Limits of Participation in Celebration of Non-Muslim’s Events: An Analytical Study

From Religion
Jump to navigation Jump to search
Bibliographic Information
Journal Al-Milal: Journal of Religion and Thought
Title Limits of Participation in Celebration of Non-Muslim’s Events: An Analytical Study
Author(s) Sawati, Khalil ur Rahman, Muhammad Riaz Khan Al-Azhari
Volume 2
Issue 1
Year 2020
Pages 322-344
DOI 10.46600/almilal.v2i1.65
Full Text Crystal Clear mimetype pdf.png
URL Link
Keywords Functions, Cultural, religious, Muslims, Non-Muslim, celebrations
Chicago 16th Sawati, Khalil ur Rahman, Muhammad Riaz Khan Al-Azhari. "Limits of Participation in Celebration of Non-Muslim’s Events: An Analytical Study." Al-Milal: Journal of Religion and Thought 2, no. 1 (2020).
APA 6th Sawati, K. u. R., Al-Azhari, M. R. K. A. (2020). Limits of Participation in Celebration of Non-Muslim’s Events: An Analytical Study. Al-Milal: Journal of Religion and Thought, 2(1).
MHRA Sawati, Khalil ur Rahman, Muhammad Riaz Khan Al-Azhari. 2020. 'Limits of Participation in Celebration of Non-Muslim’s Events: An Analytical Study', Al-Milal: Journal of Religion and Thought, 2.
MLA Sawati, Khalil ur Rahman, Muhammad Riaz Khan Al-Azhari. "Limits of Participation in Celebration of Non-Muslim’s Events: An Analytical Study." Al-Milal: Journal of Religion and Thought 2.1 (2020). Print.
Harvard SAWATI, K. U. R., AL-AZHARI, M. R. K. A. 2020. Limits of Participation in Celebration of Non-Muslim’s Events: An Analytical Study. Al-Milal: Journal of Religion and Thought, 2.
The Role of Values in Social Change: An Analysis from The Qur’ānic Perspective
Pleasure versus Virtue Ethics in The Light of Aristotelians and the Utilitarianism of John Stuart Mills and Jeremy Bentham
Qur’ānic Concept of Divine Mercy Projected through the Pairs of Divine Attributes: A Criterion for Social Amelioration
Bâbâ Farîd’s Hymns in Granth Ṣâhib with Qur’ânic Backdrop: A Review
Polemic Views about the Source of Qur’ān in Medieval Christian Writings with a Reflection upon Contemporary Orientalists: A Critical Review
Role of Islam in Practical Life amongst Some Young Swiss Muslim Adults: A Focused Ethnographic Analysis
Evolution of the Concept of Citizenship in the Islamic Thought: An Analysis
Exploring Individual and Social Factors that Influence Human Belief: An Analysis in the Light of Quran and Sunnah
Inter-Faith Harmony and Contemporary Demands: An Analytical Study in the Light of Divine Teachings
Urdu Dissertations of Islamic Studies on Semitic Religions (MPhil, PhD) in Pakistani Universities: An Index and Bibliometric Review
Effects of Hindu Civilization on Muslim Culture and Civilization: A Review from Pakistan’s Context
Islamic Approach towards Social Construction: An Analytical Study in the Light of Hazrat Umar Farooq’s (RA) Wisdom and Thought
Historical and Evolutionary Analysis of Reasons and Causes of Objections of Orientalism on Prophet’s Biography
The Tradition of Innovation in Islamic Civilization: An Exclusive Study of Early Ages of Islam
Limits of Participation in Celebration of Non-Muslim’s Events: An Analytical Study

Abstract

This article aims to highlight an important aspect of Islamic Law, which relates to social life of a Muslim. Islamic law promotes social harmony and tolerance, but it makes it balance in the light of basic principles and objectives of Shar'īah. Likewise, Islamic law determines social relation between Muslims with each other as well as the relation of Muslims with Non-Muslim citizens in the Islamic state. Furthermore, it is very significant to know that a Muslim can participate in the traditional and religious functions of Non-Muslim or not? Islamic law has made some parameters in this regard, in this research paper we have focused on this specific issue of Islamic law and tried to explain the legal status of this issue in the light of Quran, Prophetic traditions, and opinions of Muslim Scholars. The research method applied in this paper is descriptive and critical study of different school of thoughts is also provided. Muslims have a long history of mutual contacts with the non-Muslims guided by the Shar’īah principles as they have come together in every age in different political and geographical contexts. In the early days of Islam, Muslims were in the minority. At that time, Muslims participated in the social life of their non-Muslims neighbors. Islam respects other religions. Provides all kinds of facilities to non-Muslims. And allows Muslims to participate in their legitimate programs.۔

تمہید

اسلام کے آنے کے بعد دنیا میں صرف دو قومیں رہ گئیں ایک مسلم اور دوسرا غیر مسلم ۔ مسلمان اپنے رب ذوالجلال کے عبادت اور تابعداری کرتا ہے اور جو حکم من جانب اللہ ہو وہ بسروچشم مانتے ہیں ، اور اس کے خلاف غیر مسلم اپنے آباؤاجداد کے طریقوں کے پیروی میں زندگی بسر کرتے ہیں۔دنیا میں زمانہ قدیم سے ایک سےزیادہ قومیں رہتی بستی چلی آرہی ہیں۔ان کےدرمیان حاکم اورمحکوم کاتعلق رہاہے۔موجودہ دورمیں سیاست ،معیشت اور علوم کے شعبوں میں آپس کے تعاون کی بناءپر دنیا کے تمام ممالک کا آپس میں تعلق رہتا ہے ۔ایک ملک کےباشندوں کودوسرےملک کی شہریت بھی آسانی سےمل جاتی ہے اور ان کےحقوق بھی تسلیم کیے جاتے ہیں۔اس طرح اب یہاں ایک عالمی مسئلہ ہےکہ ایک ملک میں ایک سےزیادہ قومیں اورتہذیبیں کام کررہی ہیں۔اسی وجہ سے ان کےتعلقات بھی زیربحث رہتےہیں۔ موجودہ دور میں اسلام پر طرح طرح کے اعتراضات کئے جاتے ہیں ۔مثلا یہ کہ اسلام کثیر مذہبی معاشرے کا قائل نہیں۔ اسلام اپنے پیروکاروں کے دوسرے اہل مذاہب کےساتھ مل کر رہنے کو پسند نہیں کرتا۔انہیں الگ تھلگ رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ وہ علی الاعلان ، خود کو حق اور نیز دوسرے لوگوں کو باطل قرار دیتا ہے ۔ دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کو وہ حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے ۔ اور اسلامی ریاست میں انہیں ذلت و خواری کے ساتھ رہنے پر مجبور کرتا ہے وغیرہ ۔

اسلام پر اعتراض کرنے والوں کی جانب سے اس طرح کی باتیں ہرروز میڈیا، اخبارات اوراور ان کے محافل میں سامنے آتی رہتی ہیں جن کا حقیقت سےکوئی واسطہ نہیں۔ یہ محض اسلام دشمنی اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی مذموم کوششوں میں سے ایک کوشش ہے ۔بلا شک وشبہ اسلام دین حق ہے اور اس کی موجودگی میں کسی دوسرے دین کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی عنداللہ کوئی دین، اسلام کے علاوہ قابلِ قبول ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ[1]

ترجمہ: اور جو کوئی دین اسلام کے علاوہ کسی اور دین کا طلب گا ر ہو تو وہ ہرگز اس کی طرف سے قبو ل نہیں کیا جا ئے گا۔اور اسلام آیا ہی اس لئے تھا کہ اسے باقی مذاہب پر غلبہ حاصل ہوجائے۔

دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا[2]

ترجمہ :وہ اللہ جس نے اپنے رسول کو بھیجا ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ ظاہر کرے اسے باقی تمام ادیان پر۔

جب دو مختلف تہذیبوں کا اجتماع اور اختلاط ہوتا ہے تو اثر اندازی اور اثر پذیری کا ایک سلسلہ شروع ہوجاتاہے،جس میں غالب تہذیب کااثرنمایاں ہوتاہے۔ ہندوستانی مسلمانوں میں جو طرح طرح کے رسم ورواج اور بدعات وخرافات پائے جاتے ہیں وہ سب ہندوتہذیب و ثقافت سے اثر پذیری کا نتیجہ ہیں، حالاں کہ اسلام اس سلسلہ میں بڑاحساس ہے اور تہذیبی اختلاط اور غیروں کے طور طریقوں کی مشابہت کسی بھی درجے میں اسے گوارا نہیں ہے کہ درحقیقت یہ صرف ظاہری مشابہت نہیں، بلکہ باطنی مرعوبیت کی علامت ہوتی ہے۔

