Playstore.png

تشبہ بالکفار اور قرآنی تعلیمات: ایک تحقیقی جائزہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ التفسیر
عنوان تشبہ بالکفار اور قرآنی تعلیمات: ایک تحقیقی جائزہ
مصنف دتہ، اللہ
جلد 35
شمارہ 1
سال 2020
صفحات 81-99
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Imitation, Infidels, Muslims, Quran, Sunnah, Western Civilization.
شکاگو 16 دتہ، اللہ۔ "تشبہ بالکفار اور قرآنی تعلیمات: ایک تحقیقی جائزہ۔" التفسیر 35, شمارہ۔ 1 (2020)۔
شیخ سعید حوی اور ان کی تفسیر: ایک مطالعہ
علامہ اسید الحق قادری بدایونی کی کتاب ”قرآن کی سائنسی تفسیر“: ایک مطالعہ
ترجمۃ القرآن از عبد السلام بن محمد کے خصائص و ممیزات اور تفسیر القرآن کا تحقیقی مطالعہ
علماء اہلسنت (بریلوی) کی تفاسیر کا اسلوب بیان: ایک جائزہ
مذہبی اجارہ داری کے انسداد میں مفسرین کی خدمات کا تجزیاتی مطالعہ
تشبہ بالکفار اور قرآنی تعلیمات: ایک تحقیقی جائزہ
عورت کی ازدواجی حیثیت اور تولیدی صحت سے متعلق تصورات کا تجزیہ
خلع میں شوہر کی رضامندی کے دلائل اور عدالت کا دائرہ اختیار: تجزیاتی مطالعہ
قتل غیرت اور اسلامی تعلیمات: فیصل آباد ڈویژن کے تناظر میں: ایک تجزیاتی جائزہ 2016ء تا 2018
سیرت رسول ﷺ اور انسانیت کا احیاء تہذیبوں کے پیرائے میں
عہد رسالت میں مملکت کا بنیادی تصور: ایک تحقیقی جائزہ
سماج کے کمزور طبقات کے ساتھ رسول اللہﷺ کا طرز عمل
صوفیہ کے ملفوظاتی ادب میں معجزہ معراج النبی ﷺ: ایک مطالعہ
ماحولیات، جدید چیلنج اور تعلیمات نبوی ﷺ
فقہی مسائل میں تطبیق: ” کتاب المیزان “ کا تعارف و جائزہ
امام غزالی کے فکری اسفار کا مطالعہ
مولانا ابو یوسف محمد شریف محدث کوٹلوی کی خدمات حدیث شریف
اسلام اور مغرب میں خاندانی نظام کا تقابلی جائزہ
فیملی بزنس میں زکوۃ کے مسائل اور ان کا حل
تجارت میں جعل سازی کا بڑھتا ہوا رحجان اور حکومتی ذمے داریاں
لسان العرب کا تعارفی و تحقیقی مطالعہ
Evolution of Arabic Literature in Nigeria: Case Study of Tafa’sir
Stealing, Usury, Wine and Divorce in the Sami Religions of the World
Haq Bakhshish (Marriage to Quran) : A Custom Confused With Religion: A Case Study of Qaisra Sharaz’S Protogonist ‘Zari Bano’ from the Novel Holy Woman
Religious Education and Community Services: Importance of Islamic Studies Education As Tool for Social Services and Community Welfare
Role of Media in Building an Islamic Society
Soft Power: An Invasion to Pakistani Culture

Abstract

The imitation of Infidels especially with western civilization is becoming a norm and trend of our society. Every Muslim looks like a follower of western civilization. It is quite difficult to differentiate between a Muslim and non-Muslim. There are many Hadiths which stated it ostracized but people object and arise questions about the validity of the Hadiths, and people could not refrain themselves from the imitation of Infidels. So, the standing of Imitation in the underlying article has been explained with the verses of Quran and it has been tried to know the position of the imitation of the infidels with the help of the Holy Quran. Consequently, through this writing, misunderstandings about the issue could be exterminated with the help of the Holy Quran. This will eliminate the bad traditions and customs of the society and Muslims will turn towards Qur'an and Sunnah.

فی زماننا اغیار سے مشابہت کا رجحان بڑھتا چلا جا رہا ہے اور ہر شخص مغربی تہذیب کے رنگ میں رنگا نظر آتا ہے۔ مغرب کے فکری غلبے کی وجہ سے لوگ ان کی ثقافت کو اپنانے میں بھی فخر محسوس کرتے ہیں۔بات معاشرت کی ہو یا سیاست کی، اخلاق و کردار کی ہو یا طرز فکر کی آپ کو روزمرہ زندگی کے ہر معاملے بالعموم یہی رویہ کارفرما نظر آئے گا۔آپ کسی شخص کو دیکھ کرمعلوم نہیں کرسکتے کہ آیا یہ مسلمان ہے یا غیر مسلم۔چنانچہ آج بہت زیادہ ضرورت ہے کہ قرآن وسنت کی طرف رجوع کیا جائے اورتشبہ بالکفار کی حقیقت کو واضح کیا جائے۔ ان کے احکام و علل کو اجاگر کیا جائے اور اس کی حلت و حرمت کا تعین کیا جائے۔ تغیر زمان و مکان اور مقاصد شریعہ کے تناظر میں اس کا ازسر نو جائزہ لے کر امت مسلمہ کو اس کے عواقب و

نتائج سے آگاہ کیا جائے ۔ اس ضمن میں بہت سے فرامین ذخیرۂ احادیث میں موجود ہیں جن کی مدد سے مسئلہ زیر غور کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے مگر بہت سے لوگ ان کو درخور اعتنا نہیں سمجھتے بلکہ کچھ علماء بھی ان احادیث کی صحت پر اعتراض کرتے ہیں اور اس کی صحت پر سوال اٹھاتے ہیں۔([1]) نتیجۃ ً لوگ تشبہ بالکفار کی عادت میں مبتلا رہتے ہیں۔چنانچہ زیر نظر مقالے میں تشبہ بالکفار کی حیثیت کو قرآن پاک کی آیات سے واضح کیا جائے گا اور یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ تشبہ بالکفار کے بارے میں اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں کیا احکامات بیان فرمائے ہیں؟ چونکہ قرآن پاک میں وارد آیات و احکام پر مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ اس لیے اس تحریر کے ذریعے اس موضوع سے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیاں دور ہوں گی اور مسلمان قرآن و سنت کی طرف رجوع کریں گے اور تمسک قرآن کے ذریعے معاشرے میں حقیقی اسلامی تعلیمات کا فروغ ہوگا۔ اور بندہ مومن صحیح معنوں میں اللہ اور اس کے رسول کی رضا کو حاصل کرسکےگا۔

