یاسا کا تعارف اور ناقدانہ جائزہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ الایضاح
عنوان یاسا کا تعارف اور ناقدانہ جائزہ
انگریزی عنوان
Introduction and a Critical Review of Yasa
مصنف شاہ، سلیمان، رشاد احمد سلجوق
جلد 35
شمارہ 2
سال 2017
صفحات 133-148
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
شکاگو 16 شاہ، سلیمان، رشاد احمد سلجوق۔ "یاسا کا تعارف اور ناقدانہ جائزہ۔" الایضاح 35, شمارہ۔ 2 (2017)۔
جدید قانونی تصورات پر مذہب اور اخلاق کا اثر: مغربی اور اسلامی تناظر میں ایک تقابلی و تنقیدی جائزہ
معاشرتی امن و امان میں پختون روایتی مصالحت اور تحکیم کا کردار: ایک تحقیقی مطالعہ
انسانی دودھ کی خرید وفروخت اور رضاعت کے مسائل
مسائل میراث حل کرنے کے قدیم اور جدید حسابی طریقوں کا تقابلی جائزہ
عرب عہد جاہلیت میں ’’طلاق‘‘ کا تصور: تحقیقی جائزہ
مروجہ جاگیردارانہ نظام کا تاریخی ارتقاء اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تقابلی جائزہ
یاسا کا تعارف اور ناقدانہ جائزہ
فقہی اختلافات کے مابین امام شعرانی اور شاہ ولی اللہ کے اسالیب تطبیق
قرائن الترجیح العامة بين الروايات المختلفة المعلة مع الأمثلة التطبيقية من كتاب العلل الواردة في الأحاديث النبوية
أهمية المنهج التطبيقي في تدريس الحديث النبوي وعلومه
ابتكارات العلامة الزمخشري في علم المعاني خلال أسلوب السؤال والجواب في تفسيره الكشاف
الروائع البلاغية للتذييل في النثر، والشعر
أوزان شعر محمود سامي البارودي وموسيقاه: دراسة تحليلية إحصائية
Antecedents of “Quality of Work” in Islamic Perspective Through Mediating Effect of Perceived Job Performance
Syed Ali Tarmizi and Akhun Darwaiza: Mughal Agents or Popular Saints
An Analysis of Prisons’ Staff Role in the Reintegration of the Prisoners
Spirituality and Psychological Well-Being Among Muslims and Christians Adolescents and Young Adults
Quran and War Media: Towards a More Constructed Approach to Conflict Reporting
Higher Education for Women in Peshawar: Barriers and Issues
Development of Kabul under Mughals 1504-1738 AD
The Status of Medical Manuscripts by Muslim Scientists at Islamia College Peshawar Library

Abstract

Genghis Khan (1162-1227), Mongolia’s great emperor, ruled over large parts of the world for a long period of time. Under his banner, he had nomadic tribes and desert people. For the ruling, controlling, uniting and disciplining the variant people, he framed a conventional constitution named “Yasa” (Holy laws), which comprised of primitive traditions, customs, laws, law of different religions such as Islam, Buddhism, Christianity, Judaism and Genghis Khan’s own insights and decisions. This contained punishment for every kind of crime. There was no room for forgiveness. His aim was to subjugate the whole world under him.

’’یاسائےچنگیزی‘‘ کا تعارف:

چنگیزخان کے جھنڈے تلے متفرق منگول اورغیرمنگول قبائل رشتے ناتے، مذہب، اجتماعی سوچ اور مشترک نصب العین کی بنیادپر جمع نہیں ہوئےتھے بلکہ ان میں اکثریت کا مقصدمحض لوٹ مار،اپنا تحفظ ،دشمن سے انتقام اورمال ودولت کی حرص تھی۔انسانیت، اخلاقیات،مذہب اورتہذیب وتمدّن سے ناآشنا ان جاہل وحشی قبائل کو تادیر بغیر کسی ضابطے(قانون) کےاپنے ماتحت منظّم اورمتحّدرکھنا ممکن نہ تھا۔لہٰذا ان قبائل کوقابومیں رکھنے اورزیرِ تسلط ریاست کو چلانے کے لیے چنگیزخان نےاپنے آباؤاجداد کی قدیم روایات،رسم ورواج، مختلف مذاہب جسےبدھ مت،اسلام،یہودیت اور عیسائیت کی تعلیمات سے استفادہ کرکے اوراپنی قوّت ِفکرکی بنیادپر ’’یاسا‘‘ (مقدّس قوانین) کےنام سے یہ رواجی دستور مرتب کیا۔جس نےنہ صرف نوزائیدہ منگول سلطنت کی دستوری ضرورت پوری کی بلکہ منگول قوم اوران کی عسکری طاقت کو بھی متحد اورمنظّم کیا۔وحی الہٰی کی رہنمائی سےمحروم ”یاسائے چنگیزی“میں بے شمار خامیاں بلکہ حماقتیں موجودتھیں لیکن چنگیزخان کوریاست چلانے کے لیے دستورکی ضرورت تھی ،سواس نے ضرورت سمجھتے ہوئے اُسے بنا دیا اور اس پر عمل درآمد بھی کرایا۔چنگیزی رعایا نے بھی بغیرکسی پس وپیش کے اِسے قبول کرلیا۔[1]

’’یاسا‘‘ کی تدوین وتوضیح:

منگول لکھناپڑھنانہیں جانتے تھے۔ان کا ساراانحصارحافظے پرتھا لیکن جب ملکی ضروریات کے پیش نظر”یاسا“ کے لکھنے کا مسئلہ

درپیش ہواتو اُس وقت تک منگولوں کے پاس اپنی زبان کا رسم الخط تک نہ تھا۔چنگیزخان جس طرح غیراقوام کی تہذیب وتمدّن اپنانے سےگریزکرتے تھے اس طرح غیرکی زبان میں اپنا دستور”یاسا ئے چنگیزی“ لکھنا بھی گوارانہیں کرتے تھے۔ کسی غیرکے تہذیب وتمدّن کو اپنانا یا ان کی زبان میں اپنا دستورلکھنا وہ اپنی کمزوری اورتوہین سمجھتے تھے۔اس نے شکست خوردہ ختا (قدیم چین) کے لکھے پڑھے طبقے کو حکم دیا کہ وہ منگولوں کی زبان ”یوغر“(Uighur) کا رسم الخط تیارکرکےمنگول بچّوں کو سکّھادیں۔ چنگیزخا ن کے حکم پر ختا کے لکھے پڑھے طبقے نے سب سے پہلے”یوغر“(Uighur) کا رسم الخط تیارکرکےمنگول بچّوں کو سکّھایا اورپھراِسی رسم الخط میں چنگیزخان کے فرمودات اور”یاسا“ کے قوانین کو فہرستوں پر لکھ دیئے گئے۔ان فہرستوں کو ”یاسا“ کی عظیم کتاب (Great book of Yasas)کے نام سے یا د کیا جاتا ہے۔ چنگیزخان کا بنایا ہوایہ دستور خاقان/خان اعظم کی عدالت میں رکھا جاتا تھا۔اِسی کے مطابق وہ ریاستی امورچلاتے اورمقدّمات نمٹاتے تھے۔ اس طرح جہاں کہیں کسی خاقان کی تاج پوشی ہوتی یا ریاستی امور پر بحث مباحثے کے لیے شہزادے جمع ہوتے یافوج کو کہیں بھیجناہوتا تو وہ یاسا کے ان فہرستوں کو فراہم کردیتےاور انہی کے مطابق عمل کرتے۔[2]