سابقہ تحقیقات کاجائزہ

اس موضوع سے متعلق مباحث کتب فقہ ، فتاویٰ اور ریسرچ پیپرزمیں موجود ہیں ۔جیسا کہ ابن قیم الجوزی کی کتاب احکام اھل الذمه[3] ،ڈاکٹریوسف القرضاوی کی کتاب الفتاوی ٰیوسف القرضاوی[4]اورسید جلال الدین عمری کی کتاب غیر مسلموں سے تعلقات اور ان کے حقوق[5] مولانا زاھِدالراشدی کی غیر مسلموں سے سلوک اور سیرت نبویﷺ [6]۔ اسی طرح وقت کی مناسبت اور علاقے کے رسم ورواج کے مطابق علماء کرام ،مفتی حضرات اور سکالرز نے الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے بھی اس بحث کو اجاگر کیا ہے جیسا ڈاکٹر فضل الرحمٰن المدنی کی " غیر مسلموں کی عیدوں میں شرکت کا حکم ، ایک مسلمان کیلئے مسلم اور غیر مسلم تہواروں میں شرکت کرنے کے احکام اور صورتیں۔" اسی طرح منہاج القرآن بین المذاہب ویلفیئر ویمن لیگ ۔ بیرون ملک لٹریچر کرسمس کی تقریب کا اہتمام اور ان میں شرکت ( ذوالقرنین)۔" کرسمس کی حقیقت اور شرکت کی شرعی حیثیت"( مفتی تنظیم عالم قاسمی حیدرآباد دکن ) اور اس کے علاوہ دارالافتاءوالقضا ء جامعہ بنوریہ کراچی کے آن لائن فتوے ،دی فتویٰ ڈاٹ کام کی " غیر مسلموں کی تقریبات میں شرکت کرنا کیسا ہے" سوال نمبر 1932، صفہ ڈاٹ کام صفہ اسلامک ریسرچ سنٹر " کفار کے تہواروں میں مسلمانوں کی شرکت " وغیرہ۔ مختلف مکاتیب فکر کے سکالرز حضرات نے وقت اور مناسبت کے ساتھ اپنی کوششیں برقرار رکھی ہیں ۔ مذکورہ ریسرچ پیپرکو اس سابقہ تحقیق کو مدنظر رکھ کر کثیر المذہبی معاشرہ کی آسانی کیلئے ایک جامع اور آسان انداز میں لکھا گیا ۔

ماقبل میں کیے گئے کام کے تذکرے سے معلوم ہوا کہ غیرمسلموں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ہر زمانے میں اہل علم نےکاوشیں کیں ہیں۔ ہر زما نے میں غیرمسلموں کے ساتھ تعلقات کی نوعیت الگ الگ ہوتی ہے۔ اور اس اعتبار سے اہل علم نے ان کے احکام کی نوعیت بھی بیان فرمائی۔ موجودہ دور میں دنیا ایک گلوبل ولیج کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ کاروبار، تعلیم اور دیگر بہت سے شعبوں میں مسلمانوں کا غیرمسلموں کے ساتھ تعلقات بڑھ چکے ہیں۔ جدید دور کے تقاضے بھی نئے ہیں۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ نئے سرے سے غیرمسلموں کے ساتھ تعلقات کے احکام کا جائزہ لیا جائے۔ یہ تحقیقی مضمون اس سلسلے کی ایک کاوش ہے۔

غیرمسلموں کے ساتھ تعلق کے چند اصول

غیر مسلم اقوام کے ساتھ تعلقات کے لئے پہلے چند بنیادی اصول کا جاننا ضروری ہے ۔ عرف عام میں دو اشخاص یا دو جماعتوں کے مابین تعلقات کے مختلف درجات ہوتے ہیں ۔

پہلا درجہ موالات(قلبی محبت)

ایک درجہ قلبی تعلق یعنی موالات یا مودت و محبت کا ہے۔ جس کے بارے ارشاد خداوندی ہے۔

لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ[7]

ترجمہ: مومنین اہلِ ایمان کو چھوڑ کر ان منکرینِ حق کو اپنا رفیق ومددگار ہرگز نہ بنائیں۔جو شخص ایسا کرے گا، اُس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں۔ ہاں یہ معاف ہے کہ تم اُن کے ظلم سے بچنے کے لیے بظاہر ایسا طرزِعمل اختیار کرجاؤ۔

محمد شفیع کے مطابق: "یہ صرف مومنین کے ساتھ مخصوص ہے۔ غیر مسلم کے ساتھ مسلمان کا یہ تعلق کسی حال میں بھی جائز نہیں"[8]

دوسرا درجہ ہمدردی(مواسات)

دوسرا درجہ مواسات کا ہے ۔ سورۃ ممتحنۃ میں اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

لايَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ[9]

ترجمہ: اﷲ تعالیٰ تم کو منع نہیں کرتاان سے جو لڑتے نہیں تم سے دین پر اور نکالا نہیں تمہیں تمہارے گھروں سے کہ ان کے ساتھ احسان اور انصاف کا سلوک کرو۔

مفتی محمدشفیعؒ لکھتے ہیں: "مواسات کا معنی ہے ہمدردی ، خیر خواہی اور نفع رسانی ۔ اہل حرب کے سوا باقی سب غیر مسلموں کے ساتھ یہ تعلق جائز ہے۔"[10]

تیسرا درجہ ظاہری خوش خلقی (مدارات)

تیسرا درجہ مدارت کا ہے جس کے معنی ظاہری خوش خلقی اور دوستانہ برتاؤ کے ہیں۔ مدارات تمام غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے جبکہ اس سے مقصود ان کو دینی نفع پہنچانا ہو(مثلا ان کو اسلام کی طرف دعوت دینا وغیرہ ) یا وہ اپنے مہمان بن کر آگئے ہوں،یا ان کے شر اور ضرررسانی سے اپنے آپ کو بچانا مقصود ہو۔ دلیل دوم میں سورہ آل عمران کی مذکورہ آیتإِلاَّ أَن تَتَّقُواْ مِنْهُمْ تُقَاةً[11]سے یہی درجہ مدارت مراد ہے۔ یعنی کافروں سے معاملات جائز نہیں مگر ایسی حالت میں کہ جب تم ان سے اپنا بچاؤ کرنا چاہو۔[12]

چوتھا درجہ باہم معاملات

ا س کے علاوہ تجارت یا اجرت و ملازمت اور صنعت و پیشے کے معاملات ۔ یہ تمام غیرمسلم اقوام کے ساتھ جائزہیں۔البتہ اگر ایسے تعلقات سے مسلمانوں کو کوئی نقصان ہوتا ہو تو پھر اسی میں احتیاط برتنا چاہئے۔ رسول کریمﷺ اور خلفائے راشدین اور دیگر صحابہ کرامؓ کا تعامل اس پر شاہد ہے۔ فقہاء نے اسی بناء پر کفار اہل حرب کے ہاتھ اسلحہ فروخت کرنے کو ممنوع قرار دیا ہےجبکہ تجارت کی اجازت دی ہے۔ اس تفصیل سے یہ تو معلوم ہوگیا کہ قلبی اور دلی دوستی و محبت تو کسی کافر کے ساتھ کسی حال میں بھی جائز نہیں البتہ احسان و ہمدردی اور نفع رسانی سوائے اہل حرب (جنگجو کفار) کے سب کے ساتھ جائز ہے۔ اسی طرح ظاہری خوش خلقی اور خیرخواہانہ برتاؤ بھی سب کے ساتھ جائز ہے۔ جبکہ اس کا مقصد مہمان کی خاطر داری یا غیر مسلموں کو دینی معلومات اور دینی نفع پہنچانا یا اپنے آپ کو ان کے کسی داؤ، نقصان اور ضرر سے بچانا ہو۔[13]اس تفصیل کا خلاصہ یہ ہوا کہ:مسلم قوم کے حوالے سے غیر مسلم ریاستوں اور شہریوں کے تین گروہ بنتے ہیں۔ایک وہ ممالک جو مسلمان ریاستوں سے دوستی کا رویہ رکھیں،ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ کریں، بلکہ تعاون اور ہمدردی کا رویہ اختیار کریں۔دوسرے وہ ممالک جو دوستی،تعاون اور ہمدردی کا رویہ اختیار نہ کریں، لیکن واضح دشمنی بھی نہ کریں، اورعلی الاعلان مسلمانوں یا مسلمان حکومتوں کو اپنا دشمن قرار نہ دیں۔تیسرے وہ ممالک جو مسلمان ممالک کو علی الاعلان اپنا دشمن قرار دیں،ا ورمسلمان ممالک پر قبضہ کرنے اور انہیں نقصان پہنچانے کے درپے ہوں۔ ہرزمانے کے ان تینوں گروہوں کے متعلق قرآن مجید نےالگ الگ اصول بیان فرمائے ہیں۔ پہلے گروہ کے متعلق یہ ہدایت ہے کہ ان سے نیکی اور انصاف کا برتاؤ کیا جائے اور ان کی دوستی کا جواب دوستی سے دیا جائے۔ اِرشادباری تعالیٰ ہے:

لَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَلَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَيْهِمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ 0 اِنَّمَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَاَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ وَظٰهَرُوْا عَلٰٓي اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ ۚ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ[14]

ترجمہ: اللہ تمھیں اس بات سے نہیں روکتا،(بلکہ تمھیں اس بات کا حکم دیتا ہے)کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتاؤ کرو جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی اور تمھیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا۔اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اللہ تو تمہیں صرف اس بات سے روکتا ہے کہ تم اُن لوگوں سے دوستی کرو جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ کی ہے، تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ہے، اور تمہارے نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے۔ ایسے (دشمنانِ دین) سے جو لوگ بھی دوستی کریں گے، وہی ظالم ہیں۔

مفتی محمدشفیع ؒرقمطراز ہیں: "اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوا کہ نفلی صدقات ذمی اور مصالح کافر کو بھی دیئے جا سکتے ہیں صرف کافر حربی کو دینا ممنوع ہے"[15]

