علماء اہلسنت (بریلوی) کی تفاسیر کا اسلوب بیان: ایک جائزہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ التفسیر
عنوان علماء اہلسنت (بریلوی) کی تفاسیر کا اسلوب بیان: ایک جائزہ
مصنف شفیق، محمد مدثر، محمد عابد ندیم
جلد 35
شمارہ 1
سال 2020
صفحات 62-80
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Quran, Commentaries of Quran, Barelivi Scholars.
شکاگو 16 شفیق، محمد مدثر، محمد عابد ندیم۔ "علماء اہلسنت (بریلوی) کی تفاسیر کا اسلوب بیان: ایک جائزہ۔" التفسیر 35, شمارہ۔ 1 (2020)۔
شیخ سعید حوی اور ان کی تفسیر: ایک مطالعہ
علامہ اسید الحق قادری بدایونی کی کتاب ”قرآن کی سائنسی تفسیر“: ایک مطالعہ
ترجمۃ القرآن از عبد السلام بن محمد کے خصائص و ممیزات اور تفسیر القرآن کا تحقیقی مطالعہ
علماء اہلسنت (بریلوی) کی تفاسیر کا اسلوب بیان: ایک جائزہ
مذہبی اجارہ داری کے انسداد میں مفسرین کی خدمات کا تجزیاتی مطالعہ
تشبہ بالکفار اور قرآنی تعلیمات: ایک تحقیقی جائزہ
عورت کی ازدواجی حیثیت اور تولیدی صحت سے متعلق تصورات کا تجزیہ
خلع میں شوہر کی رضامندی کے دلائل اور عدالت کا دائرہ اختیار: تجزیاتی مطالعہ
قتل غیرت اور اسلامی تعلیمات: فیصل آباد ڈویژن کے تناظر میں: ایک تجزیاتی جائزہ 2016ء تا 2018
سیرت رسول ﷺ اور انسانیت کا احیاء تہذیبوں کے پیرائے میں
عہد رسالت میں مملکت کا بنیادی تصور: ایک تحقیقی جائزہ
سماج کے کمزور طبقات کے ساتھ رسول اللہﷺ کا طرز عمل
صوفیہ کے ملفوظاتی ادب میں معجزہ معراج النبی ﷺ: ایک مطالعہ
ماحولیات، جدید چیلنج اور تعلیمات نبوی ﷺ
فقہی مسائل میں تطبیق: ” کتاب المیزان “ کا تعارف و جائزہ
امام غزالی کے فکری اسفار کا مطالعہ
مولانا ابو یوسف محمد شریف محدث کوٹلوی کی خدمات حدیث شریف
اسلام اور مغرب میں خاندانی نظام کا تقابلی جائزہ
فیملی بزنس میں زکوۃ کے مسائل اور ان کا حل
تجارت میں جعل سازی کا بڑھتا ہوا رحجان اور حکومتی ذمے داریاں
لسان العرب کا تعارفی و تحقیقی مطالعہ
Evolution of Arabic Literature in Nigeria: Case Study of Tafa’sir
Stealing, Usury, Wine and Divorce in the Sami Religions of the World
Haq Bakhshish (Marriage to Quran) : A Custom Confused With Religion: A Case Study of Qaisra Sharaz’S Protogonist ‘Zari Bano’ from the Novel Holy Woman
Religious Education and Community Services: Importance of Islamic Studies Education As Tool for Social Services and Community Welfare
Role of Media in Building an Islamic Society
Soft Power: An Invasion to Pakistani Culture

Abstract

The Holy Quran is the first and very important source of Islamic Law. This book was revealed in Arabic language. When Islam spread over the Subcontinent with the passage of time then It was needed to translate this book in the regional languages for the better understanding of Allah's message. The people of this era could not understand the real teaching of Quran without its translation. The Ulema e Ahlesunat (Barelvi) school of thought took participation in the field of Tafseer to convey this holy message to the people of Subcontinent. The intellectual efforts of the scholars of the Ahlesunat (Barelvi) thoughts can be found in every field of Islamic teaching. These Ulema extended their contributions in Islamic teaching through illustration of the Quran. They wrote translations of the Quran in different ages and tried to solve the problems which were raised in this era about Islamic teaching. In this research article the authors analyzed the style of selected Mofasereen of the Ahlesunat( Barelvi's )school of thought

قرآن مجید بلاشبہ ایک ایسی الہامی کتاب ہے جس میں کسی قسم کا ردو بدل ممکن نہیں ہے اور ہر طرح کے شکوک و شبہات سے پاک و منزہ ہے۔قرآن مجید میں ہے: ذَلِکَ الْکِتَابُ لاَ رَیْبَ فِیْہِ([1])

یہ انسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اور اس کی حفاظت کا ذمہ خود للہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے ۔قرآن مجید میں ہے: إِنَّانَحْنُ نَزَّلْنَاالذِّکْرَوَإِنَّالَہُ لَحَافِظُون([2])

”اس نصیحت نامہ کوہم نے ہی نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔“

اللہ تعالیٰ نے اس کلام کی حفاظت کے لیے ہر دور میں ایسے ارباب ذی علم کو پیدا کیا جنہوں نے اس پاک کلام کی تفسیر کی اور یہ اعجاز قرآن ہے کہ ہر دور میں مفسرین نے اپنی خدا داد صلاحیتوں کی بدولت اس بحر علم سے استفادہ کیا ہے اور امت مسلمہ کے اہل علم حضرات نے دنیا کے ہر خطہ میں اس پیغام کو عام کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی ۔برصغیر پاک و ہند میں بھی تفسیر و علوم القرآن پر خاصا قابل ذکرکام ہوا دیگرعلوم و فنون کی طرح قرآن کی تفسیریں بڑی تعداد میں اورنہایت شرح و بسط کے ساتھ لکھی گئیں یہ تفسیریں فارسی،عربی اور اردو تمام زبانوں میں تحریر کی گئیں ۔برصغیر میں اس کی ابتداء شاہ ولی اللہؒ نے قرآ ن کا فارسی میں ترجمہ کر کے کی جس کا نام فتح الرحمن رکھا گیا بعد ازاں فارسی کا رواج کم ہونے کی وجہ سے پچیس سال کے بعد آپ کے فرزند شاہ عبد القادر ؒ نے اردو زبان میں قرآن مجید کا بامحاورہ ترجمہ کیا اردو ترجمے کی روایت بڑھتے بڑھتے جب بیسویں صدی میں پہنچی تو کنزالایمان کے نام سے قرآن کریم کا ایک نایاب ترجمہ شائع ہوا جس کے مصنف امام احمد رضا خان بریلویؒ تھے اور اسی چیز نے آپ کے علم اور نام کو دوام بخشتے ہوئے چار دانگ عالم میں زبان زد عام و خاص کر دیا۔کنز الایمان اگرچہ محض ترجمہ ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ قرآن فہمی کے لیے عصرحاضر کی بڑی بڑی ضخیم تفاسیرسےزیادہ معیاری،واضح،مدلل،محقق،مقبول اورموثرہے۔

علامہ گل احمدعتیقی فرماتےہیں:

”آپ کا ترجمہ قرآن آپ کے علم و فضل کا شاہد عادل اور روشن تر دلیل ہے تفاسیر کے کئی صفحات پر پھیلے ہوئے مضامین کو آپ ایک جملہ میں نہیں بلکہ ایک لفظ میں سمو کر رکھ دیتے ہیں گویا کہ آپ کا ترجمہ قرآن دریا اندر حباب یا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کا مصداق اتم ہے۔“([3])

علامہ عبد الحکیم شرف قادری آپ کے ترجمے بارے لکھتے ہیں: 

”امام احمد رضا خان کو اللہ تعالیٰ نے تقریباً پچاس علوم و فنون میں بے مثال مہارت ،وسیع مطالعہ اور حیرت انگیز حافظہ عطا فرمایا تھا انہوں نے قرآن پاک کا ترجمہ کر کے عامۃ المسلمین پر بہت بڑا احسان فرمایا ہے بلاشبہ ان کا ترجمہ تمام خوبیوں کا حامل اور قرآن پاک کا بہترین ترجمان ہے۔([4])

امام احمد رضاؒ کی حیات و تعلیمات کو اس دور پر آشوب کے آئینہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو واضح ہو گا کہ آپ بلاشبہ برصغیر کی وہ منفرد اور ناقابل فراموش شخصیت ہیں جس نے بیک وقت علمی،عملی ،فکری اور اعتقادی محاذوں پر پورے عزم و ہمت اور جواں مردی کے ساتھ تیغ بے نیام بن کر باطل نظریات کا مقابلہ کیا جس کے علمی شاہکار کی واضح تصویر کنز الایمان ہے اس لیے آپ کے نقش قدم اور فکر کو اپناتے ہوئے اہلسنت مکتب فکر کے علماء (بریلوی) نے تراجم و تفاسیر لکھنے شروع کیے ۔اردو میں لکھی گئیں تفاسیر کا اسلوب بیان ذیل میں بیان کیا گیا ہے:

تفسیر خزائن العرفان از مولانا نعیم الدین مراد آبادی

تفسیر خزائن العرفان کے مفسر کا نام مولانا نعیم الدین مراد آبادی ہے آپ ۲۱ صفر ۱۳۰۰ھ /یکم جنوری ۱۸۸۷ء میں مراد آباد میں پیدا ہوئے اور ۶۷ برس کی عمر میں ۱۸ ذالحج ۱۳۶۷ ھ/۱۳اکتوبر ۱۹۴۸ء کو وفات پائی ۔جامعہ نعیمہ کے احاطہ میں آپ کا مزار شریف ہے ([5])خزائن العرفان دراصل تفسیری حواشی ہیں شان نزول کو بنیاد بنا کر کچھ تفسیری حاشیہ بڑھا دیا ہے۔

