Playstore.png

اسلامی شریعت میں حقوق خمسہ کا تحقیقی جائزہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ برجس
عنوان اسلامی شریعت میں حقوق خمسہ کا تحقیقی جائزہ
انگریزی عنوان
Analytical Study of Maqāsid-Al-Sharia’h in Islamic Perspective
مصنف اللہ، فہیم، عبد القدوس
جلد 3
شمارہ 2
سال 2016
صفحات 75-106
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Maqasid-al-Shari’a, Qur’an, Sunnah, Islamic Teachings, Rights
شکاگو 16 اللہ، فہیم، عبد القدوس۔ "اسلامی شریعت میں حقوق خمسہ کا تحقیقی جائزہ۔" برجس 3, شمارہ۔ 2 (2016)۔

Abstract

The higher objective of Islamic law based upon entire blessing play an important role in construction and rein formation of the human society. the expert of Islamic law have classified the three descending categories of importance: the ╕arr┴riyyah (the essential) , the ╓┐jiyyah (the complementary) and the Ta╒s┘niyyah (the desirable or the embellishments) . this article briefly explain this terminologies. The basic principles of benefit and harms as per the Islamic law along with description of the underlying purposes, with the care purpose of safeguarding the society against all evils.


یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ دین اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کی راہنمائی کے لیےآخری پیغام الہٰی ہے،چونکہ انسانی سرشت میں خیر وشر دونوں کا مادہ

رکھا گیاہے اس لئے اگر خیر کی خوبی اس میں پروان چڑھے تو انسان بلندیوں پرپہنچ جاتا ہے اور اگر شر کی خصلت اس میں غالب ہو جائے، تو پورے معاشرے کو تباہ و برباد کردیتا ہے۔

  • ایم فل اسکالر،شعبہ علوم اسلامیہ وتحقیق ،یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ، بنوں
    • اسسٹنٹ پروفیسر ، شعبہ علوم اسلامیہ وتحقیق ،یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ، بنوں

معاشرے میں غلط کار عناصر پیدا ہوہی جاتے ہیں ۔کیا غلط کار عناصر کا سدباب نہ ہو؟ کیا معاشرے کی کوئی آئینی ودستوری نظام نہ ہو؟کیا معاشرہ بس یو نہی رسم و رواج کے بے ہنگم اُصولوں میں زندگی کا پہیہ گھومنے دے یا اِ س حوالہ سے انسان باضابطہ وحی الہٰی کی روشنی میں رہنمائی کا محتاج ہے ۔مختلف نصوص اور ثبوت کی روشنی میں یہ دعوٰی کیا جا سکتا ہے کہ انسان مکلف اور مخصوص الہٰی اُصولوں کی روشنی میں زندگی گزارنے کا پابند ہے،انسان چونکہ فطری طور پر عزت دین ،عزت نفس، عزت عقل، عزت نسل ، عزت مال کا خوگر ہے اِن تحفظات ہی کے لئے انسان زندگی کی مشکلات کو برداشت کرتا ہے۔ اِن تحفظات خمسہ کاجس معاشرہ میں رعایت رکھا جاتا ہے وہ معاشرہ اس قدر قابل قدر ہوتا ہے۔ایسے معاشرہ کے افرادباہمی طورپر مربوط ہوتے ہیں ایسی اقوام ترقی کے منازل طے کرتی ہیں اور زندگی کی حقیقت کو پا جاتے ہیں۔

اس کے برعکس جس معاشرہ میں وحدت کا فقدان ہوتا ہے اور کسی ضابطہ کا پابند نہیں وہ معاشرہ انتشار کا شکار ہوجاتا ہے۔معاشرہ میں وحدت کے فقدان کی بڑی وجہ تحفظات خمسہ سے اغماض اور عدم رُورعایت ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ انسانی معاشرہ کے لئے انفرادی واجتماعی سطح پر مضبوطی کے لئے جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ امن و سلامتی ہے اور امن و سلامتی کے لئے تحفظات خمسہ کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔

قرآن مجید میں "حدود"کے حوالہ سے ایک منضبط نظام موجود ہے۔ اِن حدود کا تعلق ،حدِ سرقہ، حدِ قذف، حدِ شرب خمر، حدِ ارتداد ،حدِ قتل سے ہے چونکہ انسان فطری طورپر پانچ عظیم نعمتوں سے نواز ا گیا ہے۔ وہ قطعاًنہیں چاہتا کہ ان میں سے ایک نعمت بھی اس سے چھینی جائے ۔ لہٰذا انسان کے مذکورہ تمام حقوق کے تحفظ حق قرآن کریم نے بتمامہ قبول کرلیااور اگراِن میں سے کسی بھی حق کے محرومی کے اسباب ہوگئے تو اسلام کا قانون حرکت میں آجاتا ہے ،چونکہ تحفظات خمسہ دراصل انسان کے اِن حقوق کی رعایت کا باضابطہ قانون ہے ۔لہٰذا اسلام اِ س کی عظمت و تحفظ کا مناسب منصوبہ بندی بھی کرتا ہے ۔ قرآن کریم کا مجوزہ نظام حدود کا مقصد بھی پانچ تحفظات یعنی تحفظ دین، تحفظ نفس، تحفظ عقل،تحفظ نسل اورتحفظ مال کو یقینی بنانا ہے اور یہی مقا صدِ شریعت بھی کہلاتے ہیں۔

تکمیل دین پر مبنی آخری خطبہ حُجتہ الوداع کے موقع پر بھی انحضرت ﷺنے دوسری تعلیمات اور معاشرتی اُصولوں کی نشاندہی کے ساتھ خصوصاًان اموالکم ودما ء کم و اعراضکم حرام علیکم کحرمۃ یو مکم فی شھر کم و فی بلدکم ہذا کے پیرائے میں احتر امِ نفس و جان ، حرمت عزت اور حرمت مال ہی کی اہمیت پر زور دیا اور بتایا کہ یہی وہ اُمور ہیں جو زندگی میں مطلوب و مقصود ہیں اور ان کے بقاء و تحفظ میں انسانیت کی بقاء کا را ز مضمر ہے۔

حجۃ الوداع کے موقع پر آنحضرت ﷺکا پوری انسانیت کواس پیغام سے یہ امرآشکارا ہے کہ اس میں تحفظات خمسہ کے ضمن میں بیان کردہ لوازمات زندگی کس قدر اہم ہیں ؟اورگہری نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی قانون میں بین الاقوامی سطح پر نہ صرف مسلمانوں کے حقوق و فرائض کی نشاندہی کی گئی ہے بلکہ غیر مسلموں کے حقوق تک کے تحفظ کا احاطہ کر دیا گیا ہے۔ گویا "حقوق انسانی"پر مبنی چارٹر دستاویزکی اساس پیغمبر انسانیت حضرت محمد مصطفی ؐ ہی نے رکھی تھی۔ یوں عالمی امن کے عظیم پیامبر کا سہرا انحضرت ؐ کے سر ہے اور عالمی حقوق انسانی کا پہلا موجد چودہ سو سال قبل پیغمبر ؑ ہی تھے۔عصر حاضر میں پوری دُنیامیں انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے انسانی نفوس کی ضیاع ایک ناقابل برداشت حد تک پہنچ گئی ہے تحزیب کاری دہشت گردی کے نتیجہ میں معصوم جانیں ضائع ہو رہی ہیں، سماج کے اقدار اور عزتیں محفوظ نہیں ملکیت و مالیت کا تحفظ ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے اور لوگ آئے دِن مذہب کے نام پر خیالات و نظریات کے مدوجز ر میں مبتلاہیں

با لآخر نظریات میں استحکام بھی تو کوئی چیز ہے؟

وضع احکام سے شریعت کے مقاصد شریعت احکام اور قوانین کو اس لیے وضع کرتی ہے کہ مخلوقات میں اس کے مقاصد روبعمل آجائیں ۔ہر فرد بشر کو اپنی زندگی میں چین،سکون،اطمینان اورامن نصیب ہو،اور یہ مقاصد تین طرح کے ہیں ضروریات،حاجیات اور تحسینیات ۔

  1. ضروریہ: یہ وہ مصالح ہیں جن سے کوئی چارہ کا رہی نہیں ہے،اگر یہ نہ ہو تو نظام دنیا درست طریقے پر نہ چل سکے گا بلکہ نظام دنیا درہم برہم ہو جائے گا(۱) ۔ اور یہ پانچ ہیں تحفظ دین،تحفظ جان، تحفظ عقل ،تحفظ نسل اور تحفظ مال ۔(۲) حاجیہ: یہ ایسے منافع ہیں جن کے ذریعے پریشانیوں کا ازالہ مقصود ہو تا ہے تا کہ یہ پریشانی عام نظام کے لئے خطرہ نہ بن جائے۔اس کے تحت ’’ شرعی رخصتوں‘‘ کی ایک بڑی تعداد آجاتی ہے،جیسا کہ حالت سفر میں قصر،حالت سفر اور حالت مرض میں روزہ چھوڑنے کی اجازت جو کہ شریعت کا بہت بڑا احسان ہے۔ ان امور کا خاص مقصد مشقت کا ازالہ ہی ہے لیکن پھر بھی یہ شرعی رخصتیں ’’ مقصد ضروریہ‘‘ کہ مقام کو نہیں پہنچ سکتی۔(۲)

(۳) تحسینیہ: مصالح کی تیسری قسم جسے ’’ تحسینیات ‘‘ کہا جا تا ہے ان سے مرادوہ پسندیدہ اور مرغوب امو ر ہیں جو انسانی عزت و شرافت کے لئے ضروری وہتی ہیں اور جس سے اخلاق حسنہ کی تکمیل ہوتی ہیں مثلاً اگر ایک طرف شریعت نماز پڑھتے وقت بدن اور لباس کی صفائی اور پاکی کی ترغیب دیتی ہے اور نماز جمعہ کے لئے عطر لگانے کو کہتی ہے تو دوسری طرف شریعت جماعت سے نماز پڑھنے والے کو بدبودار لہسن کھانے سے روکتی ہے۔اس تیسری قسم مصالح کی بہت اہمیت ہے اس کا دائرہ بہت وسیع ہے اور یہ دوسری مصالح سے بہت وابستہ ہے مثلاً ایک انسان اپنی فرض نماز مختلف طریقوں سے پڑھتا ہے کبھی اس کا ذہن نماز میں حاضرہو تا ہے اور کبھی نہیں اور کبھی نماز کو اطمینان اور خشوع و حضوع سے پڑھتا ہے اور کبھی جلد بازی میں ان دونوں کے درمیان فرق واضع ہے یعنی ایک اپنی نماز میں فرائض کے علاوہ تمام پسندیدہ امور کی بھی رعایت کرتے ہو ئے اپنی نماز مکمل طور پر ادا کرتا ہے تو دوسرا شخص بس نماز سرف اپنا فرض ادا کر کے نمازچھوڑنے کی گناہ سے صرف بچ جا تا ہے۔ (۳) 