ترجمہ: اے مسلمانو!کسی قوم کی دشمنی تمھیں اتنا مشتعل نہ کردے کہ تم عدل وانصاف سے کام نہ لو۔عدل کرو۔یہی تقویٰ کے قریب تر ہے اور اللہ سے ڈرو۔[16]

جہاں تک دوسرے گروہ کا تعلق ہے،اس کے متعلق قرآن کا حکم ہے کہ ان کے خلاف قتال نہ کیا جائے ۔ان کے خلاف کوئی اقدام نہ کیا جائے۔گویا ان سے کام کا تعلق رکھاجائے۔ اِرشادباری تعالی ٰہے:

إِلَّا الَّذِينَ يَصِلُونَ إِلَى قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ أَوْ جَاءُوكُمْ حَصِرَتْ صُدُورُهُمْ أَنْ يُقَاتِلُوكُمْ أَوْ يُقَاتِلُوا قَوْمَهُمْ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَيْكُمْ فَلَقَاتَلُوكُمْ فَإِنِ اعْتَزَلُوكُمْ فَلَمْ يُقَاتِلُوكُمْ وَأَلْقَوْا إِلَيْكُمُ السَّلَمَ فَمَا جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ عَلَيْهِمْ سَبِيلًا [17]

ترجمہ: وہ لوگ جو اس طرح تمھارے پاس آئیں کہ نہ تم سے لڑنے کی ہمت کر رہے ہوں، اور نہ اپنی قوم سے۔اور( ایسے ہیں کہ)اگر اللہ چاہتا تھا تو ان کو تم پر دلیر کردیتا اور وہ تم سے لڑتے۔اس لئے اگر وہ الگ رہیں،تم سے جنگ نہ کریں اور تمھاری طرف صلح کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ تمھیں ان کے خلاف کسی اقدام کی اجازت نہیں دیتا۔

درج بالا آیت سے یہ اصول معلوم ہوتاہے کہ بنیادی طور پر صرف وہی لوگ ہمارے دشمن ہیں جو ہم سے دشمنی کریں۔اس کے علاوہ باقی سب سے کام کا تعلق رکھا جاسکتا ہے۔ اس آایات مبارکہ سے دو قسم کی احکامات ثابت ہوئے۔

" ایک وہ کافر جو مسلمانوں سے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ خود کرلیں ،یا ایسا معاہدہ کرنے والوں سے معاہدہ کرلیں ،دوسرا وہ جو دفع الوقتی کی غرض سے صلح کرلیں اور جب مسلمانوں کے خلاف جنگ کی دعوت دی جائے تو اس میں شریک ہوجائیں ،اور اپنے عہد پر قائم نہ رہیں ، یہاں پر پہلا فریق پکڑدھکڑ سے مستثنیٰ ہے اور دوسرا فریق عام کفار کی سزا کا مستحق ہے اور ان آیات مبارکہ میں کل دو حکم مذکور ہیں یعنی عدم صلح کے وقت قتال ،اور مصلحت کے وقت قتال نہ کرنا" [18]

تیسرا گروہ ان اقوام کا ہے جو علی الاعلان کسی مسلمان ملک کے دشمن ہوں۔ایسی صورت میں قرآن مجید نے ہمیں کسی مخصوص لائحہ عمل کا پابند نہیں کیا۔قرآن مجید نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ جن لوگوں نے ہمیں دشمن سمجھا ہے، اُن سے یکطرفہ طور پر دوستی کا تعلق رکھناا اورمحبت کا معاملہ کرنا بالکل غلط ہے۔اور یہ بات بھی واضح ہے کہ ایسی ریاستوں سے متعلق بیداررہنا چاہئے۔لیکن ان سے عملی تعلق کے حوالے سے دین نے ہمیں حالات کے مطابق پالیسی بنانے کی اجازت دی ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضورﷺ نے اپنے زمانے میں دشمنوں کے مقابلے میں دفاعی لڑائی بھی لڑی ہے،آگے بڑھ کر خود بھی ان پر حملہ کیا ہے،ان سے جنگ بندی کا معاہدہ بھی کیا ہے۔ان سے معاہدہ امن بھی کیا ہے اور کل کے دشمنوں سے بعد میں’’حلیف ہونے‘‘کا قول بھی کیا ہے۔ واضح رہے کہ حلیف بنانے کے اس عمل میں غیر مسلم قبیلے بھی شامل تھے۔اور اگر کسی حلیف نے وعدہ خلافی یا غداری کا ارتکاب کیا ہے،تو اسے دوبارہ دشمن بھی قرار دے دیا ہے۔گویا ایسی حکومتوں سے تعلق ، وقت اور حالات پر منحصر ہے۔اگر کسی وقت حالات کا تقاضا یہ ہو کہ مسلمان ملک کے بچاؤ کی خاطر کسی دشمن ملک سے بھی بظاہر دوستی کا طرزِ عمل اختیار کیا جائے تو اس کی اجازت ہے۔ ارشاد ہے:

لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ[19]

ترجمہ: مومنین اہلِ ایمان کو چھوڑ کر ان منکرینِ حق کو اپنا رفیق ومددگار ہرگز نہ بنائیں۔جو شخص ایسا کرے گا، اُس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں۔ ہاں یہ معاف ہے کہ تم اُن کے ظلم سے بچنے کے لیے بظاہر ایسا طرزِعمل اختیار کرجاؤ، اور تمہیں اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

ظاہر ہے کہ ایسا کام انتہائی حکمت کا متقاضی ہے تاکہ ایک طرف دشمن کے ظلم سے بچا جائے اور دوسری طرف اپنے ملک کو بھی بچایا جائے۔ 

غیر مسلموں کی اقسام اوران سے تعلقات

غیر مسلم افراد چار گروپوں میں تقسیم کئے جا سکتے ہیں۔ایک وہ لوگ جو مسلمانوں سے ہمدردی اور انصاف کا رویہ اختیار کریں اور انسانی بھائی چارے کے اصول کی بنیاد پر مسلمانوں سے تعلق رکھیں۔ایسے لوگ دنیا میں ہر جگہ پر پائے جاتے ہیں۔ان کے متعلق قرآن مجید کی ہدایت سورۃ ممتحنہ آیت 9-8میں اور سورۃ مائدہ۔آیت8میں آئی ہے جس کے مطابق ایسے لوگوں سے دوستی،انصاف اور ہمدردی کا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیئے۔دوسرا گروپ ان غیر مسلموں کا ہےجو لاتعلق ہیں یعنی جو مسلمانوں سے کوئی اچھا یا برا تعلق نہیں رکھتے۔تیسرا گروپ ایسے ناسمجھ غیر مسلموں کا ہے جو مسلمانوں سے برسرجنگ تو نہیں ہیں، مگر اسلام کے متعلق بحث کرتے ہوئے بے سروپا اعتراضات کرتے ہیں اور انہیں اعتراضات کی بناء پر متعصبانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق ہدایت ہے کہ انہیں بہترین طریقے سے دین کی دعوت دی جائے۔ان کے اعتراضات کا جواب معقول طریقے سے دیا جائے۔اگروہ بالکل جہالت پر اتر آئیں تو انہیں سلام کرکے ان سے اس وقت بحث چھوڑ دی جائے اور ان کی بے ہودگی اور زیادتی پر ان سے درگزر اور اعراض کی حکمت عملی اختیار کی جائے۔ قرآن مجید میں اسی طرح کئی آیات آئی ہیں ۔چند ارشادات درج ذیل ہیں:

ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَصِفُونَ[20]

ترجمہ:اے نبی،برائی کا جواب اچھائی سے دو۔ہم خوب جانتے ہیں ان غلط الزامات کو جو تمھارے مخالفین تم پر لگا رہے ہیں۔

آگے ارشاد ہے:

وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ 0 وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ 0 وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ[21]

ترجمہ:نیکی اور برائی یکساں نہیں ہوسکتی۔برائی کو ہمیشہ بہترین اچھائی سے دفع کرو۔پھر تم دیکھو گے کہ وہی شخص جو تمھارا دشمن تھا،تمھارا جگری دوست بن جائے گا۔ یہ دانائی صرف ان لوگوں کو عطا ہوتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور یہ مقام صرف بڑے نصیب والوں کو ملتا ہے۔ اگر شیطان تمہارے دل میں کوئی اکساہٹ پیدا کرہی دے تو اللہ کی پناہ ڈھونڈو۔ بے شک، حقیقی سننے والا، جاننے والا وہی ہے۔

غیر مسلموں سے سماجی تعلقات

اسلام مذاہب کے اختلاف کو گوارا کرتا ہے اور ایک ایسے سماج کو تسلیم کرتا ہے جس میں مختلف اہل مذاہب رہتے ہوں۔ کلام اللہ میں ارشاد ہے :

وَلَو شَآءَ رَبُّكَ لَجَـعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً‌ وَّلَا يَزَالُونَ مُختَلِفِينَۙ[22]

ترجمہ: بے شک تمہارا رب اگر چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک گروہ بنا سکتا تھا ۔ مگر وہ مختلف طریقوں ہی پر چلتے رہیں گے ۔

