خلع میں شوہر کی رضامندی کے دلائل اور عدالت کا دائرہ اختیار: تجزیاتی مطالعہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ التفسیر
عنوان خلع میں شوہر کی رضامندی کے دلائل اور عدالت کا دائرہ اختیار: تجزیاتی مطالعہ
مصنف اسماعیل، محمد اویس
جلد 35
شمارہ 1
سال 2020
صفحات 131-146
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Khula, Husband willingness’s arguments, Court.
شکاگو 16 اسماعیل، محمد اویس۔ "خلع میں شوہر کی رضامندی کے دلائل اور عدالت کا دائرہ اختیار: تجزیاتی مطالعہ۔" التفسیر 35, شمارہ۔ 1 (2020)۔
شیخ سعید حوی اور ان کی تفسیر: ایک مطالعہ
علامہ اسید الحق قادری بدایونی کی کتاب ”قرآن کی سائنسی تفسیر“: ایک مطالعہ
ترجمۃ القرآن از عبد السلام بن محمد کے خصائص و ممیزات اور تفسیر القرآن کا تحقیقی مطالعہ
علماء اہلسنت (بریلوی) کی تفاسیر کا اسلوب بیان: ایک جائزہ
مذہبی اجارہ داری کے انسداد میں مفسرین کی خدمات کا تجزیاتی مطالعہ
تشبہ بالکفار اور قرآنی تعلیمات: ایک تحقیقی جائزہ
عورت کی ازدواجی حیثیت اور تولیدی صحت سے متعلق تصورات کا تجزیہ
خلع میں شوہر کی رضامندی کے دلائل اور عدالت کا دائرہ اختیار: تجزیاتی مطالعہ
قتل غیرت اور اسلامی تعلیمات: فیصل آباد ڈویژن کے تناظر میں: ایک تجزیاتی جائزہ 2016ء تا 2018
سیرت رسول ﷺ اور انسانیت کا احیاء تہذیبوں کے پیرائے میں
عہد رسالت میں مملکت کا بنیادی تصور: ایک تحقیقی جائزہ
سماج کے کمزور طبقات کے ساتھ رسول اللہﷺ کا طرز عمل
صوفیہ کے ملفوظاتی ادب میں معجزہ معراج النبی ﷺ: ایک مطالعہ
ماحولیات، جدید چیلنج اور تعلیمات نبوی ﷺ
فقہی مسائل میں تطبیق: ” کتاب المیزان “ کا تعارف و جائزہ
امام غزالی کے فکری اسفار کا مطالعہ
مولانا ابو یوسف محمد شریف محدث کوٹلوی کی خدمات حدیث شریف
اسلام اور مغرب میں خاندانی نظام کا تقابلی جائزہ
فیملی بزنس میں زکوۃ کے مسائل اور ان کا حل
تجارت میں جعل سازی کا بڑھتا ہوا رحجان اور حکومتی ذمے داریاں
لسان العرب کا تعارفی و تحقیقی مطالعہ
Evolution of Arabic Literature in Nigeria: Case Study of Tafa’sir
Stealing, Usury, Wine and Divorce in the Sami Religions of the World
Haq Bakhshish (Marriage to Quran) : A Custom Confused With Religion: A Case Study of Qaisra Sharaz’S Protogonist ‘Zari Bano’ from the Novel Holy Woman
Religious Education and Community Services: Importance of Islamic Studies Education As Tool for Social Services and Community Welfare
Role of Media in Building an Islamic Society
Soft Power: An Invasion to Pakistani Culture

Abstract

Islam is an impartial religion and demands justice in every aspect of life. The glimpse of justice of Islam can be seen in the family laws. Islam has prescribed clear guidelines for the unification of family structure and emphasized on it with utmost stress. But even though the conflict between husband and wife reaches to threshold, Islam also has recommended guidelines of separation between husband and wife in a very sensible manner i.e., husband can divorce the wife and similarly wife has the right to attain separation : . (خلع) If woman wants to get separation from her husband, she can exercise her right of (خلع) . Is it necessary to have consent of husband in this process or not? Sometimes husband does not get ready to divorce the wife on her demand and in that case wife approaches court and consequently court orders the separation between husband and wife when husband refuses to divorce. It is to be examined the applicability of the court decision of separation between husband and wife, and the Shari’ah legitimacy of that act. In this regard, scholars are of two opinions; according to the renowned four schools of thoughts, the consent of husband is inevitable in implementation of divorce. But few of the contemporary scholars opined that divorce is operational even without the consent of husband when woman asks for separation. In this research study a detailed analysis is carried out on the opinions of scholars who are of the view that consent of husband is compulsory in implementation of divorce.

If woman wants to get separation from her husband, she can exercise her right of (خلع). Is it necessary to have consent of husband in this process or not? Sometimes husband does not get ready to divorce the wife on her demand and in that case wife approaches court and consequently court orders the separation between husband and wife when husband refuses to divorce.

It is to be examined the applicability of the court decision of separation between husband and wife, and the Shari’ah legitimacy of that act. In this regard, scholars are of two opinions; according to the renowned four schools of thoughts, the consent of husband is inevitable in implementation of divorce. But few of the contemporary scholars opined that divorce is operational even without the consent of husband when woman asks for separation. In this research study a detailed analysis is carried out on the opinions of scholars who are of the view that consent of husband is compulsory in implementation of divorce. The analysis shall examine the

universality and finality of rationales presented by these scholars and would it be possible to have any second opinion in this regard.

KEYWORDS: Khula, Husband willingness’s arguments, Court.

اسلام متوازن اور اعتدال والا دین ہے اور زندگی کے ہر معاملے میں اعتدال چاہتا ہے ۔اوراس کی ایک جھلک اسلام کے عائلی قوانین laws) (Family میں بھی نظر آتی ہے اسلام نے خانگی رشتے کو قائم رکھنے کی بھر پور ہدایات کی ہیں مگر جب اس رشتے کو زوجین کے لیے بر قرار رکھنا مشکل ہو جائے تو اس صورت میں اسلام نے مرد اور عورت دونوں کے حقوق کا خیال رکھا ہے ۔ اگر ان کا ایک دوسرے کے ساتھ نبھ مشکل ہو اور اصلاح کی کوشش کے باوجود ان کا ایک دوسرے کے ساتھ رہنا مشکل ہو رہا ہو تواس صورت میں جب بیوی کی طرف سےحقوق کی ادایگی میں کوتاہی ہو رہی ہو تو مرد کو طلاق کا اختیار دیا ہے اگر مرد کی طرف سے مسائل پیدا کیے جا رہے ہوں تو بیوی کو خلع کا اختیا ر دیا ہے۔

علمائے دین کہتے ہیں کہ نکاح ایک معاملےکی طرح ہے تو اس میں معاملات بھی باہمی رضا مندی سے ہونے چاہیے اب اگر کوئی خاتون کسی وجہ سے خلع چاہتی ہے اور مرد اس پر راضی نہیں ہے تو کیا کیا جائے گا کیا عدالت شوہر کی غیر موجودگی میں خلع کا فیصلہ سنا سکتی ہے یا نہیں آیا اس معاملے میں عدالت کو کچھ اختیارات ہیں یا جب تک مرد راضی نہ ہو خاتون کو اسی کے ساتھ رہنا پڑے گا۔ اس مقالے میں عدالتی خلع میں بھی شوہر کی رضامندی لازمی قرار دینے کے جو دلائل ہے ان کا تجزیہ کیا گیا ہے کہ کس حد تک شوہرکی رضامندی ضروری ہے؟اور کیا یہ دلائل حتمی اور قطعی ہیں کہ اس کے بغیر کوئی دوسری راے اختیار نہیں کی جاسکتی ؟یا اس میں دوسری راے کا احتمال بھی ممکن ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں درست بات تک پہنچنےکی توفیق عطا فرمائے۔آمین