اس سے قبل کہ بحث کا آغاز کیا جائے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تشبہ کی تعریف اور اس کے مفہوم کو سمجھ لیا جائے تاکہ بحث کو سمجھنے میں آسانی ہو سکے۔

تشبہ کا لغوی مفہوم

تشبہ عربی زبان کا لفظ ہے جو شبه سے نکلا ہے اور اس کا مطلب مشابہ ہونا،ہم شکل ہونا،مثل ہونا،باہم مختلط ہونا، ہم وصف ہونایانقل کرنا وغیرہ کے ہیں۔یعنی کوئی ایسی شے کہ جو دوسری شے کی طرح ہو تو کہیں گے کہ یہ شے اس جیسی ہے یا اس سے تشبہ رکھتی ہے مماثلت کا یہ عمل تشبہ کہلاتا ہے۔مماثلت کے لیے اس شے کا بعینہ ایک جیسا ہونا ضروری نہیں ہوتا کیونکہ اگر دونوں اشیاء ایک جیسی ہیں تو وہ تو جنس ونوع ہی میں باہم متحد ہیں اس لیے ان میں تشبہ کے کیا معنی،بلکہ جہاں دونوں اشیا اکثر صفات میں یا کچھ صفات میں ایک جیسی ہوں گی وہاں تشبہ کا اطلاق ہو گا اور صفات میں یکسانیت کے اس عمل کو تشبہ کہا جائے گا۔ تشبہ کے لغوی مفہوم کے بارے میں اہل لغت نے اپنی مختلف کتب میں جو معانی اس کے درج کیے ہیں اسے چند مشہور ومعروف کتب سے یہاں نقل کیا جاتا ہے۔

لسان العرب میں ابن منظور افریقی نے شبہ کی تین لغتیں بیان کی ہیں:الشِّبْهُوالشَّبَهُوالشَّبِيهُ جسے آپ مصادربھی کہہ سکتے ہیں کہ اس کی تین مصدریں بیان کی ہیں اور اس کا معنی" مثل "بیان کیاہے اس کی جمعأَشْباهٌہےاہل عرب اس وقت بولتے ہیں جب ایک شے دوسری شے کے مماثل ہو تو کہتے ہیں وأَشْبَهالشيءُالشيءَاور مماثلت میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ شخص ظلم کرنے میں اپنے باپ کے مشابہ ہے یا مرد اپنی ماں کے مشابہ ہے۔ ابن اعرابی کے نزدیک یہ لفظ اس وقت بولا جاتا ہے جب کوئی شخص عاجز ہوتا ہے یا کمزور ہوتا ہے اور یہ شعر اس پر دلیل ہے:

أَصْبَحَ فِيهِ شَبَهٌ مِنْ أُمِّهِ،،مِنْ عِظَمِ الرأْسِوَمِنْ خُرْطُمِّهِ ([2])

"تاج العروس "میں اس کا معنی "مثل" بیان کیا گیا ہے اور باقی تفصیل وہی ہے جو کہ اوپر "لسان العرب" کے حوالے سے بیان ہوئی ہے۔([3])

کتاب التعریفات میں ہے کہ لغت میں تشبیہ کسی شے کی کسی دوسری شے کے ساتھ معنی میں مشترکہ امر پر دلالت کرتی ہے پہلی کو مشبہ (بالکسر) اور دوسری کو مشبہ بہ(بالفتح) کہتے ہیں اس کے لیے آلہ تشبیہ،اس کی غرض و غایت اور تشبیہ کا ہونا ضروری ہوتا ہے یہ معنی جو بیان کیا گیا یہ اہل لغت کے نزدیک تھا ۔علمائے بیان کی اصطلاح میں دو چیزوں کا کسی وصف میں یا کسی شے کے اوصاف میں مشترک ہونا تشبیہ کہلاتا ہے جیسے کہ کہا جاتا ہے کہ زید میں شیر کی طرح بہادر ی پائی جاتی ہے یہاں وصف بہادری کا اشتراک ہے شیر کے ساتھ اور اسی طرح روشنی کا ہونا سورج میں،اس کو علمائے بیان تشبیہ مفرد کہتے ہیں ۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:" بے شک اللہ تعالی نے مجھے ہدایت اور علم کے ساتھ بھیجا ہے بارش کی مثل کے کہ جو زمین کو پہنچتی ہے۔"([4]) سرکار ﷺ نے یہاں پر علم کو بارش کے ساتھ تشبیہ دی ہے جس کے ذریعے پاک زمین نفع حاصل کرتی ہےاوربنجر زمین جس سے نفع حاصل نہیں کر پاتی۔ اس کو تشبیہ مرکب یا تشبیہ مجتمع بھی کہتے ہیں جس طرح کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے :"میری مثال اور سابقہ انبیاء کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک مرد نے گھر بنایا بہت خوبصورت حسین وجمیل ا ور اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔"([5]) اس کو تشبیہ جمع بالجمع کہتے ہیں یہاں پر وجہ شبہ عقلی ہے جو چند امور سے مترشح ہو رہی ہے پس یہاں نبوت کو گھر کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔([6])

اساس البلاغہ میں اس کے معنی مماثلت کے بیان کیے گئے ہیں۔([7])

امام راغب اصفہانی نے بھی شبہ کی تین لغتیں بیان کی ہیں چنانچہ آپ لکھتے ہیں کہ: الشِّبْهُوالشَّبَهُوالشَّبِيهُ کے اصل معنی مماثلت بلحاظ کیف کے ہیں مثلاً لون اور طعم میں باہم مماثل ہونا یا عدل اور ظلم میں([8]) اور اس کی یہ تعریف بیان کی ہے کہ دو چیزوں کا حسی یا معنوی لحاظ سے اس قدر مماثل ہونا کہ ایک دوسرے سے ممتاز نہ ہو سکیں۔([9])