اس آیت میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین حق دین صرف اسلام ہے۔ لیکن اس کی مشیت یہ نہیں ہے کہ تمام انسان دین حق کے حامل بن جائیں ۔ اس نے انہیں انتخاب و اختیار کی آزادی دی ہے کہ وہ اپنے لئے جس راہ کو چاہیں پسند کریں اور جس مذہب پر چاہیں عمل کریں ۔ معاشرے میں جو انسان رہتے بستے ہوں ان کے درمیان آپس کے تعلقات کا ہونا ناگزیر ہے ۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ یہ تعلقات عدل، انصاف اور حسن سلوک کی بنیاد پر قائم ہونے چاہئیں۔

معاشی وسماجی زندگی میں تقریبات کی اہمیت

انسان اپنی فطرت کے مطابق دوسرے لوگوں سے تعلقات بنا تا ہے وہ دوسروں کو اپنے خوشیوں میں شریک کرنا چاہتا ہے۔جب وہ کسی مصیبت کا شکار ہو تو انہیں دلاسا دے اور جب خود اس پر کوئی مصیبت پڑے تو دوسروں سے تسلی اور ہمدردی حاصل کرے ۔ خوشی و مسرت اور غم و اندوہ کے مواقع پر مختلف رشتوں سے جڑے لوگ جب کہیں جمع ہوتے ہیں تو ان کو تقریب کا نام دیا جاتا ہے ۔ یہ یہ تقریبات سماجی بھی ہوتی ہیں اور مذہبی بھی ۔ مذہبی تقریبات میں کچھ مخصوص رسوم بھی انجام دی جاتی ہیں جو کسی عقیدہ پر مبنی ہوتی ہیں ۔ کثیر مذہبی معاشرہ میں رہنے والے مختلف طبقات کے افراد جب اپنی تقریبات منعقد کرتے ہیں تو سماجی تعلقات کی بنا پر دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو بھی مدعو کرتے ہیں ۔ مسلمان اپنی تقریبات میں اپنے غیر مسلم پڑوسیوں ، ملاقاتیوں، کاروباری شرکاء اور بسا اوقات مذہبی نمائندہ شخصیات کو دعوت دیتے ہیں تو غیر مسلم بھی اپنی تقریبات میں مسلمانوں کو شریک کرتے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ غیر مسلموں کی تقریبات میں مسلمانوں کی شرکت کی حدود و قیود کیا ہیں جن کی رعایت کرنی چاہئے؟ موجودہ دور میں یہ سوال اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے مقصد سے مسلمانوں کی جانب سے غیر مسلموں کو اپنی تقریبات میں مدعو کرنے اور غیر مسلموں کی جانب سے اپنی تقریبات میں بلانے کا رجحان بڑھا ہے اور اسے وقت کی ضرورت قرار دیا جا رہا ہے ۔

مسلمانوں کا بنیادی عقیدہ۔ توحید

مذکورہ بالا سوال پر بحث کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ اسلام کے عقیدہ توحید پر اور اس کی اہمیت پر کچھ روشنی ڈالی جائے ۔ توحید اسلام کے بنیادی عقائد میں پہلےنمبرپر ہے۔ نزول قرآن کے زمانے میں لوگ شرکیات اور بتوں کی عبادت میں عیسائیوں نے غلو کر کے حضرت عیسیٰ کو خدا بنا لیا تھا اوراس کے بعض فرقے اقالیم ثلاثہ کا عقیدہ رکھتے تھے ۔ قریش نے ہزاروں دیوی دیوتا بنا رکھے تھے جن کی وہ عبادت کرتے تھے ۔ قرآن نے ان تمام فرقوں کی گمراہی واضح کی اور شرک کو ناقابل ِ معافی جرم قرار دیا ۔

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغفِرُ اَن يُّشرَكَ بِه وَيَغفِرُ مَا دُونَ ذٰ لِكَ لِمَن يَّشَآءُ‌ ۚ وَمَن يُّشرِك بِاللّٰهِ فَقَدِ افتَـرٰۤى اِثمًا عَظِيمًا[23]

ترجمہ: اللہ بس شرک کو ہی معاف نہیں کرتا اس کے ماسوا دوسرے جس قدر گناہ وہ جس کے لئے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے اللہ کے ساتھ جس نے کسی اور کو شریک ٹھہرایا اس نے تو بہت ہی بڑا جھوٹ باندھا اور بڑے گناہ کی بات کی ۔

اس لئے غیر مسلموں کی تقریبات میں شرکت کرتے وقت ان تمام اعمال سے لازماً پرہیز کیا جائے گا جو صراحۃ شرکیہ ہوں ۔

غیر مسلموں کی مشابہت سے ممانعت

اس باب میں یہ اصول بھی ملحوظ رکھنا چاہئے کہ اسلامی شریعت میں مسلمانوں کا اپنا تشخص برقرار رکھنے پراصرار کیا گیا ہے ۔ اور اسلام نے ان کو دیگر اقوام کی مشابہت سے منع کیا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ حضور ﷺ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ:

" قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ"[24]

"جس شخص نے کسی دوسری قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے ۔"

مشابہت کا معنی یہ ہے کا کفار سے مرعوب ہوکر ان کے طور طریقے اختیار کیے جائیں۔ اور ان کے سارے رسم ورواج اپنائیں جائیں۔ کافروں کے زیراثر رہنا اسلام کو گوارا نہیں ہے۔ مسلمانوں کو یہ تعلیم ہے کہ وہ اسلام کے مطابق اپنا تشخص بنائیں۔ عہد نبوی میں یہود و نصاریٰ کا شمار مذہبی اقوام میں ہوتا تھا عبادات اور معاشرت میں وہ بہت سے ایسے کام انجام دیتے تھے جوان کی پہچان بن گئے تھے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ان اعمال میں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا۔

غیرمسلم پرسلام کا حکم

اگر سامنے والا غیر مسلم ہے تب سلام کرنا چاہئے یا نہیں؟

اگر سامنے والے شخص کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ وہ مسلمان ہے یا غیر مسلم تو اس کو سلام کرنے کا کیا حکم ہے۔ اس سلسلے میں حدیث شریف میں آتا ہے:

"لَا تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَلَا النَّصَارَى بِالسَّلَامِ"[25]

ترجمہ:"یہود و نصارٰی پر سلام کہنے میں پہل نہ کرو"

اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث پاک میں آتا ہے :

قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمُ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقُلْ عَلَيْكَ"[26]

ترجمہ:"رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب یہود تمہیں سلام کرتے ہیں تو کہتے ہیں "السام علیکم" تو تم اس کے جواب میں کہو: علیکَ"

غیر مسلم کو سلام کرنے سے متعلق احادیث میں مختلف احکام ملتے ہیں بعض احادیث میں انہیں سلام کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ جبکہ بعض صحابہ و تابعین سے ثابت ہے کہ وہ غیر مسلموں کو سلام کرتے تھے ۔بعض احادیث سے ملتا ہے کہ اگر مجلس میں غیر مسلموں کے ساتھ کچھ مسلمان بھی ہوں تو انہیں سلام کیا جا سکتا ہے ۔

" أن النبي صلى الله عليه و سلم مر بمجلس فيه أخلاط من المسلمين واليهود والمشركين فسلم عليهم۔"[27]

ترجمہ: حضورﷺ ایک مجلس جس میں مسلمان ،یہود اور مشرک سب موجود تھے تو نبی کریمﷺ نے ان پر سلام کیا ۔ایک بحث یہ بھی ملتی ہے کہ سلام کرنے یا سلام کا جواب دینے کے لئے کیا الفاظ استعمال کئے جائیں ؟ کیا ان کو اس طریقے سے سلام کیا جاسکتا ہے جس طرح مسلمانوں کو کیا جاتا ہے ؟ یا ان کے لئے دیگر مناسب الفاظ کا استعمال کیا جائے اس کےبارے میں پیر مولانا سید جلال الدین عمری لکھتے ہیں کہ :

ہمیں ایک معاشرے کے بارے میں سوچنا چاہئے جو مسلموں اور غیر مسلموں کا ملا جلا مخلوط معاشرہ ہو جہاں دونوں کے درمیان ثقافتی ، سماجی ، معاشی غرض مختلف نوعیت کے تعلقات موجود ہیں اور دونوں قانونی اور دستوری روابط میں بند ھے ہوئے ہیں اس طرح کے معاشرے میں غیر مسلموں کو مسنون طریقے سے سلام کیا جائے تو یہ عمل سلف کے طرز کے مخالف نہ ہوگا نہ ہوگا ۔ ہو سکتا ہے ، اس طرح وہ آہستہ آہستہ اسلامی آداب سے مانوس ہو جائیں اور ان کی معنویت ان پر زیادہ بہتر طریقے سے واضح ہو جائے ۔ اس میں قباحت محسوس ہو تو ان کے لئے عزت و احترام، محبت و خیر خواہی کے دوسرے الفاظ استعمال کئے جا سکتے ہیں ۔ [28]

وہ مزید ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ایسے الفاظ استعمال نہ کئے جائیں جو اسلام عقائد سے متصادم ہوں[29]

مسلمان کا غیر مسلم کو تحائف دینا

تقریبات اگر خوشی کی ہوں تو ان میں تحائف بھی ایک دوسرے کو دیئے جاتے ہیں ۔ احادیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ غیر مسلموں کو تحائف دیے جا سکتے ہیں اور انکے تحائف قبول بھی کیے جا سکتے ہیں ۔ کسری (شاہ ایران) قیصر (شاہ روم ) اور دیگر بادشاہوں نے رسول اللہ ؐ کی خدمت میں تحائف بھیجے جنہیں آپ ؐ نے قبول فرمایا۔ بسا اوقات جواب میں آپﷺنے بھی تحفے بھیجے۔ قبیلہ حمیر کے بادشاہ ۔ ذویزن[30]نے آپ ؐ کی خدمت میں ایک قیمتی جوڑا بھیجا آپؐ نے اسے قبول فرمایا اور اسی طرح کا ایک قیمتی جوڑا اسے بھی تحفے میں بھیجا [31]۔

