مولوی غلام حسن نیازی کے ترجمہ قرآن کا تنقیدی جائزہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ التفسیر
عنوان مولوی غلام حسن نیازی کے ترجمہ قرآن کا تنقیدی جائزہ
مصنف عمران، محمد
جلد 32
شمارہ 1
سال 2018
صفحات 22-35
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Tafseer Husn.ul.Biyan, Mualvi Ghulam Hassan Niazi, Ahmadee.
شکاگو 16 عمران، محمد۔ "مولوی غلام حسن نیازی کے ترجمہ قرآن کا تنقیدی جائزہ۔" التفسیر 32, شمارہ۔ 1 (2018)۔

Abstract

This article is a literary and critical analysis of Tafseer Husn.ul.Biyanby Maulvi Ghulam Hassan Niazi. Mufassar explained his false faiths andbelieves with the help of Quranic verses.Mualvi Ghulam Hassan Niazi was born in 1852. He was basicallyinspired by Mirza Muhammad Ismaeel and became Ahmadee. He wrote abrief tafseer in one volume on the demand of Khawaja Kamal-ud Din andexpressed his personal views in his tafseer Husn-ul.Biyan.He said that the Holyprophet(PBUH)is the last prophet of Allah, but Ghulam Ahmad Qadyani is theBrooze (equal to Hazrat Muhammad(PBUH).This article opens horizon to explain deeply false faith and ideology of Ahmadees.


قرآن مجید وہ واحد آسمانی کتاب ہے جس کے مختلف زبانوں میں تراجم کے ساتھ ساتھ کثرت سے تفا سیر بھی لکھی گئیں اور یہ تراجم و تفاسیر لکھنے والے صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی ہیں۔حتی کہ اسلام کے خلاف کام کرنے والے گروہوں نے بھی ہر دور میں اپنے مقاصد کے لیے قرآن مجید کا ہی سہارا لیا۔ اور قرآن میں غلط مفہوم کے ذریعے اپنی بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔انہی گمراہ اور اسلام کے خلاف سازش کرنے والے گروہوں میں سے ایک جماعت احمدیہ(قادیانی)بھی ہے۔جنھوں نے اپنے بانی مرزا غلام احمد قادیانی(۱۸۳۵ء۔۱۹۰۸ء) کے غلط عقائد و نظریات کو ثابت کرنے کے لیے قرآن مجید میں ہر قسم کی تحریفات کیں اوربہت سی تفاسیر بھی لکھیں ۔لیکن اس تمام کام کے اندر مرزا غلام احمد قادیانی کے باطل عقائد و نظریات،بہت سی آیات کا من گھڑت ترجمہ ،تفسیرمیں ہوائے نفس کی اتباع کرنااورمتشابہ آیات میں اپنی رائے کو حتمی شکل دینے میں تمام قادیانی مفسرین اور قادیانی مترجمین قرآن یہ طریقہ اختیار کرکے خاتم النبیین آنحضرتﷺ کے درج ذیل فرمان کے مصداق ٹھہرے ہیں:

عن ابن عباسؓ قال قال رسول اللہ ﷺ من قال فی القرآن برایہ فلیتبوأ مقعدہ من النار و فی روایۃ من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبوأ مقعدہ من النار ۔([1])

ان تراجم قرآن میں ایک مولوی غلام حسن نیازی پشاوری کا ترجمہ قرآن ہے ۔آپ ۱۹۱۴ء میں جماعت کے اندر خلافت پر عظیم اختلاف بر پا ہونے پرمولوی محمد علی کے ساتھ لاہور آگئے۔

اس ترجمے کی جماعت احمدیہ میں اہمیت کے پیش نظراس زیرِنظر مقالے کا حصہ بنا یا گیا ہے۔ تاکہ جماعت احمدیہ میں لکھی گئی اس مشہور تفسیر کی تحریفات قرآنی کو منظر عام پر لایا جاسکے۔

ختم نبوت کا مفہوم

ختم نبوت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ نہ صرف اللہ کے سچے نبی ہیں بلکہ آپ ﷺ اس کے آخری نبی و رسول بھی ہیں ۔ آپﷺ کے ہاتھوں دین کی تکمیل ہوگئی اور آپﷺ کی شریعت نے پہلی تمام شریعتوں کو منسوخ کردیا اور اب قیامت تک آپﷺ کی لائی ہوئی ہدایات انسان کے لئے مشعل راہ ہوں گی اور کوئی دوسرانبی پیدا نہیں ہوگا۔

ختم کی اقسام

لغت عرب میں لفظ خاتم زیر اور زبر کے ساتھ پانچ معنوں میں استعمال ہواہے ۔

۱۔آخر قوم یہ ہمیشہ جماعت کی طرف مضاف ہوگا ۔

۲۔انگشتری جیسے ’’خاتم ذہب خاتم ذھباً‘‘ اس کا مضاف الیہ ہمیشہ ہمیشہ تمیز ہوگا ۔ اگر اضافت نہ ہو تو من سے استعمال ہوگا ’’ ولو خاتما من حدید‘‘ اور اضافت لامیہ میں مفرد مفرد کی طرف اور جمع جمع کی طرف مضاف ہوگا ’’کخاتم زید و خاتیم قوم‘‘ ورنہ لام کا اظہا ر ضروری ہوگا ۔

۳۔اسم آلہ ما یختم بہ وہ جس سے مہر لگائی جائے یعنی لوہے یا پیتل یا پتھر وغیرہ کی چیز جس پر نام وغیر ہ کنند ہ کئے جاتے ہیں یعنی مہر ۔