حکیم لامت مفتی احمد یار نعیمی اس تفسیر کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:

اردو تفاسیر میں سب سے بہتر خزائن العرفان حضرت سید محمد نعیم الدین مرا د آبادی ہے ([6])یہ تفسیر دراصل امام احمد رضا خان کے ترجمے کنز الایمان کے ساتھ حواشی میں لکھی گئی ہے اس حواشی تفسیر میں مصنف کا اسلوب بیان یہ ہے کہ جس سورت کی تفسیر کرتے ہیں وہ جتنے بھی ناموں سے منسوب ہو،تمام کو تحریر کرتے ہیں سورتوں کے فضائل بھی بیان کرتے ہیں سب سے پہلے سورت کا مکی و مدنی ہونا بیان کرتے ہیں آیات ،حروف اور کلموں کی تعداد بیان کرتے ہیں آیات کے سبب نزول اور جن سورتوں میں کوئی آیت ناسخ ومنسوخ نہ ہو کو بھی بیان کرتے ہیں جیسا کہ سورہ فاتحہ کی تفسیر میں وضاحت کرتے ہیں کہ اس میں کوئی آیت منسوخ نہیں ہے۔ترجمے کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تعین کرتے ہیں اور ان کو گنتی سے واضح کرتے ہیں کہ فلاں حصے کی تفسیر فلاں ہے اور نیچے تفسیر میں بھی وہ نمبر تشکیل دیتے ہیں جو کہ قاری کو سمجھنے میں آسانی کا سبب بنتا ہے آپ کی تفسیر انتہائی سہل انداز میں ایک جامع گفتگو اور عین برضائے الہی کا خوبصورت امتزاج ہے جہاں بھی فقہی مباحث کا ذکر آتا ہے وہاں "مسئلہ " کے عنوان کے تحت جتنے بھی متعلقہ مسائل ہوتے ہیں بیان کر دیتے ہیں۔([7])مفسر حنفی ہونے کی وجہ سے مسائل میں احناف ہی کی آراء کو واضح کر کے مسئلہ بیان کرتے ہیں اس لیے اس تفسیر میں حنفی کتب کے حوالہ جات ہی موجود ہیں جن میں شامی ،عالمگیری اور ردالمختار نمایاں ہیں۔ تحریر کے اندر ہی حوالہ جات بیان کرتے ہیں مگر پورا حوالہ موجود نہیں ہے اس تفسیر کے تفسیری ماخذات میں تفسیر خازن ،تفسیر بیضاوی ،تفسیر جمل اورتفسیر مدار ک خصوصی طور پرشامل ہیں۔ 

تفسیر اشرف التفاسیر(تفسیرنعیمی)

اس کے مفسر حکیم الامت مفتی احمد یار نعیمی ہیں۔ آپ یکم مارچ ۱۸۹۴ء /۱۳۱۴ھ میں ضلع یو۔پی کے شہر بدایوں میں پیدا ہوئے([8])اور ۳ رمضان المبارک ۱۳۹۱ھ/۱۹۱۷ء کو گجرات میں وفات پائی اور وہیں مدفون ہوئے([9])حکیم الامت نے قرآن مجید کی جو تفسیر لکھی ہے اس کا مکمل نام اشرف التفاسیر ہے اور عرف عام میں تفسیر نعیمی کے نام سے مشہور ہے۔آپ نے گیارہ پارے کے آخری پاؤ تک لکھی تھی کہ آپ کا وصال ہو گیا آخری آیت أَلا إِنَّ أَوْلِیَاء اللّہِ لاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُونَ ۔الَّذِیْنَ آمَنُواْ وَکَانُواْ یَتَّقُونَ۔ لَہُمُ الْبُشْرَی فِیْ الْحَیْاۃِ الدُّنْیَا وَفِیْ الآخِرَۃِ لاَ تَبْدِیْلَ لِکَلِمَاتِ اللّہِ ذَلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْم تھی۔([10])اس کے بعد بیسویں پارے تک آپ کے صاحبزادے مفتی اقتدار احمد نعیمی نے لکھی پھر ان کا بھی وصال ہو گیا۔خیال رہے کہ حکیم الامت نے تفسیر نعیمی کے علاوہ تفسیر نور العرفان علی ترجمہ کنز الایمان بھی لکھی ہے یہ حاشیہ کے انداز میں ہے مگرمعانی و مفاہیم کی آگاہی کا خزانہ ہے بلکہ اس کی تصنیف پر آپ کو اس وقت کے علماء نے حکیم الامت کا لقب قرار دیا۔([11]) آپ کی تفسیر "تفسیر نعیمی" اردو تفسیر کے ذخیرے میں ایک گراں قدر اضافہ ہے ۔اس تفسیرکے اسلوب کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ اس میں کوئی گوشہ تشنہ نہیں معلوم ہوتا۔مفتی صاحب کو علوم عقلیہ ،نقلیہ و فروعیہ پر عبور حاصل تھا آپ کی تفسیر عالمانہ بھی ہے عاشقانہ بھی ہے عارفانہ بھی اور صوفیانہ بھی۔ ہر آیت کی تفسیر صوفیانہ طرز پر کرنا آپ کی اس تفسیر کی ایک خاص خوبی اور وصف ہے جیسا کہ فلَمْ تَقْتُلُوہُمْ وَلَکِنَّ اللّہَ قَتَلَہُمْ وَمَا رَمَیْتَ إِذْ رَمَیْتَ وَلَکِنَّ اللّہَ رَمَی وَلِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْہُ بَلاء حَسَناً إِنَّ اللّہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ذَلِکُمْ وَأَنَّ اللّہَ مُوہِنُ کَیْدِ الْکَافِرِیْن۔([12])

”اے رسول ﷺ آپ ﷺ نے ان کفار کو قتل نہ فرمایا بلکہ اللہ نے ان کو قتل فرمایا اور اے محبوب ﷺ وہ خاک جو آپﷺ نے پھینکی وہ آپ ﷺ نے نہ پھینکی لیکن وہ اللہ نے پھینکی تھی اور اس لیے اللہ نے مسلمانوں کو اچھا انعام عطا فرمایا بے شک وہ سننے والا جاننے والا ہے اور بے شک اللہ کافروں کا فریب کمزور کرنے والا ہے۔“

اس آیت کی صوفیانہ تفسیر کرتے ہوئے مفتی صاحب لکھتے ہیں کہ ہرچیز اللہ کی عبد ہے مگر حضور اکرمﷺ عبدہ ہیں ۔عبد اور عبدہ میں چند فرق ہیں :

۱۔عبد وہ جو اللہ کی رضا چاہے ،عبدہ وہ کہ اللہ ا س کی رضا چاہے وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضَی۔ ([13])

۲۔عبد وہ جو اپنی عبدیت پر ناز کرے کہ میں اللہ کا بندہ ہیں ،عبدہ وہ کہ دست قدرت اس کی عبدیت پر ناز کرے کہ رب فرمائے کہ میں محمد ﷺ رسول اللہ کا رب ہوں ۔

۳۔عبد وہ کہ اس کی شان رب سے ظاہر ہو اور عبدہ وہ کہ رب کی شان اس سے ظاہر ہو۔

۴۔عبد وہ جو کسی کے لیے بنے اور عبدہ وہ جس کے لیے دوسرے بنیں لولاک لما خلقت الفلاک۔ ([14])

5۔عبد وہ جو رب سے ملنا چاہے اور عبدہ وہ جس سے رب ملنا چاہے۔ سُبْحَانَ الَّذِیْ أَسْرَی بِعَبْدِہِ لَیْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی الْمَسْجِدِ الأَقْصَی الَّذِیْ بَارَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا إِنَّہُ ہُوَ السَّمِیْعُ البَصِیْر۔ ([15])

6۔عبد وہ جو رحمت رب کی طرف جائے مگر عبدہ وہ کہ رحمت رب اس کو تلاش کرے۔

7۔عبد وہ جو کچھ نہ ہو اور عبدہ وہ جو کچھ نہ ہو کر بھی سب کچھ ہو۔

8۔عبد وہ جو کسی سے بنے اور عبدہ وہ جس سے سب کچھ بنے ۔(انا من نور اللہ و کل الخلائق من نوری) ([16])

9۔عبد وہ جو اپنے کام کا خود ذمہ دار ہواور عبدہ وہ کہ اس کے ہر کام کی رحمت خدا ذمہ دار ہو۔ فَلَمَّا قَضَی زَیْدٌ مِّنْہَا وَطَراً زَوَّجْنَاکَہَا لِکَیْ لَا یَکُونَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْ أَزْوَاجِ أَدْعِیَاءِہِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْہُنَّ وَطَراً وَکَانَ أَمْرُ اللَّہِ مَفْعُولا۔ ([17])