اصولیین کی رائے یہ ہے کہ اصلی مقاصد تو ضروریات ہیں اور جہاں تک حاجیات اور تحسینیات کا تعلق ہے تو وہ تبعی اور ضمنی کے تحت داخل ہیں۔(۴)

مقاصد ضروریہ پانچ امور پر مشتمل ہیں جن کو تحفظات خمسہ کہتے ہیں وہ پانچ امور یہ ہیں ۱۔تحفظ دین۲۔تحفظ جان۳۔تحفظ عقل۴۔تحفظ نسل۵۔تحفظ مال

ان پانچ امور کے بارے میں علماء کا خیال ہے کہ اگران پانچ امور میں سے کسی میں بھی خلل واقع ہو جائے تو زندگی کا نظام تہ و بالا ہو جا تا ہے۔مثلاً اگر مال مفقودہو جائے تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا ۔اگر اگے نسل چلنا بند ہو جائے تو دنیا اسی وقت تک باقی رہے گی جب تک موجودہ نسل زندہ ہے۔اگر عقل مختل ہو جائے تو دنیا کا سارہ نظام تتربتر ہو جائگااسی طرح اگر جان کا تحفظ باقی نہ رہے تو حیات انسانی کا سکون غارت ہو جائے گااور اگر دین کی تحفظ باقی نہ رہے تو جاہلیت غالب ہو جائے گا اور اس کے نتیجے میں انسانی زندگی بے چینی کا شکار ہو جائے گی کیونکہ انسانی زندگی کا قیام و بقاء اور سکون اور معاشرے کا امن و استحکام ان پانچ چیزوں پر موقو ف ہے۔(۵)

بعض علماء ان پانچ امور کو ’’کلیات خمسہ‘‘ بھی کہتے ہیں جوشریعت میں اصول کا درجہ رکھتے ہیں اور شریعت کے مقاصد عامہ یہی ہے کہ ان پانچ امور کی حفاظت کی جائے،جیسا کہ شاطبی نے لکھا ہے کہ:’’ شریعت جو کلی اصول لے کر آئی ہے ،وہ پانچ امور یعنی :دین،جان،عقل،نسل اور مال کی حفاظت ہے۔(۶)

شریعت نے ان امور کی حفاظت کے لیے ایجابی اور سلبی دونوں طرح کے احکامات اور قوانین وضع کئے ہیں کیونکہ صحت انسانی کو برقرار رکھنے کے لیے اچھی غذا کے ساتھ ساتھ ناکارہ غذا سے بھی پرہیز ضروری ہوتا ہے ۔اس لیے ایسی مصلحتیں جن کے ذریعے ’’کلیات خمسہ‘‘ کی حفاظت و بقا مطلوب ہو تو فقہاء کی اصطلاح میں اس کو مقاصد ضروریہ کہلاتی ہیں۔

۱۔تحفظ دین

شریعت نے حفاظت دین کے لیے ایجابی اور سلبی دو طریقے وضع کیے ہیں۔

۱۔ حفاظت دین کا ایجابی طریقہ

عبادات تحفظ دین کا وسیلہ:

عبادات حفاظت دین کا وسیلہ ہے یہ عبادات دین کی عمارت کے لئے ستون بھی ہیں جن پر پوری عمارت قائم ہوتی ہے جیسا کہ حدیث نبوی ہے:بنی الاسلام علیٰ خمس:شھادۃ ان لا الٰہ ا لااللہ و ان محمدا عبدہ و ر سولہ و اقامۃ الصلوۃ وایتائالزکوۃ و حج البیت و صوم رمضان (اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: ۱ اس امر کی گواہی دیناکہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔۲ نماز قائم کرنا۔۳ زکوٰۃ ادا کرنا۔۴ بیت اللہ کا حج کرنا۔۵ رمضان کے روزے رکھنا )۔یہ پانچوں اسلام کے ستون ہے اور اسلام ہی اللہ کے ہاں دین ہے اور یہ تو حقیقت ہے کہ ستون کے بغیر عمارت کھڑی ہو نہیں سکتی۔اگر ان میں سے کوئی چیز کم ہو جائے تو عمارت میں کمی واقع ہو جائے گی لیکن اگر یہ پانچ ستون گر جائیں تو بلاشبہ عمارت زمین بوس ہو جائیں گی۔

انتہائی عاجزی سے اطاعت اور فرمانبرداری کا نام عبادت ہے۔ ایمان بااللہ کے بعددوسرا مرحلہ عبادات کا آتاہے۔دین کی حفاظت کے لئے عبادات ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔عبادات انسان کے ظاہر وباطن دونوں پر مشتمل ہے،اس میں اللہ کے وجود کی تصدیق واعتراف بھی ہے اور یہ باطنی خضوع ہے اور عبادت میں ظاہری خضوع بھی ہے جو اس اعتراف کی علامت ہے جس کا نتیجہ باطنی خضوع ہے(۷)

اللہ کی طرف سے آنے والے دین میں عبادت توحید کے تابع اور ایمان باللہ کی تکمیل کا ذریعہ ہے تمام انبیاء و رسل کے ہاں عبادت بھی توحید کی طرح مشترک ہیں کیونکہ توحید اور عبادت ایک دوسرے کی ضد کبھی نہیں ہو سکتے۔ توحید اور عبادات میں تمام انبیاء کرام کے اشتراک کی تائیداس آیت کریمہ سے ہو تی ہے۔ارشاد ربانی ہے:

شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِیْ ٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖٓ اِبْرٰھِیْمَ وَ مُوْسٰی وَعِیْسٰیٓ اَنْ اَقِیْمُواالدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ ط کَبُرَ عَلَی الْمُشْرِکِیْنَ مَا تَدْعُوْھُمْ اِلَیْہِ ط اَللّٰہُ یَجْتَبِیْٓ اِلَیْہِ مَنْ یَّشَآءُ وَیَھْدِیْٓ اِلَیْہِ مَنْیُّنِیْبُ (۸)

ترجمہ: اللہ نے تمہارے لئے دین کا وہ طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم نوحؑ کو دیا تھااور جسے اے (محمدﷺ) اب تمہاری طرف ہم نے وحی کے ذریعے بھیجا ہے اور جس کی ہدایت ہم ابراہیم،موسٰی اور عیسٰی کو دے چکے ہیں اس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اس دین کو اور اس میں متفرق نہ ہو جاؤ۔

دین کے قائم کرنے کی تاکید اور فرقوں میں باٹنے سے بچنے کا حکم اس امر پر دلالت کرتی ہے کے جس دین کے قیام کی ہدایت کی گئی ہے وہ ایک ہی ہے۔اگر یہ ایک نہ ہوتا تو متفرق ہو نے سے روکنا درست نہ ہو تا۔اس آیت کریمہ کے مفہوم میں امام قرطبی لکھتے ہیں:

اے محمدؐ!ہم نے نوح اورآپ کو ایک ہی دین کا حکم دیا،جن میں شریعتوں کا اختلاف نہیں ہے اور وہ ہیں توحید،نماز،زکوٰۃ،روزہ،حج اور اعمال صالحہ کے ذریعے اللہ کا تقرب ،صداقت،امانت داری،وعدے کی تکمیل اور صلہ رحمی وغیرہ،قتل،جھوٹ،زنا،اور دوسرے لوگوں کو تکلیف پہنچانے کی حرمت۔۔۔۔یہ سب مقرر امور ایک ہی دین اور ایک ہی ملت کے ہیں۔کثرت انبیاء کے با وجود ان امور میں یکسانیت ہیں۔(۹)

عبادت کے ا صل جس میں نماز،روزہ،زکوۃ اور حج شامل ہیں کے ذریعے ایک انسان چھلانگیں مارتا ہواان حد بندیوں سے آگے گزرتا ہوا آخر میں اس عظیم رابطے تک پہنچ جا تا ہے جو ان تمام روابط کو احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ہے عظیم رابطہ اللہ کے ساتھ تعلق جو خالق کائنات اور مالک ہے اور یہی رابطہ اللہ کے ہاں اشرف ترین مقام ہے اور جو شخص بھی اس درجے کو پہنچ گیا وہی بہترین نام یعنی ’’عبداللہ‘‘ کا مستحق قرار پا تا ہے۔(۱۰)

عبادات کے چار اصل: (۱) نماز (۲) روزہ (۳) زکواۃ(۴) حج

(الف) اصل اول :نماز

نماز شعائر اسلام میں سب سے بڑا شعار ہے جسے با جماعت ادا کرنے کا حکم ہے۔نماز اسلام کے ارکان میں سب سے پہلا رکن ہے۔نماز کو دین کا ستون قرار دیا گیا ہے اور جس نے نماز کو قائم کیا حقیقت مین اس نے دین کو قائم کیا ۔نماز ایک ایسی عبادت ہے جس سے انبیاء کرام کی شریعتوں میں سے کوئی شریعت خالی نہیں رہی۔نماز دل میں ایمان کو مضبوط کرتی ہے اور بے حیائی سے بچاتی ہے۔قرآن حکیم میں آیا ہے: اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ (بیشک نماز فحش او ر برے کاموں سے روکتی ہے)۔(۱۱(

(ب) اصل دوم :زکوٰۃ

زکوٰۃ اصل اول یعنی نماز کے بعد اہمیت کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر ہے۔زکوٰۃ مالی عبادت ہے۔قرآن کریم میں جہاں نماز کا ذکر آیا ہے وہاں زکوٰۃ کا بھی ذکر ہے۔عبادات اس لئے مقرر کی گئی ہے تا کہ دنیاوی نعمتون کا شکر ادا کیا جا سکے۔دنیاوی نعمتیں دو قسم کی ہے ایک بدن کی نعمت اور دوسرا مال کی نعمت۔جس طرح بدن کے نعمت کا شکریہ نماز سے ادا کیا جا تا ہے اسی طرح مال جیسی نعمت کا شکریہ زکوٰ ۃ سے ادا ہو تی ہے۔زکوٰۃ نماز سے ایک درجہ کم عبادت اس لئے ہے کہ زکوٰۃ میں مال کو خرچ کرنا اس محتاج فرد کے حوالے سے ثواب ہے جس محتاج پر مال خرچ کیا گیا ہے۔غریب اور محتاج کو مال دیتے ہوئے خالصتاً اللہ کی رضا مقصود ہو تی ہے(۱۲)