۴۔خاتم زیر کے ساتھ اسم فاعل کا صیغہ کسی چیز کو ختم کرنے والا ۔

۵۔خاتم زبر کے ساتھ مہر کا نقش جو کاغذ وغیرہ پر اتر آتا ہے ۔

پس آیت ’’خاتم النّبیین‘‘میں دوسرے اور پانچویں معنی تو کسی طرح بھی درست نہیں ہو سکتے ۔اور پہلے معنی ہر دوقرات پر صحیح اور درست ہیں ۔ اور چوتھے معنی صرف خاتم با لکسر کے ساتھ مخصوص ہیں ۔ اورتیسرے معنی حقیقت کے اعتبار سے مراد ہو ہی نہیں سکتے اور باجماع علمائے لغت جب تک حقیقی معنی درست ہو سکیں اس وقت تک مجاز کو اختیار کر نا باطل ہے ۔ اگر مجازی معنی ہی لئے جائیں تو یہ معنی ہوں گے کہ حضور ﷺ انبیاء پر مہر ہیں ۔ جس کا مطلب پہلے معنی کے علاوہ کچھ نہیں کیونکہ عرب میں الختم یعنی مہر لگانے کے معنی کسی چیز کو بند کر دینا اور روک دینے کے ہیں عام محاوروں میں کہا جاتا ہے فلاں شخص نے فلاں چیز پر مہر کردی۔

مولوی غلام حسن نیازی اور ان کی تفسیر”حسن بیان“

مولوی غلام حسن نیازی کا عقیدہ:مولوی غلام حسن نیازی ابتدامیں مرزاغلام احمد کو نبی تسلیم کرتے تھے لیکن ۱۹۱۴ء میں جب جماعت احمدیہ میں خلافت پر شدید اختلاف ہوا تومولوی غلام حسن نیازی مرزا بشیر الدین محمود احمد سے اختلاف کرتے ہوئے مولوی محمد علی لاہوری کے ساتھ لاہورچلے آئے۔اب مولوی غلام حسن کے نظریات بھی وہی تھے جو محمد علی لاہوری نے ۱۹۱۴ء میں لاہور آکر بیان کیے۔اسی دوران مولوی غلام حسن نے اپنی مشہور تفسیر بھی لکھی۔جس میں محمد علی لاہوری کے عقائد کو دلائل سے ثابت کرنے کی بھر پور کوشش کی اورمرزا بشیر الدین محمود احمد کے نظریات کی کھل کر مخالفت کی ۔لیکن بعد میں مولوی غلام حسن نیازی کے مولوی محمد علی سے بھی شدید اختلاف ہو گئے تھے۔اس کے بارے میں قاضی محمد یوسف پشاوری نے الفضل میں مولوی غلام حسن پر ایک مضمون لکھا اس میں قاضی محمد یوسف مولوی غلام حسن کے بارے میں لکھتے ہیں کہ”آپ نے عرصہ ٔدراز تک محمد علی صاحب کو ان کے کاموں پر ملامت کی تھی۔اور ۱۹۳۶ء میں میرے کہنے پر قادیان آئے اور دوسری بار ۱۹۳۹ء میں قادیان آئے اور اسی قیام کے دوران میں جنوری ۱۹۴۰ء کو مرزا بشیر الدین محمود احمد کی بیعت کی۔اور پھر وفات تک وہی مقیم رہے۔“([2])

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی غلام حسن نیازی دوبارہ محمد علی کو چھوڑ کر مرزابشیر الدین محمود احمد کے عقائد کو اختیار کر بیٹھے اور کافی عرصے تک قادیان ہی مقیم بھی رہے اور آپ کو قادیان ہی میں دفن کیا گیا اور اسی طرح آج تک انجمن اشاعت اسلام لاہور کی طرف سے اس بات کی تردید نہیں آسکی۔لہذا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ دوبارہ مرزا بشیر الدین محمود احمدکے ساتھ مل گئے تھے۔

غلام حسن نیازی کی مطالعۂ قرآن سے دلچسپی:مولوی غلام حسن نیازی بچپن ہی سے تعلیم قرآن میں دلچسپی رکھتے تھے ۔اور تقریبا ًپچاس سال تک اپنے گھر میں مغرب و عشاء کے درمیان درس قرآن و حدیث دیا کرتے تھے۔ان درسوں میں اپنا پیغام بھی لوگوں تک پہنچاتے تھے ۔اس کے لیے انھیں بہت سی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن غلام حسن نیازی اپنے قادیانی عقیدے سے کبھی نہیں ہٹے۔

تفسیر”حسن بیان“ کا تعارف

ایک جلد میں مختصرانداز میں لکھی گئی پورے قرآن کی تفسیر ہے۔اس تفسیر کی وجہ تالیف کے متعلق مولوی غلام حسن لکھتے ہیں کہخواجہ کمال الدین(۱۸۷۰ء۔۱۹۳۲ء)کی فرمائش پر میں نے ابتدا ًقرآن مجید کا ترجمہ لکھا تھا۔بعد میں میری خواہش تھی کہ اس کی تفسیر بھی خواجہ صاحب کی نگرانی میں کردوں لیکن خواجہ صاحب کی مصروفیات کی بنا پر یہ حسرت بھی پوری نہ ہو سکی۔لیکن خواجہ صاحب کی وفات کے بعداللہ نے یہ بات میرے دل میں ڈالی کہ میں جدید انکشافات زمانہ کومد نظر رکھ کر ایک مختصر تفسیراللہ تعالیٰ کی اعانت سے لکھوں جس سے علماء اور غیر علماء اپنی اپنی حیثیت کے مطابق استفادہ کر سکیں اور جس میں خواجہ مرحوم کے بلند خیالات کا کچھ رنگ پایا جائے۔چناچہ ان مقاصد کو مد ِنظر رکھ کر میں نے یہ تفسیر لکھی۔جس کا نام اردو زبان میں ترجمہ و مختصرمطالب قرآن موسوم بہ”حسن بیان“رکھا۔([3])