تشبہ کا اصطلاحی مفہوم

تشبہ باب تفعل سے ہے جس کی ممتاز خاصیت تکلف ،تصنع یا بناوٹ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ باب تفعل عموماً ماخذ کو بہ تکلف اپنے ساتھ متصف کرنے کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے لہذا تشبہ بالکفار سے مراد سے کسی بھی مسلمان کا بہ تکلف کفار کی ممتاز و مخصوص چیز کو اپنانا یعنی جو چیز کسی علاقے میں کفاریا مشرک قوم کی پہچان و علامت ہو مسلمان کا اس چیز کو استعمال کرنا۔اس لحاظ سے اس کی یہ تعریف بیان کی جا سکتی ہے کہ کسی شخص کا کسی دوسرے مذہب یا قوم کے کسی فرد کی یا جماعت کی اخلاقیات ،رہن سہن،طرزمعاشرت،تہذیب و تمدن، لباس،اکل و شرب، وضع قطع یا فکر و تدبر وغیرہ میں ایسی نقل یا مشابہت کرنے کا نام ہے کہ اس پہلےفرد پر دوسرے فرد کا گمان ہونے لگے اور ایک انجان شخص بھی اسے دوسری جماعت کا فرد ہی تصور کرے۔علماء نے اس کی مختلف تعریفات بیان کی ہیں چند تعریفات درج ذیل ہیں:* حرام تشبہ بالکفار کسی مسلمان کا کسی کافر قوم کے ساتھ شرعاًیا عرفا ًمذموم نا پسندیدہ اشیاء میں مشابہت اختیار کرنا ہے۔نیز ان چیزوں میں کہ جن میں کفار کے ساتھ مشابہت کا قصد بدلالت حال کیا جاتا ہے۔([10])

  • کسی نفع وغیرہ سے بے پروا ہو کر محض اس لیے کہ کسی کی ادا بھا جائے اور زبردستی اس کی ریس میں اسی ادا کو اختیار کرنا۔([11])
  • غیر مسلم کی ہر وہ چیز جو ان کے لیے اس طرح خاص ہو کہ اگر مسلم اسے استعمال کرے تو غیرمسلم ہونے کا اس پر دھوکا ہو۔([12])

تشبہ بالکفار اور قرآنی تعلیمات

قرآن پاک سے تشبہ بالکفار کی ممانعت بیان کرنے کا اسلوب اسلاف سے بھی ثابت ہے اور بہت سے علماء نے اس مسئلے کو قرآن مقدس سے ثابت کیا ہے۔مولانا اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں:"بعض صاحب فرماتے ہیں کہ حدیث تشبہ کی ضعیف ہے۔اللہ اکبر جن صاحبوں کو اتنی خبر نہ ہو کہ حدیث ضعیف کیا ہے وہ حدیث پر ضعف کا حکم لگائیں ، اچھا صاحب حدیث ضعیف ہی سہی مگر یہ مسئلہ تو قران مجید سے بھی ثابت ہے:یاایھا الذین امنوا ادخلوا فی السلم کافۃ۔ یاایھا الذین امنوا لاتکونوا کالذین کفروا۔ ([13])

” اے ایمان والو! پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جاؤ" اور ایک مقام پر ارشاد ربانی ہے: " اے ایمان والو! کافروں کی طرح نہ بن جاؤ۔“

اللہ رب العزت کو مسلمانوں کی کفار سے مشابہت پسند نہیں ہے اس لیے اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو کفار کی مشابہت سے منع فرمایااور اس کی بجائے انھیں فاتبعونی کی پیروی کرنے اور اسوہ ٔحسنۃکو اختیار کرنے کا حکم دیا۔ذیل میں کچھ وہ آیات بینات ذکر کی جاتی ہیں جن میں کسی نہ کسی اعتبار سے تشبہ بالکفار کی ممانعت کا اورکفار کی مخالفت کا حکم بیان کیا گیا ہے۔

پہلی آیت

اللہ رب العزت مومنین کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّی لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا ۚ لِیَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ ؕ وَ اللّٰهُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ ([14])

”مومنو! ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور ان کے (مسلمان) بھائی (جب) خدا کی راہ میں سفر کریں (اور مرجائیں) یا جہاد کو نکلیں (اور مارے جائیں) تو ان کی نسبت کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے ان باتوں سے مقصود یہ ہے کہ خدا ان لوگوں کے دلوں میں افسوس پیدا کر دے اور زندگی اور موت تو خدا ہی دیتا ہے اور خدا تمھارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے۔“

اس آیت میں مومنین کو عقیدہ قضاوقدر میں کفار سے مشابہت سے روکا جا رہا ہے کہ چونکہ کفار یہ سمجھتے ہیں کہ موت و حیات اسباب کے تابع ہے اور موت کا سبب سفر یا جہاد ہے اس لیے وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے جبکہ ایمان والوں کے ذہن میں یہ بات راسخ کی جارہی ہے کہ موت وحیات تو اللہ ہی کے اختیار میں ہے اور اسباب بھی مشیت الہٰی ہی کے تابع ہیں۔اس آیت کے تحت تفسیرجامع البیان میں ہے:سدیرحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہےکہ لفظ آیت:لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ سے عبد اللہ بن ابی کے منافق ساتھی مراد ہیں۔([15])

علامہ عبدالرحمن بن ناصر السعدی اس آیت کے تحت لکھتے ہیں :" اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اہل ایمان بندوں کو کفار اور منافقین وغیرہ کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے جو اپنے رب اور اس کی قضا و قدر پر ایمان نہیں رکھتے۔ اس نے ہر چیز میں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے۔ خاص طور پر اس معاملے میں کہ وہ اپنے دینی یا نسبی بھائیوں سے کہتے ہیں :اذاضربوا فی الارض”یعنی جب تجارت وغیرہ کے لیے سفر کرتے ہیں۔اوکانوا غزی یا وہ غزوات کے لیے نکلتے ہیں۔ پھر اس دوران میں انہیں موت آجاتی ہے یا وہ قتل ہوجاتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی قضاء قدر پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں:لوکانواعندنا ماما توا وماقتلوا” اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو وہ نہ مرتے اور نہ قتل ہوتے“ یہ ان کا جھوٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قل لوکنتم فی بیوتکملبرزالذین کتب علیھمالقتل الی مضاجعھم” کہہ دو اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھا تھا توہ وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے۔“ ([16])

مولانا محمد ادریس کاندھلوی اپنی تفسیر معارف القران میں لکھتے ہیں :”اے ایمان والو تم ان لوگوں کے مشابہ اور مانند نہ ہو جاؤ جو حقیقت میں کافر ہیں اگرچہ ظاہرا اپنے کو مسلمان کہتے ہیں یعنی منافق ہیں۔“ اور حدیث میں ہے من تشبہ بقوم فھومنھمجو شخص جس قوم کے مشابہ بنے وہ اللہ کے نزدیک اسی قوم میں شمار ہوگا اور تشبہ میں درجات ہیں کبھی تشبہ کامل ہوتا ہے اور کبھی ناقص جس درجہ کا تشبہ ہوگا اسی درجے کی وعید اس پر مرتبہ ہوگی۔([17])

