Playstore.png

صوفیہ کے ملفوظاتی ادب میں معجزہ معراج النبی ﷺ: ایک مطالعہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ التفسیر
عنوان صوفیہ کے ملفوظاتی ادب میں معجزہ معراج النبی ﷺ: ایک مطالعہ
مصنف رحمان، عمارہ، شیر علی
جلد 35
شمارہ 1
سال 2020
صفحات 225-237
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Malfozati literature, Saints, Miracle of Mirraj-un-Nabi (SAW).
شکاگو 16 رحمان، عمارہ، شیر علی۔ "صوفیہ کے ملفوظاتی ادب میں معجزہ معراج النبی ﷺ: ایک مطالعہ۔" التفسیر 35, شمارہ۔ 1 (2020)۔
شیخ سعید حوی اور ان کی تفسیر: ایک مطالعہ
علامہ اسید الحق قادری بدایونی کی کتاب ”قرآن کی سائنسی تفسیر“: ایک مطالعہ
ترجمۃ القرآن از عبد السلام بن محمد کے خصائص و ممیزات اور تفسیر القرآن کا تحقیقی مطالعہ
علماء اہلسنت (بریلوی) کی تفاسیر کا اسلوب بیان: ایک جائزہ
مذہبی اجارہ داری کے انسداد میں مفسرین کی خدمات کا تجزیاتی مطالعہ
تشبہ بالکفار اور قرآنی تعلیمات: ایک تحقیقی جائزہ
عورت کی ازدواجی حیثیت اور تولیدی صحت سے متعلق تصورات کا تجزیہ
خلع میں شوہر کی رضامندی کے دلائل اور عدالت کا دائرہ اختیار: تجزیاتی مطالعہ
قتل غیرت اور اسلامی تعلیمات: فیصل آباد ڈویژن کے تناظر میں: ایک تجزیاتی جائزہ 2016ء تا 2018
سیرت رسول ﷺ اور انسانیت کا احیاء تہذیبوں کے پیرائے میں
عہد رسالت میں مملکت کا بنیادی تصور: ایک تحقیقی جائزہ
سماج کے کمزور طبقات کے ساتھ رسول اللہﷺ کا طرز عمل
صوفیہ کے ملفوظاتی ادب میں معجزہ معراج النبی ﷺ: ایک مطالعہ
ماحولیات، جدید چیلنج اور تعلیمات نبوی ﷺ
فقہی مسائل میں تطبیق: ” کتاب المیزان “ کا تعارف و جائزہ
امام غزالی کے فکری اسفار کا مطالعہ
مولانا ابو یوسف محمد شریف محدث کوٹلوی کی خدمات حدیث شریف
اسلام اور مغرب میں خاندانی نظام کا تقابلی جائزہ
فیملی بزنس میں زکوۃ کے مسائل اور ان کا حل
تجارت میں جعل سازی کا بڑھتا ہوا رحجان اور حکومتی ذمے داریاں
لسان العرب کا تعارفی و تحقیقی مطالعہ
Evolution of Arabic Literature in Nigeria: Case Study of Tafa’sir
Stealing, Usury, Wine and Divorce in the Sami Religions of the World
Haq Bakhshish (Marriage to Quran) : A Custom Confused With Religion: A Case Study of Qaisra Sharaz’S Protogonist ‘Zari Bano’ from the Novel Holy Woman
Religious Education and Community Services: Importance of Islamic Studies Education As Tool for Social Services and Community Welfare
Role of Media in Building an Islamic Society
Soft Power: An Invasion to Pakistani Culture

Abstract

Malfozati literature is significant asset in the cultural and intellectual history of Indo Pak Subcontinent. It not only throws light on the life experiences, thoughts and ideologies of great saints but also deals with intellectuality, economical situations, literary motivations and also the social trends of that era. Miracles appear to prove the authenticity of Prophets and Messengers of Allah. Their study not only strengthens our faith but also highlights different significant and glorious sides of the personality of our Holy Prophet (P. B. U. H) . The present article discusses the Miracles of Prophet (P. B. U. H) specifically the Miracle of Miraaj in the light of malfozati literature as it has much importance next to Quran and Sunnah for understanding the spirit of Islam. Furthermore the process of the Spiritual journeys of the great Saints began with Prophet Muhammad (SAW) spiritual journey i. e. Miraaj.

صوفیہ کرام کا ملفوظاتی ادب جناب رسول اللہﷺ کی قولی احادیث کا عکس و ظلِ حسین ہے ۔جناب فخرِ رسالت ﷺنے اپنی مجالس ِ خیر میں ملفوظاتی ادب کو حدیث ِ قولی کی صورت میں جمع فرما کر آنے والی نسلوں کو یہ نعمتِ کُبریٰ منتقل کی ۔ اسی طرح صوفیۂ عظام( جو جناب سید الانبیاء ﷺ کے اُسوۂ حسنہ اور سیرتِ طیبہ کی عملی تفسیر و تعبیر

ہیں) کی مجالس اور اُ ن میں فکری ، ادبی و اصلاحی گفتگو کا سلسلہ بھی اُسی سلسلہ قدیم کی کڑی ہے جن کو ان عظیم صوفیۂ عظام کے ہم نشین معتقدین نے جمع کیا اور ترتیب و تالیف کے بعد اگلی نسلوں تک ان فیض رسا ں موتیوں کو منتقل کر دیا ۔

یہ ملفوظاتی ادب مضامین کا خوبصورت تنوع ہے ۔ جو اصلاح ِ عقائد و اعمال کی مقصدیت کے ساتھ ہر دور میں بھولی بھٹکی انسانیت کو راہ ِ ہدایت کی روشنی فراہم کر رہا ہے ۔ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپ کے کمالات ، حالات اور آپ ﷺ کی تعلیمات اس ملفوظی ادب کا امتیاز ہے ۔ معجزات سیرت نبوی ﷺ کا ایک روشن باب رہا ہے جسے صوفیۂ عظام کے ملفوظاتی ادب میں جا بجا ایک اعجازی شان کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ اور سیرت ِ طیبہ ﷺ کے اس گوشے کو بیان کرکے اس سے کرامات کا فیض گویا نہ صرف حاصل کیا گیا ہے بلکہ ان صوفیہ نے اپنی کرامات کو دلائل کی تائید دینے کے لیے بھی اس موضوع کو اپنے ملفوظات کا موضوع بنایا ہے ۔ چنانچہ ذیل میں ملفوظاتی اد ب میں اور معجزہ کی تعریف کے بعد صوفیہ عظام کے ملفوظی ادب سے چند اَمثلہ معجزہ معراج النبی ﷺ کے باب میں بیان کی جائیں گی اور ساتھ مناسب توضیح قرآن و حدیث سے پیش کی جائے گی تاکہ دعوے کو دلیل کی تائید حاصل ہو ۔

