Inter-Faith Harmony and Contemporary Demands: An Analytical Study in the Light of Divine Teachings

From Religion
Jump to navigation Jump to search
Bibliographic Information
Journal Al-Milal: Journal of Religion and Thought
Title Inter-Faith Harmony and Contemporary Demands: An Analytical Study in the Light of Divine Teachings
Author(s) Shafique, Muhammad Mudassar, Abid Naeem
Volume 2
Issue 1
Year 2020
Pages 154-177
DOI 10.46600/almilal.v2i1.55
Full Text Crystal Clear mimetype pdf.png
URL Link
Keywords Interfaith harmony, present era, divine books, religious personalities, peace
Chicago 16th Shafique, Muhammad Mudassar, Abid Naeem. "Inter-Faith Harmony and Contemporary Demands: An Analytical Study in the Light of Divine Teachings." Al-Milal: Journal of Religion and Thought 2, no. 1 (2020).
APA 6th Shafique, M. M., Naeem, A. (2020). Inter-Faith Harmony and Contemporary Demands: An Analytical Study in the Light of Divine Teachings. Al-Milal: Journal of Religion and Thought, 2(1).
MHRA Shafique, Muhammad Mudassar, Abid Naeem. 2020. 'Inter-Faith Harmony and Contemporary Demands: An Analytical Study in the Light of Divine Teachings', Al-Milal: Journal of Religion and Thought, 2.
MLA Shafique, Muhammad Mudassar, Abid Naeem. "Inter-Faith Harmony and Contemporary Demands: An Analytical Study in the Light of Divine Teachings." Al-Milal: Journal of Religion and Thought 2.1 (2020). Print.
Harvard SHAFIQUE, M. M., NAEEM, A. 2020. Inter-Faith Harmony and Contemporary Demands: An Analytical Study in the Light of Divine Teachings. Al-Milal: Journal of Religion and Thought, 2.
The Role of Values in Social Change: An Analysis from The Qur’ānic Perspective
Pleasure versus Virtue Ethics in The Light of Aristotelians and the Utilitarianism of John Stuart Mills and Jeremy Bentham
Qur’ānic Concept of Divine Mercy Projected through the Pairs of Divine Attributes: A Criterion for Social Amelioration
Bâbâ Farîd’s Hymns in Granth Ṣâhib with Qur’ânic Backdrop: A Review
Polemic Views about the Source of Qur’ān in Medieval Christian Writings with a Reflection upon Contemporary Orientalists: A Critical Review
Role of Islam in Practical Life amongst Some Young Swiss Muslim Adults: A Focused Ethnographic Analysis
Evolution of the Concept of Citizenship in the Islamic Thought: An Analysis
Exploring Individual and Social Factors that Influence Human Belief: An Analysis in the Light of Quran and Sunnah
Inter-Faith Harmony and Contemporary Demands: An Analytical Study in the Light of Divine Teachings
Urdu Dissertations of Islamic Studies on Semitic Religions (MPhil, PhD) in Pakistani Universities: An Index and Bibliometric Review
Effects of Hindu Civilization on Muslim Culture and Civilization: A Review from Pakistan’s Context
Islamic Approach towards Social Construction: An Analytical Study in the Light of Hazrat Umar Farooq’s (RA) Wisdom and Thought
Historical and Evolutionary Analysis of Reasons and Causes of Objections of Orientalism on Prophet’s Biography
The Tradition of Innovation in Islamic Civilization: An Exclusive Study of Early Ages of Islam
Limits of Participation in Celebration of Non-Muslim’s Events: An Analytical Study

Abstract

Over the course of time and with the rapid increase in human population need for mutual relations become crucial. Resultantly on behalf of this closeness, separation, anti-standpoints and comparisons also emerged. As the time passed by hatred and hypocrisy and other social vices spread on large scale. Thus human society was waiting for such liberator who may lead and work for the betterment of this society. With the dawn of Islamic civilization all such issues were not only resolved but also provided with a model for containing the difference of opinion and multiple traditions under its unique worldview. Islamic History presents itself as a model where the minorities were provided with the opportunities of participating in political, social, educational and collective affairs. Thus in a society where tyranny, injustice, un-forbearance, religious intensity, terrorism and the activities of violating the human rights were very common, were substituted by the Islamic ideal  of forbearance. It is argued here that the solution of all these issues was only in religion contrary to what is being claimed about an idea of social harmony where religion is not given its due position. Today it’s our dire need to develop a sense of harmony, modesty, affection and peacefulness among the masses of various religions of Pakistani society. It is further argued that for this very noble cause all the religious scholars and their followers can come forward playing their pertinent role.

تمہید

اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مذہب کے بغیر معاشرتی فلاح و بہبود نا گزیر عمل ہے اور اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ ہر نسل، دور اور قوم میں مذہب ایک مؤثر عامل کے طور پر اپنی ذمہ داری ادا کرتا رہا ہے ۔ مذہب دراصل ان ہدایات اور احکامات کا نام ہے جو وقتاً فوقتًا اللہ تعالی اپنے انبیاء کے ذریعے اپنے بندوں کے لیے بھیجتا ہے اور جن پر عمل پیرا ہو کر انسان نہ صرف اس دنیا بلکہ اُخروی دنیا میں بھی کامیابی حاصل کر سکتا ہے ۔ای-بی-ٹیلر (1832-1917ء)نے مذہب کی تعریف کچھ ان الفاظ میں کی ہے:

“The belief in spiritual being” [1]

یعنی روحانی مخلوقات پر ایمان لانے کا نام مذہب ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مذہب دراصل انسانی معاشرے کو بنیادی قوانین مہیا کرتا ہے جن کی بناء پر انسان ایک دوسرے کے ساتھ نہ صرف رشتوں اور تعلقات میں منسلک ہوتے ہیں بلکہ باہم مساویانہ اور عدل وانصاف پر مبنی حقوق و فرائض کی وصولی اور ادائیگی بھی حاصل کرتے ہیں۔جو کچھ بھی تہذیب و ثقافت اور رسم و رواج کی تعمیر و ترقی کے لیے درکار ہوتا ہے اس کا واحد ذریعہ مذہب ہے ۔ انسانی زندگی کی مختلف جہتوں کے تعین کا مرکز مذہب ہی ہے چاہے اس کا تعلق اخلاق و عادات سے ہو،معاشرتی معاملات سے ہو،سیاست و آئین سے ہو،تہذیب و شائستگی پر مبنی معاشرتی اقدار سے ہو یا علم و فلسفہ سے متعلقہ ہو، مذہب ان تمام پہلوؤں کا عکاس ہوتا ہے۔اسی لیے نبی اکرمﷺ اور قرون اولیٰ کے ادوار میں مال و جان کے تحفظ کے ساتھ اقلیتوں کوسماجی، تعلیمی اور اجتماعی معاملات کی مکمل آزادی تھی بلکہ انہوں نے اپنے ہم مذہبوں کی حکومتوں سے نکل کر اسلامی حکومت میں آ کر سکون اور امن کی زندگی بسر کی۔ لیکن انسانیت جس قدر مذہب سے دور ہوتی جا رہی ہےاتنی ہی غیر مہذب انداز اپناتی جا رہی ہے ۔جدید معاشروں میں محبت، امن و سکون ،رواداری اورقوت برداشت نا پید ہوتی جا رہی ہے اور نہ صرف مذہب کے نام پر ایک دوسرے کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں بلکہ مذہب ہی کی بنیاد پرانسان انسان کا گلا کاٹ رہا ہے حالانکہ کوئی مذہب بھی بلا وجہ قتل و غارت اور فساد فی الارض کی اجازت نہیں دیتا۔

اسلامی نقطہ نظر میں مذہب کسی خاص ارتقائی عمل کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ مختلف اوقات اور ادوار میں انبیاء کے تسلسل اور احکامات الہیہ کے نزول کا نام ہے جس کی ابتداء حضرت آدم سے ہے اور انتہاء آخر الزمان نبی اکرمﷺ کی ذات قدسیہ ہے۔ لہٰذا ، اس میں کوئی شک نہیں کہ عقائد سماوی جو انبیاء پر نازل ہوئے، ایک ہی تھے۔ جیسا کہ شریعتوں کے مبادی عامہ اور اصول اخلاق ایک ہی تھے۔ پس جو موسی ٰلے کر آئے تھے وہی حضرت عیسی علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے۔ لہذا تمام انبیاء بنیادی عقائد اور تمام معاملات کی اساسیات میں متحد و مشترک تھے ۔قرآن میں کئی مقامات پر اس امر کو بیان کیا گیا ہے:

شَرَعَ لَكُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحاً وَٱلَّذِيۤ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰ أَنْ أَقِيمُواْ ٱلدِّينَ وَلاَ تَتَفَرَّقُوا فِيهِ‌ۚ ْ[2]

ترجمہ: اسی نے تمہارے لئے دین کا وہی رستہ مقرر کیا جس (کے اختیار کرنے کا) نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی (اے محمدﷺ) ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے اور جس کا ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا (وہ یہ) کہ دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا۔

اس لیے اس دور جدید میں ضروری ہے کہ بین المذاہب ہم آہنگی کے پہلو کو تدریجاً نہ صرف وضاحت سے بیان کیا جائے بلکہ اس کی عملی شکلوں اور عصری تقاضوں پر بھی مفصل بحث ضروری ہے۔