اس موضوع پر سب سے پہلے خلع کی بنیادی تعریف اور فقہی اصطلاحی مفہوم کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ اس کا پورا مفہوم واضح ہوجائے ۔خلع کا لفظ عربی زبان میں کسی چیز کو اتارنے کے معنٰی میں آتا ہے۔ابنِ منظور الافریقی لکھتے ہیں:

خلع امرأته وخالعها إذا افتدت منه بمالها فطلقها وأبانها من نفسه، وسمی ذلک الفراق خلعا؛ لان الله تعالی جعل النساء لباسا للرجال، والر جال لباسا لهن([1])

”اس نے عورت کو خلع دیا اور اس نے خلع کیا جب خاتون اپنے مال کے ذریعے اس کو فدیہ اد اکرے اور مرد اسےطلاق دے دےاور اس کواپنے آپ سے جدا کر لے تواس جدائی کو خلع کہا جا تا ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا لباس بنایا ہے۔ “

اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کےازدواجی تعلق کو انتہائی خوبصورت پیرائے میں بیان کیا ہےکہ ان دونوں کو ایک دوسرے کے لباس سے تشبیہ دی ہے جس طرح لباس انسان کو گرمی ،سردی سے بچاتا ہےاس کو خوبصورتی عطاکرتا ہے اس کی ستر پوشی کرتا ہےاور اس کےوقار میں اضافے کا باعث ہے اسی طرح شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے غم خوار ،رازدان اور مصائب میں معاون و ممد ہوتے ہیں وہ جب ایک دوسرےسے علیحدگی اختیار کرتےہیں تو گویا وہ اپنا لباس اتار تے ہیں اور اس علیحدگی کو علماخلع کہتے ہیں ۔

اصطلاحی مفہوم

مشہور مذاہب (حنفی،مالکی ،شافعی اور حنبلی ) کے فقہا و مؤلفین نےاپنے نقطۂنظر کے اعتبار سے خلع کی مختلف تعریفیں کی ہیں یہاں چاروںمذاہب کے فقہاو مؤلفین نےخلع کی جواصطلاحی تعریفیں کی ہیں وہ ذکر کی جارہی ہیں تاکہ اس کااصطلاحی مفہوم واضح ہوکرسامنے آجائے۔

فقہ حنفی

ابنِ عابدین حنفی خلع کی تعریف یوں کرتے ہیں :

هو إزالة ملک النکاح المتوقفة علی قبولها بلفظ الخلع أو ما فی معناه([2])

”لفظ ِخلع یا اس کےہم معنی لفظ کے ذریعے ملکیت ِ نکاح ختم کرنے کو خلع کہتے ہیں جو عورت کے قبول کرنے پر موقوف ہوتا ہے۔“

گویا احناف کے نزدیک خلع کے لیے لازمی چیز لفظ خلع یا ہم معنیٰ لفظ کا ہونا ضروری ہے کیونکہ اگر ان الفاظ کا استعمال نہ کیا گیا تو پھر طلاق بالمال اور خلع میں کوئی فرق نہیں رہے گا حالانکہ ان دونوں کے احکام الگ الگ ہیں اس لیے خلع میں الفاظ کا خیا ل رکھنا ضروری ہے تاکہ ان دونوں میں فرق رہے۔ اور عورت کے قبول کرنے پر اس لیے موقوف ہے کہ اس نے عوض دینا ہوتا ہے لہذا اس کی رضا مندی بھی ضروری ہے ۔

فقہ مالکی

مختصر خلیل میں لکھا ہے: جاز الخلع وهو: الطلاق بعوض وبلا حاكم وبعوض من غيرها إن تأهل([3])

”خلع جائز ہے اور یہ طلاق بعوض اور بلا حاکم اور بیوی کے علاوہ کسی اور سے عوض لینے کا نام ہے اور وہ اس کا اہل بھی ہو ۔“

مالکیہ کے نزدیک پہلی بات یہ ہے کہ خلع میں حاکم کا ہونا ضروری نہیں ہے اور دوسری بات یہ ہےعوض کا ہونا ضروری ہے ۔

فقہ شافعی

خطیب شربینی نے خلع کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے :

هو فرقة بين الزوجين بعوض بلفظ طلاق أو خلع ([4])

”خلع زوجین کے درمیان کسی چیز کے بدلے میں لفظِ طلاق یا خلع کے ذریعے جدائی کانام ہے ۔“

گویا شوافع کے نزدیک خلع میں الفاظ کی اتنی اہمیت نہیں ہے وہ کہتے ہیں کہ لفظ طلاق سے بھی خلع ہوجا تا ہے اور لفظ خلع سے بھی البتہ اس میں عوض کا ہونا ضروری ہے ۔اور یہ الفاظ میں فرق اس لیے نہیں کرتے کہ ان کے نزدیک طلاق با لمال اور خلع میں کوئی فرق نہیں ہے ۔

فقہ حنبلی

وهو فراق الزوج امرأته بعوض يأخذه الزوج من امرأته أو غيرها بألفاظ مخصوصة ([5])

”شوہر کا بیوی کو،اس عوض کے بدلے جو وہ اس سےیا کسی اور سےلیتا ہےالفاظ مخصوصہ کے ذریعے چھوڑ دینا خلع کہلاتا ہے ۔“

تعریف کے ان الفاظ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ حنبلی فقہا کے نزدیک خلع میں مخصوص الفاظ اور عوض کا ہونا ضروری ہے ۔

خلع میں قاضی(Judge)کے فیصلے کا حکم

اسلام میں ایسے تنازعات جن کا فیصلہ اس مسئلے کے دونوں فریق آپس میں مل بیٹھ کر نہ کرسکیں تو ان کے لیے ایسی صورت حال میں عدالت کی طرف رجوع کرنے کا راستہ رکھا گیا ہے ۔انہیں تنازعات میں سےمیا ں ،بیوی کے آپس کے اختلافات بھی ہیں تاریخ ِاسلام میں گھریلو اختلاف کی وجہ سےسب سے پہلا جومقدمہ درج ہوااورجس میں علیحدگی کا مطالبہ کیا گیا تھا وہ ثابت بن قیسؓ کی زوجہ کا مقدمہ تھا ۔ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعدبھی خلفاےراشدین کے دور میں عورتیں گھریلو ناچاقیوں کی شکایات لے کر آتی رہیں ہیں اور ان میں بعض اوقات خلع کے فیصلے بھی کیے گئے ۔ اس حوالے سے کہ ‘خلع کے لیے عدالت سے مدد لی جا سکتی ہے’کوئی نیا تصورنہیں ہے بلکہ بعض فقہا کے نزدیک مثلاسعید بن جبیر،ابن سیرین([6])وغیرہ کے نزدیک خلع کے لیے عدالت ہی سے فیصلہ حاصل کرنا ضروری ہےاس کے بغیر خلع نہیں ہوسکتا ۔اس کے برعکس دیگر فقہا کی راے ہے کہ خلع میں صرف میاں ،بیوی کی رضا مندی کافی ہے اس کے لیے عدالت کا ہونا ضروری نہیں ہے ۔لیکن بعض اوقات شوہر بیوی کی طرف سے خلع کی پیشکش کے باوجود خلع کے لیے راضی نہیں ہوتا اور بیوی بھی اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو اس صورت میں بیوی عدالت کی طرف رجوع کرتی ہے اور عدالت اس مقدمے میں خلع کی ڈگری جاری کردیتی ہےاور شوہر کی رضامندی کا اعتبار نہیں کیاجاتاتو کیاعدالت کا خلع کے لیے یہ یک طرفہ فیصلہ سنا دینا شرعی طور پر معتبر بھی ہوگا یا نہیں ؟ یہاں سے علمی حلقوں میں اس بحث کا آغاز ہوگیا کہ عدالت کی طرف سے اگر شوہر کی رضامندی کے بغیرخلع کا فیصلہ کردیا جائے تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہوگی ؟