کھانے پینے کے تعلیمات

کھانے پینےکوتقریبات کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے کسی تقریب میں کھانے پینے کا اہتمام نہ ہو تو وہ ادھوری سمجھی جاتی ہے، مختصر تقریبات میں چائے بسکٹ، پھل ، میوہ جات وغیرہ پراکتفا کیا جاتا ہے ۔ جبکہ بڑی تقریبات میں انواع و اقسام کے کھانوں کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ کھانے پینے کے سلسلے میں اسلام نے جو بنیادی تعلیمات دی ہیں ۔اس امر کا لحاظ رکھنا چاہئے۔

۱۔ غیر مسلموں کی تقریبات میں شراب اور دیگر نشہ آور مشروبات کا استعمال عام ہے ۔ اسلام میں صراحت کے ساتھ اس کو حرام قرار دیا ہے اور اس کی ممانعت فرمائی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ[32]

ترجمہ: اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! یہ شراب ،جو اور یہ آستانے اور پانسے یہ سب گندے شیطانی کام ہیں ان سے پرہیز کرو امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہو گی ۔

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا :

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ"[33]

ترجمہ: "ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے "

۲۔ اسلام نے جن جانوروں کا گوشت کھانا حرام کردیا ہے ان میں خنزیر کا گوشت بھی ہے۔ قرآن مجید میں متعدد آیات میں اس کی صراحت آئی ہے ۔

اِنَّمَاحَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَوَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيْروَمَآاُهِلَّ بِه لِغَيْرِاللّٰهِۚ فَمَنِ اضْطُرَّغَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَآ اِثْمَ عَلَيْهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ[34]

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے تو تم پر بس مردہ جانور حرام کیا ہے اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جو خدا کے سوا کسی دوسرے نام نامزد کردیا گیا ہو یعنی تقرب کی نیت سے اس پر بھی اگر کوئی شخص بےبس ہوجائے بشرطیکہ نہ تو وہ طالب لذت ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا تو اس شخص پر کچھ گناہ نہیں ہے بیشک اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربانی کرنیوالا ہے۔

۳۔مردارچاہے وہ طبعی موت مرا ہو یا گلا گھٹنے یا چوٹ کھانےسےیا کسی بلند مقام سے گرنے یا دوسرےجانوروں کے سینگ مارنے سے اس کی موت واقع ہوئی ہو یہ بہرحال اس کا گوشت کھانا حرام ہے ۔

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ ۚ ذَ‌ٰلِكُمْ فِسْقٌ ۗ الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ.[35]

ترجمہ: تم پر مرا ہوا جانور اور خون اور خنزیر کا گوشت حرام کردیا گیا ہے وہ وہ جانور بھی (جو تقرب کی نیت سے) اللہ کے سوا کسی دوسرے کے نامز د کیا گیا ہو اور وہ بھی جو گلا گھٹنے سے مرجائے اور جو کسی چوٹ سے مرجائے اور جو بلندی سے گر کر مرا ہو اور جو کسی جانور کے سینگ مارنے سے مرا ہو اور جو کسی درندے کے کھانے سے مرجائے مگر یہ کہ تم ان کے مرنے سے پہلے ان کو ذبح کرلو اور وہ جانور بھی جو بتوں کے کسی تھان پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ بھی حرام ہے کہ تم فال کے تیروں سے اپنی قسمت معلوم کرو یہ فال کے تیروں سے فیصلہ کرانا گناہ ہے۔

۴۔جس جانور کو غیر اللہ کے نام پر یا بتوں کے مقامات پر ذبح کیا گیا ہےاس کا گوشت کھانا بھی حرام ہے قرآن مجید میں محرمات کی جو فہرست دی گئی ہے ان میں یہ بھی شامل ہے ۔

وَماآ اُهِلَّ بِه لِغَيرِ اللّٰهِ[36]

ترجمہ: اور وہ جانور جو غیراللہ کے نام پر ذبح کیے گئے ہوں ۔

۵۔اسی طرح ان جانوروں کا گوشت بھی حرام قرار دیاگیا جسے ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو ۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

ولَا تَاكُلُوا مِمَّا لَم يُذكَرِ اسمُ اللّٰهِ عَلَيهِ وَاِنَّه لَفِسقٌ[37]

ترجمہ: اور جس جانور کو اللہ کا نام لیکر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھاؤ ایسا کرنا فسق ہے ۔

۶۔اس تفصیل سے واضح ہوا کہ اسلام میں غیر مسلموں (مشرکین) کے ذبیحے کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔ البتہ اس معاملہ میں اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کو مستثنیٰ رکھا گیا ہے ان کا ذبیحہ حلال ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ :

اَلۡيَوۡمَ اُحِلَّ لَـكُمُ الطَّيِّبٰتُ‌ وَطَعَامُ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوۡا الۡكِتٰبَ حِلٌّ لَّـکُمۡ وَطَعَامُكُمۡ حِلٌّ لَّهُمۡ[38]

ترجمہ: آج تمہارے لئے ساری پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں اہلِ کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے۔

اس بحث سے یہ بات واضح ہوگئی کہ مشرکین کے ہاں کھانا کھانے میں احتیاط کیا جائے۔ ان کے ہاں حرام مشروبات اور مذکورہ بالا ماکولات کھانے سے اجتناب کیا جائے۔ جیسا کہ شراب، خنزیر کا گوشت یا غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا ۔ اسی طرح ایک ذبیحہ جو مسلمان نے کیا ہو لیکن اس نے عمداً اس پر اللہ کا نام نہ لیا ہو تو اس کو بھی نہ کھایا جائے۔ رہی اہل کتاب کی بات تو ان کے کھانے اور ذبح کو استعمال کرنے کی اجازت مذکورہ بالا آیت میں دی گئی ہے۔

غیرمسلموں کے جنازے اور تعزیتی رسومات میں شرکت

کسی غیر مسلم عزیز، پڑوسی ، کاروباری شریک یا ملاقاتی کا انتقال ہو جائے تو اس کی تعزیت کرنی چائیے ۔یہ سماج کا مسئلہ ہے اور شریعت نے اس کی اجازت فرمائی ہے ۔ البتہ تعزیت کرتے ہوئے کوئی ایسی بات منہ سے نہیں نکالنی چاہئے جس سے کسی اسلامی عقیدے پر زد پڑتی ہو۔ حسن بصریؒ کے مجلس میں ایک نصرانی آیا کرتا تھا۔ جب اس کا انتقال ہو گیا تو انہوں نے اس کے بھائی سے ملکر تعزیت کی ۔ فرمایا:" تم پر جو مصیبت آئی ہے اس پر صبرکرو اللہ تمہیں اس کا اچھا بدلہ عطا کرے گا "[39]غیر مسلم کے جنازے میں شرکت کی جا سکتی اس کا مقصد وفات پانے والے شخص سے تعلق کا اظہار اور اسکے عزیزوں اور متعلقین کو تسلی دینا ہوتاہےتجہیز و تکفین میں بظاہر مذہبی امور اور ہدایات کی پابندی کی جاتی ہے غیر مسلم اپنے طریقے پر اس کو سرانجام دیں گے ۔ لیکن ایک مسلمان کو بہرحال اس کی اجاز ت ہے کہ وہ انسانی تعلق اور ہمدردی کے اظہار کے لئےاس موقع پر موجود رہے ۔ اور اس کے جنازے میں شریک ہو متعدد صحابہ کرامؓ اور تابعین سے اس کا عملی ثبوت ملتا ہے ۔ [40]

البتہ اس موقع پر احتیاط لازم ہے کہ مسلمان کسی ایسے عمل میں شریک نہ ہو جو اسلامی نقطہ نظر سے جائز نہ ہو مثلاً چتا میں آگ لگانا ۔ کہ اسلامی شریعت میں انسانی نعش کو آگ میں جلانے کی اجازت نہیں ۔ یا دعائے مغفرت اور ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی کرنا ، کہ غیر مسلم میت کے لئے ایسا کرنے سے صرا حتہً منع کر دیا گیا ہے ۔

 مَا كَانَ لِلنَّبِىِّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡاۤ اَنۡ يَّسۡتَغۡفِرُوۡا لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ وَ لَوۡ كَانُوۡۤا اُولِىۡ قُرۡبٰى مِنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمۡ اَنَّهُمۡ اَصۡحٰبُ الۡجَحِيۡم[41]

ترجمہ: نبیؐ کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں زیبا نہیں کہ مشرکوں کے لئے مغفرت کی دعا کریں چاہے وہ اُنکے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں جبکہ ان پر یہ بات کھل چکی کہ وہ جہنم کے مستحق ہیں ۔

غیر مسلموں کے تہواروں پر انہیں مبارک باد دینا

سب علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کرسمس یا کفار کے دیگر مذہبی تہواروں پر مبارکباد دینا حرام ہے، جیسے کہ ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب " أحكام أهل الذمة" میں نقل کیا ہے، آپ کہتے ہیں۔