ملفوظات کی تعریف

ملفوظات ملفوظہ کی جمع ہے اور اس کےمعنی ہیں الفاظ کا وہ مجموعہ جو کسی کی زبان سے ادا ہو ۔یعنی ملفوظات ، مشائخ ِ صوفیہ کے وہ اقوال و ارشادات ہیں جنھیں اُن کا کوئی مُرید یا مُسترشد قلم بند کر لیتا ہے ۔([1])

” ملفوظات کے معنی مقالات یا تقاریر کے ہیں ، یہ دراصل صوفیہ کے ہاں تعلیم و تربیت کا ایک رسمی طریقہ ہے ، مرید اپنے شیخ کے پاس بیٹھ کر کوئی عنوان شروع کر دیتے ہیں اور شیخ اس عنوان پر اظہار ِ خیال کرتا ہے ۔ کچھ ذہین اور ذی علم مُرید اس گفتگو کو نقل کرتے ہیں۔ بعض مرید اس تحریر کو اپنے مُرشد کو دکھا لیتے ہیں ۔ اس طرح اس تحریر کو درجہ استناد حاصل ہو جاتا ہے ۔“([2])

عبد الماجد دریا آبادی بیان کرتے ہیں کہ مختلف مجلسوں میں جو کلمے مشائخ کی زبان سے نکلتے مُریدانِ با صفا انھیں قلم بند کر لیتے تھے اور ان ارشادات کو جمع و مُرتب کرکے انھیں ملفوظات کے نام سے شائع کر دیتے تھے ۔ ان ارشادات کو جمع و مُرتب کرنے والے خود اپنی اپنی نوبت پر صاحب ِ ارشاد و ہدایت اور بانیٔ سلسلہ ثابت ہوئے ۔([3])

اس کے لیے مجالس بھی منعقد ہوتی ہیں لیکن عموماًمجالس عامہ ہی میں اصلاحی اور مواعظ ِ حسنہ پر مشتمل گفتگو کے دوران ہی مصلح یا صوفی سے جو الفاظ صادر ہوتے ہیں اور بعد میں ان کو کو ئی صاحبِ اعتبار و اعتماد عہد ِ ما بعد کے لوگوں کی اصلاح کے لیے باقاعدہ مرتب و مؤلف کر دیتا ہے اور پھر اس طرح کسی بھی زبان کے ادبی ذخیرے میں اس کی شمولیت سے اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور ایسے ملفوظات سے ہمیشہ استفادےکی راہیں کھل جاتی ہیں ۔

معجزہ کا معنی و مفہوم

معجزہ “عجز” سے مشتق ہے جس کا معنی ہوتا ہے ،بے بس ہونا یعنی ایسا کام کرنا کہ دوسرے لوگ اُ س جیسا کام کرنے سے عموما َ َ بے بس ہوں ۔ اور اصطلاح ِ شریعت میں معجزہ اُ س خرق عادت کام کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کےکسی نبی سے اُس کی نبوت کی دلیل کے طور پر بلا کسی ظاہری سبب کے صادر ہو ۔لفظ ْ ْ عجز “ دراصل القدرۃ ” کی ضد ہے ۔ قرآن ِ حکیم میں حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل کا قول مذکور ہے کہ :

أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ هَذَا الْغُرَابِ فَأُوَارِيَ سَوْءَةَ أَخِي ([4])

”میں اس بات سے قاصر رہا کہ اس کوے کی طرح اپنے بھائی کے مردہ جسم کو چھپا سکتا۔“

شیخ علی ہجویری (م:465ھ)معجزہ کی تعریف ان الفاظ میں کرتے ہیں :

والمعجزۃ لم تکن معجزۃ بعینھا انما کا نت لحصو لھا ومن شرطھا اقتران دعوی النبوۃ فالمعجزۃ تختص للانبیا ء والکرامات للاولیا ء ([5])

”معجزہ فی نفسہ عاجز کرنے والا نہیں ہوتا البتہ وہ اپنے حصول کی وجہ سے معجزہ ہوتا ہے ۔ اور معجزہ کی شرط یہ ہے کہ اس کے ساتھ دعویٔ نبوت ملا ہوا ہو ۔ لہذا معجزہ انبیاء کے لیے مخصوص اور کرامت اولیاء کے لیے ہے ۔ “

حضرت مجدد الف ثانی(م:1624ء)لکھتے ہیں کہ :

”اسی طرح معجزے کی دلالت صدق ِ نبی پر دلالت سمعیہ نہیں ہے ورنہ دور لازم آئے گا کیونکہ معجزہ بھی نبی کی صداقت پر دلالت کرنا نبی کے صادق ہونے پر موقوف ہوگا بلکہ وہ دلالت عادیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عادت جاری کی ہے کہ معجزہ کے ظاہر ہونے کے بعد صدق کا علم پیدا کر دیتا ہے ۔ کیو نکہ جھوٹے کے ہاتھ پر معجزہ ظاہر کرنا اگرچہ عقلا َ ممکن نہیں لیکن عادتاَ اس کا انتفا معلوم ہوتا ہے ۔“ ([6])

