پلاسٹک سرجری کی مختلف صورتوں کا شرعی جائزہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ برجس
عنوان پلاسٹک سرجری کی مختلف صورتوں کا شرعی جائزہ
انگریزی عنوان
Legal Review of Different Forms of Plastic Surgery
مصنف خان، ابظاہر، مفتی ثناء اللہ
جلد 1
شمارہ 1
سال 2015
صفحات 1-9
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
شکاگو 16 خان، ابظاہر، مفتی ثناء اللہ۔ "پلاسٹک سرجری کی مختلف صورتوں کا شرعی جائزہ۔" برجس 1, شمارہ۔ 1 (2015)۔

Abstract

The extract is that the plastic surgery is legitimate for medical treatment. Any kind of transformation in the creation of Allah is illegitimate. For women the removal of extra hair the usage of different kind of creams etc for fairness is legitimate. The transformation of inborn deficiency is legitimated. In case of deception and for the sake of Satan the illegitimate transformation in human body which is bestowed by ALLAH is considered as ingratitude and ungratefulness to ALLAH which is abominable and invalid.

ہر انسان یہ چاہتا ہے کہ  وہ  تمام عمر صحیح سالم صحت مند رہ کر زندگی گزارے اور اس دوران اسے کو ئی بیماری نہ ہو، تاکہ وہ کسی دوسرے کا محتاج نہ ہو اور اس کے ظاہر ی اور باطنی حواس درست کام کرے، اس کی ظاہری ڈھول  ہر عیب سے پاک اور ہر نقص سے مبرا ہو تاکہ اس کی طرف ہر ایک متوجہ ہو اور وہ  سارے لوگ کا مرجع ثابت ہو جائے، مگر یہ خواہش مکمل نہیں ہوتی اور انسان اپنی زندگی میں مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے جس کی وجہ سےاس کی صحت ماند پڑ جاتی ہے اس کی جسم پرکشش نہیں ہوتی اور یہ پہلے کی طرح اب جاذب نظر نہیں آتا، بلکہ بیماری کی وجہ سے اس کے جسم میں کمزوری اور ضعف پیدا ہوکر اس کی ساخت متاثر ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے اس کے افعال میں خلل اور ظاہری اطوار میں عیب دکھائی دینے لگتا ہے، جس کی تلافی کے گذشتہ کئی صدیوں سے انسان تاریخ اس کا علاج ڈھونڈتا ہے کہ اسے اپنی سابقہ حسن اور کشش دوبارہ لوٹ


آئے اور یہ پہلے کی طرح خوشنما نظر آئے، اور اگر اس کا کوئی ایک عضو کٹ جائے یا پھر بدنما ہو، تو اس کےازالے کی کوشش کرتاہے تاکہ وہ متاثرہ عضو لوگوں کی نظر میں اچھا لگے اور اسے درست کرنے کے لیےمختلف تدابیر سوچتا ہے۔([1])

ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے  کہ وہ دیکھنے  میں اچھا لگے ، اس کا چہرہ خوب صورت معلوم ہو، اس کے  اعضاء چست دکھائی دیں اور ان پر درازیِ عمر کے  اثرات عیاں  نہ ہوں، اس کے لیے طب کی ایک شاخ جس میں جسم انسانی کے  کسی عضو کی ہیئت یا فعل کودرست کرنے  کے  لیے ایک خاص طرح کا آپریشن کیا جا تا ہے، پلاسٹک سرجری (Plastic Surgery)کہلاتی ہے۔([2]) ’پلاسٹک” یونانی لفظ Plastikosسے  ماخوذ ہے  جس کے معنی ہیں کسی چیز کو موڑنا،اسے  نئی شکل دینا  to mold, to shape (اس سے  مراد یہ نہیں  ہے  کہ سرجری کی اس قسم میں  مخصوص کیمیاوی مادہ  "پلاسٹک"  کا استعمال ہوتا ہے)۔

عصر حاضر کے اس مسئلے کی مکمل تفصیل فقہاء کرام کی کتابوں میں نہیں ملتی البتہ اس موضوع سے متعلقہ اصول کی نشاندہی متقدمین کے کتب میں ضرور پائی جاتی ہے۔ پلاسٹک سرجری میں مندرجہ ذیل امور  بروئے کار لائے جاتے ہیں اس لیے اس سے متعلقہ ضوابط تحریر کیے جائیں گے:

۱۔ پیدائشی عیوب کا علاج شریعت کی روشنی میں:

پیدائشی طور پر کوئی ایسانقص ہوتا ہے  جس سے  انسان  کی بد صورتی  ظاہر ہوتی ہے اوروہ عیب عام طور پر اچھا نہیں لگتا،جیسے ہونٹ یا تالو کٹا ہوا ہو، ہاتھ یا پیر میں  زائد انگلی ہو، منہ میں  زائد دانت ہو، یا کوئی دانت زیادہ لمبا ہو، یا اس طرح کا اور کوئی عیب، تو کیا شریعت میں ایسی بد ہیئتی درست کرنے کی اجازت  ہے؟ ([3])

 شریعت کے اسرار اور  علل احکام میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے  کسی انسان کو جس طرح بھی پیدا کیا ہو اس کے  لیے  اپنے اعضاء میں  کوئی کمی یا تبدیلی کرنا جائز نہیں ہے ،جس شخص کے  بدن میں  کوئی انگلی یا کوئی دوسرا عضو زائد ہو، اس کے  لیے اسے  کاٹنا یا علیٰحدہ کرنا  بظاہر درست معلوم نہیں ہوتاکیونکہ یہ اللہ تعالی کی تخلیق میں  تغیر ہے "([4]) یہی رائےامام طبریؒ نے  زائد یا لمبے  دانت کے سلسلے  میں  ذکر ہے۔ ([5])  یہ  عدم جواز  کا حکم اس وقت ہے اگر انسان کا ارادہ  صرف ظاہری حسن کا ہو اور ان عیوب کا ختم کرنا صرف دکھلاوے کے لیے ہو تاکہ انسان اچھا لگے تو  اس صورت میں  بظاہر یہ کام درست نہیں۔ہاں اگر روزمرہ کے  کام کاج  میں رکاوٹ  کا باعث ہوجس کی  وجہ سے پریشانی کا سامنا ہو، جیسے زائد یا لمبے  دانت کی وجہ سے  کھانے میں دشواری ہوتی ہویا زائد انگلی سے کوئی جسمانی اذیت لاحق ہوتی ہو تو ان کے نزدیک انگلی کو کٹوایا  اور دانت کو نکلوانا جائز ہے۔ ([6]) 

جس طرح خلقی بیماری کا علاج  درست ہے، ایسے ہی فطری بیماری  کے معالجہ کرنے  کی نہ صرف اجازت بلکہ اس کا حکم بھی ہے، ہاں   اگر اس سے ہلاک کا اندیشہ  ہو  تودرست معلوم نہیں ہوتا لیکن عام طور پر اس سےصحت یاب ہونے کی امید ہوتو پھر  علاج درست ہے۔([7])

۲۔ عیوب غیر خلقی ( حادثاتی جسمانی نقصانات) کا شرعی حکم:

اگر بدصورتی پیدائشی نہ ہو بلکہ یہ کسی حادثاتی مصیبت یا پھر کسی جنگ وقتال میں لاحق ہوگئی ہو، یا پھر ذاتی عناد اور خاندانی دشمنی، قبائلی تعصب، لسانی فساد یا پھر زر  و زن  یا زمین کی تسابق میں لاحق ہوگئی ہو، جس سے ناک ، کان کٹ گئی یا اچانک آگ لگنے کی وجہ سے جسم جل گیا، اسی طرح  تیزاب  یا گندھگ کے اثرات سے چہرہ جل گیا، یا حد سرقہ کی وجہ سے ہاتھ کٹ گیا، یا کسی مہلک بیماری سے جسم کا کوئی عضو کٹ گیاتواب اس کے علاج کے لئے کون سے حدود وقواعد ہیں  لہذااحادیث مبارکہ میں اس کا حکم تلاش کیا جائے گا۔

سعد بن معاذؓ کے علاج کے لیے مسجد نبویﷺ میں انتظام کیا گیا۔([8])