"وأما التهنئة بشعائر الكفر المختصة به فحرام بالاتفاق مثل أن يهنئهم بأعيادهم وصومهم فيقول عيد مبارك عليك أو تهنأ بهذا العيد ونحوه فهذا إن سلم قائله من الكفر فهو من المحرمات وهو بمنزلة أن يهنئه بسجوده للصليب بل ذلك أعظم إثما عند الله وأشد مقتا من التهنئة بشرب الخمر وقتل النفس وارتكاب الفرج الحرام ونحوه وكثير ممن لا قدر للدين عنده يقع في ذلك ولا يدري قبح ما فعل فمن هنأ عبدا بمعصية أو بدعة أو كفر فقد تعرض لمقت الله وسخطه"[42]

ترجمہ: "کفریہ شعائر پر تہنیت دینا حرام ہے، اور اس پر سب کا اتفاق ہے، مثال کے طور پر انکے تہواروں اور روزوں کے بارے میں مبارکباد دیتے ہوئے کہنا: "آپکو عید مبارک ہو" یا کہنا "اس عید پر آپ خوش رہیں" اس طرح کی مبارکباددینے سے کہنے والا کفر سے تو بچ جاتا ہے لیکن یہ کام حرام ضرور ہے، بالکل اسی طرح حرام ہے جیسے صلیب کو سجدہ کرنے پر اُسے مبارکباد دی جائے، بلکہ یہ اللہ کے ہاں شراب نوشی ، قتل اور زنا وغیرہ سے بھی بڑا گناہ ہے، بہت سے ایسے لوگ جن کے ہاں دین کی کوئی وقعت ہی نہیں ہے ان کے ہاں اس قسم کے واقعات رونما ہوتے ہیں، اور انہیں احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ کتنا برا کام کر رہا ہے، چنانچہ جس شخص نے بھی کسی کو گناہ، بدعت، یا کفریہ کام پر مبارکباد دی وہ یقینا اللہ کی ناراضگی مول لے رہا ہے۔ ابن قیم رحمہ اللہ کی گفتگو مکمل ہوئی۔چنانچہ کفار کو انکے مذہبی تہواروں میں مبارکبا د دینا حرام ہے، اور حرمت کی شدت ابن قیم رحمہ اللہ نے ذکر کردی ہے-حرام اس لئے ہے کہ اس میں انکےکفریہ اعمال کا اقرار شامل ہے، اور کفار کیلئے اس عمل پر اظہار رضا مندی بھی اگرچہ مبارکباد دینے والا اس کفریہ کام کو اپنے لئے جائز نہیں سمجھتا ، لیکن پھر بھی ایک مسلمان کیلئے حرام ہے کہ وہ کفریہ شعائر پر اظہار رضا مندی کرے یا کسی کو ان کاموں پر مبارکباد دے، کیونکہ اللہ تعالی نے اپنے بندوں کیلئے اس عمل کو قطعی طور پر پسند نہیں کیا۔

لہذا کفار کو مبارکباد دینا حرام ہے، چاہے کوئی آپکا ملازمت کا ساتھی ہو یا کوئی اور ۔ اور اگر وہ ہمیں اپنے تہواروں پر مبارکباد دیں تو ہم اسکا جواب نہیں دیں گے، کیونکہ یہ ہمارے تہوار نہیں ہیں، اور اس لئے بھی کہ ان تہواروں کو اللہ تعالی پسند نہیں کرتا، کیونکہ یا تو یہ تہوار ان کے مذہب میں خود ساختہ ہیں یا پھر انکے دین میں تو شامل ہیں لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ساری مخلوق کیلئے نازل ہونے والے اسلام نے انکی حیثیت کو منسوخ کردیا ہے۔

چنانچہ ایک مسلمان کیلئے اس قسم کی تقاریب پر انکی دعوت قبول کرنا حرام ہے، کیونکہ انکی تقریب میں شامل ہونا اُنہیں مبارکباد دینے سے بھی بڑا گناہ ہے۔اسی طرح مسلمانوں کیلئے یہ بھی حرام ہے کہ وہ ان تہواروں پر کفار سے مشابہت کرتے ہوئے تقاریب کا اہتمام کریں، یا تحائف کا تبادلہ کریں، یا مٹھائیاں تقسیم کریں، یا کھانے کی ڈشیں بنائیں، یا عام تعطیل کا اہتمام کریں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُم"[43] یعنی "جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ اُنہی میں سے ہے۔" شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنی کتاباقتضاء الصراط المستقيم، مخالفة أصحاب الجحيممیں کہتے ہیں: "کفار کے چند ایک تہواروں میں ہی مشابہت اختیار کرنے کی وجہ سے اُنکے باطل پر ہوتے ہوئے بھی دلوں میں مسرت کی لہر دوڑ جاتی ہے،اور بسا اوقات ہوسکتا ہے کہ اسکی وجہ سے انکے دل میں فرصت سے فائدہ اٹھانے اور کمزور ایمان لوگوں کو پھسلانے کا موقع مل جائے۔"[44]

مذکورہ بالا کاموں میں سے جس نے بھی کوئی کام کیاوہ گناہ گار ہے، چاہے اس نے دلی محبت کی وجہ سے یا حیاء کرتے ہوئے یا کسی بھی سبب سے کیا ہو، اسکے گناہ گار ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے دینِ الٰہی کے بارے میں بلاوجہ نرمی سے کام لیا ہے، جو کہ کفار کیلئے نفسیاتی قوت اور دینی فخر کا باعث بنا ہے۔تا ہم بعض علماء نے ضرورت کے پیش نظر اس کی اجازت بھی دی ہے ۔

غیرمسلموں کے قومی یا سماجی تقریبات میں شرکت

بسا اوقات ملک میں ایسی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے جو قومی نوعیت کی ہوتی ہیں۔ اور ان میں عموماً شرکیہ افعال سر انجام نہیں دئیے جاتے۔ مثال کے طور پر یوم ِ آزادی ۔ یومِ جمہوریہ اور بعض دیگر تقریبات میں ملکی جھنڈا لہرایا جاتا ہے اور اسے سلامی دی جاتی ہے ۔ قومی ترانہ پڑھا جاتا ہے اور تمام حاضرین کے لئے کھڑا ہونا لازمی سمجھا جاتا ہے۔ کیا ایسی تقریبات میں مسلمان شریک ہو سکتے ہیں ؟ بعض فقہا مثلاً مفتی کفایت اللہ اور مولانا عبدالرحیم لا جپوری وغیرہ نے جواز کا فتویٰ دیا ہے ۔[45]کل ہند تعمیر ملت سیمینار منعقدہ سن 2000ء میں اس سلسلے میں یہ تجویز منظور ہوئی تھی ۔

غیرمسلموں کے مذہبی تقریبات میں شرکت

غیر مسلموں کی بعض تقریبات خالص مذہبی نوعیت کی ہوتی ہیں ۔ ان میں شرکیہ افعال انجام دئیے جاتے ہیں ایسی تقریبات میں شرکت عام حالات میں مسلمانوں کے لئے ناجائز ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَۙ وَ اِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ مَرُّوۡا كِرَامًا[46]

ترجمہ: اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے اور کسی لغو پر ان کا گزر ہوتا ہے تو شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں۔

"وقال أبو العالية، وطاوس، ومحمد بن سيرين، والضحاك، والربيع بن أنس، وغيرهم: هي أعياد المشركين"

ترجمہ:اس آیت میں (زُور) سے مراد بعض صحابہ تابعین نے (مثلاً عبداللہ بن عباس ؓ ، مجاہد طاؤس ، ابن سیرین، ربیع بن انس اور ضحاک ؓ ووغیرہ نے مشرکوں کے تہوار لئے ہیں۔ [47]

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ، قَالَ: نَذَرَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَةَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ كَانَ فِيهَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاهِلِيَّةِ يُعْبَدُ؟» قَالُوا: لَا، قَالَ: هَلْ كَانَ فِيهَا عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِهِمْ؟»، قَالُوا: لَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَوْفِ بِنَذْرِكَ، فَإِنَّهُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ"[48]

ترجمہ: "عہدنبوی میں ایک شخص نے نذر مانی کہ بوانہ نامی مقام پر ایک اونٹ ذبح کرے گا ۔ اس نے اللہ کے رسولﷺ کے سامنے اپنی نذر کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺنے دریافت کیا کہ : کیا وہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت ہے ، جس کی پرستش کی جاتی ہو ؟ لوگوں نے کہا نہیں ۔ آپ ﷺنے دریافت کیا : کیا وہاں جاہلیت کے تہواروں میں سے کوئی تہوار منایا جاتا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا نہیں تب آپ ﷺنے فرمایا : "اپنی نذر پوری کرو "

معلوم ہوا کہ جب ان مقامات پر جہاں بتوں کی پرستش کی جاتی ہو اور شرکیہ افعال سر انجام دئیے جاتے ہوں نذر کا جانور ذبح کرنا ممنوع ہے تو وہاں منعقد ہونے والے تہواروں میں شرکت بھی جائز نہ ہو گی۔

علامہ ابن تیمیہ نے درج بالا احادیث کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے ۔