سابقہ تحقیقا ت کا جائزہ

بین المذاہب ہم آہنگی دراصل دور جدید میں مستعمل اصطلاح ہے لیکن دیگر مذاہب کے حوالے سے کلام کرنا اسلامی روایت کا ایک اہم حصہ رہا ہے اور اس کی ابتداء قرآن و حدیث سے ہوتی ہے۔ قرآن نے سابقہ امم و مذاہب کے معتقدات کو نہ صرف بیان کرنے کا اہتمام کیا ہے بلکہ ان میں پائے جانے والے موافق باسلام نظریات میں سے ایک مخصوص تعداد کو اسلامی تعلیمات کے طور پر باقی بھی رکھا ہے۔ بین المذاہب باہم مکالمہ سے متعلقہ ایک اہم اصول جس کا ذکر قرآن میں يٰۤـاَهۡلَ الۡكِتٰبِ تَعَالَوۡا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۢ بَيۡنَـنَا وَبَيۡنَكُمۡ[3] یعنی "اے اہل کتاب جو بات ہمارے اور تمہارے دونوں کے درمیان یکساں (تسلیم کی گئی) ہے ، کی طرف آؤ، " میں بیان کیا گیا ہے۔ اس اصول کی روشنی میں مفسرین نے غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات ، معاملات اور مکالمات کی مختلف جہات کو واضح کیا ہے۔ مطالعہ ادیان پر متقدم مسلم علماء و مصنفین کی کتب کی فہرست میں علامہ ابن حزم اندلسی (994 - 1064 ء)کی الفصل فی الملل والا ہواء والنحل [4]اور علامہ عبد الکریم شہرستانی(1086-1158 ء) کی الملل و النحل[5] بنیادی اہمیت کی حامل ہیں اور ان کتب کو مسلم مطالعہ ادیان کی امہات الکتب کا درجہ حاصل ہے۔ جہاں تک ریسرچ آرٹیکلز کا تعلق ہے تو اسلامی اسکالرز کے آرٹیکل اس عنوان سے متعلق موجود ہیں، جن میں عمران الحق کلیانوی کا مقالہ بعنوان "بین المذاہب ہم آہنگی و رواداری –حالات حاضرہ و اسلامی تعلیمات کی روشنی میں "[6] اہم ہے ۔اس میں مغربی معاشرے کی اسلام دشمنی اور اسلامی معاشروں میں مغربی مخالفت کی تاریخ اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بین المذاہب ہم آہنگی پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔"مکالمہ بین المذاہب –اصول و آداب" [7]از حافظ محمود اختر کا جہات الاسلام میں شائع ہونے والا آ رٹیکل اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مکالمہ بین المذاہب کے درست مفہوم،اسلامی تعلیمات کی معذرت خواہانہ تعبیر سے اجتناب پر اصرار، مکالمہ بین المذاہب کے درست طرز عمل اور آداب پر مشتمل ہے۔ اکرم ورک کا ماہنامہ الشریعہ میں شائع شدہ مقالہ "بین المذاہب مکالمہ کی اہمیت ،ترجیحات اور تقاضے"[8] مکالمہ بین المذاہب کی دعوتی میدان اور سیرت طیبہ کی روشنی میں اہمیت، مکالمہ بین المذاہب کے اسلوب اور اس کے ذریعے سے اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان غلط فہمیوں کے ازالہ کے عنوانات کو شامل ہے۔ القلم میں چھپنے والا عبد القدوس صہیب کا مقالہ بعنوان "بین المذاہب ہم آہنگی و رواداری کے بنیادی اصول قرآن و سنت کی روشنی میں " [9]اور اسی طرح "عالمی اتحاد و یگانگت کے لیے مکالمہ بین المذاہب کا کردار،تعلیمات نبوی کی روشنی میں" از سید عبد الغفا ر بخاری کا البصیرہ[10] شائع ہونے والا آ رٹیکل عالمی اتحاد کے لیے مکالمہ بین المذاہب کے کردار اور بین المذاہب مکالمہ کے قرآن و سنت کی روشنی میں تشکیل پانے والے بنیادی اصولوں جیسی اہم ابحاث پر روشنی ڈالتا ہے ۔ بیسویں صدی کے بین المذاہب مکالمات کی تاریخ ،ان مکالمات کے تاریخی و تنقیدی جائزے اور مکالمہ بین المذاہب کے مغربی و اسلامی تصورات کے تقابلی مطالعہ پر مشتمل مقالہ جات بنام"بیسویں صدی کے مکالمات بین المذاہب کا مختصر تاریخی و تنقیدی جائزہ"[11] از نور حیات خان الایضاح میں ،اور "مکالمہ بین المذاہب کے مغربی و اسلامی تصورات کا تقابلی مطالعہ” از محبوب علی شاہ القلم [12]میں چھپے۔ نعیم انور ازہری کا آرٹیکل بعنوان "بین المذاہب ہم آہنگی، باہمی رواداری اور مکالمے کی عصری ضرورت و اہمیت" معارف اسلامی میں[13]چھپ چکا ہے۔لیکن مقالہ نگار کے مطابق بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے الہامی مذاہب اوران کی تعلیمات پر کوئی مستقل کتاب موجودنہیں ہے۔اسی طرح سابقہ تحقیقی کام کے جائزہ میں جن آرٹیکلز کا تذکرہ کیا گیا ہے، ان میں بین المذاہب مکالمات کی اہمیت و نوعیت کا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جائزہ لیا گیا ہے جبکہ مذکورہ آرٹیکل میں بین المذاہب ہم آہنگی کا دیگر الہامی کتب اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جائزہ لیا گیا ہے اور دور حاضر کے تقاضوں کو بیان کیا گیا ہے ۔ اس مقالے میں تجزیاتی اور تقابلی منہج و اسلوب استعمال کیا گیا ہے۔

بین المذاہب ہم آہنگی کا معنی و مفہوم

ہم آہنگی کے لفظ کے لیے عربی زبان میں جو قریب ترین الفاظ استعمال ہوتے ہیں وہ موافق،متفق،مساوی،مقارب وغیرہ کے ہیں۔اردو میں ہم آہنگ جب کہ فارسی میں آہنگ شدن جب کہ انگریزی میں Coordinate conduct, Harmony, Come into agreementاور Nearکےالفاظ استعمال ہوتے ہیں[14]پس لغوی اعتبار سے ہم آہنگ سے مراد دو یا دو سے زیادہ اشیاء یا افراد کو باہم مربوط ،متحد،موافق اور باہم ملانا اور یکجا کرنا کے ہیں۔[15] لفظ اتحاد بھی عربی زبان میں ہم آہنگی کے پہلو کو واضح کرنے کے لیے استعمال ہو تو معنی یہ ہوں گے:

اتحد الشی بالشیء،اتحد القوم اتحد الشیئان او الاشیاء:ای صارت شیئا واحدا [16]

ترجمہ: ایک چیز دوسری چیز سے متحد ہو گئی ،قوم متحد ہو گئی،دو یا زیادہ اشیاء متحد ہو گئیں یعنی گھل مل کر ایک ہو گئیں۔

پس اس سے مراد یہ ہوا کہ ہم آہنگی کا مفہوم دراصل دو یا زیادہ اشیاء کا متحد ہونا ،اعتدال اور برابری پر آنا ،ہم رکاب یا ہم سفر بنانا ہے ،لہذا بین المذاہب ہم آہنگی سے مراد ان سماوی اور وحی الہی پر مبنی مذاہب میں اتحاد ہے جو کہ اپنی ابتداء ،تعلیمات اور بنیادی عقائد کے لحاظ سے یکجا اور متحد ہیں۔

تمام الہامی مذاہب غلو، شدت پسندی اور بغض و عداوت کے خلاف ہیں۔ برابری، عدل و انصاف اور منصفانہ قوانین پر مبنی معاشرہ کے قائل ہیں۔ اس کی مثال ہجرت حبشہ میں حضرت جعفر طیاررضی الله تعالی عنہ کا نجاشی کے دربار میں تقریر کے دوران سورہ مریم کی تلاوت کرنا ،نجاشی اور اس کے درباریوں کا خاموشی توڑتے ہوئے بے ساختہ ان کلمات کا کہنا کہ "بخدا مسیح کا کلام اور ان کلمات کا مصدر ایک ہی ہے اور نجاشی نے کہا ،بے شک موسیٰ اور آپ کے صاحب ہر دو کی وحی ایک ہی مشکوۃ نور سے روشن ہوتی ہے۔"[17]مزید ان مبادی اصولوں کے متفق ہونے کی اہمیت کا اندازہ اس آیت سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُمت محمدی کو ان انبیاء اور ان کی تعلیمات پر ایمان لانے کی تاکید کی ہے:

قُلْ آمَنَّا بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ عَلَيْنَا وَمَآ أُنزِلَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَٱلأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِىَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَٱلنَّبِيُّونَ مِنْ رَّبِّهِمْ لاَ نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ [18]

ترجمہ: کہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو کتاب ہم پر نازل ہوئی اور جو صحیفے ابراہیم اور اسماعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر اترے اور جو کتابیں موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے انبیاء کو پروردگار کی طرف سے ملیں ،سب پر ایمان لائے، ہم ان پیغمبروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدائے واحد) کے فرماں بردار ہیں۔