خرق عادت کی اقسام

ہر خرقِ عادت کام معجزہ نہیں ہوتا بلکہ معجزہ صرف اُ س خلافِ عادت کام کو کہتے ہیں جو نبی سے دعویٔ نبوت کے ساتھ صادر ہو اور معجزہ اصل میں اللہ تعالیٰ ہی کا فعل ہوتا ہے جو کسی بھی نبی و رسول سے اُس کی عزت و تکریم کے اظہار کے لیے ظہور پذیر ہوتا ہے اور یہ معجزہ نبوت ِ رسول کی نبوت و رسالت پہ دلیل ہوتا ہے ۔ بسا اوقات خرق ِ عادت کام کسی غیر نبی سے بھی صادر ہو جاتا ہے ۔ اور اُس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر کسی صالح مومن سے صادر ہو تو اُسے کرامت کہتے ہیں اور اگر کسی عام مومن سے ظاہر ہو تو اُسے مدارج کہتے ہیں جبکہ بسا اوقات ایسا امر کسی غیر مومن سے بھی صادر ہو سکتا ہے اور اِسے استدراج کہتے ہیں ۔ لیکن کسی بھی نبی پر ایمان لانے کے لیے اظہار ِ معجزہ ضروری نہیں ۔اور انھیں اقسام کی طرف خواجہ نظام الدین اولیاء( محبوب الہٰی م:725ھ)اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :

”معجزہ اور کرامت اور معونت اور استدراج ! معجزہ انبیاء کی چیز ہے جن کا علم بھی کامل ہوتا ہے اور عمل بھی کامل ہوتا ہے ۔ اور وہ صاحب ِ وحی ہوتے ہیں ۔ وہ جو کچھ دکھاتے ہیں معجزہ ہوتا ہے ۔ لیکن کرامت ِ اولیا ء سے متعلق ہوتی ہے ۔ علم و عمل ان کا بھی مکمل ہوتا ہے وہ کرامت کہلاتا ہے ۔ مگر معونت اسے کہتے ہیں کہ بعض دیوانے جو نہ علم رکھتے ہیں نہ عمل ان سے کبھی کبھی کوئی بات خلاف ِ عادت سرزد ہوتی دکھائی دیتی ہے، اسے معونت کہا جاتا ہے ۔ اسی طرح استدراج اسے کہتے ہیں کہ ایک گروہ جو قطعاَ ایمان نہیں رکھتا جیسے جادوگر وغیرہ ان سے کوئی چیز نظر آتی ہے ۔ یہ استدراج کہلاتی ہے ۔“([7])

فضل شاہ (1877ء)کے نزدیک معجزہ

”معجزہ اسے کہتے ہیں جو عاجز کردے اور اس کے مقابل کچھ پیش نہ کیا جاسکے۔“([8])

یہ ایک صوفی کا ملفوظ بھی ہے اور معجزہ کی تعریف میں ظاہر کی تعریف کے ساتھ تطابق بھی ۔

قرآن ِ مجیدمعجزاتِ نبویﷺ کا عظیم شاہکار

حضورﷺ کے معجزات ِ نبوت میں سے قرآن مجید بھی ایک بہت ہی جلیل القدر معجزہ اور آپ ﷺ کی صداقت کا ایک فیصلہ کن نشان ہے ۔ بلکہ اگر اس کو اعظم المعجزات کہہ دیا جائے تو یہ ایک ایسی حقیقت ہےجس کی تردید ممکن نہیں کیونکہ حضور ﷺ کے دوسرے معجزات تو اپنے وقت پر ظہور پذیر ہوئے اور آپ کے زمانے ہی کے لوگوں نے اس کو دیکھا مگر قرآن مجید آپ کا وہ عظیم الشان معجزہ ہے کہ قیامت تک باقی رہے گا۔ اس کی شان اعجاز کے بارے میں عظیم صوفی خواجہ جہانگیر سمنانی رحمۃاللہ کا ملفوظ :

القرآن ھو اعظمہا اعجزت الفصح ء معارضۃ تحیرت انبلغا ء عن مشاکلمۃ قرانست وآں بزرگترین معجزہ ہاست عاجز شدہ اند فصیحان جہان از معارضہ آن و حیران ماندند بلیغان زمان([9])

”قرآن مجید آپ ﷺ کا عظیم ترین معجزہ ہے ۔ دنیا جہان کے فصیح و بلیغ انسان قرآن مجید کی مثل (کتاب) پیش کرنے سے عاجز اور حیران رہے ۔“

اللہ تعالیٰ نے فصحا ئے عر ب کو قرآن کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک بار اس طرح چیلنج دیا کہ :

قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا ([10])

”کہہ دو کہ اگر اکٹھے ہو جا ئیں سارے انسان اور سارے جن اس بات پر کہ لے آئیں اس قرآن کی مثل تو وہ سُن لیں ، ہرگز نہیں لا سکیں گے اس کی مثل اگرچہ وہ ہو جائیں ایک دوسرے کے مد دگار ۔“

مگر کوئی بھی اللہ تعالیٰ کے اس چیلنچ کو قبول کرنے کے لیےتیار نہیں ہوا پھر قرآن نے ایک بار اس طرح چیلنچ دیا کہ:قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِهِ ([11])

”پھر تم بھی اسی کے مثل دس سورتیں گھڑی ہوئی لے آؤ۔“

یعنی اگرتم لوگ پورے قرآن کا مثل نہیں لا سکتے تو قرآن جیسی ہی دس سورتیں بنا کر لاؤ مگر انتہائی جدو جہد کے باوجود یہ بھی نہ ہو سکا۔پھر ارشادہوا:

وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ ([12])

”اور ہم نے جو کچھ اپنے بندے پر اُتارا ہے اس میں اگر تمھیں شک ہو اور تم سچے ہو تو اس جیسی ایک سورت تو بنا لاؤ ، تمھیں اختیار ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے مددگاروں کو بھی بلا لو۔“

اگر اس جیسی پوری کتاب نہیں لا سکتے تو اس کی د س سورتوں جیسی سورتیں بناکر پیش کردو ۔ اگر تم دس سورتیں پیش کرنے سے بھی قاصر ہو تو اس جیسی صرف ایک سورت ہی پیش کر دو اگر تم اکیلے اکیلے ایک سورت بھی پیش نہیں کر سکتے تو تمھیں اجازت ہے کہ اپنے مددگاروں کو اکٹھا کرو ، سر جوڑ کر بیٹھو اور اس کتاب کی کسی ایک سورت جیسی کوئی سورت پیش کر دو ۔یہ چیلنچ دینے کے بعد انھیں یہ بھی بتا دیا کہ تم ہزار جتن کرو، کوششوں کی انتہا کر دو تم ایسا ہرگز نہیں کر سکو گے ۔چودہ صدیاں گزر گئی ہیں کسی کو جرأت نہ ہوئی اور قیامت تک یقینا کسی کو جرأت نہ ہوگی کہ وہ اس چیلنچ کا جواب دے سکے۔قرآن ِ حکیم اس اعتبار سے بھی اعظم المعجزات ہے کہ اس میں نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے بہت سارے معجزات کا ذکر موجود ہے یعنی یہ دیگر معجزات کا محافظ ہے ۔ جیسا کہ معجزہ معراج واسراء ۔ قرآن حکیم میں معجزۂ معراج کو دو جگہ سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ النجم میں قدرے تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے ۔