فوجه الدلالة: أن هذا الناذر كان قد نذر أن يذبح نعما: إما إبلا، وإما غنما، وإما كانت قضيتين، بمكان سماه، فسأله النبي- صلى الله عليه وسلم -: هل كان بها وثن من أوثان الجاهلية يعبد؟ قال: لا، قال: فهل كان بها عيد من أعيادهم؟ قال: لا، فقال: أوف بنذرك، ثم قال: لا وفاء لنذر في معصية الله.وهذا يدل على أن الذبح بمكان عيدهم ومحل أوثانهم ـ معصية لله، وإذا كان الذبح بمكان عيدهم منهياً عنه، فكيف بالموافقة في نفس العيد بفعل بعض الأعمال التي تعمل بسبب عيدهم؟[49]

"اس دلیل کے لانے کی وجہ یہ ہے کہ اس شخص نے یہ نذر مانی تھی کہ وہ کوئی اونٹ یا بھیڑ جیسا کوئی جانور ذبح کرے گا تو رسول اللہﷺ نے اس سے پوچھا کہ کیا وہاں کسی بت کے لیے قربانی کی جاتی تھی؟ تو اس نے کہا نہیں۔ پھر آپﷺ نے فرمایا کہ کیا وہاں ان کا کوئی میلہ لگتا تھا؟ تو کہا کہ نہیں۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا کہ اپنے نذر کو پورا کرو۔ پھر آپﷺ نے فرمایا کہ جس نذر میں اللہ کی معصیت کا ارادہ کیا گیا ہو اس کو پورا کرنا جائز نہیں۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دور جاہلیت کے لوگوں کے میلوں اور ان کے بتوں والی جگہوں میں ذبح کرنا گناہ ہے۔ تو جب وہاں ذبح کرنے سے منع کیا گیا ہے تو کیسے جائز ہوگا کہ ان کے ان میلوں میں شرکت کی جائے اور وہ اعمال سرانجام دیے جائیں جو وہ ان میلوں میں کرتے ہیں۔"

جب جاہلی میلوں اور عبادت گاہوں پر کسی عقیدت مندانہ حاضری سے منع کیا گیا ہے ۔ تو خود جاہلی تہواروں میں شرکت بدرجہ اولیٰ ممنوع ہو گی ۔

اسی وجہ سے متعدد فقہا نے غیر مسلموں کی مذہبی تقریبات میں شرکت کو ممنوع اور حرام قرار دیا ہے ۔[50]البتہ اگر کسی شخص کو دینی مصلحت ملی تقاضے ، دعوتی جذبے ، تالیف قلب یا اسلام سے قریب کرنے کے مقصد سے غیر مسلموں کی مذہبی تقریبات میں شریک ہونا پڑے تو اس میں گنجائش ہو سکتی ہے بشرطیکہ وہ خود کسی مذہبی عمل میں شریک نہ ہو ۔ اوراس موقع پر جو مذہبی رسومات انجام دی جاتی ہیں ان سے دور رہے ۔ کتب سیرت سے معلوم ہوتا ہےکہ اللہ کے رسول ﷺ عکاظ ، ذوالمجنہ اور ذوالمجاز کے میلوں میں شرکت فرماتے تھے اور وہاں لوگوں سے ملکر ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کرتے تھے ۔ اسی طرح مختلف تہواروں کے موقع پر اگر خیر سگالی کے طور پر کوئی پارٹی ہوتی ہو جیسے ہولی ملن وغیرہ اور اس میں مذہبی رسوم انجام نہ دی جاتی ہوں تو وسیع تر دعوتی مفاد ، جذبہ خیر سگالی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کےپیشِ نظر اس میں شرکت کی جا سکتی ہے ۔ مذہبی رسوم کی ایک مثال پیشانی پر ٹکہ لگانا ہے کہ اسکا تعلق ہندوؤں کے مذہبی شعائر سے ہے اس لئے یہ جائز نہیں ۔[51]اسلامک فقہہ اکیڈمی نئی دہلی سیمینار بعض تقریبات میں وندے ماترم گیت گایا جاتا ہے یہ گیت کھلے طور پر شرکیہ باتوں پر مشتمل ہے ۔ اس لئے کہ اس میں بھارت ماتا کو مخاطب کیا گیا ہے ۔ ہندوؤں کے نزدیک بھارت کو ایک دیوی کے روپ میں پیش کیا گیا ہےاور ملک کے مختلف مقامات پر اس کی مورتیاں نصب کی گئی ہیں اور مندر بنائے گئے ہیں ۔ اس لئے اس بناء پر کسی مسلمان کے لئے یہ گیت گاناجائز نہیں ۔ 20-22جو ن 2004ء میں اس سلسلے میں یہ قرار داد منظور کی گئی تھی کہ :"وندے ماترم جیسے گیت میں شرکیہ الفاظ ہیں اور ہندوستان کی سرزمین کو معبود کا درجہ دئےجانےکا تصور پایا جاتا ہے اس لئے مسلمانوں کو اس جیسے گیت کا پڑھنا شرعاً حرام ہے اور ان اس سے احترام کرنا لازم ہے "[52]

نتائجِ تحقیق

موجودہ دور میں کثیر مذہبی معاشرہ (Plural Society) کی اصطلاح بہت ابھر کر سامنے آرہی ہے ۔ اس کا مطلب ہے ایک سماج جس میں مختلف مذاہب کے ماننے والے رہتے بستے ہوں ، سب اپنے اپنے مذہب پر عمل کرتے ہوں ، ساتھ ہی دیگر مذاہب کا احترام بھی کرتے ہوں ان کے درمیان خوشگوار سماجی تعلقات ہوں ۔ ایسے سماج کو (Ideal) معاشرہ مانا جاتا ہے۔ اسلام تو جامع اور مکمل دین ہے اس میں ہر مذہب کے عقائد کے متعلق معلومات موجود ہیں۔غیر مسلم اقوام سے مسلمانوں کے تعلق کے اصول اور درجہ جات پہلا درجہ قلبی تعلق،دوسرا درجہ مواسات،تیسرا درجہ مدارت،چوتھا درجہ معاملات کے ہیں ۔کہ توحید کا دین صرف اسلام ہے اور اس کے علاوہ باقی سب ادیان باطل ہے کیونکہ ان میں توحید ورسالت کا تصور نہیں ہے اور اس وجہ سے باقی تمام ادیان پر فوق اور ممتاز دین ہے ایک عالمگیر دین ہونے کے وجہ سے اردگرد غیر مسلموں کے ساتھ کچھ معاشی تعلقات یا معاشرتی تعلقات دنیا میں ضرور پیش آئے گا اس لئے اسلام ان کے ساتھ تعلقات ،تجارت ،صناعت، مذہبی رسومات میں شرکت اور دیگر میل ملاپ کو کچھ حدود کے اندر قائم رکھنے کی اجازت دیتے ہیں ۔اور کھلے عام بغیر کسی قیودات کے ان کے ساتھ چلنے پھرنے کی اجازت نہیں دیتے ۔کیونکہ ان کی خوراک حلال نہیں ہوتی اور ان کے مشروبات میں عام طور پر ممنوع اشیاء اور حرام اشیاء جیسے شراب وغیرہ لازم ہوتے ہیں اور یہی اشیاء کا استعمال ایک مسلمان کیلئے حرام ہے۔ ان کے عبادت گاہ بت سے خالی نہیں ہوتے اور غیر اللہ کے سامنے سجدہ لگانا نذرونیاز کرنا سب ممنوع ہے۔ اس لئےان محافل میں تو اول شرکت صحیح نہیں ہے اور اسلام ایسی شرکیہ مجالس میں شریک ہونے سے منع کرتا ہے اور اگر بالفرض کسی مجبوری کے وجہ سے شریک ہوجائے تو پھر ان کو مبارکی دینا اور ان کے ساتھ کسی کام میں مصروف ہونا کتنے حد تک صحیح ہوں گے؟ اسلام کے حدود وقیود کو اپنا کر غیرمسلم سے تعلقات رکھ سکتے ہیں اور اس حدود وقیود میں توحیدِ باری تعالیٰ اور اسلام کی طرف دعوت دینا اگر ہو تو صحیح ورنہ اس سے دور رہنا چاہیئے۔

تجاویز وسفارشات

دنیا ایک گاؤں کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ اس دنیا میں مسلم قوم اور غیرمسلموں کا اختلاط زمانہ ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوچکا ہے۔ بہت سارے مسلمان غیرمسلم ممالک میں مقیم ہوگئے ہیں۔ جبکہ بسا اوقات غیرمسلم بھی مسلمان معاشروں کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس صورت حال میں مسلمانوں اور غیرمسلموں کے رسم ورواج اور باہمی رہن سہن کے معاملے میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں میں بچوں کی تعلیم وتربیت اور مذہبی ذہن سازی کے حوالے سے محنت کے ساتھ اقدامات کی ضرورت ہے۔ تاکہ مسلمانوں کے معاشرے میں ایسے رسوم وغیرہ جڑ نہ پکڑسکیں جو کسی صورت اسلام کا تقاضا نہیں۔ نیز کھانے پینے کے معاملے میں حلال وحرام کی تمیز بھی واضح ہو، تاکہ مسلمان اپنے دین کے مطابق حلال اور پاکیزہ رزق کھاسکیں۔ مسلمان اپنی عبادات بھی آزادانہ طریقے سے اداکرسکیں اور اس میں وہ کسی صورت دباؤ یا کسی مصلحت کا شکار نہ ہوں۔ * مسلمان غیرمسلم ممالک میں رہتے ہوئے بہترین رویہ اختیار کریں۔

  • اپنے بچوں کی صحیح تربیت کریں اور انہیں اسلام کی خصوصیات کا حامل بنائیں۔
  • غیرمسلموں کی مذہبی تقریبات میں شرکت سے گریز کیا جائے ۔
  • مزید تحقیق میں یہ بات واضح کی جاسکتی ہے کہ غیرمسلموں کی مذہبی تقریبات میں شرکت کی حدود اس دور میں کیا ہوسکتی ہیں۔
  • مسلمانوں کی طرز معاشرت اور مذہبی آزادی کو ہر فورم پر واضح کرنے کے لیے کوششیں کی جائیں۔

Bibliography

Abū Yūsaf, Ya‘qūb bin Ibrāhīm. Kitāb al-Kharāj. Lahore: Maktabah Raḥmāniya, 2010.