(ج) اصل سوم: روزہ

روزہ بھی نماز کی طرح بدنی عبادت ہے اور یہ بھی بدن کی نعمت کے شکریہ ادا کرنے کے لئے مقرر کی گئی ہے لیکن روزہ نماز سے کم اس اعتبار سے ہے کہ اس میں نماز کی نسبت بدن کے زیادہ اعضاء مختلف اعمال شریک نہیں ہو تے بلکہ روزہ ایک ہی رکن سے ادا ہو جا تا ہے اور وہ ہے اپنے اپ کو دو قسم کی شہوتوں یعنی پیٹ کی اشتہاء اور جنسی شہوت سے باز رہنا ۔چونکہ انسانی نفس دنیاوی لذتوں اور نفسانی شہوات کا تقاضا کرتا رہتا ہے اور یہ نفس ہی ہے جو انسان کو برائی پر امادہ کرتا ہے تو اللہ کی رضا جوئی کے لئے نفس کو خواہشت پوری کرنے سے باز رکھنااور نفس پر قابوپا نا بلا شبہ کار ثواب ہے(۱۳)اللہ تعالیٰ فرماتے ہے:

یاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (۱۴)

ترجمہ :اے ایمان والوں! تم پر روزے فرض کر دئے گئے ،جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تا کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو۔

روزہ تقویٰ کا سبب ہے۔تقویٰ اللہ کے احکام ماننے اور جن امور سے اللہ نے روکا ہے اسے باز رہنے اور اس کی اطاعت کرنے پر آمادہ کرتا ہے جس کے نتیجے میں انسان کے لئے نماز اور زکوٰۃ وغیرہ اور دوسرے فرائض اور مستحبات کی ادائیگی آسان ہو جاتی ہے۔

(د) اصل رابع :حج

حج بیت اللہ کی زیارت ہے اور حج اپنا گھر بار کو چھوڑ کر ادا کیا جا تا ،حج مخصوص مقامات پرمخصوص اوقات میں مخصوص اعمال کی ادائیگی کا نام ہے اورثواب کاپہلو ان مخصوص مقامات اور اوقات کی تعظیم کے اعتبار سے ہے۔(۱۵)حج اسلام کے ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے اور شعائر اسلام میں سے ایک شعار ہے۔مسلم اقوام و قبائل کے باہمی تعارف ،ایک دوسرے کے حالات سے آگاہی،منافع کے تبادلے اور دین و دنیا کے معاملات خوش اسلوبی سے چلانے کے لئے ایک دوسرے کی آراء سے فائدہ حاصل کرنے کے اعتبار سے اس کی بہت اہمیت ہے۔حج صاحب حیثیت پر زندگی میں ایک با ر فرض ہے۔

تحفظ دین کا سلبی طریقہ

اللہ کی راہ میں جہاد کا حکم(۲) مرتد افراد کی قتل(۳) دین میں بدعت کا مقابلہ

(۱) پہلا طریقہ جہاد

شریعت میں جہاد کا مفہوم ہے،اللہ کے کلمہ کی سربلندی کے لیے کفار کے مقابلے میں کوشش کرنا۔جہاد کا اطلاق کئی معانوں پر ہو تا ہے۔مثلاً نفس کے خلاف جہاد کا مطلب ہے،دینی معاملات کی تعلیم حاصل کرنا اور ا س کے مطابق عمل کرنا۔شیطان کے مقابلے میں جہاد کا مطلب ہے کہ شیطانی وساوس کو مسترد کر دینااور جن کاموں سے شیطان خوش ہو تا ہے ان کاموں سے بچنا۔فساق کے خلاف جہاد دل سے برا سمجھ کر کے ہاتھ اور زبان سے رکنا۔کفار کے خلاف جہاد جان اور مال دونوں سے کیا جا تا ہے،کفار کے خلاف جہاد ہجرت کے بعد دیا گیا۔(۱۶)

اللہ نے جب حضرت محمد ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا تو پہلے آپؑ کو یہ حکم دیا گیا کہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائیں اور جو کوئی آپ کو جھٹلائے یا اعراض کرے،اس سے تعرض نہ کریں۔اس بارے میں اللہ فرماتے ہیں۔

اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ (۱۷)

ترجمہ : اے نبیؐ! اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت و حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ ،اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہترین ہو۔

اس کے بعد اللہ نے فرمایا: وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰھِلِیْنَ (۱۸) ترجمہ : اور جاہلوں سے نہ الجھو۔

جب آپؐنے لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچا یا تو کچھ لوگ،کفر،نافرمانی،تکذیب اور سرکشی میں انتہا کو پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولؐ اور اہل ایمان پر جہاد فرض کرکے اپنے دین کی تائید اور اپنے رسول کی مدد کی۔ارشاد فرمایا:

کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَھُوَ کُرْہ’‘ لَّکُمْ ج وَ عَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْءًا وَّ ھُوَ خَیْر’‘ لَّکُمْ ج وَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْءًا وَّ ھُوَ شَرّ’‘ لَّکُمْ ۔(۱۹)

ترجمہ : تمہیں جنگ کا حکم دیا گیا ہے اور وہ تمہیں ناگوار ہے،ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناگوار ہو اور وہی تمہارے لئے بہتر ہواور ہو سکتا ہے کہ ایک چیزتمہیں پسند ہو اور وہ تمہارے لئے بری ہو۔

اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ وَ خُذُوْھُمْ وَ احْصُرُوْھُمْ وَ اقْعُدُوْا لَھُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ ج فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُم ۔(۲۰)

ترجمہ : پس جب حرام مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں پاؤ انہیں پکڑو اور گھیرو اور ہر گھات میں ان کی خبرلینے کے لیے بیٹھو،پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو انہیں چھوڑ دو ۔

ان احکام کے مطابق رسول ﷺ نے مدینہ منورہ کے مضافات کے مشرکین میں سے جن لوگوں نے آپؐ کا پیغام مسترد کردیا تھا اور آپؐ کی نبوت کا انکار کیا تھا،ان سے آپؐ نے جہاد کیا۔آپؐ نے اللہ کے حکم کے مطابق کچھ اقوام سے ایک مدت تک معاہدہ صلح کر لیا تاکہ ان پر حجت تمام ہو جائے اور پھر اللہ نے حکم دیاکہ ایسے معاہدے ختم کر دئے جائیں، اس بارے میں ارشاد خداوندی ہوا:

بَرَآءَ ۃ’‘ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖٓ اِلَی الَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ (۲۱)

ترجمہ : اعلان برا ء ت ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکین کو جن سے تم نے معاہدے کر رکھے ہیں۔ جہاد اصل میں فرض کفایۃ ہے۔یعنی اگر بعض لوگ اس میں شریک ہو جائے تو باقی افراد کی ذمداری ختم ہو جاتی ہے۔جہاد بعض حالات میں فرض عیں بھی ہوجا تا ہے مثلاً اگر دوشمن مسلمانوں کے شہروں پر چڑھائی کر دیں تو اس حالت میں جہاد فرض عیں ہے بصورت دیگر فرض کفایۃ۔ (۲۲)

۲۔دوسرا طریقہ: مرتد کی قتل

ردت اور ارتداد دونوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتا ہے یعنی لوٹ کر آنا۔لیکن ردت کا لفظ کفر کی طرف لوٹ جانے کے مفہوم کیساتھ مختص ہے جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ (۲۳)

ترجمہ : جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھرتا ہے تو پھر جائے۔

وَمَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَیَمُتْ وَھُوَکَافِر’‘(۲۴)

ترجمہ : جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھرے گااور کفر کی حالت میں مر جائے گا)۔

ان دونوں آیات میں ردت کا معنی اسلام سے پھر کر کفر کی لوٹ جانے میں استعمال ہوا ہے۔ ارتداد اسی معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور مطلقاً لوٹ جانے کے معنی میں بھی یعنی اپنے نقش قدم پر واپس ہونا۔جیسا کہ قرآن میں آتا ہے:

فَارْتَدَّا عَلآی اٰثَارِھِمَا قَصَصًا(۲۵)ترجمہ : (موسیٰ اور ان کا خادم دونوں اپنے نقش قدم پر واپس ہو ئے۔ وَلَا تَرْتَدُّوْا عَلآی اَدْبَارِکُمْ(۲۶) ترجمہ : اورپیچھے نہ ہٹو۔

پس ردت کا مفہوم ہے مسلمان کا کافر ہو جانا،اور یہ دو طرح کے قول پر ہوتا ہے ایک یہ کہ کوئی شخص کہے کہ وہ کافر یامشرک ہوگیا۔دوسرا یہ کہ صریح الفاظ سے تو نہ کہے بلکہ ایسے الفاظ ادا کرے جس سے عام طور پر کوئی کافر ہو جا تا ہے جیسا کہ کوئی شخص نماز یا زکوٰۃ کا وجوب کا انکار کردے وغیرہ۔

مرتد شخص کو ارتداد کے دن سے لے کرتین دن تک توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا لیکن اس دوران اس مرتد کو کوئی دوسری سزا یعنی بھوک،پیاس وغیرہ نہیں دی جائے گی۔اگر اس دوران توبہ کر لیا تو اس شخص کو جانے دیا جائے گا بصورت دیگر ان کو قتل کیا جائے گا۔اس سلسلے میں بعض علماء کہتے ہے کہ مرد اور عورت کا حکم ایک ہے لیکن امام ابو حنیفہؒ کہتے ہے کہ عورت کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ عورت کو نظر بند کیا جائے گا تا کہ وہ تنگ ہو کر اسلام واپس لوٹ آئے۔(۲۷)

۳۔تیسرا طریقہ:دین میں بدعتیوں کا مقابلہ

بدعت کا معنی ہے کوئی نئی ایسی نئی چیز ایجاد کرنا جس کا پہلے کوئی مثال نہ ہو۔اب اس لفظ کااستعمال عام ہوا ہے یعنی یہ ’’ دین میں کمی یا زیادتی‘‘ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔

بدعت کے بارے میں دو طرح کی رائے ہیں ایک طبقہ بدعت کو عبادات کے ساتھ مختص کر دیتے ہے اور دوسرا طبقہ اعمال عادیہ میں بھی نئی ایجاد کو بدعت سمجھتے ہیں۔ 

