قتل غیرت اور اسلامی تعلیمات: فیصل آباد ڈویژن کے تناظر میں: ایک تجزیاتی جائزہ 2016ء تا 2018

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ التفسیر
عنوان قتل غیرت اور اسلامی تعلیمات: فیصل آباد ڈویژن کے تناظر میں: ایک تجزیاتی جائزہ 2016ء تا 2018
مصنف رمضان، شازیہ، غلام حیدر
جلد 35
شمارہ 1
سال 2020
صفحات 147-162
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Honor Killing, Patriarchy, Gender-power Dynamics, Domestic Violence, Marriage of Inclination.
شکاگو 16 رمضان، شازیہ، غلام حیدر۔ "قتل غیرت اور اسلامی تعلیمات: فیصل آباد ڈویژن کے تناظر میں: ایک تجزیاتی جائزہ 2016ء تا 2018۔" التفسیر 35, شمارہ۔ 1 (2020)۔
شیخ سعید حوی اور ان کی تفسیر: ایک مطالعہ
علامہ اسید الحق قادری بدایونی کی کتاب ”قرآن کی سائنسی تفسیر“: ایک مطالعہ
ترجمۃ القرآن از عبد السلام بن محمد کے خصائص و ممیزات اور تفسیر القرآن کا تحقیقی مطالعہ
علماء اہلسنت (بریلوی) کی تفاسیر کا اسلوب بیان: ایک جائزہ
مذہبی اجارہ داری کے انسداد میں مفسرین کی خدمات کا تجزیاتی مطالعہ
تشبہ بالکفار اور قرآنی تعلیمات: ایک تحقیقی جائزہ
عورت کی ازدواجی حیثیت اور تولیدی صحت سے متعلق تصورات کا تجزیہ
خلع میں شوہر کی رضامندی کے دلائل اور عدالت کا دائرہ اختیار: تجزیاتی مطالعہ
قتل غیرت اور اسلامی تعلیمات: فیصل آباد ڈویژن کے تناظر میں: ایک تجزیاتی جائزہ 2016ء تا 2018
سیرت رسول ﷺ اور انسانیت کا احیاء تہذیبوں کے پیرائے میں
عہد رسالت میں مملکت کا بنیادی تصور: ایک تحقیقی جائزہ
سماج کے کمزور طبقات کے ساتھ رسول اللہﷺ کا طرز عمل
صوفیہ کے ملفوظاتی ادب میں معجزہ معراج النبی ﷺ: ایک مطالعہ
ماحولیات، جدید چیلنج اور تعلیمات نبوی ﷺ
فقہی مسائل میں تطبیق: ” کتاب المیزان “ کا تعارف و جائزہ
امام غزالی کے فکری اسفار کا مطالعہ
مولانا ابو یوسف محمد شریف محدث کوٹلوی کی خدمات حدیث شریف
اسلام اور مغرب میں خاندانی نظام کا تقابلی جائزہ
فیملی بزنس میں زکوۃ کے مسائل اور ان کا حل
تجارت میں جعل سازی کا بڑھتا ہوا رحجان اور حکومتی ذمے داریاں
لسان العرب کا تعارفی و تحقیقی مطالعہ
Evolution of Arabic Literature in Nigeria: Case Study of Tafa’sir
Stealing, Usury, Wine and Divorce in the Sami Religions of the World
Haq Bakhshish (Marriage to Quran) : A Custom Confused With Religion: A Case Study of Qaisra Sharaz’S Protogonist ‘Zari Bano’ from the Novel Holy Woman
Religious Education and Community Services: Importance of Islamic Studies Education As Tool for Social Services and Community Welfare
Role of Media in Building an Islamic Society
Soft Power: An Invasion to Pakistani Culture

Abstract

Honor killing is the killing of a woman on account of her alleged indulgence in immoral activities. The pretext is the fact that such act has brought disgrace to the honor and reputation of the family. The undercurrents of honor killings cannot be traced back to any religion. Rather, such acts are better justified by understanding social and cultural constructs and often portrayed under the garb of religion. The gender-power dynamics and associated ideologies prevalent in traditional and conservative societies better explain these acts. The salient features of such societies include lack of awareness, lack of access to basic facilities, patriarchy, ignorance, social traditions, absence of rule of law and economic backwardness. The reasons cited by the perpetrators include love marriages, extramarital affairs and alleged involvement in adultery. It is pertinent to mention here that honor killing is the characteristic phenomenon of underdeveloped regions. Such incidents are widespread in South Asia in general and Pakistan in particular even before the colonial times. Honor Killing has been raised internationally by the international agencies and organizations. The global community has been sensitized regarding such heinous activities. There is an increasing emphasis laid on the empowerment of women.

تمہید

انسان کو اللہ تعالیٰ نے مختلف جذبات اور احساسات سے نوازا ہے اور ساتھ ساتھ انسانی افعال کو قابو میں رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل دی ہے۔ عقل کے ذریعے سوچ بچار کر کے وہ اپنے فیصلے خود کرے۔ جذبات کی ایک قسم غیرت بھی ہے اور غیرت کا تعلق نہ تو معاشرتی رویوں سے ہے اور نہ ہی کسی مذہب سے ہے۔ یقینی طور پر ہر مذہب نے انسان کے لیے قوانین کے ساتھ رویے اور اقدار بھی متعین کردیے ہیں۔ ان احکامات کے تابع زندگی گزارنے کا ہر مذہب درس دیتا ہے۔