معجزۂ معراج

معراج نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ معجزہ ہے جو اپنے اند ر ہزار ہا اعجازات رکھتا ہے ۔ بظاہر ایک معجزہ ہے لیکن حیثیت میں جامع معجزات ہے اس کو علمائے ظاہر کی طرح صوفیہ نے بھی اہتمام کے ساتھ ذکر کیا ہے کیونکہ اس میں نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی روحانی معراج کا ثبوت ہے اور آپ کی روحانیت کی معراج ہی سے تمام اولیائے کرام کی روحانی معراجوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور اس واقعۂ معراج سے تصوف کے کئی ابواب تعلق رکھتے ہیں اس لیے صوفیہ نے اسے اپنے ملفوظات کا موضوع بنایا ہے ۔

معراج ِ جسمانی کے بارے مخدوم جہانیاں کا ملفوظ

شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری نے فرمایا کہ حضور ﷺ کو معراج بیداری میں ہو ئی اور بجسم ہوئی ۔ معتزلی اس کے منکر ہیں وہ کہتے ہیں کہ معراج خواب میں ہوئی، بیداری میں نہیں ہوئی جسم کے ساتھ آپﷺ کو اُوپر نہیں لے جایا گیا اس کو عقل قبول نہیں کرتی ہے کہ انسان ایک ہی رات میں آسمان کی سیر کرکے واپس چلا آئے اور اہل ِ سنت و جماعت کہتے ہیں کہ اگر معراج خواب میں مانی جائے تو حضور ﷺ کے لیے خصوصیات کیا ہوئی اور فضیلت کیا نکلی؟ بہت ممکن ہے کہ کافر ، مشرک بھی بہشت و دوزخ کو خواب میں دیکھے اگر نبی ﷺنے بھی اس چیز کو خواب میں دیکھا تو نبی کی اس میں کیا بڑائی ہوئی۔ )[13](

معجزہ معراج اور حضرت نظام الدین اولیا ء

حضرت محبوب الہٰی نے فرمایا ہے کہ مکہ سے بیت المقدس ، اسراء تھا اور بیت المقدس سے پہلے آسمان تک معراج تھی اور پہلے آسمان سے قاب قوسین کے مقام تک اعراج !ان عزیز نے دوبارہ اپنے سوال میں اضافہ کرکے پوچھا کہ کہتے ہیں کہ جسم کو بھی معراج ہوئی اور روح کو بھی ہر ایک کو (الگ) کس طرح ہو سکتی ہے ؟ خواجہ ذکرہ اللہ بالخیر یہ مصرع زبانِ مبارک پر لائے :

فظن خیراَ ولا تسئل عن الخیر

(خیر کے بارے میں یقین کرتے اور اُس کے بارے میں سوال نہیں کیا کرتے ہیں )

پھر کہا:

جاء نی فی قمیص اللیل مُستترایقارب الخطوء من خوف و من حذرفکان ما کان مما لست اذکرہ،فظن خیراَ و لا تسئل عن الخیر([14])

”رات کے( اندھیرے کے) لباس میں چھپا ہوا ۔ خوف و اندیشے سے دبے پاؤں وہ میرے پاس آئے ۔ پھر ہو ا، جو کچھ ہوا ۔ میں اس کا ذکر نہیں کروں گا ۔ گمان اچھا رکھو اور کیفیات مت پوچھ۔“

حضرت نظام الدین اولیاء محبوب ِ الٰہی اپنی مجالس میں نبی کریم ﷺ کے معجزات و کمالات کا ذکر کرتے تاکہ سامعین کے دل میں نبی کریم ﷺ کی محبت پیدا ہو ۔ چنانچہ آپ نے کئی بار معجزہ معراج کا بیان کیا آپنے فرمایا کہ:

”کسی بزرگ نے کہا ہے مجھے نہیں معلوم کہ معراج کی رات رسول اللہ ﷺ کو وہاں لے گئے کہ جہاں عرش و کرسی اور بہشت و دوزخ اور وہ چیزیں ہیں جو حضور ﷺ نے دیکھیں ۔ یا ان کو وہاں لایا گیا جہاں رسول علیہ السلام و التحیۃ تھے دوسری صورت میں رسول اللہ ﷺ کا مرتبہ اور بڑھ جاتا ہے ۔“([15])

ملفوظ مذکور اس اعتبار سے منفرد اور مشہور روایات سے مختلف ہے ۔ نبی علیہ الصلوۃ و السلام اپنے مسکن میں تشریف فرما رہے اور ہر چیز یہیں اُن کے پاس پیش کی گئی اور یہ نظریہ روحانی معراج کے قریب ہے ۔

معجزہ معراج کے بارے سید جماعت علی شاہ کا ملفوظ

”جس رات حضور ﷺ معراج شریف میں تشریف لے گئے ہیں اس کے دو فریق ہوگئے ہیں ۔ ایک کہتا ہے کہ خواب میں گئے ۔ دوسرا کہتا ہے کہ جسم پاک کے ساتھ حالت ِ بیداری میں گئے جو فریق یہ کہتا ہے کہ خواب میں گئے وہ اپنی دلیل میں کشش ثقل بیان کرتا ہے ۔ یعنی جو چیز وزن رکھتی ہے وہ اوپر سے نیچے زمین کی طرف گر جاتی ہے ۔ نیچے اُوپر جا کر ٹھہر نہیں سکتی ۔ اس دلیل کو جرمن نے غلط ثابت کر دیا ۔ جرمن نے ایک ہوائی جہاز ایجاد کیا ہے جو گھنٹے میں کئی سو میل کا سفر طے کرتا ہے ۔ اس کا کوئی انکار نہیں کرتا اور ادھر انکار کیا جاتا ہے کہ کیسے ہوا پر چلے گئے ۔ اتنی جلدی کیسے چلے گئے ہیں کہ ان الله عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ۔جرمن کی قدرت کے قائل تو ہیں کہ جرمن ایک گھنٹہ میں کئی سو میل سفر طے کر سکتا ہے مگر حضرت محمدﷺ کی نسبت قائل نہیں ۔

