائش ہے۔([29])

مصالحت کے شرائط:

شریعت مطہرہ نے مصالحت کے لئے چند شرائط بیان کی ہیں جن میں سے بعض شرائط کا تعلق مصالحت کرنے والے ،بعض کا بدل صلح( جس چیز پر صلح کیا جا رہا ہے) اور بعض کا مصالح عنہ(جس چیز کی طرف سے صلح کیا جا رہا ہے)کے ساتھ ہے ۔ ان شرائط کا مختصراً تذکرہ ذیل میں کیا جاتاہے۔

مصالح یعنی صلح مصالحت کرنے والے سے متعلق شرائط:

شرعی طورپرمصالح یعنی صلح کرنے والے کے لئے درج ذیل شرائط ضروری ہیں:

  1. صلح کرنے والا عاقل ہو،لہٰذا پاگل اور ناسمجھ بچے کی صلح معتبر نہیں البتہ اگر نابالغ بچہ فہم وشعور رکھتا ہو تو اس کی وہ صلح معتبر ہوگی جو سراسر فائدے پر مشتمل ہو یا اس میں معمولی قسم کا نقصان ہو۔
  2. نابالغ بچے کی طرف سے اگر اس کا ولی صلح کرنا چاہے تو وہ صلح بچے کے لئے کسی بڑے نقصان کا سبب نہ ہو۔
  3. نابالغ کی طرف سے صلح کرنے والا ایسا شخص ہو جس کو اس نابالغ کے مال میں تصرف کا حق حاصل ہو جیسے باپ یا دادا۔
  4. امام ابوحنیفہ ؒ (م:۱۵۰ھ) کی رائے ہے کہ صلح کرنے والا مرتد نہ ہو جب کہ صاحبین ؒ (امام ابویوسف ؒ م:182ھ اورامام محمدؒم:189ھ)کے ہاں مرتد کی صلح بھی نافذ شمار ہوگی۔([30])

بدل صلح سے متعلق شرائط:

بدل صلح اس چیز کو کہتے ہیں جس پر صلح طے ہوجاتی ہے اس کے لئے شریعت مطہرہ میں کیا شرائط ہیں ان کا تذکرہ ذیل میں کیا جاتاہے۔

  1. شریعت کی نظر میں وہ چیز مال متصور ہوتاہو یعنی وہ چیز متقوم ہو لہٰذا کسی مسلمان کے لئے مردار، شراب یا خون وغیرہ پر صلح کرنا درست نہیں کہ یہ چیزیں شرعاً مال نہیں سمجھی جاتی۔
  2. بدل صلح ، صلح کرنے والے کی ملکیت ہو لہٰذا اگر ایسےمال پر صلح کر لی جو صلح کرنے والے کی ملکیت نہ ہو یا صلح کرنے کے بعد اس کا کوئی مستحق نکل آیا تو ایسی صلح درست نہ ہو گی۔
  3. بدل صلح کی مقدار معلوم ہو۔
  4. اگر بدل صلح،ایسی چیز ہو جس پر قبضہ کرنا ضروری ہو اور حاضر کئے بغیر اس کاتعین نہ ہوئی ہو تو اس کوحاضر کرنا اور اسے قبضہ میں لینا ضروری ہے۔([31])

مصالح عنہ سے متعلق شرائط:

مصالح عنہ اس چیز یا اس حق کو کہتے ہیں جس کے بدلے صلح کی جاتی ہے اس کی شرائط درج ذیل ہیں۔

  1. جس حق کے بدلے صلح ہو رہی ہو وہ انسانی حقوق کے متعلق ہو اس لئے کہ حقوق اللہ میں صلح کرنے کی گنجائش نہیں لہذا کسی کو حق اللہ توڑتے ہوئے اگر دیکھا جائے تو دیکھنے والے کے لئے جائز نہیں کہ اس سے مال پر صلح کر لے کہ تمھیں قاضی کے سامنے پیش نہیں کروں گا۔
  2. جس حق کے بدلے صلح ہورہی ہو وہ صلح کرنے والے کا ذاتی حق ہو لہذا کسی دوسرے فرد سے متعلق حق سے صلح کرنا جائز نہیں۔
  3. جس حق کے بدلے صلح ہو رہی ہو وہ حق قابل عوض ہو اگر چہ غیر مال ہو مثلاً حق قصاص یا حق تعزیر کے بدلے صلح کرنا جائز ہے اورجو حق قابل معاوضہ نہ ہو جیسے حق شفعہ یا حق قذف وغیرہ تو ان کے بدلے صلح کرنا اور بدل صلح لینا جائز نہیں۔
  4. مصالح عنہ کے معلوم ومتعین نہ ہونے میں گنجائش ہے اس لئے کہ صلح کرتے وقت مصالح عنہ سے چشم پوشی کرکے بدل صلح لی جاتی ہے لہذا بدل صلح کامعلوم ومتعین ہونا ضروری ہے جب کہ مصالح عنہ اگر معلوم ومتعین نہ ہو تو بھی صلح جائز ہے۔([32])

ان وجوہات ،معاشرتی تقاضوں ،حالات ،عدالتی نظام کی طوالت اورخامیوں کومدنظررکھ کرمملکت خدادادپاکستان کے مختلف صوبوں میں روایتی مصالحت کی کئی ایک شکلیں موجودہیں جن کوصوبہ خیبرپختونخوا،صوبہ بلوچستان کے پختون معاشرے میں’’جرگہ‘‘،صوبہ پنجاب میں ’’پنچائت‘‘ اورصوبہ سندھ میں’’ فیصلو‘‘کے ناموں سے یاد کیاجاتاہے۔

پختون معاشرے میں مصالحت کی روایتی عملی شکل :

مصالحت کی روایتی عملی شکل پختون معاشرے میں جرگہ کی صورت میں پائی جاتی ہے جہاں پر متنازعہ فریقین کے مابین صلح کرکے تنازعہ کوختم کیاجاتاہے ۔لفظ جرگہ لغت کے اعتبار سے ترکی زبان کا لفظ ہےاور اِس کا معنی ہے گروہ اور فرقہ([33])

پشتو کی حالیہ ڈکشنری "پشتو اُردو لغت"میں اِس لفظ کو پشتو زبان کا لفظ بتلایا گیا ہےاور ا ِس کا معنی محفل ، مجلس مشاورت یا کسی معاملے کو حل کرنے کے لئے بوڑھوں کو ا ِ کھٹا کرنے کے بتائے ہیں۔([34])اوراصطلاح میں بااثر لوگوں کا فریقین کے معاملات اور جھگڑوں کو باہمی گفت وشنید کےذریعے حل کرنے کو "جرگہ" کہتے ہیں۔([35])

گویا جرگہ اکابرین اورمشران پر مشتمل ایک جماعت ہوتی ہے جو متنازعہ فریقین کے مابین ثالث کاکردار اداکرتی ہے۔

پختون روایتی مصالحت کی شرعی بنیاد:

پختون معاشرے میں روایتی مصالحت کےجوازکے لئے شریعت ِ مطہرہ نے ’’تحکیم‘‘کی صورت میں مذہبی بنیادفراہم کی ہے چنانچہ عدالتی نظام سےالگ تھلگ ہوکرمقامی سطح پرتنازع کی تحقیق کرکےعدل وانصاف پرمبنی فیصلےکرنےوالےافرادکوشرعی اصطلاح میں"حکم"اوران کے اس عمل کو"تحکیم" اورپختون معاشرےمیں مصالحت یا "جرگہ" کہا جاتا ہے۔

تحکیم کا لغوی اوراصطلاحی معنیٰ:

مشہور عربی ڈکشنری "القاموس المحیط "میں تحکیم کا معنیٰ لکھا گیا ہے:

’’حَكَّمَهُ في الأمْرِ تَحْكيماً: أمَرَهُ أن يَحْكُمَ فاحْتَكَمَ‘‘ ([36]) یعنی کسی معاملے میں فیصلہ کن بناناکہ کسی کو فیصلےکرنے کا کہہ دے اور وہ فیصلہ کرے جب کہ "مختار الصحاح"(ساتویں صدی ہجری کی عربی لغت) میں تحکیم کالغوی معنیٰ کچھ یوںلکھاگیاہے:

’’حَكَّمَهُ فِي مَالِهِ تَحْكِيمًا إِذَا جَعَلَ إِلَيْهِ الْحُكْمَ فِيهِ‘‘([37])یعنی جب کسی کو اپنے مال میں فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا جائے۔

امام خصکفی(م:۱۰۸۸ھ)کے بقول تحکیم کا اصطلاحی معنیٰتَولِیة الخَصمَینِ حَاکِمَا یَحکُمُ بَینهَمَا([38]) یعنی فریقین کا باہمی نزاع ختم کرنے کی غرض سے کسی کوثالث بناناکہ وہ ان کے مابین فیصلہ کر لے،ایسے فیصلہ کرنے والے کو"حَکَم یا مُحَکَم" کہتے ہیں ،جن فریقین کے مابین فیصلہ کیا جاتا ہے ان کو "مُحَکِم "کہا جاتا ہے اور جس چیز پر فیصلہ ہو جائے اس کو" محکوم بہ" کہتے ہیں۔([39])

تحکیم ادلہ شرعیہ کے تناظر میں:

تحکیم کے بارے میں اللہ تبارک وتعالی کا ارشاد گرامی ہے:

﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا﴾([40])

’’اگر تم ڈرو کہ وہ دونوں آپس میں ضد رکھتے ہیں تو ایک منصف مرد والوں میں سے اورایک منصف عورت والوں میں سے کھڑاکردو اگر یہ دونوں چاہیں گے کہ صلح کرادیں تو اللہ اُن دونوں میں موافقت کردےگا ،بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، خبردار ہے۔‘‘([41])

اس آیت کریمہ میں میاں بیوی کے مابین پیدا ہونے والے نزاع کو ختم کرنے کےلئے فریقین کے اولیاء ، حامیوں اورمسلمانوں کی جماعت کویہ حکم دیا گیاہے کہ وہ ایسا طریقہ پاکیزہ طریقہ کار اختیار کرلیں جس سے طرفین کا اشتعال بھی ختم ہوجائے اور الزام تراشی بھی بند ہوجائے اورآپس میں مصالحت کی کوئی صورت بھی پیدا ہوجائے وہ یہ کہ فریقین کے اولیاء اُن کے آپس میں مصالحت کرانے کےلئے دوثالث مقرر کرلیں اُن میں سے ایک ثالث مرد کے خاندان سے ہوا ور دوسرا عورت کے خاندان سے ،ثالثین ان کے مابین صلح کی کوشش کرلیں۔

مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ(م:۱۹۷۶ء) اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’باہمی صلح کرانے کےلئے دوحکموں کے بھیجنے کی یہ تجویز صرف میاں بیوی کے جھگڑوں میں محدود نہیں رہتا بلکہ دوسرے لڑائی جھگڑوں میں بھی اسی سے کام لیاجاسکتا ہے اور لینا بھی چاہیے خاص کر جب مخالف فریقین آپس میں رشتہ دار بھی ہوں کیونکہ عدالتی فیصلوں سے وقتی جھگڑا توختم ہوجاتا ہےمگر وہ فیصلے اُن کے دِلوں میں کدورت وعداوت کے جراثیم چھوڑ جاتے ہیں جو بعد میں نہایت ناگوار شکلوں میں ظاہر ہوا کرتے ہیں۔‘‘([42])

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خاندانی ،قبائلی ،علاقائی الغرض ہر قسم کے مسائل کوثالثین کے ذریعے ختم کرکے صلح کرانا شرعاََ جائز ہے۔

دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے:

﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَo إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُون﴾([43])

’’ اگر مسلمانوں کے دوفریق آپس میں لڑپڑیں توان میں صلح کردوپھراگرایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے توتم زیادتی کرنے والے کےساتھ لڑویہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پھرآئے،اگرپھرآیاتوان کے درمیان برابری اورانصاف سے صلح کرادو بے شک اللہ کوانصاف والے پسندہوتے ہیں۔مسلمان جوہیں سوبھائی بھائی ہیں لہٰذااپنے بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ اوراللہ سے ڈرتے رہوتاکہ تم پررحم ہو‘‘

اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ثالثین کے ذریعے فریقین کے مابین نز اع کو ختم کرنا شرعا جائز ہے([44])

قرآن کریم کی اِس تعلیم سے لوگوں کے باہمی جھگڑوں اور مقدمات کا فیصلہ کرنے کے متعلق ایک نئے باب کانہایت مفید اضافہ ہوا جس کے ذریعے مقامی سطح پرحکومت تک پہنچنے سے قبل ہی بہت سے مقدمات اور جھگڑوں کا فیصلہ برادریوں کی پنچائیت میں ہوسکتاہے۔([45])

اسی طرح احادیث مبارکہ سے بھی آپس کے تنازعات کومقامی سطح پرحل کرنے کی اجازت ملتی ہےجیسےقبیلہ بنو قریظہ کے یہودیوں نے غزوہ خندق میں معاہدے سے روگردانی پرجب حضرت سعد بن معاذؓکوثالث بناکر فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا اور اُن کے فیصلے کو تسلیم کرنے پر راضی ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد ؓ کے ثالث بنائے جانے اورفیصلہ کرنے پر رضامندی ظاہر فرمائی۔([46])

اسی طرح ابو شریح ھانی بن یزید([47])جب فتح مکہ کے بعدوفدبنی الحارث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے تھے جن کے بارے میں آپ ﷺ پیشگی سن چکے تھے کہ لوگ اُس کو "ابوالحکم" کہتے ہیں،آپ ﷺ نے اُس سےاِس لقب کی وجہ پوچھی توانہوں نے جواب دیا کہ میری قوم میں جب کوئی تنازعہ پیش آتاہے تو وہ میرے پاس آتےہیں اورمیں اُن کے مابین فیصلہ کرتا ہوں جس کو دونوں فریق تسلیم کرتے ہیں اوروہ اِس پرراضی ہوتے ہیں تواِ س پرآپﷺ نے فرمایا "مَااَحسَنَ هذا" یعنی یہ کیا ہی اچھا عمل ہے۔([48])لہٰذاسیرت نبوی کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہےکہ آپ ﷺ نے لوگوں کے مابین ثالث کے ذریعے فیصلے کرنے کو پسند فرمایا ہے اوراس پر کسی قسم کی نکیر نہیں فرمائی۔

حضرت عمرؓ (م:23ھ)نے اپنے دور خلافت میں قاضیوں کے نا م ایک فرمان جاری کیاتھاکہ رشتہ داروں کے باہمی مقدمات اگرپیش ہوں توان مقدمات کوان کی برادری میں واپس کیاکرو تاکہ وہ خود بیٹھ کر صلح کی کوئی صورت نکالا کریں۔روایت کے الفاظ یہ ہیں :

’’رُدُّواالقَضاءَ بَينَ ذَوِى الاَرْحَامِ حَتّى يصْطَلْحِوا فَأِنَّ فَصْلَ القضَاءِ یورِثُ الضَّغَا ئِنَ‘‘[49]

’’ رشتہ داروں کے مقدمات کوانہی میں واپس کردو تاکہ وہ خود( برادری کی مدد سے) آپس میں صلح کی صورت نکال لیں کیونکہ قاضی کا فیصلہ دلوں میں کینہ وعداوت پیدا ہونے کا سبب ہوتا ہے۔‘‘