مؤرخین یہ بھی لکھتے ہیں کہ چنگیزخان نے ”یاسا“ پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے سپریم جج کا عہدہ وضع کیا اور اس پر اپنے لے پالک بھائی شیگی کا تقررکیا۔اس کی ذمہ داریوں میں شامل تھا کہ چوروں کو سزادے اور’’یاسا‘‘ کے قوانین کو منگول رعایا پر نافذ کریں۔[3]

’’یاسا‘‘کی وجہ سےمنگولوں پر چنگیزخان کی اطاعت قطعی طورپر واجب ہوگئی تھی۔اگرکوئی اس کی تعمیل سے انکارکرتا یا اس میں سستی کرتاتوبلاا متیازاُسے سخت ترین سزادی جاتی جوکہ اکثرسزائے موت ہوتی ۔یہ انہی قوانین کا نتیجہ تھا کہ دربارسے ہزاروں میل دور قاصدجب خاقان کا پیغام کسی سپہ سالارکوپیش کردیتاتووہ فوراً بغیرکسی اعتراض اورحیل وحجت کے اس کے حکم کی تعمیل کرتا۔اگرفرمان سپہ سالارکو اپنے عہدے سے دستبردارہونے یا خاقان کے سامنے پیش ہونے یا اس کی کسی غلطی کی وجہ سے اس کی موت سے متعلق ہوتاتوپھر بھی وہ اس کی تعمیل کرتا۔چنگیزخان نے اپنی زندگی کے آخری قرولتائی میں اپنے بیٹوں، فوج کے سپہ سالاروں اوردوسرے ذمہ دارافراد کو طلب کرکے انہیں ایک بلیغ تقریرکرنے کے بعدمتانت سے کہا:

’’یاسا‘‘کی برکت سےمیں نےبہت بڑی سلطنت پرقبضہ کیاہے۔تم اس کےقوانین کی پابندی کرتےرہنا۔[4]

’’یاسا‘‘کے بنیادی طورپرتین مقاصدتھے۔چنگیزخان کی اطاعت، خانہ بدوش قبیلوں میں اتحاد واتفاق اورغلطیوں کی سخت سزا۔”یاسا“ کےچندبڑے بڑے قوانین حسبِ ذیل ہیں۔

1۔”یاسا“ میں سب پہلےخدا کے متعلق عقیدے کا ذکران الفاظ میں کیا گیاتھا کہ حکم دیا جاتاہے کہ سارے انسان ایک خداپر یقین کریں،جو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے، جو اکیلا امیری یاغریبی، زندگی یا موت اپنی مرضی کےمطابق عطاکرتاہے،جس کی طاقت ہر شے پر کامل ہے۔[5]

چنگیزخان بذاتِ خودیہ عقیدہ رکھتاتھا کہ کائنات کی ہرچیزمیں ایک پوشیدہ روح بستی ہے جو اس کا خدا ہے۔ان کا عقیدہ تھا کہ کائنات میں سارے انقلابات اورتغیرات ایک نیلے جاودانی آسمان کا ربّ لاتے ہیں۔وہ تمام ادیان کو ایک تصوّرکرتے تھے۔ اس لیے ”یاسا“ میں مذکورتھا کہ تمام ادّیان کا عزّت واحترام کیا جائے اور کسی بھی دین کو دوسرےدین پر فوقیت اورفضیلت نہ دی جائے۔ یہ سب کچھ اس نے خداتعالی ٰ کی رضامندی کے لیے کیا تھا۔[6]

’’یاسا‘‘کے مطابق امن کی حالت میں اگرکوئی سپاہی یا عام آدمی کسی مذہبی پیشوا یا مذہبی عبادت خانے کونقصان پہنچائےتو یہ نہیں دیکھاجائےگا کہ وہ کس مذہب سے تعلق رکھتاہے بلکہ اُسےبلاامتیاز قتل کیا جائے گا۔[7]

خاقان کا منشی اورمشہورمؤرّخ عطاء ملک الجوینی لکھتے ہیں کہ چنگیزخان بذاتِ خود نہ توکسی خاص مذہب کا ماننے والا تھا اورنہ ہی کسی مخصوص مذہب کا حامی تھا اس لیے اس نے مذہبی تعصّب اورکسی ایک مذہب کوباقی سب مذاہب پرفوقیت دینے کے سارے خیالات،اقوال اورافعال مسدودکردیےتھے۔اس کی نظرمیں ہر مذہب کے پیشوا اورنیک لوگ قابل ِ عزّت و احترام تھے۔ مذہب کے حوالے سےچنگیزخان نے اپنے پورے خانوادے کو آزادی دی تھی کہ اپنی مرضی سےوہ جس مذہب کو چاہے اسے اپنالے لیکن یا سا سے سرمو انحراف نہ کریں۔اِسی مذہبی آزادی کی وجہ سےچنگیزخان کےمرنے کےبعد اس کی اولاد میں سے بعض نے اسلام ، بعض نے بت پرستی اور بعض نے عیسائیت قبول کی جبکہ بعض اپنے آباؤ اجدادکے قدیم فلسفے پر عمل پیرا رہے۔اس کے باوجود کہ انھوں نے مختلف مذاہب اختیارکیے وہ پھربھی چنگیزخان کے بنائےہوئے دستور ”یاسا“ پرسختی سےکاربند تھے اورتمام مذاہب کو ایک سمجھتےہوئے ان کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتےتھے۔[8]

ہیرلڈلیم کے مطابق چنگیزخان نے اپنے دارالحکومت قراقرم میں مختلف مذاہب کے پجاریوں کےلیےباقاعدہ ایک بستی مخصوص کی تھی۔جہاں پر پتھروں سے بنے ہوئے مساجد،نسطوری عیسائیوں کےچھوٹے چھوٹے لکڑی کے بنےہوئے گرجے اور پرانےبدھ مت کے مندر تھے۔یہاں پر ہرشخص کو اجازت تھی کہ وہ جس طرح چاہےان میں عبادت کرے لیکن ”یاسا“ کے قوانین کی پابندی کرےاورمغل ارودکے اصولوں پر عمل کریں۔[9]

2۔یاسا کے مطابق فقیروں ، مذہبی پارساؤں، وکیلوں ،ڈاکٹروں ،ادیبوں ،راہبوں،مردوں کو غسل دینے والوں اوران کی جائیداد واملاک پر کسی قسم کا کوئی ریاستی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔[10]

چنگیز خان اگرچہ بذاتِ خود اَن پڑھ تھا لیکن اُسے معلوم تھا کہ سب سے اہم چیز تعلیم ہےاس لیے اس نے یاسا کے ذریعہ یہ حکم نافذ کیاتھا کہ علم اوردرس وتدریس سے وابستہ لوگوں کے ساتھ پوری عزّت و احترام اوروقار کا سلوک کیا جائےگا۔وہ مفت سفرکریں گےاورجہاں چاہے آزادی کے ساتھ تعلیم پھیلا سکتےہیں اوران کی بھرپورحوصلہ آفزائی کی جائے گی۔[11]