نیز ایک اور دلیل پیش کی جاتی ہے کہ مائی صاحبہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ یہ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ کا جسد ِ مبارک ہم سے جدا نہیں ہوا ۔ گھر کا گواہ ہی یہ کہتاہے کہ آپﷺ کا جسم میرے پاس سے جدا نہیں ہوا ۔ (ما فقد جسد رسول الله)تو جسمانی معراج کیسے ہوئی ۔ جو لوگ جسمانی معراج سے انکار کرتے ہیں وہ اپنے دعوے کے ثبوت میں حدیث بالا پیش کرتے ہیں ۔ یہ حدیث بالکل غلط ہے کیونکہ معراج شریف مکے میں ہوئی ۔ اس وقت مائی صاحبہ کی عمر 6 برس تھی ۔ ابھی نکاح نہیں ہوا تھا ۔ تین سال کے بعد مدینہ منورہ میں نکاح ہوا ۔

سید جماعت علی شاہ فرماتے ہیں کہ ابو جہل بھی روح کے جانے کا انکار نہیں کرتا جسم کے جانے کا انکار کرتا ہے نیز قرآن ِ پاک میں سورہ ٔ بنی اسرائیل کی آیت:1 سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى اس آیت ِمبارک کو خدا تعالیٰ نے ”سبحان “کے لفظ سے شروع کیا ہے ۔ عرب کا یہ محاورہ ہے کہ برأت استہلال کے لیے جب کوئی اہم مضمون بیان کرنا ہو تو اس کے پہلے وہ لفظ لے آتے ہیں جیسے سبحان ، اس کے معنی کیا ہیں ؟ بہت پاک ہے وہ ذات ، اس کلمے کے معنی سے یہ ثابت ہوا کہ اس کے بعد کوئی مہتم بالشان امر ہونے والا ہے وہ کیا ہے جو مہتم بالشان امر ہے ۔ ”الذی اسریٰ “وہ پاک ذات جس نے رات کو سیر کرائی کس کو اپنے عبد کو۔اس لفظ ”عبد“کے آنے سے دونوں فریق کی بحث ختم ہو گئی ۔ ” عبد“ نہ تو صرف جسم کو بولا اور نہ صرف روح کو بلکہ دونوں کے مجموع کا نام ” عبد“ ہے ۔“([16])

حضرت جماعت علی شاہ، جو کہ محدثانہ شان بھی رکھتے تھے ،نے دلائل عقلیہ و نقلیہ کے ساتھ معراج کے معجزےکو ثابت کیا ہے اور یہ کہ یہ معراج صرف روحانی نہیں بلکہ جسمانی ہے کیونکہ روحانی معراج میں وہ اعجاز نہیں جو جسمانی معراج میں ۔

خرقۂ معراجیہ اور ملفوظ ِ محبوب الٰہی

صوفیہ کے ہاں ایک روایت خرقۂ معراجیہ کی بھی مشہور ہے جو کہ سلسلۂ چشتیہ کے بزرگوں میں نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے اُس کے بارے میں حضرت محبوب الٰہی نے فرمایا :

”مصطفےٰ علیہ السلام کو شبِ معراج میں ایک خرقہ ملا تھا اور اس خرقے کو خرقہ فقر کہتے ہیں ۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے صحابہ کو بلایا اور ارشاد فرمایا کہ مجھے ایک خرقہ ملا تھا اور اس خرقے کو خرقۂ فقر کہتے ہیں ۔ (حضور ﷺ نے )اور مجھے حکم ہے کہ یہ خرقہ ایک شخص کو عطا کروں اور میں صحابہ سے ایک سوال پوچھوں گا کہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں اور مجھ سے کہا گیا ہے کہ جو شخص یہ جواب دے اس کو خرقہ عطا کر دینا ۔ اور میں اس جواب کو جانتا ہوں ( دیکھیں ) کون یہ جواب دیتا ہے ۔ پھر ( حضور ﷺ نے ) ابو بکر کی طرف رخ کرکے فرمایا کہ اگر یہ خرقہ تمھیں دے دوں تو تم کیا کرو گے ؟ ابو بکر نے عرض کی کہ میں سچ کو اختیار کروں گا ور اطاعت کروں گا اور داد د ہش اپناؤں گا ۔ اس کے بعد عمر سے پوچھا کہ اگر تمھیں یہ خرقہ دوں تو تم کیا کروں ؟ عمر بولے کہ میں عدل کروں گا اور انصاف کا خیال رکھوں گا ۔ اس کے بعد عثمان سے پوچھا کہ اگر تمھیں یہ خرقہ دوں تو تم کیا کرو گے ؟ عثمان نے عرض کی کہ میں خرچ اور بخشش کیا کروں گا ۔ پھر علی سے دریافت فرمایا کہ اگر تمہیں یہ خرقہ دوں تو تم کیا کروگے ؟ عرض کی کہ میں پردہ پوشی سے کام لوں گا اور خدا کے بندوں کے عیب چھپاؤ ںگا !رسول علیہ السلام نے فرمایا کہ لو ! یہ خرقہ تم کو دیتا ہوں کیوں کہ مجھے حکم تھا کہ جو یہ جواب دے اسی کو یہ خرقہ دے دینا ۔“([17])

یہ روایت کتب ِ معتبر میں مروی نہیں ہے لیکن خرقے کی روایت کو خصوصاً مشائخ ِ چشت میں عملی طور پر مستند سمجھا جاتا ہے اور یہ بھی ایک معجزہ ہی ہے کہ سفر ِ معراج میں اس خرقہ کا موجود ہونا اور پھر اُ س کا زمین پر آنا اور جناب علی الرتضٰی  کو عطا فرمانا ۔