عدمِ جواز کی رائے اور ان کے دلائل

سپریم کورٹ آف پاکستان کے ۱۹۶۷ء میں خلع کے حوالے سے دیےگئے ایک فیصلے([7])پرپاکستان کے کئی سارے علماے کرام نے اس پر شدید تنقید کی اور یہ تبصرہ کیا گیا کہ شوہر کی رضا مندی کے بغیر عدالت خلع کا فیصلہ نہیں سنا سکتی۔کورٹ کا فیصلہ کہ ‘‘اگر عدالت تحقیق کے ذریعہ اس نتیجے تک پہنچ جائے کہ زوجین حدود اللہ کو قائم نہیں رکھ سکیں گے توعدالت شوہر کی رضا مندی کے بغیر خلع کراسکتی ہے’’۔ان کے نزدیک یہ موقف ‘‘جمہور امت کے خلاف اور شرعی اعتبار سے نادرست ہے’’([8])مزید یہ کہ:

”ہماری تحقیق کی حد تک امت اسلامیہ کے تقریباََ تمام فقہا مجتہدین اس بات پر متفق ہیں ،اور قرآن و سنت کے دلائل بھی اسی کی تائید کرتے ہیں کہ خلع فریقین کی باہمی رضا مندی کا معاملہ ہے اور کوئی فریق دوسرےکو اس پر مجبور نہیں کرسکتا۔“ ([9])

اور خلع میں شوہر کی رضا مندی لازمی ہونے کے حوالے سے جن دلائل کو مدِ نظر رکھا گیا تقریبا ان تمام علما نے درج ذیل دلائل سے استدلال کیاہے:

اس تفصیل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ آیتِ خلع میں تین جملے ایسےہیں جو واضح طور پر شوہر اور بیوی دونوں کی رضامندی کا مفہوم رکھتے ہیں:

۱۔إلا أن يخافا ألا يقيما حدود اللّه(مگر یہ کہ ان دونوں میاں ،بیوی کو احتمال ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھیں گے )

۲۔فيما افتدت به (اس مال میں جو عورت بطور فدیہ دے)

۳۔فلا جناح عليهما (تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں ) ([10])

اور اس کے علاوہ شوہر کی رضا مندی کے حوالے سے ان دلائل کے علاوہ یہ دلیل بھی ذکر کی گئی ہے کہ:آیت وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ ما فَرَضْتُمْ إِلاَّ أَنْ يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَا الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكاحِ میں موجود الفاظ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكاحِ ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ(وہ شخص جس کے ہاتھ میں نکاح کا تعلق ہے )سے مراد خود آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق شوہر ہے ،جس کے بارے میں آیت نے واضح کردیا کہ نکاح کا رشتہ تنہا اسی کے ہاتھ میں ہے لہذا اس رشتے کو اس کے سوا کوئی ختم نہیں کرسکتا ۔([11])

دلائل کاتجزیہ

جن علماے کرام کی یہ راے ہے کہ خلع ایک معاملے کی طرح ہے اور اس میں جانبین کی رضا مندی ضروری ہے کوئی فریق کسی دوسرے کو اس حوالے سے مجبور نہیں کرسکتا اور نہ ہی کسی تیسرے فریق کو اس میں مداخلت کا حق حاصل ہے اس حوالے سے وہ قرآنی الفاظ سے استدلال کرتے ہیں کہ خلع کاجہاں جہاں تذکرہ ہے وہاں میاں، بیوی دونوں کا ایک ساتھ ذکر ہے لہذا ان دونوں کی رضا مندی بھی ضروری ہے ۔غورکرنے کی بات ہے کہ خلع میں شوہر کی رضامندی کی جو دلائل دیے گئے ہیں وہ سب کے سب قرآنی آیات سے مستنبط ہیں اور اس سلسلے میں جو احادیث آئی ہیں اس کو ذکر نہیں کیا گیا ۔ حالانکہ کسی بھی فقہی مسئلے کو حل کرنے کے لیے قرآنی آیات اور اس سے متعلق احادیث کو مدِ نظر رکھ کر تمام پہلؤوں کا جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے ۔ اور اس بات کو پروفیسر ڈاکٹر محمد منیر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ :‘‘اس بیانیہ سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ جمہور فقہا، خلع بالخصوص اس میں شوہر کی رضا مندی کے حوالے سے احادیث اور کسی حد تک قرآنِ مجید سے مختلف موقف رکھتے ہیں ۔اس بات میں کوئی شبہہ نہیں کہ قرآنی آیات کی مزید تشریح حبیبہ کے واقعے سے ہوتی ہے اور رسولِ اکرم ﷺ کا فیصلہ نظیر کی حیثیت رکھتا ہے ۔’’ ([12])

ذیل میں ان دلائل کا تجزیہ کیا جارہا ہے جو اوپر ذکر کیےگئے ہیں:

دلیل اول

خلع میں شوہر کی رضامندی رکھنے کے حوالے سے جو پہلی دلیل دی گئی ہے وہ یہ کہ إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِآیت کے ان صیغوں میں شوہر اور بیوی دونوں کا ایک ساتھ ذکر ہے لہذا دونوں کی رضامندی کے بغیر خلع کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا ہے ۔

تجزیہ

جس آیت کے الفاظ سے یہ استدلال کیا گیا ہے اس کےمتصل بعد یہ الفاظ ہیںفَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللهاور خفتم میں کن سے خطاب ہے اس حوالے سےامام قرطبی اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

قوله تعالى: فإن خفتم ألا يقيما أي على أن لا يقيما. (حدود اللّه) أي فيما يجب عليهما من حسن الصحبة وجمیل العشرة. والمخاطبة للحكام والمتوسطين لمثل هذا الأمر وإن لم يكن حاكما([13])

اللہ تعالٰی کا قول فإن خفتم ألايقيمایعنی کہ اس بات پر خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکتے جو ان دونوں پر لازم ہے حسنِ سلوک اور اچھے میل جول کے حوالے سے۔اور (خفتم)میں خطاب حکام اور ان درمیان کے لوگوں کو ہے جو ایسے معاملات حل کرتے ہیں اگر چہ وہ حاکم نہ ہو۔

اسی تفسیر روح البیان میں اس آیت کی تشریح میں لکھا ہے:

فإن خفتم أيها الحکام([14])”اگر تمہیں خوف ہو اےحکام ۔“

ابن ابی حاتم اپنی تفسیر میں کہتے ہیں :

قوله تعالى: فإن خفتم أخبرنا موسى بن هارون الطوسي فيما كتب إلي ثنا الحسين بن محمد المروذي، ثنا شيبان، عن قتادة فإن خفتم يعني: الولاة. ([15])