قتل غیرت (Honor Killing )بطور اصطلاح

انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق قتل غیرت (Honor Killing) کسی خاتون یا لڑکی کے اہل خانہ کی طرف سے ، اس مفروضے کے سبب کہ وہ خاندان کا عزت وقار مجروح کرنے کی مرتکب ہوئی ہیں ، اس کےقتل کا ارتکاب ہے ۔ پدرسری (Patriarchal)معاشرے میں خواتین کی سرگرمیوں کو خصوصی نگرانی میں رکھا جاتا ہے ،عورت کی پاکبازی کے ضامن پہلے اس کے اہل خانہ اور پھر سسرال ہوتے ہیں اس ضمن میں اگر کوئی غفلت ہو جائے تو عورت واجبِ قتل سمجھی جاتی ہے ۔([1])

ہیومن رائٹس واچ نےسن 2000 میں Honor Killing کی تعریف یوں کی ہے :

”یہ ایک ایسا فعل ہے جس کے فاعل خاندان کے مرد حضرات ہوتے ہیں اور وجہ تسمیہ یہ ہوتی ہے کہ خاندان کی خواتین کی طرف سے غیر ازدواجی تعلقات کی وجہ سے خاندان کی تکریم کو زک پہنچی ہے اس کو بحال کیا جائے ۔“([2])

Cees اور Saharso 2001ء نے لکھا ہے کہ خاندانی اعزاز جو مذکورہ تعلقات کی وجہ سے مجروح ہوا ہے،کو دوبارہ سے بحال کیا جائے۔ ([3])

یاسمین حسن 1999ء نے کہا کہ Honor Killing ایک ایسا قتل ہے جس میں خواتین کو ان کے غیر اخلاقی اعمال کی پاداش میں قتل کیا جاتا ہے۔([4])

Honor Killingایسی اصطلاح ہے جو ایک ہی وقت میں بہت سی چیزیں بیان کرتی ہے۔ کبھی اسے خاندان کی شناخت اور احترام کے طور پر سمجھا جاتا ہے.تو کبھی معاشرے میں سماجی احترام وعزت سے منسلک کیا جاتا ہے۔([5])

اگریہ اعزاز کھو جاتا ہے تو اس کوسماجی ذلت سمجھا جاتا ہے اور اس کی تلافی صرف قتل ہے ۔اگرچہ بہت سے اعمال شرمناک تصور کیے جاتے ہیں لیکن ان اعمال کی شدت کا کوئی ثانی نہیں اور یہ ان معاشروں میں رائج ہیں جہاں خواتین کی عصمت کو ایک اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔([6]) سماجی اعزاز کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی قیمت پر خاتون کو قتل کر دیا جاتا ہے۔([7])

قتل غیرت کی تاریخ

قدیم صحرائی روایات میں بھی قتل غیرت کے واقعات ملتے ہیں ۔روم میں پیٹرpater خاندانوں نے ایسے قوانین وضع کیے ہوئے تھے جن میں مرد حضرات کو اپنے بچوں اور خواتین پر مکمل طور پر اختیار تھا ۔ان قوانین کی رو سے قتل غیرت کے مجرمان کو مکمل چھوٹ حاصل تھی ۔

چین میں Qing Dynastyکے دورِ حکومت میں والدین اور شوہروں کو اپنی بیٹیوں اور بیویوں کو قتل غیرت کی پاداش میں قتل کرنے کی مکمل صواب دید حاصل ہوتی تھی۔([8])

بحیرہ روم سے متصل یورپی علاقوں کی تاریخ بھی قتل غیرت کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ تین مذاہب ایسے ہیں جوقتل غیرت سے زیادہ منسوب کیے جاتے ہیں ،اسلام،عیسائیت، سکھ ۔

2000ءمیں اقوام متحدہ نے اس امر کا انکشاف کیا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال عزت کےنام پر پاکستان میں 5000 لوگوں کو قتل کیا جاتاہے ۔2002ءاور 2004ءمیں اقوام متحدہ میں قتل غیرت کا قلع قمع کرنے کے لیے قرارداد پیش کی گئی۔([9]) 2004ءمیں The Hague میں قتل غیرت کے بڑھتے ہوئے واقعات سے متعلق ایک میٹنگ میں برطانیہ سے آئے ہوئے قانون نافذ کرنے افسران نے اعلان کیا کہ پرانے کیس دوبارہ کھولے جائیں تاکہ اس امر کا اندازہ لگایا جا سکے کہ کتنے فی صد قتل عزت کے نام پر کیے گئے۔ ([10])

قتل غیرت اور اسلامی نقطہ نظر

اسلام نے اپنے ماننے والوں کے لیے مکمل ضابطہ حیات فراہم کیا ہے۔ انسان کی نجی زندگی سے لے کر جرائم اور معاشرتی ناسور تک مکمل راہنمائی ہے۔ اسلامی تعلیمات میں اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ زیادتی کرتا ہے یا قتل کرتا ہے یا اسی طرح کا کوئی اورجرم کرتا ہے تو اس سلسلے میں کوئی بھی شخص اپنی طرف سے حاکم اور جج بن کر فیصلے نہیں کرسکتا بلکہ اس کو قاضی اور جج کے پاس جاکر انصاف کا دروازہ کھٹکھٹانا ہوتا ہے۔ نیز اسلام نے ایک اور قانون بھی بیان کردیا کہ کسی کے جرم اور زیادتی کی سزا کسی دوسرے فریق یا شخص کو نہیں دی جاسکتی۔