تفسیر ”حسن بیان“کے شروع میں تمہیداس کے بعد ایک مختصر سی مطالب کی فہرست دی ہے۔جس کی مدد سے تفسیر حسن بیانمیں حوالوں کو تلاش کرنا آسان ہو جا تاہے۔اس تفسیر کے کل صفحات ۶۵۴ ہیں۔

”حسن بیان“میں تفسیری منہج

۱۔آسان انداز میں بامحاورہ ترجمہ کیا ہے۔

۲۔ہر سورت کا مختصر انداز میں تعارف کراتے ہیں۔

۳۔اگر کہیں اختلاف ہو تو اس کو بیان کر کے اپنی رائے دے دیتے ہیں۔

۴۔جہاں آیت کی وضاحت کرنی ہوتو ترجمے کے اندر حوالہ دے کر نیچے اس کی تشریح کرتے ہیں۔

۵۔کہیں کہیں مشکل الفاظ کی تشریح بھی کرتے ہیں۔

تفسیر”حسن بیان“کے مصادر ومراجع

مولوی غلام حسن نیازی نے اپنی تفسیر کو بالکل مختصرانداز میں لکھا ہے اور اس میں مصادر ومراجع با لکل استعمال نہیں کیے وہ قرآنی آیت کا حوالہ دینے کے لیے سورت اور آیت کا حوالہ دے دیتے ہیں یا کبھی کبھار متن آیت بھی لکھ دیتے ہیں۔ اور ”حیات حسن“کے مصنف نے اس بارے میں لکھا ہے کہ”مولانا نے عام مفسرین کی طرح کسی لفظ کے معنی کرنے میں لسان العرب،قاموس،تاج العروس وغیرہ سے حوالے نہیں دیے اور نہ ہی سابقہ مفسرین کی تفسیروں سے حوالہ جات دے کراپنی تفسیر کے حجم کو زیادہ کیا ہے۔بلکہ ان سب کے مطالعے کے بعد اپنی تحقیقات کو آسان فہم اور با محاورہ ترجمہ اور تفسیر کی شکل دی ہے۔“([4])

تفسیر”حسن بیان“ کا اصول تفسیر کی روشنی میں جائزہ

اس تفسیر میں سلف و صالحین کے بیان کردہ اصول تفسیر کو نظر انداز کر کے با محاورہ ترجمہ اور غلط تشریح کر کے تفسیر بالرائے المذموم کی شکل اختیار کی گئی ہے۔ جس کی مثالیں درج ذیل ہیں:

اِذْ قَالَ اللّہُ یَا عِیْسَی إِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُک َ ([5])

”جب کہا اللہ نے اے عیسیٰ بے شک میں واپس لے لوں گا تمھیں اور اٹھا لوں گا تم کو اپنی طرف ۔“

حسن بیان میں ترجمہ

جب اللہ نے کہا اے عیسیٰ میں تم کو وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں ۔([6])

وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُونُ عَلَیْہِمْ شَہِیْداً۔([7])

”اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر ضرور ایمان لائے گامسیح علیہ السلام پر اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہوگا مسیح ان پر گواہ۔“

حسن بیان میں ترجمہ

”اور کوئی اہل کتاب نہیں مگر وہ اس کی صلیبی موت پر ایمان رکھے گاقبل اس کے کہ اس کی طبعی موت کو مان لے اور قیامت کے روز وہ ان پر گواہ ہوگا(اگر دنیا میں واپس آتا تو قیامت کی شہادت کی ضرورت نہ تھی)۔“ ([8])

وَحُشِرَ لِسُلَیْمَانَ جُنُودُہُ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ وَالطَّیْرِ فَہُمْ یُوزَعُونَ۔([9])

”(اور ایک مرتبہ )جمع کیے گئے سلیمان علیہ السلام کے جائزےکے لیے اس کے تمام لشکرجو مشتمل تھے جنوں ،انسانوں اور پرندوں پر پھر ان کی نظم و ضبط کے ساتھ صف بندی کی گئی۔“

حسن بیان میں ترجمہ

”اور سلیمان کے ملاحظہ کے لیے اس کے لشکر غیر قوموں اور اپنی قوم اور گھڑچڑہوں سے جمع کیے گئے پھر وہ گروہوں میں تقسیم کیے گئے۔‘‘([10])

حَتَّی إِذَا أَتَوْا عَلَی وَادِیْ النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَۃٌ یَا أَیُّہَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاکِنَکُمْ۔([11])

”(اور چل پڑے)حتی کہ جب پہنچے وہ چیونٹیوں کی وادی میں تو کہا ایک چیونٹی نے اے چیونٹیو:گھس جاؤ اپنے بلوں میں۔“

حسن بیان میں ترجمہ

”یہاں تک کہ جب وادی نمل (نملہ قوم کا علاقہ ہے)میں پہنچے تو قوم نملہ کی ایک عورت نے کہا اے قوم نملہ اپنے گھروں میں گھس جاؤ۔‘‘([12])

وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْہِمْ أَخْرَجْنَا لَہُمْ دَابَّۃً مِّنَ الْأَرْضِ ([13])

”اور جب آپہنچے گاہماری بات پورا ہونے کا وقت ان پر تو نکالیں گے ہم ان کے لیے ایک جانور زمین سے ۔“