مصالحت اورپنچائتی فیصلوں کے لئے فقہائے کرام نے اس فرمانِ فاروقی کو خاص بنیاد بنایا ہے ۔ جس کے ذریعے فریقین کے مابین صلح کی کوئی صورت نکالی جائے ، ساتھ یہ بھی لکھا ہے ، کہ یہ فرمان فاروقی اگرچہ رشتہ داروں کے باہمی فیصلوں سے متعلق ہے لیکن اس کی جو علت اور حکمت اس فرمان میں مذکور ہےکہ عدالتی فیصلوں سے دِلوں میں کدورت پیدا ہوتی ہےوہ رشتہ داروں اورغیر رشتہ داروں میں عام ہے لہذا غیر رشتہ داروں میں بھی اِس طریقہ کار کو جاری رکھنا چاہیے۔([50])مذکورہ بالا بحث سے معلوم ہوتا ہےکہ سیرت نبویہ اورتعامل صحابہ مصالحت کو مذہبی تائیدی بنیاد فراہم کرتے ہیں ۔

فقہی طورپر"مصالحت" میں عموما علاقہ کے رسم ورواج اور عرف کو دیکھا جاتاہےاوراِسی کے مطابق فیصلے بھی کئے جاتے ہیں اورایسا عرف جوشریعت مطہرہ کے قطعی اُصولوں کے خلاف نہ ہو ،فقہی طورپر معتبر ہوتاہےاوراسےاُصول فقہ میں سے ایک اصل بھی مانا جاتاہے چنانچہ عرف کامعتبر ہونا قرآن کریم سے ثابت ہے جیسے قتل میں وجوبِ دیت کےمتعلق ارشاد باری تعالی ہے:

﴿فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَىبَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيم﴾([51])

’’جس کومقتول کے بھائیوں کی طرف سے کچھ معاف ہوجائے تواس کودستورکےموافق )دیت کی)ادئیگی کرنی چاہیے۔‘‘([52])

اسی طرح رسول اللہﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

’’مَارَاهُ المُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَاللهِ حَسَنٌ‘‘([53]) ‘‘ عام مسلمانوں کےہاں جوچیز اچھی ہو وہ اللہ کے ہاں بھی اچھی ہوتی ہے۔’’

علامہ ابن عابدین شامیؒ(م: ۱۲۵۲ھ)نے عرف کے متعلق مفتیان کرام کومتوجہ کرتے ہوئےفرمایا:

’’وَالعُرفُ فِی الشَرعِ له اِعتِبَارُ لِذَاعَلَيه الحُکمُ قَد یُدَارُ([54]) ’’ شریعت اسلامی میں عرف کا اعتبار کیا جاتا ہے اسی لیے کبھی حکم کا دارومدار عرف پر رکھا جاتا ہے۔‘‘

گویامصالحت کی پشت پر فقہ کی ایک بڑی مستحکم بنیاد"نظریہ عرف" بھی کارفرماہے۔

خلاصہ یہ کہ حضرات فقہائے کرام نے ایسے عرف اور عادت ورواج کو معتبر مانا ہے ، جو شریعت کے قطعی دلائل کے ساتھ معارض نہ ہو ۔ چنانچہ علامہ شامی ؒ (م: 1252ھ) نےفرمایا ہے:

"العُرفُ اِمَّا اَنْ يُوَافِق الَّدليل الشَرْعِيَّ المنصوصَ عَلىه فِى كُتْبِ ظاهرِ الروَايَةِاَؤلاَ فَاِنْ وافَقهمُا فلا كلاَمَ"([55])

’’عرف دلیل شرعی اور ظاہر الروایت کے کتب میں منصوص علیہ کے موافق ہوگی یانہیں اگر موافق ہو تو اس میں کوئی کلام نہیں۔‘‘

البتہ نصوص قطعیہ کے مخالف عرف کا کوئی اعتبار نہیں کیا جاتا۔

پختون روایتی مصالحت کاتحکیم کے ساتھ تقابلی جائزہ:

۱: تقابل بہ اعتبار حدود(دائرہ اختیار):

تحکیم:"تحکیم"میں حکم کے لئےحدوداور قصاص کےمعاملے میں فیصلہ کرنا درست نہیں اس کے علاوہ جتنے بھی معاملات ہیں جن کا تعلق حقوق العباد سے ہو ان میں تحکیم کے ذریعے فیصلہ کرنا جائز ہے([56])البتہ امام سرخسی(م:483ھ)نے قصاص میں بھی تحکیم کی اجازت کاقول نقل کیاہے چنانچہ صاحب بنایہ (م:۸۵۵ھ) فرماتے ہیں:

’’(ولا يجوز التحكيم في الحدود والقصاص)هذا مذهب الخصاف - رَحِمَهُ اللَّهُ - فإنه قال: التحكيم لا يجوز في الحدود والقصاص، واختاره القدوري - رَحِمَهُ اللَّهُ - في "مختصره "، وكذلك اختاره المصنف - رَحِمَهُ اللَّهُ –والمراد بالحدود: التي هي الواجب حقا لله تعالى. وأما في حد القذف والقصاص فقد اختلفت الروايات فيهما، فقال شمس الأئمة السرخسي - رَحِمَهُ اللَّهُ - في " شرح أدب القاضي ": من أصحابنا من قالوا: إنه لايجوز هذا في الحدود الواجبة لله تعالى؛ لأن الإمام هو المتعين لاستيفاء حقوق الله تعالى.وأما في القصاص وحد القذف فيجوز التحكيم؛ لأن الاستيفاء إليها. وفي " الذخيرة "، يجوز التحكيم في القصاص؛ لأنه من حقوق العباد. وعن أبي حنيفة - رَحِمَهُ اللَّهُ - لا يجوز‘‘([57])

’’حدوداورقصاص ميں تحکیم جائز نہیں یہ امام خصاف ؒ کامذہب ہے کہ حدوداورقصاص میں تحکیم کے ذریعے فیصلہ کرناجائزنہیں امام مقدوری ؒ نے اپنی مختصر میں یہی قول اختیارکیاہے اورمصنف (صاحب ہدایہ ؒ) نے بھی اسی کوترجیح دی ہے ۔حدودسے مراد اللہ تعالی کے واجبات ہیں جب کہ حدقذف اورقصاص میں روایات مختلف ہیں چنانچہ شمس الائمہ امام سرخسی ؒ نے اپنی کتاب شرح ادب القاضی میں لکھاہے :کہ احناف میں سے چندحضرات نے فرمایاہےکہ حدودمیں تحکیم جائزنہیں اس لئے کہ حقوق اللہ کی وصولی کے لئے اما م متعین ہے اورقصاص وحد قذف میں تحکیم کے ذریعے فیصلہ کرناجائزہے اس لئے کہ اس کی وصولی اس صاحبِ حق کوحاصل ہے اور’’ذخیرہ ‘‘نامی فقہی کتاب میں بھی ہے کہ قصاص میں تحکیم جائزہے اس لئے کہ یہ حقوق العباد میں سے ہے اورامام ابوحنیفہ ؒ کے ہاں قصاص میں تحکیم کے ذریعے فیصلہ کرناجائزنہیں ہے۔‘‘

مصالحت : مصالحت کے ذریعے عموما، خانگی ، کاروباری اورجائیداد وغیرہ کے مسائل حل کئے جاتے ہیں اورقتل مقاتلے کی صورت میں صلح تو کرتے ہیں البتہ کسی کوقصاصاًقتل کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔ "قتل "کے علاوہ مختلف قسم کی سزائیں دیتے ہیں جن میں مالی جرمانہ ،شہر بدری وغیرہ شامل ہیں۔([58])