قتل غیرت پاکستان سمیت مختلف دیگر معاشروں میں غیرت کے نام پر کیا جانے والا قتل مشہور ہے۔ سندھ میں اس قتل کو کاروکاری، پنجاب میں کالا کالی، بلوچستان میں سیسہ کاری اور خیبرپختونخوا میں تور تورہ کے نام سے مشور ہے۔ قتل غیرت کیا ہے؟ پاکستان میں قتل غیرت سے مراد یہ ہے کہ جب کوئی مرد اور عورت کی جان لے کر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے یہ قتل اس بنا پر کیا ہے کہ مقتول مرد اور عورت جنسی بدفعلی کے مرتکب ہوئے ہیں تو پھر اس قتل کو عام قتل نہیں گردانا جاتا بلکہ قتل غیرت کہا جاتا ہے۔

قتل غیرت میں جو غیرت ہوتی ہے اس غیرت کی قرآن وحدیث میں کئی مقامات پر ممانعت آئی ہے۔ فطری غیرت کے متعلق حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے:

ان اللہ یغار وغیرۃ اللہ ان یاتی المومن ماحرم اللہ۔([11])

”اللہ تعالیٰ غیرت کرتا ہے اور اسے غیرت اس بات پر آتی ہے کہ جب مومن کسی حرام کا ارتکاب کرتا ہے۔“

یہ وہ غیرت ہے جو جذبہ ایمانی کے تحت کی جاتی ہے۔ اللہ کی ذات غیرت مند ہے۔ اسی طرح اس کے بندے بھی غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور جذبہ ایمانی کے تحت غیرت اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ نبی پاک نے فرمایا:

من الغیر مایحب اللّٰہ ومنھا مایکرہ اللّٰہ فاما مایحب اللہ فاتغیرۃ فی زیبہ فامایکرہ فالغیرۃ فی غیر ربہ۔([12])

” کوئی غیرت ایسی ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور کوئی غیرت ایسی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کو نفرت ہے پھر جو غیرت اللہ کو پسندیدہ ہے وہ زنا نہ کرنے کی ہے اور جو غیرت اللہ کی ناپسندیدہ ہے وہ غیرت زنا کی ہے۔ “

شریعت اسلامی نے ہر فرد کو قاضی اور جج نہیں بنایا ہے۔ ایسا بالکل غلط ہے کہ کوئی بیٹا یا بیٹی جرم زنا کرے یا پسند کی شادی کرے تو دوسرا اس کو قتل کر دے۔ قرآن مجید نے ایک عام قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا۔([13])

    ”اور جو کسی مومن کو قصداً قتل کرڈالے اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اس پر اللہ کا غضب ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس پر لعنت کی ہے اور اس کے لیے عذاب تیار کررکھا ہے۔“

امام بخاری حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں۔ نبی پاکؐ نے فرمایا:

”مومن اپنے دین کی وسعت میں ہے جب تک وہ کسی کا حرام اور ناحق خون نہیں بہاتا۔“([14])

نبی پاکﷺ کے زمانے کی اگر بات کی جائے تو عرب کے لوگ بہت ہی غیرت مند تھے۔ جب اسلامی قوانین کا نفاذ ہوا تو صحابہ کرام ؓنے بھی نبی پاکؐ سے اپنی غیرت کی بنیاد پر زنا کرنے والے شخص کو قتل کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ جیسے حضرت سعد بن عبادہ ؓ عرض کی؛

”میں اپنی بیوی کے ساتھ مشغول شخص کو اتنی مہلت دے دوں کہ میں چار گواہ (ڈھونڈ کر ) لاؤں؟ آپؐ نے فرمایا: نعم (یعنی تمہیں ڈھونڈ کر لانا ہوں گے)۔“ ([15])

”اسی طرح ایک روایت یہ بھی ہے کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ ایسا معاملہ دیکھوں تو اس مرد کو قتل کردوں؟ آپؐ نے فرمایا: شریعت تمھیں اس بات کی اجازت نہیں دیتی۔“([16])

شریعت نے زنا کے معاملے میں مکمل قوانین بیان کیے ہیں۔ حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ ملک شام میں ابن خبیر نامی شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک شخص کو زنا کرتے ہوئے دیکھا جس پر اس بیوی کے شوہر نے اس کو قتل کردیا۔ چنانچہ یہ معاملہ حضرت معاویہؓ کی عدالت میں آگیا۔ حضرت معاویہ کو یہ فیصلہ کرنے میں دقت محسوس ہوئی چنانچہ انھوں نے حضرت ابوموسیٰ کو لکھا کہ حضرت علیؓ سے یہ فیصلہ کروایا جائے۔ حضرت علی المرتضیٰ ؓنے حالات کا بخوبی جائزہ لے کر فیصلہ کیا کہ اگر قاتل زنا کے چار گواہ نہ لایا تو اس کو پوری پوری سزا ملے گی۔([17])

قتل غیرت کو عصر حاضر کے کئی علماء حرام اور انتہائی غلط قرار دے چکے ہیں۔ جیسے مولانا حسن جان اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن فرماتے ہیں؛

میری رائے کے مطابق اس قسم کا قتل عقلاً، اخلاقاً اور شریعت مطہرہ کی رو سے قطعاً جائز نہیں اور نہ اس قسم کے جواز کا فتویٰ دینا چاہئے۔([18])

اسی طرح جامعہ نعیمیہ لاہور کے مشہور عالم دین ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید نے کہا تھا:

”میری رائے میں کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے۔“([19])

پاکستان میں قتل غیرت

Honor Killing کے متاثرین ہر عمر قبیلے کے افراد ہو سکتے ہیں لیکن اس قبیح فعل کا شکار زیادہ تر خواتین بنتی ہیں اس ضمن میں خوفناک زاویہ یہ ہے کہ ثقافتی روایات ان اعمال کو جلا بخشتی ہیںقیام پاکستان سے پہلے بھی Honor Killing کے واقعات کا ذکر ملتا ہے ۔