حسن بیان میں ترجمہ

”اور جب اللہ کی بات ان کے حق میں پوری ہو جاوے گی تو ہم زمین سے ان کے لیے ایک زمینی انسان مسلط کریں گے۔“([14]) ”دآبۃ“ کا معنیٰ ہی تبدیل کردیاگیا ہے۔

وَمِنَ الْجِنِّ مَن یَعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْہِ بِإِذْنِ رَبِّہ ([15])

”اور (تابع کردیے اس کے)کچھ جن جو کام کرتے تھے اس کے آگے اس کے حکم سے ۔“

حسن بیان میں ترجمہ

”اور غیر قوم کا ایک معمار تھاجو اپنی بادشاہ کی اجازت سے اس کے آگے کام کرتا تھا۔“([16])

وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمَانَ وَأَلْقَیْنَا عَلَی کُرْسِیِّہِ جَسَداً ثُمَّ أَنَابَ ([17])

”اور بلا شبہ آزمائش میں ڈالاہم نے سلیمان علیہ السلام کو بھی اور ڈال دیا اس کی کرسی پر ایک جسد پھر اس نے رجوع کیا ۔“

حسن بیان میں ترجمہ

”اور ہم نے سلیمان کو آزمایا اور اس کے تخت پر ایک نا لائق انسان کو جگہ دی پھر اس نے اللہ کی طرف رجوع کیا ۔“ ([18]) نالائق انسان کا ترجمہ اپنی طرف سے کیا ہے۔

وَإِنَّہُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِہَا وَاتَّبِعُونِ ([19])

”اور بلا شبہ ابن مریم تو ایک نشانی ہیں قیامت کی پس تم ہر گز نہ شک کرو قیامت کے بارے میں اور میری پیروی کرو۔“

حسن بیان میں ترجمہ

”اور عیسیٰ البتہ اس گھڑی کے لیے (جو یہودیوں پر آنے والی تھی)ایک نشان ہی تھے تو تم اس گھڑی کے آنے میں شک نہ کرو اور میرا کہا مانو۔“([20]) یہاں پر ضمیر کا مرجع ابن مریم کی بجائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بنا دیا ہے صرف جماعت احمدیہ کے عقائد کو ثابت کرنے کے لیے۔

إِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَہَنَّمَ خَالِدُون ([21])

”بیشک مجرم جہنم کی آگ میں ہمیشہ رہیں گے۔“

حسن بیان میں ترجمہ

”بےشک گنہگار دوزخ کے عذاب میں مدتوں رہنے والے ہوں گے۔“([22])

جماعت احمدیہ کاعقیدہ ہے کہ کافر بھی جہنم میں ہمیشہ نہیں رہیں اس لیے وہ قرآن میں ہر جگہ ’’خالدین‘‘کا معنی مدتوں کرتے ہیں۔حالانکہ بہت سی قرآنی آیات کفار و مشرکین کی عدم نجات پربھی دلالت کرتی ہیں۔

إِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوا وَمَاتُوا وَہُمْ کُفَّارٌ أُولَئِکَ عَلَیْْہِمْ لَعْنَۃُ اللّہِ وَالْمَلآئِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِیْنَ خَالِدِیْنَ فِیْہَا لاَ یُخَفَّفُ عَنْہُمُ الْعَذَابُ وَلاَ ہُمْ یُنظَرُونَ ([23])

إِنَّ اللّہَ لاَ یَغْفِرُ أَن یُشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِکَ لِمَن یَشَاء ُ وَمَن یُشْرِکْ بِاللّہِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلاَلاً بَعِیْداً ([24])

ان قرآنی آیات کے علاوہ اور بھی بہت سی قرآنی آیات ہیں جو جہنم کے دوام پر نص ہیں۔ جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

مقام سورت آیت نمبر
خالدین فیھا ابدا نساء ۱۲۳
ماھم بخارجین من النار بقرہ ۱۶۷
ماھم بخارجین منھا مائدہ ۳۷
لا یخرجون منھا جاثیہ ۳۵
سائت مصیرا نساء ۹۷

اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی کثرت سے اس کا ذکر ہے کہ کفار و منافقین ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔چناچہ الجامع البخاری میں ہے کہ”ابن عمرؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا کہ جب اہل جنت، جنت میں اور اہل دوزخ، دوزخ میں داخل ہو جائیں گے تو ایک آواز دینے والاآواز دے گا کہ اہل جنت تم کو موت نہ آئے گی اور اہل دوزخ تم کو موت نہ آئے گی۔تم اسی میں ہمیشہ ہمیشہ رہوگے۔“ ([25])

لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِیْ کَبَد ([26])

”بلاشبہ پیدا کیا ہم نے انسان کو مشقت میں۔“

حسن بیان میں ترجمہ

”ضرور ہم نے انسان کو مشقت کے اندر رہنے کے لیے پیدا کیا ہے۔“ ([27]) اس ترجمے میں سارا مفہوم ہی تبدیل کردیا ہے۔

ان تراجم قرآن کے علاوہ اس تفسیر میں تشریح قرآنی میں بھی قادیانی جماعت کے باطل عقائد و نظریات کو ثابت کرنے کے لیے تفسیر بالرائے المذموم کا سہارا لیا گیا ہے۔اس کی مثالیں درج ذیل ہیں۔