نتیجہ: مصالحت اور تحکیم دونوں میں حقوق العبادسے متعلقہ مسائل کےفیصلے کئے جاتے ہیں دونوں میں قصاصاََ کسی کو قتل کرنے کا اختیار اراکین کے پاس نہیں ہوتا۔

تحکیم: تحکیم میں حکمین(ثالثین)فریقین کی طرف سے دئیے ہوئے اختیارات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔اس سے تجاوزنہیں کرتے۔

مصالحت: مصالحت میں بھی مصالحین فریقین کی طرف سے دیئے گیےاختیارات کے مطابق حل کیےجاتے ہیں اوراگر وہ لوگ اختیار نہ دیں تووہ ان کےمابین فیصلہ نہیں کرتے ۔

نتیجہ: تحکیم اورمصالحت دونوں میں فریقین کی طرف سے نامزدگی اوراجازت ضروری ہوتی ہے بغیر اجازت کے شرعاََاوررواجااُ ن پر ایسے فیصلوں کااطلاق نہیں ہوتا۔

تحکیم: "تحکیم" میں ثالثین کے ذریعے ہرقسم کے قتل (قتل عمد میں گزشتہ اختلاف کے ساتھ)کے فیصلے کئے جاتے ہیں البتہ قتل خطا میں قاتل پردیت کا وہ فیصلہ نافذ ہوگاجو قتل اُس کے اقرار سے ثابت ہوجائے۔ ([59])

مصالحت: "مصالحت"میں قتل کےمعاملات حل کرنے کے لئے صلح کرکے قاتل پر مالی جرمانہ اور "ننواتی "مقرر کرتی ہے، قبل ازیں مقتول کے ورثاء کو اس فیصلے پر راضی کیا جاتا ہے۔([60])

نتیجہ:مصالحت اور تحکیم دونوں میں قتل جیسے سنگین جرائم کے فیصلےبغیر قصاص کے کیے جاتے ہیں۔

تحکیم: "تحکیم" میں حدود کے علاوہ ہر قسم کے مالی اورجانی نقصان کے فیصلے ہوسکتے ہیں۔ ([61]

مصالحت:"مصالحت" میں ہرقسم کےزخم، ایکسیڈنٹ ،چوری ،ڈاکہ زنی ،نقب زنی، جیب تراشی، خواتین کے ساتھ چھیڑ خوانی، خواتین پر تہمت ، وغیرہ وغیرہ ، جانی ومالی نقصان کے فیصلے،جرمانہ طے کرکے کی جاتی ہے۔([62])

نتیجہ:مصالحت اور تحکیم دونوں میں اراکین صلح مصالحت کی بنیاد پرجانی اورمالی مقدمات کو نمٹاتے ہیں۔

تحکیم:"تحکیم" میں فریقین کی رضامندی سے نکاح، طلاق، اورخلع وغیرہ کے فیصلے ہوسکتے ہیں۔([63])

مصالحت:"مصالحت"میں فریقین کے اختیار کے ساتھ نکاح ،طلاق اورخلع کے فیصلے بھی ہوتےہیں البتہ بعض اوقات رسم "سورہ"اور"غگ" پر عمل کرکے ، بچیوں کی زندگی بھی تباہ کی جا تی ہیں۔([64])

نتیجہ:مصالحت اور تحکیم دونوں میں خانگی مسائل نکاح ،طلاق اور خلع کے فیصلے فریقین کی اختیارکے ساتھ حل کیےجاتے ہیں ۔

۲:تقابل بہ اعتبار مقاصد:

تحکیم:"تحکیم" میں حکم کونزاع اورجھگڑے ختم کرنے کے لئے متعین کیاجاتا ہےتاکہ وہ عدل وانصاف سے فیصلہ کرے۔([65])

مصالحت: "مصالحت" کا بنیادی مقصد فریقین کے مابین جاری نزاع کاخاتمہ کرنا ہوتا ہے۔ جس کے لئے فریقین نے مقررہ مصالحین کا انتخاب کیا ہوتا ہے۔([66])

نتیجہ:مصالحت اور تحکیم دونوں کا مقصد فریقین کے مابین جاری لڑائی کاپرامن حل نکالنا ہوتا ہے۔

تحکیم:تحکیم" میں حکم ، قرآن وحدیث کی روشنی میں فیصلہ کرتا ہےاورصلح مابین فریقین ہی اس کا مقصد ہوتا ہے۔([67])

مصالحت: پختون روایتی "مصالحت"فریقین کے مابین فیصلہ اس طریقے سے کرتی ہے کہ نزاع ہمیشہ کے لئے ختم ہوجاتا ہے اور فریقین قرآن کریم پر ہاتھ رکھ کر صلح کرکےیہ وعدہ کرتے ہیں کہ آئندہ کے لئے اس معاملے میں نہیں لڑیں گے۔([68])

نتیجہ:مصالحت اورتحکیم دونوں کامقصد فریقین کے مابین صلح کرنا ہوتا ہے۔

تحکیم:"تحکیم" میں حکم اور ثالثین "ظالم کے خلاف مظلوم کی مدد کرتے ہیں اور مظلوم کو اس کا حق دلاتے ہیں۔([69])

مصالحت: "مصالحت" فریقین میں سے مظلوم کی داد رسی بھی کرتی ہےاوراس مد میں فریق دوم پر کچھ مالی جرمانہ بھی رکھاجاتا ہے اورننواتے بھی لازم کیاجاتاہے۔([70])

نتیجہ:مصالحت اورتحکیم دونوں میں ظالم کے خلاف مظلوم کی اشک شوئی کی جاتی ہے۔

تحکیم:تحکیم کے ذریعے قرآن وحدیث کی روشنی میں صلح وفیصلہ ہوجانے کی صورت میں فریقین کے مابین محبت پیدا ہوجاتی ہے۔

مصالحت: "مصالحت" صلح کے بعد فریقین میں بھائی چارہ اورمحبت پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔([71])

نتیجہ: مصالحت اورتحکیم دونوں کامقصد فریقین کے مابین محبت اور بھائی چارے کی فضاپیداکرنی ہوتی ہے۔

نوٹ: مصالحت اورتحکیم کےحدودومقاصدمیں کوئی فرق نہیں البتہ عملی طورپر پختون روایتی مصالحت میں شریعت سے زیادہ روایات کاخیال رکھاجاتاہے جس کی وجہ سے بعض فیصلوں میں شرعی حدودسےتجاوز کیاجاتاہے ۔

۳: تقابل بہ اعتبار مصالح:

تحکیم: "تحکیم" میں بھی دشمنیوں اورنزاعات کوختم کرنے کے لئے فریقین کی رضامندی سے کام ہوتاہے۔([72])

مصالحت: "مصالحت" کے ذریعے پرانی ،جدی پشتی دشمنیاں ختم ہوکرفریقین آپس میں شیر وشکرہوجاتے ہیں۔([73])

نتیجہ: مصالحت اورتحکیم دونوں میں یہ مصلحت مشترک ہے کہ ان کے ذریعے پرانی دشمنیاں، دوستیوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں ۔

تحکیم:"تحکیم "کےذریعے ہرقسم کے تنازعات کے فیصلے پرامن طریقے سےہوسکتے ہیں جو بندوں کے دائرہ اختیار میں ہوں۔([74])

مصالحت: "مصالحت" کے ذریعے سنگین مسائل جیسے قتل مقاتلے کے معاملات ،بات چیت اورمذاکرات سے حل ہوجاتے ہیں۔([75])

نتیجہ: مصالحت اورتحکیم دونوں میں خون خرابے والے مسائل بات چیت کے ذریعےحل ہو جاتے ہیں ۔

تحکیم:"تحکیم"میں ثالثین کی کوشش یہ ہوتی ہےکہ فریقین میں صلح ہوجائے جس کے اثرات بہت خوش گوار ہوتے ہیں۔([76])