دور حاضر میں بین المذاہب ہم آہنگی ، قربت اور آپس میں افہام و تفہیم کا ماحول پیدا کیے جانے کی ضرورت ہے۔ غلو اور شدت پسندی کو چھوڑ کر میانہ روی کو اختیار کیا جائے۔ احترام انسانیت کی سوچ اور تعلیمات کو فروغ دیا جائے جو کہ سب کے درمیان یکساں ہیں ۔ہم آہنگی سے مراد ہر گز یہ نہیں کہ دوسرے مذاہب کے غلط عقائد و امور کو درست مان لیا جائے بلکہ رواداری کے اس پہلو کو معاشرے میں عام کیا جائے کہ جو معاملات یا عقائد،کسی ایک مذہب کے نقطہ نگاہ سے درست نہیں ہیں، ان کا احترام کرتے ہوئے انکو برداشت کیا جائے ۔

بین المذاہب ہم آہنگی الہامی تعلیمات کی روشنی میں

تمام مذاہب محبت، اخوت ،اتحاد و اتفاق، رواداری،میانہ روی، ایثارو قربانی اور زندگی گزارنے کے اعلیٰ اخلاقی ،مذہبی اور معاشی معیارات اختیار کرنے کی تلقین و تاکید کرتے ہیں ۔اسلام کا خدائی سر چشمہ قرآن مجید ہے اور ایک مسلمان جو اس کے نظریات اور بیان کردہ تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے تو اس کا دل نرم ہو جاتا ہے ۔اس کی طبیعت میں عفو و در گزر ، اس کے اقوال میں اخلاق،محبت اور اس کے افعال امن و سلامتی کا پیکر ہوا کرتے ہیں ۔ وہ نہ تو شدت پسند ہو سکتا ہے اور نہ ہی قتل و خونریزی کر نے والا ، کیونکہ قرآنی تعلیمات ایسا کرنے سے منع کرتی ہیں ۔ ارشاد ربانی ہے: يَـۤأَهْلَ ٱلْكِتَابِ لاَ تَغْلُواْ فِى دِينِكُمْ [19]یعنی" اے اہل کتاب! اپنے دین (کی بات) میں ناحق مبالغہ نہ کرو"۔ لہذا ایسا دین جو شدت پسندی اور خون ریزی جیسے افعال سے منع کرتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ہم آہنگی ، محبت،اخلاص،امن و سلامتی،احترام انسانیت اور صبر و تحمل کا داعی نہ ہو؟اب ان بنیادی عقائد اور اخلاقی تعلیمات کا الہامی کتب کی روشنی میں جائزہ لیا جائے گا جو مشترکہ حیثیت کی حامل ہیں۔

توحید باری تعالیٰ کے دلائل

بین المذاہب ہم آہنگی اور یکسانیت کے پہلوؤں کو عام کرنے والی وہ آیت جس میں اللہ تمام اہل کتاب کو قرآن میں اس بات کی ترغیب دے رہا ہے کہ ان باتوں کی طرف آؤجو تم سب میں یکساں ہیں۔ اس میں پہلی اور اہم بات اللہ کی توحید ،اس کا یکتا ماننا اور اس پر ایمان لانا ہے۔ اسی ایک ذات کے آگے سجدہ کرنا اور اسی کو معبود تصور کرنا ہے۔ قرآن مجید میں ہے:

يٰأَهْلَ ٱلْكِتَابِ تَعَالَوْاْ إِلَىٰ كَلَمَةٍ سَوَآءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلاَّ نَعْبُدَ إِلاَّ ٱللَّهَ[20]

ترجمہ: اے اہل کتاب جو بات ہمارے اور تمہارے دونوں کے درمیان یکساں (تسلیم کی گئی) ہے اس کی طرف آؤ وہ یہ کہ خدا کے سوا ہم کسی کی عبادت نہ کریں ۔

اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ تمام الہامی مذاہب توحید پرست ہیں، اسی لیے تمام انبیاء کی پکار ایک ہی خالق و مالک اور رب کی جانب رہی ہے:

يَاقَوْمِ ٱعْبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُمْ مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُ[21]

ترجمہ: اے میری برادری کے لوگو! خدا کی عبادت کرو ،اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔

حضرت عیسیٰ جو کہ بنی اسرائیل کے نبی ہیں انہوں نے بھی ایک اللہ کی دعوت دی :

وَمَآ أُمِرُوۤاْ إِلاَّ لِيَعْبُدُوۤاْ إِلَـٰهاً وَاحِداً [22]

ترجمہ: اُن کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ خدائے واحد کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔

اسی طرح بائبل(عہد نامہ قدیم)[23] یسعیاہ توحید باری تعالیٰ کے بارے کچھ یوں بیان کرتی ہے:"میں ہی خدا وند ہوں اور دوسرا کوئی نہیں ،میرے سوا کوئی خدا نہیں ۔میں روشنی کا موجد ہوں اور تاریکی کا خالق ہوں۔"[24]

بائیبل کرنتھیوں کا بیان ہے:"نعمتیں تو مختلف ہیں لیکن پاک روح ایک ہی ہے، خدمتیں بھی طرح طرح کی ہیں لیکن خدا ایک ہی ہے جو سب میں ہر طرح کا اثر پیدا کرتا ہے۔"[25]

ان الہامی کتب کی تعلیمات سے یہ بات روز روشن کی مانند واضح ہے کہ اللہ ہی سب کا مالک اور خالق ہے ۔ یہی اسلام کا بنیادی عقیدہ ہےجس کی طرف تمام انبیاء اپنی امتوں کو دعوت تبلیغ دیتے رہے ہیں۔

پیار و محبت اور انس کی تلقین

پیار و محبت اور انس کی تلقین انسانیت سے محبت اللہ کے دین کی بنیادی تعلیمات میں سے ہےلہذا ہم مسلمانوں پر خصوصی طور پر جب کہ تمام لوگوں پر عمومی طور پر لازم ہے کہ حکم خدا وندی کی تعمیل کرتے ہوئے اس کے بندوں سے محبت ،پیار اور حسن سلوک رکھیں ،کیونکہ اللہ ان لوگوں کوپسند فرماتا ہے جو اس کے بندوں پر شفیق ہیں۔اس لیے نبی رحمت ﷺ نے فرمایا: 

۔[26]ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ

ترجمہ: تم اہل زمین پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔ 

اور یاد رکھیں کہ اس میں گفتگو صرف کسی مسلم انسان کی نہیں ہو رہی بلکہ مطلق انسان کی ہےوہ مسلم ہو یا غیر مسلم ،بھلائی ، احسان اور پیار و محبت اس کے کسی بھی بندے سے کیا جائے تو وہ اس سے خوش ہوتا ہے۔

عدل و انصاف پر مبنی بین المذاہب تعلیمات

عدل و انصاف اسلامی تعلیمات اور اسلامی ریاست کے استحکام سے متعلق اہم امور میں شامل ہے اور اسلامی تعلیمات کی تہذیب و تمدن کا امتیازی وصف ہے ۔انبیاء کو اپنے تبلیغی مشن میں عدل و انصاف کے پہلو پر عمل درآمد کا حکم دیا کیو نکہ یہ بنیادی اساس کا درجہ رکھتا ہے۔قرآن مجید میں ہے:

لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِٱلْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ ٱلْكِتَابَ وَٱلْمِيزَانَ لِيَقُومَ ٱلنَّاسُ بِٱلْقِسْطِ[27]

ترجمہ: ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا۔ اور اُن پر کتابیں نازل کیں اور ترازو (یعنی قواعد عدل) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔

عدل و انصاف کی اسی اہمیت کو بائبل میں بھی بیان کیا گیاہے :"خدا وند تمہارے خدا کے تمہیں دئیے ہوئے ہر شہر میں اپنے ہر قبیلے کے لیے قاضی اور حاکم مقرر کر لو جو سچائی سے لوگوں کا انصاف کریں،تم انصاف کا خون نہ کرنااور غیر جانبدارانہ رہنا،تم رشوت نہ لینا کیونکہ رشوت دانشمند کی آنکھوں کو اندھا کر دیتی ہےاور راست بازوں کی باتوں کو توڑ مروڑ ڈالتی ہے۔ہمیشہ ہمیشہ انصاف پر قائم رہنا تا کہ تم جیتے رہو"۔[28]

کسی بھی معاشرے کا قائم رہنا اس بات پر مبنی ہے کہ وہاں عدل و انصاف کس حد تک قائم ہے؟

مذہبی،سیاسی،معاشرتی آزادی رائے کا استحقاق

دین اسلام کے مطابق انسان کو فطری طور پر آزاد پیدا کیا گیا ہے ۔عقل و فہم کا عطا کرنا اس امر کا ثبوت ہے کہ اللہ کسی پر زبردستی ٹھونسنا نہیں چاہتابلکہ اس نعمت کے مالامال کرنے کے بعد روشنی اور تاریکی کے چننے کا اختیار انسان کو دیا ہے ۔ ہاں یہ اختیار انسان کو ضرور ہے کہ اگر کسی کو اصلاح کی طرف بلانا مقصود ہو تو یقیناً حکمت، نرمی اور احسن انداز کے ساتھ پیغام الہی کا دوسروں تک پہنچانا ضروری ہے۔

ٱدْعُ إِلِىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِٱلْحِكْمَةِ وَٱلْمَوْعِظَةِ ٱلْحَسَنَةِ [29]

ترجمہ: (اے پیغمبرﷺ) لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ۔

قرآنی اسلوب سے یہ بات کافی واضح ہے کہ کسی فرد کو جبر و اکراہ کے ذریعےقبول اسلام پر مجبور کرنا قرآنی اخلاقیات کے اصولوں کے خلاف ہے:

وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَـآمَنَ مَن فِى ٱلأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعاً أَفَأَنتَ تُكْرِهُ ٱلنَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ [30]

ترجمہ: اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو جتنے لوگ زمین پر ہیں سب کے سب ایمان لے آتے۔ تو کیا تم لوگوں پر زبردستی کرنا چاہتے ہو کہ وہ مومن ہوجائیں۔

" لاَ إِكْرَاهَ فِى ٱلدِّينِ"[31] یعنی" دین (اسلام) میں زبردستی نہیں ہے"، آزادی مذہب اور رائےکا بنیادی اصول بھی اسی طرف ہی راہنمائی کرتا ہے اور نبی اکرم ﷺ نے جب ہجرت فرمائی اور مدینہ کو ریاست کےطور پر منظم کیا تو اس کے استحکام کے لیے کئی معاہدات کیے ۔ان میں سے ایک معاہدہ جس کو میثاق مدینہ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور اس کی اہمیت کا انکار نہیں۔جس میں نبی اکرم نے واضح طور پر اعلان فرمایا کہ مذہبی معاملات میں یہود مدینہ کو کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہےبلکہ مذہبی آزادی کا ان کو پورا پورا حق حاصل ہے۔ معاہدہ کے الفاظ کچھ یوں ہیں:

لليهود دينهم و للمسلمين دينهم[32]

ترجمہ: یہود کے لیے ان کا دین اور مسلمانوں کے لیے ان کا دین۔

اور اسی پہلو کا اظہار قرآن میں بھی واضح الفاظ میں نظر آتا ہے۔

لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِىَ دِينِ [33]

ترجمہ: تم اپنے دین پر میں اپنے دین پر۔

یہی فہم و سوچ تھی جس کی بناء پر حضرت عمر فاروق اپنے نصرانی غلام، اسق کو ،اسلام پیش کرتے وہ انکار کر دیتا ۔آپ کہتے خیر تیری مرضی،اسلام جبر سے روکتا ہے۔[34]

وحدت و احترام انسانیت

تمام کتب سماویہ میں یہ واضح ہے کہ سب کا خالق اور رب ایک ہی ہے ۔تمام انسان اسی مالک حقیقی کے خاندان کی مانند ہیں۔ اللہ نے انسان کو ایک مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور اس نظریہ کو بڑے بلیغ انداز میں قرآن نے بیان کیا ہے:

يٰأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنْثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوباً وَقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۤاْإِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ ٱللَّهِ أَتْقَاكُمْ[35]

ترجمہ: لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے۔ تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو۔ اور خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔

اسی پہلو کو تورات میں کچھ یوں بھی بیان کیا گیاہے:" جس دن اللہ نے آدم کو پیدا کیا تو اس کو اپنی شبیہ پر پیدا کیا ۔نر اور ناری کو پیدا کیا اور ان کو برکت دی۔[36]لہذا الہامی تعلیمات کی روشنی میں واضح ہوا کہ بنیا دی طور پر تمام انسانوں کی تخلیق کا انداز اور پھلنے پھولنے کا انداز ایک ہی ہےلیکن اللہ کے ہاں بہتر صرف وہی ہے جو نیک ہے، متقی ہے۔

اس طرح تمام مذاہب کے نزدیک بنیادی حیثیت انسانیت کی ہے ۔قرآن و حدیث میں بھی تعظیم انسانیت پر بھرپور توجہ دی گئی ہے کیونکہ بین المذاہب ہم آہنگی میں تعظیم انسانیت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔کیونکہ نبی اکرم ﷺنے بھی جس جاندار تہذیب کو عرب جیسے معاشرے میں متعارف کروایا ،اس کی روح رواں جذبہ انسانی ہی تھا، اسی لیے آپﷺ نے فرمایا:

يا أيها الناس، ألا إن ربكم واحد، وإن أباكم واحد، ألا لا فضل لعربي على عجمي، ولا لعجمي على عربي، ولا أحمر على أسود، ولا أسود على أحمر، إلا بالتقوى [37]

ترجمہ: اے لوگو خبردار، بے شک تمہارا خدا ایک ہی ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہی ہے ۔خبردار کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر ، کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں ،سوائے تقویِ اور پرہیز گاری کے۔

اس طرح تمام انسانیت ایک ہے کسی کو کسی پر فضیلت نہیں ہے بلکہ کسی انسان کی تخلیق کو کم تر سمجھنا دراصل اللہ کی تخلیق کی تذلیل اور تضحیک کے مترادف ہےجو کہ اللہ کو ناگوار ہے ۔ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ شرف انسانیت کو ملحوظ خاطر رکھا جائےکیونکہ انسان کو اللہ نے خود اس سے نوازا ہے:

"وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِى آدَمَ" [38]

ترجمہ: اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی۔

اس لیے انسانیت کی تکریم اور بھلائی کا تقاضا ہے کہ مسلم و غیر مسلم کے فرق کی سوچ سے مبرا ہو کر بھوکے کو کھانا کھلانا ،پیاسے کو پانی پلاناصدقہ جاریہ ہے ۔نبی اکرم نے اسی جذبہ خیر سگالی اور تعظیم انسانیت کی حوصلہ افزائی کرتےہوئے فرمایا:

افضل الصدقة ان تشبع کبدا جَائعا[39]

ترجمہ: بہتر صدقہ یہ ہے کہ تو کسی بھوکے کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے۔

احترام انسانیت کا یہی طرز عمل سابقہ الہامی تعلیمات میں بھی پایا جاتا ہے،تورات )بائبل( کا بیان ہے:"اگر تیرا دشمن بھوکا ہو تو اسے کھانا کھلانا،اگر وہ پیاسا ہو تو اسے پانی پلا۔"[40]تعظیم انسانیت میں بھو ک پیاس کے ساتھ اسلامی معاشرہ کے افراد پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ انسانوں سے رحم، خیراور محبت و شفقت سے پیش آئیں اور ویسے بھی رحم کرنا خدائی صفات میں سے ایک صفت ہے

نبی اکرم ﷺنے فرمایا :الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ[41]

ترجمہ: جو لوگ دوسروں پر رحم کرتے ہیں رحمان ان پر رحم کرتا ہے ،تم اہل زمین پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔

بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے ضروری ہے کہ تکریم انسانیت کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے احترام انبیاء کو انتہائی ملحوظ خاطر رکھا جائے کیونکہ الہامی تعلیمات کا ہم تک پہنچنے کا پہلا سبب تو انبیاء اور رسل کی ذاتیں ہی ہیں اور یہی حضرات ہی امن و سلامتی ،اخوت و بھائی چارہ اور محبت و شفقت کا بہترین ذریعہ ہیں۔

امن و سلامتی اور معاشرتی استحکام، الہامی تعلیمات کی روشنی میں

امن خوف کی ضد ہے اور اس کا مطلب ہے مطمئن ہونا، بے خوف ہونا۔[42]

مفردات القرآن میں اس بابت لکھا ہے:

أصل الأَمْن: طمأنينة النفس وزوال الخوف [43]

ترجمہ: اصل میں امن کے معنی نفس کے مطمئن ہونا اور خوف نہ رہنے کے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی معاشرے کےاستحکام اور نظم و ضبط کے لیے اس میں امن و سلامتی کا عنصر ہونا ضروری ہے۔اس لیے پہلی اسلامی ریاست مدینہ میں نبی اکرم نے ہجرت کے بعد سب سے پہلے معاشرتی امن و سلامتی کے لیے جو کام کیا وہ میثاق مدینہ اور اخوت )بھائی چارے( کا وہ درس تھا جو عرب میں تقریباً نا پید ہو چکا تھا۔ انسان کی کوئی قدر اور عزت نہ تھی۔ذلت و رسوائی اور بات بات پر جھگڑنا وہاں کا دستور بن چکا تھا ۔ اس لیے آپ نے جو بھی دعوت دین دی امن و سلامتی پرمبنی تھی ۔جو خطوط دوسرے بادشاہوں کو لکھے ان میں یہ ضرور لکھا ہوتا:) اسلم تسلم) [44]یعنی قبولیت اسلام، امن و سلامتی کی زندگی بسر کرنے کا ذریعہ ہے۔

یہی بیان امن و سلامتی بائبل میں بھی موجود ہے :"آو ہم ان باتوں کی جستجو میں رہیں جو امن اور باہمی ترقی کا باعث ہوتی ہیں"۔[45] اور دوسری طرف جو لوگ معاشرتی سکون اور اطمینان چھیننا چاہتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے سخت سزائیں ہیں:

إِنَّمَا جَزَآءُ ٱلَّذِينَ يُحَارِبُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِى ٱلأَرْضِ فَسَاداً أَن يُقَتَّلُوۤاْ أَوْ يُصَلَّبُوۤاْ أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلافٍ أَوْ يُنفَوْاْ مِنَ ٱلأَرْضِ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِى ٱلدُّنْيَا وَلَهُمْ فِى ٱلآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ[46]

ترجمہ: جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں، ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں۔ یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے۔

ایسے لوگ جو معاشرتی سکون برباد کرتے ہیں ان کا کوئی بھی حامی نہیں ہے ،بائبل میں اس بابت لکھا ہے:

"خدا وند فرماتا ہے کہ شریروں کے لیے سلامتی نہیں ہے"[47]