جو لوگ بدعت کو عبادت کے ساتھ مختص کرتے ہیں وہ بدعت کی تعریف یوں کرتے ہیں: شریعت میں بدعت سے مراد دین میں کوئی ایسا نیا طریقہ ایجاد کر لینا جو کسی شرعی کام کے مشابہ ہو اور اس سے مقصود اللہ کی عبادت میں مبالغے کا اظہار ہو۔(۲۸)

وہ لوگ جو اعمال عادیہ میں بھی نئے نئے طریقوں کوبدعت سمجھتے ہیں وہ بدعت کی تعریف یوں کرتے ہیں: بدعت دین میں کوئی ایسا نیا طریقہ ایجاد کرنا ہے جو کسی شرعی کام کے مشابہ ہو اور اس پر عمل کرنے کو ایسا سمجھا جائے جیسے کسی شرعی کام پر عمل کیا جا رہا ہے۔(۲۹)

۲۔ تحفظ جان

اللہ تعالیٰ نے انسان کو کو پیدا کیا اسے اپنے دیگر مخلوقات پر عقل، علم اورنطق کے ذریعے برتری عطا کی۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے علم حاصل کرنے کے قابل بنایا،اطاعت اور فرمانبرداری کی بدولت اخلاق فاضلہ سے مزین کیا۔انسان جب ماں کے رحم میں ایک قطرہ آب تھا،اس وقت سے اپنی مسلسل توجہ اور عنایت کے ذریعے اسے ارتقا کے مراحل طے کرواکر انسان کو ایک مختلف مخلوق کی شکل دے دی۔انسان وجودميں آنے سے پہلے جب ماں کے رحم میں تھا اسی وقت سے اللہ نے اس کی تحفظ کی ذمہ داری کا تعین کر دیا ہے۔اللہ نے انسان کے وجود کی حفاظت کے لئے ایسے قوانین بنایے ہیں جو انسان کوہر قسم کی خطرات سے محفوظ رکھتے ہے اور ہر مرحلے پر اس کی رعایت کرتے ہوئے اس کی زندگی کو یقینی بناتے ہیں۔دنیا میں انبیاء کرام کے بعثت کا ایک بہت بڑا مقصد انسانی جان کی حفاظت اور لوگوں کی درمیان ظلم اور زیادتی کا خاتمہ ہے کیو نکہ یہ ظلم ہی نہ صرف انسانی زندگی کو بلکہ معاشرتی نظام کو بھی تہس نہس کر دیتا ہے۔مظالم کی تین قسمیں ہیں۔(i) جان پر ظلم(ii) انسانی اعضاء پر ظلم(iii) مال پر زیادتی

اللہ نے اسی مظالم کو روکنے کے لئے سزائیں مقرر کی ہے اور یہ سزائیں اس وجہ سے ہے کہ کوئی انسان بار بار اس کا مرتکب نہ ہو۔اسی بارے میں اللہ تعالیٰ نے مختلف سزائیں مقرر کی ہے اور یہ تو مناسب بھی نہیں ہے کہ ہر جرم کی سزا یکساں ہو۔کیونکہ انسان کو جان سے مارنا اور انسان کی اعضاء کو کاٹناکسی صورات برابر نہیں ہو سکتا،بالکل اسی طرح انسانی اعضاء کو کاٹنا اور انسان کو مالی نقصان دینا برابر نہیں ہو سکتے۔تمام مظالم میں قتل انسان بہت بڑا ظلم ہے۔تمام مذاہب میں قتل انسان گناہ کبیرہ سمجھا جا تا ہے۔جان بوجھ کر قتل لوگوں میں فساد پھیلانے کا بڑا ذریعہ ہے۔(۳۰)

تحفظ جان کے طریقے

تحفظ جان درجہ ذیل طریقوں پر مشتمل ہیں۔

۱۔قتل ناحق کی حرمت

اللہ نے انسانی جان پر ناحق زیادتی کو حرام قرار دیا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ زمین پر اس کی وجہ سے پیدا ہو نے والی بگاڑ ہے۔قتل انسانی کو کفر کے بعد سب سے بڑا گناہ اور برائیوں میں بد ترین برائی بتایا ہے۔قتل انسان کے فعل پر وعید:

وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَھَنَّمُ خٰلِدًا فِیْھَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیْمًا (۳۱)

ترجمہ : وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کت قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا،اس شخص پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لئے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔

ایک اور جگہ اللہ فرماتا ہے:اور کسی جان کو جسے اللہ نے حرام ٹہرایا ہے ،قتل نہ کرو مگر حق کے ساتھ۔(۳۲)

اسی طرح رسول ﷺ فرماتے ہے:لا یحل دم امری مسلم یشھد ان لا الہ اللہ و انی رسول اللہ الا باحدی ثلاث:الشیب الزانی والنفس بالنفس والتارک لدینہ المفارق للجماعۃ ( کسی مسلمان کا خون جو یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں حلال نہیں مگر تین میں سے ایک وجہ:شادی شدہ زانی ہو یا جان کے بدلے جان یا جو شخص اپنا دین چھوڑ دے اور جماعت سے الگ ہو جائے)۔(۳۳)ان افراد کو تین میں منحصر کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ ان تین جرائم کے علاوہ اور کسی جرم میں کسی شخص کو قتل کرنا جائز نہیں،البتہ اس مفہوم کے عموم کی دوسرے دلائل سے تخصیص ہو گئی ہے جن معلوم ہو تا ہے کہ ان کے علاوہ بھی کچھ جرائم ایسے بھی ہے جو موجب قتل ہیں،مثلاً منکر زکوٰۃ،ترک نماز ،ڈاکو وغیرہ۔بعض اوقات یہ تینوں جرائم ( منکر زکوٰۃ،ترک نمازڈاکہ زانی) مذکورہ بالا تین جرائم کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں،کیونکہ منکر زکوٰۃ، ترک نماز ترک دین کے زمرے میں آتے ہے،اور ڈاکو اور رہزن جماعت کو چھوڑنے والے باغی کے زمرے میں شامل سمجھا جا تا ہے(۳۴)

دوسرا طریقہ: دنیاوی سزائیں

علماء اصول کے نزدیک کسی بھی فعل کی حرمت کا مفہوم مندرجہ زیل الفاظ سے معلوم ہو تا ہے مثلاً نہی کے الفاظ سے،کسی کام پر وعید سے،شیطانی عمل قرار دینے کے الفاظ سے،فاعل کی مذمت سے،کام کو فساد قرار دینے کی الفاظ سے وغیرہ وغیرہ۔(۳۵)

دنیا میں مختلف مزاج کے مالک لوگ ہوتے ہیں ان میں سے ایک طبقہ ایسا بھی ہے جسے برے کاموں سے روکنے کے لئے وعید اور آخرت کے عذاب کا ڈر کافی نہیں ہوتا،بلکہ ضروری ہے کہ انہیں ایسی فوری سزا دی جائے جو انتہائی درد ناک ہو۔چاہے مجرم خود اس کی مزا چکھے یا دوسروں کو دیکھ کر عبرت لے لے۔زندگی بھر جب بھی نفس ان کو اللہ کی حدود تھوڑنے پرآمادہ کرے گا،یاوہ دوسرے لوگوں کی زندگی لینے کی کوشش کرے گا تو انہیں فوراً وہ سزا یاد آئے گی۔

شریعت اسلامی نے قتل انسان کو قطعی حرام قرار دے کر ان کی حرمت کے قانون کو اس قدر عام کر دیا کہ ہر عالم اور جاہل کو اس کی حرمت کا علم ہے۔اس کے بعد حفاظت جان کے خلاف ہر جرم پر اس کے محرکات اور نتائج کو ملحوظ رکھتے ہوئے مناسب سزا مقرر کی ہے۔مذاہب عالم اس بات پر متفق ہے کے انسانی جان محفوظ ہے اور اس کی قتل جائز نہیں۔جیسا کہ ارشاد ربانی ہے: ( فتنہ قتل سے زیادہ براہے)۔(۳۶)

۳۔تحفظ عقل

اللہ نے انسان کو عقل جیسی نعمت سے نوازا ہے اور اسے عقل کے سبب ہی روئے زمین پر خلیفۃاللہ قرار پا یا ہے۔اسی عقل کی بدولت انسان کے لئے اللہ نے خشکی اور سمندر مسخر کر دیے اور اسی کی وجہ انسان ہوا میں بھی اُڑنے لگا۔اللہ نے عقل کے وجود کی وجہ سے اسے اطاعت خداوندی کا حکم دیا۔عقل کا وجود انسان کے لئے سب سے بڑی مصلحت اور ایک منفرد خصوصیت ہے جس میں اس کا کوئی ہمسر نہیں۔دنیا اور آخرت کی کامیابی کا دارومدار شریعت پر ہے اور شریعت کا قیام عقل پر ہے کیو نکہ عقل ہی ذمداری کی اساس ہے۔

علم و معرفت کے تین بڑے وسائل کو تین دائروں میں تقسیم کیا گیا۔پہلا دائرہ حواس کا ہے اور یہ سب سے تنگ دائرہ ہے کیو نکہ اس کا تعلق ظاہراً مشاہدے میں آنے والے اشیاء سے ہے۔اس کے بعد عقل کا دائرہ ہے جو کہ حواس کے دائرے سے تھوڑا بڑا دائرہ وسیع اور جامع ہے عقل مشاہدے میں نہ آنے والے اشیاء کا بھی احاطہ کر لیتا ہے۔اس کے وحی کا دائرہ ہے جو دیگر تمام دائروں سے وسیع اور جامع ہے۔

یہ تینوں دائرے نہ تو ایک دوسرے سے الگ ہیں اور نہ ایک دوسرے سے متغیر بلکہ ہر چھوٹا دائرہ اپنے سے بڑے دائرے کے لئے بنیاد بن جا تا ہے اور ہر بڑا دائرہ اپنے سے چھوٹے دائرے کے لئے استحکام کا باعث ہے۔عقل امتیازی حصوصیت کی وجہ سے تحفظ کا مستحق ہے کیونکہ عقل ہی وہ امتیازی حصوصیت ہے جس کی بنا پر اللہ نے انسان کو تمام حیوانات سے ممتاز کیا ہے اور تمام مخلوقات پر انسان کو فضیلت عطا کی ہے۔تحفظ عقل کا ایجابی طریقہ:۔حفاظت عقل دو طریقوں یعنی :تعلیم اور نشہ اور اشیاء سے اجتناب کے ذریعے سے ہی ممکن ہیں۔