مصالحت: "‘مصالحت" کےذریعے فریقین آپس میں صلح مصالحت کے لئے تیار ہوجاتے ہیں اورآئندہ کے لئے آپس میں نہ لڑنے کاحلف کرتے ہیں۔ جس سے علاقے میں امن وامان اورخوش حالی کی فضاء پیدا ہوجاتی ہے اور بہت سے جوانوں کی زندگیاں جواس آگ کی نذر ہونی تھیں، بچ جاتی ہیں۔([77])

نتیجہ:مصالحت اورتحکیم دونوں میں صلح کی بنیاد پر مسئلہ کو حل کیا جاتاہے جس کااثر یہ ہوتاہے کہ علاقے میں امن وامان اورخوشحالی آجاتی ہے۔

تحکیم:"تحکیم" میں بھی فریقین اپنی رضامندی سے جن افراد کوچاہتے ہیں ان کو فیصلہ کرنے کےلئے مقرر کرتےہیں۔ اس لئے قاضی اورجج کے پاس جانے سے مستغنی ہوجاتے ہیں۔([78])

مصالحت: "مصالحت" کے ذریعے مقامی سطح پر لوگوں کے مسائل ، اپنے ہی گاؤں ، قوم، اورقبیلے کےمشران حل کرتے ہیں اس لئے مسائل کے حل کے لئے دور دراز عدالتوں کے چکر نہیں لگانے پڑتے۔([79])

نتیجہ:مصالحت اورتحکیم دونوں میں مسائل کو مقامی سطح پر حل کیاجاتا ہے۔

تحکیم:"تحکیم" میں بھی حکموں(ثالثین) کویہ حکم ہےکہ وہ قاضیوں کی طرح عدل وانصاف سے کام لیں کسی ایک طرف میلان کرکے فیصلہ نہ کریں اور حکموں کویہ بھی حُکم دیاگیا ہےکہ وہ معاملے کونہ تو بہت جلد بازی میں نمٹائیں اور نہ ہی زیادہ طول دیں۔([80])

مصالحت: " مصالحت" کےذریعے اپنے ہی علاقے میں فوری اورسستا انصاف مل جاتا ہےنہ تو مسئلے کے حل کے لئے مہینے اور سالوں کا عرصہ درکار ہوتا ہےاور نہ عدالتی فیسیں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔([81])

نتیجہ:مصالحت اورتحکیم دونوں میں فریقین کو مقامی سطح پر فوری اورسستاانصاف مل جاتاہے۔

تحکیم:"تحکیم" کے ذریعے بھی انصاف کے تقاضوں کو مدنظررکھتے ہوےفریقین میں سے حقدار کواُس کاحق دیا جاتا ہے۔([82])

مصالحت:"مصالحت" کے ذریعے مستحق کو اُس کا حق بہ آسانی مل جاتا ہے۔([83])

نتیجہ: مصالحت اورتحکیم دونوں میں حقوق کی ادائیگی کو یقینی بنایاجاتاہے۔

تحکیم:"تحکیم" کے ذریعے مسلمانوں کے درمیان لڑائی جھگڑے کی صورت میں ظلم کرنے والے کو، ظلم سے روکا جاتا ہے اور مظلوم کی مدد کی جاتی ہے اس طرح کہ فیصلہ میں اس کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ بھی کیاجاتاہے۔([84])

مصالحت: "مصالحت" کےذریعےبھی ظالم کے خلاف مظلوم کی مدد کی جاتی ہےاورظالم کومظلوم سے معافی مانگنے اور ننواتی کرنے پرمجبور کیا جاتاہےاس طرح مظلوم کی داد رسی کی جاتی ہے۔([85])

نتیجہ:مصالحت اورتحکیم دونوں میں مظلوم کی مددکی جاتی ہے۔

تحکیم:"تحکیم" میں بھی خانگی مسائل کو مقامی سطح پر خاندان ہی میں بہ آسانی حل کرکے عدل وانصاف کافیصلہ کیا جاتاہے۔([86])

مصالحت: "مصالحت " کےذریعے گھریلو مسائل ، اپنے گھر یاخاندان اور قبیلے ہی میں حل ہوجاتے ہیں اور اس میں عدل وانصاف کے امکانات اس لئے زیادہ ہوتے ہیں کہ فیصلہ کرنے والے"مصالحین " مقامی ہونے کی وجہ سےپہلے سے فریقین کے آپس کے تعلقات ، حالات اورذہنی ہم آہنگی سے باخبر ہوتے ہیں اس لئے ماضی اورحال کے حالات کو سامنے رکھ کر ایسا مناسب فیصلہ کرتے ہیں جس پر فریقین خوش ہوتے ہیں۔([87])

نتیجہ:مصالحت اورتحکیم دونوں میں خانگی مسائل کا پائیدارحل نکالاجاتاہے۔

۴: تقابل بہ اعتبار مفاسد:

تحکیم:"تحکیم" کے ذریعے ہونے والے فیصلے میں شرط یہ ہے کہ اگر وہ شرعی قوانین کےموافق ہو تونافذ ہوجائے گاورنہ نہیں ، بلکہ اس کو رد کیاجائے گا کسی بھی ظالمانہ فیصلہ کو شریعت نے جائز نہیں رکھا ہے۔([88])

مصالحت: "پختون روایتی مصالحت" معاشرے میں خواتین کے ساتھ ہونے والى ظالمانہ رسوم سورہ، غیرت کے نام پرقتل اور غگ کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔جس سےحوا کی بیٹی کی زندگی داؤ پر لگ جاتی ہے۔([89])

نتیجہ: مصالحت کے ذریعےبعض غیرشرعی فیصلے کیے جاتے ہیں جودنیوی اور اخروی زندگی میں نقصان دہ ہوتے ہیں جب کہ تحکیم کے متعلق حکم یہ ہے کہ اس کے ذریعے کیے جانے والاغیر شرعی فیصلہ نافذنہیں ہوگا۔

تحکیم:حکم (ثالث) کے لئے شرعاََجو شرائط بیان ہوے ہیں ان کا خیال ضرور رکھنا چاہئےاگر شرعی شرائط کاخیال رکھے بغیر ثالثین کومقررکیاجائے تو تحکیم کے مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے۔

مصالحت: "مصالحت" میں اراکین مصالحت کے انتخاب میں اگر شریعت کے بیان کردہ صفات کا خیال نہ رکھا جائے تو عین ممکن ہےکہ اصلاح کی بجائے مزید فساد پیدا ہوجائے۔

نتیجہ:مصالحت اورتحکیم دونوں میں اراکین کےانتخاب میں بیان کردہ صفات کا خیال نہ رکھاجائے تو بجائے امن کے فساد ہی پھیلے گا۔

تحکیم:"تحکیم" میں حکم صرف وہی فیصلہ کرتا ہےجس کی اجازت شریعت نے اُسے دی ہو اپنے حدود سے تجاوز نہیں کرسکتا اوراگر اپنے حدودسے آگے بڑھ کر فیصلہ کرلے توایسافیصلہ نافذنہیں ہوگا۔

مصالحت: اراکین مصالحت کو اگر اپنےشرعی حدود اوردائرہ اختیار کا علم نہ ہو تو وہ اپنے حدود سے تجاوز کرکے ایسے فیصلے کرتے ہیں جواُن کے لئے قانونا اورشرعا جائز نہیں ہوتے۔

نتیجہ: مصالحین اپنے حدود سے تجاوز کرکے شرعی اور قانونی پابندیوں کو توڑدیتے ہیں جب کہ تحکیم میں حکم کا فیصلہ شریعت اورقانون کا مخالف نہیں ہوتا۔