اور یہ مشابہت کس درجہ کی ہے اور اس پر کون سا حکم لگتا ہے اس کی وضاحت کرتے ہوئےقاضی ثنا اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:یا یھاالذین امنوا لا تکونواکالذین کفروا ” اے اہل ایمان تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے کفر کیا۔“ کافروں سے مراد ہیں عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھی منافق۔منافقوں کی طرح نہ ہو جانے کا حکم اس لیے دیا کہ حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص کسی قوم (کے افکار و اعمال اس کی) مشابہت اختیار کرے گا وہ اسی قوم میں سے ہو گا۔ اس حدیث کو حضرت ابن عمر کی روایت سے ابو داؤد نے مرفوعاً اور حضرت حذیفہ کی روایت سے طبرانی نے مرفوعاً نقل کیا ہے ۔ خصوصاً ایسی مشابہت (سے تو اجتناب فرض ہے) جو موجب کفر ہوا س جگہ جس مشابہت کو اختیار کرنے کی ممانعت کی گئی ہے وہ موجب کفر ہی ہے کیونکہ یہ تقدیر کا انکار ہے اور تقدیر کا انکار کفر ہے۔([18])

علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکرالسیوطی الشافعی لکھتے ہیں: ”ابن ابی حاتم نے حسن رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ لفظ آیت :لو کانواعندنا ما توا وماقتلوا یہ کافروں کا قول ہے جب کوئی آدمی (لڑائی میں ) شہید ہوجاتا تو کہتے اگر ہمارے پاس ہوتا تو نہ مرتا پس تم ایسا نہ کہو جیسے کفار نے کہا۔([19]) علامہ ابو البرکات عبداللہ بن احمد بن محمود النسفی لکھتے ہیں:”تم یہ بات کہنے اور اس پر اعتقاد رکھنے میں ان لوگوں کی طرح نہ بنو تاکہ یہ بات اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں خاص طور پر حسرت کا باعث بنادے اور تمہارے دلوں کو محفوظ کرلے۔“([20]) ابو عبداللہ محمد بن احمدبن ابو بکر قرطبی لکھتے ہیں:قولہ تعالیٰ :يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْالَاتَكُوْنُوْاكَالَّذِيْنَ كَفَرُوْاوَقَالُوْالِاِخْوَانِھِمْسے مراد منافقین ہیں ۔ یعنی جو نفاق میں یا نسب میں (ان کے بھائی تھے) اور ان سرایا میں گئے جنہیں حضور نبی مکرم (ﷺ) نے بئرمعونہ کی طرف بھیجا (انھیں کہتے تھے) لوکانواعندنا ما ماتواوماقتلوا” اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے ۔ “تو اس میں مسلمانوں کو ان کی مثل قول کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔([21])

دوسری آیت

اللہ رب العزت مومنین کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

وَلَاتَايْـــــَٔـسُوْامِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ ۭ اِنَّهٗ لَايَايْـــــَٔـسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّاالْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ([22])

”اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو کہ خدا کی رحمت سے بےایمان لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں ۔“

یہاں پر اللہ رب العزت مسلمانوں کو کافروں کے عقائد اختیار کرنے سے منع فرما رہا ہے اور ان کی طرح اللہ رب العزت کی رحمت سے مایوس ہونے کی مذمت بیان کی جارہی ہے ۔علامہ عبدالرحمن بن ناصر السعدی اس آیت کے تحت لکھتے ہیں :کیونکہ کفار اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ان سے دور ہے، اس لیے کفار کی مشابہت اختیار نہ کرو۔([23]) اور مایوسی اور ناامیدی کی بجائے اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو امید و رجا کا دامن تھامنے کا حکم دیا ہے۔مولانا صلاح الدین یوسف صاحب اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:”گمراہ لوگ ہی اللہ کی رحمت سے ناامید ہوتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کو سخت حالات میں بھی صبر و رضا کا اور اللہ کی رحمت واسعہ کی امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔“([24])

تیسری آیت

اللہ رب العزت مومنین کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

يٰٓاَيُّهَاالَّذِيْنَ اٰمَنُواادْخُلُوْافِي السِّلْم ِكَافَّةً ۠وَلَاتَتَّبِعُوْاخُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ ۭ اِنَّهٗ لَكُم ْعَدُوٌّمُّبِيْنٌ([25])

”مومنو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے پیچھے نہ چلو وہ تو تمھارا صریح دشمن ہے۔“

یعنی کسی استثناء اور تخصیص کے بغیر اپنی پوری زندگی کو اسلام کے تحت لے آؤ، تمھارے خیالات نظریات تمھارے علوم تمھارے طور و طریقے تمھارے معاملات تمہاری سعی وعمل کے راستے سب کے سب بالکل تابع اسلام ہوں ایسا نہ ہو کہ تم اپنی زندگی کے مختلف حصوں کو اس کی پیروی سے مستثنیٰ کر لو۔چنانچہ تفسیر جلالین میں اس آیت کے تحت ہے کہ:”عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ہمیں اجازت عطا فرمائیں کہ ہم یوم السبت کا احترام کریں اور اونٹ کا گوشت ترک کریں تو مذکورہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت عبد اللہ بن سلام وغیرہ جو اہل کتاب کے علماء میں سے تھے ان کے نزدیک ہفتے کا دن محترم تھا اور اونٹ کا گوشت حرام تھا، ان حضرات کو اسلام لانے کے بعد خیال ہوا کہ شریعت موسوی میں ہفتے کے دن کی تعظیم واجب تھی اور شریعت محمدیہ میں اس کی بے تعظیمی واجب نہیں، اسی طرح شریعت موسوی میں اونٹ کا گوشت حرام تھا اور شریعت محمدیہ میں اس کا کھانا فرض نہیں، سواگرہم بدستورہفتے کی تعظیم کرتے رہیں اور اونٹ کا گوشت باوجود حلال اعتقادرکھنے کے صرف عملاً ترک کردیں تو شریعت موسوی کی بھی رعایت ہوجائے گی اور شریعت محمدیہ کے بھی خلاف نہ ہوگا اور اس میں خدا تعالیٰ کی زیادہ اطاعت اور دین کی زیادہ رعایت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ نے اس خیال کی اصلاح آئندہ آیت میں فرمائی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اسلام کا مل فرض ہے اور اس کا کامل ہونا جب ہے کہ جو امراسلام میں قابل رعایت نہ ہو اس کی رعایت دین ہونے کی حیثیت سے نہ کی جائے اور ایسے امرکو دین سمجھنا ایک شیطانی لغزش ہے ۔“([26])