معراج میں آپ ﷺ کا بہشت کی جانب سے زبردست استقبال

شیخ شرف الدین احمد یحیی منیری نے یہ حکایت فرمائی کہ شب ِ معراج میں جبریل علیہ السلام کو حکم ہو ا کہ بہشت سے سے یہ بات کہہ دو کہ اتنے زمانے میں تیری پیدائش کا سبب صرف یہ ہے کہ ہم اپنے دوست ﷺ کوتیری بہار دکھائیں ۔آج کی رات اس دوستﷺ کی شب ِ معراج ہے تو تیرا فرض ہے کہ تو بن سنور کر خوب آراستہ ہو جا اور اس دوست ﷺ کے سامنے حاضر ہو ۔ جبریل علیہ السلام نے بہشت کو حکم پہنچایا ۔ جہاں تک ہو سکا بہشت نے زیور وغیرہ سے اپنے آپ کو خوب آراستہ کیا ۔ ایک تو یہ بنفس نفیس خود حسین اور اس پر اتنی آرائش ، حسن اور بھی دوبالا ہو گیا اب جس وقت حضور ﷺ کو معراج ہوئی جنت سامنے آکر کھڑی ہوگئی ۔ آپ ﷺ نے دائیں جانب منھ پھیر لیا وہ دائیں جانب آپہنچی آپ ﷺ نے بائیں جانب منھ پھیر لیا وہ بائیں جانب پہنچی تو آپ ﷺ دائیں جانب پھر گئے ۔ تب جنت گھبرا گئی اور اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھ میں کیا خرابی ہے کہ حضور ﷺ مجھ سے منھ پھیر لیتے ہیں اگر کوئی سراپا آراستہ دلہن ہوسکتی ہے تو میں ہی ہوں اور اگر شراب طہور کی کہیں نہر جاری ہے تو وہ میرے ہی آس پاس ہے اور اگر کہیں زنجبیل ہے تو وہ مجھ میں ہی ہے اسی طرح ہر صفت کو اس نے دہرایا ۔ (یہ ساری باتیں سن کر) حضورﷺ نے فرمایا کہ تیرا کہنا سب درست مگر یہاں معاملہ ہی دوسرا ہے جن کی آنکھوں کی جنت جمال الہٰی اور جمال حق ہے وہ تجھ کو دیکھ ہی نہیں سکتیں ۔تجھ کو کیا خبر کہ شہباز ہمت محمدﷺ کی پرواز کہاںتک ہے وہ ایسے ادنیٰ شکار کے لیے رخ کر ہی نہیں سکتا اس نے اپنا شکار تاک لیا ہے جو لا مکاں ہے تجھ کو جن زیبائیوں پر ناز ہے اس کی حقیقت سن لے ۔اگر ہماری امت چاہے گی تو ایک دفعہ کلمہ پڑھ کر تجھ کو خرید لے گی ۔ جنت نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ وہ کون سا کلمہ ہے جو ہماری قیمت ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ہماری امت میں سے جو شخص ”لاالہ الاالله محمدرسول الله“کہے گا تجھ کو خرید لے گا جب یہی تیری قیمت ٹھہری تو یہ نازوانداز کیسا ۔ ([18])

ملفوظ مذکور میں معراج کے معجزے میں دوسرے معجزات کا ذکر ہے یعنی جنت کو دیکھنا، جنت سے باتیں کرنا اور جنت کا ایک مخصوص شکل اختیار کرنا ،یہ سب اعجازات ہیں۔ تو ثابت ہوا کہ معراج معجزہ در معجزہ ہے ۔ لکین یہ روایت صوفیانہ ادب سے تعلق رکھتی ہے اس جیسی کو ئی روایت کتب حدیث میں موجود نہیں بلکہ یہ صوفیہ کا کشف ہے ۔

معراج کے منکر کی شرعی حیثیت

شیخ شرف الدین احمد یحیی منیری بیان کرتے ہیں کہ بعضوں کے نزدیک معراج کا منکر کافر ہے اور بعضوں کے نزدیک بدعتی ہے ،کافر نہیں ہے ۔ ہاں ! جو شخص بیت المقدس تک معراج کا منکر ہے یہ ضرور کفر ہے کیونکہ حضور ﷺ کا بیت المقدس تک جانا قرآن سے ثابت ہے اور بیت المقدس سے آسمان پر جانا یہ اخبار احاد سے ثابت ہے اور اخبار احاد کا منکر کافر نہیں ہوتا مگر وہ کفر کا سزا وار ضرور ہوتا ہے ۔)[19](

معراج کی اصل حکمتیں ، اسباب ، نکات اورآپﷺ کے خصوصی امتیازات

شیخ شرف الدین احمد یحیی منیری نے معراج کی یہ حکمت بیان فرمائی کہ :

ایک گروہ کا خیال ہے کہ معراج آپ ﷺ کی بڑی بزرگی کی دلیل ہے۔ اللہ عزوجل کو منظور ہوا کہ جتنے قسم کے خزانے اور گنجینے اس کی ملک میں ہیں سب آپ ﷺ کے سامنے پیش کر دیے جائیں ۔بادشاہان دنیا کا قاعدہ ہے کہ جب کسی کو مقرب بنا لیتے ہیں تو ان کی خاص طور پر توقیر کرتے ہیں ۔دوسروں کو وہ بات نصیب نہیں ہوتی۔ رموز مملکت اور چھپے خزانے جو کسی پر ظاہر نہیں وہ بھی اس پر ظاہر کیےجاتے ہیں معراج بھی ازیں قبیل ہے۔ حدیث نبوی ہے:رأيت مشارقها و مغاربها ويبلغ ملك امتى ما اورى لى منها ([20])

( معراج میں مجھے روئے زمین اور اس کے چہار دانگ عالم کا مشاہدہ کرایا گیا کہ میری امت کی مملکت عنقریب وہاں تک پہنچے گی جہاں تک مجھے دکھا یا گیا )