عرفجہ بن اسعدؓکی ناک ٹوٹ گئی تو آپ ﷺ نے سونے کی ناک کا مشورہ دیا۔([9]) رافع بن مالکؓ کی آنکھ زخمی ہو گئی تو رسول اللہ ﷺ کےلعابِ دہن لگانے کے بعد  ذرا بھی تکلیف محسوس نہیں ہوئی۔([10])

یہی واقعہ ابوسفیانؓ کی آنکھ کے ساتھ بھی پیش آیا، جب غزوہ ٔ حنین میں آنکھ نکلنے کے بعد دوبارہ لوٹائی گئی، یہی مسئلہ سیدنا قتادۃ بن نعمانؒ کو پیش آیا۔ ([11]) اسی طرح امام زمحشریؒ نے لکڑی کا پاؤں اپنے لیے بنایا تھا۔([12])یہی  وجہ ہےکہ احناف وشوافع  کی رائے جواز کی ہے۔([13])

ان آثار کی بناء پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جسم میں ایسی تبدیلی رونما ہو جائے  جس سے ظاہر ی شکل و صورت بدنما نظر آئےتو اگر دیگر قبائح اور مضرات سے بچا جائے اور حسن نیت کے ساتھ کوئی خلاف دین امر رونما نہ ہوتو اس کی اجازت ہونی چاہیےاور یہی رائے مجمع الفقہ الاسلامی کی قرار دادؤں  میں بھی پایا جاتا ہے۔([14])

۳۔ فطری شکل کی انداز میں تغیر کا شرعی جائزہ:

انسان کی فطری صورت میں معبود برحق نےبعض وجوہات کی بناء پر ایسی تبدیلی پیدا فرمائی جس کے نتیجے میں جہاں یہ ایک دوسرے کو پہچانے، وہی  اس سے آنکھوں کو دی گئی تمیز صورتی کا انعام بھی واضح ہو، شاید اسی فلسفہ کے نتیجے میں جیسے انسانوں کو مختلف قبائل میں تقسیم کردیا ایسے ہی ان میں بدنی ممیزات پیدا فرمائی اور  کالے، گورے اورلمبے، ٹگنے کی فطری صورت ودیعت فرمائی۔پھر   کسی کو موٹا بنایا ہے  توکسی کو دبلا، کسی کی ناک اٹھی ہوئی ہے  توکسی کی پچکی ہوئی،کسی کی ٹھڈّی ابھری ہوئی ہے  توکسی کی دھنسی ہوئی،کسی کاسینہ زیادہ چوڑا ہے  تو کسی کا کم۔ عموماً یہ معمولی فرق اعضاء کے دی گئی امور سے بالکل خارج نہیں ہوتے اور انھیں  عام قانون فطرت کے  خلاف بھی نہیں تصوّر کیا جاتا۔ البتہ ان میں سے بعض ہیئتوں  کوپسندیدہ خیال کیا جاتا اور انھیں  خوب صورتی کی علامت سمجھا جاتا ہے  اور بعض ہیئتوں  کو ناپسندیدگی کی نظرسے  دیکھا جاتا ہے۔پلاسٹک سرجری کے  ذریعے مذکورہ ہیئتوں  میں  تبدیلی کی شرعاً اجازت ہے یا نہیں کہ انسان  اپنے جسم کو اپنی خواہش کے مطابق کسی  ہیئت میں ڈھالے؟

انسانی بدن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت کردہ ایک ایسی امانت ہے جس کے بارے میں باز پرس کا قانون دوسرے قوانین شرعیہ کی طرح  نافذ ہے، یہی وجہ ہے کہ انسان کو مخمصے کی حالت میں حرام اور مردار کھانے کا حکم فرمایا اور اس کی مخالفت کرکے اگر کوئی مر گیاتو گناہ گار مرے گا، ذات برحق نے  اعضائےبدن کو بیش بہا امور کی سرانجامی کا کام حوالہ کیا ہے، جیسے آنکھ،کان،زبان،ہونٹ،ہاتھ، پیر،دل،دماغ وغیرہ کا تذکرہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے کرکے تلقین کی گئی ہے کہ ان پر شکر کرکے عبادت  الٰہی  کی بجا آوری کریں ۔([15])