اس آیت کے تحت تفسیر نور العرفان میں ہے:” اس سے معلوم ہوا کہ داڑھی منڈوانا،مشرکوں کا سا لباس پہننا ایمانی کمزوری کی علامت ہے جب مسلمان ہو گئے تو سیرت و صورت میں ہر طرح مسلمان ہو۔گندے گلاس میں اچھا شربت نہیں پیا جاتا مشرکوں کی سی صورت میں قران پڑھنا مناسب نہیں اپنے ظاہر و باطن دونوں کو سنبھالو۔“([27])اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی تنبیہ ہے جنھوں نے اسلام کو صرف مسجد اور عبادت کے ساتھ مخصوص کررکھا ہے معاملات اور معاشرت کے احکام کو گویا دین کا جزہی نہیں سمجھتے ، آج کل جدید تعلیم یا فتہ طبقہ جو، خود کو ماڈرن سمجھتا ہے، ان میں یہ غفلت عام ہے ۔

چوتھی آیت

اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:

قَدْنَرٰى تَـقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاۗءِ ۚ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىھَا ۠فَوَلّ ِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِۭ وَحَيْثُ مَاكُنْتُمْ فَوَلُّوْاوُجُوْھَكُم ْ شَطْرَهٗ ۭوَاِنَّالَّذِيْنَ اُوْتُواالْكِتٰبَ لَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهُا لْحَـقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ ۭ وَمَااللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُوْنَ([28])

”(اے محمد) ہم تمھارا آسمان کی طرف منھ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں سو ہم تم کو اسی قبلے کی طرف جس کو تم پسند کرتے ہو منھ کرنے کا حکم دیں گے تو اپنا منھ مسجد حرام (یعنی خانہ کعبہ) کی طرف پھیر لو اور تم لوگ جہاں ہوا کرو (نماز پڑھنے کے وقت) اسی مسجد کی طرف منھ کرلیا کرو اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ (نیا قبلہ) ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں خدا ان سے بےخبر نہیں۔“

اس آیت کے تحت تفسیر جامع البیان میں مجاہد رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے کہ تبدیلی ٔقبلہ کا حکم آنے سے قبل یہود یہ کہا کرتے تھےيخالفنا محمد ويتّبع قبلتنا!([29]) کہ ویسےتو محمد ﷺ ہر بات میں ہماری مخالفت کرتے ہیں لیکن پیروی ہمارے قبلے کی کرتے ہیں۔مولانا محمد قطب شہید اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:”تحریک اسلامی کو چاہیے کہ وہ اس حقیقت کو اچھی طرح ‌ذہن نشین کرے کہ کیوں وہ ایک مخصوص قبلے کی طرف منھ کر کے نماز پڑھتی ہے؟قبلہ محض ایک مکان ہی نہیں جس کی طرف نماز کے وقت مسلمان رخ کرتے ہیں مکان اور سمت تو محض ایک اشارہ ہے۔دراصل یہ امتیازو خصوصیت کا اشارہ ہے اور یہ نظریے کا امتیاز ہے۔تشخص کا امتیاز ہے،نصب العین کا امتیاز ہے، ترجیحات کا امتیاز ہے اور امت کے عناصر ترکیبی کا امتیاز ہے۔“([30])

ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:”غرض حضورﷺ نے مظاہر اور لباس میں غیر مسلموں کے ساتھ تشبہ سے منع فرمایا۔حرکات وسکنات اور طور طریقوں میں بھی تشبہ بالکفار سے منع کیا گیا،قول وفعل میں تشبہ سے منع کیاگیا کیونکہ اس ظاہری شکل وصورت کے پس منظر میں درحقیقت وہ تصورات ہوتے ہیں جس کی بنیاد پر ایک نظریہ حیات دوسرے نظریے سے،ایک نظام زندگی دوسرے نظام سے اور کسی ایک قوم کا شعار دوسری قوم سے مختلف ہو جاتا ہے۔“([31])چنانچہ بندۂ مومن کو اسلامی شعار اور آداب کو اختیار کرنا چاہیے کہ یہی اللہ رب العزت کو مطلوب و مقصود ہے۔

پانچویں آیت

اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:

وَمَاكَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَالْبَيْتِ اِلَّامُكَاۗءًوَّتَصْدِيَةً ۭ فَذُوْقُواالْعَذَابَ بِمَاكُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ([32])

”اور ان لوگوں کی نماز خانہ کعبہ کے پاس سٹیاں اور تالیاں بجانے سوا کچھ نہ تھی۔ تو تم جو کفر کرتے تھے اب اس کے بدلے عذاب (کا مزہ) چکھو ۔“

مولانا صلاح الدین یوسف اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:”مشرکین جس طرح بیت اللہ کا ننگا طواف کرتے تھے، اسی طرح طواف کے دوران وہ انگلیاں منھ میں ڈال کر سیٹیاں اور ہاتھوں سے تالیاں بجاتے۔ اس کو بھی وہ عبادت اور نیکی تصور کرتے تھے۔ جس طرح آج بھی جاہل صوفی مسجدوں اور آستانوں میں رقص کرتے، ڈھول پیٹتے اور دھمالیں ڈالتے ہیں اور کہتے ہیں ۔ یہی ہماری نماز اور عبادت ہے۔ ناچ ناچ کر ہم اپنے یار (اللہ ) کو منالیں گے۔ نعوذباللہ من ہذالخرافات۔“([33])

ان اعمال کی حرمت کو بیان کرتے ہوئے علامہ قرطبی لکھتے ہیں:”حضرت قتادہ نے کہا ہے : المکاء سے مراد ہاتھوں کے ساتھ تالی بجانا ہے اور تصدیہ سے مراد چیخ مارنا ، سیٹی مارنا ہے ۔ دونوں تفسیروں کی بنا پر اس میں ان جاہل صوفیہ کا رد ہے جو رقص کرتے ہیں اور تالیاں بجاتے ہیں اور گر پڑتے ہیں ۔ یہ سب کا سب منکر ( اور ممنوع ) عمل ہے اور عقلاً ایسے عمل سے پرہیز کرتے ہیں اور محفوظ رہتے ہیں ۔ ایسا کرنے والا مشرکین کے ساتھ اس عمل میں مشابہ ہو جاتا ہے جو وہ بیت اللہ شریف کے پاس کرتے تھے ۔“([34])