سورہ انعام آیت نمبر ۱۲۹تا۱۳۱ کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ:موت کے بعد اخیار کے لیے آسمانوں کے دروازے مفتوح ہوتے ہیں اور وہ عروج کر کے فرشتوں کے ساتھ مل جاتے ہیں اور وہی کام کرتے ہیں جو فرشتے کرتے ہیں اور اشرار کا عروج آسمان پر نہیں ہوتاوہ جو میں جنوں کے ساتھ رہتے ہیں اور وہی کام کرتے ہیں جو جن کرتے ہیں۔“([28]) اسی کے متعلق سورہ اعراف کی آیت نمبر ۴۰تا۴۱کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ : ”غیر مومنین اور مجرمین کا رفع آسمانوں پر نہیں ہوتا۔یہ لوگ دخول جنت سے محروم رہتے ہیں اور جنوں کے ساتھ جو میں رہتے ہیں اور وہی کام کرتے ہیں جو جن کرتے ہیں ۔“([29])اسی طرح سورہ مومن کی آیت نمبر ۷کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:”حاملین عرش اور اس کے حوالی سے وہ ملائکہ اور مقربین انسان مراد ہیں جو موت کے بعد ملائکہ میں شامل ہو جاتے ہیں اور ان کا حاملین عرش ہونے سے یہ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سلطنت کا انتظام انھیں کے ذریعے سے ہوتا ہے۔“([30]) اسی طرح سورہ ٔ فجر میں لکھتے ہیں”اس میں لفظ عبادیسے اللہ تعالیٰ کے صالح بندے اور ملائک مراد ہیں ۔صالح بندوں کی ارواح ملائک میں شامل ہوکر رہتی ہے ۔“([31])

ان آیات میں اچھے لوگوں کوفرشتوں میں اور برے لوگوں کو جنوں کی صف میں شامل کرنا یہ خلاف عقل ہے اور سلف و صالحین کا ایسا عقیدہ نہیں رہاحتی کہ جماعت احمدیہ کے بانی کے ہاں بھی ایسا عقیدہ نہیں ہے کہ جو عقیدہ غلام حسن صاحب نے اپنایا ہے۔چناچہ تفسیر ابن عباس میں ہے:عرش الرحمن وھو السریر وھم عشرۃ أجزاء من الملائکۃ الحملۃ۔ ([32]) اور تفسیر طبری میں ہے:الذین یحصلون عرش اللہ من ملائکتہ ،و من حول عرشہ، ممن یحف بہ من الملائکۃ۔ ([33])

علامہ آلوسی (۱۸۰۲ء۔۱۸۵۴ء)فرشتوں کے متعلق لکھتے ہیں کہ:ومن حولہ: ای والذین من حول العرش وھم ملائکۃفی غایۃ الکثرۃلا یعلم عدتھم الا اللہ تعالیٰ۔ ([34])

سورہ نمل آیت نمبر ۸۲ کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ: اخرجنا لھم دابۃ من الارض میں دابہ سے مراد ایک زمینی انسان ہے اور فقرے کا مفہوم یہ ہے کہ قوم عرب اور اس کی لاحقہ ریاستوںکی سزا دینے کے لیے ایک دنیوی شوکت کا انسان مسلط کریں گے۔اس سے مراد منگولین نسل کا قوی بادشاہ چنگیزخاں ہے اور اسی نسل کے لوگوں کا نام یاجوج ماجوج سے مشہور ہے۔ ([35])

اس آیت مبارکہ میں دابہ کا مصداق غلط بیان کیا گیا ہے اس لیے کاندھلوی صاحب اپنی تفسیر میں دابۃ الارض کے بارے میں لکھتے ہیں کہ دابۃالارض سے ایک جانور مراد ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد قیامت کے قریب مکہ مکرمہ کی سر زمین سے نکلے گا ۔جس طرح اللہ نے صالح علیہ السلام کے لیے پتھر سے ایک اونٹنی نکالی تھی اسی طرح قیامت کے قریب اللہ تعالیٰ مکہ کی زمین سے ایک دابہ(جانور)نکالے گا اور اس کے پاس ایک مہر ہوگی جس سے مومن اور کافر کی پیشانی پر نشان لگائے گا۔مومن کی پیشانی پر سفید نشان لگائی گااور کافر کی پیشانی پر سیاہ داغ لگائے گا ا س نشان سے مومن اور کافر ظاہری طور پر پہچانا جا ئے گا۔([36])

سورہ کہف کے شروع میں لکھتے ہیں کہ :”عیسائی اقوام کو جن کے عقائد اور حالات کا ذکر سورہ کہف کی ابتدا اور انتہا میں بھی ہے۔احادیث میں دجال کا نام دیا گیا ہے۔“([37]) اس کے آگے مزید لکھتے ہیں کہ ”دجال کوئی ایک شخص نہیں ہے۔بلکہ ایک قوم کا نام ہے۔“([38])

مولوی غلام حسن نیازی کا یہ عقیدہ صریح احادیث مبارکہ کے خلاف ہے اس لیے کہ حدیث میں جس شخص کو دجال کہا گیا ہے وہ شخص واحد ہے نہ کہ قوم کا نام۔ صحیح مسلم میں ہے:عن حذیفۃ قال قال رسول اللہ ﷺ الدجال اعور لعین الیسرٰی جفال الشعر معہ جنتہ و نارہ فنارہ جنتہ،وجنتہ نار۔([39]) حضرت حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا،دجال بائیں آنکھ سے کانا ہوگا اس کے جسم پر بہت گھنے بال ہوں گے اور اس کے ساتھ اس کی جنت اور دوزخ بھی ہوگی لیکن جو اس کی جنت نظر آئے گی دراصل وہ دوزخ ہوگی اور جو دوزخ نظر آئے گی وہ اصل میں جنت ہوگی۔

ایک اور حدیث میں دجال کے متعلق یوں و ضاحت کی گئی ہے:

عن عبادۃ بن صامتؓ عن رسول اللہ ﷺ قال انی قد حدثتکم عن الدجال حتی خشیت ان لا تعقلوا ان المسیح الدجال رجل قصیر،افحج جعد،اعور مطموس العین لیس بناء تیہ و لا حجراء فان البس علیکم فاعلموا ان ربکم لیس باعور۔([40])