اللہ تعالٰی کا قول فإن خفتم سے متعلق ہمیں خبر دی موسی بن ہارون طوسی نے اس تحریر میں جو اس نے میری طرف لکھی تھی ہمیں بیان کیا حسین بن محمد مروذی نے ہمیں بیان کیا شیبان نے قتادہ سے روایت ہے فإن خفتمیعنی اس سے مراد حکام ہیں۔ شوکانی اپنی تفسیر فتح القدیر میں اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں :

وقوله: فإن خفتم ألا يقيما حدود اللّه أي: إذا خاف الأئمة والحكام، أو المتوسطون بين الزوجين- وإن لم يكونوا أئمة وحكاما- عدم إقامة حدود اللّه من الزوجين، وهي ما أوجبه عليهما كما سلف([16])

اور اللہ کا قول فإن خفتم ألا يقيما حدود اللّه یعنی جب آئمہ اور حکام اور اسی طرح زوجین کے درمیان مصالحت کرانے والوں کو (اگر چہ وہ آئمہ اور حکام میں شمار نہ ہوتے ہوں)زوجین کی جانب سے حدوداللہ کے عدم قیام کا خوف ہو اور یہ وہ چیزیں ہیں جو ان دونوں پہ لازم کی گئی ہے جیسے کہ اس کی تفصیل گزر چکی ہے ۔

لہٰذا خفتم کی اس تشریح سے معلوم ہوتا ہے کہ خلع کے معاملے میں صرف شوہر اور بیوی ہی کافی نہیں بلکہ ایک حد تک معاملہ پہنچ جانے کےبعد حکام اور دیگر افرادبھی اس میں شامل ہیں اور وہ ان دونوں کے حق میں جو بہتر سمجھیں وہ فیصلہ کرسکتے ہیں ۔اگر حکام کو مخاطب کرنے کے بعد ان کے دائرہ اختیار میں کچھ بھی نہ دیا جائے اور محض ایک ایسے فریق کے طور پر ان کا ذکر کیا جائے جو صرف معاملہ دیکھے لیکن معاملے کو حل کرنے میں ان کا کوئی کردار نہ ہو تو یہ بڑی عجیب صورتحال ہوجائے گی ۔ اسی بات کو سید مودودیؒ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ:

”اگر فی الواقع قاضی اس معاملے میں صر ف سماعت کا اختیار رکھتا ہو ،مگر مرد کے راضی نہ ہونے کی صورت میں اس سے اپنا فیصلہ منوانے کا اقتدار نہ رکھتا ہو ،تو قاضی کو مرجع قرار دینا سرے سے فضول ہی ہوگا ۔ کیونکہ اس کے پاس جانے کا نتیجہ بھی وہی ہے جو نہ جانے کا ہے ۔“ ([17])

دلیل دوم

خلع کے فدیےکے حوالے سے جو لفظ افتداءآیا ہے اس حوالے سے ابن قیم کی راے کی روشنی میں استدلال کرتے ہیں کہ افتداء اس وقت ہوتا ہے جب غلام اپنی آزادی کی قیمت ادا کرے اور اس میں دونوں فریق راضی ہو تے ہیں تبھی یہ معاملہ طے پاتا ہے لہذا یہاں پر بھی دونوں فریقین میاں اور بیوی کی رضامندی ضروری ہےلہذا‘افتداء میں جانبین کی رضامندی سے ہی معاملہ طے پاتا ہے ۔

تجزیہ

یہاں پر بھی ضروری نہیں کہ افتداء میں جانبین کی رضامندی ضروری ہو قرآنِ مجید میں ایک اور مقام پر اس لفظ کا استعمال ہوا ہے:

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَماتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِمْ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَباً وَلَوِ افْتَدى بِهِ

”بے شک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور مر گئے اس حال میں کہ وہ کافر ہی تھے تو ان میں سے اگر کوئی زمین کے برابر سونا بھر کر (عذاب سے چھٹکارے کے لیے) فدیہ دے تو ان سے یہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔“([18])

اس آیت میں وہی لفظ آیا ہے جو آیت خلع میں تھا مگر یہاں پر ایک جانب سے بخوشی معاوضہ دینے کا اظہار ہے تو دوسری جانب سے عدمِ رضامندی کا اظہار ہے ۔تو آیتِ خلع میں اسی لفظ کو لے کر ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ‘افتداء میں جانبین کی رضامندی سے ہی معاملہ طے پاتا ہے ۔اور ایسے معاملے میں دونوں جانب کی رضا مندی ضروری ہے اور دوسری جانب سے عدم رضا مندی کی وجہ سےفیصلہ نہیں ہوسکتا حالانکہ وہاں پر تو صرف عورت کاذکر ہے ؟اگر یہاں کوئی یہ اشکال پیش کرے کہ مذکورہ بالا آیت میں صراحتا دوسری طرف سے عدم ِ رضامندی کا اعلان ہے اور آیت خلع میں ایسا نہیں ہے لہذا اس سے استدلال ٹھیک نہیں ہے۔تو اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ جب خلع میں نزاع اور جھگڑے کی بات آگئی اور حکام کو بھی اس مسئلے میں شامل کرکے فیصلے کا اختیار دیا ہے تو پھر وہ جو فیصلہ کریں گے یقیناوہ ایک فریق کے لیے باعث اطمینان ہوگا اور دوسرے فریق کو لا محالہ اپنی رضامندی کے بغیر اس کو قبول کرنا پڑے گا۔اور یہ بات کہ خلع میں فیصلے کی بات کہاں سے آگئی اور احادیث میں یہ واقعہ جو مذکور ہے کیا وہ قضاسے متعلق تھا؟ اس کا جواب بھی ہمیں اس حدیث سے ملتا ہے جو امام قرطبی نے دار قطنی کے حوالے سے نقل کی ہے کہ خلع کا وہ معاملہ ایک فیصلہ تھا نہ کہ مشورہ جب ثابت بن قیس تک اس فیصلے کی خبر پہنچی تو ان کے الفاظ یہ تھے :فلما بلغ ذلك ثابت بن قيس قال: قد قبلت قضاء رسول اللّه صلّى اللّه عليه وسلم([19])

جب ثابت بن قیس تک یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کو قبول کر لیا ۔

حتٰی کےحدیث میں آتا ہے کہ ثابت اپنی بیوی سے شدید محبت کرتے تھے اور وہ ان سے شدید نفرت کرتی تھی

فيقال: إنها كانت تبغضه أشد البغض وكان يحبها أشد الحب ففرق رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم بينهما بطريق الخلع([20])

”پس یہ بات کہی گئی ہے کہ وہ (ثابت کی بیوی)اپنے شوہر سے شدید نفرت کرتی تھی اور ثابت اس سے شدید محبت کرتا تھا لیکن رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان خلع کے ذریعے جدائی کردی۔“

اور اما م شوکانی نے تو دار قطنی کے حوالے سے جو الفاظ نقل کیے ہیں وہ تو صراحت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے خود ہی وہ معاوضہ وصول کر کے ثابت کی بیوی کو جانے دیاحدیث کے الفاظ ہیں :فأخذها له وخلى سبيلها([21]) ”پس نبی کریم ﷺ نے وہ معاوضہ ثابت کے لیے لے لیا اور اس کا راستہ چھوڑ دیا ۔“