۱۰۔عبد وہ کہ کرنا بھی اس کا ہواور کام بھی اس کا ہو جبکہ عبدہ وہ کہ کرناتو اس کا ہو مگر کام رب کا ہو یعنی مصدر اس کی ذات ہو اور حاصل مصدر رب کا کرم ہو۔اس آیت میں رب تعا لیٰ نے حضور اکرم ﷺ کے عبدہ ہونے کی جھلک دکھائی ہے صحابہؓ سے فرمایا تم نے بدر میں جہاد،قتال اور فتح کو کیا ہی نہیں جو کچھ کیا درحقیقت رب نے کیا ،تم سبب ہو رب مسبب ہے اور مسبب کے مقابل سبب بے معنی ہے۔یعنی سبب پردہ ہے مسبب پردہ دار ہے،سبب حجاب ہے مسبب ورون حجاب ہے اس پردہ کی آڑ کو پھاڑ اور دیکھ لے جمال یار،لہذا وہاں فعل صحابہؓ کی بلکل نفی فرما دی ۔ حضورﷺ سبب ہیں مگر مسبب سے وابستہ حجاب ہیں مگر یار کودکھانے والے حجاب نہ کہ چھپانے والے ،جیسے ہلکا بادل حجاب بن کر سورج کو دکھا دیتا ہے صاف و روشن سورج پر نظر نہیں ٹھرتی۔اس حجاب میں یار نظر آ رہا ہے اس لیے فرمایا تم نے کنکر پھینکا مگر تمہارے اس کام میں یار کی تجلی نظر آ رہی ہے کہ وہ ہم نے پھینکے۔صوفیاء فرماتے ہیں ما رمیت لک بل رمیت باللہیعنی آپ نے کنکر نہ پھینکے بلکہ آپ نے قدرت الہیہ کا مظہر ہو کر پھینکے،تمہارا ہاتھ اللہ کا ہاتھ ہے اسی لیے اس ہاتھ پر کی گئی بیعت اللہ کی بیعت ہے۔ إِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُونَکَ إِنَّمَا یُبَایِعُونَ اللَّہَ یَدُ اللَّہِ فَوْقَ أَیْدِیْہِمْ([18])بندہ محل آفات ہے اور عبدہ آفات سے منزہ۔([19])

مزید حکیم الامت اپنی تفسیر کے اسلوب کی بابت فرماتے ہیں کہ:

1۔یہ تفسیر ،تفسیر روح البیان ،تفسیر کبیر،تفسیر عزیزی ،تفسیر مدارک اور تفسیر ابن عربی کا گویا خلاصہ ہے ۔

2۔اردو تفاسیر میں سب سے بہتر خزائن العرفان حضرت صدر الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مر اد آبادی ہے اس کو مشعل راہ بنایا گیا ہے گویا یہ تفسیر اس کی تفصیل ہے۔

۳۔ اردو ترجموں میں نہایت اعلیٰ ترجمہ کنز الایمان ہے اسی پر تفسیر کی گئی ہے ۔

4۔ ہر آیت کا پہلی آیت سے نہایت عمدہ تعلق اور ربط بیان کیا گیا ہے۔

5۔ آیات کا شان نزول نہایت وضاحت سے بتایا گیا ہے اور اگر شان نزول ایک سے زائد مروی ہیں تو ان کی مطابقت کی گئی ہے۔

6۔ ہر آیت کی ا ولاً تفسیر اور بھر خلاصہ تفسیر اور پھر تفسیر صوفیانہ دلکش اور نہایت ایمان افروز طریقہ سے کی گئی ہے۔

7۔ ہر آیت کیساتھ علمی فوائد اور فقہی مسائل بیان کیے گئے ہیں ۔([20])

اس تفسیر کے اسلوب کی خوبی یہ بھی ہے کہ اس نے پہلی بار عربی مفسرین کرام کے بیان کردہ مطالب و مقاصد کو کھلے انداز اور آسان زبان میں پیش کیا ہے جس سے عامۃ المسلمین کے کم پڑھے لکھے طبقوں کے لیے بھی قرآن فہمی کے دروازے کھل گئے ہیں۔خود مصنف دیپاچے میں رقم طراز ہیں کہ بہت کو شش کی گئی ہے کہ زبان آسان ہو اور مشکل مسائل بھی آسانی سے سمجھا دئیے جائیں ([21])تفسیر نعیمی کے اسلوب کی امتیازی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں بیک وقت متعدد فرقہ باطلہ کے خیالات و نظریات پر تنقید کی گئی ہے اور قرآن مجید کے مختلف مقامات پر ان کے اعتراضات کے جوابات دئیے گئے ہیں ۔خود فاضل مصنف دیباچے میں فرماتے ہیں کہ تقریباً ہر آیت کے تحت آریہ،عیسائی ، نیچری، چکڑالوی وغیرہم کے اعتراضات معہ جوابات بیان کیے گئے ہیں ۔ستیارتھ پرکاش کے چودھویں باب کے جوابات دئیے گئے ہیں لیکن یہ کتاب مجھے بعد میں ملی اس لیے اس کی باقاعدہ تردید کچھ دور جا کر ہوئی ایسے مقاما ت پر مفسرجو اسلوب اپناتا ہے اس میں پہلے اعتراض کے عنوان سے متعلقہ باطل فرقہ کی رائے کو درج کیا جاتا ہے اور پھر اس سوال کے جواب کوعقلی دلائل سے حل کرتے نظر آتے ہےاس کی مثال کے لیے مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن ([22])کی تفسیر نعیمی کا ایک مقام یہاں درج کیا جاتا ہے جس میں آریوں کے اس عقیدے کی تردید کی گئی ہے کہ آخرت کی بجائے اس دنیا میں مختلف جونوں کی تبدیلی سے ہی اعمال کی سزا جزا ہوتی رہتی ہے۔

اعتراض

آریوں کے عقیدے میں یہ دنیا ہی عمل اور جزا کی جگہ ہے وہ کہتے ہیں کہ جو انسان برے کام کرتا ہے وہ مرنے کے بعد نری جون میں آتا ہے اور اچھے کام کرنے والا اچھی جون میں ۔جس قدر جانور وغیرہ ہیں یہ پہلے انسان ہی تھے لیکن یہ اپنی بد عملی کی وجہ سے ان جونوں میں آئے تو ان کے نزدیک دنیا عمل و جزا دونوں کی جگہ ہے۔

جواب

لیکن مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ دنیا فقط عمل کی جگہ ہے یہاں جزا نہیں ۔آریوں کا یہ عقیدہ بلکل خلاف عقل ہے اولاً تو اس لیے کہ جب دوسری جون میں پہنچ کر پہلی جون کا آرام یا تکلیف یاد ہی نہ رہی تو اس کو اپنے گزشتہ اعمال کا احساس ہی نہ ہو گا اور تکلیف اور غم محسوس ہی کیا ہو گا ؟مثلاً ایک شخص آج فقیربے نو اہے ان کے قاعدے سے پہلے کسی اچھے حال میں زند گی گزار گیا تھا لیکن بدعملی کے باعث اب فقیر بنا کر بھیجا گیا جب اسے یاد ہی نہ رہا کہ پہلے میں کیا تھا اور اس وقت میں نے کیا کیا تھا کس عیش میں تھا یہ کس عمل کی سزا ہے تو اب اس کو اس فقیری میں تکلیف ہی ہو گی وہ تو اپنی اس فقیری میں ہی خوش اور مست ہو گا([23])

تفسیر نعیمی کے انداز اسلوب میں مجموعی طور پر ایک ہی طریقہ تفسیر اپنایا گیا ہے جس میں ہرآیت کی تشریح میں عام طور پر مندرجہ ذیل گیارہ چیزوں کو بیان کیا گیا ہے :

۱۔لفظی ترجمہ،۲۔ بامحاورہ ترجمہ،۳۔ شان نزول ،۴۔ ربطہ آیات، ۵ ۔تفسیری نحوی ،۶۔ تفسیر عالمانہ، ۷۔ خلاصہ تفسیر، ۸۔فوائد آیات، ۹۔فقہی مسائل،۱۰۔اعتراضات و جوابات، ۱۱۔تفسیر صوفیانہ

تفسیر الحسنات بالآیات البینات

اس تفسیر کے مفسر کا نام ابو الحسنات محمد احمد بن دیدار علی شاہ ہے آپ ۱۳۱۴ھ/۱۸۹۶ ء میں ہندوستان کی ریاست الور میں پیدا ہوئے([24])اور شعبان ۱۳۸۰ھ /۱۹۶۱ء میں انتقال کر گئے۔ سید علی ہجویری کے مقبرہ کے قریب مدفن ہے۔بچپن میں قرآن مجید حفظ کرنے کے بعد اردو اور فارسی کی تعلیم حاصل کی ۔قراء ۃ و تجوید قادر بخش الوری سے سیکھی ۔شیخ احمد رضا بریلوی اور شیخ نعیم الدین مراد آبادی سے بھی اکتساب فیض کیا اور فن طب کی کتب کی بھی تعلیم حاصل کی ۔([25])تفسیر کا مکمل نام تفسیر" الحسنات بالآ یات البینات و خلاصہ تفسیر الایات باقو ا ل الحسنات "ہے اس تفسیر کی سات جلدیں ہیں۔ چھبیس پارے میں سورہ ق تک تفسیر آپ نے خود فرمائی اور باقی چار پاروں کی تفسیر آپ کے صاحبزادے مولانا محمد خلیل کے ہاتھوں مکمل ہوئی۔آپ کی اہم تصنیفات میں تفسیر کے علاوہ سید علی ہجویری کی کتاب کشف المحجوب کا ترجمہ الکلام المرغوب ،تاریخ انبیاء و صحابہ پر مشتمل کتاب اوراق عمر ،شرح قصیدہ البردہ ،اسلام کے بنیادی عقائد،احوال محشر اور مسلم خواتین اور پردہ اہم ہیں ۔([26])