”عبادہ بن صامت ؓ رسول اللہ ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا میں نے دجال کے متعلق کچھ تفصیلات تم لوگوں سے بیان کیں لیکن مجھ کو خطرہ ہے کہ کہیں تم پورے طور پر اس کو نہ سمجھے ہو۔دیکھو مسیح دجال کا قد تھنکنا ہوگا۔اس کے دونوں پیر ٹیڑھے ،سر کے بال شدید خمیدہ،یک چشم مگر ایک آنکھ بالکل چٹ صاف،نہ اوپر کو ابھری ہوئی نہ اندر کو دھنسی ہوئی۔اگر اب بھی تم کو شبہ رہے تو یہ بات یاد رکھنا کہ تمھارا رب یقیناًکانا نہیں ہے۔“

سورہ کہف آیت نمبر ۵۰ کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ:

”ابلیس ان ملائک ارضی میں سے تھا جن کو سجدہ کا حکم ہوا تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ سجدہ کا حکم ابلیس کو بھی شامل تھا۔اور حکم میں اس کا شمول نہیں ہوسکتا جب تک اس کو ان ملائک میں شامل نہ کیا جائے جن کو سجدہ کا حکم ملا تھا۔“ ([41])

اس میں ابلیس کو فرشتوں میں شامل کرنا ٹھیک نہیں ہے اور سلف وصالحین نے ان دونوں کو الگ الگ قرار دیا ہے۔چنانچہ تفسیر کشاف میں ہے:

استثناء متصل لأنہ جنیا واحدا بین أظھر الألوف من الملائکۃ مغمورا بھم۔ ([42])

اسی طرح شیخ طنطاوی فرماتے ہیں کہ:

وقیل انہ لیس منھم لقولی تعالی الا ابلیس کان من الجن ففسق عن امر ربہ،فھو اصل الجن،کما أن آدم اصل الانس،ولانہ خلق من النار،والملائکۃ خلقوا من نور، و لأنہ لہ ذریۃ و لا ذریۃ للملائکۃ،وقد اختار ھذا القول الحسن و قتادہ و غیرھما۔ ([43])

سورہ مئومنون آیت نمبر۵۰کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ:

”اس آیت میں جس بلند قطعہ زمین پر حضرت مسیح اور اس کی والدہ کو ٹھکانادینے کا ذکر ہے وہ کشمیر کی زمین معلوم ہوتی ہے۔“ ([44])

یہاں پر کشمیر کی زمین قرار دے کر غلام حسن نیازی اپنے نظریے کو تقویت دے رہے ہیں۔

حسن بیانمیں موجود امتیازی مسائل کا جائزہ

غلام حسن نیازی اپنی تفسیر میں آنحضرت ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں لیکن اس پر کھل کر کہیں وضاحت نہیں کی ۔ اس کے علاوہ غلام حسن نیازی اس بات کے بھی قائل ہیں کہ کسی مجدد کے لیے رسول کا لفظ استعمال ہوسکتا ہے اور اسی طرح مجدد کو مجازا نبی بھی کہ سکتے ہیں چناچہ سورہ اعراف رکوع نمبر ۳۔۴ کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ:”اللہ تعالیٰ نے جہاں جہاں مصلحین کی بعثت کا ذکر کیا ہے وہاں رسول کا لفظ استعمال کیا ہے جو قرآن کی اصطلاح میں نبی اور مجدد کے درمیان مشترک ہے جس سے مراد یہ ہوئی کہ جدید شریعت کی ضرورت پیش آتی ہے تو شارع نبی مبعوث ہوتے ہیں ۔جن کی نبوت حقیقی ہوتی ہے۔اور اگر شریعت کے احکام میں کچھ غلط فہمیاں پیدا ہو گئی ہیں جو امت کے لیے مضر ہیں تو محدث بفتح دال یامجدد کہو مبعوث ہوتے ہیں جن کو مجازا نبی کہ سکتے ہیں کہ ان میں الہام جو قوی شعبہ نبوت ہے پایا جاتا ہے۔“([45])

غلام حسن نیازی نے یہ سب باتیں مرزا غلام احمد کو محفوظ کرنے کے لیے کی ہیں اصل میں ان کی کوئی حقیقت نہیں ورنہ آنحضرت ﷺ کے بعد آج تک کسی مجدد نے اپنے آپ کو نبی نہیں کہا اور نہ ان کے پیروکاروں نے ان کو نبی کے نام سے پکارا ہے۔

غلام حسن نیازی اپنی تفسیر میں مرزا غلام احمد کے زمانے کو اسلام کے عروج کا زمانہ کہتے ہوئے لکھتا ہے کہ:اسلام کا عروج تین سوسال تک رہے گا جیسا کہ حدیث سے ظاہر ہے: خیر القرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم۔قرن ایک سوسال کا ہوتا ہے یہ تین سو سال ہوئے ۔ثم یفش الکذب”اس کا زمانہ قرآن میں ایک ہزار سال قرار دیا ہے ۔یہ عروج کا زمانہ آسمان پر چلا جاوے گا۔اس میعاد کی تعیین سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد پھر اسلام کے عروج کا زمانہ شروع ہوگا۔یہ چودھویں صدی اور مسیح کے نزول کا زمانہ قرار دیا ہے۔“([46])