چھٹی آیت

ارشاد ربانی ہے:

يٰٓاَيُّهَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْالِمَ تَقُوْلُوْنَ مَالَاتَفْعَلُوْنَ ([35])

”مومنو ! تم ایسی باتیں کیوں کہا کرتے ہو جو کیا نہیں کرتے۔“

اسی لیے علمائے سلف امت کو ڈرایا کرتے تھے کہ عالم بے عمل اور عابد بے علم کے فتنے سے بچو کیونکہ ان کا فتنہ ہر کمزور کے لیے محل خطر ہے جس نے حق کو پہچاننے کے بعد اس پر عمل نہ کیا وہ یہودیوں کے مشابہ ہے جن کے حق میں اللہ تعالی نے فرمایا ارشاد ربانی ہے:

اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّوَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَاَنْتُم ْتَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ ۭ اَفَلَاتَعْقِلُوْنَ ([36])

”(یہ) کیا (عقل کی بات ہے کہ) تم لوگوں کو نیکی کرنے کو کہتے ہو اور اپنے تئیں فراموش کیے دیتے ہو حالانکہ تم کتاب (خدا) بھی پڑھتے ہو کیا تم سمجھتے نہیں؟“

ساتویں آیت

اللہ رب العزت مومنین کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

وَلَاتَكُوْنُوْاكَالَّذِيْن َخَرَجُوْامِن ْدِيَارِهِمْ بَطَرًاوَّرِئَاۗءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْل للّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ بِمَايَعْمَلُوْنَ مُحِيْطٌ ([37])

”اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو اتراتے ہوئے (یعنی حق کا مقابلہ کرنے کے لیے) اور لوگوں کو دکھانے کے لیے گھروں سے نکل آئے اور لوگوں کو خدا کی راہ سے روکتے ہیں ۔ اور جو اعمال یہ کرتے ہیں خدا ان پر احاطہ کیےہوئے ہے۔“

علامہ عبدالرحمن بن ناصر السعدی اس آیت کے تحت لکھتے ہیں :ولاتکونواکالذین خرجوا من دیارھم بطراًورئاالناس ویصدون عن سبیل اللہ’’اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھلاتے ہوئے نکلے اور وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے“ یعنی یہ ان کا مقصد تھا جس کے لیے وہ نکل کر آئے تھے، یہی ان کا منشا تھا جس نے ان کو ان کے گھر سے نکالا تھا، ان کا مقصد صرف غرور اور زمین میں تکبر کا اظہار تھا، تاکہ لوگ ان کو دیکھیں اور وہ ان کے سامنے فخر کا اظہار کریں ۔ گھروں سے نکلنے میں ان کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ ان لوگوں کوروکیں جو اللہ کے راستے پر گامزن ہونا چاہتے ہیں (واللہ بمایعملون محیط)” اور اللہ کے احاطہ میں ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں“ اسی لیے اس نے تمھیں ان کے مقاصد کے بارے میں آگاہ کیا اور تمھیں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے ڈرایا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ عنقریب انھیں سخت سزا دے گا۔([38])

آٹھویں آیت

مسلمان جب اللہ کے نبی ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے اور آپ کے ارشادات سنتے تو اگر کوئی بات سمجھ میں نہ آتی تو کہتے راعنا یعنی اے اللہ کے نبی ہماری رعایت فرمائیں ۔یہود اللہ کے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی نیت سے اسی لفظ راعناکو ذرا دبا کر بولتے تھے تو یہ لفظ راعینا ہو جاتایعنی ہمارے چرواہے (معاذ اللہ) صحابہ بھی اسی لفظ کو استعمال کرتے تھے اللہ رب العزت کو مسلمانوں کی کفار کے ساتھ یہ مشابہت پسند نہ آئی،چنانچہ ارشاد ہوا:

يٰٓاَيُّهَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْالَاتَقُوْلُوْارَاعِنَاوَقُوْلُواانْظُرْنَاوَاسْمَعُوْا وَلِلْكٰفِرِيْن عَذَابٌ اَلِــيْمٌ ([39])

”اے ایمان والو تم نہ کہو راعنا اور کہو انظرنا اور سنتے رہو اور کافروں کو عذاب ہے دردناک۔“

تفسیر ابن کثیر میں اس آیت کے تحت ہے:”اس آیت میں اللہ تعالی اپنے مومن بندوں کو کافروں کی بول چال اور ان کے کاموں کی مشابہت سے روک رہا ہے ۔یہودی بعض الفاظ زبان دبا کر بولتے تھے اور مطلب برا لیتے تھے جب انھیں یہ کہنا ہوتا کہ ہماری سنیے تو کہتے تھے راعنااورمراد اس سے رعونت اور سرکشی لیتے تھے جیسےاور جگہ بیان ہے من الذین ھادوا الخ یعنی یہودیوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جوباتوں کو اصلیت سے ہٹا دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم سنتے ہیں لیکن مانتے نہیں،اپنی زبانوں کوموڑ توڑ کر دین میں طعنہ زنی کے لیے راعنا کہتے ہیں اگر یہ کہتے کہ ہم نے سنا اور مانا ہماری بات سنیے اور ہماری طرف توجہ کیجیے تو یہ ان کے لیے بہتر اور مناسب ہوتا لیکن ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے انھیں اپنی رحمت سے دور کر دیا ہےان میں ایمان بہت ہی کم ہے۔احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ جب یہ لوگ سلام کرتے ہیں تو السام علیکم کہتے ہیں اور سام کے معنی موت کے ہیں تو تم ان کے جواب میں وعلیکم کہا کرو ، ہماری دعا ان کے حق میں قبول ہوگی اور ان کی بد دعا ہمارے حق میں قبول نہیں ہوگی۔الغرض قول وفعل میں ان سے مشابہت کرنی منع ہے۔مسند احمد کی حدیث میں ہےمیں قیامت کے قریب تلوار کے ساتھ بھیجا گیا ہوں میری روزی حق تعالی نے میرے نیزے تلے رکھی ہے ذلت اور پستی اس کے لیے ہے جو میرے احکام کا خلاف کرے اور جو شخص کسی(غیر مسلم) قوم سے مشابہت کرے وہ انھیں میں سے ہے۔ابوداؤد میں بھی یہ مشابہت والا حصہ مروی ہے۔اس آیت اور حدیث سے ثابت ہوا کہ کفار کے اقوال وافعال، لباس، عید اور عبادت میں ان کی مشابہت کرنا جو ہمارے لیے مشروع اور مقرر نہیں سخت منع ہے اور اس پر شریعت میں عذاب کی دھمکی اور سخت ڈراوا اور حرمت ہے“۔([40]) ابن کثیر کی ان تصریحات سے معلوم ہو رہا ہے کہ اس آیت میں جہاں آداب بارگاہ رسالت کی تعلیمات دی گئی ہیں وہیں کفار سے مشابہت اور مماثلت سے بچنے کا بھی حکم دیا گیا ہے اور اسے ممنوع اور ناجائز قرار دیا گیا ہے۔اس کے ساتھ ہی اسی آیت میں مخالفت کفارکا بھی حکم دیا گیا ہے ۔ اورتشبہ اختیار کرنے پر عذاب کی وعید بیان کی گئی ہے اور حکم ربی پر عمل کی صورت میں اللہ رب العزت کی رحمت کے حصول کی نوید سنائی گئی ہے۔