اس تمہید سے جہاں یہ تصور ملتا ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے بدن کا مالک نہیں بلکہ اس جسم کو اللہ تعالیٰ کے اوامر میں لگانا ضروری ہے اور اس کے مناہی سے بچاتے ہوئے ان امور کی انجام دہی ضروری ہے جس کے لیے یہ بدن ملا ہے اور اس سے یہ بات بھی عیاں ہوجاتی  ہے کہ اس جسم میں خالق کی مرضی کے مطابق لباس  و پوشاک پہنانا جس طرح درست نہیں ایسے ہی اس بدن کے اعضاء و اطراف میں اپنی من مانی کرکے ہبہ کرنا ، ترمیم وتبدل کرنا یا پھر دوسری امور سرزد ہونا تغیر خلق اللہ میں مندرج معلوم ہوتا ہے۔یہ تصور صحیح اسلامی تصور کے  مغائر ہے، اس لیے  شرعی نقطۂ نظرسے  اسے جائز نہیں قراردیاجاسکتا۔ ([16])

۴۔  بڑھاپے کے آثا ر کی روک تھام کے لیے  اٹھائی جانے والی اقدامات کا شرعی جائزہ

بدن انسانی  اپنی پیدائش سے قبل مختلف غذاؤں کی صورت میں باپ اور ماں کے جسم میں ہوتا ہے اور بعد میں مختلف مراحل سے  گزر کرابتداء میں ایک کمزورجسم کے ساتھ  جنم لیتاہے جو  پرورش کے  نتیجے میں  اس کے  اعضاء کا حجم بڑھتا ہے،  ان میں قوت بڑھتی ہےاور جوان ہوکر خوب طاقت ور اور بارعب پر کشش روپ دھار لیتا ہے، مگر قانون فطرت کے مطابق دھیرے دھیرےسکڑ کر کمزوری شروع ہوجاتی ہےیہاں تک کہ بڑھاپے  میں وہ کم زوری اور بے  بسی کی اسی حالت کو پہنچ جاتا ہے ،جس سے  اپنے بچپن میں دو چار تھا۔ یہ  فطری  فعل ہے جس سے ہرانسان کاسابقہ پیش آتا ہے۔ قرآن کریم میں  متعدد مقامات پر ان مراحل حیات کا تذکرہ آیا ہے۔ ([17])

عمر بڑھنے  کے ساتھ انسانی اعضاء کی ہیئتوں میں ہونے والی تبدیلیاں فطری ہیں، ان تبدیلیوں کو روکنے  یا ان اعضاء کی ہیئتوں کو من پسند ہیئتوں  میں  بدلوانے کی کوشش کرنا فطرت سے  بغاوت کے  مترادف ہے، یہ اللہ کی خلقت میں تبدیلی ہے  جسے شیطانی تحریک کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے، یہی وجہ  ہے کہ جوان آدمی کے لیے سفید بال سیاہ کرنا درست ہے، اسی طرح معمر مجاہد کے لیے بھی سفید ریش کو کالا کرنا جائز ہے لیکن بوڑھے مرد وعورت کے لیے خالص سیاہ رنگ بالوں کو دینا درست نہیں اوراس بنا پر خواتین کا بڑھاپے  کے  نتیجے میں  پستانوں  میں پیدا ہونے  والے  ڈھیلے پن یا ہاتھوں اور چہرہ پر ظاہر ہونے والی جھرّیوں  کو دور کرنے  کے لیے  پلاسٹک سرجری کرانا اسلامی شریعت کی روسے  جائز نہ ہو گا۔

۵۔ کھوئے ہوئے جوانی کی دوبارہ حصول کے لیے پلاسٹک سرجری کا شرعی حکم

شریعت نے انسان کی ہر فطری خواہش کو نہ صرف جائز قرار دیا ہےبلکہ اسے پسندیدہ بھی فرمایا ہے جب کہ بسا اوقات اس کو اختیار کرنے کا حکم بھی دیا ہے، ان میں سے ایک  اچھی شکل ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا ہے، چنانچہ حدیث قدسی ہے:   ان الله جميل يحب الجمال "اللہ خوب صورت ہے  اور خوب صورتی کو پسندکرتا ہے"۔([18])