کسی انسان کو محض قیاس کی بنا پر قتل کرنا ایک ظالمانہ فعل ہے لیکن ظلم در ظلم یہ ہے کہ جن طریقوں سے خواتین کوقتل کیا جاتا ہے وہ ہوش ربا ہیں اور انسانیت سوز ہیں زیادہ تر کلہارے کا استعمال کیا جاتا ہے یا سست موت دینے والے تیز آلے کا استعمال کیا جاتا ہے تیزاب اور آگ کا بھی استعمال کیا جاتا ہے ،بعض جگہوں پر زندہ جلا دیا جاتا ہے یا زہر دیا جاتا ہے ۔

قتل غیرت روایتی یا قبائلی انصاف سمجھا جاتا ہے یہ قابل ذکر ہے کہ اس نوعیت کی ہلاکتیں ان علاقوں میں ہوتی ہیں جہاں روایت مقدس سمجھی جاتی ہے تاہم یہ Pre-modernمعاشروں کی روایات ہیں ۔([20])

پاکستان کمیشن برائے حیثیت نسواں (1997) نے رپورٹ کیا ہے کہ خواتین کو زندگی کے تمام شعبوں میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ریاست بھی خواتین کے مسائل پر کوئی خاص توجہ نہیں دیتی ۔کمیشن نے اس ضمن میں قانونی نظام کا بھی جائزہ لیااور کچھ سفارشات پیش کیں. رپورٹ نے ملک کے آئینی اور قانونی معاملات میں مذہب کے کردار کا تجزیہ کیا۔اس حقیقت کا بھی اعادہ کیا گیا کہ اسلام اور آئین دونوں خواتین کو مساوی حقوق عطا کرنے کے حامی ہیں،تاہم خواتین کو مساوی حقوق کا حصول ایک دوررس خواب ہے ۔([21]) بدقسمتی سے جدید دنیا میں بھی ایسے ظالمانہ افعال قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ کے لیے ایک چیلنج بن چکے ہیں۔([22])

According to data compiled by the NGO Aurat Foundation, of the 724 women murdered in the province last year, 190 were killed by their husbands, 50 by their brothers and 24 by their fathers. The pattern was prevalent especially in honour killing cases, where 75 out of 170 women were killed by their brothers, 36 by their husbands and 20 by ([23])their fathers.

اس سلسلے میں،میں نے فیصل آباد ڈویژن میں سے غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کا ایک سروے کیا اور جو تھانوں سے ایف ۔آئی ۔آرز ۔ملیں اس بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس طرح کے قتل میں اضافہ ہو رہا ہے اور ایف ۔آئی ۔ آر۔میں سے کچھ کیس درج ذیل ہیں:* تاریخ 11-5-2016 تھانہ بلوچنی مقدمہ نمبر 170/16

مقام: چک نمبر 92 ر ب مجر تحصیل جڑانوالہ ضلع فیصل آباد

واہگہ ولد بگا نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اپنی بیوی فرزانہ بی بی، ساس نسرین بی بی اور کزن زہراں بی بی کو بدچلنی کے شبے میں فائرنگ کر کے قتل کردیا۔ * تاریخ 7-7-2016 تھانہ صدر مقدمہ نمبر 715/16

مقام: چک نمبر240 ر ب کھوجے والا، فیصل آباد

جمعہ خان نے اپنی والدہ اُم کو شک کی بنا پر فائرنگ کر کے قتل کردیا۔ جمعہ خان کو شب تھا کہ اس کی والدہ کے گاؤں میں کسی کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے۔ * تاریخ 9-8-2016 تھانہ گڑھ مقدمہ نمبر 270/16

مقام: سکنہ بنڈا

نواب ولد شیر محمد نے اپنی بہن عنایتاں بی بی زوجہ محمد علی ولد بہاول کو بدچلنی کے شبے میں فصلوں میں لے جاکر گلا دبا کر قتل کردیا۔ * تاریخ 22-8-2016 تھانہ صدر مقدمہ نمبر 911/16

مقام: چک نمبر 239 ر ب برلاں

محمد ثقلین ولد ظہور احمد نے اپنی بہن سدرہ بی بی کو بدچلنی کے شبے میں چھری سے گلا کاٹ کر قتل کردیا۔ * تاریخ 5-9-2016 تھانہ ساندل بار مقدمہ نمبر 283/16

مقام: چک نمبر 31 ج ب اضافی آبادی بستی اوڈاں والی فیصل آباد

لڑکی کے بھائی غلام عباس ولد عبدالستار نے اپنی بہن اقراء بی بی کو فائرنگ کر کے قتل کردیا۔ غلام عباس کو شک تھا کہ اقراء بی بی کے کسی کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں۔ * تاریخ 9-11-2016 تھانہ تاندلیانوالہ مقدمہ نمبر 641-16

مقام: گلی نمبر3 محلہ حسین آباد تاندلیانوالہ ضلع فیصل آباد

نور احمد ولد نوشیر نے اپنی بیوی کوثر بی بی کو بدچلنی کے شبے میں کلھاڑی کے وار کر کے قتل کردیا۔ * تاریخ 2-1-2017 تھانہ ماموں کانجن مقدمہ نمبر 1/17

مقام: چک 206 گ ب سروالی تحصیل سمندری ضلع فیصل آباد

محمد نواز ولد عبداللہ اپنے بھائیوں سرفراز عرف شبو اور محمد رمضان کے ساتھ مل کر اپنی بیٹی کلثوم بی بی کو زبردستی کھیتوں میں لے گیا اور غیرت کے نام پر قتل کردیا اور سارے جسمانی اعضا کاٹ کر بوری میں بند کر کے دریائے راوی میں بہا دیا۔ * تاریخ 6-2-2017 تھانہ تاندلیانوالہ مقدمہ نمبر 50-17