اب اگر یہ مشورہ ہوتا یا فریق ثانی کی رضامندی اتنی ہی ضروری ہوتی کہ اس کے بغیر فیصلہ نہ ہوسکے تو پھر انہوں نے اس کو قبول کیوں کیا وہ انکار کرسکتے تھے ایسا ہی ایک مقدمہ بریرہؓ اور ان کے شوہر مغیث ؓ کا نبی کریمﷺ کے جناب میں پیش ہوا تھا وہاں رسول اللہﷺنے بریرہ ؓ کو فرمایا تھا کہ تم مغیث سے نکاح نہ توڑو مگر وہ نہ مانی اس لیے کہ یہاں پر نبی کریم ﷺ نے ان کو مشورہ دیا تھا اور رشتہ قائم رکھنےاور نہ رکھنے کا اختیار بریرہ ؓ کو حاصل تھا ۔([22])

دلیل سوم

اسی طرح فلا جناح عليهماکے الفاظ سے استدلال کیا گیاہے کہ ،معمولی غوروفکر سے یہ بات سمجھ میں آسکتی کہ الفاظ اپنے ضمن میں شوہر اور بیوی دونوں کی رضامندی کا واضح مفہوم رکھتے ہیں ۔

تجزیہ

اگر اس دلیل کے حوالے سے یہ بات کہی جائے کہ ضروری نہیں کہ ایک معاملےجہاں دو افراد کا ایک ساتھ تذکرہ کیا جائے وہاں ان دونوں کی رضامندی بھی ہو۔ یہ کوئی قاعدہ کلیہ نہیں ہےکہ ہمیشہ جن دو فریقوں کا ذکر ایک ساتھ کیا جائے وہاں اس معاملے میں ان دونوں کی رضامندی بھی شامل ہوتی ہے ۔

ضروری نہیں کہ خلع کے اس معاملے میں شوہر اور بیوی دونوں ہی مراد ہو، ممکن ہے کہ یہاں پر صرف بیوی کا تذکرہ مقصود ہو کیونکہ پچھلی آیت میں جس طرح شوہر کو معاوضہ لینے سے روکا گیا ہے تو اسی طرح یہاں یہ سوال ذہن میں آسکتا ہے کہ بیوی کے لیے معاوضہ دینا جائز ہےیا نہیں تو اس اشکال کا جواب دیا جا رہا ہے کہ بیوی دے سکتی ہے البتہ ایک سلسلہ چل رہا ہے تو اسی میں شوہر کا بھی ذکر کردیا ہو قرآن میں اس طرح کی مثالیں موجود ہیں مثلا: موسیٰ ؑ اور اس نوجوان کا تذکرہ جوایک سفر میں ان کے ساتھ تھا اور ایک مقام پر پہنچ کر وہ مچھلی بھول گیا مگر اللہ تعالٰی نے بھولنے کی نسبت ان دونوں کی طرف کی ہے فرمایانسياحوتهما([23]) وہ دونوں مچھلی بھول گئے ۔

ابنِ کثیر ؒاس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

ونسب النسيان إليهما وإن كان يوشع هو الذي نسيه

بھولنے کی نسبت ان دونوں کی طرف کی گئی ہے اگرچہ بھولے تو یوشع تھے۔([24])

دلیل چہارم

ان دلائل کے علاوہالَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكاحِسے استدلال کیا تھا کہ جس کے ہاتھ میں نکاح کا تعلق ہے اس سے مراد شوہر ہے لہٰذا شوہر کی رضامندی کے بغیر کوئی اور اس تعلق کو ختم نہیں کرسکتا ہے۔

تجزیہ

یہ دلیل قطعی اورحتمی نہیں ہے کیوں کہ اس آیت کی تشریح میں کئی ایک مفسرین نے اس سے ولی کو بھی مراد لیا ہے۔([25]) لہٰذاجب شوہر اور ولی دونوں کے مراد لینے کا احتمال ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ شوہر کے علاوہ بھی کسی تیسرے فریق کو اس نکاح کے ختم کرنے کا اختیار موجود ہے ۔

عدالت کا دائرہ اختیار

اسلامی عدالت کا دائرہ کا ر محدود نہیں ہے بلکہ اسلامی ریاست میں عدالت کا دائرہ اختیار وسیع ہے اللہ تعالٰی فرماتے ہیں :

لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ([26])

”بلا شبہ ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور المیزان کونازل کیا تاکہ وہ لوگوں کو انصاف پہ قائم رکھے ۔“

جب انبیاو رسل کا سلسلہ ختم ہوگیا تواب یہ کام ان کے وارثوں کا ہےکہ لوگوں میں عدل قائم کریں الکتاب یعنی کہ قرآن مجید کے مطابق فیصلے کریں انصاف پہ قائم رکھنے کا مطلب کیا ہے امام قرطبی اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں:

لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ: أي بالعدل في معاملاتهم ([27])

”لوگوں کو انصاف پہ قائم رکھتے ہیں یعنی ان کے معاملات میں عدل کرتے ہیں ۔“

اگر خلع کو نجی اور شخصی معاملہ کہہ کر عدالت کو اس سے علیحدہ کر دیں تو پھر اس میں متاثرہ فریق کہاں جا کے انصاف طلب کرے گا کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں جو ایک حد پہ جاکے نجی اور شخصی نہیں رہتے بلکہ وہ حاکم کے دائرہ اختیار میں چلے جاتے ہیں۔ مثلا: کسی نے اپنی وراثت میں ناقابل تقسیم چیز چھوڑی ہے اور اس کےایک سے زائد ورثاہیں اب ان میں سے ہر وارث نہ اس کو استعمال کرتا ہے اورنہ ہی اسے دوسرے فریق کو بیچتا ہے اور وہ چیز ایسی ہے کہ جب تک وہ دونوں اسے استعمال نہیں کرتے اس وقت تک وہ بیکار ہے اور پڑی پڑی اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے اب کیا یہاں پر اسلامی حکومت کو اختیار نہیں ہے کہ اس چیز کو ضائع ہونے سے بچائے اور اسے قابل استعمال بنائے؟ یقینا اسلامی حکومت اس کا حق رکھتی ہےکہ اس چیز کو ضائع ہونے سے بچائے تو اس صورت میں وہ از خود اس معاملے کا جائزہ لے گی اور ورثا کو اس معاملے کو حل کرنے کی تاکید کرے گی اگر اس کے باوجود وہ اپنے مسئلے کو خود حل نہیں کرتے تو عدالت اس معاملے میں جو مناسب سمجھے وہ فیصلہ کردے گی۔

اسی طرح حدیث میں آتا ہے :

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ألا كلّكم راع وكلكم مسئول عن رعيته فالإمام الذي على الناس راع وهو مسئول عن رعيته ([28])

”عبد اللہ بن عمر رضی الله عنهما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سنو تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور اس سے اپنی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا پس وہ امام جو لوگوں پر مقرر کیا گیا ہے نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔“

قرآن مجید میں اسلامی اجتماعیت کے متعلق ذکرہے:

لاَّ خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِّن نَّجْوَاهُمْ إِلاَّ مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلاَحٍ بَيْنَ النَّاسِ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ ابْتَغَاء مَرْضَاتِ اللّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْراً عَظِيماً ([29])

”لوگوں کی سرگوشیوں میں سے اکثر بھلائی کی نہیں ہوتی مگر یہ کہ جو صدقے کا حکم دے یا معروف کی بات کرے یا لوگوں کے درمیان اصلاح کرے اور جو اللہ کی رضا کے حصول کے لیے یہ کام کرے گا پس عنقریب ہم اسے اجر عظیم سے نوازیں گے۔“