اور دوسرے گروہ کا قو ل ہے معراج میں یہ حکمت تھی کہ قیامت کے دن حضور ﷺ بالکل مطمئن رہیں ۔ امت کی کا ر سازی کے سوا دوسرا کوئی کا م آپ ﷺ کا نہ رہے ۔ معراج میں آپ ﷺ کو قیامت کا مظاہرہ کرایا گیا ، بہشت و دوزخ کا معا ئنہ ہو ا اور بھی بہت ساری چیزیں دکھائی گئیں تاکہ جب قیامت آئے سب کے سب اس کے ہول و عذاب کو یکایک دیکھ کر نفسی نفسی کہنے لگیں تو اس وقت حضور اکرم ﷺ اس کی حقیقت سے آگاہ رہیں گے ۔ صرف امتی امتی فرمائیں گے ۔تیسرے گروہ نے کہا کہ معراج میں یہ حکمت تھی کہ حضور ﷺ کی ہمت کا مظاہرہ ہو ۔ زمین مع کل کائنات کے لپیٹ کر سامنے رکھ دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ قبول ہے ؟ ارشاد ہوتا ہے کہ اسی نے انسان سے أنا ربكم الأعلى([21]) ”میں ہی تمھارا سب سے بڑا رب ہوں۔ “

کہلا دیا اور اسی کی بدولت عرش الہٰی پر آسمانوں کا پردہ ڈالا گیا اور بعض دوستوں نے صرف رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا([22])”اے میرے پروردگار مجھے ایک مملکت عطا فرما ئیے“ کہ ذریعے اس کو خرید لیا یہ کون سی قیمتی چیز ہے کہ اس کی قدر کی جائے ساتوں آسمان و زمین کی خلقت کو بلندیٔ ہمت پر سخت تعجب ہوا اور بہت زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی کہ جس چیز کو حضرت سلیمان علیہ السلام نے دعاکرکے حاصل کیا وہ بے طلب آپ ﷺ کی خدمت میں پیش ہوتی ہے او ر آپ ﷺ اس سے منھ پھیر لیتے ہیں ۔ بزرگوں نے کہاہے کہ اس میں ایک خاص راز تھا جس وقت دنیا پیش ہوئی اگر اس کو قبول فرماتے تو عقبیٰ آپ ﷺ کے زیر نگیں نہیں آتا اور جب عقبٰی کو پیش کیا گیا اگر آپ ﷺ اس کو قبول فرمالیتے تو وصل مولیٰ نہ ہوتا۔ من اخذ الدنيا فاته العقبى ومن طلب العقبى فاته المولى ومن طلب المولى فله الدنيا والعقبى ([23])

”جس نےدنیا کو حاصل کیا اس کے ہاتھ سے عقبٰی گیا اور جس نے عقبٰی طلب کیا اس نے مولیٰ کو چھوڑ دیا اور جس نے مولیٰ کو اپنا یا اس کو دنیا و آخرت دونوں مل گئی ۔“

رویت خداوندی

معراج میں نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا یا نہیں، یہ مختلف فیہ مسئلہ ہے جس کے بارے میں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری لکھتے ہیں کہ:

” اس گروہ کے عام لوگوں اور ان کے بزرگوں کا خیال ہے کہ بچشم سر نہ دیکھا اور دنیا میں بہ چشم سر کوئی دیکھ نہیں سکتا ہے چنانچہ حضرت عائشہ ؓ سے جو روایت ہے اس سے یہی ثابت ہے انها قالت من زعم ان محمد اراى الى ربه فقد كذب’’ جو شخص کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ عزوجل کو دیکھا اس نے جھوٹ کہا ‘‘اور اکثر لوگ اہل ِ سُنت و جماعت کے یہی خیال رکھتے ہیں جو حضرت عائشہ ؓ کا قول ہے: اور ایک دوسرے گروہ کا خیال ہے کہ حضورﷺ نے شب معراج میں بچشم سر خدا کو دیکھا اور حضور ﷺ کے لیے یہ بات مخصوص ہے ۔ اس میں خلق اللہ کی شرکت نہیں جیسا کہ حضرت موسی ٰ علیہ السلام مخصوص ہوئے کلام بے واسطہ کے ساتھ اور یہ لوگ دلیل پکڑتے ہیں حضرت ابن عباس ، حضرت اسماء ، حضرت انس ؓ ، کی حدیث سے یہ تینوں حضرات صحابہ ہیں اور قائل ہیں کہ حضور ﷺ نے شب ِ معراج میں خداوند عزوجل کو بچشم سر دیکھا ہے جو گروہ دیدار بچشم سر کا قائل ہے وہ یہ بھی کہتا ہے کہ پیغمبروں میں تین ہستیاں ایسی ہیں کہ تین چیز کے ساتھ مخصوص ہیں ۔ حضرت موسی ٰ علیہ السلام کلام کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ سے کسی نے باتیں نہیں کی ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام خلّت کےساتھ کہ خلیل اللہ آپ کے سوا کسی کا نام نہ ہوا ۔ حضور ﷺ دیدار بچشم سر کے ساتھ کہ آپ ﷺ کے سوا خدا کو کسی نے نہیں دیکھا ۔ لیکن عام اہل سُنت و الجماعت دیدار بچشم سر کو جائز نہیں کہتے اور اس کے قائل کو کافر یا مبتدع ضال بھی نہیں کہتے ہیں اتنا کہتے ہیں کہ ایسا خیال خطا ہے زیادہ زبان اس واسطے نہیں کھولتے ہیں کہ تین صحابہ اس خیال پر متفق ہیں اور صحابہ ؓ کی شان میں زبان دارزی ناجائز ہے کفرو بدعت کے ساتھ ان کو منسوب کرنا تو کسی طرح روا نہیں ہے ۔ہاں ! سہوو خطا ممکن ہے کیونکہ معصوم سوائے پیغمبروں کے کوئی نہیں ۔“([24])

لیکن یہ عقیدہ اکثر اہل ِ سنت کا نہیں کہ آپ نے اللہ کو بچشم سر نہیں دیکھا بلکہ اکثر کا عقیدہ یہ ہے کہ آپ نے خدا کا دیدار بچشم سر کیا ہے ۔

ماحصل

ان ملفوظی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صوفیۂ عظام اپنی مجالس میں وعظ و نصیحت میں کثرت کے ساتھ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فضائل ، شمائل معجزات اور کمالات کا ذکر فرماتے رہتے تھے تاکہ اہل مجلس کے ایمان میں تازگی ہو اور عمل کی ترغیب ہو۔