مقام: چک نمبر 612 گ ب

چک 277 گ ب کے رہائشی اللہ دتہ نے اپنی بیٹی حسن بی بی کی شادی ساجد علی ولد میاں غفور سے کی۔ تقریباً 9 سال بعد ساجد علی نے اپنی بیوی حسن بی بی کو بدچلنی کے شبے میں کلھاڑی کے وار کر کے قتل کردیا۔ * تاریخ 7-4-2017 تھانہ تاندلیانوالہ مقدمہ نمبر 214-17

مقام چک 425 گ ب تحصیل تاندلیانوالہ ضلع فیصل آباد

مظہر حسین ولد حیدر حسین نے اپنی بیوی نازیہ بی بی دختر علی محمد کو بدچلنی کے شبے میں فائرنگ کر کے قتل کردیا۔ * تاریخ 30-3-2017 تھانہ مدینہ ٹاؤن مقدمہ نمبر 439/17

مقام: گلی نمبر7 محلہ یوسف آباد مدینہ ٹاؤن فیصل آباد

ظہیر عباس ولد یار محمد نے اپنی 15 سالہ بہن رابعہ بی بی کو غیرت کے نام پر قتل کردیا اور بوری میں ڈال کر نہر رکھ برانچ میں پھینک دیا۔ * تاریخ 14-4-2017 تھانہ باہلک مقدمہ نمبر 95-17

مقام: چک 605 گ ب ماہنا، ڈاکخانہ خاص تحصیل تاندلیانوالہ ضلع فیصل آباد

محمد امین نے اپنی بیوی نجمہ بی بی کو بدچلنی کے شبے میں کلھاڑی کے وار کر کے قتل کردیا۔ * تاریخ 4-7-2017 تھانہ ستیانہ مقدمہ نمبر 207-17

مقام: چک 433 گ ب جھوک دتہ، تحصیل جڑانوالہ ضلع فیصل آباد

نوشیر ولد محمد اشرف نے اپنی 16 سالہ بہن شمیم بی بی کو فائرنگ کر کے قتل کردیا۔ شمیم بی بی اپنے دیہہ کے لڑکے عابد ولد نیاز کو پسند کرتی تھی جسے ملاقات کرتے بھائی نوشیر نے دیکھ لیا اور گھر پہنچ کر قتل کردیا۔ * تاریخ 26-7-2017 تھانہ صدر مقدمہ نمبر 1007/17

چک 221 رب ککوآنہ ڈاکخانہ غلام محمد آباد فیصل آباد

سلیمان ولد جان محمد کی بیٹی انصر بی بی چک 232 ر ب کے رہائشی محمد اکبر ولد محمد اسلم کے ساتھ بھاگ گئی۔ سلیمان بیٹی کو تلاش کر کے گھر لے آیا اور ٹوکے کے وار کر کے قتل کردیا۔ * تاریخ 13-8-2017 تھانہ لنڈیانوالہ مقدمہ نمبر 437/17

مقام: ڈاکخانہ خانہ لنڈیانوالہ چھوٹی سنار، تحصیل جڑانوالہ، ضلع فیصل آباد

محمد یوسف ولد محمد خاں نے اپنی بیٹی طاہرہ بی بی کی شادی مبارک علی ولد غلام رسول سے کی۔ طاہرہ بی بی کے غلط چال چلن کی وجہ سے بھائی نیاز علی اور داماد مبارک علی نے مل کر طاہرہ بی بی کو گلا دبا کر قتل کردیا۔ * تاریخ 1-9-2017 تھانہ گڑھ مقدمہ نمبر 340/17

مقام: 53/4 گ ب ٹکڑہ غریب پورہ ،تحصیل تاندلیانوالہ ،ضلع فیصل آباد

ثوبیہ بی بی کی شادی 2 ماہ پہلے اللہ دتہ ولد نواب سے ہوئی، غلط چال چلن کی وجہ سے بھائی حبیب نے سمجھانے کی کوشش کی لیکن لڑائی جھگڑا ہونے پر بھائی نے بہن کو گلا دبا کر قتل کردیا اور لاش دریائے راوی میں پھینک دی۔ * تاریخ 12-10-2017 تھانہ ماموں کانجن مقدمہ نمبر 361/17

مقام: چک نمبر71 گ ب ککڑاں ،تحصیل و ضلع فیصل آباد

شازیہ بی بی کی شادی محمد شہباز ولد احمد علی سے ہوئی۔ بھائی محمد اسلم کو اپنی بہن شازیہ بی بی کے کردار پر شک تھا جس کی وجہ سے وہ شازیہ کو گھر لے جانے کے بہانے ساتھ لایا اور گلے میں دوپٹہ ڈال کر قتل کردیا۔ * تاریخ 19-10-2017 تھانہ صدر مقدمہ نمبر 1347/17

مقام: چک 235 ر ب نیاموآنہ تحصیل وضلع فیصل آباد

ظروف عباس نے اپنی ماں نصرت بی بی کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ ملزم کو شک تھا کہ اس کی ماں کا چال چلن درست نہیں ہے۔ * تاریخ 29-12-2017 تھانہ صدر مقدمہ نمبر 1613/17

مقام: چک نمبر215ر ب نیتھڑی ،فیصل آباد

محمد یٰسین ولد عبدالغنی نے اپنی بہن حمیرا بی بی کو بدچلنی کے شبے میں گلے میں دوپٹہ ڈال کر قتل کردیا۔