اس حوالےسے جیک ویدرفورڈ لکھتے ہیں کہ مذہبی آزادی،ریاست میں امن وامان کے قیام اوررعایا کے درمیان اتحادواتفاق پیدا کرنے کے بعدریاست وحکومت کومزیدمضبوط ومستحکم کرنےکےلیے ’’یاسا‘‘ کے ذریعے اس نے یہ قانون بھی نافذ کیا کہ تمام مذاہب کےقائدین اوران کی جائیدادکو ریاستی محصولات اور عوامی خدمت سے مستثنی ٰ قراردےدیا۔چنگیزخان نے پیشہ ورانہ خدمات کے فروغ کےلیے ایسےہنرمندوں کوبھی ریاستی محصولات سے مستثنی ٰ قرار دیا جو لازمی اور بنیادی خدمات سرانجام دیتے تھے۔جن میں علماء، اساتذہ ،طبیب اور قانون دان وغیرہ شامل تھے۔[12]

یا سا کے ذریعے چنگیزخان نے اپنی رعایا پرلازم کیا تھا کہ وہ ہر سال اپنی بیٹیوں کو خاقان کے سامنے پیش کرے تاکہ وہ ان میں سے اپنے لیے اوراپنے خانوادے کے لیے منتخب کرے۔اس حوالے سے تاریخ ابن کثیر میں مذکورہے۔

”خاقان کی اطاعت کرواوراپنی خوبصورت دوشیزگان کواس کےحضور پیش کرو تاکہ وہ جسے چاہےاپنے لیےاوراپنے خانوادےکےلیے منتخب کرےاوراس کےخواص میں سے جوچاہےان میں سے کسی لڑکی کو پسند کرے۔“[13]

یاسا کی روسے جو کوئی کسی منگول خاتون کو اغوا کرلیتاتواس کی سزا،موت ہوتی تھی۔منگول سماج میں بڑے بڑے مسائل اوردشمنیاں عورتوں کی اغواکاری سے پیداہوتی تھیں۔ان دشمنیوں میں بعض اوقات بڑے بڑے قبائل اورخاندان صفحہ ہستی سے مٹ جاتے تھے۔لہٰذا چنگیزخان نے منگول سماج سےدشمنیاں ختم کرنے کے لیے ”یاسا“ میں اغواکاری کی سزا،موت قراردی ۔مؤرخین یہ بھی لکھتے ہیں کہ اس قانون کو بناتے وقت غالباً اس کےذہن میں اپنی بیوی بورتائی کے اغوا کی تلخ یادیں موجودتھیں جب شادی کے فوراً بعد اس کی بیوی اغوا کی گئی۔اس وجہ سے بذاتِ خود چنگیزخان ساری عمر اس غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا رہاکہ اس کے بڑَے بیٹے جوجی کا باپ حقیقی طورپر وہ تھایا اس کی بیوی کو اغواکرنےوالا ۔[14]

5۔’’یاسا‘‘ کی روسے اگرکوئی زناکاری یا لواطت میں پکڑاجائے تواُسے سزائے موت دی جائے گی۔ اس صورت میں اِسے نہیں دیکھا جائے گاکہ وہ دونوں یا ان میں سےکوئی ایک شادی شدّہ ہے یا غیرشادی شدّہ بلکہ دونوں کو قتل کیاجائےگا۔[15]

چنگیزخان جانتا تھاکہ سماج کےزیادہ ترمسائل مردوعورت کےناجائز اورغیرقانونی تعلقات سےپیداہوتےہیں۔سماج کومتاثر کرنےکے ساتھ ساتھ اس کے بُرے اثرات ان کی آئندہ نسلوں پربھی پڑتےہیں۔ اس ناجائز تعلقات کی وجہ سےبعض اوقات ایک قبیلہ یا متفرق قبائل کے افراد آپس میں لڑ پڑتےہیں چاہےیہ تعلقات خاندان یا قبیلہ کےاندرہویا خاندان اورقبیلہ سے باہر۔اس تعلق سے پیداہونے والے بچّے بھی اکثر اپنے والدین کے نافرمان ہوتے ہیں۔ان وجوہات کی بنا پر چنگیزخان نےزنا اور لواطت کو غیرقانونی قراردیتےہوئے ان کےلیے سزائے موت مقررکی تھی اورساتھ ہی شادی کےلیے عورتوں کی خریدوفروخت کوممنوع قراردےدیا۔سماج میں جولوگ یا ساکے ان قوانین کی مخالفت کرتے تو اُنھیں سزائے موت دی جاتی تھی۔[16]

زنااورلواطت سے متعلق یاسا کا یہ قانون صرف منگولوں کے لیے تھا کیونکہ چنگیز خان کے حکم کے مطابق نہ تو منگول ایک دوسرے کی جان،مال اور عزّت وآبرو پر دست درازی کرسکتے تھے اورنہ ہی کوئی غیر منگول، منگولوں کو کسی قسم کا کوئی نقصان پہنچاسکتے تھے۔ اس لیے کوئی بھی خوا ہ وہ منگول ہو یا غیر منگول کسی منگول عورت کےساتھ زناکاری اورمردکےساتھ لواطت کاارتکاب کرتاتو اسےسزائےموت دی جاتی تھی جبکہ غیر منگولوں کےساتھ وہ سب کچھ کرنے کوآزادتھے۔اس طرح چنگیزی افواج دوران جنگ مفتوحہ علاقوں میں ہر قسم کے روک ٹوک سے آزاد تھے ۔یہ چنگیزی فوج اپنی مرضی سے مفتوحہ اقوام کی لوٹ مار کرتے ،عورتوں کی عصمتیں پامال کرتےاوران کی تمام مال ودولت چھین لینے کےبعدانہیں قتل کر دیتے تھے۔

چنگیز خان کی نظرمیں چوری سب سےناپسندیدہ چیزتھی اس لیے یاسا کے مطابق اگرکوئی چوری کرلیتا اورخصوصاً اگرکسی کا گھوڑا چرالیتا تو ایسےشخص کوسزائےموت دی جاتی تھی۔ [17]

اس کے ساتھ ہی یاسا میں یہ بھی ذکر تھا کہ اگر کسی شخص کے قبضے سے چوری شدہ گھوڑا برآمد ہو جائےتو جرمانے میں وہ اس گھوڑے کے مشابہ 9 اور گھوڑے اس کے مالک کو ادا کرے گا۔ اگر تنگ دستی کی وجہ سے وہ جرمانہ ادا کرنے کا قابل نہیں تو پھر گھوڑوں کی جگہ اس کے بچےّ گھوڑ ے کے مالک کو دیے جائیں گے اور اگر اس کے بچّے نہ ہوں تو پھر اس کے بدلے میں اِسے بھیڑ کی طرح ذبح کر دیا جائے۔[18]