جب تنازعات میں اسلامی عدالت فیصلے کرتی ہےاور ان کے درمیان انصاف کرتی ہے تو یہ بھی اصلاح بین الناس کا کام ہےاور اس کو اس حوالے سے زیادہ حق حاصل ہے اس لیے کہ اس کے پاس قوت نافذہ بھی ہے اوریہ اجر عظیم کے حصول کا ذریعہ بھی ہے ۔

ترجیح

جب میاں ،بیوی میں آپس کے اختلافات پیدا ہو جائیں اور انہیں ازدواجی تعلق کے ٹوٹنے کا خدشہ ہو تو سب سے پہلےوہ خود اس مسئلے کو حل کریں اگر پھر بھی وہ اس کا حل تلاش کرنے میں ناکام رہیں تو پھرقوت فیصلہ کے مالک دو اشخاص ایک شوہر کے خاندان سے اور ایک بیوی کے خاندان سے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے عدالت مقرر کرے اور ان کو معاملہ کی تفتیش کے لیے مکمل اختیارات دے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَإِنْ خِفْتُمْ شِقاقَ بَيْنِهِما فَابْعَثُوا حَكَماً مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَماً مِنْ أَهْلِها إِنْ يُرِيدا إِصْلاحاً يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُما إِنَّ اللَّهَ كانَ عَلِيماً خَبِيراً ([30])

”اگر تمہیں میاں،بیوی کے درمیان جھگڑے کا اندیشہ ہوتو ایک فیصلہ کرنے والا شوہر کے خاندان سے اور ایک فیصلہ کرنے والا بیوی کے خاندان سے مقرر کرو اگر یہ دونوں اصلاح کا ارادہ رکھتے ہوں تو اللہ ان دونوں کے بیچ موافقت پیدا کردے گا بے شک اللہ جاننے والااور باخبر ہے ۔“

اور عدالت ان کی سفارشات کی روشنی میں فیصلہ کرے۔کیونکہ اللہ تعالی ٰ کا ارشاد ہے:

فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ يُقِيما حُدُودَ اللَّهِ فَلا جُناحَ عَلَيْهِما فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ([31])

اگر تمہیں خوف ہوکہ وہ دونوں حدود اللہ کو قائم نہیں رکھ سکتے تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ عورت اس کو کوئی معاوضہ دےکر اپنے آپ کو اس سے جدا کر لے۔

لیکن عدالت کو بھی مکمل تحقیقات کے بعد ہی اس بارے میں کوئی فیصلہ کرنا چاہیے ایسا نہ ہو کہ کوئی مقدمہ دائر ہو اورعدالت بغیر تحقیق اور شوہر کو اطلاع کیے اس بارے میں کوئی فیصلہ سنا دے ۔

اگر قاضی(judge ) کے پاس مقدمہ آتا ہے تو قاضی شوہر کو حکم دے کہ اس کو خلع دے دے اگر شوہر اس کو تسلیم کرلیتا ہے اور خلع دیتا ہے توبہتر اگر نہ دےتو قاضی کو اس پر زبردستی خلع دلوانے کا حق حاصل ہے ۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ثابت بن قیس کو بھی اس چیز کا حکم دیا تھا۔اور حاکم کا حکم ماننا لازم ہوتا ہے۔امام شوکانی لکھتے ہیں :

قال في الفتح : هو أمر إرشاد وإصلاح لا إيجاب ولم يذكر ما يدل على صرف الأمر عن حقيقته([32])

فتح الباری میں لکھا ہے ،نبی کریم ﷺ کے الفاظ(ثابت کے لیے) صلح اورمشورے کے طور پر تھے نہ کہ وجوب کے لیے (شوکانی کہتے ہیں ) لیکن ابنِ حجر نے ان اسباب کا ذکر نہیں کیا جوالفاظ وجوب کو اپنی حقیقت سے پھیر دے۔

اور آگے لکھتے ہیں :

وظاهر أحاديث الباب أن مجرد وجود الشقاق من قبل المرأة كاف في جواز الخلع([33])

متعلقہ مسئلے میں وارد احادیث کے الفاظ اس بات پر ظاہر ہیں کہ صرف عورت کی طرف سے جھگڑے کا پیدا ہوجانا خلع کے جواز کے لیے کافی ہے۔

یعنی امام شوکانی کے نزدیک اگر شوہر کو خلع کی پیشکش کی جائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس کو قبول کرے کیونکہ احادیث کے الفاظ حکمیہ ہیں اور اس کو ماننا ضروری ہے اور صرف عورت کی طرف سے جھگڑے کا اندیشہ جواز خلع کےلیےکافی ہے ۔اور اگر شوہر یہ نہیں مانتا تو قاضی اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ان میں تفریق کردے ۔اور اسی طرح احادیث میں وارد مختلف الفاظ طلقها، فارقها، خل سبیلها، ففرق بینهما، فأخذها له وخلى سبيلهااسے طلاق دے دو ،اس کو جدا کردو ،اس کا رستہ چھوڑ دو، رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان تفریق کردی اور رسول اللہ ﷺ نے وہ مال ثابت کےلیے لے لیا اور اس کا راستہ چھوڑ دیا ۔میں بھی اس کی گنجائش موجود ہےکہ ہم اس صورت پر عمل کر سکیں ۔

دیگر وجوہِ ترجیح

1۔اسلام کے وجود کے وقت عرب میں مختلف قسم کے معاہدات ہوتے تھے اسلام نے ان معاہدات میں سے کچھ برقرار رکھے کچھ کو ختم کیا اور کچھ میں اصلاحات کیں۔ نکاح بھی ایک معاہدے کی طرح ہوتا تھا اور اس وقت عرب اپنی ازواج کو تنگ کرنے کے لیے طلاق دیتے اور پھر اس کی عدت گزرنے سے پہلے رجوع کرتے اور ان طلاقوں کی کوئی حد مقرر نہیں تھی اور عورت کے لیے اس معاہدے کو ختم کرنےکےلیے اختیارات نا ہونے کے برابر تھے اسلام نے اس کی اصلاح کی اور عورت کو اس ظلم سے نجات دی اور طلاق کو محدود کرکے عورت کو بھی حق خلع دیا آیات طلاق کا سیاق و سبا ق یہی ہے۔ایسا عقد و معاہدہ جس میں ایک فریق کو اتنے وسیع اختیارات ہوں کہ وہ جب چاہے اس کو ختم کرسکتا ہو اور دوسرے فریق کو ایسا کوئی اختیارحاصل نہ ہو اور اگر یہ حق دیا بھی جائے تو وہ دوسرے فریق کی رضا مندی سے مشروط ہو اسلام کی تعلیمات سے ہم آہنگ نہیں ہے ۔اسلام نے نکاح کے وقت لڑکےاور لڑکی دونوں کی رضامندی کو ضروری خیال کیا ہے اور اگر اس کے بعد بھی جب کبھی شوہر اپنی بیوی کو چھوڑنا چاہے تو اسے شرعی عذر کی موجودگی سے ایسا کرنے کا اختیار ہے اور اس میں بیوی کی رضامندی کا کوئی اعتبار نہیں کیا جاتا تو اسی طرح بیوی کو بھی ایسا اختیار ہونا چاہیے اور شریعت نے دیا بھی ہے کہ وہ اگر علیحدہ ہونا چاہے تو ایسا کرسکتی ہے اور اگر اس حق کو بھی ہم شوہر کی رضامندی سے مشروط کردیں تو اس وقت جب شوہر اس پر راضی نہ ہو اس حق کا کیا فائدہ یہ تو ایسے ہی ہے کہ آپ کسی کی ملکیت میں کوئی چیز دیں اور پھر اس کےاستعمال کا حق اپنے پاس رکھیں ایسے معاہدات تو شریعت کی نگاہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔

2۔جب عورت کے نان و نفقہ وغیرہ کے حقوق شوہر ادا نہ کرے تو حاکم ِ وقت زبردستی شوہر کو ان حقوق کی ادایگی کا پابند کر سکتا ہےاس لیے کہ حاکم وقت کو اس کےاختیارات حاصل ہیں اور اس میں شوہر کی رضامندی کا کوئی اعتبار نہیں کیا جاتا اسی طرح خلع بیوی کا حق ہےاس لیے کہ جب رسول اللہ ﷺ کے پاس یہ مقدمات پیش ہوئے تو اس میں نبی کریمﷺ نے شوہر سے نہیں پوچھا کہ تم اس پر راضی ہو بلکہ شوہر کو حکم دیا کہ تم اسے خلع دے دو البتہ بیوی سے یہ ضرور پوچھا کہ کیا تم اس کا دیا ہوا حق مہر واپس کر دوگیقال رسول اللّه صلى الله عليه وسلم: «أتردين عليه حديقته؟» قالت:نعم(رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم اس کا باغ اسے واپس کردو گی ؟اس نے کہا کہ جی ہاں)اور اگر اس حق کو شوہر کی رضامندی سے مشروط کیا جائے تو بھی شوہر اس مطالبے کو پورا کرنے کا پابند ہے اب اگر وہ اس حق کو ادا نہیں کرتا تو حاکم وقت جب اس کے پاس یہ مقدمہ آئے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ان دونوں کے بیچ تفریق کردے جب کہ اس حوالے سے نصوص بھی ہوں جن سے ہم استدلال کرسکتے ہوں ۔اگر ان نصوص میں شوہر کی رضا مندی کو ثابت بھی کیا جائے تو وہ کوئی واضح استدلال نہیں ہے ایک احتمالی صورت ہے اسی طرح یہاں پر شوہر کی عدمِ رضامندی کا بھی احتمال ہوسکتا ہے جب کہ بعض صیغے اور قرائن اس پر دلالت بھی کر رہے ہوں مثلا :قد قبلت قضاء ﷺ ۔ وكان يحبها أشد الحب

3۔اسلامی فقہ میں ایک فقہی قاعدہ ہے الضرر الأشد يزال بالضرر الأخف([34])

” بڑے نقصان کا ازالہ چھوٹے نقصان سے کیا جائے گا ۔“

بیوی کو خلع کا حق اور قاضی کو تفریق کا حق نہ دینے اور خلع کو شوہر کی رضامندی سے مشروط کرنے کی صورت میں حدود اللہ کے عدم ِ قیام کا نقصان واقع ہورہا ہے جو معمولی بات نہیں کہ ہم اسے شوہر کی رضامندی سے مشروط کریں۔بالفرض اگر ہم شوہر کی رضامندی کو خلع کا لازمی جز مان لیں تویہاں پر حدود اللہ اور شوہر کی رضا مندی آپس میں ٹکرا رہی ہے اور اس صورت میں حدود اللہ کی رعایت رکھی جائے گی اورشوہر کی رضامندی کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گالہٰذا یہاں پر نقصانِ عظیم (حدود اللہ کے عدم قیام )سے بچنے کے لیے اس چھوٹے نقصان (شوہر کی رضا مندی کے بغیر فیصلے ) کو قبول کرلیا جائے گا۔اور شوہر کی رضا مندی کوئی منصوص حکم نہیں ہے کہ اس کو چھوڑا نہ جا سکے۔

قواعدِ فقہیہ میں اور قاعدہ ہے : جلب المنفعة ودفع المضرة

”منفعت کو حاصل کیا جائے گا اور ضرر کو دور کیا جائے گا۔“

اس قاعدے کی وضاحت میں مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں :”منفعت قابلَ اعتبار وہ ہی جو ضرر پر غالب ہو اسی طرح ضرر قابلِ اعتبار وہ ہے جو نفع پر غالب ہواور دنیا کی منفعت سے آخرت کی منفعت بڑھی ہوئی ہے اور دنیا کی مضرت سے آخرت کی مضرت بڑھی ہوئی ہے۔“ ([35])

لہٰذا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے جو معاملات ہیں ان میں آخرت کے فوائد و نقصانات کو ترجیح دی جائے گی ۔اور اس معاملے میں بھی سب سے بڑا نقصان عدمِ حدود اللہ کا قیام ہے جس کو بچانے کے لیے شوہر کی عدمِ رضامندی کا جو ضرر ہے اسے دور کیا جائے گا۔

خلاصۂ بحث

عدالتی خلع کےحوالے سے کچھ علما شدید اختلاف رکھتے ہیں اور وہ خلع کے معاملے میں قاضی کو بالکل بھی اختیارات دینے کے حق میں نہیں ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ خلع مکمل طور پر میاں ،بیوی کے درمیان ہونے والا معاملہ ہے اس میں کسی اور کو دخل کا کوئی حق نہیں ہے ۔خلع میں جو بھی فیصلہ ہو گا اس میں دونوں کی رضامندی کا اعتبار کیا جائے گا۔شوہر کی رضا مندی کے بغیر خلع کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا ہے ۔اور ان کے دلائل ہیں کہ خلع کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نےان دونوں کا ساتھ ساتھ ذکر کیا ہے لہٰذا ان میں سے کسی ایک کی مرضی کے بغیر کوئی بھی فیصلہ نہیں کیا جاسکتاہے ۔ اسی طرح ان کا کہنا ہے کہ اسلام میں سب سے پہلے جو خلع ہوا تھا اس میں بھی شوہر کی رضامندی کے مطابق ہی فیصلہ ہوا تھا۔

البتہ کچھ علما قاضی کو بھی خلع کے معاملے میں فیصلہ کرنے کے حوالے سےحق دیتے ہیں کہ اگر شوہر خلع کے لیے راضی نہیں ہوتا اور معاملہ اس حد تک خراب ہوجاتا ہے کہ دونوں کا حدوداللہ کو برقرار رکھنا ممکن نہیں تو پھر شوہر کی مرضی کے برخلاف قاضی کو خلع کافیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے ۔ ان حضرات کا استدلال یہ ہے کہ خلع کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے قاضی کو بھی شریک کیا ہے لہٰذا اس کا بھی اس معاملے میں کہیں نہ کہیں عمل دخل ضرور ہے ورنہ اس کا ذکر بے محل قرار پائے گا ۔اور اسی طرح وہ ان احادیث سے استدلال کرتے ہیں کہ اسلام میں سب سے پہلا جو خلع ہوا تھا اس میں اللہ کے رسول ﷺ نے خود ہی فیصلہ سنا دیا تھا اس میں صرف بیوی سے پوچھا تھا کہ تم اس کا دیا ہوا باغ واپس کرو گی اور اس کی رضامندی کے بعد خلع کا فیصلہ سنا دیا گیا تھا ۔