قتل غیرت کے اسباب

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) نے اپنی رپورٹ میں افریقہ اور ایشیا کے ممالک میں خواتین کی بحیثیت مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا اور ان وجوہات کا اعادہ کیا جو خواتین کی انفرادی اور اجتماعی سماجی زندگی کو متاثر کرتی ہیں۔ ([24]) * غذائیت کی کمی

  • تعلیم کے مواقع کی عدم فراہمی
  • پیشہ ورانہ اور تکنیکی تربیت کا فقدان
  • لیبر کیمپوں میں حفظان صحت کے اصولوں کی عدم پیروی
  • بچے کی دیکھ بھال میں غفلت اور دیگر فلاح و بہبود کی سہولیات کی کمی

دیگر اسباب حسبِ ذیل ہیں :

1۔پسند کی شادی

دیہی معاشروں میں قبیلے کی قدر ومنزلت کو خواتین کی شادی سے منسوب کیا جاتا ہے۔ قبائلی رسم رواج اس قدر سخت ہیں کہ خواتین اپنے آپ کو محصور سمجھتی ہیں اور مرد حضرات کی خواہشات کے تابع ہوتی ہیں ۔یہ لاچاری اور بے بسی عام انسان کی سمجھ سے باہر ہے لیکن اس کی شدت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے خواتین کو ایسے معاشرے میں محض ایک استعمال کی شے سمجھا جاتا ہے اور وہ مرد حضرات کے رحم وکرم پر ہوتی ہیں ۔([25])

2۔ قتل برائے حصول ِطلاق

خواتین جو طلاق لینے کے لیے عدالت سے رجوع کرتی ہیں ،ایسے معاشرے کی اقدار کی باغی ٹھہرائی جاتی ہیں ، انھیں عدالتی کاروائیوں کے دوران ہی یا تو قتل کردیا جاتا ہے یا زخمی کردیا جاتا ہے تاکہ وہ مقدمے کی پیروی نہ کرسکیں ۔ طلاق کا مطالبہ پورے معاشرے یا خاندان کے لیے بدنامی تصور کیا جاتا ہے۔([26])

3۔(مبینہ)زنا کی پاداش میں قتل غیرت

اگر کسی خاتون پر زنا کا الزام لگ جائے تو یہی سمجھا جاتا ہے کہ خاندان یا قبیلے کی عزت مجروح ہوئی ہے اور اس کی سزا محض قتل ہے ۔نفیسہ نے رپورٹ کیا ہے کہ شکارپور اور سکھر کے دو قبیلوں نے اپنی خواتین کو دشمنوں کے اغوا سے چھڑانے کے بعد قتل کردیا تھا۔ وجہ یہی تھی کہ خاندان اور اس قبیلے کے لیے یہ شرمناک امر تھا کہ ان خواتین کو زندہ رہنے دیں۔([27])

4۔ثقافتی بنیادوں پر قتل

پاکستان کے کئی علاقے آج بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ جاگیرداروں اور سرداروں کی دسترس میں ہیں ۔ اپنی رعایا پر مکمل قابو رکھنے کے لیے وہ ان کے فیصلوں پر بڑی حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔ان کی ایما پر کئی لوگ بغیر کسی جانچ پڑتال کے اپنی ماؤں اور بہنوں کو قتل کردیتے ہیں ۔ اس سے اِن نام نہاد سرداروں کو دو طرح کے فوائدے ہوتے ہیں، ایک تو متاثرہ خاندان سماجی اور مالی طور پر ان پر انحصار کرنے لگتا ہے اور دوم یہ کہ آس پاس کے علاقوں میں ان کے اس جذبے کی عزت افزائی ہوتی ہے۔

5۔جنس اور صنف پر مروجہ سماجی نظریات

جنس اصل میں ایک حیاتیاتی تصور ہے اسی حیاتیاتی فرق کی بنا پر عورت کی پہچان کی جاتی ہے ۔جنس کی بنا پر عورت سے امتیازی سلوک ایک اچھا عمل ہے ۔صنف، جسے Gender بھی کہا جاتا ہے، حیاتیاتی قطعی طور پر نہیں ہے بلکہ سماج کی بنائی ہوئی شبیہ ہے لہذا صنف ایک ثقافتی ومعاشرتی تعمیر ہے ۔ مردانگی یا نسوانیت کی جڑیں سماجی نظام میں پنہاں ہیں۔ معاشرے کے اقدار وروایات ان کی تشکیل کرتے ہیں۔([28])

نینسی چڈوور (1978) کا کہنا ہے کہ جنس سے متعلق تصورات کی تشکیل بچپن ہی میں ہو جاتی ہے اور معاشرہ ان کی پشت پناہی کرتا ہے ۔خواتین کی نشونمااور بودوباش مرد سے مختلف ہوتی ہے ۔ اس کی توجیہہ یہ پیش کی جاتی ہے کہ جسمانی خصوصیات میں اختلاف کی بنا میں صلاحتیوں میں بھی فرق ہے۔([29])

6۔خواتین کے خلاف تشدد

خواتین کے خلاف تشدد سے متعلق نظریات دراصل طاقت اور مواقع کی فراہمی کے عدم توازن پر زور دیتے ہیں ۔ مرد و خواتین کے تعلقات معاشرے کے کرداروں کو سمجھنے کے لیے بہت اہم ہیں ۔مرد کو عورت کے مقابلے میں برتر سمجھا جاتا ہے حتی کہ روزمرہ کے معاملات میں بھی وہ دباؤ ڈالنے کے مرتکب ہوتے ہیں بعض دفعہ دباؤ ڈالنے کے لیے طرح طرح کے حربے بھی استعمال کیے جاتے ہیں ۔ تشدد ایسا ہی حربہ ہے جو خواتین کو زیر کتنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔تشدد میں جنسی بدعنوانی اور جنسی تعلقات کے الزام، جنسی تشدد، کام کی جگہ تشدداور قتل شامل ہے ۔([30])