حفاظت عقل بذریعہ تعلیم

حفاظت عقل کا بہترین ذریعہ تعلیم ہی ہے اسی کی وجہ سے اللہ نے ہر مرد اور عورت سے حصول علم کا مطالبہ بھی کیا ہے۔تعلیم کے واسطے ہی انسان حقائق کو جانچ کر اس کی گہرائی میں جا سکتا ہے۔تعلیم پہلے لوگوں کے تجربات ،ان کے واقعات کو نقل کر کے ان سے علوم اور عبرت حاصل کرنے کا نام ہے۔جس طرح جسم کی ارتقاء کے لئے غذا ضروری ہے اسی طرح عقل کی ارتقاء کے لئے علم بھی ضروری ہے۔اسلام نے علم کو روزی کمانے سے وابستہ نہیں کیا اور نہ ہی علم کو حکومت حاصل کرنے کے لئے ضروری کیا بلکہ علم کو صرف اور صرف جہالت کی تاریکیوں سے نکالنے کے ساتھ وابستہ کیا تا کہ انسانی عقل آزاد ہو اور وحی و ہدایت ربانی کی روشنی میں کائنات کا مطالعہ کرے۔علمائے اسلام نے علم کی دوقسمیں کی ہے۔ایک وہ جو ہر مکلف پر فرض اور ضروری ہے اس کو فرض عین کہتے ہے مثلاً نماز، روزہ،حج ،زکوٰۃ،ترک شرب خمر،بدکاری اور قتل انسان سے اجتناب وغیرہ اور دوسرا وہ کہ ہر مکلف پر تو واجب نہیں البتہ امت پر عمومی اعتبار سے واجب ہے اگر کچھ لوگ اسے حاصل کر لیتے ہے تو باقی لوگوں کے ذمے سے فرض ساقط ہو جا تا ہے اور اس قسم کو فرض کفایۃ کہتے ہیں مثلاً جہاد فی سبیل اللہ ،سلام کا جواب دینا،امر بالمعروف و نہی عن المنکر وغیرہ۔(۳۷)

عقل اصل میں آیئنے کی طرح ہے آیئنے کو غبار اور میل کچیل سے صاف کرنے کا جتنا زیادہ اہتمام کیا جائے گا اس قدر وہ اپنا کام بہتر طریقے سے کر سکے گا۔اسلام نے علم کوتحفظ عقل کے لئے اس لئے ضروری قرار دے دیا کہ علم کے بغیر انسانی عقل طرح طرح کیاوہام اور خرافات کا شکار ہو جا تا ہے ۔علم کے بغیر عقل نہ تو دینی حقائق کا صحیح ادراک کر سکتا ہے اور نہ دنیوی مصالح کا بلکہ ذہن بدعات،خرافات،اور دوسرے دینی امور میں بے راہ راوی کا شکار ہو کر کبھی شرک کے ارتکاب تک جا پہنچ جا تا ہے اسی لئے حفاظت عقل کی لئے حصول علم کو اللہ نے فرض قرار دے دیاہے۔ 

حفاظت عقل بذریعہ نشہ آور اشیاء سے اجتناب

اللہ تعالیٰ انسان کا خالق ،مالک اور رازق ہیں۔اللہ نے انسان کا رزق حیوانات اور نباتات سے مقرر کیا ہے۔حیوانات میں بعض ایسے ہے جس کا گوشت حرام ہیں اور بعض ایسے ہے کہ جس کا گوشت جائز ہیں۔نباتات میں نشہ پیدا کرنے والی وہ اشیاء جو عقل کو ذائل کر دیتے ہیں اور زندگی کے لئے مہلک اور صحت کے لئے نقصان دہ ہے حرام ہیں۔ نشہ آور اشیاء ناپاک ،اس کا تھوڑااستعمال بھی حرام اور اس کے استعمال پر حد جاری ہو تی ہے(۳۸)

تحفظ عقل کے پیش نظر شریعت نے ہر قسم کے نشہ آور اشیاء کے استعمال پر پابندی لگائی ہے خوا اس میں وقتی طور پر جسمانی فوائد کیوں نہ ہو۔قرآن کریم نے اس کو اُصولی لحاظ سے اس کو رد کردیا ہے ۔اس بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِقُلْ فِیْھِمَآ اِثْم’‘ کَبِیْر’‘وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَاِثْمُھُمَآ اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِھِمَا . (۳۹)

ترجمہ : اے پیغمبر آپ سے لوگ شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں ان سے کہہ دیجئے ان دونوں میں نقصان بہت ہے اور انسانوں کے کچھ فائدے بھی ہیں لیکن ان کا نقصان فائدے سے بہت زیادہ ہے‘‘شراب کو اگر ام ا لخبائث جائے تو بالکل صحیح ہے کیونکہ شراب نوشی متعدد مفاسد اور تباکاریوں کا سبب بنتی ہے۔قرآن کریم میں بتلایا گیا ہے کہ جوا اور شراب بغض و عداوت پیدا کرتے ہیں اور انسان کو اللہ کے ذکراور نماز سے روک دیتے ہیں۔

(شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے مابین دشمنی اور بغض ڈال دے اور تم کو اللہ کے ذکر اور نماز ادا کرنے سے باز رکھے۔سو کیا تم اب بھی اس سے باز رہو گے۔(۴۰)

حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے :’’ شراب مال کی تباہی اور عقل کی خرابی کا باعث ہے‘‘۔(۴۱)

انسان کو اللہ نے سب سے بڑی دولت عقل کی شکل میں عنایت فرمائی ہے اور جو انسان میں مکارم اخلاق کے حصول کا جذبہ پیدا کرتی ہے اور رذائل اخلاق سے اجتناب پر مجبور کرتی ہے،نشے کی حالت میں اس پر پردہ پڑ جاتا ہے اور انسان عزت کو ذلت کے تصورات سے بے پروا ہو کر شدید غلط کاریوں کا مرتکب ہوجاتا اور قتل،آبروریزی اور ظلم و زیادتی پر اتر آتا ہے۔

نشہ ہر شریعت مین حرام ہے،کیونکہ شریعتوں بندوں کے مفاد کے لئے ہیں،ان کے نقصانات کے لئے نہیں اور مفاد میں سب سے اہم بات تحفظ عقل اور سب سے بڑا نقصان عقل کو کھونا ہے۔پس وہ اشیاء جو عقل کو زائل کر دیتی ہے اسے ممنوع قرار دینا واجب ہے۔(۴۲)

شریعت نے محض عقل کے تحفظ کے لئے ہی نشہ کو حرام قرار نہیں کیا ہے بلکہ عقل کے ساتھ ساتھ اس کے اور بھی بہت سے نقصانات ہے مثلاً شراب نوشی کی وجہ سے انسان کی عزت و وقار کو نا قابل تلافی نقصان پہنچ جاتا ہے اور اس کے علاوہ شراب نوشی کی وجہ سے انسان مختلف قسم کی بیماریوں کا اماجگاہ بن جا تا ہے مثلاً کینسر،فالج، زاوال حافظہ،زاوال بصر وغیرہ۔(۴۳)

جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے برائیوں کے رک تھام کے لئے یک بارگی قانون سازی نہیں کی بلکہ لوگوں کو آہستہ آہستہ اخکام شریعت کے لئے تیار کیا تا کہ وہ اسلامی قوانین پر عمل در آمد میں دقت محسوس نہ کریں اور اسلامی نظام سے وابستہ ہو جائے۔شراب کے معاملے میں بھی اللہ تعالیٰ نے یہی طریق کار کا لحاظ رکھا۔جاہلی معاشرے میں شراب نوشی کی عادت چھڑانے میں اسلامی شریعت میں نفاذ قوانین کی بہترین مثال ہمیں ملتی ہیں۔پہلے شراب کو حرام قرار دیاگیا پھر حرمت کی علت بیان کی گئی ہے اس کے بعد ان کے احکام،علت اور اس کی حکمتیں خوب ذہن نشین کرائی گئی آخر میں اس کی سزا مقرر کردی گئی۔

تحفظ عقل کا سلبی طریقہ

۔سلبی احکام کے بارے میں اس قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں شریعت اسلامی نے اپنی سزائیں مقرر فرمائی ہیں جو کہ کم سے کم اسی کوڑے ہیں اور تمام فقہاء کرام کا اس پر اتفاق بھی ہیں کہ شراب نوشی کی سزا اسی کوڑے ہیں۔

حضرت آنسؓ سے روایت ہے کہ حضور ؐ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی ہوئی تھی ااپ ؐ نے دو چھڑیوں کے ساتھ اسے تقریباً چالیس ضربیں لگائیں(۴۴)

امام شافعی ؒ کہتے ہیں کہ ہمین ایک ثقہ راوی نے بتایا،جس نے معمر سے انہوں نے زہری سے اور انہوں نے عبدالرحمٰن بن ازہر سے روایت کی کہ حضور ؐ کے پاس ایک شرابی لایا گیا۔آپؐ نے فرمایا :’’ اسے مارو‘‘۔لوگوں نے اسے ہاتھوں سے ،جوتوں سے اور کپڑوں کے کناروں سے مارا،اس پر مٹی ڈالی،پھر آپؐ نے فرمایا:’’اسے عار دلاؤ‘‘۔لوگوں نے اسے عاردلائی،پھر آپؐ نے اسے چھوڑ دیا۔(۴۵)

سائب بن یزیدؓ سے روایت ہے کہ کہ حضورؐ اور حضرت ابوبکرؓ عہد میں اور حضرت عمرؓ کے ابتدائی عہد میں چالیس ضربیں لگائی جاتی تھیں لیکن جب لوگ شراب نوشی زیادہ کرنے لگے تو حضرت عمرؓ نے اسی کوڑے لگانے شروع کردیے۔(۴۶)

۴۔تحفظ نسل

انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ ہمیشہ رہے اور انسان کی یہی فطری خواہش انسان کو بچے پیدا کرنے پر آمادہ کر دیتے ہے۔انسان کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے ایسے احکام دئیے ہیں کہ جس سے انسان کی اعلیٰ صفت اور زندگی کا جوہر عفت و عزت محفوظ ہواور نتیجہً نسل انسانی کی حفاظت ہو۔

حفاظت نسل کے ایجابی پہلو

اسلام نے حفاظت نسل کے لیے نکاح کا طریقہ رائج کیا ہیں اور زنا سے اجتناب کا حکم دیا ہیں۔نکاح لغت میں وطی اورمحض عقد نکاح دونوں کے لئے استعمال ہو تا ہے(۴۷)

اصطلاح میں نکاح میاں بیوی کے درمیان ایک ایسا معاہدہ ہے جس کے ذریعے وطی جائز ہو جاتاہے۔(۴۸)اس کا مطلب یہ ہے کہ نکاح وہ رابطہ ہے جو میاں بیوی کے درمیا ن شرعی قواعد کے مطابق ایک ایسامعاہدے کی تکمیل ہو تی ہے جس کا مقصد میاں بیوی کے درمیان جنسی تعلقات کےلئےراہموارکرناہوتاہے۔امام ابو حنیفۃؒ نے نکاح کی تعریف یوں کی ہے کہ:

’’نکاح ایک ایسا معاہدہ ہے جو بضع(Vulva) کے منافع کی ملکیت کا باعث ہے۔نکاح کا سب سے بڑا مقصد بنی نوع انسان کی بقا جو مقدر ہے کو برقرار رکھنا ہے۔مقدر سے مراد یہ ہے کہ عمدہ طریقے سے انسان کی بقا کو برقرار رکھنا ورنہ بقا انسان تو غیر قانونی جنسی تعلقات کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے۔لیکن غیر جنسی تعلقات کے باعث لڑائی،جھگڑا،خون خرابہ وغیرہ ہو جاتی ہے،جب کہ نکاح کی وجہ سے ایسا نہیں ہو تا۔(۴۹)

نکاح کی صورتیں

عام طور پر نکاح کی تین صورتیں ہے،واجب،سنت اورفرض۔واجب اس صورت میں ہے کہ اگر کسی شخص کے نفسانی خواہشات اتنی زیادہ ہے کہ جس کی وجہ سے اس شخص کے حرام میں مبتلا ہو نے کا اندیشہ ہواور اگر حرام میں مبتلا ہو نے کا اندیشہ نہ ہو اور اعتدال کی حالت ہو تو اس صورت میں نکاح سنت ہے۔اگر کوئی شخص مہر،وطی اور نفقے پر قادر ہو تو اس صورت میں نکاح فرض عین ہے۔(۵۰)

اللہ تعالیٰ کا ارشا ہے:(جو عورتیں تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح کر لو)۔(۵۱)

آپؐ کا ارشاد مبارک ہے کہ:تناکحواتناسلو فانی مکاثر بکم الامم یوم القیامۃ (نکاح کرو،اولاد پیدا کرو تو پھر میں روز قیامت پر دوسری امتوں کے مقابلے میں تمہاری کثرت کا اظہار کرسکوں گا)۔(۵۲)

نکاح حفاظت نسل کا بہترین سبب

امام غزالی ؒ فرماتے ہیں کہ : نکاح کے پانچ بڑے فائدے ہیں:’’اولاد،نفسانہ خواہشات کی تکمیل،گھر کا انتظام،نفس کا مجاہدہ‘‘۔لیکن یہ پانچ نکاح کے ذیلی مقاصد ہے اور یہ نکاح کا اصل مقصد جو کہ حفاظت نسل ہے کا تتمہ ہے۔نکاح کا مقصد یہ کہ نسل انسانی باقی رہے اور یہ دنیا انسانوں سے خالی نہ رہے،اور نفسانی ہواہشات اس لئے پیدا کی گئی کہ انسان کا نکاح کی طرف رغبت پیدا ہو جائے اور اسی شہوت کے ذریعے نر اپنا بیج نکال کر مادہ میں اس طرح رکھے جیسے کھیتی میں بیج ڈالا جا تا ہے۔(۵۳)

شادی کے ذریعے اولاد باعث ثواب بھی ہے کیونکہ نسل انسانی کو باقی رکھنے کے لئے اولاد کے حصول میں اللہ کی محبت سے موافقت ہے دوسرا یہ کہ کثرت اولاد پرآپؐ فخر فرمائیں گے،تیسرا یہ کہ مرنے کے بعد نیک اولاد باعث صدقہ جاریہ چوتھا یہ کہ باپ کی موجودگی میں چھوٹے بیٹے کی وفات شفاعت کا سبب بنتا ہے۔(۵۴)

۲۔زنا کی حرمت

شریعت نے تحفظ نسل کے لئے نکاح کا طریقہ رائج کیاجو اولاد کی تربیت ،پرورش اور نگہداشت کا بہترین ذریعہ ہے پس نکاح کے علاوہ جتنے بھی نسل بڑھانے کے طریقے ہیں وہ سب اسلام نے حرام قرار دئے ہیں۔زنا بھی جو کہ سیدھی راہ یعنی نکاح کے منافی راستہ ہے اس لئے اس کو بھی شریعت نے حرام کرتے ہوئے بتایا کہ یہ بدترین راہ ہے ۔

مذہب اسلام سے پہلے بھی لفظ زنا کا مفہوم قتل اور چوری کی مفہوم جیسا واضح تھا۔اصل میں زنا نکاح کے بغیر مرد کا عورت کی شرم گاہ میں وطی کرنے کا نام ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ شرم گاہ کا شرم گاہ میں داخل کرنا ہے جب کہ شرم گاہ طبعاً شہوت کی محرک ہواور یہ کہ اس میں شرم گاہ داخل کرنا شرعاً حرام ہو(۵۵)

زنا کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

(اور زنا کے قریب بھی مت جاؤ کیونکہ یہ بے حیائی کاکام اور بُرا راستہ ہے)(۵۶)۔

اس آیت کریمہ میں اللہ نے انسان کو زنا سے منع کیا ہے اور قریب جانے سے روکنا حرمت بیان کرنے کا بلیغ تر اندازہے اور پھر واضع طور پر ا کی حرمت کی علت بیان کی کہ یہ بے حیائی کا کام اور بُرا راستہ ہے۔زنا کو اسلام میں بے حیائی کا سب سے بڑا کام اور گناہ کبیرہ میں اس کا شمار کیا جا تا ہے کیو نکہ اس کی وجہ سے نسل انسانی کا تحفظ متاثر ہو تا ہے۔سب علماء کا زنا کی حرمت پر اتفاق ہے۔زنا کی حرمت قرآن ،سنت اور اجماع سے ثابت ہے کیو نکہ جنسی تعلقات میں مختلف لوگوں کی شرکت سے نسب گُڈ مُڈ ہو جاتے ہیں،اسی طرح حقیقی باپ دادا کی طرف نسب کی نسبت محفوظ نہیں رہتی جو کہ انقطاع نسل اور بنی نوع انسان کے وجود کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے(۵۷)

زنا کی دنیوی سزا قرآن سے ثابت ہے۔حکمرانوں پر اللہ نے واجب قرار دیا ہے کہ زنا کی سزا میں کسی قسم کی نرمی کا مظاہرہ نہ کریں۔

حفاظت نسل کا سلبی پہلو:حد

حد روکنے کو کہتے ہیں گناہوں کی سزا کو حد اس لئے کہتے ہیں کہ یہ انسان کو گناہوں سے روکنے کا باعث ہے اور حد جاری ہو نے کہ بعد عام طور پر آدمی دوبارہ وہ گناہ نہیں کرتا۔

حد اللہ کا حق پا مال کرنے کی مقرر سزا کا نام ہے۔حد کی یہ تعریف کرنے سے تعزیر اور قصاص دونوں خارج ہو گئی کیو نکہ تعزیرمیں کوئی سزا مقرر نہیں ہو تی اور قصاص اس لئے خراج ہوئی کہ یہ بندے کا اپنا حق ہے۔(۵۸)

حد جاری ہو نے کی شرط

یہ سزائیں ایسی نہیں ہے کہ ہر کوئی جاری کر سکتا ہے بلکہ شریعت کا اس باری میں کچھ شرائط ہیں اگر وہ پورے ہو تو حاکم وقت حد جاری کرنے کا حکم جاری کرے گا بصورت دیگر زانی کو چھوڑا جائے گا۔حد جاری ہو نے کی پہلی شرط یہ ہے کہ کم از کم چار گواہ ایسے موجود ہو جو یہ کہہ سکے کہ ہم نے فلاں فلان کو یہ کام کرتے ہوئے دیکھے ہیں اگر گواہ چار سے کم ہو یا نا بالغ ہوتو پھر بھی حدجاری نہیں ہوگا۔دوسراشرط یہ ہے کہ زانی خود جرم کا اقرار کرلے۔(۵۹)

شریعت میں محصن اس شخص کو کہتے ہیں جس نے نکاح صحیح کیا ہو اور اس کے نتیجے میں اُس عورت سے جماع بھی کیا ہو(۶۰)

غیر محصن وہ ہے جس نے نکاح صحیح کے ذریعے عورت سے جماع نہ کیا ہو۔پس محصن زانی کو پتھر مارے جائینگے تاآنکہ وہ مر جائے اور غیر محصں کو ۱۰۰ کوڑے مارے جائینگے اور بعض علامء کے نزدیک ایک سال کی جلہ وطنی کی سزادی بھی جائے گی لیکن بعض علامء کہتے ہیں کہ کوڑوں کی سزا پر جلا وطنی کی اضافی سزا درست نہیں۔(۶۱)

ان سزاؤں میں کوڑے کی سزا قرآ ن جبکہ جلہ وطنی کی سزا سنت سے اور سنگسار کرنے کی سنت اور اجماع دونوں سے ثابت ہیں جیسا کہ ارشاد ربانی ہے: (زانیۃ عورت اور زانی مرد میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ)۔(۶۲)

یہ دلیل عام ہے یعنی اس میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کی سزا میں فرق نہیں البتہ حضور ﷺ کی قولی اور فعلی سنت نے اس عام کی تحصیص کرتے ہوئے سو کوڑے غیر شادی شدہ کے لئے مختص کر دیا اور ساتھ ساتھ جلہ وطنی کا اضافہ بھی کردیا۔محصن کی سزا آپؐ نے یہ بیان کی اسے سنگسار کیا جائے۔(۶۳)

شا ولی اللہؒ فرماتے ہیں کہ کنوارے کی سزا ایک سو کوڑے اور ساتھ جلہ وطنی کی سزا اس لئے مقرر کی ہے کہ اس کے ذریعے دو طرح کی سزا کا اطلاق ہو تا ہے کوڑے سے جسمانی اذیت جبکہ جلا وطنی سے نفسیاتی سزا حاصل ہوتے ہیں۔شاہ ولی اللہؒ فرماتے ہیں کہ کوڑے لگانا جسمانی سزا ہے جبکہ جلا وطنی نفسیاتی سزا ہے اور جب تک دونوں طرح کی سزا نہ دی جائے اس وقت سزا مکمل نہیں ہوتی۔ (۶۴)

۵۔تحفظ مال[حصول مال کے ذرائع]