تحکیم:"تحکیم" میں بھی رشوت اورسفارش کے امکانات ہوتے ہیں لیکن شریعت نے محکم (حکم بنانے والے فریق) کویہ اختیار دیا ہےکہ وہ فیصلہ سے پہلے جب چاہے اپنے حَکم (ثالث)کومعزول کرسکتا ہےتاکہ اس کے ساتھ بے انصافی نہ ہواور معزولی کے بعد حکم کا فیصلہ نافذ نہ ہوگا۔([90])

مصالحت: اراکین مصالحت کاعموماََمقامی ہونے کی وجہ سے فریقین کوان کی کمزوریوں کا علم ہوتا ہےچنانچہ وہ ان کی کمزوریوں سے غلط فائدہ اُٹھاتے ہیں اس طرح رشوت اورسفارش کے اندیشے بڑھ کر انصاف کے فوت ہوجانے کاخطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔

نتیجہ:مصالحت اورتحکیم دونوں میں اراکین کے مقامی ہونے کی وجہ سے رشوت اورناجائز سفارش کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ۔

تحکیم:تحکیم میں بھی اسی فساد کا خطرہ ہوسکتا تھا اس وجہ سے شریعت نے حکم کے لئے قاضی کے شرائط مقرر کئے تاکہ عدل وانصاف اوراصلاح بین الناس متاثر نہ ہو۔([91])

مصالحت: انصاف کے اصولوں اورشرائط سے ناواقفیت کی وجہ سے کبھی کبھار ناتجربہ کار مصالحت کار،فریقین کے مابین ایسے فیصلے کرلیتے ہیں جس کے نتیجے میں معمولی تنازعہ ایک بڑے فساد کی شکل اختیار کرلیتا ہے اورفریقین کا وہ معاملہ جو وقت گزرنے سے خود بخود ختم ہوسکتا تھا، نابالغ مصالحت کی وجہ سے دوخاندانوں کی دشمنی اور دوگھرانوں کی تباہی کاسبب بن جاتا ہے۔

نتیجہ: مصالحت اورتحکیم دونوں میں اراکین کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے معمولی تنازعہ بڑے فسادکی شکل اختیارکرسکتاہے۔

تحکیم:"تحکیم" میں حکم کے لئے جوشرائط اورصفات بیان ہوے ہیں اگر ان صفات کا خیال نہ رکھا جائے ،تو رشوت ،سفارش، یاکسی قسم کادباؤ لینے سےثالث ،عدل وانصاف کےساتھ فیصلہ نہیں کرسکتا ہے۔

مصالحت: اراکین مصالحت پر علاقائی خوانین اور ملکوں کے اثر رسوخ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے عموماََفریقین میں سے کمزور فریق کے خلاف فیصلہ کیاجاتا ہے اورمخالف فریق ،ملک اور خان ہونے کی وجہ سے "مصالحت " کوہائی جیک کر لیتا ہے۔

نتیجہ:مصالحت اورتحکیم دونوں میں کمزور فریق کے ساتھ ناانصافی کے امکانات نسبتاََزیادہ ہوتے ہیں۔

تحکیم:"حکم" کسی بھی فیصلہ کے وقت فریقین کے ساتھ بہ آسانی ڈیل کرکےاپنے دنیاوی مفادات حاصل کرسکتا ہے۔

مصالحت: "مصالحت" کوپیشہ ورانہ مصالحین نے ایک کاروبار بنا رکھا ہےاُن کے سامنے لوگوں کی اصلاح کی بجائےاپنے ذاتی مفادات ہوتے ہیں جواُن کو کسی بھی فریق سے ملنے کی امید ہوتی ہے۔

نتیجہ:مصالحت اورتحکیم دونوں میں اراکین کی بدنیتی سےلوگوں کی اصلاح فوت ہو جاتی ہے۔

تحکیم:تحکیم میں ثالثین فریقین پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔

مصالحت: بعض پیشہ ورمصالحین کی تواپنی فیس مقرر ہوتی ہے اس کے علاوہ سواری اور بہترین کھانوں کا انتظام علیحدہ سےکرنا پڑتا ہے۔

نتیجہ:اراکین مصالحت کافیس ،سواری اور کھانوں کاانتظام ایک غریب شخص کے لیے مشکل ہوتاہے۔

تحکیم:فقہاءکے ہاں "تحکیم" کے جواز پر عام فتویٰ نہیں دیاجاتا ، تاکہ لوگ کسی جاہل کو حکم بنا کر مذہب کو مذاق نہ بنائیں اور تحکیم عام ہونے سے قاضی اور عدالت کی رونق ماند پڑجائے،یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے تحکیم کےلئے بہت ساری شرائط رکھی ہیں۔([92])

مصالحت: "مصالحت" کے نام پر بعض اوقات قانون ہاتھ میں لیاجاتا ہےاورمصالحین حضرات قاضی اورجج کی طرح ایسے فیصلے صادر کرتے ہیں جو ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔

نتیجہ:مصالحت اورتحکیم دونوں میں عدالت کی طرح فیصلے کیے جاتے ہیں جو حدود سے تجاوز ہےیہی وجہ ہے کہ فقہاء کے ہاں تحکیم کی زیادہ تائیدنہیں کی جاتی ۔

تحکیم:تحکیم میں ثالث اصلاح بین الناس اورخلوص نیت کےساتھ لوگوں کے فیصلے کرتاہے۔([93])

مصالحت: شرعی طورپر کمزوری کی وجہ سے روایتی مصالحین میں خلوص اورنیک نیتی نسبتاََکم ہوتی ہے اُن کو لوگوں کی صلح اصلاح سے زیادہ اپنے ذاتی مفادات اورشہرت سےغرض ہوتی ہےاس وجہ سے بعض صلح کے فیصلے کامیاب نہیں ہوتے۔

نتیجہ:مصالحت میں تحکیم کی نسبت خلوص نسبتاَ کم ہوتی ہے۔

تحکیم:حکم کے لئے شریعت نے جتنی شرائط رکھے ہیں اورامام اورقاضی وقت کو شریعت نے پابند بنایا ہے کہ وہ کسی بھی حکم میں اُن شرائط کی جانچ پڑتال کرکے فیصلے کی تصدیق یاتردید کریں۔

مصالحت: سرکاری مصالحت میں بعض اوقات پولیٹکل ایجنٹ ایسے نمائندوں کو منتخب کرتا ہے جوطاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے غلط فیصلے کرتے ہیں۔

نتیجہ:مصالحت اورتحکیم دونوں میں طاقت کا غلط استعمال ہوکر غلط فیصلے ہو سکتے ہیں ۔

نوٹ:مصالحت اورتحکیم میں بہ اعتبارمفاسد فرق یہ ہے کہ اراکین مصالحت کےلیےعموماََفریقین کی طرف سے کھانوں اورخرچوں کاانتظام کیاجاتاہےجس سے بسااوقات فیصلے متاثرہوتے ہیں جب کہ تحکیم میں یہ انتظام نہیں ہوتا۔

اسی طرح مصالحت میں غگ اورسورہ جیسے نامناسب فیصلے ہوتے ہیں جب کہ تحکیم میں نامناسب اورناجائز فیصلوں کورد کیاجاتاہے۔

اسی طرح مصالحت میں تحکیم کی نسبت خلوص نسبتاَ کم ہوتی ہے۔

نتائج بحث:

اس تحقیق کے درج ذیل نتائج سامنے آتے ہیں:

۱: مسلمانوں کے مابین کسی بھی تنازعہ کی صورت میں صلح کرنا نہ صرف جائز بلکہ ضروری بھی ہے۔