نتائج و سفارشات

اوپر بیان کی گئی اس بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ تشبہ بالکفار کی ممانعت کا حکم قرآن مقدس سے بھی ثابت ہے اور متعدد آیات میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے بلکہ بعض آیات کےاقتضاالنص سے معلوم ہو رہا ہے کہ اللہ رب العزت نے قرآن مقدس میں مسلمانوں کو مخالفت کفار کا حکم دیا ہے اس لیے مسلمانوں کو عقائد و عبادات میں کسی بھی صورت میں کفار سے مشابہت اختیار نہیں کرنی چاہیے کہ یہ انتہائی ناپسندیدہ اور گناہ ہے اور بعض صورتوں میں حرام یا کفر ہے ۔ اور افعال و اعمال میں اختیار کی جانے والی مشابہت بھی ناجائز اور ناپسندیدہ ہے۔اس لیے مسلمان کو ہر صورت میں قرآن و سنت ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے کہ یہی ایک کامل مسلمان کی نشانی اور شعار ہے۔قرآن مقدس نے ایک مسلمان کو تشبہ بالکفار سےبچانے کے لیے اسے روزانہ دن میں پانچ مرتبہ صراط مستقیم پر چلنے کی یاد دہانی کروائی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسے مغضوب علیھم اور ضالین سے مخالفت کی دعا کرنے کا حکم بھی دیا ہے تشبہ بالکفار سے مسلمان راہ حق سے چوک سکتاہےلیکن اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر کی اتباع کی صورت ہی میں اجرعظیم کا حصول ممکن ہے۔ اس لیے تشبہ بالکفار سے بچ کر قرآن اور سنت کی پیروی ہی میں دنیا و آخرت کی نجات پوشیدہ ہے۔