مال انسان کو دو طریقوں سے مل سکتا ہے۔ایک بغیر محنت سے اور دوسرا محنت سے۔غیر محنت سے مال ملنے کے ذرائع : بغیر محنت سے مال ملنے کے ذرائع میں آدمی کے ترکے میں سے حصہ ملنا شامل ہے اور یہ دو طریقوں سے ملتا ہے ایک یہ کہ اگر میت اپنے مال میں سے دوسرے شخص کے لئے وصیت کرے تو موصی لہ محنت کئے بغیرمیت کے مال کا مالک ہو جا تا ہے دوسرا یہ کہ والدین یارشتہ داروں کے ترکے میں سے وارث کا حصہ ملنا اس مال کو عرب موروثی مال کہتے ہیں اور یہ وراثت میں ملنے والہ مال وارث کے ارادے کے بغیر خود بخود اس کی ملکیت میں داخل ہوجائےگا۔(۶۵)محنت کے ذریعے مال کمانا: جو مال محنت کے ذریعے حاصل کیا جا تا ہے ،اس کی دوقسميں ہیں ۔۱۔غلبے اور اقتدار کی وجہ سے کسی قانون کی رو سے دوسرے کے قبضے سے مال نکلوا کر اس پر قبضہ کیا جائے اسے عام طور پر محصول یا خراج کہتے ہیں اور یہ کام صرف اور صرف حکمران ہی کرتے ہیں۔(۶۶)

۲۔زراعت،تجار ت اورمویشی پالنے سے بھی ایک آدمی مال کما سکتا ہے۔اس میں صنعت و حرفت کا درجہ زراعت سے بعد کا ہے کیو نکہ یہ ایک علمی کام ہے اس میں غور و فکر کی ضرورت پڑتی ہے اسی لئے عموما صنعت و حرفت شہروں میں پائی جاتی ہے۔

تجاعت اگر چہ روشی کمانے کا طبعی طریقہ ہے لیکن اس کے اکثرطریقے حیلوں پر موقوف ہیں تا کہ چیزوں کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤں سے فائدہ حاصل کیا جائے۔(۶۷)

رسول اکرم ﷺ کی بعثت کا ایک اہم مقصد معاشرے سے مظالم کا خاتمہ تھا اور مظالم کی کئی اقسام ہیں مثلاً جان پر ظلم،جان کے اعضاء پر ظلم اور مال کے خلاف جرائم۔اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے جرائم کے ارتکاب پرمختلف سزائیں مقرر کی ہیں۔یہ سزائیں جرم کی نوعیت پر اللہ نے مقرر فرمائی ہیں کیو نکہ قتل اور ڈاکہ برابر نہیں ہیں اسی طرح کسی سے مال قوت کے بل بوتے پر چھین لینا اور چوری چھپے مال اڑا لینا برابر نہیں۔پھر ان جرائم کے محرکات بھی مختلف ہو سکتے ہیں مثلاً قصداً جرم اور خطاءًً جرم کرنا اپس میں کسی طور پر بھی برابر نہیں۔

تحفظ مال کے سلبی طریقے

اللہ تعالیٰ نے انسان کے اموال کا تحفظ مندرجہ ذیل طریقوں سے بیان فرمائی ہیں:

کڑی سزاؤں سے اورحرمت رشوت سےکڑی سزاؤں سے ۔مال کے خلاف جرائم کی سزاؤں کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں۔

متعین سزائیں اور غیر متعین سزائیں۔متعین سزاؤں میں چوری اور حرابہ یعنی ڈاکہ ڈال کر مال کو لے جانے کی سزا شامل ہیں۔غیر متعین سزا ؤں کی بہت ساری قسمیں ہیں مثلاً غاصب یا دانستہ کوئی چیز ضائع کرنے والے کو دی جانے والی تعزیری سزائیں شامل ہیں۔ان تمام جرائم کی حرمت کی وجہ ظلم کو رکنا اور مال کی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ان جرائم میں بعض ایسے ہیں کہ ان پر آخرت کی عذاب کے ساتھ ساتھ تاوان بھی مقرر کیا۔(۶۸)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے:(آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ)۔(۶۹)

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے نا جائز طریقوں سے مال کھانے کو حرام قرار دیا۔ 

رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: (مسلمان تمام تر دوسرے مسلمان پر حرام ہے،اس کا خون،اس کا مال اور ا س کی عزت)۔(۷۰)شریعت نے ہر انسان کو اپنے اموال کی حفاظت اور اس کے دفاع کا حق دیا ہے اس سلسلے میں اگر کوئی شخص مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جا تا ہے تو وہ شہید ہے اور اگر زیادتی کرنے والا قتل ہو جا تا ہے تو وہ جہنمی ہے۔ایک دفعہ ایک آدمی رسول پاک ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: ’’یا رسول اللہ ﷺ! اگر کوئی شخص زبردستی مال چھیننا چاہے؟‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’اسے اپنا مال مت دو‘‘۔پھر وہ آدمی کہنے لگا کہ ’’اگر وہ مجھ سے لڑائی کرے؟‘‘ آپ ؐ نے فرمایا :’’ تم بھی اس سے لڑائی کرو‘‘۔’’اگر وہ مجھے قتل کردے تو‘‘آپؐ نے فرمایا:’’تم شہید ہو‘‘۔’’اگر میں اسے قتل کردو تو؟‘‘ آپ ؐ نے فرمایا: وہ جہنم میں جائے گا‘‘۔(۷۱)

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں :کہ جب ڈاکو قتل کے ساتھ مال بھی لوٹ لیں تو انہیں قتل کی جائے اور جب صرف مال لوٹ لیں اور قتل نہ کریں تو مخالف سمتوں سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں اور جب راستے کو پر خطر بنا دیں لیکن مال نہ لوٹیں تو انہیں جلا وطن کر دیا جائے۔(۷۲)ان سزاؤں کی مصلحت یہ ہے کہ اس سے لوگوں کے اموال اور جان محفوظ ہو جاتے ہیں۔

۲۔حرمت رشوت کا مقصد اموال کا تحفظ

حکومت کی بہت ذمہ داریاں ہیں ان ذمہ داریوں میں ایک ذمہ داری یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان عدل قائم کیا جائے اور حقوق انسانی کا تحفظ کیا جائے۔اسی لئے عدل و انصاف کے تحفظ کے لئے رشو ت کو حرام قرار دیا گیا،اس لئے اگر رشوت کو مباح قرار دی جائے تو لوگوں کے درمیان فیصلے رشوت کے بل بوتے پر کئے جائینگے۔شریعت اور لغت میں رشوت کا ایک ہی مفہوم ہیں یعنی رشوت ’’ وہ چیز ہے جو کوئی شخص حاکم وقت وغیرہ کو اپنے حق میں فیصلہ لینے کے لئے یا اپنی مطلوبہ چیز حاصل کرنے کے لئے دیتا ہے‘‘۔حاکم یا ملازم کے لئے رشوت لینا حرام ہے۔(۷۳)

رشوت کی حرمت دو وجہ سے ہے۔ایک یہ کہ یہ لوگوں کا مال ناحق کھانے میں داخل ہے اور لوگوں کا مال ناحق کھانا حرام ہے۔ دوسرا یہ کہ رشوت کی وجہ سے لوگوں کے درمیان عدل اور توازن کو تبدیل کرنے میں ایک موثر عامل ہے۔فیصلوں میں ظلم کی راہ ہموار کرتی ہے ،غیر مستحق کو حقوق دلاتی ہے اور حق داروں کو محروم کرتی ہے۔

خلاصۃالبحث

شریعت کا سب سے اہم مقصد دنیا اور آخرت میں بندوں کو خوش نصیبی اور سعادت سے نوازنا ہے۔یہ مطلوبہ سعادت صرف شریعت کے احکام ،قواعد اور کلیات کی پیروی اور اس کے مقصد سے ہم اہنگی پیدا کرنے سے حاصل ہو سکتی ہے۔اسی لیے مقاصد شریعت کی معرفت ضروری ہے ،بالخصوص فقیہ اور مجتہد کے لیے ،کیوں کہ مقاصد شریعت ہی وہ منارہ ہائے نور ہیں جن کے ذریعے نصوص ،کلیات اور عام قواعد سے احکام میں اجتہاد و استنباط کے لیے رہنمائی ملتی ہے۔شرعی مصلحت کی کچھ خصوصیات ہیں اور کچھ ضوابط ہیں جو خواہشات کی مصالح سے ممتاز ہیں۔مصلحت کبھی قوی ہوتی ہے کبھی ضعیف،کبھی اس میں تنگی پیدا ہو جاتی ہے اور کبھی وسعت۔اسی اعتبار سے مصلحت کو ضروریہ،حاجیہ،تحسینیہ اور کلیہ و جزئیہ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔یہ تقسیم معاشرے کی تنظیم کی سوچ کی بنیاد بن سکتی ہے جس میں اسلام کا ہدف یہ ہے کہ ضروریات اور حاجیات تمام افراد کو میسر ہوں اور تحسینیات میں ان کے بیک دیگر متفاوت ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔یہ مقصد تربیت اور انسانی احساسات کو پروان چڑھا کر حاصل ہوتا ہے جس کے نتیجے میں افراد ین اور قانون پر عمل کے جذبے کے ساتھ دوسروں کو اپنے ساتھ شریک کرتےہیں۔اسلامی ممالک میں دین کے مفہوم میں غلط فہمی نے بد ترین نتائج پیدا کیے ہیں۔ایمان کا تعلق عمل سے اور قول کا فعل سے کٹ گیا ہے،حالانکہ دین کامل ۔۔اسلام۔۔ایمان اور عمل دونوں کو شامل ہے۔اس کا تقاضا ہے کہ قول و فعل میں مطابقت ہو اور اللہ کے ہاں مقبول دین کامل ہی ہے۔دین انسانی زندگی کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں ضروری ہے ۔انسان اس سے جتنا چاہے کنارہ کشی اختیار کرے،آخر اسی کی طرف لوٹے گا۔دین کے تحفظ کے ایجابی پہلو کا تقاضا ہے کہ ایمان درست ہو اور اعمال صالحہ کی پابندی ہواور اس کے تحفظ کے سلبی پہلو جہاد،مرتدوں اور زنادقہ کا قتل اور بدعتیوں کی گو شمالی ہے۔اسلام نے انسانی زندگی کو بہت اہمیت دی ہے۔اس کے لیے اسلام نے ایسے قوانین دیے ہیں جو زندگی کے تمام مراحل میں انسان کے تمام مفادات ،مثلاً خوراک ،لباس اور رہائش وغیرہ مہیا کرنے کے ضامن ہیں اور ہر نوع کی زیادتی سے اسے بچاتے ہیں۔اسلام نے زیادتی کرنے والوں کو روکنے اور سزا دینے کے لیے قانون سازی کی۔زیادتی کو روکنے کے لیے کبھی دنیاوی سزا تجویز کی اور کبھی آخرت کے عذاب کی وعید سنائی۔مسلمانوں کے مقدر میں کا میابی اور فلاح تب ہی لکھی جا سکتی ہے جب وہ اسلام کی طرف رجوع کریں اور ایمان و عمل ،قول و فعل میں اسے مضبوطی سے تھام لیں ۔کامیابی اور اصلاح صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ زندگی کے ہر میدان میں دین اسلام کے مبادی ،قواعد او ر احکام کے زیر سایہ آجائیں۔