منگولوں کےدرمیان مویشیوں کی چوری کوہمیشہ سےغلط سمجھاجاتارہاہےاوربعض اوقات یہی چیز ان کےدرمیان طویل عرصے تک چلنےوالی دشمنی اورتنازعات کا سبب بن جاتی تھی۔یاسا کے اس قانون کے پس منظر میں چنگیزخان کےذہن میں وہ واقعہ تھاکہ جب باپ کے مرنے کےبعد اس کےچھوٹے سےخاندان کے آٹھ گھوڑے چرائے گئے تو اس نقصان پروہ کتنے پریشان ہوئے تھے۔اس لیے حکمران بننے کےبعداس نےمویشی چوری کو سنگین جرم قراردیا۔اس نےگم شدہ چیز کی بازیابی اوراپنے مالک تک پہنچانے کےلیےایک خصوصی محکمہ قائم کیاتھا۔یاسا میں چورکےلیے سزائےموت کےساتھ ساتھ اس شخص کےلیےبھی موت کی سزامقررکی گئی تھی جوکوئی لاوارِث چیز،دولت یامویشی پا لے اوروہ اس کی اطلاع متعلقہ محکمےکونہ کریں۔[19]

یاسا کی روسے قتل کے جرم میں قاتل سے سز ا کے طور پر جرمانہ لیا جاتا تھا جو کہ محمدیوں(مسلمانوں)سے چالیس سونے کے سکےّ اور چائنیز سے ایک گدھا لیا جاتا تھا۔[20]

تاریخی شواہد کےمطابق ’’یاسا‘‘ میں دوسرے قوانین کی طرح قتل مقاتلے کی سزائیں بھی منگولوں اورغیرمنگولوں کے لیے یکساں نہ تھیں۔ چنگیزی سلطنت میں غیرمنگولوں کے درمیان قتل مقاتلے جیسے سنگین جرائم حل کرنے کےلیے سزاکے طور پر ہر مذہب والوں کےلیے’’یاسا‘‘ میں الگ الگ تناسب سے جرمانے مقررکیےگئےتھے جبکہ منگول قوم کےآپس میں قتل وقتال پر سخت پابندی تھی اورجوبھی کسی منگول کو قتل کردیتاتواس کی سزا موت مقررتھی۔

”یاسا“ کےمطابق جو بھی کسی منگول مردکواغواکرے یا اُسے قیدی ىا غلام بنائے تواس کی سزا،سزائے موت تھی۔

مؤرخین کےنزدیک یہ قانون بناتے وقت چنگیزخان کواپنا دورِغلامی یادتھا۔ باپ کےمرنےکےبعدجب قبیلہ تائیحوت نے اُسے گرفتارکرکے اپنا غلام بنایاتھا۔اس لیے وہ جانتاتھا کہ ایک قیدی اورغلام کی زندگی کتنی تلخ ہوتی ہے۔لیکن اس نے یہ قانون

سازی اورممانعت صرف منگولوں کے قیدوبند اورغلام بنائے جانے کےحوالےسےکی تھی۔[21]

اس کےبرعکس ’’یاسا‘‘ کے مطابق غیرمنگولوں کوقیدکرنااوران کوغلام بناناجائزتھا۔مالک کواختیار تھاکہ وہ جیسے چاہے اپنے غلام کےساتھ رویہ ّ رکھے۔تاریخ ابن کثیرمیں مذکورہے کہ یاسا کی روسے جوکسی قیدی کواس کے آقا (مالک) کی اجازت کے بغیرکھاناکھلاتے ، پانی پلاتے یا لباس پہناتے تو اُسے قتل کیا جاتاتھا ۔اس طرح جو کسی بھگوڑے کودیکھتے اوراسےپکڑکر اپنے مالک کو واپس نہ کرتے تو اُسے بھی قتل کیاجاتا تھا۔[22]

9۔”یاسا“ میں ترکہ کی تقسیم میں چھوٹے بڑے کا امتیازاورسگے سوتیلے کا فرق رکھا گیاتھا ۔ اس طرح سوتیلی ماں کو بطورمیراث نکاح میں لینا جائزتھا۔یاسا میں تقسیم ِ میراث کے قوانین حسبِ ذیل تھے۔

الف:لونڈی سے پیدا ہونے والے بچے باپ کی میرات میں حصّہ دارتھے۔ترکہ کی تقسیم عمر کی بنیا د پر تھی۔ باپ کی میراث میں اس کا بڑا بیٹا اپنی مرضی اورچھوٹے بیٹے کی بہ نسبت زیادہ لیتا جبکہ چھوٹا بیٹا میراث میں اپنے والد کا گھر لیتا تھا۔

ب:ترکے کی تقسیم کے ساتھ ساتھ بیٹے اپنے والد کی بیویوں کو آپس میں تقسیم کر دیتےتھے۔ان میں سے اپنی ماں کے علاوہ باقی کے ساتھ یا تو خود شادی کرلیتے یا اسے دوسروں کی نکاح میں دیتے تھے۔

ج:جائز وارثوں کے بغیرمرحوم کی ملکیت کوئی بھی استعمال نہیں کرسکتا تھا۔[23]

مشہورمؤرخ اسلم راہی لکھتے ہیں کہ ’’یاسا‘‘ کےتحت منگولوں کےلیے یہ جائزتھا کہ باپ کےمرنے کےبعد بیٹے اپنے سوتیلی ماں سےنکاح کرےیااِسے دوسرےکی نکاح میں دیں۔یہی وجہ تھی کہ بغدادپر حملے کےوقت ہلاکوخان کے نکاح میں جو بیوی تھی اور جس کے مشوروں پر وہ عمل کرتے تھے۔وہ اس کی اپنی سوتیلی ماں’’دوقوزہ‘‘ تھی۔یہ مذہباً نسطوری عیسائی، انتہائی چالاک، مکاّر، تیزفہم، جنگ وجدل کی تجربہ کار،اسلام اور مسلمان دشمن خاتون تھی۔ہلاکوخان اس بیوی سے بہت محبت کرتا تھا۔[24]

10۔جوکسی کی طرف کھانے کی کوئی چیزپھینک دےاور اس کے ہاتھ میں نہ دے تواِسے قتل کردیا جائے۔اس طرح جو کسی کوکوئی چیزکھلائےتووہ خودپہلےاس سےکھائے،خواہ جسےکھلایاگیاہےوہ امیرہو،غریب ہو اور یا اسیرلیکن جس نےکھایا اور اپنے پاس والے کو نہ کھلایا تو اسےبھی قتل کیا جائے ۔ جوشخص بھوک کی حالت میں کھاناکھاتےلوگوں کے پاس سے گزرے تو اس کے لیے لازم ہے کہ وہ بِلا اجازت ان کے ساتھ کھاناکھائے اورکھانا کھانے والے اُسے منع نہیں کریں گے اورجو اِسے منع کرے اُسے قتل کیا جائے۔جوشخص آگ اورکھانےکی برتنوں کے اوپر قدم رکھے تو اُسے بھی قتل کردیاجائے۔[25]

11۔اگرکوئی ایک فرقے کو دوسرے پرفوقیت وفضیلت دےیاقرولتائی(منگول مجلس ِ مشاورت)کی اجازت کے بغیراپنے لیے کوئی معزّزانہ لقب یا خطاب استعمال کرے تواُسے قتل کیاجائے۔[26]