۱۹۵۳ء میں جب آپ قید میں تھے تو آپ نے اس تفسیر کو لکھنا شروع کیا اسی دوران آپ نے آٹھ سورتوں کی تفسیر لکھی باقی تفسیر آپ نے قید سے رہا ہو کر لکھی لیکن آپ کے قلم سے صرف چھبیس پارہ کی سورہ ق تک ہی مکمل ہو سکی۔مفسر اس تفسیر میں پہلے ایک رکوع کا بامحاورہ ترجمہ کرتے ہیں اس کے بعد " حل لغات "کا عنوان بنا کر مشکل الفاظ کے معنی بیان کرتے ہیں اور بعد ازاں رکوع میں شامل آیات کی ترتیب وار تفسیر کرتے ہیں ۔یہ تفسیر ،تفسیر بالماثور کا خوبصورت امتزاج رکھتی ہے جس میں قرآن کی تفسیر قرآن سے اور تفسیر القرآن بالاحادیث کے انداز کو اپنایا ہے۔ مثال کے طور پرفتَلَقَّی آدَمُ مِن رَّبِّہِ کَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَیْْہِ إِنَّہُ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ([27])حضرت آدم نے اپنے رب سے چند باتیں سیکھ لیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی ۔بیشک وہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔

مفسرا س آیت میں کلمات کے استدلال کے لیے اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ وہ کلمات یہ تھے:

قَالاَ رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْن([28])

تفسیر میں علم القراء ت کا اکثر مقامات پر ذکر کرتے ہیں جس کے بہت سے فوائد ہیں اور قرآن کے معانی سمجھانے میں یہ علم مددگارہے قرآن مجید کی تفسیر لغت عربیہ کی واقفیت کے بغیر نا ممکن ہے اس لیے مفسر بعض آیات کے الفاظ کی لغوی تشریح بھی کرتے ہیں مفسر صرف و نحو کے مسائل کثرت سے ذکر کرتے ہیں جو مفید اور معلوماتی چیزیں ہیں اور آیات کے الفاظ کے لغوی معنی اور اس کی وضاحت کے لیے اہل لغت کی کتب جن میں المفردات،المنجد،لسان العرب،معجم المؤلفین اور دیگر کتب سے استفادہ کرتے ہیں۔قرآن مجید کے اسرار و اعجاز کو علم معانی،بیان اور علم بدیع کے ذریعےواضح کرتےہیں جیسا کہ ذَلِکَ الْکِتَابُ لاَ رَیْبَ فِیْہِ([29]) کے ضمن میں مفسر لکھتے ہیں کہ ذَلِک مبتداء ہے اور لاَ رَیْبَ فِیْہ اسکی خبر ہے کتاب کتیبہ سے بنا ہے اس کے معنی جمع ہونا ہیں چونکہ قرآن مجید میں تمام علوم جمع ہیں اس لیے یہ کامل کتاب ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے۔([30])مفسر سورت کی تفسیر میں رکوع،آیات،کلمات اور حروف کا ذکر کرتے ہیں سورت کے مکی یا مدنی ہونے کی بحث کرتے ہیں ۔قدیم تفاسیرکے حوالہ جات سے استفادہ نظر آتا ہے زیادہ تر روح لمعانی پر اعتماد کیا ہے کئی مقامات پر آیات کا ربط بھی کرتے نظر آتے ہیں قدیم عربی کتب تفاسیر کے ساتھ جدید اردو تفاسیر سے بھی استفادہ کیا ہے اور احادیث میں صحاح ستہ کے علاوہ کچھ اور احادیث کی کتب بھی آپ کے مطالعہ میں نظر آتی ہیں جیسا مؤطا اور مستدرک وغیرہ۔حالانکہ مفسر حنفی ہونے کے باوجودمذاہب اربعہ سے بھی استدلال کرتے ہیں جو ان کی علمی بصیرت کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت کی اعتدال پسندی کا واضح ثبوت ہے مفسر کا اسلوب بیان مطالعہ کرنے والے کے لیے انتہائی آسان اور واضح ہے۔

تفسیر ضیاء القرآن

پیر محمد کرم شاہ الازہری یکم جولائی ۱۹۱۸ء بمطابق ۱۲ رمضان المبارک ۱۳۳۶ھ بھیرہ ضلع سرگودھا میں پیدا ہوئی اور ۱۷ اپریل ۱۹۹۸ء میں آپ اس دنیاے فانی سے رحلت فرما گئے([31]) آپ نے تنہا امت مسلمہ کے لیے وہ کام کیا جو بڑے بڑے گروہ اور ادارے نہ کر سکے ۔جب آپ نے دیکھا مسلمانان پاکستان کی یہ حالت ہے کہ کالج سے آنے والا مولوی کو دیکھنا گوارا نہیں کرتا اور قال اللہ وقال الرسولﷺ پڑھنے والے کو آج کی نسل کا نوجوان ایک آنکھ نہیں بھاتا تو آپ نے ایک ایسا نصاب تعلیم دیا جس نصاب کو پڑھنے والا شاہین دونوں آنکھیں روشن کر کے نکلتا ہے ۔([32])

آپ کی ظاہری زندگی نے جہاں اک جہاں کو متاثر کیا اور ان کے قلوب و اذہان پر نقوش چھوڑے وہاں آپ کے ارشادات و فرامین جو نصف صدی سے زائد کو چھپاتے ہیں ہزاروں لاکھوں کی تیرہ تار زندگیوں کے لیے وجہ تنویر بنے۔آپ مسند ارشاد پر فائز ایک شیخ طریقت اورجستجویاں حق کے لیے ایک رہبر کامل تھے آپ کی پوری زندگی تحریر و تقریر سے عبارت تھی اور سب سے بڑھ کر آپ سنت حبیبﷺ پر عمل پیرا ہونے والے ایک سچے عاشق رسول ﷺ تھے([33]) تفسیر ضیاء القرآن آپ کی اسی تبحر علمی کی عکاس ہے یہ تفسیر ۵ جلدوں پر مشتمل ہے یہ قرآن کے پرسوز نالوں کی شرح معلوم ہوتی ہے لہذا جہاں تک اس تفسیر کا تعلق ہے تو یہ عصر حاضر کی تمام تفاسیر میں فن ادب،جوہرتحقیق،زبان اور تفسیری نکات کے علاوہ اجتہادی رنگ میں امتیازی حیثیت رکھتی ہے یوں تو ہر زبان میں تفاسیر لکھی گئیں اور اردو میں لکھی ہوئی تفاسیر میں اگرچہ ترجمہ و تفاسیر کے بنیادی تقاضے تو پورے ہوئے لیکن ترجمہ و تفسیر کی وہ دلربائی و چاشنی جو پڑھنے والے کو مسحور کر دے اور تفسیر کھولتے ہی قاری کو اپنے فطری اعجاز حسن میں مست کر دے جوایک مسافر شوق کو قرآنی نقطہ آفرینیوں کی طرف کھینچ لے وہ تفسیر ضیاء القرآن کا اعجاز و خوبی ہے اور دوسری خوبی اس میں عشق مصطفیٰﷺ کا رنگ نظر آتا ہے۔آپ نے بے شمار کتب تصنیف کیں ان میں ہمارے زیر بحث آ پ کی شہرہ آفاق تفسیر ضیا ء القرآن ہے جو کہ آپ کی ۱۹سال کی طویل مدت میں ۳۵۰۰ صفحات پر مشتمل ہے۔([34])

تفسیر کی زبان انتہائی آسان اور قاری کے لیے دلچسپی کا سبب ہے ہر سورت کی ابتداء میں مقدمہ لکھتے ہیں جس کو تعا رف سورت کے نام سے واضح کر کے اس میں سورت کے نزول کے وقت کے حالات کو بیان کر کے نزول کے وقت اردگرد کا ماحول ذکر کرتے ہیں اس کے بعد سورت کا نام ،آیات کی تعداد ، رکوع اور اسباب نزول ضرور بیان کرتے ہیں۔ تعدادالفاظ و حروف اور سورت کے مضامین ذکر کیے جاتے ہیں قرآن کریم کے کلمات کے نیچے اردو میں ان کا ترجمہ بیان کرتے ہیں ۔

پیر صاحب تفسیر کے مقدمے میں اسلوب تحریر کے متعلق لکھتے ہیں :

”کہ ہر سورت سے پہلے اس کا تعارف جس میں سورت کا زمانہ نزول ،اس کا ماحول،اہم اغراض و مقاصد، مطالب،مضامین خلاصہ اوراگر اس میں کسی سیاسی یا تاریخی واقعہ کا ذکر ہے تو اس کا پس منظر بیان کیا ہے تا کہ قارئین تعارف کو پڑھ لیں گے تو سورت کا مطالعہ کرتے وقت وہ ان امور خصوصی پر زیادہ توجہ مبذول کر سکیں گے نیز یہ کہ اس میں ترجمے کی دونوں اقسام کو یکجا کیا گیا ہے تا کہ کلام کا تسلسل اور روانی برقرار رہے اور زور بیان میں بھی فرق نہ آنے پائے([35])پیر صاحب کا ترجمہ قرآن دونوں خصوصیات کا حامل ہے وہ لفظی بھی ہے اور بامحاورہ بھی ہے۔نہایت خوبصورت اور موئثر الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے ترجمہ و تفسیر وہ دلربائی و چاشنی ہے جو پڑھنے والے کو مسحور کر دیتی ہے ۔([36])اس تفسیر میں اسلام کے نظام عبادات، سیاسیات،معاشیات اور اخلاقیات کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی اس طرح کوشش کی گئی ہے کہ عصر حاضر کا انسان س سے بہت استفادہ کر سکتا ہے ([37])اس تفسیر میں کائنات کے پالنہار کی ذات و صفات کا ایسا حسین تذکرہ فرمایا ہے کہ پڑھ کر عقل و خرد مطمئن اور قلب و نظر مسرور ہو جاتے ہیں۔“([38])