مرزاکو مثل خضر قرار دینے کے لیے غلام حسن نیازی اپنی تفسیر میں حضرت خضر علیہ السلام کے متعلق لکھتا ہے کہ”دنیا میں اللہ تعالیٰ کے مقربین کی ایک جماعت ایسی رہتی ہے۔جو ملائک ارضی کی طرح مختلف خدمات زیر ہدایت مدبر الامر بجا لاتے ہیں ۔خضر بھی ان میں سے ایک فرد ہے اور یہ نام اس کا لقبی نام ہے جملہ زمانوں کے لیے ایک ہی خضر نہیں ہوتا ۔بلکہ ہر زمانے کا خضر جدا ہوتا ہے۔“ ([47])

مولوی غلام حسن نیازی مرزا غلام احمد کو بروز ذو القرنین قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے کہیاجوج ماجوج کے جسمانی فسادوں سے ایک قوم کو امن دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک ذوالقرنین بھیجا تھا۔اور موجودہ زمانے میں یاجوج ماجوج کے روحانی نقصانوں سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کا بروز یعنی حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیان بھیجاجس نے ان کے حملوں سے قوم کو بچانے کے لیے لٹریچر کی دیوار بنادی۔مگر حصہ کثیر نے اس سے استفادہ کرنے کے بجائے کفران نعمت کیا وکان امراللہ قدرامقدورا” اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو یہودیوں کی طرح اپنی نعما سے محروم کر دیاہے۔“ ([48])

مولوی غلام حسن نیازی ایک طرف تو مرزا غلام احمد کو اپنی تفسیر میں نبی نہیں مانتا لیکن دوسری طرف اس جگہ بروز تسلیم کر رہاہے جو کہ آج تک کسی مجددو محدث نے اپنے آپ کو ایسا نہیں کہا۔

نتائج

جماعت احمدیہ کے اس ترجمۂ قرآن سے درج ذیل امور احذ کیےجاسکتے ہیں:

۱۔ قادیانی مفسرین نے سلف و صالحین کے تفسیری منہج کو چھوڑ کر اپنے عقائد و نظریات کو ثابت کرنے کے لیے تراجم قرآن لکھے۔

۲۔ مولوی غلام حسن نیازی کے تراجم قرآن میں معجزات کا اور خرق عادت کا انکار کثرت سے پایا جاتا ہے۔

۳۔ اس ترجمۂ قرآن میں اس بات کی بھی کوشش کی گئی ہے کہ قرآنی آیات کا مصداق مرزا غلام احمد اور اس کے پیروکار ہیں۔

خلاصۂ بحث

موجودہ دور میں باطل فرقوںمیں سے قرآنیات پر سب سے زیادہ کام جماعت احمدیہ کی طرف سے ہورہا ہے۔لیکن اس کا مقصدتحریف قرآنی کے ذریعے اپنے عقائد و نظریات کو ثابت کرنا ہے۔جس کی مثال ہمیں اس ترجمۂ قرآن سے ملتی ہے۔قادیانیوں کے دونوں گروہوں میں اس ترجمہ قرآن کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔اس میں قادیانی عقائد کو ثابت کرنے کے لیے تراجم قرآن کے ساتھ ساتھ قرآنی تفاسیر میں بھی عقائد کا بین السطور اظہار کیا گیا ہے۔ جس سے عام قاری کے لیے دوران مطالعہ یہ تفریق مشکل ہے کہ یہ تفسیر کن نظریات و کن عقائد کا پر چار کر رہی ہیں۔

اس لیے موجودہ دور میں جس طرح اہل علم امت مسلمہ کو باطل عقائد و نظریات سے محفوظ رکھنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں وہاں ان پر یہ ذمے داری بھی بنتی کہ امت مسلمہ کو گمراہ کرنے کے لیے اس قسم کے جو بھی غلط قرآنی تراجم یا قرآنی تفاسیر لکھی گئی ہیں یا لکھی جاری رہی ہیں ان کو منظر عام پر لاکر تفسیر بالرائے المذموم کی نشاندہی کریں تاکہ امت مسلمہ گمراہ اور تحریف شدہ تراجم قرآن سے آگاہی پاکر ایمان جیسی نعمت کو محفوظ رکھ سکے۔