7۔روایتی قوانین اور طرزِعمل

ملک کے تمام حصوں میں روایتی قوانین اور طرز عمل ایک جیسے نہیں ہیں. کچھ صوبوں میں روایت کو ہی قانون کا درجہ حاصل ہے ۔ اگر کوئی شخص مروجہ روایات کی خلاف ورزی کرتا ہےتو مجرم ٹھہراتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق سندھ کے دیہی علاقوں اور جنوبی پنجاب میں خواتین کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کیا جاتا۔ انھیں وراثت اور ملکیت کے حق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے ۔ا گر کسی کی صرف بیٹیاں ہیں اوراولادِنرینہ نہیں ہے تو اسے بے نام سمجھا جاتا ہے۔ہمسفر کے انتخاب میں بھی خواتین کی صوابدید نہیں ہوتی ۔تعلیم صرف لڑکوں کا حق سمجھا جاتا ہے اور لڑکیوں کو اس سے محروم رکھا جاتا ہے ۔([31])

اگرچہ Honor Killing کو ثقافتی پیرائے میں جانچا جاتا ہے لیکن ثقافت کے بغور مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ ثقافت کی جڑیں تاریخ میں پنہاں ہیں ۔ثقافتی اقدار ایسی طاقت کا سرچشمہ ہیں جو تاریخ کے مختلف ادوار میں ظہورپذیر ہوتی رہی ہیں۔([32])

8۔خواتین بطور وساطت

خواتین کو اشیائے ضرورت کے طورپر جانا جاتا ہے اور قبائلی نفسیاتی کے لحاظ سے عورت کی حفاظت کی ذمے داری مرد پر عائد ہوتی ہے ۔سندھ میں عورت کے لیے "زر" کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے جس کا مطلب دولت ،یا سامان ہے ۔قبائلی روایات خواتین کو جائز حقوق سے بہرہ ور نہیں کرتیں۔تمام فیصلے مرد حضرات کرتے ہیں خواتین کے حقِ وراثت کو بھی تسلیم نہیں کیا جاتا۔چنانچہ اگر کسی عورت کا خاوند فوت ہوجائے تو حق الامکان کوشش کی جاتی ہے کہ دیور سے شادی کردی جائے ۔اس کی منطق یہ ہے کہ "زر" کسی اور خاندان یا قبیلےمیں نہ چلا جائے۔([33])

9۔نظام ِپدر سری(Patriarchal System)

پدر سری ایسا نظام ہے جس میں اہل خانہ کے مرد حضرات تمام فیصلے کرتے ہیں ۔پدرسری کی جڑیں زرعی معیشت میں ملتی ہیں جہاں جسمانی طاقت کو اہم عنصر سمجھا جاتا ہے

ایسے معاشروں میں قبائلی ثقافت کو مقدس سمجھا جاتا ہے۔کوئی بھی قبائلی حدود سے تجاوز نہیں کر سکتا ۔سماجی ماہرین پدرسری اور بالاجرت کام میں تعلق کو جانچنےکی کوشش کر رہے ہیں ۔پدر سری میں مشرکہ خاندان کو اہم سمجھا جاتا ہے۔گھر کے افراد کو جسمانی طاقت کے لحاظ سےمختلف نوعیت کی ذمے داریاں دی جاتی ہیں ۔خواتین چونکہ جسمانی طاقت کے اعتبار سے کم تر ہیں ،اس لیے گھریلو ذمہ داریاں ان کو سونپی جاتی ہیں ۔([34])

قتل غیرت کے سدباب کے لیے ریاستی اقدامات

حکومت ِ پاکستان نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے بہت سے اقدامات کیے ہیں: پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی میں 22 فیصد اضافہ ہوا۔خواتین کے لیے بنیادی سطح پر 30 فیصد نشستیں مختص ہیں۔

مزید براں حکومتِ پاکستان نے بھی متاثرین کے لیے کافی اقدامات کئے ہیں جو کہ حسب ذیل ہیں :

٭خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کی نفی کرنے اور ان کے مسائل کو اربابِ اختیار تک پہنچانے کے لئے نیشنل کمیشن برائے حیثیت نسواں تشکیل دیا گیا ہے ۔

٭کرائسز سنٹرز کاقیام بھی اس ضمن میں اچھا قدم ہے۔

٭مختلف مقامات پر پناہ گاہیں قائم کی گئی ہیں ۔

٭مسئلے کو حساسیت کو اجاگر کرنے کے لیے پولیس اور عام عوام کے لئے مختلف ورکشاپس اور سیمینار منعقد کیے جاتے ہیں۔

٭پولیس کو جدید تکنیک سے روشناس کرانے کے لیے بھی اقدام کیے گئےہیں تاکہ ایسے واقعات کی تشخیص کرنے میں آسانی ہو۔

٭پولیس کے تربیتی نصاب میں ہیومن رائٹس کو بطور لازمی مضمون متعارف کیا گیا ہے۔

تجزیہ

  • درجِ بالاگراف سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قتل ِ غیرت کا شکار زیادہ تر بہنیں ہوتی ہیں اور بیویاں دوسرے نمبر پر اس کی زد میں آتی ہیں ۔