Al-Māwardī, Abu al Ḥassan ’Ali bin Muḥammad bin Ḥabīb al-Baghdādī. Tafsīr al-Māwardī Al-Nukat wal‘Uyūn. Beruit; Dār al-Kutab al-Ilmīyyah, n-d.

Al-Qarḍāwī, Yusūf. Al-Fatāwa Yusūf al-Qarḍāwī, tran Syed Zahid Ashar Falāhī. Lahore: Al-Badr Publication, 2012.

Al-Rāshidī, Zahid. Ghayr Muslamawn Say Sulūk awr Sīrat-i Nabvī. Virginia: al-Huda, 2007.

Al-Ṣanʻānī, ‘Abdur Razzāq bin Hamām. Muṣannuf ‘Abdur Razzāq. Beirut: al-Maktabah Islāmī, 1403.

Al-Sijistānī, Abū Dāwūd Sulīmān bin al-Ash‘ath, Sunan Abī Dāwūd. Beirut: al-Maktabah al-‘Aṣriyyah, n-d.

Gangawhī, Maḥmūd al-Ḥassan. Fatāwa Maḥmūdīyah. Mīraṭh: Maktabah Maḥmūdīyah, n-d.

Ibn al-Qayyim, Muḥammad bin Abī Bakr. Aḥkām Ahl al-Dhimah. Saudia Arabia: Ramādī Publishers, 1997.

Ibn Kathīr, Abu Al-Fidā Ismā‘īl bin ‘Umar. Tafsīr al-Qur’ān al ‘Azīm. Rayadh: Dār al-Ṭayibah, 1420.

Ibn Taymiyah, Abū al-‘Abbās Aḥmad. Tihdhīb Iqtiḍā’ al-Ṣirāṭ al-Mustaqīm. Egypt: Dār al-‘Ulūm, n-d.

Kaṭṭāb, Maḥmūd Muḥammad, Sharaḥ Sunan Abī Dāwūd. Beirut: Muassisah al-Tārīkh al-‘Arabī, Maṭba‘ah al-Istiqmah, 1351.

Muftī, Muḥammad Shafī‘. Ma‘āraf al-Qur’ān. Karachi: Idārah al-Ma‘āraf, 1984.

Muslim Ibn Al-Ḥajjāj, Abū al-Ḥusayn ‘Asākir ad-Dīn. Al-Jāmi‘ al-Ṣaḥīḥ. Beirut: Dār Iḥyā’ al-Turāth al-‘Arabī, n-d.

Raḥmānī, Khālid Sayfullah. Musalmānawn awr Ghayr Muslimawn kay Darmyān Rawābiṭ. Ḥaydar Abād: Kul Hind Majlis Ta‘mīr-i Millat, 2013.

Rāj Pūrī, ‘Abdur Raḥīm. Fatāwa Raḥīmīyah. Lahore: Dār al-Ishā‘at, n-d.

‘Umrī, Syed Jalāl al-Dīn, Ghayr Muslamūn say Ta‘alqāt awr Un kay Ḥuqūq. New Dhelhi: Markazī Maktabah Islāmī Publishers, n-d.

Wāqidī, Muḥammad bin ‘Umar. Fatūḥ al-Shām. Beirut: Dār al-Kutab al-Ilmīyyah, 1997.

References

  1. القرآن 85:3
  2. القرآن 28:48
  3. محمد بن أبي بكر بن أيوب بن سعد شمس الدين ابن قيم الجوزية ، أحكام أهل الذمة (ریاض : رمادى للنشر ،1997ء )، 3۔
  4. یوسف القرضاوی، الفتاوی ٰیوسف القرضاوی ، مترجم- سید زاہد اصغر فلاحی (لاہور: البدرپبلی کیشنز ، 2012ء)۔
  5. سید جلال الدین عمری، غیرمسلموں سے تعلقات اور ان کے حقوق (نئی دہلی : مرکزی مکتبہ اسلامی پبلیشرز ،س۔ن)۔
  6. زاھد الراشدی، غیرمسلموں سے سلوک اور سیرت نبوی (ورجینا: دارالہدیٰ ، 2007ء)۔
  7. القرآن 28:3
  8. محمد شفیع، معارف القران (کراچی: ادارۃ المعارف ، 1984ء)، 50:2۔
  9. القرآن60:8
  10. محمدشفیع، معارف القران ،50:2۔
  11. القرآن 28:3
  12. محمدشفیع ،معارف القران ، 51:2۔
  13. ایضاً۔، 51:2۔
  14. القرآن 60: 9,8
  15. محمد شفیع، معارف القرآن ، 406:8۔
  16. القرآن: 8:5
  17. القرآن: 4: 90
  18. محمد شفیع، معارف القرآن ، 511:2۔
  19. القرآن 28:3
  20. القرآن 96:23
  21. القرآن 41: 34-36
  22. القرآن 118:11
  23. القرآن 48:4
  24. أبو داود سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني، السنن، کتاب اللباس،باب فی لبس الشھرۃ(بیروت: المكتبة العصرية، س۔ ن)حدیث: 4031،44:4 ۔
  25. مسلم بن الحجاج ، الجامع الصحیح، بَابُ النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ (بیروت: دار إحياء التراث العربي،س۔ ن)، : 2167 ، 5 170:4۔
  26. ایضا، بَابُ النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ ،حدیث: 1798، 1422:3۔
  27. أبو بكر عبد الرزاق بن همام الصنعاني ،مصنف عبد الرزاق (بیروت : المكتب الإسلامي ، 1403ھ)، حدیث: 9844، 12:6۔
  28. عمری، غیر مسلموں سے تعلقات اوران کے حقوق، 118۔
  29. ایضا۔
  30. یمن کے ایک قدیم بادشاہ کا نام جو قبیلہ حمیر سے تعلق رکھتا تھا۔ بڑی قوت اور حشمت و جلال کا مالک تھا۔ دیکھیے: محمود محمد خطاب، السبكي المنهل العذب المورود شرح سنن الإمام أبي داؤد(قاہرہ: مطبعة الإستقامة ،1351ھ)،270:2۔
  31. محمد بن عمر بن واقد ، الواقدي، فتوح الشام ( بیروت: دار الكتب العلمية الطبعة، 997 1 ء (،45:2۔
  32. القرآن 90:5
  33. مسلم بن الحجاج، الجامع الصحیح، کتاب الاشربۃ،باب ما يتخذ منه الخمر وأن كل مسكر حرام، حدیث: 3691، 3:1587۔
  34. القرآن137:1
  35. القرآن 3:5
  36. القرآن 173:1
  37. القرآن 121:6
  38. القرآن 5:5
  39. ابو یوسف یعقوب ابن ابراہیم ، کتاب الخراج ، (لاہور: مکتبہ رحمانیہ ، 2010ء)،217۔
  40. ابن همام ، المصنف عبدالرزاق، باب عيادة المسلم الكافر ،حدیث: 9922،2۔
  41. القرآن 113:9
  42. ابن قيم الجوزية، أحكام أهل الذمة ،441:1۔
  43. أبو داؤد،السنن، کتاب اللباس، باب فی لبس الشھرۃ، حدیث: 4031، 4:44 ۔
  44. ابوالعباس احمد ابن تيمية ، تهذيب اقتضاء الصراط المستقيم (مصر: مكتبة دار العلوم،س۔ ن)، 108:1۔
  45. عبدالرحیم لاجپوری ، فتاویٰ رحیمیہ (لاہور: دارالاشاعت ،س۔ ن)، 288:2۔
  46. القرآن 72:25
  47. أبو الفداءإسماعيل ابن کثیر، تفسير القرآن العظيم ( الریاض: دار طيبة للنشر والتوزيع ، 1420ھ)، 130:6۔
  48. ابی داؤد ،السنن، کتاب الایمان،باب مایومر بہ من الوفاء بالنذر،حدیث: 3313، 238:3۔
  49. ابن تيمية ،تهذيب اقتضاء الصراط المستقيم ،75:1۔
  50. محمود الحسن گنگوہی، فتاویٰ محمودیہ (میرٹھ :مکتبہ محمودیہ، س۔ن)، 404:14۔
  51. خالد سیف اللہ رحمانی ، مسلمانوں اور غیر مسلموں کے در میان روابط (حیدرآباد: کل ہند مجلس تعمیر ملت ، 2013ء)، 27۔
  52. نئےمسائل اورفقہ اکیڈمی کے فیصلے، (،انڈیا:اسلامک فقہ اکیڈمی، 2014ء) ، 113 ۔