۲: متنازعہ فریقین کے مابین صلح مصالحت کرنامسلمانوں کے لئےفرض کفایہ ہے ۔

۳: مصالحت کا بنیادی مقصدمقامی سطح پر لوگوں کے تنازعات کاپرامن حل نکالنا ہے ۔

۴:صلح کرنے کی حوصلہ افزائی قرآن کریم اوراحادیث مبارکہ سے ہوتی ہے۔

۵: مدعی ٰ علیہ کے اقرار،انکار اورخاموشی ہرصورت میں صلح کرناجائزہے۔

۶:شرعی طورپرمصالح، بدل صلح اور مصالح عنہ کےلئے مقررہ شرائط کاخیال رکھناضروری ہے ۔

۷:پختون روایتی مصالحت کے لئے تحکیم ایک شرعی بنیاد ہے ۔

۸:"مصالحت" میں علاقہ کے رسم ورواج اور عرف کالحاظ رکھاجاتاہے جس کی بشرط ِدرستگی فقہی طورپر بھی تائیدکی جاتی ہے۔

۹:مصالحت اورتحکیم کےحدودومقاصدمیں کوئی فرق نہیں البتہ عملی طورپر پختون روایتی مصالحت میں شریعت سے زیادہ رواج کاخیال رکھاجاتاہے ۔

۱۰:مصالحت اورتحکیم میں بہ اعتبارِ مصالح کوئی فرق نہیں البتہ بہ اعتبارمفاسدمصالحت میں تحکیم کی نسبت خلوص کم ہوتی ہے۔

تجاویز:

اس تحقیق کے نتیجے میں درج ذیل تجاویز سامنے آتی ہیں جن پرعمل کرکے روایتی مصالحت کے اس نظام کو مزید بہترکیاجاسکتاہے:

۱:متنازعہ فریقین کے مابین صلح مصالحت کرناچونکہ مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے اس لئے اہل ِ علم ودانش حضرات کو اس فریضے کی ادائیگی کے لئے سامنے آناچاہیے ۔

۲: شرعی طورپرمصالح، بدل صلح اور مصالح عنہ کےلئے مقررہ شرائط کاخیال رکھناضروری ہے ۔ اس لئے فریقین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسی بابت چند بنیادی صفات سے متصف حضرات کومصالحت کے لئے نامزدکریں۔

۳: اسلامی تعلیمات سے بے خبر،پیشہ ورحضرات کی ترغیب وترہیب کے ذریعے تربیت کرکےذہن سازی کرنی چاہیے ۔اس مقصد کے لئے باقاعدہ ورکشاپس اورسیمنارزمنعقد کئے جائیں۔

۴: مصالحین کے لئےتحکیم کے بنیادی مسائل اورشرائط سے آگاہی ضروری ہے۔

۵: ایسی صلح جن کی وجہ سے معاشرے کی امن وامان کی جگہ بگاڑ پیداہوان کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔

۶: پختون روایتی مصالحت میں مقامی رسم ورواج کی جگہ شرعی تعلیمات کاخصو صی خیال رکھاجائے ۔

۷:مصالحین کی اصلاح کرکے ان میں جذبہ خیر سگالی ،وحدتِ امت اوراخلاص پیداکرنے کی کو شش کی جائے تاکہ وہ معاشرے کے امن وامان کی بحالی کے لئے خلوص کے ساتھ محنت کریں۔