یہ تفسیر عمل و عشق کا حسین امتزاج ہے کیونکہ ضیاء القرآن کا یہ طرہ ہے کہ اس میں جہاں دلائل تواضح بخش ہیں وہاں عظمت رسالت بھی اپنی رعنائی کے ساتھ موجود ہے ۔صاحب تفسیرنے متعدد ایسے مقامات پر نعت کبریاء ﷺ کا پہلو نکالا ہے جہاں اکثر مفسرین توجہ دیے بغیر گزر جاتے ہیں ۔([39])جیسا کہ پیر کرم شاہ کا تعلق ایک صوفی گھرانے کے ساتھ تھااوریہ رنگ نہ صرف آپ کی شخصیت کا حصہ بنا بلکہ آپ کی تفسیر ضیاء القرآن میں بھی یہ پہلو نمایاں حیثیت کا حامل ہے جیسا کہالَّذِیْنَ آمَنُواْ وَتَطْمَءِنُّ قُلُوبُہُم بِذِکْرِ اللّہِ أَلاَ بِذِکْرِ اللّہِ تَطْمَءِنُّ الْقُلُوب([40])کی تفسیر کرتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں کہ مومنین کو صاف دل عطا ہوئے پس جب وہ اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے دل بوجہ انس کے رب تعالیٰ اس طرح اطمینان محسوس کرتے ہیں جیسے مچھلی پانی میں مطمئن ہوتی ہے اور یہ حالت صوفیائے کرام کے نزدیک وحدانیات میں سے ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس قول سے مراد صوفیائے کرام ہی ہیں۔ ([41]))مصنف نے تفسیر صوفیاء اور اقوال صوفیاء سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی آراء کو تقویت بخشی ہے جن میں شیخ اسماعیل حقی کی روح البیان،تفسیر مظہری،ابو بکر بن عبد اللہ محمد الاسدی کی تاویلات نجمیہ کے علاوہ کئی دوسری صوفی تفاسیر بھی شامل ہیں) ۔بعض مفسرین نے قرآن مجید کے اسرار و رموز سمجھاتے ہوئے عقائد و احوال کے حوالے سے بعض غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن پیر صاحب نے اپنے اسلوب تحریر کی روشنی میں ان کی تردید کر دی ہے یہی وجہ ہے کہ اگرکوئی ضیاء القرآن کے مطالعے کے ساتھ ساتھ دیگر تفاسیر کا بھی مطالعہ کرے تو اس تفسیر نے جہاں اہل علم کی پیاس بجھائی ہے وہاں غلط فہمیوں کا ازالہ کر کے عوامی ضروریات کو بھی پورا کر دیا ہے ۔([42])

آپ کے اسلوب تحریر کی خوبصورتی نے مسلکی مسائل بھی اسی طرح بیان کیے ہیں کہ کسی کی دل شکنی نہیں ہوتی نیز مختلف مسالک کی تفاسیر کے حوالہ جات بھی دیئے گئے ہیں تفسیر ضیاء القرآن کے ماخذ و مصادر میں انسائیکلوپیڈیاز،لغات ،تفاسیر،فتاویٰ جات اور الہامی کتب میں درج ذیل کتب نمایاں ہیں :

۱۔المفردات القرآن،۲۔ القاموس الوحید،۳۔المنجد،۴۔تاج العروس،۵۔تفسیر بیضاوی،6۔ تفسیر کشاف، ۷۔تفسیر کبیر،۸۔تفسیر احکام القرآن،۹۔تفسیر روح المعانی،۱۰۔تفسیر خازن ،۱۱۔تفسیر روح البیان،۱۲۔تفسیر فتح البیان ، ۱۳۔تفسیر ابن کثیر،۱۴۔البرہان فی علوم القرآن ،۱۵۔تفسیر نیشاپوری،۱۶۔تفسیر المنار، ۱۷۔ فتاویٰ عزیزی، ۱۸۔تفسیر مظہری، ۱۹۔تفسیر تفہیم القرآن،۲۰۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا ،۲۱۔ اناجیل(متی، لوقا)،۲۲۔تورات 

تفسیر تبیان القرآن

تفسیر تبیان القرآن کے مفسر کا نام غلام رسول سعیدی ہے۔آپ ۱۹۳۷ء میں دہلی میں پیدا ہوئے آپ کی کنیت ابو الوفاء تھی۔([43])علامہ سعیدی ایک مایہ ناز مدرس و مصنف تھے تفسیر،حدیث،فقہ ،کلام،تصوف آپ کے پسندیدہ علوم تھے تفسیر تبیان القرآن اسے تبحر علمی کا ایک بہترین شہکار ہے ۔مفتی عبدالقیوم ہزاروی تذکرۃالمحدثین کے ابتدائیہ میں آپ کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ علامہ صاحب بیک وقت بہترین مدرس ،مفتی، مناظر،مصنف اور فصیح و بلیغ ادیب وخطیب ہیں،تدریس کے میدان میں کئی سال سے معقولات اور منقولات پڑھا رہے ہیں اور اصول و فنون کے ماہر استاد کی حیثیت سے انہوں نے اپنا نام پیدا کر لیا ہے۔([44])

آ پ ۱۹۹۷ء تا ۱۹۹۹ء دو سال تک اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن رہے آپ کا اسلوب تحقیق و تصنیف یہ ہے کہ زیربحث عنوان سے متعلق سب سے پہلے قرآن مجید کی تعلیمات سے رجوع کرتے ہیں پھر احادیث،پھر اقوال صحابہؓ اور پھر فقہاء و علماء امت کی نگارشات کو زیر بحث لاتے ہیں ۔([45])دور حاضر میں تبیان القرآن ایک جامع ،مبسوط اور بے مثل و مثا ل قر آن مجید کی تفسیر ہے جو کہ ۱۲ ضخیم جلدوں اور ۱۷۵۲ صفحات پر مشتمل ہے فرید بک سٹال نے اسے شائع کیا ہے مصنف نے ۱۰ رمضان المبارک ۱۴۱۴ھ/ْ ۱۹۹۴ ء میں اس تفسیر کا آغازکیا۔

مفسر ترجمے کے ا سلوب کی بابت خود فرماتے ہیں:میں نے قرآن مجید کا ترجمہ تحت الفظ نہیں کیا اور نہ ہی ایسا کیاہے کہ قرآن مجید کے الفاظ سے بالکل الگ اور عربی متن کی رعایت کیے بغیر قرآن مجید کی کے مفہوم کی ترجمانی کی جائے ۔میں نے اپنے آپ کو قرآن مجید کے الفاظ اور عبارت کا پابند رکھا لیکن لفظی ترجمہ نہیں کیا ترجمہ میں زیادہ تر علامہ سید احمد سعید کاظمی کے ترجمہ' البیان' سے استفادہ کیا ہے([46])تفسیر تبیان القرآن میں بیان کردہ مضامین محققانہ اور مدلل ہونے کے ساتھ ساتھ خاص قسم کا ربط رکھے ہوئے ہیں اس میں تفسیر با لماثور کے بنیادی قوانین کو استعمال کرتے ہوئے خیالاتی یا تکلفانہ گفتگو سے اجتناب کیا گیا ہے۔مفسر خود حنفی ہونے کی بناء پر فقہ حنفی کو ترجیح دیتے ہیں لیکن اس سے قبل تمام آئمہ اربعہ کی آراء کا ان کی بنیادی کتب سے دلائل دینے کے بعد فقہ حنفی کو ترجیحی بنیادپر بیان کرتے ہیں جو کہ اردو زبان میں لکھی گئی تفاسیر سے بالکل نمایاں حیثیت رکھتی ہے اور اسی وجہ سے اس تفسیر کو برصغیر میں کیے جانے والے ا ردو کے تفسیری یا فقہی کام میں انسائیکلوپیڈیاکا درجہ دینا کسی طرح سے بھی بے جا نہ ہو گا ۔ جس وقت بھی کوئی مسئلہ بیان کرتے ہیں تو بنیادی ماخذ سے استفادہ کرتے ہیں سب سے پہلے قرآنی دلائل اس کے بعد احادیث نبویﷺ اور آخر میں فقہی مباحث زیر بحث لاتے ہیں نبی کریم ﷺ کی عظمت و محبت اورا ہل بیتؓ اور صحابہؓ کرام کی فضیلت میں آیات سے استنباط کرتے ہیں دلائل میں منظق اور فلسفہ کا رنگ بھی نظر آتا ہے ۔