سفارشات وتجاویز

٭بنیادی ذمہ داری حکومت کی ہے کہ وہ ایسے معاشرے کو تشکیل دینے میں اپنا کردار ادا کرے کہ جس میں خاندان ایک دوسرے کے ہمدرد بنے۔ایسی تعلیمات پھیلائے جو ایک صالح اور مضبوط خاندان کی بنیاد بنے ۔

٭نکاح کےرشتے کو استوار کرنے سے پہلے میاں ،بیوی کو ان کے حقوق و فرائض سے آگاہ کیا جائے ۔

٭اگر کبھی میاں ،بیوی کے درمیان باہمی نزاع کی کوئی صورت بنے تو انہیں چاہیے کہ وہ خود ہی اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرے ۔ اور اگر ان دونوں سے معاملہ حل نہ ہورہا ہو تو دونوں خاندانوں کے باشعور اور سمجھدار افراد اس مسئلے کو سلجھانے کی کوشش کریں ۔اور اگر یہ حل بھی کارآمد نہ ہو تو پھر عدالت سے اس مسئلے کا تصفیہ کروایا جائے ۔

٭عدالت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس میں فریقین کو سنےاور بغیر تحقیق اور جلد بازی میں کوئی بھی فیصلہ نہ کرے۔

عدالت اس معاملے کے حل کے لیے دونوں طرف سے ایک ایک فرد بطور حکم مقرر کرے ، ان کو تحقیق و تفتیش کا مکمل اختیار دے اور ان کی تحقیقات اور سفارشات کی روشنی میں فیصلہ کرے۔


حوالہ جات

  1. ۔ ابن منظور ،محمد بن مکرم الافریقی(م:۷۱۱ھ)،لسان العرب،دار صادر،بیروت ،۱۴۱۴ھ ، ۸/ ۷۶
  2. ۔ ابنِ عابدین، محمد امین،حاشیه ابنِ عابدین،دار المعرفۃ بیروت،۱۴۳۲ھ ۔ ۲۰۱۱ء،۵/ ۸۷۔۸۸
  3. ۔ ابن اسحاق،خليل بن إسحاق مالكی مصری (م: ۷۷۶ھ)،المختصر، دار الحديث/قاہرة۱۴۲۶ھ ۔ ۲۰۰۵، ص ۱۱۲
  4. ۔ خطيب شربينی، محمد بن احمد(م: ۹۹۷ھ) ،مغنی المحتاج الى معرفة معانی الفاظ المنهاج،دار الكتب العلمية ۱۴۱۵ھ – ۱۹۹۴ء ،۴/ ۴۳۰
  5. ۔ بہوتى، منصور بن يونس (م:۱۰۵۱ھ)، كشاف القناع عن متن الإقناع ،دار الاحیاء التراث العربی بیروت، ۱۴۲۰۔۱۹۹۰ء، باب الخلع ۵/ ۲۱۲
  6. ۔قرطبی ،ابو عبد اللہ محمد بن احمد انصاری ، الجامع لاحکام القرآن،دار الفکربیروت،۱۴۱۵ھ۔۱۹۹۵، ۲/۱۲۸
  7. ۔ The all Pakistan legal decisions p.l.d 1967,p. 99
  8. ۔ عثمانی ،مفتی محمد تقی ،اسلام میں خلع کی حقیقت در ضمن فقہی مقالات،میمن اسلامک پبلیکیشنز ، ۲۰۱۱ء، ۲/ ۱۴۷
  9. ۔ ایضا
  10. ۔عثمانی ، فقہی مقالات، ۲/ ۱۵۷
  11. ۔عثمانی ،۲/ ۱۸۳
  12. ۔منیر، پروفیسرمحمد ،خلع کی حیثیت ،شریعہ اکیڈمی،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی۔اسلام آباد ۲۰۱۷ء،ص ۲۴
  13. ۔قرطبی ،ابو عبد اللہ محمد بن احمد انصاری ، الجامع لاحکام القرآن، دار الفکربیروت،۱۴۱۵ھ۔ ۱۹۹۵ء ،۲ / ۱۲۸
  14. ۔اسماعیل حقی بروسوی،روح البیان،دار احیاء التراث العربی،۱۴۲۱ھ۔۲۰۰۱ ص ۴۴۰
  15. ۔ابن ابی حاتم، ابو محمد عبد الرحمن بن محمد،تفسیرالقرآن العظيم ،المکتبۃ المصریۃ بیروت ،۱۴۱۹ھ۔۱۹۹۹ء ۲/ ۴۲۱
  16. ۔شوكانی، محمد بن علی بن محمد، فتح القدیر،دار الکتاب العربی بیروت،۱۴۲۰ھ۔۱۹۹۹ء ۱/ ۳۱۱
  17. ۔مودودیؒ،سید ابو الاعلیٰ(م:۱۹۷۹ء) ، حقوق الزوجین،ادارہ ترجمان القرآن لاہور،طبع سوم دسمبر ۲۰۱۸ء،ص ۶۱
  18. ۔آل عمران۳: ۹۱
  19. ۔قرطبی ، الجامع لاحکام القرآن، دار الفکربیروت،۱۴۱۵ھ۔ ۱۹۹۵ء ،۲ /۱۲۹
  20. ۔ایضاََ
  21. ۔شوکانی،محمد بن علی ،نيل الأوطار،دار الکتب العلمية بيروت،۱۴۲۰/ ۱۹۹۹ء کتاب الخلع ،۵/ ۲۵۹
  22. ۔ ابن ماجہ،محمد بن یزید قزوینی(م:۲۷۳ھ)السنن، دار الرسالة العالمية،۱۴۳۰ھ۔ ۲۰۰۹ء،۳/۲۲۳،ح ۲۰۷۵
  23. ۔ الكہف۱۸: ۶۱
  24. ۔ابن كثير، اسماعيل بن عمر(م:۷۷۴ھ)، تفسير القرآن العظیم، دار طيبة للنشر والتوزيع۱۴۲۰ھ۔۱۹۹۹ء ، ۵/ ۱۷۴
  25. ۔ طبری،محمد بن جریر(م:۳۱۰ھ)جامع البیان فی تاویل ای القرآن، دار هجر للطباعة والنشر والتوزيع والإعلان،۱۴۲۲ھ۔۲۰۰۱ء،۴/ ۳۲۲
  26. ۔ الحديد۵۷: ۲۵
  27. ۔ قرطبی،محمد بن احمد الانصاری قرطبی ، الجامع لاحکام القرآن ،دار احياٖء التراث العربی بيروت۱۹۶۶ء ۹ / ۲۶۰
  28. ۔ بخاری،محمد بن اسماعیل (م:۲۵۶ھ)،الصحیح،دار الشعب ،قاهرة ۱۴۰۷ھ۔۱۹۸۷ء،کتاب الاحکام، ح۷۱۳۸،ص ۱۲۲۹
  29. ۔ النساء۴: ۱۱۴
  30. ۔ النساء ۴: ۳۵
  31. ۔ البقرۃ۲: ۲۲۹
  32. ۔ شوکانی،محمد بن علی ،نیل الأوطار ،دار الکتب العلمیہ بیروت،۱۴۲۰ھ۔۱۹۹۹ء، کتاب الخلع ۵/ ۲۶۱
  33. ۔ ایضاً
  34. ۔ علی حیدر،درر الحکام شرح مجلةالاحکام،المکتبۃ العربیہ، کانسی روڈ کوئٹہ ،س ن، ۱/۴۰
  35. ۔ تھانوی،اشرف علی ۔فقہ حنفی کے اصول وضوابط، س ن، ۸۷