حوالہ جات

  1. ۔مولانامناظراحسن گیلانی صاحب نےحدیث(مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْم ٍفَهُوَمِنْهُمْ)کوضعیف لکھاہے ۔مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: الف:گیلانی،سید مناظر احسن،اسلامی معاشیات ،سنگ میل پبلیکیشنزلاہور،اشاعت ۲۰۰۷ء،ص۳۰۷ ب: ضعیف ہے: دیکھیں :رشید رضا،محمد،مصری،م۱۳۵۴ھ،مجلۃ المنار،اشاعت ذی الحجہ۱۳۲۹ھ، رقم المجلد:۱۴،جز۱۲ ص ۹۰۷ ج:من گھڑت ہے:دیکھیں:طارق،رحمت اللہ،لباس اور چہرہ کیسا ہونا چاہیے؟،ادارہ ادبیات اسلامیہ ملتان،اگست ۲۰۰۰ء،ص۱۸ د۔جنگیٔ نقطہ نظر مراد لیا ہے:دیکھیں ساجد حمید،متن حدیث میں علماء کے تصرفات،در ماہنامہ اشراق،جولائی ۲۰۱۳ء، ادارہ الموردلاہور،ص۳۱ ہ۔صرف دینی شناخت مراد ہے: دیکھیے :پانی پتی،محمد اسماعیل،مولانا،مقالات سر سید،مجلس ترقی ادب کلب روڈ لاہور،طبع دوم، اشاعت ۱۹۸۴ء،ج۱ص۳۴۲-۳۴۵
  2. ۔افريقى، محمد بن مكرم بن على أبوالفضل جمال الدين ابن منظورم ۷۱۱ھ، لسان العرب، مادہ ش ب ہ،بیروت لبنان،دار صادر ، الطبعةالثالثة ۱۴۱۴ھ،ج۱۳،ص۵۰۳
  3. ۔زَّبيدي، محمّد بن محمّد بن عبد الرزّاق الحسيني، أبوالفيض، الملقّبب مرتضى، م۱۲۰۵ھ،تاج العروسمن جواهرالقاموس، بیروت لبنان،دارالهداية،سن ندارد، ج۳۶،ص۴۱۱
  4. ۔بخاری، محمد بن اسمعیل، م۲۵۶ھ، الجامع الصحیح، دارطوق النجاةمصورةعنالسلطانيةبإضافةترقي مترقي ممحمدفؤادعبدالباقي،الطبعةالأولى۱۴۲۲ھ،كِتَابُالعِلْمِ، بَابُفَضْلِمَنْعَلِمَوَعَلَّمَ،حدیث نمبر۷۹
  5. ۔مسلم بن حجاج، م۲۶۱ھ، صحیح مسلم،دار احیا التراثالعربی،بیروت لبنان،ط ندارد،كتاب الفضائل، بابذكركون ه صلىاللهعليهوسلمخاتمالنبيين،حدیث نمبر ٦٠٢٥
  6. ۔جرجاني، علي بن محمد بن عليالزين الشريف ،م۸۱۶ھ، كتاب التعريفات،بابالتاء،دارالكتبالعلمية،بیروت لبنان، الطبعة الأولىـ۱۴۰۳ھ،ج،۱ص۵۸
  7. ۔ زمخشري، أبوالقاسم محمود بن عمرو بن أحمد،جارالله ،م۵۳۸،أساس البلاغة،محقق محمد باسلعيونالسود،دارالكتب العلمية،‎بيروت لبنان ، الطبعة الأولى،۱۴۱۹ھ، ج۱ص۴۹۳
  8. ۔أصفهاني، أبوالقاسمالحسين بن محمد المعروف بالراغب،م۵۰۲ھ،المفردات في غريب القرآن، تحقيق صفوان عدنان داودى،‎دمشق بيروت لبنان،دارالعلم الدارالشامية،سنةالطبع ۱۴۱۲ھ، ج ۱ص۴۴۳
  9. ۔ ایضاً
  10. ۔ماخوذ :مصري، زين الدين بن إبراهيم المعروف بابن نجيم م ۹۷۰ھ، البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري ، بیروت لبنان،دار الكتاب الإسلامي، الطبعة الثانية ،بدون تاريخ، ج۲،ص۱۱
  11. ۔گیلانی،سید مناظر احسن،اسلامی معاشیات ، ص۳۰۷
  12. ۔امجدی،مفتی جلال الدین،فتاوی فیض الرسول ، لاہور اردو بازار،شبیربرادرز،لاہور،اشاعت ۱۹۹۳ء، ج ۲،ص ۶۰۰
  13. ۔تھانوی،مولانا اشرف علی،م ۱۹۴۳ء،اصلاح الرسوم ، ٹی بی ہسپتال روڈ ملتان ،مکتبہ حقانیہ ،سن ندارد، ص۳۵
  14. ۔ آل عمران:۱۵۶
  15. ۔طبري، أبو جعفر محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب الآملي،م۳۱۰ھ،جامع البيانفي تأويل القرآن المعروف تفسیر الطبری ، محقق أحمد محمد شاكر،مؤسسةالرسالة، بیروت لبنان،الطبعة الأولى۱۴۲۰ھ بمطابق۲۰۰۰ء، جز۷،ص۳۳۱
  16. ۔السعدي، عبد الرحمن بن ناصر بن عبد الله،۱۳۷۶ھ، تيسير الكريم ا لر حمن في تفسير كلام ا لمنان ا لمعر وف تفسيرالسعدي،محقق عبد الرحمن بن معلا اللويحق،مؤسسةالرسالة، بیروت لبنان ، الطبعةالأولى ۱۴۲۰ھ بمطابق۲۰۰۰ء،ج۱، ص۱۵۳
  17. ۔کاندھلوی،مولانا محمد ادریس،م١٣٩٤ ھ،معارف القران،مکتبۃالمعارف دارالعلوم الحسینیہ شہداد پور سندھ ، ط دوم ، اشا عت ۱۴۲۲ھ، ج۲،ص ۷۳
  18. ۔پانی پتی،قاضی ثناء اللہ،م۱۲۲۵ھ، تفسیر مظہری،محقق غلام نبي التونسي،مكتبة الرشیدية الباکستان ، الطبعة ۱۴۱۲ھ، ج۱،ص ٦٠٦
  19. ۔ السيوطي،عبدالرحمن بن أبي بكر، جلال الدين، م۹۱۱ھ، الدرالمنثور،دارالفكر بیروت لبنان،سن ندارد، ج۲،ص۳۵۷
  20. ۔ النسفی، علامہ ابو البرکات عبداللہ بن احمد بن محمود،م ۷۱۰ ھ،مدارکالتنزیل و حقائق التاویل ، تحقیق مروان محمد الشعار، دارالنفائس بیروت لبنان،اشاعت٢٠٠٥ء، ج۱،ص١٨٧
  21. ۔قرطبی، ابو عبداللہ محمد بن احمدبن ابو بکر،م۶۷۱ھ،الجامع لاحکام القران ، تحقيق أحمد البردونيوإبراهيم أطفيش،القاہرہ،دار الكتب ا لمصرية،الطبعةالثانية۱۳۸۴ھ بمطابق ۱۹۶۴ء، ج٤،ص٢٤٦
  22. ۔ یوسف : ۸۷
  23. ۔سعدي، عبد الرحمن بن ناصر بن عبد الله،۱۳۷۶ھ، تيسير الكر يم الر حمنفي تفسير كلام ا لمنان ا لمعر وف تفسيرالسعدي، جز١،ص٤٠٤
  24. ۔یوسف،مولانا صلاح الدین، احسن البیان،شاہ فہد قران کریم پرنٹنگ کمپلیکس سعودی عرب،سن ندارد، ص ٦٦٨
  25. ۔البقرہ: ۲۰۸
  26. ۔ جلال الدين محمد بن أحمدالمحلي م۸۶۴ھ،السيوطي،عبد الرحمن بن أبي بكر، جلال الدين، م۹۱۱ھ،تفسيرالجلالين، ،دارالحديث القاہرہ ،الطبعةالأولى،سن ندارد، جز۱ص۴۳
  27. ۔نعیمی ،مفتی احمد یار خان ،نور العرفان ،نعیمی کتب خانہ گجرات،سن ندارد، ص ۳۹
  28. ۔البقرہ :۱۴۴
  29. ۔طبري، أبو جعفر محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب الآملي، م۳۱۰ھ، جامع البيان في تأويل القرآن، محقق أحمد محمد شاكر، ج۳،ص۱۷۳
  30. ۔شہید،سید قطب،م۱۹۶۶ء،تفسیر فی ظلال القران، درس ۸،مترجم:سید معروف شاہ شیرازی، ادارہ منشورات اسلامی بالمقابل منصورہ ملتان روڈ لاہور ،طبع سوم ۱۹۹۷ء، ج ۱،ص۱۹۰
  31. ۔ایضاً، ص ۱۸۹
  32. ۔ الانفال: ۳۵
  33. ۔ یوسف،مولانا صلاح الدین، احسن البیان، ص۴۸۸
  34. ۔ قرطبی، ابو عبداللہ محمد بن احمدبن ابو بکر،م۶۷۱ھ،الجامع لاحکام القران المعروف تفسیر قرطبی ،ج٧،ص٤٠٠
  35. ۔ الصف:۲
  36. ۔ البقرہ:۴۴
  37. ۔الانفال:۴۷
  38. ۔سعدي، عبد الرحمن بن ناصر بن عبد الله،۱۳۷۶ھ، تيسير الكريم ا لرحمن في تفسير كلام ا لمنان ا لمعر و ف تفسير السعدي جز،ص۳۲۳
  39. ۔ البقرہ:۱۰۴
  40. ۔ابن کثیر، أبوالفداءإسماعيل بن عمر بن كثيرالقرشي البصري ثم الدمشقي،م۷۷۴ھ،تفسير القرآن العظيم (ابن كثير) ،محقق محمد حسين شمس الدين،دارالكتب العلمية، بیروت لبنان، منشورات محمد علي بيضون، الطبعة الأولى۱۴۱۹ھ، ج۱،ص۲۵۶-2۵۷