حواشی و حوالہ جات

۱۔ الشاطبی،الموافقات صفحہ ۲۰۲۲۔ یوسف القرضاوی:المدخل لدرسات الشریعۃ الاسلامیہ قاہرہ:مکتبہ وہبہ،۱۹۹۰ء،ص۷۰۔۷۱۳۔ عبدالکریم زیدان،المدخل الی دراستہ الشریعتہ الاسلامیہ صفحہ ۴۲،۴۳۔۴۔ الریسونی،احمد(معاصر):نظریہ المقاصد عندالامام الشاطبی،عالمی ادارہ فکر اسلامی ،المؤسۃالجامعیۃ(۱۹۹۲)،ص۲۴۶۔ ۵۔ الشاطبی،الموافقات،صفحہ ۲۰۳۶۔ الشاطبی،الموافقات،صفحہ ۲۰۳ ۷۔ القرطبی،محمد بن احمد الانصاری القرطبی ’’الجامع الاحکام القرآن‘‘، ۱:۱۴۵، طبع ثالثہ مکربہ المصریہ العامۃ للکتاب ۱۹۸۷۸۔ القرآن:الشوریٰ،۴۲: ۱۳

القرطبی،محمد بن احمد الانصاری القرطبی ،’’الجامع الاحکام القرآن‘‘ ۱۶:۱۱۔

۱۰۔ القرطبی،محمد بن احمد الانصاری القرطبی ، ’’الجامع الاحکام القرآن‘‘۱۰:۲۰۵، ۱:۲۳۲ ۔۱۱۔ا لقرآن:العنکبوت،۲۹:۴۵۱۲۔ السرخسی، لابی بکر محمد بن ابی سھل السرخسی’’ اصول السرخسی‘‘ ۲:۲۹۱ ، طبع دارالمعرفۃ بیروت ۱۳۹۳ھ۱۳۔ایضاً۔

۱۴۔ ا لقرآن:البقرہ ۲: ۱۸۳۱۵۔ السرخسی، لابی بکر محمد بن ابی سھل السرخسی’’ اصول السرخسی‘‘ ۲:۱۹۱ ۔۱۶۔ الزرقانی، محمد بن عبدالباقی بن یوسف الزرقانی،’’شرح الزرقانی علی المؤطا ‘‘ ۳:۲، طبعۃ الاولیٰ،دارلکتب العلمیہ بیروت ،۱۱۱۲ھ۔۱۷۔ ا لقرآن: النحل ۱۶: ۱۲۵۱۸۔ ا لقرآن: الاعراف ۷: ۱۹۹۱۹۔ ا لقرآن:البقرۃ ،۲: ۲۱۶۲۰۔ ا لقرآن: التوبہ ۹: ۵۲۱۔ القرآن: التوبہ ۹ : ۱۲۲۔ السرخسی، لابی بکر محمد بن ابی سھل السرخسی’’ المبسوط‘‘ ۱۰:۳ ۔۲۳۔ ا لقرآن: المائدہ ۵ : ۵۴۲۴۔ ا لقرآن:البقرہ ۲: ۲۱۷۲۵۔ ا لقرآن:الکہف ۱۸ : ۶۴۲۶۔ ا لقرآن:المائدہ ۵ : ۲۱۲۷۔ الدردیر، لابی البرکات احمد بن محمد الدردیر ’’الشرح الکبیر علی مختصر الحلیل‘‘ ۴:۳۰۱ ،مکتبہ دارلفکر بیروت۔۲۸۔ الشاطبی،لابی اسحٰق ابراھیم بن موسیٰ،’’الاعتصام‘‘،۱:۳۰،مکتبہ دارلمعرفۃ،بیروت۲۹۔ ایضاً۔

۳۰۔ شاولی اللہ، شیخ احمد المعروف شاولی اللہ بن عبدالرحیم الدھلوی’’حجۃاللہ البالغہ‘‘ ۲:۱۳۹، طبعۃالالیٰ دارالاحیاء العلوم،بیروت ۱۴۱۰ھ۳۱۔ ا لقرآن: النساء ۴ : ۹۳۳۲۔ القرآن : المائدہ ۵ : ۱۵۱۳۳۔ شوکانی، محمد بن علی الشوکانی ’’ نیل الاوطار‘‘ ، ۷:۷۳۴۔ شاولی اللہ، شیخ احمد المعروف شاولی اللہ بن عبدالرحیم الدھلوی’’حجۃاللہ البالغہ‘‘ ۲:۱۴۲۔

۳۵۔ الزرکشی،بدرالدین’’البرھان فی علوم القرآن‘‘ ۲:۲۵ ، عیسیٰ الحلبی ۱۳۷۶ھ۳۶۔ ا لقرآن:البقرۃ ۲: ۱۹۱۳۷۔ القرطبی،محمد بن احمد الانصاری القرطبی ، ’’الجامع الاحکام القرآن‘‘۸:۲۹۵۔۳۸۔ القرافی، شھاب الدین ابی العباس احمد بن ادریس القرافی’’ الفروق‘‘ ۱:۲۱۸، دالعالم الکتب بیروت ۱۴۶۴ھ۳۹۔ القرآن : البقرہ ۲ : ۲۱۹۴۰۔ ا لقرآن:المائدہ ۵: ۱۹۴۱۔ السرخسی، لابی بکر محمد بن ابی سھل السرخسی’’المبسوط‘‘ ۲:۲۴ ۔۴۲۔ القرطبی،محمد بن احمد الانصاری القرطبی ، ’’الجامع الاحکام القرآن‘‘۶:۲۸۷۔۴۳۔ آفندی،ابراھیم،’’اسرار الشرعیۃالاسلام‘‘،۲۴۸،طبع مصر،۱۳۲۸ھ۴۴۔ ا لقرآن: النور ، ۲۴:۳۱۴۵۔ ابن الاثیر،ابی سعادت المبارک بن محمد الجزری’’ النھایۃ فی غریب الحدیث‘‘ ۲:۷۷۔۷۸دار احیاء الکتب العربیۃ۔۴۶۔ السرخسی، لابی بکر محمد بن ابی سھل السرخسی’’المبسوط‘‘ ۲:۲۴ ۔۴۷۔ الفیومی،سلامہ احمد المغربی ،المصباح المنیر فی غریب الشرح الکبیر للرافعی‘‘،۹۶۵۔۹۶۶،طبع الامیریہ ۱۹۰۹ء۴۸۔ شوکانی، محمد بن علی الشوکانی ’’ نیل الاوطار‘‘ ، ۷:۱۵۱۴۹۔ السیواسی،محمد بن عبدالواحد (بابن ھمام) ’’فتح القدیر و العنایۃ‘‘ ۲:۳۴۰۔۳۴۱،مطبعہ مصطفی البابی الحلبی و اولادہ بمصر، طبعۃ الاولیٰ۱۳۸۹ھ۵۰۔ السیواسی،محمد بن عبدالواحد (بابن ھمام) ’’فتح القدیر و العنایۃ‘‘ ۲:۳۴۰۔۳۴۱۔۵۱۔ ا لقرآن: النساء ۴؛۳۵۲۔ الشیعی،ابو حنیفہ النعمان القاضی ’’دعائم الاسلام‘‘ ،۲:۱۹۱، مطبع المعارف ۱۳۷۹ھ۔۵۳۔ الغزالی، حامد محمد بن محمد،’’ احیاء علوم الدین‘‘ ۲:۲۲،مطبعۃ مصطفیٰ البابی الحلبی و اولادہ،مصر،۱۳۵۸ھ۔۵۴۔ایضاً۔

۵۵۔ القرطبی، الجامع الاحکام القرآن : ۱۲:۱۵۹۔۵۶۔ ا لقرآن: الاسراء ۱۷ : ۳۲۵۷۔ القرطبی، ’’الجامع الاحکام القرآن‘‘۱۰:۲۵۳۔۲۵۴، ، طبع ثالثہ مکربہ المصریہ العامۃ للکتاب ۱۹۸۷۵۸۔ شوکانی، محمد بن علی الشوکانی ’’ نیل الاوطار‘‘ ، ۷:۹۲۵۹۔ رشد، محمد بن احمدبن محمد’’بدایۃ المجتھدونھایۃ المقتصد‘‘،۲:۴۷۶،مطبعۃ حسان،القاھرۃ۔۶۰۔ ابن تیمیہ، ’’السیاسۃ اشرعیہ‘‘ ،۱۰۱،مکتبہ السنۃ المحمدیہ ۱۳۸۱ھ۶۱۔ایضاً۔۶۲۔ ا لقرآن: النور ۲۴ : ۲۶۳۔ شوکانی، محمد بن علی الشوکانی ’’ نیل الاوطار‘‘ ، ۷:۹۲۶۴۔ شاولی اللہ، شیخ احمد المعروف شاولی اللہ بن عبدالرحیم الدھلوی’’حجۃاللہ البالغہ‘‘ ۲:۱۷۴۔۶۵۔ ابن خلدون،عبدالرحمن،’’مقدمہ ابن خلدون‘‘ : ۳۱۹، المطبعۃ الازھریہ ۱۳۴۸ھ۶۶۔ ایضاً: ۳۲۰۔۶۷۔ایضاً : ۳۲۲۔۶۸۔ شاولی اللہ،’’حجۃاللہ البالغہ‘‘ ۲:۱۳۹۔۶۹۔ ا لقرآن: البقرۃ ۲ : ۱۸۸۷۰۔ ذھنی،محمد ذہنی الشیخ ولجنۃ العلماء’’ شرح مسلم‘‘ باب تحریم ظلم المسلم و خذ لہ و احتقارہ و دمہ و عرضہ و مالہ، مصطفی الحلبی۱۳۴۸ھ۷۱۔ ایضاً۔۷۲۔ ابن العربی،لابی بکر محمد بن عبداللہ،’’احکام القرآن ‘‘: ۲:۵۹۶ ،دارالمعرفۃ،بیروت ۔۷۳۔ شوکانی، محمد بن علی الشوکانی ’’ نیل الاوطار‘‘ ، ۸:۲۷۷