File:.png

Category of Victims Percentage
Wife 25%
Mother/Mother in Law 20%
Sister 40%
Cousin 5%
Daughter 10%
  • اس گراف سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیہی علاقوں میں چونکہ آگہی کا فقدان ہوتا ہے اور پرانی روایات کا زیادہ پاس رکھا جاتا ہے ،قتل غیرت کے واقعات وہاں زیادہ وقوع پذیر ہوتے ہیں۔

File:.png

Column1 Category of Accused
Father 20%
Husband 40%
Brother 30%
Son/Son-in-Law 10%

File:.png

Way of Living Percentage
Rural 75%
Urban 25%
  • قتلِ غیرت کے زیادہ تر واقعات صرف الزام ہی کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔
Causes Percentage
Marriage of Inclination 30%
Blame of Adultery 70%

File:.png

  • گراف سے ظاہر ہوتا ہے کہ کن سفاک طریقوں سے یہ وارداتیں کی جاتی ہیں۔
Way of Killing Percentage
Firing 28%
Beheading 44%
Strangulation 28%

File:.png

  • درجِ بالا گراف یہ ظاہر کرتا ہے کہ شادی شدہ اور غیر شادی شدہ خواتین دونوں ہی قتلِ غیرت کا شکار ہوتی ہیں۔

File:.png

Matrimonial Status of Victims
Married 55%
Unmarried 45%

zz

حوالہ جات


  1. ۔Encyclopedia Britanica
  2. ۔Human Rights Watch(2000) Crime or Custom? Violence against Women in Pakistan.
  3. ۔Maris, C., & Saharso, S. (2001). Honour killing: A reflection on gender, culture and violence. The Netherlands'Journal of Social Sciences, 37(1), 52-73.
  4. ۔ Hassan, Y. (1999). The fate of Pakistani women. The New York Times, 25, 1-3.
  5. ۔ Stewart, F. H. (1994). Honor. University of Chicago Press.
  6. ۔ Bourdieu, P. (1977). Outline of a Theory of Practice (Vol. 16). Cambridge university press.
  7. ۔Tapper, R., & Tapper, N. (1992). Marriage, honour and responsibility: Islamic and local models in the Mediterranean and the Middle East. Cambridge Anthropology, 3-21.
  8. ۔http://hbv-awareness.com/history/
  9. ۔"Ending Violence against Women and Girls," State of the World Population 2000(New York: United Nations Population Fund, 2000), chap. 3.
  10. ۔BBC NewsJune 22, 2004.
  11. ۔ بخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح بخاری، کتاب النکاح، ریاض، دارالنشر والتوزیع، ١٤١٩ھ، ص٩٣٣، رقم ٥٢٢٣
  12. ۔ ابن ماجہ، محمد بن یزید، السنن، کتاب النکاح، ریاض، دار السلام للنشر والتوزیع، ١٩٩٩ئ، ص٣٥٧، رقم ٥٢٢٢
  13. ۔ النساء: ٩٣
  14. ۔ بخاری، صحیح بخاری، ص٩٣٣، رقم ٥٢٢٣
  15. ۔ قشیری، مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، ریاض، دارالسلام للنشر والتوزیع، ١٤٢١ھ، ص٦٥١، رقم ٣٧٦٣
  16. ۔ ایضاً
  17. ۔ ابن حمام، عبدالرزاق، صنعانی، المصنف، کتاب العقول، بیروت، الکتاب الاسلامی، ١٤٠٣ھ، ٩/ ٤٣٣، رقم ١٧٩١٣
  18. ۔ محمد حسن جان، غیرت کے نام پر قتل، اسلامی نظریاتی کونسل رپورٹ، ٢٠٠٠ئ، ص٢١٢
  19. ۔ نعیمی، سرفراز، زانی کو از خود قتل کرنے کا حکم، رپورٹ اسلامی نظریاتی کونسل، ١٩٩٩ئ، ص٢٣٠
  20. ۔Aase, T. (2017). Tournaments of power: honor and revenge in the contemporary world. Routledge.
  21. ۔Report of the Commission of Inquiry for Women (1997), Government of Pakistan.
  22. ۔ Maris, Cees, and Sawitri Saharso. "Honour killing: A reflection on gender, culture and violence." The Netherlands' Journal of Social Sciences 37, no. 1 (2001): 52-73.
  23. ۔https://tribune.com.pk/story/1182416/honour-killings-murders- rise-govt-sits-pro-women-./bills
  24. ۔ Daily, The News, 6 February 1999.
  25. ۔ Ibrat, 24 September 1999:5.
  26. ۔ Shah, N. (1998). Honour killings: Code of dishonour. The Review, 19-25.
  27. ۔ Lerner, G. (1986). Women and history.
  28. ۔Walby, Sylvia (1999) Theorizing Patriarchy, Oxford, Basil Blackwell, 1990.
  29. ۔ Handbook for Community Mobilization (2000) Department of Health Services, Maternal Child Health Branch, California.
  30. ۔Ali, S. S. (2000). Gender and human rights in Islam and international law: equal before Allah, unequal before man?. Brill.
  31. ۔ Wolf, E. R., & Silverman, S. (2001). Pathways of power: building an anthropology of the modern world. University of California Press.
  32. ۔ Mehdi, R. (2001). Gender and property law in Pakistan: Resources and discourses. Djoef Pub.
  33. ۔ Epstein, Cynthia Fuchs. "Great divides: The cultural, cognitive, and social bases of the global subordination of women." American Sociological Review 72, no. 1 (2007): 1-22.
  34. ۔ Sen, Anima, and Salma Seth. "Gender identity of the girl child in South Asia." Canadian Woman Studies 15, no. 2 (1995).


حوالہ جات