اسی طرح ایک پاکیزہ اور اچھی شکل نہ صرف خدا تعالیٰ اور انسانوں کوبھلی معلوم ہوتی ہے بلکہ جانوروں کو بھی  پاکیزہ چرواہا  جو جانوروں کے ساتھ اچھے سلوک کے ساتھ پیش آتا ہے ، ان سے جانور پیا ر کرتے ہیں،جب کہ ناپاک اور گندے انسان سے جس طرح دوسرے انسان اور جانور گہن محسوس کرتے ہیں، ایسے فرشتے بھی بدبو دار آدمی کے پاس رہتے ہوئے تکلیف محسوس کرتے ہیں۔لہٰذا انسان کی اس  فطری خواہش کو جو خوب صورتی سے متعلق ہے، شریعت نے سراہا ہے اوراسی طرح انسان کی  یہ آرزو کہ میں دوسرے  انسانوں کی نگاہ میں  بھلا معلوم ہوں،  اس کے لیے  وہ مختلف طریقے کرتا ہے، شریعت نے  نہ صرف اس کا اعتبار کیا ہے  بلکہ اس کو پسندیدہ قرار دیا ہے اور انسانوں کو زیب و زینت اختیار کرنے  کا حکم دیا ہے،اللہ تعالی کا ارشاد ہے  : يٰبَنِیٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِيْنَتَکُمْ عِنْدَکُلِّ مَسْجِد([19])"اے  بنی آدم!ہر عبادت کے  موقع پر اپنی زینت سے  آراستہ رہو"۔ رسول اللہ ﷺ جب کوئی ایسا شخص دیکھتے کہ  جس کے  بال پراگندہ اور بکھرے  ہوئے  ہوتےتو آپﷺفرماتے:"کیا یہ شخص کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جس سے  اپنے  بالوں کودرست کر لے“۔اسی طرح آپﷺنے  ایک شخص کو میلے  کچیلے کپڑوں  میں  دیکھا تو فرمایا"کیا اسے  کوئی چیز نہیں ملتی جس سے  اپنے کپڑے  دھو لے ؟"([20])

مگر یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ ایسی خوب صورتی اختیار کرنے  کی تدابیر کو شریعت نے   اپنے مقررہ حدود کا پابند بنایا ہےکہ حسن و جمال میں اضافہ کے  لیے خارجی تدابیرکو  اختیار کرنے کی گنجائش  توہوسکتی ہیں لیکن اس سے یہ مراد ہر گز نہیں کہ بدن کے  اعضاء یا ان کی انداز میں کوئی تبدیلی کرانا جائز ہو۔

احادیث میں ایسی کئی چیزوں  کو بالکل  منع کیا گیا ہے، جو زمانہ ٔ جاہلیت میں پر کشش بننے یا جاذب نظر رہنے کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔ جیسے   رسول اللہ ﷺ نے    ان عورتوں  پر جو جسموں  پرگودتی ہیں اور گودواتی ہیں، لعنت کی ہےاور بھوں  کے بال اکھیڑتی ہیں اور خوب صورتی کے لیے  دانتوں کے  درمیان فاصلہ پیدا کرتی ہیں، کیونکہ یہ عورتیں  اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں  تبدیلی کرنے والی ہیں([21])۔ حدیث میں اس کے لئے لفظ فلج آیا ہوا ہے اور "فلج" کے  معنی ہیں  اوپر نیچےنظر آنے والے چار دانتوں کے  درمیان خلا پیدا کرانا۔"متفلّجات"سے  مراد وہ عورتیں ہیں جواپنےدانتوں کو  تراش کران کے  درمیان فاصلہ پیدا کرتی ہیں، یہ کام معمر خواتین  کرتی تھیں تاکہ وہ کم عمر دکھائی دیں اور ان کے  دانت خوب صورت لگیں، دانتوں کے  درمیان معمولی فاصلہ فطری طور پر چھوٹی بچیوں  میں  ہوتا ہے۔ جب عورت بوڑھی ہو جاتی ہے اوراس کے  دانتوں میں یہ فاصلہ باقی نہیں رہتا تو وہ انھیں  کم کرنے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ ان کے  درمیان کچھ فاصلہ ہو جائےاوردوسرے  اسے دیکھ کر کم عمر سمجھیں"([22])