معجزہ اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کا کرشمہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کو معجزات عطا کرتا ہے ۔ اور قرآن ِ پاک نے ہمیں نبی کریم ﷺ کی نبوت کے دلائل پر غوروفکر کرنے کی دعوت دی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی تائید و اثبات کے لیے بہت زیادہ معجزات عطا فرمائے، جس کی وجہ سے ایمان والوں میں اضافہ ہوتا تھا ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ منکرین کے اوپر حجت قائم ہوتی اور ان میں سلیم الفطرت لوگ ان معجزات کو دیکھ اور سن کر دولتِ ایمان سے بہرہ ور ہوتے ۔

معجزات گمراہ انسانیت کے لیے حضورﷺ کی معرفت حاصل کرنے کی ایک دعوت بھی ہے اور ا ن کی زندگی اور دعوت کے عظیم پہلوؤں کو جاننے کا ذریعہ بھی ہے۔ اور خصوصا معجزۂ معراج جو اہم معجزات سے تعلق رکھتا ہے اور اس میں نبی الصلوۃ والسلام کی روحانیت کی بلندی ہے ۔ اور آپﷺ کی روحانیت سے اہلِ روحانیت فیض حاصل کرتے ہیں اس لیے صوفیہ نے اسے اپنے ملفوظات کا بطور خاص عنوان بنایا اور روحانی حظ حاصل کیا ۔

تجاویزو سفارشات

تصوف : شریعت ، طریقت ، حقیقت اور معرفت کا مجموعہ ہے،کوئی بدعت نہیں ہے ۔ تصوف کا علم حقیقی مسلمان بننے کے لیے ضروری ہے ۔

یونیورسٹی کی سطح پر ملفوظات کا مضمون پڑھایا جانا از حد فائدہ مند ہے ۔

محکمہ اوقاف کو حضرات شیوخ کے مزارات سے ملحقہ تعلیمی اداروں میں درس ِ ملفوظات کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ عامۃ الناس تک صوفیہ کرام کا روحانی فیضان اور دین اسلام کی خدمات کا حقیقی تاثر پہنچ سکے ۔

برصغیر کے ملفوظاتی ادب کا انگریزی اور عربی میں ترجمہ ہونا چاہیے ۔جیسے کہ کشف المحجوب کاایک مستشرق پروفیسر نکلسن نے ترجمہ کیا اس کی اس کاوش سے مغربی ممالک میں موجود جامعات میں صوفی ادب کے بارے میں بڑی دلچسپی پیدا ہو چکی ہے اس پیش رفت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے صوفیہ کرام کے ملفوظات پر تحقیق کرنا ہمارا بھی فرض ِ منصبی ہونا چاہیے ۔

ہر مسلمان کو شانِ رسالت کھلے دل سے تسلیم کرنی چاہیے ۔ ہر بات کو عقل کے ترازو میں تولنے والا منکر معجزات ہے ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاصان کو بے حساب رحمتوں اور فضائل سے نوازا ہے جن کو دیکھ کر کفار کی عقل دنگ رہ جاتی اور وہ دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتے ۔

لہذا ہمیں بھی عاشق ِ رسول ﷺ ہونے کی حیثیت سے مقام ِ رسولؐ اور شانِ رسولؐ کی حدودمتعین نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ہماری نجات محض شفاعت ِ محمدی ﷺہی سے ممکن ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں معجزاتِ نبوی ﷺ پر دل و جان سے ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائے ۔


حوالہ جات

  1. ۔ فاروقی ،نثار احمد ، نقدِ ملفوظات ، لاہور ،اداراہ ثقافتِ اسلامیہ ، 1989ء ، ص 195
  2. ۔ قادری ، محمد ایوب ، مخدوم جہانیاں جہاں گشت ، کراچی ، ایجوکیشنل پریس ، 1963ء،ص 237
  3. ۔ دریا بادی ،عبدالماجد ، تصوف اسلام ، ص147۔148
  4. ۔ المائدہ5: 31
  5. ۔ ہجویری ، سید علی ، کشف المحجوب ، سروش تہران ،تحقیق، ڈاکٹر محمود عابدی ، 1387ھ، ص 327
  6. ۔ مجدد الف ثانی ، شیخ احمد سر ہندی ، اثباتِ النبوۃ ، (مترجم :صوفی نثار الحق )، کراچی ،تبلیغ صوفیہ دعوت الیٰ الخیر ، 2007ء، ص133
  7. ۔ محبوب ِ الٰہی ، نظام الدین ،فوائد الفواد(مترجم اردو: خواجہ حسن ثانی نظامی ) ، لاہور ، الفیصل ناشران و تاجران کتب ، 2011ء،ص45-46
  8. ۔ شاہ قطب عالم ،فضل الدین ، اخص الخواص ، (مرتبہ:نواز رومانی ) ،لاہور ، تصوف فاونڈیشن ، ص207
  9. ۔ سمنانی،سید جہانگیر اشرف ، لطائف ِ اشرفی ، ( مرتبہ : نظام الدین یمنی )،انڈیا ،خانقاہ اشرفیہ حسینہ ، ج2،ص305
  10. ۔ بنی اسرائیل17: 88
  11. ۔ ہود13:11
  12. ۔ البقرہ2: 23
  13. ۔ منیری،شیخ شرف الدین یحییٰ ، معدن المعانی ،(مترجم اردو: شاہ قسیم الدین احمد شرفی ) ، انڈیا ،مکتبہ شرف بہار شریف، 1985ء، ص119
  14. محبوب ِ الٰہی ، محوّلہ بالا،ص392
  15. ۔ ایضاً، ص233
  16. ۔ جماعت علی شاہ ،سید ، ملفوظات ِ امیر ِ ملت ،( مرتبہ:محمد افضل حسین شاہ )،ڈسکہ :انجمن ِ خدام الصوفیہ ، ص 66۔65
  17. ۔ محبوب ِ الٰہی محوّلہ بالا،ص377-378
  18. ۔ منیری،شیخ شرف الدین یحییٰ، محوّلہ بالا، ص 122
  19. ۔ ایضاً، ص119
  20. ۔ بخاری ،عبداللہ محمد بن اسماعیل،التاریخ الکبیر ، حیدرآباد ،دائرہ المعارف ،1360ھ، ج4، ص564
  21. ۔ النازعات24:79
  22. ۔ سورہ ص35:38
  23. ۔ منیری،شیخ شرف الدین یحییٰ ، معدن المعانی ، ص119
  24. ۔ ایضاً