جیک ویدرفورڈ لکھتے ہیں کہ ۱۲۰۶ء میں چنگیزخان نےمقدّس پہاڑبرقان قلدون کےقریب دریائےاونون کےکنارے اپنے مخصوص علاقے میں قرولتائی طلب کی۔منگول تاریخ میں یہ سب سے بڑی اور اہم قرولتائی تھی۔اس میں چنگیزخان نے اپنے لوگوں کےلیے”یکے منگول اولس“ یعنی عظیم منگول قوم کا نام رکھا۔اس نے اپنے لوگوں میں پائے جانے والے تفرقہ بازی اور موروثی امتیازی خطابات قانوناً ممنوع قراردیئے۔اس قرولتائی میں خطابات کو سرکاری مناصب قراردیئےگئے۔اب یہ خطابات اور مناصب حکمران کی مرضی اورصوابدیدپرکسی کو ملتےتھے۔اس کےبعد اگرکوئی اس قانون کی خلاف ورزی کرتاتو ”یاسا“ کی روسے اس کی سزا،سزائے موت تھی۔[27]

چنگیزخان کی نظرمیں بہتری مذہب ،حسب نسب ،رنگ نسل اورزبان وغیرہ کی بنیادپر نہ تھی بلکہ اس کےنزدیک وہی افراد قابل توجہ سمجھے جاتے تھے جن کےپاس کوئی ہنراوریا صلاحیت ولیاقت ہوتا۔اس وجہ سے منگولوں نے مفتوح اقوام میں بھی کسی کی مذہب،ذات پات،رنگ نسل اور زبان کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔مفتوح اقوام میں زیادہ تربااثرلوگ ہی منگولوں کے شدیدترین انتقام کا نشانہ بنتے تھے کیونکہ گوبی کے طاقتورقبائل اورسلطنت”ختا“ کوشکست دینے کے بعدان کا یہ تجربہ ہواتھا کہ ان کی موجودگی میں مسائل بھی یہی طبقہ پیداکرتے ہیں اوران کے جانے کے بعدبغاوت بھی یہی طبقہ کرتا ہے۔غرض خوارزم، عالم اسلام،روس اوریورپ پر یلغارکے وقت کسی شہریا قلعے پرطاقت کےذریعہ قبضہ کےبعداکثر کسی بھی بااثرفردکوزندہ نہ چھوڑتے تھے۔[28]

12۔شراب نوشی کے حوالےسے”یاسا“ میں ذکرتھا کہ جو شخص شراب پینے سے باز نہیں رہ سکتا تو وہ مہینے میں تین بار پی سکتا ہے۔اگروہ دو بارپی لے تو یہ بہتر ہے اور اگر ایک بار پی لے تو یہ زیادہ قابل ستائش ہے۔ اگر کو ئی بالکل نہیں پیتا تو اس سے زیادہ بہتر کیا ہو سکتا ہے؟ لہٰذا وہ آدمی جو بالکل نہیں پیتا، بڑی عزّ ت کا حامل ہے۔[29]

شراب نوشی کی ممانعت حالت جنگ میں ہوتی تھی کیونکہ نشے کی حالت میں یہ لوگ عجیب عجیب قسم کی بکواس بکتے تھے۔جس میں بعض اوقات وہ انتہائی رازکی باتیں بھی کہہ دیتے ۔ اس خطرے سے بچنے کےلیے”یاسا“ میں ذکرتھا کہ نشہ کے وقت آدمی کی حالت ایسی ہوتی ہےجیسےاس نے سرپر چوٹ کھائی ہو۔عقل اورہنر اس کا ساتھ نہیں دیتے اس لیے وہ بروقت صحیح فیصلے نہیں کرسکتے۔لہٰذا مہینےمیں صرف تین دفعہ نشہ سےمدہوش ہونےکی اجازت ہے۔ بہتر تو یہی ہے کہ مدہوشی پیداہی نہ ہونے پائے لیکن نشہ سےقطعی پرہیز کون کرسکتاہے؟[30]

13۔جوبھی قصداًجھوٹ بولنےکا ارتکاب کرے اوروہ اس پر ثابت ہوجائے تواسےسزائے موت دی جائے۔[31]

چنگیزخان بذاتِ خود جھوٹ سے نفرت اورسچ کوپسند کرتاتھا۔اس کےسامنےجوبھی قصداً جھوٹ بولتا اوروہ بعدمیں اس پر کسی نہ کسی طریقے سے ثابت ہوجاتا پھراس کی جان بخشی ناممکن تھی۔لیکن اگرکوئی جانی دشمن بھی اس کےسامنے سچ بولتا تو بعض اوقات اس وجہ سے اس کی نہ صرف جان بخشی کی جاتی بلکہ اُسے اپنی جماعت میں بھی شامل کردیتے۔خاقان کا منشی اورمشہورمؤرخ عطاءملک الجوینی اپنی کتاب تاریخ جہاں کشاں میں لکھتے ہیں کہ ”یاسا“ میں یہ قانون لکھا گیا تھا کہ جوبھی قصداً

جھوٹ بولے اوروہ اس پر ثابت ہوجائے تواس کی سزا موت ہوگی۔[32]

گوبی کے اِن خانہ بدوش اور وحشی قبائل کے درمیان جھوٹ بولنا اوردغا ناقابلِ معافی جرائم میں سے تھے کیونکہ ایک جھوٹا اورغدّارشخص اپنی مکروفریب سے پوری بستی اورقوم کوتباہ وبربادکرواسکتاتھا یا پورے گروہ کودشمن کے جال میں پھنسوا سکتا تھا۔اس لیے چنگیزخان نے ”یاسا“ میں ایسے لوگوں کےلیے سزائے موت مقررکی تھی جو جھوٹ بولے،غدّاری کرے یا وعدہ خلافی کرے۔[33]

14۔جوکوئی جادومنتر یا کالاجادوکرےاور اس کےذریعے کسی کونقصان پہنچائے تواِسے قتل کردیاجائے۔[34]

عطاء ملک الجوینی اپنی کتاب تاریخ جہاں کشاں میں لکھتے ہیں کہ چنگیزخان نے جادومنترکی ممانعت کی تھی ۔ اس لیے جوکوئی جادومنترکرکے اس کے ذریعے کسی کونقصان پہنچادیتا تو ”یاسا“ کے مطابق اُسے سزائے موت دی جاتی تھی۔[35]

اس حوالےسے ہیرلڈلیم بھی لکھتے ہیں کہ ”یاسا“ میں ذکرتھا کہ جوکوئی جاسوسی،اغلام،جھوٹی گواہی اوریا کالےجادوکا ارتکاب کرے تواس کی سزا، موت ہوگی۔ [36]

15۔حکومتی کارندوں کے بغیرجوبھی کسی دوسرے کی جاسوسی کرے اوراس کے پوشیدہ رازوں کو جاننےکی کوشش کرے تواِسے قتل کردیاجائے۔[37]