تفسیر میں قدیم وجدید تفاسیر سے استدلال کیا ہے قدیم میں احکام القرآن ،البحر المحیط،تفسیر کبیر،الدار المنثور،اور روح المعانی جبکہ جدید تفاسیر میں تفسیر مراغی ،فی ظلال القرآن اور تفسیر قاسمی پیش نظر رہی ہیں اسباب نزول کو بیان کرنے میں امام طبریؓ ؒ کی جامع البیان پر زیادہ اعتماد کرتے نظر آتے ہیں تفاسیر کی کتب میں بیان کردہ احادیث کو اصل مصادر کے حوالہ سے درج کرتے ہیں اور حدیث جتنی کتب میں موجود ہو ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ ان کا حوالہ دیا جائے ۔یہ تفسیر اردو زبان میں فقہی اسلوب و انداز کی بہترین تفسیر ہے جو کہ مفسر کا فقہ کی جانب رجحان کی دلیل ہے اکثر آیا ت قرآنیہ کی تفسیر کرتے ہوئے فقہاء کے اخذ کردہ احکام بیان کرتے ہیں اس تفسیر میں قدیم مسائل کے ساتھ جدید مسائل پر زیر حاصل بحث کرتے ہیں اور مسائل کا حل اس قدر خوبصورتی سے پیش کرتے ہیں کہ قاری کے لیے سمجھنا انتہائی آسان ہو جاتا ہے آپ کے اسلوب فقہ میں فقہ حنفی کے مؤقف پر مخالفین کے اعتراضات نقل کر کے ان کے دلائل بیان کرتے ہیں اور پھر ان میں سے ہر دلیل کا جواب دیتے ہوئے حنفی فقہ کی فضیلت و فوقیت ثابت کرتے ہیں ۔مثال کے طور پر یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالأَنصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوہُ([47])اے ایمان والوں ! شراب اور جوا اور بتوں کے پاس نصب شدہ پتھر اور فال کے تیر محض نا پاک ہیں ) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ خمر کے معاملہ میں ائمہ ثلاثہ کے نزدیک پر نشہ آور مشروب مطلقاً حرام ہے خواہ اس کی مقدار کثیر ہو یا قلیل اور امام ابو حنیفہؓ کے نزدیک خمر تو مطلقاً حرام ہے اور خمر کے علاوہ باقی نشہ آور مشروبات جس مقدار میں نشہ آور ہوں اس مقدر میں حرام ہیں اور اس سے کم مقدار میں حرام ہیں نہ نجس اور ان کا پینا حلال ہے ۔امام بوحنیفہؓ کا استدلال ان حدیثوں سے پر ہے حضرت ابن عباسؓ بیان کرتےہیں کہ خمر کو بعینہ حرام کیا گیا ہے خواہ قلیل ہویا یاکثیراور ہرمشروب میں سے نشہ آور(مقدار) کوحرام کیا گیا ہے([48])اس حدیث کا مختلف حدیث کی کتابوں میں موجود ہونا ذکر کیا ہے بعد ازاں صحابہ کرامؓکے مختلف آثارکا خلاصہ پیش کیا ہے جن سے فقہاء احناف نے استدلال کیا ہے۔([49])

تفسیر منہاج القرآن

تفسیر منہاج القرآن کے مفسر کا نام ڈاکٹر محمد طاہر القادری ہے قادری سلسلہ سے نسبت کی بنا پر طاہر القادری کے نام سے مشہور ہوئے ۔آپ ۱۹ فروری ۱۹۵۱ء میں جھنگ میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۸۵ء میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامیہ سے' اسلامی سزاؤں کی اقسام و فلسفہ' کے موضوع پر مقالہ لکھا اور پی ۔ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔آپ پنجاب یونیورسٹی میں انٹرنیشنل لاء کے پروفیسر بھی رہے اور ادارہ منہاج القرآن کے بانی بھی ہیں ۔۸۰۰۰ لیکچرز مختلف عنوانات پر دے چکے ہیں اور ۱۰۰۰ سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں ۔([50])

علوم القرآن اور تفسیرالقرآن سے متعلق ان کی چند تصنیفات درج ذیل ہیں :

۱۔عرفان لقرآن ، (ترجمۃ لقرآن)4۔ تربیت کا قرآنی منہج

۲۔فلسفہ تسمیہ 5۔ تسمیۃ القرآن

3۔اسم اللہ کے تفسیری معارف6۔معارف آیہ الکرسی

7۔لفظ رب العالمین کی علمی و سائنسی تحقیق

لیکن یہاں ہمارے مطالعہ میں آپ کی تفسیر منہاج القرآن کا اسلوب مد نظر ہے تفسیر منہاج القرآن کے نام سے شائع شدہ قرآن مجید کی تفسیر سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ تک منظر عام پر آئی ہے ۔طاہر حمید تنولی تفسیری اسلوب کی بابت لکھتے ہیں کہ: 

”مصنف موصوف کے عقیدت مندوں نے ان کے بیان کردہ تفسیری نکات کو جدت نظم،ندرت اسلوب، انداز اور مطالب و مضامین کے تنوع کے اعتبار سے قدیم و جدید تمام تفسیری لٹریچر کی تاریخ میں ایک نئے فن کا آغاز قرار دیا ۔اسےرویت و درایت کی جامع ،اجتہاد اور فکری عملیت کا گراں قدر ذخیرہ قرار دیا ہے ان کے بقول ڈاکٹر صاحب کی تفسیر میں ہزارہاقرآنی موضوعات اور مطالب مضامین ایک خاص نظم کے ساتھ عنوانات کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔“([51])

مصنف کے پیش نظر ایک ایسی تفسیر لکھنا تھا جس میں تفسیر کے لوازم و ضروریات کا خیال رکھا گیا ہو اس لیے ان کی نظر میں ہر شخص قرآن کی ضروریات و لوازمات پورے کیے بغیر تفسیر قرآن کی جسارت کر رہا ہے اور اپنے اپنے ناقص فہم سے قرآنی فکر کی تحریف کر رہا ہے اس لیے اس راستے پر پہلے سے کہیں زیادہ گمراہی کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں([52]) تفسیر منہاج لقرآن میں مفسر کا خطیبانہ پہلو بڑا واضح ہے کیونکہ یہ تفسیر صرف آپ کی تصنیف ہی نہیں بلکہ مختلف مواقع پر کی گئی تقاریر و خطا بات کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے کیونکہ آپ کے انداز خطابت کے نہ صرف اپنے بلکہ غیر بھی قائل ہیں اسی وجہ سے اس انداز کو بھی اختیار کیاگیا ہے ۔ترجمہ اکثر جگہ تفسیری و ترجمانی کے انداز میں کیا گیا ہے اسی طرح نقلی دلائل کے ساتھ عقلی منطق پر پورا اترنے والی گفتگو بھی اس تفسیر کے اسلوب کو چار چاند لگاتی ہے۔اس تفسیر میں مذاہب عالم کے تقابل کا بڑی خو بصورتی اورمذہبی ہم آہنگی کے پہلو کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے تصور اسم ذات کی گفتگو میں مفسر ہندوازم، ذرتشت مذاہب میں تصور خدا کی وضاحت کرتے ہیں اور اس بات کو دلائل سے ثابت کرتے ہیں کہ تصور خدا کسی نہ کسی شکل میں ہر مذہب میں موجود ہے ۔تفسیر میں لغوی اور نحوی گفتگو جا بجا موجود ہے اور لغت کی امہات الکتب کی مدد سے تشریحات کی گئی ہیں لغوی وضاحتوں کے لیے المفردات القرآن ، المنجد،القاموس الوحیداور دیگر کتب سے مدد لی گئی ہے مصنف نے تفسیر میں ابواب اور فصول قائم کیے ہیں جیسا کہ سورہ فاتحہ کی تشریح کرتے ہوئے اس کے مضامین کو گیارہ ابواب میں تقسیم کیا ہے پہلے ایک عنوان قائم کرتے ہیں اور پھر اس کی تائید میں دلائل دینا شروع کرتے ہیں ۔

مفسر آیات سے متعلقہ احکام مستنبط کرتے ہیں جو کہ مختصر ہوتے ہیں ۔جیسا کہ نماز کے علاوہ تلاوت قرآن سے پہلے استعاذہ ،سنت ہے ، مستحب ہے یا واجب؟ تسمیہ کی بحث میں ذ کر کرتے ہوئے قرآنی آیات میں بیان کردہ تسمیہ کی تاریخی حیثیت کو واضح کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ان مبارک کلمات کی برکات و تاثرات کی تعلیم شریعت اسلامیہ میں ہمیشہ سے دی جاتی رہی ہے پھر اس کے لیے مختلف آیات سے استنباط کیا ہے اور بعد میں حدیث نبویﷺ نے بھی ہر کام سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کا حکم صادر فرمایا ہے سے متعلقہ حدیث بیان کی ہے کہ یہ حکم بعض معاملات میں واجب کا درجہ ،بعض میں سنت اور بعض میں مستحب کا درجہ رکھتا ہے اور فقہاء کے اقوال نقل کر کے مذہب حنفی کے مطابق اپنی رائے بیان کرتے ہیں۔([53])

تفسیر میں آپ کا انداز انتہائی متاثر کن ہے جس سے قاری تفسیر کے فہم میں بہت متاثر ہوتا ہے ۔ جیسا کہ تعوذکے شروع میں ایک جگہ رقمطراز ہیں کہ شیطان اپنی قوت اور حیلہ سازی صراط مستقیم پر گامزن افراد کو بھٹکانے کے لیے صرف کرتا ہے اس کی ساری محاذ آرائی دراصل ان ہی لوگوں کے خلاف ہے جو راہ ہدایت پر چل رہے ہیں اور راہ ہدایت بلاشبہ قرآن و سنت کی راہ ہے جو لوگ قرآن و سنت سے اپنے فکر کی آبیاری کرنا چاہتے ہیں اور اس سے اپنے خیالات و نظریات کو اخذ کرنا چاہتے ہیں شیطان انہیں گمراہ کرنے کیلیے اسی سیدھی راہ پر تاک لگائے بیٹھا ہے جیسا کہ لأَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْم([54])میں اس امر کی وضاحت ہے اگر وہ قرآن و سنت سے تمسک و اعتصام کی آرزو رکھنے والوں کو گمراہ کر لے تو یہی اس کی کامیابی ہے ۔دوسروں کو گمراہ کر لینا اس کے لیے چنداں باعث فخر نہیں۔([55])