بالوں  میں بال جوڑنے  والی، بھوں  کے  بال اکھیڑنے  والی اور اکھڑوانے  والی، جسم پر گودنے  والی اورگودوانے  والی پر لعنت کی گئی ہے ، اس صورت میں  جب یہ کام بغیر کسی مرض کے  انجام دیے جائیں۔([23])

المتفلجات للحسن اس سے  یہ بات سمجھ میں آ رہی ہے  کہ قابل مذمّت وہ عورت ہے  جواس کام کوحسن میں اضافہ کے مقصدسے  کرےلیکن اگر کوئی اور مقصد ہو مثلاً علاج کے  لیے پیش آئے  تواس کے  لیے ایسا کرنا جائز ہے، یہی رائے ابن حجر ؒ کی ہے۔([24])یا پھر اس سے مراد یہ ہے کہ للحسن میں لام علّت کا ہےکہ مذمّت اس صورت میں ہے  جب اسے  حسن میں اضافہ کے  لیے کیا جائے، لیکن اگریہ کام علاج معالجہ کے لیے ہوتو اس سے  وہ صورت مستثنیٰ ہے  "([25])

شریعت نے یہ کام کیوں ممنوع قرار دیے    ہیں ؟علماء نے اس کی بھی وضاحت کی ہے۔

اس سے جہاں یہ بات معلوم ہوئی کہ کم عمری دکھانے اور لوگوں کی نظر میں بھلا معلوم ہونے کے لیے بھوؤں کو لینا دانتوں کو گھسنا درست نہیں، یہ بات بھی ظاہر ہوئی  کہ شریعت مبارکہ نے جس طرح خرید وفروخت میں دھوکے کو منع کیا ہے، نقل احادیث میں تدلیس کو نا پسند مانا ہے، ایسے  ہی جسم میں معمر ہونے کی وجہ سے جو عیوب ظاہر ہو، اسے چھپانا دھوکے کی ضمن میں آتا ہے، اسی طرح جہاں  فریب میں داخل ہے ایسے ہی یہ اللہ تعالی کی خلقت میں  تبدیلی اور تغیر میں مندرج  ہے۔ ([26])

جب کہ اس سے یہ پہلو بھی نکلتا ہے کہ شکل وصورت میں تبدیلی ، انداز   خلقت میں رو نما ہونے والی کمزوری کو چھپانا ایک تزویراتی میں بھی شمار ہوتا ہے جو عقل و نقل کی رو سے مذموم ہیں۔ ([27])

بھوں کے  بال اکھیڑنے  والی عورتوں پر بھی لعنت کی گئی ہے، واضح رہے یہ ممانعت بھی اسی صورت میں  ہے  جب یہ کام محض فیشن اور اضافۂ حسن کے مقصدسے  کیا جائے ،لیکن اگر عورت کے  چہرے پر غیر ضروری بال اگ آئیں  تو وہ انھیں زینت اختیار کر نے  کے  مقصدسے اکھیڑسکتی ہے۔جیسا کہ سیدہ عائشہؓ کی روایت میں مروی ہے کہ  ایک عورت نے آپ سے پوچھا:اے  ام المومنین،میرے  چہرے پر کچھ بال اگ آئے  ہیں،کیا میں اپنے  شوہر کے  لیے زینت اختیار کرنے  کے  مقصدسے انھیں  اکھیڑسکتی ہوں؟ حضرت عائشہؓ نے  فرمایا:"اس تکلیف دہ چیز کو اپنے  جسم سے  الگ کر دو"۔ ([28])