ملکی اوربین الاقوامی حالات سے باخبررہنےکے لیے چنگیزخان نےحکومتی سطح پر جاسوسی کا ایک مضبوط،منظّم اورتیزترین محکمہ قائم کیاتھا۔ یہ جاسوس زیادہ تر تاجروں کے روپ میں مختلف ممالک میں گھومتے پھرتےتھے۔کسی ملک پرحملہ کرنے سے قبل اس محکمے کےذریعے وہاں کی تمام حالات معلوم کرلیتے۔ اس محکمے میں مختلف مذاہب اورمختلف زبانیں بولنے والے لوگ بھرتی کئے جاتے تھےتاکہ موقع ومحل کےمطابق ان سے اچھی طرح کام لیاجاسکے ۔ ان کے ذمہ داریوں میں غیرممالک کے جغرافیائی حالات کے نقشہ جات بنانا،وہاں کی مذہبی اورسیاسی اونچ نیچ اورصورت حال سے واقفیت حاصل کرلینا،وہاں کے عوام کونفسیاتی دباؤ میں رکھنےکےلیےان کےسامنے منگولوں کےحوالے سےعجیب وغریب قسم کے واقعات بیان کرنا اوراشرافیاں طبقے کو مال ودولت اوربڑے بڑے مناسب کی لالچ دے کرمنگولوں کاہمنوابنادینا ۔ تاکہ چنگیزخان کےمتوقع یلغارکی صورت میں وہ منگولوں کابھرپورساتھ دیں ۔ لیکن اس محکمے سے وابستہ لوگوں کے علاوہ کسی عام شہری(فرد) کےلیےاس بات کی بالکل اجازت نہ تھی کہ وہ کسی کی جاسوسی کرےیا کوئی غیر ملکی منگولوں کی جاسوسی کریں ۔اگرکوئی غیر ملکی یا عام شہری جاسوسی میں گرفتارہوجاتاتواسے سزائے موت دی جاتی تھی۔ اس حوالے سے تاریخ ابن کثیر میں مذکور ہے کہ یا سا میں یہ قانون درج کیا گیا تھا کہ جوبھی جاسوسی میں پکڑاجائے اُسے سزائے موت دی جائے۔[38]

16۔اگردوفریقین کےدرمیان لڑائی شروع ہوجائے اورکوئی تیسرافریق اس میں مداخلت کرکے لڑائی کوختم کرنے کی بجائے ایک فریق کی طرف داری کرکے اُس کی مددکرےتواس تیسرے فریق کوقتل کردیاجائے۔ اس حوالے سے تاریخ ابن

کثیر میں ذکرہے۔

”تاریخ جہاں کشاں کےمطابق جوکوئی دوفریقین کے درمیان لڑائی جھگڑے کےوقت کسی ایک فریق کے خلاف دوسرے فریق کا ساتھ دیں تواُسے قتل کردیاجائے۔“[39]

غرض’’یاسا‘‘کی روسےمغلوں پرآپس میں لڑائی ممنوع تھی اورجو کوئی اس میں پہل کرتا یاکوئی تیسرا اس میں مداخلت کرکےکسی ایک فریق کی مددکرتا تو اس تیسرے فریق کے لیے سزائے موت مقرّرتھی کیونکہ چنگیزخان اس بات سے واقف تھاکہ متحدہ منگول قوم کے لیے آپس میں لڑائی جھگڑے زہرقاتل ہیں۔[40]

17۔”یاسا“کی روسےجوکوئی کھڑے پانی میں پیشاب کرے گاوہ بھی قتل ہوگا اورجو اس میں ڈبکی لگائے گاوہ بھی قتل ہوگا۔[41]

اس حوالے سےہیرلڈلیم یہ بھی لکھتے ہیں کہ ”یاسا“کی روسے آگ میں یا راکھ میں پیشاب کرنا یا بہتے پانی میں کپڑے دھونا منع تھا۔اس کے ساتھ ہی ”یاسا“میں یہ حکم بھی لکھاگیاتھا کہ کپڑوں کو نہ دھوئے جائیں بلکہ اِسے اس وقت تک پہنے جائیں جب تک وہ چیتھڑے چیتھڑے نہ ہوجائیں۔ [42]

18۔جو کوئی تجارت میں تین دفعہ دیوالیہ ہو جائے تو اُسے سزائے موت دی جائے ۔[43]

”یاسا“کےاس قانون پر چنگیزخان کےپوتے قبلائی خان نے اس وقت انتہائی سختی سے عمل درآمد کیا جب منگول سلطنت میں کاغذی کرنسی رائج ہوگئی۔جس کی وجہ سےبعض اوقات تاجروں کوخسارے کاسامناکرناپڑتاتھا کیونکہ جہاں کاغذی کرنسی ہوتی ہےوہاں قرضے اورمالی تباہی کےامکانات زیادہ ہوتے ہیں۔منڈیوں میں استحکام لانے اور تاجروں کومالی تباہی سے بچانے کےلیےمنگول قانون”یاسا“دیوالیہ ہونےکااعلان کرنےکی اجازت دیتاتھا۔لیکن اس سہولت سے ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے اکثر تاجر اپنےقرضوں سےبچنےکےلیےدیوالیہ ہونےکاڈرامہ رچادیتے تھے۔ جس کی سدباب کے لیے یاسا میں یہ قانون شامل کیا گیا کہ کوئی بھی تاجردیوالیہ ہونے کا اعلان دودفعہ سےزیادہ نہیں کرسکتا جبکہ تیسری دفعہ اِسے ممکنہ طورپرسزائےموت دی جائےگی۔[44]

19۔”یاسا“ کی روسے پاک وناپاک میں کوئی فرق نہ تھا بلکہ تمام چیزوں کی اصلیت پاک قراردی گئی تھی۔اس لیے اس میں لوگوں کو اس بات سے منع کیاگیاتھا کہ وہ کسی چیز کو ناپاک کہے۔[45]

20۔”یاسا“ میں میدان ِ جنگ کےلیے انتہائی سخت قوانین بنائے گئےتھے۔جن میں سےچند حسبِ ذیل ہیں۔

۱۔دشمن پر حملے کے وقت یا پسپائی کے وقت کسی سپاہی سے اگرکوئی سامان گِر جائے تو اس کے پیچھے آنے والا سپاہی اُسے اُٹھاکر اپنے مالک کو واپس کرے یا اپنی جگہ تک پہنچائے۔ اگرکوئی ایسا نہ کرےتو اسے مار دیا جائے ۔

۲۔عورتوں کے لیے لازم تھا کہ وہ اپنے لشکرکا ساتھ دیں اوراگرفوجی جوان کم ہویا نہ ہو توپھر وہ ان کے فرائض سرانجام دیں۔

۳۔سپاہیوں کے لیے ضروری تھا کہ وہ جنگ سے واپسی پر اپنے خاص فرائض سرانجام دینے کے لیے حاضر رہے۔

۴۔اگرجرنیل یاکوئی بڑا عہدہ دارکوئی جرم کرے اورجوبھی اس کی اطلاع خاقان کو کرےتو وہی بتانے والا ہی اُسے سزا دے گاچاہے یہ کوئی معمولی سپاہی کیوں نہ ہو۔