الہامی کتب نہ صر ف امن و سلامتی کا درس دیتی ہیں بلکہ معاشرے میں انتشار پیدا کرنے والے کےلیے سخت سزاؤں کے احکامات بھی جاری کیے ہوئے ہیں اور ایسے لوگ اللہ کے ہاں بھی برباد کیے جائیں گے۔اس لیے آج بھی اگر لوگوں کے درمیان ہم آہنگی اور معاشرتی استحکام ممکن ہے تو تمام انسانیت کو کم ا زکم ان تعلیمات کی طرف لو ٹ آنا چاہیے جو سب کتب میں یکساں ہیں۔

بین المذاہب ہم آہنگی کے عصری تقاضے

انسانیت کی فلاح و بہبود

دنیا کے تمام مذاہب انسانیت کی فلاح و بہبود اور خیر خواہی پر زور دیتے ہیں جیسا کہ آپ نے فرمایا "خیر الناس من ینفع الناس"[48] یعنی " لوگوں میں سے بہتر وہ ہے جو انسانوں کو نفع پہنچاتا ہے"۔گویا انبیاء کی تبلیغ کا بنیادی مقصد ایسے پاکیزہ معاشرے کی تشکیل ہے جو خیر و فلاح سے عبارت ہو اور جس میں بد ی اور تخریب کاری کا شائبہ نہ ہو اور انسانیت کی سب سے بڑی خیر خواہی اس کے لیے ابدی سعادت مندی کی تلاش ہےاور اسلام پوری انسانیت کا خیر خواہ ہے،آپﷺ نے فرمایا:

الدِّينُ النَّصِيحَةُ [49]

دین )اسلام( خیر خواہی ہے۔

خالد علوی اس فیاضی و خیر خواہی نبوی کے سلسلے میں رقم طراز ہیں کہ:" آپ ﷺ کی طبعی فیاضی ،انفرادی معاملات کے علاوہ ریاست کی تنظیم پر اثر انداز تھی ۔معاشرتی فلاح اور اجتماعی بہبود کی پالیسیوں میں آپ کی طبعی فیاضی کابڑادخل ہے۔خلق خدا کے لیے یوں تو انبیاء سے بڑھ کر کوئی خیر خواہ نہیں ہوتا اور ان کی دعوت کا بنیادی جزو ہی خیر خواہی ہے لیکن آپ کی توجہ سے یہ خیر خواہی اسلامی ریاست کی فلاحی پالیسی کا اہم جزو قرار پائی"۔

فلاح اور خیر خواہی اللہ کو بہت پسند ہے لہذا اللہ کے بندوں کے ساتھ احسان مندی کا رویہ انتہائی پسندیدہ ہے اس سلسلے میں بائبل کا بیان ہے :

" اوراحسان سونے چاندی سے بہتر ہے"[50]

بلکہ بائبل میں دوست تو دوست ،دشمن کی تکلیف پر بھی خوشی کا اظہار کرنے سے منع فرمایا گیا ہے :" جب تیرا دشمن گر جائے تو خوشی نہ منانا اور جب وہ ٹھوکر کھائے تو تیرا دل شادمان نہ ہو ،ممکن ہے کہ خدا وند تیرے رویے کو نا پسند فرمائے اور اپنا غضب اس پر سے ہٹا لے۔" [51]

احترام عقائد و مذاہب: دور حاضر کی ضرورت

اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل کے لیے اس دنیا کا نظام ،دن رات کی آمد و رفت اور نظام شمسی کے معاملات ہی کافی ہیں لیکن پھر بھی اگر کوئی اللہ کی ذات کو تسلیم کرنے کے بجاۓ معبودان باطلہ کو اپنا خدا مانتا ہے تو تب بھی دین اسلام ان جھوٹے خداؤں کو برا بھلا کہنے سے منع کرتا ہے۔

وَلاَ تَسُبُّواْ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ فَيَسُبُّواْ ٱللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ [52]

ترجمہ: اور جن لوگوں کو یہ مشرک خدا کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں خدا کو بےادبی سے بے سمجھے برا (نہ) کہہ بیٹھیں۔

بقول مفتی محمد شفیع (1897-1976 ء) کے، "ہر وہ کام جو خود کرنا جائز نہیں اس کا ذریعہ اور سبب بننا بھی جائز نہیں"۔[53] گالم گلوچ اسلامی اخلاقیات کے منافی ہیں اور دین اسلام کی تعلیمات کا کمال ہے کہ دوسرے مذاہب کے بانیان ، باطل دیوتاؤں یا خدا کے کسی بھی تصور کو احترام سے دیکھنے کی ترغیب دے رہا ہے۔یہ بین المذاہب ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے۔ اسی بات کا درس بائبل کچھ یوں لکھتی ہے:" غرض تم سب ایک ہو کر رہو ،ہمدردی سے کام لو اور برادرانہ محبت سے پیش آؤ، نرم دل اور فروتن بنو ، بدی کے بدلے بدی نہ کرو۔ اور گالی کا جواب گالی سے نہ دو بلکہ اس کے برعکس چاہو"[54]

یہ تعلیمات اور اصول ،جن میں مذاہب کے بانیان و خداؤں کا احترام سکھایا گیا ہے،مذہبی رواداری کی خوبصورت مثالیں ہیں ۔اسی طرح تمام انبیاء کا احترام مسلمان کے ایمان کا جزو ہے ۔کوئی مسلمان حضرت ابراہیم ، موسیٰ ،عیسیٰ کی شخصیات کے بارے میں کسی قسم کی گستاخی برداشت نہیں کر سکتا، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو کوئی ایسے القابات یا گستاخانہ انداز سے پکارے اور مسلمان اس کو برداشت کرلے۔

تبلیغی حکمت اور امن وسلامتی

دین اسلام معاشرے میں امن و امان کےقائم رکھنے کا حکم دیتا ہے اور یہ امن و سلامتی اسی شکل میں ممکن ہے کہ جب آپ دین اسلام کی دعوت کو خوبصورت اندا زمیں لوگوں تک پہنچائیں اور ہر اس عمل سے پرہیز کریں جس سے معاشرے میں انتشار پیدا ہونے کا امکان ہو کیونکہ امن و سلامتی والا معاشرہ ہی دین اسلام کا مقصد حیات ہے۔اسی لیے اللہ نے قرآن میں صلح سلامتی کی نہ صرف ترغیب دی بلکہ حکم دیا:

وَإِن جَنَحُواْ لِلسَّلْمِ فَٱجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ[55]

ترجمہ: اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ اور خدا پر بھروسہ رکھو۔

نبی اکرم نے بھی معاشرتی و ملکی امن و سلامتی کے لیے ایسے ہی ارشادات فرمائے ہیں:

المُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ [56]

ترجمہ: " مسلم وہ ہے کہ جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ ہوں"

اسی بابت بائبل رقم طراز ہے: "آو ہم ان باتوں کی جستجو میں رہیں جو امن اور باہمی ترقی کا باعث ہوتی ہیں "۔[57] ظالم اور امن و سلامتی کو داؤ پر لگانے والے کسی رحم کے مستحق نہیں۔ اس بابت بائبل رقمطراز ہے: "خدا وند فرماتا ہے کہ شریروں کے لیے سلامتی نہیں ہے"۔[58]

اسلام ہر قیمت پر انسانوں کے درمیان امن قائم کرنے کا حکم دیتا ہے ، چاہے اس کے لیے کوئی بھی قربانی دینا پڑے ۔ دیگر الہامی مذاہب بھی اسی انداز کی تعلیمات کے حامل ہیں۔

بین المذاہب ہم آہنگی :اہم معاشرتی ضرورت

اسلام ایک اجتماعیت پسند دین ہے اور ہمیشہ معاشرتی فلاح و بہبود ،اجتماعی معاملات،اشتراک ،تعاون اور تفاہم انسانیت کا درس دیتا ہے اور آپس میں کوئی بھی ایسا کاروباریا تجارت کا لین دین جس میں کوئی شرعی قباحت نہ ہو یا وہ معاشرتی تعلقات اور تہذیب و تمدن سے مماثل سلوک وتعاون سے منع نہیں کرتا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے آپﷺ کو جو کی روٹی اور چربی کے سالن کے کھانےکی دعوت دی اور آپ نے اسے قبول فرمایا:

أَنَّ يَهُودِيًّا دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ، فَأَجَابَهُ[59]

اسی معاشرتی رہن سہن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بائبل میں ہے: "غرض تم سب ایک دل ہو کر رہو ،ہمدردی سے کام لو اور برادرانہ محبت سے پیش آؤ"۔اسی طرح نبی اکرم ﷺ نے مسلم بیماروں کے علاوہ غیر مسلموں کی بھی عیادت فرمائی ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک یہودی لڑکا جو آپ کی خدمت کیا کرتا تھا بیمار ہو گیا۔آپﷺ اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔آپﷺ اس کے سر کے قریب بیٹھے تو نور نبوت سے دیکھ لیا کہ یہ اس مرض سے بچ نہیں سکے گا ۔آپﷺ کی تو بڑے بڑے مخالف اور دشمن کے بارے یہ سب سے بڑی خواہش ہوتی کہ وہ کسی طرح ایمان لے آئے اور یوں آخرت کے دائمی عذاب سے بچ جائے۔ اس لیے آپ ﷺنے فرمایا بیٹا ،اب تو اسلام قبول کر لو۔اس نے مشورہ کی نگاہ سے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو کہ اس کے قریب تھا۔تو اس نے کہا:

أطع أبا القاسم صلى الله عليه وسلم

ترجمہ: تم ابو القاسم ﷺکی بات مان لو۔

جب وہ کلمہ شہادت پڑھ چکا تو اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی،باہر نکلے تو آپﷺ کی زبان پران الفاظ میں اللہ کی حمد و ثناء جاری تھی:

الحمد لله الذي أنقذه من النار[60]

بیان کردہ روایت سے متعلقہ امام بخاری(810-870 ء) کا قائم کردہ ترجمۃ الباب باب عیادۃ المشرک" بھی قابل توجہ ہے۔[61] اسلام اجتماعیت اور معاشرتی استحکام کا قائل ہے بلکہ وہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر معاشرتی، معاشی اور تہذیبی ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے غیر مسلموں کی زبانوں کو سیکھنے کی بھی اجازت دیتا ہے، جیسا کہ حضرت زید بن ثابت سے روایت ہے: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَعَلَّمْتُ لَهُ كِتَابَ يَهُودَ، وَقَالَ: «إِنِّي وَاللَّهِ مَا آمَنُ يَهُودَ عَلَى كِتَابِي» فَتَعَلَّمْتُهُ، فَلَمْ يَمُرَّ بِي إِلَّا نِصْفُ شَهْرٍ حَتَّى حَذَقْتُهُ، فَكُنْتُ أَكْتُبُ لَهُ إِذَا كَتَبَ وَأَقْرَأُ لَهُ، إِذَا كُتِبَ إِلَيْهِ[62] يعنى سیدنا زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ کی قسم ! میں یہودیوں سے اپنی خط و کتابت کے سلسلہ میں یہودیوں کے بتاۓ ہوۓ مفہوم پر اعتبار نہیں کرتا۔اور پھر رسول اللہ ﷺ نے یہود سے خط و کتابت کے لیے مجھے ان کی زبان سيکھنے کا حکم دیا تو میں نے نصف ماہ سے بھی پہلے اسے لکھنا اور پڑھنا سیکھ لیا ۔ اس کے بعد جب کبھی یہودیوں کی طرف سے کوئی تحریر آتی ،تو میں اس کا مفہوم آپ ﷺ کے گوش گزار کرتا اور اگر کوئی تحریر ان کو لکھنا ہوتی تو بھی آپ ﷺ کی طرف سے میں ہی انہیں لکھتا۔

آفات اور حوادث یا معاشرتی حفاظت کے پیش نظر تعاون کا بڑھانا اور باہم مدد کرنا بین المذاہب ہم آہنگی کی بنیاد اور معاشرتی استحکام کی ضرورت ہے۔جس کا مثالی پہلو ہمیں بعد از ہجرت نبی اکرم کا یہودمدینہ اور دیگر قبائل کے ساتھ معاہدات کے پہلو سے واضح نظر آتا ہے۔

بین المذاہب ہم آہنگی: معاشروں کے درمیان معاشی ضرو رت کی بنیاد

انسان اپنی بقاء کے لیے معاشرے کا محتاج ہے ۔وقت کے ساتھ ساتھ معاشروں میں بڑھوتری کے ساتھ حالات اور معاملات میں کافی تبدیلی آچکی ہے۔مختلف ممالک کے لوگوں کی معاشرتی اقدار ،حالات ،عادات تک مختلف ہیں لیکن انسانی جبلت میں معاشروں کے ساتھ مل جل کر رہنا شامل ہے۔ ملکوں کی آپس میں اقتصادی اور تجارتی ضروریات وابستہ ہیں اور کوئی بھی ملک اس وقت تنہا اپنی ضروریات کو مکمل کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔آپس میں تعاو ن کی ضروریا ت کے لیے چاہے وہ صنعتی معاملات ہوں ،تجارتی ہوں یا عسکری ، ہم آہنگی کے بغیر ممکن نہیں اور یہ ہم آہنگی صرف مذہب ہی مہیا کرتا ہے۔اس کے لیے نبی اکرمﷺ کا اسوہ ہمارے لیے بہترین مشعل راہ ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں:

أن النبي صلى الله عليه وسلم اشترى طعاما من يهودي إلى أجل، ورهنه درعا من حديد [63]

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودی سے مدت معینہ کے ادھار پرطعام خریدا اوربدلے میں اپنی لوہے کی زرہ اس کے پاس گروی رکھ دی۔

یہودی سے مال ادھار لینے کے عوض اپنی زرہ رہن رکھوانے کی حدیث کی شرح میں علامہ نووی(1234-1277 ء) فرماتے ہیں:

فِيهِ جَوَازُ مُعَامَلَةِ أَهْلِ الذِّمَّةِ… وَقَدْ أَجْمَعَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى جَوَازِ مُعَامَلَةِ أَهْلِ الذِّمَّةِ وَغَيْرِهِمْ مِنَ الْكُفَّارِ إِذَا لم يتحقق تحريم مَا مَعَهُ [64]

ترجمہ: اس حدیث میں اہل ذمہ کے ساتھ معاملہ کا جواز پایا جاتا ہے۔اورتمام مسلمانوں کا اہل ذمہ اور دوسرے کفار سے لین دین کے جواز پر اجماع ہے، جب تک کہ غیر مسلم کے پاس موجود چیز کی حرمت ثابت نہ ہو۔

معاشی اطمینان اور سکون سے متعلق بائبل میں لکھا ہے:"احبار کا بیان ہے کہ بس تم میرے احکام پر عمل کرنا اور میرے قوانین کو پوری طرح مانا تو تم اس ملک میں امن کے ساتھ بستے رہو گے تب زمیں اپنی پیداوار دے گی اور تم پیٹ بھر کر کھاناکھاو گے اور وہاں محفوظ رہو گے "[65]یقیناْ معیشت اسی وقت محکم ہو گی جب دنیا کے تمام معاشروں میں امن ،میل جول اور اطمینان ہو گا اگر ایک دوسرے کے ساتھ لین دین کے معاملات بہتری کی طرف ہوں گے تو معاشرتی معیشت مستحکم ہو گی ۔

عصر حاضر میں بین الممالک سیاسی صورتحال اور بین المذاہب ہم آہنگی کا کردار

دنیائے عالم کے ملل واقوام نہ صرف معاشی اور معاشرتی مشترکہ مفادات رکھتے ہیں بلکہ دور حاضر میں سیاسی مفادات بھی مشترکہ اہمیت کے حامل ہیں ۔ان مفادات اور سہولیات کے پیش نظر بین المذاہب ہم آہنگی انتہائی ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر دنیا میں امن وسلامتی اور بین الممالک معاہدات کا تحفظ ذرا مشکل ہے۔ معاہدات کی پاسداری کے بارے میں قرآن میں ہے:

وَأَوْفُواْ بِالْعَهْدِ إِنَّ ٱلْعَهْدَ كَانَ مَسْؤُولاً[66]

ترجمہ: اور عہد کو پورا کرو کہ عہد کے بارے میں ضرور پرسش ہوگی۔

اس سلسلے میں نبی اکرم ﷺنے فرمایا :خبردار! جو شخص کسی معاہد پر ظلم کرے گا، یا اس کے حقوق میں کمی کرے گا، یا اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بار ڈالے گا، یا اس سے کوئی چیزاس کی مرضی کے خلاف وصول کرے گا،اس کے خلاف قیامت کے دن میں خود مستغیث بنوں گا۔

أَلَا مَنْ ظَلَمَ مُعَاهِدًا، أَوِ انْتَقَصَهُ، أَوْ كَلَّفَهُ فَوْقَ طَاقَتِهِ، أَوْ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ، فَأَنَا حَجِيجُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ [67]

عدل و انصاف اور عہد سے متعلق بائبل میں مرقوم ہے:

"میں خدا وند انصاف کو عزیزرکھتا ہوں غارت گری اور گناہ سے نفرت کرتا ہوں اس لیے میں انہیں سچائی کے ساتھ اجر دوں گا اور ان کے ساتھ ایک ابدی عہد باندھوں گا "[68]

امن و سلامتی اور سیاسی مفادات کی خاطر نبی اکرم ﷺنے اسلامی فلاحی ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی اور دوسری اقوام اور ملل کے ساتھ معاہدات کیے جس کا مقصد صرف اور صرف امن و سلامتی پر مبنی ایک عظیم معا شرہ کی بنیاد تھا۔انہی قبائل اور اقوام میں یہود کے تین قبائل بنو قریظہ، بنو قینقاع، اور بنو نضیر کے ساتھ معاہدات روشن دلیل کی مانند ہیں۔

نبی اکرمﷺ کی سیرت و کردار اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ آپ نے ریاست مدینہ کی شکل میں انسانیت اور آنے والی اقوام کو رواداری ،امن و سلامتی ،آزادی دین اور عدل انصاف کی عملی شکل ڈال کر دی۔آپ اور دین اسلام کی یہ تعلیمات بین المذاہب ہم آہنگی اور مستحکم معاشرتی نظام کی خوبصو رت اور بہترین مثالیں ہیں، جن کو اپنا لینے سے یقیناً معاشرتی استحکام ، امن و سلامتی اور عدل انصاف سے بھرپور معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

نتائج

مندرجہ بالا گفتگو سے کچھ نتائج نکالے گئے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:

  1. بین المذاہب مکالمات اور مشترکات کو فروغ دینے کے ذریعے سے امن وآشتی کا ماحول پیدا کیاجا سکتا ہے۔
  2. دور جدید میں الہامی کتب کی تعلیمات کی روشنی میں انسانی حقوق کے مسائل پر کا فی حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
  3. حقیقی امن و سلامتی کے لیے بلا امتیاز عدل و انساف کے پیمانے کو لاگو کیا جائے ،مقابلے میں چاہے کوئی مسلم ہو یا غیر مسلم۔ لہذا ظلم کے ساتھ ساتھ ہر طرح کی محرومی کا بھی ازالہ کیا جانا چاہیے۔
  4. جذبہ خیر سگالی کے تحت بین المذاہب رواداری کےفروغ کے لیے ایسے تہواروں اور پروگراموں جو شریعت مطہرہ سے متصادم نہ ہوں، میں بھرپور شرکت کی جائے تا کہ پاکستانی معاشرے میں رہنے والی اقلیتوں کے افراد کے ساتھ محبت اور تعلق میں اضافہ ہو اور ایک دوسرے کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔
  5. ہر مذہب آزادی رائے کی اجازت دیتا ہے بشرطیکہ اس کا مقصد وضاحت طلب کرنا یا اپنے مقصد کے لیے تبادلہ خیال کرنا ہو ، نہ کہ دوسرے مذاہب کے بانیان یا الہامی کتب کی تضحیک کرنا ہو۔ ایسی آزادی رائے اور گفتگو جس سے معاشرے میں انتشار برپا ہونے کا خدشہ لاحق ہو، سے ہر ممکن پرہیز ضروری ہے۔
  6. تمام الہامی مذاہب معاشرتی استحکام کی ضمانت دیتے ہیں ۔ اس لیے تمام الہامی مذاہب کے پیروکاروں کو چاہیے کہ بلاوجہ فساد فی الارض سے باز رہیں تا کہ معاشرتی امن و سکون کو کسی قسم کی ٹھیس نہ پہنچے۔
  7. چونکہ تمام الہامی مذاہب دعوتی ہیں، اس لیے دعوتی اسلوب اپناتے ہوئے قوت برداشت کا مادہ ہونا ضروری ہے اور تمام الہامی مذاہب معاشرتی استحکام اور امن و سکون کی فضاء پیدا کرنے کی نہ صرف تلقین کرتے ہیں بلکہ اس جستجو میں رہنا، الہامی مذاہب کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے۔

تجاویز و سفارشات

درج ذیل سطور میں کچھ سفارشات و تجاویز بیان کی جا رہی ہیں، جن پر عمل پیرا ہو کر بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکتا ہے:

  1. شرف انسانیت کا وہ مقام جو مذاہب عالم کی مذہبی کتب میں بیان کیا گیا ہے، کونہ صرف بحال کیا جائے بلکہ معاشرتی استحکام اور رواداری کو فروغ دینے کے لیے اس پر عملی کاوشوں کو فروغ دیا جائے اورنفرت ، بغض اور عداوت کوچھوڑ کر محبت اور شرف انسانیت کے مقصدپر بلا تفریق، کام کیا جائے۔
  2. انسانی جان،آبرو، مال کی حفاظت اور اہمیت کو نہ صرف اجاگر کیا جائے بلکہ انسانی تذلیل پر سخت سزائیں رکھی جائیں تاکہ کوئی بھی انسانی جان کی بے حرمتی کرنے کی جرات نہ کر سکے۔
  3. اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ دوسرے مذاہب کے بانیان، ان مذاہب کے ہاں مقدس سمجھی جانے والی کتب، ان کی عبادت گاہوں اورعقائد کا احترام کیا جائے۔
  4. مسلمان علماء اور علوم دینیہ کےسکالرز کو چاہیے کہ خصوصی طور پر ان امور پر کام کریں جو بین المذاہب مشترک ہیں ، کیونکہ ان پہلوؤں کی طرف بلانا آسان ہوتا ہے جو دونوں میں یکسانیت کا پہلو رکھتے ہوں۔اسی لیے نبی اکرم ﷺجب بھی شاہان عالم کو مکالماتی خطوط لکھتے تھے تو اس پہلو کو مدنظررکھاکرتے تھے۔
  5. دور حاضر میں علماء کو چاہیے کہ بین المذاہب مشترکہ اخلاقی و انسانی اقدار کو پروان چڑھائیں۔
  6. دور حاضر میں میڈیا کے کردار کا انکار ممکن نہیں ،اس لیے میڈیا کو مثبت کردار ادا کرتے ہوئے ایسے پروگرامز اور ٹاک شوز کو منعقد کرنا چاہیے جو معاشرتی امن و سکون کو بہتری کی طرف لے جائیں اور مذاہب کے ایسے افراد کو بلایا جائے، جن کی گفتگو اور شخصیت میں اعتدال پایا جاتا ہو ۔

Bibliography

Abū Dawūd, Sulaimān bin Ash’ath. al-Sunan. Beirūt: dār al-Risālah, 2009.

Akram Virk. “Bāyn al- Madhhab Mukālmāh kī Ahmiyyat, Tarjīhāt aūr Taqadhay”. Māhnāma al-Shari’ah, Gujranwala 7, no. 17 (2009): 5-22.

Azharī, Naeem Anwar. “Bāyn al- Madhahib ham āhangī, Bāhmī Ravādāri aūr Mukālmāy kī ‘Aṣrī Zarūrat wa Ahmiyyat”. Ma’arif Islamī, Islamabad, 17, no. 2 (2018): 25-86.

Baihqī, Aḥmad bin Ḥusain, Imam. Shi’ab al-Īmān. Riyāḍ: Maktabah al-Rushd, 2003.

Bukhārī, ‘Abdul Ghaffār, Sayyid. “‘Ālmī Ittihād wa Yagangat kay lie Mukālmāh Bāyn al-Madhahib kā kirdār, Ta’līmāt Nabvī kī Roshnī mein”. al-Baṣīrah, Islamabād 1, no. 1 (2012): 1-35.

Bukhārī, Muḥammad bin Ismaīl. Al-Ṣaḥīḥ al- Jami’. Beirut: dār Tawq al-Nijāh, 1422 AH.

Encyclopedia of Religion and Ethics (Ed. James Hastings), Edinburgh: T&T Clark, 1915.

Haikal, Mūhammad Hussain. Hayāt Mūhammad. (Tarjuma: Abū Yaḥya Imām Khān). Lahore: ‘Ilm wa ‘Irfān Publishers, 1999.

Hindī, ‘Alī bin Ḥusain, Imām. Kanzul ‘Ummāl. Beirūt: Muassisah al-Risālah, 1981.

Ibn Ḥambal, Aḥmad, Imām. Musnad al-Imām Aḥmad bin Ḥambal. Beirūt: Muassisah al-Risālah, 2001.

Ibn Ḥazm, Zāhirī. al-Fiṣal fī al-Milal wa al-Ahwā wa al-Niḥal. Beirūt: dār al-Jial, 1408 AH.

Ibn Hishām, ‘Abdul Malik. al-Sīrah al-Nabawiyyah. Miṣr: Shirkat al-Tabā’ah, N.D.

Ibn Kathīr, ‘Imād ud-Dīn, Abul Fidā Isma’il bin ‘Umar. Tafsīr ul Qurān al-‘Azīm. Beirūt: dār al-Kutub al- ‘Ilmiyyah, 1419 AH.

Ibn Mandhūr, al-Ifrīqī. Lisān al- ‘Arab. Beirūt: dār al-Ṣādir, 1414 AH.

John Shakespeare. Urdu English and English Urdu Dictionary. Lahore: Sang-e Mīl Publications,1969.

Khalid ‘Alvī, Dr. Insān Kāmil. Islamabad: Da’wah Academy, 2002.

Khatīb Tibraizī, Valī ud-Dīn. Mishkāt al-Maṣabīḥ. Beirūt: al-Maktab al-Islāmī, 1985.

Kilyānvi, ‘Imrān al-Ḥaq. “Bāyn al- Madhhabī ham āhangī wa Ravādārī- Ḥalāt Ḥaẓirah wa Islamī Ta’līmāt kī Roshnī mein”. Majallah al-Thaqāfah al-Islamiyyah, Karachi Special edition (2007): 115-136.

Kitāb Mūqaddas (The Holy Bible). Lahore: Bible society, 2011.

Maḥmūd Akhtar, Ḥafiẓ. “Mukālmāh bāyn al-Madhahib, Uṣūl wa Adāb”. Jihāt al-Islām, Lahore 1, no. 3 (2009): 143-173.

Majmūa’ Ulamā. Mū’jam al-Wasīṭ. Turkey: dār al-Da’wah, 1989.

Muḥammad Shafī’, Muftī. Ma’arif al-Qurān. Lahore: Idarah al- Ma’arif, 2001.

Naqvī, Alī Razā. Farhang Jāmi’. Islamabad: National Book Foundation, 1994.

Nawawī, Yaḥyā bin Sharaf. al-Minhāj Sharaḥ Muslim bin al-Hajjāj. Beirūt: dār al-Iḥyā al-Turāth, 1392 AH.

Nūr Ḥayāt Khān. “Bīsvīn Ṣadī kay Maghribī wa Islamī Taṣavurāt kā Mukhtaṣar Tārīkhī wa Tanqīdī Jaizah”. al-Īdah, Peshawar, 26 (2013): 38-119.

Raghib al-Aṣfahanī, Husain bin Muḥammad. al-Mufradāt fī Gharīb al-Qurān. Dimashq: dār al-Qalam, 1412 AH.