فقہائے  کرام نے بال اکھیڑنے  کی ممانعت کو اس پر محمول کیا ہے  کہ عورت اس کام کو غیروں  کے لیے  زینت اختیار کرنے  کے مقصدسے  انجام دے، ورنہ اگراس کے  چہرے پر کچھ بال ہوں جن سے  اس کے  شوہر کو تنفّر ہوتا ہوتو ان کا  ازالہ درست ہے کیونکہ عورتوں کا زینت اختیار کرنا مطلوب ہے، چہرے  کے اضافی بالوں  کو صاف کرنادرست ہے یہی وجہ ہے کہ  اگر عورت کے چہرے  پر داڑھی یا مونچھ اگ آئے  تواسے  صاف کرانا ممنوع نہیں بلکہ مستحب ہے یہی رائے ابن عابدین ؒ کی بھی ہے"([29]) اور اسی کو مالکیہ نے  بھی اختیار کیاہے  کہ جن غیر ضروری بالوں کو صاف کرنے  میں عورت کاحسن ہو انھیں صاف کرنا ضروری ہے،چنانچہ اگر عورت کو داڑھی اگ آئے  تو وہ اسے  صاف کرے گی اور جن بالوں کو باقی رکھنے  میں اس کاحسن ہے  انھیں باقی رکھے  گی، جب کہ شوافع کے ہاں  کہ اگر شوہر عورت کوجسم کے  غیر ضروری بال صاف کرنے  کا حکم دے تواس کے  لیے  ایسا کرنا واجب ہے۔ ([30])امام احمد بن  حنبلؒ سے  چہرے کے  بال صاف کرانے  کے بارے  میں سوال کیا گیا تو انھوں  نے فرمایا: عورتوں  کے  لیے ایسا کرنے  میں کوئی حرج نہیں ہے ،البتہ مردوں کے  لیے  مکروہ ہے۔ "([31])

خلاصہ  یہ ہوا کہ پلاسٹک سرجری علاج ومعالجہ کے لیے جائز ہے، اللہ تعالیٰ کی خلقت میں تغیر اور تبدیلی  جس صورت میں ہو، وہاں ناجائز ہے۔عورتوں کے لیے زائد بال ہٹانا، کریم وغیرہ استعمال کرکےرنگ گورا کرنا جائز ہے، جب کہ پیدائشی طور پر تالو کٹا یا ناک کٹا ہونے کی صورت میں تبدیلی کرنا درست ہے۔دھوکہ دہی اور تلبیس کی خاطر لوگوں کی نظروں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت کی ہوئی جسم میں  ناروا تبدیلی کفران نعمت اور ناشکری کے زمرے میں آتی ہے جو ناجائز ہے۔

مصادر ومراجع

                 


([1])            یوسف بن عبد الله الشبيلی، الجراحات التجميلية نظرة شرعية، ج۳۷۔ http://www.grajhi.com/ http://www.liveislam.net/

([2])            الدكتور صالح بن محمد الفوزان، الجراحة التجميلية عرض طبي ودراسة فقهية مفصلة، ص334. دار ابن حزم والتدمریۃ. طبع وتاريخ نامعلوم.

([3])            محمد عثمان شبير، أحكام حراحات التجميل في الفقه الاسلامى،ص 54، http://www.almeshkat.net/books/archive/books/asman.zip

([4])            قرطبی،الجامع الاحکام القرآن:۵/۳۹۳، الھیئۃالمصریۃ العامۃ للکتاب،۱۹۸۷ء۔

([5])            ابن حجرعسقلانی، فتح الباری بشرح صحیح البخاری،۱۰/۳۷۷، دارالمعرفۃ بیروت۔

([6])            ایضاً،احکام القرآن للقرطبی: ۵/۳۹۳۔

([7])            الفتاوی العالمگیریۃ،۵/۳۶۰، المطبعۃ الکبریٰ الامیریۃ،بولاق مصر، طبع، ۱۲۱۰ھ۔

([8])            بخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح بخاری،کتاب المغازی،باب مرجع النبیﷺمن الاحزاب،رقم، ۴۱۲۲۔

([9])            ابوداؤد، سلیمان بن الاسعث، سنن ابی داؤد:کتاب الخاتم،باب ماجاء فی ربط الاسنان بالذھب،رقم، ۴۲۳۲، مزید ملاحظہ کیجئے  ترمذی: ۱۷۷۰، نسائی: ۵۱۶۱،۵۱۶۲۔

([10])           ابو الفداء ، محمدابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ: ۳/۲۹۲،  دارالریان للتراث القاہرۃ، ۱۹۸۸ء۔

([11])           علی بن برہان الدین الحلبی، انسان العیون فی سیرۃ الامین المامون المعروف بالسیرۃ الحلبیۃ: ۲/۲۵۲،  المکتبۃ الاسلامیۃ،بیروت، طبع وتاریخ نامعلوم۔

([12])           مجلۃ مجمع الفقہ الاسلامی جدۃ:۴/۵۰۱۔

([13])           الفتاوی الہندیۃ، جماعۃ من العلماء، ۴/۱۲۳، مکتبۃ رشیدیۃ بشاور، طبع وتاریخ نامعلوم۔