۵۔اگرکوئی جرنیل یا اہم عہدہ دارخاقان کے سواکسی اورکے سامنے اپنے آپ کو متعارف کراتا یا کوئی سپاہی خاقان کی اجازت کے بغیراپنا عہدہ تبدیل کرتا تواُن کو سزائے موت دی جاتی تھی۔

۶۔سپاہی کوغفلت برتنےپراورشکاری سے شکارکے بھاگنے پرسزائے موت دی جاتی تھی۔

۷۔جو کوئی بغیراجازت کے کسی فوجی جرنیل کے خیمے کی چوکھٹ پر پاؤں رکھتا اُسے بھی قتل کر دیتے۔[46]

یہ انہی قوانین کا نتیجہ تھا کہ جب تک چنگیزی پرچم میدان جنگ میں بلندرہتا اُس وقت تک نہ توکوئی سپاہی میدان ِ جنگ سےبھاگ سکتا تھا اورنہ ہی اپنے کسی ساتھی کودشمن کے رحم وکرم پر چھوڑسکتا تھا۔جب تک کمان کرنے والا افسراجازت نہ دیتا عام فوجی لوٹ مار نہیں کرسکتا تھا۔اگرکوئی منگول سپاہی گرفتارہوجاتا توکبھی پناہ نہ مانگتے لیکن دشمن کو بھی زندہ نہ چھوڑتے تھے۔[47]

’’یاسا‘‘ کی نگرانی:

چنگیزخان نے ”یاسا“ پر عمل درآمدیقینی بنانے کے لیے اپنے بیٹوں میں سے چغتائی خان کو میرِ قانون وسزامقرّرکیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ”یاسا“ کی نگرانی چغتائی خان کے ذمّے تھی کہ جوبھی ”یاسا“ پر عمل نہ کرے یا اس پر عمل درآمد میں سستی برتے تو اُسے سخت ترین سزادے دیں۔چنگیزخان کا یہ بیٹا چغتائی خان اگرچہ لکھنا،پڑھناتونہیں جانتا تھا لیکن اس کا حافظہ اس قدرقوی تھا کہ ”یاسا“ کے سارے قوانین اُسے زبانی یادتھے۔قوانین ”یاسا“ کے نفاذمیں وہ اس قدرسختی سے کام لیتے تھے کہ اس ضمن میں اپنی ذات کی بھی پرواہ نہیں کرتےتھے۔اگروہ ”یاسا“ کے کسی قانون کی خلاف ورزی کرتا اور پھراُسے احساس ہوجاتاتوفوراً خودکوخاقان کے دربارمیں سزا کے لیے پیش کردیتا تھا۔یہ وہی چغتائی خان تھاجسے وسط ایشیاء ورثہ میں ملااورجس کی اولادمیں ہندوستان کےعظیم مغلیہ خاندان کا بانی بابرپیدا ہوا تھا۔[48]

خلاصہ بحث:

’’یاسا‘‘کایہ دستور سراسرظلم، جبر،تشدّد، وحشت،ظالمانہ قوانین اور غیرفطری عناصر پر مشتمل تھا۔اس میں تقریباً ہرچھوٹے بڑے جرم اورخطا کی سزاموت تھی۔ اس کی تدوین میں چنگیزخان نے عدل وانصاف،رحم،انسانیت اورعفوودرگزر کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صرف اس چیزکومدِّ نظررکھاتھا کہ اس دستورکےذریعے ہر اس چیزکا قلع قمع کیاجائے جو اس کےنوزائیدہ منگول سلطنت ،عسکری طاقت اور چنگیزی خانوادے کےلیے خطرے کا سبب بن سکتا تھا۔اس کامقصد وحشی، سفاک اور بے رحم منگول فوج کوقابوکرنا، وسیع ترین منگول سلطنت کومتّحداورمنظّم رکھ کر چنگیزی خانوادے کا مطیع بنانا، پوری دنیا پرچنگیزی سکّہ رائج کرنا اورپوری دنیا کی مال ودولت لوٹ کر چنگیزی خزانہ میں جمع کرناتھا۔”یاسا“ پر عمل پیراہونے کے بعدبین الاقوامی دنیامیں پہلی دفعہ منگول منظرِ عام پر آگئے اور بے مقصد زندگی کوچھوڑ کربڑی بڑی اقوام اورسلطنتوں کواپنے گھوڑوں کے پاؤں تلے روند ڈالے کیونکہ”یاسا“ کے ذریعہ ان منگول قبائل سے ہراس فتنے کی بیخ کنی کی گئی تھی جوکہ ان کے اتحاد،تنظیم اور چنگیزخان کی حکومت وسلطنت کےلیے مسئلہ بن سکتاتھا۔”یاسا“ کے ان قوانین کی بدولت چنگیزخان کےمرنےکےبعداس کےاولادکےلیے نہ صرف منگول تباہ کن فوج اور وسیع سلطنت کواپنے قبضے وتسلّط میں رکھنا اوران کا چلاناسہل ہوگیاتھا بلکہ ان کی فتوحات اوردنیاکی مختلف آباد سلطنتوں کا تباہ وبرباد کرنے کا یہ سلسلہ مزیدکئی عشروں تک جاری رہا۔جس نے عالم اسلام، چین، روس اوریورپ کا ایک بڑاحصّہ اپنے لپیٹ میں لےلیاتھا۔اس لیے آج بھی منگولیاکے آئین میں یہ بات لکھی گئی ہےکہ ہم نےاگر ”یاسا“ کےقوانین پر دوبارہ من وعن عمل کیاتووہ وقت دورنہیں کہ ہم اپنی پرانی شان وشوکت کودوبارہ بحال کرسکیں گے۔