حوالہ جات

  1. ()ترمذی،ابو عیسی محمد بن عیسی،السنن(مکتبہ رحمانیہ،لاہور)باب ماجاء یفسرالقرآن برأیہ ،۲/۵۸۹ ٭۔ غلام حسن نیازی بن جہان خان، لودھی خاندان کی ایک نیازی شاخ سے تعلق رکھتے تھے۔خاندان اور قوم میں حسن خاں کے نام سے مشہور تھے۔آپ کی پیدائش تقریبا ۱۸۵۲ء میں ہوئی۔(نیازی،عبداللہ جان و حسن خیل،حیات حسن (ط:اول،۱۹۶۰ء) ص:۱۶۔)غلام حسن نیازی نے ابتدائی تعلیم مسجد میں قرآن مجید اور ابتدائی کتب سے کی۔اس کے بعد راولپنڈی نارمل سکول سے اپنی تعلیم کو مکمل کیا(روزنامہ الفضل،ج31 ،ص۳/شمارہ نمبر۳۸،۱۴ ،فروری۱۹۴۳ء) ۔ قرآن سے بہت زیادہ شغف تھا یہی وجہ ہے کہ آپ نے ملازمت کے دوران ہی قرآن کو حفظ کرلیا تھا۔ جماعت احمدیہ میں شمولیت:مرزا محمد اسمٰعیل(پشاور میں ڈسٹرکٹ انسپکٹر کے عہدے پر تھے)جو کہ وفات مسیح کے قائل تھے ان کے غلام حسن نیازی سے بہت زیادہ دوستانہ تعلقات تھے۔چنانچہ جب مرزا غلام احمد نے براہین احمدیہ لکھی تو مرزا محمد اسمٰعیل نے اس کی ایک کاپی غلام حسن نیازی کو بھی دی۔اور اکثر مرزا غلام احمد کا تذکرہ خیر کثرت سے کیا کرتے تھے چنانچہ ایک بار انہوں نے غلام حسن سے کہاکہ’’مہدی ظاہر ہوگیا اور عنقریب اس کا دعویٰ کرے گا(حیات حسن،ص۴۳)چناچہ مرزا محمد اسمٰعیل کی محنتوں کی بدولت غلام حسن نیازی بھی مرزا غلام احمد کے بہت زیادہ گرویدہ ہوگئے تھے۔اس کے بعد غلام حسن نیازی کو مرزا غلام احمد سے ملاقات کا بہت شوق رہتا تھااس پیاس کو بجھانے کے لیے آپ پہلی بار ۱۸۸۸ء کو لدھیانہ میں مرزا غلام احمد سے ملاقات کے لیے گئے اس کے بعدپشاور آکر ۱۸۸۹ء میں مرزا غلام احمد سے تحریری بیعت لی اور جب مرزا غلام احمد نے وفات مسیح کا دعویٰ کیا تو مولوی غلام حسن نیازی ۱۸۹۱ء میں قادیان جاکر مرزا غلام احمد سے ملاقات کی اس کے بعد اکثر قادیان جایا کرتے تھے۔ ملازمت:ابتدا میں غلام حسن نیازی پشاور ہائی سکول میں ہیڈ مولوی کے فرا ئض انجام دیتے رہے۔اس کے بعد شہزادہ محمد ابراہیم کی سفارش پر ڈپٹی کمشنر نے ان کو سب رجسٹرار بنادیا۔اور اس عہدے پر غلام حسن نیازی ۴۰ سال تک رہے۔(یاد رفتگاں،احمدیہ انجمن اشاعت اسلام،لاہور)۱/۱۳۸۔ وفات:مولانا غلام حسن نیازی یکم فروری۱۹۴۳ء کو قادیان میں فوت ہوئے۔اور انھیں بہشتی مقبرےمیں دفن کیا گیا تھا۔(پیغام صلح،ص۱۶،شمارہ نمبر۳،یکم فروری۱۹۹۰ء
  2. ()روزنامہ الفضل،ص۳،ج۳۱/شمارہ نمبر۳۸،۱۴ فروری۱۹۴۳ء
  3. () نیازی،غلام حسن،حسن بیان،تمہید (برانچ کیپٹل کو اپریٹو،پریس)
  4. () حیات حسن،ص۵۴
  5. ()آل عمران:۵۵
  6. () حسن بیان ،ص۶۴
  7. () نساء:۱۵۹
  8. ()حسن بیان،ص۱۱۰
  9. () نمل:۱۷
  10. ()حسن بیان،ص۳۸۸
  11. () النمل:۱۸
  12. () حسن بیان،ص۳۸۸
  13. ()النمل:۸۲
  14. () حسن بیان،ص۳۹۲
  15. () صٓ:۳۴
  16. ()حسن بیان،ص۴۶۴
  17. () زخرف:۶۱
  18. () حسن بیان،ص۵۰۱
  19. ()زخرف:۷۴
  20. () حسن بیان،ص۵۰۱
  21. () البلد:۴
  22. ()حسن بیان،ص۶۳۵
  23. () بقرہ:۱۶۱،۱۶۲
  24. ()نساء:۱۱۶
  25. ()بخاری،محمد بن اسماعیل،الجامع الصحیح(قدیمی کتب خانہ،کراچی)باب صفۃ الجنۃ والنار،۲/۲۷۹
  26. () بلد:۴
  27. ()حسن بیان،ص۶۳۱
  28. ()ایضاً،ص۱۵۳
  29. ()ایضاً،ص۱۶۲
  30. () ایضاً،ص۴۷۷
  31. () ایضاً،ص۶۳۰
  32. () تفسیر ابن عباس،۱/۴۸۷
  33. () طبری،ابوجعفرمحمد بن جریربن یزید ،جامع البیان فی تاویل القرآن المعروف تفسیر طبری(مطبعہ مصطفیٰ البابی الحلبی، مصر، ۱۹۵۴ء)۲۱/۳۵۴
  34. ()آلوسی،شہاب الدین،سید،روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی(ادارۃالطباعۃ المنبریہ،مصر)۲۴/۴۱
  35. ()حسن بیان،ص۳۹۲
  36. () کاندھلوی،ادریس،مولانا،معارف القرآن(مکتبہ المعارف دارالعلوم حسینیہ، سندھ ۱۴۲۲ھ)۶/ ۱۳
  37. ()حسن بیان،ص۲۹۷
  38. ()ایضاً
  39. ()مسلم ،امام،الجامع الصحیح(قدیمی کتب خانہ،کراچی،۱۹۸۱ء)باب ذکر الدجال،۲/۴۰۰
  40. ()ابوداؤد،سلیمان بن اشعث بن اسحاق،السجستانی،السنن(دارالسلام للنشر والتوزیع،ریاض،ط:۱،۱۴۲۰ھ)باب خروج الدجال،۲/۱۳۴
  41. ()حسن بیان،ص۳۰۴
  42. ()تفسیر کشاف،۱/۱۵۶
  43. ()طنطاوی،محمد سید،شیخ الازہر،التفسیر الوسیط للقرآن الکریم(دارالنثر)۱/۹۹
  44. ()حسن بیان،ص۳۵۳
  45. () ایضاً،ص۱۶۲
  46. ()ایضاً،ص۴۲۲
  47. ()ایضاً،ص۳۰۷
  48. ()ایضاً،ص۳۱۰