([14])           مجلۃ البیان ۲۳۸ عددا، تصدر عن المنتدی الاسلامی، التجمیل بین التشریع والواقع المعاصر، عرض و تلخیص : محمد ہارون، ۳۲/۸۸۔

([15])           ملاحظہ کیجئے  آیات :الانعام :۴۶،الاعراف:۱۷۹، ۱۹۵،النور:۲۴،الحج : ۴۶، یٰس:۳۵، ۶۵،ق:۳۷،البلد:۸۔ ۹وغیرہ۔

([16])           احکام تجمیل النساء، ازدہار، ص۳۷۹، داراحیاء اللغۃ العربیۃ کراتشی باکستان، طبع وتاریخ نامعلوم۔

([17])           ملاحظہ کیجئے ،النحل:۷۰،الحج:۵، الروم :۵۴، یٰسٓ:۶۸، المومن: ۶۷۔

([18])           صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب تحریم الکبروبیانہ،رقم، ۹۱۔

([19])           الاعراف:۳۱۔

([20])           سنن ابی داؤد،کتاب اللباس،باب فی غسل الثوب وفی الخلقان، رقم، ۴۰۶۲۔

([21])           سنن نسائی،کتاب الزینۃ،باب المتنمّصات،رقم، ۵۰۹۹،سنن ابن ماجہ،کتاب النکاح، باب الواصلۃ والواشمۃ،رقم، ۱۹۸۹۔ علامہ البانی نے  اسے صحیح قرار دیا ہے۔ سنن نسائی میں کچھ اور روایتیں ہیں جن میں حضرت عبداللہؓ نے  رسول اللہ ﷺ سے  سننے کی صراحت کی ہے  (رقم، ۵۱۰۷، ۵۱۰۸،۵۱۰۹) صحیح بخاری کی ایک روایت (رقم، ۵۹۳۹)میں حضرت علقمہؒ سے  مروی ہے  کہ “حضرت عبداللہ نے  لعنت کی ہے۔"اور دیگر متعدد روایتوں میں حضرت عبداللہ فرماتے  ہیں کہ “اللہ نے  لعنت کی ہے۔ (ملاحظہ کیجئے  بخاری:رقم، ۴۸۸۶، ۵۹۳۱،۵۹۳۹، ۵۹۴۳، ۵۹۴۸، صحیح مسلم:رقم،  ۲۱۲۵، ابوداؤد:رقم،  ۴۱۶۹، ترمذی:رقم، ۲۷۸۲، دارمی:رقم ، ۲۶۴۷،مسنداحمد،رقم ، ۴۳۴،،۴۴۳، ۴۵۴۔

([22])           نو وی،شرح صحیح مسلم:۱۴/۱۰۶، ۱۰۷، دارالریان للتراث القاہرۃطبع، ۱۹۸۷م۔

([23])           سنن ابی داؤد،کتاب الترجل،باب صلۃ الشعر،رقم، ۴۱۷۰۔

([24])           فتح الباری:۱۰/۴۷۲، ۴۷۳۔

([25])           بدرالدین عینی،عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری:۸/۹۵،مطبعۃ مصطفی البابی الحلبی مصر، طبع۱۹۷۲م۔

([26])           قرطبی،الجامع لاحکام القرآن:۵/۵۹۳۔

([27])           شرح مسلم نو وی:۱۴/۱۰۷۔

([28])           عبدالرزاق،المصنف،تحقیق وتخریج: حبیب الرحمٰن الاعظمی:۳/۱۴۶، المکتب الاسلامی بیروت ۱۹۸۳م۔

([29])           ابن عابدین،ردالمحتارعلی الدرالمختار:۵/۳۲۸، مطبع دارالسعادۃ،مصر، طبع وتاریخ نامعلوم۔

([30])           الفواکہ الدوانی:۲/۴۰۱،حاشیہ القلیوبی:۳/۲۵۲بحوالہ الموسوعۃ الفقھیۃ الکویت:۲۱/۲۷۳، ۲۷۴۔

([31])           ابن قدامۃ،المغنی:۱/۱۹۸۱، مکتبۃ الریاض الحدیثۃ الریاض۔