حوالہ جات

  1. ۔ریحان، محمد اسماعیل(مولانا)،شیر خوارزم سلطان جلال الدّین خوارزم شاہ اور تاتاری یلغار، ص۶۹-۷۰مٹھل التراثاسلامی کراچی جنوری ۲۰۱۰ء
  2. ۔ الجوینی،عطاءملک،تاریخ جہاں کشاں،ترجمہ:GENGHIS KHAN THE HISTORY OF THE WORLD CONQUEROR BY J.A. BOYLE ص۲۳-۲۵،مانچسٹریونیورسٹی پریس اکسفورڈروڈمانچسٹر(یو۔کے)۱۹۹۷ء
  3. ۔ ویدرفورڈ، جیک ویدر،GENGHIS KHAN AND THE MAKING OF THE MODERN WORLD ، ترجمہ:طاہرمنصورفاروقی،چنگیزخان اورمنگول سلطنت کےعروج وزوال کی مکمل داستان،ص۱۰۳،اکرم پریس لاہور۲۰۱۴ء
  4. ۔لڈلیم،ہیر، چنگیز خان ،ترجمہ:عزیزاحمد،ص۱۸۹، گوہر پبلی کیشنز اردو بازار لاہورس ن
  5. ۔لڈلیم،ہیر،چنگیزخان، ترجمہ:عزیزاحمد، ص ۶۸
  6. ۔http://www.coldsiberia.org/webdoc9.htm 1st september2015
  7. ۔ https://bootheglobalperspectives.com/article/1373932510WBG125227- -493/Genghis-khan-and-Yasa-his-laws 11 Oct, 2015
  8. ۔الجوینی،عطاءالملک،تاریخ جہاں کشاں،ترجمہ:GENGHIS KHAN THE HISTORY OF THE WORLD CONQUEROR BY J.A. BOYLE ص:۲۶
  9. ۔لڈلیم،ہیر،چنگیزخان، ترجمہ: عزیزاحمد، ص ۱۰۱
  10. ۔http://www.coldsiberia.org/webdoc9.htm 1st september2015
  11. ۔https://bootheglobalperspectives.com/article/1373932510WBG125227- -493/Genghis-khan-and-Yasa-his-laws 11 Oct, 2015
  12. ۔ ویدر فورڈ، جیک ویدر،GENGHIS KHAN AND THE MAKING OF THE MODERN WORLD، ترجمہ:طاہرمنصورفاروقی،چنگیزخان اورمنگول سلطنت کےعروج وزوال کی مکمل داستان،ص۱۰۰
  13. ۔ابن کثیر،حافظ ابوالفداعمادالدّ ین(علامہ)،البدایۃ والنہایۃ،ترجمہ:مولانااخترفتح پوری،تاریخ ابن کثیر، ج۱۳، ص۱۵۴، نفیس اکیڈیمی کراچی،جنوری۱۹۸۹ء
  14. ۔ویدر فورڈ، جیک ویدر،GENGHIS KHAN AND THE MAKING OF THE MODERN WORLD، ترجمہ:طاہرمنصورفاروقی،چنگیزخان اورمنگول سلطنت کےعروج وزوال کی مکمل داستان،ص۹۹
  15. ۔ابن کثیر،ابوالفداعمادالدین(علامہ)،البدایۃ والنہایۃ،ترجمہ:مولانااخترفتح پوری،تاریخ ابن کثیر،ج۱۳، ص۱۵۳
  16. ۔ویدر فورڈ، جیک ویدر،GENGHIS KHAN AND THE MAKING OF THE MODERN WORLD، ترجمہ:طاہرمنصورفاروقی،چنگیزخان اورمنگول سلطنت کےعروج وزوال کی مکمل داستان،ص۱۰۰
  17. ۔لڈلیم،ہیر،چنگیزخان،ترجمہ:عزیزاحمد،ص ۶۷
  18. ۔http://www.coldsiberia.org/webdoc9.htm::13-11-2016
  19. ۔ویدر فورڈ، جیک ویدر،GENGHIS KHAN AND THE MAKING OF THE MODERN WORLD، ترجمہ:طاہرمنصورفاروقی،چنگیزخان اورمنگول سلطنت کےعروج وزوال کی مکمل داستان،ص۱۰۰
  20. ۔http://www.coldsiberia.org/webdoc9.htm 1st september2015
  21. ۔ویدر فورڈ، جیک ویدر،GENGHIS KHAN AND THE MAKING OF THE MODERN WORLD، ترجمہ:طاہرمنصورفاروقی،چنگیزخان اورمنگول سلطنت کےعروج وزوال کی مکمل داستان،ص۹۹-۱۰۰
  22. ۔ابنِ کثیر،ابوالفداعمادالدّ ین(علامہ)،البدایۃ والنہایۃ،ترجمہ:مولانااخترفتح پوری،تاریخ ابن کثیر،ج۱۳،ص۱۵۳
  23. ۔http://www.coldsiberia.org/webdoc9.htm 1st september2015
  24. ۔ایم۔اے،اسلم راہی،ہلاکُوخان،ص۳۲،نیئراسدپریس لاہور۲۰۱۳ء
  25. ۔ابن کثیر،ابوالفداعمادالدّین(علامہ)،البدایۃ والنہایۃ،ترجمہ:مولانااخترفتح پوری،تاریخ ابن کثیر،ج۱۳،ص۱۵۳-۱۵۴
  26. ۔http://www.coldsiberia.org/webdoc9.htm 1st september2015
  27. ۔ویدر فورڈ، جیک ویدر،GENGHIS KHAN AND THE MAKING OF THE MODERN WORLD، ترجمہ:طاہرمنصورفاروقی، چنگیزخان اورمنگول سلطنت کےعروج وزوال کی مکمل داستان،ص۷۷
  28. ۔ویدر فورڈ، جیک ویدر،GENGHIS KHAN AND THE MAKING OF THE MODERN WORLD، ترجمہ:طاہرمنصورفاروقی،چنگیزخان اورمنگول سلطنت کےعروج وزوال کی مکمل داستان،ص۱۵۳۔۱۵۴
  29. ۔http://www.coldsiberia.org/webdoc9.htm1st september2015
  30. ۔لڈلیم،ہیر، چنگیزخان،ترجمہ:عزیزاحمد،ص ۶۷
  31. ۔http://www.coldsiberia.org/webdoc9.htm (06-12-2016)
  32. ۔ابن کثیر،ابوالفداعمادالدین(علامہ)،البدایۃ والنہایۃ،ترجمہ:مولانااخترفتح پوری،تاریخ ابن کثیر،ج۱۳،ص۱۵۳
  33. ۔لڈلیم، ہیر، چنگیزخان،ترجمہ: عزیزاحمد،ص ۳۸
  34. ۔http://www.coldsiberia.org/webdoc9.htm(06-12-2016)
  35. ۔ابن کثیر،ابوالفداعمادالدین(علامہ)،البدایۃ والنہایۃ،ترجمہ:مولانااخترفتح پوری،تاریخ ابن کثیر،ج۱۳،ص۱۵۳
  36. ۔لڈلیم،ہیر،چنگیزخان،ترجمہ:عزیزاحمد،ص ۶۸
  37. ۔http://www.coldsiberia.org/webdoc9.htm (06-12-2016)
  38. ۔ابن کثیر،ابوالفداعمادالدّین(علامہ)،البدایۃ والنہایۃ،ترجمہ:مولانااخترفتح پوری،تاریخ ابن کثیر،ج۱۳،ص۱۵۳
  39. ۔ایضاً،ج۱۳،ص۱۵۳
  40. ۔لڈلیم،ہیر،چنگیزخان،ترجمہ: عزیزاحمد،ص ۶۷
  41. ۔ابن کثیر،ابوالفداعمادالدّین(علامہ)،البدایۃ والنہایۃ،ترجمہ:مولانااخترفتح پوری،تاریخ ابن کثیر،ج۱۳،ص۱۵۳
  42. ۔لڈلیم ، ہیر،تاتاریوں کی یلغار،مترجم : عزیز احمد،ص۱۳۴،بھٹوپرنٹنگ پریس لاہور،س ن
  43. ۔http://www.coldsiberia.org/webdoc9.htm 1st september2015
  44. ۔ویدر فورڈ، جیک ویدر،GENGHIS KHAN AND THE MAKING OF THE MODERN WORLD، ترجمہ:طاہرمنصورفاروقی،چنگیزخان اورمنگول سلطنت کےعروج وزوال کی مکمل داستان،ص۲۷
  45. ۔http://www.coldsiberia.org/webdoc9.htm
  46. ۔http://www.coldsiberia.org/webdoc9.htm 1st september2015
  47. ۔لڈلیم،ہیر، چنگیزخان، ترجمہ: عزیزاحمد،ص۷۲
  48. ۔ایضاً،ص ۱۰۵