حوالہ جات

  1. ۱۔المغرب:ناصر بن عبد السيد أبى المكارم ابن على، أبو الفتح، برهان الدين الخوارزمی ، طبع وسن ندارد، دارالكتاب العربی،جلد1،ص ۲۷۰
  2. ۲۔القاموس الوحید:وحید الزمان کیرانوی ،طبع اول،جون 2001ءادارہ اسلامیات لاہور،ص935
  3. ۔ الدر المختارشرح تنویر الابصار:امام خصکفی،طبع دوم،1992ء دارالفكربيروت ،کتاب الصلح،ج2،ص288
  4. ۔ شرح مجلۃ الاحکام :سلیم رستم باز لبنانی،طبع وسن نامعلوم،مکتبہ حقانیہ،محلہ جنگی پشاور ، مادہ: 1531، ص827
  5. ۔ سورہ النساء:128
  6. ۔ سورہ الحجرات:9،10
  7. ۔ احکام القرآن: احمد بن علی ابوبکر رازی جصاص ، 1405ھ، داراحیاء التراث العربی بیروت،ج3،ص269
  8. ۔ المرجع السابق،ج3،ص270
  9. ۔سورہ البقرۃ:178
  10. ۔ احکام القرآن للجصاص:ج1،ص188،193
  11. ۔ سورہ البقرہ:182
  12. ۔ أحكام القرآن:القاضي محمد بن عبد الله أبو بكر بن العربی الاشبيلی المالكی طبع سوم 2003 ء،دار الكتب العلميہ، بيروت،لبنان،ج1،ص105
  13. ۔ الصحیح للبخاری:بَابُ قَولِ الاِمَامِ لِأَصحَابِہِ اِذهبوابِنَا نُصلِحُ،حدیث نمبر 2693، ج3، ص183
  14. ۔سنن الترمذی،باب ما ذکر عن رسول اللہ ﷺ فی الصلح بین الناس ،حدیث نمبر1352
  15. ۔ الصحیح للبخاری،حدیث نمبر 2700،ج3،ص185
  16. ۔ سورہ النساء:114
  17. ۔ الجامع لاحکام القرآن: شمس الدین قرطبی ،طبع دوم،سن1964ء ،دارالکتب المصریہ، قاہرہ، ج5، ص384،385
  18. ۔ مسندابی داؤد الطیالیسی:ابوداؤد سلیمان بن داؤد الطیالیسی،ج1،ص491،طبع اول،1999ء،دارہجر،مصر
  19. ۔ تفسیرقرطبی،ج5،ص384،385
  20. ۔ مسندابی داؤد الطیالیسی:ج1،ص491
  21. ۔سنن ترمذی،ج4،ص663،حدیث نمبر ۲۵۰۹
  22. ۔ بغیۃ الباحث:حارث بن محمد البغدادی المعروف بابن أبی أسا مہ، طبع اول، 1992ء، مركز خدمۃ السنۃ والسيرة النبويۃ، مدينۃ المنورة، ج1،ص309
  23. ۔ احکام القرآن : القاضي محمدأبوبكربن العربی المالكی ،ج1،ص105
  24. ۔سورہ النور:7،الصحیح البخاری،باب اٰیۃ المنافق ثلاث،ج1،ص16
  25. ۔الصحیح البخاری، بَابٌ: لَيْسَ الكَاذِبُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاس،حدیث نمبر۲۶۹۲
  26. ۔الہدايۃ في شرح بدايۃ المبتدی :علی بن أبی بكر بن عبد الجليل الفرغانی المرغينانی، طبع وسن ندارد، داراحياء التراث العرب، بيروت، لبنان،ج3،ص190
  27. ۔ ایضاَ
  28. ۔سورۃالبقرہ:188،الہدایہ،ج3،ص190
  29. ۔بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع :علاء الدين، أبو بكر بن مسعود بن أحمد الكاساني الحنفی ،طبع دوم،1986ء دار الكتب العلميۃ بیروت،ج6،ص54
  30. ۔ ایضا،ج6،ص40
  31. ۔ایضاََ،ج ۶،ص42
  32. ۔ ایضاََ،ج ۶،ص48،الدرالمختار، علاءالدین خصکفی،طبع دوم،1992ء، دار الفكر،بيروت ، کتاب الصلح،ج12،ص290
  33. ۔نور اللغات: مولوی نور الحسن مرحوم ،طبع اول،1989ء،سنگ میل پبلی کیشنز لاہور،ص 1075
  34. ۔پشتو اُردو لغت : حاجی پردل خان خٹک،طبع اول،1990ء، پشتو اکیڈمی پشاور یونیورسٹیص 606
  35. ۔جرگہ تاریخ کے آیئنے میں: محمددلم فیض داد، مترجم موسیٰ خان ،مطبع وسن ندارد، ادارہ استحکام پاکستان لاہور، ص16
  36. ۔القاموسالمحيط: مجد الدین محمد بن یعقوب فیروآبادی،ج1، طبع ہشتم،2005ء،مؤسسۃالرسالۃللطباعۃوالنشروالتوزيع،بيروت،لبنان ص 1095
  37. ۔ مختارالصحاحزينالدينأبوعبداللهمحمدبنأبی بكربنعبدالقادرالحنفیالرازی ج1، طبع پنجم،1999ء،المکتبۃ العصریہ الدار النموذجیہ،بیروت،ص78
  38. ۔رد المحتار على الدر المختار:ابن عابدين، محمد أمين بن عمر بن عبد العزيز عابدين الدمشقي الحنفي؛ الدر المختار شرح تنوير الأبصار:علاءالدین خصکفی،ج5 ، طبع دوم،1992ء، دار الفكر،بيروت،ص428
  39. ۔:مجلۃالأحكام العدلیہ:لجنۃ مكونۃ من عدة علماء وفقهاء في الخلافۃ العثمانیہ ج1،طبع وسن ندارد، نور محمد كارخانہ تجارتِ كتب آرام باغ، كراچی،ص365۔
  40. ۔ سورہ النساء:۳۵ ٥
  41. ۔معارف القرآن، مفتی محمد شفیع ، مارچ۲۰۰۱ء، ادارۃ المعارف ، دارالعلوم کراچی،ج۲،ص۳۹۳
  42. ۔ ایضاََ،ج۲،ص۴۰۴
  43. ۔ سورۃحجرات:۹
  44. ۔الجامع لاحکام القرآن:شمس الدین قرطبی ،ج۵ ،طبع دوم،سن۱۹۶۴ء ،دارالکتب المصریہ،قاہرہ، ص۱۷۹
  45. ۔ معارف القرآن،ج۲،ص۴۰۵
  46. ۔ الصحیح للبخاری : ج۴،باب مرجع النبی بنی الاحزاب ؛ حدیث۲۸۷۸، ص۶۷
  47. ۔ ابوشریح ہانی بن یزیدکااپنانام خویلدبن عمروہے،زمانہ جاہلیت میں "ابوالحکم "لقب سے مشہورتھے،فتح مکہ کے بعدمسلمان ہوئے،نبی کریم ﷺسے بیس احادیث نقل کی ہیں ،مدینہ منورہ میں ۶۸ھ کو وفات پائی۔(فتح المجيد شرح كتاب التوحيد،عبد الرحمن بن حسن التميمی ،طبع۷،سن۱۳۷۷ھ، ج۱، مطبع السنۃالمحمديۃ، القاہرة، مصر،ص۴۳۱)
  48. ۔ الادب المفرد :محمد بن اسماعیل بخاری، ج ۱ ،طبع اول،سن۱۹۹۸ء،مکتبہ المعارف للنشر والتوزیع ریاض ، ص ۴۳۵
  49. ۔ترتيب الأمالی الخميسيۃ،يحيٰبن الحسين بن إسماعيل بن زيد الحسنی الجرجانی، ج2 ، رقم : ۲۶۲۸ طبع اول،۲۰۰۱ءدار الكتب العلمیۃ، بيروت،ص۳
  50. ۔معارف القرآن،ج۲،ص۴۰۵
  51. ۔سورہ بقرہ :۱۷۸
  52. ۔ تفسیرِعثمانی:ترجمہ مولانا محمود الحسن،ج۱،طبع سوم ،۲۰۱۱ء،پاک کمپنی اردوبازار،لاہور،ص۳۴
  53. ۔مسند احمد: امام احمد بن حنبل، حدیث نمبر۳۶۰۰، ج ۶،طبع اول،سن۲۰۰۱ء،مؤسسۃ الرسالہ ترکی،ص۸۴
  54. ۔ نشرالعرف فی بناء بعض الاحکام علی العرف،ابن عابدین ،تحقیق وتعلیق مولاناثناءاللہ، مرکزالبحوث الاسلامیہ مردان خیبر پختونخوا، ۲۰۱۲ء، ص۶۱
  55. ۔ایضا : ص ۸۱
  56. ۔الہدایہ:ج3،ص 108
  57. ۔البنايہ شرح الهدایہ:أبو محمد محمود بن أحمد الحنفى بدر الدين العينى دارالكتب العلمیہ، بيروت، لبنان،طبعأول، 2000 ء،ج ۶۰ ،ص۹
  58. ۔ پختون رابطہ: خصوصی اشاعت،ص12
  59. ۔الہدایہ : ج 3، ص108
  60. ۔جرگہ :شاہسوارخان ممہ خیل مروت ، طبع اول، مارچ 2008ء،دانش پرنٹنگ پریس پشاورص53
  61. ۔ الہدايہ:ج 3،ص108
  62. ۔ جرگہ:ص54
  63. ۔ الہدايہ:ج 3،ص108
  64. ۔جرگہ : ص75
  65. ۔ الدر المختار:امام خصکفی،ج5،ص428،مجلۃ الاحکام العدلیۃ: مادہ1790،ج1ص365
  66. ۔ جرگہ:ص37
  67. ۔ سورۃالنساء:35،البحر الرائق: ابن نجیم مصری:ج 6،طبع دوم، دارلکتاب الاسلامی بیروت، ص203
  68. ۔ جرگہ:ص 40
  69. ۔احکام القرآن: احمد بن علی ابوبکر رازی جصاص ، ج3،ص154
  70. ۔جرگہ:ص38
  71. ۔ ایضا:ص 40
  72. ۔ مجلۃ الاحکام العدلیہ: ج1، مادہنمبر1790،ص365
  73. ۔ جرگہ:ص10،11
  74. ۔المحیط البرھانی فیالفقہالنعمانی:برہانالدينمحمودبنأحمدالحنفی ، طبعاول، 004ء،دارالكتبالعلمية،بيروت،لبنان ج8،ص117
  75. ۔ پختون رابطہ خصوصی اشاعت:2012، ص4
  76. ۔ البحرالرائق:ج6 ،ص203
  77. ۔ پختون رابطہ خصوصی اشاعت: 2012،عکاس پرنٹنگ پریس پشاور،ص40
  78. ۔ مجلۃ الاحکام العدلیہ: ،ج1،ص365
  79. ۔پختون رابطہ خصوصی اشاعت:ص 7
  80. ۔المبسوط:السرخسی، ج16،ص111،دررالاحکام: علی حیدر،ج4،المسائل المتعلقۃ بالتحکیم،المکتبۃ العربیہ ، بیروت، ج 16،ص 63
  81. ۔پختون رابطہ : ص 10
  82. ۔ المبسوط:ج 16،ص 63
  83. ۔ جرگہ:ص36
  84. ۔معارف القرآن:ص 111،ج 8
  85. ۔جرگہ:ص 38،39،41
  86. ۔معارف القرآن: ادریس کاندھلوی، ج2، ص208،طبع اول، 2001 فرید بک ڈپو پرائیوئٹ لمیٹڈ، دہلی
  87. ۔ پختون رابطہ:ص 14
  88. ۔المبسوط:ج 16،ص703
  89. ۔پختون رابطہ:خصوصی اشاعت:2012،ص 5
  90. ۔ شرح المجلۃ الاحکام:سلیم رستم باز، مادہ1867،بدائع الصنائعج7،ص3
  91. ۔الہدایۃ :ج3، ص108
  92. ۔ایضا
  93. ۔ تفسیرقرآن کریم:عبدالماجد دریا بادی، خان پبلیشرزکراچی، ج1، ص 191