Shāh, Mehbūb ‘Alī. “Mukālmāh bāyn al-Madhahib kay Maghribī wa Islamī Taṣavurāt kā Taqabulī Mutalia”. al-Qalam, Lahore, 22, no. 3 (2017): 1-22.

Shahristānī, Muḥammad bin ‘Abdūl Karīm. al-Milal wa al-Niḥal. Beirūt: dār al-Ma’rifah, 1993.

Sohaib, ‘Abdul Qudūs, “Bāyn al- Madhhabī ham āhangi wa Ravadāri kay Bunyādi Usūl, Qurān wa Sunnat kī Roshnī mein”. al-Qalam, Lahore 15, no. 3 (2010): 122-139.

Tirmidhī, Abū ‘Isā, Muḥammad bin ‘Isa. Sunan al-Tirmidhī. Miṣr: Shirkat Maktabah, 2003.


  1. Robert Ranulph Marett, “MANA," in Encyclopedia of Religion and Ethics, ed. James Hastings (Edinburgh, T&T Clark, 1915), 8:376.
  2. القرآن:42 :13
  3. القرآن:3 :64
  4. ابو محمد ، علی بن احمد ابن حزم،الفصل فی الملل والا ہواء والنحل، محقق۔ محمد ابراہیم نصر، عبدالرحمان عمیرہ) بیروت : دارالجیل ،1405 ھ(۔
  5. محمد بن عبدالکریم شہرستانی ،الملل والنحل،محقق۔ امیر علی مہنا، علی حسن فاعور ( بیروت : دار المعرفہ ، 1993ء)۔
  6. عمران الحق کلیانوی ، " بین المذاہب ہم آہنگی و رواداری –حالات حاضرہ و اسلامی تعلیمات کی روشنی میں " الثقافہ الاسلامیہ، اسپیشل ایڈیشن، دسمبر، (2007) 115 -136۔ http://www.theislamicculture.com/index.php/tis/article/view/461
  7. حافظ محمود اختر ،"مکالمہ بین المذاہب : اصول و آداب، " جہات الاسلام 1 نمبر۔ 3 (2009): 173-143 ۔
  8. اکرم ورک ،"بین المذاہب مکالمہ کی اہمیت ،ترجیحات اور تقاضے،" ماہنامہ الشریعہ 7 نمبر۔ 17(2009): 22-5 ۔
  9. عبد القدوس صہیب ، "بین المذاہب ہم آہنگی و رواداری کے بنیادی اصول قرآن و سنت کی روشنی میں،"القلم 1 نمبر۔ 15 (2010)122: - 139 ۔
  10. عبد الغفا ر بخاری، " عالمی اتحاد و یگانگت کے لیے مکالمہ بین المذاہب کا کردار،تعلیمات نبوی کی روشنی میں، " البصیرہ 1 نمبر۔ 1 (2012): 35-1۔
  11. نور حیات خان، "بیسویں صدی کے مکالمات بین المذاہب کا مختصر تاریخی و تنقیدی جائزہ،" الایضاح 26 نمبر۔ 1 (2013ء): 38 -119۔
  12. محبوب علی شاہ ، "مکالمہ بین المذاہب کے مغربی و اسلامی تصورات کا تقابلی مطالعہ،" القلم 3:22 (2017)1 -22۔
  13. نعیم انور ازہری، "بین المذاہب ہم آہنگی، باہمی رواداری اور مکالمے کی عصری ضرورت و اہمیت،"معارف اسلامی 2 نمبر۔17 (2018ء) 25: -86۔
  14. John Shakespeare, Urdu English and English Urdu Dictionary, (Lahore: Sang-e Meel Publications, 1969), 1869.
  15. علی رضا نقوی ، فرہنگِ جامع) اسلام آباد:نیشنل بک فاؤنڈیشن، 1994ء(، 1181۔
  16. مجموعہ علماء، معجم الوسیط) استنبول: دارالدعوۃ ،1989ء(، 2:1027۔
  17. محمد حسین ہیکل ، حیات محمد،مترجم۔ابو یحیی امام خان)لاہور:علم وعرفان پبلشرز، 1999ء(، 200۔
  18. القرآن 3 :84
  19. القرآن 5 :77
  20. القرآن 3 :64
  21. القرآن 7 :59
  22. القرآن9 :31
  23. کتاب ِمقدس (بائبل) ،(نظرِ ثانی شدہ اردو نسخہ)، ( لاہور: پاکستان بائبل سوسائٹی ،2014)
  24. یسعیاہ 7:45
  25. کرنتھیوں 12: 4- 5
  26. ولی الدین خطیب تبریزی،مشکوۃ المصابیح، كتاب الآداب، باب الشفقة والرحمة على الخلق( بیروت: المکتب الاسلامی،1985ء) 3/1387، حدیث: 4969۔
  27. القرآن،57 :25
  28. استثناء 16: 18 - 20
  29. القرآن 16 :125
  30. القرآن 10 :99
  31. القرآن 2 :256
  32. عبد الملک ا بن ہشام ، السيرة النبوية ، تحقیق۔ طه عبد الرءوف سعد )مصر :شركة الطباعة الفنية المتحدة، س ۔ن ( ،2:107۔
  33. القرآن 109 :6
  34. عماد الدین ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، تحقیق۔محمد حسين شمس الدين ) بيروت: دار الكتب العلمية، 1419 ھ(،1:522۔
  35. القرآن 49 :13
  36. پیدائش 22: 7
  37. احمد بن حنبل، مسند الإمام أحمد بن حنبل ،تحقیق۔ شعيب الأرنؤوط ، عادل مرشد (بیروت: الناشر مؤسسة الرسالة،2001ء ) ، حدیث: 23536،38 474 : ۔
  38. القرآن 17 :70
  39. احمد بن حسین بیہقی ، شعب الایمان، کتاب الزكاة، باب ما جاء فى اطعام الطعام و سقي الماء (رياض: مكتبة الرشد للنشر والتوزيع ،2003ء) ، حدیث: 3095، 60:5 ۔
  40. امثال 25: 21
  41. ابو عيسى محمد بن عیسی ترمذی ، سنن الترمذي ، كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، باب ما جاء في رحمة المسلمين ( مصر : شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي،1975ء) ، حدیث: 1924 ، 4: 323۔
  42. ابن منظور الافریقی ،لسان العرب (بیروت: دارالصادر، 1414 ھ) ، 13 :21۔
  43. حسین بن محمد راغب اصفہانی ، المفردات في غريب القرآن، تحقیق۔ صفوان عدنان الداودي (دمشق :دار القلم، 1412ء) ،67 ۔
  44. محمد بن اسماعیل البخاری ، الجامع الصحيح ، كِتَابُ بَدْءِ الْوَحْيِ، باب كيف كان بدء الوحي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، تحقیق۔ محمد زهير بن ناصر الناصر ( بیروت: دار طوق النجاة، 1422ھ)، حدیث:7، 1: 8 ۔
  45. رومیوں 14: 19 - 21
  46. القرآن 5 :33
  47. یسعیاہ 58: 7 - 9
  48. علی بن حسین ہندی ، كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال ، كتاب المواعظ والرقائق والخطب والحكم من قسم الأفعال ، فصل في جامع المواعظ والخطب: خطب النبي صلى الله عليه وسلم ومواعظه ( بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ، 1981ء)، حدیث: 44154، 128:16 ۔
  49. ترمذی ، سنن الترمذي ، كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، باب ما جاء في النصيحة،حدیث: 1962، 4: 324۔
  50. امثال 22: 1
  51. امثال 24: 17-18
  52. القرآن 6 :108
  53. محمد شفیع، معار ف القرآن ( لاہور: ادارۃ المعارف،2001ء)، 3:417۔
  54. پطرس 1 3:8-10
  55. القرآن 8 :61
  56. بخاری، الجامع الصحیح ،كتاب الإيمان ، باب: المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده ، حدیث،10، 1: 11۔
  57. رومیوں 14: 19-21
  58. یسعیاہ 57: 21
  59. ابن حنبل، المسند ،حدیث: 13201، 20: 424۔
  60. بخاری، الجامع الصحیح ، كتاب الجنائز ، باب إذا أسلم الصبي فمات، هل يصلى عليه، وهل يعرض على الصبي الإسلام ، حدیث،1356، 2: 94۔
  61. ایضاً، حدیث: 7: 117 ۔
  62. سلیمان بن اشعث ابوداؤد ، السنن ،تحقیق۔ شعَيب الأرنؤوط ، محَمَّد كامِل قره بللي، أول كتاب العلم ، باب رواية حديث أهل الكتاب (بیروت : دار الرسالة العالمية،2009ء) ،حدیث: 3645، 5: 489۔
  63. ایضا ، ، كتاب البيوع، باب شراء النبي صلى الله عليه وسلم بالنسيئة ، حدیث،2068، 3: 56۔
  64. یحی بن شرف نووی، المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج ،كتاب البيوع، باب جواز بيع الحيوان بالحيوان من جنسه متفاضلا ( بيروت : دار إحياء التراث العربى ،1392 ھ)،حدیث: 1602، 11:40۔
  65. احبار 25: 19
  66. القرآن 17 :34
  67. ابو داؤد، السنن، أول كتاب الخراج والفيء والإمارة ، باب تَعْشِير أهلِ الذمة إذا اختلفوا بالتجارات، حدیث:3052، 4، 658۔
  68. یسعیاہ 61: 8