تفسیر نجوم الفرقان فی تفسیر القرآن

تفسیر کے مفسر کا نام مولانا عبد الرزاق بھترالوی ہے آپ کی تاریخ پیدائش کے متعلق حتمی تو کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن آپ خود فرماتے ہیں کہ جب میں نے اپنی والدہ ماجدہ سے تاریخ پیدائش کے متعلق پوچھا تو والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تم قیام پاکستان سے دس ما ہ قبل پیدا ہوئے ۔آپ فرماتے ہیں کہ اندازے کے مطابق میری تاریخ پیدائش ۱۰ اکتوبر ۱۹۴۶ء ہے ([56])آ پ ایک علمی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں آپ بچپن ہی سے انتہائی محنتی تھے اسی وجہ سے علوم کی تکمیل کے بعد درس و تدریس میں مصروف ہو گئے درس و تدریس سے متعلق آدمی کے لیے آسان پیرائے میں لکھنا کافی مشکل کام ہے کیونکہ ایسے شخص کو جو ہمہ وقت فنی اصطلاحات اور علمی محاورات بولنے اور کہنے کا عادی ہو اس کے لیے مشکل تراکیب کو ترک کرنا قدرے مشکل ہوتا ہے لیکن آپ اپنی تحریر میں پختگی اور زور نویسی کے ساتھ ساتھ عامۃ الناس کے فہم و ادراک کا بھی پورا پورا خیال رکھتے ہیں ۔

آپ کے علمی شہ پارے منصۂ شہود پر آکر اہل علم اور عامۃ الناس کے ہاں شرف قبولیت پا چکے ہیں آپ کی کتب درج ذیل ہیں: 

۱۔نجوم التحقیق4۔تذکرۃ الانبیاء

2۔اسلام میں عورت کا مقام5۔فضائل و مسائل قربانی

3۔تسکین الجنان فی محاسن کنزالایمان6۔شرح المطالب فی مبحث ابی طالب

ا س کے علاوہ آپ نے کچھ درسی کتب پرعربی میں حواشی اور خلاصہ جات بھی تیار کیے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:

1۔نور الایضاح (عربی حاشیہ)3۔کنز الدقائق (عربی حاشیہ)

2۔مختصر القدوری (عربی حاشیہ)4۔ہدایہ اول ،دوم اور سوم (عربی حاشیہ)

ان تمام علمی نفوس کے بعد آج کل آپ قرآن کریم کی تفسیر جس کا نام نجوم الفرقان فی تفسیر القرآن ہے کو پائے تکمیل تک پہنچانے میں دن رات مصروف ہیں آپ کی یہ تفسیر انتہائی سادہ لیکن علمی نوعیت کی حامل ہے اس کی ضخامت کااندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف سورہ ال عمران تک آٹھ جلدیں شائع ہوچکی ہیں سورہ فاتحہ کی تفسیر ایک جلد پر محیط ہے جس کے صفحات کی تعداد۴۴۴ہے اور جلد ہی باقی جلدیں بھی شائع ہوجائیں گی تفسیر کا مقدمہ کافی طوالت کا حامل ہے جس کی ابتداء فضائل قرآن کے عنوان سے کرتے ہوئے اس پاک کلام کی فضیلت بیان کی ہے حافظ قرآن کی شان بیان کرتے ہیں آداب تلاوت کی مباحث بھی لاتے ہیں۔

مقدمے کے دوران ہی اگرکسی عنوان کے تحت کوئی حدیث فضیلت کے متعلق بیان کرتے ہیں تو حدیث کی وضاحت کا عنوان قائم کر کے اس کی مکمل وضاحت کرتے ہیں تفسیر کے اسلوب میں بھترالوی صاحب سورتوں کی ابتداء میں سورت کا مکی ہونا یا مدنی ہونا ،رکوع کی تعداد ،الفاظ اور حروف کی تعداد بیان کرتے ہیں جس سورت کی تفسیر کرتے ہیں اس کے جتنے بھی نام اس سے منسوب ہوں ان ناموں کی وجہ تسمیہ ذکر کرتے ہیں اور ہر نام کی وضاحت اور اس نام کا سورت سے تعلق بڑے خوبصورت انداز میں بیان کرتے ہیں جیسا کہ انہوں نے سورۃ فاتحہ کی تفسیر میں اسی اسلوب کو اپناتے ہوئے سورت کے جتنے بھی نام مذکور ہیں ان کی وضاحت کرتے ہیں ۔جیسا کہ سورۃ فاتحہ کا ایک نام 'ام الکتاب 'ہے ام کا معنی ماں اور اصل ہے سورۃ فاتحہ کو ام الکتاب کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ مقدم ہے اور باقی اس کے تابع ہیں اسی وجہ سے جنگ میں استعمال ہونے والے جھنڈے کو' ام الحرب' بھی کہا گیا ہے جس طرح 'رایۃ الحرب 'کہا جاتا ہے ام کہنے کی یہی وجہ ہے کہ جھنڈا آگے ہوتا ہے اور لشکر اس کے پیچھے ہوتا ہے اور مکہ مکرمہ کو 'ام القریٰ' بھی اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ سب شہروں سے پہلے بنا ہے۔ ام الشئی،اصل الشئی کو بھی کہا جاتا ہے چونکہ فاتحہ اصل القرآن ہے کیونکہ قرآ ن کی تمام اغراض اس کو شامل ہیں ([57])

قرآن میں جتنے بھی علوم پوشیدہ ہیں یا جتنی بھی حکمتیں اس میں بیان کی گئی ہیں دراصل فاتحہ ان کاخلاصہ ہے ۔ بھترالوی صاحب علامہ طیبیؒ کے حوالے سے ذکر کرتے ہیں کہ فاتحہ میں علوم کی چار قسمیں مذکور ہیں:

پہلی قسم

علم اصول یعنی عقائد ،اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی صفات کا ذکر الْحَمْدُ للّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن ([58]) میں ہے۔ نبوت کی معرفت أَنعَمتَ عَلَیْہِم سے سمجھ میں آتی ہے کیونکہ جن پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہے ان میں اولین مقام انبیاء کرام کا ہے۔فَأُوْلٰئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ أَنْعَمَ اللّہُ عَلَیْہِم مِّنَ النَّبِیِّیْن([59])اور قیامت مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن ([60]) سے پتہ چلتا ہے یہ سب عقائد ہیں یعنی چار میں سے پہلی قسم ہے۔

دوسری قسم

فروع کا علم یعنی عبادات کا علم إِیَّاکَ نَعْبُد([61])سے حاصل ہوا۔ 

تیسری قسم

اخلاقیات کا علم جن سے انسان رب تعالیٰ کے حضور پہنچتا ہے اور اسی کی پناہ میں آتا ہےاور طریق مستقیم پر چلتا ہے یہ چیزیں وإِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ اہدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِیْمَ([62])سے سمجھ آرہی ہیں۔ 

چوتھی قسم

پہلی امتوں کے واقعات اور ان میں سے نیک لوگوں اور ان پر احسانات و انعامات کا علم حاصل ہونا اسی طرح سے بدبختوں کے عذاب اور وعید کا پتہ چلنا عَلَیْہِمْ غَیْرِ المَغضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّیْن([63]) میں مذکور ہے ([64])

آیا ت کی تفسیر کرتے ہوئے آپ کا تفسیری اسلب یہ ہے کہ پہلے لفظی ترجمہ کرتے ہیں اس کے بعد بامحاورہ ترجمہ کرتے ہیں مختصر مطلب کے عنوان قائم کرنے کے بعد آیات میں بیان کردہ واقعات یا احکامات کا خلاصہ امنے الفاظ میں بیان کرتے ہیں ساتھ ہی تفصیلی وضاحت کے عنوان سے تفسیر کا آغاز کرتے ہیں اور آیات میں بیان کردہ الفاظ کا صرفی و نحوی تراکیب کے مطابق وضاحت کرتے ہیں ا ن کے تفسیری اسلوب میں ایک چیز ذرا مختلف اختیار کی گئی ہے کہ ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ آیت میں استعمال ہونے والے تمام الفاظ پر ہرلحاظ سے مکمل لغت کی بحث کرتے ہیں ہر لفظ کے مطابق ایک عنوان قائم کر کے اس کی مکمل تفصیل بیان کرتے ہیں اور ان میں جس قدر علمی پہلو چھپے ہوتے ہیں ان کو انتہائی سہل انداز میں دلائل کے ساتھ قاری کے سامنے رکھتے ہیں جیسا کہ وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلاَءِکَۃِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِیْسَ أَبَی وَاسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکَافِرِیْن([65]) کی تفسیر کرتے ہوئے 'وَإِذ ' کی صرفی و نحوی بحث کے بعد شرعی سجدہ اور اس کی اقسام بیان کرتے ہیں حدیث نبوی ﷺ سے سجدہ کے ارکین اور کن اعضاء کے بغیر سجدہ مکمل نہیں ہوتا کو بیان کرتے ہیں فقہی کتب سے سجدہ کی شرعی نوعیت کا ثبوت پیش کرتے ہیں اور اس کے لیے 'فائدۃ 'کا عنوان قائم کرتے ہیں اس کے بعد' تنبیہ 'کی سرخی قائم کر کے ان معاملات /سوچوں کی نفی کرتے ہیں جو ہمارے معاشرے میں غیر شرعی طور پر سرایت کر چکے ہوتے ہیں موصوف خود حنفی ہیں اس بناء پر فقہی مسائل میں احناف کی آراء ہی کو بیان کرتے ہیں اور اگر کسی رائے میں احناف کے ہاں اختلاف نظرآتا ہے تو کسی ایک حکم کی طرف اپنی رائے کا اظہار کر کے لکھتے ہیں:

” راقم کے نزدیک حق مذہب یہ ہے ۔لیکن تفسیر میں اسی اصول کو قائم رکھتے ہیں جو تفسیر بالماثور کا طرہ امتیاز ہے قرآن کی قرآن سے وضاحت اور پھر احادیث سے کو استدلال پیش کرتے ہیں تفسیر میں فقہی مواد کے استعمال سے مفسر کے رجحان کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے اورمفسر کی اپنی رائے کا استعمال بہت کم نظر آتا ہے۔ علمی طور پر یا معاشرے میں پیدا ہونے والے سوالات کو اعتراض کے عنوان میں بیان کر کے اس کا جواب لکھتے ہیں حوالہ جات میں کم مکمل حوالہ پیش کرتے ہیں لیکن عام طور پر صرف کتاب کا نام ہی بیان کرتے ہیں اوربہت دفعہ مختلف آئمہ کرام کا نام دےکر ان کی آراء کو ایک ہی جگہ جمع کرتے ہیں ۔“([66])

خلاصہ بحث

علماء اہلسنت (بریلوی) کی تفاسیر کے سرسری جائزے سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ علماء اہلسنت نے اپنے حالات،تبحر علمی اور عصر حاضر کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے تفاسیر لکھی ہیں ۔ قدیم تفاسیر میں مفسر ایک خاص پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی اپنی تفاسیر کو اسی نہج پر چلاتا تھا جس طرف اس کا ذاتی رجحان یا علمی توجہ ہوا کرتی مگر ان علماء کی تفاسیر کے مطالعہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے قرآن مجید کے نہ صرف بنیادی پہلوووں کو مد نظر رکھتے ہوئے تفسیر بالماثور کی تمام شرائط کو پورا کیا ہے بلکہ عصر حاضر میں پیدا ہونے والے جدید مسائل کا بھی حل پیش کیا ہے قرآنی فہم و ادراک ،فقہی بصیرت اوراجتہادی قوت استدلال کے ساتھ ساتھ صوفیانہ طرز تفسیر کا خوبصورت پہلو ان تفاسیر کو دیگر تفاسیر سے ممتاز کرتا ہے ۔ ان تفاسیر میں قرآن کے اصل موضوع دین اسلام کے مکمل ہونے کا نقشہ مرتب کیا گیا ہے جہاں اہل علم کے لیے علمی اور مذہبی اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں وہیں دوسری جانب اس قدر جامع اور سہل تفسیر بھی کی گئی ہے جو ایک عام قاری کو سمجھنے کیلیے ضروری ہے جس کا تعلق خواہ کسی مکتبہ فکر یا کسی بھی قدیم و جدید سوچ سے ہو ۔ 


حوالہ جات

  1. ۔ البقرۃ:۲
  2. ۔الحجر:۴
  3. ۔بھترالوی،عبد الرازق، مولانا،تسکین الجنان فی محاسن کنز الایمان،مکتبہ امام احمد رضاخان،ص6
  4. ۔ایضاً،ص۸
  5. ۔محمود احمد قادری ،تذکرہ علماء اہلسنت،سنی دارالاشاعت رضویہ،فیصل آباد،ص۲۵۲
  6. ۔احمد یا ر نعیمی ،مفتی ،دیباچہ تفسیر نعیمی
  7. ۔تفصیل کے لیے دیکھیے: مذکورہ تفسیر میں سورہ بقرہ کی آیت ۲۳۲ اور۴ ۲۳
  8. ۔بلال احمد صدیقی،حالات زندگی حکیم الامت مفتی احمد یار نعیمی،نعیمی کتب خانہ ،گجرات،۲۰۰۴ء،ص177
  9. ۔عبد النبی کوکب، قاضی ،حیات سالک،ص۶۴
  10. ۔ یونس:62۔63
  11. ۔عبد الحمید نعیمی ،مفتی، حیات حکیم الامت،نعیمی کتب خانہ،لاہور،۲۰۱۱ء،ص105
  12. ۔الانفال:۱۷
  13. ۔الضحیٰ:۵
  14. ۔حاکم نیشاپوری،محمد بن عبد اللہ ،امام، المستدرک حاکم،۲/۶۱۵،مطبوعہ دارالمعرفہ،بیروت
  15. ۔بنی اسرائیل:10
  16. ۔قسطلانی،احمد، امام، المواہب الدنیۃ ،۱/۷۱،مطبوعہ دارلکتب العلمیہ ،بیروت
  17. ۔الاحزاب:۳۷
  18. ۔الفتح:۱۰
  19. ۔احمد یا ر نعیمی ،مفتی ، تفسیر نعیمی،۹/۹۳۔۵۹۲،
  20. ۔احمد یا ر نعیمی ،مفتی ،دیباچہ تفسیر نعیمی، ص۳
  21. ۔ایضاً،ص۴
  22. ۔الفاتحہ:۳
  23. ۔احمد یا ر نعیمی ،مفتی ، تفسیر نعیمی،۱/۶۴
  24. ۔اختر راہی(ڈاکٹر سفیر اختر)،تذکرہ علماء پنجاب،۲/۲۰۱، مکتبہ رحمانیہ،لاہور،۱۹۸۰ء
  25. ۔ایضاً،۲/۲۰۶
  26. ۔ایضاً،۲/۲۰۸
  27. ۔ البقرہ:۳۷
  28. ۔ الاعراف:۲۳
  29. ۔البقرہ:۲
  30. ۔تفسیر الحسنات،۱/۱۳۲،ضیاء القرآن پبلیکیشنز،لاہور،۲۰۰۶ء
  31. ۔گل محمد فیضی ،ابر کرم،ضیاء القرآن پبلیکیشنز،لاہور،۲۰۰۲ء،ص14
  32. ۔الازہری ،محمد کرم شاہ ،پیر،خطبات ضیاء القرآن،مکتبہ المجاہددارالعلوم محمدیہ غوثیہ،بھیرہ،ص20
  33. ۔ محمد اکرم ساجد،ارشادات ضیاء الامت،ضیاء القرآن پبلیکیشنز،لاہور،۲۰۰۶ء
  34. ۔الازہری ،محمد کرم شاہ ،پیر،ضیاء القرآن،۱/۱۲،ضیاء القرآن پبلیکیشنز،لاہور
  35. ۔ایضاً،۱/۱۲
  36. ۔الازہری ،محمد کرم شاہ ،پیر،خطبات ضیاء القرآن،ص۳۱
  37. ۔شہباز احمد چشتی ،دانائے راز ازضیاء الامت ،ضیاء القرآن پبلیکیشنز،لاہور،۲۰۰۲ء،ص105
  38. ۔احمد بخش،حافظ،مقالات حضرت پیر کرم شاہ الازہر،ضیاء القرآن پبلیکیشنز،لاہور،۱۹۹۸ء،ص98
  39. ۔شہباز احمد چشتی ،دانائے راز ازضیاء الامت ،ص۲۹۸
  40. ۔الرعد:۲۸
  41. ۔الازہری ،محمد کرم شاہ ،پیر،ضیاء القرآن،۲/۴۸۹
  42. ۔ایضاً،۲/۱۲
  43. ۔محمد اسمٰعیل قادری،مولاناحقاٗئق شرح مسلم،فرید بک سٹال، لاہور،۲۰۰۴ء،ص38
  44. ۔ سعیدی ،غلام رسول ،علامہ،تذکرۃ المحدثین،فرید بک سٹال، لاہور،۱۹۷۷ء،ص21
  45. ۔محمد اسمٰعیل قادری،مولاناحقاٗئق شرح مسلم، ص ۴۱
  46. ۔ سعیدی ،غلام رسول ،علامہ،تبیان القران،۱/۳۸۔۳۷،فرید بک سٹال، لاہور
  47. ۔ المائدہ:۹۰
  48. ۔ نسائی،احمد بن شعیب،امام،سنن النسائی ،کتاب الاشربہ،رقم الحدیث،۵۵۹۱،دارالسلام،الریاض
  49. ۔ سعیدی ،غلام رسول ،علامہ،تبیان القران،۳/۲۹۹
  50. ۔ یہ تمام تفصیل وکی پیڈیا ڈاکٹر طاہر القادری کے درج حالات سے لی گئی ہیں۔
  51. ۔طاہر حمید تنولی،تفسیر منہاج القرآن،مجلہ منہاج القرآن،جون،جولائی ۱۹۹۶ء،ص15
  52. ۔طاہر القادری،ڈاکٹر،منہاج القرآن،۱/۵۹،منہاج القرآن پبلیکیشنز،لاہور
  53. ۔ ایضاً،۱/۶۸
  54. ۔ الاعراف:۱۶
  55. ۔طاہر القادری،ڈاکٹر،منہاج القرآن،۱/۵۱
  56. ۔ بھترالوی،عبد الرزاق،مولانا،نور الایضاح مع الحاشیہ المضیہ المسماۃبذریعۃالنجاح، مطبوعہ مکتبہ امام احمدرضا ،۲۰۱۰ء،ص1
  57. ۔ بھترالوی،عبد الرزاق،مولانا،تفسیر نجوم الفرقان،ضیاء العلوم پبلی کینشنز،راولپنڈی،ص۱/۱۴۵
  58. ۔ الفاتحہ:۱
  59. ۔ ایضاً:۶
  60. ۔ النساء:۶۹
  61. ۔القرآن، الفاتحہ : ۳
  62. ۔ایضاً:۴
  63. ۔ایضاً:۵
  64. ۔بھترالوی،عبد الرزاق،مولانا،تفسیر نجوم الفرقان،ص۱/۱۴۶
  65. ۔ البقرۃ:۳۴
  66. ۔بھترالوی،عبد الرزاق،مولانا،تفسیر نجوم الفرقان، تفصیل کے لیے دیکھیے: جلد دوم ۔ص۶۳۳ تا ۶۵۵